Ayah 2:31[ وَعَلَّمَ : اور اس نے تعلیم دی ] [ اٰدَمَ : آدم کو ] [ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا : تمام چیزوں کے نام کی ] [ ثُمَّ عَرَضَھُمْ : پھر اس نے پیش کیا ان کو ] [ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَةِ ۙ : فرشتوں پر ] [ فَقَالَ : تو کہا ] [ اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ : تم لوگ بتاؤ مجھ کو ] [ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ : ان چیزوں کے نام ] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [ صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے ]
Ayah 2:32[ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ سُبْحٰــنَكَ : پاک ہونا تیرا ہے ] [ لَاعِلْمَ لَنَآ : ہمیں کوئی علم نہیں ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو ] [ عَلَّمْتَنَا ۭ : تو نے تعلیم دی ہم کو ] [ اِنَّكَ اَنْتَ : بیشک تو ہی ] [ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ : حقیقی جاننے والا دانا ہے ]
Ayah 2:33[ قَالَ : اس نے کہا ] [ يٰٓاٰدَمُ : اے آدم ] [ اَنْۢبِئْـھُمْ : آپ بتائیں ان کو ] [ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ ۚ : ان کے نام ] [ فَلَمَّآ : تو جب ] [ اَنْۢبَاَھُمْ : انہوں نے بتایا ان کو ] [ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ ۙ : ان کے نام ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ اَلَمْ اَقُلْ : کیا میں نے نہیں کہا تھا ] [ لَّكُمْ : تم لوگوں سے ] [ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ : کہ میں جانتا ہوں ] [ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کے غیب کو ] [ وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں ] [ مَا : وہ جو ] [ تُبْدُوْنَ : تم لوگ ظاہر کرتے ہو ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ : تم لوگ چھپاتے ہو ]
Ayah 2:34[ وَاِذْ قُلْنَا : اور جب ہم نے کہا ] [ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [ اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [ لِاٰدَمَ : آدم کو ] [ فَسَجَدُوْٓا : تو ان لوگوں سجدہ کیا ] [ اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ : سوائے ابلیس کے ] [ اَبٰى: اس نے انکار کیا ] [ وَاسْتَكْبَرَ ڭ : اور اس نے بڑائی چاہی ] [ وَكَانَ : اور وہ تھا ] [ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں میں سے ]
Ayah 2:35[ وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ يٰٓاٰدَمُ : اے آدم ] [ اسْكُنْ : سکونت اختیار کرو ] [ اَنْتَ وَزَوْجُكَ : تم اور تمہاری زوجہ ] [ الْجَنَّةَ : اس جنت میں ] [ وَكُلَا : اور تم دونوں کھاؤ ] [ مِنْهَا : اس میں سے ] [ رَغَدًا : جی بھر کے ] [ حَيْثُ شِـئْتُمَـا ۠ : جہاں سے تم دونوں چاہو ] [ وَلَا تَـقْرَبَا : اور تم دونوں نزدیک مت جانا ] [ ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ : اس درخت کے ] [ فَتَكُوْنَا : ورنہ تم دونوں ہوجاؤ گے ] [ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں میں سے ]
Ayah 2:36[ فَاَزَلَّهُمَا : تو پھسلا دیا ان دونوں کو ] [ الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ عَنْهَا : اس سے ] [ فَاَخْرَجَهُمَا : پھر اس نے نکالا ان دونوں کو ] [ مِمَّا كَانَا فِيْهِ ۠ : اس سے وہ دونوں تھے جس میں ] [ وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ اھْبِطُوْا : تم لوگ اترو ] [ بَعْضُكُمْ : تم میں کا کوئی ] [ لِبَعْضٍ : کسی کے لیے ] [ عَدُوٌّ ۚ : دشمن ہے ] [ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ : اور تمہارے لیے زمین میں ہے ] [ مُسْـتَقَرٌّ: ایک ٹھہرنے کی جگہ ] [ وَّمَتَاعٌ: اور برتنے کا کچھ سامان ] [ اِلٰى حِيْنٍ : ایک عرصہ کے لیے ]
Ayah 2:37[ فَتَلَـقّيٰٓ: تو سیکھ لیے ] [ اٰدَمُ : آدم نے ] [ مِنْ رَّبِّهٖ : اپنے رب سے ] [ كَلِمٰتٍ : کچھ الفاظ ] [ فَتَابَ عَلَيْهِ ۭ : تو اس نے توبہ قبول کی ان کی ] [ اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ : یقینا وہ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 2:38[ قُلْنَا : ہم نے کہا ] [ اھْبِطُوْا : تم لوگ اترو ] [ مِنْهَا : اس سے ] [ جَمِيْعًا ۚ : سب کے سب ] [ فَاِمَّا : پھر جب کبھی بھی ] [ يَاْتِيَنَّكُمْ : آئے تمہارے پاس ] [ مِّـنِّىْ : مجھ سے ] [ ھُدًى: کوئی ہدایت ] [ فَمَنْ : پس جس نے ] [ تَبِعَ : پیروی کی ] [ ھُدَاىَ : میری ہدایت کی ] [ فَلَا خَوْفٌ: تو کوئی خوف نہیں ہے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ وَلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [ يَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ]
Ayah 2:39[ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور جن لوگوں نے انکار کیا ] [ وَكَذَّبُوْا : اور جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَآ : ہماری نشانیوں کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ : آگ والے ہیں ] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Ayah 2:40[ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے اسرائیل کے بیٹو ] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَتِىَ : میری نعمت کو ] [ الَّتِىْٓ: جس کو کہ ] [ اَنْعَمْتُ : میں نے انعام کیا ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ وَاَوْفُوْا : اور تم لوگ پورا کرو ] [ بِعَهْدِىْٓ: میرے عہد کو ] [ اُوْفِ : تو میں پورا کروں گا ] [ بِعَهْدِكُمْ ۚ : تمہارے عہد کو ] [ وَاِيَّاىَ : اور صرف مجھ سے ہی ] [ فَارْھَبُوْنِ : تم لوگ خوف کرو میرا ]
Ayah 2:41[ وَاٰمِنُوْا : اور تم لوگ ایمان لاؤ ] [ بِمَآ : اس پر جو ] [ اَنْزَلْتُ : میں نے نازل کیا ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ ہو ] [ وَلَا تَكُوْنُوْٓا : اور تم لوگ مت ہو ] [ اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ ۠ : اس کا انکار کرنے والے کے پہلے ] [ وَلَا تَشْتَرُوْا : اور تم لوگ مت خریدو ] [ بِاٰيٰتِىْ : میری آیات کے بدلے ] [ ثَـمَنًا قَلِيْلًا : تھوڑی قیمت کو ] [ وَاِيَّاىَ : اور صرف مجھ سے ہی ] [ فَاتَّقُوْنِ : میرا تقوی کرو ]
Ayah 2:42[ وَلَا تَلْبِسُوا : اور تم لوگ خلط ملط مت کرو ] [ الْحَقَّ : حق کو ] [ بِالْبَاطِلِ : باطل کے ساتھ ] [ وَتَكْتُمُوا : اور تم لوگ مت چھپاؤ ] [ الْحَــقَّ : حق کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جانتے ہو ]
