Ayah 2:121( اَلَّذِیْنَ : وہ لوگ ) (اٰتَیْنٰھُمْ : ہم نے دی جن کو ) (الْکِتٰبَ : کتاب) (یَتْلُوْنَــــــہٗ : وہ لوگ تلاوت کرتے ہیں اس کی) (حَقَّ تِلَاوَتِہٖ : جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے) (اُولٰئِکَ : وہ لوگ ) (یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ : ایمان لاتے ہیں اس پر) (وَمَنْ : اور جو ) (یَّکْفُرْ بِہٖ : انکار کرتا ہے اس کا) (فَاُولٰئِکَ : تو وہ لوگ ) (ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خسارہ پانے والے ہیں)
ترکیب : ” اٰتَیْنَا “ کا فاعل ” نَا “ ضمیر بارز مرفوع متصل ہے نہ کہ ” نَحْنُ “ جو ضمیر مرفوع منفصل ہے۔ اس کا مفعولِ اوّل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَ لَّذِیْنَ “ کے لئے ہے اور اس کا مفعول ثانی ” اَلْکِتٰبَ “ ہے۔ یہ پورا جملہ ” اَ لَّذِیْنَ “ کا صلہ ہے۔ اور یہ صلہ اور موصول مل کر مبتدأ ہے۔ ” یَتْلُوْنَ “ کا فاعل وائو ضمیر مرفوع بارز متصل ہے جو ” اَ لَّذِیْنَ “ کے لئے ہے ‘ اس کا مفعول ” ہٗ “ کی ضمیر ہے جو ” اَ لْکِتٰبَ “ کے لئے ہے ‘ جبکہ مرکب اضافی ” حَقَّ تِلَاوَتِہٖ “ صفت ہے اور موصوف ” تِلَاوَۃً ‘ ‘ محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے : تِلَاوَۃً حَقَّ تِلَاوَتِہٖ اور پھر یہ مفعول مطلق ہے۔ ” یَتْلُوْنَـــہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ “ یہ جملہ فعلیہ ہو کر خبر اوّل ” اُولٰئِکَ “ مبتدا ٔہے اور جملہ فعلیہ ” یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ “ اس کی خبر ہے۔ پھر یہ مبتدأ و خبر مل کر جملہ اسمیہ ہو کر دوسری خبر ہے۔ اور یہ ترتیب محی الدین درویش نے اپنی کتاب اعراب القرآن میں کی ہے۔ جبکہ عکبری نے املاء ما منّ بہ الرحمان میں لکھا ہے کہ ” بِہٖ “ میں ” ہٖ “ کی ضمیر ” اَ لْکِتٰبَ “ کے لئے ہے۔ ” مَن “ شرطیہ ہے اس لئے ” یَکْفُرْ بِہٖ “ مضارع مجزوم ہے اور یہ شرط ہے۔ جبکہ ” فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ “ جواب شرط ہے۔ ” یَتْلُوْنَـــہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ “ کا جملہ ” ھُمْ “ ضمیر یا ” اَلْکِتَاب “ سے حال ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہے ” اَ لَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ “ کی خبر نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ سب کے سب اس کی ایسی تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے اور ظاہر ہے کہ اہل کتاب کے سارے کے سارے افراد ایسے نہیں ہیں۔
حق کے اصلی معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں اور اس کا استعمال چار طرح ہوتا ہے : (1) اس ذات کے لئے جو اپنی حکمت کے اقتضاء کی بناء پر کسی شے کی ایجاد فرمائے۔ اللہ عزوجل کو اسی لئے حق کہا جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : { وَرُدُّوْا اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰــھُمُ الْحَقُّ } (یونس :30) { فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمُ الْحَقُّ } (یونس :32)
(2) وہ چیز کہ جو حکمت کے اقتضاء کے مطابق ایجاد کی گئی ہو۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل فعل حق ہیں۔ چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : { ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَائً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلاَّ بِالْحَقِّ ج } (یونس :5)
(3) کسی شے کے متعلق وہ اعتقاد رکھنا جو نفس الامر کے مطابق ہو ۔ ارشاد ربانی ہے : { فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ }(البقرۃ :213)
(4) وہ قول یا فعل جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو کہ جس مقدار اور جس وقت میں اس کا ہونا واجب ہے۔ چناچہ قول حق اور فعلِ حق اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :{ وَلٰـکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ } (السجدۃ :13)
آیت زیر بحث میں ” حق “ کا مؤخر الذکر مفہوم مراد ہے۔
نوٹ (1) اس آیت کے الفاظ عمومیت کے حامل ہیں۔ اس لئے شریعت موسوی (علیہ السلام) میں تورات ‘ شریعت عیسوی (علیہ السلام) میں انجیل اور شریعت محمدی ﷺ میں قرآن مجید پر ” الْکِتٰب “ کا اطلاق ہوگا۔
نوٹ (2) لفظ تلاوت کا مطلب ہے کتاب پڑھ کر اس کی پیروی کرنا۔ اس لئے ” حَقَّ تِلَاوَتِہٖ “ کا تعلق شریعت پر عمل کرنے سے ہے۔ اسی طرح ” یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ “ اور ” یَکْفُرْ بِہٖ “ ایمانِ عملی اور انکارِ عملی کے لئے آیا ہے۔ اور شریعت پر عمل نہ کرنے والے کا شمار خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔
نوٹ (3) شریعت موسوی (علیہ السلام) اور شریعت عیسوی (علیہ السلام) کے زمانے میں سمجھ اور عمل کے بغیر مجرد تورات یا انجیل کی تلاوت بھی ثواب سے خالی نہیں تھی۔ اسی طرح آج کے زمانے میں مجرد قرآن مجید کی تلاوت بھی ثواب سے خالی نہیں ہے۔ لیکن اس ثواب کے ہوتے ہوئے بھی شریعت پر عمل نہ کرنا خسارے کا سودا ہے۔ کیونکہ جنت میں کم تر درجہ پانا بھی خسارہ ہے ‘ براستہ (via) جہنم ‘ جنت میں جانا بھی خسارہ ہے ‘ اور جس کے لئے خلود فی النار کا حکم ہوگا تو وہ خسارے کی انتہا ہے۔
Ayah 2:122(یٰــبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ : اے اسرائیل (علیہ السلام) کے بیٹو) (اذْکُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ) (نِعْمَتِیَ : میری نعمت کو ) (الَّتِیْ : جس کو کہ) (اَنْعَمْتُ : میں نے انعام کیا ) (عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) ( وَاَ نِّیْ : اور یہ کہ ) (فَضَّلْتُـکُمْ : میں نے فضیلت دی تم لوگوں کو) (عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : سب جہانوں پر )
یٰــبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ ” یَا “ حرفِ ندا ” بَنِیْ “ منادیٰ مضاف ‘ علامت نصب ” یاء “ ہے ‘ کیونکہ یہ ملحق بجمع مذکر سالم ہے۔ ” ابْنٌ“ کی اصل ” بَنَــوٌ“ بر ورزن ” فَعَلٌ“ ہے ۔ ناقص واوی ہے اور دلیل یہ ہے کہ اس کا مصدر ” بُنُوَّۃٌ “ ہے۔ اس کی جمع مکسر ” اَبْنَائٌ “ اور جمع سلامت ” بُنُوْنَ “ آتی ہے۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ اس کا لام کلمہ بجائے ” واؤ“ کے ” یائ “ ہے اور یہ ناقص یائی ہے۔ اور یہ مشتق ہے بَنٰی یَبْنِیْ بِنَائً بمعنی وضع الشی ٔ ‘ علی الشیء سے ۔ چونکہ ” ابن “ فرع ہونے کی بناء پر موضوع اور ” اَبٌ ‘ ‘ اصل ہونے کی بناء پر موضوع علیہ ہے۔ باقی رہا اس کے مصدر کا ” بُنُوَّۃٌ “ کے وزن پر آنا تو یہ اس کے ناقص واوی ہونے کی دلیل نہیں ‘ کیونکہ فَتٰی جو ناقص یائی ہے اس کا مصدر بھی ” فُتُوَّۃٌ “ کے وزن پر آتا ہے۔ ” اسرائیل “ اسباب منع صرف میں سے علمیت اور عجمہ ہونے کی بنا پر غیر منصرف ہے ۔ اس کے مختلف تلفظ ہیں : ” اسرائیل ‘ سراییل ‘ اسرائیل ‘ اسرال اور اسرائین۔
