Ayah 5:6یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُوْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ط وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا ط وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ ط مَا یُرِیْدُ اللہ ُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (المائدہ : 6)
( اے اہل ایمان ! جب تم نماز کا قصد کیا کرو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لیا کرو اور سر کا مسح کرلیا کرو اور ٹخنوں تک پائوں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہوجایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور تیمم کرلو یعنی اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔ اللہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو)
اسلامی تہذیب کی بنیاد نماز ہے :
اس سے پہلی آیتوں میں ہم نے کھانے پینے کی اشیاء اور عورتوں کے حوالے سے طیبات اور خبائث کا ذکر پڑھا۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ کونسی کھانے کی چیزیں ہمارے لیے طیب اور حلال ہیں اور کون سی خبیث ہیں۔ اسی طرح کن عورتوں سے نکاح ہوسکتا ہے اور کن سے نہیں ہوسکتا۔ یہ گویا جنس اور شکم سے متعلق جسمانی ضرورتوں کی ایک تہذیب کا ذکر ہے۔ اب اس آیت میں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری معنوی ‘ اخلاقی اور روحانی بھی ایک تہذیب ہے ‘ جس کا سارا دارومدار نماز پر ہے۔ یعنی نماز سے اس تہذیب اور تطہیر کا آغاز ہوتا ہے جو قرآن کریم کے پیش نظر ہے اور نماز کے آغاز کے لیے ضروری ہے کہ وضو کیا جائے حالانکہ نماز سے مقصود تو انسان کی روحانی تطہیر ہے ‘ یعنی آدمی کے اندر کی پاکیزگی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ظاہر آدمی کے باطن پر اور باطن آدمی کے ظاہر پر اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اگر آدمی ظاہری طور پر گندا ہو ‘ ممکن نہیں کہ وہ باطنی طور پر پاک رہ سکے اور جو باطنی طور پر گندا ہو ممکن نہیں کہ وہ ظاہری طور پر پاک ہو۔ اس لیے جا بجا قرآن کریم ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی صفائی کا حکم دیتا ہے۔ اسلام نے باطنی صفائی کے ساتھ ساتھ ظاہری صفائی پر جس قدر زور دیا ہے ‘ اتنا زور کسی اور مذہب یا تہذیب نے نہیں دیا۔ میرے علم میں نہیں کہ کسی بھی مذہب نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہو۔ طہارت کی جو تفصیلات ہمیں مہیا کی گئی ہیں ‘ ان کو دیکھتے ہوئے تو صاف نظر آتا ہے کہ جس قدر طہارت کی تفصیلات طے کرتے ہوئے اسلام نے عرق ریزی اور جز ُ رسی سے کام لیا ہے ‘ دوسرے مذاہب میں اس کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی کہہ لیجئے کہ اسلام میں جن چیزوں پر بہت زیادہ زور دیا گیا تھا ‘ ہم نے ان کے بارے میں اتنی ہی زیادہ بےتعلقی اختیار کر رکھی ہے۔ بہرحال تہذیبِ نفس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نماز پڑھیں اور چونکہ نماز میں اللہ کے آگے حاضر ہونا ہے ‘ اس کے لیے ظاہری صفائی ضروری ہے۔ ظاہری صفائی کے دو ذرائع ہیں : ایک وضو اور دوسرا غسل۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وضو یا غسل کے لیے پانی نہ ملے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پانی میسر ہو ‘ لیکن آدمی استعمال کرنے پر قادر نہ ہو ‘ مثلاً کسی بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔ یہ وہ مسائل ہیں جنھیں اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا :
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اَمَنُوْ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ
قَامَ کا لفظ جس سے قُمْتُمْ بنا ہے ‘ اس کے ساتھ جب اِلٰی کا صیغہ آتا ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے ” ارادہ کرنا “۔ فرمایا : اے مسلمانو ! جب تم نماز کا ارادہ کرو اور نماز کا اہتمام کرنا چاہو تو دیکھو ! یونہی بغیر وضو اور بغیر ظاہری تطہیر کے اللہ کے سامنے جا کر کھڑے مت ہوجانا بلکہ اس کے لیے پہلے تمہیں وضو کرنا ہے ‘ اپنے کچھ اعضا دھونے ہیں۔ یہاں ایک بات ذہن میں رکھئے کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی باوضو تھا ‘ لیکن اسے یاد نہیں رہا کہ اس کا وضو ٹوٹ چکا ہے لہٰذا اس نے نماز پڑھ لی۔ کچھ دیر بعد اسے اگر یاد آجائے کہ میرا تو وضو ٹوٹ چکا تھا اور میں نے بےخیالی میں نماز پڑھ لی ہے تو اسے نماز لوٹا لینی چاہیے ‘ اس سے گناہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر کوئی آدمی جانتا تھا کہ میں بےوضو ہوں یا مجھ پر غسل واجب ہے اور اس نے پھر بھی جان بوجھ کر نماز پڑھنے کی کوشش کی تو یہ بہت بڑا جرم (گناہ) ہے ‘ اس سے آدمی کافر ہوجاتا ہے یعنی قصداً اللہ کے سامنے ناپاکی کی حالت میں آنا اتنی بڑی جسارت ہے کہ اس میں عمل تو برباد ہوتا ہی ہے ‘ ایمان بھی جاتا رہتا ہے۔
وضو کا طریقہ
اسی لیے یہاں واضح طور پر فرمایا جا رہا ہے کہ جب تم نماز کا ارادہ کرو تو سب سے پہلے وضو کرو۔ یہاں چار چیزیں بیان کی گئی ہیں اور یہ اصل میں وضو کے چار فرائض ہیں۔ وضو میں باقی چیزیں ‘ سنتیں اور مستحبات ہیں جنھیں آداب کہا جاتا ہے ان کی تعلیم قرآن پاک نہیں دیتا ‘ ان کی تعلیم پیغمبر دیتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ احکام کا ذکر قرآن پاک کرتا ہے اور آداب کا ذکر سنت کرتی ہے۔ وضو میں جن چیزوں کا کرنا فرض ہے وہ چار ہیں ‘ ان کا ذکر قرآن پاک نے کردیا ہے اور جن چیزوں کا تعلق آداب سے ہے ‘ جنھیں ہم سنتیں یا مستحبات کہتے ہیں ‘ ان کا ذکر آنحضرت ﷺ نے کرتے ہوئے فرمایا کہ جب وضو کا ارادہ کرو تو سب سے پہلے ہاتھ دھوئو۔ ظاہر ہے جب ہاتھ ہی پلید ہوں گے اور تم ہاتھوں سے پانی اٹھا کر منہ پر ڈالو گے تو وہ بھی پلید ہوجائے گا یا جس برتن میں ہاتھ ڈالو گے اس کو بھی پلید کردو گے ‘ اس لیے سب سے پہلے ہاتھ دھوئو چونکہ حکم دیا جا رہا ہے چہرے کو دھونے کا اور آدمی کا منہ اور ناک بھی چہرے میں شامل ہے ‘ اس لیے اس کی وضاحت حضور اکرم ﷺ نے فرمائی کہ کلی کرو ‘ اس کے بعد ناک میں پانی ڈالو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو وضو مکروہ ہوجائے گا اور نماز بھی مکروہ ہوجائے گی۔ یہ آداب حضور اکرم ﷺ نے ہمیں سکھائے۔ کوئی بھی حدیث کی کتاب کھول کر اس کے ” باب الوضو “ میں آپ جا بجا دیکھ سکتے ہیں کہ خلفائے راشدین سے لے کر عام اصحابِ کرام ( رض) تک نے ان احکام اور آداب کو جو آنحضرت ﷺ نے دئیے ‘ بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے یعنی ان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو بعد میں وضع کی گئی ہو اور اس پر امت کا تعامل نہ رہا ہو۔ ایک تو یہ کہ اسے زبانی طور پر تواتر کے ساتھ ذکر کیا گیا اور دوسرے یہ کہ امت کا عمل آگے منتقل ہوتا رہا ہے۔ نماز بھی عمل اور قول دونوں شکلوں سے منتقل ہوئی ہے اور وضو بھی قول اور عمل ‘ دونوں سے آگے منتقل ہوا ہے۔ حضرت عثمان غنی ( رض) اور حضرت جابر ( رض) کی اس سے متعلق کئی روایات ہیں۔ اسی طرح حضرت ابوذر ‘ حضرت عمر اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کافی روایات ہیں جن میں انھوں نے لوگوں سے فرمایا کہ آئو ! میں تمہیں وضو کر کے دکھائوں کہ حضور ﷺ کا وضو کیسا ہوتا تھا۔ اس لیے وضو کے بارے میں جتنی بھی روایات ہیں ‘ ان کے بارے میں یہ ذہن نشین کرلیجئے کہ وہ ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچی ہیں۔ تواتر یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کو آگے ذکر اور روایت کرنے والے اس کثرت اور اتنی بڑی تعداد میں ہوں کہ انسان اس کا تصور بھی نہ کرسکے کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کبھی جھوٹ پر جمع ہوسکتی ہے یعنی جسے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نقل کرنے والی ہو ‘ اسے تواتر کہتے ہیں اور اگر یہ تواتر دوہرا ہوجائے یعنی ایک تواتر قولی اور دوسرا عملی۔ تواتر قولی یہ کہ لوگ مسلسل اس بات کو بیان کرتے رہیں ‘ جیسے حضرت عمر ‘ حضرت علی ( رض) مانے بیان فرمایا کہ دیکھو ! میں تمہیں بتاتا ہوں کہ حضور اکرم ﷺ کیسے وضو فرماتے تھے۔ تواتر عملی یہ ہے کہ اسے کر کے بھی دکھایا جائے یعنی یہ لوگ وضو کر کے بھی دکھاتے تھے۔ وضو بیان کرنے اور کر کے دکھانے والوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ کوئی آدمی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ کبھی جھوٹ پر جمع ہوسکتے ہیں۔ اس لیے جس چیز کو تواتر کے ساتھ ذکر کیا جائے ‘ یاد رکھئے ! اس کا انکار کفر ہوتا ہے۔ قرآن کریم بھی ہم تک ان دونوں قسم کے تواتر سے پہنچا ہے ‘ تواتر قولی سے بھی اور عملی سے بھی۔ اسی طرح نماز اور وضو بھی ہم تک قولی اور عملی تواتر سے پہنچے ہیں۔
اس لیے سب سے پہلے فرمایا کہ تم ہاتھ دھونے ‘ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے (استنشاق) کے بعد اپنا پورا چہرہ دھوئو ‘ یعنی پیشانی کے بالوں سے کانوں کی لوئوں اور نیچے ٹھوڑی تک کا پورا چہرہ دھونے کے بارے میں فرمایا کہ ” فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ “ اپنے چہروں کو دھو لو اور چہرے کو دھونے کے بعد دوسرا کام یہ کرنا کہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو۔ ہمارے ہاتھ کلائیوں تک ہیں۔ یہاں چونکہ ” اِلَی الْمَرَافِقِ “ کا ذکر ہے ‘ لہٰذا یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ اس میں کہنیاں بھی شامل ہیں۔ یاد رکھیئے ! اگر اس کا کچھ حصہ بھی خشک رہ جائے گا تو وضو نہیں ہوگا۔
اس کے بعد فرمایا : (وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ ) ” اور اپنے سروں کا مسح کرو “۔ مسح ” ہاتھ پھیرنے “ کو کہتے ہیں۔ کسی عضو پر پانی والا (گیلا) ہاتھ پھیرنا مسح کہلاتا ہے۔ فرمایا کہ اپنے سروں کا مسح کرو۔
وضو میں پائوں دھونا فرض ہے
پھر فرمایا : (وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ) ” اپنے پائوں کو ٹخنوں تک دھو لیا کرو “۔ یہاں دو تین باتیں بہت اہم ہیں۔ ہمارے ہاں اہل علم کا ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اصل میں اَرْجُلَکُمْ نہیں بلکہ اَرْجُلِکُمْ بالکسر ہے اور اس کا عطف ” بِرُئُ وْسِکُمْ “ پر ہے ‘ اَیِْدِیَکُمْ پر نہیں۔ جمہوراہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ اَرْجُلِکُمْ بالکسر نہیں بلکہ اَرْجُلَکُمْ بالفتح ہے اور اس کا عطف اَیِْدِیَکُمْ پر ہے بِرُئُ وْسِکُمْ پر نہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق کیا ہے ؟ اگر ہم اسے ” اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ “ پڑھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پائوں کا دھونا بھی فرض ہے۔ لیکن اگر ہم اسے ” اَرْجُلِکُمْ “ پڑھتے ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ پائوں کا دھونا فرض نہیں بلکہ اس کا مسح کرنا فرض ہے۔ لیکن ہم سب لوگ ” اَرْجُلَکُمْ “ پڑھتے ہیں اور پائوں کا دھونا فرض سمجھتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جتنی احادیث تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں ‘ ان سب میں کہیں ” اَرْجُلِکُمْ “ کا ذکر نہیں ‘ ان میں اَرْجُلَکُمْ لام کے فتح کے ساتھ مذکور ہے۔ اب جو روایات ہمیں متواتر پہنچی ہوں ان کا انکار کفر ہوگا۔ اگر کوئی آدمی کسی خاص حوالے سے ان کی علمی تاویل کرے تو اسے کفر تو نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن یہ گمراہی تو پھر بھی ہوگی۔ اس لیے کہ ہم کبھی اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ متواتر روایت میں کہیں غلطی رہ گئی ہو۔ تمام صحابہ کرام ( رض) تواتر سے ” اَرْجُلَکُمْ “ پڑھتے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہی وہ روایت ہے جس کو ہمیں قبول کرنا ہوگا۔ دوسرے جو قرآء کی مختلف روایات ہم تک پہنچی ہیں ‘ ان میں بھی جو قرأت تواتر سے ثابت ہے ‘ وہ اَرْجُلَکُمْ کی ہے۔ نیز آنحضرت ﷺ کا خود پائوں دھونا بھی تواتر سے ثابت ہے جبکہ ایک دفعہ بھی حضور اکرم ﷺ کا مسح کرنا ثابت نہیں ‘ ظاہر ہے ہم اسی پر عمل کریں گے۔ رہی یہ بات کہ یہاں قرآن کریم نے آخر اسے بعد میں کیوں ذکر کیا ؟ تو اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں یہ بات بتانا مقصود ہے کہ جس طرح چہرے کا دھونا ‘ ہاتھوں کا کہنیوں تک دھونا ‘ سر کا مسح کرنا اور پھر پائوں کا دھونا فرض ہے ‘ اسی طرح اس کی بیان کردہ ترتیب بھی ضروری ہے۔ اسی ترتیب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ کو درمیان میں لایا گیا۔ اگر اسے بعد میں لے جایا جاتا تو پھر ترتیب کا ذکر نہ ہو پاتا۔ اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ ترتیب فطری بھی ہے اور شرعی بھی ہے یعنی شریعت اور قرآن کریم نے بھی اسے لازم کیا ہے اور فطری ترتیب بھی یہی ہے کہ آپ پہلے منہ دھوئیں ‘ پھر ہاتھ دھوئیں ‘ پھر سر کا مسح کریں ‘ پھر پائوں دھوئیں۔ بالکل یہی ترتیب قرآن کریم نے ملحوظ رکھی ہے ‘ اس ترتیب کو ذکر کرنے کے لیے اس کو درمیان میں ذکر کیا گیا ہے۔ کوئی آدمی کہہ سکتا ہے ” عربیت “ کے لحاظ سے اگر اسے ” اَرْجُلِکُمْ “ لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھ لیا جائے تو کیا حرج ہے ؟ حرج یہ ہے کہ صحیح عربی زبان کا ذوق اسے قبول نہیں کرتا کیونکہ جہاں بھی مسح کا حکم دیا جاتا ہے اس کے ساتھ یہ ذکر نہیں کیا جاتا کہ مسح کہاں تک کرنا ہے ؟ دھونے میں تو ابتداء و انتہاء کا ذکر ہوتا ہے ‘ مسح میں نہیں۔ مثلاً دیکھئے ! اس کے بعد اسی آیت میں آگے آرہا ہے :
وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍاَوْجَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْلٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِنْہُ
(اگر تم بیمار ہو ‘ سفر میں ہو ‘ بیت الخلا سے آئے ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو پاک مٹی کا قصد کرو ‘ وہ اس طرح کہ تم مسح کرو اپنے چہروں کا اور اپنے ہاتھوں کا)
غور کریں کہ یہاں ہاتھوں کے مسح کے حکم میں ” اِلَی الْمَرَافِقِ “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ معلوم ہوا کہ مسح میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ مسح کہاں سے کہاں تک کرنا ہے۔ ” مسح “ صرف ہاتھ پھیر دینے کا نام ہے۔ اسی طرح اگر ” وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ “۔ میں پائوں کا مسح مقصود ہوتا تو اِلَی الْکَعْبَیْنِکے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ جیسے آگے چل کر آپ نے دیکھا کہ جہاں مسح کا ذکر آیا وہاں ” اِلَی الْمَرَافِقِ “ کے الفاظ کو ختم کردیا گیا۔ مختصر یہ کہ پائوں دھونے کا حکم امت تک متواتر سنت سے پہنچا ہے اور اَرْجُلَکُمْ (بالفتح) کی قرآت بھی تواتر سے ثابت ہے اور اعلیٰ عربیت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ یہ تین حوالے ہیں جن سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ” اَرْجُلَکُمْ ہے ‘ اَرْجُلِکُمْ “ نہیں یعنی مسح ہم صرف اپنے سروں کا کریں گے ‘ جہاں تک پائوں کا تعلق ہے ‘ اسے دھویا جائے گا۔
حالت جنابت میں غسل کا حکم :
فرمایا : وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا ط ” اگر تم حالت جنابت میں ہو تو پاک ہوجاؤ “۔
جُنُبًاکا مطلب ہوتا ہے : اجنبی اور بیگانہ۔ یہ واحد جمع، مذکر مؤنث سب میں ایک ہی حالت میں رہتا ہے ‘ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور قرآن کریم نے بھی اس معنی میں اس کو استعمال کیا ہے۔ مثلًا
وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ “ (النساء : 36)
(جو قریبی ہمسایہ ہے ‘ اس کے بھی حقوق ہیں اور جو اجنبی ہمسایہ ہے ‘ اس کے بھی حقوق ہیں)
تو یہاں ” جُنُب “ اجنبی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح یہ لفظ جو اجنبی کے لیے استعمال ہوتا ہے ‘ یہی جنابت والے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جنابت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی شادی شدہ ہے اور وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کرے اور جو شادی شدہ نہیں ہے وہ ویسے ہی ناپاک ہوجائے ‘ تو ہم کہتے ہیں کہ وہ شخص حالت جنابت میں ہے اور اسیجُنبی کہتے ہیں۔ یہاں فرمایا گیا کہ اگر تم میں سے کوئی جُنبی ہوجائے تو ” فَاطَّھَّرُوْا “ اب یہ بات کافی نہیں ہے کہ تم وضو کرلو ورنہ فَاطھَرُوْا کہا جاتا۔ عربی کا قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی مصدر یا مادہ کے الفاظ میں کثرت کردی جاتی ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کثرت معنی پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں پر بھی جب اسکے الفاظ میں کثرت ہوگی تو اس کا معنی یہ نہیں کہ آپ صرف وضو کریں بلکہ معنی یہ ہے کہ آپ غسل کریں یعنی اگر وضو ٹوٹ گیا ہے تو اس کے لیے تو وضو کافی ہے ‘ لیکن اگر جنابت ہوگئی ہے ‘ تو اب صرف وضو کافی نہیں بلکہ اب آپکو غسل کرنا ہوگا۔ یہ تو وہ مفہوم ہے جو الفاظ بتاتے ہیں اور جہاں تک ان الفاظ کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کا عمل اور صحابہ کرام ( رض) کے عمل کا تعلق ہے ‘ وہ بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے کہ جنابت میں صرف وضو کافی نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس میں غسل کرنا ضروری ہے۔
تیمم کی حالتوں کا بیان
حدث اصغر ہو یاحدث اکبر یا حالت جنابت ‘ پاکیزگی کے لیے وضو یا غسل ضروری ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پانی دستیاب نہیں ہوتا یا کبھی ایسی مجبوری لاحق ہوتی ہے کہ پانی ہوتے ہوئے بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی صورت حال میں پاکیزگی حاصل کرنے کے کیا احکام ہیں اب ان کو ذکر کیا جارہا ہے۔
1 فرمایا : ” وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی “ اگر تم بیمار ہو یعنی پانی تو ہے لیکن اس کا استعمال تمہیں مزید بیمار کرسکتا ہے۔ اب تمہیں اس کے استعمال کی اجازت نہیں ہے یا یہ ضروری نہیں کہ تم اس کا استعمال کرو۔ اگر تم بلاوجہ پانی استعمال کر کے اپنی بیماری کو بڑھا دو گے اور اس سے اللہ نہ کرے تمہاری موت واقع ہوجائے تو تم اس کے ذمہ دار ٹھہرو گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص سفر میں سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہوگیا اور اس کا سر پھٹ گیا۔ لیکن وہ ساتھ جُنبی بھی ہوگیا یا پہلے سے جُنبی تھا۔ اب صبح کی نماز کا جب وقت ہوا تو اس نے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے ؟ سر پھٹا ہوا ہے ‘ پانی نقصان دے گا۔ ان کو اس مسئلے کا علم نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ نماز پڑھنی بھی ضروری ہے اور اس کے لیے طہارت بھی ضروری ہے ‘ چناچہ اسے نہلا دیا۔ نہلانے سے اس کی تکلیف اتنی بڑھی کہ بالآخر اس کی موت واقع ہوگئی۔ آنحضرت ﷺ کو علم ہوا تو آپ ﷺ اس قدر برہم ہوئے کہ فرمایا : اگر تمہاری بےعلمی اور بیخبر ی تمہارا عذر نہ ہوتی تو میں تمہیں اس کے انتقام میں قتل کروا دیتا۔ تم نے ایک آدمی کی جان لے لی۔ اس لیے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی حالت جنابت میں ہے اور ساتھ ہی بیمار بھی ہے اور اسے پانی تکلیف دیتا ہے تو اسے پانی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ طبیب اور ڈاکٹر سے رائے لے خود سے اس کا فیصلہ نہ کرے۔
