Ayah 2:197[ اَلْحَجُّ : حج (کے)] [ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ : جانے پہچانے مہینے ہیں ] [ فَمَنْ : تو جس نے ] [ فَرَضَ : فرض کیا (خود پر)
فِیْہِنَّ : ان میں ] [ الْحَجَّ : حج کو ] [ فَلاَ رَفَثَ : تو کسی قسم کی فحش گوئی نہیں ہے ] [ وَلاَ فُسُوْقَ : اور کوئی حکم عدولی نہیں ہے ] [ وَلاَ جِدَالَ : اور کوئی تو تو میں مَیں نہیں ہے ] [ فِی الْْحَجِّ : حج میں ] [ وَمَا : اور جو ] [ تَفْعَلُوْا : تم لوگ کرو گے ] [ مِنْ خَیْرٍ : کوئی بھی بھلائی ] [ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ : تو جان لے گا اس کو اللہ ] [ وَتَزَوَّدُوْا : اور تم لوگ سفر خرچ ساتھ رکھو ] [ فَاِنَّ : پس یقینا ] [ خَیْرَ الزَّادِ : بہترین زاد راہ ] [ التَّقْوٰی : تقویٰ ہے ] [ وَاتَّقُوْنِ : اور تقویٰ اختیار کرو میرا ] [ یٰٓــاُولِی الْاَلْبَابِ : اے خرد مندو ]
ج دل
جَدَلَ (ن) جَدْلًا : رسی کو بل دینا۔
جَدِلَ (س) جَدَلًا : بات کو بل دینا ‘ گھمانا پھرانا ‘ بحث کرنا۔ { وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْ ئٍ جَدَلًا ۔ } (الـکہف) ” اور انسان ہر چیز سے زیادہ ہے بحث کرنے میں۔ “
جَادَلَ (مفاعلہ) مُجَادَلَۃً اور جِدَالًا : ایک دوسرے کی بات کو گھمانا پھرانا ‘ مناظرہ کرنا۔{ یَوْمَ تَاْتِیْ کُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا } (النحل :111) ” جس دن آئے گی ہر جان بحث کرتی اپنے آپ سے۔ “
جَادِلْ (فعل امر) : تو مناظرہ کر۔ { وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط } (النحل :125) ” اور تو مناظرہ کر ان سے اس (چیز) سے جو سب سے خوبصورت ہے۔ “
ز و د
زَادَ (ن) زَوْدًا : سفر کا خرچ مہیا کرنا۔
زَادٌ (اسم ذات) : سامانِ سفر ‘ زادِ راہ۔ ( آیت زیر مطالعہ)
تَزَوَّدَ (تفعّل) تَزَوُّدًا : سفر خرچ ساتھ رکھنا۔
تَزَوَّدْ (فعل امر) : تو سفرِ خرچ ساتھ رکھ۔ ( آیت زیر مطالعہ)
ترکیب : ” اَلْحَجُّ “ مبتدأ ہے اور مرکب توصیفی ” اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ“ خبر ہے۔ ” فَمَنْ “ میں ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ “ شرط ہے اور ” فَلَا رَفَثَ “ سے ” فِی الْحَجِّ “ تک جوابِ شرط ہے۔ ” فَرَضَ “ کا فاعل اس کی ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے۔ ” اَلْحَجَّ “ اس کا مفعول ہے اور ” فِیْھِنَّ “ متعلق فعل ہے۔ اس میں ” ھُنَّ “ کی ضمیر ” اَشْھُرٌ“ کے لیے ہے۔ ” فَرَضَ “ کے بعد ” عَلٰی نَفْسِہٖ “ محذوف ہے۔ ” رَفَثَ ‘ فُسُوْقَاور جِدَالَ “ تینوں سے پہلے لائے نفی جنس ہیں اور یہ مبتدأ ہیں ‘ ان کی خبریں محذوف ہیں جو کہ ” جَائِزٌ“ ہوسکتی ہیں۔ ” مَا “ شرطیہ ہے اس لیے اس کی شرط ” تَفْعَلُوْا “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے اور جوابِ شرط ” یَعْلَمْ “ مجزوم ہے۔
باب تفعّل کے ماضی ” تَفَعَّلَ “ سے جمع مذکر غائب کا وزن ” تَفَعَّلُوْا “ بنتا ہے۔ جبکہ اس کے فعل امر ” تَفَعَّلْ “ سے جمع مذکر مخاطب کا وزن بھی ” تَفَعَّلُوْا “ بنتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ” تَزَوَّدُوْا “ کے دونوں امکانات ہیں ‘ لیکن آیت کا مضمون بتارہا ہے کہ یہاں یہ فعل امر ہے۔
” فَاِنَّ “ کا اسم ” خَیْرَ الزَّادِ “ ہے ‘ اس لیے اس کے مضاف ” خَیْرَ “ پر نصب آئی ہے اور مرکب اضافی ہونے کی وجہ سے یہ تفضیل کل ہے۔ اردو محاورے کی وجہ سے اس کا ترجمہ مرکب توصیفی کا ہوتا ہے۔ ” اِنَّ “ کی خبر ” اَلتَّقْوٰی “ ہے اور اس پر لام جنس ہے۔ ” وَاتَّقُوْنِ “ میں ” وَاتَّقُوْا “ فعل امر ہے۔ ضمیر مفعولی آنے کی وجہ سے واو الجمع کا الف گرگیا اور ” نِ “ ضمیر مفعولی ” نِیْ “ کا نون وقایہ ہے۔
نوٹ (1) : سامانِ سفر ساتھ رکھنے کے حکم کے ساتھ تقویٰ کو بہترین سامانِ سفر کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف تقویٰ کافی ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ دیگر سامان کے ساتھ بہترین سامان تقویٰ بھی رکھو اور اسے مت بھولو۔
Ayah 2:198[ لَیْسَ عَلَیْکُمْ : نہیں تم لوگوں پر ] [ جُنَاحٌ : کوئی گناہ ] [ اَنْ تَبْتَغُوْا : کہ تم لوگ جستجو کرو ] [ فَضْلاً : کچھ روزی کی ] [ مِّنْ رَّبِّکُمْ : اپنے رب سے ] [ فَاِذَآ : پس جب بھی ] [ اَفَضْتُمْ : تم لوگ جوق در جوق نکلو ] [ مِّنْ عَرَفٰتٍ : عرفات سے ] [ فَاذْکُرُوا : تو یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ : مشعر حرام کے پاس ] [ وَاذْکُرُوْہُ : اور یاد کرو اس کو ] [ کَمَا : اس طرح جیسے ] [ ہَدٰٹکُمْ : اس نے ہدایت کی تم کو ] [ وَاِنْ کُنْتُمْ : اور یقینا تم لوگ ] [ مِّنْ قَبْلِہٖ : اس سے پہلے ] [ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ : لازماً گمراہ ہونے والوں میں سے تھے ]
ی ض
فَاضَ (ض) فَـیْضًا : پیمانہ لبریز ہونے سے پانی کا بہہ نکلنا ‘ ابل پڑنا ‘ پھوٹ بہنا۔{ اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ } (المائدۃ :83) ” ان کی آنکھیں ابل پڑتی ہیں آنسو سے۔ “
اَفَاضَ (افعال) اِفَاضَۃً : یکبارگی پانی انڈیلنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے۔ مثلاً : (1) کسی جگہ سے لوگوں کا جوق در جوق نکلنا۔ ( آیت زیر مطالعہ) (2) کسی بات کو پھیلانا ‘ چرچا کرنا۔ { ھُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط } (الاحقاف :8) ” وہ خوب جانتا ہے اس کو ‘ تم لوگ چرچا کرتے ہو جس کا۔ “
اَفِضْ (فعل امر) : جوق در جوق نکل ۔ (آگے آیت 199 میں آیا ہے۔ )
ترکیب : ” لَـیْسَ “ کا اسم ” جُنَاحٌ“ نکرہ آیا ہے ‘ کیونکہ عام قاعدہ بیان ہو رہا ہے۔ ” اَنْ تَبْتَغُوْا “ اس کی خبر ہے۔ ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ “ شرط ہے اور ” فَاذْکُرُوْا “ سے ” ھَدٰٹکُمْ “ تک جوابِ شرط ہے۔ ” عَرَفٰتٍ “ اسم علم یعنی ایک جگہ کا نام ہے۔ ” فَاذْکُرُوْا “ کا فاعل اس کی ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور لفظ ” اللّٰہَ “ مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ‘ جبکہ ” عِنْدَ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” اَلْمَشْعَرِ الْحَرَامِ “ بھی اسم عَلم ہے اور مزدلفہ کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ ” وَاِنْ کُنْتُمْ “ کا ” اِنْ “ مخففہ ہے۔ ” مِنْ قَبْلِہٖ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر ہدایت کے لیے ہے۔
نوٹ (1) : ارشاد قرآنی ” وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰٹکُمْ “ سے ایک اور بھی اصولی مسئلہ نکل آیا کہ ذکر اللہ اور عبادت میں آدمی خود مختار نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح چاہے یاد کرے ‘ اور جس طرح چاہے اس کی عبادت کرے ‘ بلکہ ذکر اللہ اور ہر عبادت کے خاص آداب ہیں ‘ ان کے موافق ادا کرنا ہی عبادت ہے۔ اس کے خلاف کرنا جائز نہیں اور اس میں کمی بیشی یا مقدم مؤخر کرنا ‘ خواہ اس میں ذکر اللہ کی کچھ زیادتی بھی ہو ‘ وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ نفلی عبادات اور صدقہ و خیرات وغیرہ میں جو لوگ بلادلیلِ شرعی اپنی طرف سے کچھ خصوصیات اور اضافے کرلیتے ہیں اور ان کی پابندی کو ضروری سمجھ لیتے ہیں ‘ حالانکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کو ضروری قرار نہیں دیا ‘ اور ان افعال کے نہ کرنے والوں کو خطاوار سمجھتے ہیں ‘ اس آیت نے ان کی غلطی کو واضح کردیا ۔ (معارف القرآن)
