2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

بخلااِس کے جو لو گ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو اگر زور کی بار ش ہو جائے تو دو گنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اُس کے لیے کافی ہو جائے تم جو کچھ کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے

[وَمَثَلُ الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں کی مثال جو ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [اَمْوَالَہُمُ : اپنے مالوں کو ] [ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ : اللہ کی رضا کی جستجو کرتے ہوئے ] [وَتَثْبِیْتًا : اور جماتے ہوئے ] [مِّنْ اَنْفُسِہِمْ : اپنے آپ کو ] [کَمَثَلِ جَنَّۃٍم : ایک ایسے باغ کی مثال کی مانند ہے جو ] [بِرَبْوَۃٍ : ایک ٹیلے پر ہے ] [اَصَابَہَا : آ لگی اس کو ] [وَابِلٌ: ایک موٹے ] [قطروں والی بارش ] [فَاٰتـَتْ : تو اس نے دیا ] [اُکُلَہَا : اپنا پھل ] [ضِعْفَیْنِ : دوگنا ] [فَاِنْ لَّـمْ یُصِبْہَا : پھر اگر نہیں لگی اس کو ] [وَابِلٌ : کوئی موٹے قطروں والی بارش ] [فَطَلٌّ : تو (آ لگی اس کو) ایک پھوار ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بِمَا : اس کو جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [بَصِیْرٌ : دیکھنے والا ہے ] ر ب و رَبَا (ن) رِبَائً : کسی چیز کا اپنی جگہ سے بلند ہونا ‘ اُگنا ‘ بڑھنا ‘ اُبھرنا۔{ وَتَرَی الْاَرْضَ ھَامِدَۃً فَاِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَآئَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ } (الحج :5) ” اور تو دیکھتا ہے زمین کو مرجھائی ہوئی ‘ پھر جب بھی ہم اتارتے ہیں اس پر پانی کو تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے۔ “ اَرْبٰی (افعل التفضیل) : زیادہ اگنے یا بڑھنے والا۔ { تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلًام بَیْنَکُمْ اَنْ تَـکُوْنَ اُمَّۃٌ ھِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍط } (النحل :92) ” تم لوگ بناتے ہو اپنی قسموں کو دخل دینے (کے بہانے) کے لیے آپس میں ‘ تاکہ ہوجائے ایک قوم زیادہ بڑھنے والی دوسری قوم سے۔ “ رَابٍ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : اُبھرنے والا ‘ چڑھنے والا۔ { فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًاط } (الرعد :17) ” تو اٹھایا بہتے پانی نے ابھرنے والا کچھ جھاگ۔ “ رِبٰوا (اسم ذات) : بڑھی ہوئی یا ابھری ہوئی چیز۔ اصطلاحاً سود کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ { یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِط } (البقرۃ :276) ” مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کو۔ “ رَبْوَۃٌ (اسم ذات) : بلند جگہ ‘ ٹیلہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ اَرْبٰی (افعال) اِرْبَائً : بلند کرنا ‘ بڑھانا۔ { یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِط } (البقرۃ :276) ” مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کو۔ “ رَبّٰی (تفعیل) تَرْبِیَۃً : بتدریج بلند کرتے رہنا ‘ بڑھاتے رہنا ‘ یعنی تربیت کرنا۔ { رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّـیٰنِیْ صَغِیْرًا ۔ } (الاسرائ) ” اے میرے ربّ ! تو رحم کر ان دونوں پر جیسا کہ ان دونوں نے تربیت کی میری بچپن میں۔ “ ط ل ل طَلَّ (ن) طَلًّا : شبنم پڑنا ‘ پھوارپڑنا۔ طَلٌّ (اسم ذات) : شبنم ‘ پھوار۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” یُنْفِقُوْنَ “ کا مفعول ” اَمْوَالَھُمْ “ ہے جبکہ مرکب اضافی ” اِبْتِغَائَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” مَرْضَاتِ “ کو لمبی ” تا “ سے لکھنا قرآن کا مخصوص املاء ہے۔ ” تَثْبِیْتًا “ بھی حال ہے۔ ” جَنَّۃٍ “ نکرہ مخصوصہ ہے۔ ” اَصَابَھَا “ کا فاعل ” وَابِلٌ“ ہے اور اس کی ضمیر مفعولی ” جَنَّـۃٍ “ کے لیے ہے۔ ” فَاٰ تَتْ “ کی ضمیر فاعلی ” ھِیَ “ بھی ” جَنَّــۃٍ “ کے لیے ہے۔ ” ضِعْفَیْنِ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” فَطَلٌّ“ فعل محذوف کا فاعل ہے ‘ یعنی ” فَاَصَابَھَا طَلٌّ“۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو

[اَیَوَدُّ : کیا چاہتا ہے ] [اَحَدُکُمْ : تم میں کا (کوئی) ایک ] [اَنْ : کہ ] [تَـکُوْنَ : ہو ] [لَـہٗ : اس کے لیے ] [جَنَّــۃٌ : ایک باغ ] [مِّنْ نَّخِیْلٍ : کچھ کھجوروں سے ] [وَّاَعْنَابٍ : اور کچھ انگوروں سے ] [تَجْرِیْ : بہتی ہوں ] [مِنْ تَحْتِہَا : ان کے نیچے سے ] [الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ لَـہٗ : اس کے لیے ہو ] [فِیْہَا : اس میں ] [مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ : تمام پھلوں میں سے (ایک حصہ) ] [وَاَصَابَہُ : اور آلگے اس کو ] [الْـکِبَرُ : بڑھاپا ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَـہٗ : اس کی ہوں ] [ذُرِّیَّـۃٌ ضُعَفَآئُ : کچھ کمزور اولادیں ] [فَاَصَابَہَآ : پھر آ لگے اس کو ] [اِعْصَارٌ : ایک بگولہ ] [فِیْہِ : جس میں ہو ] [نَارٌ : ایک آگ ] [فَاحْتَرَقَتْ : پس وہ بھسم ہو ] [کَذٰلِکَ : اس طرح ] [یُـبَـیِّنُ : واضح کرتا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [لَـکُمُ : تم لوگوں کے لیے ] [الْاٰیٰتِ : نشانیوں کو ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ ] [تَتَفَکَّرُوْنَ : تم لوگ سوچ وبچار کرو ] ن خ ل نَخَلَ (ن) نَخْلًا : آٹا چھان کر بھوسی الگ کرنا ‘ اچھی چیز پسند کرنا۔ نَخْلٌ (اسم جنس) : واحد ” نَخْلَۃٌ“ جمع ” نَخِیْلٌ“: کھجور کا درخت۔ { فِیْھِمَا فَاکِھَۃٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ ۔ } (الرحمٰن) ” ان دونوں میں ہیں کچھ میوے اور کچھ کھجور اور کچھ انار۔ “ { ھُزِّیْ اِلَـیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ } (مریم :25) ” تو ہلا اپنی طرف کھجور کے تنے کو ! “ ع ص ر عَصَرَ (ض) عَصْرًا : کسی چیز کا رَس نچوڑنا ‘ نچوڑنے کے لیے کسی چیز کو گھمانا ‘ گردش دینا۔ { وَفِیْہِ یَعْصِرُوْنَ ۔ } (یوسف) ” اور اس میں وہ لوگ رس نچوڑیں گے۔ “ عَصْرٌ (اسم ذات) : زمانہ (کیونکہ یہ زمین کی گردش کا نچوڑ ہے) { وَالْعَصْرِ A اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۔ } (العصر) ” زمانے کی قسم ! بیشک تمام انسان خسارے میں ہیں۔ “ اِعْصَارٌ (اسم ذات) : بگولہ ‘ سائکلون۔ آیت زیر مطالعہ۔ اَعْصَرَ (افعال) اِعْصَارًا : بارش برسانا۔ مُعْصِرٌ (اسم الفاعل) : بارش برسانے والا ‘ یعنی بادل۔ { وَاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَائً ثَجَّاجًا ۔ } (النبا) ” اور ہم نے اتارا بدلیوں سے کچھ پانی موسلا دھار۔ “ ح ر ق حَرَقَ (ن) حَرْقًا : کسی چیز کو جلانا۔ حَرِیْقٌ : ہمیشہ اور ہر حال میں جلانے والا ‘ آگ کا شعلہ۔ { ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ } (آل عمران) ” تم لوگ چکھو شعلے کا عذاب۔ “ حَرَّقَ (تفعیل) تَحْرِیْقًا : کثرت سے جلانا ‘ جلا کر بھسم کردینا۔ { لَـنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا ۔ } (طٰہٰ ) ” ہم لازماً جلا کر بھسم کریں گے اس کو پھر ہم لازماً بکھیریں گے اس کو پانی میں جیسے بکھیرتے ہیں۔ “ حَرِّقْ (فعل امر) : توجلا کر بھسم کر۔ { قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْا اٰلِھَتَـکُمْ } (الانبیائ :68) ” ان لوگوں نے کہا تم لوگ جلا کر بھسم کرو اس کو اور تم لوگ مدد کرو اپنے معبودوں کی ۔ “ اِحْتَرَقَ (افتعال) اِحْتِرَاقًا : اہتمام سے جلنا ‘ جل کر بھسم ہونا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” یَوَدُّ “ کا فاعل ” اَحَدُکُمْ “ ہے۔ ” اَنْ تَـکُوْنَ “ کا اسم ” جَنَّـۃٌ“ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لَـہٗ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” تَجْرِیْ “ کا فاعل ” اَلْاَنْـھٰرُ “ ہے ‘ یہ غیر عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے فعل واحد مؤنث آیا ہے۔ ” لَـہٗ “ خبر محذوف کی قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” فِیْھَا “ اور ” مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ “ متعلق خبر ہیں اور مبتدأ بھی محذوف ہے جو ” نَصِیْبٌ“ ہوسکتا ہے۔ ” وَاَصَابَہٗ “ کی ضمیر مفعولی ” اَحَدُکُمْ “ کے لیے ہے اور ” اَلْکِبَرُ “ اس کا فاعل ہے۔ مرکب توصیفی ” ذُرِّیَۃٌ ضُعَفَائُ “ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے ‘ خبر محذوف ہے اور ” لَـہٗ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” ذُرِّیَّــۃٌ“ یہاں جمع کے مفہوم میں آیا ہے۔ ” فَاحْتَرَقَتْ “ کا فاعل اس میں ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” جَنَّـۃٌ“ کے لیے ہے۔ نوٹ (1) : سائکلون میں ہوا کی گردش سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے اسے اس آیت میں آگ کہا گیا ہے ‘ کیونکہ وہ بجلی جب کسی چیز پر گرتی ہے تو اسے جلا کر بھسم کردیتی ہے۔
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے، تو تم ہرگز اُسے لینا گوارا نہ کرو گے الّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے

[یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [اَنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرو ] [مِنْ طَیِّبٰتِ مَا : اس کے پاکیزہ میں سے جو ] [کَسَبْتُمْ : تم لوگوں نے کمایا ] [وَمِمَّآ : اور اس میں سے جو ] [اَخْرَجْنَا : ہم نے نکالا ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [مِّنَ الْاَرْضِ : زمین سے ] [وَلاَ تَـیَمَّمُوا : اور تم لوگ ارادہ مت کرو ] [الْخَبِیْثَ : ناکارہ کا ] [مِنْہُ : اس میں سے (جس سے ) ] [تُنْفِقُوْنَ : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [وَلَسْتُمْ : حالانکہ تم لوگ نہیں ہو ] [بِاٰخِذِیْہِ : اس کو پکڑنے والے ] [اِلَّآ اَنْ : مگر یہ کہ ] [تُغْمِضُوْا : تم چشم پوشی کرتے ہو ] [فِیْہِ : اس سے ] [وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [اَنَّ : کہ ] [اللّٰہَ : اللہ ] [غَنِیٌّ : بےنیاز ہے ] [حَمِیْدٌ : حمد کیا ہوا ہے ] ی م م یَمَّ (ن) یَمًّا : کسی چیز کو پانی میں ڈالنا۔ یَمٌّ (اسم ذات) : پانی۔ { فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ } (الاعراف :136) ” تو ہم نے ڈبویا ان کو پانی میں۔ “ تَـیَمَّمَ (تفعّل) تَـیَمُّمًا : کسی چیز کا قصد کرنا ‘ ارادہ کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ خ ب ث خَبُثَ (ک) خَبَاثَـۃً : گندا اور ناپاک ہونا ‘ ناکارہ اور ردّی ہونا۔ { وَالَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلاَّ نَـکِدًاط } (الاعراف :58) ” اور جو ناکارہ ہوا اس سے نہیں نکلتا مگر مشکل سے۔ “ خَبِیْثٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : گندا ‘ ناکارہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ غ م ض غَمَضَ (ن) غَمُوْضًا : نیند کا جھونکا آنا۔ اَغْمَضَ (افعال) اِغْمَاضًا : آنکھ بند کرنا ‘ چشم پوشی کرنا ‘ غفلت برتنا۔ آیت زیرمطالعہ۔ ترکیب : ” طَیِّبٰتِ “ مضاف ہے اور ” مَا “ اس کا مضاف الیہ ہے۔ ” لَـسْتُمْ “ کا اسم اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” بِاٰخِذِیْہِ “ اس کی خبر ہے۔ یہ ” بِاٰخِذِیْنَ “ تھا ‘ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے

[اَلشَّیْطٰنُ : شیطان ] [یَعِدُ : وعدہ دیتا ہے ] [کُمُ : تم لوگوں کو ] [الْفَقْرَ : مفلسی کا ] [وَیَاْمُرُ : اور ترغیب دیتا ہے ] [کُمْ : تم لوگوں کو ] [بِالْفَحْشَآئِ : اعلانیہ بےحیائی کی ] [وَاللّٰـہُ : اور اللہ ] [یَعِدُ : وعدہ کرتا ہے ] [کُمْ : تم لوگوں سے ] [مَّغْفِرَۃً : مغفرت کا ] [مِّنْہُ : اس سے (یعنی اپنی) ] [وَفَضْلاً : اور (اپنے ) فضل کا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [وَاسِعٌ : وسعت والا ہے ] [عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ] ق ر فَقَرَ (ن) فَقْرًا : کھودنا ‘ توڑنا۔ فَاقِرٌ (اسم الفاعل) : توڑنے والا۔ { تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِھَا فَاقِرَۃٌ ۔ } (القیٰمۃ) ” وہ گمان کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے توڑنے والا کام۔ “ فَقُرَ (ک) فَقْرًا : محتاج ہونا ‘ مفلس ہونا۔ فَقْرٌ (اسم ذات) : محتاجی ‘ مفلسی۔ آیت زیر مطالعہ۔ فَقِیْرٌ ج فُقَرَائُ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : محتاج ‘ مفلس۔{ وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِط } (النسائ :6) ” اور جو ہو محتاج تو اسے چاہیے کہ وہ کھائے دستور کے مطابق۔ “ { یٰـاَیـُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَائُ اِلَی اللّٰہِج } (فاطر :15) ” اے لوگو ! تم لوگ محتاج ہو اللہ کے۔ “ ترکیب : ” یَعِدُ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلشَّیْطٰنُ “ کے لیے ہے۔ ” کُمْ “ کی ضمیر اس کا مفعول اوّل ہے اور ” اَلْفَقْرَ “ مفعول ثانی ہے۔ اس کے آگے ” یَعِدُ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے۔ ” کُمْ “ مفعولِ اوّل ہے ‘ جبکہ ” مَغْفِرَۃً “ اور ” فَضْلاً “ دونوں مفعولِ ثانی ہیں۔
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں، جو دانشمند ہیں

[یُّؤْتِی : وہ دیتا ہے ] [الْحِکْمَۃَ : دانائی ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَمَنْ : اور جس کو ] [یُّؤْتَ : دی جاتی ہے ] [الْحِکْمَۃَ : دانائی ] [فَقَدْ اُوْتِیَ : تو اس کو دی گئی ہے ] [خَیْرًا کَثِیْرًا : ایک کثیر بھلائی ] [وَمَا یَذَّکَّرُ : اور نصیحت نہیں حاصل کرتے ] [اِلَّآ : مگر ] [اُولُوا الْاَلْبَابِ : سوجھ بوجھ والے لوگ ] ترکیب : ” یُـؤْتِیْ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے۔ ” اَلْحِکْمَۃَ “ اس کا مفعول اوّل ہے اور ” مَنْ “ مفعول ثانی ہے۔ اس کے آگے ” وَمَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ “ شرط ہے اور ” فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا “ جواب شرط ہے۔ شرط ہونے کی وجہ سے مضارع مجہول ” یُوْتٰی “ مجزوم ہوا تو ” یا “ گرگئی اور ” یُوْتَ “ باقی بچا۔ اس کا نائب فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” اَلْحِکْمَۃَ “ مفعول ثانی کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” اُوْتِیَ “ ماضی مجہول ہے اور جواب شرط ہونے کی وجہ سے محلاً مجزوم ہے۔ اس کا نائب فاعل بھی اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” خَیْرًا کَثِیْرًا “ مفعول ثانی ہے۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

[وَمَآ : اور جو ] [اَنْفَقْتُمْ : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِّنْ نَّـفَقَۃٍ : کسی قسم کا خرچہ ] [اَوْ نَذَرْتُمْ : یا منت مانتے ہو ] [مِّنْ نَّذْرٍ : کسی قسم کی منت ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [یَعْلَمُہٗ : جانتا ہے اس کو ] [وَمَا : اور نہیں ہیں ] [لِلظّٰلِمِیْنَ : ظلم کرنے والوں کے لیے ] [مِنْ اَنصَارٍ : کسی قسم کے مددگار ] ترکیب : ” وَمَا اَنْفَقْتُمْ “ میں ” مَا “ موصولہ ‘ شرطیہ ہے۔ ” اَنْفَقْتُمْ “ سے ” مِنْ نَذْرٍ “ تک شرط ہے۔ اس میں افعالِ ماضی استعمال ہوئے ہیں ‘ اس لیے ان پر مجزوم ہونے کا عمل ظاہر نہیں ہوا اور وہ محلاً مجزوم ہیں۔ ” فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ “ پورا جملہ جوابِ شرط ہے اور یہ پورا جملہ محلاً مجزوم ہے ‘ اس لیے اس میں استعمال ہونے والا فعل مضارع ” یَعْلَمُ “ مجزوم نہیں ہوا۔ اگر جوابِ شرط میں فعل مضارع آتا تب وہ مجزوم ہوتا۔ اس وقت جملہ اس طرح ہوتا ” فَـیَعْلَمْہُ اللّٰہُ “۔ ” وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ “ میں ” مَا “ نافیہ ہے۔ اس کا اسم ” مِنْ اَنْصَارٍ “ ہے جو مبتدأ مؤخر نکرہ کے طور پر آیا ہے اور ” لِلظّٰلِمِیْنَ “ قائم مقام خبر ہے۔ نوٹ (1) : احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں منت ماننے کو مستحسن نہیں قرار دیا گیا ہے۔ لیکن کوئی شخص اگر منت مان بیٹھے اور اس میں کسی شرعی قباحت کا کوئی پہلو نہ ہو تو اس کو پورا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ (تدبر قرآن) ہر انفاق اور منت کا عمل بھی اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور ان کے پیچھے پوشیدہ جذبے اور نیت کو بھی اللہ جانتا ہے۔ یہ اعمال اگر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے نہ ہوں ‘ بلکہ جذبے اور نیت میں کوئی فتور ہو ‘ تو پھر ایسے عمل کرنے والوں کو یہاں ظالم کہا گیا ہے۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر اپنے صدقات علانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے تمہاری بہت سی برائیاں اِس طرز عمل سے محو ہو جاتی ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہوئے اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے

[ اِنْ : اگر ] [تُبْدُوا : تم لوگ ظاہر کرو ] [الصَّدَقٰتِ : صدقات کو ] [فَنِعِمَّا : تو کیا ہی اچھا ہے ] [ہِیَ : وہ ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تُخْفُوْہَا : تم لوگ چھپائو اس کو ] [وَتُؤْتُوْہَا : اور پہنچائو اسے ] [الْفُقَرَآئَ : حاجت مندوں کو ] [فَہُوَ : تو وہ (بھی) ] [خَیْرٌ : بہتر ہے ] [لَّــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [وَیُکَفِّرُ : اور وہ دور کرے گا ] [عَنْکُمْ : تم سے ] [مِّنْ سَیِّاٰتِکُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بِمَا : اس سے جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [خَبِیْرٌ : آگاہ ہے ] خی خَفِیَ (س) خُفْیَۃً : پوشیدہ ہونا ‘ چھپا ہوا ہونا۔{ وَمَا یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ } (ابرٰھیم :38) ” اور پوشیدہ نہیں ہوتی اللہ پر (یعنی اللہ سے) کوئی بھی چیز۔ “ خَافٍ (اسم الفاعل) : پوشیدہ ہونے والا ۔ { لَا تَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَـۃٌ ۔ } (الحاقّۃ) ” پوشیدہ نہیں ہوگی تم سے کوئی پوشیدہ ہونے والی (جان) ۔ “ اَخْفٰی (افعل التفضیل) : زیادہ پوشیدہ۔ { فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی ۔ } (طٰہٰ ) ” تو وہ جانتا ہے بھید کو اور زیادہ پوشیدہ کو۔ “ خَفِیٌّ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : پوشیدہ۔ { اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَائً خَفِیًّا ۔ } (مریم) ” اور جب اس نے پکارا اپنے رب کو ایک پوشیدہ پکار سے۔ “ اَخْفٰی (افعال) اِخْفَائً : پوشیدہ کرنا ‘ چھپانا۔ { وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَا اَخْفَیْتُمْ وَمَا اَعْلَنْتُمْط } (المُمتحنۃ :1) ” اور میں جانتا ہوں اس کو جو تم لوگ چھپاتے ہو اور اس کو جو تم لوگ اعلان کرتے ہو۔ “ اِسْتَخْفٰی (استفعال) اِسْتِخْفَائً : پوشیدگی چاہنا ‘ یعنی چھپنا۔{ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ } (النسائ :108) ” وہ لوگ چھپتے ہیں انسانوں سے اور نہیں چھپتے اللہ سے۔ “ مُسْتَخْفٍ (اسم الفاعل) : چھپنے والا۔ { وَمَنْ ھُوَ مُسْتَخْفٍم بِالَّـیْلِ } (الرعد :10) ” اور وہ جو چھپنے والا ہے رات میں۔ “ ترکیب : ” تُؤْتُوْا “ کا مفعول اوّل ” ھَا “ کی ضمیر ہے جو ” اَلصَّدَقٰتِ “ کے لیے ہے اور ” اَلْفُقَرَائَ “ مفعول ثانی ہے۔ ” یُکَفِّرُ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اس کو ” اَلصَّدَقٰتِ “ کے لیے ماننا ممکن نہیں ہے ‘ کیونکہ ایسی صورت میں فعل ” تُکَفِّرُ “ آتا ہے۔ نوٹ (1) : فرض صدقہ یعنی زکوٰۃ کو اعلانیہ دینا افضل ہے۔ اس کے علاوہ جو صدقات و خیرات ہیں ان کو چھپانا زیادہ بہتر ہے۔ یہی اصول تمام اعمال کے لیے ہے کہ فرائض کو اعلانیہ انجام دینا فضیلت رکھتا ہے اور نوافل کو چھپا کر کرنا افضل ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمے داری تم پر نہیں ہے ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی

[لَـیْسَ : نہیں ہے (لازم)] [عَلَیْکَ : تجھ پر ] [ہُدٰٹہُمْ : ان کی ہدایت ] [وَلٰــکِنَّ : اور لیکن (یعنی بلکہ) ] [اللّٰہَ : اللہ ] [یَہْدِیْ : ہدایت دیتا ہے ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [فَلِاَنْفُسِکُمْ : تو وہ تمہارے اپنے آپ کے لیے ہے ] [وَمَا تُنْفِقُوْنَ : اور تم لوگ خرچ نہیں کرتے ] [اِلاَّ : مگر ] [ابْتِغَـآئَ وَجْہِ اللّٰہِ : اللہ کی خوشنودی کی جستجو کرتے ہوئے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [یُّوَفَّ : تو پورا حق دیا جائے گا ] [اِلَـیْکُمْ : تم لوگوں کی طرف ] [وَاَنْتُمْ : اور تم لوگوں پر ] [لاَ تُظْلَمُوْنَ : ظلم نہیں کیا جائے گا (یعنی حق تلفی نہیں ہوگی) ترکیب : ” لَـیْسَ “ کا اسم ” ہُدٰٹہُمْ “ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ ” لِزَامًا “ ہوسکتی ہے۔ ” عَلَیْکَ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” لٰـکِنَّ “ کا اسم ” اللّٰہَ “ ہے اس لیے منصوب ہے اور جملۂ فعلیہ ” یَھْدِیْ مَنْ یَّشَائُ “ اس کی خبر ہے۔ ” وَمَا تُنْفِقُوْا “ کا ” مَا “ شرطیہ ہے ‘ اس لیے ” تُنْفِقُوْا “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ” فَلِاَنْفُسِکُمْ “ جملہ اسمیہ جوابِ شرط ہے۔ اس کا مبتدأ ” ھُوَ “ بھی محذوف ہے اور خبر بھی محذوف ہے جو ” وَاجِبٌ“ یا ” ثَابِتٌ“ ہوسکتی ہے۔ ” لِاَنْفُسِکُمْ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” وَمَا تُنْفِقُوْنَ “ کا ” مَا “ نافیہ ہے اس لیے ” تُنْفِقُوْنَ “ کا نون نہیں گرا۔” اِبْتِغَائَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” یُوَفَّ “ دراصل باب تفعیل کا مضارع مجہول ” یُوَفّٰی “ ہے ‘ لیکن جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا تو ” ی “ گرگئی۔ نوٹ (1) : ابتدا میں مسلمانوں کا خیال تھا کہ صرف مسلمان حاجت مندوں کی مدد کرنا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں ان کی یہ غلط فہمی دور کی گئی ہے کہ لوگوں سے ہدایت قبول کرانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ تم لوگوں تک ہدایت پہنچاکر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔ اب کسی کی مدد کرنے میں اس وجہ سے تأمل نہ کرو کہ اس نے ہدایت قبول نہیں کی۔ اللہ کی رضا کے لیے جس انسان کی بھی مدد کرو گے اس کا اجر اللہ تمہیں دے گا۔ (تفہیم القرآن) یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ یہاں انفاق سے مراد نفلی انفاق ہے جسے ذمی کافر کو دینا بھی جائز ہے ‘ لیکن حربی کافر کو کسی قسم کا انفاق کرنا جائز نہیں ہے۔ (معارف القرآن) نوٹ (2) : اس آیت میں لفظ ” خَیْرٌ“ کا ترجمہ عام طور پر ” مال “ کیا گیا ہے ‘ لیکن ” مِنْ “ تبعیضیہ کی وجہ سے بہتر ہے کہ اسے عام رکھا جائے۔ اسی لیے ہم نے ” کسی قسم کی کوئی بھلائی “ ترجمہ کرنے کو ترجیح دی ہے۔ اس سے یہ راہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ اگر مال خرچ کرنے کی استطاعت نہیں ہے ‘ لیکن کسی انسان کی مدد کرنے کے لیے اگر تم اپنا علم ‘ تجربہ اور مشورہ وغیرہ بروئے کار لاتے ہو یا صرف کسی کا دکھ ہی سن لیتے ہو تو یہ سب کچھ ” مِنْ خَیْرٍ “ میں شامل ہے ‘ اور اگر یہ سب کچھ صرف اللہ کی رضا کی غرض سے کیا جائے تو یہ بھی انفاق فی سبیل اللہ ہے جس کا پورا پورا اجر ملے گا۔ تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ social fiber (یعنی معاشرتی بندھن) کو مضبوط کرنے میں مالی انفاق کی نسبت غیر مالی انفاق زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس غیر مالی انفاق میں اگر ذمی کافر کو شامل کیا جائے تو یہ اسلام کی زیادہ مؤثر تبلیغ بھی ہوگی۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسب معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ان کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا

[لِلْفُقَرَآئِ الَّذِیْنَ : یہ ایسے حاجت مندوں کے لیے ہے جو ] [اُحْصِرُوْا : روک دیے گئے ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ : جو صلاحیت نہیں رکھتے ] [ضَرْبًا : سفر کرنے کی ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [یَحْسَبُہُمُ : گمان کرتے ہیں جن کو ] [الْجَاہِلُ : ناواقف لوگ ] [اَغْنِیَـآئَ : خوش حال ] [مِنَ التَّعَفُّفِ : خوددار ہونے کے سبب سے ] [تَعْرِفُہُمْ : تو پہچانے گا جن کو ] [بِسِیْمٰہُمْ : ان کی علامت سے ] [لاَ یَسْئَلُوْنَ : وہ لوگ نہیں مانگتے ] [النَّاسَ : لوگوں سے ] [اِلْحَافًا : لپٹتے ہوئے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی بھلائی ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [بِہٖ عَلِیْمٌ: اس کو جاننے والا ہے ] عف عَفَّ (ض) عِفَّۃً : ہر ناپسندیدہ بات اور کام سے محفوظ ہونا ‘ پاک دامن ہونا۔ تَعَفَّفَ (تفعّل) تَعَفُّفًا : ناپسندیدہ چیزوں سے خود کو روکنا ‘ جھجکنا ‘ خود دار ہونا۔ آیت زیر مطالعہ۔ اِسْتَعَفَّ (استفعال) اِسْتِعْفَافًا : ناپسندیدہ چیزوں سے بچائو چاہنا ‘ بچنا ‘ باز رہنا۔ { وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْط } (النسائ :6) ” اور جو غنی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ باز رہے۔ “ ل ح لَحَفَ (ف) لَحْفًا : کسی چیز کو کپڑے سے ڈھکنا۔ اَلْحَفَ (افعال) اِلْحَافًا : کسی پر چھا جانا ‘ لپٹنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب :” لِلْفُقَرَائِ “ سے پہلے اس کا مبتدأ محذوف ہے جو کہ ” اَلْاِنْفَاق “ یا ” تِلْکَ الصَّدَقٰتُ “ ہوسکتا ہے۔ اس کی خبر بھی محذوف ہے۔ ” لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ “ کا فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلَّذِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” ضَرْبًا “ مفعول ہے۔ ” یَحْسَبُ “ کا فاعل ” اَلْجَاھِلُ “ ہے اور اس پر لام جنس ہے۔ اس کا مفعول اول ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلَّذِیْنَ “ کے لیے ہے اور ” اَغْنِیَائَ “ مفعول ثانی ہے۔ ” مِنَ التَّعَفُّفِ “ کا ” مِنْ “ سببیہ ہے۔ ” اِلْحَافًا “ حال ہے۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لو گ اپنے مال شب و روز کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں

[اَلَّذِیْنَ : جو لوگ ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [اَمْوَالَہُمْ : اپنے مال ] [بِالَّـیْلِ : رات میں ] [وَالنَّہَارِ : اور دن میں ] [سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [وَّعَلاَنِیَۃً : اور ظاہر کرتے ہوئے ] [فَلَہُمْ : تو ان کے لیے ہے ] [اَجْرُہُمْ : ان کا اجر ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [وَلاَ خَوْفٌ : اور کوئی خوف نہیں ہے ] [عَلَیْہِمْ : ان پر ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [یَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ]
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں، اُ ن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کر دیا ہو اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: "تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی چیز ہے"، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آ جائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا، سو کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اِس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا

[اَلَّذِیْنَ : جو لوگ ] [یَاْکُلُوْنَ : کھاتے ہیں ] [الرِّبٰوا : سود ] [لاَ یَقُوْمُوْنَ : وہ لوگ نہیں کھڑے ہوں گے ] [اِلاَّ : مگر ] [کَمَا : اس طرح جیسے ] [یَـقُوْمُ الَّذِیْ : کھڑا ہوتا ہے وہ ] [ یَتَخَبَّطُہُ : خبطی کردیتا ہے جس کو ] [الشَّیْطٰنُ : شیطان ] [مِنَ الْمَسِّ : چھو کر ] [ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ : یہ اس سبب سے کہ انہوں نے ] [قَالُوْآ : کہا ] [اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [الْبَیْعُ : خریدو فروخت کرنا ] [مِثْلُ الرِّبٰوا : سود کی مانند ہے ] [وَاَحَلَّ : حالانکہ حلال کیا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْبَیْعَ : خریدو فروخت کرنے کو ] [وَحَرَّمَ : اور اس نے حرام کیا ] [الرِّبٰوا : سود کو ] [فَمَنْ جَآئَ ‘ ہٗ : پس وہ ‘ آئی جس کے پاس ] [مَوْعِظَۃٌ : کوئی نصیحت ] [مِّنْ رَّبِّہٖ : اس کے رب (کی طرف) سے ] [فَانْتَہٰی : پھر وہ باز آیا ] [فَلَہٗ : تو اس کے لیے ہے ] [مَا : وہ جو ] [سَلَفَ : گزر گیا ] [وَاَمْرُہٗ : اور اس کا حکم (یعنی فیصلہ) ] [اِلَی اللّٰہِ : اللہ کی طرف ہے ] [وَمَنْ : اور وہ جس نے ] [عَادَ : دوبارہ کیا ] [فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَّارِ : آگے والے ہیں ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [فِیْہَا : اس میں ] [خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] خ ب ط خَبَطَ (ض) خَبْطًا : کسی چیز کو روندنا ‘ کچلنا۔ تَخَبَّطَ (تفعّل) تَخَبُّطًا : کسی چیز کو روند کر غیر متوازن کردینا ‘ دیوانہ بنادینا۔ آیت زیر مطالعہ۔ س ل سَلَفَ (ن) سَلْفًا : آگے بڑھنا ‘ پہلے گزرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ سَلَفٌ (اسم ذات) : گزری ہوئی چیز۔ { فَجَعَلْنٰھُمْ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ ۔ } (الزخرف) ” تو ہم نے بنایا ان کو ایک گزری ہوئی چیز اور ایک مثال بعد والوں کے لیے۔ “ اَسْلَفَ (افعال) اِسْلَافًا : آگے کرنا ‘ آگے بھیجنا۔{ ھُنَالِکَ تَـبْلُوْا کُلُّ نَـفْسٍ مَّا اَسْلَفَتْ } (یونس :30) ” وہاں جانچ لے گی ہر جان اس کو جو اس نے آگے بھیجا۔ “ ع و د عَادَ (ن) عَوْدًا : کوئی کام شروع کرنے کے بعد اس کی ابتدا کی طرف دوبارہ لوٹنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے : (1) کوئی کام دوبارہ یا پھر سے کرنا۔ (2) کسی کی طرف واپس ہونا۔ (3) پہلی حالت پر لوٹنا ‘ دوبارہ ہوجانا۔ { رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْھَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ ۔ } (المؤمنون) ” اے ہمارے ربّ ! تو نکال ہم کو اس سے ‘ پھر اگر ہم دوبارہ (ایسا ) کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ “{ لَنُخْرِجَنَّـکُمْ مِّنْ اَرْضِنَا اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاط } (ابرٰھیم :13) ” ہم لازماً نکالیں گے تم لوگوں کو اپنی سرزمین سے یا تم لوگ لازماً واپس ہو گے ہمارے مذہب میں۔ “{ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ ۔ } (یٰسٓ) ” اور چاند ! ہم نے مقرر کیا اس کو منزلوں کے لحاظ سے یہاں تک کہ وہ پھر سے ہوجائے پرانی ٹہنی کی مانند۔ “ عَائِِدٌ (اسم الفاعل) : دوبارہ کرنے والا ‘ واپس ہونے والا۔ { اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّــکُمْ عَائِِدُوْنَ ۔ } (الدُّخان) ” بیشک ہم کھولنے والے ہیں عذاب کو تھوڑا سا ‘ بے شک تم لوگ دوبارہ کرنے والے ہو۔ “ مَعَادٌ (مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف) : لوٹنے یا واپس ہونے کی جگہ۔ { اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَادُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ط } (القصص :85) ” بیشک جس نے فرض کیا آپ ﷺ پر قرآن ‘ وہ ضرور لوٹانے والا ہے آپ ﷺ ‘ کو واپس ہونے کی جگہ کی طرف۔ “ عِیْدٌ : خوشی کا ایسا دن جو ہر سال لوٹ آئے ‘ عید۔{ رَبَّـنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَائِ تَـکُوْنُ لَنَا عِیْدًا } (المائدۃ :114) ” اے ہمارے ربّ ! تو اتار ہم پر ایک خوان آسمان سے ‘ ہوجائے ہمارے لیے ایک عید۔ “ عَادٌ : حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے۔ { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًاط } (الاعراف :65) ” اور عاد کی طرف ان کے بھائی ھود (علیہ السلام) کو۔ “ اَعَادَ (افعال) اِعَادَۃً : (1) واپس لے جانا ‘ (2) واپس لانا ‘ (3) لوٹانا ۔ { مِنْھَا خَلَقْنٰـکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ } (طٰــہٰ :55) ” اس سے (یعنی زمین سے) ہم نے پیدا کیا تم کو اور اس میں ہم واپس لے جائیں گے تم کو۔ “{ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَاط } (بنی اسرائیل :51) ” تو وہ لوگ عنقریب کہیں گے کون دوبارہ لائے گا ہم کو۔ “{ وَلَا تَخَفْوقفۃ سَنُعِیْدُھَا سِیْرَتَھَا الْاُوْلٰی ۔ } (طٰـہٰ ) ” اور آپ ﷺ خوف مت کریں۔ ہم عنقریب لوٹا دیں گے اس کو اس کی پہلی حالت پر۔ “ ترکیب : ” مَوْعِظَۃٌ“ مؤنث غیر حقیقی ہے ‘ اس لیے فعل ” جَائَ “ مذکر کے صیغے میں بھی درست ہے۔ ” مَنْ عَادَ “ کا ” مَنْ “ شرطیہ ہے ‘ اس لیے ” عَادَ “ کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو و نما دیتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا

[یَمْحَقُ : گھٹاتا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الرِّبٰوا : سود کو ] [وَیُرْبِی : اور وہ بڑھاتا ہے ] [الصَّدَقٰتِ : صدقات کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [لَا یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ : کسی گنہگار ناشکرے کو ] م ح ق مَحَقَ (ف) مَحْقًا : گھٹانا ‘ برکت ختم کردینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں

[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جو لوگ ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [وَاَقَامُوا : اور قائم کی ] [الصَّلٰوۃَ : نماز ] [وَاٰتَوُا : اور پہنچائی ] [الزَّکٰوۃَ : زکوٰۃ ] [لَـہُمْ : (تو) ان کے لیے ہے ] [اَجْرُہُمْ : ان کا اجر ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [وَلاَ خَوْفٌ : اور کوئی خوف نہیں ہے ] [عَلَیْہِمْ : ان پر ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [یَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ] ترکیب :” اٰتَوُا “ دراصل ” اٰتَوْا “ ہے۔ آگے ملانے کے لیے وائو کو ضمہ دی گئی ہے۔ دیکھیں البقرۃ
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو

[یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [اتَّقُوا : تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [وَ : اور ] [ذَرُوْا : تم لوگ چھوڑو ] [مَا : اس کو جو ] [بَـقِیَ : باقی بچا ] [مِنَ الرِّبٰٓوا : سود میں سے ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [مُّؤْمِنِیْنَ : مومن ہو ]
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اب بھی توبہ کر لو (اور سود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے

[ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا : پس اگر تم لوگ نہیں کرتے (اس کو (] [فَاْذَنُوْا : تو تم لوگ سن لو ] [بِحَرْبٍ : ایک جنگ (کی خبر) ] [مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ : اللہ اور اس کے رسول (کی طرف) سے ] [وَاِنْ تُبْتُمْ : اور اگر تم لوگ توبہ کرتے ہو ] [فَـلَـکُمْ : تو ] [تمہارے لیے ہیں ] [رُئُ ‘ وْسُ اَمْوَالِکُمْ : تمہارے مالوں کے سر (یعنی زرِ اصلی) ] [لاَ تَظْلِمُوْنَ : تم لوگ ظلم نہیں کرو گے ] [وَلاَ تُظْلَمُوْنَ : اور نہ تم لوگوں پر ظلم کیا جائے گا ] ح ر ب حَرَبَ (ن) حَرْبًا : کسی کی کوئی چیز لوٹ لینا ‘ حاصل کرلینا۔ حَرِبَ (س) حَرَبًا : سخت غضب ناک ہونا۔ حَرْبٌ (اسم فعل) : لڑائی ‘ جنگ (یعنی انتہائی غضب کی حالت میں دوسرے کا سب کچھ یہاں تک کہ زندگی بھی چھین لینے کا عمل) ۔ آیت زیر مطالعہ۔ مِحْرَابٌ ج مَحَارِیْبُ (مِفْعَالٌ کے وزن پر اسم آلہ) : کسی سے کچھ حاصل کرنے کا ذریعہ یا کنجی۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے : (1) آرام و سکون حاصل کرنے کے لیے مکان میں داخل ہونے کا ذریعہ ‘ مکان کی محراب ‘ دروازہ ‘ کھڑکی۔ (2) اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لیے اس سے ہم کلامی کا ذریعہ ‘ مسجد کی محراب۔ { اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۔ } (صٓ) ” جب انہوں نے پھلانگا دروازے کو۔ “{ وَھُوَ قَائِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ } (آل عمران :39) ” اور وہ کھڑا تھا اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا محراب میں۔ “ { یَعْمَلُوْنَ لَـہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ } (سبا :13) ” وہ لوگ عمل کرتے (یعنی بناتے) اس کے لیے جو وہ چاہتا محرابوں میں سے۔ “ حَارَبَ (مفاعلہ) مُحَارَبَۃٌ : لڑائی کرنا ‘ جنگ کرنا۔ { اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } (المائدۃ :33) ” جو لوگ لڑتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے۔ “ ترکیب :” فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا “ کے بعد ” ھٰذَا “ یا ” ذٰلِکَ “ محذوف ہے جو گزشتہ آیت میں ” ذَرُوْا “ کی طرف اشارہ ہے۔ فعل امر ” اِیْذَنْ “ میں ” ی “ دراصل فا کلمہ کے ہمزہ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ اسے جب ماقبل سے ملا کر پڑھتے ہیں تو فا کلمہ کا ہمزئہ اصلی واپس آجاتا ہے اور ماقبل سے ملا کر پڑھا جاتا ہے ‘ جبکہ فعل امر کا ہمزۃ الوصل صامت (silent) ہوجاتا ہے اور کبھی اس کو لکھنے میں بھی گرا دیتے ہیں۔ اس قاعدہ کے تحت ”ا أ ذ ن = فَائْذَنْ “ بھی درست ہے اور ” فَأْذَنْ “ بھی درست ہے۔ اس آیت میں ہمزۃ الوصل گرا کر ” فَاْذَنْ “ کا جمع مذکر کا صیغہ ” فَاْذَنُوْا “ استعمال ہوا ہے۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