2 فرمایا : اَوْ عَلیٰ سَفَرٍ ” اگر آدمی سفر کی حالت میں ہو “۔ اس میں بھی علماء اختلاف کرتے ہیں کہ بندے کا سفر کی حالت میں ہونے سے کیا مراد ہے ؟ مثلاً سفر اگر ہوائی جہاز کا ہے یا ٹرین کا ہے ‘ اعلان ہوتا ہے کہ جلدی جہاز یا ٹرین میں پہنچو اور ادھر آپ نے ابھی وضو کرنا ہے۔ پانی میسر تو ہے ‘ لیکن اگر آپ وضو کرتے ہیں تو آپ کو فلائٹ کے نکل جانے یا کسی اور دشواری (Disturbance) کا خدشہ ہے۔ اب بعض علماء کہتے ہیں کہ اس صورت میں اگر جلدی سے تیمم کرلیا جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں ‘ اس سے نماز پڑھی جاسکتی ہے جبکہ بعض علماء کہتے ہیں کہ چونکہ یہ کوئی حقیقی عذر نہیں ہے ‘ اس لیے اس وقت آپ یہ کرسکتے ہیں کہ نماز قضا کرلیں ‘ لیکن تیمم نہ کریں اور جب آپ پانی استعمال کرسکتے ہوں تو وضو کرنے کے بعد نماز ادا کریں۔
3 ” اَوْجَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ “ غَائِطْ دراصل ” نشیبی زمین “ کو کہتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو لوگ دیہات میں رہتے ہیں ‘ ان کے ہاں ہمارے گھروں کی طرح گھروں کے اندر بیت الخلاء (Toilet) کا انتظام نہیں ہوتا ‘ وہ اپنی حاجت کے لیے باہر کھلی زمین پر جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ہمیشہ نشیبی زمین تلاش کرتے ہیں تاکہ نشیبی زمین میں اتر جائیں اور اپنے آپ کو چھپا کر رفع ــحاجت کریں تاکہ کسی دوسرے کی نگاہ ان کے ستر پر نہ پڑ سکے۔ جب مدینہ منورہ میں یہ احکام نازل ہو رہے تھے تو یہ بھی گائوں کی طرح کا ایک قصبہ تھا ‘ جس میں لوگ رفع حاجت کے لیے باہر جاتے تھے اور اس مقصد کے لیے وہ کھجوروں کے جھنڈ میں داخل ہوتے یا کوئی نشیبی زمین دیکھتے۔ اس لیے عربی میں اس لفظ یعنی ” غائط “ کا استعمال عام ہوگیا ‘ جس کا ترجمہ ” جائے ضرورت “ کیا جاتا ہے۔
4 فرمایا : اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَائَ ” یا تم نے بیویوں سے مباشرت کی ہو “۔ ان تمام صورتوں میں اگر تمہیں پانی کی کمیابی کے باعث دوڑ دھوپ کے بعد بھی پانی نہ ملے اور نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو ‘ تو پھر تم تیمم کرلو۔
تیمم کا طریقہ
تیمم کے معنی قصد کرنے کے ہیں۔ فرمایا پھر تم قصد کرو ” صَعِیْدًا طَیِّبًا “ پاک زمین کی سطح کا۔ مراد یہ ہے کہ پاک (صاف) زمین پر ہاتھ مارو یا زمین کی جنس سے جو چیزیں ہیں ‘ ان میں سے کسی پر ہاتھ مار کر تیمم کرو اور تیمم یہ ہے : فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِنْہُ (مسح کرو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اسی (زمین) سے) اور سنت سے اس کا طریقہ جو ہمیں تواتر کے ساتھ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ پاک مٹی پر ہاتھ مارو اور دونوں ہاتھ اپنے منہ پر پھیر لو ‘ پھر مٹی پر ہاتھ مارو اور اپنے ہاتھوں اور بازوئوں پر کہنیوں تک پھیر لو۔ اب اس میں ظاہر ہے کہ اگر ہاتھ پورا نہ بھی پھر سکا ‘ کہیں کوئی جگہ رہ بھی گئی تو مسح پھر بھی ہوجائے گا۔ لیکن اگر وضو کرتے ہوئے کوئی جگہ خشک رہ جائے ‘ تو وضو نہیں ہوتا۔ یہ تو ہیں احکام جن کا میں نے سادہ سے انداز میں ذکر کردیا ہے ‘ اس کے بعد اس کی حکمت کا بیان ہے۔
” مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ “ اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کر دے کہ تمہیں یہ کہے کہ وضو اور غسل میں تمہیں ہر صورت میں پانی استعمال کرنا ہے ‘ چاہے تمہیں پانی ملے یا نہ ملے۔ ظاہر ہے یہ بہت بڑی تنگی کی بات ہے۔ فرض کریں سفر میں پانی دستیاب نہیں یا کوئی اور ایسی مجبوری ہوگئی ہے تو پھر آپ کیا کریں گے ؟ اللہ نے اس میں سہولت پیدا کردی۔
تیمم سے مقصود روح کی طہارت ہے
فرمایا اللہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں طہارت عطا کرے ‘ تمہیں پاکیزہ بنا دے۔ یعنی نماز سے پہلے ضروری ہے کہ تمہیں پاکیزگی عطا کی جائے۔ پاک ہونے کے لیے ظاہر ہے پانی شرط ہے اور پانی ملتا نہیں تو پھر تیمم کرو۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ مٹی مجھے کچھ گندا تو کرسکتی ہے ‘ پاکیزہ کیا بنائے گی ؟ لیکن یہ ایک احساس کہ اللہ کے سامنے گندگی کی حالت میں نہیں جایا جاسکتا ‘ یہ احساس مٹی پر ہاتھ مارتے ہوئے ‘ منہ اور ہاتھوں پر مٹی لگے ہاتھ پھیرتے ہوئے ضرور دل پر تطہیر کا عمل کرے گا کہ چلو مجھ سے جو بن پڑا ‘ وہ تو میں نے کیا۔ یہ عمل آدمی کے اندر طہارت اور تطہیر کو بروئے کار لاتا ہے اور یہی دراصل مقصود ہے۔ فرمایا کہ اگر ہم تمہیں یہ حکم دیتے کہ ہر صورت میں تمہیں پانی استعمال کرنا ہے ‘ پھر اگر پانی نہ ملتا ‘ بالخصوص عرب کی دنیا میں ‘ تو تم ایک مصیبت میں پڑجاتے۔ اب ہم نے تمہیں سہولت عطا کردی اور اس کے ساتھ ساتھ مزید یہ نعمت عطا کی کہ مسائل طہارت کے حوالے سے احکامِ شریعت کو مکمل کردیا۔ جہاں تک اہل کتاب کا تعلق ہے ‘ وہ اس کے دور دور تک قائل نہیں تھے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب تیمم کے یہ احکام نازل ہوئے تو انھوں نے یہاں تک کہا کہ تم اس حد تک بگڑے ہوئے لوگ ہو کہ تم سے تو مشرکین مکہ اچھے ہیں ‘ کم از کم وہ یہ حرکت تو نہیں کرتے کہ ناپاکی کی حالت میں مٹی استعمال کرنا شروع کردیں۔ انھوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا ‘ حتیٰ کہ اس کا اثر اوس اور خزرج تک نے لیا۔ جب ان کے سردار حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ حضور ﷺ ! حالت جنابت میں تیمم اور عورتوں کا مخصوص ایام میں گھر کی زندگی میں شرکت وغیرہ شرعی سہولتوں کا یہود بہت مذاق اڑاتے ہیں اور طعن وتشنیع سے کام لیتے ہیں۔ کیا آپ ہمیں اس کی اجازت دیں گے کہ جب ہم ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں تو ہم ان باتوں پر عمل نہ کریں ؟ اس بات سے آپ اندازہ کریں کہ مدینے کے رہنے والے لوگوں پر ان کی تہذیب کی گرفت کس قدر شدید تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب انھوں نے یہ بات پوچھی تو حضور ﷺ کے چہرے پر اس قدر ناگواری ظاہر ہوئی (کہ آپ کا چہرہ مبارک غصے سے دمکنے لگا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے چہرہ مبارک پر انار نچوڑ دیا گیا ہے) ۔ اس پر سعد بن معاذ اور دوسرے صحابہ کرام ( رض) اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ فوراً وہاں سے اٹھ گئے۔ آپ اپنی برہمی سے یہ تأثر دینا چاہتے تھے کہ اگر تم یہود کی تہذیبی گرفت نہیں توڑ سکتے تو دنیا کی تہذیبوں کی بالادستی کا اثر کیسے ختم کرو گے ؟ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنی تہذیب ‘ اپنے طور اطوار اور اپنے آداب زندگی کو بالادست بنانا اسلام کا عین مطلوب ہے ‘ چاہے وہ وضو اور طہارت کے حوالے سے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ اس کے بغیر تکمیل ِ شریعت اور اتمام نعمت کا عمل بےمعنی ہو کر رہ جائے گا حالانکہ یہی وہ احسان خداوندی ہے جس کا بندوں پر شکر لازم ہے۔