Ayah 2:199[ ثُمَّ اَفِیْضُوْا : پھر تم لوگ جوق در جوق نکلو ] [ مِنْ حَیْثُ : جہاں سے ] [ اَفَاضَ : نکلے ] [ النَّاسُ : لوگ ] [ وَاسْتَغْفِرُوا : اور مغفرت طلب کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
ترکیب : فعل امر ” اَفِیْضُوْا “ کا فاعل اس کی ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اَفَاضَ “ کا فاعل ” النَّاسُ “ ہے ‘ جبکہ ” مِنْ حَیْثُ “ ان دونوں کا ظرف ہے اس لیے محلاً منصوب ہے۔ فعل امر ” اِسْتَغْفِرُوْا “ کا فاعل اس کی ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور لفظ ” اَللّٰہَ “ اس کا مفعول ہے۔
نوٹ (1) : قریش خانہ کعبہ کے ” برہمن “ تھے اور عام حاجیوں کی طرح عرفات جا کر قیام کرنے میں ہتک محسوس کرتے تھے ‘ اس لیے وہ لوگ مزدلفہ میں قیام کرتے تھے اور وہیں سے لوٹتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نےوی آئی پی کلچر کے بت کو توڑنے کا حکم دیا ہے ‘ لیکن ہم لوگوں نے اسے اپنے گلے میں اٹکایا ہوا ہے ‘ نہ نگلے بنتا ہے اور نہ اگلے بنتا ہے۔ اس کلچر کو ہم برا بھلا بھی کہتے رہتے ہیں اور چھوڑتے بھی نہیں۔
یہ مسجد ہے کہ مے خانہ ‘ تعجب اس پہ آتا ہے
جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی !
Ayah 2:200[ فَاِذَا : پس جب ] [ قَضَیْتُمْ : تم لوگ پورا کرلو ] [ مَّنَاسِکَکُمْ : اپنے حج کے اعمال کو ] [ فَاذْکُرُوا : تو یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ کَذِکْرِکُمْ : تمہارے یاد کرنے کی مانند ] [ اٰبَــآئَ کُمْ : اپنے آباء و اجداد کو ] [ اَوْ اَشَدَّ : یا زیادہ شدید ہوتے ہوئے ] [ ذِکْرًا : بلحاظ ذکر کے ] [ فَمِنَ النَّاسِ : پس لوگوں میں وہ بھی ہیں ] [ مَنْ : جو ] [ یَّقُوْلُ : کہتے ہیں ] [ رَبَّـنَآ : اے ہمارے ربّ ! ] [ اٰتِنَا : تو دے ہم کو ] [ فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [ وَمَا لَہٗ : اور نہیں ہے اس کے لیے ] [ فِی الْاٰخِرَۃِ : آخرت میں ] [ مِنْ خَلاَقٍ : بھلائی کا کسی قسم کا کوئی بھی حصہ ]
ترکیب : ” فَاِذَا “ میں ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ “ شرط ہے اور ” فَاذْکُرُوْا “ سے ” ذِکْرًا “ تک جوابِ شرط ہے۔ ” کَذِکْرِکُمْ “ میں ” ذِکْرِ “ مصدر نے فعل کا عمل کیا ہے اور ” اٰبَائَ “ کو نصب دی ہے۔ تفسیر حقانی کے مطابق ” اَشَدَّ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور ” ذِکْرًا “ اس کی تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” مَنْ “ یہاں جمع کے مفہوم میں ہے۔ لفظی رعایت کے تحت ” یَـقُوْلُ “ واحد آیا ہے اور معنوی لحاظ سے ” رَبَّنَا اٰتِنَا “ پر جمع کی ضمیر آئی ہے۔ ” رَبَّنَا “ میں ” رَبَّ “ کی نصب بتارہی ہے کہ اس سے پہلے حرفِ ندا محذوف ہے۔ ” مَا “ نافیہ ہے۔ ” خَلَاقٍ “ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور اس پر ” مِنْ “ تبعیضیہ لگا ہوا ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ ” وَاجِبًا “ یا ” ثَابِتًا “ ہوسکتی ہے۔ ” لَـہٗ “ قائم مقام خبر مقدم ہے اور اس کی ضمیر ” مَنْ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” فِی الْاٰخِرَۃِ “ متعلق خبر ہے۔
Ayah 2:201[ وَمِنْہُمْ : اور ان میں وہ بھی ہیں ] [ مَّنْ : جو ] [ یَّقُوْلُ : کہتے ہیں ] [ رَبَّنَآ : اے ہمارے ربّ ] [ اٰتِنَا : تو دے ہم کو ] [ فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [ حَسَنَۃً : بھلائی ] [ وَّفِی الْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [ حَسَنَۃً : بھلائی ] [ وَّقِنَا : اور تو بچا ہم کو ] [ عَذَابَ النَّارِ : آگ کے عذاب سے ]
ترکیب : ” مِنْھُمْ “ کی ضمیر گزشتہ آیت کے لفظ ” النَّاس “ کے لیے ہے۔ ” اٰتِنَا “ میں ” اٰتِ “ فعل امر ہے ‘ ضمیر مفعولی ” نَا “ مفعول اوّل ہے اور ” حَسَنَۃً “ مفعول ثانی ہے۔ ” قِنَا “ میں ” قِ “ فعل امر ہے ‘ ضمیر مفعولی ” نَا “ مفعول اوّل ہے اور ” عَذَابَ النَّارِ “ مفعول ثانی ہے۔
Ayah 2:202[ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَہُمْ : جن کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : ایک حصہ ہے ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ کَسَبُوْا : انہوں نے ] [ کمایا ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ سَرِیْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے میں تیز ہے ]
ن ص ب
نَصَبَ (ف ۔ ض) نَصْبًا : (1) کسی چیز کو گاڑنا ‘ جمانا۔ (2) کسی کو تکلیف دینا۔ { وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ } (الغاشیۃ) ” اور پہاڑوں کی طرف (نہیں دیکھتے کہ) کیسے وہ جمائے گئے۔ “
نَصِبَ (س) نَصَبًا : محنت کرنا ‘ کوشش کرنا۔
اِنْصَبْ (فعل امر) : تو محنت کر ‘ کوشش کر۔ { فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ } (الم نشرح : الانشراح) ” پس جب بھی آپ ﷺ فارغ ہوں تو آپ ﷺ محنت کریں اور اپنے رب کی طرف پھر رغبت کریں۔ “
نَاصِبٌ (اسم الفاعل) : محنت کرنے والا ‘ کوشش کرنے والا۔ { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۔ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۔ } (الغاشیۃ) ” کچھ چہرے اس دن خوف زدہ ہونے والے ہیں ‘ عمل کرنے والے ‘ محنت کرنے والے۔ “
نَصَبٌ (اسم ذات) : مشقت ‘ تکلیف۔ { لَا یَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ} (الحجر :48) ” نہیں پہنچے گی ان کو اس میں کوئی مشقت۔ “
نُصْبٌ (اسم ذات) : ایذا ‘ تکلیف۔ { اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ ۔ } (صٓ) ” کہ چھوا مجھ کو شیطان نے ایذا سے اور عذاب سے۔ “
نُصُبٌ ج اَنْصَابٌ (اسم ذات) : بھینٹ چڑھانے کی علامت کے لیے گاڑے ہوئے پتھر ‘ استھان ‘ بت۔{ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ } (المائدۃ :3) ” اور جو ذبح کیا گیا استھان پر۔ “{ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ} (المائدۃ :90) ” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ نشہ اور جوا اور استھان اور پانسے نجاست ہیں۔ “
نَصِیْبٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر اسم المفعول کے معنی میں صفت) : گاڑا ہوا ‘ جمایا ہوا۔ پھر کسی چیز کے کسی کے لیے مقرر کردہ حصے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (آیت زیر مطالعہ)
س ر ع
سَرُِعَ (س۔ ک) سَرَعًا اور سُرْعَۃً : کوئی کام تیزی سے کرنا ‘ جلدی کرنا۔
