5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری حق کے ساتھ ‘ مصداق اس سے پیشتر سے موجود کتاب اور اس کے لیے کسوٹی بنا کر۔ تو ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے مطابق ‘ جو اللہ نے اتارا اور اس حق سے ہٹ کر جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک ضابطہ اور ایک طریقہ ٹھہرایا اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے ‘ جو اس نے تم کو بخشی تو بھلائیوں کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے تو وہ تمہیں آگاہ کرے گا اس چیز سے ‘ جس سے تم اختلاف کرتے ہو

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُھَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ عَمَّا جَآئَکَ مِنَ الْحَقِّ ط لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا ط وَلَوْشَآئَ اللہ ُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط اِلیَ اللہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیِہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (المائدہ : 48) ” اور ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری حق کے ساتھ ‘ مصداق اس سے پیشتر سے موجود کتاب اور اس کے لیے کسوٹی بنا کر۔ تو ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے مطابق ‘ جو اللہ نے اتارا اور اس حق سے ہٹ کر جو تمہارے پاس آچکا ہے ‘ ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک ضابطہ اور ایک طریقہ ٹھہرایا اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے ‘ جو اس نے تم کو بخشی تو بھلائیوں کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے تو وہ تمہیں آگاہ کرے گا اس چیز سے ‘ جس سے تم اختلاف کرتے ہو “۔ اس آیت میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے ہے۔ لیکن بالواسطہ خطاب پوری امت سے ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے یہود کی طرف تورات اور نصاریٰ کی طرف انجیل نازل کی اور ان کو اس بات کا حکم دیا کہ وہ ان کتابوں کے مطابق فیصلے کریں۔ انھوں نے ان کتابوں کے ساتھ جو کیا اس کا انجام ان کے بھی سامنے ہے اور تمہارے بھی۔ اب تم پر بھی اسی طرح ایک کتاب ہم نے نازل کی ہے۔ جو اپنی خصوصیات میں بہت نمایاں ہے اور تمہیں بھی یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ اس کتاب کے مطابق فیصلے کرنا اور یہ چونکہ اللہ کی آخری کتاب ہے ‘ اس لیے اب کسی غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اگر اس کے حقوق کی ادائیگی میں کمی کی گئی اور نوع انسانی کو اللہ کی اس نعمت سے بہرہ ور کرنے کی بجائے ‘ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے محروم رکھا گیا تو یہ ایک ایسا حادثہ ہوگا ‘ جس کی تلافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے زور دے کر فرمایا کہ ہم نے یہ جو کتاب اتاری ہے ‘ اس کی تین حیثیتیں ہیں۔ قرآن پاک کی تین حیثیتیں 1 ایک تو یہ کہ اسے حق کے ساتھ اتارا گیا۔ ” حق “ سے مراد یہ ہے ‘ جس پر سیاق کلام دلالت کر رہا ہے کہ اسے ہم نے قول فیصل بنا کر بھیجا ہے۔ چونکہ سابقہ کتابیں ترمیم اور تحریف کا شکار ہوگئیں۔ اب اس کتاب کی حیثیت یہ ہے کہ ان کتابوں کی کمی بیشی اور اہل کتاب کی خیانتوں پر یہ قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے کہ جو بات یہ کہے گی وہ صحیح ہوگی اور پہلی آسمانی کتابوں کو اس کی کہی ہوئی باتوں پر جانچا اور پرکھا جائے گا۔ 2 دوسری خصوصیت اس کتاب کی یہ ہے کہ یہ سابقہ کتابوں کی محفوظ باتوں اور محفوظ حقائق کی تصدیق کرتی ہے اور خود ان حقائق کی مصداق بھی ہے۔ لیکن یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ سابقہ کتابوں کا ذکر الکتاب کے لفظ سے کیا گیا۔ اس سے اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ قرآن اور تمام وہ کتابیں جو مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں ‘ سب کی سب حقیقت میں ایک ہی کتاب ہے ‘ ایک ہی ان کا مصنف ہے ‘ ایک ہی ان کا مدعا اور مقصد ہے ‘ ایک ہی ان کی تعلیم ہے اور ایک ہی علم ہے ‘ جو ان کے ذریعے سے نوع انسانی کو عطا کیا گیا۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا ہے ‘ جو ایک ہی مقصد کے لیے مختلف مخاطبوں کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے اختیار کی گئیں۔ پس حقیقت صرف اتنی ہی نہیں کہ یہ کتابیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں ‘ مؤید ہیں۔ تردید کرنے والی نہیں ‘ تصدیق کرنے والی ہیں بلکہ اصل حقیقت اس سے کچھ بڑھ کر ہے۔ وہ یہ کہ سب ایک ہی الکتاب کے مختلف ایڈیشن ہیں۔ 3 تیسری خصوصیت اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب ممہیمن بنا کر نازل کی گئی۔ ” مہیمن “ اللہ کی صفت بھی ہے ‘ جو سورة حشر میں ذکر کی گئی ہے اور اس کتاب کی صفت بھی۔ ” مہیمن “ کا معنی ہوتا ہے محافظ ‘ نگران ‘ گواہ ‘ امین ‘ تائید اور حمایت کرنے والا۔ قرآن کریم کے مہیمن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان تمام برحق تعلیمات کو ‘ جو پچھلی کتب آسمانی میں دی گئی تھیں ‘ اپنے اندر لے کر محفوظ کرلیا ہے۔ وہ ان پر نگہبان ہے ‘ اس معنی میں کہ اب ان کی تعلیمات برحق کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے گا۔ وہ ان کی مؤید ہے ‘ اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر اللہ کا کلام جس حد تک موجود ہے ‘ قرآن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ اس پر گواہ ہے ‘ اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر اللہ کے کلام اور لوگوں کے کلام کی جو آمیزش ہوگئی ہے ‘ قرآن کی شہادت سے اس کو پھر چھانٹا جاسکتا ہے۔ جو کچھ ان میں قرآن کے مطابق ہے ‘ وہ اللہ کا کلام ہے اور جو قرآن کے خلاف ہے ‘ وہ لوگوں کا کلام ہے۔ گویا کہ علم الٰہی کے حوالے سے صحت و استناد کی اگر کوئی اتھارٹی ہے ‘ جس کے بعد شک و شبہ کا ہر کانٹا نکل جاتا ہے ‘ وہ صرف قرآن کریم ہے۔ مذہب کے حوالے سے کوئی ایسی بات ‘ جس کی نسبت وحی الٰہی کی طرف ہو ‘ اگر یہ دیکھنا ہو کہ یہ واقعی ثابت بھی ہے یا نہیں تو اس کے لیے قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ پہلی آسمانی کتابیں یقیناً وحی الٰہی کا نور لے کر نازل ہوئی ہیں اور وہ اپنے دور میں اللہ کی عطا کردہ ہدایت کا سرچشمہ تھیں۔ لیکن اب ان کے مندرجات چونکہ ترمیم و تحریف کی نذر ہوگئے ‘ اس لیے اب ان کی صحت کا دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ قرآن کریم اس کی تصدیق کرتا ہے یا نہیں۔ اسے دنیائے علم کی ستم ظریفی کہئے کہ جس کتاب کی حیثیت قول فیصل اور مہیمن کی تھی ‘ اس کو سابقہ آسمانی کتابوں پر جانچ جانچ کر فیصلہ کیا جانے لگا حالانکہ سابقہ کتابوں کو ماننے والے بھی اس کی صحت کے بارے میں یکسو نہیں۔ لیکن مذہبی تعصب جب علمی امانت پر غالب آجاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ‘ جو ہم مستشرقین کی کتابوں میں دیکھ رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی ہر بات کو تورات و انجیل پر رکھ کر دیکھتے ہیں۔ اگر ان سے مختلف نظر آتی ہے تو سمجھتے ہیں کہ محمد ﷺ نے چونکہ ان باتوں کا علم لوگوں سے سن سنا کر حاصل کیا تھا ‘ اس لیے اپنی کتاب میں درج کرتے ہوئے ان سے بھول ہوگئی ہے اور اگر وہ کسی بات کو زائد دیکھتے ہیں ‘ جس کا ذکر پہلی آسمانی کتابوں میں نہیں تو وہ حیران ہو کر اس کا انکار کردیتے ہیں کہ یہ نئی بات کہاں سے آگئی۔ بنیادی خرابی یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کو کتاب اللہ نہیں بلکہ کتاب محمد ﷺ سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں قرآن کریم کی اصل اور مخصوص حیثیت کو نمایاں کرنے کے بعد فرمایا کہ اے پیغمبر ! لوگوں کے درمیان اس حق کے مطابق فیصلہ کیجئے ‘ جو قرآن کریم کی شکل میں اللہ نے نازل کیا ہے اور آپ کو اس کتاب کے مطابق فیصلہ کرنے میں قدم قدم پر دشواریاں پیش آئیں گی کیونکہ اہل کتاب آپ کو بار بار اپنی خواہشات کے اتباع پر مجبور کریں گے اور وہ چاہیں گے کہ آپ کے فیصلے قرآن کریم کے مطابق ہونے کی بجائے ‘ ان کی خواہشات کے مطابق ہوں۔ آپ پر چونکہ حق نازل ہوچکا ہے ‘ اس لیے آپ کا کام اس حق کا اتباع ہے ‘ کسی کی خواہش کا اتباع نہیں۔ جب ہم تفسیری روایات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس بات کا سراغ ملتا ہے کہ اہل کتاب ‘ بالخصوص یہود ‘ مختلف طریقوں سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوتے تھے ‘ ان کے ذہنوں پر چونکہ پہلے سے ان کا علمی رعب مسلط تھا کیونکہ یہی پڑھے لکھے لوگ تھے اور مدینے کی آبادی بالکل ان پڑھ ہونے کی وجہ سے ان سے علمی طور پر مرعوب رہتی تھی۔ اس لیے مسلمانوں پر اپنے اثرات کے باعث یہ لوگ طرح طرح سے اسلامی عدالتوں پر اثر اندازہونے کی کوشش کرتے تھے اور جب ان کو اس میں کامیابی نظر نہیں آتی تھی تو پھر وہ آنحضرت ﷺ سے مل کر آنحضرت ﷺ کے تبلیغ و دعوت میں ڈوبے ہوئے جذبات کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دفعہ یہود کے چند علما آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ پیشکش کی کہ آپ ہمارے چند قضایا کا فیصلہ اگر ہماری رائے کے مطابق کردیں تو ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہوجائیں گے اور چونکہ ہماری قوم ہم پر اعتماد کرتی ہے ‘ وہ جب دیکھیں گے ہم مسلمان ہوگئے ہیں تو وہ بھی سارے اسلام قبول کرلیں گے۔ یہاں ان کے اسی ارادہ بد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا جا رہا ہے کہ آپ بہر صورت حق کے مطابق فیصلہ کریں ‘ ان کی خواہشات کی پرواہ نہ کریں۔ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ سے مراد اس آیت کریمہ کے الفاظ پر غور کرتے ہوئے دو باتوں کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ ایک یہ بات کہ ” فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ “ یہ زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں ہے یعنی اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دیوانی ‘ فوجداری یا شخصی معاملات ‘ جو عدالتوں میں پہنچیں تو آپ قرآن و سنت کے قانون کے مطابق فیصلہ کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری زندگی کے فیصلے وحی الٰہی کی روشنی اور اس کی راہنمائی میں ہونے چاہئیں۔ جس طرح شخصی زندگی میں یہ جاننا کہ نکاح کا طریقہ کیا ہے ؟ ‘ اس کے احکام کیا ہیں ؟ ‘ میاں بیوی کے حقوق و فرائض کیا ہیں ؟ ‘ اولاد کے حقوق کیا ہیں اور والدین کے فرائض کیا ہیں ؟ پھر اولاد کی تربیت کے کیا اصول اسلام نے دیئے ہیں ؟ اسی طرح حقوق و فرائض کی جو ایک پوری تفصیل شخصی زندگی کے حوالے سے اسلامی شریعت دیتی ہے ‘ جس طرح ان تمام معاملات میں ہم اسلامی شریعت سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں ‘ بالکل اسی طرح ہمیں اس بات کا بھی پابند ٹھہرایا گیا ہے کہ ہم اپنی معاشرتی ‘ معاشی ‘ سیاسی غرضیکہ اجتماعی زندگی کے تمام ادوار اور قومی اور بین الاقوامی حدود میں بھی اسلامی شریعت سے راہنمائی لینے اور اس کی پابندی کرنے پر مجبور ہیں۔ گویا ہماری پوری زندگی اسلامی شریعت کی راہنمائی میں گزرنی چاہیے اور ہماری پوری زندگی کا پہیہ شریعت اسلامی کی قوت سے گھومنا چاہیے۔ جہاں جہاں بھی انسانی اجتماعی زندگی میں اسلام نے احکام دے دیئے ہیں ‘ ان سے سرتابی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ ! جہاں قرآن و سنت خاموش ہے ‘ وہاں اسلامی شریعت کے ماہرین کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اور قرآن و سنت میں غور و فکر کرتے ہوئے ‘ اپنے لیے اصول طے کرسکتے ہیں اور اس میں انھیں آزادی حاصل ہے۔ مختصر یہ کہ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ کا حکم ہماری پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر محیط ہے۔ ” وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَھُمْ “ میں خطاب امت مسلمہ سے ہے دوسری بات جو ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو یہ حکم دیا جا رہا ہے : وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ عَمَّا جَآئَکَ مِنَ الْحَقِّ آپ اہل کتاب کی پیروی مت کریں ‘ اس حق سے منحرف ہو کر ‘ جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ اللہ کا وہ رسول ‘ جو اپنی ذات میں معصوم ہے ‘ جس سے باطل کا اتباع اور حق سے انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور پھر یہ کہ دنیا میں وہی حق کا علمبردار ‘ مبلغ اور مناد ہے۔ اگر وہی اس پر قائم نہ رہا تو اور کسی سے کیا توقع ہوسکتی ہے۔ اس لیے معلوم یہ ہوتا ہے کہ اگرچہ خطاب جناب رسول پاک ﷺ کو ہے ‘ لیکن سمجھایا امت کو جا رہا ہے کہ تمہاری زندگی میں بار ہا ایسے مواقع آئیں گے کہ تمہیں اہل کتاب یا دوسری قوموں کے سامنے اپنے نظریہ حیات پر قائم رہنا مشکل ہوجائے گا۔ بعض دفعہ تم پر ایسا دبائو پڑے گا کہ تم شاید اس کے سامنے ٹھہرتے ہوئے دشواری محسوس کرو۔ اس وقت تم یقیناً یہ چاہو گے کہ مخالف قوتوں سے کوئی سمجھوتہ کر کے اور ان کی بہت سی باتیں مان کر زندگی کا کوئی راستہ نکال لو۔ اس لیے تاکید کے انداز میں فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھنا یہ حرکت نہ کرنا۔ تم اس کائنات کا گل سرسبد اور اس زمین کا نمک ہو۔ اگر تمہی نے خزاں سے سازگاری پیدا کرلی اور تو شجرِ انسانیت کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ اس کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ : لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا ط وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط (تم میں سے ہر ایک امت کے لیے ہم نے ایک ضابطہ اور ایک راستہ مقرر کیا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن (اس نے) ایسا نہیں کیا۔ تاکہ وہ تمہیں آزمائے ‘ اس میں جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔ پس تم بھلائیوں میں سبقت کرو۔ ) شریعتوں میں اختلاف انسانوں کے لیے امتحان ہے یہ ایک جملہ معترضہ ہے اور ایک سوال کا جواب ہے ‘ جو اس آیت کے پہلے حصے کو پڑھنے کے بعد ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ جب قرآن کریم ‘ سابقہ کتابوں کا مؤید اور تصدیق کرنے والا ہے اور تمام آسمانی کتابیں اصلاً ایک الکتاب کا درجہ رکھتی ہیں اور یہ تمام کتابیں ‘ ایک ہی منبع ہدایت سے نکلی ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہر کتاب نے اپنی ماننے والی امت کو دوسری کتاب کی نسبت الگ شریعت دی ہے ؟ یعنی جتنی کتابیں اتری ہیں اور جتنے رسول آئے ہیں ‘ وہ سب الگ الگ شریعتیں لے کر آئے ہیں۔ اگر کتابوں کی حقیقت ایک ہے اور وہ ایک ہی علم لے کر آئی ہیں اور ان کا بھیجنے والا بھی ایک ہی ہے تو پھر الگ الگ شریعتوں کا کیا معنی ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ ہم نے ہر امت کو ایک الگ ضابطہ اور شریعت دی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا سرچشمہ ہدایت الگ الگ ہے۔ جہاں تک دین کے حقائق کا تعلق ہے ‘ وہ ہمیشہ سے غیر متغیر ہیں اور غیر متغیر ہی رہیں گے لیکن شریعت کے ظاہری ڈھانچے اور اس کے فروع میں یقینا تبدیلی کی جاتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ عبادتِ الٰہی کا حکم سب کو دیا گیا۔ سب پر نماز فرض کی گئی ‘ روزہ فرض کیا گیا ‘ قربانی مشروع کی گئی۔ لیکن تمام امتوں میں اس کی ادائیگی کے طریقوں میں اختلاف رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی ایک کمزوری ہے کہ وہ شروع شروع میں ایک حقیقت کو سمجھ کر قبول کرتا ہے ‘ پھر وہ اسے اپنی عادت بنا لیتا ہے اور جب وہی عادت اگلی نسل میں منتقل ہوتی ہے تو وہ اس کی حقیقت پر غور کرنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کرتی بلکہ آبائو اجداد کا ورثہ سمجھ کر ‘ اس کے ساتھ چمٹی رہتی ہے۔ مرور ایام کے ساتھ اگر اس حقیقت میں کوئی آمیزش ہوتی ہے یا اس میں کمی بیشی کردی جاتی ہے تو چونکہ اب یہ آبائو اجداد کا ورثہ بن چکی ‘ اس لیے اس کی اصلاح کی ہر کوشش کو بھی رد کردیا جاتا ہے۔ نتیجہ اس کا معلوم ہے کہ اس حقیقت کو قبول کرنے والے ‘ درحقیقت اس حقیقت سے دور ہوجاتے ہیں۔ انسانوں کا خالق اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ اس نے انسانوں کو عقل و شعور اور قوت تمیز دے کر دنیا میں بھیجا ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ اس کا امتحان لیتا رہتا ہے کہ تم اپنے اللہ کی اطاعت ‘ کیا سمجھ بوجھ کر اور پورے شعور کے ساتھ کر رہے ہو یا محض آبائو اجداد کا ایک ورثہ سمجھ کر۔ اس لیے ان میں عبودیت کی تازگی پیدا کرنے کے لیے وہ ہر نازل ہونے والی نئی شریعت میں زمانے کے حالات کے مطابق فروعی احکام میں تبدیلی کر کے ایک تو وہ انسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کا امتحان لیتا ہے کہ آیا وہ اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور شعور کے ساتھ اس کی اطاعت کرتے ہیں یا وہ اپنی مرضی ہی کی بندگی کرتے اور اپنی مرضی کے ڈگر پر چلنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بات کوئی مشکل نہ تھی کہ پہلے دن سے انسانوں کے لیے ایک راہ ہدایت مقرر کردی جاتی اور وہ قیامت تک کے لیے اس پر چلتے رہتے ‘ جس طرح کو لہو کا بیل ایک دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اس متعین راستے پر چلتا رہتا۔ لیکن یہ اسی صورت ممکن تھا کہ اسے عقل و شعور سے محروم رکھا جاتا۔ اگر جزا و سزا کا سارا ترتب اسی قوت تمیز اور عقل و شعور پر ہونا ہے تو پھر ضروری تھا کہ ہر رسول کے آنے کے بعد ‘ جہاں عبودیت کی تروتازگی کا سامان کیا جاتا ‘ وہیں ان کے شعور کی آزمائش بھی ہوتی۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آئے تھے ‘ ان کے لیے یہ بہت بڑی آزمائش تھی کہ صدیوں سے جسے وہ اپنا قبلہ اور کعبہ بنائے ہوئے ہیں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے اللہ کے گھر کو ‘ اسے ترک کر کے بیت المقدس کو قبلہ بنالیں۔ اللہ تعالیٰ سورة البقرہ میں اس کی حکمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ( ہم نے یہ جو قبلہ مقرر کیا تھا ‘ تو اس لیے کیا تھا ‘ تاکہ ہم اس بات کو ظاہر کردیں کہ کون اللہ کے رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے انحراف کرتا ہے ؟ ) یعنی اگر تمہیں ایک ہی قبلے کی طرف عبادت کو جاری رکھنے کا حکم دیا جاتا تو اس کے تو تم صدیوں سے عادی تھے اور وہ تمہارے آبائو اجداد کا ورثہ بھی ہے۔ اس میں تمہارا کیا امتحان ہوتا ؟ اس لیے ہم نے درمیان میں چند مہینوں کے لیے بیت المقدس کو قبلہ بنا کر ان کا امتحان لیا ‘ جو بیت اللہ کو قبلہ مانتے تھے اور اس کے بعد پھر تحویل قبلہ کا حکم دے کر ان لوگوں کا امتحان لیا ‘ جو بیت المقدس کو قبلہ جانتے تھے اور اب انھیں بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس مثال سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مختلف شریعتوں کے نازل کرنے میں حکمت کیا تھی۔ تمام شریعتیں اپنے اصول اور بنیادی اعتقادات میں یکساں تھیں۔ اختلاف اگر تھا تو صرف فروع یا اس کے ظاہری ڈھانچے میں تھا۔ ظاہر ہے ‘ یہ اختلاف ایسا نہیں ‘ جس کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ دین کے حقائق میں کوئی انقلاب واقع ہوگیا۔ البتہ جو لوگ روح دین سے بیگانہ ہیں اور ضوابط اور ان کی تفصیلات ہی کو اصل دین سمجھ بیٹھے ہیں اور جنھوں نے خدا کی طرف سے آئی ہوئی چیزوں پر خود اپنے حاشیے چڑھا کر ان پر جمود اور تعصب اختیار کرلیا ہے ‘ وہ ہر اس ہدایت کو رد کرتے چلے جائیں گے جو بعد میں اللہ کی طرف سے آئے۔ اس لیے ایسے لوگوں کو ممیز کرنے کے لیے ‘ اس آزمائش سے گزارنا ضروری تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے شریعتوں میں اختلاف رکھا۔ مزید فرمایا : فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ (نیکیوں اور بھلائیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو) تمام شریعتیں ‘ مقصد میں یکساں تھیں۔ ان کے پیش نظر ‘ صرف ایک مقصد رہا کہ لوگ نیکیوں اور بھلائیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور یہ مقصد ظاہر ہے ‘ اسی طرح حاصل ہوسکتا ہے کہ جس وقت جو اللہ کا حکم نازل ہو ‘ اس کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا جو لوگ اصل مقصد پر نگاہ رکھتے ہیں ‘ ان کے لیے شریعتوں کے اختلافات پر جھگڑا کرنے کی بجائے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ مقصد کی طرف اس راہ سے پیش قدمی کریں ‘ جس کو اللہ تعالیٰ کی منظوری حاصل ہو۔ آخر میں فرمایا : اِلَی اللہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیہِ تَخْتَلِفُوْنَ (آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتادے گا ‘ جس میں تم اختلاف کرتے رہے۔ ) یعنی تم نے شریعتوں کے اختلاف کو ‘ جس طرح مقصد کے اختلاف میں تبدیل کیا ہے اور اس کا بہانہ بنا کر آنحضرت ﷺ کی بعثت سے انکار کردیا ہے اور قرآن کریم کو ماننے سے منکر ہوگئے ‘ یہ ہٹ دھرمی اور ذہنی اپچ کی انتہاء ہے۔ جب کوئی آدمی اس کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہاں کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔ نہ کسی مجلس مناظرہ میں اس کا فیصلہ ممکن ہوتا ہے اور نہ میدان جنگ میں۔ اس کا آخری فیصلہ پھر قیامت ہی میں ہوگا ‘ جب کہ حقیقت بےنقاب ہوجائے گی اور لوگوں پر منکشف ہوجائے گا کہ جن جھگڑوں میں عمریں کھپا کر دنیا سے آئے ہیں ‘ ان کی تہہ میں حق کا جوہر کتنا تھا اور باطل کے حاشیے کس قدر تھے۔
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

پس اے محمد ﷺ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ‘ ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں ‘ جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے۔ پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ‘ ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں

وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ وَاحْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْم بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ اِلَیْکَ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللہ ُ اَنْ یُّصِیْبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِھِمْ ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 40) ” پس اے محمد ﷺ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں ‘ جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے۔ پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ‘ ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں “۔ اس آیت کریمہ میں جس بات کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ اسی کا حکم گزشتہ آیت کے آغاز میں دیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا عطف بھی سابقہ آیت کے پہلے حصے پر ہے۔ درمیان میں ایک جملہ معترضہ آگیا تھا ‘ اس کی وضاحت کے بعد پھر وہی سلسلہ کلام دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ بظاہر یہ تکرار معلوم ہوتی ہے اور تکرار کو عام طور پر کلام کا عیب سمجھا جاتا ہے ‘ جس سے اللہ کے کلام کو پاک ہونا چاہیے۔ لیکن اگر مخاطب کے سابقہ تغافل کی وجہ سے یا اس کے حق سے انحراف یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے تکرار کی ضرورت محسوس ہو تو پھر تکرار نہ صرف عیب نہیں رہتی بلکہ کلام کی ضرورت بن جاتی ہے۔ یہاں بھی یہی حقیقت کارفرما ہے۔ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے حوالے سے سابقہ امتوں نے جو روش اختیار کی ‘ جس کے نتیجے میں قرآن کریم نے انھیں کافر ‘ فاسق اور ظالم ٹھہرایا۔ اس روش کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری تھا کہ مستقبل کی اس امت کو جسے قیامت تک نوع انسانی کی قیادت کا فرض انجام دینا ہے بار بار تنبیہ کی جائے کہ وہ یہ رویہ اختیار نہ کرے ‘ ورنہ نوع انسانی کا مستقبل تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے مکرر ارشاد فرمایا اور خطاب بھی آنحضرت ﷺ سے کیا تاکہ اس حقیقت کو زیادہ نمایاں ہونے کا موقع ملے اور امت پوری طرح اس کی اہمیت کو محسوس کرسکے۔ قرآن سے امت مسلمہ کا سلوک لیکن اس ساری احتیاط اور تاکید کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ امت اسلامیہ نے اس خدشے کو ایک حقیقت بنا کر دنیا کے سامنے عبرت کے لیے پیش کردیا ہے۔ آج پورے عالم اسلام میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم سب سے زیادہ چھپنے والی اور پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ صرف سعودی عرب میں قرآن کریم کی طباعت و اشاعت کا محیر العقول نظام موجود ہے اور پوری دنیا میں سعودی حکومت نے اسے مفت تقسیم کرنے کا انتظام کر رکھا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا مجموعی طور پر اس کے ساتھ رویہ حیرت انگیز حد تک قابل افسوس ہے کہ جس کتاب کو وہ انتہائی مقدس اور محترم جان کر آنکھوں سے لگاتی ہے ‘ اسے سمجھنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کرتی۔ اسے جزدانوں میں لپیٹ کر ‘ طاقوں میں سجایا جاتا ہے۔ تعویذ بنا کر دھو دھو کر پیا جاتا ہے اور نہ جانے کیا کیا مقدس کام اس سے لیئے جاتے ہیں۔ کوئی مرجائے تو اس سے ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے۔ لیکن خود وہ کتاب کیا کہتی ہے ‘ اس سے مسلمانوں کو کوئی سروکار نہیں۔ سمجھ یہ لیا گیا ہے کہ اس کتاب کا مقصد حصول ثواب ہے یا ایصال ثواب یا بیماریوں میں اس سے شفا پانا ہے اور اگر کسی کی جان نہ نکلتی ہو تو اس کے پاس پڑھ کر اس کی نزع کو سہل بنانا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم سے یہ سارے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ وہ شفا بھی ہے ‘ اس کے پڑھنے سے ثواب بھی ملتا ہے ‘ اس سے ایصال ثواب بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ کتاب دنیا میں صرف اس حوالے سے تو نازل نہیں ہوئی تھی۔ یہ ہماری کوتاہ فہمی ہے کہ ہم نے اس کتاب کو ان مقاصد تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا : تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی تھا توپیں جب چلتی ہیں تو اس کی زد میں آنے والے جانور اور حیوانات بھی مرجاتے ہیں۔ لیکن توپیں جانوروں کے شکار کے لیے نہیں داغی جاتیں۔ ان سے تو مورچے تباہ ہوتے اور فصیلیں اڑائی جاتی ہیں۔ اس لیے قرآن کریم بھی کتاب ہدایت ‘ کتاب زندگی اور کتاب انقلاب بن کر آیا تھا اور قرن اول میں اس سے یہی فائدہ اٹھایا گیا اور یہ امت دنیا کی امامت کے منصب پر فائز رہی۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم تھا کہ یہ امت اس کتاب مقدس سے یہی سلوک کرے گی۔ اس لیے اس نے تکرار کے ساتھ اپنے حکم کو دھرایا تاکہ ہم ان کوتاہیوں سے بچ سکیں۔ لیکن ہماری امت کا ہر طبقہ ‘ ایک محدود طبقے کو چھوڑ کر ‘ اپنی اس روش کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ جنھیں مذہب سے کوئی خاص رشتہ نہیں ‘ ان کی تو شکایت ہی فضول ہے۔ شکایت تو ان سے ہے ‘ جو اپنے بچوں کو قرآن پاک نہایت شوق سے حفظ تک کرواتے ہیں اور خود بھی پابندی سے روزانہ تلاوت قرآن کریم کرتے ہیں۔ لیکن نہ جانے انھیں یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ جو کتاب ‘ کتاب ہدایت ہو ‘ اگر اس کو سمجھا نہ جائے تو اس سے ہدایت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے ‘ جیسے کوئی شخص بیرون ملک گیا اور اس نے جاتے ہوئے اپنے عزیز دوست سے کہا کہ میں بیوی بچوں کو یہاں چھوڑے جا رہا ہوں ‘ تم میرے سب سے عزیز دوست ہو۔ خدا کے لیے میرے بچوں کی دیکھ بھال کرنا اور آتے جاتے گھر کی ضرورتوں کے بارے میں پوچھتے رہنا۔ میں خود بھی وقتاً فوقتاً تمہیں خط لکھتا رہوں گا۔ تم اس کے مطابق میرے اہل خانہ کی ضرورتوں کو پورا کرتے رہنا۔ جب وہ چند سال کے بعد اپنے گھر لوٹ کے آیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس اللہ کے بندے نے کبھی ایک دفعہ بھی گھر کی راہ نہیں دیکھی اور کبھی آکر اس نے معلوم نہ کیا کہ اہل خانہ زندہ ہیں یا مرگئے۔ اس شخص کو سن کر نہایت دکھ ہوا چناچہ ‘ جب اس کا دوست ملنے آیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا۔ اس کے دوست نے جب اس کی بےرخی کو دیکھا تو اس کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے اپنے گھر لے گیا اور پوچھا دوست بتائو تو سہی ‘ تمہیں شکایت کیا ہے۔ اس نے کہا شکایت پوچھتے ہو ‘ تم نے یہی دوستی کا حق ادا کیا کہ اتنے سالوں میں میرے بچوں کی ایک دفعہ بھی خیریت معلوم نہ کی۔ اس نے کہا اس بات کو چھوڑو ‘ گھر گیا اور اس کے تمام خطوط کا پلندہ ‘ جو اس نے نہایت خوبصورت جزدان میں لپیٹا ہوا تھا ‘ وہ اٹھا کرلے آیا اور اہل محلہ میں جا کر اس نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم ذرا میرے دوست کے سامنے اس بات کی گواہی دو کہ جب بھی اس کا خط آتا تھا تو کیا میں لہک لہک کر آپ لوگوں کو پڑھ کر نہیں سناتا تھا اور کس طرح میں اپنے دوست کی ہر وقت آپ لوگوں کے سامنے تعریف کرتا تھا ؟ اب بتایئے اس کے علاوہ میں اور کیا کرسکتا تھا ؟ اس دوست نے یہ سن کر سر پکڑ لیا کہ تم تو عقل سے بالکل ہی فارغ معلوم ہوتے ہو۔ خطوط لہک لہک کر پڑھنے کے لیے اور لوگوں کو سنانے کے لیے ہوتے ہیں یا جو کچھ خطوط میں لکھا جائے ‘ اسے سمجھ کر عمل کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر تم ایسے ہی ضعیف العقل ہو تو میں تم سے کیا گلہ کروں۔ یہ ایک انفرادی واقعہ ہے ‘ جس سے آپ کو تعجب ہوا ہوگا اور آپ اسے یقیناً فتورِ عقل کی ایک مثال سمجھیں گے۔ لیکن اس امت اسلامیہ کے بارے میں ‘ جس کے ہم سب افراد ہیں کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے ؟ کیا ہم سب اسی اختلالِ دماغ کا شکار ہیں کہ اللہ کا پیغام جو ہماری زندگی کی راہنمائی کے لیے آیا ‘ وہ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن اس کے مطابق زندگی کے فیصلے کرنا تو دور کی بات ‘ ہم اسے سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اس لیے تکرار کے ساتھ ‘ اس حکم کو ارشاد فرمانے کے بعد اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ کہا جب تم اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے کا ارادہ کرو تو نہایت ہوشیاری کا ثبوت دینا۔ اس بات سے پوری طرح چوکنا رہنا کہ یہ اہل کتاب یا دشمنان دین ‘ تمہیں اس شریعت کے حوالے سے کسی فتنہ میں مبتلا نہ کردیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنے سے برتر قوتوں کے سامنے اپنے مفادات کو غیر محفوظ سمجھ کر ‘ اس قدر ذہنی تحفظات کا شکار ہوجاؤ کہ تم سرے سے اسلامی شریعت سے لاتعلقی کا فیصلہ کرلو۔ جب قرآن کریم اتر رہا تھا تو یقینا یہ بات حیران کن ہوگی کہ مسلمان کبھی اس صورت حال سے بھی دوچار ہوسکتے ہیں لیکن آج ہم پورے عالم اسلام کو دیکھتے ہوئے ‘ جب اس حقیقت کو اپنے سامنے پاتے ہیں تو اس کی کوئی تاویل کرنا مشکل نظر آتی ہے۔ ہمارے ملک کا جو ڈیشری سے متعلق ایک اہم وفد ایک مسلمان ملک کے دورے پر گیا۔ اس کے پروگرام میں سربراہ مملکت سے ملاقات بھی شامل تھی۔ ملاقات سے پہلے اس وفد کے سربراہ نے پروٹوکول آفیسر کو ضابطہ کے مطابق اطلاع دی کہ ہم آپ کے ملک کے سربراہ کو قرآن کریم کا تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے اگلے روز جواب دینے کا وعدہ کیا۔ دوسرے دن باضابطہ جواب دیا گیا کہ آپ قرآن کریم کا تحفہ سربراہ مملکت کو پیش نہیں کرسکتے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ اس ملک میں اقلیتیں بھی رہتی ہیں ‘ اگر قرآن کریم کا آپ تحفہ پیش کریں گے تو ان اقلیتوں کو شکایت پیدا ہوسکتی ہے اور ہم اسے مناسب نہیں سمجھتے۔ اندازہ فرمایئے ! جس ملک کا سربراہ غیر مسلم اقلیتوں کے خوف سے قرآن کریم کا تحفہ قبول نہیں کرسکتا تو کیا وہ قرآن کریم کا نظام اپنے ملک میں نافذ کرنے کا تصو ربھی کرسکتا ہے ؟ یہی وہ چیز ہے ‘ جس سے اس امت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ دیکھنا اس کمزوری کا شکار نہ ہوجانا کہ اگر تمہارے پیش نظر غیر مسلموں کی پسند و ناپسند رہی اور تم اپنے دینی فیصلے بھی ان کے اشارہ ابرو سے کرنے لگے تو پھر اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے کہ تم کبھی شریعت کو نافذ کرسکو۔ تم نے اگر فی الواقع اس فرض کو انجام دینا ہے تو پھر تمہارے سامنے اللہ کی خوشنودی کے حصول کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ تم یہ فرض کبھی انجام نہیں دے سکو گے۔ پاکستان بننے کے بعد ‘ پاکستان میں بسنے والے یہاں بھی یہی تماشہ دیکھتے رہے ہیں کہ جب بھی اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ ہوا تو سب سے بڑی رکاوٹ وہی طبقہ رہا ‘ جن کی نظریں ہمیشہ باہر کی طرف لگی رہتی تھیں۔ میاں امیر الدین مرحوم ‘ جو پاکستان بننے کے بعد لاہور کے پہلے میئر تھے۔ انھوں نے ایک دفعہ بتایا کہ حصول پاکستان کے بعد ‘ جب اہل پاکستان نے بالعموم اور اس کی دینی تنظیموں نے بالخصوص زور وشور سے اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور اس میں خود مسلم لیگ کا اسلام پسند طبقہ بھی شامل تھا اور میاں امیر الدین کا شمار بھی اسی طبقہ میں ہوتا تھا۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ میں ایک روز ہائی کورٹ بار میں گیا تو مجھے وکلاء نے گھیر لیا۔ کہنے لگے میاں صاحب ! یہ آپ کیا غضب کر رہے ہیں کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ میاں صاحب نے ان سے کہا کہ آخر آپ کو اس میں شکایت کیا ہے ؟ کہنے لگے کہ آج کی روشنی کے زمانے میں ‘ اگر آپ صدیوں پہلے کا قانون نافذ کریں گے تو ہم مغربی دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے۔ اندازہ کیجئے کہ نفاذ اسلام کے راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ‘ یہ بےحمیتی ہے کہ اللہ ناراض ہوتا ہے تو بیشک ہوجائے ‘ لیکن مغربی دنیا کو ہم سے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ ظفر علی خاں مرحوم نے اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا تم سمجھتے ہو پرایوں نے کیا ہم کو تباہ یوں تو شرم پیمبر ہے انھیں بھی لیکن بندہ پرور کہیں اپنوں کا یہ کام نہ ہو ان کو ڈر یہ ہے کہ ناراض کہیں ٹام نہ ہو یہ ٹام کی ناراضگی ‘ وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے ‘ جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہا : وَاحْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ اِلَیْکَ ط آپ ان اہل کتاب سے یعنی ٹام کی اولاد سے ہوشیار رہئے۔ کہیں آپ کو اللہ کی نازل کردہ شریعت سے پھسلا نہ دیں اور کسی فتنہ میں مبتلا نہ کردیں۔ جس بات سے ہوشیار رہنے کی ہمیں آگاہی بخشی گئی تھی ‘ افسوس یہ ہے کہ آج اسی بات نے ہمارا راستہ روک رکھا ہے۔ یہود کی بدنیتی کا انجام اس کے بعد ارشاد فرمایا : فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللہ ُ اَنْ یُّصِیْبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِھِمْ ط یعنی اگر تمہاری تمام مخلصانہ کوششوں کے باوجود ‘ اہل کتاب اپنی روش سے باز نہیں آتے تو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ کو اس بات کا یقین کرلینا چاہیے کہ حق سے ان کی روگردانی ‘ بلکہ اہل حق کو بھی اس سے پھیرنے کی کوشش ‘ اصلاً ان کی بدنصیبی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی محرومی کا فیصلہ کیا ‘ بلکہ یہ بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ انھیں ان کے کرتوتوں کی سزا دے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے تینوں قبیلے ‘ جو مدینہ طیبہ میں آباد تھے۔ اپنی اسی روش کے باعث ‘ اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوئے۔ جنگ بدر کے جلدی بعد ‘ بنو قینقاع کو شہر بدر کردیا گیا اور پھر ایک عرصہ کے بعد ‘ بنو نضیر بھی شہر سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ ان کے قلعے ‘ ان کی زمینیں ‘ ان کے کاروبار ‘ سب کچھ پیچھے رہ گیا اور یہ عبرت کی تصویر بنے ‘ خیبر میں جا کر آباد ہوگئے۔ سب سے آخر میں ‘ بنو قریظہ اپنے انجام کو پہنچے کہ جن کے بیشتر افراد کو قتل ہونا پڑا اور پہلے دو قبیلے جو خیبر میں جا کر بس گئے تھے ‘ وہاں بھی ان کی حق دشمنی کی عادت رک نہ سکی۔ بالآخر ان کو جزیرہ عرب سے نکال دیا گیا۔ یہ وہ سزا تھی جو اللہ کے قانون کے مطابق انھیں ملی کیونکہ اس کا قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اتمام حجت کردی جاتی ہے اور پھر بھی وہ قوم راہ راست اختیار نہیں کرتی تو عام طور پر اس کے اجتماعی گناہوں کی سزا دنیا ہی میں اسے دے دی جاتی ہے۔ البتہ ! انفرادی اعمال کی سزا ‘ وہ قیامت میں پائیں گے۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ؎ فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی وجہ بھی بیان فرما دی کہ ہم نے ان لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کیوں کیا فرمایا : وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ (یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں ) یعنی اللہ کی ہدایت سے باغی ہیں۔ انھیں ہر طرح سمجھا بجھا کے دیکھ لیا ہے لیکن ان پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ آیت کے اس ٹکڑے نے اگرچہ ان کی شقاوت کو پوری طرح نمایاں کردیا ہے۔ تاہم آخری بات مزید فرمائی جا رہی ہے ممکن ہے ان میں سے کوئی بھی اگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو تو شاید وہ اس پر غور کرے اور ہدایت کے راستے پر چل نکلے۔ اس لیے ارشاد فرمایا :