Ayah 5:7وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ لا اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ز وَاتَّقُوا اللہ َ ط اِنَّ اللہ َ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (المائدہ : 7)
(اور اللہ نے جو تم پر احسان کیے ہیں ‘ ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم نے قول (اقرار) کیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا ! ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا اور قبول کرلیا اور اللہ سے ڈرو ‘ کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں تک سے واقف ہے)
مسلمانوں پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت
اس کے بعد فرمایا : تم یاد رکھو اللہ کی اس نعمت کو جو اس نے تم پر کی ہے۔ وہ نعمت تکمیلِ شریعت کی نعمت ہے۔ یہ اللہ کی وہ نعمت ہے جو کسی پچھلی امت کو عطا نہیں ہوئی۔ فرمایا کہ اگر تم اللہ کی اس نعمت کی قدردانی کرنا چاہتے ہو تو نہ صرف تم اس نعمت کو برابر یاد رکھو بلکہ محسوس کرو کہ یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے یہ نعمت عطا کی ہے۔ اب اگر یہ بات یاد رکھو گے تو اس پر عمل کرتے ہوئے تمہیں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوگی۔ میں یہاں اس کا ترجمہ ” یاد کرو “ نہیں ” یاد رکھو “ کر رہا ہوں۔ قرآن نے اور بھی کئی جگہ اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ میں ہر جگہ اس کا یہی صحیح ترجمہ سمجھتا ہوں ‘ یا کم از کم مکمل ترجمہ سمجھتا ہوں۔ مثلًا وہ کہتا ہے :
” فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ “ ( تم مجھے یاد رکھو ‘ میں تمہیں یاد رکھوں گا) (البقرۃ : 152)
اگر تم مجھے یاد نہیں رکھو گے تو آگے آپ خود پرُ (Fill up) کرلیجئے کہ کیا ہوگا ؟ کلام کے یہ تیور ” یاد رکھنے “ کے ترجمہ سے پیدا ہوتے ہیں ‘ ورنہ نہیں۔ صرف یہ نہیں کہ تم مجھے یاد کرو ‘ میں تمہیں یاد کروں گا بلکہ تم مجھے یاد رکھو گے ‘ تو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اگر تم مجھے بھول گئے ‘ تو جیسے تاثیر نے کہا تھا کہ
بھولنا مت تاثیر کی باتیں
بھول گئے تو یاد کرو گے
دوسری بات جو خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ : ” وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ“ اس میثاق کو کبھی نہ بھولنا ‘ ہمیشہ یاد رکھنا جس کو اللہ نے تم سے مضبوطی سے لیا ہے۔ یہ میثاق دوہرا ہے : ایک حصہ یہ ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے ‘ دوسرا اگلی آیات میں آرہا ہے۔ یہ باہم بڑی مربوط آیتیں ہیں ‘ پتہ نہیں ہم انھیں الگ الگ کیوں سمجھ لیتے ہیں۔ اگلی آیات میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم اسے یاد رکھو گے ‘ تو یہ چیزیں تمہیں ملیں گی اور اگر یاد نہیں رکھو گے ‘ اللہ کی نعمت نہیں جانو گے ‘ تو جہنم والوں میں سے ہوجاؤ گے۔
ہمارا اللہ سے کیا ہوا عہد
یاد رکھنے کی چیزیں یہ ہیں ایک اللہ کی شریعت کا اتمام (تکمیل دین) ہونا اور دوسرا یہ کہ تم اسلام کے دائرے میں کیسے داخل ہوئے ہو ؟ بیشمار لوگ ایسے ہیں جو اسلام کے دائرے سے باہر ہیں جبکہ اللہ نے تمہیں یہ توفیق بخشی ہے کہ تم اسلام قبول کرچکے ہو۔ اسلام قبول کرنا اصل میں ایک عہد اور میثاق ہے اور وہ اس طرح کہ جب تم نے کہا :
اَشْھَدُ اَنْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہُ
(میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ یا اللہ ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں)
تیری قدرتوں سے بالا کسی کی قدرت نہیں ‘ تیرے حکم سے بڑھ کر کسی کا حکم نہیں۔ ظاہر ہے جب تیری قدرت بےپناہ ہے تو تیری قدرت کے سامنے جھکنے کی بجائے کسی اور کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تیرے در کے سوا کسی اور کے در پر کیوں جاؤں ؟ اس لیے کہ جب میں تجھے ” الٰہ “ مان چکا تو کسی اور سے تعلق پیدا کرنا میرے لیے ناروا بات ہے۔ کہا : دیکھنا ! یہ جو تم نے ایک معاہدہ کرلیا ہے ‘ یہ بڑا کٹھن معاہدہ ہے ‘ یہ آسان نہیں ہے۔ آدمی کی پوری زندگی ایک دوسرے ڈگر پر پڑجاتی ہے ‘ پہلی زندگی میں تو آدمی کبھی شیطان سے تعلق جوڑتا ہے ‘ کبھی طاغوت سے اور نجانے کس کس اقتدار سے پینگیں بڑھاتا ہے۔ کبھی نفس انسانی کی خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ کبھی وہ نجانے کن کن آستانوں پر سر جھکاتا ہے۔ لیکن جب وہ لا الہ الا اللّٰہکہہ دیتا ہے تو ہر آستانہ ٹوٹ جاتا ہے۔ بالکل ایک نئی زندگی شروع ہوجاتی ہے۔ پھر اگر کوئی اسے اپنے سامنے جھکانا چاہے تو وہ اسے پائوں کی ٹھوکر پر رکھتا ہے ‘ کہ تم کون ہو ؟ پھر وہ دنیا کا بےپناہ قوت والا انسان بن کر اٹھتا ہے۔ پھر اس کا سر صرف اسی بڑی قوت والے کے سامنے جھکـتا ہے ‘ باقی تو اس کی نگاہ میں کٹھ پتلیوں کے تماشے ہیں ‘ جن کی اس کی نگاہ میں ذرہ بھر بھی حقیقت و وقعت نہیں ہوتی۔ جیسے ہم نے دیکھا کہ ایران اور روما اس وقت کی سپر طاقتیں تھیں۔ لیکن جب مسلمان ان کے درباروں میں پہنچے تو کس بےاعتنائی اور بےنیازی سے گئے۔ ربعی ابن عامر ( رض) جب رستم سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے تو اس نے آپ کے استقبال کے لیے دربار کو بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے سجایا ‘ بڑے دبیز قالین بچھائے گئے ‘ بڑے خوبصورت شامیانے تانے گئے ‘ بڑے بڑے تکیے رکھے گئے۔ آپ ایک چھوٹے قد کے گھوڑے پر سوار تھے ‘ ایک بڑے تکیے کا فیتہ نکالا اور اس سے اس کو باندھ کر آگے بڑھے ‘ ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا وہ نیزے کی ” انی “ کو اس طرح مارتے ہوئے گئے کہ جگہ جگہ سے قالین پھٹتا چلا گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ انھیں پرواہ ہی نہیں کہ میں کہاں ہوں۔ جا کر کہا : السلام علیکم۔ وہ حیران ہوئے کہ یہ کیا قصہ ہے ؟ لوگوں نے ان کی گردن جھکانا چاہی تو آپ ( رض) نے گردن اکڑا لی اور کہا کہ میں تمہارا مہمان بن کر آیا ہوں اور تمہیں اگر اس طرح میرا آنا منظور نہیں ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔ پھر رستم سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم لوگ تو اس کے عادی نہیں ہیں کہ ایک آدمی تخت پر خدا بن کر بیٹھے اور باقی لوگ اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں۔ ہم تو برابری کے قائل ہیں۔ انسانی تفریق اور اونچ نیچ کو ہم بالکل گوارا نہیں کرتے۔ جب اس تمام گفتگو کا ترجمہ کیا گیا تو یہ ان کے لیے بالکل نئی باتیں تھیں۔ دربار میں سناٹا طاری ہوگیا کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے ؟ اس واقعے کو بیان کرنے کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ جن لوگوں نے اس عہد و میثاق سے اپنا تعلق جوڑا اور جب تک انھوں نے اس کو یاد رکھا ‘ وہ دنیا کی سب سے بڑی قوم اور دنیا سے بےنیاز افراد تھے۔ وہ کسی سے ڈرنا ‘ کسی کے سامنے خم ہونا جانتے ہی نہ تھے۔ وہ صرف یہ جانتے تھے کہ ایک ہی ذات ہے جس کے سامنے سر جھکایا جاسکتا ہے ‘ جس سے مانگا جاسکتا ہے ‘ جس سے امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ رہی یہ بات کہ کس کا طریقہ اختیار کیا جائے ‘ وہ بھی ذات ایک ہی ہے جس کا نام نامی ( محمد ﷺ ہے۔ ان کے سوا ہم اور کسی کا اتباع نہیں کریں گے کیونکہ وہی ایک ذات ہے جو دانائے سبل ختم الرسل اور مولائے کل ہے۔ اسے چھوڑ کر ہم سایوں کے پیچھے کیوں بھاگیں۔ مختصر یہ کہ عہد سے وابستگی اور اتباعِ رسول ہی ان کی قوت کا سرچشمہ اور شریعت پر عمل کو آسان کرنے کا ذریعہ تھا۔
تم بھی جب تک اس عہد سے وابستہ ہو اور یہ تمہارے دلوں کی رونق اور زندگی ہے تو سمجھ لو یہ چیزیں تمہیں دشوار نہیں لگیں گی بلکہ پھر تم لپکتے ہوئے ان چیزوں پر عمل کرو گے۔ لیکن اگر یہ عہد و پیمان ہی مرجھا کر رہ جائے تو پھر اس شریعت پر عمل کرنا انتہائی دشوار لگنا ہے۔ اسی لیے اس عہد و پیمان کی بار بار تازگی کے لیے اور اللہ سے اس عہد وفا کی تجدید کے لیے نماز فرض فرمائی کیونکہ نماز عملی طور پر ایک ایسی مشق ہے جس میں توحید کا اقرار ہے ‘ اس کی بنیاد ہی م ہے ‘ یہ ہماری ساری کوتاہیوں کا علاج ہے یعنی میں کسی کے سامنے جھکتا کیوں ہوں ؟ اس لیے کہ اسے بڑا مانتا ہوں۔ میں کسی کے سامنے ہاتھ کیوں پھیلاتا ہوں ؟ اس لیے کہ اسے بڑا مانتا ہوں۔ کسی کی فرمانبرداری کیوں کرتا ہوں ؟ اس لیے کہ اسے بڑا مانتا ہوں۔ میں کسی سے ڈرتا کیوں ہوں ؟ اس لیے کہ اسے بڑا مانتا ہوں۔ کسی کی تہذیب پر کیوں چلنا چاہتا ہوں ؟ اس لیے کہ اس کی تہذیب کو میں ایک بڑی تہذیب سمجھتا ہوں۔ جب میں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لوں کہ بڑائی تو صرف اللہ کو زیب دیتی ہے ‘ اس کے سوا کوئی بڑا نہیں اور وہ بہ ہمہ وجوہ اور بہ ہمہ جہت بڑا ہے ‘ کسی ایک حوالے سے نہیں ‘ تو میرے سارے خدشات خودبخود دور ہوجائیں گے اور ہم اس کی پریکٹس نماز کے ذریعے کرتے ہیں۔ جب ہم ” م “ کہہ کر نماز شروع کرتے ہیں یعنی میں تھکاہارا آ کر جب مسجد میں یہ کہتا ہوں ” م “ تو ساری دنیا کو دھتکار کر صرف اللہ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا ہوں۔ اب بتائیے ! میرا رشتہ کس سے ہے ؟ ایک قطرہ جو سمندر سے باہر ہے ‘ اسے ایک چھٹانک ریت بھی چوس سکتی ہے۔ جب وہ قطرہ سمندر میں گر جاتا ہے تو وہ سمندر کا ایک حصہ ہے جو سمندر کی طاقت ہے ‘ وہ اس قطرے کی طاقت ہے۔ جب میں اللہ سے وابستہ ہوجاتا ہوں تو میرا رشتہ اب اللہ سے جڑ گیاـ۔
ہاتھ ہے اللہ کا بندئہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں ‘ کارکشا و کارساز
بندہ تو بندہ ہی رہتا ہے ‘ لیکن جب وہ اس رشتے کو اوڑھ لیتا ہے تو پھر وہ رشتہ اس کا بھرم قائم رکھتا ہے۔ پھر وہ اسے کہیں ڈولنے نہیں دیتا ‘ کسی کے سامنے سرنگوں نہیں ہونے دیتا۔
یہ تو ہے ہمارا عہد و پیماں جو ہم میں سے ہر ایک فرد نے ‘ صحابہ کرام ( رض) سے لے کر آج تک جس نے بھی اپنے آپ کو مومن کہا ‘ اللہ سے اپنا تعلق جوڑا اس نے یہ عہد و پیماں کیا اور نماز سے ہم پانچ وقت اس عہد و پیماں کی تجدید کرتے ہیں تاکہ یہ تعلق کہیں کمزور نہ ہونے پائے۔ لیکن بطور امت مسلمہ کے ہمارا ایک تشخص بھی ہے۔ ہم ہر وقت اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں ‘ اس کے نمازی ہیں۔ اکثر ہم سے کہا جاتا ہے کہ خدائی فوجدار بننے کی کیا ضرورت ہے ؟ یاد رکھئے ! ہم خدائی فوجدار ہیں۔ یہ تو ہمارے افراد کی قوت ہے ‘ لیکن امت کے حوالے سے اور اجتماعی حیثیت سے ہمارا ایک تشخص ہے۔ ان دونوں کو ایک ساتھ جمع کردیا گیا ہے تاکہ ہم اسے کبھی نہ بھولیں کہ افراد اس وقت تک کام کے ہیں جب تک وہ اجتماعی تشخص کا حصہ ہوں اور اگر وہ الگ الگ ہیں تو بکھری ہوئی موجیں ہیں ‘ جنھیں کہیں بھی ریت چوس سکتی ہے۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
فرد جب تک ملت کی آرزوئوں ‘ امنگوں ‘ مقاصد اور اہداف کے ساتھ قائم رہے ‘ اس کا بھی تشخص قائم رہتا ہے۔ اگر وہ کٹ کر ایک نیا راستہ بنا لے تو پھر یہ صرف ایک فرد رہ جاتا ہے بےسہارا اور اجنبی۔ یہی بات یہاں کہی گئی ہے کہ تم افراد تھے ‘ اب جب تم نے عہد و پیمان کرلیا ہے ‘ اس کے بعد تم ایک امت بن گئے ہو۔ اب تمہارا ایک الگ تشخص ہے۔
Ayah 5:8یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ ز وَلَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلیٰٓ اَلَّا تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُو اللہ َ ط اِنَّ اللہ َ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 8)
(اے ایمان والو ! اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کو کھڑے ہوجایا کرو اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے)
بحیثیت امت مسلمہ ہماری اصل ذمہ داری
مسلمانو ! تم انصاف کے علمبردار بن کر کھڑے ہوجاؤ جس طرح تم اللہ کے فرمانبردار بندے بن کر صرف اسی کے سامنے جھکتے ہو اسی طرح تمہارا کام انصاف کی علمبرداری بھی ہے۔ تم اللہ کے سامنے جتنا جھکو گے ‘ اللہ تمہیں اتنا ہی سربلند کرے گا اور تمہاری یہ سربلندی انصاف کو دنیا میں عام کرنے کے لیے ہوگی اور یہ انصاف کو عام کرنا ” لِلّٰہِ شُھَدَآئَ “ اللہ کے گواہ کی حیثیت سے ہوگا کیونکہ اللہ نے ہمیں عدل کی حکمرانی کے لیے چنا ہے۔ ہم جب انصاف عام کریں گے تو گویا اللہ کی صفت (عدل) کی گواہی دیں گے اور یہ گواہی دیتے ہوئے اگر کبھی ہمیں سرکٹوانے تک بھی جانا پڑے تو ہم اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور اگر کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس تعلق کو نبھانے کی پوزیشن میں نہیں یا نبھانا نہیں چاہتے۔ اقبال نے اس کو بڑی خوبصورت تعبیر دی ہے ؎
مقامِ بندگی دیگر ‘ مقام عاشقی دیگر
ز نوری سجدہ می خواہی ‘ ز خاکی بیش ازاں خواہی
بندگی کا مقام فرشتوں کو ملا ہے اور ہم نمازیں پڑھتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہیں۔ بندے ہم بھی ہیں ‘ لیکن صرف بندے نہیں ‘ ہم اجتماعی زندگی میں کچھ اور بھی ہیں۔ لیکن فرشتے صرف بندے ہیں ‘ وہ بندگی سے انحراف کر ہی نہیں سکتے۔ ان کی کوئی اجتماعی زندگی نہیں ہے بلکہ جہاں جہاں ‘ جس جس فرشتے کو جس عمل پر لگا دیا گیا ہے وہ صرف وہی کام کر رہا ہے ‘ اگر وہ قیام میں ہے تو قیام میں ہی اس کی ساری زندگی گزرے گی ‘ اگر قعود میں ہے تو قعود میں ہی اس کی ساری زندگی کٹے گی اور کسی دوسری ڈیوٹی پر ہے تو وہ تمام عمر وہیں پر لگا رہے گا۔ لیکن یہ دیکھنا کہ مجھے اجتماعی زندگی کا حصہ بن کر کیا کرنا ہے ؟ کہا : تمہارا ایک مقام تو بندگی کا ہے اور دوسرا مقام یہ ہے کہ تم صرف بندے ہی نہیں ہو بلکہ تم اللہ سے عشق کا دعویٰ بھی کرتے ہو۔ لہٰذا فرشتوں سے اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں ‘ مگر تم سے اللہ کچھ اور بھی چاہتا ہے۔ مسلمانوں سے اللہ کے اس تقاضے کو اقبال یوں بیان کرتا ہے کہ
ازاں خود را نگہ داری کہ با ایں بےنیازی ہا
شہادت بروجودِ خود زخون دوستاں خواہی
کہا : وہ اپنی ساری بےنیازیوں کے باوجود چاہتا یہ ہے کہ جو اس کے دوست اور نام لیوا ہیں ‘ جنھوں نے اس کا دین قبول کیا ہے اور ” سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا “ کہہ کر اپنا نام اس کے دوستوں کی فہرست میں لکھوا لیا ہے ‘ جو اپنے آپ کو مومن اور مسلم کہتے ہیں ‘ ان سے اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ جو اب تک میرا نام لے کر مجھے یاد کرتے رہے ہیں اور لوگوں کو بتاتے رہے ہیں کہ اللہ ہے ‘ اب میں انھیں یہ کہتا ہوں کہ اگر تمہیں خون کا آخری قطرہ بہا کر بھی یہ ثابت کرنا پڑے کہ اللہ ہے ‘ تو تمہیں اس سے بھی دریغ نہیں کرنا۔ نوریوں سے اس کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ تم خون کا آخری قطرہ بہا ڈالو اور تم اس راستے میں اپنی جانیں دو بلکہ اس کا یہ تقاضہ خاکیوں سے ہے کہ تم سے میرا تعلق صرف آقا اور ملازم کی حد تک نہیں ‘ اگر میرے دین کی بالا دستی کے لیے تمہیں کبھی تصادم کی حد تک بھی جانا پڑے ‘ جس میں تمہیں اپنی جان دینی ‘ سر کٹوانا پڑجائے تو اللہ اس کا مطالبہ اپنے عاشقوں سے کرتا ہے کہ وہ میرے عشق میں اپنی جانوں کے نذرانے دیں۔ تو ہم سے بھی اس بات کا مطالبہ اس وقت ہوگا جب ہم دنیا میں عدل کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے اٹھیں گے۔ کہا : تمہارا کام یہ ہے کہ تم اللہ کے گواہ بن کر انصاف کی علمبرداری کے لیے اٹھو۔ تم خود تو بےانصافی کیا کرو گے ‘ کہیں اور بھی بےانصافی کی اجازت ہرگز مت دینا۔ اگر دنیا میں کہیں بےانصافی ہوتی ہے اور تم بےانصافی کرنے والوں کے معین بن جاتے ہو تو اسکا مطلب یہ ہے کہ تم نے جو عہد کیا تھا ‘ تم اس پر قائم نہ رہے۔ تم تو ” سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا “ کا بھی انکار کر رہے ہو چہ جائیکہ کہ تم عدل کی حکمرانی کے لیے اپنا فرض انجام دو ۔
یہ آیت سورة النساء میں بھی گزری ہے۔ اس میں پہلی بات تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایک دوسرے پیرائے میں کہی گئی ہے ‘ وہاں فرمایا تھا : ” یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ “ (النساء : 135) مسلمانو ! تمہیں انصاف کا گواہ بن کر اٹھنا ہے اور انصاف کی علمبرداری قائم کرنی ہے۔ اس سلسلے میں یہ ہوسکتا ہے کہ جب تم انصاف کی گواہی دینے کے لیے اٹھو تو یہ تمہاری اپنی برادریوں اور خود تمہارے یا تمہارے والدین کے خلاف ہو۔ ہوسکتا ہے تمہارے اقرباء کے خلاف ہو ‘ لیکن تمہیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ عدل اور انصاف کیا ہے ؟ بات جس کے بھی خلاف جائے ‘ تمہیں فیصلہ وہی کرنا ہے جو اسلام چاہتا ہے۔
دو چیزیں سب سے زیادہ عدل و انصاف کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ -1 اپنوں کے رشتے اور -2 دوسروں کی دشمنی۔ فرمایا : اگر اپنوں کے رشتے بھی راستے میں رکاوٹ بنیں تو دیکھنا ! اس کی پرواہ نہیں کرنا ‘ اگرچہ تم خود بھی اس کا ہدف کیوں نہ ہو ‘ چاہے اس کی ضرب اپنے پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ جیسے آنحضرت ﷺ نے فاطمہ بنت قیس کے مقدمے میں فرمایا تھا ‘ جس کی سفارش کی گئی تھی کہ یہ قیس کی نوجوان لڑکی ہے ‘ آپ اسے چھوڑ دیں۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے برہم ہو کر فرمایا تھا کہ یہ تو فاطمہ بنت قیس ہے ‘ اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کا ارتکاب کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ اس لیے قرآن کریم یہ کہتا ہے : ” وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالاَْقْرَبِیْنَ “ چاہے ضرب تمہارے اپنے آپ پر ‘ اپنے والدین پر اور اپنے عزیزوں پر کیوں نہ پڑتی ہو ‘ تمہیں بہرحال انصاف کو نافذ کرنا ہے۔ اسی طرح اگر تم انصاف کے لیے اٹھتے ہو اور دیکھتے ہو کہ انصاف کا فائدہ میرے دشمن کو پہنچ رہا ہے ‘ اب بھی تم انصاف کو بروئے کار لائو گے ‘ چاہے دشمن کو فائدہ ہو اور تمہارے اپنوں کو نقصان پہنچے۔ یہاں فرمایا : مسلمانو ! عدل کے قائم کرنے والے ‘ اللہ کے گواہ بن کر اٹھو ‘ یعنی تم خدائی فوجدار بن کر اٹھو کیونکہ یہ تمہارا اپنام کام نہیں بلکہ اللہ کا کام ہے۔
مسلمانوں کا مقصد جہاد
وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا ” اور تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کسی قوم کی دشمنی کہ تم عدل کرنے سے رک جاؤ “
