Ayah 2:282[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [اِذَا : جب بھی ] [تَدَایَنْتُمْ : تم لوگ باہم لین دین کرو ] [بِدَیْنٍ : کسی ادھار کا ] [اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی : ایک معین وقت تک کے لیے ] [فَاکْتُبُوْہُ : تو تم لوگ لکھو اس کو ] [وَلْیَکْتُبْ : اور چاہیے کہ لکھے ] [بَّـیْنَـکُمْ : تمہارے مابین ] [کَاتِبٌ : ایک لکھنے والا ] [بِالْعَدْلِ : انصاف سے ] [وَلاَ یَاْبَ : اور انکار نہ کرے ] [کَاتِبٌ : کوئی لکھنے والا ] [اَنْ یَّــکْتُبَ : کہ وہ لکھے ] [کَمَا : اس طرح جیسے ] [عَلَّمَہُ : سکھایا اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [فَلْیَکْتُبْ : پس چاہیے کہ وہ لکھے ] [وَلْیُمْلِلِ : اور چاہیے کہ املاء کرائے ] [الَّذِیْ عَلَیْہِ : وہ جس پر ] [الْحَقُّ : حق ہے (یعنی مقروض) ] [وَلْیَتَّقِ : اور چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کرے ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [رَبَّـہٗ : جو اس کا پالنے والا ہے ] [وَلاَ یَبْخَسْ : اور وہ نہ گھٹائے ] [مِنْہُ : اس سے ] [شَیْئًا : کوئی چیز ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [کَانَ : ہو ] [الَّذِیْْ عَلَیْہِ : وہ جس پر ] [الْحَقُّ : حق ہے ] [سَفِیْہًا : کچھ ناسمجھ ] [اَوْ ضَعِیْفًا : یا کچھ کمزور ] [اَوْلاَ یَسْتَطِیْعُ : یا وہ صلاحیت نہیں رکھتا ] [اَنْ یُّمِلَّ : کہ املاء کرائے ] [ہُوَ : وہ خود ] [فَلْیُمْلِلْ : تو چاہیے کہ املاء کرائے ] [وَلِـیُّـہٗ : اس کا سرپرست ] [بِالْعَدْلِ : انصاف سے ] [وَاسْتَشْہِدُوْا : اور تم لوگ گواہی کے لیے کہو ] [شَہِیْدَیْنِ : دو گواہوں سے ] [مِنْ رِّجَالِکُمْ : اپنے مردوں میں سے ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [لَّمْ یَکُوْنَا : نہ ہوں ] [رَجُلَیْنِ : دو مرد ] [فَرَجُلٌ : تو ایک مرد ] [وَّامْرَاَتٰنِ : اور کوئی دو عورتیں ] [مِمَّنْ : ان میں سے جن سے ] [تَرْضَوْنَ : تم لوگ راضی ہو ] [مِنَ الشُّہَدَآئِ : موقع پر موجود میں سے ] [اَنْ : (اس لیے) کہ ] [تَضِلَّ : بھٹک (یعنی بھول) جائے ] [اِحْدٰٹہُمَا : دونوں کی ایک ] [فَتُذَکِّرَ : تو یاد دلائے ] [اِحْدٰہُمَا : دونوں کی ایک کو ] [ الْاُخْرٰی : دوسری ] [وَلاَ یَاْبَ : اور انکار نہ کریں ] [الشُّہَدَآئُ : گواہ ] [اِذَا مَا : جب کبھی بھی ] [دُعُوْا : وہ لوگ بلائے جائیں ] [وَلَا تَسْئَمُوْآ : اور تم لوگ مت اکتا ئو ] [اَنْ : کہ ] [تَـکْتُبُوْہُ : تم لوگ لکھو اس کو ] [صَغِیْرًا : (خواہ) چھوٹا ہو ] [اَوْ : یا ] [کَبِیْرًا : بڑا ] [اِلٰٓی اَجَلِہٖ : اپنی مدت تک (کے لحاظ سے) ] [ذٰلِکُمْ : یہ ] [اَقْسَطُ : زیادہ حق کے مطابق ہے ] [عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے نزدیک ] [وَاَقْوَمُ : اور زیادہ نگران ہے ] [لِلشَّہَادَۃِ : گواہی کے لیے ] [وَاَدْنٰٓی : اور زیادہ قریب ہے ] [اَلاَّ تَرْتَابُوْا : کہ تم لوگ شبہ میں نہ پڑو ] [اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [تَـکُوْنَ : وہ ہو ] [تِجَارَۃً حَاضِرَۃً : کوئی ایسا حاضر سودا ] [تُدِیْرُوْنَہَا : تم لوگ گھماتے ہو جس کو ] [بَیْنَـکُمْ : اپنے مابین ] [فَلَیْسَ : تو نہیں ہے ] [عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [جُنَاحٌ : کوئی گناہ ] [اَلاَّ تَـکْتُبُوْہَا : کہ نہ لکھو اس کو ] [وَاَشْہِدُوْآ : اور تم لوگ گواہ بنائو ] [اِذَا : جب بھی ] [تَــبَایَعْتُمْ : باہم خریدو فروخت کرو ] [وَلاَ یُضَآرَّ : اور تکلیف نہ دی جائے ] [کَاتِبٌ : لکھنے والے کو ] [وَّلاَ شَہِیْدٌ : اور نہ گواہ کو ] [وَاِنْ تَفْعَلُوْا : اور اگر تم لوگ (یہ) کرو گے ] [فَاِنَّـہٗ : تو یقینا یہ ] [فُسُوْقٌ : نافرمانی ہے ] [بِکُمْ : تم لوگوں کی ] [وَاتَّقُوا : اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [وَیُعَلِّمُکُمُ : اور سکھاتا ہے تم لوگوں کو ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بِکُلِّ شَیْئٍ : ہر ایک چیز کو ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
ء ج ل
اَجِلَ (س) اَجَلًا : کسی مشکل میں یا کسی چیز میں مبتلا ہونا۔
اَجَلٌ (اسم ذات بھی ہے) : (1) مدت (ابتلاء کے جاری رہنے کی) ۔ (2) وقت (ابتلاء کے خاتمے کا) ۔{ لَوْ لَآ اَخَّرْتَنَــآ اِلٰی اَجَلٍ } (النسائ :77) ” کیوں نہ تو نے مؤخر کیا ہمیں کچھ مدت تک ؟ “{ وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج } (الاعراف :34) ” اور ہر ایک امت کے لیے ایک وقت ہے (یعنی خاتمے کا) ۔ “
اَجْلٌ : سبب ‘ وجہ ۔ { مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَج } (المائدۃ :32) ” اس وجہ سے۔ “
اَجَّلَ (تفعیل) تَأْجِیْلًا : وقت مقرر کرنا۔ { وَبَلَغْنَا اَجَلَنَا الَّذِیْ اَجَّلْتَ لَنَاط } (الانعام :128) ” اور ہم پہنچے اپنی اس مدت کو جس کا تو نے وقت مقرر کیا ہمارے لیے۔ “
مُؤَجَّلٌ (اسم المفعول) : مقرر کیا ہوا وقت ۔ { وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰــبًا مُّؤَجَّلًاط } (آل عمران :145) ” اور نہیں ہے کسی جان کے لیے کہ وہ مرے مگر اللہ کے حکم سے ایک لکھے ہوئے مقرر کردہ وقت پر۔ “
ب خ س
بَخَسَ (ف) بَخْسًا : حق سے کم دینا ‘ گھٹانا۔ { وَلَا تَـبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَـآئَ ھُمْ } (الاعراف :85) ” اور تم لوگ حق سے کم نہ دو لوگوں کو ان کی چیزیں۔ “
س ء م
سَئِمَ (س) سَئَمًا : کسی چیز یا کام سے اکتا جانا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ق س ط
قَسَطَ (ض) قَسْطًا : حق کے خلاف کرنا ‘ ظلم کرنا۔
قَاسِطٌ (اسم الفاعل) : حق کے خلاف کرنے والا۔ { وَاَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَـکَانُوْا لِجَھَنَّمَ حَطَبًا ۔ } (الجن) ” اور جو حق کے خلاف کرنے والے ہیں تو وہ لوگ جہنم کے لیے ہیں بطور ایندھن۔ “
قَسَطَ (ن) قِسْطًا : حق کے مطابق ہونا ‘ انصاف ہونا۔
قِسْطٌ (اسم ذات بھی ہے) : حق ‘ انصاف۔ { وَیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ } (آل عمران :21) ” اور وہ لوگ قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو ترغیب دیتے ہیں انصاف کی۔ “