اسی انداز کی آیت کریمہ چونکہ پہلے گزر چکی ہے اس لئے ترکیب کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔
Ayah 2:123(وَاتَّقُوْا : اور تم لوگ بچو) (یَوْمًا : ایک ایسے دن سے جب ) (لاَّ تَجْزِیْ : کام نہیں آئے گی ) (نَفْسٌ : کوئی جان ) (عَنْ نَّفْسٍ : کسی جان کے ) (شَیْئًا : کچھ بھی) (وَّلَا یُقْبَلُ : اور قبول نہیں کیا جائے گا) (مِنْھَا : اس سے ) (عَدْلٌ : بدلے میں کچھ ) (وَّلَا تَنْفَعُھَا : اور نفع نہیں دے گی اس کو) (شَفَاعَۃٌ : کوئی شفاعت ) (وَّلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ) (یُنْصَرُوْنَ : مدد دیئے جائیں گے )
نوٹ (1) بلیغ کلام کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ بات کی ابتداء جامع بات سے ہوتی ہے ‘ پھر اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے ‘ اور بات ختم کرتے وقت خلاصہ کے طور پر جامع بات کا اعادہ کیا جاتا ہے ۔ جیسے ہم کہیں ” تکبر بہت بری چیز ہے “۔ پھر تکبر کی تعریف ‘ اس کی علامات ‘ اس کے اثرات اور نقصانات بیان کرنے کے بعد بات ختم کرتے ہوئے کہیں ” غرضیکہ تکبر بہت بری چیز ہے “۔
آیات زیر مطالعہ میں سورة البقرۃ کی آیت 47 کو لفظ بہ لفظ اور آیت 48 کو تھوڑی سی لفظی تبدیلی کے ساتھ دہرایا گیا ہے۔ یہ وہی بلاغت کا انداز ہے اور اس سے معلوم ہوگیا کہ بنواسرائیل سے براہ راست خطاب اب اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
Ayah 2:124(وَاِذِ ابْتَلٰی : اور جب آزمایا ) (اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو) (رَبُّـــــہٗ : ان کے رب نے ) (بِکَلِمٰتٍ : کچھ فرمانوں سے) (فَاَتَمَّھُنَّ تو انہوں نے پورا کیا ان کو) ( قَالَ : اس نے ( یعنی اللہ نے) کہا) (اِنِّیْ : کہ میں ) (جَاعِلُکَ : بنانے والا ہوں آپ (علیہ السلام) کو) (لِلنَّاسِ : لوگوں کے لئے ) (اِمَامًا : ایک پیشوا) (قَالَ : انہوں (علیہ السلام) نے کہا) (وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ : اور میری نسل میں سے) (قَالَ : اس نے کہا ) (لَا یَنَالُ : نہیں پہنچتا) (عَھْدِیْ : میرا وعدہ) (الظّٰلِمِیْنَ : چیزوں کو غلط جگہ رکھنے والوں کو)
ت م م
تَمَّ (ض) تَمَامًا : کسی چیز کی ہر کمی یا نقص کا دور ہوجانا ‘ پورا ہونا ‘ تمام ہونا۔ { وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ } (الانعام :115) ” اور پورا ہوا تیرے رب کا فرمان۔ “
اَتْمَمَ ۔ اِتْمَامًا (افعال) : پورا کرنا ‘ تمام کرنا ۔{ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـــکُمْ دِیْنَــکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْـکُمْ نِعْمَتِیْ } (المائدۃ :3) ” آج میں نے مکمل کیا تمہارے لئے تمہارے دین کو اور میں نے تمام کی تم پر اپنی نعمت۔ “
اَتْمِمْ (فعل امر) : تو پورا کر۔ { رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا } (التحریم :8) ” اے ہمارے رب ! تو پورا کر دے ہمارے لئے نور کو۔ “
مُتِمٌّ (اسم الفاعل) : پورا کرنے والا ۔{ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نَوْرِہٖ } (الصّف :8) ” اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے۔ “
ذُرِّیَّۃٌ
ذُرِّیَّـــۃ : اولاد۔ اصل میں چھوٹے بچوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ‘ مگر عرف میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصلاً تو یہ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ ” ذُرِّیَّـــۃٌ “ کے ماخذ کے بارے میں تین اقوال ہیں : (1) یہ ” ذرأٌ“ سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں ‘ اس کی ہمزہ متروک ہوگئی ہے ‘ جیسے ” بَرِیَّــــۃٌ“ میں۔ (2) اس کی اصل ” ذُرْوِیَۃٌ “ ہے۔ (3) یہ ” ذرٌّ “ سے مشتق ہے جس کے معنی بکھیرنے کے ہیں۔ ” فُعْلِیَّۃٌ “ کے وزن پر ہے ‘ جیسے ” قُمْرِیَّــــۃٌ“ ۔” ذُرَارِیْ “ اور ” ذُرِّیَّاتٌ“ جمع۔
ن ی ل
نَالَ (ف) نَیْــــــــلًا : (1) مطلوبہ چیز کو حاصل کرنا (2) مطلوب کا پہنچنا۔ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط } (آل عمران :92) ” تم لوگ ہرگز حاصل نہیں کرو گے نیکی کو یہاں تک کہ تم لوگ انفاق کرو اس میں سے جو تم کو محبوب ہے۔ “ { لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَائُ ھَا } (الحج :37) ” ہرگز نہیں پہنچتا اللہ کو ان کا گوشت اور نہ ہی ان کا خون۔ “
نَیْلٌ (اسم ذات) : مطلوبہ چیز۔ { وَلَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْــــلًا } (التوبۃ :120) ” اور وہ لوگ حاصل نہیں کرتے کسی دشمن سے کوئی مطلوبہ چیز۔ “
ترکیب : ” اِذْ “ فعل محذوف کا مفعول فیہ ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے :” اُذْکُرْ اِذِ ابْتَلٰی “ اِبْتَلٰیفعل ‘ ’ اِبْرٰھٖمَ “ مفعول اور ” رَبُّــــــــہٗ “ فاعل ہے۔ ” رَبُّــــــہٗ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر ابراہیمَ کے لئے ہے جبکہ ” بِکَلِمٰتٍ “ متعلق فعل ہے۔ ” فا “ عاطفہ ” اَتَمَّ “ فعل ‘ اس کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ہے اور ” ھُنَّ “ ضمیر مفعولی ہے جو ” کَلِمٰتٍ “ کے لئے ہے۔ اور یہ جملہ عطف ہے اِبْتَلٰی پر ۔” اِنِّیْ “ میں ” اِنَّ “ کے ساتھ اس کا اسم یائے متکلم ہے اور ” جَاعِلُکَ اِمَامًا “ اس کی خبر ہے۔ جبکہ ” لِلنَّاسِ “ متعلق جَاعِلُکَ ہے۔ یا یہ حال ہونے کی بناء پر مقام نصب میں ہے اور عبارت یوں ہے : انی جاعلک امامًا للناس۔ اسم الفاعل ” جَاعِلٌ“ مضاف ہونے کی وجہ سے ” جَاعِلُ “ آیا ہے اور فعل کا کام کر رہا ہے۔ ضمیر مفعولی ” کَ “ اس کا مفعول اوّل اور ” اِمَامًا “ مفعول ثانی ہے۔ ” لَا یَنَالُ “ کا فاعل ” عَھْدِیْ “ ہے اور ” الظّٰلِمِیْنَ “ مفعول ہے۔ ” قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ “ اصل میں ” قَالَ اجْعَلْ فَرِیْقًا مِنْ ذُرِّیَّتِیْ اِمَامًا “ ہے۔
نوٹ (1) اس آیت میں ہماری راہنمائی کے متعدد پہلو ہیں۔ ان میں سے چند کو سمجھ کر ذہن نشین کرلیں۔ (1) ” اِبْتَلٰی “ کے فاعل کے لئے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے لفظ رب آیا ہے۔ رب اس ہستی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر اس کے درجۂ کمال تک پہنچا دے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کی آزمائشیں نعوذ باللہ کسی غلطی یا خطا کی پاداش میں نہیں تھیں ‘ بلکہ ان کی تربیت کی غرض سے تھیں۔
(2) حضرت ابراہیم کے امتحانات کی نوعیت علمی (Theoritical) نہیں تھی ‘ بلکہ (Practical) تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملی ثابت قدمی یعنی صبر سے علم اور یقین ‘ دونوں کی کیفیت از خود عیاں ہوجاتی ہے۔ اور جب کسی انسان کا علم و یقین عمل میں ڈھلتا ہے تو اس کا نقد انعام ہے لوگوں کی امامت۔