Ayah 2:43[ وَاَقِيْمُوا : اور تم لوگ قائم کرو ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَاٰتُوا : اور تم لوگ پہنچاؤ ] [ الزَّكٰوةَ : زکوۃ کو ] [ وَارْكَعُوْا : اور تم لوگ رکوع کرو ] [ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ : رکوع کرنے والوں کے ساتھ ]
Ayah 2:44[ اَتَاْمُرُوْنَ : کیا تم لوگ ترغیب دیتے ہو ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ بِالْبِرِّ : نیکی کی ] [ وَتَنْسَوْنَ : اور تم لوگ بھول جاتے ہو ] [ اَنْفُسَكُمْ : اپنے آپ کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ : تم لوگ تلاوت کرتے ہو الْكِتٰبَ ۭ: کتاب کی ] [ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم لوگ سوچ سمجھ سے کام نہیں لیتے ]
Ayah 2:45[ وَاسْتَعِيْنُوْا : اور تم لوگ (اللہ سے) مدد مانگو ] [ بِالصَّبْرِ : ثابت قدمی کے ذریعے ] [ وَالصَّلٰوةِ ۭ : اور نماز کے ذریعے ] [ وَاِنَّهَا : اور یقینا یہ ] [ لَكَبِيْرَةٌ: بھاری ہے ] [ اِلَّا : سوائے ] [ عَلَي الْخٰشِعِيْنَ : فروتنی کرنے والوں پر ]
Ayah 2:46[ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يَظُنُّوْنَ : خیال کرتے ہیں ] [ اَنَّھُمْ : کہ وہ لوگ ] [ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ : اپنے رب کی ملاقات کرنے والے ہیں ] [ وَاَنَّھُمْ : اور یہ کہ وہ لوگ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ہی ] [ رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے ہیں ]
Ayah 2:47[ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے اسرائیل کے بیٹو ] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَتِىَ : میری نعمت کو ] [ الَّتِىْٓ: جس کو کہ ] [ اَنْعَمْتُ : میں نے انعام کیا ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ وَاَنِّىْ : اور یہ کہ ] [ فَضَّلْتُكُمْ : میں نے فضیلت دی تم لوگوں کو ] [ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ : سب جہانوں پر ]
ض ل
فضلا (ن): کسی چیز کا اوسط یا حق سے زیادہ ہونا، یہ پسندیدہ بھی ہے جیسے علم یا رتبہ میں زیادہ ہونا، اور ناپسندیدہ بھی ہے جیسے غصے وغیرہ میں زیادہ ہونا، عام طور پر پسندیدہ چیز کے لیے فضل اور ناپسندیدہ چیز کے لیے فضول کا لفظ استعمال ہوتا ہے، قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوا۔
فضل : اسم ذات ہے ، حق سے زیادہ دی ہوئی چیز، قل ان الفضل بیداللہ یوتیہ من یشاء (آپ کہہ دیجیے یقینا کل کا کل فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے) 73/3 ۔ وان تعفوا اقرب للتقوی ولا تنسوا الفضل بینکم (اور یہ کہ تم لوگ درگزر کرو تو یہ زیادہ قریب ہے تقوی سے اور تم لوگ مت بھولو حق سے زیادہ چیز کو آپس میں) 237/2
تفضیلا (تفعیل) : کسی پسندیدہ چیز میں کسی کو زیادہ کرنا۔ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ (یہ رسول ہیں، ہم نے فضیلت دی ان میں سے بعض کو بعض پر) 253/2 ۔ وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ (اور اللہ نے زیادہ کیا تم میں سے کسی کو کسی پر رزق میں) 71/16 ۔
نوٹ 1: دنیاوی اقتدار، حکومت، مال و دولت وغیرہ فضیلت کی علامت نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ چیزیں مومن اور کافر سب کے حصے میں آتی ہیں، اس پہلو سے بنوا اسرائیل کی اپنی تاریخ بھی عروج و زوال کا مرکب رہی ہے ، اس آیت میں ان کی جس فضیلت کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ ہزاروں سال تک وہ دنیا کی راہنمائی کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ ان کی اسی ذمہ داری کے پیش نظر ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا اور مختلف انعام سے نوازا جاتا رہا۔
نوٹ 2: تمام عالم پر فضیلت کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اس منصب پر فائز ہے، ان کو تمام عالم پر فضیلت حاصل رہی۔ اور اس منصب سے معزول ہونے کے بعد یہ فضیلت بھی ختم ہوگئی اور اب امت محمد ﷺ کو منتقل ہوگئی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے ، کہ تم سترویں امت ہو اور سب سے بہتر اور بزرگ ہو۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:48[ وَاتَّقُوْا : اور تم لوگ بچو ] [ يَوْمًا : ایک ایسے دن سے جب ] [ لَّا تَجْزِىْ : کام نہیں آئے گی ] [ نَفْسٌ: کوئی جان ] [ عَنْ نَّفْسٍ : کسی جان کے ] [ شَـيْــــًٔـا : کچھ بھی ] [ وَّلَا يُقْبَلُ : اور قبول نہیں کی جائے گی ] [ مِنْهَا : اس سے ] [ شَفَاعَةٌ: کوئی سفارش ] [ وَّلَا يُؤْخَذُ : اور نہیں لیا جائے گا ] [ مِنْهَا : اس سے ] [ عَدْلٌ: بدلے میں کچھ ] [ وَّلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [ يُنْصَرُوْنَ : مدد دیے جائیں گے ]
ج ز ی
جزاء (ض) کسی چیز کا کسی کے لیے کافی ہونا، حق ادا کرنا، بدلہ دینا۔ لِّيَجْزِيَ اللّٰهُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَاۗءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ (تاکہ حق ادا کرے یعنی بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کے سبب سے اور تاکہ وہ عذاب دے منافقوں کو یا ان کی توبہ قبول کرے) 24/33
جاز : اسم الفاعل ہے ، بدلہ دینے والا، حق ادا کرنے والا، کافی ہونے والا۔ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا (اور نہ کوئی اولاد کافی ہونے والی ہے اپنے والدہ کے لیے کچھ بھی) 33/31
جزاء : اسم ذات ہے ، وہ چیز جو کافی ہو، حق، بدلہ۔ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ (تو اس کا کیا بدلہ ہے جو یہ کرتے تم میں سے) 85/2
جزیۃ : اسم ذات ہے ، امان کا بدلہ جو غیر مسلم اسلامی حکومت کو دیتے ہیں۔ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ (یہاں تک کہ وہ لوگ جزیہ ادا کریں ہاتھ سے) 29/9
ق ب ل
قبلا (ن) : کسی کی طرف توجہ کرنا، قرآن مجید میں اس باب سے فعل استعمال نہیں ہوا۔
قبلا (ف) : کسی چیز کا نزدیک ہونا، قریب ہونا، پہلے واقع ہونا، قرآن مجید میں اس باب سے بھی فعل استعمال نہیں ہوا۔
قبولا (س) : کسی چیز کو لے لینا، قبول کرنا۔ اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ (کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی قبول کرتا ہے توبہ کو اپنے بندوں سے) 104/9
قابل : اسم الفاعل ہے ، قبول کرنے والا۔ غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ (گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا) 3/40
قبل : مصدر کے علاوہ ظرف زمان بھی ہے ۔ پہلے اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ (سوائے اس کے جو حرام کیا اسرائیل نے یعنی یعقوب نے اپنے آپ پر اس سے پہلے کہ اتاری جاتی تورات) 93/3
