2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے

[ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَـیْکُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْقِتَالُ : جنگ کرنا ] [ وَہُوَ : اور وہ ] [ کُرْہٌ : ناگوار ہے ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَعَسٰٓی : اور ہوسکتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَکْرَہُوْا : تم لوگ ناپسند کرو ] [ شَیْئًا : کسی چیز کو ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ خَیْرٌ : بھلائی ہے ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَعَسٰٓی : اور ہوسکتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ تُحِبُّوْا : تم لوگ محبت کرو ] [ شَیْئًا : کسی چیز سے ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ شَرٌّ : برائی ہے ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ وَاَنْتُمْ : اور تم لوگ ] [ لاَ تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے۔] ک ر ھ کَرُھَ (ک) کَرَاھَۃً : بدنما ہونا ‘ برا ہونا۔ کَرِھَ (س) کَرْھًا اور کُرْھًا : کسی چیز کو برا سمجھنا ‘ ناپسند کرنا۔ { وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ } (یونس) ” اور حق کرتا ہے اللہ حق کو اپنے فرمانوں سے اور اگر (یعنی خواہ) ناپسند کریں مجرم لوگ۔ “ کُرْھٌ : مصدر کے علاوہ صفت بھی ہے : ناپسندیدہ ‘ آیت زیر مطالعہ۔ کَارِہٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : ناپسند کرنے والا۔ { وَاَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ ۔ } (المؤمنون) ” اور ان کے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔ “ مَکْرُوْہٌ (مَفْعُوْلٌ کے وزن پر صفت) : ناپسند کیا ہوا ‘ یعنی ناپسندیدہ۔ { کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” یہ سب ‘ اس کی برائی ‘ تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ “ اَکْرَہَ (افعال) اِکْرَاھًا : ناپسندیدہ کام پر مجبور کرنا ‘ زبردستی کرنا۔ { اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ } (یونس) ” تو کیا آپ ﷺ ‘ مجبور کریں گے لوگوں کو یہاں تک کہ وہ ہوجائیں مؤمن ؟ “ کَرَّہَ (تفعیل) تَکْرِیْھًا : کسی کے لیے کسی چیز کو ناپسندیدہ بنادینا۔ { وَکَرَّہَ اِلَـیْـکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَط } (الحُجُرات :7) ” اور اس نے ناگوار کردیا تمہارے لیے کفر کو اور فسق کو اور نافرمانی کو۔ “ ش ر ر شَرَّ (ن۔ ض) شَرًّا : فسادی ہونا ‘ نقصان دہ ہونا ‘ برا ہونا۔ شَرٌّج اَشْرَارٌ (اسمِ ذات بھی ہے) : فساد ‘ برائی۔ آیت زیر مطالعہ ۔ { مَالَـنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّھُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ ۔ } (صٓ) ” ہمیں کیا ہوا کہ ہم نہیں دیکھتے ان لوگوں کو جنہیں ہم شمار کیا کرتے تھے بروں میں سے ۔ “ شَرَرٌ (اسم جنس) واحد شَرَرَۃٌ اور شَرَارَۃٌ : آگ کی اڑنے والی چنگاریاں۔ { اِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ ۔ } (المُرسلٰت) ” بیشک وہ پھینکتی ہے چنگاریاں جیسے محل۔ “ ترکیب : ” کُتِبَ “ کا نائب فاعل ” الْقِتَالُ “ ہے۔ ” ھُوَ “ مبتدأ ہے اور یہ ” اَلْقِتَالُ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” کُرْہٌ“ اس کی خبر ہے۔ ” عَسٰی “ فعل مقاربہ ہے ‘ اس کا اسم محذوف ہے اور جملہ فعلیہ ” اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا “ اس کی خبر ہے۔ ” تَکْرَھُوْا “ کا مفعول ” شَیْئًا “ ہے۔ ” وَھُوَ خَیْـرٌ“ کا ” وائو “ حالیہ ہے اور ” ھُوَ “ کی ضمیر ” شَیْئًا “ کے لیے ہے۔ نوٹ (1) : عربی کے افعالِ مقاربہ میں سے دو افعال قرآن مجید میں استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا فعل مقاربہ ” کَادَ ‘ یَکَادُ “ سورة البقرۃ کی آیت 20 کے نوٹ 1 میں زیر بحث آچکا ہے۔ دوسرا فعل مقاربہ ” عَسٰی “ (اُمید ہے ‘ ہوسکتا ہے) اس آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ اب آپ ان کے قواعد سمجھ لیں ‘ کیونکہ یہ ” آسان عربی گرامر “ میں نہیں پڑھائے گئے۔ 1) افعالِ ناقصہ کی طرح افعالِ مقاربہ بھی کسی جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں ‘ جن کا مبتدأ ان کا اسم کہلاتا ہے اور حالت رفعی میں رہتا ہے ‘ جبکہ ان کی خبر حالت نصبی میں ہوتی ہے۔ 2) افعالِ ناقصہ اور افعالِ مقاربہ میں فرق یہ ہے کہ افعالِ مقاربہ کی خبر کی جگہ ہمیشہ کوئی فعل مضارع آتا ہے جو اپنی ضمیر فاعلی کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ بن کر فعل مقاربہ کی خبر بنتا ہے اور محلاً حالت نصبی میں سمجھا جاتا ہے۔ جیسے { عَسٰی رَبُّـکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ } (الاعراف :129) ۔ اس میں ” عَسٰی “ کا اسم ” رَبُّـکُمْ “ ہے اس لیے اس کے مضاف پر رفع آئی ہے۔ ” اَنْ یُّھْلِکَ “ فعل مضارع اور ” عَدُوَّکُمْ “ اس کا مفعول ہے ‘ یہ جملہ فعلیہ ” عسٰی “ کی خبر ہے اور محلاً حالت نصبی میں ہے۔ 3) افعالِ مقاربہ کے بعد جو فعل مضارع آتا ہے اس پر ” اَنْ “ لگانا جائز ہے ‘ البتہ ضروری نہیں ہے۔ لیکن ” عَسٰی “ کے بعد اس کو لگانا بہتر ہے ‘ جبکہ ” کَادَ “ کے بعد نہ لگانا بہت رہے۔ 4) ” عَسٰی “ کے اسم کو محذوف بھی کیا جاسکتا ہے ‘ جیسا کہ آیت زیر مطالعہ میں ہے ‘ اور اس کے اسم کو فعل مضارع کے بعد بھی لاسکتے ہیں ‘ جیسے { عَسٰی اَنْ یَّــبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ۔ } (بنی اسرائیل) ۔ اس میں ” اَنْ یَّـبْعَثَ “ فعل مضارع اور ” کَ “ اس کی ضمیر مفعولی ہے ‘ جبکہ ” عَسٰی “ کا اسم ” رَبُّکَ “ ہے جو فعل کے بعد آیا ہے۔ لیکن یہ صورتیں ” کَادَ “ کے ساتھ جائز نہیں ہیں۔ 5) ” کَادَ “ (ماضی) اور ” یَکَادُ “ (مضارع) دونوں کے صیغے استعمال ہوتے ہیں ‘ لیکن ” عَسٰی “ کے صرف ماضی کے صیغے مستعمل ہیں۔ 6) ” شَرَعَ ‘ طَفِقَ ‘ جَعَلَ ‘ قَامَ اور ” اَخَذَ “ افعالِ مقاربہ نہیں ہیں ‘ لیکن کبھی کبھی یہ افعالِ مقاربہ کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ اس وقت ان کے فعل مضارع کے ساتھ ” اَنْ “ نہیں آتا اور ایسی صورت میں ان سب کے معنی ہوتے ہیں ” مذکورہ کام شروع کرنا یا کرنے لگنا “۔ جیسے ” اَخَذَ الطِّفْلُ یَمْشِیْ “۔ یہاں اگر ” اَخَذَ “ کو فعل اصلی مانیں تو اس جملے کا مطلب ہوگا ” بچے نے پکڑا وہ چلتا ہے “۔ یہ بات مبہم ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ یہاں ” اَخَذَ “ فعل مقاربہ کی طرح آیا ہے اور اس جملے کا مطلب ہے ” بچے نے چلنا شروع کیا یا چلنے لگا “۔ نوٹ (2) : ہم میں سے ہر شخص کو blessing in disguise (برائی کے بھیس میں بھلائی) کا تجربہ ہے ‘ لیکن یہ تجربہ کبھی کبھارہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کبھی کسی برائی میں پوشیدہ بھلائی ذرا جلدی سامنے آجاتی ہے تو ہمارا ذہن ان کے مابین ربط کو پہچاننے میں کامیاب ہوجاتا ہے ‘ اور ہم کہتے ہیں کہ یہ وہ بھلائی ہے جو فلاں برائی کے بھیس میں میرے پاس آئی تھی۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پوشیدہ بھلائی کا ظہور اتنے وقفہ کے بعدہوتا ہے کہ ہم اس کے ربط کو پہچان نہیں پاتے۔ جو لوگ اس پہلو سے اپنے حالات پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں وہ اس نوعیت کے روابط کو دوسروں سے زیادہ پہچان لیتے ہیں اور اس حقیقت پر ان کا ایمان اتنا پختہ ہوتا ہے جتنا کہ ہونا چاہیے۔ اس آیت کی راہنمائی میں صحیح طرز فکر یہ ہے کہ جب ہماری کسی کوشش اور جدوجہد کا نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ نکلے تو ہمیں یقین کرلینا چاہیے کہ یہ مِن جانب اللہ ہے ‘ کیونکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی پتہ بھی جنبش نہیں کرسکتا۔ پھر ہمیں خود کو یاد دلانا چاہیے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور وہ ہم سے بڑھ کر ہمارا خیر خواہ ہے ‘ اس کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ اس پر قادر ہے کہ وہ رات میں سے دن کو نکال لائے ‘ اس لیے یقینا اس میں ہمارے لیے کوئی خیر ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے ‘ لیکن وہ اس وقت یقینا ظاہر ہوگی جب اس کا ظاہر ہونا ہمارے حق میں مفید ہوگا۔ سوچ کا یہ انداز ایسے حقائق پر مبنی ہے جو پوری طرح ہمارے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے ‘ لیکن ایک انسان سچے یقین کے ساتھ اگر سوچ کا یہ انداز اختیار کرلے تو اس کی نفسیاتی صحت کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک ٹانک ہے جو اسے بیشمار نفسیاتی بیماریوں (psychological disorders) سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ اس کی نقد بھلائی ہے۔ اور پوشیدہ بھلائی کا ظہور تو اپنے وقت پر ہوگا ہی ‘ خواہ ہم اس کے ربط کو پہچانیں یا نہ پہچانیں۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اِس میں لڑ نا بہت برا ہے، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اِس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر اُن کا بس چلے، تو تمہیں اِس دین سے پھرا لے جائیں (اور یہ خوب سمجھ لو کہ) تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے

[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ : محترم مہینوں کے بارے میں ] [ قِتَالٍ فِیْہِ : (یعنی) ان میں جنگ کرنے کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ قِتَالٌ : جنگ کرنا ] [ فِیْہِ : ان میں ] [ کَبِیْرٌ: بڑا (گناہ) ہے ] [ وَصَدٌّ : اور روکنا ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ وَکُفْرٌ: اور انکار کرنا ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : اور مسجد حرام (سے روکنا) ] [ وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ : اور اس کے لوگوں کو نکالنا ] [ مِنْہُ : اس سے ] [ اَکْبَرُ : زیادہ بڑا (گناہ) ہے ] [ عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے نزدیک ] [ وَالْفِتْنَۃُ : اور ہر تشدد ] [ اَکْبَرُ : زیادہ بڑا (گناہ) ہے ] [ مِنَ الْقَتْلِ : قتل سے ] [ وَلاَ یَزَالُوْنَ : اور ہمیشہ ] [ یُقَاتِلُوْنَــکُمْ : وہ لوگ جنگ کریں گے تم لوگوں سے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَرُدُّوْکُمْ : وہ پھیر دیں تم کو ] [ عَنْ دِیْنِکُمْ : تمہارے دین سے ] [ اِنِ اسْتَطَاعُوْا : اگر ان کے بس میں ہو ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّرْتَدِدْ : واپس پھرا ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ عَنْ دِیْـنـِہٖ : اپنے دین سے ] [ فَـیَمُتْ : پھر وہ مرا ] [ وَہُوَ : اس حال میں کہ وہ ] [ کَافِرٌ : کافر ہے ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو یہ وہ لوگ ہیں ] [ حَبِطَتْ : اکارت ہوئے ] [ اَعْمَالُہُمْ : جن کے اعمال ] [ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ : دنیا اور آخرت میں ] [ وَاُولٰٓئِکَ : اور وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ النَّارِ : آگ والے ہیں ] [ ہُمْ : وہ لوگ ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] ص د د صَدَّ (ن ۔ ض) صَدًّا اور صُدُوْدًا : (1) کسی چیز سے رُک جانا (لازم) ۔ (2) کسی کو کسی چیز سے روک دینا (متعدی) ۔ { فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْہُ ط } (النسائ :55) ” تو ان میں وہ بھی ہیں جو ایمان لائے اس پر اور ان میں وہ بھی ہیں جو رُک گئے اس سے۔ “{ اَنَحْنُ صَدَدْنٰـکُمْ عَنِ الْھُدٰی…} (سبا :32) ” کیا ہم نے روکا تم کو ہدایت سے…؟ “ صَدِیْدٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : خون ملا ہوا مواد ‘ پیپ (کیونکہ یہ کھال اور گوشت کے درمیان رکاوٹ ہوتی ہے) { وَیُسْقٰی مِنْ مَّـائٍ صَدِیْدٍ ۔ } (ابرٰھیم) ” اور وہ پلایا جائے گا پیپ والے پانی میں سے۔ “ ز ی ل زَالَ (ف) زَیْلًا : کسی چیز کا اپنی جگہ سے ہٹنا ‘ زائل ہونا۔ مَا زَال اور لَا یَزَالُ افعال ناقصہ میں سے ہیں۔ زَیَّلَ (تفعیل) تَزْیِیْلًا : الگ الگ کرنا ‘ جدا جدا کرنا۔ { ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَـکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْج فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ } (یونس :28) ” پھر ہم کہیں گے ان سے جنہوں نے شرک کیا کہ رہو اپنی جگہ ‘ تم بھی اور تمہارے شرکاء بھی ‘ پس ہم الگ الگ کریں گے ان کو ایک دوسرے سے ۔ “ تَزَیَّلَ (تفعّل) تَزَیُّلًا : الگ الگ ہونا۔ { لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ۔ } (الفتح) ” اگر وہ لوگ الگ الگ ہوتے تو ہم ضرور عذاب دیتے ان کو دردناک عذاب جنہوں نے کفر کیا ان میں سے۔ “ ح ب ط حَبِطَ (س) حَبْطاً : کسی چیز کا اکارت ہونا ‘ بےکار ہونا۔ { وَمَنْ یَّــکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ز } (المائدۃ :5) ” اور جو انکار کرتا ہے ایمان کا تو اکارت گیا اس کا عمل۔ “ اَحْبَطَ (افعال) اِحْبَاطًا : کسی چیز کو اکارت کردینا۔ { ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَرِھُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ ۔ } (محمد) ” یہ اس لیے کہ انہوں نے ناپسند کیا اس کو جو اللہ نے اتارا تو اس نے اکارت کردیا ان کے اعمال کو۔ “ ترکیب : ” اَلشَّھْرِ “ پر لام جنس ہے اور ” اَلْحَرَامِ “ اس کی صفت ہونے کی وجہ سے معرّف باللّام ہے۔ اس مرکب توصیفی کا بدل ہونے کی وجہ سے ” قِتَالٍ “ مجرور ہے۔ ” فِیْہِ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” اَلشَّھْرِ الْحَرَامِ “ کے لیے ہے اور لفظی رعایت کے تحت ضمیر واحد آئی ہے ‘ لیکن لام جنس کی وجہ سے دونوں جگہ ترجمہ جمع میں ہوگا۔” قُلْ “ کے بعد قاعدئہ کلیہ کا بیان ہے اس لیے ” قِتَالٌ“ مبتدأ نکرہ آیا ہے اور ” کَبِیْرٌ“ اس کی خبر ہے ‘ اور یہ بذات خود صفت ہے جبکہ اس کا موصوف ” اِثْمٌ“ محذوف ہے۔ ” وَصَدٌّ“ سے ” اَھْلِہٖ مِنْہُ “ تک پورا فقرہ مبتدأ ہے۔ اس میں ” بِہٖ “ کی ” ہٗ “ کی ضمیر ” سَبِیْلِ اللّٰہِ “ کے لیے ہے۔ ” سَبِیْلٌ“ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اس لیے مذکر ضمیر بھی جائز ہے۔ ” وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “ کی جر بتارہی ہے کہ یہ ” صَدٌّ عَنْ “ پر عطف ہے۔ ” اَھْلِہٖ “ اور ” مِنْہُ “ کی ضمیریں ” اَلْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “ کے لیے ہیں۔ ” اَکْبَرُ “ اس پورے فقرے کی خبر ہے اور اس کی تمیز ” اِثْمًا “ محذوف ہے۔ ” وَالْفِتْنَۃُ “ پر لام جنس ہے۔ ” لاَ یَزَالُوْنَ “ سے ” عَنْ دِیْنِکُمْ “ تک جوابِ شرط ہے اور ” اِنِ اسْتَطَاعُوْا “ اس کی شرط ہے۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یَرْتَدِدْ “ سے ” کَافِرٌ“ تک شرط ہے جبکہ ” فَاُولٰٓئِکَ “ سے ” وَالْاٰخِرَۃِ “ تک جوابِ شرط ہے۔ شرط ہونے کی وجہ سے ” یَرْتَدِدْ “ اور ” یَمُتْ “ مجزوم ہیں۔ ” اَعْمَالٌ“ غیر عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے فعل ” حَبِطَتْ “ واحد مؤنث آیا ہے۔” اَلدُّنْیَا “ اور ” اَلْاٰخِرَۃِ “ دونوں صفت ہیں اور ان دونوں کا موصوف ” اَلْحَیٰوۃِ “ محذوف ہے۔ نوٹ (1) : البقرۃ کی آیت 191 کے نوٹ (3) میں بیان کیا گیا تھا کہ وہاں پر لفظ ” اَلْفِتْنَۃُ “ تشدّد کے معنی میں آیا ہے۔ اب نوٹ کرلیں کہ آیت زیر مطالعہ اس بات کی سند ہے ‘ کیونکہ یہاں جبر و تشدد کی مثالیں دینے کے بعد وہی بات کہی گئی ہے کہ تشدد خواہ کسی بھی شکل میں ہو ‘ وہ بہرحال قتل سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ نوٹ (2) : اِرْتِدَادٌ کا اصل مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوا اور پھر اسلام چھوڑ کر اپنے پہلے مذہب میں واپس چلا گیا۔ ابتدائِ اسلام میں یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوتا تھا اور ” مُرتد “ ایسے شخص کو کہتے تھے جو اسلام چھوڑ کر اپنے پرانے مذہب میں واپس چلا جاتا۔ لیکن اصطلاحاً اب یہ ایسے لوگوں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا ہے جو اسلام میں تھے اور پھر انہوں نے کوئی دوسرا مذہب قبول کرلیا۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