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ‘ ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے

اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ط وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ۔ (المائدہ : 50) (اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں) تو کیا یہ لوگ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ‘ ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے) جاہلیت کا لفظ مَا اَنْزَلَ اللہ ُ کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو چیز بھی مَا اَنْزَلَ اللہ ُ کے مقابل ہے یا اس کے خلاف ہے ‘ وہ جاہلیت ہے کیونکہ اسلام کی بنیاد اس علم پر ہے ‘ جسے اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور جو فی الواقع حقیقی علم کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام حقائق کا علم رکھتا ہے ‘ چاہے ان کا تعلق علم کے کسی شعبہ سے بھی ہو۔ اس کا علم نہ گمان پر مبنی ہے اور نہ کسی ایک شعبے میں محدود۔ اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے ‘ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس و گمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کرلیے تھے۔ یہ طرز عمل جہاں جس دور میں بھی انسان اختیار کرے ‘ اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے ‘ وہ محض ایک جزوی علم ہے اور کسی معنی میں بھی انسان کی راہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے۔ لہٰذا اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو نظام زندگی اس جزوی علم کے ساتھ ظنون و اوہام اور قیاسات و خواہشات کی آمیزش کر کے بنا لیے گئے ہیں ‘ وہ بھی اسی طرح جاہلیت کی تعریف میں آتے ہیں ‘ جس طرح قدیم زمانے کے جاہلی طریقے اس تعریف میں آتے تھے۔ اہل کتاب اپنی ساری گمراہیوں کے باوجود علم اور جاہلیت کے اس فرق کو کسی نہ کسی حد تک ضرور سمجھتے تھے۔ اس لیے ان کی عقل سے اپیل کی گئی ہے کہ جب تم یہ جانتے ہو کہ علم تو وہ ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے آئے اور تم تسلیم کرو یا نہ کرو ‘ لیکن تم اپنی کتابوں کی دی ہوئی خبر کے مطابق رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کو پہچانتے ہو کہ یہ ضابطہ حیات اللہ کی طرف سے آیا ہے ‘ جو سراسر علم پر مبنی ہے تو کیا یہ جانتے ہوئے بھی تم پھر جاہلیت کے راستے پر چلنا چاہتے ہو ؟ لیکن تمہاری مصیبت یہ ہے کہ اس حقیقت سے بےبہرہ نہیں ہو بلکہ یقین وایقان سے عاری ہو اور وہ علم جو یقین کی قوت سے محروم ہو ‘ وہ محض ذہن کی ورزش ہے اور ذوق کی عیاشی۔ ایسے علم سے علمی مجالس میں رونق کا سامان کیا جاسکتا ہے ‘ علمی مغالطے پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن انسانی زندگی کی فوزو فلاح کے لیے جس سیرت و کردار کی ضرورت ہوتی ہے ‘ وہ تو صرف یقین و ایمان سے ہی پیدا ہوتی ہے اور اہل کتاب اسی نعمت سے محروم ہیں ؎ یقین افراد کا سرمایہ تعمیرِ ملت ہے یہی قوت ہے جو صورت گرِ تقدیر ملت ہے پیش نظر آیات کو پڑھنے سے پہلے چند حقائق کا ادراک بہت ضروری ہے۔ انسان کی کامیابی کا انحصار اپنے مقصد حیات سے سنجیدہ وابستگی سے ہے 1 وہ قومیں ‘ جو کسی نظریہ حیات سے وابستہ ہوتی ہیں ‘ ان کی زندگی اور بقاء کی ضمانت صرف نظریہ حیات سے غیر مشروط وابستگی ہوتی ہے۔ ان کی تمام تر قوت کا سرچشمہ ‘ اسی نظریہ حیات کے بارے میں یکسو ہونا ہے۔ وہ جب کبھی بھی اس نظریہ حیات کے بارے میں تشکک و ارتیاب کا شکارہوتی ہیں ‘ اسی وقت ان کی اجتماعی قوت میں کمی آنے لگتی ہے اور ان کی بقاء کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ اس کو اگر ہم سمجھنا چاہیں تو ہم اپنی روز مرہ کی مثالوں سے بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ مثلا : اگر آپ اپنے بچے کو کسی تعلیمی ادارے میں پڑھنے کے لیے داخل کراتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد آپ کو یہ شکایت ملتی ہے کہ آپ کا بچہ روزانہ سکول آتا تو ہے ‘ لیکن نہ سکول کی تعلیم میں دلچسپی لیتا ہے اور نہ ہوم ورک کر کے آتا ہے۔ آپ پریشانی سے جب بچے کا جائزہ لیتے ہیں تو بالآخر آپ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بچہ سکول ضرور جاتا ہے ‘ لیکن سکول جانے کا جو مقصد ہے ‘ یعنی علم کا حصول ‘ اس کے ساتھ اس کی وابستگی برائے نام بھی نہیں۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ سکول میں آمدورفت ‘ بس یہی اس کا مقصد ہے۔ رہا علم کا حصول ‘ اس کے لیے اسکے دماغ میں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ یہ وجہ ہے ‘ جسکے باعث وہ تعلیم سے کورا رہتا ہے۔ اگر آپ اس کی تعلیمی حالت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اسکی ایک ہی صورت ہے کہ آپ اسے مقصد سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کریں اور پھر اس کی تمام تر صلاحیتوں کو اس کے ساتھ یکسو کردیں۔ تب آپ دیکھیں گے کہ چند ہی دنوں میں آپ کا بچہ بہتر نتائج دینے لگے گا۔ ہماری قریبی تاریخ میں لکھنؤ کے ایک اچھے عالم دین گزرے ہیں ‘ جن کا نام مولانا محمد منظور نعمانی تھا۔ انھوں نے اپنے حالات میں لکھا کہ مجھے میرے والدین نے ایک دینی مدرسے میں داخل کروا دیا۔ لیکن میں کئی سال تک اس کی ابتدائی کتابوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ والدین اور اساتذہ دونوں حیران تھے کہ بچے کی ذہنی صلاحیت تو بری نہیں ‘ لیکن یہ آگے کیوں نہیں بڑھ پا رہا۔ اتفاق سے ان کے شہر میں مفتی محمد نعیم لدھیانوی صاحب نے ایک مدرسہ قائم کیا تو ان کے والد صاحب نے اس مدرسے میں ان کو داخل کرا دیا۔ مفتی صاحب مذکور نے ان کی تعلیمی حالت اور ان کی عمر کا اندازہ کر کے یہ محسوس کرلیا کہ یہ بچہ اپنے مقصد حیات کے ساتھ سنجیدہ نہیں۔ چناچہ انھوں نے ایک دن ‘ بقول مولانا کے ‘ انھیں بٹھا کر پوچھا کہ بیٹے تم مجھے سچ سچ بتائو کہ تم پڑھنا چاہتے ہو یا نہیں ؟ مولاناکہتے ہیں کہ میں نے پوری طرح سوچ بچار کے بعد انھیں جواب دیا کہ ہاں ! میں اب پڑھنا چاہتا ہوں۔ چناچہ جب انھوں نے اپنے ارادے کے بارے میں سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ محنت کرنا شروع کی تو نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لڑکا جو کئی سالوں سے ابتدائی کتابوں میں رکا ہوا تھا ‘ اب وہ ہفتوں میں مہینوں کا کام کرنے لگا۔ اس مثال سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتی ہے کہ افراد ہوں یا قوم ‘ وہ جس نظریہ حیات کو اپنی زندگی اور مقصد زندگی طے کرچکے ہوں ‘ جب تک اس کے بارے میں ان کے اندر سنجیدگی ‘ وابستگی اور یکسوئی پیدا نہیں ہوتی ‘ اس وقت تک ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قوت کے وہ سرچشمے ابلنا شروع نہیں کرتے ‘ جس کے نتیجے میں ایک کامیاب زندگی کا راستہ کھلتا ہے۔ مسلمان کا مقصد حیات 2 محولہ بالا حقیقت سے ایک دوسری حقیقت آپ سے آپ جنم لیتی ہے کہ جب ایک نظریہ حیات سے وابستگی اور یکسوئی پیدا ہوجاتی ہے تو پھر وہی نظریہ اور وہی مقصد افراد اور اقوام سے تعلقات کا حوالہ بن جاتا ہے۔ اسے ان افراد سے اور اقوام سے محبت ہوجاتی ہے ‘ جو اس کے نظریہ حیات یا مقصد حیات کے بارے میں ہمدردانہ اور مخلصانہ رویہ رکھتی ہوں۔ ان سے راہ و رسم رکھنا اور ان سے اعتماد کا برتائو کرنا اور ان پر اعتماد کرنا ‘ اسے محبوب ہوجاتا ہے۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ بعض افراد یا بعض قومیں ‘ اس کے نظریہ حیات یا مقصد حیات کے ساتھ دوستی کا نہیں ‘ بلکہ دشمنی کا رویہ رکھتی ہیں اور انھیں یہ ہرگز گوارا نہیں کہ یہ شخص یا یہ قوم اپنے نظریہ حیات کے مطابق زندگی گزارے ‘ ترقی کرے اور مقاصد حیات کو پا سکے تو پھر اس شخص یا اس قوم کے لیے چونکہ اپنا نظریہ حیات ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوتا ہے اور وہ اسکے مقابلے میں ہر چیز کو چھوڑ سکتا ہے ‘ اسے پھر یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ مجھے ایسے شخص یا ایسی قوم سے کسی قسم کا کوئی بھی رشتہ نہیں رکھنا ہے بلکہ مجھے پوری طرح بیدار اور ہوشیار رہنا ہے کہ یہ لوگ مجھے نقصان نہ پہنچا سکیں۔ ہم نے اپنی گفتگو میں بار بار نظریہ حیات یا مقصد حیات کا ذکر کیا ہے جس سے وابستگی ہی ایک مسلمان کی قوت و توانائی کا سرچشمہ ہے۔ ضروری ہے کہ اختصار کے ساتھ اس کی وضاحت کردی جائے۔ مختصراً گزارش ہے کہ ہمارے تمام تر تعلقات کی بنیاد اور ہمارے تمام افکار کی جڑ خالق کائنات سے ہمارے صحیح تعلق پر استوار ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق فرمائی ہے ‘ ہمیں بھی اسی نے پیدا فرمایا ہے۔ اسی نے ہمیں زندگی کے امکانات مہیا کیے ہیں۔ اسی نے ہماری بقاء کے تمام اسباب عطا فرمائے ہیں ‘ اسی نے ہمیں حواس خمسہ کے ساتھ عقل اور شعور سے نوازا ہے اور وہ برابر اپنی بیشمار نعمتوں سے ہمیں گراں بار کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی علم و حکمت رکھنے والی ذات اپنی تخلیق کو ‘ جسے اس نے عقل و شعور سے بھی نوازا ہو ‘ بےمقصد تو پیدا نہیں کرسکتی۔ یقیناً اس نے انسان کا ایک مقصد زندگی رکھا ہے۔ چناچہ انسان کو اس مقصد زندگی سے آگاہ کرنے کے لیے ‘ اس نے وحی اور رسالت کا سلسلہ شروع کیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک اس قافلہ انسانی کو کسی دور میں بھی اس نے اس بات سے محروم نہیں رکھا کہ اس کو یہ پتہ نہ ہو کہ مجھے زندگی کس طرح گزارنی ہے ‘ میری زندگی کے مقاصد کیا ہیں ‘ میرا اللہ ‘ جو میرا خالق ومالک ہے ‘ وہ کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں میں ناراض ہے۔ یہی وہ نظریہ حیات ہے یعنی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اس کی ہدایات اور احکام پر چلتے ہوئے اللہ کے رسول کے سکھائے ہوئے طریقے پر ‘ اس یقین کے ساتھ گزارنا کہ اس دنیا میں مجھے ہمیشہ نہیں رہنا بلکہ مجھے بھی ہر انسان کی طرح اپنی طبعی زندگی گزارنے کے بعد موت سے ہمکنار ہونا ہے ‘ پھر ایک ایسا دن آئے گا ‘ جب اس دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ تمام انسان زندہ کیے جائیں گے ‘ اللہ کی عدالت میں سب کی پیشی ہوگی ‘ وہاں زندگی میں انجام دیئے ہوئے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا ‘ ایک ایک عمل اور ایک ایک لمحے کا حساب ہوگا ‘ بس اس دن کی کامیابی اصل کامیابی ہے اور اس دن کی ناکامی اصل ناکامی ہے۔ یہ وہ نظریہ حیات ہے ‘ جس کے مطابق زندگی گزارنا تبھی ممکن ہے ‘ جب ایک مسلمان اپنے اس نظریہ حیات کے ساتھ نہایت یکسوئی سے وابستہ رہے۔ 3 دنیا میں قدم قدم پر اس نظریہ حیات کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے موانع پیش آتے ہیں۔ ایک مسلمان اس نظریہ حیات کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ‘ یعنی اپنے گھر سے لے کر ریاست کے تمام اداروں تک ‘ اللہ کی حکمرانی کے سوا کسی اور کی حکمرانی کو قبول نہیں کرسکتا۔ قومی اور بین الاقوامی تعلقات میں ‘ اللہ ہی کی حکمرانی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا اور ہر سطح پر اس کی بالادستی کو قائم رکھنا ‘ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی وجہ نہیں کہ غیر مسلم قوتوں کے ساتھ تصادم کی نوبت نہ آئے اور بالخصوص وہ قوتیں جو اللہ کی حاکمیت پر مبنی نظریہ حیات کے ساتھ مخاصمت کا رویہ رکھتی ہیں ‘ انھیں کسی صورت بھی یہ گوارا نہیں ہوتا کہ ایسی کوئی قوم یا ایسی کوئی ریاست دنیا میں وجود پائے اور پھر ترقی کرے ‘ جو ان کی حاکمیتوں اور ان کے نظریہ ہائے حیات کے لیے چیلنج بن سکے۔ چناچہ وہ اپنی تمام تر قوتوں کو بروئے کار لا کر مختلف طریقوں سے اس نوزائیدہ قوت کو ناکام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اب اس نظریہ حیات سے وابستہ شخص یا قوم ایسی قوتوں کا پوری طرح شعور نہیں رکھتی اور وہ ان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اگر پوری طرح یکسو نہیں ہے بلکہ اس کا رویہ تذبذب کا شکار رہتا ہے تو زندگی کے سفر میں وہ کبھی بھی کوئی معرکہ سرانجام نہیں دے سکتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی بقاء کے لیے بھی خطرات پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ تین حقائق جو اجمالی انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ انھیں ذہن میں رکھ کر پیش نظر آیات کو پڑھیئے تو انشاء اللہ ان آیات کا اصل پیغام سمجھنا مشکل نہیں ہوگا۔