2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مُردار نہ کھاؤ، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کر ے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ حَرَّمَ : اس نے حرام کیا ] [ عَلَیْکُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْمَیْتَۃَ : مردار کو ] [ وَالدَّمَ : اور خون کو ] [ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ : اور سور کے گوشت کو ] [ وَمَا : اور اس کو ] [ اُھِلَّ : پکارا گیا ] [ بِہٖ : جس پر ] [ لِغَیْرِ اللّٰہِ : اللہ کے بغیر ] [ فَمَنِ : پس جو ] [ اضْطُرَّ : لاچار کیا گیا ] [ غَیْرَ بَاغٍ : اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو ] [ وَّلَا عَادٍ : اور نہ حد سے گزرنے والا ہو ] [ فَلَا اِثْمَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ] خ ن ز خَنِزَ (س) خَنَزًا : گوشت کا سڑاند والا ہونا ‘ بدبودار ہونا۔ خِنْزِیْرٌ ج خَنَازِیْرُ : گلے کی گلٹی ‘ سور۔{ وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ } (المائدۃ :60) ” اور اس نے بنائے ان میں سے بندر اور سور۔ “ ھ ل ل ھَلَّ (ن) ھَلًّا : نیا چاند ظاہر ہونا ‘ قمری مہینہ شروع ہونا۔ ھِلَالٌ ج اَھِلَّۃٌ : ابتدائی اور آخری راتوں کا باریک چاند۔ { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃِ } (البقرۃ :189) ” یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے باریک چاندوں کے بارے میں۔ “ اَھَلَّ (افعال) اِھْلَالًا : نیا چاند دیکھ کر آواز دینا ‘ پکارنا۔ (آیت زیر مطالعہ) ترکیب :” حَرَّمَ “ فعل ہے ‘ اس کا فاعل اس میں موجود ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے۔ ” عَلَیْکُمْ “ متعلق فعل ہے۔” اَلْمَیْتَۃَ ‘ اَلدَّمَ ‘ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ “ اور ” مَا “ یہ سب ” حَرَّمَ “ کے مفعول ہیں۔ ” مَا “ موصولہ ہے ” اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ “ اس کا صلہ ہے۔” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” اُضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ “ شرط ہے جبکہ ” فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ “ جواب شرط ہے۔ ” اُضْطُرَّ “ بابِ افتعال کا ماضی مجہول ہے۔” غَیْرَ بَاغٍ “ حال ہے ‘ اس لیے مضاف ” غَیْرَ “ پر نصب آئی ہے اور ” بَاغٍ “ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہے۔” عَادٍ “ سے پہلے ” غَیْرَ “ محذوف ہے اس لیے یہ حالت جر میں ہے اور یہ بھی حال ہے۔ ” فَلَا اِثْمَ “ میں لائے نفی ٔجنس ہے اس لیے ” اِثْمَ “ تنوین کے بغیر حالت نصب میں آیا ہے۔ نوٹ (1) : اس آیت میں ” وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ “ کے الفاظ نسبتاً زیادہ غور طلب ہیں۔ مردار ‘ خون اور سور کا نام لینے کے بعد کسی چیز کا نام نہیں لیا گیا ‘ بلکہ ” وَمَا “ (اور اس کو) کہا گیا جس کی وجہ سے اس میں عمومیت پیدا ہوگئی اور اس میں ہر وہ چیز (صرف جانور نہیں) شامل ہوجائے گی جس پر آیت کے اس حصے کا اطلاق ہوگا۔ اسی طرح ” اُھِلَّ “ (پکارا گیا) کے ساتھ نام کے لفظ کا صراحتاً ذکر نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے اس میں بھی عمومیت پیدا ہوئی اور اس میں نام پکارنے کے علاوہ دیگر نیتیں بھی شامل ہوگئیں۔ اس بنیاد پر علماء کرام چار صورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں جس کی تفصیل معارف القرآن میں دی ہوئی ہے۔ ہم ان چار صورتوں کی صرف نشاندہی کردیتے ہیں۔ 1) ایسا جانور جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے۔ 2) ایسا جانور جس کو ذبح کرتے وقت نام تو اللہ کا لیا جائے لیکن اس سے مقصود غیر اللہ کا تقرب ہو۔ 3) کسی جانور پر علامت لگا کر غیر اللہ کے تقرب اور تعظیم کے خیال سے چھوڑ دیا جائے اور اس سے کوئی کام وغیرہ نہ لیا جائے ‘ تو یہ عمل حرام ہے۔ البتہ کوئی دوسرا شخص ایسا کوئی جانور خرید کر اگر ذبح کر کے کھائے تو اس کے لیے حلال ہے۔ 4) جانوروں کے علاوہ ایسی دوسری چیزیں مثلاً مٹھائی یا کھانا وغیرہ بھی حرام ہیں جن پر غیر اللہ کے نام کی نذر (منت) مانی گئی ہو۔
Ayah 2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

حق یہ ہے کہ جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اور تھوڑے سے دُنیوی فائدوں پرا نہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ اُنہیں پاکیزہ ٹھیرائے گا، اور اُن کے لیے دردناک سزا ہے

[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جو ] [ یَکْتُمُوْنَ : چھپاتے ہیں ] [ مَا : اس کو جو ] [ اَنْزَلَ : اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنَ الْکِتٰبِ : کتاب میں سے ] [ وَیَشْتَرُوْنَ : اور وہ لوگ خریدتے ہیں ] [ بِہٖ : اس کے بدلے ] [ ثَمَنًا قَلِیْلًا : تھوڑی قیمت ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ مَا یَاْکُلُوْنَ : نہیں کھاتے ] [ فِیْ بُطُوْنِھِمْ : اپنے پیٹوں میں ] [ اِلاَّ : مگر ] [ النَّارَ : آگ ] [ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ : اور کلام نہیں کرے گا ان سے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ : اور نہ ان کا تزکیہ کرے گا ] [ وَلَھُمْ : اور ان کے لیے ہے ] [ عَذَابٌ اَلِیْمٌ: ایک دردناک عذاب ] ب ط ن بَطَنَ (ن) بَطْنًا : چھپا ہوا ہونا ‘ پوشیدہ ہونا۔ { وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ ط } (الانعام :151) ” اور تم لوگ قریب مت جائو بےحیائیوں کے ‘ جو ظاہر ہوا اس سے اور جو پوشیدہ رہا۔ “ بَاطِنٌ: (اسم الفاعل کے وزن پر صفت): پوشیدہ ہونے والا ‘ یعنی پوشیدہ۔{ وَذَرُوْا ظَاھِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ ط } (الانعام :120) ” اور تم لوگ چھوڑ دو گناہ کے ظاہرکو اور اس کے پوشیدہ کو۔ “ بِطَانَۃٌ جمع بَطَائِنُ : رازدار ‘ بھیدی ‘ کپڑے کا استر۔{ لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ } (آل عمران :118) ” تم لوگ مت بنائو کسی کو رازدار اپنوں کے سوا۔ “{ مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍ بَطَائِنُھَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ط } (الرحمٰن :54) ” ٹیک لگائے ہوئے بچھونوں پر ‘ ان کے استر بھڑکیلے ریشم کے ہوں گے۔ “ بَطْنٌ ج بُطُوْنٌ : پیٹ ‘ کسی وادی کا نشیبی حصہ۔ { فَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ ط } (النور :45) ” تو ان میں سے کوئی ہے جو چلتا ہے اپنے پیٹ کے بل۔ “{ وَھُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ } (الفتح :24) ” اور وہی ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ کے نشیب میں۔ “ آیت زیر مطالعہ میں لفظ ” بُطُونٌ“ (جمع) آیا ہے۔ ترکیب : ” یَکْتُمُوْنَ “ کا مفعول ” مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ “ ہے۔” بِہٖ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر ” مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ “ کے لیے ہے۔ ” مَایَاْکُلُوْنَ “ سے ” النَّارَ “ تک جملہ منفی ہے اس لیے ” اِلاَّ “ غیر مؤثر ہے اور ” یَاْکُلُوْنَ “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ” النَّارَ “ منصوب ہے۔ نوٹ (1) : ” یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ “ کی ” تفسیر نعیمی “ میں ان الفاظ سے وضاحت کی گئی ہے : ” چھپانا یہ بھی ہے کہ کتاب کے مضمون پر کسی کو مطلع نہ ہونے دیا جائے “۔ آج کل ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ درس قرآن میں جانے سے اور ترجمہ و تفسیر سے قرآن کا مطالعہ کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ علم کتابوں میں نہیں ملتا۔ ایسے لوگوں کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ وہ کس جرم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ ۔
Ayah 2:175