قبل : کسی چیز کا آگے کا حصہ۔ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ (اگر اس کی قمیض پھٹی ہے آگے سے تو عورت نے سچ کہا اور وہ جھوٹوں میں سے ہے) 26/12
قبل : یہ دو معانی میں آتا ہے (1) طرف۔ سمت اور (2) طاقت۔ قدرت۔ لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (نیکی یہی نہیں ہے کہ تم لوگ پھیر لو اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف) 177/2 ۔ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا (تو ہم لازما پہنچیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کے ساتھ جس پر کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں ہوگی ان کو) 37/27
قبلۃ : اسم ذات ہے، وہ چیز جس کی طرف متوجہ ہوا جائے یا رخ کیا جائے۔ قبلہ۔ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْاعَلَيْهَا (کس چیز نے پھیرا ان کو ان کے قبلے سے جس پر وہ تھے) 142/2
قبیل : ج قبائل، فعیل کا وزن ہے۔ ایک نسل کے افراد کا گروہ یا جماعت، قبیلہ (کیونکہ نسلی اعتبار سے ان میں ہمیشگی کا قربت کا مفہوم ہوتا ہے) ۔ ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ (بیشک وہ دیکھتا ہے تم لوگوں کو اور وہ اس کا قبیلہ وہاں سے جہاں تم لوگ نہیں دیکھتے ان کو) 27/7 ۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا (اے لوگو، بیشک ہم نے تم کو پیدا کیا ایک مرد اور ایک عورت سے اور بنایا تم کو شاخیں اور قبیلے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو) 13/49
اقبالا (افعال) ۔ کسی کے سامنے ہونا۔ فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَلَاوَمُوْنَ (تو سامنے ہوئے ان میں سے ایک دوسرے کے، باہم ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہوئے) 30/28 ۔
اقبل : فعل امر ہے، تو سامنے ہو، سامنے آ۔ يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ (اے موسیٰ سامنے آ اور مت ڈر) 31/28
تقبلا، (تفعل): اس طرح قبول کرنا جس میں معاوضہ دینا شامل ہو۔ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (اس نے کہا اللہ تو بس قبول کرتا ہے متقی لوگوں سے) 27/5
تقبل : فعل امر ہے، تو قبول کر۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (اے ہمارے رب، تو قبول فرما ہم سے بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے) 127/2
تقابلا، (تفاعل): ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہونا، آمنے سامنے ہونا۔
متقابل : اسم الفاعل ہے، آمنے سامنے ہونے والا۔ عَلٰي سُرُرٍ مُّتَـقٰبِلِيْنَ (تختوں پر آمنے سامنے ہونے والے) 44/37
استقبال (استفعال) : کسی کی طرف متوجہ ہونا، کسی کے سامنے آنا۔
مستقبل : اسم فاعل ہے، سامنے آنے والا۔ فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِهِمْ (پھر جب دیکھا اس کو بادل جیسا، ان کے نالوں کے سامنے آنے والا) 24/46
شع
شفعا اور شفاعۃ (ف): (1) کسی چیز کو جوڑا بنانا، جفت کرنا (2) سفارش کرنا، سفارش کرنے والا اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے جس کی وہ سفارش کرتا ہے) ۔ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ (کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کی اجازت سے) 255/2
شفع : ایسا عدد جو دو سے تقسیم ہوجائے، جفت۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (قسم ہے جفت کی ، قسم ہے طاق کی) 3/89
شفاعۃ : اسم ذات ہے، سفارش۔ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ (تو نفع نہیں دے گی ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش) 48/74
شفیع : ج شفعاء۔ فعیل کا وزن ہے، ہمیشہ اور ہر حال میں سفارش کرنے والا۔ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيْعٌ (اس کے لیے نہیں ہے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا) 70/6 ۔ وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ (اور وہ لوگ بندگی کرتے ہیں اللہ کے سوا ان کی جو نقصان نہیں دیتے ان کو اور نہ ہی ان کو نفع دیتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہماری سفارش کرنے والے ہیں اللہ کے پاس) 18/10
ء خ ذ
اخذا (ن) : کسی چیز کا احاطہ کرنا، اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ پکڑنا، لینا، غالب آنا۔ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ (اور اس نے پکڑا اپنے بھائی کے سر کو) 150/7 ۔ وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ (اور لے چکا ہے اللہ بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ) 12/5 ۔ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ (اور غالب نہیں آتی اس پر اونگھ اور نہ ہی نیند) 255/2
خذ : فعل امر ہے، تو پکڑ، تو لے ۔ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً (آپ لیں ان کے مال میں سے صدقہ) 103/9
آخذ : اسم الفاعل ہے، پکڑنے والا، لینے والا۔ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ (اور تم لوگ نہیں ہو اس کو لینے والے مگر یہ کہ تم لوگ چشم پوشی کر اس سے) 267/2 ۔
مواخذۃ (مفاعلہ) کسی کو کسی غلطی پر پکڑنا، جواب طلبی کرنا۔ قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِيْ بِمَا نَسِيْتُ (اس نے کہا تم جواب طلبی نہ کرو مجھ سے اس کے سبب سے جو میں بھول گیا) 73/18
اتخاذا (افتعال) : کسی کو کچھ بنانا۔ (یعنی اہتمام سے پکڑنا) جیسے دوست بنانا۔ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا (اور بنایا اللہ نے ابراہیم کو دوست) 125/4
اتخذ : فعل امر ہے، تو بنا۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا (کوئی الہ نہیں سوائے اس کے ، پس تو بنا اس کو وکیل یعنی کام بنانے والا) 9/73 ۔ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى (اور تم لوگ بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے نماز کی جگہ) 125/2
متخذ : اسم فاعل ہے، بنانے والا۔ ۠وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا (اور میں نہیں ہوں گمراہ کرنے والوں کو بنانے والا بازو یعنی مشیر) 51/18
ع د ل
عدلا (ض) برابری کرنا، انصاف کرنا، وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں برابری کروں تمہارے مابین) 15/42
اعدل : فعل امر ہے، تو برابر کر، تو انصاف کر، وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي (اور جب بھی تم لوگ بولو تو انصاف کرو اس حال میں کہ چاہے وہ ہو تمہارا قرابت والا) 152/6
عدل : اسم ذات ہے، کسی چیز کے برابر کی کوئی دوسری چیز، عدل، انصاف وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ (اور قبول نہیں کی جائے گی اس سے برابر کی کوئی چیز اور نفع نہیں دے گی اس کو کوئی سفارش) 123/2