اَسْرَعُ (افعل التفضیل) : زیادہ تیز یا سب سے تیز۔ { وَھُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ ۔ } (الانعام) ” اور وہ سب سے تیز حساب کرنے والا ہے۔ “
سَرِیْعٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : جلدی کرنے والا ‘ تیز۔ ( آیت زیر مطالعہ)
سَارَعَ (مفاعلہ) سِرَاعًا : ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے جلدی کرنا ‘ سبقت کرنا۔{ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِط } (آل عمران :114) ” اور وہ لوگ باہم سبقت کرتے ہیں بھلائیوں میں۔ “
سَارِعْ (فعل امر) : تو سبقت کر۔ { وَسَارِعُوْآ اِلٰی مَغْفِرَۃٍ } (آل عمران :133) ” اور تم لوگ باہم سبقت کرو مغفرت کی طرف۔ “
ح س ب
حَسَبَ (ن) حَسَبًا : گنتی کرنا ‘ شمار کرنا یعنی حساب رکھنا ‘ حساب کرنا۔
حَسِبَ (س۔ ح) حِسْبَانًا : خیال کرنا ‘ گمان کرنا۔ { اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ } (البقرۃ :214) ” کیا تم لوگوں نے گمان کیا کہ تم لوگ داخل ہو گے جنت میں ؟ “
حَاسِبٌ (اسم الفاعل) : حساب رکھنے والا ‘ حساب کرنے والا۔ اوپر لفظ ” اَسْرَعُ “۔ (الانعام :62)
حَسِیْبٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : ہمیشہ اور ہر حال میں حساب کرنے والا۔ { وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا ۔ } (النسائ) ” اور کافی ہے اللہ بطور حساب کرنے والے کے۔ “
حُسْبَانٌ (فُعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ) : (1) بےانتہا حساب رکھنے والا۔ (2) سخت پکڑ کرنے والا (حساب کے نتیجے میں) ‘ آفت۔ { وَجَعَلَ الَّـیْلَ سَکَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًاط } (الانعام :96) ” اور اس نے بنایا رات کو سکون اور سورج اور چاند کو حساب رکھنے والا۔ “{ وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآئِ } (الکہف :40) ” اور وہ بھیجے اس پر کوئی آفت آسمان سے۔ “
حَسْبُ (اسم فعل) : حساب کتاب میں پورا ‘ یعنی کافی۔ { حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ۔ } (آل عمران) ” کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا ہی اچھا وکیل ہے ! “
حَاسَبَ (مفاعلہ) مُحَاسَبَۃً اور حِسَابًا : کسی سے کسی چیز کا حساب مانگنا ‘ حساب لینا۔ { وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ ط } (البقرۃ :284) ” اور اگر تم لوگ ظاہر کرو اس کو جو تمہارے جی میں ہے یا چھپائو اس کو ‘ اللہ حساب لے گا تم سے اس کا۔ “
اِحْتَسَبَ (افتعال) اِحْتِسَابًا : (1) اہتمام سے حساب مانگنا۔ (2) اہتمام سے خیال کرنا۔ { وَمَنْ یَّـتَّـقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا ۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ ط } (الطلاق :2‘3) ” اور جو تقویٰ کرتا ہے اللہ کا وہ تو بناتا ہے اس کے لیے نکلنے کا ایک راستہ۔ اور وہ رزق دیتا ہے اس کو وہاں سے جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔ “
ترکیب : ” اُولٰٓـئِکَ “ مبتدأ ہے اور ” لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا “ یہ پورا جملہ اس کی خبر ہے۔ اس جملہ میں ” نَصِیْبٌ“ مبتدأمؤخر نکرہ ہے۔ خبر محذوف ہے اور ” لَھُمْ “ قائم مقام خبر مقدم ہے ‘ جبکہ ” مِمَّا کَسَبُوْا “ متعلق خبر ہے۔ ” اَللّٰہُ “ مبتدأ اور مرکب اضافی ” سَرِیْعُ الْحِسَابِ “ اس کی خبر ہے۔
نوٹ (1) : سورة البقرۃ کی آیت 200 میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اپنی نیکی کا اجر دنیا میں مانگتے ہیں۔ وہاں پر بتادیا گیا کہ ایسے لوگوں کو آخرت میں کچھ نہیں ملے گا ‘ یعنی دنیا میں ملے گا یا نہیں ‘ اور ملے گا تو کتنا ‘ اس کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ اپنے علم اور حکمت سے کرے گا ‘ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ انہیں آخرت میں کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آیت 201 میں ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اپنی نیکی کا اجر دنیا اور آخرت ‘ دونوں جگہ مانگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ‘ اس کی وضاحت اس آیت میں کی گئی ہے کہ جو نیکی انہوں نے کمائی ہے اس کا کچھ حصہ انہیں دنیا میں ملے گا اور کچھ حصہ آخرت میں۔ اس بات کی مزید وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے (ترجمہ نہیں) کہ ایک غازی ‘ جس نے صرف اللہ کی رضا کے لیے قتال میں حصہ لیا ‘ پھر مال غنیمت میں سے اپنا حصہ لیا ‘ اس نے اپنے اجر کا دو تہائی حصہ وصول کرلیا۔ یہ مسلم شریف کی حدیث ہے ۔ جو لوگ حدیث کے بغیر قرآن مجید سے ہی سب کچھ سمجھنا چاہتے ہیں وہ لوگ اپنی دلیل کے طور پر اس حدیث کو پیش کرتے ہیں کہ یہ حدیث آیت 201 سے ٹکراتی ہے ‘ یعنی اس کے خلاف ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنی قرآن فہمی کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے جس پر ان کا تکیہ ہے۔
Ayah 2:203[ وَاذْکُرُوا : اور تم لوگ یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ فِیْ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ : گنے ہوئے دنوں میں ] [ فَمَنْ : پس جس نے ] [ تَعَجَّلَ : جلدی کی ] [ فِیْ یَوْمَیْنِ : دو دنوں میں ] [ فَلَا اِثْمَ : تو کسی قسم کا گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ وَمَنْ تَاَخَّرَ : اور جس نے دیر کی ] [ فَلاَ اِثْمَ عَلَیْہِ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے اس پر ] [ لِمَنِ اتَّقٰی : اس کے لیے جس نے تقویٰ کیا ] [ وَاتَّقُوا : اور تم لوگ تقویٰ کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور تم لوگ جان لو ] [ اَنَّـــکُمْ : کہ ] [ اِلَــیْہِ : اس کی طرف ہی ] [ تُحْشَرُوْنَ : تم سب اکٹھا کیے جائو گے ]
ح ش ر
حَشَرَ (ن) حَشْرًا : (1) جمع کرنا ‘ اکٹھا کرنا۔ (2) جمع کرنے کے لیے نکالنا ‘ اُٹھانا۔ { یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ۔ } (مریم) ” جس دن ہم جمع کریں گے متقی لوگوں کو رحمن کی طرف بطور وفد کے۔ “{ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ اَعْمٰی } (طٰہٰ :125) ” اے میرے رب ! تو نے کیوں اٹھایا مجھ کو اندھا ؟ “
اُحْشُرْ (فعل امر) : تو جمع کر۔ { اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا } (الصّٰفّٰت :22) ” تم لوگ اکٹھا کرو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا۔ “
حَاشِرٌ (اسم الفاعل) : جمع کرنے والا۔{ وَابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ } (الشُّعرائ) ” اور تو بھیج شہروں میں جمع کرنے والوں کو۔ “
مَحْشُوْرٌ (اسم المفعول) : جمع کیا ہوا۔ { وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً ط } (صٓ:19) ” اور پرندوں کو ‘ جمع کیے ہوئے۔ “
