Ayah 5:64وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ یَدُ اللہِ مَغْلُوْلَۃٌ ط غُلَّتْ اَیْدِیْھِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا م بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوطَتٰنِ لا یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآئُ ط وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا ط وَاَلْقَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط کُلَّمَآ اَوْ قَدُوْا نَارًا لِّلْحَرَبِ اَطْفَاَھَا اللہ ُ ط وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا ط وَ اللہ ُ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (المائدہ : 64)
” اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہاتھ ان کے بندھ جائیں اور ان کی اس بات کے سبب سے ان پر لعنت ہو بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ‘ وہ خرچ کرتا ہے ‘ جیسے چاہتا ہے۔ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر کو وہ چیز بڑھا رہی ہے ‘ جو تیرے رب کی طرف سے تیری طرف اتاری گئی اور ہم نے ان کے اندر دشمنی اور کینہ قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے۔ جب جب یہ لڑائی کی کوئی آگ بھڑکائیں گے ‘ اللہ اس کو بجھا دے گا۔ یہ زمین میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔
یہود پر اللہ کی لعنت اور دور حاضر میں اس کے اثرات
دین اور شعائرِ دین کے ساتھ ان کے مذاق کی مثالیں گزشتہ آیات میں گزر چکی ہیں۔ ایک مثال اس آیت کریمہ میں ذکر کی جا رہی ہے کہ یہ بدبخت یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں یعنی اللہ تنگ دست ہوگیا ہے۔ اب اس کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں رہا اور یا ہاتھ بندھا ہونا بخل سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ بخیل ہوگئے ہیں۔ یہ بات کہنے والے یہود میں دو طرح کے لوگ تھے۔ ایک تو عوام تھے اور دوسرے خواص۔ عوام کا کہنا یہ تھا کہ ہم لوگ مدینہ طیبہ کے خوشحال اور متمول لوگ تھے ‘ اب اللہ نے ہمیں فقیر کردیا ہے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ اوس و خزرج کو یہ لوگ لڑائیوں پر اکساتے رہتے اور جب لڑائی چھڑ جاتی تو وہ اسلحہ جنگ خریدنے کے لیے ان یہود سے قرض لیتے اور یہ ان کو بھاری سود پر قرض دیتے۔ اس طرح ان کا ساہوکاری کاروبار چلتا رہتا اور ان کی مالداری میں اضافہ ہوتا رہتا۔ جب سود کی رقم بڑھ جاتی تو بعض دفعہ ان کے باغات بھی یہ اپنے پاس گروی رکھ لیتے۔ اس طرح مدینہ کی دولت ان یہود کے پاس سمٹ آئی تھی اور یہ علاقے کا امیر ترین طبقہ بن گئے تھے۔ اسلام جب مدینہ طیبہ میں آیا۔ اوس و خزرج نے اسلام قبول کیا ‘ اللہ نے ان کے دلوں میں اسلام کی وجہ سے محبت پیدا کردی اور نفرتوں کی آگ ہمیشہ کے لیے سرد ہوگئی۔ باہمی محبت و پیار پیدا ہوجانے کے بعد لڑائیاں رک گئیں۔ اب انھیں یہود سے قرض لینے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ وہ اپنے وسائل میں رہ کر گزارا کرنے لگے بلکہ اللہ نے ایسی قناعت کی دولت دی کہ انھوں نے مہاجرین کا بوجھ بھی اٹھایا۔ اس صورت حال نے یہود کی مالی حالت کو پتلا کردیا۔ چناچہ اپنی اس مالی کمزوری کا سبب چونکہ یہود مدینہ طیبہ میں ورود اسلام کو سمجھتے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گستاخیاں کرنے لگے کہ پہلے ہم دولت میں کھیلتے تھے ‘ اب پروردگار معلوم ہوتا ہے بخیل ہوگئے ہیں۔ انھوں نے ہماری مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور اسی وجہ سے ہماری مالی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔
دوسرا خواص کا طبقہ تھا۔ وہ اپنے خاص انداز میں بارگاہ حق میں گستاخی کا ارتکاب کرتا تھا۔ وہ جب یہ سنتے کہ رسول کریم ﷺ مسلمانوں کو صدقات واجبہ و نافلہ کی ترغیب دیتے اور انفاق فی سبیل اللہ پر ابھارتے ہیں۔ انھوں نے اس پر فقرے کسنے شروع کیے اور مسلمانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کی کوشش کی حالانکہ ایک واضح سی بات تھی کہ اس نوزائیدہ ریاست کے کاروبار کو چلانے اور جہاد و غزا کی ضرورتیں پوری کرنے اور پورے جزیرہ عرب سے آنے والے مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کے لیے ‘ اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ پر آمادہ کیا جاتا اور پھر قرآن کریم میں پروردگار نے بھی اس کی ضرورت اور فضیلت پر آیات نازل فرمائیں اور اس میں تعبیر یہ اختیار فرمائی کہ لوگو ! تم میں کون اللہ کو قرض دے گا ؟ جو آج اللہ کو قرض دے گا وہ قیامت کے دن دگنا چوگنا واپس بھی پائے گا تو یہود کے طبقہ خواص نے اس تعبیر کو استہزاء کا نشانہ بنایا اور کہنے لگا کہ آج کل مسلمانوں کے اللہ میاں بہت غریب ہوگئے ہیں ‘ بندوں سے قرض مانگنے کی نوبت آگئی ہے۔ اللہ میاں غریب ہیں اور ہم بندے امیر۔ ایسی ہی بات کا تذکرہ سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ‘ جس میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے ان بدبختوں کی یہ بات سن لی ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں :
اِنَّ اللہ َ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَائُ (آل عمران -181)
( اللہ فقیر ہے اور ہم غنی اور مالدار ہیں)
ممکن ہے بعض ذہنوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ یہود کیسے بھی گئے گزرے ہوں ‘ بہرحال مسلمان تھے۔ اللہ کی عظمت کے قائل اور رسولوں پر ایمان لانے والے۔ ان سے یہ بات کیسے تصور کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ کریم کی شان میں ایسی گستاخیوں کا ارتکاب کرسکتے تھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر بگڑی ہوئی قوموں کے احوال ہماری نگاہ میں رہیں تو پھر ذہنوں میں یہ سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ پچھلی امتوں کے احوال کو تو چھوڑیئے ‘ خود اپنی ہی امت کو دیکھ لیجئے کہ ہمارے غریب لوگوں سے لے کر طبقہ امراء تک آپ کو بکثرت ایسے لوگ ملیں گے کہ جنھیں کبھی اگر کسی حادثے سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور کسی انہونی سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ نہ صرف گھبرا اٹھتے ہیں بلکہ اللہ رب العزت کے بارے میں وہ وہ باتیں کہتے ہیں ‘ جس کا ایک مسلمان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کسی کا اگر کوئی جوان بیٹا مرجائے یا کسی کی اولاد نہ ہوتی ہو تو ایسے بےاولاد والدین کا کبھی مرثیہ سنئے یا جوان بیٹے کی موت سے دوچار ہونے والے ماں باپ کے کبھی شکوے سماعت فرمایئے۔ اللہ رب العزت کے بارے میں اس طرح شکایات کا طومار باندھیں گے کہ آدمی شاید اپنے معمولی افسر کے بارے میں بھی اس طرح کی باتیں کہتا ہوا سو دفعہ جھجکتا ہے۔ ممکن ہے آپ یہ خیال فرمائیں کہ یہ باتیں جاہل لوگوں میں ہوں گی۔ تعلیم یافتہ لوگ تو ایسا نہیں کرسکتے۔ لیکن آپ ان تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر دیکھئے ‘ خاص طور پر وہ لوگ جو نو دولتیے ہیں۔ ان کو حالات کا معمولی دھچکا بھی ایمان اور شائستگی سے لاتعلق کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے بلکہ اگر انھیں یہ احساس ہوجائے کہ میں حالات کی گرفت سے کوئی کفر کر کے نکل سکتا ہوں تو اسے ایسا کرنے سے بھی دریغ نہیں ہوتا اور پھر یہ ان کا رویہ کسی ایک نکتہ پر موقوف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ‘ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت مقدسہ ‘ مسلمات دین اور شعائر اسلام میں سے کوئی ایک بھی تو ان کی زبان درازیوں سے بچا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے شاید ظفر علی خان مرحوم نے کہا تھا :
تمسخر کرنے والے دین سے ہی گر مہذب ہیں
تو ان تہذیب کے پتلوں سے مجھ جیسا گنوار اچھا
اس لیے یہود کی ان گستاخیوں کا احوال پڑھتے ہوئے اگر اپنی اس امت کے حالات بھی پیش نظر رہیں تو پھر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ اس طرح کی گستاخی کا ارتکاب یہود کرے یا کوئی اور یہ ایسا بڑا جرم ہے ‘ جس کا براہ راست جواب دینا بھی علم اور ایمان کی توہین ہے۔ اس لیے ان کی اس گستاخی کا براہ راست جواب ارشاد نہیں فرمایا بلکہ اس گستاخی پر انھیں لعنت کی پھٹکار ماری اور فرمایا :
غُلَّتْ اَیْدِیْھِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا
( ہاتھ ان کے بندھ جائیں اور ان کی اس بات کے سبب سے ان پر لعنت ہو)
اس فوری لعنت اور پھٹکار کی وجہ یہ ہے کہ یہود نہ تو اللہ اور اس کی شان سے بیخبر تھے اور نہ دعوت انفاق کے اس بلیغ انداز سے ناواقف۔ وہ ہر چیز کو جانتے بوجھتے ہوئے اس طرح کی حرکتیں صرف اس لیے کر رہے تھے کہ قرآن اور پیغمبرِ اسلام کی عداوت میں ایسے اندھے بہرے ہوگئے تھے کہ تحقیر و استہزاء کا جو موقع بھی مل جاتا اس سے ضرور فائدہ اٹھاتے اور اس عمل کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ بات کہاں تک پہنچے گی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ان کی اس گستاخی پر ان پر جو پھٹکار اور لعنت کی گئی اس کے اثرات تو متنوع قسم کے ہیں ‘ لیکن ایک اثر تو آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ باوجود اس کے کہ آج بنی اسرائیل اپنی ایک نام نہاد آزاد ریاست رکھتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی دنیا کی پشت پناہی سے ان کا ملک ایک مضبوط فوجی چھائونی کی صورت اختیار کر گیا ہے اور عرب دنیا میں ان کی حیثیت ایک ناسور سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور مغربی دنیا اور امریکہ میں ذرائع ابلاغ اور بعض کلیدی وسائل پر قبضہ کرنے کی وجہ سے ہر ملک میں ایک اہم حیثیت کے مالک ہیں۔ باایں ہمہ ! جن لوگوں کو انھیں قریب سے دیکھنے یا ان کے ہمسائے میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے ‘ وہ بتاتے ہیں کہ یہود قوم کا ایک ایک فرد اپنی ساری امارت اور مالداری کے باوجود اپنی خست و دنائت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ وہ انتہائی مالدار ہوتے ہوئے بھی جس محلے میں رہتے ہیں ‘ اہل محلہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ کسی غریب کی مدد کرنا ‘ کسی ننگے کو کپڑا پہنانا اور کسی بھی رفاہی کام میں شرکت کرنا ‘ ان کی بنیادی سرشت کے خلاف ہے۔ وہ اپنے قومی مفادات اور گروہی تعصبات کے لیے بڑی سے بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہوجائیں گے اور دوسری قوموں کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے کے لیے آپ ان سے کچھ بھی خرچ کروا لیجئے ‘ لیکن انسانیت کی بھلائی کے لیے آپ ان سے ایک دمڑی تک نہیں لے سکتے۔ یہ بخل اور خست جس کا الزام انھوں نے پروردگار کو دیا تھا ‘ اس طرح ان کی سرشت میں اتر گئی ہے کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان پر لعنت برسائی تھی ‘ وہ پوری طرح اس کی گرفت میں ہیں۔
اس کے بعد پروردگار نے ان کی بات کا جواب بھی دیا ہے اور اس کا سبب بھی بیان فرمایا ہے۔ فرمایا : اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں اور وہ جو چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ البتہ ! تم اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں اندھے اور بہرے ہو کر جس طرح گستاخیوں کا ارتکاب کر رہے ہو ‘ اس کا سبب تمہارا وہ حسد اور بغض ہے جو قرآن کریم کے نزول کی وجہ سے تمہارے اندر پیدا ہوگیا ہے کیونکہ بنی اسرائیل قرآن کریم کے نزول کی شکل میں اس کے طبعی نتائج کو دیکھ رہے تھے وہ جانتے تھے کہ عربوں کو قرآن کا ملنا ‘ صرف قرآن ہی کا ملنا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ امامت و سیادت بھی اب ان کی طرف منتقل ہو رہی ہے ‘ جس کے تنہا اجارہ دار اب تک وہ خود بنے بیٹھے تھے۔ اسی حسد نے ان کو اللہ کا باغی بنادیا اور اسی کے سبب سے ان کے اندر مسلمانوں کے خلاف بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عداوت اور کینہ کا بیج پڑگیا۔ لیکن مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب بھی جزیرۃ العرب میں موجودہ حالات میں کوئی فتنہ اٹھے گا تو اس فتنے کو اٹھانے اور مسلمانوں کے دشمنوں کو اکسانے میں سب سے زیادہ ہاتھ انھیں کا ہوگا۔ لیکن تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ یہ تو اپنی فطرت سے مجبور ہو کر سازشوں کے جال بچھاتے رہیں گے اور مسلمانوں کو بار بار لڑائی میں کھینچنے کی کوشش کریں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان فتنوں کی آگ کو ٹھنڈا کرتا رہے گا اور لڑائیوں کے جہنم کو بجھاتا رہے گا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ کو جتنی بھی بڑی بڑی لڑائیاں لڑنا پڑیں ‘ ان تمام لڑائیوں کے پیچھے انہی یہود کا سازشی دماغ کارفرما تھا۔ لیکن پروردگار نے برابر مسلمانوں کی نصرت و اعانت فرمائی اور یہود کو بالآخر ذلیل و خوار ہو کر مدینے سے نکلنا پڑا یا اپنے انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ مزید فرمایا :
وَیَسْعَوْنَ فِی الاَْرْضِ فَسَادًا ط وَ اللہ ُ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ
(یہ لوگ ہمیشہ زمین میں فساد برپا کرنے میں سرگرم رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں فرماتا)
فساد کے لیے ان کی سرگرمی کی ایک صورت تو یہ تھی ‘ جس کا ابھی ذکر ہوا کہ وہ ہمیشہ دشمنان دین کو اکساتے تھے اور مسلمانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے تھے۔ لیکن فساد فی الارض کی جو اصل صورت ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس کائنات میں دو نظام کارفرما ہیں۔ ایک نظام تکوینی ہے اور دوسرا تشریعی۔ اس دنیا میں اس وقت تک ہمواری اور سازگاری پیدا نہیں ہوسکتی ‘ جب تک نظام تکوینی اور نظام تشریعی پوری طرح ہم آہنگ نہ ہوں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کی بیشمار مخلوقات زمین و آسمان اور اس کے درمیان موجود ہیں ‘ لیکن اس پوری کائنات میں ہم کہیں بھی کوئی خرابی اور فساد محسوس نہیں کرتے۔ بڑے چھوٹے ہزاروں کرے آسمان کی وسعتوں میں محو پرواز ہیں ‘ لیکن ان میں کہیں تصادم نظر نہیں آتا۔ سورج کبھی چاند کے راستے میں حائل نہیں ہوتا ‘ چاند کبھی اپنا راستہ نہیں بدلتا ‘ شب و روز کے آنے میں کبھی تخلف نہیں ہوتا ‘ زمین کبھی اپنی قوت روئیدگی کے خزانے لٹانے میں پس وپیش نہیں کرتی ‘ ستارے روشنی دینے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے ‘ پھول خوشبو دینے میں ‘ کلی چٹکنے میں ‘ پانی بہنے میں ‘ ہوا چلنے میں ‘ پرندے اڑنے اور چہکنے میں ‘ سبزہ لہلہانے میں ‘ سایہ دار درخت سایہ دینے میں کبھی تساہل کا شکار نہیں ہوتے۔ سورج برابر اپنی تخلیق کے دن سے لے کر آج تک سمندر سے کرنوں کے ڈول بھر بھر کر فضائے آسمانی میں ابر کی چادریں بچھاتا ہے۔ ہوا انھیں لوریاں دیتی ہوئی برسنے کی جگہ پر پہنچاتی ہے ‘ بارش ایک قانون کے مطابق برستی ہے اور زمین ضرورت کے مطابق اسے نگلتی اور باقی اگل دیتی ہے۔ دانہ گندم ایک خاص انداز میں اگتا ‘ بڑھتا ‘ پروان چڑھتا اور ایک پودے کی شکل اختیار کرتا ہے ‘ حتیٰ کہ سات سو دانوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جس قانونِ تکوین کے تحت یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہیں ‘ اس میں کبھی کمی بیشی واقع ہوجائے۔ مختصر یہ کہ پوری کائنات کا نظام جس قانون تکوین کے تحت چل رہا ہے ‘ کہیں بھی اس سے سرتابی نہیں ہوتی۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ اس سرتابی نہ ہونے اور مکمل اطاعت کی وجہ سے پورے نظام کائنات میں کہیں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ہم انسانی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ قدم قدم پر تنازعات ابھرتے ہیں ‘ حقوق متصادم ہوتے ہیں تلخیاں ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لیتیں۔ جان ‘ مال ‘ عزت ‘ آبرو کوئی چیز بھی اپنا یقینی تحفظ نہیں رکھتی۔ آدمی آدمی سے الجھ رہا ہے ‘ قومیں قوموں سے ٹکرا رہی ہیں ‘ کہیں خون بہہ رہا ہے ‘ کہیں عزتیں رسوا ہو رہی ہیں ‘ کہیں عفتوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ جنگل کی طرح طاقت اور قوت دنیا کا قانون بن چکی ہے۔ کسی کو کسی کے سامنے جواب دہی کا احساس نہیں۔ کوئی خبر نہیں کہ ان معمولات کا آخر نتیجہ کیا ہوگا۔ غور کیا جائے تو یہ ساری صورت حال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ جس طرح باقی کائنات ایک نظام کی مکمل اطاعت میں رہ کر عافیت و خیریت کے ساتھ زندگی کا سفر طے کر رہی ہے ‘ انسانیت اس کے برعکس بجائے قانون تشریع کی اطاعت کرنے اور اپنی خواہشات اور نفسانی آرزوئوں کو اسی قانون کے حوالے کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کے ‘ مسلسل نافرمانی اور قانون کی پامالی کے ساتھ زندگی کا سفر طے کر رہی ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ پوری کائنات کا سفر اطاعت کی جہت میں ہے اور نوع انسانی کا سفر اس کے برعکس عدم اطاعت اور نافرمانی کی منزل کی طرف ہے۔ جب کہ دونوں کا خالق ومالک ایک ہے۔ اس نے دونوں کی کامیابی اور کامرانی اپنی اور اپنے قوانین کی اطاعت میں رکھی ہے۔ لیکن جب یہ نظام تکوین اور نظام تشریع کا آپس میں تصادم ہوتا ہے اور کائنات اور نوع انسانی جب آپس میں ٹکراتے ہیں تو ظاہر ہے کہ زمین کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں۔ عناصر فطرت بجائے ہمارے ہم رکاب ہونے کے ‘ ہم سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ قدرت کی رحمتیں انسانوں سے منہ موڑ لیتی ہیں اور دنیا جنت بننے کی بجائے ‘ ایک دہکتا ہوا جہنم بن جاتی ہے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے ‘ جب بھی دنیا نے اس حقیقت کو سمجھ کر باقی کائنات کی طرح اپنے آپ کو اللہ کے قانون کی اطاعت میں دیا تو دیکھتے ہی دیکھتے انسانی زندگی میں بجائے دکھوں کے آسودگی کے ‘ سائے گہرے ہوگئے۔ بجائے نفرت و عداوت کے شعلے اگلنے کے ‘ یہ دھرتی آشتی اور محبت کے پھول اگانے لگی۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد جس طرح زمین اور اہل زمین کی حالت بدلی ‘ وہ اسی حقیقت کی عکاس ہے۔ آنحضرت ﷺ نے دعوت کے آغاز ہی میں اس بات کو واضح کردیا تھا کہ لوگو ! اگر تم مجھ پر ایمان لا کر اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے دو تو تم دیکھو گے آج جب کہ کوئی قافلہ بھی خیریت سے سفر نہیں کرسکتا ‘ ایک شخص ملک کے ایک کونے سے سونا اچھالتا ہوا ملک کے دوسرے کونے تک سفر کرے گا ‘ لیکن راستے میں کوئی اسے میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ آج جبکہ تمہارے گھروں میں بھوک اور فاقوں کے پہرے ہیں ‘ ایک وقت کھانا ملتا ہے تو دوسرے وقت نصیب نہیں ہوتا۔ اللہ کی اطاعت کی برکت سے وہ وقت آئے گا کہ تم جھولیوں میں زکوٰۃ کا مال لے کر زکوٰۃ لینے والوں کو تلاش کرنے نکلو گے ‘ لیکن تمہیں زکوٰۃ لینے والا نہیں ملے گا۔ اللہ اپنی زمین پر محض اس دین کی برکت سے تمہیں ایسا غلبہ نصیب فرمائے گا کہ زمین کی بیشتر آبادی تمہارے زیر نگیں ہوگی۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ان میں سے ایک ایک بات سچ ثابت ہوئی اور انسانوں نے ان ساری تبدیلیوں کو بچشم سر دیکھا۔ قرآن کریم یہاں اسی بات کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ یہود کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر انسانوں میں اللہ کا قانون نافذ کرنے کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ اللہ نے ان کو حامل دعوت امت بنایا تھا ‘ تاکہ وہ اعلائے کلمۃ الحق اور شہادت حق کا فریضہ انجام دیں۔ لیکن انھوں نے خود نافرمانی کی اور نافرمانی پر مبنی قانون کو رواج دے کر اللہ کی زمین کو فساد سے بھر دیا۔ یہ اہل کتاب اگرچہ پیغمبروں کی اولاد ہیں اور اپنے یہاں اللہ کے دین کا پاکیزہ ورثہ بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن اللہ کو نسبتیں عزیز نہیں ‘ بلکہ اپنی اطاعت پر مبنی عمل عزیز ہے۔ اس لیے ان کا ماضی کچھ بھی رہا ہو ‘ اب یہ مفسدین میں شامل ہیں اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ مفسدین سے نہیں ‘ مصلحین سے محبت رکھتا ہے۔ اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کو دوبارہ اللہ کے یہاں عزت کا مقام نصیب ہو تو پھر ان کے لیے ایک آخری موقع ہے ‘ جس کا اگلی آیت کریمہ میں ذکر کیا جا رہا ہے :