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں

[ اُولٰٓئِکَ : وہی لوگ ہیں ] [ الَّذِیْنَ : جنہوں نے ] [ اشْتَرَوُا : خریدا ] [ الضَّلٰلَۃَ : گمراہی کو ] [ بِالْھُدٰی : ہدایت کے بدلے ] [ وَالْعَذَابَ : اور عذاب کو ] [ بِالْمَغْفِرَۃِ : مغفرت کے بدلے ] [ فَمَآ : تو کس چیز نے ] [ اَصْبَرَھُمْ : صبر دیا ان کو ] [ عَلَی النَّارِ : آگ پر ] ترکیب :” فَمَا “ میں ” مَا “ اسم تعجب ہے اور مبتداء ہے۔” اَصْبَرَ “ فعل ‘ اس کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَا “ کے لیے ہے اور ” ھُمْ “ اس کی ضمیر مفعولی ہے۔ ” اَصْبَرَھُمْ “ جملہ فعلیہ مبتداء ” مَا “ کی خبر ہے اور ” عَلَی النَّارِ “ متعلق خبر ہے۔ نوٹ (1) : اوپر ترکیب میں بتایا گیا ہے کہ ” مَا “ اسم تعجب ہے۔ اس سلسلہ میں یہ سمجھ لیں کہ مَا اَفْعَلَہٗ اوراَفْعِلْ بِہٖ دو وزن ہیں جو اظہارِ تعجب کے لیے آتے ہیں اور ان کو ” تعجب کے دو صیغے “ (صِیْغَتَا التَّعَجُّبِ ) کہتے ہیں۔ جیسے ” مَا اَحْسَنَہٗ “ (کس چیز نے حسین بنایا اس کو) یا ” مَا اَحْسَنَ رَشِیْدًا “ (کس چیز نے حسین بنایا رشید کو) ۔ اس کی ترکیب اوپر بتادی گئی ہے اور لفظی ترجمہ بھی دے دیا گیا ہے ‘ لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ رشید کتنا حسین ہے۔ اس طرح ” مَا اَصْبَرَھُمْ عَلَی النَّارِ “ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ کتنے ثابت قدم ہیں آگ پر۔ اسی طرح ” اَحْسِنْ بِہٖ “ یا ” اَحْسِنْ بِرَشِیْدٍ “ میں ” اَحْسِنْ “ فعل امر ہے۔ ” بِ “ زائدہ ہے اور ” ہُ “ ضمیر مفعولی ہے۔ ” بِرَشِیْدٍ “ میں بھی ” بِ “ زائدہ ہے اور ” رَشِیْدٍ “ مفعول ہے۔ اس طرح اس کا لفظی ترجمہ ہوگا ” تو خوبصورتی دے اس کو “ یعنی تو خوبصورت سمجھ اس کو۔ اور ” تو خوبصورتی دے رشید کو “ یا ” تو خوبصورت سمجھ رشید کو “۔ لیکن مفہوم یہی ہے کہ رشید کتنا خوبصورت ہے۔
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے

[ ذٰلِکَ : وہ ] [ بِاَنَّ : اس سبب سے کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ نے ] [ نَزَّلَ : اُتارا ہے ] [ الْکِتٰبَ : کتاب کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَاِنَّ : اور یقینا ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ اخْتَلَفُوْا : اختلاف کیا ] [ فِی الْکِتٰبِ : کتاب میں ] [ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ : وہ لوگ دور کی مخالفت میں ہیں ] ب ع د بَعُدَ (ک) بُعْدًا : دُور ہونا۔ { وَلٰــکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْھِمُ الشُّقَّۃُ ط } (التوبۃ :42) ” اور لیکن دور ہوئی ان پر مسافت۔ “ بَعِدَ (س) بَعَدًا : تباہ و برباد ہونا ‘ ہلاک ہونا۔ { اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۔ } (ھود) ” خبردار ! ہلاکت ہے اہل مدین کے لیے جیسے ہلاک ہوئے ثمود۔ “ بَعِیْدٌ: (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے): دُور۔{ ذٰلِکَ ھُوَ الضّٰلٰلُ الْبَعِیْدُ ۔ } (الحج) ” یہی دور کی گمراہی ہے۔ “ بُعْدٌ (اسم ذات) : دُوری یا فاصلہ ‘ ہلاکت۔{ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ } (الزخرف :38) ” کاش میرے اور تیرے مابین دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا۔ “ { اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۔ } (ھود) ” خبردار ! ہلاکت ہے اہل مدین کے لیے جیسے ہلاک ہوئے ثمود۔ “ بَعْدٌ (ظرف زمان) : کسی کے پیچھے یا بعد۔ یہ زیادہ تر مضاف بن کر آتا ہے۔ اگر اس کا مضاف الیہ مذکور ہو تو ظرف ہونے کی وجہ سے ” بَعْدَ “ آتا ہے اور اگر محذوف ہو تو پھر یہ مبنی برضمہ (بَعْدُ ) ہوتا ہے۔{ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا } (آل عمران :8) ” اے ہمارے ربّ ! تو ٹیڑھا مت کر ہمارے دلوں کو اس کے بعد کہ تو نے ہدایت دی ہم کو۔ “{ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ } (البقرۃ :52) ” پھر ہم نے معاف کیا تم لوگوں کو اس کے بعد۔ “{ لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ط } (الروم :4) ” اللہ کے لیے ہی ہیں سب کام اس سے پہلے اور اس کے بعد۔ “ اَبْعَدَ (افعال) اِبْعَادًا : دور کرنا ‘ دور رکھنا۔ مُبْعَدٌ (اسم المفعول) : دُور کیا ہوا ‘ دُور رکھا ہوا۔{ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُولٰئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ ۔ } (الانبیائ) ” بیشک جن لوگوں کے لیے آگے آئی ہماری طرف سے نیکی وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے۔ “ بَاعَدَ (مفاعلہ) مُبَاعَدَۃً : کسی کو کسی سے دور کرنا۔ بَاعِدْ (فعل امر) : تو دور کردے۔ { رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا } (سبا :19) ” اے ہمارے ربّ ! تو دور کر دے (یعنی دراز کر دے) ہمارے سفروں کے درمیان کو۔ “ ترکیب : ” ذٰلِکَ “ کا اشارہ گزشتہ آیت میں مذکور عذاب کی طرف ہے۔ ” بِاَنَّ “ کا ” بِ “ سببیہ ہے۔ ” اَنَّ “ کا اسم لفظ ” اَللّٰہَ “ ہے ‘ اس لیے منصوب ہے۔” نَزَّلَ الْکِتٰبَ “ جملہ فعلیہ ” اَنَّ “ کی خبر ہے ‘ اس لیے ترجمہ میں لفظ ” ہے “ کا اضافہ ہوگا۔ ” بِالْحَقِّ “ متعلق خبر ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْکِتٰبِ “ یہ پور اجملہ ” اِنَّ “ کا اسم ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے جو ” قَائِمٌ“ ہوسکتی ہے۔ ” لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ “ قائم مقام خبر ہے۔ نوٹ (1) : اہل کتاب نے اللہ کے دین کو اتنا مسخ کردیا تھا کہ یہ معلوم کرنا ممکن نہ رہا کہ حلال کیا ہے ‘ حرام کیا ہے اور حق کیا ہے ‘ باطل کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کر کے حق و باطل کو پوری طرح واضح کردیا۔ دور کی مخالفت سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی چیز کی مخالفت میں اتنی دور نکل جائے کہ اسے اپنے نفع و نقصان کا بھی ہوش نہ رہے اور وہ مغفرت کو چھوڑ کر عذاب خریدنے لگے۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں

[ لَـیْسَ الْبِرَّ : کل نیکی یہی نہیں ہے ] [ اَنْ تُوَلُّوْا : کہ تم لوگ پھیر لو ] [ وُجُوْھَکُمْ : اپنے چہروں کو ] [ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ : مشرق اور مغرب کی طرف ] [ وَلٰــکِنَّ : اور لیکن (بلکہ) ] [ الْبِرَّ : نیکی ] [ مَنْ : اس کی ہے جو ] [ اٰمَنَ : ایمان لایا ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ : اور فرشتوں پر ] [ وَالْکِتٰبِ : اور کتاب پر ] [ وَالنَّبِیّٖنَ : اور نبیوں پر ] [ وَاٰتَی : اور (جس نے) دیا ] [ الْمَالَ : مال ] [ عَلٰی حُبِّہٖ : اس کی محبت کے باوجود ] [ ذَوِی الْقُرْبٰی : قرابت داروں کو ] [ وَالْیَتٰمٰی : اور یتیموں کو ] [ وَالْمَسٰکِیْنَ : اور مسکینوں کو ] [ وَابْنَ السَّبِیْلِ : اور راستے کے بیٹے (مسافر) کو ] [ وَالسَّائِلِیْنَ : اور مانگنے والوں کو ] [ وَفِی الرِّقَابِ : اور گردنوں (غلاموں) کے آزاد کرانے میں ] [ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ : اور (جس نے) قائم کیا نماز کو ] [ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ : اور (جس نے) پہنچایا زکوٰۃ کو ] [ وَالْمُوْفُوْنَ : اور (جو) پورا کرنے والے ہیں ] [ بِعَھْدِھِمْ : اپنے عہد کو ] [ اِذَا : جب بھی ] [ عٰھَدُوْا : وہ لوگ باہمی معاہدہ کریں ] [ وَالصّٰبِرِیْنَ : اور ثابت قدم رہنے والے ] [ فِی الْبَاْسَآئِ : (فقرو فاقہ کی) سختیوں میں ] [ وَالضَّرَّآئِ : اور تکالیف میں ] [ وَحِیْنَ الْبَاْسِ : اور گھمسان کی جنگ کے وقت ] [ اُولٰٓئِکَ : یہ ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ ہیں جنہوں نے ] [ صَدَقُوْا : سچ کر دکھایا (نیکی کو) ] [ وَاُولٰٓئِکَ : اور یہ لوگ ] [ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ : ہی متقی ہیں ] ی ت م یَتِمَ (س) یَتْمًا : چھوٹے بچے کا والدین کی شفقت سے محروم ہونا۔ یَتِیْمٌ ج یتامٰی (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفتِ مشبہ کا صیغہ): انسانوں میں ایسا بچہ جس کا باپ مرگیا ہو۔ جانوروں میں ایسا بچہ جس کی ماں مرگئی ہو۔ آیت زیر مطالعہ۔ س ب ل سَبَلَ (ن) سَبْلًا : لٹکنا ‘ بہنا ‘ رواں دواں ہونا۔ سَبِیْلٌ (ج) سُبُلٌ : فَعِیْلٌ کا وزن ہے۔ متعدد معانی میں آتا ہے : (1) آسان راستہ ‘ کھلی سڑک۔ { وَاِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ } (الحجر :76) ” اور یقینا وہ (یعنی بستی) ایک مستقل سڑک پر واقع ہے۔ “ { اَلَّذِیْ جَعَلَ لَــکُمُ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّجَعَلَ لَــکُمْ فِیْھَا سُبُلًا } (الزخرف :10) ” جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو فرش اور اس نے بنائے تمہارے لیے اس میں راستے۔ “ (2) راہ ‘ طریقہ (کسی نظریہ یا ضابطہ کے مطابق عمل کرنے کا طریقہ) { وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی } (النسائ :115) ” اور جس نے پیروی کی مؤمنوں کے طریقے کے علاوہ ‘ تو ہم پھیر دیں گے اس کو ادھر جدھر وہ پھرا۔ “ { وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ } (الانعام :55) ” اور تاکہ واضح ہوجائے مجرموں کا طریقہ۔ “ { وَمَالَنَا اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَقَدْ ھَدٰٹنَا سُبُلَنَا } (ابراھیم :12) ” اور ہمیں کیا ہے کہ ہم تو کّل نہ کریں اللہ اس پر اس حال میں کہ اس نے ہمیں راہنمائی دی ہے ہمارے طریقوں کی۔ “ (3) راہ ‘ ذریعہ (کسی تک پہنچنے یا خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ) ۔ { وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } (البقرۃ :195) ” اور تم لوگ خرچ کرو اللہ کی راہ میں۔ “{ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا } (العنکبوت :69) ” اور جن لوگوں نے جدوجہد کی ہمارے لیے ان کی ہم لازماً راہنمائی کریں گے اپنی راہوں کی۔ “ (4) الزام (کسی پر گرفت حاصل کرنے کا ذریعہ) { مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ } (التوبۃ :91) ” بلا کم وکاست کام کرنے والوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔ “ ر ق ب رَقَبَ (ن) رَقُوْبًا : نگہبانی کرنا ‘ انتظار کرنا ‘ کسی بات کا لحاظ کرنا۔ { لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلاَّ وَّلَا ذِمَّۃً } (التوبۃ :10) ” وہ لوگ لحاظ نہیں کرتے کسی مومن سے قرابت داری کا اور نہ ذمہ داری کا۔ “ رَقِیْبٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت مشبہ ): نگہبانی کرنے والا ‘ نگہبان۔ { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ} (ق :18) ” مُنہ سے نہیں نکلتی کوئی بات مگر یہ کہ اس کے پاس ہے ایک چوکس نگہبان۔ “ رَقَبَۃٌ (ج) رِقَابٌ (اسم ذات): گردن (کیونکہ گردن کو مختلف سمت میں گردش دے کر انسان نگہبانی کرتا ہے) ۔ { فَکَفَّارَتُہٗ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْ کِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَــبَۃٍ } (المائدۃ :89) ” تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اس کے اوسط سے جو تم لوگ کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو یا ان کو (دس مسکینوں کو) کپڑا پہنانا ہے یا کسی گردن کا آزاد کرنا ہے۔ “ تَحْرِیْرُ رَقَـبَۃٍکسی غلام کو آزاد کرانے کے لیے عربی محاورہ ہے۔ { فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ } (محمد :4) ” پس جب تم لوگ مقابل ہو ان کے جنہوں نے کفر کیا تو گردنوں کا مارنا ہے۔ “ تَرَقَّبَ (تفعّل) تَرَقُّبًا : کسی چیز سے بچنے کے لیے خود اپنی نگہبانی کرنا ‘ چوکنا ہونا۔ { فَخَرَجَ مِنْھَا خَائِفًا یَّــتَرَقَّبُ } (القصص :21) ” تو وہ نکلا وہاں سے ڈرتے ہوئے ‘ اپنی نگہبانی کرتے ۔ “ اِرْتَقَبَ (افتعال) اِرْتِقَابًا : اہتمام سے انتظار کرنا۔ اِرْتَقِبْ ( فعل امر) : تو انتظار کر۔{ فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ } (الدُّخان :10) ” پس تو انتظار کر اس دن کا جب آسمان لائے گا ایک واضح دھواں۔ “ مُرْتَقِبٌ (اسم الفاعل) : انتظار کرنے والا ۔ { فَارْتَقِبْ اِنَّھُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ } (الدُّخان :59) ” پس تو انتظار کر ‘ بیشک وہ لوگ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ “ ترکیب : استاد محترم پروفیسر حافظ احمد یار مرحوم کی یہ رائے ہے ‘ اور میرا ذہن اسی کو ترجیح دیتا ہے ‘ کہ ” اَنْ تُوَلُّوْا “ سے ” وَالْمَغْرِبِ “ تک پورا جملہ ” لَیْسَ “ کا اسم ہے ‘ جبکہ ” الْبِرَّ “ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اسے تاکید کے لیے مقدم کیا گیا ہے اور اس پر لام جنس ہے ۔ ” اَنْ “ کی وجہ سے ” تُوَلُّوْا “ مضارع منصوب ہے۔ اس کا فاعل اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” وُجُوْھَکُمْ “ مفعول ہے اور ” قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ “ مفعول فیہ ہے۔ ” لٰــکِنَّ “ کا اسم ہونے کی وجہ سے ” الْبِرَّ “ منصوب ہے اور ” مَنْ “ اس کی خبر ہے۔ یہ ” مَنْ “ موصولہ ہے اور ” اٰمَنَ بِاللّٰہِ “ سے ” اِذَا عَاھَدُوْا “ تک کے جملے اس کا صلہ ہیں۔” اَلْیَوْمَ “ سے ” النَّبِیّٖنَ “ تک تمام الفاظ سے پہلے حرف جر ” بِ “ محذوف ہے اس لیے یہ سب مجرور ہیں۔ ” اٰتَی “ سے پہلے ” مَنْ “ محذوف ہے۔ ” الْمَالَ “ اس کا مفعول اوّل ہے۔ ” عَلٰی حُبِّہٖ “ متعلق فعل ہے اور اس میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” اَلْمَالَ “ کے لیے ہے۔ ” ذَوِی الْقُرْبٰی “ سے ” فِی الرِّقَابِ “ تک ” اٰتَی “ کے مفعول ثانی ہیں۔ اسی طرح ” اَقَامَ الصَّلٰوۃَ “۔ ” اٰتَی الزَّکٰوۃَ “ اور ” اَلْمُوْفُوْنَ “ سے پہلے بھی ” مَنْ “ محذوف ہے۔ اردو میں ہم کہتے ہیں ” حامد کو شاباش ہے “۔ یہ دراصل ایک جملے کا تخفیف شدہ محاورہ ہے۔ پورا جملہ تھا ” میں حامد کو شاباش دیتا ہوں “۔ اس جملے میں حامد مفعول ہے۔ عربی میں کسی کی تعریف کرنے کے اس انداز کا محاورہ یہ ہے کہ صرف مفعول کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی ” حامد کو شاباش ہے “ کا عربی محاورہ میں ترجمہ ہوگا ” وَحَامِدًا “۔ اس انداز کو اضمارِ اَعْنِیکہتے ہیں۔ اب نوٹ کرلیں کہ اس آیت میں ” وَالصّٰبِرِیْنَ “ اِضمارِ اَعْنِیکی وجہ سے منصوب ہے۔ نوٹ (1) : عربی میں کسی قریبی چیز کی بلندی اور عظمت کے اظہار کے لیے اشارہ قریب کے بجائے اشارئہ بعید استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لحاظ سے اس آیت میں ” اُولٰئِکَ “ کا ترجمہ ” وہ “ کے بجائے ” یہ “ کیا گیا ہے۔ نوٹ (2) : کتاب ” آسان عربی گرامر “ حصہ اوّل کے پیراگراف 7:19 میں آپ کو بتایا گیا تھا کہ لفظ ” ذُوْ “ (والا) جب مضاف بن کر آتا ہے تو رفع ‘ نصب اور جر میں یہ ” ذُوْ ۔ ذَا۔ ذِی “ استعمال ہوتا ہے۔ اب نوٹ کرلیں کہ اس کی جمع رفع میں ” ذَوُوْ “ اور نصب و جر دونوں میں ” ذَوِیْ “ آتی ہے۔ اس آیت میں مفعول ہونے کی وجہ سے ” ذَوِیْ “ منصوب ہے۔ نوٹ (3) : یہ آیت تحویل قبلہ کے حکم کا تتمّہ ہے۔ اس حکم سے ذہنوں میں جو الجھن پیدا ہوئی تھی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نیکی کے کسی جزو کو ہی کُل نیکی سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس آیت میں اسی غلطی کی نشاندہی کرنے کے بعد کل نیکی کی تعریف (Definition) بیان کردی گئی ہے۔ ہمارے لیے اس کی افادیت یہ ہے کہ کسی کو کچھ لوگ جب نیک اور پارسا قرار دیں تو اسے چاہیے کہ وہ لوگوں کی اس بات پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کر بیٹھے ‘ بلکہ اس آیت میں دیے گئے نیکی کے معیار پر ہر پہلو سے خود کو پرکھ کر اپنے سود و زیاں کا حساب خود کرلے۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اِس جرم کی مرتکب ہو توا س عورت ہی سے قصاص لیا جائے ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو، تو معروف طریقے کے مطابق خوں بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے اس پر بھی جو زیادتی کرے، اس کے لیے دردناک سزا ہے

[ یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَیْکُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْقِصَاصُ : بدلہ فِی الْقَتْلٰی : مقتولوں میں (یعنی مقتولوں کا) ] [ اَلْحُرُّ : (قاتل) آزاد ہے (توبدلہ ہے) ] [ بِالْحُرِّ : آزاد سے ] [ وَالْعَبْدُ : اور غلام ہے ] [ بِالْعَبْدِ : (تو) غلام سے ] [ وَالْاُنْثٰی : اور عورت ہے ] [ بِالْاُنْثٰی : (تو) عورت سے ] [ فَمَنْ عُفِیَ لَــہٗ : پس جس کے لیے معاف کی گئی ] [ مِنْ اَخِیْہِ : اس کے بھائی (کی طرف) سے ] [ شَیْ ئٌ : کوئی چیز ] [ فَاتِّبَاعٌ : تو پیروی کرنا ہے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلے طریقے سے ] [ وَاَدَآئٌ : اور ادائیگی ہے ] [ اِلَیْہِ : اس کی طرف ] [ بِاِحْسَانٍ : خوبصورت انداز سے ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ تَخْفِیْفٌ : ہلکا کرنا ہے ] [ مِّنْ رَّبِّـکُمْ : تمہارے رب (کی جانب) سے ] [ وَرَحْمَۃٌ: اور رحمت ہے ] [ فَمَنِ اعْتَدٰی : پس جو زیادتی کرے گا ] [ بَعْدَ ذٰلِکَ : اس کے بعد ] [ فَلَـہٗ : تو اس کے لیے ہے ] [ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : ایک دردناک عذاب ] ق ص ص قَصَّ (ن) قَصًّا اور قَصَصًا : کسی چیز کو قینچی سے کاٹنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ زیادہ تر دو مفہوم میں استعمال ہوتا ہے : (1) کوئی واقعہ یا قصہ بیان کرنا ‘ سنانا۔ (2) کسی کے نقوش یا آثار پر چلنا ‘ پیچھا کرنا۔{ وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُج } (النحل :118) ” اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے ‘ ہم نے حرام کیا اس کو جو ہم نے سنایا آپ ﷺ ‘ کو اس سے پہلے۔ “ { فَارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا ۔ } (الکہف) ” تو وہ دونوں واپس ہوئے اپنے نقش قدم پر پیچھا کرتے ہوئے۔ “ قُصِّ اور اُقْصُصْ : فعل امر ہیں (مضاعف میں فعل امر ادغام کے ساتھ اور ادغام کے بغیر ‘ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے): تو سنا ‘ تو پیچھا کر۔ { وَقَالَتْ لِاُخْتِہٖ قُصِّیْہِز } (القصص :11) ” اور انہوں نے کہا ان (علیہ السلام) کی بہن سے تو پیچھا کر ان کا۔ “ { فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ } (الاعراف) ” پس آپ ﷺ بیان کریں واقعات شاید وہ لوگ غور و فکر کریں۔ “ قِصَّۃٌ ج قَصَصٌ(اسم ذات ): واقعہ ‘ قصہ۔{ لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ…} (یوسف :111) ” یقینا ان کے قصوں میں ایک عبرت ہے…“ قِصَاصٌ : کسی جرم یا کسی کام کا بدلہ (یعنی کام کے آثار کا پیچھا کرتے ہوئے کام کرنے والے تک پہنچنا ‘ تاکہ اس کے ساتھ بھی وہی کام کیا جائے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ح رر حَرَّ (س) حَرَارًا : آزاد ہونا۔ حَرَّ (ن ۔ ض) حَرَارَۃً : گرم ہونا۔ حُرٌّ ( صفت) : آزاد۔ آیت زیر مطالعہ۔ حَرٌّ (اسم ذات) : گرمی۔ { وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّط } (التوبۃ :81) ” اور ان لوگوں نے کہا کہ تم لوگ مت نکلو گرمی میں۔ “ حَرُوْرٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : سخت گرمی ‘ لو ‘ تیز دھوپ۔ { وَلَا الظِّلُّ وَلاَ الْحَرُوْرُ ۔ } (فاطر) ” اور نہ سایہ اور نہ تیز دھوپ۔ “ حَرِیْرٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : باریک ریشم۔ { وَلِبَاسُھُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ ۔ } (الحج) ” اور ان کا لباس ہے اس میں باریک ریشم۔ “ حَرَّرَ (تفعیل) تَحْرِیْرًا : کسی کو آزاد کرنا۔ { فَتَحْرِیْرُ رَقَـبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍط } (النسائ :92) ” تو ایک مومن گردن (یعنی مومن غلام) کا آزاد کرنا۔ “ مُحَرَّرٌ (اسم المفعول) : آزاد کیا ہوا۔ { رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا…} (آل عمران :35) ” اے میرے ربّ ! میں نے نذر کیا تیرے لیے اس کو جو میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا…“ ء ن ث اَنُثَ (ک) اَنَثًا : نرم و ملائم ہونا ‘ مادہ ہونا ‘ عورت ہونا۔ اُنْثٰی ج اِنَاثٌ ( فُعْلٰی کا وزن) : مادہ ‘ مؤنث۔ { اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰـثًاج } (النسائ :117) ” وہ لوگ نہیں پکارتے اس کے (یعنی اللہ کے) علاوہ مگر کچھ مؤنثوں کو۔ “ ء د ی اَدٰی (ض) اَدْیًا : کسی کا حق پہچاننا ‘ حق دینا۔ اَدَائٌ ( اسم ذات) : ادائیگی ‘ واپسی۔ آیت زیر مطالعہ۔ اَدّٰی (تفعیل) تَـأْدِیَۃً : حق دار کو اس کا حق واپس کرنا۔ { وَمِنْھُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لاَّ یُؤَدِّہٖ اِلَیْکَ…} (آل عمران :75) ” اور ان میں وہ بھی ہے جو کہ اگر توامین بنائے اس کو ایک دینار کا تو وہ واپس نہیں کرے گا اس کو تیری طرف…“ اَدِّ (فعل امر) : تو واپس کر۔ { اَنْ اَدُّوْا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِط } (الدّخان :18) ” کہ تم لوگ واپس کرو میری طرف اللہ کے بندوں کو۔ “ ترکیب : ” کُتِبَ “ ماضی مجہول ہے ” اَلْقِصَاصُ “ اس کا نائب فاعل ہے ‘ جبکہ ” عَلَیْکُمْ “ اور ” فِی الْقَتْلٰی “ متعلق فعل ہیں۔” اَلْحُرُّ ‘ وَالْعَبْدُاور وَالْاُنْثٰی “ تینوں مبتدأ ہیں۔ ان کی خبریں ” قِصَاصٌ“ محذوف ہیں ‘ جبکہ ” بِالْحُرِّ ‘ بِالْعَبْدِ اور بِالْاُنْثٰی “ متعلق خبر تھیں جو اب قائم مقام خبر ہیں۔ ” فَمَنْ “ مبتدأ ہے اور ” عُفِیَ “ سے ” شَیْئٌ“ تک جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے۔ ” عُفِیَ “ ماضی مجہول ہے ” شَیْئٌ“ اس کا نائب فاعل ہے ‘ جبکہ ” لَـہٗ “ اور ” مِنْ اَخِیْہِ “ متعلق فعل ہیں۔ ” لَـہٗ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” مَنْ “ کے لیے ہے جو قاتل کے لیے آیا ہے۔” اَخِیْ “ کا لفظ مقتول کے ولی کے لیے ہے اور اس کے ساتھ ” ہِ “ کی ضمیر ” مَنْ “ یعنی قاتل کے لیے ہے۔ ” فَاتِّبَاعٌ“ اور ” اَدَائٌ“ مبتدأ نکرہ ہیں ‘ کیونکہ عام قاعدے کا بیان ہے۔ ان دونوں کی خبر محذوف ہے جو ” وَاجِبٌ“ یا ” لاَزِمٌ“ ہوسکتی ہے۔ ” بِالْمَعْرُوْفِ ‘ اِلَـیْہِاور بِاِحْسَانٍ “ متعلق خبر ہیں۔” اِلَـیْہِ “ میں ” ہِ “ کی ضمیر ” اَخِیْ “ یعنی مقتول کے ولی کے لیے ہے۔ ” ذٰلِکَ “ مبتدأ ہے۔” تَخْفِیْفٌ“ اس کی خبر اوّل ہے اور ” رَحْمَۃٌ“ خبر ثانی ہے ‘ جبکہ ” مِنْ رَّبِّکُمْ “ متعلق خبر ہیں۔ ” فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ “ شرط ہے اور ” فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ“ جوابِ شرط ہے۔ نوٹ (1) : مادہ ” ق ت ل “ کی لغت سورة البقرۃ کی آیت 72 کے تحت پیش کردی گئی ہے۔ وہاں پر لفظ ” قَتْلٰی “ سہواً رہ گیا تھا۔ اب نوٹ کرلیں کہفَعِیْلٌکے وزن پر ” قَتِیْلٌ“ بمعنی مقتول آتا ہے اور اس کی جمع ” قَتْلٰی “ ہے۔ نوٹ (2) : عرب کے دو قبائل میں جنگ ہوئی جس میں طرفین کے بہت سے آدمی ‘ آزاد ‘ غلام اور عورتیں قتل ہوگئے۔ ابھی ان کا تصفیہ ہونے نہیں پایا تھا کہ ان دونوں قبیلوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد قصاص لینے کی بات شرو ع ہوئی تو بڑے قبیلے نے کہا کہ ہم اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے دوسرے کا آزاد آدمی اور عورت کے بدلے میں مرد قتل نہ کیا جائے۔ اس مطالبہ کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی کہ : { اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰیط }۔ اسلام نے اپنا عادلانہ قانون یہ نافذ کردیا کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے۔ قاتل اگر عورت یا غلام ہے تو اس کے بدلے میں کسی بےگناہ آزاد کو قتل کرنا ظلم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ (منقول از معارف القرآن) معارف القرآن ‘ تفہیم القرآن اور دیگر تفاسیر کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آیت کے مذکورہ حصہ میں اصل حکم یہ ہے کہ یہ مت دیکھو کہ مقتول کون ہے۔ وہ خواہ آزاد ہو ‘ یا غلام ہو ‘ یا عورت ہو ‘ بہرصورت قاتل کو گرفتار کرنا اسلامی اجتماعیت { یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } یعنی حکومت پر اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔ پھر جب قاتل پر جرم ثابت ہوجائے تو یہ مت دیکھو کہ قاتل آزاد ہے ‘ یا غلام ہے ‘ یا عورت ہے ‘ بہرصورت بدلے میں اس کو قتل کرنا حکومت پر فرض کیا گیا ہے۔ کسی صدر مملکت ‘ حتیٰ کہ کسی ” اسلامی جمہوریہ “ کے صدر مملکت کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی قاتل کو معاف کر دے۔ یہ اختیار صرف مقتول کے وارثوں کو حاصل ہے۔ اس پر اجماعِ اُمّت ہے کہ مقتول کے وارثوں کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ خود قاتل سے بدلہ لیں۔ اس کے لیے حکومت سے رجوع کرنا لازمی ہے۔ پھر اگر وہ قاتل کو معاف نہیں کرتے تو حکومت اس کو قصاص میں قتل کرے گی۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