ترکیب : ” وَاذْکُرُوْا “ کا فاعل اس کی ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ لفظ ” اللّٰہَ “ مفعول ہے اور مرکب توصیفی ” اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ “ ظرف ہے ‘ لیکن ” فِیْ “ کی وجہ سے حالت جر میں آیا ہے۔ ” فَمَنْ “ میں ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔” تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ “ شرط ہے جبکہ ” فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ “ جوابِ شرط ہے اور اس پر لائے نفی ٔ‘ جنس ہے۔
نوٹ (1) : ” تَعَجَّلَ “ کے ساتھ دو دنوں کی وضاحت ہے لیکن ” تَاَخَّرَ “ کے ساتھ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ حاجی کی مرضی ہے کہ جب تک اس کا جی چاہے منیٰ میں رہے ‘ تین دن میں واپسی ضروری نہیں ہے۔ کچھ لوگ سعودی حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ تمام انتظامات ختم کر کے حاجیوں کو تین دنوں میں واپسی پر مجبور کرنا اس آیت کے خلاف ہے۔ وہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ طریقہ اسلام سے بھی پہلے سے رائج ہے جسے قرآن یا حدیث میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ نیز ان کی دلیل کی تردید اس آیت کے الفاظ ” اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ “ سے ہوجاتی ہے کہ جلدی یا دیر کرنے کی بات ان دنوں کے حوالے سے ہے۔
اس قسم کی بحثوں میں الجھنے کے بجائے ہمیں اپنی توجہ کو اس آیت کے اصل سبق پر مرکوز کرنا چاہیے۔ اس میں سبق یہ دیا گیا ہے کہ کسی حاجی کی فضیلت اس میں نہیں ہے کہ دس تاریخ کو حج کے ارکان سے فارغ ہونے کے بعد کون منیٰ میں دو دن رہا اور کون تین دن ‘ بلکہ فضیلت اس میں ہے کہ قیام کے دوران کس نے اللہ کو کتنا یاد کیا اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے کی کتنی پریکٹس کی۔ جس طرح حج پر آنے کے سفر کے لیے بہترین زاد راہ تقویٰ تھا اسی طرح واپسی کے لیے بھی بہترین زاد راہ اور حج کا بہترین تحفہ تقویٰ ہونا چاہیے۔ اس لیے حج سے فارغ ہو کر کچھ عرصہ منیٰ میں قیام کر کے اپنے تقویٰ میں حسن و نکھار پیدا کر کے اسے خوب مستحکم کرلو ‘ اس کے بعد اپنے کمرئہ امتحان میں واپس جائو۔
Ayah 2:204[ وَمِنَ النَّاسِ : اور لوگوں میں وہ بھی ہے ] [ مَنْ : جو ] [ یُّعْجِبُکَ : بھلی لگتی ہے تجھ کو ] [ قَوْلُہٗ : جس کی بات ] [ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : دنیا کی زندگی میں ] [ وَیُشْہِدُ : اور جو گواہ بناتا ہے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ عَلٰی مَا : اس پر جو ] [ فِیْ قَلْبِہٖ : اس کے دل میں ہے ] [ وَ : حالانکہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ اَلَدُّ الْخِصَامِ : انتہائی ہٹ دھرم ‘ کٹ حجتی ہے ]
ع ج ب
عَجِبَ (س) عَجَبًا : حیرت زدہ ہونا ‘ حیرت کرنا۔{ اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَآئَ کُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ } (الاعراف :63) ” تو کیا تم لوگ حیرت زدہ ہو کہ تمہارے پاس آئی ایک یاد دہانی تمہارے رب سے تم میں سے کسی شخص پر ؟ “
عَجَبٌ (مصدر کے علاوہ صفت بھی ہے) : جو چیز عام طور پر نظر نہ آتی ہو ‘ غیر معمولی ‘ حیران کن ‘ انوکھی۔ { اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَا اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ } (یونس :2) ” کیا لوگوں کے لیے حیران کن ہے کہ ہم نے وحی کی ان میں سے ایک شخص کی طرف ؟ “
عَجِیْبٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : حیران کن۔ { ھٰذَا شَیْئٌ عَجِیْبٌ ۔ } (قٓ) ” یہ ایک حیران کن چیز ہے۔ “
عُجَابٌ (فُعَالٌکے وزن پر مبالغہ) : انتہائی حیران کن۔ { اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ ۔ } (صٓ) ” یقینا یہ ایک انتہائی حیران کن چیز ہے۔ “
اَعْجَبَ (افعال) اِعْجَابًا : (1) کسی کو حیرت میں ڈالنا ‘ حیرت زدہ کرنا۔ (2) دلکش لگنا ‘ بھلا لگنا۔ { فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَلَا اَوْلَادُھُمْ ط } (التوبۃ :55) ” تو حیران نہ کریں تجھ کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد۔ “{ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِج } (المائدۃ :100) ” اور اگرچہ بھلی لگے تجھ کو خباثت کی کثرت۔ “
ل د د
لَدَّ (ن) لَدًّا : کسی کی بات نہ ماننا ‘ ہٹ دھرم ہونا۔
اَلَدُّ ج لُدٌّ (اَفْعَلُ التَّفْضِیْلِ ) : زیادہ ہٹ دھرم یا انتہائی ہٹ دھرم۔ واحد آیت زیرمطالعہ میں آیا ہے۔ { وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ۔ } (مریم) ” اور تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں اس سے ایک زیادہ ہٹ دھرم قوم کو۔ “
خ ص م
خَصَمَ (ض) خَصْمًا : زبانی جھگڑا کرنا ‘ توتکار کرنا۔
خَصْمٌ (اسم ذات بھی ہے) : مدّمقابل ‘ فریقِ مخالف ۔ (یہ واحد ‘ جمع ‘ مؤنث ‘ سب کے لیے آتا ہے) ۔ { وَھَلْ اَتٰٹکَ نَـبَؤُا الْخَصْمِم } (صٓ:21) ” اور کیا پہنچی تجھ کو مخالف فریقوں کی خبر ؟ “
خَصِمٌ جمع خِصَامٌ اور خَصِمُوْنَ (صفت) : کٹ حجتی ‘ جھگڑالو۔ خِصَامٌ آیت زیرمطالعہ میں آیا ہے۔ { بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ۔ } (الزخرف) ” بلکہ وہ لوگ جھگڑالو
قوم ہیں۔ “
خَصِیْمٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ بحث کرنے والا ‘ جھگڑالو۔ { فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ ۔ } (یٰسٓ) ” پس جب ہی وہ کھلے طور پر ہمیشہ بحث کرنے والا ہے۔ “
اِخْتَصَمَ (افتعال) اِخْتِصَامًا : اہتمام سے ایک دوسرے سے الجھنا ‘ جھگڑنا۔ { وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ } (آل عمران) ” اور آپ ﷺ ‘ نہیں تھے ان کے پاس جب وہ ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔ “
تَخَاصَمَ (تفاعل) تَخَاصُمًا : باہم جھگڑا کرنا۔ { اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ ۔ } (صٓ) ” بیشک یہ حق ہے ‘ آگ والوں کا باہم جھگڑا کرنا۔ “
ترکیب : ” مَنْ “ نکرہ موصوفہ ہے۔ اگلا جملہ اس کی صفت ہے۔ ” یُعْجِبُ “ کا مفعول ضمیر ” کَ “ ہے اور ” قَوْلُہٗ “ اس کا فاعل ہے۔ ” یُشْھِدُ “ کا فاعل اس کی ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے۔ ” اَلَدُّ الْخِصَامِ “ مرکب اضافی ہے ‘ لیکن اردو محاورے کی وجہ سے ترجمہ مرکب توصیفی میں ہوگا۔
Ayah 2:205[ وَاِذَا : اور جب ] [ تَوَلّٰی : وہ لوٹتا ہے ] [ سَعٰی : تو وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ لِیُفْسِدَ : تاکہ وہ ] [ نظم بگاڑے ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ وَیُہْلِکَ : اور تاکہ وہ برباد کرے ] [ الْحَرْثَ : کھیتی کو ] [ وَالنَّسْلَ : اور (مویشیوں کی) نسل کو ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ لاَ یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ الْفَسَادَ : نظم کے بگاڑ کو ]
ح ر ث