ن ص ر
نصرا : (ن) کسی کی مدد کرنا۔ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ (اور مدد کی ہے تمہاری اللہ نے بدر میں) 123/3
نصر : اسم ذات بھی ہے، مدد ۔ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (سن لو، یقینا اللہ کی مدد قریب ہے) 214/2
انصر : فعل امر ہے، تو مدد کر۔ وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ (اور تو جما دے ہمارے قدموں کو اور تو مدد کر ہماری کافر قوم پر) 250/2
ناصر : ج ناصرون اور انصار۔ اسم الفاعل ہے، مدد کرنے والا، مددگار۔ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ (ہم نے ہلاک کیا ان کو تو کسی قسم کا کوئی مددگار نہیں ہے ان کے لیے) 13/47 ۔ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ (حواریوں نے کہا ہم اللہ کی مدد کرنے والے ہیں) 14/61 ۔
نصیر : فعیل کا وزن ہے، ہمیشہ اور ہر حال میں مدد کرنے والا۔ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ ۭنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ (پس جان لو کہ اللہ تمہارا مولی ہے، کیا ہی اچھا مولی اور کیا ہی اچھا مددگار) 40/8 ۔
منصور : اسم المفعول ہے، مدد کیا ہوا۔ فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا (پس اسے چاہیے کہ زیادتی نہ کرے قتل میں یقینا وہ مدد کیا ہوا ہے) 33/17
نصرانی : ج نصرا۔ اسم نسبت ہے، مدد والا، اصطلاحا یہ عیسائی لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاید اس لیے کہ عیسیٰ کے حواریوں نے کہا تھا " نحن انصار اللہ "۔ مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا (ابراہیم یہودی نہیں تھے اور نہ ہی نصرانی) 67/3 ۔ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰي شَيْءٍ (اور کہا یہودیوں نے کہ نہیں ہیں عیسائی کسی چیز پر) 113/2
تناصرا (تفاعل) : ایک دوسرے کی مدد کرنا، مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ (تم لوگوں کو کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) 25/37
انتصار (افتعال): اہتمام سے کود اپنی مدد کرنا، بدلہ لینا۔ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ (اور بیشک جس نے بدلہ لیا اپنے ظلم کے بعد تو وہ لوگ ہیں کہ ان پر کوئی راہ نہیں ہے یعنی گرفت نہیں ہے) 41/42
انتصر : فعل امر ہے، تو بدلہ لے۔ فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ (تو اس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوں پس تو بدلہ لے) 10/54
منتصر : اسم الفاعل ہے، بدلہ لینے والا۔ اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ (یا یہ لوگ کہتے ہیں ہم بدلہ لینے والی جمعیت ہیں) 44/54
استنصارا (استفعال): مدد مانگنا۔ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ (اور اگر وہ لوگ مدد مانگیں تم لوگوں سے دین میں تو تم لوگوں پر ہے یعنی لازم ہے مدد کرنا) 72/8
ترکیب :
وَاتَّقُوْا فعل امر ہے اور اس میں شامل انتم کی ضمیر اس کا فاعل ہے۔ يَوْمًا اس کا مفعول ہے اور نکرہ موصوفہ ہے۔ آیت کا اگلا حصہ يَوْمًا کی صفت بیان کر رہا ہے۔ لَّا تَجْزِىْ کا فاعل نَفْسٌ اور شَـيْــــًٔـا اس کا مفعول ہے۔ لَا يُقْبَلُ مِنْهَا اور لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا میں ھَا کی ضمیر نفس کے لیے ہے۔ شَفَاعَةٌ اور عَدْلٌ نائب فاعل ہیں۔ شَفَاعَةٌ مونث غیر حقیقی ہے اس لیے اس کا فعل تُقْبَلُ کے بجائے يُقْبَلُ بھی درست ہے۔
نوٹ 1: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی نکرہ کی کوئی خصوصیت ایک یا چند فقروں یا جملوں میں بیان کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ نکرہ محض نکرہ نہیں رہتا۔ اسے نکرہ موصوفہ مخصوصہ کہتے ہیں۔ اس بات کو اردو کی مثال سے سمجھ لیں، ہم کہتے ہیں ایک ٹھنڈا دن، اب یہ کسی بھی ٹھنڈے دن کی بات ہوسکتی ہے ، اس لیے اس فقرہ میں دن کا لفظ محض نکرہ ہے ، اسے نکرہ محضہ کہتے ہیں، لیکن اگر ہم کہیں ایک ایسا ٹھنڈا دن جب پانی جم جائے، اس فقرہ میں بھی دن کا لفظ نکرہ ہے کیونکہ ایسا ٹھنڈا دن کوئی بھی دن ہوسکتا ہے ، لیکن عام ٹھنڈے دنوں کی بنسبت اس دن کی ایک خصوصیت بھی ہے ۔ اس لیے اس فقرہ میں دن کا لفظ نکرہ محضہ نہیں رہا بلکہ نکرہ موصوفہ مخصوصہ ہوگیا۔
اسی طرح سے آیت زیر مطالعہ میں یوما کا لفظ نکرہ آیا ہے کیونکہ یہ ایک غیر معین دن ہے ، لیکن جب بھی یہ دن وقوع پذیر ہوگا تو کچھ خصوصیات کا حامل ہوگا، اس لیے یہ نکرہ محضہ نہیں ہے بلکہ نکرہ موصوفہ مخصوصہ ہے۔ ترجمہ کرتے وقت اس فرق کا لحاظ کرنا ہوتا ہے۔
نوٹ 2: اس آیت میں لفظ شیئا کے استعمال کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں مفعول مطلق کا استعمال اور مفہوم سمجھنا ہوگا، ہم کہتے ہیں میں نے اس کو مارا یعنی ضربتہ، یہ ایک سادہ جملہ ہے لیکن اگر ہم کہتے ہیں میں نے اس کو ٹھیک ٹھاک مار ماری یعنی وہ مار ماری کہ اس کی سات پشتیں یاد کریں گی تو عربی کے جملہ میں یہ انداز پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس فعل کا ذکر ہو اسی فعل کا مصدر بطور مفعول لے آتے ہیں اور کہتے ہیں ضربتہ ضربا، اب اس میں ضربت کے بعد ہ اصل مفعول ہے اور ضربا مفعول مطلق ہے جس کی وجہ سے بات میں بہت زور پیدا ہوگیا ہے، اسی طرح سے جزیتہ جزاء یعنی میں نے اس کو بدلہ دیا جیسا بدلہ دیتے ہیں یا جیسا بدلہ دینے کا حق ہے۔
اب فرض کریں یہی بات ہم منفی انداز میں کہنا چاہتے ہیں کہ میں نے اس کو بالکل نہیں مارا یعنی چھوا تک نہیں، تو اس کے لیے ما ضربتہ ضربا نہیں کہیں گے ، بلکہ منفی جملہ میں مفعول مطلق کے طور پر فعل کا مصدر لانے کے بجائے عام طور پر لفظ شیئا لے آتے ہیں، اس لیے کہں گے ماضربتہ شیئا، میں نے اس کو کچھ بھی نہیں مارا، اسی سے ماجزیتہ جزاءہ کے بجائے ما جزیتہ شیئا کہیں گے ، میں نے اس کو کچھ بھی بدلہ نہیں دیا۔
نوٹ 3 : اب نوٹ کریں کہ آیت میں اصل جملہ تھا لا تجزی فیہ نفس عن نفس جزاء، اس میں فیہ محذوف کردیا اور مفعول مطلق کے طور پر جزاء کے بجائے شیئا آیا ہے۔ یعنی کوئی جان کسی جان کے کچھ بھی کام نہ آئے گی یا بدلہ میں ذرہ برابر بھی کوئی چیز نہ دے گی۔
نوٹ 4 : اس آیت سے بھی اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں کسی قسم کی کوئی شفاعت نہیں ہوگی۔ لیکن دوسری طرف قرآن مجید کے ہی دوسرے مقامات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت ہوگی۔ اس مسئلہ کے ہر پہلو پر غور کرنے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے (واللہ اعلم بالصواب)