بخلااِس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے، وہ رحمت الٰہی کے جائز امیدوار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے ] [ وَالَّذِیْنَ : اور جن لوگوں نے ] [ ہَاجَرُوْا : ہجرت کی ] [ وَجٰہَدُوْا : اور جہاد کیا ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ یَرْجُوْنَ : اُمید رکھتے ہیں ] [ رَحْمَتَ اللّٰہِ : اللہ کی ] [ رحمت کی ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ھ ج ر ھَجَرَ (ن) ھَجْرًا : (1) قطع تعلق کرنا ‘ چھوڑنا۔ (2) نیند یا بیماری میں بڑبڑانا ‘ بلاسوچے سمجھے بکواس کرنا۔ { بِہٖ سٰمِرًا تَھْجُرُوْنَ ۔ } (المؤمنون) ” رات کی مجلس میں تم لوگ بکواس کرتے ہو۔ “ اُھْجُرْ (فعل امر) : تو قطع تعلق کر ‘ تو چھوڑ۔ { وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ ۔ } (المدّثّر) ” اور گندگی کو آپ ﷺ چھوڑیں۔ “ مَھْجُوْرٌ (اسم المفعول) : قطع تعلق کیا ہوا ‘ چھوڑا ہوا۔ { یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا ۔ } (الفرقان) ” اے میرے ربّ ! بیشک میری قوم نے بنایا اس قرآن کو قطع تعلق کیا ہوا۔ “ ھَاجَرَ (مفاعلہ) ھِجْرَۃً : (اس کا مصدر ” ھِجَارًا “ نہیں آتا۔ ” مُھَاجَرَۃً “ جائز ہے ‘ لیکن زیادہ تر خلافِ معمول ” ھِجْرَۃً “ استعمال ہوتا ہے) ۔ ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اپنانا ‘ ہجرت کرنا۔ { یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِلَـیْھِمْ } (الحشر :9) ” وہ لوگ محبت کرتے ہیں اس سے جس نے ہجرت کی ان کی طرف۔ “ مُھَاجِرٌ (اسم الفاعل) : ہجرت کرنے والا۔ { اِنِّیْ مُھَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْط } (العنکبوت :26) ” بیشک میں ہجرت کرنے والا ہوں اپنے رب کی طرف۔ “ رج و رَجَا (ن) رَجْوًا : کسی سے امید باندھنا ‘ امید کرنا۔ { وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَط } (النسائ :104) ” اور تم لوگ امید رکھتے ہو اللہ سے اس کی جس کی وہ لوگ امید نہیں رکھتے۔ “ اُرْجُ (فعل امر) : تو امید رکھ۔ { یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ } (العنکبوت :36) ” اے میری قوم ! تم لوگ بندگی کرو اللہ کی اور امید رکھو آخرت کی۔ “ مَرْجُوٌّ (اسم المفعول) : امید کیا ہوا (جس سے امیدیں وابستہ ہوں) ۔ { قَالُوْا یٰـصٰلِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَـبْلَ ھٰذَا } (ھود :62) ” انہوں نے کہا اے صالح (d) ! تو رہا ہے ہم میں امید کیا ہوا اس سے پہلے۔ “ رَجَائٌ ج اَرْجَائٌ : کسی چیز کا کنارہ۔ { وَالْمَلَکُ عَلٰی اَرْجَائِ ھَاط } (الحاقّۃ :17) ” اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ “ اَرْجٰی (افعال) اِرْجَائً : کسی کو امید دلانا ‘ ٹال دینا ‘ مؤخر کرنا۔ { تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْھُنَّ } (الاحزاب :51) ” آپ ﷺ پیچھے کریں اس کو جس کو آپ ﷺ چاہیں ان میں سے۔ “ اَرْجِ (فعل امر) : تو ٹال ‘ مؤخر کر۔ { قَالُوْا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَائِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ } (الاعراف) ” انہوں نے کہا تو ٹال دے اس کو اور اس کے بھائی کو اور تو بھیج شہروں میں جمع کرنے والوں کو۔ “ ترکیب : ” اَلَّذِیْنَ “ سے ” سَبِیْلِ اللّٰہِ “ تک ” اِنَّ “ کا اسم ہے جبکہ ” اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ “ اس کی خبر ہے۔ جمع مؤنث سالم کے علاوہ جس لفظ کے لام کلمہ پر ” تا “ آتی ہے اسے تائے مبسوط سے لکھتے ہیں۔ جیسے ” وَقْتٌ“ کو ” وَقْۃٌ“ لکھنا غلط ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر تائے مربوط استعمال ہوتی ہے۔ ” رَحْمَۃٌ“ بھی تائے مربوط سے ہی لکھا جاتا ہے جبکہ ” رَحْمَتٌ“ قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