حَرَثَ (ن) حَرْثًا : کھیتی کے لیے زمین تیار کرنا ‘ بیج ڈالنا۔ { اَفَرَئَ ‘ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ۔ } (الواقعۃ) ” کیا تم لوگوں نے دیکھا نہیں جو تم بیج ڈالتے ہو ؟ کیا تم اگاتے ہو اس کو یا ہم اگانے والے ہیں ؟ “
حَرْثٌ (اسم ذات بھی ہے) : کھیتی ‘ آیت زیر مطالعہ۔
ن س ل
نَسَلَ (ض) نَسْلًا : پرندوں کے پر یا جانوروں کے اون کا گرنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے ‘ مثلاً (1) گرنا یا الگ ہونا۔ (2) تیز چلنا۔ { وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ۔ } (الانبیائ) ” اور وہ لوگ ہر بلندی سے تیزی سے پھسلتے ہوں گے۔ “
نَسْلٌ : کسی سے الگ ہونے والی چیز ‘ اولاد اور اولاد کی اولاد۔ نسل۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” تَوَلّٰی “ شرط ہے اور ” سَعٰی “ سے ” وَالنَّسْلَ “ تک جوابِ شرط ہے۔ افعال ” تَوَلّٰی ‘ سَعٰی ‘ یُفْسِدَ “ اور ” یُھْلِکَ “ کے فاعل ان کی ” ھُوَ “ کی ضمیریں ہیں جو گزشتہ آیت میں مذکور ” مَنْ “ کے لیے ہیں۔ ” فِیْھَا “ کی ضمیر ” الْاَرْضَ “ کے لیے ہے۔ ” لِیُفْسِدَ “ میں لام ” کَیْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” یُھْلِکَ “ پر بھی نصب ہے۔ معلوم ہے کہ لامِکَیْکے بعد لفظ اَنْ محذوف ہوتا ہے۔ نسل سے مراد یہاں مویشیوں کی نسل ہے۔
Ayah 2:206[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ قِیْلَ : کہا جاتا ہے ] [ لَہُ : اس سے ] [ اتَّقِ : تو تقویٰ کر ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ اَخَذَتْہُ : تو جکڑتا ہے اس کو ] [ الْعِزَّۃُ : گھمنڈ ] [ بِالْاِثْمِ : گناہ کے سبب سے ] [ فَحَسْبُہٗ : پس کافی ہے اس کو ] [ جَہَنَّمُ : جہنم ] [ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ : اور بہت برا ٹھکانہ ہے (جہنم) ]
م ھـ د
مَھَدَ (ف) مَھْدًا : کسی چیز کو بچھانا ‘ آرام دہ بنانا۔ { وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ ۔ } (الروم) ” اور جس نے عمل کیا کوئی نیکی کا تو اپنے لیے وہ آرام دِہ بناتے ہیں۔ “
مَاھِدٌ (اسم الفاعل) : بچھانے والا ‘ آرام دہ بنانے والا۔ { وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْنَ ۔ } (الذّٰریٰت) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا ‘ اس کو تو ہم کتنا اچھا ‘ آرام دہ بنانے والے ہیں ! “
مِھَادٌ (فِعَالٌ کے وزن پر اسم المفعول) : آرام دِہ بنائی ہوئی چیز ‘ آرام کا ٹھکانہ۔ (آیت زیر مطالعہ) ۔
مَھْدٌ (اسم ذات) : بچھونا ‘ چھوٹے بچے کا گہوارہ۔ { اَلَّذِیْ جَعَلَ لَــکُمُ الْاَرْضَ مَھْـدًا } (طٰہٰ :53) ” جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا۔ “{ کَیْفُ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ } (مریم :29) ” ہم کیسے بات کریں اس سے جو ہے گہوارے میں ؟ “
ترکیب : ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ “ شرط ہے اور ” اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ “ جواب شرط ہے۔ ” اَخَذَتْ “ کا فاعل ” الْعِزَّۃُ “ ہے اور ” ہُ “ ضمیر مفعولی ہے ‘ جبکہ ” بِالْاِثْمِ “ متعلق فعل ہے اور اس میں ” بِ “ سببیہ ہے۔ مرکب اضافی ” حَسْبُہٗ “ مبتدأ ہے۔ ” جَھَنَّمُ “ خبر ہے۔” لَبِئْسَ الْمِھَادُ “ مبتدأ ہے اور اس کی خبر ” جَھَنَّمُ “ محذوف ہے۔
ترکیب : ” یَشْرِیْ “ کا فاعل اس کی ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے۔ ” نَفْسَہٗ “ اس کا مفعول اوّل ہے اور مرکب اضافی ” اِبْتِغَائَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ “ اس کا مفعول ثانی ہے ‘ اس لیے مضاف ” اِبْتِغَائَ “ پر نصب آئی ہے۔
Ayah 2:207[ وَمِنَ النَّاسِ : اور لوگوں میں وہ بھی ہیں ] [ مَنْ : جنہوں نے ] [ یَّشْرِیْ : سودا کیا ] [ نَفْسَہُ : اپنے آپ کا ] [ ابْتِغَآئَ ] [ مَرْضَاتِ اللّٰہِ : اللہ کے راضی ہونے کی جستجو کرنے سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ رَئُ وْفٌ : بےانتہا نرمی کرنے والا ہے ] [ بِالْعِبَادِ : بندوں سے ]
ترکیب : ” یَشْرِیْ “ کا فاعل اس کی ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے۔ ” نَفْسَہٗ “ اس کا مفعول اوّل ہے اور مرکب اضافی ” اِبْتِغَائَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ “ اس کا مفعول ثانی ہے ‘ اس لیے مضاف ” اِبْتِغَائَ “ پر نصب آئی ہے۔
نوٹ : سورة البقرۃ کی آیت 200 سے آیت زیر مطالعہ یعنی 207 تک میں چار قسم کے حاجیوں کا ذکر آیا ہے۔ لیکن ان کے لیے حاجی کے بجائے ” النَّاس “ کا لفظ لایا گیا ہے۔ اس سے راہنمائی یہ ملتی ہے کہ جیسے معاشرے میں مختلف کردار کے لوگ ہوتے ہیں ویسے حاجیوں میں بھی مختلف کردار کے لوگ ہوتے ہیں۔
آیت 200 میں ” وَمِنَ النَّاسِ مَنْ “ کے الفاظ سے پہلی قسم کے حاجیوں کا ذکر ہوا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا حج کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انہیں دنیا میں عزت و شہرت اور مقام و رتبہ حاصل ہو۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں حج کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ پھر آیت 201 میں ” وَمِنْھُمْ مَّنْ “ کے الفاظ سے دوسری قسم کے حاجیوں کا ذکر ہوا۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کے فوائد کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔ ان کو ان کی کمائی میں سے دونوں جگہ حصہ ملے گا۔ پھر آیت 204 میں ” وَمِنَ النَّاسِ مَنْ “ کے الفاظ سے تیسری قسم کے حاجیوں کا ذکر ہوا۔ یہ Self Centred لوگ ہیں ‘ یعنی انتہائی خود پسند لوگ جو اپنی ناک سے آگے کچھ نہیں دیکھتے اور اپنی بات کے آگے کسی کی بات کو اہمیت نہیں دیتے ‘ یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی بات بھی نہیں سنتے۔ حالانکہ بات بات پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں۔ یہ لوگ حج کرنے کے بعد بھی اپنے مخالف کو پست کرنے کے لیے کسی زیادتی یا ظلم سے دریغ نہیں کرتے۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور آیت زیر مطالعہ میں چوتھی قسم کے حاجیوں کا ذکر ہے۔ یہ لوگ حج سے اللہ کی رضا کے علاوہ اور کوئی غرض نہیں رکھتے۔ ایسے بندوں سے اللہ تعالیٰ انتہائی نرمی کا معاملہ کرتا ہے۔ یعنی بشری تقاضوں کے تحت حج کے دوران ان سے جو بھی بھول چوک یا لغزش ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے وہ سب معاف کردیتا ہے۔
مذکورہ آیات کے مطالعہ سے بزرگوں کی اس بات میں بڑا وزن محسوس ہوتا ہے کہ ” جو کچھ آدمی کے اندر ہوتا ہے ‘ حج کرنے کے بعد وہی نمایاں ہوجاتا ہے۔ “
Ayah 2:208[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ ادْخُلُوْا : تم لوگ داخل ہو ] [ فِی السِّلْمِ : اسلام میں ] [ کَآفَّۃً : کل کے کل ] [ وَلاَ تَـتَّبِعُوْا : اور پیروی مت کرو ] [ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ : شیطان کے نقوش قدم کی ] [ اِنَّــہٗ : یقینا وہ ] [ لَــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ: ایک کھلا دشمن ہے ]