اَقْسَطُ (افعل التفضیل) : زیادہ انصاف والا۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَقْسَطَ (افعال) اِقْسَاطًا : حق کے مطابق کرنا ‘ انصاف کرنا۔ { اَنْ تَـبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَـیْھِمْط } (المُمتحنۃ :8) ” کہ تم لوگ نیکی کرو ان سے اور تم لوگ انصاف کرو ان کے ساتھ۔ “
اَقْسِطْ (فعل امر) : تو انصاف کر۔ { فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْاط } (الحُجُرٰت :9) ” تو تم لوگ صلح کرائو ان دونوں کے درمیان انصاف سے اور تم لوگ حق کے مطابق کرو۔ “
مُقْسِطٌ (اسم الفاعل) : حق کے مطابق کرنے والا۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ } (المائدۃ) ” بیشک اللہ پسند کرتا ہے حق کے مطابق کرنے والوں کو۔ “
ترکیب : ” وَلْـیَکْتُبْ “ کا فاعل ” کَاتِبٌ“ ہے۔ ” لَا یَاْبَ “ میں ” یَاْبَ “ دراصل ” یَاْبٰی “ تھا جسے لائے نہی نے مجزوم کیا تو ” ی “ گرگئی اور ” لَا یَاْبَ “ ہوگیا۔ ” وَلْیُِِمْلِلْ “ کو آگے ملانے کے لیے کسرہ دی گئی ہے ‘ اس لیے یہ ” وَلْیُِِمْلِلِ “ ہوگیا ہے۔ اور یہ فعل امر غائب ہے۔ ” اَللّٰہَ “ کا بدل ہونے کی وجہ سے ” رَبَّـہٗ “ منصوب ہے۔ ” مِنْہُ “ کی ضمیر ” اَلْحَقُّ “ کے لیے ہے۔ ” سَفِیْھًا اَوْ ضَعِیْفًا “ ‘” کَانَ “ کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” اَنْ یُّمِلَّ “ میں ضمیر فاعلی ” ھُوَ “ از خود موجود ہے ‘ لیکن یہاں تاکید کے لیے اسے ظاہر کیا گیا ہے ۔
” یَـکُوْنَا “ دراصل ” یَـکُوْنَانِ “ تھا جس کا نون اعرابی ” لَمْ “ کی وجہ سے گرا ہوا ہے۔ اس کا اسم اس میں شامل ” ھُمَا “ کی ضمیر ہے جو ” شَھِیْدَیْنِ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” رَجُلَیْنِ “ اس کی خبر ہے۔ ” مِنَ الشُّھَدَآئِ “ میں لفظ ” اَلشُّھَدَآئِ “ اپنے لغوی مفہوم میں آیا ہے۔ ” تَضِلَّ “ کا فاعل ” اِحْدٰٹـھُمَا “ ہے۔” اَنْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” فَتُذَکِّرَ “ منصوب ہوا ہے۔ اس کا فاعل ” اَلْاُخْرٰی “ کو اور مفعول ” اِحْدٰٹھُمَا “ کو مانا جائے گا۔ ” اِذَا “ میں غیر معین مدت کا مفہوم ہوتا ہے۔ اسے مزید غیر معین کرنے کے لیے ” مَا “ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ” اَنْ تَـکْتُـبُوْہُ “ میں ضمیر مفعولی حق یا ” بِدَیْنٍ “ کے لیے ہے اور ” صَغِیْرًا اَوْ کَبِیْرًا “ اس کا حال ہے۔ ” اَلاَّ تَـکْتُبُوْھَا “ کی ضمیر مفعولی ” تِجَارَۃً حَاضِرَۃً “ کے لیے ہے۔ ” یُضَارَّ “ کو مضارع معروف اور مجہول ‘ دونوں ماننا ممکن ہے ‘ لیکن آگے ” وَاِنْ تَفْعَلُوْا “ آیا ہے اس لیے یہ مضارع مجہول ہے۔
نوٹ (1) : سود کی ممانعت کے بعد اب اس آیت میں ادھار کے بیع و شراء کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔ مدینہ والوں کا ادھار لین دین دیکھ کر آنحضور ﷺ نے فرمایا : ” ناپ تول یا وزن مقرر کرلیا کرو ‘ بھائو تائو چکا لیا کرو اور مدت کا بھی فیصلہ کرلیا کرو “۔ (بخاری شریف ‘ منقول از ابن کثیر) ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میعاد مقرر کر کے قرض کے لین دین کی اجازت اس آیت سے بخوبی ثابت ہوتی ہے۔ (ابنِ کثیر)