Ayah 5:65وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْ لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَلَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔
(المائدہ : 65)
” اور اگر اہل کتاب ایمان لائیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم ان سے ان کے گناہ جھاڑ دیں گے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کریں گے “۔
یعنی یہ اہل کتاب مسلسل اپنی نافرمانیوں اور کجرویوں کے باعث بظاہر اس قابل نہیں ہیں کہ اللہ کی رحمت سے کوئی حصہ ان کو مل سکے ‘ کیونکہ انھوں نے مسلسل اپنی کرتوتوں سے اپنے آپ کو ہر طرح کے استحقاق سے محروم کردیا ہے۔ لیکن یہ سراسر ان پر ایک عنایت ہے کہ انھیں آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ اگر یہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئیں اور تقویٰ کی زندگی اختیار کریں اور اس طرح اپنے آپ کو بدلیں کہ پوری طرح امت اسلامیہ کا حصہ ہوجائیں اور اپنے بڑائی اور عظمت کے دعوؤں سے دستبردار ہو کر اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کی اطاعت میں دے دیں تو اللہ فرماتا ہے ‘ ہم ان سے ان کے گناہ جھاڑ دیں گے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کریں گے۔ یہاں ایمان سے ہم نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا مراد لیا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جہاں تک ان کا اپنے پیغمبروں پر ایمان لانے کا تعلق ہے ‘ اسکے تو وہ پہلے ہی دعوے دار تھے اور اس وقت جو دعوت ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے ‘ اس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے اور انھیں اگر انکار ہے تو حضور ﷺ ہی کی ذات سے ہے۔ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے سے تو انھیں کوئی انکار نہیں اور مزید یہ بات بھی کہ پہلے انبیاء کی دعوتیں اور شریعتیں اپنا دور گزار چکیں ‘ اب ان کے سامنے اسلام کے نام سے جو مکمل دعوت پیش کی جا رہی ہے ‘ اس کے داعی رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس لیے یہ بالکل بدیہی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ یہاں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے واسطے سے اسلام پر ایمان لانے کی دعوت دی جارہی ہے اور یہ ایک بہت بڑی عنایت فرمائی جا رہی ہے کہ تم اپنے حال اور ماضی کو دیکھتے ہوئے یقیناً اس دعوت کی طرف آتے ہوئے ہچکچائو گے کیونکہ تم نے اپنے آپ کو اس قابل چھوڑا ہی نہیں لیکن یقین رکھو ! تمہیں اس دعوت کو قبول کرنے کے بعد کسی ترجیحی سلوک کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا ‘ نہ سابقہ گناہوں کی باز پرس ہوگی بلکہ تمہارے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور تمہیں نعمتوں والے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔
اہلِ کتاب کی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے جو اپنی سابقہ دینی زندگی میں بگاڑ پیدا کیا تھا ‘ اس کا سب سے بڑا سبب درہم و دینار یعنی دولت دنیا کی ہوس تھی چناچہ انھوں نے دنیا کی خاطر اللہ کی کتابوں میں تحریف تک کر ڈالی اور اس طرح اپنی قسمت بگاڑ لی۔ اب یہ ہوس زر چونکہ ان کی ایک طبیعتِ ثانیہ بن چکی ہے اور پھر اپنے سابقہ مذہب پر باقی رہتے ہوئے ان کے مذہبی سربراہوں کو بہت سارے مناصب ‘ اور بہت ساری مراعات حاصل تھیں۔ اس لیے جب ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جاتی تو یہ دولت دنیا کی ہوس اور موجود مراعات و مناصب ان کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہماری تمام عزت و منفعت اسی گروہی عصبیت میں محفوظ ہے۔ اگر ہم نے اس سے باہر قدم نکالا تو ظاہر ہے یہ تمام فتوحات اور تمام چڑھاوے ختم ہو کر رہ جائیں گے اور ہم دنیوی آسائشوں سے محروم ہوجائیں گے۔ اگلی آیت کریمہ میں ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا جا رہا ہے۔
Ayah 5:66وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَالاِْنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْط مِنْھُمْط اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃُٗط وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَ ۔
(المائدہ : 66)
” اور اگر وہ تورات اور انجیل اور اس چیز کو قائم کریں ‘ جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اتاری گئی تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے اللہ کا رزق و فضل پائیں گے۔ ان میں ایک راست رو جماعت بھی ہے۔ لیکن زیادہ ان میں سے ایسے ہیں ‘ جن کے عمل بہت برے ہیں “۔
نفاذ شریعت کی برکات
یعنی انھیں یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ اسلام کی آغوش میں آنے کے بعد انھیں زندگی کی نامرادیوں سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا بلکہ وہ من حیث الامت اللہ کی رحمتوں اور عنایتوں کے مرکز ٹھہریں گے اور باقی مسلمانوں کے ساتھ ان کو اس طرح نوازا جائے گا کہ رزق ان کے اوپر سے بھی برسے گا اور نیچے سے بھی ابلے گا۔ یعنی آسمان کی برکتوں کے دروازے بھی کھل جائیں گے اور زمین اپنے خزانے اگلنا شروع کر دے گی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ تورات اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کیا جا رہا ہے ‘ اسے قائم کریں۔ یہاں مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ سے مراد قرآن کریم ہے ‘ جو اس وقت اللہ کی طرف سے نازل کیا جا رہا تھا۔ حکم یہ دیا جا رہا ہے کہ تم تورات اور انجیل اور قرآن کریم کو قائم کرو۔ تورات اور انجیل کو قائم کرنے کے حوالے سے ایک تو یہ ظاہر کرنا ہے کہ قرآن کریم کو قائم کرنا صرف قرآن کریم کو قائم کرنا نہیں بلکہ درحقیقت تورات و انجیل کو بھی قائم کرنا ہے۔ اس لیے کہ تورات و انجیل دونوں کی اپنی پیشین گوئیوں کے مطابق یہ قرآن کریم ہی ہے ‘ جو تورات اور انجیل سب کی تکمیل کرنے والا اور سب کا محافظ و نگران ہے۔ مزید یہ بات کہ قرآن کریم نے ہمیں یہ اطلاع دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ جب بھی تمہارے پاس نبی آخر الزماں تشریف لائیں جو تمہاری کتابوں اور شریعتوں کا مصدق بن کے آئیں گے :
لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط
(تو تم ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا)
اس لحاظ سے اہل کتاب اس بات کے پابند تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں اور قرآن کریم کو نافذ کرنے میں ان کی مدد کریں اس لیے انھیں یاد دلایا جا رہا ہے کہ اب تمہیں اپنے پیغمبروں کے ذریعے کیے گئے وعدے کے مطابق اللہ کے آخری رسول پر ایمان لا کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اخروی نعمتوں کا ذکر تو اس سے پہلی آیت میں ہوچکا ‘ دنیوی نعمتوں کا وعدہ اس آیت میں کیا گیا ہے۔
مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ سے مراد قرآن و سنت دونوں ہیں
یہاں ممکن ہے یہ سوال پیدا ہو کہ تورات اور انجیل کے نام لینے کی طرح یہاں قرآن کریم کا نام لینے کی بجائے مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ کیوں کہا گیا ؟ اس کی مختلف وجوہ ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ جس طرح تورات اور انجیل موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئیں اور دونوں کی تبلیغ و دعوت کے مخاطب بنی اسرائیل تھے۔ گویا یہ دونوں کتابیں بنی اسرائیل کی طرف آئیں۔ اسی طرح اب بنی اسرائیل یہ سمجھ رہے تھے کہ قرآن کریم بنی اسماعیل کی طرف آیا ہے ‘ جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے اگر اس کا کوئی حامل ہے تو وہ بنی اسماعیل ہیں اور اگر یہ کوئی اعزاز ہے تو اس کے مستحق بھی بنی اسماعیل ہیں چناچہ ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ کتاب عالمگیر اور ہمہ گیر بن کر آئی ہے۔ یہ بنی اسماعیل کے لیے نہیں بلکہ ساری نوع انسانی کے لیے ہے کیونکہ یہ ذکر للعالمین ہے۔ اس لیے تمہیں آگے بڑھ کر اس لیے اسے قبول کرنا چاہیے کہ یہ تمہارا اپنا سرمایہ ہے اور تمہارے اپنے وعدے کی نعمت اور تمہاری اپنی میراث ہے۔ کسی خاص قبیلے کا اس پر کوئی استحقاق نہیں ‘ بلکہ یہ کتاب ہر اس قوم کے لیے راہنما ہے ‘ جو اسے آگے بڑھ کر قبول کرلے اور اس کی ذمہ داریوں کے بوجھ کو اٹھا لے۔
دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ سابقہ امتوں کی گمراہی اور فساد کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ امتیں جب گمراہ ہوئیں اور زوال نے ان کے اندر نفوذ اختیار کیا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے ہاتھوں سے کتابیں گم ہوگئی تھیں اور یہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں سے بالکل محروم ہوگئے تھے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ سب سے پہلے جو ان پر حادثہ گزرا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ کتابیں کسی نہ کسی حد تک ان کے پاس موجود رہیں ‘ لیکن یہ اپنے رسولوں کی سنت اور سیرت سے بہت جلدی محروم ہوگئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ جب کتاب اللہ کے احکام کے مطابق پیغمبر کے عمل کی سند یا کتاب اللہ کے مجملات کی پیغمبر کی جانب سے تشریح یا کتاب اللہ کے مبہمات کی پیغمبر کی جانب سے تفسیر ‘ ان کے پاس موجود نہ رہی تو اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں میں موم کی ناک بن کر رہ گئی۔ انھوں نے جیسے چاہا اس کے احکام کا قالب تیار کیا۔ شروع میں معنوی تحریف ہوئی ‘ آہستہ آہستہ لفظی تحریف اور ترمیم تک نوبت پہنچی۔ گویا ان کی گمراہی اور کج روی کا آغاز اور پھر اس میں توسیع کا سبب صرف پیغمبروں کی سنت اور سیرت کا گم ہوجانا تھا۔ اس کو ایک مختصر سی مثال سے اس طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن کریم نے ہمیں ” اقیموا الصلوٰۃ “ کہہ کر اقامتِ صلوٰۃ کا حکم دیا۔ لیکن قرآن کریم میں کہیں طریقہ نہیں بتایا گیا۔ قرآن کریم سے ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ نمازوں کی تعدادکتنی ہے ‘ اس کے اوقات کیا ہیں ‘ اذان کیا چیز ہے ‘ جماعت کے احکام کیا ہیں۔ ہر نماز کی رکعتیں کتنی ہیں ‘ فرائض اور واجبات کیا ہیں۔ غرضیکہ نماز کی پوری تفصیل سے متعلق کوئی چیز ہمیں قرآن کریم سے معلوم نہیں ہوتی۔ آج اگر خدانخواستہ ہمارے ہاتھوں میں صرف قرآن کریم محفوظ رہ جائے تو ہم نماز ادا کرنے سے عاجز ہوجائیں کیونکہ اس کی پوری تفصیل ہمیں آنحضرت ﷺ کی احادیث مبارکہ اور سنت طیبہ سے ملتی ہے۔ اگر یہ احادیث اور سنت مسلمانوں کے پاس موجود اور محفوظ نہ ہوتیں تو ہم نماز تک ادا نہیں کرسکتے تھے ‘ چہ جائیکہ ہم باقی پوری شریعت پر عمل کرتے۔ اس لیے یہاں بجائے قرآن کریم کے لفظ کے مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ فرمایا گیا کہ تم نے دنیا میں اب جو چیز قائم کرنی ہے وہ صرف قرآن کریم نہیں بلکہ وہ سب کچھ ہے ‘ جو آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا۔ اسی لیے قرآن کریم میں فرمایا گیا :
وَاَنْزَلَ اللہ ُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ ط
(النساء 4: 113)
(ہم نے اے پیغمبر ! آپ پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور وہ کچھ آپ کو سکھایا ہے ‘ جو آپ نہیں جانتے تھے)
اس کی بہترین تشریح آنحضرت کا وہ ارشاد گرامی ہے ‘ جسے ابودائود ‘ ابن ماجہ اور دارمی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
الا انی اوتیت القرآن و مثلہ معہ الایوشک رجل شبعان علیٰ اریکتہ یقول علیکم بھذا القران فما وجد تم فیہ من حلال فاحلوا، وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ وان ما حرم رسول اللہ (ﷺ) کما حرم اللہ
( یاد رکھو ! مجھے قرآن دیا گیا اور اس کے ساتھ اسی کے مثل اور بھی علوم دیئے گئے۔ آئندہ زمانہ میں ایسا ہونے والا ہے کہ کوئی شکم سیر راحت پسند یہ کہنے لگے کہ تم کو صرف قرآن کافی ہے ‘ جو اس میں حلال ہے ‘ صرف اس کو حلال سمجھو اور جو اس میں حرام ہے ‘ صرف اس کو حرام سمجھو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ کے رسول ﷺ نے حرام ٹھہرایا ہے ‘ وہ بھی ایسی ہی حرام ہے ‘ جیسی اللہ تعالیٰ کے کلام کے ذریعہ حرام کی ہوئی اشیاء حرام ہیں)