کف
کَفَّ (ن) کَفًّا : (1) ہتھیلی مار کر کسی کو روکنا۔ (2) ہتھیلیوں سے کوئی چیز جمع کرنا۔ { وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِ ‘ یْلَ عَنْکَ } (المائدۃ :110) ” اور جب میں نے روکا بنواسرائیل کو آپ (علیہ السلام) سے۔ “
کَفٌّ (اسم ذات بھی ہے) : ہتھیلی ۔ { اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلَی الْمَائِ } (الرعد :14) ” مگر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پھیلانے والے کی مانند پانی کی طرف۔ “
کُفَّ /کُفُّ/کُفِّ (فعل امر) : تو روک۔ { کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ } (النسائ :77) ” تم لوگ روکو اپنے ہاتھوں کو اور قائم کرو نماز۔ “
کَافَّــۃٌ (یہ فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل کَافٌّ ہے اور اس پر تائے مبالغہ ہے جیسے ” عَلَّامَۃٌ “ پر ہے): (1) بہت زیادہ روکنے والا۔ (2) بہت زیادہ جمع کرنے والا۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں : باجماعت ‘ سب کے سب۔ { وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ کَافَّۃً لِّلنَّاسِ } (سبا :28) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ ‘ کو مگر روکنے والا ہوتے ہوئے لوگوں کے لیے “۔{ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَافَّۃً } (التوبۃ :36) ” اور تم لوگ قتال کرو مشرکوں سے اکٹھے ہو کر۔ “
ترکیب : فعل امر ” اُدْخُلُوْا “ کا مفعول ” السِّلْمِ “ ہے جو ” فِیْ “ کے صلہ کی وجہ سے مجرور ہوا ہے ‘ جبکہ ” السِّلْمِ “ کا حال ہونے کی وجہ سے ” کَافَّۃً “ منصوب ہے۔ ” لَا تَتَّبِعُوْا “ فعل نہی کا مفعول مرکب اضافی ” خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ “ ہے ‘ اس لیے اس کا مضاف ” خُطُوٰتِ “ حالت نصبی میں ہے۔
Ayah 2:209[ فَاِنْ : پھر اگر ] [ زَلَلْتُمْ : تم لوگوں نے لغزش کھائی ] [ مِّنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَآئَ تْکُمُ : آئیں تمہارے پاس ] [ الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں) ] [ فَاعْلَمُوْآ : تو جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [ حَکِیْمٌ: دانا ہے ]
ترکیب : ” اِنْ “ شرطیہ ہے۔ ” زَلَلْتُمْ “ سے ” اَلْبَیِّنٰتُ “ تک شرط ہے اور ” فَاعْلَمُوْا “ سے آخر تک جوابِ شرط ہے۔ ” جَائَ تْ “ کا مفعول ” کُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اَلْبَیِّنٰتُ “ اس کا فاعل ہے اور یہ صفت ہے ‘ اس کا موصوف ” الْاٰیٰتُ “ محذوف ہے۔
Ayah 2:210[ ہَلْ یَنْظُرُوْنَ : وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] [ اِلَّآ : سوائے اس کے ] [ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ : کہ آئے ان کے پاس ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فِیْ ظُلَلٍ : سائبانوں میں ] [ مِّنَ الْغَمَامِ : بادلوں کے ] [ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ : اور فرشتے ] [ وَقُضِیَ : اور فیصلہ کیا جائے ] [ الْاَمْرُ : سارے مسئلے کا ] [ وَاِلَی اللّٰہِ : اور اللہ کی طرف ہی ] [ تُرْجَعُ : لوٹائے جائیں گے ] [ الْاُمُوْرُ : تمام مسئلے ]
ترکیب : ” اَنْ یَّاْتِیَ “ کا مفعول ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” اللّٰہُ “ اور ” الْمَلٰئِکَۃُ “ اس کے فاعل ہیں۔ ” اَلْغَمَامِ “ اسم جنس ہے۔ اُردو میں یہ مفہوم بادلوں سے ادا ہوگا۔ ” قُضِیَ “ کا نائب فاعل ” الْاَمْرُ “ ہے اور اس پر لام جنس ہے۔” تُرْجَعُ “ کا نائب فاعل ” الْاُمُوْرُ “ ہے اور متعلق فعل ” اِلَی اللّٰہِ “ کو تاکید کے لیے مقدم کیا گیا ہے۔
نوٹ (1) : اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ تم میوزیم گئے تھے ‘ وہاں تم نے کیا دیکھا اور جواب میں وہ کہے کہ کیا دیکھا سوائے اس کے کہ …… اب نوٹ کریں کہ اس جواب میں حرفِ استفہام ” کیا “ نفی کے معنی دے رہا ہے ‘ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ۔ اسی طرح اس آیت میں ” ھَلْ “ بھی نفی کے مفہوم میں آیا ہے ‘ یعنی وہ لوگ کوئی انتظار نہیں کرتے سوائے اس کے کہ۔
نوٹ (2) : مادہ ” ن ظ ر “ راہ دیکھنے یا انتظار کرنے کے معنی میں عام طور پر باب افتعال سے آتا ہے لیکن کبھی ثلاثی مجرد سے بھی اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ آیت اس کی ایک مثال ہے۔
Ayah 2:211[ سَلْ : آپ ﷺ پوچھیں ] [ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ : بنی اسرائیل سے ] [ کَمْ : کتنی ] [ اٰتَیْنٰـہُمْ : ہم نے دی ان کو ] [ مِّنْ اٰیَۃٍم بَـیِّنَۃٍ : واضح نشانی ] [ وَمَنْ یُّـبَدِّلْ : اور جو بدلتا ہے ] [ نِعْمَۃَ اللّٰہِ : اللہ کی نعمت کو ] [ مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَآئَ تْہُ : وہ آئی اس کے پاس ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : پکڑنے میں سخت ہے ]
ترکیب : ” کَمْ “ استفہامیہ ہے۔ ” اٰیَۃٍ بَیِّنَۃٍ “ اس کی تمیز ہے لیکن ” مِنْ “ کی وجہ سے مجرور ہے۔ ” اٰتَیْنَا “ کی ضمیر مفعولی ” ھُمْ “ ” بَنِیْ اِسْرَائِ یْلَ “ کے لیے ہے۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یُبَدِّلْ “ سے ” جَائَ تْہُ “ تک شرط ہے ۔ اس کے آگے کا جملہ جوابِ شرط ہے۔ ” یُبَدِّلْ “ کا فاعل اس کی ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لیے ہے اور ” نِعْمَۃَ اللّٰہِ “ اس کا مفعول ہے۔ ” جَائَ تْ “ کا فاعل اس کی ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” نِعْمَۃَ اللّٰہِ “ کے لیے ہے اور ” ہُ “ کی ضمیر مفعولی ” مَنْ “ کے لیے ہے۔
نوٹ (1) : قاعدہ یہ ہے کہ ” کَمْ “ کے بعد والا اسم اگر منصوب ہو تو ایسا ” کَمْ “ استفہامیہ ہوتا ہے اور اگر اسم مجرور ہو تو وہ ” کَمْ “ خبریہ ہوتا ہے ۔ اب اس کا ایک استثناء سمجھ لیں۔ ” کَمْ “ استفہامیہ اور اس کے اسم کے درمیان میں اگر کوئی دوسرا لفظ آجائے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ” اٰتَیْنٰھُمْ “ آیا ہے ‘ تو اس کے اسم کو ” مِنْ “ لگا کر مجرور کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں بھی وہ ” کَمْ “ استفہامیہ ہی رہتا ہے ‘ خبریہ نہیں ہوتا۔
نوٹ (2): یہاں ” نِعْمَۃَ اللّٰہِ “ سے مراد ” اللہ کا دین “ ہے۔ اور اللہ کے دین کا حامل ہونے میں منصب امامت از خود شامل ہے۔ بنی اسرائیل نے اللہ کے دین میں تبدیلیاں کر کر کے اس کو اتنا مسخ کردیا کہ اس میں صحیح اور غلط کا فرق کرنا ممکن نہ رہا اور دنیا کے لیے اس سے راہنمائی حاصل کرنے کا امکان ختم ہوگیا۔ اس لیے ان کو منصب امامت سے معزول کیا گیا۔
