2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہم کلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں عیسیٰ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روح پاک سے اس کی مدد کی اگر اللہ چاہتا، تو ممکن نہ تھا کہ اِن رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے مگر (اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ہاں، اللہ چاہتا، تو وہ ہرگز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

[تِلْکَ الرُّسُلُ : یہ رسول ] [فَضَّلْنَا : ہم نے فضیلت دی ہے ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [عَلٰی بَعْضٍ : بعض پر ] [مِنْہُمْ مَّنْ : ان میں وہ بھی ہیں جن سے ] [کَلَّمَ : کلام کیا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَرَفَعَ : اور اس نے بلند کیا ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [دَرَجٰتٍ : درجات ہوتے ہوئے ] [وَاٰتَیْنَا : اور ہم نے دیا ] [عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ : عیسیٰ ابن مریم کو الْبَیِّنٰتِ : واضح (معجزے) ] [وَاَیَّدْنٰـہُ : اور ہم نے تقویت دی ان (علیہ السلام) کو ] [بِرُوْحِ الْقُدُسِ : پاک روح سے ] [وَلَوْ : اور اگر ] [شَآئَ : چاہتا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [مَا اقْتَتَلَ : تو آپس میں نہ لڑتے ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو (تھے) ] [مِنْم بَعْدِہِمْ : ان (رسولوں) کے بعد ] [مِّنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [جَآئَ تْہُمُ : آئیں ان کے پاس ] [الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں) ] [وَلٰـکِنِ : اور لیکن ] [اخْتَلَفُوْا : ان لوگوں نے اختلاف کیا ] [فَمِنْہُمْ مَّنْ : تو ان میں وہ بھی ہیں جو ] [اٰمَنَ : ایمان لائے ] [وَمِنْہُمْ مَّنْ : اور ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے ] [کَفَرَ : کفر کیا ] [وَلَوْ : اور اگر ] [شَآئَ : چاہتا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [مَا اقْتَتَلُوْا : تو وہ لوگ آپس میں نہ لڑتے ] [وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ : اور لیکن اللہ ] [یَفْعَلُ : کرتا ہے ] [مَا : وہ جو ] [یُرِیْدُ : وہ چاہتا ہے ] ترکیب :” تِلْکَ الرُّسُلُ “ مرکب اشاری ہے اور مبتدأ ہے۔ آگے پورا جملہ ” فَضَّلْنَا “ سے ” بَعْضٍ “ تک اس کی خبر ہے۔ ” کَلَّمَ “ کا فاعل ” اللّٰہُ “ ہے اور ” مِنْھُمْ مَّنْ “ اس کا مفعول ہے۔” رَفَعَ “ کی ضمیر فاعلی اللہ کے لیے ہے اور ” بَعْضَھُمْ “ مفعول ہے ‘ جبکہ ” دَرَجٰتٍ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اس کو تمیز ماننے کی گنجائش نہیں ہے ‘ کیونکہ تمیز عموماً واحد نکرہ آتی ہے۔ ” اٰتَیْنَا “ کا مفعول اوّل ” عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ “ ہے اس لیے ” ابْنَ “ منصوب ہے (دیکھیں البقرۃ کی آیت 87‘ نوٹ 1) جبکہ ” اَلْـبَیِّنٰتِ “ مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ صفت ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے۔ ” اَیَّدْنٰـہُ “ کی ضمیر مفعولی ” عِیْسٰی “ کے لیے ہے۔ ” بِرُوْحِ الْقُدُسِ “ میں ” اَلْقُدُسِ “ پر لام تعریف ہے جو کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے لیے ہے۔ ” مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ “ کے بعد ” کَانُوْا “ محذوف ہے۔ ” مِنْ بَعْدِھِمْ “ میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ” اَلرُّسُلُ “ کے لیے ہے۔ نوٹ (1) : ” آسان عربی گرامر “ میں آپ نے پڑھا تھا کہ عموماً غیر عاقل کی جمع مکسر کی صفت ‘ خبر ‘ اسم اشارہ اور ضمیر واحد مؤنث آتی ہے۔ اسی کتاب میں آپ کو تاکید کی گئی تھی کہ جب بھی کوئی قاعدہ پڑھیں تو ذہن میں اس کے استثناء کے لیے ایک کھڑکی ہمیشہ کھلی رکھیں۔ اب نوٹ کریں کہ گزشتہ آیت میں لفظ ” اٰیٰتٌ“ غیر عاقل کی جمع ہے ‘ لیکن مکسر نہیں بلکہ سالم ہے۔ پھر بھی اس کے لیے اسم اشارہ ” تِلْکَ “ اور ضمیر ” ھَا “ واحد مؤنث آئی ہے۔ اسی طرح آیت زیر مطالعہ میں لفظ ” اَلرُّسُلُ “ جمع مکسر ہے ‘ لیکن غیر عاقل کی نہیں بلکہ عاقل کی جمع ہے۔ پھر بھی اس کے لیے اسم اشارہ ” تِلْکَ “ واحد مؤنث آیا ہے ۔ اس حوالہ سے یہ اصول اب ذہن نشین کرلیں کہ استثناء سے کوئی قاعدہ ساقط نہیں ہوتا بلکہ ثابت ہوتا ہے۔ انگریزی کی معروف کہاوت کا بھی یہی مطلب ہے کہ exception proves the rule (استثناء قاعدے کو ثابت کرتا ہے) ۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم اصل میں وہی ہیں، جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں

[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [اَنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرو ] [مِمَّا : اس میں سے جو ] [رَزَقْنٰـکُمْ : ہم نے دیا تم کو ] [مِّنْ قَـبْلِ : اس سے پہلے ] [اَنْ : کہ ] [یَّـاْتِیَ : آئے ] [یَوْمٌ : وہ دن ] [لاَّ بَیْعٌ : کوئی سودا نہیں ہے فِیْہِ : جس میں ] [وَلاَ خُلَّـۃٌ : اور نہ کوئی دوستی ہے ] [وَّلاَ شَفَاعَۃٌ : اور نہ ہی کوئی شفاعت ہے ] [وَالْکٰفِرُوْنَ : اور انکار کرنے والے ] [ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ : ہی ظالم ہیں ] ب ی ع بَاعَ (ض) بَیْعًا : فروخت کرنا ‘ سودا کرنا۔ بَیْع ٌ (اسم ذات) : سودا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ بِیَعٌ (اسم ذات) : عبادت خانہ ‘ معبد۔ { لَھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ } (الحج :40) ” تو منہدم کیے جاتے گرجے اور عبادت خانے اور نمازیں اور مسجدیں۔ “ بَایَعَ (مفاعلہ) ‘ مُبَایَعَۃً : (1) کسی سودے کا معاہدہ کرنا۔ (2) بیعت کرنا۔ { فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ ط } (التوبۃ :111) ” پس تم لوگ خوشی منائو اپنے اس سودے پر تم نے معاہدہ کیا جس کا۔ “ { لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ } (الفتح :18) ” بیشک اللہ راضی ہوا ہے مؤمنوں سے جب وہ لوگ آپ ﷺ ‘ کی بیعت کرتے تھے اس درخت کے نیچے۔ “ تَـبَایَعَ (تفاعل) تَـبَایُعًا : باہم خریدو فروخت کرنا۔ { وَاَشْھِدُوْآ اِذَا تَـبَایَعْتُمْص } (البقرۃ :282) ” اور تم لوگ گواہ بنائو جب باہم خریدو فروخت کرو۔ “ خ ل ل خَلَّ (ن) خَلاًّ : کسی چیز میں سوراخ کرنا۔ خَلٌّ ج خِلَالٌ (اسم ذات) : سوراخ ‘ کسی چیز کے دو کناروں کا درمیانی فاصلہ ‘ دراڑ۔ { اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَھَا اَنْھٰرًا } (النمل :61) ” یا وہ جس نے بنایا زمین کو ٹھہرا ہوا اور بنایا اس کی دراڑوں کو نہریں۔ “ خُلَّۃٌ ج خِلَالٌ (اسم ذات) : ایک طرح کی میٹھی گھاس (یعنی مٹھاس سوراخ کر کے گھاس کے اندر چلی جاتی ہے) ۔ پھر استعارۃً دوستی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔ اور : { اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّ بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خِلٰلٌ ۔ } (ابراھیم) ” کہ آئے وہ دن کوئی سودا نہیں ہے جس میں اور نہ ہی یارانے۔ “ خَلِیْلٌ ج اَخِلَّائُ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت): قریبی دوست ‘ خاص دوست۔ { وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرٰھِیْمَ خَلِیْلًا ۔ } (النسائ) ” اور بنایا اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دوست۔ “ { اَلْاَخِلَّائُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ ۔ } (الزُّخرف) ” سارے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ “ ترکیب : فعل امر ” اَنْفِقُوْا “ کا فاعل اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” مِمَّا رَزَقْنٰــکُمْ “ اس کا مفعول ہے۔ ” یَاْتِیَ “ کا فاعل ” یَوْمٌ“ ہے اور نکرہ مخصوصہ ہے۔” بَیْعٌ“ ” خُلَّۃٌ“ اور ” شَفَاعَۃٌ“ مبتدأ نکرہ ہیں ‘ کیونکہ قاعدہ بیان ہو رہا ہے اور ان کی خبریں محذوف ہیں۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے

[اَللّٰہُ : اللہ ] [لَآ اِلٰــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ہُوَ : وہ ہے ] [اَلْحَیُّ : جو (حقیقتاً ) زندہ ہے ] [الْقَیُّوْمُ : جو (حقیقی) نگران و کفیل ہے ] [لاَ تَاْخُذُہٗ : نہیں پکڑتی اس کو ] [سِنَـۃٌ : کوئی اونگھ ] [وَّلاَ نَوْمٌ : اور نہ کوئی نیند ] [لَہٗ : اس کی ہی (ملکیت) ہے ] [مَا : وہ جو ہے ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ] [وَمَا : اور وہ جو ہے ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [مَنْ ذَا الَّذِیْ : کون ہے وہ جو ] [یَشْفَعُ : شفاعت کرے ] [عِنْدَہٗ : اس کے پاس ] [اِلاَّ : مگر ] [بِاِذْنِہٖ : اس کی اجازت سے ] [یَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ] [مَا : اس کو جو ] [بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ : ان کے آگے ہے ] [وَمَا : اور اس کو جو ] [خَلْفَہُمْ : ان کے پیچھے ہے ] [وَلاَ یُحِیْطُوْنَ : اور وہ احاطہ نہیں کرتے ] [بِشَیْئٍ : کسی چیز کا ] [مِّنْ عِلْمِہٖٓ : اس کے علم میں سے ] [اِلاَّ : مگر ] [بِمَا : اس کا جو ] [شَآئَ : وہ چاہے ] [وَسِعَ : کشادہ ہوا ] [کُرْسِیُّہُ : اس کا تخت حکومت ] [السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ] [وَالْاَرْضَ : اور زمین میں ] [وَلاَ یَئُوْدُہٗ : اور نہیں تھکاتا اس کو ] [حِفْظُہُمَا : ان دونوں کی حفاظت کرنا ] [وَہُوَ : اور وہ ] [الْعَلِیُّ : بالاتر ہے ] [الْعَظِیْمُ : عظیم ہے ] و س ن وَسِنَ (س) سِنَۃً : اُونگھ آنا۔ سِنَۃٌ (اسم ذات) : اُونگھ ‘ غفلت ‘ آیت زیر مطالعہ۔ ن و م نَامَ (ف) نَوْمًا : نیند کرنا ‘ سونا۔ نَوْمًا (اسم ذات) : نیند ‘ آیت زیر مطالعہ۔ نَائِمٌ (اسم الفاعل) : نیند کرنے والا ‘ سونے والا۔ { فَطَافَ عَلَیْھَا طَـآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ وَھُمْ نَــآئِمُوْنَ ۔ } (القلم) ” تو چکر لگایا ایک آفت نے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اس حال میں کہ وہ لوگ نیند کرنے والے تھے۔ “ مَنَامٌ (مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف) : نیند کرنے یا سونے کی جگہ یا وقت۔ { اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ } (الصّٰفّٰت :102) ” بیشک میں دیکھتا ہوں سونے کے وقت میں کہ میں تجھ کو ذبح کرتا ہوں۔ “ ک ر س (x) x : ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔ اَکْرَسَ (افعال) اِکْرَاسًا : کسی چیز کو تہہ در تہہ جمانا ‘ عمارت کی بنیاد کو ٹھونک ٹھونک کر پختہ کرنا۔ کُرْسِیٌّ : بیٹھنے یا جمنے کی جگہ ‘ کرسی ‘ تختِ حکومت ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ء و د آد َ (ن) اَوْدًا : گرانبار کرنا ‘ تھکانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ع ل و عَلَا (ن) عُلُوًّا : (1) بلند ہونا ‘ (2) کسی چیز پر چڑھنا ‘ چڑھائی کرنا ‘ غالب ہونا ‘ (3) سرکشی کرنا ‘ بغاوت کرنا۔ { اَلاَّ تَعْلُوْا عَلَیَّ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔ } (النمل) ” کہ تم لوگ بلند مت ہو مجھ سے اور تم لوگ آئو میرے پاس فرمانبردار ہوتے ہوئے۔ “{ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍط } (المؤمنون :91) ” اور ضرور چڑھائی کرتے ان کے بعض ‘ بعض پر۔ “ { اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ } (القصص :4) ” بیشک فرعون نے سرکشی کی زمین میں۔ “ عُلُوٌّ (اسم ذات بھی ہے) : بلندی ‘ بڑائی۔ { تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًاط } (القصص :83) ” یہ آخری گھر ‘ ہم نے بنایا اسے ان لوگوں کے لیے جو نہیں چاہتے بڑائی زمین میں اور نہ فساد۔ “ اَعْلٰی مؤنث عُلْیَا (اَفْعَلُ اور فُعْلٰی کے وزن پر اسم التفضیل) : زیادہ بلند ‘ سب سے بلند ‘ غالب۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو مطلب ہوتا ہے انتہائی بلند ‘ مطلق بلند۔ { لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی ۔ } (طٰہٰ ) ” تو مت ڈر ‘ بیشک تو غالب ہے۔ “ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی ۔ } (الاعلـٰی) ” تو تسبیح کر اپنے بلند رب کے نام کی۔ “ { وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَاط } (التوبۃ :40) ” اور اللہ کا فرمان ہی بلند ہے۔ “ عَالٍ (اسم الفاعل) : صفت کے طور پر بھی آتا ہے : بلند ہونے والا یعنی بلند۔ { فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۔ } (الحاقۃ) ” ایک بلند باغ میں۔ “{ عٰلِیَھُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ } (الدھر :21) ” چڑھنے والا ہے ان پر ایک باریک ریشم کا کپڑا۔ “{ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِج } (یونس :83) ” اور بیشک فرعون سرکشی کرنے والا ہے زمین میں۔ “ عَلِیٌّ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ اور ہر حال میں بلند ‘ بالاتر۔ آیت زیر مطالعہ۔ عِلِّیٌّ (اسم ذات) : بلندی۔ { اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ ۔ } (المطففین) ” یقینا نیکی کرنے والوں کی کتاب بلندیوں میں ہے۔ “ تَعَالٰی (تفاعل) تَعَالٍ : دوسروں سے بلند ہونا۔ { فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ } (الاعراف) ” توبلندہوا اللہ اس سے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں۔ “ تَعَالَ ج تَعَالَوْا (فعل امر) : تو بلندہو ‘ تو اٹھ ‘ پھر زیادہ تر ” تو آ “ کے معنی میں آتا ہے۔ { تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ } (آل عمران :64) ” تم لوگ آئو ایک ایسے کلمے کی طرف جو برابر ہے ہمارے اور تمہارے مابین۔ “ مُتَعَالٍ (اسم الفاعل) : صفت کے طور پر بھی آتا ہے : دوسروں سے بلند ہونے والا یعنی دوسروں سے بلند۔ { عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْـکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ ۔ } (الرعد) ” شھادہ (ظاہر) اور غیب کا جاننے والا جو ہمیشہ بڑا ہے ‘ سب سے بلند ہے۔ “ اِسْتَعْلٰی (استفعال) اِسْتِعْلَائً : بلندی یا غلبے کی کوشش کرنا یعنی بلند ہونا ‘ غالب ہونا۔ { وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی ۔ } (طٰــہٰ ) ” اور اس نے مراد پا لی ہے آج جو غالب ہوا۔ “ ترکیب : ” اَللّٰہُ “ مبتدأ اور اس کے آگے ” لَا اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ “ پورا جملہ اس کی خبر ہے ‘ جبکہ اس جملہ میں ” لَا اِلٰــہَ “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر ” بِحَقٍّ مَوْجُوْدٌ“ محذوف ہے اور ” اِلاَّ ھُوَ “ متعلق خبر ہے۔ ” اَلْحَیُّ “ اور ” اَلْقَیُّوْمُ “ مبتدأ لفظ ” اَللّٰہُ “ کا بدل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہیں اور ان پر لام جنس ہے۔ ” لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ“ پورا جملہ ” اَللّٰہُ “ کی صفت ہے۔ اس جملہ میں ” لَا تَاْخُذُہٗ “ فعل ہے ” ہٗ “ اس کی ضمیر مفعولی ہے ‘ جبکہ ” سِنَۃٌ“ اور ” نَوْمٌ“ اس کے فاعل ہیں۔ ” مَا “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر ” مَوْجُوْدٌ“ محذوف ہے اور ” فِی السَّمٰوٰتِ “ اور ” فِی الْاَرْضِ “ قائم مقام خبر ہیں۔ پھر یہ دونوں جملے مبتدأ مؤخر ہیں ‘ ان کی خبر ” ثَابِتٌ“ محذوف ہے ‘ جبکہ ” لَـہٗ “ قائم مقام خبر مقدم ہے ‘ اور اس پر لام تملیک لگا ہوا ہے۔ ” یَعْلَمُ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” اَللّٰہُ “ کے لیے ہے۔ ” مَا “ اس کا مفعول ہے ‘ جبکہ ” بَیْنَ “ اور ” خَلْفَ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” کُرْسِیُّہٗ “ مرکب اضافی ہے اور ” وَسِعَ “ کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے ‘ جبکہ ” اَلسَّمٰوٰتِ “ اور ” اَلْاَرْضَ “ دونوں اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” یَـئُوْدُ “ کا فاعل ” حِفْظُھُمَا “ ہے۔ ” اَلسَّمٰوٰتِ “ ایک جنس ہے اور ” اَلْاَرْضَ “ دوسری جنس ہے ‘ اس لیے تثنیہ کی ضمیر ” ھُمَا “ آئی ہے۔ نوٹ (1) : تفسیر ابن کثیر میں متعدد احادیث دی ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سے زیادہ عظمت والی آیت ہے۔ ہر نماز کے بعد اور رات کو سوتے وقت اس کو پڑھ لینے سے انسان شیاطین جن و انس سے محفوظ رہتا ہے۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط خیالات سے ا لگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

[لَآ اِکْرَاہَ : کسی قسم کا کوئی جبر نہیں ہے ] [فِی الدِّیْنِ : دین (قبول کرنے) میں ] [قَدْ تَّــبَـیَّنَ : واضح ہوگئی ہے ] [الرُّشْدُ : ہدایت ] [مِنَ الْغَیِّ : گمراہی سے ] [فَمَنْ یَّـکْفُرْ : پس جو انکار کرتا ہے ] [بِالطَّاغُوْتِ : سرکشی (کے راستوں) کا ] [وَیُؤْمِنْم : اور ایمان لاتا ہے ] [بِاللّٰہِ : اللہ (کی اطاعت) پر ] [فَقَدِ اسْتَمْسَکَ : تو وہ چمٹا ہے ] [بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی : انتہائی مضبوط ] [کنڈے سے ] [ لاَ انْفِصَامَ : کسی طرح ٹوٹنا نہیں ہے ] [لَـہَا : اس کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] غ و ی غَوٰی (ض) غَـیًّا : صحیح راستے سے بھٹک جانا ‘ گمراہ ہونا۔ { وَعَصٰی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ۔ } (طٰـہٰ ) ” اور کہنا نہ مانا آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کا تو وہ صحیح راستے سے ہٹ گئے ۔ “ غَیٌّ (اسم ذات بھی ہے) : گمراہی۔ آیت زیر مطالعہ۔ غَاوٍ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : گمراہ ہونے والا۔ { وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ ۔ } (الشُّعرائ) ” اور شاعر لوگ ‘ ان کی پیروی کرتے ہیں گمراہ ہونے والے۔ “ غَوِیٌّ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : گمراہ۔ { اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ ۔ } (القصص) ” بیشک تو کھلا گمراہ ہے۔ “ اَغْوٰی (افعال) اِغْوَائً : راستے سے بہکا دینا ‘ گمراہ کرنا۔ { رَبَّـنَا ھٰٓـؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَاج } (القصص :63) ” اے ہمارے ربّ ! یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا۔ “ طَغٰی (ف) طَغْیًا وَطُغْیَانًا : مناسب حد سے بڑھنا۔{ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَائُ حَمَلْنٰـکُمْ فِی الْجَارِیَۃِ ۔ } (الحاقّۃ) ” بیشک ہم نے تم کو کشتی میں سوار کیا جب پانی اپنی حد سے بڑھ گیا۔ “{ فَاَمَّا مَنْ طَغٰی ۔ وَاٰثَرَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ۔ } (النّٰزعٰت) ” پس جو حد سے بڑھا اور اس نے دنیوی زندگی کو ترجیح دی۔ “ اَلطَّاغُوْتُ (اسم) یہ واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوجاتا ہے ‘ اگرچہ اس کی جمع طَوَاغِیْتُ اور طَوَاغٍ بھی آتی ہے : انتہائی سرکش ‘ حد ودِ بندگی سے تجاوز کرنے والا ‘ شیطان ‘ معبودِ باطل خواہ انسان ہو یا جن یا بُت۔ الطَّاغِیَۃُ : انتہائی سرکش ‘ ۃ مبالغہ کی ہے ‘ کڑک دار بجلی جس کی کڑک حد سے بڑھی ہو۔ { فَاُھْلِکُوا بِالطَّاغِیَۃِ ۔ } (الحاقۃ) ” وہ ہلاک کیے گئے کڑک دار بجلی سے۔ “ الطَّغْوٰی : سرکشی ‘ نافرمانی۔{ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰٹھَا ۔ } (الشمس) ” قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے جھٹلایا۔ “ ع ر و عَرٰی (ن) عَرْوًا : کسی کے سامنے آنا ‘ لاحق ہونا۔ عُرْوَۃٌ (اسم ذات) : کسی چیز کو تھامنے یا لینے کا ذریعہ ‘ جیسے پانی کے جگ کا دستہ ‘ دروازے کا کنڈا ‘ رسی کی گرہ وغیرہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ اِعْتَرٰی (افتعال) اِعْتِرَائً : اہتمام سے لاحق ہونا۔ { اِنْ نَّـقُوْلُ اِلاَّ اعْتَرٰٹکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْئٍ ط } (ھود :54) ” ہم نہیں کہتے مگر یہ کہ تجھ کو لاحق ہوا ہمارے خدائوں میں سے کوئی بری طرح۔ “ ص م فَصَمَ (ض) فَصْمًا : توڑنا ‘ کاٹنا۔ اِنْفَصَمَ (انفعال) اِنْفِصَامًا : ٹوٹنا ‘ کٹنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” لاَ اِکْرَاہَ “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر ” مَوْجُوْدٌ“ محذوف ہے اور ” فِی الدِّیْنِ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” تَـبَیَّنَ “ کا فاعل ” الرُّشْدُ “ ہے۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یَکْفُرْ “ سے ” بِاللّٰہِ “ تک شرط ہے اور ” فَقَدِ “ سے ” لَھَا “ تک جواب شرط ہے۔ ” انْفِصَامَ “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لَـھَا “ قائم مقام خبر ہے۔ نوٹ : ” لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ “ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے زبردستی نہیں کی جائے گی۔ لیکن جو بھی اسلام میں داخل ہوگا اس پر اسلامی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہوگا اور نہ کرنے پر وہ سزا کا مستحق ہوگا ‘ جبکہ ایک غیر مسلم اس سزا سے مستثنیٰ ہوگا۔ اسلامی حکومت میں ملکی قوانین کی پابندی مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے یکساں ہوگی اور اس پہلو سے ان کے مابین کوئی امتیاز (discrimination) نہیں ہوگا۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے

[اَللّٰہُ : اللہ ] [وَلِیُّ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کا دوست ] [ہے جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [یُخْرِجُہُمْ : وہ نکالتا ہے ان کو ] [مِّنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے ] [اِلَی النُّوْرِ : نور کی طرف ] [وَالَّذِیْنَ : اور جنہوں نے ] [کَفَرُوْآ : کفر کیا ] [اَوْلِیٰٓــئُہُمُ : ان کے دوست ہیں ] [الطَّاغُوْتُ : طاغوت ] [یُخْرِجُوْنَہُمْ : وہ لوگ نکالتے ہیں ان کو ] [مِّنَ النُّوْرِ : نور سے ] [اِلَی الظُّلُمٰتِ : اندھیروں کی طرف ] [اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَّارِ : آگ کے ساتھی ہیں ] [ہُمْ : وہ لوگ ] [فِیْہَا : اس میں ] [خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] ترکیب : ” اَللّٰہُ “ مبتدأ ہے۔ ” وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ صلہ موصول مل کر خبر اوّل ہے ‘ جبکہ ” یُخْرِجُھُمْ “ سے ” اِلَی النُّوْرِ “ تک پورا جملہ خبر ثانی ہے۔ ” اَلطَّاغُوْتُ “ یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے اس لیے ” اَوْلِیَائُ “ اور ” یُخْرِجُوْنَ “ جمع آئے ہیں۔ نوٹ : اس آیت میں نور اور ظلمات ‘ ہدایت اور گمراہی کے لیے استعارے ہیں۔ ہدایت ایک ہی ہوتی ہے اس لیے نور واحد آیا ہے ‘ جبکہ گمراہی کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں اس لیے ظلمات جمع آیا ہے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا، جس نے ابراہیمؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اِس بات پر کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی جب ابراہیمؑ نے کہا کہ "میرا رب وہ ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے، تو اُس نے جواب دیا: "زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے"ابراہیمؑ نے کہا: "اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا" یہ سن کر وہ منکر حق ششدر رہ گیا، مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا

[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غورہی نہیں کیا ] [اِلَی الَّذِیْ : اس (کی حالت) کی طرف جس نے ] [حَآجَّ : بحث کی ] [اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم (علیہ السلام) سے ] [فِیْ رَبِّہٖٓ : ان کے رب (کے بارے ) میں ] [اَنْ : (اس سبب سے) کہ ] [اٰتٰٹہُ : دی اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْمُلْکَ : بادشاہت ] [اِذْ قَالَ : جب کہا ] [اِبْرٰہٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ] [رَبِّیَ الَّذِیْ : میرا رب وہ ہے جو ] [یُحْیٖ : زندگی دیتا ہے ] [وَیُمِیْتُ : اور موت دیتا ہے ] [قَالَ : اس نے کہا ] [اَنَا : میں (بھی) ] [اُحْیٖ : زندگی دیتا ہوں ] [وَاُمِیْتُ : اور موت دیتا ہوں ] [قَالَ : کہا ] [اِبْرٰہٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ] [فَاِنَّ : (اچھا تو) پھر یقینا ] [اللّٰہَ : اللہ ] [یَاْتِیْ : لاتا ہے ] [بِالشَّمْسِ : سورج کو ] [مِنَ الْمَشْرِقِ : مشرق سے ] [فَاْتِ : پس تو لا ] [بِہَا : اس کو ] [مِنَ الْمَغْرِبِ : مغرب سے ] [فَـبُہِتَ : پس (اس طرح) ششدر رہ گیا ] [الَّذِیْ : وہ جس نے ] [کَفَرَ : انکار کیا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [لاَ یَہْدِی : ہدایت نہیں دیتا الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ : ظالم قوم کو ] ب ھـ ت بَھَتَ (ف) بَھْتًا : حیران کردینا ‘ ششدر کردینا۔ { بَلْ تَاْتِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ } (الانبیائ :40) ” بلکہ وہ (یعنی آگ) آئے گی ان کے پاس اچانک تو وہ ششدر کر دے گی ان کو۔ “ بُھْتَانٌ (فُعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ) : انتہائی حیران و ششدر کرنے والا ۔ پھر اصطلاحاً ایسے جھوٹ اور جھوٹے الزام کے لیے آتا ہے جسے سن کر انسان ششدر اور دم بخود رہ جائے۔ { ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ ۔ } (النور) ” یہ ایک عظیم جھوٹا الزام ہے۔ “ ترکیب : ” اَنْ “ سے پہلے ” بَا “ سببیہ محذوف ہے۔ ” اٰتٰٹہُ “ میں ضمیر مفعولی ” اَلَّذِیْ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” اَلْمُلْکَ “ مفعول ثانی ہے۔ ” فَاِنَّ “ میں ” فَ “ کا مفہوم ہے ” اچھا تو پھر “۔ ” بُھِتَ “ ماضی مجہول ہے۔ اس سے پہلے ” کَذٰلِکَ “ محذوف ہے۔ نوٹ : استادِ محترم حافظ احمد یار صاحب ۔ نے نشاندہی کی ہے کہ لفظ ابراہیم سورة البقرۃ میں ” ی “ کے بغیر یعنی ” اِبْرٰھٖم “ لکھا گیا ہے ‘ جبکہ باقی قرآن مجید میں اسے ” ی “ کے ساتھ یعنی ” اِبْرٰھِیْم “ لکھا گیا ہے۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا پھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی اُس نے کہا: "یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟" اس پر اللہ نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ سوبرس تک مُردہ پڑا رہا پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: "بتاؤ، کتنی مدت پڑے رہے ہو؟" اُس نے کہا: "ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا" فرمایا: "تم پر سو برس اِسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اِس کا پنجر تک بوسید ہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اِس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں" اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی، تو اس نے کہا: "میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے"

[اَوْ : یا ] [كَالَّذِيْ : اس کی مانند جو ] [مَرَّ : گزرا ] [عَلٰي قَرْيَةٍ : ایک بستی پر ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [هِيَ : وہ ] [خَاوِيَةٌ: اوندھی تھی ] [عَلٰي عُرُوْشِهَا : اپنی چھتوں پر ] [قَالَ : اس نے کہا ] [انٰى: کس طرح سے ] [يُـحْيٖ : زندہ کرے گا ] [ھٰذِهِ : اس کو ] [اللّٰهُ : اللہ ] [بَعْدَ مَوْتِهَا : اس کی موت کے بعد ] [فَاَمَاتَهُ : تو موت دی اس کو ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [مِائَـةَ عَامٍ : ایک سو سال (کے لیے ] [ثُمَّ : پھر ] [بَعَثَهٗ : اس نے اٹھایا اس کو ] [قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [كَمْ : کتنا (عرصہ) ] [لَبِثْتَ : تو ٹھہرا ] [قَالَ : اس نے کہا ] [لَبِثْتُ : میں ٹھہرا ] [يَوْمًا : ایک دن ] [اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ : یا ایک دن کا کچھ (حصہ) ] [قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [بَلْ : بلکہ ] [لَبِثْتَ : تو ٹھہرا ] [مِائَةَ عَامٍ : ایک سو سال ] [فَانظُرْ : پس تو دیکھ ] [اِلٰى طَعَامِكَ : اپنی خوراک کی طرف ] [وَشرابکَ : اور اپنی پینے کی چیز کی طرف ] [لَمْ يَتَسَـنَّهْ : وہ متغیر ہی نہیں ہوئی ] [وَانظُرْ : اور تو دیکھ ] [اِلٰى حِمَارِكَ : اپنے گدھے کی طرف ] [وَلِنَجْعَلَكَ : اور (یہ) اس لیے کہ ہم بنائیں تجھ کو ] [اٰيَةً : ایک نشانی ] [لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [وَانظُرْ : اور تو دیکھ ] [اِلَى الْعِظَامِ : ہڈیوں کی طرف ] [كَيْفَ : کیسے ] [نُنْشِزُھَا : ہم اٹھاتے ہیں ان کو ] [ثُمَّ : پھر ] [نَكْسُوْھَا : ہم پہناتے ہیں ان کو ] [لَحْــمًا : گوشت ] [فَلَمَا : پس جب ] [تَبَيَّنَ : واضح ہوا ] [لَهٗ : اس کے لیے ] [قَالَ : تو اس نے کہا ] [اَعْلَمُ : میں جانتا ہوں ] [ان اللّٰهَ : کہ اللہ ] [عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ] خ و ی خواء (ض) اوندھا ہونا۔ خاویۃ : اسم الفاعل خاو کا مونث ہے، اوندھی ہونے والی یعنی اوندھی۔ آیت زیر مطالعہ۔ ع ر ش عرشا (ض) کسی چیز پر چھپر یا چھت ڈالنا۔ ودمرنا ماکان یصنع فرعون و قومہ وما کانوا یعرشون۔ (اور ہم نے برباد کیا اس کو جا بنایا کرتے تھے فرعون اور اس کی قوم، اور اس کو جو وہ لوگ چھت ڈالا کرتے تھے۔ 137/7 عرش ج عروش : اسم ذات ہے، چھپر، چھت، تخت (کیونکہ یہ زمین سے اونچا ہوتا ہے) ورفع ابویہ علی العرش (اور اس نے اٹھایا اپنے والدین کو تخت پر) 100/12 ۔ وھو رب العرش العظیم (اور وہ عظیم عرش کا مالک ہے) 129/9 معروش : اسم المفعول، چھپر یا چھت ڈالا ہوا۔ وھو الذی انشاء جنت معروشات و غیر معروشات (اور وہ ہے جس نے پیدا کیا باغات کو، چھپر ڈالے ہوئے اور بغیر چھپر ڈالے ہوئے) 141/6 ل ب ث لبثا (س): کسی جگہ قیام کرنا، ٹھہرنا، آیت زیر مطالعہ۔ لابث : اسم الفاعل ہے، ٹھہرنے والا، لبثین فیھا احقابا (قیام کرنے والے ہیں اس میں مدتوں) 23/78 تلبثا (تفعل) بتکلف ٹھہرنا یعنی دیر کرنا۔ وما تلبثوا بھا الا یسیرا ( تو وہ لوگ دیر نہیں کریں گے اس میں مگر تھوڑی سی) 14/33 س ن ھ سنھا (س) بہت سالوں والا ہونا، متغیر ہونا، بگڑ جانا (مدت گزر جانے کی وجہ سے) تسنھا (تفعل) متغیر ہونا، خراب ہونا، آیت زیر مطالعہ۔ ح م ر حمرا (ن) کھال کھرچنا (جس سے سرخی ظاہر ہوجائے) احمر : مونث حمراء ج حمر۔ افعل الوان و عیوب ہے، سرخ رنگ والا، ومن الجبال جدد بیض و حمر۔ (اور پہاڑوں میں سرخ و سفید راستے ہیں) 27/35 حمار : ج حمر اور حمیر۔ اسم ذات ہے، گدھا۔ کانھم حمر مستنفرۃ (گویا کہ وہ لوگ بدکے ہوئے گدھے ہیں) 50/74 ۔ ان انکر الاصوات لصوت الحمیر۔ بیشک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے) 19/31 ن ش ز نشزا (ن) کسی چیز کا اپنی جگہ سے ابھرنا، اوپر اٹھنا۔ نشوزا : بدخو یا بد کلام ہونا، زیادتی کرنا۔ انشر : فعل امر ہے، تو ابھر، تو اٹھ۔ واذا قیل انشزوا فانشزوا (اور جب کہا جائے کہ تم لوگ اٹھو تو تم لوگ اٹھ جاؤ) 77/58 نشوزا : اسم ذات ہے ، بدخوئی، زیادتی، وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا (اور اگر کسی عورت کو خوف ہو اپنے شوہر سے زیادتی کا) 128/4 انشازا (افعال) کسی کو اس کی جگہ سے اٹھانا، آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : اَوْ گزشتہ آیت کے الم تر پر عطف ہے، پورا جملہ اس طرح ہوگا او الم تر الی الذی کان کالذی۔ هِيَ کا واؤ حالیہ ہے ، یحی کا مفعول ھذہ ہے، مائۃ عام ظرف ہے، اس لیے مائۃ منصوب ہے، کم لبثت میں کم کی تمیز محذوف ہے جو یوما یا عاما ہوسکتی ہے، طعام اور شراب کے لیے تثنیہ کا صیغہ آنا چاہیے تھا لیکن لم یتسنہ واحد آیا ہے، اس کی وضاحت آگے نوٹ میں کی جائے گی، اور یہ دراصل یتسنہ تھا جو لم کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے ۔ لنجعلک ایۃ للناس درمیان میں جملہ معترضہ ہے، الی الطعام گزشتہ جملہ کے حمارک پر عطف ہے ، ننشزھا اور نکسوھا کی ضمیر مفعول العظام کے لیے ہیں جبکہ نکسو کا مفعول ثانی لحما ہے۔ اور نحن ضمیر جو ان میں چھپی ہوئی ہے ان کی فاعل ہے جو اللہ کے لیے ہے۔ نوٹ 1: اردو میں ہم کہتے ہیں " دودھ اور دہی کا ذائقہ خراب نہیں ہوا "۔ حالانکہ گرامر کے لحاظ سے کہنا چاہیے تھا " ذائقے خراب نہیں ہوئے " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بات کہنے کا یہ انداز عربی سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ عربی میں کبھی واحد بول کر تثنیہ اور کبھی تثنیہ بول کر واحد مراد لیتے ہیں۔ اس آیت میں بھی یہی انداز ہے کہ لم یتسنہ واحد بول کر تثنیہ مراد لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے آسان عربی گرامی کے " ابتدائیہ " میں بتائی گئی اس بات کو ذہن میں تازہ کرلیں کہ زبان پہلے وجود میں آتی ہے اور قواعد بعد میں مرتب کیے جاتے ہیں ، اس لیے گرامر اہل زبان کے تابع ہوتی ہے لیکن اہل زبان گرامر کے پابند نہیں ہوتے۔ نوٹ 2: یتسنہ کے مادے کے بارے میں اختلاف رائے ہے، ایک رائے یہ ہے کہ اس کا مادہ " س ن ھ " ہے۔ حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے اور ہم نے بھی اسے ہی اختیار کیا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس کا مادہ " س ن ن " ہے۔ باب تفعل میں اس کا مضارع یتسنن بنتا ہے۔ یہ قاعدہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ کسی لفظ میں ایک ہی حرف دو دفعہ آجائے تو عام طور پر ان کا ادغام کردیتے ہیں۔ اب یہ قاعدہ بھی نوٹ کرلیں کہ ایک ہی حرف اگر تین دفعہ آجائے تو پہلے دو حروف کا ادغام کر کے تیسرے حرف کو " ی " میں تبدیل کرسکتے ہیں یعنی یہ قاعدہ اختیاری ہے۔ اس طرح یتسنن تبدیل ہوکر یتسنی ہوگیا۔ پھر اس پر لم داخل ہوا تو " ی " گرگئی اور لم یتسنن باقی بچا۔ اس کے آگے جو ہائے ساکن ہے اسے ہائے سکت کہتے ہیں۔ اس کو وقف کے لیے لگاتے ہیں اور اس کے کوئی معنی نہیں ہوتے ۔ جیسے کتبیہ، حسابیہ وغیرہ۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ: "میرے مالک، مجھے دکھا دے، تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے" فرمایا: "کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟" اُس نے عرض کیا "ایمان تو رکھتا ہوں، مگر دل کا اطمینان درکار ہے" فرمایا: "اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کر لے پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے پھر ان کو پکار، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے خوب جان لے کہ اللہ نہایت با اقتدار اور حکیم ہے"

[ وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ] [ اِبْرٰہٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ! ] [اَرِنِیْ : تو دکھامجھ کو ] [کَیْفَ : کیسے ] [تُحْیِ : تو زندہ کرے گا ] [الْمَوْتٰی : مردوں کو ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اَوَ : تو کیا ] [لَمْ تُؤْمِنْ : تو ایمان ہی نہیں لایا ؟] [قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [بَلٰی : کیوں نہیں ] [وَلٰـکِنْ : اور لیکن ] [لِّیَطْمَئِنَّ : (میں پوچھتا ہوں) تاکہ پرسکون ہوجائے ] [قَلْبِیْ : میرا دل ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے ) کہا ] [فَخُذْ : پس تو پکڑ ] [اَرْبَعَۃً : چار ] [مِّنَ الطَّیْرِ : پرندوں میں سے ] [فَصُرْ : پھر تو مائل کر ] [ہُنَّ : ان کو ] [اِلَـیْکَ : اپنی طر] [ثُمَّ : پھر ] [اجْعَلْ : تو رکھ ] [عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ : ہر ایک پہاڑ پر ] [مِّنْہُنَّ : ان میں سے ] [جُزْئً ‘ ا : ایک ٹکڑا ] [ثُمَّ : پھر ] [ادْعُہُنَّ : تو پکار ان کو ] [یَاْتِیْنَکَ : وہ آئیں گے تیرے پاس ] [سَعْیًا : دوڑتے ہوئے ] [وَاعْلَمْ : اور تو جان لے ] [اَنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ ] [عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [حَکِیْمٌ : حکمت والا ہے ] ط م ء ن طَمْأَنَ (رُباعی) طَمْاَنَۃً : ذہن کو خلجان سے خالی کرنا ‘ پرسکون کرنا ‘ مطمئن کرنا۔ اِطْمَئَنَّ (اِفْعِلْ لَالٌ) اِطْمِئْنَانًا : ذہن کا خلجان سے خالی ہوجانا ‘ پرسکون ہوجانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ مُطْمَئِنٌّ (اسم الفاعل) : پرسکون ہوجانے والا ۔ { اِلاَّ مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّم بِالْاِیْمَانِ } (النحل :106) ” سوائے اس کے جو مجبور کیا گیا اس حال میں کہ اس کا دل مطمئن ہوجانے والا ہے ایمان پر۔ “ ط ی ر طَارَ (ض) طَیْرًا : کسی چیز کا اڑنا ‘ پھیل جانا۔ { وَلَا طٰئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ } (الانعام :38) ” اور نہ کوئی پرندہ جو اڑتا ہے اپنے پروں کے ساتھ ۔ “ طَائِرٌ ج طَیْرٌ (اسم الفاعل) : اُڑنے والا۔ مختلف مفاہیم میں آتا ہے : (1) پرندہ۔ مذکورہ بالا آیت (الانعام :38) دیکھیں۔ (2) اعمال (کیونکہ عمل کرلینے کے بعد وہ انسان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں ‘ یعنی اڑ جاتے ہیں) ۔ { وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖط } (الاسرائ :13) ” اور ہر ایک انسان ‘ ہم نے لازم کیا اس پر اس کا عمل اس کی گردن میں۔ “ (3) بدشگونی ‘ نحوست (عرب لوگ پرندوں سے شگون لیا کرتے تھے۔ پھر یہ شگون کے بجائے بدشگونی کے لیے استعمال ہونے لگا) ۔ { قَالُوْا طَائِرُکُمْ مَّعَکُمْط } (یٰسٓ:19) ” انہوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ “ تَطَیَّرَ (تفعّل) تَطَیُّرًا : بدشگونی لینا ‘ منحوس سمجھنا۔ { قَالُوْا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْج } (یٰسٓ:18) ” انہوں نے کہا بیشک ہم تم لوگوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ “ اِسْتَطَارَ (استفعال) اِسْتِطَارَۃً : پھیل جانا ‘ منتشر ہونا۔ مُسْتَطِیْرٌ (اسم الفاعل) : پھیل جانے والا۔ { وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا ۔ } (الدّھر) ” اور وہ لوگ خوف کرتے ہیں اس دن کا ہوگا جس کا شر پھیل جانے والا۔ “ ص و ر صَارَ (ن) صَوْرً ا : (1) بلانا ‘ مائل کرنا۔ (2) کاٹنا ‘ مجسمہ تراشنا۔ صُرْ (فعل امر) : تو مائل کر۔ آیت زیر مطالعہ۔ صُوْرَۃٌ ج صُوَرٌ (اسم ذات) : شکل ‘ حلیہ ‘ صورت۔ { فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَ ۔ } (الانفطار) ” جیسی شکل میں اس نے چاہا ‘ اس نے ترتیب دیا تجھ کو۔ “{ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ } (المؤمن :64) ” تو اس نے اچھی بنائیں تمہاری شکلیں۔ “ صُوْرٌ (اسم ذات) : ہر وہ چیز جس میں پھونکنے سے آواز پیدا ہو ‘ جیسے بگل ‘ سائرن وغیرہ۔ { یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِط } (الانعام :73) ” جس دن پھونکا جائے گا صور میں۔ “ صَوَّرَ (تفعیل) تَصْوِیْرًا : کسی کو کوئی شکل یا حلیہ دینا۔ { ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ ط } (آل عمران :6) ” وہ ہے جو شکل دیتا ہے تم لوگوں کو رحموں میں جیسی وہ چاہتا ہے۔ “ مُصَوِّرٌ (اسم الفاعل) : شکل دینے والا۔ { ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ } (الحشر :24) ” وہ اللہ ہے جو پیدا کرنے والا ہے ‘ وجود بخشنے والا ہے ‘ شکل دینے والا ہے۔ “ ج ب ل جَبَلَ (ن) جَبْلاً : بنانا ‘ جیسے مٹی میں پانی ڈال کر گارا بنانا۔ جِبِلَّۃٌ ج جِبِلٌّ (اسم ذات) : بنائی ہوئی چیز ‘ خلقت ۔ (جِبِلَّۃٌ اسم جمع ہے اور اس کی جمع بھی آتی ہے) ۔ { وَاتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ } (الشُّعرائ) ” اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو اس کا جس نے پیدا کیا تم لوگوں کو اور پہلی خلقت کو۔ “{ وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلاًّ کَثِیْرًاط } (یٰسٓ:62) ” اور اس نے گمراہ کیا تم میں سے بہت سی خلقتوں کو۔ “ جَبَلٌ ج جِبَال ٌ : پہاڑ۔{ وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا } (الحجر :82) ” اور وہ لوگ تراشتے تھے پہاڑوں میں سے گھر۔ “ ج ز ء جَزَئَ (ف) جَزْئً ا : کسی چیز کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا۔ جُزْئٌ (اسم ذات) : ٹکڑا ‘ حصہ۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” رَبِّ “ کی جریائے متکلم کی علامت ہے ‘ یعنی یہ دراصل ” رَبِّیْ “ تھا۔ ” اَرِ “ فعل امر ہے ” نِیْ “ ضمیر مفعولی ہے اور آگے ” کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی “ پورا جملہ اس کا مفعول ثانی ہے۔ ” لِیَطْمَئِنَّ “ سے پہلے ” سَئَلْتُکَ “ محذوف ہے۔ ” فَخُذْ “ کا مفعول ” مِنَ الطَّیْرِ “ ہے اور محلاً منصوب ہے ‘ جبکہ ” اَرْبَعَۃً “ تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” اِجْعَلْ “ کا مفعول ” جُزْئً ا “ ہے جبکہ ” مِنْھُنَّ “ اس سے متعلق ہے۔ ” طَیْرٌ“ غیر عاقل کی جمع ہے ‘ اس لحاظ سے فعل واحد مؤنث آنا چاہیے تھا لیکن ” یَاْتِیْنَ “ جمع مؤنث آیا ہے۔ یہ ایک استثنائی صورت ہے۔ جیسے عام طور پر ” اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً “ آتا ہے لیکن کبھی ” اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ “ بھی آجاتا ہے۔ ” سَعْیًا “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ نوٹ (1) : اس سے پہلے رباعی مجرد کے چند الفاظ آ چکے ہیں اور اب رباعی مزید فیہ کا لفظ پہلی مرتبہ آیا ہے۔ اس مقام پر اس کے متعلق چند باتیں ذہن نشین کرلیں۔ (1) رباعی کے اوزان میں ” فَـا “ اور ” عین “ کے بعد ” لام “ دو مرتبہ آتا ہے۔ نوٹ کرلیں کہ پہلا ” لام “ مادے کے تیسرے حرف کے لیے اور دوسرا ” لام “ چوتھے حرف کے لیے ہوتا ہے۔ (2) رباعی مجرد کا ایک ہی باب ہے۔ اس کا ماضی اور مضارع فَعْلَلَ اور یُفَعْلِلُ کے وزن پر آتے ہیں ‘ جبکہ مصدر کے لیے زیادہ تر فَعْلَلَۃً اور فِعْلَالًا کے اوزان استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے طَمْئَنَ ۔ یُطَمْئِنُ ۔ طَمْئَنَۃً اور زَلْزَلَ ۔ یُزَلْزِلُ ۔ زِلْزَالاً وغیرہ۔ یہ باب زیادہ تر متعدی ہوتا ہے۔ (3) رباعی مزید فیہ کے تین ابواب ہیں جس میں سے ایک آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ اس کے ماضی ‘ مضارع اور مصدر کے اوزان یہ ہیں : اِفْعَلَلَّ ۔ یَفْعَلِلُّ ۔ اِفْعِلَّالًا۔ آپ کی آسانی کے لیے ہم نے مصدر کے وزن کو کھول کر اِفْعِلْ لَالٌ لکھا ہے تاکہ تیسرے اور چوتھے کلمہ پر آپ صحیح حرکات و سکنات لگا سکیں۔ نوٹ کرلیں کہ اس باب کا ہمزہ ‘ ہمزۃ الوصل ہے اور یہ باب زیادہ تر لازم ہوتا ہے۔ نوٹ (2) : اس آیت کے حوالے سے ایک اہم اور بنیادی بات یہ نوٹ کرلیں کہ یہ کائنات اور اس کی ہر چیز اپنی زبان حال سے اللہ تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی توحید اور اس کی قدرت کی گواہی دے رہی ہے۔ اور یہی ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اس ایمان کے بعد جو تفصیلات اور جزئیات قرآن اور حدیث سے ثابت ہیں ان پر ایمان اور عمل لازمی ہوجاتا ہے ‘ خواہ اطمینانِ قلب حاصل ہو یا نہ ہو۔ نوٹ کریں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایمان کا اقرار کیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اطمینانِ قلب کا بندوبست کیا ہے۔ اسی طرح سے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر ایمان اور اخلاصِ نیت سے عمل کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے انہیں اطمینانِ قلب عطا فرماتا ہے۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں اِسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی

[ مَثَلُ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی مثال جو ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [اَمْوَالَہُمْ : اپنے مالوں کو ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [کَمَثَلِ حَبَّۃٍ : ایک ایسے دانے کی مثال کی طرح ہے ] [اَنْبَتَتْ : جس نے اگائے ] [سَبْعَ سَنَابِلَ : سات خوشے ] [فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ : ہر ایک خوشے میں ] [مِّائَۃُ حَبَّۃٍ : ایک سو دانے ہیں ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُضٰعِفُ : ضرب دیتا ہے (انفاق کو) ] [لِمَنْ : اس کے لیے جس کے لیے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [وَاسِعٌ : وسعت دینے والا ہے ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] س ب ع سَبَعَ (ف) سَبْعًا : ساتواں حصہ لینا (کسی چیز کو سات حصوں میں تقسیم کر کے) ۔ سَبْعٌ (اسم عدد بھی ہے) : سات۔{ لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍط } (الحجر :44) ” اس کے سات دروازے ہیں۔ “ سَبْعُوْنَ : ستر۔ { اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْط } (التوبۃ :80) ” اگر آپ ﷺ استغفار کریں ان کے لیے ستر مرتبہ تو (بھی) ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو۔ “ سَبُعٌ (اسم ذات) : درندہ (کیونکہ وہ اپنے شکار کو پھاڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کرتا ہے) ۔ { وَمَا اَکَلَ السَّبُعُ } (المائدۃ :3) ” اور جس کو کھایا درندے نے۔ “ س ن ب ل سَنْبَلَ (رُباعی) سَنْبَلَۃً : کھیتی کا بالیاں نکالنا۔ سُنْبُلٌ ج سَنَابِلُ (اسم ذات) : پودے کی بال ‘ خوشہ۔ { فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْبُلِہٖ } (یوسف :47) ” پس جو تم لوگ کاٹو تو چھوڑ دو اس کو اس کے خوشے میں۔ “{ وَسَبْعَ سُنْبُلٰتٍ خُضْرٍ } (یوسف :43) ” اور سات سبز بالیاں (خوشے) ۔ “ ترکیب :” کَمَثَلِ “ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے ” حَبَّۃٍ “ مجرور ہے۔ ” اَنْبَتَتْ “ کا فاعل اس میں ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” حَبَّۃٍ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ مرکب اضافی ” سَبْعَ سَنَابِلَ “ اس کا مفعول ہے۔ اس لیے اس کا مضاف ” سَبْعَ “ منصوب ہے اور مضاف الیہ ” سَنَابِلَ “ حکماً مجرور ہے۔ ” مِائَۃُ حَبَّۃٍ “ مبتدأ مؤخر ہے اس لیے مضاف ” مِائَۃُ “ مرفوع ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔” یُضٰعِفُ “ کا مفعول محذوف ہے جو کہ ” اِنْفَاقًا “ ہوسکتا ہے ‘ جبکہ ” لِمَنْ “ متعلق فعل ہے۔ نوٹ (1) : لفظ ” مِائَۃٌ“ میں الف زائدہ ہے جیسے ” اُولٰٓـئِکَ “ میں وائو زائدہ ہے۔ چند الفاظ میں حروف ِزائدہ لکھنے کی وجہ سمجھ لیں۔ صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں بھی اور آج بھی عربی حرکات و سکنات کے بغیر لکھی اور پڑھی جاتی ہے ‘ جیسے فارسی اور اردو حرکات و سکنات کے بغیر لکھی اور پڑھی جاتی ہے۔ البتہ غیر عربی لوگوں کی سہولت کے لیے بعد میں قرآن مجید میں حرکات و سکنات لکھنے کا رواج ہوا۔ اسی طرح عربی حروف پر نقطے ڈالنے کا رواج بھی بعد میں ہوا۔ صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں عربی حروف کے نقطوں کے بغیر لکھی اور پڑھی جاتی تھی۔ مثلاً اس زمانے میں حرف ” ح “ کو حسب موقع ج ‘ ح اور خ پڑھا جاتا تھا اور بالکل درست پڑھا جاتا تھا۔ ہم لوگ اس کو ناممکن قرار دینے سے پہلے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ انگریزی اگرچہ ہماری مادری زبان نہیں ہے ‘ لیکن اس کے باوجود ہم لوگ انگریزی حرف ” C “ کو لفظ circle میں پہلے سین کی آواز سے اور پھر کاف کی آوز سے پڑھ لیتے ہیں۔ حرف ” G “ کو لفظ general میں جیم اور God میں گاکی آواز سے پڑھ لیتے ہیں۔ علیٰ ھذا القیاس۔ بہرحال عربی حروف پر نقطے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ الفاظ میں مشابہت دور کرنے کے لیے کسی ایک لفظ میں کوئی زائد حرف لکھا جاتا تھا۔ جیسے ” الیک “ سے فرق کرنے کے لیے ” اولٰٓـئک “ میں وائو زائد لکھا گیا۔ اسی طرح ” منہ “ سے فرق کرنے کے لیے ” مائۃ “ میں الف زائد لکھا گیا۔ نوٹ (2) : ” کُلُّ “ کا مضاف الیہ زیادہ تر واحد نکرہ آتا ہے۔ لیکن اگر معرفہ آئے تو مفہوم میں کچھ فرق پڑتا ہے۔ مثلاً ” کُلُّ کِتَابٍ “ کا مطلب ہے ہر ایک کتاب۔ جبکہ ” کُلُّ الْکِتَابِ “ کا مطلب ہے کل کی کل کتاب ‘ یعنی وہ پوری کتاب جس کی بات ہو رہی ہے۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کر کے پھر احسان جتاتے، نہ دکھ دیتے ہیں، اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں

[ اَلَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [اَمْوَالَہُمْ : اپنے مالوں کو ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ثُمَّ : پھر ] [لاَ یُتْبِعُوْنَ : وہ لوگ پیچھے نہیں لگاتے ] [مَآ : اس کے جو ] [اَنْفَقُوْا : انہوں نے خرچ کیا ] [مَنًّا : احسان جتانے کو ] [وَّلَآ اَذًی : اور نہ ہی ستانے کو ] [لَّـہُمْ : ان کے لیے ہے ] [اَجْرُہُمْ : ان کا اجر ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [وَلاَ خَوْفٌ : اور کوئی خوف نہیں ہے ] [عَلَیْہِمْ : ان پر ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [یَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ] ترکیب : ” یُتْبِعُوْنَ “ کا مفعول اوّل ” مَا “ ہے ‘ جبکہ ” مَنًّا “ اور ” اَذًی “ اس کے مفعول ثانی ہیں ‘ اس لیے یہاں ” اَذًی “ محلاً منصوب ہے۔ ” اَجْرُھُمْ “ مبتدأ مؤخر ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے جو ” ثَابِتٌ“ یا ” مَحْفُوْظٌ“ ہوسکتی ہے۔ ” لَھُمْ “ قائم مقام خبر مقدم ہے اور ” عِنْدَ رَبِّھِمْ “ متعلق خبر ہے۔” لاَ خَوْفٌ“ مبتدأ نکرہ ہے ‘ کیونکہ قاعدہ بیان ہو رہا ہے ‘ اس کی بھی خبر محذوف ہے اور ” عَلَیْھِمْ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” ھُمْ “ مبتدأ ہے اور ” یَحْزَنُوْنَ “ جملہ فعلیہ بن کر اس کی خبر ہے۔ نوٹ (1) : خوف کا تعلق مستقبل کے اندیشوں سے ہے کہ انسان کو ہر وقت دھڑکا لگا رہے کہ کہیں یہ نہ ہوجائے کہیں وہ نہ ہوجائے۔ حزن کا تعلق ماضی کے پچھتاووں سے ہے کہ کاش میں نے یہ نہ کیا ہوتا ! کاش ایسا نہ ہوتا !۔ ایک انسان اگر ان دو کیفیتوں سے محفوظ و مأمون ہوجائے تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہے جو بےغرض انفاق کے اصل اجر کے علاوہ ہے۔ اسی لیے فرما دیا کہ ان کا اجر تو ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور یہ دنیا میں ان کا انعام ہے۔ یہ داخلی کیفیت اصلاً تو جنتی لوگوں کا خاصہ ہے ‘ لیکن بےغرض انفاق کرنے والوں کو کسی درجہ میں یہ انعام اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) کا غالباً یہی مطلب تھا جب انہوں نے فرمایا کہ میری جنت میرے سینے میں ہے۔ برٹرنڈرسل نے بھی اپنی کتاب ” Conquest of Happiness “ میں اپنے غور و فکر کا نچوڑ ان الفاظ میں بیان کیا کہ ” Happiness is a state of mind “۔ اس دنیا میں جنت حاصل کرنے کے لیے بےغرض انفاق کی ایک صفت اس آیت میں بیان ہوئی ہے کہ نہ صرف احسان نہیں جتاتے بلکہ یہ احتیاط بھی کرتے ہیں کہ ان کے طرز عمل سے دوسرے کو کوئی جذباتی ٹھیس بھی نہ پہنچے۔ ایک اور صفت سورة الدہر کی آیات 8‘9 میں بیان ہوئی ہے کہ وہ لوگ جب کسی مسکین ‘ یتیم یا قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو کسی بدلے کی امید تو کیا ‘ وہ شکریے کی بھی امید نہیں رکھتے ؎ یہ بزمِ مے ہے ‘ یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں ‘ مینا اسی کا ہے
