Ayah 2:101[ وَلَمَّا : اور جب ] [ جَاۗءَھُمْ : آیا ان کے پاس ] [ رَسُوْلٌ: ایک رسول ] [ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ : اللہ کے پاس سے ] [ مُصَدِّقٌ: تصدیق کرنے والا ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ مَعَھُمْ : ان کے ساتھ ہے ] [ نَبَذَ : تو پھینکا ] [ فَرِيْقٌ: ایک فریق نے ] [ مِّنَ الَّذِيْنَ : ان میں سے جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْكِتٰبَ ڎ : کتاب ] [ كِتٰبَ اللّٰهِ : اللہ کی کتاب کو ] [ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ : اپنی پیٹھوں کے پیچھے ] [ كَاَنَّھُمْ : جیسے کہ وہ لوگ ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
[ وَلَمَّا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ ]
اس عبارت کے تمام کلمات پہلے گزر چکے ہیں۔
A ” وَ لَمَّا “ (اور جب : جس وقت) ” لمَّا “ کے معنی اور استعمال پر البقرہ : 7 [ 2: 13: 1 (4)] میں بات ہوئی تھی۔
B ” جَائَ ھُمْ “ (ان کے پاس آیا) فعل ” جَائَ یَجِیْئُ (آنا) پر البقرہ : 71 [ 2: 44: 1 (14)] میں کلمہ ” جِئْتَ “ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔
C ” رَسُولٌ“ (ایک رسول : پیغمبر) لغوی تشریح کے لیے دیکھیے البقرہ : 87 [ 2: 53: 1 (1) و (14)] جہاں ” الرّسل “ اور ” رسول “ دونوں کلمات آئے ہیں۔
D ” مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ “ (اللہ کے پاس سے۔ اللہ کی طرف سے) مزید لغوی تشریح چاہیں تو ” مِنْ “ کے لیے [ 2: 2: 1 (5)] اور ” عِنْدَ “ کے لیے [ 2: 34: 1 (6)] دیکھیے۔
E " ۔ ” مُصَدِّقٌ“ (سچ بتانے والا۔ تصدیق کرنے والا) یہ لفظ جو مادہ ” ص د ق “ سے باب تفعیل کا اسم الفاعل ہے اس کی مزید لغوی تشریح کے لیے چاہیں تو البقرہ : 41 [ 2: 28: 1 (9)] دیکھ لیجیے۔
F ” لِمَا “ (اس چیز کے لیے جو کہ : اس چیز کی جو کہ) لام (ل) کے معنی و استعمال پر [ 1: 2 : 1 (4)] میں اور ” ما “ موصولہ پر [ 2: 2: 1 (5)] پر بات ہوچکی ہے۔
G ” مَعَھُمْ “ (ان کے ساتھ) ” مَعَ “ کے معنی و استعمال پر البقرہ : 14 [ 2: 11: 1 (5)] میں بات ہوئی تھی۔
۔ یوں اس زیر مطالعہ عبارت کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ” اور جب آیا ان کے پاس ایک پیغمبر اللہ کی طرف سے (جو) سچ بتانے والا (ہے) اس چیز کا جو ان کے پاس ہے۔ “ اس کو سلیس اردو کی شکل دینے کے لیے مترجمین کو نہ صرف عبارت کی اردو ساخت کے مطابق کلمات میں تقدیم و تاخیر (آگے پیچھے کرنا) سے کام لینا پرا بلکہ محاورے کا لحاظ رکھتے ہوئے بھی بعض تبدیلیاں کرنی پڑیں ‘ مثلاً ” جب ان کے پاس خدا کی طرف سے پیغمبر آیا “۔ بعض نے ” جَائَ ھُمْ “ کا ترجمہ ” ان کے پاس پہنچا “ کرلیا ہے جو محاورہ اور مفہوم کے لحاظ سے درست ہے۔ بعض نے ” رسول “ سے مراد نبی کریم ﷺ ہی لے کر ترجمہ کیا ہے … اسی طرح لفظ ” مصدِّق “ کا ترجمہ بعض نے فعل مضارع کی طرح ” تصدیق کرتا ہے ‘ تصدیق کر رہے ہیں ‘ سچا بتاتا ہے “ کی صورت میں کردیا ہے جسے اردو محاورے کی مجبوری کہہ سکتے ہیں مگر جن حضرات نے اس (مصدِّقٌ) کا ترجمہ حال کی طرح ” تصدیق کرتے ہوئے ‘ تصدیق فرماتا ‘ سچ بتاتے ہوئے “ کیا ہے وہ بلحاظ ترجمہ محل نظر ہے کیونکہ یہاں ” مصدِّق “ رسول کی صفت ہے حال نہیں ہے۔ بلکہ اردو محاورے میں بھی حال کا ترجمہ بھی صفت سے کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بعض نے ” لِمَا “ کا ترجمہ ” اس کتاب کی جو ‘ ان کتابوں کی جو “ سے کیا ہے ‘ اسے تفسیری ترجمہ کہہ سکتے ہیں۔ بہرحال … یہ عبارت مکمل جملہ نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے اس میں بیان شرط کا سا مفہوم ہے ‘ یعنی ” جب یوں ہوا تو …“ اس ” تو “ یا جوابِ شرط کا بیان اگلے جملے میں آئے گا اور یوں یہ دونوں جملے مل کر ایک طویل مکمل جملہ بنتے ہیں۔
[ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتَابَ اللّٰہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ ]
جہاں تک مفردات کا تعلق ہے اس عبارت کے تمام کلمات کسی نہ کسی صورت میں پہلے زیر بحث آ چکے ہیں۔ لہٰذا ذیل میں ان کے صرف ترجمہ اور لغوی تشریح کے سابقہ حوالے پر اکتفاء کیا جائے گا۔
A ” نبَذ “ (پرے پھینک دیا۔ پھینک مارا ‘ ڈال دیا ‘ پھینک دی) ۔ اس فعل کے باب معنی اور استعمال پر ابھی اوپر اسی زیر مطالعہ قطعہ یعنی [ 2: 61: 1 (1 - 2)] میں بات ہوئی تھی۔
B ” فَرِیْقٌ“ (ایک گروہ : جماعت : فریق نے) یہ لفظ ابھی اوپر گزرا ہے۔
C ” مِنَ الَّذِیْنَ “ (ان لوگوں میں سے جو کہ) یعنی یہ ” پھینکنے والا گروہ ان میں سے تھا جو … ” مِن “ یہاں تبعیضیہ ہے (دیکھیے [ 2: 2: 1 (75)]) ” الذین “ اسم موصول برائے جمع مذکر ہے۔
D ” اُوتُوا “ (وہ دیئے گئے۔ ان کو دیا گیا : دی گئی) یہ ” ا ت ی “ مادہ سے ” اُفْعِلُوا “ کے وزن پر باب افعال کا فعل ماضی مجہول صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس کی اصل شکل ” أُأْتِیُوْا “ تھی۔ جس میں ” أُ أْ “ تو ” أُوْ “ بنتا ہے اور واو الجمع سے ما قبل والا حرفِ علت (جو یہاں ” ی “ ہے) ساقط ہوجاتا ہے اور عین کلمہ (جو یہاں ” ت “ ہے) کی کسرہ (-ِ ) کو واو الجمع کے مطابق ضمہ (-ُ ) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یوں یہ لفظ ” اُوتُوا “ کی شکل میں لکھا اور بولا جاتا ہے۔ باب افعال کے اس فعل ” آتٰی یُؤتِی ایتائً “ (کو دینا) کے معنی و استعمال پر البقرہ : 43 یعن [ 2: 29: 1 (5)] میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔
۔ ” الکتابَ “ (کتاب) دیکھیے [ 2: 1: 1 (2)] ۔
F ” کِتَابَ اللّٰہِ “ (اللہ کی کتاب کو) (دیکھیے آگے بحث ” الاعراب “ ) ۔
G ” وَرَائَ …“ (… کے پرے ‘ … کے پیچھے) ۔ اس لفظ پر مکمل لغوی بحث البقرہ : 91 یعنی [ 2: 56: 1 (1)] میں دیکھیے۔
H ” ظُھُوْرِھِمْ “ (ان کی : اپنی پیٹھوں …) لفظ ” ظُھُور “ ” ظَھْرٌ“ (پیٹھ) کی جمع مکسر ہے۔ اس کے مادہ ’ ظ ھ ر “ سے فعل مجرد وغیرہ پر البقرہ : 85 [ 2: 52: 1 (3)] میں کلمہ ” تَظاھَرُون “ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔ قرآن کریم میں لفظ ” ظَھْر “ (بصیغہ واحد) چار جگہ اور ” ظُھْور “ (بصیغہ جمع) گیارہ جگہ آیا ہے۔ دونوں کلمات ہر جگہ مرکب (اضافی) کی شکل میں آئے ہیں۔