نوٹ (2) : عربی کے جملہ فعلیہ میں عام طور پر فعل کے بعد فاعل اور اس کے بعد مفعول آتا ہے۔ لیکن اس ترتیب کو ہمیشہ قائم رکھنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ چند صورتیں ایسی ہیں جب فاعل کو مقدم کرنا واجب ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ :
1) جب فاعل اور مفعول دونوں مبنی کی طرح ہوں ‘ یعنی ان کی اعرابی حالت ظاہر نہ ہو۔
2) جب دونوں الفاظ میں فاعل اور مفعول بننے کی صلاحیت موجود ہو۔
(3) جب ان دونوں میں امتیاز کرنے کا کوئی قرینہ موجود نہ ہو۔ مثلاً اگر ہم اَکْرَمَ زَیْدٌ حَامِدًاکے بجائے اَکْرَمَ حَامِدًا زَیْـدٌ کہیں ‘ تب بھی معنی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ‘ کیونکہ ہم زید اور حامد کی اعرابی حالت سے فاعل اور مفعول کا تعین کرسکتے ہیں۔ البتہ اگر اَکْرَمَ یَحْیٰی عِیْسٰیک ہیں تو اب یَحْیٰیکو فاعل اور عِیْسٰیکو مفعول ماننا لازمی ہے۔ لیکن اگر ہم اَکَلَ یَحْیٰی کُمَّثْرٰی (یحییٰ نے امرود کھایا) کے بجائے اَکَلَ کُمَّثْرٰی یَحْیٰیک ہیں تو بھی درست ہوگا اور دونوں جملوں میں یَحْیٰیکو ہی فاعل مانا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ کُمَّثْرٰی (امرود) میں اَکَلَ کا فاعل بننے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔
آیت زیر مطالعہ میں فَتُذَکِّرَ اِحْدٰٹھُمَا الْاُخْرٰی آیا ہے۔ اس میں اِحْدٰی اور اُخْرٰی دونوں مبنی کی طرح ہیں اور دونوں میں فاعل اور مفعول بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ البتہ ان میں امتیاز کرنے کا ایک قرینہ موجود ہے۔ اس سے پہلے اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰٹھُمَا میں اِحْدٰیکے بھولنے کی بات ہوچکی ہے ‘ اس لیے اب فَتُذَکِّرَ کا فاعل اَلْاُخْرٰیکو اور مفعول اِحْدٰٹھُمَاکو مانا جائے گا۔
Ayah 2:283[وَاِنْ : اور اگر ] [کُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [عَلٰی سَفَرٍ : کسی سفر پر ] [وَّلَمْ تَجِدُوْا : اور تم لوگ نہ پائو ] [کَاتِبًا : کوئی لکھنے والا ] [فَرِہٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ : تو قبضہ میں لیا ہوا رہن ( لینا) ہے ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [اَمِنَ : بھروسہ کرے ] [بَعْضُکُمْ : تم میں کا کوئی ] [بَعْضًا : کسی پر ] [فَلْیُؤَدِّ : تو چاہیے کہ واپس کرے ] [الَّذِی : وہ جس کو ] [اؤْتُمِنَ : امین بنایا گیا ] [اَمَانَتَہٗ : اس کی امانت کو ] [وَلْـیَتَّقِ : اور اسے چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کرے ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [رَبَّہٗ : جو اس کا پالنے والا ہے ] [وَلاَ تَـکْتُمُوا : اور تم لوگ مت چھپائو ] [الشَّہَادَۃَ : گواہی کو ] [وَمَنْ یَّـکْتُمْہَا : اور جو چھپاتا ہے اس کو ] [فَاِنَّـہٗ : تو یقینا وہ ہے ] [اٰثِمٌ قَلْبُہٗ : جس کا دل گناہ کرنے والا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بِمَا : اس کو جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [عَلِیْمٌ : جاننے ] والا ہے ]