1 : سب سے پہلے شفاعت عامہ کا مرحلہ ہے، یہ وہ وقت ہے جب میدان حشر میں لوگ حساب کتاب شروع ہونے کے منتظر ہوں گے، یہ بہت سخت مرحلہ ہوگا، کچھ لوگوں پر انتظار کی گھبراہٹ اس درجہ طاری ہوگی کہ وہ کہیں گے کہ یا اللہ تو ہمیں جہنم میں ڈال دے لیکن اس انتظار سے نجات دے۔ اس وقت شفاعت عامہ کا حق ہمارے نبی کریم ﷺ کو ملے گا اور آپ کی سفارش کے نتیجے میں حساب کتاب شروع ہوگا۔
2 : حساب کتاب کے وقت کسی بھی ہستی یا کسی بھی شخص کو کسی قسم کی سفارش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید کے جن مقامات پر شفاعت کی کلیتا نفی کی گئی ہے ان کا تعلق غالبا اسی مرحلہ سے ہے۔
3 : حساب کتاب کا مرحلہ پورا ہونے کے بعد جب ہر شخص کی صحیح پوزیشن سامنے آجائے گی تو پھر کچھ لوگوں کو شفاعت کرنے کا حق ملے گا۔ ان میں انبیاء کرام کے علاوہ صدیقین، شہداء کرام، حفاظ کرام اور دیگر صالحین شامل ہوں گے۔ اس بات کو ہم اپنے دنیاوی رویہ کے حوالہ سے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی کے حمایتی اور سفارشی بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب صحیح بات سامنے آتی ہے تو ہم اس کی حمایت سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ اس حوالہ سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ قیامت میں شخصی شفاعت کا مرحلہ اس وقت شروع ہوگا جب ہر شخص کی صحیح پوزیشن واضح ہوجائے گی۔
4: شخصی شفاعت کے متعلق دو باتیں بہت صراحت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ اول یہ کہ ہر شخص شفاعت نہیں کرسکے گا۔ بلکہ صرف وہ لوگ شفاعت کریں گے جن کو اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے گا۔ دوم یہ کہ جس کو اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا وہ کسی ایسے شخص کی شفاعت نہیں کرے گا جو اس کا مستحق نہیں ہوگا۔
5 : شخصی شفاعت کے بعد جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں جاچکے ہوں گے تو حضور ﷺ کی امت کے لیے شفاعت عامہ کا مرحلہ آئے گا۔ حضور ﷺ تین مرتبہ سجدہ میں جائیں گے، ہر مرتبہ آپ کو اجازت ملے گی اور ہر مرتبہ آپ اپنے کچھ امتیوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے، آخری مرتبہ آپ فرمائیں گے کہ یا اللہ اب تو وہاں وہی لوگ رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے۔
6 : یہ بات خاص طور سے نوٹ کرلیں کہ جس کو قرآن مجید روک لے گا وہ حضور ﷺ کی شفاعت سے محروم رہے گا۔
7: اب ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ قیامت میں ہم خود کو کس گروہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ (1) ان لوگوں میں جو حضور ﷺ کی شفاعت سے محروم رہیں گے (2) یا ان لوگوں میں جن کو حضور ﷺ دوزخ سے نکال کر لائیں گے۔ (3) یا ان لوگوں میں جو میدان حشر میں کسی کی شفاعت کے محتاج ہوں گے (4) یا ان لوگوں میں جن میدان حشر میں کسی کی شفاعت کے بغیر جنت میں داخلہ کا پروانہ ملے گا۔ (5) یا ان لوگوں میں جن کو کسی کی شفاعت کرنے کا حق ملے گا۔ یہ فیصلہ کرتے وقت اپنی عزت نفس اور جنت کی سوسائٹی میں STATUS کے مسئلہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں اور اس کے مطابق اپنے عمل کو ڈھالنے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کریں۔
Ayah 2:49[ وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ : اور جب ہم نے نجات دی تم لوگوں کو ] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں سے ] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ لوگ تکلیف دیتے تھے تم کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ : برے عذاب کی ] [ يُذَبِّحُوْنَ : وہ لوگ ذبح کرتے تھے ] [ اَبْنَاۗءَكُمْ : تمہارے بیٹوں کو ] [ وَيَسْتَحْيُوْنَ : اور وہ لوگ زندہ رکھتے تھے ] [ نِسَاۗءَكُمْ ۭ : تمہاری عورتوں کو ] [ وَفِىْ ذٰلِكُمْ : اور اس میں تھی ] [ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ : تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ]
ن ج و
[ نجاۃ اور نجاء : (ن) ] کسی کا کسی چیز سے الگ ہوجانا، اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) رہائی پانا، نجات پانا (2) سرگوشی کرنا (کیونکہ یہ کام دوسروں سے الگ ہوکر کیا جاتا ہے) قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ (انہوں نے یعنی شعیب نے کہا آپ مت ڈریں، آپ نے نجات پائی ظالم قوم سے) (25/28) ۔ سرگوشی کے معنی میں ثلاثی مجرد سے فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
ناج : اسم الفاعل ہے، نجات پانے والا۔ وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا (اور انہوں نے یعنی یوسف نے کہا اس سے جس کے لیے انہوں نے خیال کیا کہ وہ نجات پانے والا ہے ان دونوں میں سے) 42/12
نجی : اسم نسبت ہے، سرگوشی والا۔ (یعنی جس سے سرگوشی کی جائے) ۔ وَقَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا (اور ہم نے قریب کیا اس کو سرگوشی والا ہوتے ہوئے) 52/19
نجوۃ : اسم ذات ہے، رہائی، نجات۔ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَى النَّارِ (میں بلاتا ہوں تم لوگوں کو نجات کی طرف اور تم لوگ بلاتے ہو مجھ کو آگ کی طرف) 41/40
نجوی : اسم ذات ہے، سرگوشی، کاناپھوسی۔ اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ (کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کی پوشیدہ بات کو اور ان کی سرگوشی کو) 78/9
انجاء (افعال) کسی کو رہائی دلانا، نجات دینا۔ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ (جب اس نے رہائی دلائی تم کو فرعون کے پیروکاروں سے) 6/14
تنجیۃ (تفعیل) کسی کو رہائی دلانا۔ نجات دینا۔ (اس میں تدریجا نجات دینے کا مفہوم ہوتا ہے) ۔ الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ (تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے نجات دی ہم کو ظالم قوم سے) 28/23
منج : اسم الفاعل ہے، نجات دینے والا۔ ۣاِنَّا مُنَجُّوْكَ وَاَهْلَكَ (بیشک ہم نجات دینے والے ہیں آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو) 33/29
مناجاۃ (مفاعلہ) : کسی سے سرگوشی کرنا، راز داری سے مشورہ دینا۔ اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً ۭ (اور جب بھی تم لوگ سرگوشی کرو رسول سے تو پیش کرو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کو یعنی پہلے صدقہ دو ) 12/58
تناجیا (تفاعل): باہم ایک دوسرے سے سرگوشی کرنا، باہم مشورہ کرنا۔ اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (جب بھی تم لوگ باہم مشورہ کرو تو مشورہ مت کرو گناہ اور زیادتی کے بارے میں) 9/58
ء و ل
اولا اور ماٰلا (ن): لوٹنا کسی چیز کا اپنے اصل کی طرف واپس ہونا۔ اس مادہ سے کوئی فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
