2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، درآں حالیکہ ہم انہیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں، یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جو لوگ ] [ یَکْتُمُوْنَ : چھپاتے ہیں ] [ مَا : اس کو جس کو ] [ اَنْزَلْـنَا : ہم نے نازل کیا ] [ مِنَ الْبَـیِّنٰتِ وَالْھُدٰی : ہدایت اور کھلی کھلی (نشانیوں) میں سے ] [ مِنْ بَعْدِ مَا : اس کے بعد جو ] [ بَـیَّـنّٰـہُ : ہم نے واضح کیا اس کو ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ فِی الْـکِتٰبِ : کتاب میں ] [ اُولٰٓـئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ : لعنت کرتا ہے جن پر اللہ ] [ وَیَلْعَنُھُمُ : اور لعنت کرتے ہیں جن پر ] [ اللّٰعِنُوْنَ : لعنت کرنے والے [ مَا : ” مَا “ اسمی بھی ہوتا ہے اور حرفی بھی ۔ ہر ایک کی تین قسمیں ہیں : (1) ” مَا “ اسمی معرفہ : ا) ناقصہ یعنی موصولہ (بمعنی وہ جو) ۔ { مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍط } (النحل :96) ب) معرفہ تامہ۔ { اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّاھِیَ } (البقرۃ :270) ” مَا “ کی یہ قسم ابن خروف نے بیان کی ہے اور اس کا انتساب سیبویہ کی طرف کیا ہے۔ (2) اسمی نکرہ مجردہ ‘ یعنی حرفی معنی سے خالی : ا) ناقصہ یعنی موصوفہ ۔ اس ” مَا “ کا معنی شیئٌ ہوتا ہے۔ ایک شاعر کا قول ہے : لما نَافِعٍ یَسْعٰی اللَّبِیْبُ فَلَا تَــکُنْ لِشَیْئٍ بَعِیْدٍ نفعہ الدھر سَاعِیًا ترجمہ :” سود مند چیز کے لیے عقل مند کوشش کرتا ہے ‘ اس لیے تم کبھی اس چیز کے لیے کوشاں نہ ہو جس کا فائدہ بعید ہو “۔ { ھٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ} میں بھی ” مَا “ موصوفہ ہے اور عَتِیْدٌ صفت (بقول زمخشری و سیبویہ ) ب) نکرہ تامہ ۔ اس کی تین قسمیں ہیں : (1) فعل تعجب : مَا اَحْسَنَ زَیْدًا۔ اس میں ” مَا “ کا نکرہ تامہ ہونا تمام علماء ِبصرہ کے نزدیک مسلم ہے ‘ لیکن اخنش کا قول ہے کہ اس ” مَا “ کو ہم نکرہ تامہ بھی کہہ سکتے ہیں اور نکرہ موصوفہ اور معرفہ موصولہ بھی۔ (2) ” نِعْمَ “ اور ” بِئْسَ “ کے بعد جو ” مَا “ آتا ہے وہ بھی زمخشری کے نزدیک نکرہ تامہ ہی ہے ‘ لیکن سیبویہ کے نزدیک معرفہ تامہ ہے۔ (3) وہ ” مَا “ جو مبالغہ کے لیے آتا ہے اور ” مَا “ سے پہلے عامل مذکور ہوتا ہے اور ” مَا “ کے بعد اس عامل کا معمول ہوتا ہے ‘ مثلاً : زَیْدٌ مِمَّا اَنْ یَّـکْتُبَ ۔ ” مِنْ “ حرفِ جر عامل ہے اور اَنْ یَکْتُبَ ب تاویل مصدر مجرور ہے اور ” مَا “ صرف مبالغہ کے لیے عامل اور معمول کے درمیان ذکر کیا گیا ہے ‘ یعنی زید کی تخلیق ہی کتابت سے ہوئی ہے ‘ زید کتابت کا بنا ہوا ہے۔ سیبویہ ‘ ابن خروف اور ابن مالک نے اس ” مَا “ کو معرفہ تامہ کہا ہے۔ ” مَا “ کی یہ صنف قرآن مجید میں مذکور نہیں ہے۔ (3) ” مَا “ اسمی نکرہ غیر مجردہ یعنی حرفی معنی کو متضمن : ا) استفہامیہ ۔ مَا ھِیَ ‘ مَا لَوْنُھَا ‘ مَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ ۔ ما استفہامیہ اگر مجرور ہو تو ” الف “ کو حذف کرنا واجب ہے تاکہ استفہام اور خبر میں فرق ہوجائے۔ فَبِمَ ‘ لِمَ ‘ اِلٰمَ ‘ عَلٰمَ ۔ { فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰٹھَا }(النّٰزعٰت :43) ‘{ فَنٰـظِرَۃٌ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ } (النمل) ۔ ان سب مثالوں میں ” مَا “ استفہامیہ ہے۔{ لَمَسَّکُمْ فِیْمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۔ }(الانفال) ‘ { یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ }(البقرۃ :4) ‘ { مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ } (صٓ:75) ۔ تینوں مثالوں میں خبری ہونے کی وجہ سے ” مَا “ کا الف حذف نہیں کیا گیا باوجودیکہ مجرور ہے۔ باوجود مجرور ہونے کے ” مَا “ استفہامیہ کا الف باقی رہنا (حذف نہ ہونا) شاذ ہے (صرف شعر میں آیا ہے) اور شاذ قراءت ِ متواترہ میں نہیں آسکتا ‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں ” مَا “ استفہامیہ مجرورہ کا الف کسی جگہ باقی نہیں ہے۔ ہاں بعض مفسرین نے { بِمَا غَفَرَلِیْ رَبِّیْ } (یٰسٓ:27) میں ” مَا “ کو استفہامیہ قرار دیا ہے۔ زمخشری نے اس ” مَا “ کو استفہامیہ قرار دینے کا جواز نقل کیا ہے لیکن کسائی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آیت میں ” مَا “ استفہامیہ کیسے ہوسکتا ہے ‘ کیونکہ الف باقی ہے جبکہ ” مَا “ مجرور ہی ہے۔ علاوہ ازیں امام رازی نے تفسیر کبیر میں آیت { فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ } (آل عمران :159) میں ” مَا “ کو استفہامِ تعجبی کے لیے قرار دیا ہے ‘ لیکن مذکورہ بالا اصول کی رو سے یہ بھی غلط معلوم ہوتا ہے ‘ کیونکہ جب مَا استفہامیہ مجرور ہے تو الف کیوں حذف نہیں کیا گیا۔ ب) مَا شرطیہ غیر زمانیہ (بمعنی جو بھی) ۔ مثلاً : { مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ } (البقرۃ :197) اور { مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ } (البقرۃ :106) ج) مَا شرطیہ زمانیہ بمعنی ما دام (جب تک بھی) ۔ مثلاً : { فَمَا اسْتَقَامُوْا لَــکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ }(التوبۃ :7) قسم دوم : مَا حرفی ۔ اس کی بھی تین قسمیں ہیں : (1) مَا نافیہ۔ یہ اگر جملہ اسمیہ پر داخل ہو تو نجدی ‘ تہامی اور حجازی استعمال میں ” لَیْسَ “ کی طرح اسم کو رفع اور نصب کو خبر دیتا ہے۔ مثلاً : { مَا ھٰذَا بَشَرًا }(یوسف :31) اور :{ مَا ھُنَّ اُمَّھَاتِھِمْ }(المجادلۃ :2 ) اگر جملہ فعلیہ پر داخل ہو تو لفظوں میں کوئی عمل نہیں کرتا۔ مثلاً : { وَمَا تُنْفِقُُوْنَ اِلاَّ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ }(البقرۃ :272) جمہور کے نزدیک مضارع کا صیغہ صرف حال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ‘ لیکن ابن مالک کا قول ہے کہ کبھی استقبالی معنی کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے۔ مثلاً : { قُلْ مَا یَـکُوْنُ لِیْ اَنْ اُبَدِّلَــہٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ }(یونس :15) (2) مصدریہ۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے : ا) غیر زمانیہ۔ مثلاً : { عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ } (التوبۃ :28) ” تمہارا مشقت میں پڑنا اس پر شاق ہے “۔ { وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ } (آل عمران :118) ” تمہارا مشقت میں پڑنا وہ دل سے پسند کرتے ہیں “۔ { ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ }(التوبۃ :25) ” باوجود فراخ ہونے کے زمین ان پر تنگ ہوگئی “۔ { فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا }(السجدۃ :14) ” اس دن کی پیشی کو بھولے رہنے کی وجہ سے اب (دوزخ کے عذاب کا) مزہ چکھو “۔ ب) زمانیہ۔ مثلاً : { مَا دُمْتُ حَیًّا ۔ }(مریم) ” میں اپنی زندگی کی مدت تک “۔ { فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ }(التغابن :16) ” جب تک استطاعت ہو اللہ سے ڈرتے رہو “۔ (نوٹ ) ابن خروف کا کہنا ہے کہ ما مصدریہ بالاتفاق حرف ہے ‘ لیکن اتفاق کا قول غلط ہے ‘ کیونکہ ابوبکر اور اخفش اس کو اسمیہ کہتے ہیں۔ (3) مَا زائدہ : ا) کافّہ ۔ (یعنی سابق عامل کو عمل سے روک دینے والا) عمل رفع سے روکنے والا ” مَا “ صرف تین افعال کے بعد آتا ہے۔ قَلَّ مَا ۔ طَالَ مَا ۔ کَثُرَ مَا ۔ عملِ نصب و رفع سے روکنے والا ” مَا “ حرفِ مشبہ بالفعل کے بعد آتا ہے۔ مثلاً : { اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰــہٌ وَّاحِدٌ}(النسائ :171) { کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ }(الانفال) { اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰؤُ }(فاطر :28) عمل جر سے روکنے والا ‘ یعنی کسی حرف جر یا اسم مضاف کے عمل کو باطل کردینے والا۔ اوّل : مثلاً { رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ۔ } (الحجر) ۔ یہ اکثر ماضی پر آتا ہے ‘ لیکن آیت { رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ …} میں تو مضارع پر آیا ہے ‘ تو کیا یہ استعمال غلط ہے ؟ رُمّانی نے کہا ہے کہ اللہ کو مستقبل کا علم بھی ماضی کی طرح ہی ہے اس لیے اس کے کلام میں وَدَّ کی جگہ یَوَدُّ بھی صحیح ہے۔ یا ” کاف “ کے بعد ۔{ اجْعَلْ لَّنَا اِلٰــھَا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃً } (الاعراف :138) یا ” بائ “ کے بعد تقلیل کے لیے۔ فَلئِنْ صِرْتَ لا تحیر جوابًا بِمَا قَدْ تُرٰی وَاَنْتَ خَطِیْبٌ (ترجمہ) ” اب اگر تو لوٹا کر جواب نہیں دے سکتا تو کیا عجب ہے ‘ کیونکہ بلاشبہ تیرا خطیب دکھائی دینا بہت کم ہے “۔ دوم : کسی طرف مضاف کے بعد۔ مثلاً بَعْدَ مَا ‘ بَیْنَمَا ‘ حَیْثُمَا ‘ اِذْ مَا۔ ب) مَا زائدہ غیر کافہ۔ مثلاً : { وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ} (فُصّلت :36) { اَیَّامًا تَدْعُوا }(الاسرائ :110) { اَیْنَ مَا تَــکُوْنُوْا }(البقرہ :148) { فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا } (البقرۃ :115) { فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ } (آل عمران :159) { عَمَّا قَلِیْلٍ }(المؤمنون :40) { مِمَّا خَطِیْئَاتِھِمْ } (نوح :25) { اَیـَّمَا الْاَجَلَیْنِ }(القصص 28) ان تمام آیات میں علمائِ بصرہ کے نزدیک مَا تاکید کے لیے زائدہ ہے۔ آیات ذیل میں ” مَا “ اسمیہ موصولہ ہے حرفیہ نہیں ہے : { اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ } (لقمٰن :30) ” بیشک وہ چیز جو یہ مانگتے ہیں ضرور آنے والی ہے “۔ { اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ ۔ نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ } (المؤمنون :56) { وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ }(الانفال :41) ترکیب : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْـنَا مِنَ الْبَـیِّنٰتِ وَالْھُدٰی } میں ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل۔ ” الَّذِیْنَ ‘ ‘ اسم موصول۔” یَکْتُمُوْنَ ‘ ‘ فعل۔ ” واؤ‘ ‘ ضمیر فاعل۔ ” مَا ‘ ‘ اسم موصول۔” اَنْزَلْنَا ‘ ‘ فعل+فاعل۔ ضمیر عائد ” ہ “ محذوف مفعول ۔ ” مِنْ ‘ ‘ حرف جار ” اَلْبَیِّنَاتِ ‘ ‘ معطوف علیہ ” واو ‘ ‘ حرف عطف ” الْھُدٰی ‘ ‘ معطوف۔ معطوف +معطوف علیہ مجرور۔ جار+مجرور مل کر متعلق کائناً محذوف۔ کائناً اپنے متعلق سے مل کر حال ہے ” ہٗ ‘ ‘ ضمیر محذوف مفعول سے۔ { مِنْ بَعْدِ مَا بَـیَّـنّٰـہُ لِلنَّاسِ فِی الْـکِتٰبِ } میں ” مِنْ ‘ ‘ حرفِ جار۔ ” بَعْدِ “ مضاف ” مَا “ مصدریہ ۔” بَیَّنَّاہ ‘ ‘۔ فعل+فاعل+مفعول۔ ” لِلنَّاسِ “ جار+مجرورمتعلق ” بَیَّنَّا “۔” فِیْ الْکِتٰبِ “ جار+مجرورمتعلق ” بَیَّنَّا “-” بَیَّنَّاہٗ “ فعل+ فاعل+ مفعول۔ دونوں متعلق مل کر ب تاویل مصدر ہو کر ” بَعْدِ “ کا مضاف الیہ۔ مضاف +مضاف الیہ مل کر مجرور ” مِنْ “ حرف جار کا۔ جار+مجرور متعلق ” یَکْتُمُوْنَ “ کا۔ ” یَکْتُمُوْنَ “ فعل+فاعل+ مفعول +متعلق مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ موصول ” الَّذِیْنَ “ کا۔ موصول+صلہ مل کر ” اِنَّ “ کا اسم۔ { اُولٰٓـئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ } میں ” اُولٰٓئِکَ “ اسم اشارہ مبتدا۔ ” یَلْعَنُ “ فعل ” ھُمْ “ ضمیر مفعول بہ مقدم ۔ لفظ ” اللّٰہُ “ فاعل مؤخر ۔ فعل+فاعل+مفعول بہ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر معطوف علیہ۔ { وَیَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ } میں ” واؤ“ حرفِ عطف ” یَلْعَن “ فعل ” ھُمْ “ ضمیر مفعول بہ مقدم۔ ” اللّٰعِنُوْنَ “ فاعل مؤخر۔ فعل+فاعل+مفعول بہ جملہ فعلیہ ہو کر معطوف ۔ معطوف اور معطوف علیہ مل کر خبر ہے ” اُولٰٓئِکَ “ کی۔ ” اُولٰٓئِکَ “ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر ” اِنَّ “ کی خب رہے۔ نوٹ (1) : حضرت ابوہریرہ ؓ اور چند دیگر صحابہ ؓ کے قول منقول ہیں کہ اگر قرآن میں یہ آیت نہ ہوتی تو وہ لوگ حدیث بیان نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک حدیث رسول ﷺ ‘ بھی قرآن کے حکم میں ہے ۔ (معارف القرآن) ۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو واضح کیا ہے۔ ” مِنَ الْبَیِّنٰتِ “ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے جو واضح احکام ہیں انہیں پھیلانا اور عام کرنا لازم ہے اور ان کو چھپانا ایک جرمِ عظیم ہے۔
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