عقل و خرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اُمید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے

[ وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لیے ] [ فِی الْقِصَاصِ : (قتل کے) بدلے میں ] [ حَیٰوۃٌ : زندگی ہے ] [ یّٰـاُولِی الْاَلْبَابِ : اے عقل والو ] [ لَعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَتَّقُوْنَ : تقویٰ اختیار کرو ] ل ب ب لَبَّ (ن) لَــبًّا : کسی چیز کا ست یا جوہر نکالنا ‘ بادام یا اخروٹ وغیرہ کی گری نکالنا۔ لَـبَـبًا : عقل مند ہونا ۔ (انسان کا جوہر اس کی عقل ہے) ۔ لَبٌّ ج اَلْبَابٌ (اسم ذات) : خالص عقل۔ (جو آمیزش یعنی وہم اور جذبات وغیرہ سے پاک ہو) ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” حَیٰوۃٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے۔ ” لَـکُمْ “ قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ ” فِی الْقِصَاصِ “ متعلق خبر ہے۔ ” اُولِیْ “ مضاف ہے اور حرفِ ندا ” یَا “ کی وجہ سے منصوب ہے اور ” اَلْاَلْبَابِ “ مضاف الیہ ہے۔
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے یہ حق ہے متقی لوگوں پر

[ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ حَضَرَ : سامنے آئے ] [ اَحَدَکُمُ : تم میں سے کسی ایک کے ] [ الْمَوْتُ : موت ] [ اِنْ : (اور) اگر ] [ تَرَکَ : اس نے چھوڑا ] [ خَیْراً : کچھ مال ] [ الْوَصِیَّۃُ : وصیت کو ] [ لِلْوَالِدَیْنِ : والدین کے لیے ] [ وَالْاَقْرَبِیْنَ : اور قرابت داروں کے لیے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق ] [ حَقًّا : حق ہوتے ہوئے ] [ عَلَی الْمُتَّقِیْنَ : متقی لوگوں پر ] ت رک تَرَکَ (ن) تَرْکًا : کسی چیز کو چھوڑ دینا۔{ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ…} (النسائ :7) ” مردوں کے لیے ایک حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑا والدین نے…“ اُتْرُکْ (فعل امر): تو چھوڑ دے ‘ ترک کر دے ۔ { وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَھْوًاط } (الدّخان :24) ” اور آپ (علیہ السلام) چھوڑ دیں سمندر کو تھما ہوا۔ “ تَارِکٌ (اسم الفاعل): چھوڑنے والا۔ { اَئِنَّا لَتَارِکُوْآ اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” کیا ہم لوگ اپنے خدائوں کو چھوڑنے والے ہیں ایک مجنون شاعر کے لیے ؟ “ ترکیب : ” اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ “ اور ” اِنْ تَرَکَ خَیْرًا “ شرط ہے۔ باقی آیت جوابِ شرط ہے۔ ” کُتِبَ “ ماضی مجہول ہے اور اس کا نائب فاعل ” الْوَصِیَّۃُ “ ہے۔ ” عَلَیْکُمْ “ اور ” لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ “ متعلق فعل ہیں ‘ جبکہ ” حَقًّا “ مفعول مطلق ہے ” کُتِبَ الْوَصِیَّۃُ “ کا۔ نوٹ (1) : سورة النساء میں آیات میراث کے نزول کے بعد ورثاء کے لیے وصیت کرنا فرض نہیں رہا۔ البتہ غیر ورثاء کے لیے ایک تہائی مال کے اندر اندر وصیت کی جاسکتی ہے۔ دو تہائی مال ورثاء میں لازماً تقسیم ہوگا۔
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اُسے بدل ڈالا، توا س کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

[ فَمَنْ : پس جس نے ] [ بَدَّلَـہٗ : تبدیل کیا اس کو ] [ بَعْدَ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ سَمِعَہٗ : اس نے سنا اس کو ] [ فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ اِثْمُہٗ : اس کا گناہ ] [ عَلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں پر ہے جو ] [ یُبَدِّلُوْنَـہٗ : تبدیل کرتے ہیں اس کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ سَمِیْعٌ: سننے والا ہے ] [ عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ] ترکیب : ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔” بَدَّلَـہٗ بَعْدَ مَا سَمِعَہٗ “ شرط ہے اور ” فَاِنَّمَا “ سے ” یُبَدِّلُوْنَہٗ “ تک جوابِ شرط ہے۔” بَدَّلَـہٗ ‘ سَمِعَہٗ اور یُبَدِّلُوْنَہٗ “ میں ” ہٗ “ کی مذکر ضمیریں ” اَلْوَصِیَّۃُ “ کے لیے آئی ہیں جو کہ مؤنث ہے۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے لیکن سیاق وسباق کا تقاضا ہے کہ ان ضمیروں کو ” اَلْوَصِیَّۃُ “ کے لیے ہی مانا جائے۔ اس کا جواز تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اس صورت حال کو ہم قرآن مجید کے ایک استثناء کے طور پر قبول کرلیں۔ ” اِثْمُہٗ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” بَدَّلَ “ کے مصدر ” تَـبْدِیْلٌ“ کے لیے ہے۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

[ فَمَنْ : پس جس کو ] [ خَافَ : اندیشہ ہو ] [ مِنْ مُّوْصٍ : کسی وصیت کرنے والے سے ] [ جَنَفًا : جانبداری کا ] [ اَوْ اِثْمًا : یا کسی گناہ کا ] [ فَاَصْلَحَ : پھر اس نے درست کردیا (یعنی دستور کے مطابق کردیا) ] [ بَیْنَھُمْ : ان لوگوں کے مابین ] [ فَلَا اِثْمَ : تو کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ج ن جَنِفَ (س) جَنَفًا : راستہ سے ہٹ جانا ‘ فیصلے میں جانبداری کرنا۔ جَنَفٌ (اسم ذات): جانبداری ‘ معروف سے انحراف۔ آیت زیر مطالعہ۔ تَجَانَفَ (تفاعل) تَجَانُفًا : کسی کی طرف مائل ہونا ‘ جھکنا۔ مُتَجَانِفٌ(اسم الفاعل) : مائل ہونے والا ‘ جھکنے والا ۔ { فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِاّثْـمٍ …} (المائدۃ :3) ” پس جو لاچار ہوجائے بھوک میں جھکنے والا نہ ہوتے ہوئے گناہ کی طرف…“ ترکیب : ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” خَافَ “ سے ” بَیْنَھُمْ “ تک شرط ہے اور ” فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ “ جوابِ شرط ہے۔” مِنْ مُّوْصٍ “ متعلق فعل ہے ‘ جبکہ ” جَنَفًا “ اور ” اِثْمًا “ دونوں ” خَافَ “ کے مفعول ہیں۔” فَاَصْلَحَ “ کا مفعول ” اَلْوَصِیَّۃُ “ محذوف ہے۔” بَیْنَھُمْ “ میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ان لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے وصیت کی گئی ہے۔ ” اِثْمَ “ سے پہلے لائے نفی ٔجنس ہے۔ نوٹ (1) : اگر کسی وصیت میں جانبداری کا پہلو ہو تو گواہوں کی طرف سے اس میں اصلاح کی کوشش وصیت تبدیل کرنے کے ضمن میں نہیں آئے گی ‘ جس کی گزشتہ آیت میں ممانعت کی گئی ہے۔ البتہ گواہوں کو خود وصیت میں اصلاح کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر موقع ہو تو وصیت سنتے وقت وصیت کرنے والے کو اس میں اصلاح پر آمادہ کرے۔ بصورتِ دیگر وصیت صحیح بیان کرنے کے بعد وارثوں کی باہمی رضامندی سے اس میں اصلاح کرائے۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی

[ یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَیْکُمُ : تم لوگوں پر ] [ الصِّیَامُ : روزہ رکھنے کو ] [ کَمَا : جیسا کہ ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں پر جو ] [ مِنْ قَبْلِکُمْ : تم سے پہلے تھے ] [ لَعَلَّکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَتَّقُوْنَ : تقویٰ اختیار کرو ] ص و م صَامَ (ن) صِیَامًا : کسی کام سے رک جانا ‘ روزہ رکھنا۔ { وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّــکُمْ…} (البقرۃ :184) ” اور یہ کہ تم لوگ روزہ رکھو ‘ زیادہ بہتر ہے تم لوگوں کے لیے…“ صَوْمٌ (اسم ذات [ واحد اور جمع دونوں کے لیے ]) : کسی کام سے رک جانے کا عہد ‘ روزہ۔ { اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا ۔ } (مریم) ” میں نے منت مانی الرحمن کے لیے ایک روزے کی ‘ پس میں ہرگز بات نہیں کروں گی آج کسی انسان سے۔ “ صَائِمٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت): روزہ رکھنے والا ‘ روزہ دار۔ { وَالصَّائِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِ…} (الاحزاب :35) ” اور روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں…“ ترکیب : ” یٰٓــاَیـُّھَا “ ندا اور ” الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ منادیٰ ہے۔ ” کُتِبَ “ ماضی مجہول ہے اور ” اَلصِّیَامُ “ اس کا نائب فاعل ہے ‘ جبکہ ” عَلَیْکُمْ “ متعلق فعل ہے۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

چند مقرر دنوں کے روزے ہیں اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو

[ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ : گنے ہوئے کچھ دن ہیں ] [ فَمَنْ کَانَ : پس جو ہو ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ مَّرِیْضًا : مریض ] [ اَوْ عَلٰی سَفَرٍ : یا کسی سفر پر ] [ فَعِدَّۃٌ : تو شمار ہے ] [ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ : دوسرے کسی دنوں سے ] [ وَعَلَی الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں پر جو ] [ یُطِیْقُوْنَـــــــہٗ : طاقت رکھتے ہیں اس کی ] [ فِدْیَۃٌ : فدیہ ہے ] [ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ : ایک مسکین کا کھانا ] [ فَمَنْ تَطَوَّعَ : پھر جو نفلاً زیادہ کرے ] [ خَیْرًا : کسی نیکی کو ] [ فَھُوَ خَیْرٌ : تو یہ بہتر ہے ] [ لَّــــــہٗ : اس کے لیے ] [ وَاَنْ : اور یہ کہ ] [ تَصُوْمُوْا : تم لوگ روزہ رکھو ] [ خَیْرٌ : زیادہ اچھا ہے ] [ لَّکُمْ : تمہارے لیے ] [ اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو ] سر سَفَرَ (ن) سَفْرًا : کسی چیز سے پردہ اٹھانا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً : (1) لکھنا ‘ حقائق سے پردہ اٹھانا۔ (2) سفر پر روانہ ہونا ‘ راستوں سے پردہ اٹھانا۔ سَفَرٌ ج اَسْفَارٌ (اسم ذات): سفر۔ آیت زیر مطالعہ ۔{ رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا } (سبا :19) ” اے ہمارے ربّ ! تو دراز کر دے ہمارے سفروں کے درمیان (یعنی منزلوں کو) “ سِفْرٌ ج اَسْفَارٌ (اسم ذات): کتاب۔ { کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاط } (الجمعۃ :5) ” اس گدھے کی مثال کی مانند ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں۔ “ سَافِرٌ ج سَفَرَۃٌ (اسم الفاعل) لکھنے والا۔ { بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ۔ } (عبس) ” لکھنے والوں کے ہاتھوں میں۔ “ اَسْفَرَ (افعال) اِسْفَارًا : کسی چیز کے رنگ سے پردہ اٹھنا ‘ چمکنا ‘ روشن ہونا۔ { وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ ۔ } (المدثر) ” اور صبح جب وہ روشن ہو۔ “ مُسْفِرٌ(اسم الفاعل): چمکنے والا ‘ روشن ہونے والا۔ { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ ۔ } (عبس) ” کچھ چہرے اس دن روشن ہونے والے ہیں۔ “ ط و ق طَاقَ (ن) طَوْقًا : گلے میں حلقہ یا طوق ہونا ‘ کسی کام کی اہلیت یا طاقت ہونا۔ طَاقَـۃٌ (اسمِ ذات): قدرت ‘ طاقت۔ { رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖج } (البقرۃ :286) ” اے ہمارے ربّ ! تو وہ بوجھ نہ اٹھواہم سے جس کی طاقت نہیں ہے ہم کو۔ “ اَطَاقَ (افعال) اِطَاقَۃً : کسی کام کو کرنے کی طاقت یا قدرت رکھنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : مرکب توصیفی ” اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ “ گزشتہ آیت کے ” کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ “ کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔” کَانَ “ سے ” عَلٰی سَفَرٍ “ تک شرط ہے اور ” فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ “ جوابِ شرط ہے۔ ” کَانَ “ کا اسم اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے۔ جبکہ ” مَرِیْضًا “ خبر ہے۔ ” عَلٰی سَفَرٍ “ قائم مقام خبر ہے۔ اس جملہ میں آفاقی صداقت کا بیان ہے اس لیے ” کَانَ “ کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ ” فَعِدَّۃٌ“ مبتدأ نکرہ ہے ‘ کیونکہ عام قاعدہ بیان ہو رہا ہے ۔ اس کی خبر ” وَاجِبٌ“ محذوف ہے۔ متعلق خبر ” اَیـَّامٍ اُخَرَ “ مرکب توصیفی ہے۔” فُعْلٰی “ کی جمع ” فُعَلٌ“ کے وزن پر ” اُخَرٌ“ آنا چاہیے ‘ لیکن یہ خلافِ قاعدہ ” اُخَرُ “ غیر منصرف استعمال ہوتا ہے۔ اور ” اُخَرَ “ یہاں ” اَیَّامٍ “ کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔” فِدْیَۃٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی بھی خبر ” وَاجِبٌ“ محذوف ہے۔” عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔” یُطِیْقُوْنَہٗ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” اَلصِّیَامُ “ کے لیے ہے۔” طَعَامُ مِسْکِیْنٍ “ بدل ہے ” فِدْیَۃٌ“ کا۔ نوٹ (1) : اسلام کے دیگر احکام کی طرح روزے کو بھی بتدریج فرض کیا گیا۔ شروع میں ہر مہینہ کے تین دن روزہ رکھنے کی ہدایت تھی ‘ لیکن یہ فرض نہیں تھا۔ پھر مدینہ میں یہ آیات نازل ہوئیں جس میں روزہ فرض کیا گیا۔ اس میں مریض اور مسافر کے علاوہ ان لوگوں کو بھی رخصت دی گئی جو طاقت رکھنے کے باوجود روزہ نہیں رکھنا چاہتے تھے کہ وہ روزے کے بدلے فدیہ دے دیں۔ یہ بھی عبوری حکم تھا۔ حتمی حکم کی آیات بعد میں نازل ہوئیں۔ نوٹ (2) : ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے ‘ لیکن زندگی کی گہماگہمی میں ہمیں یہ احساس نہیں رہتا کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوتے ہیں اور جس حال میں ہوتے ہیں اللہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے اور ہم جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہوتا ہے (57:4) ۔ اللہ کے حاضر وناظر ہونے کے احساس کا تقویٰ کے ساتھ ایک مثبت ربط (Positive Correlation) ہے۔ یہ احساس جیسے جیسے زیادہ ہوتا ہے تقویٰ کی کیفیت بھی اسی تناسب سے گہری ہوتی ہے۔ اور یہ احساس جتنا کم ہوگا تقویٰ میں بھی اتنی کمی ہوجائے گی۔ اب نوٹ کریں کہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا کُل کا کُل مدار اس احساس پر ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اللہ ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں دیکھ رہا ہے۔ لاشعور کی سطح سے اس احساس کو بلند کر کے اگر ہم پورے شعوری احساس کے ساتھ ایک مہینے کے روزے رکھیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ رمضان کے بعد بھی تقویٰ کی کیفیت برقرار رہے۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو

[ شَھْرُ رَمَضَانَ : (یہ) رمضان کا مہینہ ہے ] [ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ : اتارا گیا جس میں ] [ الْقُرْاٰنُ : قرآن کو ] [ ھُدًی : ہدایت ہوتے ہوئے ] [ لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ وَبَیِّنٰتٍ : اور واضح ہوتے ہوئے ] [ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ : ہدایت اور فرقان میں سے ] [ فَمَنْ : پس جو ] [ شَھِدَ : موجود ہو ] [ مِنْکُمُ : تم میں سے ] [ الشَّھْرَ : اس مہینہ میں ] [ فَلْیَصُمْہُ : تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے اس میں ] [ وَمَنْ کَانَ : اور جو ہو ] [ مَرِیْضًا : مریض ] [ اَوْ عَلٰی سَفَرٍ : یا کسی سفر پر ] [ فَعِدَّۃٌ : تو گنتی ہے ] [ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ : دوسرے کسی دنوں سے ] [ یُرِیْدُ اللّٰہُ : اللہ چاہتا ہے ] [ بِکُمُ : تم لوگوں کے لیے ] [ الْیُسْرَ : آسانی ] [ وَلَا یُرِیْدُ : اور وہ نہیں چاہتا ] [ بِکُمُ : تم لوگوں کے لیے ] [ الْعُسْرَ : سختی ] [ وَلِتُکْمِلُوا : اور تاکہ تم لوگ پورا کرو ] [ الْعِدَّۃَ : گنتی کو ] [ وَلِتُــــکَبِّرُوا : اور تاکہ تم لوگ بڑائی بیان کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ عَلٰی مَا : اس پر جو ] [ ھَدٰٹکُمْ : اس نے ہدایت دی تم کو ] [ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ : اور شاید کہ تم لوگ شکر ادا کرو۔ ش ھـ ر شَھَرَ (ف) شَھْرًا : (1) کسی کی مشہوری کرنا۔ (2) ایک مہینہ کی مدت گزارنا۔ شَھْرٌ ج شُھُوْرٌ اور اَشْھُرٌ (اسم ذات) : مہینہ ‘ ماہ۔{ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا…} (التوبۃ :36) ” بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے پاس بارہ مہینے ہیں…“ { فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ } (التوبۃ :2) ” پس گھوم پھر لو زمین میں چار مہینے۔ “ ر م ض رَمِضَ (س) رَمَضًا : دن کا گرم ہونا ‘ گرم زمین پر پائوں جلنا۔ رَمَضَانُ : ہجری سال کا نواں مہینہ ‘ رمضان۔ آیت زیر مطالعہ۔ ق ر ء قَرَأَ (ف) قُرْاٰنًا اور قِرَائَ ۃً : دو چیزوں کو اکٹھا کرنا ‘ جمع کرنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً : (1) پڑھنا (پڑھنے والا الفاظ کو اکٹھا کرتا ہے) ۔ (2) پڑھ کر سنانا۔ اس معنی میں ” عَلٰی “ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ (3) مدت گزارنا۔ (کسی مقررہ وقت کے شروع ہونے اور ختم ہونے کے لمحہ کو اکٹھا کرنے سے ایک مدت وجود میں آتی ہے) ۔ { فَاِذَا قَرَاْنٰـہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَـہٗ ۔ } (القیٰمۃ) ” پھر جب ہم پڑھیں اس کو تو آپ ﷺ پیروی کریں اس کے پڑھنے کی۔ “{ وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰـہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ…} (بنی اسرائیل :106) ” اور قرآن ‘ ہم نے الگ الگ کیا اس کو تاکہ آپ ﷺ پڑھ کر سنائیں اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر…“ اِقْرَأْ (فعل امر) : تو پڑھ۔ { اِقْرَأْ کِتٰبـَکَ } (بنی اسرائیل :14) ” تو پڑھ اپنی کتاب کو۔ “ قُرْاٰنٌ (اسم ذات بھی ہے) : پڑھی جانے والی چیز ‘ پیغام ‘ خط ‘ کتاب وغیرہ۔ اصطلاحاً اب اس لفظ کا استعمال صرف آخری وحی کے لیے مخصوص ہے۔ اس لیے کسی اور کتاب وغیرہ کے لیے اس کا استعمال غلط مانا جاتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔ قُرْئٌ ج قُرُوْئٌ (اسم ذات): مدت۔ قرآن مجید میں اسے خواتین کے ایک طہر اور حیض کی جامع مدت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ { وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَـۃَ قُرُوْئٍط } (البقرۃ :228) ” اور طلاق دی ہوئی خواتین رکی رہتی ہیں اپنے نفس سے تین مدتوں تک۔ “ اَقْرَأَ (افعال) اِقْرَائً : کسی کو پڑھانا۔ { سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی ۔ } (الاعلیٰ ) ” ہم پڑھائیں گے آپ ﷺ ‘ کو پھر آپ ﷺ ‘ نہیں بھولیں گے۔ “ ی س ر یَسَُرَ (ض۔ ک) یَسْرًا : نرم و آسان ہونا (لازم) ‘ نرم و آسان کرنا (متعدی) ‘ رزق و روزی میں کشادہ ہونا۔ مَیْسُوْرٌ (اسم المفعول) : نرم و آسان کیا ہوا۔ { فَقُلْ لَّھُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” پس تو کہہ ان سے نرم کی ہوئی بات۔ “ یَسِیْرٌ( فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت): نرم ‘ آسان۔ { اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ۔ } (الحج) ” یقینا یہ اللہ پر آسان ہے۔ “ یُسْرٰی (فُعْلٰیکا وزن ہے) : نرمی ‘ سہولت ‘ کشادگی۔ { وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی ۔ } (الاعلیٰ ) ” اور ہم پہنچائیں گے آپ ﷺ ‘ کو کشادگی اور سہولت تک۔ “ یُسْرٌ(اسم ذات): نرمی ‘ آسانی۔ { فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۔ اِنَّ مَعَ الْـعُسْرِ یُسْرًا ۔ } (الانشراح) ” پس یقینا سختی کے ساتھ نرمی ہے ‘ یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ “ مَیْسَرَۃٌ : رزق میں کشادگی۔{ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ ط } (البقرۃ :280) ” تو مہلت ہے رزق میں کشادگی تک۔ “ مَیْسِرٌ : جوا ‘ سٹہ۔{ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ } (البقرۃ :219) ” یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے جوئے اور شراب کے بارے میں۔ “ یَسَّرَ (تفعیل) تَیْسِیْرًا : (1) کسی چیز کو کسی کے لیے رفتہ رفتہ آسان کردینا۔ (2) کسی کو کسی جگہ پہنچا دینا (یعنی رفتہ رفتہ راستہ آسان کرنا) ۔ { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ } (القمر :17) ” اور ہم نے آسان کردیا قرآن کو یاد دہانی کے لیے۔ “ پہنچانے کے مفہوم کے لیے سورة الاعلیٰ کی آیت 8 دیکھیں۔ یَسِّرْ (فعل امر): تو آسان کر۔ { وَیَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ ۔ } (طٰہٰ ) ” اور تو آسان کر دے میرے لیے میرے کام کو۔ “ تَـیَسَّرَ (تفعّل) تَـیَسُّرًا : آسان ہونا۔{ فَاقْرَئُ ‘ وْا مَا تَـیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِط } (المزّمّل :20) ” تو تم لوگ پڑھو اس کو جو آسان ہو قرآن میں سے۔ “ اِسْتَیْسَرَ (استفعال) اِسْتِیْسَارًا : آسان سمجھنا۔ { فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ج } (البقرۃ :196) ” پھر اگر تم لوگ گھیر لیے جائو تو جو آسان ہو قربانی میں سے۔ “ ع س ر عَسُِرَ (س ۔ ک) عُسْرًا : سخت اور دشوار ہونا ‘ رزق میں تنگ دست ہونا۔ عَسِرٌ (صفت) : سخت ‘ مشکل۔ { یَقُوْلُ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ ۔ } (القمر) ” کہیں گے کافر لوگ یہ ایک سخت دن ہے۔ “ عَسِیْرٌ( فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ): سخت ‘ دشوار۔ { وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْــکٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا ۔ } (الفرقان) ” اور کافروں پر وہ ایک سخت دن ہوگا۔ “ عُسْرٌ( اسم ذات) : سختی ‘ تنگی۔ آیت زیر مطالعہ۔ عُسْرٰی (فُعْلٰی کا وزن ہے) : سختی ‘ دشواری۔{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی ۔ } (اللّیل) ” پس ہم پہنچائیں گے اس کو سختی اور دشواری تک۔ “ تَعَاسَرَ (تفاعل) تَعَاسُرًا : باہم سختی کرنا ‘ ضد کرنا۔ { وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَـہٗ اُخْرٰی ۔ } (الطلاق) ” اور اگر باہم ضد کرو گے تو دودھ پلائے گی اس کے لیے دوسری۔ “ ک م ل کَمُلَ (ک) کَمَالاً : کسی چیز کے اجزاء اور صفات کی کمی کا ختم ہونا ‘ مکمل ہونا ‘ پورا ہونا۔ کَامِلٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت): پورا ہونے والا ‘ یعنی پورا ‘ مکمل۔ { لِیَحْمِلُوْآ اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ…} (النحل :25) ” تاکہ وہ لوگ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے کے پورے قیامت کے دن…“ اَکْمَلَ (افعال) اِکْمَالاً : پورا کرنا ‘ مکمل کرنا۔{ اَلْـیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَــکُمْ دِیْنَـکُمْ…} (المائدۃ :3) ” آج کے دن میں نے مکمل کیا تمہارے لیے تمہارے نظام حیات کو…“ ترکیب : ” شَھْرُ رَمَضَانَ “ خبر ہے۔ اس کا مبتدأ” ھِیَ “ محذوف ہے جو کہ ” اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ “ کا بدل ہے۔” الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ “ صفت ہے ” شَھْرُ رَمَضَانَ “ کی۔ ” ھُدًی “ اور ” بَیِّنٰتٍ “ حال ہیں ” الْقُرْاٰنُ “ کے ‘ اس لیے نصب میں ہیں۔ ” فَمَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ “ شرط ہے اور ” فَلْیَصُمْہُ “ جوابِ شرط ہے۔ ” الشَّھْرَ “ پر لام تعریف ہے اور ” فَلْیَصُمْہُ “ فعل امر غائب ہے اور اس میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” الشَّھْرَ “ کے لیے ہے۔ نوٹ (1) : یہ روزوں کا حتمی حکم ہے۔ اس میں مریض اور مسافر کی رعایت برقرار رکھی گئی ہے ‘ لیکن فدیہ دے کر روزہ نہ رکھنے کی رعایت منسوخ کردی گئی۔