۔ مفردات کی اس وضاحت اور الگ الگ ترجمہ کے بعد آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زیر مطاعہ عبارت ” نبَذ فریقٌ … ظُھورِھم) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ”(تو) پھینک دیا ایک گروہ نے ان میں سے جن کو دی گئی تھی کتاب اللہ کی کتاب کو پرے (پیچھے) اپنی پیٹھوں کے۔ “ سلیس اردو بنانے کے لیے ایک تو الفاظ میں تقدیم و تاخیر (اردو فقرے کی ساخت کے مطابق) کرنی پڑے گی مثلاً ” جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں پیچھے پھینک دیا “ کی شکل دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض تبدیلیاں اردو محاورے کی خاطر کرنی پڑتی ہیں مثلاً اردو میں ” پیٹھوں “ (جمع) کی بجائے ” پیٹھ “ (واحد) کے ساتھ ترجمہ کرنے کی یہی وجہ ہے یعنی ” پیٹھ پیچھے پھینک دیا : ڈال دیا : پھینک مارا۔ “ وغیرہ ہیں۔ بعض نے اس کے لیے فارسی ترکیب ” پس پشت “ (ڈال دیا) اختیار کی ہے جو اصلی عربی سے کم مشکل نہیں ہے۔ اسی طرح ” الذین اوتوا الکتاب “ (جن کو کتاب دی گئی) کا ترجمہ ایک مختصر لفظ ” اہل کتاب “ کے ساتھ کرنے کی وجہ بھی محاورہ ہی ہے۔
2: 61: 1 (4) [ کَأَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ]
یہ سادہ اور آسان سا جملہ اسمیہ ہے۔ اس میں :
A ” کَأَنَّ “ (گویا کہ) مشہور حرف مشبہ بالفعل ہے (باقی حروف مشبہ بالفعل ” اِنَّ ‘ اَنَّ ‘ لٰکِنَّ ‘ لَیْتَ اور لَعَلَّ “ ہیں جن کے معنی علی الترتیب ” بیشک ‘ کہ بیشک ‘ لیکن ‘ کاش کہ اور شاید کہ “ ہیں) یہ سب جملہ اسمیہ میں مبتدأ کو (جسے ان کا اسم کہا جاتا ہے) نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ ” کَأَنَّ “ کی خبر اگر کوئی اسم جامد (غیر مشتق) ہو تو اس میں تشبیہ کا مفہوم ہوتا ہے جیسے ” کأَنَّ زیدًا اسدٌ“ (گویا کہ زید شیر ہے) اور اگر اس کی خبر کوئی اسم مشتق (اسم الفاعل ‘ اسم المفعول وغیرہ) یا کوئی جملہ فعلیہ ہو (جیسے زیر مطالعہ عبارت میں ہے) تو اس میں عموماً ” ظن “ یعنی گمان غالب کا مفہوم ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ” کَأَنَّ “ بیس سے زائد جگہ آیا ہے اور زیادہ تر اس کا اسم کوئی ضمیر (ہ - ھا - ھم - ھن وغیرہ) آئی ہے۔ کبھی حروف مشبہ بالفعل کے بعد (ساتھ) ” ما “ زائدہ بھی لگتا ہے جسے ” ما کافّہ “ کہتے ہیں۔ جیسے ” انَّما ‘ کأَنَّما وغیرہ میں ہے۔ اس سے معنی میں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا (البتہ تاکید کا مفہوم زیادہ ہوجاتا ہے) مگر اس صورت میں حروف مشبہ بالفعل کا کوئی عمل نہیں ہوتا۔ ” کَأَنَّمَا “ بھی قرآن کریم میں پانچ مقامات پر استعمال ہوا ہے۔؎
B ” ھُمْ “ (وہ) یہ ضمیر یہاں ” کَأَنَّ “ کا اسم ہو کر آئی ہے۔
C ” لَا یَعْلَمُوْنَ “ (وہ نہیں جانتے) اس کا فعل ” عَلِمَ یعلَم “ (جاننا) کئی دفعہ گزر چکا ہے۔ پہلی دفعہ اس کے باب اور معنی و استعمال پر الفاتحہ : 2 [ 1: 2: 1 (4)] میں کلمہ ” عالَمین “ کے ضمن میں بات ہوئی تھی اور پھر البقرہ : 13 [ 2: 1: 1 (3)] میں یہی لفظ ” لَا یعلمون “ گزرا ہے۔
۔ اس عبارت کا سادہ لفظی ترجمہ تو بنتا ہے ” گویا کہ وہ نہیں جانتے “ جس کی ایک صورت ” گویا ان کو معلوم نہیں “ یا ” گویا ان کو علم نہیں “ بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم اردو محاورے کے مطابق مفہوم میں زور پیدا کرنے کے لیے بیشتر مترجمین نے یہاں ” کچھ “ اور ” ہی “ کا اضافہ کیا ہے ‘ یعنی ” گویا ان کو کچھ علم ہی نہیں : کچھ خبر ہی نہیں : علم ہی نہیں رکھتے : جانتے ہی نہیں “ وغیرہ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے ‘ اگرچہ اصل عبارت میں ” شیئًا “ وغیرہ کی قسم کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ یعنی ان کی عملی حالت دیکھ کر گمان غالب یہی ہوتا ہے کہ گویا وہ بالکل بیخبر ہیں (کتاب اللہ سے) … قصہ تو یہود کا ہے مگر اس میں غور اور عبرت کا مقام (قرآن کے حوالے سے) مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔
2: 61: 2 الاعراب
بیانِ اعراب کے لیے اس قطعہ کو سات چھوٹے جملوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن میں سے دو کا باہمی تعلق شرط اور جوابِ شرط کا سا ہے۔ لہٰذا ان دونوں کو مجموعی طور پر لے کر ہی جملہ شمار کیا جاسکتا ہے۔ تفصیل یوں ہے :
A ” وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ “
[ وَ ] یہاں مستانہ ہے [ لَقَدْ ] حرفِ تاکید اور حرفِ تحقیق جمع ہوگئے ہیں [ اَنْزَلْنَا ] فعل ماضی معروف مع ضمیر تعظیم ” نَحْنُ “ ہے [ ِاِلَیْک ] جار (الٰی) اور مجرور (ک) مل کر متعلق فعل ” اَنْزَلْنَا “ ہیں جو مفعول سے مقدم آئے ہیں کیونکہ در اصل تو بنتا تھا ” لَقَدْ اَنْزَلْنَا آیاتٍ بیّناتٍ الیک “ … [ آیاتٍ ] فعل ” انزلنا “ کا مفعول (لہٰذا) منصوب ہے ‘ علامت نصب ” اتٍ “ ہے کیونکہ یہ جمع مؤنث سالم ہے [ بیناتٍ ] صفت ہے (آیات کی) اس لیے منصوب ہے۔ یہ بھی اسی طرح جمع مؤنث سالم ہے۔
B ” وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلاَّ الْفٰسِقُوْنَ “
[ وَ ] عاطفہ ہے اور [ مَا ] نافیہ ہے [ یَکفُر ] فعل مضارع معروف صیغہ واحد مذکر مؤنث ہے [ بِھَا ] جار (بِ ) اور مجرور (ھَا) مل کر متعلق فعل ” یکفر “ ہے۔ یا اگر ” بِ “ کو فعل ” یکفر “ کا صلہ قرار دیں تو پھر مرکب جاری (بھا) کو مفعول سمجھ کر محلاً منصوب بھی کہہ سکتے ہیں۔ [ اِلَا ] حرف استثناء ہے ‘ اس سے پہلے فعل ” یکفر “ کا فاعل ” احدٌ“ محذوف ہے۔ [ الفَاسِقُون ] یہاں یکفر کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے (علامت رفع آخری نون سے ما قبل -ُ وْ ) ہے … چونکہ یہاں حرف استثناء سے پہلے جملہ منفی غیر تام (غیر مکمل) ہے اس لیے ” الفاسقون “ کا اعراب موقع کے مطابق رفع کا ہے۔ یعنی اگر ” ما “ نافیہ اور ” الا “ کو ہٹا دیں تو باقی ” یکفر الفاسقون “ ہی بنتا ہے۔
C ” اَوَکُلَّمَا عٰہَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ “
[ اَوَ ] ہمزہ استفہام اور واو العطف کا مرکب ہے (استعمال کے لیے دیکھیے حصہ اللغۃ ) ۔ [ کُلَّمَا ] اس میں ظرف اور شرط جمع ہیں۔ یعنی یہ طرف زمان متضمن معنی شرط ہے [ عاھَدوا ] عل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ” ھم “ ہے۔ [ عَھْدًا ] اسے فعل ” عاھدوا “ کا مفعول بہٖ (لہٰذا منصوب) بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس صورت میں یہاں ایک مفعول محذوف ہے (مثلاً عاھَدُوا اللّٰہَ یا عاھدوکم بھی کہہ سکتے ہیں۔ [ نبَذہ ] ” نبَذ “ تو فعل ماضی معروف برائے واحد مذکر غائ؛ب ہے اور ضمیر منصوب (ہ) مفعول بہ مقدم ہے کیونکہ مفعول کوئی ضمیر ہو تو فاعل سے پہلے آتی ہے۔ [ فریقٌ] فعل ” نبَذ “ کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے ‘ علامت رفع تنوین رفع (-ٌ) ہے [ منھم ] جار (مِن) اور مجرور (ھُم) مل کر ” فریق “ کی صفت یا بیان ہے۔ یعنی ایسا گروہ جو ان ہی میں سے ہے۔
D ” بَلْ اَکْثَرُہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ “
[ بَلْ ] حرفِ اضراب ہے جو یہاں سابقہ مضمون (عہد کو پرے پھینک دینا) کے ابطال کے لیے نہیں بلکہ انتقال مضمون کے لیے ہے۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ عہد کی پروا نہیں کرتے بلکہ وہ تو ایمان سے ہی محروم ہیں۔ [ اکثرھم ] مضاف (اکثر) اور مضاف الیہ (ھم) مل کر مبتدأ بنتا ہے اسی لیے ” اکثر “ مرفوع ہے۔ اور [ لا یؤمنون ] فعل مضارع منفی مع ضمیر الفاعلین ” ھم “ پورا جملہ فعلیہ ہو کر ” اکثرھم “ کی خبر بن رہا ہے۔