البتہ جو اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے، اُسے بیان کرنے لگیں، اُن کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا در گزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں

[ اِلَّا الَّذِیْنَ : سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ] [ تَابُوْا : توبہ کی ] [ وَاَصْلَحُوْا : اور اصلاح کی ] [ وَبَــیَّنُوْا : اور واضح کیا ] [ فَاُولٰٓـئِکَ : تو وہ لوگ ہیں ] [ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ : میں توبہ قبول کرتا ہوں جن کی ] [ وَاَنَا : اور میں ] [ التَّوَّابُ : بار بار توبہ قبول کرنے والا ہوں ] [ الرَّحِیْمُ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہوں ] ترکیب : ” اِلاَّ “ حرفِ استثنائ۔ ” الَّذِیْنَ “ اسم موصول ۔” تَابُوْا “ فعل۔ ” واؤ“ ضمیر فاعل۔ جملہ فعلیہ ہو کر معطوف علیہ۔” واؤ“ حرف عطف۔ ” اَصْلَحُوْا “۔ فعل فاعل جملہ فعلیہ ہو کر معطوف اوّل ۔” واؤ“ حرفِ عطف ۔” بَیَّنُوْا “ فعل +فاعل جملہ فعلیہ ہو کر معطوف دوم۔ معطوف علیہ معہ ہر دو معطوف صلہ۔ موصول+صلہ مستثنیٰ ۔ مستثنیٰ منہ ” یَلْعَنُھُمْ “ میں ” ھُمْ “ ضمیر ہے۔” فائ “ رابطہ۔ لان فی الموصول رائحۃ الشرط۔ ” اُولٰٓئِکَ “ مبتدأ۔ ” اَتُوْبُ “ فعل ۔ ضمیر ” اَنَا “ مستترفاعل ” عَلَیْھِمْ “ جار+مجرور متعلق ” اَتُوْبُ “ کے۔ فعل+فاعل+متعلق جملہ فعلیہ ہو کر خبر ہے ” اُولٰٓئِکَ “ مبتدأکی۔” وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ “ میں ” واؤ“ حرف عطف ” أَنا “ مبتدا۔ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ خبر۔
Ayah 2:161

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے

[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جن لوگوں نے ] [ کَفَرُوْا : انکار کیا ] [ وَمَاتُوْا : اور مرے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ کُفَّارٌ : انکار کرنے والے رہے ] [ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ : وہ لوگ ہیں جن پر ] [ لَعْنَۃُ اللّٰہِ : اللہ کی لعنت ہے ] [ وَالْمَلٰٓـئِکَۃِ : اور فرشتوں کی ] [ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ : اور سب کے سب لوگوں کی ] ترکیب :” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل۔” الَّذِیْنَ “ اسم موصول۔ ” کَفَرُوْا “ فعل با فاعل (جس میں وائو ضمیر بارز متصل فاعل ہے) ہو کر معطوف علیہ۔ ” وائو “ عاطفہ اور ” مَاتُوْا “ فعل با فاعل جملہ فعلیہ ہو کر معطوف ۔ معطوف + معطوف علیہ مل کر صلہ ہوا۔ صلہ+ موصول مل کر اِنَّ کا اسم ہوا۔ ” وائو “ حالیہ ہے۔ ” ہُمْ “ ضمیر مرفوع منفصل مبتدا ” کُفَّارٌ “ اس کی خبر ہے ۔ جملہ اسمیہ ہو کر حال ہوا۔ ” اُولٰٓئِکَ “ مبتدا ہے ” عَلَیْھِمْ “ جار مجرور ” لَعْنَۃُ “ مبتدأمؤخر ہے۔ لفظ جَلَالَۃ مضاف الیہ ہو کر معطوف علیہ ہوا ۔ وائو عاطفہ ” اَلْمَلٰٓئِکَۃِ “ معطوف ‘ معطوف علیہ۔ پھر وائو عاطفہ ” النَّاسِ “ معطوف ” اَجْمَعِیْنَ “ اس کی تاکید ہے۔ ” عَلَیْھِمْ “ اپنے مبتدأ مؤخر اور خبر مقدم محذوف کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ ہو کر ” اُولٰٓئِکَ “ مبتدا ٔکی خبر ہوا۔ مبتدا ٔخبر مل کر ” اِنَّ “ کی خبر ہوئی ۔
Ayah 2:162

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ اُن کی سز امیں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی

[ خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے ] [ فِیْھَا : اس میں ] [ لَا یُخَفَّفُ : ہلکا نہیں کیا جائے گا ] [ عَنْھُمُ الْعَذَابُ : ان سے عذاب کو ] [ وَلَا ھُمْ : نہ ہی وہ لوگ ] [ یُنْظَرُوْنَ : مہلت دیے جائیں گے ] ترکیب : ” خٰلِدِیْنَ “ جمع مذکر اسم فاعل کا صیغہ ہے جو کہ یہاں حال بن رہا ہے۔” فِیْھَا “ جار مجرور اس کے متعلق ہوا ۔” لَا “ نافیہ ” یُخَفَّفُ “ فعل مضارع مجہول ‘ ” عَنْہُمْ “ جار مجرور ہو کر متعلق فعل۔ ” الْعَذَابُ “ فعل مجہول کا نائب فاعل ‘ جملہ فعلیہ حال ہوا۔ ” لا “ نافیہ ” ھُمْ “ ضمیر مرفوع منفصل مبتدا۔” یُنْظَرُوْنَ “ فعل مجہول ” وائو “ ضمیر بارز متصل اس میں نائب فاعل جملہ فعلیہ ہو کر خبر ہوئی ” ھُمْ “ کی۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہو کر حال ہوا۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے

[ وَاِلٰــھُکُمْ : اور تم لوگوں کا الٰہ ] [ اِلٰــــہٌ وَّاحِدٌ : واحد الٰہ ہے ] [ لَا اِلٰـــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ ھُوَ : وہ ] [ الرَّحْمٰنُ : جو بےانتہا رحم کرنے والا ہے ] [ الرَّحِیْمُ : جو ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ] ترکیب : ” واؤ“ استیناف ‘ ” اِلٰــہ “ مبتدأ ” کُمْ “ ضمیر مضاف الیہ ” اِلٰــہٌ“ خبر ‘ ” وَاحِدٌ“ اس کی تاکید ہے۔ ” لاَ “ لائے نفی ٔ جنس ” اِلٰـــہَ “ اس کا اسم جو مبنی علی الفتح ہے۔ ” اِلاَّ “ حرفِ استثناء ” ہُوَ “ ضمیر مرفوع منفصل مستثنیٰ ۔ لائے نفی جنس کی خبر محذوف ہے جو کہ مَوْجُوْدٌ ہے ‘ لیکن یہاں پر ” بِحَقٍ “ جار مجرور بھی محذوف مانیں گے ۔ تقدیر عبارت یہ ہوئی :” لاَ مَعْبُوْدَ بِحَقٍ مَوْجُوْدٌ اِلَّا اللّٰہَ “ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق موجود نہیں ہے) ” الرَّحْمٰنُ “ خبر ” الرَّحِیْمُ “ اس کا بدل ہے۔ ” ہُوَ “ ضمیر مبتدأ محذوف ہے۔ مبتدا ٔخبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

(اِس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکا رہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جوا نسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اِسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں

[ اِنَّ : بیشک ] [ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ] [ وَاخْتِلَافِ الَّــیْلِ وَالنَّھَارِ : اور دن اور رات کے اختلاف میں ] [ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ : اور کشتی میں جو ] [ تَجْرِیْ : چلتی ہے ] [ فِی الْبَحْرِ : سمندر میں ] [ بِمَا : اس کے ساتھ جو ] [ یَنْفَعُ : فائدہ دیتا ہے ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ وَمَآ : اور اس میں جو ] [ اَنْزَلَ : اُتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنَ السَّمَآئِ : آسمان سے ] [ مِنْ مَّآئٍ : کچھ پانی میں سے ] [ فَاَحْیَا : پھر اس نے زندہ کیا ] [ بِہِ : اس سے ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ بَعْدَ مَوْتِھَا : اس کی موت کے بعد ] [ وَبَثَّ : اور اس نے پھیلایا ] [ فِیْھَا : اس میں ] [ مِنْ کُلِّ دَابَّۃٍ : تمام چلنے والے جانداروں میں سے ] [ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ : اور ہوائوں کے گھمانے میں ] [ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ : اور مطیع کیے ہوئے بادل میں ] [ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمان کے درمیان ] [ لَاٰیٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِّقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لیے ] [ یَّعْقِلُوْنَ : جو عقل سے کام لیتے ہیں ] ل ی ل ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔ لَـیْلٌ (اسم جنس) : رات۔ اس کی جمع لَـیَالٌ اور واحد لَیـْلَۃٌ ہے۔ { اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ۔ } (مریم) ” تیری نشانی ہے کہ تو کلام نہیں کرے گا لوگوں سے تین راتیں مکمل۔ “ { اِنَّا اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ } (القدر) ” بیشک ہم نے نازل کیا اس کو قدر کی رات میں۔ “ ل ک فَلَکَ (ن) فَلْکًا : کسی چیز کا انڈے کی مانند گول ہونا ‘ بیضوی ہونا۔ فُلْکٌ (اسم ذات) : کشتی (کیونکہ یہ بیضوی ہوتی ہے) ۔ یہ واحد اور جمع دونوں کے لیے آتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔ فَلَکٌ (اسم ذات): سیاروں کی گردش کرنے کا مقررہ راستہ ‘ مدار (کیونکہ آسمان میں ہر گردش کرنے والی چیز کا مدار بیضوی ہے) ۔ { کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ۔ } (الانبیائ) ” سب کسی مدار میں تیرتے ہیں۔ “ ب ث ث بَثَّ (ن) بَثًّا : کسی چیز کو منتشر کرنا ‘ بکھیرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ بَثٌّ (اسم ذات) : پراگندگی (غم کی شدت کی وجہ سے) ۔ { اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ } (یوسف :86) ” میں تو بس بیان کرتا ہوں اپنی پراگندگی اور اپنا غم اللہ سے۔ “ مَبْثُوْثٌ (اسم المفعول) : منتشر کیا ہوا ‘ بکھیرا ہوا۔ { یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ۔ } (القارعۃ) ” جس دن ہوں گے لوگ بکھیرے ہوئے پتنگوں کی مانند۔ “ اِنْبَثَّ (انفعال) اِنْبِثَاثًا : کسی چیز کا منتشر ہونا ‘ بکھر جانا۔ مُنْبَثٌّ (اسم الفاعل) : منتشر ہونے والا ‘ بکھرنے والا۔ { فَکَانَتْ ھَبَائً مُّنْبَثًّا ۔ } (الواقعۃ) ” پھر وہ ہو غبار بکھرنے والا ہوتے ہوئے۔ “ د ب ب دَبَّ (ض) دَبًّا : زمین پر گھسٹ کر چلنا ‘ رینگنا۔ دَابٌّ (فَاعِلٌ کے وزن پر): چلنے والا ‘ رینگنے والا۔ لیکن یہ اسم جنس کے طور پر آتا ہے۔ اس کی جمع دَوَابٌّ اور دَابَّۃٌ ہے۔ { اِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ ۔ } (الانفال) ” بیشک زمین پر چلنے والے تمام جانداروں میں سے بدترین اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔ “ دَابَّۃٌ کے لیے آیت زیر مطالعہ دیکھیں۔ ص ر صَرَفَ (ض) صَرْفًا : کسی کو کسی سے پھیر دینا ‘ ہٹا دینا۔ { سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَـکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ } (الاعراف :146) ” میں پھیر دوں گا اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں۔ “ اِصْرِفْ (فعل امر) : تو پھیر دے ‘ ہٹا دے۔ { رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ ق } (الفرقان :65) ” اے ہمارے ربّ ! تو ہٹا دے ہم سے جہنم کے عذاب کو۔ “ مَصْرِفٌ (اسم الظرف) : پھیرنے کی جگہ۔ { وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْھَا مَصْرِفًا ۔ } (الکہف) ” اور وہ لوگ نہیں پائیں گے اس سے پھیرنے کی کوئی جگہ یعنی کوئی راستہ۔ “ صَرَّفَ (تفعیل) تَصْرِیْفًا : کثرت سے پھیرنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ زیادہ تر دو معنوں میں آتا ہے : (1) کسی کو بار بار گھمانا۔ (2) کسی بات کو بار بار بیان کرنا۔ { کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْکُرُوْنَ ۔ } (الاعراف) ” اس طرح ہم بار بار بیان کرتے ہیں آیتوں کو ایسے لوگوں کے لیے جو شکر کرتے ہیں۔ “ اِنْصَرَفَ (انفعال) اِنْصِرَافًا : کسی سے پھرجانا۔ ہٹ جانا۔ { ثُمَّ انْصَرَفُوْا ط صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ } (التوبۃ :127) ” پھر وہ لوگ پھرگئے تو اللہ نے پھیر دیا ان کے دلوں کو۔ “ س ح ب سَحَبَ (ف) سَحْبًا : کسی کو گھسیٹنا۔ { یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْط } (القمر :48) ” جس دن وہ لوگ گھسیٹے جائینگے آگ میں اپنے چہروں کے بل۔ “ سَحَابٌ (اسم ذات) : بادل (کیونکہ وہ آبی بخارات کو گھسیٹتا ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔ س خ ر سَخَرَ (ف) سَخْرًا : کسی سے بلامعاوضہ یعنی اعزازی طور پر کام لینا۔ بیگار لینا۔ سَخِرَ (س) سَخَرًا : کسی سے مذاق کرنا۔{ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْھُمْط سَخِرَ اللّٰہُ مِنْھُمْز } (التوبۃ :79) ” تو وہ لوگ مذاق کرتے ہیں ان سے۔ مذاق کیا اللہ نے ان سے۔ “ سَاخِرٌ (اسم الفاعل) : مذاق کرنے والا۔{ وَاِنْ کُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَ ۔ } (الزمر) ” اور میں تھا مذاق کرنے والوں میں سے۔ “ سِخْرِیٌّ (اسم نسبت) : مذاق والا (جس سے مذاق کیا جائے) ‘ مذاق کا نشانہ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا } (المؤمنون :110) ” پھر بنایا تم لوگوں نے ان کو مذاق کا نشانہ۔ “ سُخْرِیٌّ (اسم نسبت) : بیگار والا (جس سے بیگار لیا جائے) ‘ دوسروں کے کام آنے والا۔{ لِیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّاط } (الزخرف :32) ” تاکہ ان کا کوئی بنائے کسی کو کام آنے والا۔ “ یعنی ایک دوسرے کے کام آئیں۔ سَخَّرَ (تفعیل) تَسْخِیْرًا : کثرت سے بیگار لینا ‘ کسی کو مطیع کرنا۔{ وَسَخَّرَلَــکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ج } (ابرٰھیم :32) ” اور اس نے مطیع کیا کشتی کو تاکہ وہ چلے سمندر میں اس کے حکم سے۔ “ مُسَخَّرٌ (اسم المفعول) : مطیع کیا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ۔ اِسْتَسْخَرَ (استفعال) اِسْتِسْخَارًا : کسی کا مذاق اڑانا۔ { وَاِذَا رَاَوْا اٰیَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” اور جب بھی وہ لوگ دیکھتے ہیں کوئی نشانی تو مذاق اڑاتے ہیں۔ “ ترکیب : ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ہے۔ ” فِیْ “ حرف جار۔” خَلْقِ “ مجرور ہے۔ ” السَّمٰوٰت “ مضاف الیہ ہے۔ ” واؤ“ عاطفہ اور ” الْاَرْضِ “ معطوف ہے۔ پھر ” واؤ“ عاطفہ اور ” اِخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ “ معطوف ہے۔ پھر ” واؤ“ عاطفہ ہے اور ” الْفُلْکِ “ معطوف ہے۔ ” الَّتِیْ “ اسم موصول ہے جو اپنے صلہ کے ساتھ مل کر ” الْفُلْکِ “ کی صفت بن رہا ہے اور حالت جر میں ہے۔ ” تَجْرِیْ “ فعل مضارع ” ھِیَ “ ضمیر مستتر اس کا فاعل ہے۔ ” فِی الْبَحْرِ “ جار مجرور مل کر متعلق فعل ہو کر جملہ خبریہ ہوا۔ یہ جملہ خبریہ ” الَّتِیْ “ کا صلہ ہوا۔ موصول صلہ مل کر اپنے ماقبل کی صفت ہوا۔ ” بِ “ حرف جار ہے۔ ” مَا “ موصولہ ہے۔ ” یَنْفَعُ “ فعل مضارع ” ھُوَ “ ضمیر مستتر اس کا فاعل ہے۔ ” النَّاسَ “ مفعول ہے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول کے ساتھ مل کر جملہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا۔ موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر مجرور ہوا ” بائ “ جارہ کے لیے۔ جار مجرور مل کر ” تَجْرِیْ “ فعل کے متعلق ہوا۔ ” واؤ“ عاطفہ ہے۔ ” مَا “ موصولہ ہے۔ ” اَنْزَلَ “ فعل ماضی ‘ لفظ ” اللّٰہُ “ اس کا فاعل ہے۔ ” ہٗ “ ضمیر محذوف ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” وَمَا اَنْزَلَـہٗ “۔ یہ جملہ صلہ بن رہا ہے ” مَا “ موصولہ کا۔ ” مِنْ “ جار ” السَّمَائِ “ مجرور ہے۔ پھر ” مِنْ “ جار ” مَآئٍ “ مجرور ہے۔” فَا “ عاطفہ ہے جو سبب بیان کر رہی ہے۔ ” اَحْیَا “ فعل ماضی ہے ” ھُوَ “ ضمیر مستتر اس کا فاعل ہے۔” بِ “ جارہ ” ہٗ “ ضمیر مجرور متصل ہے۔ جار مجرور مل کر فعل ماضی کے متعلق ہوئے۔ ” الْاَرْضَ “ مفعول بہ ہے۔ ” بَعْدَ “ مضاف ظرف زمان ہے ‘ اس لیے مفعول فیہ بن رہا ہے۔ ” مَوْتِھَا “ مضاف ‘ مضاف الیہ ہے۔” واؤ“ عاطفہ ہے۔ ” بَثَّ “ فعل ماضی ہے۔ ” فِیْھَا “ جار مجرور مل کر متعلق فعل ہوا۔ ” مِنْ “ تبعیضیہ حرفِ جار اور ” کُلِّ “ مجرور مل کر متعلق ہے مفعول ” بَثَّ “ کا جو محذوف ہے۔ ” دَابَّــۃٍ “ مضاف الیہ ہے۔ ” واؤ“ عاطفہ ” تَصْرِیْفِ “ معطوف علی ” السَّمَائِ “ ہے۔ ” الرِّیَاحِ “ مضاف الیہ ” واؤ“ عاطفہ ” السَّحَابِ “ موصوف معطوف ہے۔” الْمُسَخَّرِ “ ماقبل کی صفت ہے۔ ” بَیْنَ “ ظرف مکان ہے جو کہ اسم مفعول ” الْمُسَخَّرِ “ کے متعلق ہے۔” السَّمَآئِ “ مضاف الیہ ہے۔ ” واؤ“ عاطفہ ” الْاَرْضِ “ معطوف ہے۔” لَاٰیٰتٍ “ میں ” لام “ لامِ تاکید اور ” اٰیَاتٍ “ اِنَّکا اسم ہے جو کہ مؤخر ہے۔ ” لِقَوْمٍ “ میں ” لام “ حرف جار ” قَوْمٍ “ مجرور ہو کر متعلق ہوا ” آیَاتٍ “ کی صفت محذوف کے ساتھ۔ ” یَعْقِلُوْنَ “ فعل مضارع ہے۔ ” ھُمْ “ ضمیر مستتر اس کا فاعل ہے ۔ فعل فاعل جملہ خبریہ ہو کر ” قَوْمٍ “ کی صفت ہوا
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