پوچھتے ہیں: شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ کہو: ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ اُن کے فائدے سے بہت زیادہ ہے پوچھتے ہیں: ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو

[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں ] [ آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ : جوئے اور شراب کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ فِیْہِمَآ : ان دونوں میں ] [ اِثْمٌ کَبِیْرٌ : ایک بڑا گناہ ہے ] [ وَّمَنَافِـعُ : اور کچھ فائدہ اٹھانے کی چیزیں ہیں ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ وَاِثْمُہُمَآ : اور ان دونوں کا گناہ ] [ اَکْبَرُ : زیادہ بڑا ہے ] [ مِنْ نَّفْعِہِمَا : ان دونوں کے فائدے سے ] [ وَیَسْئَلُوْنَکَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ مَاذَا : کیا کچھ ] [ یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کریں ] [ قُلِ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ الْعَفْوَ : (خرچ کرو) اضافی کو ] [ کَذٰلِکَ : اس طرح ] [ وَیُـبَــیِّنُ : واضح کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ لَــکُمُ : تمہارے لیے ] [ الْاٰیٰتِ : نشانیوں (یعنی ہدایات) کو ] [ لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَـتَــفَـکَّرُوْنَ : سوچ بچار کرو ] خ م ر خَمَرَ (ن) خَمْرًا : کسی چیز کو ڈھانپنا ‘ چھپانا۔ خَمْرٌ (اسم ذات بھی ہے) : شراب (کیونکہ یہ عقل کو ڈھانپ دیتی ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔ خِمَارٌ ج خُمُرٌ (اسم ذات) : دوپٹہ ‘ اوڑھنی۔ { وَلْـیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنّ َص } (النور :31) ” اور خواتین کو چاہیے کہ وہ لپیٹیں اپنی اوڑھنیوں کو اپنے گریبانوں پر۔ “ ک ر فَـکَرَ (ض) فِـکْرًا : معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے چھان بین کرنا ‘ سوچ بچار کرنا۔ فَـکَّرَ (تفعیل) تَفْکِیْرًا : تسلسل سے سوچ وچار کرتے رہنا ‘ کثرت سے سوچ بچار کرنا۔ { اِنَّہٗ فَـکَّرَ وَقَدَّرَ ۔ } (المدَّثِّر) ” بیشک اس نے بہت سوچ بچار کیا اور طے کیا۔ “ تَفَکَّرَ (تفعّل) تَفَکُّرًا : بتکلف سوچ بچار کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” اِثْمٌ کَبِیْرٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی خبر ” وَاجِبٌ“ محذوف ہے اور قائم مقام خبر ” فِیْھِمَا “ مقدم ہے اور اس کی ضمیر ” اَلْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ “ کے لیے ہے۔ ” مَنَافِـعُ “ بھی مبتدأ نکرہ ہے۔ اس کی خبر ” مَوْجُوْدَۃٌ“ محذوف ہے اور ” لِلنَّاسِ “ قائم مقام خبر ہے۔” اَلْعَفْوَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے ” اَنْفَقُوْا “ محذوف ہے۔ نوٹ (1) : زیر مطالعہ سورت کی آیت 184 کے نوٹ (1) میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اسلام کے کچھ احکام بتدریج نافذ کیے گئے تھے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں بھی شراب اور جوئے کے متعلق پہلا عبوری حکم آیا ہے اور اس میں اس اصول کی طرف راہنمائی کی گئی ہے کہ اگر کسی چیز کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوں تو اس کو چھوڑ دینے میں ہمارا اپنابھلا ہے۔ شراب کے متعلق دوسرا عبوری حکم سورة النساء کی آیت 43 میں آیا جب نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کردیا گیا۔ اس کے بعد سورة المائدۃ کی آیت 90 میں شراب ‘ جوا اور کچھ مزید چیزوں کو حتمی طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ نوٹ (2) : آیت 215 اور آیت زیر مطالعہ میں انفاق کے متعلق سوال اور اس کے جواب کی وضاحت ” معارف القرآن “ میں تفصیل سے کی گئی ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے : (1) پہلے سوال میں پوچھا گیا تھا کہ کتنا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں ؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ ہمارے انفاق کے مستحق کون لوگ ہیں ۔ اور کتنا خرچ کریں ؟ کے ضمن میں اصول بتادیا کہ مالی انفاق ہو یا کوئی اور بھلائی ہو ‘ جو بھی نیکی ہم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے ‘ یعنی اس کا ثواب ہم کو مل جائے گا۔ دوسرے سوال میں صرف یہ پوچھا گیا تھا کہ کتنا خرچ کریں ؟ تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ جو ضرورت سے زائد ہو وہ خرچ کرو۔ (2) ان دونوں سوالات کا تعلق نفلی انفاق سے ہے۔ کیونکہ فرض انفاق یعنی زکوٰۃ کے نصاب ‘ اس کی مقدار اور اس کے مستحقین کے متعلق صحابۂ کرام ؓ کو ابہام نہیں تھا۔ (چونکہ نفلی عبادات میں مقدار کا تعین نہیں ہوتا اس لیے ان سوالات کے جواب میں بھی مقدار کا تعین نہیں کیا گیا۔ مرتب) (3) نفلی انفاق کے مستحقین میں سرفہرست والدین اور رشتہ دار ہیں۔ اگر ثواب کی نیت سے ان کو تحفہ دیا جائے یا کھلایا جائے تو یہ انفاق فی سبیل اللہ میں شامل ہے۔ (4) اپنے زیر کفالت اہل و عیال کو تنگی میں ڈال کر انفاق کرنا ثواب نہیں ہے۔ (5) جو کچھ ضرورت سے زائد ہو وہ سارے کا سارا اللہ کی راہ میں خرچ کردینا ضروری یا واجب نہیں ہے۔ صحابۂ کرام ؓ کے عمل سے یہ بات ثابت ہے۔ نوٹ (3) : اس مطالعہ کا نچوڑ اپنی سمجھ میں تو بس اتنا سا آیا ہے کہ جب ایک مرتبہ ہم کو بتادیا گیا کہ ہم جو بھی نیکی کریں گے اس کا ثواب ہمیں ملے گا ‘ تو اب ہر شخص کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے کتنے ثواب کی ضرورت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے پوچھنے والی کون سی بات ہے ؟ اور جس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا وہ سوال علماء کرام سے پوچھنے کا کیا تُک ہے ؟
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

پوچھتے ہیں: یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہو: جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو، وہی اختیار کرنا بہتر ہے اگر تم اپنا اور اُن کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا، مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے

[ فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [ وَالْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [ وَیَسْئَلُوْنَکَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْیَتٰمٰی : یتیموں کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ اِصْلاَحٌ : سنوارنا ] [ لَّــہُمْ : ان کے لیے ] [ خَیْرٌ : ایک بھلائی ہے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُخَالِطُوْہُمْ : تم لوگ رَل مِل کر رہو ان کے ساتھ ] [ فَاِخْوَانُـکُمْ : تو وہ تمہارے بھائی ہیں ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ الْمُفْسِدَ : فسادی لوگوں کو ] [ مِنَ الْمُصْلِحِ : سنوارنے والوں میں سے ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ شَائَ : چاہتا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لَاَعْنَتَکُمْ : تو وہ مشکل میں ڈالتا تم لوگوں کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [ حَکِیْمٌ : حکمت والا ہے ] خ ل ط خَلَطَ (ض) خَلْطاً : مختلف چیزوں کے اجزاء کو باہم ملا دینا۔ { خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّئًاط } (التوبۃ :102) ” ان لوگوں نے ملایا نیک عمل کو اور دوسرے برے کو (یعنی برے عمل کو) ۔ “ خَلِیْطٌ ج خُلَطَائُ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : حصہ دار ‘ شریک۔ { وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَائِ لَـیَبْغِیْ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ } (صٓ:24) ” اور بیشک شرکاء میں سے اکثر زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر۔ “ خَالَطَ (مفاعلہ) مُخَالَطَۃً اور خِلَاطًا : کسی کے ساتھ میل جول رکھنا ‘ رَل مِل کر رہنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ اِخْتَلَطَ (افتعال) اِخْتِلَاطًا : مختلف چیزوں کا ایک دوسرے سے مل جانا ‘ گتھ جانا۔ { فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَـبَاتُ الْاَرْضِ } (یونس :24) ” تو گتھ گیا اس سے زمین کا سبزہ۔ “ ع ن ت عَنِتَ (س) عَنَتًا : مشکل میں پڑنا۔ { وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ج } (آل عمران :118) ” وہ لوگ آرزو کرتے ہیں اس کی جس سے تم لوگ مشکل میں پڑو۔ “ اَعْنَتَ (افعال) اِعْنَاتًا : کسی کو مشکل میں ڈالنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” اِصْلَاحٌ لَّھُمْ “ مبتدأ ہے اور ” خَیْرٌ“ اس کی خبر ہے۔ ” اِنْ “ شرطیہ ہے۔ ” تُخَالِطُوْھُمْ “ شرط ہے۔ ” فَاِخْوَانُـکُمْ “ جوابِ شرط ہے اور یہ خبر ہے۔ اس کا مبتدأ ” ھُمْ “ محذوف ہے۔ ” اَلْمُفْسِدَ “ اور ” اَلْمُصْلِحِ “ پر لام جنس ہے۔ ” لَــوْ “ شرطیہ ہے۔ ” شَآئَ اللّٰہُ “ شرط اور ” لَاَعْنَتَـکُمْ “ جوابِ شرط ہے۔ نوٹ (1) : زیر مطالعہ سورة کی آیت 184 کے نوٹ (1) میں بتایا گیا تھا کہ اسلام کے کچھ احکام بتدریج نافذ کیے گئے تھے۔ اب نوٹ کرلیں کہ کچھ احکام میں صورت حال اس کے برعکس بھی تھی۔ یعنی پہلے سخت حکم آیا اور پھر بعد میں اس میں نرمی کی گئی۔ آیت زیر مطالعہ اس قسم کے احکام کی ایک مثال ہے۔ پہلے سورة الانعام کی آیت 152 میں حکم آیا تھا کہ یتیم کے مال کے قریب بھی مت جائو سوائے اس طریقے کے جو بہترین ہو۔ پھر سورة بنی اسرائیل کی آیت 34 میں بالکل انہی الفاظ میں اس حکم کا اعادہ کیا گیا۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ نے اپنے زیر کفالت یتیموں کا حساب بالکل الگ کردیا ‘ یہاں تک کہ ان کے کھانے بھی الگ پکتے تھے اور اس میں سے یتیم کے علاوہ کوئی دوسرا فرد کچھ نہیں کھاتا تھا۔ اس کی وجہ سے کچھ قباحتیں بھی پیدا ہوئیں اور مغائرت اور دوری کا احساس بھی پیدا ہوا۔ صحابہ کرام ؓ نے جب یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس حکم میں نرمی کی گئی۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے

[ وَلاَ تَنْکِحُوا : اور تم لوگ نکاح مت کرو ] [ الْمُشْرِکٰتِ : مشرک خواتین سے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُؤْمِنَّ : وہ ایمان لے آئیں ] [ وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ : اور یقینا کوئی مومن کنیز ] [ خَیْرٌ : بہتر ہے ] [ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ : کسی مشرک خاتون سے ] [ وَّلَوْ : اور خواہ ] [ اَعْجَبَتْکُمْ : وہ دلکش لگے تم لوگوں کو ] [ وَلاَ تُـنْـکِحُوا : اور تم لوگ نکاح میں مت دو ] [ الْمُشْرِکِیْنَ : مشرکوں کے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُؤْمِنُوْا : وہ لوگ ایمان لے آئیں ] [ وَلَــعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ: اور یقینا ایک مومن غلام ] [ خَیْرٌ : بہتر ہے ] [ مِّنْ مُّشْرِکٍ : کسی مشرک سے ] [ وَّلَــوْ : اور خواہ ] [ اَعْجَبَکُمْ : وہ بھلا لگے تم کو ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ یَدْعُوْنَ : بلاتے ہیں ] [ اِلَی النَّارِ : آگ کی طرف ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَدْعُوْآ : بلاتا ہے ] [ اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ : جنت اور مغفرت کی طرف ] [ بِاِذْنِہٖ : اپنی اجازت سے ] [ وَیُـبَــیِّنُ : اور وہ واضح کرتا ہے ] [ اٰیٰتِہٖ : اپنی نشانیوں کو ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ لَعَلَّہُمْ : شاید کہ وہ لوگ ] [ یَتَذَکَّرُوْنَ : یاد دہانی حاصل کریں ] ن ک ح نَـکَحَ (ض) نَـکْحًا : شادی کرنا ‘ کسی سے نکاح کرنا۔ { فَــلَا تَحِلُّ لَــہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ط } (البقرۃ :230) ” تو وہ خاتون حلال نہیں ہے اس کے لیے اس کے بعد یہاں تک کہ وہ خاتون نکاح کرے کسی شوہر سے اس کے علاوہ۔ “ اِنْکِحْ (فعل امر) : تو نکاح کر۔ { فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ } (النسائ :25) ” پس تم لوگ نکاح کرو ان خواتین سے ان کے گھر والوں کی اجازت سے۔ “ نِکَاحٌ (اسم فعل) : شادی ‘ نکاح۔ { اِلاَّ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِط } (البقرۃ :237) ” سوائے اس کے کہ وہ خواتین معاف کردیں یا وہ بڑھا دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ “ اَنْـکَحَ (افعال) اِنْکَاحًا : کسی کو کسی کے نکاح میں دینا۔ { اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ھٰتَیْنِ } (القصص :27) ” بیشک میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں نکاح میں دوں تیرے اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کو۔ “ اَنْـکِحْ (فعل امر) : تو نکاح میں دے۔ { وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ } (النور :32) ” اور تم لوگ نکاح میں دو اپنوں میں سے بیوائوں کو۔ “ اِسْتَنْکَحَ (استفعال) اِسْتِنْکَاحًا : کسی سے نکاح کرنا یا نکاح چاہنا۔ { اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَاق } (الاحزاب :50) ” اگر ارادہ کریں نبی (ﷺ) کہ وہ نکاح کریں اس سے۔ “ ء م و أَمَا (ن) اُمُوَّۃً : کسی عورت کا لونڈی بننا ‘ کنیز بننا۔ اَمَۃٌ ج اِمَائٌ (اسم ذات) : لونڈی ‘ کنیز۔ آیت زیر مطالعہ۔ { وَاَنْـکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْط } (النور :32) ” اور تم لوگ نکاح میں دو اپنوں میں سے بیوائوں کو اور اپنے نیک غلاموں کو اور کنیزوں کو۔ “ ترکیب : ” لاَ تَنْکِحُوْا “ باب ضرب سے فعل نہی ہے۔ اس کا فاعل اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” الْمُشْرِکٰتِ “ اس کا مفعول ہے۔” یُؤْمِنَّ “ جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے اس لیے اس پر ” حَتّٰی “ کا اثر ظاہر نہیں ہوا۔ ” اَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ“ مبتدأ نکرہ ہے اور اس پر لام تاکید ہے ‘ جبکہ ” خَیْرٌ“ اس کی خبر ہے۔ یہاں مبتدأ مونث ہے جبکہ اس کی خبر مذکر آئی ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ” خَیْرٌ“ اسم التفضیل کے طور پر آیا ہے اور ” مِنْ “ کے ساتھ استعمال ہونے کی صورت میں اسم التفضیل ہر حالت میں واحد اور مذکر ہی رہتا ہے خواہ اس کا موصوف یعنی مبتدأ تثنیہ یا جمع یا مؤنث ہی کیوں نہ ہو۔ ” لاَ تُنْکِحُوْا “ باب افعال سے فعل نہی ہے۔ اس کے دو مفعول آتے ہیں۔ مفعول اوّل جس کے نکاح میں دیا اور مفعول ثانی جس کو نکاح میں دیا۔ ” الْمُشْرِکِیْنَ “ مفعول اوّل ہے جبکہ مفعول ثانی محذوف ہے۔ ” یُؤْمِنُوْا “ جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ” حَتّٰی “ کی وجہ سے منصوب ہے ‘ اس لیے اس کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ” یَدْعُوْا “ دراصل مضارع کا واحد مذکر غائب کا صیغہ ” یَدْعُوْ “ ہے۔ اس کے آگے ” الف “ کا اضافہ قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔ ” یُـبَـیِّنُ “ کا فاعل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے۔ نوٹ (1) : زیر مطالعہ سورة کی آیت 219 میں شراب اور جوئے سے اجتناب اور زکوٰۃ سے زیادہ خرچ کرنے کی ہدایت دراصل اصلاحِ معاشرہ کا سنگ بنیاد ہے۔ پھر آیت 220 میں یتیموں کے حقوق کا ذکر اسی تصویر کا دوسرا رُخ ہے۔ اور اب آیت زیر مطالعہ سے شادی بیاہ کے معاملات کا ذکر شروع ہو رہا ہے جو آیت 242 تک جاری رہے گا۔ یہ بھی اصلاحِ معاشرہ کے اسی سنگ بنیاد کا تیسرا زاویہ (dimension) ہے۔ جب کوئی معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ ہوتا ہے تو اس میں برائیوں سے بچنا اور نیکیوں پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے ‘ جس کے نتیجے میں مغفرت اور جنت کا حصول بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اور جب کوئی معاشرہ فتنوں اور فساد کا شکار ہوجاتا ہے تو صورت حال برعکس ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں دوزخ میں داخلہ آسان ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو اُن کے پاس جاؤ اُس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں

[ وَیَسْئَلُوْنَکَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْمَحِیْضِ : خون جاری ہونے کے وقت کے متعلق ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ ہُوَ : وہ ] [ اَذًی : ایک تکلیف ہے ] [ فَاعْتَزِلُوا : پس تم لوگ کنارہ کش رہو ] [ النِّسَآئَ : عورتوں سے ] [ فِی الْْمَحِیْضِ : خون جاری ہونے کے وقت میں ] [ وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ : اور تم لوگ قریب مت ہو ان کے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَطْہُرْنَ : وہ پاک ہوں ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ تَطَہَّرْنَ : وہ خود کو پاک کرلیں ] [ فَاْتُوْہُنَّ : تو تم لوگ آئو ان کے پاس ] [ مِنْ حَیْثُ : جہاں سے ] [ اَمَرَکُمُ : حکم دیا تم کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ یُحِبُّ : پسند کرتا ہے ] [ التَّوَّابِیْنَ : بار بار توبہ کرنے والوں کو ] [ وَیُحِبُّ : اور وہ پسند کرتا ہے ] [ الْمُتَطَہِّرِیْنَ : خود کو پاک رکھنے والوں کو ] ح ی ض حَاضَ (ض) حَیْضًا : مخصوص ایام میں خواتین کا خون جاری ہونا ‘ ماہواری ہونا۔ { وَالّٰئِیْ لَمْ یَحِضْنَ ط } (الطلاق :4) ” اور وہ (عورتیں) جنہیں خون جاری نہیں ہوا۔ “ مَحِیْضٌ (مَفْعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف) : خون جاری ہونے کا وقت یا جگہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ع ز ل عَزَلَ (ض) عَزْلاً : کسی کو جدا کردینا ‘ الگ کردینا۔ { وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ } (الاحزاب :51) ” اور جس کو آپ ﷺ چاہیں ان میں سے جن کو آپ ﷺ نے الگ کیا۔ “ مَعْزُوْلٌ (اسم المفعول) : جدا کیا ہوا ‘ الگ کیا ہوا۔ { اِنَّـھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ۔ } (الشُّعرائ) ” یقینا وہ لوگ سننے سے الگ کیے ہوئے ہیں۔ “ مَعْزِلٌ (اسم الظرف) : الگ کرنے کی جگہ ‘ کسی چیز کا کنارہ۔ { وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ } (ھود :42) ” اور وہ تھا ایک کنارے پر۔ “ اِعْتَزَلَ (افتعال) اِعْتِزَالاً : کسی سے الگ ہونا (جس سے الگ ہوں وہ کسی صلہ کے بغیر یعنی بنفسہ آتا ہے) ۔ { فَلَمَّا اعْتَزَلَھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } (مریم :49) ” پھر وہ کنارہ کش ہوئے ان لوگوں سے اور ان سے جن کی وہ بندگی کرتے تھے اللہ کے علاوہ۔ “ ترکیب : ” ھُوَ “ مبتدأ اور ” اَذًی “ اس کی خبر ہے۔” یَطْھُرْنَ “ ثلاثی مجرد سے فعل مضارع ہے اور جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے جبکہ ” تَطَھَّرْنَ “ باب تفعل سے فعل ماضی میں جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ ” فَاِذَا “ حرفِ شرط ہے ‘ ” تَطَھَّرْنَ “ شرط ہے اور ” فَاْتُوْا “ سے لفظ ” اللّٰہُ “ تک جوابِ شرط ہے۔
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اُس سے ملنا ہے اور اے نبیؐ! جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں فلاح و سعادت کا مثردہ سنا دو