(3) حضرت ابراہیمں نے اپنی نسل میں امامت کا جو سوال کیا تھا وہ دنیوی غرض سے نہ تھا بلکہ آخرت کے رتبہ اور مقام کے لئے تھا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ ہم لوگ جو بھی نیک اعمال کرتے ہیں اس کا فائدہ ہمارے آباء و اجداد کو پہنچتا ہے۔
(4) حضرت ابراہیمں کے سوال کا اللہ تعالیٰ نے جو جواب دیا وہ منفی نہیں بلکہ مثبت ہے۔ البتہ مشروط ہے۔ اس لئے لَا یَنَالُ سے پہلے نَعَمْ وَلٰـــکِنْ محذوف مان کر پڑھیں تو بات پوری طرح سمجھ میں آجائے گی۔
(5) اللہ تعالیٰ کے مشروط جواب سے معلوم ہوجاتا ہے کہ امامت کے مقام و رتبہ کا تعلق نسل سے نہیں بلکہ عمل سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امامت دراصل زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت ہے اور یہ کسی باغی یا نافرمان کو نہیں دی جاسکتی۔
Ayah 2:125(وَاِذْ جَعَلْنَا : اور جب ہم نے بنایا) (الْبَیْتَ : اس گھر کو ) (مَثَابَۃً : اپنے اصل کی طرف لوٹنے کا ایک ٹھکانہ) (لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لئے ) (وَاَمْنًا : اور امن میں ہونا) (وَاتَّخِذُوْا : اور تم لوگ بنائو) (مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے) (مُصَلًّی : نماز کی جگہ) (وَعَھِدْنَا : اور ہم نے تاکید کی ) (اِلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو اور اسماعیل (علیہ السلام) کو) (اَنْ طَھِّرَا : کہ وہ دونوں پاک رکھیں) (بَیْتِیَ : میرے گھر کو ) (لِلطَّآئِفِیْنَ : طواف کرنے والوں کے لئے) (وَالْعٰکِفِیْنَ : اور اعتکاف کرنے والوں کے لئے ) (وَالرُّکَّعِ : اور رکوع کرنے والوں کے لئے) (السُّجُوْدِ : سجدہ کرنے والوں کے لئے)
ب ی ت
بَاتَ (ض) بَیْتًا : کسی جگہ رات گزارنا۔ { وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ۔ } (الفرقان :) ” اور وہ لوگ جو رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے کی حالت میں اور قیام کی حالت میں۔ “
بَیْتٌ ج بُیُوْتٌ (اسم ذات) : رات گزارنے کا ٹھکانہ ‘ گھر۔ { اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ } (بنی اسرائیل :93) ” یا ہوتا تیرے لئے کوئی گھر سنہرا۔ “ { لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا } (النور :27) ” تم لوگ داخل مت ہو کچھ گھروں میں اپنے گھروں کے علاوہ ‘ یہاں تک کہ اجازت طلب کرلو۔ “
بَیَاتٌ (اسم ذات) : رات۔ { اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوْ نَھَارًا } (یونس :50) ” اگر پہنچے ‘ تم لوگوں کو اس کا عذاب رات کے وقت یا دن کے وقت۔ “
تَبْـیِـــیْــتًا (تفعیل) : (1) رات میں حملہ کرنا ‘ شب خون مارنا۔ (2) رات میں سوچ بچار کرنا ‘ مشورہ کرنا۔ { قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ } (النمل :49) ” انہوں نے کہا آپس میں قسم کھائو اللہ کی کہ ہم لازماً شب خون ماریں گے اس پر۔ “{ وَاللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ج } (النسائ :81) ” اور اللہ لکھتا ہے جو وہ لوگ رات میں مشورہ کرتے ہیں۔ “
ط و
طَافَ (ن) طَوَافًا : کسی کے گرد چکر لگانا ‘ گھیرنا۔ { یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ } (الطور :24) ” چکر لگاتے ہیں ان کے گرد کچھ خدام ان کے لئے۔ “
یُطَافُ (مضارع مجہول) : چکر دیا جانا ‘ گردش میں لایا جانا۔ { یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” گردش دیئے جائیں گے ان کے لئے شراب کے جام۔ “
طَائِفٌ ( فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل): چکر لگانے والا ‘ گھیرنے والا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) ذہن میں گردش کرنے والا خیال ‘ وسوسہ ۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا } (الاعراف :201) ” بیشک جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کو جب بھی چھوتا ہے کوئی وسوسہ شیطان سے تو وہ لوگ خود کو یاد کراتے ہیں۔ “ (2) کوئی آفت جو انسان پر گھوم جائے۔ { فَطَافَ عَلَیْھَا طَائِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ وَھُمْ نَائِمُوْنَ } (القلم :19) ” تو چکر لگایا اس پر ایک آفت نے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اس حال میں کہ وہ لوگ سو رہے تھے۔ “ (3) طواف کرنے والا۔ آیت زیرمطالعہ۔
طَائِفَۃٌ : فَاعِلٌ کے مؤنث فَاعِلَۃٌ کا وزن ہے۔ اس کا زیادہ تر استعمال کسی بڑی جماعت ‘ کے چھوٹے گروہ کے لئے ہوتا ہے۔ { وَدَّتْ طَآئِفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَـــکُمْط }(آل عمرآن :69) ” تمنا کی اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہ کاش وہ لوگ بھٹکا دیں تم لوگوں کو۔ “
طَوَّافٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بار بار چکر لگانے والا ‘ خادم۔ { طَوّٰفُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط } (النور :58) ” بار بار چکر لگانے والے ہیں تمہارے گرد ‘ تم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہو۔ “
طُوْفَانُ ( فُعْلَانُ کے وزن پر مبالغہ) : بےانتہا گھیرنے والا۔ زیادہ تر انتہائی تیز ہوا اور بارش کے لئے آتا ہے ‘ سائیکلون (Cyclone) ۔{ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ } (الاعراف :133) ” تو ہم نے بھیجا ان پر سائیکلون۔ “
ع ک
عَکَفَ (ن) عَکْفًا : تعظیماً کسی سے وابستہ رہنا ‘ چپکے بیٹھے رہنا (لازم) ‘ وابستگی سے روکنا (متعدی) ۔ { فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰی اَصْنَامٍ لَّھُمْ ط } (الاعراف :138) ” تو وہ لوگ پہنچے ایک قوم پر جو چپکے بیٹھے رہتے ہیں اپنے بتوں پر۔ “
عَاکِفٌ (اسم الفاعل) : رُکا رہنے والا ‘ اعتکاف کرنے والا۔ { قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَھَا عٰکِفِیْنَ ۔ } (الشعرائ) ” انہوں نے کہا ہم عبادت کرتے ہیں کچھ بتوں کی تو ہم ہوجاتے ہیں ان کے لئے اعتکاف کرنے والے۔ “
مَعْکُوْفٌ (اسم المفعول) روکا ہوا۔{ وَالْھَدْیُ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّــــہٗ ط } (الفتح :25) ” اور قربانی کے جانور روکے گئے ہیں کہ وہ پہنچیں اپنی جگہ پر۔ “