(مگر وحدت خداوندی پر دلالت کرنے والے اِن کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور اُن کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں کاش، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سُوجھنے والا ہے وہ آج ہی اِن ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے

[ وَمِنَ النَّاسِ : اور لوگوں میں وہ بھی ہیں ] [ مَنْ : جو ] [ یَّتَّخِذُ : بناتے ہیں ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے علاوہ (کچھ) کو ] [ اَنْدَادًا : (اس کا) ہم پلہ ] [ یُّحِبُّوْنَھُمْ : وہ لوگ محبت کرتے ہیں ان سے ] [ کَحُبِّ اللّٰہِ : اللہ کی محبت کی مانند ] [ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اور جو لوگ ایمان لائے وہ ] [ اَشَدُّ : زیادہ شدید ہیں ] [ حُبًّا لِّلّٰہِ : اللہ کے لیے محبت کے لحاظ سے ] [ وَلَوْ یَرَی : اور کاش تصور کریں ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ اِذْ یَرَوْنَ : (اس وقت کا) جب وہ لوگ دیکھیں گے ] [ الْعَذَابَ : عذاب کو ] [ اَنَّ الْقُوَّۃَ : (اور دیکھیں گے) کہ ساری قوت ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ہے ] [ جَمِیْعًا : سب کی سب ] [ وَّاَنَّ اللّٰہَ : اور (دیکھیں گے) کہ اللہ ] [ شَدِیْدُ الْعَذَابِ : عذاب کا شدید ہے [ ح ب ب حَبَّ (ض) حُبًّا : پسند کرنا ‘ پیار کرنا ‘ محبت کرنا۔ حَبَّ (ک) حِبًّا : پسندیدہ ہونا ‘ پیارا ہونا ‘ محبوب ہونا۔ اَحَبُّ ج اَحِبَّائُ (افعل التفضیل) : زیادہ پیارا۔{ وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ } (التوبۃ :24) ” اور مکانات ‘ تم لوگ راضی ہو جن سے ‘ زیادہ پیارے ہیں تم کو۔ “{ نَحْنُ اَبْنٰؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ ط } (المائدۃ :18) ” ہم لوگ اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے زیادہ پیارے ہیں۔ “ حُبٌّ (اسم ذات) : پیار ‘ محبت ‘ آیت زیر مطالعہ۔ حَبٌّ واحد حَبَّۃٌ (اسم جنس ): دانہ ۔ (کیونکہ یہ کسانوں کو بہت پیارا ہوتا ہے) ۔ { اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰیط } (الانعام :95) ” بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کا پھاڑنے والا ہے۔ “ { مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ } (البقرۃ :261) ” ان لوگوں کی مثال جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں ایک ایسے دانے کی مثال کی مانند ہے جو اگائے سات بالیں۔ “ اَحْبَبَ (افعال) اِحْبَابًا : پیار کرنا ‘ محبت کرنا۔ (یہ مادہ بابضرَبَ اور باب افعال میں ہم معنی ہے ‘ لیکن اس معنی میں قرآن مجید میں یہ صرف باب افعال سے آیا ہے) ۔ { اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰــکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج } (القصص :56) ” یقینا آپ ﷺ ہدایت نہیں دیتے اس کو جس کو آپ ﷺ چاہیں اور لیکن (یعنی بلکہ) اللہ ہدایت دیتا ہے اس کو جس کو وہ چاہتا ہے۔ “ حَبَّبَ (تفعیل) تَحْبِیْبًا : کسی کو کسی کے لیے پیارا بنادینا۔{ وَلٰــکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ } (الحُجُرات :7) ” بلکہ اللہ نے پیارا بنایا تمہارے لیے ایمان کو۔ “ اِسْتَحَبَّ (استفعال) اِسْتِحْبَابًا : کسی کو کسی پر ترجیح دینا ‘ پسند کرنا۔ { اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ } (ابرٰھیم :3) ” وہ لوگ جو ترجیح دیتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت پر۔ “ ترکیب : ” واؤ“ استینافیہ۔” مِنْ “ حرفِ جار ” النَّاسِ “ مجرور ۔ جارومجرور مل کر متعلق بخبر مقدم جو محذوف ہے۔ ” مَنْ “ اسم موصول مبتدأ مؤخر ہے۔” یَتَّخِذُ “ فعل مضارع ہے۔ ” ھُوَ “ ضمیر مستتر فاعل ہے۔ ” مِنْ “ حرفِ جار ” دُوْنِ “ مجرور ‘ لفظ ” اللّٰہِ “ مضاف الیہ ہے۔ ” اَنْدَادًا “ مفعول بہ ہے۔ ” یُحِبُّوْنَھُمْ “ فعل مضارع ” واؤ“ ضمیر بارز متصل اس کا فاعل ہے۔ ” ھُمْ “ ضمیر مفعول ہے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول کے ساتھ مل کر ” اَنْدَادًا “ کے لیے صفت بن رہا ہے۔” ک “ جارہ ہے ” حُبِّ “ مجرور ہے ‘ لفظ ” اللّٰہِ “ مضاف الیہ ہے۔ ” واؤ“ استیناف کے لیے ہے۔ ” الَّذِیْنَ “ اسم موصول مبتدأ ہے۔” اٰمَنُوْا “ فعل ماضی ہے۔ ” واؤ“ ضمیر بارز متصل اس کا فاعل ہے۔ ” اَشَدُّ “ اس کی خبر ہے۔ ” حُبًّا “ تمییز ہے۔ ” لِلّٰہِ “ جار مجرور ہو کر متعلق تمییز ہوا۔ ” واؤ“ استیناف کا ہے۔ ” لَوْ “ حرفِ شرط غیر جازم ہے۔ ” یَرٰی “ فعل مضارع ” الَّذِیْنَ “ اسم موصول ” ظَلَمُوْا “ فعل با فاعل ہو کر صلہ ہوا۔ موصول صلہ مل کر فاعل ہوا ” یَرٰی “ کا۔ ” اِذْ “ حرف زمان ہے ‘ محل نصب میں ہے اور ” حِیْنَ “ کے معنی میں ہے۔ ” یَرَوْنَ “ فعل مضارع بافاعل ہے ” الْعَذَابَ “ اس کا مفعول ہے۔ یہ جملہ خبریہ ہو کر ” اِذْ “ کا مضاف الیہ ہوا۔ اور ” اِذْ “ اپنے مضاف الیہ کے ساتھ مل کر ب تاویل مصدر ” یَرٰی “ کا مفعول فیہ ہوا۔ پورا جملہ ” اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ “ شرط ہے اور جواب شرط یہاں پر محذوف ہے اور وہ ” لَـعَلِمُوْا “ ہے۔ ” اَنَّ “ حرف مشبہ بالفعل ہے۔ ” الْقُوَّۃَ “ اسم ” اَنَّ “ ہے۔ ” لِلّٰہِ “ جار مجرور متعلق خبر محذوف ہے۔ ” جَمِیْعًا “ حال ہے۔ ” اَنَّ “ اپنے اسم و خبر محذوف کے ساتھ مل کر ب تاویل مصدر مفعول ہوا۔ ” واؤ“ عاطفہ ” اَنَّ “ حرف مشبہ بالفعل ‘ لفظ ” اللّٰہَ “ اسم ” اَنَّ “ ہے۔ ” شَدِیْدُ الْعَذَابِ “ خبر ” اَنَّ “ ہے۔ نوٹ (1) : دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجنے سے پہلے انسان کو جو کچھ سکھایا یا پڑھایا جاتا ہے ‘ یعنی جو اس کی فطرت میں ودیعت کیا جاتا ہے ‘ اس میں اللہ کی محبت بھی شامل ہے۔ لیکن دنیا میں آنے کے بعد کچھ لوگ مادی ذرائع اور وسائل کو یعنی پیسے اور زندہ و مردہ ہستیوں کو ہی اپنا حاجت روا ‘ مشکل کشا اور اَن داتا فرض کر بیٹھتے ہیں تو محبت کا یہ جذبہ ان کی طرف منتقل ہوجاتا ہے ‘ جو اس کا مذموم استعمال ہے۔ لیکن کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کچھ کو تجربہ اور کچھ کو مشاہدہ کرا دیتا ہے۔ جب سارے آسرے وسیلے جواب دے دیتے ہیں ‘ اُمیدیں دم توڑجاتی ہیں ‘ اس وقت جس طرح بلبلا کر انسان اللہ کو پکارتا ہے تو وہ درحقیقت اس کی فطرت کا مظہر ہے۔ جگرؔ مرحوم کو پتا نہیں تجربہ ہوا تھا یا مشاہدہ ‘ لیکن اس کیفیت کو انہوں نے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ ؎ مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے واضح رہے کہ مادی اسباب کے استعمال کی ممانعت نہیں ہے ‘ بلکہ تاکید ہے ‘ کیونکہ اللہ نے ہمارے لیے ان کو مسخر کیا ہے (31:20) ۔ اور انہیں دنیا کی زندگی کا سامان بنایا ہے۔ (28:60) ۔ ان میں عام انسان اور زندہ ہستیاں بھی شامل ہیں (43:32) ۔ لیکن ان کو استعمال کرتے وقت دو باتوں میں ہمارا امتحان ہے۔ اوّلاً یہ کہ حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے ان کو استعمال کرنا ہے۔ ثانیاً یہ کہ تکیہ اور بھروسہ یعنی توکل اسباب پر نہیں کرنا ہے ‘ ورنہ پھر وہی ہوگا جس کی اس آیت میں نشاندہی کی گئی ہے۔ البتہ اگر مادی اسباب کو ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے اور نتیجہ کے لیے توکل اللہ پر ہو تو پھر محسن سے محبت کے فطری جذبے کا رُخ محسنِ حقیقی ہی کی جانب رہتا ہے اور یہی مطلوب ہے۔ دیگر فوائد کے ساتھ اس کا ایک نقد فائدہ یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اپنے داخلی خلفشار سے محفوظ و مامون رہتی ہے اور اَلنَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ کی جانب اس کا سفر جاری و ساری رہتا ہے۔
Ayah 2:166

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جب وہ سزا دے گا اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ وہی پیشوا اور رہنما، جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی، اپنے پیروؤں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے، مگر سزا پا کر رہیں گے اور ان کے سارے اسباب و وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا

[ اِذْ تَـبَرَّاَ : جب اظہارِ بیزاری کریں گے ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جن کی ] [ اتُّبِعُوْا : پیروی کی گئی ] [ مِنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [ اتَّبَعُوْا : پیروی کی ] [ وَرَاَوُا : اور وہ لوگ دیکھیں گے ] [ الْعَذَابَ : عذاب کو ] [ وَتَقَطَّعَتْ : اور کٹ جائیں گے بِھِمُ : ان کے ] [ الْاَسْبَابُ : سارے بندھن ] س ب ب سَبَّ (ن) سَبًّا : (1) رسّی کاٹنا ‘ تعلقات کے بندھن کاٹنا۔ (2) گالی دینا (کیونکہ اس سے تعلقات منقطع ہوتے ہیں) ۔ { وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ } (الانعام :108) ” اور تم لوگ گالی مت دو ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ کسی کو ‘ تو وہ لوگ برا کہیں گے اللہ کو۔ “ سَبَبٌ ج اَسْبَابٌ (اسم ذات) : ایسی رسّی جس سے درخت پر چڑھا اور اترا جاتا ہے۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے : (1) رسّی (2) بندھن ‘ تعلقات (3) ذریعہ ‘ سامان۔ { فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآئِ } (الحج :15) ” تو اسے چاہیے کہ وہ تان لے کوئی رسّی آسمان کی طرف۔ “{ وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ سَبَبًا ۔ } (الکہف) ” اور ہم نے دیا اس کو ہر چیز میں سے بطور سامان کے “۔” تعلقات “ کے مفہوم کے لیے آیت زیر مطالعہ دیکھیں۔ ترکیب : ” تَبَرَّاَ “ کا فاعل ” اَلَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا “ ہے ‘ جبکہ ” مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا “ اس کا مفعول ہے۔ ” رَاَوْا “ کا فاعل اس میں شامل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو گزشتہ جملہ کے فاعل اور مفعول دونوں کے لیے ہے۔” الْعَذَابَ “ اس کا مفعول ہے۔” تَقَطَّعَتْ “ کا فاعل ” الْاَسْبَابُ “ ہے ‘ اس پر لام جنس ہے ۔ اور چونکہ یہ غیر عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے فعل واحد مؤنث آیا ہے۔ یہاں قیامت کا ذکر ہے اس لیے ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو دنیا میں اُن کی پیروی کرتے تھے، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں، ہم اِن سے بیزار ہو کر دکھا دیتے یوں اللہ اِن لوگوں کے وہ اعمال جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں، ان کے سامنے اِس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے

[ وَقَالَ : اور کہیں گے ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ اتَّـبَعُوْا : پیروی کی ] [ لَوْ اَنَِّ : کاش کہ ] [ لَنَا : ہمارے لیے ہوتی ] [ کَرَّۃً : کوئی ایک اور باری ] [ فَنَتَبَرَّاَ : تاکہ ہم اظہارِ بیزاری کرتے ] [ مِنْھُمْ : ان سے ] [ کَمَا : جیسے کہ ] [ تَبَرَّئُ وْا : انہوں نے اظہار بیزاری کیا ] [ مِنَّا : ہم سے ] [ کَذٰلِکَ : اس طرح ] [ یُرِیْھِمُ : دکھائے گا ان کو ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ اَعْمَالَھُمْ : ان کے اعمال ] [ حَسَرٰتٍ : حسرتیں ہوتے ہوئے ] [ عَلَیْھِمْ : ان پر ] [ وَمَا ھُمْ : اور نہیں وہ لوگ ] [ بِخٰرِجِیْنَ : نکلنے والے ] [ مِنَ النَّارِ : آگ سے ] ک ر ر کَرَّ (ن) کَرُوْرًا : لوٹنا ‘ مڑنا۔ کَرًّا : لوٹانا ‘ موڑنا۔ کَرَّۃٌ : ایک مرتبہ لوٹنا یا لوٹایا جانا ‘ یعنی دوسری باری ‘ دوسری اننگ۔ آیت زیر مطالعہ ح س ر حَسَرَ (ض) حَسْرًا : تھکانا ‘ غمگین کرنا۔ حَسِرَ (س) حَسَرًا : تھکنا ‘ غمگین ہونا۔ حَسْرَۃٌ ج حَسَرَاتٌ (اسم ذات) : تأسف ‘ حسرت ۔ { لِیَجْعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط } (آل عمران :156) ” تاکہ بنائے اللہ اس کو حسرت ان کے دلوں میں۔ “ حَسِیْرٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت): غم زدہ ‘ ناکام۔ { یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ ۔ } (الملک :4) ” لوٹے گی تیری طرف نگاہ تھکی ہوئی اور وہ ناکام ہوگی “۔ مَحْسُوْرٌ (مَفْعُوْلٌ کے وزن پر صفت) : تھکایا ہوا ‘ تھکاہارا۔ { فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” کہ پھر تو بیٹھے ملامت زدہ تھکا ہارا ہوتے ہوئے۔ “ اِسْتَحْسَرَ (استفعال) اِسْتِحْسَارًا : تھکاوٹ محسوس کرنا ‘ سستی کرنا ‘ کاہلی کرنا۔ { لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوْنَ ۔ } (الانبیائ) ” وہ لوگ استکبار نہیں کرتے اس کی عبادت سے اور نہ ہی سستی کرتے ہیں۔ “ ترکیب : ” لَوْاَنَّ “ کا ” لَوْ “ تمنی ہے۔ ” کَرَّۃً “ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور ” اَنَّ “ کا اسم ہونے کی وجہ سے نصب میں ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لَنَا “ قائم مقام خبر مقدم۔ ” فَنَتَبَرَّاَ “ میں مضارع منصوب آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے ” لام کَیْ “ یا ” لِاَنْ “ محذوف ہے۔ ” یُرِیْ “ کا فاعل ” اَللّٰہُ “ ہے ‘ اس کا مفعول اوّل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” قَالَ الَّذِیْنَ “ کے لیے ہے جبکہ ” اَعْمَالَھُمْ “ اس کا مفعول ثانی ہے اور ” حَسَرٰتٍ “ حال ہونے کی وجہ سے نصب میں آیا ہے۔ نوٹ (1) : سورة البقرۃ کی آیت 48 اور 123 میں اصولی بات بیان کی گئی ہے کہ کوئی جان کسی جان کے کام نہیں آئے گی۔ اسی اصول کو دوسرے الفاظ میں پانچ مقامات پر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ (الانعام :164‘ بنی اسرائیل :15‘ فاطر :18‘ الزمر :7‘ النجم :38) ۔ اس اصول کے ایک پہلو کا نقشہ آیت زیر مطالعہ اور اس سے پچھلی آیت میں کھینچا گیا ہے۔ جب کسی کا کوئی باہم مشورہ یا فتویٰ غلط ثابت ہوگا اور ان پر آنکھ بند کر کے عمل کرنے والوں کو پکڑا جائے گا یا کسی پیر صاحب کی غلطی پر ان کے مرید پکڑے جائیں گے ‘ تو پھر اس وقت کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