[ نِسَآؤُکُمْ : تمہاری عورتیں ] [ حَرْثٌ : بیج ڈالنے کی ایک جگہ ہیں ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ فَاْتُوْا : پس تم لوگ آئو ] [ حَرْثَــکُمْ : اپنی بیج ڈالنے کی جگہ میں ] [ اَنّٰی : جیسے ] [ شِئْتُمْ : تم چاہو ] [ وَقَدِّمُوْا : اور آگے بھیجو ] [ لِاَنْفُسِکُمْ : اپنے آپ کے لیے ] [ وَاتَّقُوا : اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّــکُمْ : کہ تم لوگ ] [ مُّلٰـقُوْہُ : اس سے ملاقات کرنے والے ہو ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیجیے ] [ الْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والوں کو ] ترکیب : ” نِسَائُ کُمْ “ مبتدأ ہے ” حَرْثٌ“ اس کی خبر ہے اور ” لَـــکُمْ “ متعلق خبر ہے۔ ” مُلٰقُوْا “ اسم الفاعل ” مُلَاقٍ “ کی جمع ” مُلٰقُوْنَ “ تھا۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا اور ضمیر ” ہُ “ اس کا مضاف الیہ ہے ‘ جو کہ اللہ کے لیے ہے۔ نوٹ (1) : ” وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ “۔ یہ قرآن مجید کے ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں ایک عام قاری بھی بڑی آسانی سے محسوس کرلیتا ہے کہ کسی فلسفیانہ اور گہری بات کو اتنے مختصر اور عام فہم انداز میں سمجھانے کا اتنا سادہ اور دلنشیں انداز کسی انسانی کلام میں تو کہیں نہیں ملتا۔ اور اس کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے کہ واقعی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا ہی کلام ہے۔ ایک کسان جب بیج ڈالتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ کچھ عرصے کے بعد وہ اس بیج کا پھل حاصل کرے گا جو اس کے کام آئے گا۔ گویا وہ بیج کو اپنے لیے آگے بھیجتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی کے تعلقات کا مقصد یہ ہے کہ ان کے یہاں اولاد ہو جو اس دنیا میں اپنے ماں باپ کا دست و بازو بنے۔ اگر تربیت اور اللہ کی مدد سے وہ اولادصالح بھی ہو تو پھر وہ اپنے ماں باپ کے لیے آخرت کی کمائی کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔ اس بات کو اتنے دلنشیں اور شائستہ پیرائے میں سمجھا دینا ‘ یہ قرآن مجید کا ہی اعجاز ہے۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بند گان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے

[ وَلاَ تَجْعَلُوا : اور تم لوگ مت بنائو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ عُرْضَۃً : نشانہ ] [ لِّاَیْمَانِکُمْ : اپنی قسموں کے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَــبَـرُّوْا : تم لوگ حسن سلوک (نہ) کرو ] [ وَتَـتَّــقُوْا : اور تقویٰ (نہ) کرو ] [ وَتُصْلِحُوْا : اور اصلاح (نہ) کرو ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [ عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ] ی م ن یَمِنَ (س) یَمْنًا : دا ‘ ہنی طرف ہونا۔ یَمِیْنٌ ج أَیْمَانٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : کثیر المعانی ہے ۔ (1) دا ‘ ہنی سمت یا رخ۔ { اِنَّــکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” بیشک تم لوگ آیا کرتے تھے ہمارے پاس دا ہنی طرف سے۔ “{ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْم بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَعَنْ اَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِھِمْط } (الاعراف :17) ” پھر میں لازماً پہنچوں گا ان کو ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دا ‘ ہنی جانب سے اور ان کی بائیں جانب سے۔ “ (2) داہنا ہاتھ۔ { وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی ۔ } (طٰـہٰ ) ” اور یہ کیا ہے آپ (علیہ السلام) کے داہنے ہاتھ میں اے موسٰی (علیہ السلام) ۔ “ { اَوْ مَا مَلَـکَتْ اَیْمَانُھُمْ } (المؤمنون :6) ” یا جس کے مالک ہوئے ان کے داہنے ہاتھ۔ “ (3) قسم (عرب لوگ داہنا ہاتھ اٹھا کر یا داہنے ہاتھ میں ہاتھ دے کر قسم کھاتے تھے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔ مَیْمَنَۃٌ (مَفْعَلَۃٌ کے وزن پر اسم الظرف) : دا ‘ ہنی طرف کی جگہ۔ { اُولٰٓـئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ } (البلد) ” وہ لوگ دا ‘ ہنی جگہ والے ہیں۔ “ ترکیب : ” لَا تَجْعَلُوْا “ فعل نہی ہے۔ اس کا فاعل اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ لفظ ” اَللّٰہُ “ اس کا مفعولِ اوّل اور ” عُرْضَۃً “ مفعول ثانی ہے۔ ” تَـبَرُّوْا “ ‘ ” تَـتَّـقُوْا “ اور ” تُصْلِحُوْا “ یہ تینوں افعال ” اَنْ “ کی وجہ سے منصوب ہیں۔ نوٹ (1) : پہلے اردو کے دو جملوں پر غور کرلیں۔ (1) حامد سے بات مت کرو یہاں تک کہ وہ معافی مانگے۔ (2) حامد سے بات مت کرو جب تک کہ وہ معافی نہ مانگے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دونوں جملوں میں بات ایک ہی کہی گئی ہے ‘ صرف انداز مختلف ہے۔ پہلے جملے میں لفظ ” مانگے “ کے ساتھ ” نہ “ لگانے کی ضرورت نہیں پڑی ‘ جبکہ دوسرے جملے میں ” نہ “ لگا کر مفہوم ادا ہوا ہے۔ اب نوٹ کرلیں کہ پہلے جملے کے انداز کا عربی میں رواج زیادہ ہے اس لیے آیت زیر مطالعہ میں فعل نہی کے بعد ” اَنْ “ کے ساتھ ” لَا “ لگانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ جبکہ اردو میں دوسرے جملے کے انداز کا رواج زیادہ ہے ‘ اس لیے ترجمہ میں ” نہ “ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ صحیح مفہوم واضح ہوجائے۔ نوٹ (2) : اس آیت میں کوئی نیک کام نہ کرنے کی قسم اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اور انداز یہ اختیار کیا گیا ہے کہ اگر ایسی بری قسم کبھی اٹھا ہی بیٹھو تو اس میں کم از کم اللہ کو تو بیچ میں نہ لائو۔ یہ دراصل ممانعت کا ایک ہلکا پھلکا سا ‘ مشفقانہ انداز ہے۔ اور ایک طرح سے یہ قسموں کے متعلق ان احکامات کا مقدمہ ہے جو آگے چل کر سورة المائدۃ اور سورة التحریم میں آنے والے ہیں۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، اُن کی باز پرس وہ ضرور کرے گا اللہ بہت در گزر کرنے والا اور بردبار ہے

[ لاَ یُؤَاخِذُ : جواب طلبی نہیں کرے گا ] [ کُمُ : تم لوگوں سے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِاللَّغْوِ : بےسوچی سمجھی بات پر ] [ فِیْ اَیْمَانِکُمْ : تمہاری قسموں میں ] [ وَلٰــکِنْ : اور لیکن (البتہ) ] [ یُّؤَاخِذُکُمْ : وہ جواب طلبی کرے گا تم سے ] [ بِمَا : اس پر جو ] [ کَسَبَتْ : کمایا (قصد کیا) ] [ قُلُـوْبُکُمْ : تمہارے دلوں نے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے حَلِیْمٌ: ہمیشہ تحمل کرنے والا ہے ] ل غ و لَغَا (ف) لَغْـوًا : بغیر سوچے سمجھے کوئی بات کہنا۔ لَغْوٌ (اسم ذات) : (1) بےمعنی یا بیکار بات (2) بےفائدہ چیز یا کام۔ { وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ } (القصص :55) ” اور جب بھی وہ لوگ سنتے ہیں بیکار بات کو تو اعراض کرتے ہیں اس سے۔ “{ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ۔ } (المؤمنون) ” وہ لوگ بےفائدہ چیز سے اعراض کرنے والے ہیں۔ “ اِلْغَ (فعل امر) : تو بےمعنی بات کر۔{ لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ } (حٰمٓ السجدۃ :26) ”(منکرین حق کہتے ہیں) تم لوگ مت سنو اس قرآن کو اور بےمعنی بات کرو اس میں۔ “ لَاغٍ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت) : بےسود ‘ بے { لَا تَسْمَعُ فِیْھَا لَاغِیَۃً ۔ } (الغاشیۃ) ” وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی بےسود بات۔ “ ح ل م حَلَمَ (ن) حُلْمًا : خواب دیکھنا۔ حَلُمَ (ک) حِلْمًا : غصہ میں خود پر قابو رکھنا ‘ تحمل کرنا ‘ بردبار ہونا۔ حُلْمٌ ج اَحْلَامٌ : خواب۔ { وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ ۔ } (یوسف) ” اور ہم خوابوں کی تعبیر جاننے والے نہیں ہیں۔ “ حِلْمٌ ج اَحْلَامٌ : تحمل ‘ بردباری ‘ عقل ‘ شعور (کیونکہ بردباری عقل و شعور سے آتی ہے اور یہ لازم و ملزوم ہیں) ۔ { اَمْ تَاْمُرُھُمْ اَحْلَامُھُمْ بِھٰذَا } (الطور :32) ” کیا مشورہ دیتے ہیں ان کو ان کے شعور اس کا ؟ “ حُلُـمٌ : عقل و شعور کی پختگی ‘ بلوغت۔ { وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ } (النور :59) ” اور جب پہنچیں بچے تم میں سے بلوغت کو۔ “ حَلِیْمٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : تحمل والا ‘ بردبار۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” یُؤَاخِذُ “ باب مفاعلہ کا فعل مضارع ہے ” کُمْ “ ضمیر مفعولی ہے اور لفظ ” اَللّٰہُ “ اس کا فاعل ہے۔ فاعل ” قُلُوْبُـکُمْ “ غیر عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے فعل ” کَسَبَتْ “ واحد مؤنث آیا ہے۔
Ayah 2:226