اٰل : صفت ہے، کسی کے ساتھ تعلق والا۔ پیروکار FOLLOWER ۔ یہ کسی اہل علم اور کسی صاحب شرف ہستی کی طرف مضاف ہوکر آتا ہے۔ فَاَنْجَيْنٰكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ (تو ہم نے نجات دی تم کو اور غرق کیا فرعون کے پیروکاروں کو) 50/2
اول : مونث اولی۔ یہ افعل تفضیل میں افعل کے وزن پر اول بنتا ہے، لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے ہمزہ کا واؤ میں ادغام کر کے اول استعمال ہوتا ہے۔ معنی ہیں پہلا۔ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ (اور میں ایمان لانے والوں کا پہلا ہوں) 143/7 ۔ اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى (بیشک یہ پہلے صحیفوں میں ہے) 18/87
اولوا : والے ، جمع ہے اور ہمیشہ مضاف بن کر آتا ہے۔ قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ (انہوں نے کہا ہم قوت والے ہیں) 33/27
تاویلا (تفعیل) : کسی چیز کو اس کے اصل کی طرف واپس کرنا، لوٹانا، اس باب سے بھی قرآن مجید میں فعل استعمال نہیں ہوا۔
تاویل : مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے ، کسی چیز یا بات کا آخری انجام، انجام کار، خواب کی تعبیر۔ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (یہ بہتر ہے اور اچھا ہے بلحاظ انجام کار کے) 59/4 ۔ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ (اور اس طرح ہم نے سکونت دی یوسف کو زمین میں تاکہ ہم سکھائیں ان کو خوابوں کی تعبیر) 21/12
ر ع ن
(رباعی) (x ) یہ غیر عربی یعنی عجمی لفظ ہے جو عربی میں لیا گیا ہے۔
فراعنۃ ج فرعون : صفت ہے، سرکش، سرکشی کرنے والا۔
س و م
سوما (ن): کسی کا کسی چیز کی طلب میں کہیں جانا ، اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) مویشی کا چراگاہ میں جانا (2) اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی کو تکلیف دینا (3) پہچان مقرر کرنا تاکہ جب چاہے جاسکے یا حاصل کرسکے۔ وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ (اور جب سنا دیا تیرے رب نے کہ وہ لازما بھیجتا رہے گا ان پر قیامت کے دن تک اس کو جو تکلیف دے گا ان کو برے عذاب کی) 167/7
سیماء : اسم ذات ہے، علامت، نشان۔ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ ۚ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا (تو پہچانے گا ان کو ان کی علامت سے ، وہ لوگ نہیں مانگتے لوگوں سے لپٹتے ہوئے) 273/2 ۔ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (ان کا نشان ہے ان کے چہروں میں سجدوں کے اثر سے) 29/48
اسامۃ (افعال) : مویشی کو چراگاہ میں لے جانا، چرانا۔ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ (اور اس سے درخت ہیں، اس میں تم لوگ مویشی چراتے ہو) 10/16
تسویما (تفعیل) : نشان لگانا، نشان زدہ کرنا۔
مسوم : اسم الفاعل ہے، نشان لگانے والا۔ يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ (تو مدد کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے نشان لگانے والے ہوتے ہوئے) 125/3
مسوم : اسم المفعول ہے۔ نشان لگایا ہوا۔ لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍ ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ (تاکہ ہم بھیجیں ان پر کچھ پتھر گارے میں سے جو نشان لگے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس اسراف کرنے والوں کے لیے) 51 /34٫33
س و ء
سوءا (ن) ناپسندیدہ ہونا، برا ہونا، بگڑ جانا، (لازم) برا لگنا، کسی چیز کو بگاڑ دینا۔ (متعدی) ۔ فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا (پس جب وہ دیکھیں گے اس کو نزدیک تو بگاڑ دیئے جائیں گے ان لوگوں کے چہرے جنہوں نے کفر کیا) 27/67 ۔ اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ (اگر پہنچتی ہے آپ کو کوئی بھلائی تو وہ بری لگتی ہے ان کو) 50/9 ۔ ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ (پس جب آیا آخری وعدہ تاکہ وہ بگاڑ دیں تمہارے چہروں کو) 7/17
اسوء : مونث سوای۔ افعل تفضیل ہے، زیادہ برا یا سب سے برا۔ لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا (تاکہ اللہ دور کردے ان سے برے سے برے کام کو جو انہوں نے کیا) 35/39 ۔ ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ (پھر تھا انجام ان لوگوں کا جنہوں نے برا کیا، ا نتہائی برا، کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی نشانیوں کو) 10/30
سوء اور سوء : صفت ہے، برا، قبیح۔ الظَّاۗنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ (گمان کرنے والے اللہ کے بارے میں برا گمان) 6/48 ۔ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ (یہ لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے) 18/13
سیء : مونث سیئۃ، اسم ذات اور صفت دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ برائی، برا۔ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ (اور نہیں گھیرتا برا داؤ مگر اپنے اہل کو یعنی برائی کرنے والے کو) 43/35 ۔ وَاِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَّفْرَحُوْا بِھَا (اور اگر تم لوگوں کو پہنچے کوئی برائی تو وہ لوگ خوش ہوتے ہیں اس سے) 120/3 ۔ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً (اور کوئی سفارش کرتا ہے کوئی بری سفارش) 85/4
[ سوءۃ : اسم ذات ہے، ناپسندیدہ چیز، اصطلاحا انسانی لاش اور ستر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ (کیسے وہ چھپائے اپنے بھائی کی لاش کو) 31/5 ۔ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا (ہم نے اتارا ہے تم لوگوں پر لباش کو، وہ چھپاتا ہے تمہارے ستر کے حصوں کو اور آرائش ہے) 26/7
[ اساءۃ (افعال) : خراب کرنا، برائی کرنا۔ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا (اگر تم لوگ بھلائی کرو گے تو تم لوگ بھلائی کرو گے اپنے آپ سے اور اگر تم لوگ برائی کرو گے تو اس کے لیے یعنی اپنے آپ سے) 7/17 ۔ اوپر آیت نمبر 10/30 بھی دیکھ لیں۔
ع ذ ب
[ عذبا (ض) : پیاش کی شدت کی وجہ سے کچھ کھانے کے قابل نہ رہنا۔
[ عذبا (س) : پانی کا کائی دار ہونا۔
[ عذوبۃ (ک) : پانی کا میٹھا اور خوشگوار ہونا۔ (ثلاثی مجرد سے کوئی فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا)
[ عذب : صف ہے ، خوشگوار پانی، میٹھا پانی۔ وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ (اور وہ ہے جس نے ملائے دو سمندر ، یہ خوشگوار شیریں ہے اور یہ نمکین تلخ ہے) 53/25
[ عذاب : اسم ذات ہے، ہر وہ چیز جو انسان کو تکلیف دے، مشقت میں ڈالے، عذاب۔ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے ہے آخرت میں عظیم عذاب) 114/2