ترکیب : ” جَعَلْنَا “ کا فاعل ” نَا “ ضمیر بارز مرفوع متصل ہے ( نہ کہ ” نَحْنُ “ جو ضمیر مرفوع منفصل ہے) جو اللہ کے لئے ہے۔ ” جَعَلْنَا “ کا مفعول اوّل ” اَلْبَیْتَ “ ہے اور اس پر لام تعریف لگا ہے ‘ جبکہ ” مَثَابَۃً “ مفعول ثانی ہے۔ یہ ترکیب اس صورت میں ہے اگر ” جَعَلْنَا “ کو بمعنی ” صَیَّرْنَا “ لیا جائے۔ اور اگر ” جَعَلْنَا “ بمعنی ” خَلَقْنَا “ لیا جائے تو ” مَثَابَۃً “ مفعول ثانی نہیں بلکہ ” اَلْبَیْتَ “ سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہوگا ‘ کیونکہ اس صورت میں ” جَعَلْنَا “ متعدی بیک مفعول ہوگا۔ ” لِلنَّاسِ “ یا تو صفت ہے مَثَابَۃً کی اور تقدیر عبارت یوں ہے : مَثَابَۃً کَا ئِنَۃً لِلنَّاسِ ۔ اس صورت میں یہ کَائِنَۃً محذوف کے متعلق ہوگا اور یا ” جَعَلْنَا “ کے متعلق ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے : لِاَجْلِ نَفْعِ النَّاسِ ۔” اَمْنًا “ مصدر ہے اور ” مَثُوْبَۃً “ پر عطف ہے۔
” وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلّٰی “ ” اِتَّخِذُوْا “ فعل یا فاعل ” مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَِ “ متعلق ” اِتَّخِذُوْا “ ” مُصَلًّی “ مفعول بہٖ جملہ فعلیہ مقولہ (مفعول) ہے فعل محذوف ” قُـــــلْـــنَا “ کا جو معطوف ہے ” وَاِذْ جَعَلْنَا “ پر اور عبارت یوں ہے : ” وَقُلْنَا اتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلًّی “۔” مُصَلًّی “ باب تفعیل کا اسم ظرف ہے۔ ” اَلْعٰکِفِیْنَ “ ” اَلرُّکَّعِ “ اور ” اَلسُّجُوْدِ “ یہ سب ” اَلطَّائِفِیْنَ “ پر داخل ہونے والے حرف جر ” لِ “ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں۔
نوٹ (1) لفظ ” مَثَابَۃً “ کے معنی ” اپنے اصل کی طرف لوٹنے کا ایک ٹھکانہ “ ہیں۔ بار بار لوٹنے کا مفہوم از خود شامل ہے۔ جیسے ہر شخص سارا دن گھوم پھر کر شام کو اپنے گھر کی طرف لوٹتا ہے۔ اس کی تصدیق ایک حدیث قدسی سے ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو بندہ ایسا ہو کہ میں نے اس کو صحت عطا کر رکھی ہے اور اس کی روزی میں وسعت دے رکھی ہے اور اس پر پانچ سال ایسے گزر جائیں کہ وہ میرے دربار میں حاضر نہ ہو تو وہ یقینا محروم ہے۔ اسی مضمون کی کئی اور احادیث بھی روایت کی گئی ہیں (منقول از فضائل حج ‘ صفحہ 34) یہی وجہ ہے کہ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک عمرہ کرنا واجب ہے ‘ جبکہ امام مالک (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ سنت ہے۔
اب جب کبھی کسی اخبار یا رسالہ میں آپ کوئی ایسا مضمون یا ایڈیٹر کے نام خط پڑھیں جس میں نفلی حج اور عمرہ پر کئے جانے والے اخراجات کو wastage اور ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہو اور اس پیسے کے زیادہ مفید استعمال بتائے گئے ہوں ‘ تو اس وقت آپ آیت زیر مطالعہ ‘ مذکورہ حدیث قدسی اور ائمہ کرام کے اقوال کو ذہن میں ضرور تازہ کرلیا کریں۔ اس طرح آپ پیسے کو اپنا الٰہ بنانے کے شرک سے ان شاء اللہ محفوظ رہیں گے۔
نوٹ (2) طواف کے بعد دو رکعت نماز کا واجب ہونا اس آیت سے معلوم ہوا اور مقام ابراہیم کے ساتھ ” مِنْ “ کے اضافے سے معلوم ہوا کہ یہ حرم مکہ میں کہیں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ حجۃ الوداع میں بی بی اُمّ سلمہ ؓ کو طواف کے بعد نماز کا موقع نہیں ملا تو مکہ شہر سے نکلنے کے بعد ادا کی۔ (معارف القرآن) ۔
Ayah 2:126(وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ) (اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے) ( رَبِّ : اے میرے ربّ ! ) (اجْعَلْ : تو بنا دے) (ھٰذَا : اس کو ) (بَلَدًا اٰمِنًا : امن میں ہونے والا شہر) (وَّارْزُقْ : اور تو رزق دے ) (اَھْلَـــــــہٗ : اس کے لوگوں کو ) (مِنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے) (مَنْ : اس کو جو ) (اٰمَنَ : ایمان لائے ) (مِنْھُمْ : ان میں سے ) (بِاللّٰہِ : اللہ پر ) (وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر) (قَالَ : اس نے کہا) (وَمَنْ کَفَرَ : اور جس نے کفر کیا) (فَاُمَتِّعُـــہٗ : تو میں فائدہ اٹھانے کے لئے دوں گا اس کو (بھی) (قَلِیْــــــــلًا : تھوڑا سا سامان) (ثُمَّ : پھر) (اَضْطَرُّہٗ : میں مجبور کروں گا اس کو) (اِلٰی عَذَابِ النَّارِ : آگ کے عذاب کی طرف ) ( وَبِئْسَ : اور وہ بہت ہی برا) (الْمَصِیْرُ : لوٹنے کا ٹھکانہ ہے)
ب ل د
بَلَدَ (ن) بُلُوْدًا : کسی جگہ آباد ہونا ‘ شہر بنانا۔
بَلَدٌ واحد بَلْدَۃٌ جمع بِلَادٌ (اسم جنس) : شہر ‘ بستی۔ { وَتَحْمِلُ اَثْقَالَـــکُمْ اِلٰی بَلَدٍ } (النحل :7) ” اور وہ (یعنی چوپائے) اٹھاتے ہیں تمہارے بوجھ کسی شہر تک۔ “ { وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَائً طَھُوْرًا ۔ لِّنُحْیِیَ بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا } (الفرقان :48‘49) ” اور اس نے اتارا آسمان سے کچھ پاکیزہ پانی تاکہ وہ زندہ کرے اس سے کسی مردہ شہر کو۔ “ { لاَ یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ } (آل عمران) ” ہرگز دھوکہ نہ دے تجھ کو گھومنا پھر ناان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا ‘ شہروں میں۔ “
ص ی ر
صَارَ (ض) صَیْرًا اور مَصِیْرًا : منتقل ہونا ‘ لوٹنا ۔{ اَ لَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ ۔ } (الشوریٰ ) ” خبردار رہو ! اللہ کی طرف ہی لوٹتے ہیں تمام امور۔ “ { وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ } (النور) ” اور اللہ کے لئے ہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ہے ‘ اور اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے۔ “
مَصِیْرٌ : مصدر کے علاوہ اسم الظرف بھی ہے۔ لوٹنے کا ٹھکانہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” رَبِّ “ کی جر بتارہی ہے کہ اس کی یائے متکلم محذوف ہے اور یہ ” رَبِّیْ “ تھا۔ اس سے قبل حرف ندا ” یَا “ کو بھی محذوف مانا جاسکتا ہے۔ فعل امر ” اِجْعَلْ “ کا مفعول اوّل ” ھٰذَا “ ہے جبکہ مرکب توصیفی ” بَلَدًا اٰمِنًا “ مفعول ثانی ہے۔ فعل امر ” اُرْزُقْ “ کا مفعول ” اَھْلَـــــہٗ “ ہے۔ اس میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” بَلَدًا اٰمِنًا “ کے لئے ہے۔ ” مِنَ الثَّمَرٰتِ “ متعلق فعل ہے۔ ” مَنْ “ اَھْــلَــــــہٗپرحرفِ عطف نہیں ہے بلکہ اس سے بدل بعض ہے۔ ” قَالَ “ کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ ” وَمَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُـــــہٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّہٗ “ میں ” مَنْ “ بمعنی ” اَ لَّذِیْ “ موصول ” کَفَرَ “ اس کا صلہ یا ” مَنْ “ نکرہ موصوفہ ” کَفَرَ “ اس کی صفت۔ موصول اور صلہ مل کر یا موصوف اور صفت مل کر فعل محذوف کے لئے مفعول۔ تقدیر عبارت یوں ہے :” قَالَ وَارْزُقْ مَنْ کَفَرَ “۔” فَاُمَتِّعُـــــہٗ “ جملہ فعلیہ معطوف ہے ” وَارْزُقْ “ فعل محذوف پر۔