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں، اُن کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے اگر انہوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے

[ لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جو ] [ یُؤْلُوْنَ : قسم کھاتے ہیں (قطع تعلق کی) ] [ مِنْ نِّسَآئِہِمْ : اپنی عورتوں سے ] [ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ : چار مہینے کا انتظار کرنا ہے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ فَــآ ئُ وْ : وہ لوٹ آئیں ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ء ل و أَلاَ (ن) اَلْــوًا : کسی کام میں کوتاہی کرنا۔ { لَا یَاْلُوْنَـکُمْ خَبَالًاط } (آل عمران :118) ” وہ لوگ کوتاہی نہیں کریں گے تم لوگوں کو برباد کرنے میں۔ “ آلٰی (افعال) اِیْلَائً : کوتاہی کرنے کا عہد کرنا ‘ کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ اِئْتَلٰی (افتعال) اِیْتِلَائً : قسم کھانا۔ لَا یَأْتَلِ (فعل نہی) : تو قسم مت کھا۔ { وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْآ اُولِی الْقُرْبٰی } (النور :22) ” اور قسم نہ کھائیں فضل والے تم میں سے اور وسعت والے کہ وہ (نہ) دیں گے قرابت والوں کو۔ “ ر ب ص رَبَصَ (ن) رَبْصًا : کسی موقع کی تاک میں رہنا۔ تَرَبَّصَ (تفعل) تَرَبُّصًا : انتظار کرنا۔ { وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَآئِرَط } (التوبۃ :98) ” اور وہ انتظار کرتا ہے تمہارے لیے گردش زمانہ کا۔ “ تَرَبَّصْ (فعل امر) : تو انتظار کر۔ { فَـتَرَبَّصُوْا بِہٖ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ } (المؤمنون) ” پس تم لوگ انتظار کرو اس کے لیے کچھ عرصہ تک۔ “ مُتَرَبِّصٌ (اسم الفاعل) : انتظار کرنے والا۔ { فَتَرَبَّصُوْآ اِنَّا مَعَکُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ ۔ } (التوبۃ) ” تو تم لوگ انتظار کرو بیشک ہم تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔ “ ی ء فَائَ (ض) فَـیْئًا : واپس ہونا ‘ لوٹنا۔ { حَتّٰی تَفِیْئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللّٰہِ ج } (الحُجُرات :9) ” یہاں تک کہ وہ لوٹے اللہ کے حکم کی طرف۔ “ اَفَائَ (افعال) اِفَائَ ۃً : واپس کرنا ‘ لوٹانا ۔ (زیادہ تر ایسے مال غنیمت کے لیے آتا ہے جو بلامشقت حاصل ہو) ۔ { وَمَآ اَفَـــآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْھُمْ } (الحشر :6) ” اور جو لوٹایا اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر ان سے (یعنی ان سے لے کر) ۔ “ تَفَیَّــأَ (تفعل) تَــفَــیُّؤًا : رُخ تبدیل کرنا ‘ پلٹا کھانا۔ { اَوَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ یَّـتَـفَـیَّؤُا ظِلٰلُہٗ } (النحل :48) ” تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں اس کی طرف جو پیدا کیا اللہ نے کسی چیز سے کہ الٹتے ہیں ان کے سائے۔ “ ترکیب : ” تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ “ مبتدأ مؤخر ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو ” ثَابِتٌ“ ہوسکتی ہے ‘ جبکہ ” لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” فَاِنْ “ شرطیہ ہے ‘ ” فَـــآئُ وْ “ شرط ہے اور آگے جوابِ شرط ہے۔
Ayah 2:227

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر اُنہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ عَزَمُوا : وہ لوگ پختہ ارادہ کریں ] [ الطَّلاَقَ : طلاق کا ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [ عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] ع ز م عَزَمَ (ض) عَزْمًا : پختہ ارادہ کرنا۔ { فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط } (آل عمران :159) ” پھر جب آپ ﷺ پختہ ارادہ کرلیں تو بھروسہ کریں اللہ پر۔ “ عَزْمٌ (اسم ذات) : پختہ ارادہ ‘ ثابت قدمی۔ { فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ } (آل عمران) ” تو یقینا یہ ثابت قدمی کے کاموں میں سے ہے۔ “ ط ل ق طَلَقَ (ض) طَلْقًا : کسی کا بندھن کھولنا۔ طَلَاقٌ (اسم فعل) : نکاح کا بندھن کھولنا ‘ طلاق دینا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ طَلَّقَ (تفعیل) تَطْلِیْقًا : کسی کو آزاد کر کے جدا کرنا ‘ طلاق دینا۔{ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ…} (البقرۃ :230) ” پھر اگر وہ طلاق دے اس کو تو وہ حلال نہیں ہوتی اس کے لیے اس کے بعد…“ طَلِّقْ (فعل امر) : تو طلاق دے۔{ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ } (الطلاق :1) ” جب تم لوگ طلاق دو عورتوں کو تو طلاق دو ان کی عدت کے لیے۔ “ مُطَلَّقَۃٌ (اسم المفعول) : طلاق دی ہوئی۔ { وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌم بِالْمَعْرُوْفِط } (البقرۃ :241) ” اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے کچھ سامان ہے دستور کے مطابق۔ “ اِنْطَلَقَ (انفعال) اِنْطِلَاقًا : کسی بندھن سے آزاد ہونا ‘ چل پڑنا۔ { فَانْطَلَقُوْا وَھُمْ یَتَخَافَتُوْنَ ۔ } (القلم) ” پھر وہ چلے اور ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہتے تھے۔ “ { وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ } (الشعرائ :13) ” اور نہیں چلتی میری زبان۔ “ اِنْطَلِقْ (فعل امر) : تو چل۔ { اِنْطَلِقُوْآ اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ } (المرسلٰت) ” تم لوگ چلو اس کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ “ نوٹ (1) : اگر کوئی شوہر اپنی بیوی سے قطع تعلق کا عہد کرلیتا ہے لیکن اسے طلاق بھی نہیں دیتا ‘ تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ چار مہینے کے اندر فیصلہ کرے۔ یا تو تعلقات بحال کرے یا پھر طلاق دے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اللہ کے حکم پر عمل نہیں کرتا اور اپنی روش پر قائم رہتا ہے تو پھر کیا ہوگا ! اس ضمن میں آراء مختلف ہیں۔ مفتی محمد شفیع (رح) کی رائے ہے کہ ایسی صورت میں چار ماہ بعد طلاق خود بخود ہوجائے گی ‘ البتہ دونوں اگر رضامندی سے دوبارہ نکاح کرلیں تو درست ہے۔ (معارف القرآن)