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھے دکھ ہو اللہ بے نیاز ہے اور بردباری اُس کی صفت ہے

[قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ : ایک بھلی بات ] [وَّمَغْفِرَۃٌ : اور درگزر ] [خَیْرٌ : زیادہ بہتر ہے ] [مِّنْ صَدَقَۃٍ : ایسے صدقے سے ] [یَّتْبَعُہَآ : پیچھے پیچھے آتا ہے جس کے ] [اَذًی : ستانا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [غَنِیٌّ : بےنیاز ہے ] [حَلِیْمٌ : بردبار ہے ] غ ن ی غَنِیَ (س) غَنِیً : (1) کسی قسم کی کوئی ضرورت لاحق نہ ہونا ‘ ضروریات سے بےنیاز ہونا (یہ مفہوم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے) ۔ (2) ضروریات پوری کرنے کے ذرائع میسر ہونا ‘ مالدار ہونا ‘ بےفکر و بےپرواہ ہونا (یہ مفہوم غیر اللہ کے لیے ہے) ۔ مَغْنًی : اپنا وجود قائم رکھنا ‘ یعنی زندہ رہنا ‘ کسی جگہ رہنا۔ { کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَاط } (ھود :68) ” جیسے کہ وہ لوگ رہتے ہی نہیں تھے اس میں۔ “ غَنِیٌّ ج اَغْنِیَائُ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : بےنیاز ‘ مالدار۔ { اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ وَھُمْ اَغْنِیَآئُج } (التوبۃ :93) ” الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جنہوں نے رخصت مانگی آپ ﷺ سے اس حال میں کہ وہ لوگ مالدار تھے۔ “ اَغْنٰی (افعال) اِغْنَائً : (1) کسی کی کوئی ضرورت پوری کرنا یا تکلیف دور کرنا ‘ یعنی کام آنا۔ (2) مالدار کرنا۔ (3) بےفکر و بےپرواہ کرنا۔ { مَا اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا کَسَبَ ۔ } (اللّھب) ” کام نہیں آیا اس کے اس کا مال اور جو اس نے کمایا۔ “{ وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی ۔ } (الضُّحٰی) ” اور اس نے پایا آپ ﷺ ‘ کو تنگ دست تو اس نے مالدار کیا۔ “{ لاَ یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ ۔ } (الغاشیۃ) ” وہ موٹا نہیں کرتا ہے اور نہ بےفکر کرتا ہے بھوک سے۔ “ مُغْنٍ (اسم الفاعل) : کام آنے والا ‘ بےپرواہ کرنے والا۔ { فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍط } (ابرٰھیم :21) ” تو کیا تم لوگ دور کرنے والے ہو ہم سے اللہ کے عذاب سے کچھ بھی ؟ “ اِسْتَغْنٰی (استفعال) اِسْتِغْنَائً : (1) بےنیازی اختیار کرنا۔ (2) بےفکر و بےپرواہ سمجھنا۔ { فَـکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُط } (التغابن :6) ” تو انہوں نے انکار کیا اور منہ موڑا اور بےنیاز ہوا اللہ۔ “{ وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی ۔ } (اللیل) ” اور وہ جس نے بخل کیا اور بےپروا ہوا۔ “ ترکیب : مرکب توصیفی ” قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ“ اور مفرد ” مَغْفِرَۃٌ“ یہ دونوں مبتدأ نکرہ ہیں اور ” خَیْرٌ“ اس کی خبر ہے۔ ” خَیْرٌ“ افعل التفضیل ہے اور ” مِنْ “ کے ساتھ آیا ہے اس لیے یہ واحد ہی رہے گا۔ ” صَدَقَۃٍ “ نکرہ موصوفہ ہے۔” یَتْبَعُ “ کا فاعل ” اَذًی “ ہے اس لیے یہاں پر یہ محلاً مرفوع ہے۔
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اُس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایما ن رکھتا ہے، نہ آخرت پر اُس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے

[ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تُبْطِلُوْا : تم لوگ باطل مت کرو ] [صَدَقٰـتِکُمْ : اپنے صدقات کو ] [ بِالْمَنِّ : احسان جتانے سے ] [وَالْاَذٰی : اور ستانے سے ] [کَالَّذِیْ : اس کی مانند جو ] [یُنْفِقُ : خرچ کرتا ہے ] [مَالَہٗ : اپنے مال کو ] [رِئَــآئَ النَّاسِ : لوگوں کو دکھاتے ہوئے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَا یُؤْمِنُ : وہ ایمان نہیں لاتا ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن (آخرت) پر ] [فَمَثَلُہٗ : تو اس کی مثال ] [کَمَثَلِ صَفْوَانٍ : ایک ایسے صاف پتھر کی مثال کی مانند ہے ] [عَلَیْہِ : جس پر ] [تُرَابٌ : کچھ مٹی ہے ] [فَاَصَابَہٗ : پھر آ لگی اس کو ] [وَابِلٌ : ایک موٹی بوندوں والی بارش ] [فَتَرَکَہٗ : تو اس نے چھوڑا اس کو ] [صَلْدًا : چمکتا ہوا ] [لاَ یَقْدِرُوْنَ : وہ لوگ قابو نہیں پاتے ] [عَلٰی شَیْئٍ : کسی چیز پر ] [مِّمَّا : اس میں سے جو ] [کَسَبُوْا : انہوں نے کمایا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [لاَ یَہْدِی : ہدایت نہیں دیتا ] [الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ : ناشکری کرنے والے لوگوں کو ] ت رب تَرِبَ (س) تَرَبًا : کسی چیز کو مٹی لگنا ‘ خاک آلود ہونا۔ مَتْرَبَۃً : محتاج ہونا۔ مَتْرَبَۃٌ (اسم ذات بھی ہے) : محتاجی۔ { اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ } (البلد) ” یا کسی مسکین محتاجی والے کو۔ “ تُرَابٌ (اسم ذات) : مٹی۔ آیت زیر مطالعہ۔ تَرِیْـبَۃٌ ج تَرَائِبُ : سینے کی پسلی۔ { یَخْرُجُ مِنْم بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ ۔ } (الطارق) ” وہ نکلتا ہے پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے۔ “ تِرْبٌ ج اَتْرَابٌ : ایک مٹی میں کھیلے ہوئے ‘ ہم عمر۔ { وَکَوَاعِبَ اَتْرَابًا ۔ } (النبأ) ” اور ہم عمر عورتیں۔ “ و ب ل وَبُلَ (ک) وَبَلًا : کسی چیز کا سخت ہونا ‘ نقصان دہ ہونا۔ وَابِلٌ : بڑے بڑے اور وزنی قطروں والی بارش ۔ آیت زیر مطالعہ۔ وَبَالٌ : نقصان ‘ برا انجام ‘ سزا۔ { لِیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ ط } (المائدۃ :95) ” تاکہ وہ چکھے سزا اپنے کام کی۔ “ وَبِیْلٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : سخت ‘ نقصان دہ ‘ مُضر۔{ فَاَخَذْنٰـہُ اَخْذًا وَّبِیْلًا ۔ } (المزّمّل) ” تو ہم نے پکڑا اس کو ایک سخت پکڑ میں۔ “ ص ل د صَلَدَ (ض) صَلْدًا : گنجے سر کا چمکنا ‘ پتھر کا چکنا اور چمکدار ہونا۔ صَلْدٌ (اسم ذات بھی ہے) : چکنا اور چمکدار پتھر۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” یُنْفِقُ “ کا مفعول ” مَالَہٗ “ ہے جبکہ ” رِئَائَ النَّاسِ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” وَلَا یُؤْمِنُ “ کا ” وائو “ حالیہ ہے۔ ” صَفْوَانٍ “ نکرہ موصوفہ ہے۔ ” تُرَابٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی خبر ” مَوْجُوْدٌ“ محذوف ہے اور ” عَلَیْہِ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ اس کی ضمیر ” صَفْوَانٍ “ کے لیے ہے۔ ” فَاَصَابَہٗ “ کی ضمیر مفعولی بھی ” صَفْوَانٍ “ کے لیے ہے اور اس کا فاعل ” وَابِلٌ“ ہے۔ ” صَلْدًا “ حال ہے۔