2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:97

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

اِن سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبریل نے اللہ کے اِذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے

[ قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [ مَنْ كَانَ : جو ہے ] [ عَدُوًّا : دشمن ] [ لِّجِبْرِيْلَ : جبریل کا ] [ فَاِنَّهٗ : تو انہوں نے تو ] [ نَزَّلَهٗ : اتارا اس کو ] [ عَلٰي قَلْبِكَ : آپ کے دل پر ] [ بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت سے ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ : اس کے پہلے ہے ] [ وَھُدًى: اور ہدایت ہوتے ہوئے ] [ وَّبُشْرٰى: اور بشارت ہوتے ہوئے ] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لیے ] اللغۃ اس قطعہ میں کوئی نیا لفظ نہیں ہے ‘ ماسوائے ” جبریل “ اور ” میکٰل “ کے ‘ جو دو فرشتوں کے نام ہیں اور دراصل غیر عربی کلمات ہیں۔ باقی تمام کلمات بلا واسطہ (اسی شکل میں) یا بالواسطہ (مادہ اور اصل کے لحاظ سے) پہلے گزر چکے ہیں، لہٰذا ان کا صرف ترجمہ ---- اور طالب مزید کے لیے ---- لفظ کی لغوی تشریح کا گزشتہ حوالہ لکھ دیا جائے گا۔ اس کے لیے عبارت کو چند ادھورے جملوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ 2: 60: 1 (1) قُل مَنْ کَانَ عَدّوًّا لِّجِبْرِیْلَ … A ” قل “ (تو کہہ دے) جس کا مادہ ” ق و ل “ اور وزن اصلی ” اُفْعُلْ “ ہے، کے باب، معنیٰ اور ساخت میں تعلیل وغیرہ کے مفصل بیان کے لیے دیکھیے البقرہ : 8: [ 2:50:1 (2)] نیز [ 2:7:1 (5)] B ” مَنْ “ (جو کوئی - جو) دیکھیے البقرہ : 8 [ 2:7:1 (4)] C ” کَانَ “ (تھا - ہے) جس کا مادہ ” ک و ن “ اور وزن اصلی ” فَعَلَ “ ہے، کے معنیٰ ، باب اور ساخت کے لیے دیکھیے البقرہ :34 [ 2:25:1 (5)] D ” عَدّوًّا “ (دشمن) اس کا مادہ ” ع د و “ اور وزن ” فَعُولٌ“ ہے (جو عبارت میں منصوب آیا ہے) اس کے باب، فعل کے معنی اور لفظ کی ساخت وغیرہ پر بحث کے لیے دیکھیے البقرہ : 36 [ 2:26:1 (19)] ۔ ” لِجِبْرِیْلَ “ کی ابتدائی لام (الجر) یہاں مضاف کو نکرہ بنانے کے لیے استعمال ہوئی ہے، یعنی ” جبریل کا ایک دشمن “۔ عام اضافت ہوتی تو ” عَدُوًّا جِبْرِیلَ “ آتا۔ کلمہ ” جبریل “ ایک فرشتہ کے نام کے طور پر آیا ہے۔ عجمی لفظ اور عَلَم (نام) ہونے کے باعث یہ لفظ غیر منصرف ہے۔ کہا گیا ہے (تفاسیر میں) کہ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جو ” جبر “ (بمعنی عبد یا بندہ) اور ” اِبْل “ (بمعنی خدا) کا مرکب ہے اور یوں اس کا مطلب ” خدا کا بندہ “ ہے۔ مختلف قبائل عرب میں اس لفظ کا تلفظ کئی طرح بیان ہوا ہے، یعنی ” جِبْرِیْل ‘ جَبْرَئِیل ‘ جِبْرِیْن “ (بالنون) ” جَبْرِیْل “ اور ” جَبَرَئِل “ 1؎ وغیرہ۔ 1؎: دیکھیے اعراب القرآن للخاس 1: 250 ۔ و نثر المرجان 1: 190 ۔ یوں اس عبارت کا لفظی ترجمہ ہوا ” کہ دے جو کوئی ہے (” ہو “ یا ” ہوگا “۔ بوجہ شرط ماضی میں ترجمہ نہیں ہوگا) دشمن (مخالف) جبریل کا “۔ اردو محاورے کی وجہ سے نکرہ مضاف ” عَدّوًّا “ کا ترجمہ نظر انداز کرنا پڑتا ہے، در اصل تو تھا ” جبریل کا ایک دشمن “ ---- اسی لیے بعض نے اس کا ترجمہ ” جبریل سے عداوت رکھے “ کے ساتھ کیا ہے، جو لفظ سے تو ہٹ کر ہے، مگر ایک لحاظ سے اس میں وہ ” عَدّوًّا “ کے نکرہ ہونے والی بات کا مفہوم آگیا ہے، جو ” جبریل کا دشمن “ کہنے میں نہیں ہے۔ ” قُلْ “ کے مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں، اس لیے احتراماً اس کا ترجمہ ” تو کہہ دے “ کی بجائے آپ کہہ دیجیے : تم فرما دو “ سے بھی کیا گیا ہے۔ اس عبارت میں بیان شرط ہے۔ 2:60:1 (2) فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ … (اس عبارت سے پہلے سابقہ جملہ (نمبر 1 جو بیان شرط ہے) کا جواب شرط محذوف ہے ‘ یعنی ” فَلْیَمُتْ غَیظًا “ (پس مرجائے غصہ سے) یا ” فَلا مُوجِبَ لِعَدواتہٖ “ (پس اس کی دشمنی کی کوئی وجہ نہیں) وغیرہ۔ اسی لیے اردو کے بعض مترجمین نے اس حصہ آیت سے پہلے ” تو ہو کرے “ یا ” تو یہ اس کی بےوقوفی ہے اور دشمنی کی کوئی وجہ نہیں “ یا ” تو اسے غصے میں مرجانا چاہیے “ وغیرہ کے توضیحی اضافے کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ A ” فَاِنَّہٗ “ جو ” فَ + اِنَّ + ہٗ “ ہے یہ ” فَا “ (فَ ) معنی پس : سو، جواب شرط والی ” فا “ نہیں ہے (ورنہ آگے آنے والے صیغہ ماضی ” نَزَّلَ “ کا ترجمہ بھی (بوجہ جواب شرط) مستقبل میں کرنا پڑتا۔ لہٰذا یہ ” فا “ اس محذوف جواب شرط پر (جس کا اوپر ذکر ہوا ہے) عطف ہے ‘ یعنی اگلے جملے کا اس جواب شرط (محذوف) سے ربط پیدا کرتی ہے۔ باقی ” اِنَّہ “ (بےشک اس لیے) ” اِنَّ “ اور اس کے اسم (ضمیر منصوب) پر مشتمل ہے اور ضمیر ” ہُ “ کا مرجع ” جبریل “ ہے۔ B ” نَزَّلَہٗ “ (اس نے اسے اتارا) فعل ” نَزَّلَ یُنَزِّلُ “ (اتارنا ‘ نازل کرنا) کے معنی و استعمال پر البقرہ : 23 [ 2: 17: 1 (2)] میں بات ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ضمیر منصوب ” ہُ “ ہے، جس کا مرجع یہاں قرآن مجید ہے، جو اگرچہ اس سے پہلے عبارت میں مذکور نہیں ہوا۔ قرآن کریم کا اس طرح ذکر (بذریعہ ضمیر بغیر سابق ذکر) کئی جگہ آیا ہے اور یہ انداز بیان صاحب قرآن (ﷺ) کی عظمت و اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں مفہوم کو سمجھنے کے لیے صرف عربی گرامر کا جاننا کافی نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم کا مجموعی اسلوب اور انداز بیان سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ C ” عَلٰی قَلْبِکَ “ (تیرے دل پر) ” عَلٰی “ (حرف الجر) یہاں ” پر “ کے معنی میں ہے، دیگر استعمالات کے لیے [ 1:6:1 (3)] دیکھیے۔ آخری ضمیر مجرور ” کَ “ معنی ” تیرا ہے اور لفظ ” قَلْب “ (دل) کی مفصل لغوی بحث [ 2: 6: 1 (2)] میں ہوچکی ہے۔ D ” بِاِذْنِ اللّٰہِ “ (اللہ کے حکم سے) ۔ ” بَا “ (بِ ) کے استعمالات پر بحث استعاذہ میں اور البقرہ : 45 [ 2: 30: 1 (1)] میں گزری تھی۔ اسم جلالت ” اللّٰہ “ اور باء الجر ” بِ “ کے درمیان کلمہ ” اِذْن “ ہے ‘ جس کے مادہ فعل مجرد کے باب و معنی وغیرہ پر البقرہ : 19 [ 2: 14: 1 (9)] میں کلمہ ” اذَان “ (جمع اُذُن بمعنی کان) کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔ زیر مطالعہ کلمہ ” اِذْن “ ویسے تو ثلاثی مجرد فعل کا مصدر ہے مگر یہ بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے (یعنی ” اجازت دینا “ اور ” اجازت “ دونوں طرح) ۔ یہاں یہ لفظ در اصل تو ” اجازت “ ہی کے معنی میں تھا مگر یہ معنی ” حکم “ اس لیے لیا گیا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے قرآن اتارنے کی اجازت خود تو حاصل نہیں کی بلکہ اسے خود اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا ‘ اس لیے اس کا ترجمہ یہاں ” حکم “ ہی کیا گیا ہے۔ جبریل (علیہ السلام) فرشتے کا کام پیغمبروں تک اللہ کا کلام اور اس کے احکام پہنچانا ہے۔ ۔ یوں اس عبارت ” فانہ نزّلہ علی قلبک باذن اللّٰہ “ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ” پس بیشک اسی نے اتارا اس کو تیرے دل پر اللہ کی اجازت سے “۔ اکثر مترجمین نے یہاں ” اس کو “ (نَزَّلَہ کی ضمیر مفعول) کا وضاحتی ترجمہ بصورت ” یہ کلام ‘ یہ قرآن ‘ اس قرآن “ یہ کتاب “ وغیرہ سے کیا ہے۔ بعض نے ” نَزَّلَ “ کا ترجمہ ” پہنچا دیا ہے “ (قلب تک) اور ” ڈالا ہے “ (دل میں) سے کیا ہے، جو صرف محاورہ اور مفہوم کے لحاظ سے درست ہے، ورنہ اصل لفظ سے تو ہٹ کر ہے۔ ” باِذن اللّٰہ “ کے لفظ معنی اور ترجمہ (حکم) کی مناسبت پر ابھی اوپر بات ہوئی ہے۔ 2: 60: 1 (3) مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ ھُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ یہ عبارت کوئی مستقل جملہ نہیں بلکہ یہ سابقہ جملہ کے ” نزِّلہ “ کی ضمیر مفعول (جس سے مراد قرآن کریم ہے) کا ” حال “ ہو کر اسی جملے (نمبر 2 بالا) کا ہی حصہ ہیں۔ کلمات کا ترجمہ (اور مزید کے طالب کے لیے) گزشتہ حوالہ درج ذیل ہے۔ A ” مُصَدِّقًا لِّمَا “ (سچا کہنے ولا اس کو جو) یعنی ” تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے اس کی جو “ ---- یہی ترکیب اس سے پہلے البقرہ : 41 [ 2: 28: 1 (9)] میں گزر چکی ہے ‘ جس میں ” مصدِّق “ اور ” لِ “ اور ” مَا “ سب کی وضاحت ہوئی تھی۔ B ” بَیْنَ یَدَیْہِ “ (اس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان، یعنی اس کے آگے، اس کے پہلے، اپنے سے قبل) ۔ لفظ ” یَد “ (ہاتھ) کی لغوی وضاحت کے علاوہ قریباً یہی ترکیب ” بَیْنَ یَدَیْھَا “ کی صورت میں البقرہ : 66 [ 2: 46: 1 (6)] میں گزری ہے۔ وہاں آخر پر واحد مؤنث ضمیر مجرور ” ھا “ تھی، یہاں واحد مذکر ضمیر مجرور ” ہ “ ہے۔ C ” وَ ھُدًی “ (اور ہدایت، رہنمائی ہوتے ہوئے) لفظ ” ھُدًی “ کی مفصل لغوی تشریح کے لیے دیکھ لیجیے البقرہ : 2 [ 2:1:1 (6)] اور اس کے مادہ اور اس سے فعل مجرد وغیرہ کی بات الفاتحہ : 6 [ 1: 5: 1 (1)] میں گزری تھی۔ D ” وَ بُشْرٰی “ (اور خوشخبری ہوتے ہوئے) کلمہ ” بُشْرٰی “ (بمعنی خوشخبری) کے مادہ (ب ش ر) سے فعل مجرد وغیرہ کی بحث البقرہ : 25 [ 2:18:1 (1)] میں گزری تھی۔ اس مادہ سے ماخوذ یہ لفظ (بشری) معرفہ، نکرہ، مفرد، مرکب صورتوں میں قرآن حکیم کے اندر 15 جگہ وارد ہوا ہے۔ لفظ ” بِشَارَۃ “ (اردو میں ” بشارت “ ) بھی اس کے ہم معنی ہے۔ ۔ ” لِلْمُؤْمِنِیْنَ “ (ایمان لانے والوں کے لیے) ۔ کلمہ ” مُؤْمِن “ (جس کی جمع مجرور ” مُؤْمِنِیْن “ یہاں آئی ہے) کے مادہ ” أمن “ سے باب افعال ” آمَنَ یُؤمِنُ “ کے معنی وغیرہ پر البقرہ : 3 [ 2:2:1 (1)] میں بات ہوچکی ہے۔ یہ (مؤمن) اس فعل سے صیغہ اسم الفاعل ہے جس کی جمع سالم مجرور ” مُؤمِنین “ کے معنی ” ایمان لانے والے “ ہے۔ ۔ یوں اس عبارت کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ” سچا کہنے والا ہوتے ہوئے اس کو جو اس کے دونوں ہاتھوں کے آگے (سامنے) ہے اور ہدایت ہوتے ہوئے اور خوشخبری ہوتے ہوئے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ اردو محاورے میں اس طرح ” حال “ کا ترجمہ فٹ نہیں بیٹھتا اس لیے اسے کم از کم ” اور حالت یہ ہے کہ وہ (قرآن) اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والا اور ہدایت اور خوشخبری ہے اہل ایمان کے لیے “ کرنا پڑا۔ بہت سے مترجمین نے ” مُصَدِّق “ اسم الفاعل کا ترجمہ فعل ” یُصَدِّقُ “ کے ساتھ کرلیا ہے۔ یعنی ” تصدیق کررہا ہے “ اور ” سچ بتاتا ہے “ اور ” تصدیق کرتا ہے “ اور بعض نے ” حال “ یا ” حالت یہ ہے “ کی بجائے صرف خبر کی طرح ترجمہ کردیا ہے۔ یہ سب اردو محاورے کے باعث کرنا پڑا ہے، کیونکہ عربی کے ” حال “ ہونے والی ترکیب اردو عبارت کی ساخت میں غیر مانوس لگتی ہے، لہٰذا اسے ” خبر “ یا ” صفت “ کے طور پر بیان کرنا پڑتا ہے۔
Ayah 2:98

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

(اگر جبریل سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے، تو کہہ دو کہ) جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے

[ مَنْ كَانَ : جو ہے ] [ عَدُوًّا : دشمن ] [ لِّلّٰهِ : اللہ کا ] [ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ : اور اس کے فرشتوں کا ] [ وَرُسُلِهٖ : اور اس کے رسولوں کا ] [ وَجِبْرِيْلَ : اور جبریل کا ] [ وَمِيْكٰىلَ : اور میکائیل کا ] [ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ] [ عَدُوٌّ: دشمن ہے ] [ لِّلْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں کا ] 2:60:1 (4) مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ رُسُلُہٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکٰلَ یہ بھی مکمل جملہ نہیں بلکہ اس میں صرف بیان شرط ہے ‘ جواب شرط اس سے اگلے جملے میں ہے۔ مفردات کا الگ الگ ترجمہ مع گزشتہ حوالہ (برائے ضرورت مند) درج ذیل ہے : A ” مَنْ “ (جو کوئی بھی ‘ جو) یہاں موصولہ شرطیہ ہے [ 2: 7: 1 (4)] B ” کَانَ “ (ہے ‘ ہوگا) دیکھیے اوپر شروع آیت ” قُلْ مَنْ کَانَ …“ C ” عَدُوًّا لِّلّٰہِ “ (اللہ کا دشمن ‘ اللہ سے عداوت رکھنے والا) یہی الفاظ اوپر گزرے ہیں۔ وہاں ” عَدُوًّا “ کے بعد ” لِجِبْرِیلَ “ تھا یہاں ” لِلّٰہِ “ ہے۔ D ” وَ مَلٰئِکَتِہٖ “ (اور اس کے فرشتوں کا (دشمن) ۔ لفظ ” مَلائِکۃ “ کے مادہ اور اشتقاق کی مفصل بحث البقرہ : 3 [ 2:21:1 (2)] میں گزر چکی ہے ‘ یہاں ضمیر مجرور (ہ) اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ‘ یعنی ” لِلّٰہِ وَ لِمَلٰئِکتہٖ “ مراد ہے۔ E ” وَ رُسُلِہٖ “ (اور اس کے رسولوں کا (دشمن) ۔ ” وَ “ (اور) اور آخری ضمیر (ہ) بمعنی ” اس کے “ کو چھوڑ کر باقی لفظ ” رُسُل “ ہے ‘ جو ” رَسُول “ (پیغمبر) کی جمع ہے۔ اس مادہ (ر س ل) کے فعل مجرد کی بحث کے علاوہ (جو قرآن میں استعمال نہیں ہوا) اور خود لفظ ” الرسل “ (جو اس کی معرف باللام شکل ہے) پر البقرہ : 87 [ 2: 53: 1 (1 و 4)] میں بات ہوئی تھی۔ F ” وَ جِبْرِیْلَ “ (اور جبریل کا) اس پر ابھی اوپر بات ہوئی ہے۔ G ” وَ مِیْکٰلَ “ (اور میکائیل کا) لفظ ” میکٰل “ خاص قرآنی رسم ہے، اردو میں یہ ” میکائیل “ استعمال ہوا ہے۔ ” جبریل “ کی طرح یہ بھی ایک فرشتہ کا نام ہے اور یہ بھی در اصل عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی بھی ” خدا کا معمولی بندہ “ بتائے جاتے ہیں اور اس نام کو بھی اہل عرب چار طرح بولتے ہیں یعنی ” میکال “ (اہل حجاز کی بولی میں) اور میکائِل اور ” میکایِل “ اور ” میکا أَل “ 1؎ 1؎: اعراب القرآن للخاص 1: 25 ۔ نیز نثر المرجان 1: 191 M یوں اس زیر مطالعہ عبارت کا ترجمہ لفظی بنتا ہے ” جو کوئی بھی ہو (گا) دشمن (دشمنی رکھے گا) اللہ کے لیے اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل اور میکائیل (فرشتوں) کا …“ اور اسے سلیس بنانے کے لیے اردو فقرے کی ترتیب الفاظ میں کچھ ردوبدل کرلیا جاتا ہے۔ H ” فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِریْنَ “ یہاں ابتدائی ” فَا “ جوابِ شرط والی ہے کیونکہ اس کے بعد جملہ اسمیہ آیا ہے۔ یہاں (سابقہ آیت کی طرح) کسی محذوف جواب شرط کی ضرورت نہیں۔ عبارت کے تمام الفاظ بہت آسان اور پہلے کئی بار گزر چکے ہیں۔ بلکہ ان میں سے ” فا “ (فَ ) (پس) ‘ ” اِنَّ “ (بےشک) اور ” عَدُوّ “ (دشمن) تو اسی قطعہ میں گزرے ہیں اور ” الکٰفِرین “ --- جو ” کفَر یکفُر “ سے اسم الفاعلین (مجرور بلام الجر) ہے ---- اس پر تفصیلی بات البقرہ : 19 [ 2: 14: 1 (14)] میں ہوئی تھی، بلکہ یہ لفظ تو اردو میں اتنا عام ہے کہ تمام مترجمین نے اس کا ترجمہ ہی ” کافروں “ رہنے دیا ہے۔ ۔ اس عبارت کا لفظی ترجمہ تو ہے : ” پس بیشک اللہ دشمن ہے کافروں کے لیے “ چونکہ ” الکافِرین “ کا لام تعریف یہاں عہد کا ہوسکتا ہے، یعنی وہ کافر جن کی بات ہو رہی ہے، اس لیے بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ ” ایسے کافروں کا “ اور بعض نے ” ان کافروں کا “ سے کیا ہے۔ اسی طرح جوابِ شرط پر ” اِنَّ “ آنے کے زور کو بعض نے ترجمہ میں ” اللہ بھی (دشمن ہے) “ کی صورت میں ظاہر کیا ہے۔ ۔ اس قطعہ میں جبریل، میکائیل کا ذکر آنے کی وجہ سے، ان فرشتوں کے بارے میں مزید وضاحت اور آیت میں ان سے جس دشمنی کا ذکر ہے اس کا پس منظر یعنی آیت کا شان نزول جاننے کے لیے کسی اچھی اور مستند تفسیر کو دیکھ لیجیے۔ کیونکہ یہ بات تو آیت کے ترجمہ سے ہی معلوم ہوجاتی ہے کہ اس میں بیان کردہ بات کا کوئی خاص پس منظر ہے۔ وہ کیا ہے ؟ اس کا جواب تفاسیر میں ملتا ہے۔ 2:60:2 الاعراب زیر مطالعہ دونوں آیات بلحاظِ ترکیب نحوی دو شرطیہ جملوں پر مشتمل ہیں۔ ہر ایک آیت ایک بیان شرط اور ایک جواب شرط پر مشتمل ہے۔ تاہم طوالت کی بنا پر ہم ہر ایک آیت کے اجزاء کو الگ الگ بیان کریں گے۔ A قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ … [ قُلْ ] فعل امر معروف مع ضمیر الفاعل ” اَنْتَ “ ہے اور ” قُلْ “ کے بعد آنے والی عبارت اس ” قُلْ “ کا مقول (کہی گئی بات) ہو کر مفعول ‘ لہٰذا محلاً منصوب سمجھی جائے گی۔ [ مَنْ ] اسم موصول یہاں بطور اسم شرط آیا ہے۔ [ کَانَ ] فعل ناقص ماضی صیغہ واحد مذکر غائب ہے، جس میں اس کا اسم ” ھُوَ “ موجود ہے، جو ” مَنْ “ کے لیے ہے [ عَدُوًّا ] کَانَ کی خبر (لہٰذا) منصوب ہے۔ [ لِجِبْرِیلَ ] لام الجر اور اس کا مجرور ” جِبِرْیلَ “ مل کر متعلق خبر ” کَانَ “ ہیں۔ اس ” جِبریل “ میں علامت جر ” ل “ کی فتحہ (-َ ) ہے کیونکہ لفظ ” جِبریل “ بوجہ عجمیت اور عَلَمیت غیر منصرف ہے۔ یہاں تک بیان شرط مکمل ہوتا ہے۔ D فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ ھُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ [ فَ ] بظاہر جواب شرط کی ہے ‘ لیکن اگر یوں سمجھا جائے تو اگلے فعل ” نَزَّلَ “ کا ترجمہ ” اتارے گا “ ہونا چاہیے ‘ کیونکہ شرط اور اس کے جواب کا تعلق زمانہ مستقبل سے ہوتا ہے ‘ شرط ماضی پر نہیں ہوتی۔ اس لیے نحیوں نے یہاں اصل جواب شرط محذوف مانا ہے ‘ جیسا کہ اوپر حصہ ” اللغۃ “ میں مع اضافی ترجمہ بیان ہوا ---- تاہم یہ ایک فنی سی وجہ ہے۔ بلحاظ معنی اس (زیر مطالعہ) عبارت کو بھی جواب شرط قرار دینا چنداں غلط بھی نہیں ہوگا۔ یوں [ فَاِنَّہٗٗ ] فَا برائے رابطہ یا عاطفہ ہے اور ” اِنَّہٗ “ حرفِ مشبہ بالفعل ” اِنَّ “ اور اس کے اسم منصوب (ضمیر ” ہ “ ) پر مشتمل ہے ‘ جس کی خبر [ نَزَّلَہٗ ] ہے جو فعل ماضی معروف ” نَزَّلَ “ اور اس کے مفعول بہ (ضمیر منصوب) ” ہ “ پر مشتمل ہے۔ [ عَلٰی قَلْبِکَ ] میں ” عَلٰی “ حرف الجر اور ” قَلْبِکَ “ مضاف و مضاف الیہ [ قَلْب + کَ ] مل کر مجرور ہے اور یہ مرکب جاری متعلق فعل (نزَّل) ہے۔ اسی طرح [ بِاِذْنِ اللّٰہ ] بھی حرف الجر (بِ ) اور مرکب اضافی ” اذنِ اللّٰہ “ مجرور پر مشتمل ہے اور یہ مرکب جاری ” باذن اللہ “ بھی دوسرا متعلق فعل ہے۔ ان دونوں تراکیب (عَلٰی قلبک اور ” باذن اللّٰہ “ ) میں مضاف کلمہ ” قلب “ اور ” اذن “ مجرور بالجر اور بوجہ مضاف ہونے کے خفیف بھی آئے ہیں۔ یہاں تک ویسے تو جملہ مکمل ہوجاتا ہے مگر ” نزّلہ “ کی ضمیر مفعول کا مرجع (قرآن) چونکہ پہلے مذکور نہیں اس لیے اس سے اگلی عبارت میں اس (قرآن) کے پہ در پے تین ” حال “ لائے گئے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ بات قرآن کریم کی ہو رہی ہے، کیونکہ یہ ” حال “ (یا صفات) صرف قرآن کریم ہی پر منطبق ہوسکتے ہیں۔ چناچہ [ مُصَدِّقًا ] پہلا حال ہے، یعنی حالت یہ ہے کہ وہ (قرآن) تو تصدیق کرنے والا ہے [ لِمَا ] لام الجر اور ” مَا “ موصولہ ہے۔ [ بَیْنَ یَدَیْہِ ] میں ” بَیْنَ “ ظرف مضاف اور ” یَدَیْہِ “ خود مرکب اضافی (یَدَی مضاف + ” ہ “ مضاف الیہ) اس ظرف کی طرف مضاف ہے، اسی لیے ” یَدَیْ “ مجرور (یعنی ” یَد “ کا تثنیہ مجرور) ہے۔ یہاں علامتِ جر ” یا “ ما قبل مفتوح (-َ یْ ) ہے۔ اور یہ سارا مرکب اضافی ” بَیْنَ یَدَیْہِ “ اسم موصول ” مَا “ کا صلہ ہے اور پھر یہ صلہ موصول مجرور (بلام الجر) ہیں اور یہ مرکب جاری (لِمَا بین یدیہ ) ” مصدّقًا “ سے متعلق ہیں۔ یعنی اس کے معنی فعل (تصدیق کرنا) سے متعلق ہیں، کہ کس کی تصدیق کرتا ہے ؟ کا جواب اس میں موجود ہے اور ایک طرح سے یہ فعل ” تصدیق کرنا “ کے مفعول (بلاحظ معنی) ہیں۔ اسی طرح [ وَھُدًی ] میں ” ھُدًی “ بھی حال ہونے کی وجہ سے اور سابقہ منصوب حال (مصدّقًا) پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ علامت نصب بظاہر تنوین نصب (-ً ) ہے مگر در اصل یہ لفظ (ھُدًی) بھی مقصور ہوتا ہے، اس میں رفع نصب جر کی ظاہر کوئی علامت نہیں ہوتی۔ اور اسی طرح [ بُشْرٰی ] بھی حال ہونے اور سابقہ حال پر عطف ہونے کے باعث منصوب ہے۔ یہ بھی اسم مقصور ہے جس میں اعرابی حالت ظاہر نہیں ہوتی۔ ” لِلمُومنِین “ جار مجرور مل کر متعلق حال (بُشرٰی) ہیں، یعنی جس طرح ” لِما بین یدیہ “ ، ” مصدّقًا “ سے متعلق تھا اسی طرح ” لِلمُؤمنین “ کا تعلق ” بشرٰی “ سے ہے، یعنی یہ اس ” بشرٰی “ کی وضاحت ہے کہ کس کے لیے ؟ یوں یہ زیر مطالعہ پوری عبارت ایک جواب شرط کی وضاحت ہے۔ C مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ رُسُلُہٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکٰلَ اس کی ترکیب سابقہ جملے کی سی ہے۔ یعنی [ مَن ] اسم شرط (موصول) ہے، [ کَانَ ] فعل ناقص مع اسم (ھُوَ ) ہے، [ عدوًّا ] اس (کَانَ ) کی خبر منصوب، [ لِلّٰہ ] جار مجرور متعلق خبر کان (عدوًّا) ہے، یعنی کس کا دشمن ؟ کی وضاحت ہے۔ [ و ملٰئکتِہ ] میں واو عاطفہ ہے ” ملائکتِہ “ مرکب اضافی مجرور بالعطف ہے۔ اسی طرح (ورُسلِہ) بھی واو العطف اور معطوف مجرور ” رُسُلہ “ پر مشتمل ہے، جس میں ” رسُلہ “ بھی مرکب اضافی ہے اور آگے [ و جبریل ] اور [ و میکٰل ] بھی ہر ایک واو العطف کے ذریعے ” للّٰہ “ پر عطف ہو کر مجرور ہیں۔ ” جبریل “ اور ” میکال “ غیر منصرف ہیں، اس لیے ان پر علامت جر ” ل “ کی فتحہ (-َ ) ہی ہے۔ اتنا حصہ عبارت بیان شرط ہے، آگے جواب، شرط آ رہا ہے۔ D فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ [ فَا ] برائے رابطہ ہے جو جواب شرط پر آتی ہے ‘ [ اِنَّ ] حرفِ مشبہ بالفعل اور [ اللّٰہ ] اس کا اسم منصوب ہے، [ عدو ] اس ” اِنَّ “ کی خبر (لہٰذا) مرفوع ہے اور [ للکفرین ] جار مجرور (لام الجر + الکافرین مجرور) مل کر متعلق خبر ” اِنَّ “ (یعنی ” عدو “ کی وضاحت) ہیں۔ 2:60:3 الرسم بلحاظ رسم قرآنی اس قطعہ میں صرف تین کلمات قابل ذکر ہیں ‘ یعنی میکٰل ‘ ملئکتہ اور للکفرین۔ تفصیل یوں ہے : A ” میکٰل “ جس کا تلفظ قراءت ِ حفص کے مطابق ” میکال “ (مطابق رسم املائی) ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ (جو یہاں ایک جگہ ہی آیا ہے) ” کاف “ کے بعد ” الف “ کے حذف ‘ مگر ” ی “ کے نبرہ (دندانہ) کے اضافہ کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ چونکہ اس لفظ کی بعض دوسری قراء ات بھی ہیں ‘ لہٰذا اس کا یہ عثمانی رسم الخط ان قراءتوں کا محتمل بھی ہے مثلاً قانون کی قراءت میں یہ ” مِیْکٰئِل “ (میکائل) پڑھتے ہیں تو وہ نبرہ (دندانہ) کو ہمزہ کا نبرہ (جو ” ی “ کے نبرہ کی طرح ہوگا) سمجھ کر ضبط اس کے مطابق کرلیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس ” ی “ کے نبرہ کو ” الف بصورت یائ “ (موسیٰ کی طرح) سمجھ لیا جاتا ہے۔ B ” لملئکتہ “ کے کلمہ ” ملئکۃ “ (جس کی عام املاء ” ملائکۃ “ ہے) قرآن کریم میں یہاں اور ہر جگہ ” بحذف الالف بعد اللام “ لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے [ 2: 21: 3] میں اس کلمہ کے رسم کی بحث۔ C ” للکفرین “ جس کی رسم املائی ” للکافرین “ ہے۔ یہ لفظ (کفرین) یہاں اور ہر جگہ ” بحذف الالف بعد الکاف “ لکھا جاتا ہے۔ بلکہ جمع مذکر سالم عموماً ہر جگہ بحذفِ الف ہی لکھا جاتا ہے۔ مزید بحث کے لیے دیکھیے [ 2: 14: 3] ۔ 2:60:4 الضبط اس قطعہ کے بعض کلمات کا ضبط خصوصاً دلچسپ ہے۔ ذیل کے نمونوں سے ضبط کا یہ تنوع سمجھا جاسکتا ہے۔ جہاں صرف حرکات کی شکل کا فرق ہے (-َ -ِ -ُ / -َ -ِ -) اسے دوبارہ نہیں لکھا گیا۔
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کر نے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں، جو فاسق ہیں

[ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ : اور بیشک ہم نے اتارا ہے ] [ اِلَيْكَ : آپ کی طرف ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ : کھلی نشانیوں کو ] [ وَمَا يَكْفُرُ : ار انکار نہیں کرتے ] [ بِهَآ : اس کا ] [ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ : مگر نافرمانی کرنے والے ] اللّغۃ اس قطعہ میں بھی بالکل نئے (بلحاظِ مادہ) صرف دو ہی لفظ آئے ہیں لہٰذا اسے ہم چھوٹے جملوں کی صورت میں لکھ کر ہر ایک کے مفردات کا صرف ترجمہ (مع گزشتہ حوالہ برائے طالب مزید) لکھتے جائیں گے۔ نئے کلمات کی وضاحت اپنے مقام پر آجائے گی۔ نمبر حوالہ صرف اسی جملے کا دیا جائے گا جس میں کوئی نیا لفظ آئے گا۔ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ A ” وَ لَقَدْ “ (اور ضرور بالتحقیق) ۔ ” لقد “ کے لام مفتوحہ پر البقرہ : 64 [ 2: 41: 1 (6)] میں اور ” قد “ (حرف تحقیق) کے معنی و استعمال پر البقرہ : 60 [ 2: 38: 1 (8)] میں بحث ہوچکی ہے۔ B ” اَنْزَلْنَا “ (ہم نے اتارا - نازل کیا) جو ” ن ز ل “ سے باب افعال کا صیغہ ماضی ہے ‘ اس باب سے اسی فعل کے معنی و طریق استعمال پر البقرہ : 4 [ 2: 3: 1 (2)] میں کلمہ ” اُنْزِلَ “ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔ C ” اِلَیْکَ “ (تیری طرف) یہی مرکب جاری [ 2: 3: 1 (4)] میں گزرا ہے۔ D ” اٰیَات “ (آیات - احکام - نشانیاں) جو ” آیۃ “ کی جم ہے۔ اس کے مادہ (ا ی ی) اور فعل وغیرہ نیز اس کلمہ کے معانی پر البقرہ : 39 [ 2: 27: 1 (7)] میں کلمہ ” آیاتنا “ کے سلسلے میں مکمل بحث ہوچکی ہے۔ ۔ ” بَیِّنَات “ (کھلی کھلی - واضح - روشن) جو ” بیِّنۃ “ کی جمع ہے اس کے مادہ (ب ی ن) اور فعل مجرور وغیرہ پر البقرہ : 6 [ 2:43: 1 (6)] میں اور خود اسی لفظ (بینات) پر [ 2: 53: 1 (3)] میں بحث ہوچکی ہے۔ ۔ اس طرح اس حصہ آیت کا ترجمہ لفظی بنتا ہے ” اور البتہ تحقیق اتاریں ہم نے تیری طرف نشانیاں ظاہر۔ واضح “ …اردو محاورے کی رعایت سے اکثر مترجمین نے ” لقد “ کے ” لام “ اور ” قد “ کا الگ الگ ترجمہ نہیں کیا۔ اس کی بجائے مجموعی ترجمہ ” بالیقین “ یا ” بیشک “ کی صورت میں کردیا ہے۔ بلکہ اکثر نے اس کا ترجمہ ہی نظر انداز کردیا ہے۔ اس کی بجائے فعل ” انزلنا “ کا ترجمہ ماضی قریب کامل کے ساتھ ” اُتارے ہیں “ ، ” نازل کیے ہیں “ کی صورت میں کرلیا ہے (جس میں ایک طرح سے تاکید کا مفہوم آجاتا ہے) جب کہ بیشتر نے یہ بھی نہیں کیا بلکہ صرف ماضی مطلق کے ساتھ ترجمہ کردیا ہے۔ جو ایک لحاظ سے درست نہیں۔ ” آیات “ کا ترجمہ یہاں سیاق وسباق کی مناسبت سے ” آیتیں “ ہی کیا گیا ہے، اگرچہ بعض نے لفظی ترجمہ ” نشانیاں “ اور ” نشان “ کیا ہے۔ اسی طرح ” بَیِّنات “ کا ترجمہ ” ظاہر، واضح، روشن، کھلی، سلجھی ہوئی “ کیا ہے۔ سب کا مفہوم ایک ہے۔ بعض نے ” آیات بینات “ کا مجموعی ترجمہ ” دلائل واضح “ کیا ہے جو اصل سے کم مشکل نہیں ہے۔ وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلاَّ الْفٰسِقُوْنَ A ” وَمَا “ (اور نہیں) ” ما “ یہاں نافی ہے، دیکھیے [ 2:2:1 (5)] B ” یَکْفُرُ “ (انکار کرتا ہے ” کفر کرتے ہیں “ بوجہ آگے فاعل کے جمع آنے کے) اس فعل کے مادہ، معنی اور استعمال کے لیے دیکھیے البقرہ : 6 [ 2:5:1 (1)] C ” بِھَا “ (ان کا۔ اس کا ” ھا “ آیات کے لیے ہے اس لیے ترجمہ جمع میں ہوگا) ” بِ “ فعل ” کفر “ کے مفعول پر آنے والا صلہ ہے جس پر [ 2: 5: 1 (1)] میں بات ہوئی تھی۔ D ” اَلاَّ “ (سوائے۔ مگر) اس حرف استثناء پر البقرہ : 26 [ 2: 19: 1 (11)] میں مختصراً بات ہوئی تھی۔ مزید بات آگے ” الاعراب “ میں بھی ہوگی۔ ۔ ” الفَاسِقُون “ (نا فرمان لوگ) اس کے مادہ ”س ق “ اور فعل کے باب و معنی پر بلکہ خود اسی لفظ پر بات البقرہ : 26 [ 2: 19: 1 (11)] میں ہوئی تھی۔ ۔ یوں اس حصہ آیت کا لفظی ترجمہ بنتا ہے : ” اور نہیں کفر کرتے : انکار کرتے ان کا مگر نافرمان لوگ “ … ” مَا “ (نہیں) اور ” اِلاَّ “ (مگر) کے جمع ہونے کی وجہ سے اردو ترجمہ ” مگر صرف وہی جو، مگر وہی جو، صرف وہی لوگ جو “ کی صورت میں کیا جاسکتا ہے۔ ” وایکفر بھا “ کے ترجمہ میں ” منکر نہ ہوں گے ان سے “ اور ” نہ انکار کریں گے ان کا “ (بصیغہ مستقبل) کی بھی گنجائش موجود ہے۔ بعض نے ” الا “ اور ” ما “ کے جمع ہونے کے باعث اردو محاورے کے لیے فعل کا نفی میں ترجمہ کرنے کی بجائے فعل مثبت کے ساتھ (مگر صرف وہی لگا کر) ترجمہ کیا ہے یعنی ” ان سے انکار صرف وہی کرتے ہیں “ کی صورت میں۔ بعض نے ” وما یکفر “ کا ترجمہ ” کوئی انکار نہیں کرتا یا کوئی بھی انکار نہیں کرتا “ سے کیا ہے۔ گویا ” ما یکفر “ کی نفی کی وجہ سے ایک محذوف فاعل ” احد “ فرض کرلیا گیا ہے۔ یہ تمام عمدہ تراجم ہیں۔ ” الفاسقون “ کا ترجمہ بعض نے ” فاسق لوگ “ ہی رہنے دیا ہے، بعض نے ” عدول حکمی کے عادی “ اور ” بےحکم “ کیا ہے اور بعض نے ” بدکار “ اور ” بد کردار “ بھی کردیا ہے۔ شاید اس وجہ سے کہ اردو میں ” فسق و فجور “ عموماً اکٹھا استعمال ہوتے ہیں۔ ” بدکاری “ اصل میں ” فجور “ کا ترجمہ ہے ” فسق “ کا نہیں۔
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا، تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور ہی بالا ئے طاق رکھ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں، جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے

[ اَوَ : اور کیا (ایسا نہیں ہے کہ ) ] [ كُلَّمَ : جب کبھی ] [ ا عٰھَدُوْا : ان لوگوں نے معاہدہ کیا ] [ عَهْدًا : جیسا عہد کرنے کا حق ہے ] [ نَّبَذَهٗ : تو پھینکا اس کو ] [ فَرِيْقٌ: ایک فریق نے ] [ مِّنْھُمْ ۭ : ان میں سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَكْثَرُھُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] اَوَکُلَّمَا عٰہَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْہُم اس میں ” عاھَدوا “ اور ” نبذ “ نئے لفظ ہیں۔ A ” اَوَ “ (اور کیا ؟ کیا ؟ کیا یہ ہے کہ۔ آیا ؟ ) بیان ہوچکا ہے کہ جب ” و “ یا ”“ کے ساتھ حرف استفہام (ا) لگے تو وہ ان سے پہلے آتا ہے یعنی ” اَوَ “ یا ” اَفَ “ کہتے ہیں اور اگر دوسرا کلمہ استفہام (ھَلْ ) لگے تو وہ بعد میں لگتا ہے ‘ مثلاً کہیں گے ” وَھَلْ “ یا ” فَھَلْ “ … قرآن کریم میں دونوں استعمالات آئے ہیں۔ B ” کُلَّمَا “ (جب بھی۔ جب کبھی بھی۔ جب جب۔ جس بار) جو ” کُلَّ “ اور ” مَا “ (ظرفیہ) کا مرکب ہے، اس پر البقرہ : 20 [ 2:15:1 (3)] میں بات ہوئی تھی۔ C ” عَاھَدُوا “ کا مادہ ” ع ھ د “ اور وزن ” فَاعَلُوا “ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے باب وغیرہ پر البقرہ : 27 [ 2:19:1 (13)] میں کلمہ ” عھد “ کے سلسلے میں بات ہوئی تھی۔ یہ کلمہ (عاھدوا) اس مادہ سے باب مفاعلہ کے فعل ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ” عَاھَدَ … یُعَاھِدُ مُعَاھَدَۃً “ کے معنی ہوتے ہیں ”… کو عہد یا قرار دینا، … سے عہد یا قرار باندھنا۔ “ عہد دینے والا ” مُعَاھِد “ اور جس سے عہد کیا جائے ” مُعَاھَد “ (بصیغہ مفعول) کہلاتا ہے اور اسی کو حدیث میں ” ذُو عھدٍ “ بھی کہا گیا ہے۔ ۔ بنیادی طور پر یہ فعل متعدی ہے اور اس کا مفہول بنفسہٖ آتا ہے اور جس بات پر عہد کیا جاتا ہے اس پر ” عَلٰی “ کا صلہ آئے گا، جیسے ” رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ “ (الاحزاب : 23) میں ہے۔ یعنی ” ایسے مرد جنہوں نے سچا کر دکھایا اس کو جس پر انہوں نے اللہ سے عہد باندھا تھا۔ “ کبھی اس کا مفعول بلکہ جس بات پر عہد کیا جائے دونوں ہی محذوف کردیئے جاتے ہیں، جیسے اسی زیر مطالعہ آیت میں نہ تو یہ مذکور ہے کہ کس سے عہد باندھا ؟ اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ کس بات پر عہد باندھا ؟ یہ چیزیں سیاق عبارت سے سمجھی جاسکتی ہیں ‘ مثلاً ” اللہ سے عہد باندھا “ اور دین پر عمل کرنے کا عہد باندھا وغیرہ۔ ۔ قرآن کریم میں باب مفاعلہ کے اس فعل کے مختلف صیغے گیارہ جگہ آئے ہیں، ان میں سے صرف چار جگہ مفعول مذکور ہوا ہے اور اس کے ساتھ ” عَلٰی “ کا استعمال بھی صرف دو جگہ آیا ہے … (عَاھَدُوا ۔ ” انہوں نے عہد باندھا “ ) ۔ D ” عَھْدًا “ (عہد۔ قرار) اس پر بحث کے لیے دیکھیے البقرہ : 27 [ 2: 19: 1 (13)] ۔ ۔ ” نَبَذَہٗ “ … آخری ضمیر منصوب (ہ) کا ترجمہ تو یہاں ” اس کو “ ہے اور باقی فعل ماضی کا صیغہ (نبَذ) ہے جس کا مادہ ” ن ب ذ “ اور وزن ” فَعَلَ “ ہے۔ یہ فعل مجرد ” نبَذ … یَنبِذُ نَبْذًا “ (ضرب سے) آتا ہے اور اس کے بنیادی معنی ہیں : ”… (کسی چیز) کو ناقابل توجہ سمجھ کر پرے پھینک دینا “۔ مثلاً کہتے ہیں ” نبَذ النَعلَ الخَلِقَ “ (اس نے پرانا جوتا پھینک دیا) پھر اسی سے اس میں ” عہد تو دینا “ یا ” کسی معاملے کو ٹال دینا اور اس پر عمل نہ کرنا “ کے معنی پیدا ہوتے ہیں، مثلاً کہتے ہیں ” نبَذ العھدَ “ (عہد پھینک دیا یعنی توڑ دیا) اور ” نبَذ الامرَ “ (اس نے بات پر عمل نہ کیا) … اس کے علاوہ یہ فعل بعض اور معانی مثلاً ” دل کا دھڑکنا “ (بنَذ قلبُہٗ ) اور ” کھجور کا نبیذ “ (ایک مشروب) بن جانا (نبَذ التمرُ ) کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ۔ تاہم قرآن کریم میں یہ فعل صرف پہلے معنی (پھینک دینا۔ اور نظر انداز کرنا) کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ البتہ بعض جگہ اس کا مفعول محذوف ہوا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے ماضی، مضارع (معروف، مجہول) اور فعل امر وغیرہ کے مختلف صیغے دس جگہ آئے ہیں اور مزید فیہ کے باب افتعال سے بھی ایک صیغہ فعل دو جگہ آیا ہے۔ F ” فَرِیْقٌ“ (گروہ۔ جماعت) اور خود لفظ ” فریق “ بھی اردو میں مستعمل ہے۔ اس لفظ کے مادہ، فعل کے باب و معنی وغیرہ پر پہلی دفعہ البقرہ : 50 [ 2:32:1 (10)] میں کلمہ ” فرَقنا “ میں اور خود اسی لفظ (فریق) پر البقرہ : 75 [ 2:47:1 (2)] میں بات ہوئی تھی۔ G ” مِنْھُمْ “ (ان میں سے) ” مِنْ “ (تبعیضیہ) کے لیے دیکھیے [ 2: 2: 1 (5)] ۔ ۔ اس طرح زیر مطالعہ عبارت (او کلما عاھدوا عھدا نبذہ فریق منھم) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے : ” کیا اور جب کبھی بھی انہوں نے باندھا کوئی عہد (تو) پھینک دیا اس کو کسی گروہ نے ان میں سے “ اس کو سلیس اور با محاورہ بنانے کے لیے بعض الفاظ کو آگے پیچھے کرنے (مثلاً ان میں سے کسی گروہ نے) کے علاوہ بعض مترجمین نے یہاں ” عاھَدوا “ اور ” نبَذ “ کے ماضی کے صیغوں کا ترجمہ ” کُلَّمَا “ کی شرط کی وجہ سے حال یا مستقبل میں کیا ہے۔ یعنی ” باندھیں گے، عہد کرتے ہیں ‘ قول و قرار کرتے ہیں “ اور ” تو پھینک دیں گے، پھینک دیتا ہے، رد کردیتا ہے “ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ اور بعض نے محاورے کے مطابق اسے ماضی ہی رہنے دیا ہے، مثلاً ” انہوں نے جب کبھی کوئی عہد کیا ہے تو ان ہی میں سے کسی (نہ کسی) جماعت (گروہ) نے اسے توڑ پھینکا ہے “ … ” فریق “ نکرہ کا یہاں سیاق عبارت کے لحاظ سے با محاورہ ترجمہ ” کوئی نہ کوئی فریق “ یا ” کسی نہ کسی جماعت “ زیادہ موزوں ہے۔ بعض نے ” نبَذ “ کا ترجمہ ” پھینک دینا “ کی بجائے ” نظر انداز کردینا “ ، ” رد کردینا “ یا ” توڑ پھینکنا “ سے کیا ہے جس میں محاورے کا زور ہے۔ 2: 61: 1 (3) بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ A ” بَل “ … (بلکہ) اسے عربی گرامر میں حرفِ اِضراب کہتے ہیں۔ یعنی یہ بنیادی طور پر اپنے سے ما قبل (مفہوم) کی نفی یا تردید کے لیے آتا ہے اور اپنے سے ما بعد والے (مفہوم) کو ثابت کرتا یا برقرار رکھتا ہے۔ یہ بعض دفعہ کسی مفرد کلمہ پر بھی آتا ہے ‘ اس وقت یہ حرفِ عطف کا کام بھی دیتا ہے ‘ یعنی اس سے پہلے اور بعد والے کلمہ (اسم) کا اعراب ایک ہی ہوتا ہے ‘ مثلاً ” لَا تَقُلْ شِعرًا بل نثرًا “ (شعر نہ کہو بلکہ نثر کہو) … زیادہ تر یہ کسی جملے پر ہی داخل ہوتا ہے اور اپنے سے سابق مضمون کی اپنے سے بعد والے جملے کے مضمون کے ذریعہ سے تردید کرتا ہے ‘ یعنی سابقہ بات کو غلط اور دوسری بات کو ہی درست قرار دیتا ہے۔ ایسے موقع پر اس کا ترجمہ ” یوں نہیں بلکہ “ یا ” ہرگز نہیں بلکہ “ سے کرنا موزوں ہوتا ہے۔ مثلاً ” اَمْ یقولون بہٖ جِنّۃ … بَل جائَ ھُم بِالحَقِّ “ (المومنون : 70) یعنی ” کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اسے پاگل پن ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو حق لے کر آیا ہے۔ “ البتہ بعض دفعہ یہ سابقہ مضمون کے ابطال (رد کرنا) کی بجائے ایک دوسرے مضمون کی طرف انتقال (تبدیل ہونا) کے لیے بھی آتا ہے۔ اس وقت اس کا موزوں اردو ترجمہ (لیکن ‘ مگر یا بلکہ) سے ہوتا ہے۔ جیسے ” بل تُؤثِرون الحیٰوۃَ الدُّنیا “ (الاعلی : 16) میں ہے ” مگر تم تو دنیاوی زندگی کو ہی ترجیح دیتے ہو “ اور زیادہ تر اس کا استعمال ابطال کی بجائے انتقال معنی (دوسرے مضمون کی طرف جانا) کے لیے ہی ہوتا ہے … اردو فارسی کا لفظ ” بلکہ “ دراصل اسی ” بَلْ “ کے بعد فارسی ” کہ “ لگا کر ہی بنا لیا گیا ہے … اور اس کا استعمال اردو ” بلکہ “ ہی کی طرح ہے … عربی میں کبھی نفی کے لیے اس سے پہلے (مزید تاکید اور زور کے لیے ) ” کَلاَّ “ (ہرگز نہیں) بھی آتا ہے ‘ جیسے سبا : 27 میں آیا ہے (آیت اور اس کا ترجمہ کسی مترجم نسخہ قرآن میں دیکھ لیجیے) ۔ آج کل جدید عربی میں اس کے بعد ” وَ “ کا استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں ” فلانٌ یُخطیئُ بَلْ وَ یُصِرُّ “ (فلاں غلطی کرتا ہے بلکہ اس پر اصرار بھی کرتا ہے) یہ اسلوب قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا ‘ بلکہ پرانی عربی میں بھی کہیں نہیں آیا … یہ صرف جدید استعمال ہے … یہ لفظ (بَلْ ) قرآن مجید میں پچیس کے قریب مقامات پر آیا ہے۔ B ” اَکْثَرُھُمْ “ (ان کے اکثر۔ ان میں سے بہت زیادہ۔ ان کی اکثریت) … لفظ ” اکثر “ جو ” ک ث ر “ سے افعل التفضیل ہے اس کے فعل مجرد کے باب اور معنی وغیرہ پر البقرہ : 6 [ 2: 19: 1 (10)] میں کلمہ ” کثیر “ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔ C ” لَا یُؤْمِنُوْنَ “ (ایمان نہیں لاتے : رکھتے) یہ فعل ” آمَنَ یُؤمنُ اِیمانًا “ سے فعل مضارع منفی کا صیغہ ہے۔ بابِ افعال کے اس فعل کے معنی اور استعمال کے لیے البقرہ : 3 [ 2: 2: 1 (1)] دیکھیے۔ ۔ یوں اس عبارت (بل اکثرھم لا یومنون) کا لفظی ترجمہ ہے ” بلکہ اکثر ان کے ایمان نہیں لاتے “۔ اسی کو بعض نے ” بلکہ ان میں سے اکثر یقین نہیں کرتے “ ” بلکہ ان میں سے بہت سے تو ایمان ہی نہیں رکھتے “ کی صورت دی ہے۔ بعض نے ” لا یُؤمِنُون “ کا ترجمہ ” بےایمان ہیں “ کیا ہے ‘ یعنی جملہ فعلیہ کا ترجمہ جملہ اسمیہ (خبر) کے ساتھ جس کی کوئی مجبوری نہ تھی۔ بعض حضرات نے ” بَل “ کا ترجمہ ” اصل یہ ہے : حقیقت یہ ہے “ سے کیا ہے۔ گویا یہ یوں نہیں : یہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے “ کی با محاورہ صورت ہے۔ بعض نے ” اکثرھم “ کا ترجمہ ” ان میں زیادہ تو ایسے ہی نکلیں گے “ سے کیا ہے جو ترجمہ کی حد سے تو تجاوز ہے البتہ مفہوم درست ہے۔