(نوٹ) ” مَنْ “ کو مبتدا ٔقراردے کر ” فَاُمَتِّعُــــہٗ ‘ ‘ کو خبر بنانا بھی جائز ہے ‘ کیونکہ ” مَنْ “ بمعنی ” اَ لَّذِیْ “ ہے اس لئے ” اَ لَّذِیْ “ کی خبر پر ” فائ “ لگانا درست ہے ‘ کیونکہ ” اَ لَّذِیْ “ اسم موصول متضمن معنی شرط بھی ہے ‘ اس لئے اس کی خبر پر فاء لگانا درست ہے ۔ علاوہ ازیں ” من “ کو شرطیہ قرار دے کر ” فَاُمَتِّعُـــــہٗ “ کو اس کا جواب قرار دینا بھی درست ہے۔ ” قَلِیْــــلًا “ صفت ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے جو ” مَتَاعًا “ ہوسکتا ہے۔ یہ مرکب توصیفی ” اُمَتِّعُ “ کا مفعول ثانی ہے جبکہ اس سے متصل ” ہٗ “ کی ضمیر اس کا مفعول اوّل ہے جو ” مَنْ کَفَرَ “ کے لئے ہے۔ ” اَضْطَرُّہٗ “ کی ضمیر مفعولی بھی ” مَنْ کَفَرَ “ کے لئے ہے۔
نوٹ (1) البقرۃ کی آیت 124 میں حضرت ابراہیمنے اپنی نسل میں امامت کے لئے سوال کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ یہ نافرمانوں کو نہیں ملے گی۔ اس کا لحاظ کرتے ہوئے اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف مؤمنوں کے لئے رزق کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے تصحیح فرما دی کہ امامت اور چیز ہے ‘ رزق کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ اس لئے رزق مؤمن ‘ کافر سب کو دیا جائے گا۔
Ayah 2:127( وَاِذْ : اور جب ) ( یَرْفَعُ : بلند کر رہے تھے) ( اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) ) (الْقَوَاعِدَ : بنیادوں کو ) ( مِنَ الْبَیْتِ : اس گھر کی ) (وَاِسْمٰعِیْلُ : اور اسماعیل (علیہ السلام) ) (رَبَّـنَا : (تو وہ دونوں کہتے تھے) اے ہمارے ربّ ) (تَقَبَّلْ : تو قبول فرما) (مِنَّا : ہم سے ) ( اِنَّکَ اَنْتَ : بیشک تو ہی) (السَّمِیْعُ : سننے والا) (الْعَلِیْمُ : جاننے والا ہے)
ق ع د
قَعَدَ (ن) قُعُوْدًا : بیٹھنا۔ { وَقَعَدَ الَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَــہٗ ط } (التوبۃ :90) ” اور بیٹھے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ بولا اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے “۔
اُقْعُدْ (فعل امر) : تو بیٹھ۔ { وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ ۔ } (التوبۃ) ” اور کہا گیا تم لوگ بیٹھو ‘ بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ “
قَاعِدٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ بیٹھنے والا۔ { فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ ۔ } (المائدۃ) ” پس جائیں آپ (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کا ربّ ‘ تو دونوں قتال کریں ‘ بیشک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ “
قُعُوْدٌ : یہ مصدر بھی ہے اور قَاعِدٌ کی جمع مکسر بھی ہے۔ یعنی اس کا معنی ” بیٹھنا “ بھی ہے اور ” بیٹھنے والے “ بھی ہے۔ { اِنَّــکُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ۔ } (التوبۃ) ” بیشک تم لوگ راضی ہوئے بیٹھنے پر پہلی مرتبہ ‘ پس تم لوگ بیٹھو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ۔ “ { اِذْ ھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ ۔ } (البروج) ” جب وہ لوگ اس پر (یعنی آگ پر) بیٹھنے والے ہیں۔ “
قَاعِدَۃٌ ج قَوَاعِدُ : یہ قَاعِدٌ کا مؤنث ہے۔ بیٹھنے والی۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً : (1) عمر رسیدہ خاتون۔ (2) قاعدہ کلیہ ‘ اصول۔ (3) بنیاد۔ { وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا } (النور :60) ” اور عمر رسیدہ خواتین عورتوں میں سے جو توقع نہیں کرتیں نکاح کی۔ “
قَعِیْدٌ : یہ واحد ‘ جمع ‘ مذکر ‘ مؤنث ‘ سب کے لئے آتا ہے۔ فعیل کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ ہمیشہ بیٹھنے والا۔ محافظ۔ نگران۔ { اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ ۔ } (ق) ” جب لیا دو لینے والوں نے دائیں سے اور بائیں سے ‘ وہ نگران ہیں (یعنی کراماً کاتبین فرشتے) ۔ “
مَقْعَدٌ ج مَقَاعِدُ : مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے۔ بیٹھنے کی جگہ۔ { فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ } (التوبۃ :81) ” خوش ہوئے پیچھے کئے گئے لوگ اپنے بیٹھنے کی جگہ سے۔ “{ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِط } (آل عمران :121) ” آپ ﷺ بٹھاتے تھے مؤمنوں کو بیٹھنے کی جگہوں پر (یعنی مورچوں پر) قتال کے لئے۔ “
ترکیب : ” اِبْرٰھٖمُ “ اور ” اِسْمٰعِیْلُ “ کی رفع بتارہی ہے کہ یہ دونوں ” یَرْفَعُ “ کے فاعل ہیں ‘” اَلْقَوَاعِدَ “ مفعول ہے اور ” مِنَ الْبَیْتِ “ ” اَلْقَوَاعِدَ “ سے حال ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے : ” وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ کَائِنَۃً مِنَ الْبَیْتِ “۔ ” رَبَّــنَا “ میں ” رَبَّ “ کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے حرف نداء ” یا “ محذوف ہے۔ اور اس سے پہلے ” یَـقُوْلَانِ “ بھی محذوف ہے۔ ان کا اسم ضمیر ” کَ “ ہے جبکہ ” اَنْتَ “ ضمیر فاصل ہے کیونکہ خبر معرف باللام ہے۔
Ayah 2:128(رَبَّــنَا : اے ہمارے ربّ ) (وَاجْعَلْنَا : اور تو بنا دے ہم دونوں کو) (مُسْلِمَیْنِ : فرماں بردار) (لَکَ : اپنا) (وَ : اور (تو بنا دے) مِنْ ذُرِّیَّتِنَا : ہماری نسل سے) (اُمَّــۃً مُّسْلِمَۃً : ایک فرماں بردار امت) (لَّکَ : اپنی) (وَ : اور) (اَرِ : تو سمجھا دے ) (نَا : ہم کو) (مَنَاسِکَنَا : ہماری بندگی کے طریقے) (وَتُبْ عَلَیْنَا : اور تو توبہ قبول فرما ہماری) ( اِنَّکَ : بیشک تو ) (اَنْتَ التَّوَّابُ : ہی تو بار بار توبہ قبول کرنے والا) (الرَّحِیْمُ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے )
ا م م
اَمَّ (ن) اِمَامَۃً وَاَمًّا وَاِمَامًا ۔ الْقَوْمَ وَبِالْقَوْمِ : امام بننا۔
اُمَّـــــۃٌ : امت ‘ جماعت ‘ مدت ‘ طریقہ ‘ دین۔ ہر وہ جماعت جس کے ارکان میں کسی قسم کا کوئی رابطۂ اشتراک موجود ہو اسے امت کہا جاتا ہے ‘ خواہ یہ اتحاد مذہبی وحدت کی بنا پر ہو یا جغرافیائی اور عصری وحدت کی وجہ سے ‘ اور خواہ اس رابطہ میں امت کے اپنے اختیار کو دخل ہو یا نہ ہو۔ اخفش نے تصریح کی ہے کہ امت باعتبار لفظ کے واحد ہے اور باعتبار معنی کے جمع۔ نیز حیوان کی ہر جنس ایک امت ہے۔ (ملاحظہ ہو عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ‘ 5:198‘ باب قول النبی ﷺ لا نکتب ولا نحسب) ابن درستویہ کا بیان ہے کہ جہاں بھی امت کے معنی مدت کے ہوں گے وہاں اس کا مضاف محذوف ہوگا اور مضاف الیہ مضاف کے قائم مقام سمجھا جائے گا۔ (ملاحظہ ہو فتح القدیرللشوکانی ‘ 3:29) ۔ اس لحاظ سے { وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِلٰی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ } اور { وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ } میں لفظ ” زَمن “ یا ” حِین “ محذوف ہے۔ گویا اصل میں یوں تھا : اِلٰی زَمَنِ اُمَّۃٍ مَعْدُوْدَۃٍ اور بَعْدَ حِیْنِ اُمَّۃٍ ۔ زَمن اور حین کو حذف کر کے مضاف الیہ یعنی لفظ امت کو اس کا قائم مقام سمجھا گیا۔