[ یٰٓـــاَیـُّھَا النَّاسُ : اے لوگو !] [ کُلُوْا : تم کھائو ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ حَلٰلًا طَیِّبًا : حلال ‘ پاکیزہ (رزق) کو ] [ وَّلَا تَتَّبِعُوْا : اور تم لوگ پیروی مت کرو ] [ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ : شیطان کے نقش قدم کی ] [ اِنَّـہٗ : یقینا وہ ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ: ایک کھلا دشمن ہے ] ح ل ل حَلَّ (ن ‘ ض) حِلاًّ اور حَلَالًا : رسی کھولنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے : (1) گرہ کھولنا۔ (2) کسی جگہ اترنا (منزل پر سواری سے اتر کر سامان کی رسیاں کھولتے ہیں) ۔ (3) احرام کھولنا (احرام کی پابندیاں یعنی بندشیں کھل جاتی ہیں) ۔ (4) جائز ہونا ‘ حلال ہونا (استعمال کرنے کی بندش کھل جاتی ہے) ۔ { اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ } (طٰہٰ :86) ” یا ارادہ کیا تم لوگوں نے کہ اترے تم لوگوں پر کوئی غضب تمہارے رب کی جانب سے۔ “{ وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ط } (المائدۃ :2) ” اور جب تم لوگ احرام کھولو تو شکار کرلو۔ “{ وَلَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ اَرْحَامِھِنَّ } (البقرۃ :228) ” اور جائز نہیں ہوتا ان خواتین کے لیے کہ وہ چھپائیں اس کو جو پیدا کیا اللہ نے ان کے رحموں میں۔ “ اُحْلُلْ (فعل امر) : تو کھول ۔{ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ ۔ } (طٰہٰ ) ” اور تو کھول گرہ میری زبان سے۔ “ مَحِلٌّ (اسم الظرف) : اُترنے کی جگہ۔ { لَــکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّھَا اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۔ } (الحج) ” تم لوگوں کے لیے ہیں اس میں کچھ فائدے ایک مقررہ مدت تک ‘ پھر اس کی منزل ہے قدیم گھر کی طرف۔ “ حَلِیْلٌ : (فَعِیْلٌکے وزن پر): شوہر (بیوی کے لیے ہمیشہ حلال ہوتا ہے) ۔ حَلِیْلَۃٌ ج حَلَائِلُ (: فَعِیْلٌکے مؤنث فَعِیْلَۃٌ کے وزن پر): بیوی (شوہر کے لیے ہمیشہ حلال ہوتی ہے) ۔ { وَحَلَائِلُ اَبْنَائِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ } (النسائ :23) ” اور بیویاں تمہارے ان بیٹوں کی جو تمہاری صلب سے ہیں۔ “ حِلٌّ (صفت بھی ہے) : جائز ‘ حلال۔ { وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّھُمْ ز } (المائدۃ :5) ” اور تم لوگوں کا کھانا حلال ہے ان لوگوں کے لیے۔ “ حَلَالٌ (صفت بھی ہے) : جائز ‘ حلال۔{ ھٰذَا حَلٰـلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ} (النحل :116) ” یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ “ اَحَلَّ (افعال) اِحْلَالًا : کسی چیز کو جائز کرنا ‘ حلال کرنا۔{ لاَ تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ ماَ اَحَلَّ اللّٰہُ لَـکُمْ } (المائدۃ :87) ” حرام مت کرو پاکیزہ چیزوں کو جن کو حلال کیا اللہ نے تمہارے لیے۔ “ حَلَّلَ (تفعیل) تَحْلِیْلًا اور تَحِلَّــۃً : کفارہ ادا کرنا (کسی عہد یا قسم کی پابندی کھولنے کے لیے) ۔{ قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَــکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ ج } (التحریم :2) ” فرض کیا ہے اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کو۔ “ خ ط و خَطَا (ن) خَطْوًا : چلنے کے لیے قدم اٹھانا۔ خُطْوَۃٌ ج خُطُوٰتٌ : دو قدموں کے درمیان کا فاصلہ ‘ نقش قدم۔ (آیت زیر مطالعہ) ترکیب :” کُلُوْا “ فعل امر ہے۔ اس کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” النَّاسُ “ کے لیے ہے۔ اس کا مفعول محذوف ہے جو ” رِزْقًا “ ہوسکتا ہے۔” مِمَّا فِی الْاَرْضِ “ متعلق فعل ہے۔ ” حَلَالًا “ محذوف مفعول کی صفت ہے اور ” طَیِّبًا “ اس کی صفت ثانی ہے۔” لاَ تَتَّبِعُوْا “ فعل نہی ہے۔ اس کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” النَّاسُ “ کے لیے ہے۔ ” خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ “ مفعول ہے اس لیے اس کا مضاف ” خُطُوٰتِ “ حالتِ نصب میں آیا ہے۔
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں

[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ یَاْمُرُکُمْ : وہ ترغیب دیتا ہے تم لوگوں کو ] [ بِالسُّوْئِ : برائی کی ] [ وَالْفَحْشَآئِ : اور کھلی گمراہی کی ] [ وَاَنْ : اور یہ کہ ] [ تَقُوْلُوْا : تم لوگ کہو ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ مَا : وہ جو ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] ح ش فَحُشَ (ک) فُحْشًا : حد سے زیادہ برا ہونا ‘ بےحیا ہونا (اتنی زیادہ برائی جو فطری حیا کو ختم کر دے) ‘ کھلم کھلا برائی کرنا۔ فَاحِشَۃٌ ج فَوَاحِشُ : ہر وہ چیز جو حد سے زیادہ ہو ‘ بےحیائی ‘ کھلی گمراہی۔{ وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَا اٰبَآئَ نَا } (الاعراف :28) ” اور جب وہ لوگ کرتے ہیں کوئی کھلی گمراہی تو کہتے ہیں ہم نے پایا اس پر اپنے باپ دادا کو۔ “{ وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰــئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ } (الشوریٰ :37) ” اور جو لوگ بچتے ہیں بڑے گناہ سے اور بےحیائیوں سے۔ “ فَحْشَائُ : قبیح گناہ ‘ اعلانیہ برائی۔ (آیتِ زیر مطالعہ) ترکیب : ” یَاْمُرُ “ فعل ہے۔ اس کا فاعل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو گزشتہ آیت کے ” الشَّیْطٰنِ “ کے لیے ہے۔ اس کا مفعول ” کُمْ “ کی ضمیر ہے جو گزشتہ آیت کے ” النَّاسُ “ کے لیے ہے۔” بِالسُّوْئِ “ اور ” اَلْفَحْشَائِ “ دونوں متعلق فعل ہیں۔ ” بِالسُّوْئِ “ میں ” بِ “ حرفِ جر ہے اور ” اَلْفَحْشَائِ “ سے پہلے حرف جر ” بِ “ محذوف ہے ‘ اس لیے یہ دونوں مجرور ہیں۔ ” اَنْ تَقُوْلُوْا “ میں ” اَنْ “ سے پہلے ” یَاْمُرُکُمْ “ محذوف ہے۔
Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قِیْلَ : کہا جاتا ہے ] [ لَھُمْ : ان لوگوں سے ] [ اتَّبِعُوْا : تم لوگ پیروی کرو ] [ مَا : اس کی جو ] [ اَنْزَلَ : اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ ] [ نَتَّبِعُ : ہم پیروی کرتے ہیں ] [ مَا : اس کی ] [ اَلْفَیْنَا : ہم نے پایا ] [ عَلَیْہِ : جس پر ] [ اٰبَـآئَ نَا : اپنے باپ دادا کو ] [ اَوَلَوْ : تو کیا اگر ] [ کَانَ اٰبَـآؤُھُمْ : ان کے باپ دادا ] [ لَا یَعْقِلُوْنَ : عقل سے کام نہیں لیتے ] [ شَیْئًا : ذرا بھی ] [ وَّلَا یَھْتَدُوْنَ : اور نہ ہی ہدایت پاتے تھے (تب بھی ] لو لَفَا (ن) لَفْوًا : کسی چیز کو کم کرنا۔ اَلْفَا (افعال) اِلْفَائً : کسی چیز کو پالینا۔ (آیت زیر مطالعہ) ترکیب : ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” قِیْلَ “ سے ” اَنْزَلَ اللّٰہُ “ تک شرط ہے اور ” قَالُوْا “ سے ” اٰبَائَ نَا “ تک جوابِ شرط ہے۔” قِیْلَ لَھُمْ “ میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ماقبل آیت نمبر 168 کے ” النَّاسُ “ کے لیے ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ “ میں ” بَلْ “ سے پہلے ” کَلَّا “ محذوف ہے۔ ” عَلَیْہِ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر ” مَا “ کی ضمیر عائد ہے۔ ” اَوَلَوْا “ میں ہمزئہ استفہام ہے اور ” لَوْ “ شرطیہ ہے۔ آگے کا پورا جملہ شرط ہے اور اس کا جوابِ شرط محذوف ہے۔ اردو میں محذوف جواب شرط ” تب بھی “ بنتا ہے۔” کَانَ “ کا اسم ” اٰبَائُ ھُمْ “ ہے ‘ اس لیے اس کا مضاف ” اٰبَائُ “ رفع میں ہے۔” لَا یَعْقِلُوْنَ “ اور ” لاَ یَھْتَدُوْنَ “ دونوں فعلیہ جملے اس کی خبر ہیں۔ ” شَیْئًا “ مفعول مطلق ہے ۔ نوٹ (1) : مسئلہ یہ ہے کہ ہر گروہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے باپ دادا اور بزرگ ہدایت پر تھے جبکہ دوسرے گمراہ تھے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس آیت میں ایک کسوٹی دے دی گئی ہے۔ بزرگوں کے جن اقوال و اعمال کی سند ” مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ “ میں یعنی قرآن اور حدیث میں ملتی ہے ان کی تقلید کرنا درست ہے۔ اگر بزرگوں کی کچھ باتوں کی سند قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ بزرگوں کی باتیں نہیں ہیں ‘ بلکہ انہیں غلط طور پر ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔ اس لیے ہماری عافیت اس میں ہے کہ کسی بات کو قبول کرنے سے پہلے اس کی سند کے متعلق معلومات ضرور حاصل کرلیں اور اندھی تقلید نہ کریں۔
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کر دیا ہے اِن کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی

[ وَمَثَلُ الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں کی مثال جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ کَمَثَلِ الَّذِیْ : اس کی مثال کی مانند ہے ] [ یَنْعِقُ : جو ہانک پکار کرتا ہے۔] [ بِمَا : اس کو جو ] [ لَا یَسْمَعُ : سن کر نہیں سمجھتا ] [ اِلاَّ : سوائے ] [ دُعَآئً : دعا کے ] [ وَّنِدَآئً : اور آواز کے ] [ صُمٌّ : بہرے ہیں ] [ بُــکْمٌ : گونگے ہیں ] [ عُمْیٌ : اندھے ہیں ] [ فَھُمْ : پس وہ لوگ ] [ لَا یَعْقِلُوْنَ : عقل سے کام نہیں لیتے ] ن ع ق نَعَقَ (ض) نَعْقًا : کوے کا کائیں کائیں کرنا ‘ چرواہے کا جانور ہانکنے کے لیے آواز نکالنا ‘ ہانک پکار کرنا۔ (آیت زیر مطالعہ) ن د و نَدَا (ن) نَدْوًا : مجلس میں جمع ہونا ‘ مجلس میں جمع کرنا۔ ن د ی نَدِیَ (س) نَدًی : گیلا ہونا ‘ تر ہونا۔ نَادٍ : فَاعِلٌکا وزن ہے ‘ لیکن اسم ذات کے طور پر مجلس اور اہل مجلس کے معانی میں آتا ہے۔ { وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ ط } (العنکبوت :29) ” اور تم لوگ آتے ہو اپنی مجلس میں برائی کے ساتھ۔ “ { فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ۔ } (العلق) ” پس اسے چاہیے کہ وہ بلائے اپنے اہل مجلس کو “۔ نَدِیٌّ (اسم نسبت) : مجالس والا ‘ مجلسی (بیٹھک باز) ۔ { اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِیًّا ۔ } (مریم) ” دونوں فریقوں میں سے کون بہتر ہے بلحاظ رتبہ کے اور زیادہ اچھا ہے بطور مجالس والے کے۔ “ نَادٰی (مفاعلہ) نِدَائً : بلند آواز سے پکارنا (خشک حلق سے نہیں بلکہ تر حلق سے بلند آواز نکلتی ہے) ۔ { وَنَادٰی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ } (الاعراف :44) ” اور آواز دیں گے جنت والے آگ والوں کو۔ “ نِدَائٌ (اسم ذات بھی ہے) : بلند آواز۔ ( آیت زیر مطالعہ) مُنَادٍ (اسم الفاعل): آواز دینے والا ‘ پکارنے والا۔ { رَبَّـنَا اِنَّــنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ } (آل عمران :193) ” اے ہمارے ربّ ! بیشک ہم نے سنا ایک ندا دینے والے کو جو ندا دیتا ہے ایمان کے لیے۔ “ تَنَادٰی (تفاعل) تَنَادٍ : ایک دوسرے کو پکارنا۔ { فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ ۔ } (القلم) ” تو انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا صبح ہوتے ہی۔ “ ترکیب : ” مَثَلُ “ مضاف ہے۔” اَلَّذِیْنَ “ مضاف الیہ ہے ‘ جس کا صلہ ” کَفَرُوْا “ ہے۔ یہ پورا فقرہ مبتداء ہے۔ ” مَثَلِ “ بھی مضاف ہے اور حرفِ جر ” کَ “ کی وجہ سے حالت جر میں ہے۔ ” اَلَّذِیْ “ اس کا مضافِ الیہ ہے اور یہ فقرہ خبر ہے۔” یَنْعِقُ “ سے ” نِدَائً “ تک ” اَلَّذِیْ “ کا صلہ ہے۔” صُمٌّ بُکْمٌعُمْیٌ“ یہ تینوں خبر ہیں اور ان کا مبتداء ” ھُمْ “ کی ضمیر محذوف ہے۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں اُنہیں بے تکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو

[ یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ہو ] [ کُلُوْا : تم لوگ کھائو ] [ مِنْ طَیِّبٰتِ مَا : ان کی پاکیزہ (چیزوں) سے جو ] [ رَزَقْنٰــکُمْ : ہم نے عطا کیں تم لوگوں کو ] [ وَاشْکُرُوْا : اور تم لوگ شکر کرو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کا ] [ اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ اِیَّاہُ : صرف اس کی ہے ] [ تَعْبُدُوْنَ : بندگی کرتے ہو ] ترکیب :” یٰٓــاَیـُّھَا “ حرفِ ندا ہے اور ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ منادیٰ ہے ۔ فعل امر ” کُلُوْا “ کا فاعل اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ اس کا مفعول محذوف ہے جو کہ ” رِزْقَکُمْ “ ہوسکتا ہے۔” مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰــکُمْ “ متعلق فعل ہے۔” طَیِّبٰتِ “ صفت ہے جس کا موصوف محذوف ہے۔ یہ ” مِنْ “ کی وجہ سے حالت جر میں ہے اور مضاف ہے ‘ اس کا مضاف الیہ ” مَا “ ہے۔ شروع سے ” وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ “ تک دونوں جملے جوابِ شرط ہیں۔ ان کی شرط اگلا جملہ ہے۔ ” کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ “ ماضی استمراری ہے لیکن ” اِنْ “ شرطیہ کی وجہ سے ترجمہ حال میں ہوگا۔