تمہارا قرض دار تنگ دست ہو، تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صدقہ کر دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو

[وَاِنْ : اور اگر ] [کَانَ : وہ ہو ] [ذُوْ عُسْرَۃٍ : تنگی والا ] [فَنَظِرَۃٌ : تو مہلت ہے ] [اِلٰی مَیْسَرَۃٍ : کشادگی تک ] [وَاَنْ : اور یہ کہ ] [تَصَدَّقُوْا : تم لوگ اپنا حق چھوڑ دو ] [خَیْرٌ : (تو یہ) زیادہ بہتر ہے ] [لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اگر تم لوگ جانتے ہو ] ترکیب : ” اِنْ “ حرفِ شرط ” کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ “ شرط اور ” فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ “ جوابِ شرط ہے۔ اس میں ” کَانَ “ تامّہ ہے اور ” ذُوْ عُسْرَۃٍ “ اس کا فاعل ہے ‘ اس لیے ” ذُوْ “ مرفوع ہے۔ ” خَیْرٌ“ افعل التفضیل ہے اور خبر ہے۔ اس کا مبتدأ” فَھُوَ “ محذوف ‘ ہے۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا

[وَاتَّقُوْا : اور تم لوگ بچو ] [یَوْمًا : ایک ایسے دن سے ] [تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جائو گے ] [فِیْہِ : جس میں ] [اِلَی اللّٰہِ : اللہ کی طرف ] [ثُمَّ تُوَفّٰی : پھر پورا پورا دیا جائے گا ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان کو ] [مَّا : وہ جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ہُمْ : ان پر ] [لاَ یُظْلَمُوْنَ : ظلم نہیں کیا جائے گا (یعنی حق تلفی نہیں ہوگی) ترکیب : ” وَاتَّقُوْا “ کا فاعل اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” یَوْمًا “ اس کا مفعول ہے اور نکرہ مخصوصہ ہے۔ آگے اس کی خصوصیت ہے۔ ” تُوَفّٰی “ باب تفعیل میں مضارع مجہول کا واحد مؤنث کا صیغہ ہے۔ ” کُلُّ نَفْسٍ “ اس کا نائب فاعل ہے اس لیے ” کُلُّ “ مرفوع ہے۔ نوٹ (1) : سود کے حق میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جیسے سورة الانفال کی آیت 60 میں دشمن کے خلاف قوت جمع کرنے کے لیے گھوڑے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ لیکن زمانے کی ترقی کے ساتھ اب ہم گھوڑوں کے بجائے ٹینک رکھتے ہیں لہٰذا اس سے مذکورہ آیت کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ‘ اسی طرح سود سے متعلق مذکورہ بالا آیات میں بھی اس زمانے کے سود کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا ‘ لہٰذا اب زمانے کی ترقی کے ساتھ بینک کے تجارتی سود پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ تو جس طرح امت کے فوجی استحکام کے لیے ٹینک کا استعمال ضروری ہے اسی طرح امت کے معاشی استحکام کے لیے بینک کے تجارتی سود کا استعمال ضروری ہے۔ اس دلیل میں جو منطقی کجی ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ از خود عیاں ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ سورة الانفال کی مذکورہ آیت میں دشمن کے خلاف قوت جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب جس زمانے میں اس قوت کی جو بھی شکل ہوگی اسی شکل میں اسے جمع کرنے سے اس آیت کے حکم پر عمل ہوگا۔ جبکہ سود سے متعلق مذکورہ آیات میں ہمیں سود کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب جس زمانے میں سود کی جو بھی شکل ہوگی اس کی ہر شکل کو چھوڑ کر ہی ان آیات کے حکم پر عمل ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں غرباء کو ان کی ضروریات کے لیے سود پر قرض دینے کا رواج تھا جس کی وجہ سے غریب لوگ قرضوں اور سود در سود کے بوجھ تلے دبتے چلے جاتے تھے ‘ جو کہ صریحاً ظلم تھا۔ ہمیں اس سود کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ جبکہ آج کل بینک کا تجارتی سود وہ سود نہیں ہے ‘ کیونکہ ان قرضوں سے تاجر اور صنعت کار منافع کماتے ہیں اور اس میں سے سود دیتے ہیں ‘ اس لیے مذکورہ حکم کا اطلاق تجارتی قرضوں پر نہیں ہوتا۔ یہ بات اس وقت کے عرب معاشرے سے ناواقفیت کی وجہ سے کہی جاتی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ اس وقت پورے عرب معاشرے میں قبائلی نظام رائج تھا اور ان کی معاش کا انحصار زراعت سے زیادہ تجارت پر تھا۔ قبائلی نظام کی ایک بہت اہم خصوصیت یہ ہے کہ کسی قبیلے کا کوئی فرد اگر کسی مشکل میں گرفتار ہوجاتا ہے تو پورا قبیلہ اسے مشکل سے نکالنے کے لیے اس کی مدد کرتا ہے۔ وہ اس کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے سود پر قرضہ دے کر اس کا نام AID (مدد) نہیں رکھتا۔ یہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اس لیے یہ کہنا خلافِ واقعہ ہے کہ اس زمانے میں غیر تجارتی قرضوں اور سود کا رواج تھا۔ اگر کبھی کوئی غریب کسی یہودی کے چنگل میں پھنس بھی جاتا تھا تو وہ استثناء شمار ہوگا ‘ اسے رواج کہنا غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تجارت پیشہ لوگ تھے اور اس زمانے میں بھی تجارتی قرضوں اور سود کا ہی رواج تھا جسے حرام قرار دیا گیا۔ تجارتی قرضوں پر بھی سود کی ممانعت کی جو بنیادی وجہ ہے اس کو سمجھ کر ذہن نشین کرلیں۔ ایک تاجر کسی سرمایہ دار سے سود پر تجارتی قرض لیتا ہے۔ اگر تجارت میں نفع ہوتا ہے تو سرمایہ دار کے حصے میں منافع کی کریم یعنی مکھن آتا ہے اور تاجر کے حصے میں مکھن نکلا ہوا منافع آتا ہے ‘ حالانکہ سرمایہ دار آرام سے گھر بیٹھا رہا اور تاجر نے دن رات ایک کیا۔ اگر تجارت میں نقصان ہوتا ہے تو سارا نقصان تاجر کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ ” مَرے پر سَو دُرّے “ کے مصداق سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں ایک فریق کے مفادات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ‘ جو کہ سرمایہ دار ہے ‘ جبکہ دوسرے فریق یعنی تاجر کو کلیتاً حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ صریحاً ناانصافی اور ظلم ہے ‘ اس لیے اللہ نے سود کو حرام کیا ہے۔ ایک تاجر کسی سرمایہ دار سے نفع و نقصان میں شراکت پر تجارتی قرض لیتا ہے۔ اب اگر تجارت میں نفع ہوتا ہے تو دونوں مل کر اسے کھاتے ہیں اور اگر نقصان ہوتا ہے تو دونوں مل کر اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں ‘ اس طرح دونوں کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ یہ طریقۂ کار انصاف اور عدل پر مبنی ہے ‘ اس لیے اللہ نے ” بیع “ کو حلال کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نفع و نقصان میں شراکت پر قرض دیا گیا تو تاجر غلط نقصان دکھائے گا اور بینک نقصان میں رہینگے ‘ اس لیے اس مسئلہ کا قابل عمل حل یہی ہے کہ قرضہ مقررہ شرح یعنی سود پر دیا جائے۔ لیکن پاکستان میں جس طرح تھوک کے حساب سے قرضے معاف (write off) کیے گئے ہیں اور کیے جا رہے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سود پر قرضہ دینا بھی اس مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ ہے۔ شرحِ سود مقرر ہونے کی وجہ سے بینک زیادہ چھان بین نہیں کرتا کہ جس تجارت یا صنعت کے لیے قرض لیا جا رہا ہے اس کے نفع بخش ہونے کے کیا امکانات ہیں۔ محض کاغذی کارروائی پوری کرنے کے لیے ایک feasibility report فائل میں لگا لی جاتی ہے۔ اکثر و بیشتر بینک کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا دیا ہوا تجارتی قرضہ تاجر نے کہاں خرچ کیا ہے۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر قرضوں کے نادہندگان کی فہرست دن بدن طویل ہوتی جا رہی ہے۔ یہی سرمایہ اگر نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر دیا جائے تو منصوبوں کی چھان بین کرنے کے لیے بینک کو اپنا ایک نظام وضع کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ قرضوں کو خرچ کرنے کی نگرانی کرنا بھی بینک کے لیے ضروری ہوجائے گا۔ اس طرح نادہندگان کی تعداد بہت کم ہوگی اور جو بھی قرضے معاف کیے جائیں گے وہ جعلی نہیں ہوں گے۔ ایک یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں لفظ ” رِبٰو “ ایک مخصوص اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اس سے مراد وہ اضافہ تھا جو تجارتی قرضوں پر مقررہ شرح سے حاصل کیا جاتا ‘ جبکہ تجارتی لین دین سے حاصل ہونے والے نفع کے لیے ” بیع “ کی اصطلاح مخصوص تھی۔ البتہ نفع و نقصان میں شراکت والے معاہدے بھی شامل تھے ‘ جیسے نبی کریم ﷺ حضرت بی بی خدیجہ ؓ کا سامانِ تجارت لے کر بیرونِ ملک جاتے تھے۔ اس حقیقت کا ایک واضح ثبوت عربوں کا یہ قول ہے جو قرآن کریم میں منقول ہے کہ : { قَالُوْا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 7} (البقرۃ :275) ” یہ کہتے ہیں : بیع بھی تو ربا کی مانند ہے “ ۔ لیکن مشابہت کے باوجود وہ لوگ ان کے فرق سے بھی واقف تھے ‘ جبھی تو ان کے لیے الگ الگ اصطلاح استعمال کرتے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب نہیں دیا ‘ بلکہ صرف اپنا فیصلہ سنایا کہ :” اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور ربا کو حرام کیا ہے “۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اس مسئلہ کو کس طرح سمجھا اور دیکھا ہے۔ ابن عربی (رح) نے ” احکام القرآن “ میں فرمایا کہ :” ربا کے معنی اصل لغت میں زیادتی کے ہیں اور آیت میں اس سے مراد وہ زیادتی ہے جس کے مقابلے میں کوئی مال نہ ہو (یعنی کوئی شے نہ ہو) ‘ بلکہ محض ادھار اور اس کی میعاد ہو “۔ امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ :” ربا کی دو قسمیں ہیں : ایک معاملاتِ بیع و شراء کے اندر ‘ دوسرے ادھار کا ربا۔ اور جاہلیت عرب میں (ربا کے نام سے) دوسری قسم ہی رائج اور معروف تھی کہ وہ اپنا مال (یعنی پیسہ) کسی کو معین میعاد کے لیے دیتے تھے اور مخصوص مدت پر اس کا نفع لیتے تھے۔ اگر میعادِ معین پر ادائیگی نہ کرسکا تو میعاد بڑھا دی جاتی تھی بشرطیکہ وہ سود کی رقم بڑھا دے۔ یہی جاہلیت کا ربا تھا جس کو قرآن نے حرام کیا “۔ (منقول از معارف القرآن ‘ ج 1‘ ص 664) ۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر پیسہ ادھار دے کر نفع لیا جائے تو یہ ربا ہے جس کو قرآن نے حرام قرار دیا ہے ‘ جبکہ اگر کوئی چیز بیچ کر نفع لیا جائے تو یہ بیع و شراء ہے جسے قرآن نے حلال قرار دیا ہے۔ سود کے متعلق آیات کے نزول کے وقت صحابہ کرام ؓ کو ” بیع “ اور ” ربا “ میں تمیز کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ انہوں نے ربا کا کاروبار ترک کردیا ‘ جبکہ بیع کا کاروبار بدستور جاری رہا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ مفتی محمد شفیع (رح) نے لکھا ہے کہ : ” البتہ نبی کریم ﷺ نے ربا کے مفہوم میں بیع و شراء کی چند صورتوں کو بھی داخل فرمایا جن کو عرب ربا نہ سمجھتے تھے۔ مثلاً چھ چیزوں کی بیع و شراء میں یہ حکم دیا کہ اگر ان کا تبادلہ کیا جائے تو برابر سرابر ہونا چاہیے اور نقد دست بدست ہونا چاہیے۔ اس میں کمی بیشی کی گئی یا ادھار کیا گیا تو یہ بھی ربا ہے۔ یہ چھ چیزیں سونا ‘ چاندی ‘ گندم ‘ جو ‘ کھجور اور انگور ہیں “۔ (معارف القرآن ‘ ج 1‘ ص 665) مفتی محمد شفیع (رح) نے مزید لکھا ہے کہ : ” اس میں یہ بات قابل غور تھی کہ ان چھ چیزوں کی خصوصیت ہے یا ان کے علاوہ اور بھی چیزیں ان کے حکم میں ہیں ؟ اور اگر ہیں تو ان کا ضابطہ کیا ہے ؟ یہی اشکال حضرت فاروق اعظم ؓ کو پیش آیا جس کی بنا پر فرمایا کہ آیت ربا قرآن کی آخری آیتوں میں ہے ‘ اس کی پوری تفصیلات بیان فرمانے سے پہلے رسول کریم ﷺ کی وفات ہوگئی ‘ اس لیے اب احتیاط لازم ہے ‘ ربا کو تو چھوڑنا ہی ہے ‘ جس صورت میں ربا کا شبہ بھی ہو اس کو بھی چھوڑ دینا چاہیے “۔ (معارف القرآن ‘ ج 1‘ ص 665)