اگر دشمن قوم کا کوئی معاملہ ہو اور تم دیکھو کہ اس سے فائدہ دشمن قوم کو پہنچ رہا ہے تو لوگوں کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم عدل سے ہاتھ روک لو۔ یہ جو قرآن کریم کہتا ہے کہ دشمنوں کا معاملہ بھی ہو ‘ تب بھی عدل کرو۔ یہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ مسلمانوں نے اس پر عمل کرتے ہوئے عدل کی ایسی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ روس کی جو چھ ریاستیں آزاد ہوئیں ‘ یہ وہ علاقہ ہے جسے ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کے زمانے میں مسلمانوں نے فتح کیا۔ جب یہ علاقہ فتح ہوگیا اور اس کے بعدعمر بن عبدالعزیز کا زمانہ آیا تو ان کو اس علاقے کے مذہبی رہنمائوں کی طرف سے ایک شکایت پہنچی کہ جب مسلمان کسی علاقہ پر چڑھائی کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ ( اللہ کا دین) ایک ہوا ہے ‘ جسے تم روک کر بیٹھے ہو ‘ یہ ایک روشنی ہے ‘ جس کے تم دشمن بن گئے ہو۔ تم اللہ کے اس دین کو قبول کرلو تو ہمارے بھائی ہو یا دوسروں کے لیے راستہ خالی کردو اور حکومت ہمارے حوالے کردو اور تم ہمیں اپنی حفاظت کے بدلے ایک ٹیکس دو ‘ جس کا نام جزیہ ہے (یہ بالعموم زکوٰۃ سے کم ہوتا ہے) ۔ اس کے بدلے میں ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے کہ تم فوجی خدمت سر انجام دو ‘ جبکہ مسلمان زکوٰۃ بھی دے گا اور فوجی خدمت بھی سر انجام دے گا۔ اگر وہ لوگ ٹیکس دینے پر آمادہ ہوجائیں ‘ پھر ان سے حکومت تو لے لی جاتی ہے ‘ مگر پھر ان کی ہر طرح سے حفاظت کی جاتی ہے۔ اگر وہ اس کے لیے بھی تیار نہ ہوں اور کہیں کہ ہم تو لڑیں گے ‘ اب یہ آخری مرحلہ ہے جس میں مسلمان لڑنے کے لیے تلوار نکالتا ہے۔ پھر تلوار جو فیصلہ کرتی ہے ‘ وہی ہوتا ہے۔ کہا : یہ ہے وہ شریعت ‘ جس کو ہم نے آپ کے پیغمبر کی تعلیم کی روشنی میں سمجھا ہے۔ لیکن جب آپ کی فوجیں ہمارے علاقے میں آئیں تو انھوں نے ہمیں اس قسم کا کوئی نوٹس نہیں دیا کہ ہماری یہ شرائط مان لو ورنہ ہم آپ پر حملہ کریں گے۔ وہ ایک طوفان کی طرح آئے اور ہمیں روندتے ہوئے آگے نکل گئے۔ ہم جانتے تو تھے کہ اسلامی افواج چلی آرہی ہیں ‘ ہم اس کے مقابل تیار بھی تھے ‘ لیکن انھوں نے اپنے پیغمبر کی اس ہدایت پر عمل نہیں کیا۔ انھوں نے ہمیں روند ڈالا اور سارا علاقہ فتح کرلیا۔ اب یہ اسلامی مملکت کا ایک حصہ تو ہے ‘ لیکن اس میں وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس علاقے کے فتح کرنے میں بےانصافی سے کام لیا گیا ہے۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس یہ شکایت پہنچی تو آپ نے اس علاقے کے گورنر کو لکھا کہ صحیح صورت حال کے بارے میں مطلع کریں۔ وہ سچے لوگ تھے ‘ انھوں نے لکھا کہ یہ جو شکایت کی گئی ہے ‘ یہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن اب کیا ہوسکتا ہے، مسلمانوں کی آبادیاں بس گئیں ‘ مساجد بن گئیں ‘ رشتے قائم ہوگئے اور پر اپرٹیز بن گئیں۔ مسلمانوں کو یہاں رہتے ہوئے ایک عرصہ ہوگیا۔ اب یہاں مسلمانوں کی حکومت ہے۔ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اب ان باتوں سے کیا فائدہ ؟ چند دنوں کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز کی جانب سے حکم آیا کہ مسلمانو ! تم نے سنت محمدی ﷺ پر عمل نہ کر کے بہت بڑی خیانت کی ہے۔ تم نے ایک جرم کیا ہے اور میں چونکہ عدل قائم کرنے کے لیے اٹھا ہوں ‘ میں اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اپنی فوجیں لے کر اس سارے علاقے سے اتنی دور نکل جاؤ کہ اگر دوبارہ انھیں تمہارا مقابلہ کرنا پڑے ‘ تو وہ تیاری کرسکیں۔ اس حکم کے بعد سینکڑوں میل کا علاقہ مسلمانوں نے اپنی قلمرو سے نکال دیا اور وہاں سے فوجیں لے کر بہت دور نکل گئے۔ انھیں موقع دیا گیا کہ تم جب تک تیاری کرنا چاہتے ہو ‘ کرلو۔ چناچہ جب ان کی تیاریاں مکمل ہوگئیں ‘ اب ان کے سامنے پورا طریقہ (Process) بروئے کارلایا گیا اور ان کے سامنے اسلام پیش کیا گیا کہ اب بتلائو کیا کہتے ہو ؟ اسلام کی برکتوں کا ذکر کیا گیا اور وہ چونکہ مسلمانوں کو پہلے بھی دیکھ چکے تھے کہ یہ ہیں کیسے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے تو کچھ لوگ مسلمان ہوئے تھے اور کچھ نہیں ہوئے تھے ‘ اب جب اس طریقہ (Process) پر عمل کیا گیا تو ایک آدمی بھی ایسا نہ بچا جسے اللہ نے اسلام کی توفیق نہ دی ہو۔
یہ تھا مسلمانوں کا طرزعمل جب وہ دنیا میں بالادست قوت تھے ‘ وہ نہ صرف غریبوں کو انصاف دیتے تھے بلکہ انھوں نے انصاف کی حکمرانی قائم کی تھی۔
عدل کے بغیر تقویٰ ممکن نہیں
فرمایا کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم عدل چھوڑ بیٹھو۔ عدل کرو کہ یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ تقویٰ اصل میں پورے دین اسلام کی روح ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو مسلمانوں میں پیدا کرنا مقصود ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ عقائد ‘ عبادات اور معاملات کے حوالے سے آدمی اللہ سے ڈرنے لگے اور کبھی اس کی نافرمانی کا سوچ بھی نہ سکے۔ یہ روح پیدا کرنا تقویٰ کہلاتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم اجتماعی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو ! وہ کبھی عدل کی حکمرانی کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ ایک غریب کو اگر انصاف نہیں ملے گا تو وہ تقویٰ کہاں سے سیکھے گا ؟ ایک جج عدالت میں بیٹھ کر انصاف نہیں کرتا تو وہ کہاں کا متقی ہے ؟ گواہ جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں تو ان میں تقویٰ کہاں سے آئے گا ؟ استاد اپنی تعلیم کو عبادت کی بجائے ‘ تجارت سمجھتا ہے تو اس میں تقویٰ کہاں ہے ؟ اگر تم ہر شعبہ ٔ زندگی میں تقویٰ لانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ عدل کی حکمرانی ہو ‘ انصاف کی بالادستی ہو۔ اگر عدل و انصاف نہیں ہوگا تو تمہاری زندگیوں میں تقویٰ ہرگز نہیں آسکے گا ؟ اس طرح اسلام کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ پیدا ہو۔ رہی یہ بات کہ تم کہو کہ ہم متقی ہیں۔ تو یاد رکھو ! تمہارے کہنے سے کیا ہوگا ؟ اللہ تو جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ تمہارے اعمال سے اس سے بڑھ کر کون واقف ہے۔ وہ جانتا ہے تم میں تقویٰ کی حکمرانی ہے یا غیر تقویٰ کی۔