ر ھـ ن
رَھَنَ (ف) رَھْنًا : کسی بات کی ضمانت لینا ‘ گروی رکھنا۔
رِھْنٌ ج رِھَانٌ (اسم ذات) : ضمانت ‘ رہن۔ آیت زیر مطالعہ۔
رَھِیْنٌ (فَعِیْلٌ کا وزن ) اسم المفعول کے معنی میں ہے : گروی رکھا ہوا۔ { کُلُّ امْرِیٍٔم بِمَا کَسَبَ رَھِیْنٌ ۔ } (الطور) ” ہر شخص ‘ بسبب اس کے جو اس نے کمایا ‘ گروی رکھا ہوا ہے۔ “
ترکیب :” فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ“ مرکب توصیفی ہے اور مبتدأ نکرہ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے۔ دوسرا امکان یہ بھی ہے کہ ” فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ“ کو خبر مان کر اس کے مبتدأ کو محذوف مانا جائے۔ دونوں صورتوں میں مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ” اَمِنَ “ کا فاعل ” بَعْضُکُمْ “ ہے اور ” بَعْضًا “ اس کا مفعول ہے۔” اُؤْتُمِنَ “ دراصل مادہ ” ء م ن “ کا باب افتعال میں ماضی مجہول ” اُوْتُمِنَ “ تھا۔ ماقبل سے ملانے کے لیے افتعال کا ہمزۃ الوصل صامت (silent) ہے تو فاء کلمہ کا ہمزہ واپس آگیا۔ اب وائو دراصل ہمزہ کو لکھنے کی کرسی ہے جس کو پڑھا نہیں جائے گا۔ ” اَمَانَتَہٗ “ کی ضمیر ” بَعْضُکُمْ “ کے لیے ہے۔
Ayah 2:284[لِلّٰہِ : اللہ کی ہی (ملکیت) ہے ] [مَا : وہ جو ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [فِی الْاَرْضِ : زمین ] [میں ہے ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تُبْدُوْا : تم لوگ ظاہر کرو ] [مَا : اس کو جو ] [فِیْ اَنْفُسِکُمْ : تمہارے جی میں ہے ] [اَوْ : یا ] [تُخْفُوْہُ : تم لوگ چھپائو اس کو ] [یُحَاسِبْـکُمْ : حساب لے گا تم لوگوں سے ] [بِہِ : اس کا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [فَـیَغْفِرُ : پھر وہ معاف کرے گا ] [لِمَنْ : اس کو جسے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [وَیُعَذِّبُ : اور وہ عذاب دے گا ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے ]
ترکیب :” مَا “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر ” مَوْجُوْدٌ“ محذوف ہے اور ” فِی السَّمٰوٰتِ “ قائم مقام خبر ہے۔ اسی طرح ” مَا فِی الْاَرْضِ “ ہے۔ یہ دونوں جملے مبتدأ مؤخر ہیں ‘ ان کی خبر ” مُلْکٌ“ محذوف ہے اور ان کی قائم مقام خبر ” لِلّٰہِ “ مقدم ہے۔ ” یُحَاسِبْـکُمْ “ جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور اس کا فاعل ” اَللّٰہُ “ ہے۔
Ayah 2:285[اٰمَنَ : ایمان لائے ] [الرَّسُوْلُ : یہ رسول ﷺ ] [بِمَآ : اس پر جو ] [اُنْزِلَ : نازل کیا گیا ] [اِلَـیْہِ : ان ؐ‘ کی طرف ] [مِنْ رَّبِّہٖ : ان ﷺ کے رب ( کی جانب) سے ] [وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [کُلٌّ : سب ] [اٰمَنَ : ایمان لائے ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَمَلٰٓئِکَتِہٖ : اور اس کے فرشتوں پر ] [وَکُتُبِہٖ : اور اس کی کتابوں پر ] [وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [لاَ نُفَرِّقُ : (وہ لوگ کہتے ہیں کہ) ہم فرق نہیں کرتے ] [بَیْنَ اَحَدٍ : کسی ایک کے مابین ] [مِّنْ رُّسُلِہٖ : اس کے رسولوں میں سے ] [وَقَالُوْا : اور ان لوگوں نے کہا ] [سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [وَاَطَعْنَا : اور ہم نے اطاعت کی ] [غُفْرَانَکَ : (ہم مانگتے ہیں) تیری مغفرت ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [وَاِلَـیْکَ : اور تیری طرف ہی ] [الْمَصِیْرُ : لوٹنا ہے ]
ترکیب :” اٰمَنَ “ کے فاعل ” اَلرَّسُوْلُ “ اور ” اَلْمُؤْمِنُوْنَ “ ہیں۔ ” اَلرَّسُوْلُ “ پر لام تعریف ہے۔ ” لاَ نُفَرِّقُ “ سے پہلے ” وَیَـقُوْلُوْنَ “ محذوف ہے ‘ جبکہ ” غُفْرَانَکَ “ سے پہلے ” نَسْئَلُ “ محذوف ہے۔
Ayah 2:286[لاَ یُکَلِّفُ : ذمہ دار نہیں بناتا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [نَفْسًا : کسی جان کو ] [اِلاَّ : مگر ] [وُسْعَہَا : اس کی اہلیت کو ] [لَہَا : اس کے لیے ہے ] [مَا : وہ (ثواب) جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَعَلَیْہَا : اور اس پر ہے ] [مَا : وہ ( گناہ) جو ] [اکْتَسَبَتْ : اس نے اہتمام سے کمایا ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [لاَ تُؤَاخِذْنَــآ : تو مت پکڑ ہم کو ] [اِنْ : اگر ] [نَّسِیْنَا : ہم بھول جائیں ] [اَوْ : یا ] [اَخْطَاْنَا : ہم چوک جائیں ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [وَلاَ تَحْمِلْ : اور تو مت ڈال ] [عَلَـیْـنَــآ : ہم پر ] [اِصْرًا : کوئی ذمہ داری ] [کَمَا : جس طرح ] [حَمَلْتَہٗ : تو نے ڈالا اس کو ] [عَلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں پر جو ] [مِنْ قَبْلِنَا : ہم سے پہلے تھے ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [وَلاَ تُحَمِّلْنَا : اور تو مت اٹھوا ہم سے ] [مَا : اس کو ] [لاَ طَاقَۃَ : کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں ہے ] [لَنَا : ہم میں ] [بِہٖ : جس کی ] [وَاعْفُ : اور تو درگزر کر ] [عَنَّا : ہم سے ] [وَاغْفِرْ : اور تو بخش دے ] [لَـنَا : ہم کو ] [ وَارْحَمْنَــآ : اور تو رحم کر ہم پر ] [اَنْتَ : تو ] [مَوْلٰٹنَا : ہماری بگڑی بنانے والا ہے ] [فَانْصُرْنَا : پس تو ہماری مدد کر ] [عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ : کافرقوم (کے مقابلے ) ]
ء ص ر
اَصَرَ (ض) اَصْرًا : کسی چیز میں گرہ لگانا۔
اِصْرًا (اسم ذات ) : (1) عہد و پیمان (2) ذمہ داری ‘ بوجھ۔ { قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْط } (آل عمران :81) ” اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) کہا کیا تم لوگوں نے اقرار کیا اور تم لوگوں نے پکڑا (یعنی قبول کیا) اس پر میرے عہد کو ؟ “
نوٹ (1) : نیکی کرنا انسانی فطرت کے مطابق ہے اس لیے اس کے لیے فعل ثلاثی مجرد سے ” کَسَبَتْ “ آیا ہے۔ جبکہ برائی کرنے کے لیے انسان کو اپنے ضمیر سے لڑنا پڑتا ہے ‘ اس لیے اس کا فعل باب افتعال سے ” اِکْتَسَبَتْ “ آیا ہے۔