امت کے مجازی معنی طریقہ اور دین کے بھی آتے ہیں ۔ عرب بولتے ہیں : فُلَانٌ لَا اُمَّۃَ لَــہٗ ۔ یعنی فلاں کا کوئی دین اور طریقہ نہیں۔ (عمدۃ القاری ‘ 5:198)
ن س ک
نَسَکَ (ن) نَسْکًا : درویش بننا۔ بندگی کرنا۔ قربانی کرنا۔
نُسُکٌ (اسم الفعل) : قربانی ۔{ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ } (الانعام) ” بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا عرصۂ حیات اور عرصۂ موت اللہ کے لئے ہے جو تمام عالموں کا رب ہے۔ “
نَاسِکٌ (اسم الفاعل) : بندگی کرنے والا ۔ { لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ } (الحج :67) ” ہر ایک امت کے لئے ہم نے بنایا ایک بندگی کا طریقہ ‘ وہ لوگ بندگی کرنے والے ہیں اس پر۔ “
مَنْسَکٌ ج مَنَاسِکُ : مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے۔ بندگی کرنے کی جگہ۔ استعارۃً بندگی کے طریقہ کے لئے آتا ہے۔ لفظ ” مَنْسَکٌ“ کے لئے متذکرہ بالا آیت (الحج :67) دیکھیں۔ ” مَنَاسِکُ “ کا لفظ آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔
ترکیب : ” وَاجْعَلْ “ کا مفعول اوّل ” نَا “ کی ضمیر ہے اور ” مُسْلِمَیْنِ “ مفعول ثانی ہے۔ ” وَ “ عطف ہے ” نَا “ ضمیر متکلم پر ” اجْعَلْ “ کے تحت ہے۔ ” مِنْ ذُرِّیَّتِنَا “ مفعول ثانی اور ” اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً “ مفعول اوّل ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ” اُمَّۃً “ مفعول اوّل ہے ” مِنْ ذُرِّیَّتِنَا “ ” اُمَّۃً “ کی صفت ہے جو مقدم ہونے کی بنا پر حال ہے اور ” مُسْلِمَۃً “ مفعول ثانی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ” مِنْ ذُرِّیَّتِنَا “ اس کا مفعول اوّل اور مرکب توصیفی ” اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً “ مفعول ثانی ہے۔ فعل امر ” اَرِ “ کا مفعول اوّل ” نَا “ کی ضمیر ہے اور مرکب اضافی ” مَنَاسِکَنَا “ مفعول ثانی ہے۔ اسی لئے ” مَنَاسِکَ “ منصوب آیا ہے۔
Ayah 2:129(رَبَّــنَا : اے ہمارے ربّ ) (وَابْعَثْ : اور تو بھیج) (فِیْھِمْ : ان میں ) (رَسُوْلًا : ایک ایسا رسول) (مِّنْھُمْ : ان ) (میں سے یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ : جو پڑھ کر سنائے ان کو) (اٰیٰتِکَ : تیری آیات) (وَیُعَلِّمُھُمُ : اور جو تعلیم دے ان کو) (الْکِتٰبَ : کتاب کی) (وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کی) (وَیُزَکِّیْھِمْ : اور جو تزکیہ کرے ان کا) ( اِنَّکَ : بیشک تو
اَنْتَ الْعَزِیْزُ : ہی تو بالادست ) (الْحَکِیْمُ : حکمت والا ہے)
ع ز ز
عَزَّ (ض) عِزًّا : مغلوبیت سے محفوظ ہونا ‘ سخت ہونا۔
عَزَّ (ن) عَزًّا : کسی پر غالب آنا ۔ { وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۔ } (صٓ) ” اور وہ غالب آیا مجھ پر بات میں۔ “
عِزٌّ: مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے۔ مغلوبیت سے حفاظت ‘ پناہ ‘ مدد ۔ { وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا ۔ } (مریم) ” اور ان لوگوں نے بنایا اللہ کے علاوہ ایک الٰہ تاکہ وہ ہو ان کے لئے ایک پناہ۔ “
عِزَّۃٌ (اسم ذات) : (1) سختی ‘ بےجا خود داری ‘ گھمنڈ (2) غلبہ ‘ عزت۔ { بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ۔ } (صٓ) ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ گھمنڈ اور مخالفت کرنے میں ہیں۔ “ { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا ط } (فاطر :10) ” جو چاہا کرتا ہے عزت کو ‘ تو عزت کُل کی کُل اللہ کے لئے ہی ہے “۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو عزت اللہ تعالیٰ سے حاصل نہ ہو وہ سراسر ذلت ہے (مفردات) ۔
عَزِیْزٌ ج اَعِزَّۃٌ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ (1) سخت ‘ بھاری ‘ گراں (2) غالب ‘ بالادست (جس کے اختیارات پر کوئی تحدیدات (limitations) نہ ہوں) { لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ }(التوبۃ :128) ” آچکا ہے تمہارے پاس ایک رسول ﷺ تم میں سے ‘ گراں ہے اس پر وہ جس سے تم لوگ مشکل میں پڑو۔ “{ اَذِلَّــۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ز } (المائدۃ :54) ” نرم ہیں مؤمنوں پر ‘ سخت ہیں کافروں پر۔ “ { اِنَّہٗ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ } (العنکبوت) ” بیشک وہی بالادست حکمت والا ہے۔ “
اَعَزُّ : افعل التفضیل ہے۔ زیادہ سخت ‘ زیادہ عزت والا۔ { لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّط } (المنافقون :8) ” لازماً نکالے گا زیادہ عزت والا اس میں سے زیادہ ذلت والے کو۔ “
عُزّٰی : فُعْلٰی کے وزن پر افعل التفضیل کا مؤنث ہے۔ زیادہ سخت۔ زیادہ عزت والی۔ ” اَلْعُزّٰی “ ایک بت کا نام۔ { اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی }(النجم) ” کیا تم نے دیکھا لات اور عزیٰ کو (بتوں کے نام) ؟“
اَعَزَّ (افعال) اِعْزَازًا : کسی کو عزت دینا۔ { وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط } (آل عمران :26) ” اور تو عزت دیتا ہے اس کو جس کو تو چاہتا ہے اور تو ذلت دیتا ہے اس کو جس کو تو چاہتا ہے ‘ تیرے ہاتھ میں کُل خیر ہے۔ “
عَزَّزَ (تفعیل) تَعْزِیْزًا : کسی کو سخت کرنا ‘ قوت دینا۔ { اِذْ اَرْسَلْنَا اِلَیْھِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْھُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ } (یٰسٓ:14) ” جب ہم نے بھیجا ان کی طرف دو کو تو ان لوگوں نے جھٹلایا دونوں کو ‘ تو ہم نے تقویت دی تیسرے سے۔ “
ترکیب : فعل امر ” اِبْعَثْ “ کا مفعول ” رَسُوْلًا “ ہے۔ فِیْھِمْ میں ھُمْ کی ضمیر کا مرجع اُمَّۃ ہے۔ پھر امت میں اگرچہ تاء تانیث لگی ہے ‘ لیکن چونکہ معنی مذکر ہے اس لئے ضمیر مذکر ” ھُمْ “ کی لوٹائی گئی۔ رَسُوْلاً نکرہ موصوفہ ہے ‘ صفت ” مِنْھُمْ “ ہے۔ تقدیر عبارت ” یَتْلُوْ رَسُوْلًاکَائِنًا مِّنْھُمْ ۔ عَلَیْھِمْ “ سے لے کر ” یُزَکِّیْھِمْ “ تک یا تو صفت ہے یا حال ہے۔ ” یَتْلُوْا “ ” یُعَلِّمُ “ اور ” یُزَکِّیْ “ تینوں افعال مضارع ہیں ‘ لیکن یہ دعا میں آئے ہیں ‘ اس لئے ترجمہ میں اس کا لحاظ کرنا ہوگا۔