۔ ” وَلَمَّا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ “
[ وَ ] عاطفہ ہے اور [ لَمَّا ] حینیہ ظرفیہ ہے ‘ یعنی یہ وقت کا مفہوم رکھتا ہے (” جب “ کا) جس میں ایک طرح سے شرط کا معنی بھی موجود ہے مگر یہ جازم نہیں ہے۔ [ جائَ ھم ] فعل ماضی معروف (جائَ ) مع ضمیر (ھم) مفعول بہ ہے اور [ رسول ] اس فعل (جائَ ) کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے۔ [ مِن عندِ اللّٰہ ] مرکب جارّی (جس میں ” مِن “ حرف الجر ہے اور ” عندِ “ ظرفِ مضاف اور مجرور بالجر بھی ہے اور ” اللّٰہِ “ مجرور بالاضافہ ہے) ” رسول “ (جو نکرہ موصوفہ ہے) کی صفت بنتا ہے (یعنی ایسا رسول جو اللہ کی طرف سے ہے) اور [ مصدِّقٌ] اس (رسول) کی دوسری صفت ہے جو چاروں (حالت ‘ جنس ‘ عدد ‘ وسعت) لحاظ سے اپنے موصوف کے مطابق ہے۔ [ لِمَا ] جار (لِ ) اور مجرور ( مَا موصولہ) مل کر ” مصدِّقٌ“ سے معلق ہیں۔ یعنی ہ کس کا مصدّق ؟ کا جواب مہیا کرتا ہے۔ [ مَعَھُمْ ] ظرفِ مکان مضاف (معَ ) اور مضاف الیہ (ھُمْ ) مل کر اسم موصول (مَا) کا سلہ بنتا ہے۔ اور یوں یہ پوری عبارت [ لما معھم ] مل کر ” مصدِّق “ کے معنی فعل (تصدیق کرتا ہے) سے متعلق ہے۔ بلحاظ معنی یہاں تک جملہ مکمل نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایک طرح سے بیان شرط ہے (اگرچہ اس میں کوئی جازم بھی نہیں اور یہ قصہ بھی زمانہ ماضی کا بیان ہو رہا ہے تاہم اس کے بعد حرفِ ربط کے طور پر اگلی عبارت سے پہلے ایک ” تو “ کا اضافہ ضروری معلوم ہوتا ہے ‘ یعنی ” جب… تو …“ کی صورت میں ‘ اس لیے اگلا جملہ اس جملے سے مربوط ہے۔ )
F ” نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ “
[ نبَذ ] فعل ماضی معروف صیغہ واحد مذکر غائب ہے اور [ فریقٌ] جو یہاں نکرہ موصوفہ بھی ہے ‘ اس فعل کا فاعل (لہذا) مرفوع ہے۔ یعنی ” ایک ایسے گروہ نے جو “۔ [ من الذین ] جار (مِن) اور مجرور (الذینجو اسم موصول بھی ہے) مل کر ” فریقٌ“ کی صفت کا کام دے رہے ہیں (یعنی جو ان لوگوں میں سے ہے جو) [ اُوتُوا ] فعل ماضی مجہول مع مرفوع ضمیر برائے نائب الفاعلین ” ھم “ ہے اور [ الکتابَ ] اس فعل کا مفعول بہ ثانی ہے جو نصب میں آیا ہے (دو مفعول والا فعل جیس ” آتٰی یُؤتِی “ ہے۔ مجہول آئے تو ایک مفعول نائب فاعل بن کر رفع میں آتا ہے اور دوسرا نصب میں آتا ہے) علامت نصب آخری ” بَ “ کی فتحہ (-َ ) ہے کیونکہ یہ معرف باللام بھی ہے۔ [ کتابَ اللّٰہِ ] مرکب اضافی ہے جس میں مضاف (کتابَ ) فعل ” نبَذ “ کا مفعول بہٖ ہونے کے باعث منصوب ہے اور آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہے اس لیے یہاں بھی علامت نصب فتحہ (-َ ) ہی رہ گئی ہے۔ اور اسم جلالت (اللّٰہ) مجرور بالاضافہ ہے [ ورائَ ظُھورھم ] یہ مجموعی طور پر تو مرکب اضافی ہے جس میں ” ورائ “ ظرف مضاف ہے اور ” طھور “ اس (ورائ) کا مضاف الیہ اور آگے مضاف بھی ہے اسی لیے خفیف بھی اور مجرور بھی ہے۔ یعنی اس میں علامت جر اب آخری ” ر “ کی ایک کسرہ (-ِ ) رہ گئی ہے اور آخر پر (ھم) ضمیر مجرور اس (ظھور) کا مضاف الیہ ہے۔ اس پورے مرکب اضافی (وراء ظھورھم) کے پہلے جزء (ورائ) کی نصب در اصل تو ظرف (مکان) ہونے کی وجہ سے ہے … تاہم بعض نحوی یہ کہتے ہیں کہ چونکہ یہاں ” پیٹھ پیچھے : سے پرے “ کا مطلب ” حسی “ نہیں لیا جاسکتا … یعنی کتاب کو کسی ” جگہ “ (جو حواس سے معلوم کی جاسکتی ہو) تو نہیں پھینکا تھا۔ بلکہ یہاں مجازاً ” پھینکے ہوئے جیسا بنادینا “ مراد ہے۔ گویا یہاں فعل ” نبَذ “ (پھینک دیا) در اصل ” جعَل “ یا ” صبَّر “ کے معنی میں ہے جس کے دو مفعول ہوتے ہیں اس لیے یہاں ” ورائ “ در اصل مفعول بہ ثانی کا درجہ رکھتا ہے … لیکن یہ سب تکلف معلوم ہوتا ہے۔ اسلوب عبارت سے ہی ظاہر ہے کہ یہاں ” پھینک “ دینا سے مراد ” حسی “ طور پر پھینکنا مراد نہیں جیسا کہ حصہ ” اللغۃ “ میں اس فعل کے معانی میں بیان ہوا ہے۔
G کَاَنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ
[ کأنھم ] حرفِ مشبہ بالفعل (کان) اور اس کے اسم (ھم) پر مشتمل ہے اور [ لا یعلمون ] فعل مضارع معروف منفی مع ضمیر الفاعلین ” ھم “ جملہ فعلیہ بن کر ” اکثرھم “ کی خبر ہے۔ اگرچہ یہ ایک مسقل جملہ اسمیہ ہے تاہم سیاق وسباق عبارت کے لحاظ سے اسے ” پھینکنے والے گروہ “ کا (یعنی فعل نبذ کے فاعلین کا) حال قرار دیا جاسکتا ہے یعنی انہوں نے یہ کام بیخبروں اور جاہلوں سے مشابہ (مانند) ہوتے ہوئے کر ڈالا تھا۔
2: 61: 3 الرسم
زیر مطالعہ قطعہ آیات میں بلحاظ رسم صرف چھ کلمات وضاحت طلب ہیں ‘ یعنی ” ایت ‘ بینت ‘ الفسقون ‘ کلما ‘ عھدوا اور الکتاب “ (جو عبارت میں دو دفعہ آیا ہے) تفصیل نمبر وار یوں ہے :
A ” ایت “ جس کا عام رسم املائی ” آیات “ ہے۔ قرآن مجید میں یہاں اور (زیادہ تر) ہر جگہ ” بحذف الال بعد الیائ “ لکھا جاتا ہے چاہے مفرد ہو یا مرکب اور نکرہ ہو یا معرفہ۔ البتہ ایک دو جگہ کے بارے میں اختلاف ہے ‘ ان کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا۔ نیز دیکھیے البقرہ : 61 [ 2: 39: 3] میں کلمہ ” آیات اللّٰہ “ اور البقرہ : 39 یعنی [ 2: 27: 3] میں ” ایاتنا “ کی بحث رسم۔
B ” بینت “ کا عام رسم املائی ” بینات “ ہے مگر قرآن کریم میں یہ یہاں اور ہر جگہ بحذف الالف بعد النون لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے البقرہ : 87 [ 2: 53: 3] میں کلمہ البینات کی بحث رسم۔
C ” الفسقون “ جس کی عام املاء ” الفاسقون “ ہے ‘ قرآن کریم میں یہاں اور ہر جگہ بحذف الالف بعد الفاء لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے البقرہ : 26 [ 2: 19: 3] میں کلمہ ” الفاسقین “ کی بحث سم۔
D ” کُلَّما “ یہ لفظ یہاں اور قریباً ہر جگہ اسی طرح موصول (یعنی ” کُلَّ “ اور ” مَا “ کو ملا کر) لکھا جاتا ہے … البتہ ایک جگہ (ابراہیم : 34) یہ مقطوع (بصورت ” کُلَّ مَا “ ) لکھا جاتا ہے اور تین چار مقامات پر یہ مقطوع اور موصول کے درمیان مختلف فیہ ہے ان پر حسب موقع بات ہوگی۔ نیز دیکھیے البقرہ : 20 [ 2: 15: 3] (بحث الرسم)
۔ ” عھدوا “ جس کا عام رسم املائی ” عاھدوا “ ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ یہاں تو بالاتفاق ” بحذف الالف بعد العین “ لکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہی صیغہ فعل (عاھَدوا) قرآن کریم میں مزید تین جگہ بھی آیا ہے ‘ ان میں سے الف (بعد العین) کے حذف اور اثبات کے بارے میں اختلاف ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں باب مفاعلہ کے اس فعل سے ماضی ہی کے کچھ اور صیغے (عاھد ‘ عاھدت ‘ عاھدتم) بھی سات جگہ آئے ہیں ‘ ان میں سے بھی صرف ” عاھد “ کے حذف الف (” عٰھَدَ “ لکھنے) پر اتفاق ہے مگر باقی کلمات کا رسم اس (حذف و اثبات) کے بارے میں مختلف فیہ ہے … لہٰذا ان تمام کلمات پر حسب موقع بات ہوگی۔