Ayah 2:212[ زُیِّنَ : سجایا گیا ] [ لِلَّذِیْنَ : ان کے لیے جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : ناشکری کی ] [ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا : دنیوی زندگی کو ] [ وَیَسْخَرُوْنَ : اور وہ لوگ مذاق کرتے ہیں ] [ مِنَ الَّذِیْنَ : ان سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جنہوں نے ] [ اتَّقَوْا : تقویٰ کیا ] [ فَوْقَہُمْ : ان سے بالاتر ہوں گے ] [ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَرْزُقُ : عطا کرتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [ بِغَیْرِ حِسَابٍ : کسی شمار کے بغیر ]
ز ی ن
زَانَ (ض) زَیْنًا : کسی چیز کو خوبصورت بنانا ‘ سجانا ‘ آراستہ کرنا۔
زِیْنَۃٌ (اسم ذات) : وہ چیز جس سے کسی چیز کو سجایا جائے ‘ سجاوٹ ‘ آرائش۔ { مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ } (الاعراف :32) ” کس نے حرام کیا اللہ کی اس سجاوٹ کو جو اس نے نکالی اپنے بندوں کے لیے ؟ “
زَیَّنَ (تفعیل) تَزْیِیْنًا : بتدریج سجانا ‘ خوب سجانا۔ { وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا ‘ یَعْمَلُوْنَ ۔ } (الانعام) ” اور خوب سجایا ان کے لیے شیطان نے اس کو جو وہ لوگ کیا کرتے تھے۔ “ { وَلٰــکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَـیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّـنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } (الحُجُرات :7) ” اور لیکن اللہ نے محبوب بنایا تمہارے لیے ایمان کو اور اس نے خوب سجایا اس کو تمہارے دلوں میں۔ “
تَزَیَّنَ (تفعّل) تَزَیُّنًا اور اِزَّیُّنًا : بتکلف آراستہ ہونا۔ { اِذَا اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَتْ } (یونس :24) ” جب پکڑا زمین نے اپنا سنگھار اور وہ آراستہ ہوئی۔ “
ترکیب : ” زُیِّنَ “ کا نائب فاعل ” اَلْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا “ ہے۔ ” اَلْحَیٰوۃُ “ مؤنث غیر حقیقی ہے ‘ اس لیے اس کے فعل کے لیے مذکر کا صیغہ بھی جائز ہے۔ ” لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ متعلق فعل ہے۔ ” وَیَسْخَرُوْنَ “ کا ” وائو “ عاطفہ ہے۔ ” یَسْخَرُوْنَ “ کی ” ھُمْ “ کی ضمیر فاعلی ” لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ کے لیے ہے۔ ” وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا “ کا ” وائو “ استینافیہ ہے اس لیے اس سے پہلے وقف لازم ہے۔ ” وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ظرف ” فَوْقَھُمْ “ قائم مقام خبر ہے۔ اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ” لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ کے لیے ہے۔ ” یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ “ دوسرا ظرف ہے اور متعلق خبر ہے۔” یَرْزُقُ “ اور ” یَشَآئُ “ دونوں کا مفعول ” مَنْ “ ہے۔ ” یَشَائُ “ کی ” ھُوَ “ کی ضمیر فاعلی اللہ کے لیے ہے۔
نوٹ (1) : قرآن مجید میں ایک سو سے زیادہ مقامات پر لفظ ” یَشَائُ “ آیا ہے اور پچاس سے زیادہ مقامات پر اس سے پہلے ” مَنْ “ یا ” لِمَنْ “ آیا ہے۔ ہمارے کچھ عقل پرست لوگ (عقل پسندی قرآنی ہدایات کے مطابق ہے ‘ لیکن عقل پرستی غلط ہے) ایسے مقامات پر ” مَنْ “ کو ” یَشَائُ “ کا فاعل مان کر ترجمہ کرتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ قرآن مجید کے ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں عقل پرستوں کی غلطی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔
” مَنْ “ کو اگر ” یَشَائُ “ کا فاعل مان کر ترجمہ کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیتا ہے جو چاہتا ہے۔ اب اگر ایمان داری سے سوچا جائے تو ہر غیر متعصب ذہن کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ کون ہے جو نہیں چاہتا کہ اس کو بیشمار ملے ‘ اور اس دنیا میں کون ہے جس کو اس کی خواہش کے مطابق ملا ہے ؟ عام آدمی کا تو ذکر ہی چھوڑ دیں ‘ یہ خواہش تو اپنے وقت کے کسی فرعون کی بھی پوری نہیں ہوئی۔
عقل پرستوں کی سوچ میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چاہنے کو اپنے چاہنے پر قیاس کرتے ہیں ‘ حالانکہ ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ بلکہ صحیح تر بات یہ ہے کہ ان میں کسی قسم کا کوئی نسبت و تناسب نہیں ہے۔ ہمارا چاہنا ہمارے محدود علم ‘ محدودسمجھ ‘
بے لگام خواہشات ‘ خاندان ‘ برادری ‘ ذات پات اور رنگ و نسل کے تعصبات کے تحت ہوتا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا چاہنا اس کی لامحدود صفات ‘ مثلاً علم ‘ رأفت ‘ رحمت اور حکمت وغیرہ کے مطابق ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو سمجھ کر تسلیم کرلیتے ہیں ‘ ان کو قرآن مجید کے مذکورہ مقامات کا وہ مفہوم سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی جو صحابۂ کرام ؓ امت کو سمجھا گئے ہیں۔
Ayah 2:213[ کَانَ النَّاسُ : لوگ تھے ] [ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً : ایک امت ] [ فَـبَعَثَ : تو بھیجا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ النَّبِیّٖنَ : انبیاء کو ] [ مُبَشِّرِیْنَ : بشارت دینے والے ہوتے ہوئے ] [ وَمُنْذِرِیْنَ : اور خبردار کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ وَاَنْزَلَ : اور اس نے اتاری ] [ مَعَہُمُ : ان کے ساتھ ] [ الْـکِتٰبَ : کتاب ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ لِیَحْکُمَ : تاکہ وہ فیصلہ کرے ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے ] [ مابین ] [ فِیْمَا : اس میں ] [ اخْتَلَفُوْا : انہوں نے اختلاف کیا ] [ فِیْہِ : جس میں ] [ وَمَا اخْتَلَفَ : اور اختلاف نہیں کیا ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ اِلاَّ الَّذِیْنَ : مگر ان لوگوں نے جن کو ] [ اُوْتُوْہُ : وہ دی گئی ] [ مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَآئَ تْہُمُ : آئیں ان کے پاس ] [ الْبَـیِّنٰتُ : کھلی نشانیاں ] [ بَغْیًا : سرکشی کرتے ہوئے ] [ بَیْنَہُمْ ج : آپس میں ] [ فَـہَدَی : پھر ہدایت دی ] [ اللّٰـہُ : اللہ نے ] [ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لِمَا : اس کی ] [ اخْتَلَفُوْا : انہوں نے اختلاف کیا ] [ فِیْہِ : جس میں ] [ مِنَ الْحَقِّ : حق میں سے ] [ بِاِذْنِہٖ : اپنے اذن سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَہْدِیْ : ہدایت ] [ دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ : ایک سیدھے راستے کی طرف ]
ترکیب :” کَانَ “ کا اسم ” النَّاسُ “ ہے اور مرکب توصیفی ” اُمَّۃً وَّاحِدَۃً “ اس کی خبر ہے۔ ” فَـبَعَثَ “ کا فاعل ” اللّٰہُ “ ہے۔” النَّبِیّٖنَ “ اس کا مفعول ہے ‘ جبکہ ” مُبَشِّرِیْنَ “ اور ” مُنْذِرِیْنَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔” اَنْزَلَ “ میں ” ھُوَ “ کی ضمیر فاعلی ” اللّٰہُ “ کے لیے ہے۔ ” مَعَھُمْ “ کی ضمیر ” النَّبِیّٖنَ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” اَنْزَلَ “ کا مفعول ” الْکِتٰبَ “ ہے۔ ” لِیَحْکُمَ “ میں ” ھُوَ “ کی ضمیر فاعلی ” الْکِتٰبَ “ کے لیے ہے۔ ” فِیْہِ “ کی ضمیر ” فِیْمَا “ کی ضمیر عائد ہے۔ ” مَا ‘ اخْتَلَفَ فِیْہِ “ کی ضمیر ” الْکِتٰبَ “ کے لیے ہے۔ ” اُوْتُوْا “ کا نائب فاعل ” الَّذِیْنَ “ ہے اور ” ہُ “ کی ضمیر اس کا مفعول ثانی ہے جو کہ ” الْکِتٰبَ “ کے لیے ہے۔” بَغْیًا “ حال یا مفعول لہ ہے۔
” ھَدٰی ۔ یَھْدِیْ “ کے دو مفعول آتے ہیں۔ مفعولِ اوّل یعنی جس کو ہدایت دی جائے ‘ یہ بنفسہٖ آتا ہے اور مفعولِ ثانی یعنی جس چیز کی ہدایت دی جائے ‘ یہ ” اِلٰی “ یا ” لِ “ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں ” فَھَدَی “ کا فاعل ” اللّٰہُ “ ہے ‘ جبکہ ” الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ اس کا مفعولِ اوّل ہے اور ” لِمَا “ مفعولِ ثانی ہے۔ اسی طرح ” وَاللّٰہُ یَھْدِیْ “ کا مفعولِ اوّل ” مَنْ یَّشَائُ “ ہے اور ” اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ “ مفعولِ ثانی ہے۔
نوٹ (1) : اس آیت کے شروع میں آیا ہے کہ پہلے سب لوگ ایک دین پر کاربند تھے۔ اس کے بعد یہ بات محذوف ہے کہ پھر ان میں اختلاف پیدا ہوئے ‘ تب اللہ نے انبیاء کو بھیجا۔ اس بات کی تصدیق آیت کے اگلے حصے ” لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ “ سے ہوتی ہے۔
نوٹ (2) : اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اختلاف رائے فِی نفسہٖ کوئی بری چیز نہیں ہے ‘ البتہ اس میں اگر نیت بَغْیًام بَیْنَہُمْکی ہو تو یہ مذموم اختلاف ہے۔ لیکن حق کی تلاش میں اہل ایمان میں اگر اختلاف رائے ہوجائے تو یہ فطری اختلاف ہے ‘ اور ایسے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے۔
Ayah 2:214[ اَمْ حَسِبْتُمْ : کیا تم لوگوں نے گمان کیا ] [ اَنْ تَدْخُلُوا : کہ تم لوگ داخل ہو جائو گے ] [ الْجَنَّۃَ : جنت میں ] [ وَ : حالانکہ ] [ لَمَّا یَاْتِکُمْ : ابھی تک نہیں پہنچے تم کو ] [ مَّثَلُ الَّذِیْنَ : ان کی مانند جو ] [ خَلَوْا : گزرے ] [ مِنْ قَبْلِکُمْ : تم سے پہلے ] [ مَسَّتْہُمُ : پہنچیں ان کو ] [ الْبَاْسَآئُ : سختیاں ] [ وَالضَّرَّآئُ : اور تکالیف ] [ وَزُلْزِلُوْا : اور وہ لوگ ہلا ] [ مارے گئے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَقُوْلَ : کہنے لگے ] [ الرَّسُوْلُ : (وقت کے) رسول ] [ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے ] [ مَعَہٗ : ان کے ساتھ ] [ مَتٰی : کب ] [ نَصْرُ اللّٰہِ : اللہ کی مدد ہے ] [ اَلَآ : سن لو ] [ اِنَّ : یقینا ] [ نَصْرَ اللّٰہِ : اللہ کی مدد ] [ قَرِیْبٌ : قریب ہے ]
ز ل ز ل
زَلْزَلَ (رُباعی) زِلْزَالاً : کسی چیز کو بہت زیادہ ہلانا ‘ ہلا مارنا۔ { اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا ۔ } (الزّلزال) ” جب ہلایا جائے گا زمین کو جیسا اس کو ہلانے کا حق ہے۔ “
زَلْزَلَۃٌ (اسم ذات) : سخت جنبش ‘ زلزلہ۔ { اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ ۔ } (الحج) ” یقینا قیامت کا زلزلہ ایک عظیم چیز ہے۔ “
ترکیب : ” اَمْ “ استفہامیہ ہے۔ ” حَسِبْتُمْ “ کا فاعل اس کی ضمیر فاعلی ” اَنْتُمْ “ ہے ‘ اس کا مفعولِ اوّل محذوف ہے جو کہ ” سَھْلًا “ ہوسکتا ہے ‘ جبکہ ” اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ “ مفعولِ ثانی ہے۔ ” وَلَمَّا “ کا ” وائو “ حالیہ ہے۔” لَمَّا “ نے ” یَاْتِیْ “ کو مجزوم کیا تو ” یا ‘ ‘ گرگئی اس لیے ” یَاْتِ “ آیا ہے۔” کُمْ “ اس کا مفعول ہے اور ” مَثَلُ الَّذِیْنَ “ اس کا فاعل ہے۔ ” مَسَّتْ “ کا مفعول ” ھُمْ “ ہے جو ” اَلَّذِیْنَ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” اَلْبَاْسَآئُ “ اور ” اَلضَّرَّآئُ “ اس کے فاعل ہیں۔” زُلْزِلُوْا “ کا نائب فاعل اس کی ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلَّذِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” مَعَہٗ “ کی ضمیر ” اَلرَّسُوْلُ “ کے لیے ہے۔ ” مَتٰی “ مبتدأ ہے اور ” نَصْرُ اللّٰہِ “ اس کی خبر ہے۔
نوٹ (1) : آزمائش کی ضرورت اور حکمت پر سورة البقرۃ کی آیت 155 کے نوٹ 2 میں بات ہوچکی ہے۔
Ayah 2:215[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے کہ ] [ مَاذَا : کتنا ] [ یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کریں ] [ قُلْ : ( آپ ﷺ ) کہہ دیجیے کہ ] [ مَآ : جو ] [ اَنْفَقْتُمْ : تم لوگ خرچ کرو گے ] [ مِّنْ خَیْرٍ : جتنا بھی مال ] [ فَلِلْوَالِدَیْنِ : تو وہ ہے والدین کے لیے ] [ وَالْاَقْرَبِیْنَ : اور قرابت داروں کے لیے ] [ وَالْیَتٰمٰی : اور یتیموں کے لیے ] [ وَالْمَسٰکِیْنِ : اور مسکینوں کے لیے ] [ وَابْنِ السَّبِیْلِ : اور مسافروں کے لیے ] [ وَمَا : اور جو ] [ تَفْعَلُوْا : تم لوگ کرو گے ] [ مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ بِہٖ : اس کو ] [ عَلِیْمٌ: ہر حال میں جاننے والا ہے ]
ترکیب : ” یَسْئَلُوْنَ “ کا فاعل اس کی ضمیر ” ھُمْ “ ہے جو صحابۂ کرام ؓ کے لیے ہے۔ ” کَ “ اس کی ضمیر مفعولی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ ” مَاذَا “ اسمِ استفہام ہے اور کیا کچھ اور کتنا کے معنی میں آتا ہے۔” مَا اَنْفَقْتُمْ “ کا ” ما “ شرطیہ ہے۔” اَنْفَقْتُمْ مِنْ خَیْرٍ “ شرط ہے اور ” فَلِلْوَالِدَیْنِ “ سے ” وَابْنِ السَّبِیْلِ “ تک جوابِ شرط ہے۔ ” مِنْ خَیْرٍ “ کا ” مِنْ “ بیانیہ بھی ہوسکتا ہے اور تبعیضیہ بھی اور ” اَنْفَقْتُمْ “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ” خَیْرٍ “ کا ترجمہ مال ہوگا۔ ” فَلِلْوَالِدَیْنِ “ سے پہلے اس کا مبتدأ” ھُوَ “ اور خبر دونوں محذوف ہیں۔ اس کے حرفِ جر ” لِ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” وَالْاَقْرَبِیْنَ “ سے ” وَابْنِ السَّبِیْلِ “ تک الفاظ مجرور ہیں ‘ اور یہ سب محذوف متعلق خبر ہیں۔ ” ابْنِ السَّبِیْلِ “ واحد اور جمع دونوں کے لیے آتا ہے اور یہاں جمع کے معنی میں ہے۔
” مَا تَفْعَلُوْا “ کا ” مَا “ بھی شرطیہ ہے اس لیے ” تَفْعَلُوْنَ “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ” تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ “ شرط ہے اور ” فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ“ جوابِ شرط ہے۔ ” مِنْ خَیْرٍ “ کا ” مِنْ “ تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے اور بیانیہ بھی اور ” تَفْعَلُوْا “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ” خَیْرٍ “ کا ترجمہ بھلائی ہوگا۔
” عَلِمَ ‘ یَعْلَمُ “ کا مفعول بنفسہٖ آتا ہے۔ یعنی ” عَلِمَ بِہٖ “ نہیں کہتے بلکہ ” عَلِمَہٗ “ کہتے ہیں۔ لیکن افعل تفضیل ” اَعْلَمُ “ اور ” عَلِیْمٌ“ کے ساتھ ” بِ “ کا صلہ آتا ہے ‘ جیسے اس آیت میں ” بِہٖ عَلِیْمٌ“ آیا ہے۔
نوٹ (1) : آگے آیت 219 میں یہی سوال پھر آ رہا ہے۔ البتہ وہاں پر جواب مختلف ہے۔ وہیں پر دونوں کی کچھ وضاحت کی جائے گی۔