حاصل کلام یہ کہ قرآن کریم کے ساتھ چونکہ آنحضرت ﷺ کی سنت کو بھی قائم کرنا تھا ‘ اس لیے اگر صرف قرآن کا لفظ بولا جاتا تو اس سے یہ وضاحت نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ کہا گیا ‘ تاکہ امت مسلمہ اپنے فریضہ منصبی کو اچھی طرح سمجھ لیں اور مزید یہ بات بھی شاید اشارۃً اس میں کہی جا رہی ہے کہ اللہ کی کتاب یقیناً امت اسلامیہ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے کیونکہ وہ کلام اللہ ہے اور وہی مسلمانوں کے لیے آئین اور قانون ہے۔ لیکن کوئی کتاب بھی کسی امت اور افراد امت کی شخصیت کی تعمیر کے لیے کافی نہیں ہوتی ‘ جب تک کہ اس کے ساتھ پیغمبر کی شخصیت موجود نہ ہو۔ یہاں اس لیے بالواسطہ یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تم سابقہ امتوں کی طرح انبیاء کی شخصیتوں سے کٹ کر زندگی گزارنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ زندگی کے سفر میں آوارہ ہوجاؤ گے۔ تمہاری وابستگی قرآن کریم کے ساتھ ساتھ ذات رسالت مآب ﷺ سے بھی ویسی ہی گہری ہونی چاہیے ‘ ورنہ تمہاری شخصیتوں کی تعمیر نہیں ہو سکے گی۔
سید سلیمان ندوی مرحوم و مغفور نے لکھا ہے کہ میں مصر سے واپسی پر جس بحری جہاز پر سفر کر رہا تھا ‘ اسی میں بنگال کے مشہور شاعر ڈاکٹر ٹیگور بھی سفر کر رہے تھے۔ ایک دن ہمارے دوستوں میں سے کسی نے ان سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب برہمو سماج ایک بڑا صلح کن قسم کا مذہب تھا۔ اس کے بنانے والوں کا یہ دعویٰ تھا کہ اس میں تمام مذاہب کی سچائیاں موجود ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ تمام مذاہب سے زیادہ کامیاب ٹھہرتا۔ مگر دیکھا یہ گیا کہ وہ تھوڑی عمر میں ہی ناکام ہوگیا اور آج اس کے ماننے والے نہایت محدود تعداد میں ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس فلسفی شاعر نے بڑی سچی بات کہی کہ مذاہب ہمیشہ شخصیتوں سے توانا ہوتے اور رواج پکڑتے ہیں۔ اس مذہب کے پیچھے چونکہ کوئی شخصیت نہیں تھی۔ اس لیے باوجود صداقتوں کا مجموعہ ہونے کے ‘ شخصیت سے خالی ہونے کی وجہ سے وہ ناکام ہوگیا۔ اس لیے یہاں پیغمبر کی شخصیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
کسی چیز کو قائم کرنے سے کیا مراد ہے ؟
اس آیت کریمہ میں ” اَقَامُوا “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ اہل کتاب تورات و انجیل اور قرآن کریم کو قائم کریں۔ قائم کرنے سے کیا مراد ہے ؟ عربی زبان میں اقامت کسی چیز کو اس طرح وجود میں لانے کو کہتے ہیں ‘ جس میں اس کے وجود کے تمام تقاضے پورے ہوجائیں۔ مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ عدالت قائم ہوگئی تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ عدالت کی عمارت بن گئی ‘ ججز نے اپنے کام شروع کردیئے ‘ مدعی اور مدعا الیہ اپنے معاملات لے کر عدالت کی طرف رجوع کرنے لگے ‘ وکلاء نے کیس پیش کرنے شروع کردیئے ‘ دفتری عملے نے اپنا کام کرنا شروع کردیا ‘ انصاف کا عمل پوری طرح جاری ہوگیا۔ اس پورے پر وسس کو عدالت کا قائم ہونا کہتے ہیں۔ اس طرح اللہ کی کتابوں کو قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے ماننے والوں کی زندگی ‘ ان کتابوں کی تعلیمات سے متعلق ہوجائے۔ ان کا کوئی شخصی ‘ جماعتی ‘ انفرادی اور اجتماعی کام اور رویہ جو بھی شکل اختیار کرے ‘ اس میں راہنمائی اس کتاب سے لی جائے۔ ہر ادارہ اس کی راہنمائی میں اپنا کام کرے۔ تعلیمی اداروں کی بنیاد ‘ اسی کی مہیا کردہ علمی بنیادوں پر اٹھائی جائے۔ معاشرت کے اصول ‘ معیشت کے قوانین ‘ سیاست کے طور اطوار ‘ حکومت کا طریق کار ‘ ملک کا دستور و آئین ‘ ان سب کا سرچشمہ یہی اللہ کی کتاب ہو۔ اس پورے پر وسس کو کتاب کا قائم کرنا کہیں گے اور یہی وہ حقیقت ہے ‘ جس کے بروئے کار لانے پر دنیوی سہولتوں ‘ کامرانیوں اور سرفرازیوں اور اخروی نعمتوں کی نوید سنائی گئی ہے۔
اس آیت کریمہ میں آخر میں یہ فرمایا ہے : مِنْھُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ ” ان میں ایک راست رو جماعت بھی ہے “ یعنی یہود پر اتمام حجت کے بعد آخر میں یہ خبر دی گئی ہے اور مسلمانوں کو شاید اس حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ آپ ان یہود سے کوئی بہت زیادہ توقعات وابستہ نہ کریں۔ ان میں ایک مختصر جماعت ہے ‘ جو پہلے سے راست روی پر قائم ہے ‘ وہی اب بھی ایمان لائیں گے۔ رہے باقی یہود تو ارشاد فرمایا کہ ان میں زیادہ ایسے لوگ ہیں ‘ جن کے عمل بہت برے ہیں۔ اس لیے ان سے قبول اسلام کی توقع عبث ہے۔ چناچہ بعد میں حالات نے یہ ثابت کو دیا کہ قرآن کریم کی یہ خبر بالکل صحیح تھی۔ ان میں سے ایک مختصر گروہ نے اسلام قبول کیا ‘ باقی حسد و بغض کی آگ میں جلتے رہے۔
Ayah 5:67تمہید
ہم گزشتہ دو رکوعوں سے مسلسل اہل کتاب خصوصاً یہود کی اسلام دشمنی اور نبی کریم ﷺ سے بغض کی تاریخ پڑھ رہے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ اسلام دشمنی میں وہ اس حد تک آگے بڑھ گئے تھے کہ باوجود اس کے کہ وہ رسول پاک ﷺ کی شخصیت کو اپنی کتابوں کے دیئے ہوئے تعارف کی روشنی میں پوری طرح پہچانتے بھی تھے ‘ لیکن وہ ان پر ایمان لانے اور انھیں قبول کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہیں تھے بلکہ آنحضرت ﷺ کی شخصیت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنا اور لوگوں کو بدگمان کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا۔ ان کے خواص و عوام میں دشمنی کی جڑیں اس قدر گہری ہوگئی تھیں کہ وہ شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں چوکتے تھے بلکہ اس اسلام دشمنی میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ عقل و خرد سے تو اندھے ہوئے ہی تھے ‘ قومی اور انسانی شرافت سے بھی محروم ہوگئے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ خود اللہ رب العزت کی ذات کے بارے میں انھیں کوئی بھی نازیبا بات کہنے سے بھی شرم نہیں آتی تھی۔ مزید یہ بات کہ یہ ان کی مخالفت و دشمنی صرف ایمان قبول نہ کرنے اور شعائرِ اسلام کی توہین کرنے اور اللہ کریم کی بارگاہ میں نازیبا باتیں کہنے تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ وہ مسلسل اپنی سازشوں کے ذریعہ اس کوشش میں تھے کہ آنحضرت ﷺ کو جسمانی طور پر اگر نقصان پہنچایا جاسکتا ہو ‘ تو اس سے بھی دریغ نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ہمیشہ ان کی طرف سے ایک اضطراب محسوس کرتے تھے۔ ایسی صورت حال میں جب کہ معاملے کا ایک فریق اس حد تک پہنچ جائے ‘ جس کا تذکرہ کیا گیا ہے تو طبیعتوں میں دو قسم کے رد عمل کا پیدا ہونا نہ صرف کہ مستبعد نہیں بلکہ فطرت کا عین تقاضہ ہے۔ ایک ردعمل کی صورت تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو جن کی دشمنی عقل و شرافت کی حدود سے آگے بڑھ چکی ہے ان کو یکسر نظر انداز کردیا جائے اور ان کی طرف سے مایوسی کا شکار ہو کر حق نصیحت کسی اور پر صرف کیا جائے اور ان کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ قدرت ایمان اور اسلام کے حوالے سے شاید ان کی محرومی کا فیصلہ کرچکی ہے۔ دوسرا ردعمل یہ ہوسکتا ہے کہ اگر ان کو ایمان و اسلام کی دعوت دی بھی جائے اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچایا بھی جائے تو وہ اس احتیاط سے پہنچایا جائے کہ اندھی دشمنی میں یہ آخری اقدام اور آخری دائو کا فیصلہ نہ کرسکیں۔ چناچہ اس متوقع رد عمل کے پیش نظر قرآن کریم آنحضرت ﷺ سے خطاب فرما رہا ہے :
یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط وَ اللہ ُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اللہ َ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 67)
(اے رسول ﷺ ! تمہاری طرف جو چیز تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے ‘ اس کو اچھی طرح پہنچا دو ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور اللہ لوگوں سے تمہاری حفاظت کرے گا ‘ اللہ کافروں کو ہرگز راہ یاب نہیں کرے گا)
رسول کا اصل کام
بجائے اس کے کہ پروردگار رسول پاک ﷺ کا نام لے کر یا آپ کے کسی لقب کے ذریعے مثلاً طٰہٰ یا یٰسین کہہ کر آپ کو خطاب کرتا آپ کو رسول کہہ کر خطاب کرنا بہت معنویت کا حامل ہے۔ یعنی آپ کی حیثیت نہ تو ایک ناصح کی ہے کہ آپ مخاطب کے مزاج کو دیکھ کر اور اس کے معمولات کا اندازہ کر کے حق نصیحت استعمال کریں اور اگر آپ دیکھیں کہ مخاطب کا مزاج اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ حق نصیحت ہی سے ہاتھ اٹھا لیں اور نہ آپ کی حیثیت صرف ایک مصلح کی ہے کہ مصلح بھی اپنے اصلاحی عمل کا تخم بنجر زمین میں کبھی ضائع نہیں کرتا بلکہ فرمایا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور رسول کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اللہ کے کلام اور اس کے پیغام کو بندوں تک بلا کم وکاست پہنچاتا ہے ‘ اس کے سامنے چاہے مخالفت کے پہاڑ کیوں نہ کھڑے ہوں اور چاہے نامساعد حالات کی وجہ سے امید کی کوئی کرن دکھائی نہ دیتی ہو اسے پھر بھی اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا رسول اور پیغامبر ہے اور پیغامبر کا کام پیغامبری کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ رہی یہ بات کہ وہ دشمنی میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں اور ان کی طرف سے پیغام کی قبولیت کا کوئی ادنیٰ سا امکان بھی دکھائی نہیں دیتا ‘ یہ بات اپنی جگہ چاہے کتنی ہی وزنی کیوں نہ ہو ‘ لیکن بحیثیت رسول اسے مخاطب کی حالت کو نہیں دیکھنا بلکہ اللہ کا پیغام پہنچانا ہے۔ رہی اس کی قبولیت کی طرف سے مایوسی ‘ تو اس سے ہزار دفعہ روکا گیا ہے کیونکہ یہ بات سراسر اللہ کے علم میں ہے کہ کس کا دل کس وقت قبولیت کے لیے کھل سکتا ہے اور مزید یہ بات بھی کہ بعض دفعہ قوموں کے سامنے پیغام خداوندی اس لیے نہیں بھیجا جاتا کہ وہ اسے ضرور قبول کریں بلکہ اس لیے بھی بھیجا جاتا ہے تاکہ ان پر اتمامِ حجت ہوجائے اور قیامت کے دن وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں تو کسی پیغامبر نے پیغام نہیں پہنچایا ورنہ ہم ضرور قبول کرلیتے اور رہی یہ بات کہ ان کی دشمنی کے باعث اس بات کا شدید اندیشہ تھا کہ وہ پہلے ہی اپنی دشمنی میں جلے بھنے بیٹھے ہیں ‘ اب یہ پیغام جو اس آیت کریمہ کے بعد شروع ہو رہا ہے ‘ جس میں ان کی اصل حیثیت کو واضح کیا جا رہا ہے ‘ جب ان تک پہنچے گا تو وہ یقینا دشمنی میں آخری اقدام کرنے اور آخری دائو کھیلنے سے بھی باز نہیں آئیں گے۔ اس سے حالات کے بگاڑ میں یقینااضافہ ہوگا اور دعوت و تبلیغ کی راہ مسدود ہو کر رہ جائے گی اور ہوسکتا ہے اس طرح وہ آنحضرت ﷺ کی ذات والا صفات کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں۔
اس سلسلے میں دو باتیں فرمائی گئیں۔ ایک تو یہ بات کہ حالات چاہے کیسے بھی ہوں ان سے متأثر ہو کر پیغامبری کے عمل میں کمی بیشی کرنا ‘ یہ اللہ کے رسولوں کا کام نہیں ہے اور ہمیں قرآن کریم میں جابجا اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً حضرت زید بن حارثہ ( رض) عنہ جو حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے۔ اللہ نے جب یہ حکم دیا کہ کسی کو منہ بولا بیٹا نہ بنایا جائے بلکہ انھیں ان کے باپوں کے حوالے سے ہی پکارا جائے اور اگر ان کے باپوں کے بارے میں علم نہ ہو :
فَاِخْوَانُکمْ فِی الدِّیْن ( تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی ہیں)
لیکن یہ تبنیت کی رسم چونکہ صدیوں سے چلی آرہی تھی اس کا ٹوٹنا آسان نہ تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے قول اور عمل سے اس رسم کا ابطال کریں۔ چناچہ جب حضرت زید بن حارثہ ( رض) نے اپنی زوجہ محترمہ یعنی حضرت زینب ( رض) کو طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ نے اس رسم کے خاتمے کے لیے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ حضرت زینب ( رض) سے نکاح فرمائیں۔ اب صدیوں سے چونکہ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹوں کی طرح ہوتا ہے اور اس کی بیوی اس کے منہ بولے باپ کی بہو ہوتی ہے۔ خسر چونکہ کسی بھی مذہب میں بہو سے نکاح نہیں کرسکتا اس لیے اگر آنحضرت ﷺ حضرت زینب ( رض) سے نکاح کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضور ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا اس کے نتیجے میں مخالفین کو مخالفت کا ایک ایسا ہتھیار مل جائے گا جس سے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور اسلام کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں پیدا کرنے کا ایک راستہ کھل جائے گا اور مخالفت کا ایسا طوفان اٹھے گا جس کا توڑ کرنا مسلمانوں کے لیے آسان نہ ہوگا۔ اس لیے اس حکم پر عمل کرنے میں آپ یقینا بہت سے اندیشہ ہائے دور دراز کا احساس فرما رہے تھے۔ سورة احزاب میں رسول اللہ ﷺ کو واضح حکم دیا گیا کہ اللہ کے رسول ہمیشہ اللہ کے پیغامات کو برملا پہنچاتے رہے ہیں اور جب ان کا ابلاغ عمل کی صورت میں ضروری ہو تو وہ ہمیشہ اس پر عمل بھی کرتے رہے ہیں اس لیے آپ کو ایسا کرنا چاہیے۔ رہا مخالفت کا اندیشہ تو فرمایا :
وَ یَخْشَوْنَہٗ وَلاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلاَّ اَﷲ ط (الاحزاب 33: 39)
(وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی کی پرواہ نہیں کرتے)
آپ بھی ان اندیشوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں اور اس کے بعد کی آیت کریمہ میں فرمایا کہ آپ کے لیے ان کٹھن مراحل سے گزرنا اس لیے ضروری ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور رسول کی زبان سے چونکہ اللہ کا قانون بولتا ہے اور اس کی ذات منشاء ایزدی کا مظہر ہوتی ہے اور اس کا قول و عمل دین کی سند کہلاتا ہے ‘ اس لیے یہ باتیں سوچنا کہ مخالفین کیا کر گزریں گے ‘ یہ آپ کا منصب نہیں۔ اگر آپ ایسا سوچیں گے اور اس پیغام کے پہنچانے میں تأمل کریں گے تو فرمایا : وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اسکی رسالت کا حق ادا نہیں کیا اور اسکا پیغام نہیں پہنچایا۔ اندازہ فرمایئے ! اس جملے کے تیور کتنے تیز ہیں اور آنحضرت ﷺ سے ایسے تیکھے تیوروں کے ساتھ پروردگار کا خطاب بظاہر عجیب سا محسوس ہوتا ہے ‘ لیکن غور و فکر سے یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ اس جملے میں جو عتاب معلوم ہوتا ہے ‘ اس عتاب کا مورد اور اس کے مخاطب رسول اللہ ﷺ نہیں بلکہ روئے سخن یہود اور منافقین کی طرف ہے۔ عتاب ان پر ہے ‘ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے۔ ان سے خطاب نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پروردگار یہود کو خطاب کے قابل نہیں سمجھتے ‘ اس لیے کہ جب کسی قوم یا فرد پر اللہ کا غضب بھڑکتا ہے تو نہ دنیا میں اسے خطاب کے قابل سمجھا جاتا ہے اور نہ آخرت میں۔ قرآن کریم میں ہے :
وَلاَ یُکَلِّمُھُمُ اللہ ُ وَلاَ یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیَامَہ وَلاَ یُزَکِّیْھِمْ ص (اٰل عمران 3: 77)
( اللہ قیامت کے دن نہ ان سے کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا)
اس لیے یہاں بھی ان کو خطاب کے قابل نہیں سمجھا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے خود دشمنوں سے حضور ﷺ کی حفاظت فرمائی
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ اپنی اندھی دشمنی میں کوئی ایسا ویسا اقدام نہ کر گزریں جس سے ذات رسالت مآب ﷺ کو نقصان پہنچ جائے تو ارشاد فرمایا گیا :
وَ اللہ ُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ( اللہ آپ کی لوگوں سے حفاظت کرے گا)
حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہود کی اندھی دشمنی کے باعث مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کے بارے میں ہمیشہ ایک اضطراب رہتا تھا۔ حضور ﷺ اگر کبھی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے تو مسلمان دیوانہ وار آپ کی تلاش کے لیے نکل کھڑے ہوتے کیونکہ ہر وقت یہود کی جانب سے حملے کا اندیشہ رہتا تھا۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ خطرے کے باعث حضور ﷺ رات کو سو نہ سکے۔ چناچہ ایسے ہی حالات میں ایک دفعہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم میں اگر کوئی بھلا آدمی پہرہ دیتا تو میں رات آرام سے سو لیتا۔ چناچہ حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) ہتھیار پہن کر تشریف لائے اور آپ کے درِاقدس پر پہرے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ ابھی رات کا کچھ حصہ ہی گزرا تھا کہ آیت کریمہ کا یہ حصہ نازل ہوا تو آپ ﷺ نے کھڑکی سے سر باہر نکال کر فرمایا ” سعد ! تم چلے جاؤ ‘ اللہ نے میری حفاظت کا وعدہ فرما لیا ہے “۔ شاید اسی حفاظت کا نتیجہ تھا کہ بڑے بڑے حوادث میں بھی دشمن آپ کو نقصان پہنچانے میں ہمیشہ ناکام رہا۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک غزوہ میں حضور ایک درخت پر کپڑا ڈال کر اس کے سائے میں آرام فرما رہے تھے اور صحابہ ( رض) بھی سائے کی تلاش میں دور دور بکھر گئے تھے کہ اچانک ایک بدوی نجانے کیسے چھپتا چھپاتا آنحضرت ﷺ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ حضور ﷺ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی اس نے تلوار اتاری اور نیام سے نکال کر آنحضرت ﷺ سے کہنے لگا کہ محمد ﷺ ! اب بتائو تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ اندازہ کیجئے ! ایک گنوار شخص جس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہو اور جو دشمنی میں اندھا ہو کر اور اپنی جان پر کھیل کر حضور ﷺ کی جان لینے کے لیے سر پر کھڑا ہے اور اب وہ موت کے فرشتے کی صورت میں حضور ﷺ سے پوچھ رہا ہے کہ بتائو ! تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ تو حضور ﷺ نہایت اطمینان سے فرماتے ہیں :” ش “۔ یہ سنتے ہی اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوئی ‘ ہیبت زدہ ہو کر اس نے تلوار نیام میں ڈال دی اور حضور ﷺ کے پاس بیٹھ گیا۔ یہ وہ حفاظت خداوندی تھی جس کا آپ ﷺ سے وعدہ کیا گیا تھا۔
اللہ کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی حفاظت کرتا ہے
ایسی حفاظت اگرچہ رسولوں کے ساتھ خاص ہے ‘ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کی رسالت کے صدقے مسلمانوں کو بھی اس سے محروم نہیں رکھا گیا اور ان کے لیے ایک مستقل قانون بنادیا گیا ‘ جس کی طرف اشارہ اس آیت کے آخری حصے میں ہے، فرمایا :
اِنَّ اللہ َ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ( بیشک اللہ کافروں کی قوم کو راہ یاب نہیں کرتا۔ )
یعنی اس کا قانون یہ ہے کہ اگر ایک طرف مسلمانوں کا ایک ایسا گروہ ہو جو تدبیر میں بھی اور اطاعت و عمل میں بھی اسلام کی پوری تصویر ہو اور پھر وہ اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر اور شہادت حق کا فرض انجام دیتے ہوئے اپنے ملی دفاع کے لیے اٹھتا ہے اور اس کے مقابلے میں ایک ایسا کافر گروہ ہو جو ان مسلمانوں کو صرف اس لیے مٹا دینا چاہتا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی بات کیوں کرتے ہیں اور ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے جینا اور مرنا چاہتے ہیں اور اسی کے نام کی عظمت اور اسی کے بندوں کی حفاظت کے لیے سر ہتھیلی پر رکھ کے آئے ہیں ‘ ایسی صورت میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ 313 بھی ہوں تو ایک ہزار کے سامنے بھی سرنگوں نہیں ہوتے اور اللہ انھیں ہمیشہ فتح و کامرانی سے نوازتا ہے۔
اس تمہید کے بعد اگلی آیت سے وہ پیغام شروع ہو رہا ہے جو اہل کتاب کے سامنے ان کی ہدایت اور اتمامِ حجت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