نوٹ (1) : آج کے دور میں ہمارے لئے اس آیت میں کیا راہنمائی ہے ‘ اس کو سمجھ لیں۔” یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ “ میں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا شامل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جو احکام ‘ ہدایات اور ترغیبات دی ہیں ‘ ان سے اللہ تعالیٰ کی حقیقی مرضی اور منشا کیا ہے ‘ حضور ﷺ اس کی تعلیم دے گئے ہیں ‘ اس لئے تعلیم کتاب میں ہمارے لئے احادیث کو بھی سمجھ کر پڑھنا شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احکام میں کیا حکمت مضمر ہے ‘ یعنی ان احکام کے ” کیوں اور کیسے “ کی وضاحت بھی حضور ﷺ اور صحابہ کرام کر گئے ہیں ‘ جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ان احکام پر ہمارے عمل کرنے یا نہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کمی ہوتی ہے ‘ بلکہ یہ احکام صرف اور صرف انسان کی عارضی اور دائمی ‘ دونوں زندگیوں کی بھلائی کے لئے دیئے گئے ہیں۔ یہ حقیقت اگر ذہن نشین ہوجائے تو پھر ان احکام پر عمل کرنا ہلکا اور آسان ہوجاتا ہے۔ اس لئے تعلیم حکمت میں ہمارے لئے سیرت اور آثار صحابہ کا مطالعہ شامل ہے۔
نوٹ (2) : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دعا کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ آگے چل کر تین مقامات (البقرۃ :151 ۔ آل عمران :164 ۔ الجمعۃ :2) پر اس دعا کی قبولیت کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہی الفاظ کو دہرایا ہے ‘ البتہ ان کی ترتیب میں ایک تبدیلی کی ہے جو غور طلب ہے۔
حضرت ابراہیم کی دعا میں ترتیب یہ ہے : (1) تلاوتِ آیات ‘ (2) تعلیم کتاب ‘ (3) تعلیم حکمت اور (4) تزکیہ۔ دعا کی قبولیت کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ ترتیب رکھی ہے : (1) تلاوتِ آیات ‘ (2) تزکیہ ‘ (3) تعلیم کتاب اور (4) تعلیم حکمت۔ مذکورہ تبدیلی پر غور کرنے سے جو بات سامنے آتی ہے اسے سمجھ لیں۔
ایسے عقائد و نظریات جو اس کائنات کی صداقتوں پر مبنی نہ ہوں ‘ انسان کے اندرحُبِّ دنیا اور پھر حُبِّ عاجلہ کو جنم دیتے ہیں ‘ جس کے نتیجے میں پھر انسان اپنی فطرت کی پکار کا گلا گھونٹنا شروع کردیتا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے انسان کے سامنے وہ عقائد و نظریات آتے ہیں جو اس کائنات کی صداقتوں پر مبنی ہیں۔ ان سے انسان کی فطرت کی پکار کو تقویت حاصل ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کے اندر تقویٰ کا جذبہ ابھرتا ہے اور پروان چڑھتا ہے۔ یہ اصل تزکیہ ہے اور اس کا ذریعہ قرآن مجید ہے۔
تقویٰ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشا معلوم کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔ پھر زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کے لئے مطلوبہ قوت عمل بھی تقویٰ کا جذبہ ہی فراہم کرتا ہے۔ اس طرح انسان اللہ کے احکام پر عمل کرنا شروع کردیتا ہے ‘ خواہ ان کی حکمت اس کی سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ اس لئے تعلیم کتاب کو تزکیہ کے بعد اور تعلیم حکمت سے پہلے رکھا گیا ہے۔
تعلیم حکمت ایک اضافی سہولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے۔ جیسے آخرت پر ایمان اور یقین ہوتے ہوئے حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے اطمینانِ قلب کی درخواست کی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا ۔ (دیکھئے البقرۃ :260) اس حوالے سے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اپنے اعمال کی جواب دہی اور نتائج کے لئے انسان پر حجت اس کی عقل نہیں بلکہ اس کی فطرت ہے ‘ جس کے ساتھ اسے اس امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے۔ فطرت کے ساتھ اسے عقل بھی دی جاتی ہے اور قرآن مجید عقل کی نفی نہیں کرتا ‘ البتہ وہ ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ اور قرآن نے عقل کو فطرت کے ماتحت رکھا ہے۔
نوٹ (3) : ایک رائے یہ ہے کہ اس آیت میں حضور ﷺ کے مقصد بعثت کا بیان ہے۔ لیکن میرا ذہن اس رائے کو ترجیح دیتا ہے کہ اس آیت میں آپ ﷺ کے مقصد بعثت کو پورا کرنے کا طریقۂ کار (Modus Operendi) کا بیان ہے ‘ جبکہ آپ ﷺ کے مقصد بعثت کا بیان التوبۃ :33‘ الفتح :28‘ اور الصف :9 میں آیا ہے۔
Ayah 2:130(وَمَنْ : اور کون ) (یَّرْغَبُ عَنْ : اعراض کرتا ہے) ( مِلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے) (اِلاَّ مَنْ : سوائے اس کے جو ) (سَفِہَ : بیوقوف ہوا) (نَفْسَہٗ : بلحاظ اپنے نفس کے ) (وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰــہُ : اور ہم نے چنا ہے اس (علیہ السلام) کو) (فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ) (وَاِنَّــہٗ : اور یقینا وہ) (فِی الْاٰخِرَۃِ : آخرت میں) (لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ : صالحین میں سے ہے)
ر غ ب
رَغِبَ (س) رَغَبًا : (1) خواہش کرنا ‘ (2) التجا کرنا ‘ مانگنا۔ اس معنی میں عموماً ” اِلٰی “ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے ۔ (3) اعراض کرنا ‘ مُنہ موڑنا۔ اس معنی میں عموماً ” عَنْ “ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ { وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } (النسائ :127) ” اور تم لوگ چاہتے ہو کہ نکاح کرو ان عورتوں سے۔ “
رَاغِبٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ چاہنے والا ‘ التجا کرنے والا ‘ اعراض کرنے والا۔ { اِنَّا اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ۔ } (التوبۃ) ” بیشک ہم اللہ سے التجا کرنے والے ہیں۔ “ { اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِھَتِیْ یٰــاِبْرٰھِیْمُ ج } (مریم :46) ” کیا اعراض کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم ؟ “
اِرْغَبْ (فعل امر) : تو مانگ ‘ التجا کر۔ { فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ } (الانشراح) ” پس جب بھی فارغ ہو تو محنت کر اور اپنے رب سے مانگ۔ “
صو
صَفَا (ن) صَفْوًا : کسی چیز کا ہر طرح کی آمیزش سے پاک ہونا ‘ صاف ہونا۔
صَفْوَانٌ : چکنا پتھر (جو مٹی وغیرہ کی آمیزش سے پاک ہو) ۔ { فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ} (البقرۃ :264) ” تو اس کی مثال ایک چکنے پتھر کی مانند ہے جس پر کچھ مٹی ہو۔ “
اَلصَّفَا : خانہ کعبہ کے پاس ایک پہاڑی کا نام (اس پہاڑی کا پتھر بالکل صاف اور چکنا ہے۔ { اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ ج } (البقرۃ :158) ” بیشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ “
اَصْفٰی (افعال) اِصْفَائً : کسی کو آمیزش سے پاک کرنا ‘ یعنی دوسروں سے الگ کر کے کسی کو کسی چیز یا کسی کام کے لئے مخصوص کرنا۔ { اَفَاَصْفٰـٹکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ }
(بنی اسرائیل :40) ” تو کیا مخصوص کیا تم لوگوں کو تمہارے رب نے بیٹوں کے لئے۔ “
صَفّٰی (تفعیل) تَصْفِیَۃً : کسی چیز کو آمیزش سے پاک کرنا ‘ صاف کرنا۔
مُصَفًّی (اسم المفعول ) : صاف کیا ہوا ۔ { وَاَنْھٰــرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ط } (محمد :15) ” اور نہریں ہیں صاف کی ہوئی شہد کی۔ “
اِصْطَفٰی (افتعال) اِصْطِفَائً : کسی کو اپنے لئے خاص کرنا ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ دو معانی میں آتا ہے : (1) چن لینا۔ (2) منتخب کرنا۔ (3) کسی کو دوسروں پر ترجیح دینا ‘ پسند کرنا۔ { اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِط } (الحج :75) ” اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے کچھ رسول اور انسانوں میں سے۔ “ { اَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” کیا اس نے ترجیح دی بیٹیوں کو بیٹوں پر ؟ “
مُصْطَفٰی (اسم المفعول) : چنا ہوا ‘ پسند کیا ہوا۔ { وَاِنَّھُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ۔ } (صٓ) ” اور بیشک وہ سب ہمارے پاس چنے ہوئے نیک لوگوں میں سے ہیں۔ “
ترکیب : ” یَرْغَبُ “ مرفوع آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ ” مَنْ “ شرطیہ نہیں بلکہ استفہامیہ ہے۔ ” مَنْ “ مبتدأ ہے اور ” یَرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ “ جملہ فعلیہ بن کر ” مَنْ “ کی خبر ہے۔ ” اِلاَّ مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ “ ” مَنْ “ مستثنیٰ ہونے کی بنا پر منصوب ہے یا ” یَرْغَبُ “ کی ضمیر سے بدل ہونے کی بنا پر حالت رفع میں ہے۔ ” مَنْ “ نکرہ موصوفہ ہے یا بمعنی ” اَلَّذِی “ ہے۔ ” نَفْسَہٗ “ سَفِہَ کا مفعول ہے ‘ کیونکہ ” سَفِہَ “ بمعنی ” جَھَلَ “ ہے۔ اور تقدیر عبارت یوں ہے : ” اِلاَّ مَنْ جَھَلَ خَلْقَ نَفْسِہٖ “ اس لئے ” نَفْسَہٗ “ تمیز نہیں ہے ‘ کیونکہ تمیز اسم نکرہ جبکہ یہ اسم معرفہ ہے۔ اگرچہ فراء نے اس کو تمیز ہی مانا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ” نَفْسَہٗ “ منصوب بنزع الخافض ہے اور عبارت یوں ہے : سَفِہَ فِیْ نَفْسِہٖ ۔ اور یہ اس صورت میں ہے کہ سَفِہَ کو متعدی بِنَفْسِہٖ نہ مانا جائے ۔ لیکن ثعلب اور مبرد نے اس کو متعدی بنفسہ ہی لکھا ہے۔ تو اس صورت میں نَفْسَہُ ‘ سَفِہَ کا مفعول بنے گا۔ ” اصْطَفَیْنٰــہُ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر ابراہیم کے لئے ہے۔
Ayah 2:131(اِذْ قَالَ : جب کہا ) (لَــہٗ : اس سے ) (رَبُّــہٗ : اس کے رب نے ) (اَسْلِمْ : تو فرمانبردار ہو) ( قَالَ : (تو) اس نے کہا) (اَسْلَمْتُ : میں فرماں بردار ہوا) (لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں کے رب کے لئے)
ترکیب : ” اِذْ “ یا تو ” اصْطَفَیْنٰــہُ “ کا ظرف ہے ‘ یا ” فِی الدُّنْیَا “ سے بدل ہے ‘ یا اس سے پہلے ” اُذْکُرْ “ فعل محذوف ہے۔ ” اِذْ قَالَ “ میں ” قَالَ “ کا فاعل ” رَبُّــــہٗ “ ہے۔ اس میں ” ہُ “ کی ضمیر اور ” لَــہٗ “ کی ضمیر ‘ دونوں حضرت ابراہیم کے لئے ہیں ‘ جن کا ذکر گزشتہ آیت میں آیا ہے۔ ” اَسْلِمْ “ کے بعد ” قَالَ “ کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے اور یہ بھی حضرت ابراہیمں کے لئے ہے۔ ” اَلْعٰلَمِیْنَ “ پر لام جنس ہے۔
نوٹ (1) : غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے ” اَسْلَمْتُ لَکَ “ نہیں کہا۔ شاید اس لئے کہ اس میں احسان رکھنے کا پہلو ہے ۔ جیسے آج کل کے ماتحت اپنے افسر کی فرمانبرداری کر کے اس پر احسان دھرتے ہیں۔ اس لئے ” لَکَ “ کے بجائے ” لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ “ کہہ کر واضح کردیا کہ انہوں نے فرمانبرداری اپنی ضرورت اور اپنے مفاد میں قبول کی ہے ‘ کسی پر احسان نہیں کیا ہے۔
Ayah 2:132( وَوَصّٰی : اور تاکید کی ( ( بِھَآ : اس کی ( ( اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ( ( بَنِیْہِ : اپنے اپنے بیٹوں کو ( ( وَیَعْقُوْبُ : اور یعقوب (علیہ السلام) نے ( (یٰـبَنِیَّ : اے میرے بیٹو ! ( ( اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ نے ( (اصْطَفٰی : چنا ( ( لَــکُمُ : تم لوگوں کے لئے ( (الدِّیْنَ : اس دین کو ( (فَـلَا تَمُوْتُنَّ : تو تم لوگ ہرگز نہ مرنا ( (اِلاَّ وَ : مگر اس حال میں کہ ( (اَنْتُمْ : تم لوگ ( ( مُّسْلِمُوْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ہو (
و ص ی
وَصٰی (ض) وَصْیًا : کسی چیزکا کسی چیز سے پیوستہ ہونا ‘ جیسے گھاس ایک دوسرے میں گتھی ہوتی ہے۔ کسی کام کے لئے کسی بات کا پیوستہ ہونا یعنی تاکید ہونا۔
وَصِیَّۃٌ : فَعِیْلَۃٌ کا وزن ہے۔ تاکید ‘ وصیت۔ { فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَآ اَوْ دَیْنٍ } (النسائ :11) ” تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے وصیت کے بعد ‘ اس نے وصیت کی جس کی ‘ یا قرض کے بعد۔ “
اَوْصٰی (افعال) اِیْصَائً : کسی بات یا کام کی تاکید کرنا ‘ وصیت کرنا۔ { وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰــوۃِ وَالزَّکٰــوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا ۔ } (مریم) ” اور اس نے تاکید کی مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کی جب تک میں ہوں زندہ۔ “
مُوْصٍ (اسم الفاعل) : تاکید کرنے والا ‘ وصیت کرنے والا۔ { فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا } (البقرۃ :182) ” تو جو خوف کرے وصیت کرنے والے سے طرفداری کا یا گناہ کا۔ “
وَصّٰی (تفعیل) تَوْصِیَۃً : تاکید کرنا ‘ وصیت کرنا ۔ { وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ } (لقمان :14) ” اور ہم نے تاکید کی انسان کو اس کے والدین کے لئے۔ “
تَوَاصٰی (تفاعل) تَوَاصِیًا : باہم ایک دوسرے کو تاکید کرنا ۔ { وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ } (العصر :3) ” اور ان لوگوں نے باہم تاکید کی حق کی اور باہم تاکید کی صبر کی۔ “
ترکیب : ” اِبْرٰھٖمُ “ اور ” یَعْقُوْبُ “ کی رفع بتارہی ہے کہ یہ دونوں ” وَصّٰی “ کے فاعل ہیں۔ ” بِھَا “ کی ضمیر آیت 130 کے لفظ ” مِلَّۃِ “ کے لئے ہے جبکہ ” بَنِیْہِ “ مفعول ہے۔ ” اَلدِّیْنَ “ پر لام تعریف ہے۔ ” وَاَنْتُمْ “ کا وائو حالیہ ہے۔
نوٹ (1) : لفظ ” بَنِیْہِ “ کو سمجھ لیں۔ ” اِبْنٌ“ کی جمع حالت رفع میں ” بَنُوْنَ “ اور نصب و جر میں ” بَنِیْنَ “ آتی ہے۔ مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں یہ ” بَنِیْنَ “ تھا۔ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو ” بَنِیْہِ “ استعمال ہوا۔ یہ بھی نوٹ کریں کہ حالانکہ یہ دو فاعلوں کا مفعول ہے لیکن پھر بھی اس کے مضاف الیہ کے طور پر تثنیہ کی ضمیر ” ھُمَا “ کے بجائے واحد کی ضمیر ” ہُ “ آئی ہے۔ اس سے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے اور حضرت یعقوبنے اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی۔ ترجمہ میں اس بات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے اس جانب بھی اشارہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے تین یا تین سے زیادہ بیٹے تھے۔