[ تعذیبا (تفعیل) : کسی کو تکلیف دینا، عذاب دینا۔ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ (اور کچھ دوسرے لوگ موقوف رکھے گئے اللہ کے فیصلے کے لیے، چاہے وہ عذاب دے ان کو اور یا وہ توبہ قبول کرے ان کی) 106/9
[ معذب : اسم الفاعل ہے، عذاب دینے والا۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (اور نہیں ہے اللہ ان کو عذاب دینے والا اس حال میں کہ وہ لوگ مغفرت طلب کرتے ہیں) 33/8
ذ ب ح
[ ذبحا (ف) : کسی جاندار کا گلا کاٹنا، ذبح کرنا۔ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً (بیشک اللہ حکم دیتا ہے تم لوگوں کو کہ تم لوگ ذبح کرو ایک گائے) 67/2
[ ذبح : قربانی کیا ہوا جانور۔ ذبیحہ۔ وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (اور ہم نے اس کو فدیہ میں دیا ایک عظیم ذبیحہ) 107/37
[ تذبیحا (تفعیل): کثرت سے ذبح کرنا۔ (آیت زیر مطالعہ)
ب ل و
[ بلاء (ن) : کسی کو آزمانا ، امتحان لینا ( یہ تکلیف اور آسودگی ، دونوں طرح کی آزمائش کے لیے استعمال ہوتا ہے) وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ (اور ہم نے آزمایا ان کو بھلائیوں سے اور برائیوں سے شاید کہ وہ پلٹ آئیں) 168/7
[ بلاء : اسم ذات ہے، آزمائش، امتحان۔ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ (بیشک یہ تو یقینا کھلا امتحان ہے) 106/37
[ بلی : کلمہ ایجاب ہے، کیوں نہیں۔ عموما کسی سوال کے جواب میں آتا ہے۔ سوال مثبت ہو یا منفی، دونوں کے جواب میں اس کا مفہوم مثبت ہی رہتا ہے۔ مثلا اگر سوال ہو کیا زید کھڑا ہے ؟ جواب میں بَلٰی (کیوں نہیں) کا مطلب ہوگا کہ زید کھڑا ہے۔ اگر سوال ہو، کیا زید کھڑا نہیں ہے ؟ تب بھی بَلٰی (کیوں نہیں) کا مطلب ہوگا کہ زید کھڑا ہے۔ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۭ قَالَ بَلٰي (اس نے کہا یعنی اللہ تعالیٰ نے پوچھا تو کیا آپ کو ایمان نہیں ؟ انہوں نے یعنی حضرت ابراہیم نے کہا کیوں نہیں یعنی ایمان ہے) 260/2
[ ابتلاء (افتعال) : اہتمام سے آزمانا ، آزمائش میں ڈالنا۔ وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ (اور جب آزمایا ابراہیم کو ان کے رب نے کچھ فرمانوں سے تو انہوں نے پورا کیا ان کو) 124/2
[ مبتل : اسم الفاعل ہے، آزمانے والا۔ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ (اس نے یعنی طالوت نے کہا یقینا اللہ آزمانے والا ہے تم لوگوں کو ایک نہر سے) 249/2
ع ظ م
[ عظومۃ : (ک) بڑا ہونا۔
[ اعظم : افعل التفضیل ہے، زیادہ بڑا۔ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا (اور جو تم لوگ آگے بھیجو گے اپنے لیے کسی بھلائی میں سے تو تم لوگ پاؤ گے اللہ کے پاس اس کو زیادہ اچھا اور زیادہ بڑا اجر کے لحاظ سے) 20/73
[ عظیم، فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بڑا (ہمیشہ اور ہر حال میں) ۔ ۭوَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) 105/2
[ عظما (ن) : ہڈی پر مارنا۔
[ عظم ج عظام : اسم ذات ہے، ہڈی۔ قَالَ رَبِّ اِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ ( اس نے کہا اے میرے رب بیشک کمزور ہوئی ہڈی میری) 4/19 ۔ (کیا گمان کرتا ہے انسان کہ ہم جمع نہ کرسکیں گے اس کی ہڈیوں کو) 3/75
[ اعظاما (افعال) : بڑا کرنا، بڑا بنانا۔ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَـيِّاٰتِهٖ وَيُعْظِمْ لَهٗٓ اَجْرًا (اور جو اللہ کا تقوی کرے گا تو وہ دور کردے گا اس سے اس کی برائیوں کو اور وہ بڑا کردے گا اس کے لیے اجر کو) 5/65
[ تعظیما (تفعیل): کسی کو بڑائی دینا، بڑائی تسلیم کرنا۔ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ (اور جس نے بڑائی تسلیم کی اللہ کے شعائر کی تو یقینا یہ دلوں کے تقوی سے ہے) 32/22
ترکیب :
نَجَّيْنَا فعل، اس میں شامل نَحنُ کی ضمیر فاعل ہے۔ كُمْ اس کا مفعول اور مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ متعلق فعل ہے۔ يَسُوْمُوْنَ فعل اور اس میں شامل ھُم کی ضمیر فاعل ہے۔ جو کہ ال فرعون کے لیے ہے۔ كُمْ اس کا مفعول اول اور سُوْۗءَ الْعَذَابِ مفعول ثانی ہے۔ يُذَبِّحُوْنَ اور يَسْتَحْيُوْنَ کی ضمیر فاعل بھی ال فرعون کے لیے ہیں اور یہ دونوں جملے يَسُوْمُوْنَ کا بیان یعنی وضاحت ہیں۔ فِىْ ذٰلِكُمْ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ بَلَاۗءٌ عَظِيْمٌ مرکب توصیفی اور مبتداء موخر نکرہ ہے۔ مِّنْ رَّبِّكُمْ متعلق خبر ہے۔
نوٹ 1: لفظ اٰل کے معنی دیے جاچکے ہیں اب نوٹ کریں کہ کسی کی ازواج، اولاد اور نسل کے لیے عموما ذریت یا اہل بیت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ال النبی میں کون لوگ شامل ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس میں اہل بیت شامل ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ جس بھی شخص نے شعوری طور پر اسلام کو قبول کیا اور اس پر عمل پیرا ہونے کی جدوجہد کی وہ ال النبی میں شامل ہے ، خواہ وہ حضور ﷺ کا رشتہ دار ہو یا نہ ہو۔ اور جس شخص کا اسلام سے تعلق سراسر تقلیدی ہے وہ آپ کی امت میں شامل ہے ال میں نہیں ہے ۔ امام جعفر صادق کی بھی یہی رائے ہے ۔
قرآن مجید کے مطالعہ سے بھی امام جعفر صادق کی رائے کی تصدیق ہوتی ہے ۔ حضرت ابراہیم ، آذر کی ذریت اور اہل بیت تھے ۔ حضرت نوح کا بیٹا ان کی ذریت اور اہل بیت تھا لیکن ال نہیں تھا۔ جب وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ڈوب رہا تھا تو نوح نے فریاد کی تھی کہ یا اللہ یہ میرے اہل میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ یہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کا عمل صالح نہیں ہے (46/11) اسی طرح سے ال فرعون میں، اس کے رشتہ دار اور غیر رشتہ دار، ایسے تمام لوگ شامل ہیں جو اس کے پیروکار تھے۔
اس ضمن میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اہل بیت یا ال النبی ہونے میں جو فضیلت ہے وہ قیامت میں ملے گی اور نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ عمل کی بنیاد پر ملے گی۔ اسے اس دنیا میں CASH کرنے کی کوشش کرنا خسارے کا سودا ہے۔ البتہ درود شریف پڑھتے وقت وعلی الہ میں پوری امت کا تصور کرلینا بہتر ہے۔ یعنی ہماری دعا یہ ہو کہ یا اللہ تو اپنے حبیب ﷺ کی امت پر شفقت فرما اور تقلیدی تعلق والوں کو بھی شعوری پیروی کی نعمت سے نواز دے۔
نوٹ 2: مادہ س و ء سے ماضی کا واحد مذکر غائب کا صیغہ ساء قرآن مجید میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے۔ لیکن زیادہ تر اس کا ترجمہ ماضی کے بجائے حال میں کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سمجھ لیں۔