F ” الکتٰب اور کتٰب اللّٰہ “ اس میں کلمہ ” کتب “ کا عام رسم املائی تو ” کتاب “ ہے مگر قرآن کریم میں یہ کلمہ ہر جگہ (ما سوائے چار خاص مقامات کے) بحذف الالف بعد التاء ہی لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے البقرہ : 2 [ 2: 1: 3] میں ” الکتب “ کے رسم پر بحث۔
2: 61: 4 الضبط
اس قطعہ آیات میں بھی ضبط کا تنوع زیادہ تر الف محذوف ‘ ھاء کنایہ ‘ نون مخفاۃ و مظہرہ ‘ حرفِ علت کے طریق ضبط میں منحصر ہے ‘ نیز افریقی مصاحف میں متطرف (آخر پر آنے والے) حروف (ی نق) کا عدم اعجام بھی قابل ذکر ہے۔ درج ذیل نمونوں سے آپ ضبط کے اس اختلاف یا تنوع کو سمجھ سکتے ہیں جہاں صرف حرکت کی صورت (یعنی فتحہ کسرہ ضمہ یا سکون) کا فرق ہے اسے دوبارہ نہیں لکھا گیا۔
Ayah 2:102[ وَاتَّبَعُوْا : اور وہ لوگ پیچھے پڑے ] [ مَا : اس کے جو ] [ تَتْلُوا : پڑھتے تھے ] [ الشَّيٰطِيْنُ : شیاطین ] [ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۚ : سلیمان کے ملک میں ] [ وَمَا كَفَرَ : اور کفر نہیں کیا ] [ سُلَيْمٰنُ : سلیمان نے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن (بلکہ)] [ الشَّيٰطِيْنَ : شیاطین نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ہے ] [ يُعَلِّمُوْنَ : وہ سکھاتے تھے ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ السِّحْرَ ۤ: جادو ] [ وَمَآ : اور اس کے (پیچھے پڑے) جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ عَلَي الْمَلَكَيْنِ : دو فرشتوں پر ] [ بِبَابِلَ : بابل میں ] [ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ۭ : ہاروت اور ماروت پر ] [ وَمَا يُعَلِّمٰنِ : اور وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے ] [ مِنْ اَحَدٍ : کسی ایک کو ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ يَقُوْلَآ : وہ دونوں کہتے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوا 4 ے اس کے کہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [ فِتْنَةٌ: آزماء ش ہیں ] [ فَلَا تَكْفُرْ ۭ : پس تو کفر مت کر ] [ فَيَتَعَلَّمُوْنَ : تو (بھی) وہ لوگ سیکھتے ] [ مِنْهُمَا : ان دونوں سے ] [ مَا : اس کو ] [ يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ : وہ لوگ جدائی ڈالتے جس سے ] [ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ۭ : مرد اور اس کی بیوی کے مابین ] [ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ : اور وہ لوگ نقصان پہنچانے والے نہیں ہیں ] [ بِهٖ : اس سے ] [ مِنْ اَحَدٍ : کسی ایک کو ] [ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ : مگر اللہ کی اجازت سے ] [ وَيَتَعَلَّمُوْنَ : اور وہ سیکھتے ] [ مَا : اس کو جو ] [ يَضُرُّھُمْ : ان کو نقصان دیتا ] [ وَلَا يَنْفَعُھُمْ ۭ : اور ان کو نفع نہیں دیتا ] [ وَلَقَدْ عَلِمُوْا : اور یقینا وہ جان چکے تھے ] [ لَمَنِ اشْتَرٰىھُ : کہ بیشک جس نے خریدا اس کو ] [ مَا لَهٗ : اس کے لیے نہیں ہے ] [ فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں ] [ مِنْ خَلَاقٍ ڜ : کوئی حصہ ] [ وَلَبِئْسَ : اور یقینا کتنا برا ہے ] [ مَا شَرَوْا بِهٖٓ: وہ انہوں نے سودا کیا جس سے ] [ اَنْفُسَھُمْ ۭ : اپنے آپ کا ] [ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : کاش وہ لوگ جانتے ہوتے ]
2: 62: 2 الاعراب
ترکیب نحوی کے لیے اس عبارت کو 13 جملوں میں تقسیم کای جاسکتا ہے اسی لیے ہر نحوی جملے کے آخر پر کوئی نہ کوئی علامت وقف دی گئی ہے۔
A وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ
[ وَ ] عاطفہ ہے جو اگلے فعل [ اتبعوا ] کو سابقہ آیت کے صیغہ فعل (نبَذ) پر عطف کرتی ہے [ اتبعوا ] فعل ماضی معروف جمع مذکر غائب ہے جس میں ضمیر الفاعلین ” ھم “ موجود ہے۔ [ ما ] موصولہ ہے جو یہاں فعل ” اتبعوا “ کا مفعول ہے ‘ یا یوں کہیے کہ یہاں (اسم موصول) ہے یہ مفعول شروع ہوتا ہے جسے محلاً منصوب کہا جائے گا۔ [ تتلو ] فعل مضارع معروف صیغہ واحد مؤنث غائب ہے جو فاعل [ الشَیاطینُ ] کے جمع مکسر آنے کی وجہ سے آیا ہے اور بیان قصہ کی بناء پر یہاں یہ بمعنی ” تَلَتْ “ (صیغہ ماضی مؤنث غائب) کے لے آیا ہے۔ [ علٰی مُلکِ سلیمٰن ] علٰی حرف الجر یہاں بمعنی ” فِی “ آیا ہے اور ” مُلْکِ سُلَیْمٰن “ مضاف (مُلک) اور مضاف الیہ (سُلیمان) مل کر مجرور ہیں اور اس سے پہلے لفظ ” زَمَن “ محذوف ہے جو ” فِی “ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ” مُلْک “ تو یہاں مجرور بالجر ہے (علٰی کی وجہ سے) اور آگے مضاف ہونے کے باعث خففی بھی ہے اور اس میں علامت جر آخری ” ک “ کی کسرہ (-ِ ) رہ گئی ہے ” سلیمان “ غیر منصرف ہے ‘ اس لیے اس میں جر (جو بالاضافہ ہے) کی علامت ” ن “ کی فتحہ ہے۔ سلیمان کا غیر منصرف ہونا عجمیت اور علمیت کی بنا پر ہے یعنی وہ ایک غیر عربی نام ہے۔
B وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ
[ وَ ] کو مستانفہ بھی کہہ سکتے ہیں اور اس میں حالیہ (بمعنی حالانکہ) ہونے کی گنجائش بھی ہے۔ [ ما کفَر ] فعل ماضی معروف واحد مذکر غائب منفی ہے اور یہ نفی ” ما “ نافیہ کے ذریعے واقع ہوئی ہے۔ [ سلیمان ] اس منفی فعل (ما کفر) کا فاعل لہٰذا مرفوع ہے۔ [ و لٰکِنَّ ] واو العطف ہے اور ” لٰکِنَّ “ حرف مشبہ بالفعل ہے جس کا اسم منصوب [ الشَّیاطِینَ ] ہے جو جمع سالم نہیں بلکہ جمع مکسر ہے اور [ کفَروا ] فعل ماضی معروف جملہ فعلیہ بن کر ” لٰکِنَّ “ کی خبر لہٰذا محلاً مرفوع ہے۔ [ یُعَلِّمُونَ ] فعل مضارع معروف ہے ضمیر الفاعلین ” ھُمْ “ ہے جس کی علامت صیغہ فعل کی واو الجمع (-ُ وْ ) ہے۔ [ النَّاسَ ] اس فعل (یُعَلِّمُونَ ) کا پہلا مفعول (لہٰذا منصوب) ہے۔ علامت نصب ” سَ “ کی فتحہ (-َ ) ہے۔ [ السِحرَ ] اس فعل کا دوسرا مفعول منصوب ہے جس کی علامت ” رَ “ کی فتحہ (-َ ) ہے۔ اور یہ پورا جملہ فعلیہ (یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ) سابقہ فعل ” کفَروا “ کی ضمیر الفاعلین کا حال بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی ” اُنہوں نے کفر کیا اس حالت میں کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے “ یا اس جملہ کو ” الشَّیاطینَ “ (اسم لٰکِنَّ ) کی خبر ثانی کہہ سکتے ہیں ” یعنی “ کفر بھی کیا اور تعلیم سحر کا کام بھی کیا۔ “
C وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَمَارُوْتَ
[ وَ ] برائے عطف ہے اور [ مَا ] موصولہ ہے جو واو عافہ کے ذریعے ” السحر “ پر معطوف ہے یعنی ” ” جادو “ بھی سکھاتے تھے اور وہ بھی جو …“ گویا یہ ” مَا “ (اپنے ما بعد صلہ سمیت) فعل ” یُعَلِّمُونَ “ کا ہی ایک اور مفعول ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے سابقہ جملے کے ” مَا تَتْلُو “ پر عطف سمجھا جائے۔ اس صورت میں یہ فعل ” وَ اتَّبَعُوا “ (اوپر جملہ نمبر 1 والا) کا مفعول ثانی بن سکتا ہے۔ یعنی وہ پیچھے لگ گئے اس کے جو شیاطین پڑھتے تھے اور اس کے بھی جو … (بابل میں اتارا گیا۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے) ۔ اردو مترجمین نے دونوں طرح ترجمہ کیا ہے یعنی مندرجہ بالا پہلی ترکیب کے مطابق بھی اور دوسری ترکیب کے مطابق بھی۔ بلکہ زیادہ تر نے دوسری ترکیب کے ساتھ ہی ترجمہ کیا ہے۔ [ اُنْزِلَ ] فعل ماضی مجہول واحد مذکر غائب ہے جس میں نائب الفاعل ضمیر ” ھُوَ “ مندرجہ بالا ” مَا “ موصولہ کے لیے ہے۔ [ علَی المَلَکَیْنِ ] میں علامت جر آخری نون سے ما قبل والی ” یائ “ ما قبل مفتوح (-َ یْ ہے جو تثنیہ میں استعمال ہوتی ہے۔ [ بِبَابِلَ ] حرف الجر (بِ ) اور مجرور (بابلَ ) کو بھی ” اُنْزِلَ “ سے متعلق سمجھا جاسکتا ہے اور معناً اسے ” المَلَکَین “ کا حال بھی کہہ سکتے ہیں۔ لفظ ” بابل “ بھی عجمی علم ہونے کے باعث غیر منصرف ہے اس لیے اس میں علامت جر آخری ” لَ “ کی فتحہ (-َ ) ہے [ ھَارُوتَ و مَارُوتَ ] دونوں بذریعہ واو العطف مل کر ” المَلَکین “ کا بدل ہے لہٰذا مجرور ہیں۔ یہ بھی عجمی نام ہیں اس لیے غیر منصرف ہیں اور علامت جر ان میں آخری ” ت “ کی فتحہ (-َ ) ہے۔
۔ بعض نحویوں نے … اور ہمارے زمانے کے بعض مفسرین نے بھی اس جملے کے ابتدائی ” مَا “ کو موصولہ کی بجائے ” نافیہ “ قرار دیا ہے۔ اس صورت میں ” مَا اُنْزِلَ “ کا ترجمہ ہوگا ” اور وہ نہیں اتارا گیا تھا “ (بابل میں دو فرشتوں پر) گویا یہ ہاروت ماروت کا قصہ ایک یہودی افسانہ ہے جس کی قرآن نے تردید کردی … اس جملے کی حد تک تو یہ نحوی توجیہ قابل قبول ہوسکتی ہے مگر اس کے بعد آنے والے جملوں میں یہ عبارت کسی طرح فٹ نہیں آتی۔ اسی لیے اہل علم کی اکثریت نے یہاں ” مَا “ کو موصولہ ہی قرار دیا ہے۔
D وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلاَ تَکْفُرْ
[ وَ ] یہاں استیناف کے لیے ہے یعنی ایک الگ بات یا قصے کا دوسرا پہلو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ [ مَا ] نافیہ ہے اور اس کی تائید آگے ” حتٰی “ کے استعمال سے ہوتی ہے۔ [ یُعَلِّمَانِ ] (اس کے قرآنی رسم پر آگے بات ہوگی) فعل مضارع معروف صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے جس میں ضمیر الفاعلین ” ھُمَا “ ” المَلَکَین “ کے لیے ہے۔ [ مِنْ اَحَدٍ ] یہ در اصل تو ” اَحَدًا “ تھا جو فعل ” یُعَلِّمَان “ کا ایک مفعول تھا (دوسرا مفعول یہاں محذوف ہے) پھر اس نکرہ ” احدًا “ (کسی ایک کو) پر عموم نکرہ کی قطعیت کے لیے ” مِن “ آیا ہے۔ اب یہ جار مجرور مل کر مفعول ہیں اور محلاً نصب میں ہیں اور اسی لیے ترجمہ ” کسی ایک کو بھی “ ہوگا۔ [ حَتّٰی ] یہاں ” اِلٰی اَنْ “ (یہاں تک کہ) کے معنی میں ہے اور اسی لیے بعض نے یہاں ” حَتّٰی “ بمعنی ” اِلاَّ اَنْ “ ہی لیا ہے (مثلاً العکبری نے) جب کہ بعض نے اسے غلط قرار دیا ہے (مثلاً الدرویش نے) بلکہ اسے حرفِ غایب (یہاں تک کہ ‘ جب تک کہ ‘ اس وقت تک جب کہ) ہی سمجھا ہے۔ ویسے اس بحث سے عبارت کے اصل مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ [ یَقُولَا ] فعل مضارع منصوب بوجہ ” حتّٰی “ ہے۔ علامت نصب آخری ” ن “ (یقولان کا) گرنا ہے اور اس صیغہ تثنیہ کی ضمیر فاعل ” ھما “ بھی ” الملَکَین “ ہی کے لیے ہے۔ [ اِنَّما ] کی ” مَا “ کافہ اور ” اِنَّ “ مکفوفہ ہے یعنی ” مَا “ نے ” اِنَّ “ کا عمل روک دیا ہے اور اس میں حصر کے معنی پیدا ہوگئے ہیں۔ [ نَحْنُ ] ضمیر مرفوع منفصل مبتدأ ہے اور [ فِتنۃٌ] اس کی خبر ہے جو نکرہ بھی ہے اور مرفوع بھی۔ [ فَلَا تَکْفُرْ ] فاء (فَ ) یہاں فصیحہ ہے جو بغیر شرط کے جوابِ شرط کا مفہوم دیتی ہے۔ اردو ترجمہ اس کا بہرحال ” سو “ یا ” پس “ ہی ہوگا۔ ” لَا تَکْفُرْ “ فعل نہی صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اور یہ پورا جملہ (اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ ) اوپر والے فعل ” یَقُولَا “ کا مقول (مفعول) ہو کر ایک طرح سے محل نصب میں ہے اور یہاں ” اسے سیکھ کر “ کے معنی کا ایک فعل محذوف ہے جو عبارت سے سمجھا جاتا ہے۔
۔ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَزَوْجِہٖ
[ فائ۔] کو یہاں مستانفہ سمجھنا زیادہ موزوں ہے۔ [ یَتَعَلَّمُونَ ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ” ھُمْ “ ہے۔ [ مِنْھُمَا ] جار مجرور مل کر متعلق فعل [ یَتَعَلَّمُونَ ] ہیں۔ [ مَا ] موصولہ ہے ‘ فعل (یَتَعَلَّمُونَ ) کا مفعول لہٰذا محلاً منصوب ہے بلکہ در اصل تو ” مَا “ کے بعد آنے والا صلہ بھی ساتھ مل کر مفعول بنے گا۔ [ یُفَرِّقُونَ ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ” ھُمْ “ ہے اور [ بِہٖ ] جار مجرور مل کر اس فعل (یُفَرِّقُونَ ) سے متعلق ہیں۔ [ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہف ] میں ” بَیْنَ “ تو ظرفِ منصوب ہے (جو ہمیشہ مضاف ہو کر ہی آتا ہے) اس کے بعد ” المَرْئِ “ اس ظرف کا مضاف الیہ مجرور ہے ‘ علامت جر آخری ” ئ “ کی کسرہ (-ِ ) ہے کیونکہ یہ معرف باللام بھی ہے۔ اس کے بعد ” وَ “ کے زریعے بعد والے لفظ (زَوْجِہٖ ) کو اس (المَرئ) پر عطف کیا گیا ہے۔ ” زَوجہٖ “ جو خود مرکب اضافی ہے ‘ کا پہلا جزء ” زَوْج “ یہاں مجرور پر عطف کی بناء پر مجرور ہے اور آگے مضاف ہونے کی وجہ سے خفیف بھی ہوگیا ہے۔ در اصل یہاں ” زَوْجِہٖ “ سے پہلے بھی ایک ” بَیْنَ “ محذوف ہے یعنی ” بَیْنَ المَرْئِ وَ بَیْنَ زَوْجِہٖ “ ہونا چاہیے تھا مگر جب وہ اسم ظاہر ” بَیْنَ “ کے مضاف الیہ ہوں تو ” بَیْنَ “ کی تکرار نہیں کی جاتی۔ اور یہ پورا جملہ (یُفَرِقُونَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہٖ ) ” مَا “ موصولہ کا صلہ ہے اور پھر یہ سارا صلہ موصول مل کر فعل ” یَتَعَلَّمُونَ “ کا مفعول بنتا ہے۔
F وَمَا ہُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ
[ وَ ] کو یہاں حالیہ ہی سمجھا جاسکتا ہے بمعنی ” حالانکہ “ [ مَا ] نافیہ حجازیہ ہے (جس کی خبر پر باء الجر آتی ہے) ۔ [ ھُمْ ] اس (مَا) کا اسم مرفوع ہے اور [ بِضَارِّینَ ] میں باء الجر زائدہ ہے (ان معنی میں کہ اس کے بغیر بھی ” ضَارِّینَ “ خبر منصوب ہوسکتی تھی مگر اس ” بِ “ سے معنی میں ایک زور پیدا ہوتا ہے لہٰذا یہ محض بیکار نہیں ہے) اور یہ ” بِضَارِّینَ “ جار مجرور مل کر ” مَا “ کی خبر ہے جو محلاً نصب میں ہی ہے۔ [ بِہٖ ] جار مجرور مل کر متعلق خبر (ضَارِّینَ ) ہیں۔ [ مِنْ اَحَدٍ ] میں بھی در اصل تو ” اَحَدًا “ اسم الفاعل ” ضَارِّینَ “ کا مفعول ہو کر نصب میں تھا مگر اس پر ” مِنْ “ لگا کر اس کے عموم جنکرہ میں قطعیت پیدا کی گئی ہے یعنی کسی ” ایک ایک کو بھی “ یوں یہ ” مِنْ اَحَدٍ “ مفعول ہو کر (لفظاً مجرور مگر) محلاً منصوب ہے کیونکہ اسم الفاعل (جیسا کہ ” ضَارِّینَ “ ہے) بھی فعل کا سا عمل کرتا ہے۔ [ اِلاَّ ] حرف استثناء ہے جو نفی کے بعد آنے سے ” اداۃِ حصر “ بن گیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ” مگر صرف “ ہوگا۔ [ بِاِذْنِ اللّٰہِ ] باء الجر کے بعد مضاف ” اِذْن “ اور مضاف الیہ ” اللّٰہِ “ بلحاظِ معنی ” ضَارِّینَ “ (فاعل) یا ” مِنْ اَحَدٍ “ (مفعول) دونوں کا حال سمجھا گیا ہے یعنی یہ نقصان اور ضرر پہنچانا “ یا ” پہنچنا “ اسی حالت میں ہوسکتا ہے کہ اللہ کا اذن و حکم ساتھ شامل ہو یعنی مقدر عبارت ” اِلاَّ مَقْرُونًا بِاِذْنِ اللّٰہِ “ بنتی ہے۔
G وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنْفَعُہُمْ
[ وَ ] عاطفہ ہے۔ [ یَتَعَلَّمُونَ ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ” ھُمْ “ ہے اور یہ سابقہ ” یَتَعَلَّمُونَ “ پر ہی عطف ہے۔ [ مَا ] موصولہ ” یَتَعَلَّمُونَ “ کا مفعول بہ محلاً منصوب ہے۔ [ یَضُرُّھُمْ ] میں ” یَضُرُّ “ فعل مضارع معروف صیغہ واحد غائب مذکر ہے جس کی ضمیر فاعل ” ھُوَ “ مَا موصولہ کے لیے ہے اور ” ھُمْ “ ضمیر منصوب فعل ” یَضُرُّ “ کا مفعول بہ ہے اور یہ جملہ ” یَضُرُّھُمْ “ ” مَا “ کا صلہ ہے۔ اس کے بعد پھر [ وَ ] عاطفہ ہے اور [ لَا یَنْفَعُعُمْ ] میں ” لَا یَنْفَعُ “ تو فعل مضارع معروف منفی بلا مع ضمیر الفاعل ” ھُوَ “ ہے اور اس کے آخر پر بھی ” ھم “ ضمیر منصوب مفعول بہ ہے اور یہ جملہ (لَا یَنْفَعُعُمْ ) بھی بذریعہ واو العطف ” مَا “ کا صلہ ہی بنتا ہے اور یہ صل موصول (ما یضرُّھم وَ لا ینفعُھم) مل کر فعل ” یتعلَّمُون “ کا مفعول بہ لہٰذا محلاً منصوب ہے۔
H وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰہُ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍط
[ وَ ] یہاں مستانفہ ہی ہوسکتی ہے۔ اس لیے اس عبارت کے شروع اور آخر میں وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی گئی ہے۔ [ لَقَدْ ] لامِ تاکید اور حرفِ تحقیق ” قَدْ “ کا مجموعہ ہے۔ [ عَلِمُوا ] فعل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ” ھُمْ “ ہے اور [ لَمَن ] کی ابتدائی لام مفتوحہ لام الابتداء ہے (جو مبتدا پر آتی ہے اور تاکید کے معنی پیدا کرتی ہے) اور ” مَنْ “ یہاں اسم الموصول مبتدأ ہے اور یہ شرطیہ بھی ہے۔ [ اشترٰہ ] فعل ماضی معروف واحد مذکر غائب (اشترٰی) کے ساتھ ضمیر منصوب (ہُ ) مفعول بہ ہے۔ [ مَا ] نافیہ حجازیہ ہے۔ [ لَہ ] جار (ل) اور مجرور (ہ) مل کر اس ” مَا “ کی خبر (قائم مقام خبر) کا کام دے رہا ہے جو اس کے اسم سے مقدم آئی ہے۔ [ فِی الاخرۃِ ] جار (ف) اور مجرور (الاخرہ) مل کر متعلق خبر یا بلحاظ معنی حال کا قائم مقام سمجھا جاسکتا ہے (یعنی ا حالت میں کہ وہ آخرت میں ہوگا کے مفہوم کی صورت میں) ۔ [ مِنْ خَلَاقٍ ] ” مِنْ “ جارہ زائدہ ہے اور ” خَلَاق “ نکرہ مجرور ” بِمَنْ “ ہے جس سے ” خَلَاقٍ “ (کچھ حصہ) کے عموم نکرہ میں مزید قطعیت آتی ہے۔ یعنی کچھ حصے میں سے بھی نہیں ہوگا۔ یہاں در اصل لفظ ” خَلَاقٌ“ مرفوع تھا کیونکہ وہ ” مَا “ کا اسم یا مبتدأ مؤخر تھا (جب خبر جار مجرور یا ظرفِ مضاف کی صورت میں مقدم آئے۔ جیسے یہاں ” لَہٗ “ ہے تو مبتدأ مٔخر نکرہ ہو کر آتا ہے) ۔ یہاں اگر جملہ منفی نہ ہوتا تو بنیادی عبارت ہوتی ” لہ خلاقٌ“ (اس کے لیے کچھ حصہ ہے) جیسے کہیں ” لہ ابنٌ“ اس کا ایک بیٹا ہے ‘ پھر شروع میں ” ما “ لگنے سے جملہ منفی ہوا۔ یعنی ” ما لہ خلاقٌ“ بنا (اس کا کوئی حصہ نہیں ہے) پھر اس میں مبتدأ مؤخر سے پہلے ” فی الآخرۃِ “ کا اضافہ ہوا۔ یہ بعد میں بھی آسکتا تھا مگر اس تقدیم سے اس میں زور پیدا ہوا ہے یعنی ” آخرت میں ہی “ تو اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا اور ” خَلاق “ کو مزید قطعی نکرہ بنانے کے لیے ” مِن “ لگا۔ یوں اس (مِن خَلاقٍ ) کا ترجمہ ہوا ” کچھ بھی حصہ “۔ اس طرح یہ ” مِنْ خَلَاقٍ “ ” مَا “ کا اسم ہونے کی بناء پر محلاً مرفوع ہے اور یہ جملہ (لَمَنِ اشْتَرٰہُ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ ) اس لحاظ سے محلاً مرفوع ہے کہ یہ در اصل ابتدائی فعل ” عَلِمُوا “ کے دونوں مفعولوں کا قائم مقام ہے۔ (فعل ” عَلِمَ “ کے بعض دفعہ دو مفعول بھی آتے ہیں۔ دیکھیے الممتحنہ : 10 میں ہے ” اِنْ عَلِمْتُموُھُنَّ مُؤْمِنَاتٍ “ ) یعنی ” انہوں نے جان لیا اس کے خریدار کو محرومِ آخرت “ کے مفہوم کے ساتھ یہ عبارت فعل ” عَلِمُوا “ کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔
I وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَہُمْ
[ وَ ] عاطفہ ہے اور [ لَبِئْسَ ] کی ابتدائی لام مفتوحہ تاکید کے لیے آتی ہے اور ” بِئْسَ “ فعل ذم ہے جو جامد فعل ہے۔ [ مَا ] کو موصولہ سمجھیں تو یہ ” بِئْسَ “ کا فاعل مرفوع ہے یا اسے نکرہ تامہ (بمعنی شَیْئًا ) لیں تو اے فعل ذم کی تمیز منصوب بھی سمجھ سکتے ہیں (نحوی افعال مدح و ذم کی دونوں طرح ترکیب کرتے ہیں۔ دیکھیے البقرہ : 9 [ 2: 55: 2] میں ” بِئْسَمَا “ کے اعراب کی بحث) اور یہ فعل اور فاعل (لَبِئْسَ مَا) مل کر آگے آنے والے مبتدأ (مخصوص بالذم) کی خبر مقدم بنتی ہے۔ [ شَرَوْا ] فعل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ” ھُمْ “ ہے۔ [ بِہٖ ] جار مجرور متعلق فعل ” شَرَوْا “ اور [ اَنْفُسَھُمْ ] مضاف (اَنْفُس) اور مضاف الیہ (ھُم) مل کر فعل ” شَرَوْا “ کا مفعول بہ ہے۔ ای لیے ” اَنْفُسَ “ نصب میں ہے جس کی علامت ” مَن “ کی فتحہ (-َ ) ہے اس طرح یہ جملہ (شَرَوْا بِہٖ اَنْفُسَھُمْ ) مخصوص بالذم ہو کر مبتدأ ہے جس کی خبر مقدم جملہ فعلیہ ” بِئْسَ مَا “ ہے۔
J لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
[ لَوْ ] شرطیہ (بمعنی اگر) بھی ہوسکتا ہے اور حرفِ تمنی (بمعنی کاش کہ) بھی۔ دونوں صورتوں میں یہ کوئی عمل نہیں کرتا یعنی شرطیہ ہوتے ہوئے بھی جزم نہیں دیتا۔ [ کَانُوا ] فعل ناقص صیغہ جمع مذکر غائب ہے جس میں اسم کَانَ ” ھُمْ “ شامل ہے۔ [ یَعْلَمُونَ ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ” ھُمْ “ جملہ فعلیہ بن کر ” کَانُوا “ کی خبر ہے۔ گویا ” لَو کَانُوا عَالِمِین “ کے مفہوم میں ہے۔ ” لَوْ “ کو ” تمنّی “ کے لیے سمجھیں تو یہ جملہ مکمل ہے۔ اگر ” لَوْ “ کو شرطیہ سمجھا جائے تو جوابِ شرط محذوف ہے مثلاً ” لَمَّا فَعَلُوہُ “ (تو وہ ایسا نہ کرتے)
K وَلَوْ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَۃٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ
[ وَ ] یہاں استیناف کی ہے اور [ لَوْ ] یہاں شرطیہ ہی ہے جسے بعض نحوی ” حرفُ امتناعٍ لِامتناعٍ “ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کسی ایسی شرط کا بیان ہوتا ہے جس کا وجود نہیں (یعنی پائی نہ گئی) اس لیے اس کا جواب بھی ممتنع (نا قابل حصول) ہے۔ یعنی چونکہ شرط ممتنع (غیر موجود ہے) تو جوابِ شرط بھی ممتنع (غیر ممکن) ہوتا ہے۔ [ اَنَّھُم ] یہ حرفِ مشبہ بالفعل (اَنَّ ) اور اس کا اسم (ضمیر منصوب ” ھُمْ “ ) ہے مگر چونکہ ” لَوْ “ شرطیہ جملہ اسمیہ پر داخل نہیں ہوتا اس کے بعد کوئی فعل ہی آنا چاہیے اس لیے نحوی اس ” اَنَّھُمْ “ کو ایک محذوف فعل ( ثَبَتَ = ثابت ہوجانا) کے ہم معنی سمجھتے ہیں اور پھر اس (اَنَّھُمْ ) کے بعد بصورت خبر آنے والے فعل کو مصدر مؤول (بطورِ مصدر) اس محذوف فعل (ثَبَتَ ) کا فاعل سمجھتے ہیں مثلاً یہاں اس ” اَنَّھُمْ “ کی خبر ماضی کے دو صیغہ فعل [ اَمَنُوا وَ اتَّقَوْا ] آئے ہیں اب یا تو یہ سیدھا شرطیہ جملہ ” لَوْ اٰمَنُوا وَاتَّقَوْا “ ہوتا تو ٹھیک تھا کہ ” لَوْ “ کے بعد فعل ہی آتا ہے لیکن اب ” لَوْ “ کے بعد ” اَنَّھُمْ “ آنے کی وجہ سے (جو جملہ اسمیہ کی ابتداء ہے) ان دونوں صیغہ ہائے فعل کے مصدر مؤوّل اس محذوف فعل کے فاعل مرفوع سمجھے جائیں گے۔ گویا یہ عبارت اب در اصل ” لَوْ ثَبَتَ اِیمَانُھم و تَقوٰھُم “ سمجھی جائے گی یعنی اگر ان کا ” ایمان اور تقویٰ ثابت ہوتا “ یہ الجھن صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ ” لَوْ “ کے بعد جملہ فعلیہ ہی آتا ہے اگر جملہ اسمیہ آجائے تو نحوی حضرات اسے کھینچ تان کر (ایک محذوف فعل کے ذریعے ہی سہی) جملہ فعلیہ بنا لیتے ہیں۔ اردو میں اس ” اَنَّھُمْ “ کے ” اَنَّ “ (کہ بےشک) کا ترجمہ نہ کرنے کی یہی وجہ ہے۔ کیونکہ ” لَوْ “ (اگر) کے ساتھ (بےشک) لگنے کا کوئی تُک نہیں بنتا۔ اسی لیے نحوی اس ” اَنّ “ کو فعل ” ثَبَتَ “ کے معنی میں لیتے ہیں کہ ” ثابت “ اور ” بیشک “ ایک طرح سے ہم معنی ہیں۔ [ لَمَثُوبَۃٌ] کے شروع میں لام الابتداء ہے جو بعض دفعہ بغرض تاکید مبتدأ پر بھی لگتی ہے اور یہ جوابِ شرط (لَوْ ) میں آنے والی لام مفتوحہ بھی ہوسکتی ہے۔ ویسے عموماً جواب لَوْ میں آنے والے لام مفتوحہ کے بعد بھی جملہ فعلیہ ہی آتا ہے۔ اس لیے اسے لام الابتداء سمجھنا زیادہ بہتر ہے۔ ” مَثُوبۃٌ“ یہاں مبتدأ مرفوع ہے اور اس کے نکرہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر صفت موصوف (مرکب توصیفی) نکرہ آئے تو اس میں مبتدأ بننے کی صلاحیت ہوتی ہے (جیسے لَعَبْدٌ مُؤمِنٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ ) (البقرہ : 221 میں ہے) یہاں بھی [ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ] پورا مرکب جاری (مِنْ جارہ + عند ظرف مضاف + اللّٰہ مضاف الیہ) مل کر ” مَثُوبۃ “ نکرہ موصوفہ کی صفت کا کام دے رہا ہے ‘ یعنی ” وہ ثواب جو اللہ کے ہاں سے ملتا تو وہ “ کا مفہوم رکھتا ہے۔ [ خَیْر ] اس (مَثُوبَۃ) کی خبر مرفوع ہے۔
L لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
یہی جملہ اوپر نمبر 10 میں گزرا ہے۔
2: 62: 3 الرسم
زیر مطالعہ آیات میں بلحاظ رسم قرآنی کل گیارہ کلمات قابل توجہ ہیں۔ ان میں سے چار کلمات کا رسم مختلف فیہ ہے اور سات کا متفق علیہ۔ یہ گیارہ کلمات حسب ذیل ہیں : تتلوا ‘ الشیٰطین ‘ سلیمٰن ‘ لٰکن ‘ ھاروت ‘ ماروت ‘ یعلَمٰن ‘ اشترٰہ ‘ الاخرۃ ‘ خَلَاق اور لَبِئس مَا ۔
تفصیل یوں ہے :
A ” تَتْلُوا “ : اس صیغہ فعل کی عام املاء ” تَتْلُو “ (واو کے بعد الف کے بغیر) ہے تاہم مصاحف میں اس کے آخر پر ایک زائد الف لکھا جاتا ہے (تَتْلُوا) اصل مصاحف عثمانی کے رسم میں متعدد کلمات میں الف زائدہ لکھا گیا تھا جن کا ذکر کتب الرسم میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ” زیادات “ کو کسی قاعدے (عموم) کے تحت بھی بیان کیا گیا ہے۔ 1؎ (یا یوں کہیے کہ مصاحف عثمانی کے رسم سے یہ قاعدے اخذ کیے گئے) تاہم زیادہ تر ” الف “ کی یہ زیادتی کسی قاعدہ قانون کے تحت نہیں بلکہ ” نقل صحیح “ کی بناء پر اس کی پابندی کی جاتی ہے۔ مثلاً رسم عثمانی میں ہر واو متطرفہ (آخر پر آنے والی واو) کے آخر پر عموماً ایک زائد الف لکھا گیا تھا چاہے وہ کوئی اسم مضاف ہو یا صیغہ فعل۔ مثلاً اولوا ‘ بنوا ‘ مرسلوا یا آمنوا ‘ لا تفسدوا وغیرہ۔ بعد میں جب عربی املاء کو نحویوں نے ترقی دی اور اس کے قواعد بنائے تو اس قسم کا زائد الف صرف واو الجمع والے صیغہ فعل کے لیے ضروری قرار دیا گیا باقی کلمات میں جہاں واو متطرفہ آئے وہاں اس کا لکھنا غلط قرار دیا گیا ‘ تاہم قرآن کریم کی املاء نحوی قواعد املاء کے تحت نہیں بلکہ نقل اور روایت کے تحت اختیار کی جاتی ہے۔ قرآن کریم کی املاء میں یہ واو الجمع (فعل) کے بعد الف زائدہ کا قاعدہ چلتا ہے۔ مثلاً اسی قطعہ میں سات افعال (اتبعوا ‘ کفروا ‘ شروا ‘ کانوا ‘ آمنوا ‘ اتقوا اور علموا ) کے ساتھ آخر پر واو کے بعد الف زائدہ لکھا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس قاعدہ کے خلاف (یا اس سے مستثنیٰ ) چھ صیغہ افعال آئے ہیں۔ ان پر حسب موقع بات ہوگی۔ اب یہ صیغہ فعل ” تَتْلُو “ تو واحد کا صیغہ ہے اور اس کی ” واو “ واو الجمع نہیں بلکہ اصل مادہ کی ” و “ ہے (تَلا یتلُو سے) ۔ لہٰذا عام رسم املائی میں اس کے بعد زائد الف لکھنا غلط ہے مگر رسم عثمانی کے مطابق یہاں زائد الف لکھنا بالاتفاق ضروری ہے۔ قرآن کریم میں صیغہ فعل ” یتلوا “ (واحد مذکر) سات جگہ ‘ ” تَتْلُوا “ (صیغہ واحد مؤنث غائب یا مذکر حاضر) 5 جگہ ‘ ” اَتْلُوا “ (واحد متکلم) دو جگہ اور ” نَتْلُوا “ (جمع متکلم) ایک جگہ آیا ہے۔ ان تمام مقامات پر آخر میں الف زائدہ لکھا جاتا ہے۔ البتہ اگر ایسے صیغہ فعل کے ساتھ کوئی ضمیر منصوب (مفعول) آجائے تو پھر یہ الف نہیں لکھا جاتا۔
1؎ مثلاً دیکھیے سمیر الطالبین للضباع ‘ ص 72 ۔ المقنع للدانی ‘ ص 42 ۔ العقیلہ ‘ ص 55 ۔ ببعد ‘ دلیل الحیران للمارعنی ‘ ص 224 ۔ و نشر المرجان للارکاتی ‘ 1: 61 تا 65 ۔
B ” الشّیٰطِین “ : اس کی عام املاء ” الشیَاطین “ (باثبات الف بعد الیائ) ہے مگر قرآن کریم میں بالاتفاق اسے یہاں اور ہر جگہ (اور یہ لفظ مفرد مرکب صورتوں میں 18 جگہ آیا ہے) بحذف الالف بعد الیاء (الشیٰطین) لکھا جاتا ہے تاہم یہ الف پڑھا جاتا ہے اس لیے بذریعہ ضبط ظاہر کیا جاتا ہے اسی آیت میں یہ لفظ دو بار آیا ہے۔
C ” سلیمٰن “ : اس کی عام املاء ” سُلَیمان “ یعنی باثبات الف بعد المیم ہے مگر قرآن کریم میں اسے یہاں اور ہر جگہ (اور یہ لفظ کل 17 جگہ آیا ہے دو دفعہ تو اسی آیت میں ہے) بالاتفاق بحذف الالف بعد المیم (بصورت ” سلیمٰن “ ) ہی لکھا جاتا ہے۔
D ” لٰکِن “: مخففہ (لٰکِنْ ) ہو یا مشددہ (لٰکِنَّ ) قرآن کریم میں بلکہ عام عربی املاء میں بھی ہمیشہ ” بحذف الالف بعد اللام “ لکھا جاتا ہے (قیاس تو ” لاکِن “ چاہتا تھا) اور اس کا یہ رسم املائی بھی عربی املاء پر رسم قرآنی (عثمانی) کے اثرات کا مظہر ہے۔
۔ ” ھَارُوت “ : یہ بھی ایک عجمی (غیر عربی) نام ہے۔ اس کے الف بعد الھاء کے حذف یا اثبات میں اختلاف ہے۔ ابو داؤد کی طرف منسوب قول حذف کے حق میں ہے جبکہ الدانی سے اثبات منقول ہے۔ چناچہ بیشتر عرب اور افریقی مصاحف میں اسے بحذف الف ” ھروت “ لکھا جاتا ہے مگر برصغیر ‘ ایران ‘ ترکی وغیر کے علاوہ لیبیا کے مصاحف میں اسے باثباتِ الف ” ھَارُوت “ لکھا جاتا ہے۔
F ” مَارُوت “ : اس کی املاء میں بھی وہی مندرجہ بالا ( ھَارُوت والا) اختلاف ہے۔ یعنی ابو داؤد کے مطابق یہ ” مٰرُوت “ ہے۔ مگر الدانی کے مطابق اس کی املاء ” مَارُوت “ (باثباتِ الف) ہے۔
G ” یُعَلِّمٰنِ “ : یہ فعل مضارع کا صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے۔ عام رسم املائی میں اسے ” یعلِّمان “ (باثبات الف بعد المیم) لکھا جاتا ہے۔ تثنیہ کے صیغہ کے بارے میں رسم قرآنی کا قاعدہ یہ بیان کیا گیا ہے 1؎ کہ تثنیہ
1؎ دیکھیے ‘ سمیر الطالبین ‘ ص 37 ۔ المقنع ص 17 ۔ شرح العقیلہ ‘ ص 47 ۔ و لطائف البیان لزیتحارا : 33 و نشر المرجان 1: 31 ۔
کا الف (فعل میں ہو جیسے یہاں ہے یا کسی اسم مرفوع میں ہو جیسے ” رَجُلَانِ “ میں ہے) یہ جب لفظ کے اندر واقع ہو یعنی متطرف (آخر پر الگ) نہ ہو (جیسے قالا ] کانَتا یا مضاف مرفوع مثلاً ” رَسُولَا رَبِّکَ “ میں ہے) تو ابو داؤد کے قول کے مطابق یہ الف تثنیہ ہر جگہ لکھا جاتا ہے البتہ بعض مقامات پر محذوف کیا جاتا ہے۔ جب کہ الدانی کے مطابق تثنیہ کا یہ الف (اسماء و افعال دونوں میں) لکھنے میں محذوف ہوتا ہے البتہ سورة الرحمٰن کے ” تُکَذِّبَانِ “ دونوں طرح (بحذف اور باثبات) لکھے جاتے ہیں۔ چناچہ ایشیائی ممالک اور لیبیا کے مصاحف میں یہ لفظ بحذفِ الف ” یُعَلِّمٰنِ “ لکھا جاتا ہے ‘ جب کہ ابو داؤد کے قول پر عمل کرتے ہوئے بیشتر عرب اور افریقی ممالک کے مصاحف میں اسے باثباتِ الف یعنی عام رسم املائی کی طرح ” یُعَلِّمَانِ “ لکھا جاتا ہے اور وجہ اس اختلاف کی یہ ہے کہ اصل مصاحف عثمانی میں یہ (تثنیہ والے الفاظ) کہیں حذف الف اور کہیں اثبات الف کے ساتھ لکھے گئے تھے۔
H ” اِشْتَرٰیہُ “ : اس کا ابتدائی صیغہ فعل ” اِشْتَرٰی “ رسم املائی میں بھی آخر پر ” ی “ کے ساتھ ہی لکھا جاتا ہے جو پڑھی بصورت ” الف “ ہی جاتی ہے۔ جب اس صیغہ کے بعد کوئی ضمیر بطور مفعول آرہی ہو (جیسے یہاں ہے) تو عام رسم املائی میں اس ” ی “ کو بصورتِ الف ہی لکھ دیتے ہیں (یعنی یہاں بصورت ” اِشْتَرَاہُ “ ) تاہم قرآن کریم میں ایسی ” ی “ جو تعلیل صرفی کی بنا پر الف میں بدل کر بولی جاتی ہو عموماً اسے ہر جگہ بصورت ” یائ “ ہی لکھا جاتا ہے البتہ اس کے بعد مستثنیات ہیں جو حسب موقع بیان ہوں گے۔ تعلیل صرفی کے نتیجے میں الف میں بدلنے والی ” یائ “ کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے الف بصورت ” یائ “ ہی لکھے جاتے ہیں (مثلاً اِلٰی ‘ علٰی ‘ حتی یا یتامٰی ‘ نحوی وغیرہ) جن میں سے بہت سے کلمات عام عربی میں بھی رسم قرآنی ہی کی طرح لکھے جاتے ہیں یعنی الف کو بصورت ” ی “ لکھنے کے کچھ مقررہ قواعد مستنبط کیے گئے ہیں اور ہر قاعدہ کے کچھ مستثنیات ہیں 1؎ لہٰذا ہم ایسے الفاظ پر حسب موقع فرداً فرداً بات کرتے جائیں گے۔ بہرحال یہ لفظ ” اشترٰی “ (صیغہ واحد مذکر غائب) ضمیر مفعول برائے واحد مذکر (ہُ ) کے ساتھ قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ بالاتفاق الف بصورت یاء کے ساتھ (یعنی ” اشترٰی “ ) ہی لکھا جاتا ہے۔
1؎ دیکھیے ‘ المقنع ص 63 ۔ ببعد ‘ سمیر الطالبین ‘ س 85 ۔ ببعد ‘ نثر المرجان 1: 69 ببعد۔
۔ ” الاخِرَۃ “: اس لفظ کے رسم عثمانی پر جو رسم املائی کے مطابق ہی ہے (یا یوں کہیے کہ رسم املائی در اصل قرآنی پر ہی مبنی ہے) اس سے پہلے البقرہ؛ 4 [ 2: 3: 3] میں مفصل بات ہوئی تھی۔
۔ ” خَلاق “: یہی اس کا رسم املائی بھی ہے۔ تاہم اس کے رسم عثمانی میں اختلاف ہے۔ ابو داؤد کے قول کے مطابق یہ ” بحذف الالف بعد اللام “ یعنی بصورت ” خلٰق “ لکھا جاتا ہے۔ الدانی نے اس کے حذفِ الف کا ذکر نہیں کیا جو اثبات کو مستلزم ہے۔ بلکہ الدانی نے ” فعّال “ کے وزن پر آنے والے کلمات میں الف کے اثبات کی تصریح کی ہے۔ چناچہ یہ لفظ بھی بیشتر افریقی و عرب ممالک کے مصاحف میں بحذف الف (خلٰق) لکھا جاتا ہے۔ اور لیبیا کے علاوہ تمام ایشیائی ممالک میں یہ باثبات الف (خَلاق) لکھا جاتا ہے۔ یہ لفظ قرآن کریم میں (مفرد یا مرکب شکل میں) کل چھ جگہ آیا ہے اور ہر جگہ یہی اختلاف ہے۔
۔ ” لَبِئْسَ مَا “: یہ دو لفظ یہاں بالاتفاق مقطوع لکھے جاتے ہیں یعنی ” لبئس “ کے ” س “ کو ” ما “ کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا جاتا ہے (جیسا کہ چند مقررہ مقامات پر ” بئس “ اور ” ما “ کو موصول (ملا کر) لکھا جات ہے۔ مزید دیکھیے البقرہ : 9 [ 2: 55: 3] میں کلمہ ” بِئْسَمَا “ کی بحث الرسم۔
2: 62: 4 الضبط
زیر مطالعہ قطعہ میں ضبط کا کافی تنوع موجود ہے۔ تاہم اب ہم صرف ان کلمات کے ضبط کے نمونے دیں گے جن میں تنوع زیادہ ہے۔ اگر محض حرکات یا ہمزہ کی شکل کا فرق ہے (-َ ‘ -ِ ‘ -ُ یا -َ ‘ -ِ ‘ -ُ یائ ‘ ۔ ‘ ر یاہ وغیرہ) تو اسے دوبارہ نہیں لکھا جائے گا
Ayah 2:103[ وَلَوْ : اور اگر ] [ اَنَّھُمْ : یہ کہ وہ لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لاتے ] [ وَاتَّقَوْا : اور پرہیزگاری کرتے ] [ لَمَثُوْبَةٌ: تو بدلہ ] [ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ : اللہ کے پاس سے ] [ خَيْرٌ ۭ : بہتر ہوتا ] [ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : کاش وہ لوگ جانتے ہوتے ]
Ayah 2:104[ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ] [ لَا تَقُوْلُوْا : تم لوگ مت کہو ] [ رَاعِنَا : راعنا ] [ وَقُوْلُوا : اور کہو ] [ انْظُرْنَا : آپ مہلت دیں ہم کو ] [ وَاسْمَعُوْا ۭ : اور تم لوگ سنو ] [ وَلِلْكٰفِرِيْنَ : اور انکار کرنے والوں کے لیے ] [ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے ]
Ayah 2:105[ مَا يَوَدُّ : نہیں چاہتے ] [ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ] [ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ] [ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ : اور نہ ہی شرک کرنے والوں میں سے ] [ اَنْ يُّنَزَّلَ : کہ نازل کی جائے ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنْ خَيْرٍ : کوئی بھلائی ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ : تمہارے رب کی طرف سے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ يَخْتَصُّ : مخصوص کرتا ہے ] [ بِرَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت سے ] [ مَنْ : ان کو جن کو ] [ يَّشَاۗءُ ۭ: وہ چاہتا ہے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : بڑے فضل والا ہے ]