ہم کہتے ہیں آدمی کھڑا ہے، یہ ایک خبر ہے، اس کا مطلب ہے کہ آدمی پہلے نہیں کھڑا تھا، اب کھڑا ہے اور بعد میں بھی کھڑا نہیں ہوگا۔ لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ آدمی جلدباز ہے تو یہ محض خبر نہیں ہے بلکہ ایک آفاقی صداقت کا بیان بھی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ماضی میں بھی جلد باز تھا۔ حال میں بھی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ اب دنیا کی کسی زبان میں کوئی ایسا لفظ یا صیغہ نہیں ہے جو تینوں زمانوں پر محیط ہو۔ اس لیے آفاقی صداقت کو بیان کرنے کے مختلف زبانوں کے انداز مختلف ہیں۔ اردو میں اسے زیادہ تر زمانہ حال میں بیان کرتے ہیں، جبکہ عربی میں اس کے لیے زیادہ تر ماضی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا (11/17) اب اس کا لفظی ترجمہ تو بنتا ہے کہ انسان جلد باز تھا۔ لیکن چونکہ یہ ایک آفاقی صداقت ہے جس کا مفہوم اردو میں زمانہ حال میں ادا ہوتا ہے، اس لیے اس کا صحیح ترجمہ ہوگا کہ انسان جلد باز ہے، اسی طرح سے وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا کا صحیح ترجمہ ہوگا کہ اللہ علیم حکیم ہے۔ (17/4)
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں سَاءَ کا لفظ آفاقی صداقت کے بیان میں آیا ہے، وہاں اس کا ترجمہ حال میں کرنا اردو محاورہ کی ضرورت ہے۔ جیسے یہ ایک آفاقی صداقت ہے کہ سوتیلی ماں سے نکاح کرنا بہت بری بات ہے۔ چناچہ اس کے لیے فرمایا کہ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا (یقینا یہ بےحیائی ہے اور غضب کو دعوت دینا ہے اور برا ہے بلحاظ راستہ کے یعنی طرز عمل کے لحاظ سے) 22/4
نوٹ 3: مرکبات ناقصہ کا استعمال مختلف زبانوں میں مختلف ہے۔ مثلا ہم کہتے ہیں دنیا کی زندگی (مرکب اضافی) جبکہ دنیوی زندگی (مرکب توصیفی) کا اردو میں استعمال نہ ہونے جیسا ہے۔ اس کے برعکس عربی میں الحیاۃ الدنیا (مرکب توصیفی) استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ حیاۃ الدنیا (مرکب اضافی) قرآن مجید میں تو استعمال نہیں ہوا۔ اس لیے مرکبات ناقصہ کا ترجمہ کرتے وقت متعلق زبان کے محاورہ کا لحاظ کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الحیاۃ الدنیا (مرکب توصیفی) کا ترجمہ دنیا کی زندگی (مرکب اضافی) کیا جاتا ہے۔
اسی طرح سے آیت زیر مطالعہ سوء العذاب مرکب اضافی ہے جس کا ترجمہ بنتا ہے عذاب کا برا ہے۔ لیکن اردو میں اس کا رواج نہیں ہے ۔ اس لیے صحیح مفہوم واضح کرنے کے لیے اردو محاورہ کے مطابق اس کا ترجمہ برا عذاب (مرکب توصیفی) کیا جاتا ہے۔ آگے بھی اس قسم کی مثالیں آئیں گی۔
نوٹ 4: یہاں سے مسلسل کئی رکوع تک بنو اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ان کی ناشکری کے حوالے سے متعدد تاریخی واقعات کا ذکر آئے گا۔ اس لیے یہ بات ذہن میں ایک مرتبہ پھر تازہ کرلیں کہ ان واقعات میں ترتیب زمانی نہیں ہے۔
Ayah 2:50[ وَاِذْ : اور جب ] [ فَرَقْنَا : ہم نے پھاڑ کر الگ کیا ] [ بِكُمُ : تم لوگوں کے لیے ] [ الْبَحْرَ : سمندر کو ] [ فَاَنْجَيْنٰكُمْ : تو ہم نے نجات دی تم کو ] [ وَاَغْرَقْنَآ : اور ہم نے ڈبو دیا ] [ اٰلَ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : تم لوگ دیکھ رہے تھے ]
Ayah 2:51[ وَاِذْ وٰعَدْنَا : اور جب ہم نے معاہدہ کیا ] [ مُوْسٰٓى: موسیٰ سے ] [ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً : چالیس راتوں کا ] [ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ : پھر تم لوگوں نے بنایا ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو (الہ) ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد ] [ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ : اور تم لوگ ظلم کرنے والے تھے ]
Ayah 2:52[ ثُمَّ عَفَوْنَا : پھر ہم نے درگزر کیا ] [ عَنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ : تاکہ تم لوگ شکر کرو ]
Ayah 2:53[ وَاِذْ اٰتَيْنَا : اور جب ہم نے دیا ] [ مُوْسَى: موسیٰ کو ] [ الْكِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ : کتاب اور فرق واضح کرنے والا ] [ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ : تاکہ تم لوگ ہدایت پاؤ ]
Ayah 2:54[ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى: اور جب کہا موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهٖ : اپنی قوم سے ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ اِنَّكُمْ : بیشک تم لوگوں نے ] [ ظَلَمْتُمْ : ظلم کیا ہے ] [ اَنْفُسَكُمْ : اپنے آپ پر ] [ بِاتِّخَاذِكُمُ : تمہارے بنانے سے ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو (الہ)] [ فَتُوْبُوْٓا : پس تم لوگ توبہ کرو ] [ اِلٰى بَارِىِٕكُمْ : تم کو وجود بخشنے والے سے ] [ فَاقْتُلُوْٓا : تو تم لوگ قتل کرو ] [ اَنْفُسَكُمْ ۭ : اپنوں کو ] [ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ: یہ بہتر ہے ] [ لَّكُمْ : تمہارے لیے ] [ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ ۭ : تم کو وجود بخشنے والے کے نزدیک ] [ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۭ : تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی ] [ اِنَّھٗ : یقینا وہ ] [ ھُوَ التَّوَّابُ : ہی کثرت سے توبہ قبول کرنے والا ] [ الرَّحِيْمُ : رحیم ہے ]
Ayah 2:55[ وَاِذْ قُلْتُمْ : اور جب تم لوگوں نے کہا ] [ يٰمُوْسٰى: اے موسیٰ ] [ لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ : ہم ہرگز نہیں مانیں گے تیری بات ] [ حَتّٰى نَرَى: یہاں تک کہ ہم دیکھیں ] [ اللّٰهَ جَهْرَةً : اللہ کو نمایاں طور پر ] [ فَاَخَذَتْكُمُ : تو پکڑا تم کو ] [ الصّٰعِقَةُ : آسمانی بجلی نے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : تم لوگ دیکھ رہے تھے ]
Ayah 2:56[ ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ : پھر ہم نے اٹھایا تم کو ] [ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ : تمہاری موت کے بعد ] [ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ : تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو ]
Ayah 2:57[ وَظَلَّلْنَا : اور ہم نے سایہ فگن کیا ] [ عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْغَمَامَ : بادل کو ] [ وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا ] [ عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭ : من اور سلوی ] [ كُلُوْا : تم لوگ کھاؤ ] [ مِنْ طَيِّبٰتِ مَا : اس کے پاکیزہ سے جو ] [ رَزَقْنٰكُمْ ۭ : ہم نے عطا کیا تم لوگوں کو ] [ وَمَا ظَلَمُوْنَا : اور انہوں نے ظلم نہیں کیا ہم پر ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے ]