Ayah 2:133(اَمْ کُنْتُمْ : یا تم لوگ) (شُھَدَآئَ : موقع پر موجود تھے) (اِذْ حَضَرَ : جب سامنے آئی) (یَعْقُوْبَ : یعقوب (علیہ السلام) کے) (الْمَوْتُ : موت) (اِذْ قَالَ : جب انہوں نے کہا) (لِبَنِیْہِ : اپنے بیٹوں سے) (مَا : کس کی) ( تَعْبُدُوْنَ : تم لوگ عبادت کرو گے) (مِنْ بَعْدِیْ : میرے بعد ) ( قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا) (نَعْبُدُ : ہم لوگ عبادت کریں گے) (اِلٰـھَکَ : آپ کے الٰہ کی) (وَاِلٰــہَ اٰبَآئِکَ : اور آپ کے آباء کے الٰہ کی) (اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ : ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) (کے الٰہ کی) (اِلٰــھًا وَّاحِدًا : جو کہ واحد الٰہ ہے) ( وَنَحْنُ لَــہٗ : اور ہم لوگ اس کی ہی) (مُسْلِمُوْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ہیں)
ح ض ر
حَضَرَ (ن) حُضُوْرًا : اس کا بنیادی مفہوم ہے کسی شہر میں اقامت پذیر ہونا۔ اس کے ساتھ زیادہ تر دو معنی میں آتا ہے : (1) کسی جگہ موجود ہونا۔ (2) کسی کے سامنے ہونا یعنی حاضر ہونا۔ { حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ } (النسائ :18) ” یہاں تک کہ جب سامنے آئے ان کے ایک کے موت ‘ تو وہ کہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اب۔ “
حَاضِرٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ موجود ‘ حاضر ۔{ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا } (الکہف :49) ” اور وہ لوگ پائیں گے اس کو جو انہوں نے عمل کئے ‘ سامنے موجود۔ “
حَاضِرَۃٌ : یہ صفت حَاضِرٌ کی مؤنث بھی ہے اور اسم ذات بھی ہے۔ اس وقت اس کے معنی ہوتے ہیں کوئی بستی۔ کوئی شہر۔{ اِلاَّ اَنْ تَــکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً } (البقرۃ :282) ” سوائے اس کے کہ وہ ہو کوئی حاضر تجارت۔ “ { وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ } (الاعراف :163) ” اور ان سے پوچھو اس بستی کے بارے میں جو تھی سمندر کی بستی یعنی سمندر کے کنارے۔ “
اَحْضَرَ (افعال) اِحْضَارًا : کسی کو کسی کے سامنے لانا ‘ حاضر کرنا۔ { عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا اَحْضَرَتْ ۔ } (التکویر) ” جان لے گی ہر جان اس کو جو اس نے حاضر کیا۔ “
مُحْضَرٌ (اسم المفعول) : حاضر کیا ہوا۔{ یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِّنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا } (آل عمران :30) ” اس دن پائے گی ہر ایک جان اس کو جو اس نے عمل کیا کسی نیکی میں سے ‘ حاضر کیا ہوا۔ “
اِحْتَضَرَ (افتعال) اِحْتِضَارًا : اہتمام سے سامنے کرنا ‘ یعنی باری باری سامنے کرنا۔
مُحْتَضَرٌ (اسم المفعول) : سامنے کیا ہوا ۔ { وَنَبِّئْھُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌ بَیْنَھُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ ۔ } (القمر) ” اور ان کو خبر دو کہ پانی بانٹا ہے ان کے مابین ‘ پینے کی باری پر ہر ایک سامنے کیا ہوا ہے۔ “
ترکیب : ” کُنْتُمْ “ کا اسم اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” شُھَدَآئَ “ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔” حَضَرَ “ کا مفعول ” یَعْقُوْبَ “ ہے اور فاعل ” اَلْمَوْتُ “ ہے۔ ” مَا “ استفہامیہ مبتدأ ‘ ” تَعْبُدُوْنَ “ خبر اور ” مِنْ بَعْدِیْ “ متعلق خبر ہے۔” نَعْبُدُ “ کا مفعول ” اِلٰـھَکَ وَاِلٰـہَ اٰبَائِکَ “ ہے۔ اس میں ” اٰبَائِکَ “ کا بدل ” اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ “ ہیں اور ” اِلٰــہَ “ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں ۔ جبکہ ” اِلٰـھًا وَّاحِدًا “ لفظ ” اِلٰـــہَ “ کا بدل ہے۔
Ayah 2:134(تِلْکَ : وہ) (اُمَّــۃٌ : ایک امت ہے جو) (قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہے) ( لَھَا : اس کے لئے ہی ہے ) (مَا کَسَبَتْ : وہ جو اس نے کمایا) (وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لئے ہی ہے ) (مَّا کَسَبْتُمْ : وہ جو تم لوگوں نے کمایا) (وَلَا تُسْئَلُوْنَ : اور تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا) (عَمَّا : اس کے بارے میں جو ) (کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کیا کرتے تھے)
ترکیب : ” تِلْکَ “ مبتدأ جبکہ ” اُمَّۃٌ“ خبر ہے اور نکرہ موصوفہ ہے۔ ” قَدْ خَلَتْ “ اس کی صفت ہے۔ ” مَا “ موصولہ ہے اور ” کَسَبَتْ “ اس کا صلہ ہے۔ صلہ موصول مل کر مبتدأ ہیں۔ اس کی خبر ” وَاجِبٌ“ محذوف ہے اور ” لَھَا “ قائم مقام خبر مقدم ہوتی ہے۔ ” تُسْئَلُوْنَ “ مضارع مجہول ہے اور اس کا نائب الفاعل اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔
نوٹ (1) : یہ بات تو ہم لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے نیک اعمال کے ثواب میں اور برے اعمال کے گناہ میں ہمارے آباء و اجداد کا خصوصاً والدین کا ایک حصّہ ہوتا ہے۔ لیکن اس آیت کے حوالہ سے اب یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ آباء و اجداد کی نیکیوں کے ثواب میں اور ان کی برائیوں کے گناہ میں ہم لوگوں کا یعنی اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
Ayah 2:135(وَقَالُوْا : اور ان لوگوں نے کہا) (کُوْنُوْا : تم لوگ ہو جائو) (ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : یہودی یا عیسائی) (تَھْتَدُوْا : تو تم لوگ ہدایت پائو گے) (قُلْ : آپ ﷺ کہئے) (بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ) (مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ : (پیروی کرو) ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی) (حَنِیْفًا : یکسو ہوتے ہوئے) (وَمَا کَانَ : اور وہ نہیں تھے) (مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ : شرک کرنے والوں میں سے)
ح ن
حَنُفَ (ک) حَنَافَۃً : (1) ٹیڑھے پیر والا ہونا (ٹیڑھا پیر کسی طرف نہیں مڑتا اور ہمیشہ ایک رخ پر ہوتا ہے) ۔ (2) ہر طرف سے کٹ کر کسی ایک سمت میں یکسوہونا۔
حَنِیْفٌ ج حُنَفَائَ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ہمیشہ اور ہر حال میں یکسو۔ { اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا } (الانعام :79) ” بیشک میں نے متوجہ کیا اپنے چہرے کو اس کے لئے جس نے بنایا آسمانوں اور زمین کو ‘ یکسوہوتے ہوئے ۔ “ { وَمَآ اُمِرُوْآ اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَــآئَ } (البیّنۃ :5) ” اور ان لوگوں کو حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ وہ لوگ عبادت کریں اللہ کی ‘ خالص کرنے والا ہوتے ہوئے اس کے لئے نظام حیات کو ‘ یکسو ہوتے ہوئے۔ “
ش ر ک
شَرِکَ (س) شَرَکًا : کسی چیزیا کام میں کسی کا ساجھی ہونا۔ حصہ دار ہونا۔
شِرْکٌ (اسم ذات) : حصہ ‘ ساجھا ‘ شرکت۔{ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } (فاطر :40) ” تم لوگ دکھائو مجھ کو کیا تخلیق کیا ان لوگوں نے زمین میں یا ان کے لئے ہے کوئی ساجھا آسمان میں ؟ “
شَرِیْکٌ ج شُرَکَائُ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ہمیشہ اور ہر حال میں حصہ دار۔ ساجھے دار۔{ وَلَمْ یَکُنْ لَّــہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ } (الفرقان :2) ” اور ہے ہی نہیں اس کے لئے کوئی ساجھے دار بادشاہت میں۔ “ { فَاِنْ کَانُوْا اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَھُمْ شُرَکَآئُ فِی الثُّلُثِ } (النسائ :12) ” پس اگر وہ لوگ اس سے زیادہ ہیں تو وہ لوگ حصہ دار ہیں تہائی میں۔ “
اَشْرَکَ (افعال) اِشْرَاکًا : کسی کو کسی کا حصہ دار یا ساجھی بنانا یا قرار دینا ۔
{ وَلَآ اُشْرِکُ بِرَبِّیْ اَحَدًا } (الکہف :38) ” اور میں ساجھی قرار نہیں دیتا اپنے رب کے ساتھ کسی ایک کو۔ “
شِرْکٌ : یہ ثلاثی مجرد میں اسم ذات بھی ہے اور باب افعال کے مصدر کے طور پر بھی آتا ہے۔ البتہ باب افعال میں اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنے کے معنی میں مخصوص ہے۔ { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ۔ } (لقمان :13) ” بیشک اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک قرار دینا ایک عظیم ظلم ہے “۔
اَشْرِکْ (فعل امر) : تو ساجھی بنا ‘ تو حصہ دار بنا۔ { وَاَشْرِکْہُ فِیْ اَمْرِیْ ۔ } (طٰہٰ ) ” اور تو ساجھی بنا اس کو میرے کام میں۔ “
مُشْرِکٌ (اسم الفاعل) : ساجھی بنانے والا ‘ شرک کرنے والا ۔ { اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ} (التوبۃ :28) ” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ شرک کرنے والے پلید ہیں۔ “
شَارَکَ (مفاعلہ) مُشَارَکَۃٌ : باہم ایک دوسرے کا حصہ دار بننا۔ شریک ہونا۔
شَارِکْ (فعل امر) : تو حصہ دار بن ‘ شریک ہو۔{ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ } (بنی اسرائیل :64) ” اور تو شریک ہو ان کے ساتھ مال میں اور اولاد میں۔ “
اِشْتَرَکَ (افتعال) اِشْتِرَاکًا : اہتمام سے شریک ہونا۔
مُشْتَرِکٌ (اسم الفاعل) : شریک ہونے والا۔{ فَاِنَّھُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” پس یقینا وہ لوگ اس دن عذاب میں شریک ہونے
والے ہیں۔ “
ترکیب : ” کُوْنُوْا “ کَانَکا فعل امر ہے۔ اس کا اسم اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی “ اس کی خبر ہے۔ ” تَھْتَدُوْا “ جو اب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔” بَلْ “ سے پہلے ” کَلاَّ “ محذوف ہے۔ ” مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ “ مرکب اضافی ہے اور اس کے مضاف ” مِلَّۃَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کسی محذوف فعل کا مفعول ہے ‘ جو ” نَــتَّبِعُ “ یا ” اِتَّبِعُوْا “ ہوسکتا ہے۔” حَنِیْفًا “ کا ” اِبْرٰھٖم “ سے حال ہونا قیاساً ضعیف ہے ‘ کیونکہ ابراہیم مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ سے حال ہونا قلیل الاستعمال ہے۔ لہٰذا یا تو ” اِتَّبِعُوْا “ یا ” نَتَّبِعُ “ فعل محذوف کی ضمیر فاعلی سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور یا فعل محذوف ” اعنی “ کا مفعول ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔” مَا کَانَ “ میں ” کَانَ “ کا اسم اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ہے۔” مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ “ کَانَکی خبر ہے۔
نوٹ (1) : اس کا یہ مطلب نہیں کہ چاہے یہودی ہو جائو یا عیسائی ہو جائو ‘ ہدایت پائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ یہودی ہو گے تو ہدایت پائو گے اور عیسائی کہتے ہیں کہ عیسائی ہو گے تو ہدایت پائو گے۔ دونوں کے اقوال کو یہاں یکجا نقل کیا گیا ہے۔
Ayah 2:136(قُوْلُوْآ : تم لوگ کہو) (اٰمَنَّا : ہم لوگ ایمان لائے) (بِاللّٰہِ : اللہ پر) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُنْزِلَ : اتارا گیا) (اِلَــیْنَا : ہماری طرف) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُنْزِلَ : اتارا گیا) (اِلٰی اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف) (وَاِسْمٰعِیْلَ : اور اسماعیل (علیہ السلام) ) (ی طرف) (وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف) (وَیَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) کی طرف) (وَالْاَسْبَاطِ : اور ان کی نسل کی طرف) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُوْتِیَ مُوْسٰی : دیا گیا موسٰی (علیہ السلام) کو) (وَعِیْسٰی : اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ : دیا گیا انبیاء (علیہ السلام) کو) (مِنْ رَّبِّھِمْ : ان کے رب کی جانب سے) (لَا نُفَرِّقُ : ہم فرق نہیں کرتے) (بَیْنَ اَحَدٍ : کسی ایک کے مابین) (مِّنْھُمْ : ان میں سے) (وَنَحْنُ لَــہٗ : اور ہم اس کے ہی) (مُسْلِمُوْنَ : فرمانبردار ہیں)
س ب ط
سَبِطَ (س) سَبَطًا : بالوں کا سیدھا اور دراز ہونا۔
سِبْطٌ ج اَسْبَاطٌ : اولاد کی اولادیں یعنی پوتے ‘ نواسے اور ان کی اولاد۔ نسل۔ (آیت زیر مطالعہ)
ترکیب : ” قُوْلُوْا “ فعل امر ہے۔ ” اٰمَنَّا بِاللّٰہِ “ میں لفظ اللہ پر جو حرف جارہ ” بِ “ ہے ‘ یہ آگے چاروں جگہ لفظ ” مَا “ سے پہلے محذوف ہے ‘ یعنی وہ دراصل ” بِمَا “ ہیں۔ ” اِبْرٰھٖمَ “ سے لے کر ” وَالْاَسْبَاطِ “ تک تمام الفاظ ” اِلٰی “ کے زیر اثر حالت جر میں ہیں۔ ” اُوْتِیَ “ باب افعال کا ماضی مجہول ہے۔ ” مُوْسٰی ‘ عِیْسٰی “ اور ” النَّبِیُّوْنَ “ اس کے نائب فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں۔ ” نَحْنُ “ مبتدأ ‘ ” مُسْلِمُوْنَ “ خبر اور ” لَـہٗ “ متعلق خبر مقدم ہے تاکید کے لئے۔” لَـہٗ “ میں ” ٹہٗ “ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔
Ayah 2:137(فَاِنْ اٰمَنُوْا : پس اگر وہ لوگ ایمان لائیں) (بِمِثْلِ مَا : اس کے مانند) (اٰمَنْتُمْ : تم لوگ ایمان لائے) (بِہٖ : جیسے ) (فَقَدِ اھْتَدَوْا : تو ان لوگوں نے ہدایت پا لی) ( وَاِنْ تَوَلَّوْا : اور اگر وہ لوگ اعراض کریں) (فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ) (ھُمْ : وہ لوگ) (فِیْ شِقَاقٍ : مخالفت کرنے میں (اَڑے ہوئے) ہیں) (فَسَیَکْفِیْکَھُمُ : تو بےنیاز کرے گا آپ ﷺ ‘ کو ان سے) ( اللّٰہُ : اللہ ) (وَھُوَ : اور وہی) (السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ : ہر حال میں سننے والا جاننے والا ہے)
کی
کَفٰی (ض) کِفَایَۃً : (1) کسی ضرورت کی تکمیل کے لئے دوسروں سے بےنیاز ہونا۔ کافی ہونا (لازم ۔ اس مفہوم میں عموماً اس کے فاعل پر ” بَا “ زائدہ آتا ہے ‘ یعنی اس کے کوئی معنی نہیں ہوتے ‘ جیسے ” مَا “ اور ” لَـیْسَ “ کی خبر پر آتا ہے) ۔ { وَکَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیْرًا ۔ } (النسائ) ” اور کافی ہے اللہ بطور مددگار کے “۔ (2) کسی کو کسی سے بےنیاز کرنا (متعدی۔ اس مفہوم میں اس کے دو مفعول درکار ہوتے ہیں : کس کو بےنیاز کیا اور کس سے بےنیاز کیا۔ اور عموماً دونوں بنفسہ آتے ہیں) ۔ { اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ ۔ } (الحجر) ” بیشک ہم نے بےنیاز کیا آپ ﷺ ‘ کو مذاق اڑانے والوں سے “۔
کَافٍ (اسم الفاعل) : کافی ہونے والا ‘ بےنیاز کرنے والا۔{ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ } (الزمر :36) ” کیا اللہ بےنیاز کرنے والا نہیں ہے اپنے بندے کو ؟ “
ترکیب : ” فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ “ شرط ہے اور ” فَقَدِ اھْتَدَوْا “ جواب شرط ہے۔ اسی طرح ” وَاِنْ تَوَلَّوْا “ شرط ہے اور ” فَاِنَّمَا ھُمْ فِیْ شِقَاقٍ “ جواب شرط ہے۔
” اٰمَنُوْا ‘ اِھْتَدَوْا “ اور ” تَوَلَّوْا “ کے فاعل ان میں شامل ” ھُمْ “ کی ضمیریں ہیں جو آیت نمبر۔ 135 میں مذکور یہود و نصاریٰ کے لئے ہیں۔ ” بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ “ ۔ ” بَا “ زائدہ ہے اور مثل مصدر محذوف ” اِیْمَانًا “ کی صفت ہے۔ ” مَا “ مصدریہ ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے : ” فَاِنْ اٰمَنُوْا اِیْمَانًا مِثْلَ اِیْمَانِــکُمْ “ ۔ یا ” مِثْل “ زائد ہے اور ” مَا “ بمعنی ” الَّذِیْ “ ہے اور عبارت یوں ہے : ” فَاِنْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْ اٰمَنْتُمْ بِہٖ “ ۔ ” ھُمْ “ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے جو ” قَائِمٌ“ یا ” رَاسِخٌ“ ہوسکتی ہے ‘ جبکہ ” فِیْ شِقَاقٍ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” سَیَکْفِیْ “ کا فاعل ” اَللّٰہُ “ ہے۔ اس کا مفعولِ اوّل ” کَ “ کی ضمیر ہے جو حضور ﷺ کے لئے ہے اور مفعول ثانی ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو یہود و نصاریٰ کے لئے ہے۔
نوٹ (1) : آیت 13 میں جو بات { کَمَا اٰمَنَ النَّاسُ } کے الفاظ میں کہی گئی تھی وہی بات اس آیت میں { بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ } کے الفاظ میں کہی گئی ہے۔ اس حوالہ سے یہ بات دوبارہ ذہن نشین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس وہی ایمان مقبول ہے جو صحابۂ کرام کے ایمان جیسا ہو۔ غیر مستند اور خود ساختہ توہمات پر ایمان لانا نیکی نہیں ہے۔ ان کو قرآن مجید میں ” اَ مَانِی “ کہا گیا ہے۔
Ayah 2:138(صِبْغَۃَ اللّٰہِ : (ہم قبول کرتے ہیں) اللہ کے دین کو) (وَمَنْ : اور کون) (اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے) (صِبْغَۃً : بلحاظ دین کے) (وَنَحْنُ : اور ہم) (لَــہٗ : اس کی ہی ) (عٰبِدُوْنَ : بندگی کرنے والے ہیں)
ص ب غ
صَبَغَ (ف) صَبْغًا : کسی پر کوئی رنگ چڑھانا۔ بپتسمہ دینا۔ مذہب میں پختہ کرنا۔
صِبْغَۃٌ : مذہب کا رنگ ‘ بپتسمہ کا رنگ ‘ دین ( آیت زیر مطالعہ)
صِبْغٌ : سالن یا سرکہ وغیرہ (کیونکہ ان میں پانی پر کوئی رنگ چڑھ جاتا ہے) ۔ { تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ } (المؤمنون :20) ” وہ اگتا ہے چکنائی کے ساتھ اور سالن کے ساتھ کھانوں والوں کے لئے۔ “
ترکیب : ” صِبْغَۃَ اللّٰہِ “ میں مضاف کی نصب بتار ہی ہے کہ یہ مرکب اضافی مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے جو کہ نَقْبَلُ یا ” اِتَّبِعُوْا “ ہوسکتا ہے۔ یا یہ بدل ہے ” مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ “ سے۔ ” مَنْ “ مبتدأ‘ ” اَحْسَنُ “ خبر اور ” مِنَ اللّٰہِ “ متعلق خبر ہے ‘ جبکہ ” صِبْغَۃً ‘ اَحْسَنُ “ کی تمیز ہے۔ ” نَحْنُ “ مبتدأ اور ” عٰبِدُوْنَ “ خبر ہے ‘ جبکہ متعلق خبر ” لَـہٗ “ کو تاکید کے لئے مقدم کیا گیا ہے۔
Ayah 2:139(قُلْ : کہو) (اَتُحَآجُّوْنَنَا : کیا تم لوگ دلیل بازی کرتے ہو ہم سے ؟ ) ( فِی اللّٰہِ : اللہ (کے بارے ) میں) (وَھُوَ رَبُّنَا ) (حالانکہ وہ ہمارا رب ہے) (وَرَبُّــکُمْ : اور تمہارا رب ہے) (وَلَنَـآ : اور ہمارے لئے ہی ہیں) (اَعْمَالُــنَا : ہمارے اعمال) (وَلَــکُمْ : اور تمہارے لئے ہی ہیں) (اَعْمَالُــکُمْ : تمہارے اعمال) ( وَنَحْنُ : اور ہم ) (لَــہٗ : اس کے لئے ہی ) (مُخْلِصُوْنَ : خالص کرنے والے ہیں (اپنے اعمال کو)
ترکیب : ” اَتُحَاجُّوْنَنَا “ میں ہمزہ استفہام کا ہے۔” تُحَاجُّوْنَ “ فعل مضارع ہے اور اس کے ساتھ ضمیر مفعولی ” نَا “ ہے۔ ” وَھُوَ رَبُّنَا “ کا واوحالیہ ہے۔ ” ھُوَ “ مبتدأ” رَبُّنَا “ خبر اوّل اور ” رَبُّـکُمْ “ خبر ثانی ہے۔ ” اَعْمَالُنَا “ مبتدأ مؤخر ہے اور اس کی خبر محذوف ہے جبکہ ” لَنَا “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔” نَحْنُ “ مبتدأ ” لَـہٗ “ متعلق خبر مقدم اور اسم الفاعل ” مُخْلِصُوْنَ “ خبر بھی ہے اور فعل کا کام بھی کر رہا ہے۔ اس کا مفعول ” اَعْمَالَنَا “ محذوف ہے۔
نوٹ (1) : عمل کو ملاوٹ سے پاک کرنے یعنی خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے عمل کرے اور اسی سے اجر و ثواب کی امید رکھے۔ اللہ کے سوا کسی سے نہ تو اجر کی توقع کرے اور نہ ہی مدح و ستائش کی خواہش دل میں پیدا ہونے دے۔
” بعض بزرگوں کا قول ہے کہ اخلاص ایک ایسا عمل ہے جس کو نہ تو فرشتے پہچان سکتے ہیں اور نہ شیطان ‘ وہ صرف بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک راز ہے “۔ (معارف القرآن)
Ayah 2:140(اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ : یا تم لوگ کہتے ہو کہ) ( َ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ : ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل ) ( (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولادیں ‘) (کَانُوْا : وہ سب تھے) (ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : یہودی یا عیسائی) (قُلْ : کہو) (ئَ اَنْتُمْ : کیا تم لوگ) (اَعْلَمُ : زیادہ جانتے ہو ) (اَمِ اللّٰہُ : یا اللہ (زیادہ جانتا ہے) وَمَنْ : اور کون ) (اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے) (مِمَّنْ : اس سے جس نے ) (کَتَمَ : چھپایا) (شَھَادَۃً : اس گواہی کو جو ) (عِنْدَہٗ : اس کے پاس ہے ) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے) (وَمَا اللّٰہُ : اور اللہ) (بِغَافِلٍ : غافل نہیں ہے ) (عَمَّا : اس سے جو) (تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو)
ترکیب : ” اِبْرٰھٖمَ “ سے لے کر ” وَالْاَسْبَاطَ “ تک ‘ یہ سب ” اِنَّ “ کا اسم ہے ‘ جبکہ ” اِنَّ “ کی خبر کے طور پر پورا جملہ آیا ہے جو کہ ” کَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی “ ہے۔ اس جملہ میں ” کَانُوْا “ کا اسم اس میں شامل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو کہ ” اِبْرٰھٖمَ “ سے لے کر ” وَالْاَسْبَاطَ “ تک سب کے لئے ہے۔ جبکہ اس کی خبر ” ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی “ ہے۔ ” ئَ اَنْتُمْ “ مبتدأ اور ” اَعْلَمُ “ خبر ہے۔ ” اَمِ اللّٰہُ “ پھر مبتدأ ہے اور اس کی خبر ” اَعْلَمُ “ محذوف ہے۔ ” مَنْ “ استفہامیہ مبتدأ اور ” اَظْلَمُ “ اس کی خبر ہے۔ ” مِمَّنْ “ اصل میں ” مِنْ مَنْ “ ہے۔ یہ ” مَنْ “ استفہامیہ بھی مبتدأ ہے اور ” کَتَمَ “ سے لے کر ” مِنَ اللّٰہِ “ تک پورا جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے۔ ” کَتَمَ “ فعل ‘ اس کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَنْ “ کے لئے ہے۔ اس کا مفعول ” شَھَادَۃً “ ہے جو نکرہ مخصوصہ ہے۔ ” کُنْتُمْ “ متعدی بہ دہ مفعول ہوتا ہے ‘ دوسرا مفعول محذوف ہے اور عبارت یوں ہے : ” کَتَمَ النَّاسُ شَھَادَۃً “ اور ” عِنْدَہٗ “ اور ” مِنَ اللّٰہِ “ یہ دونوں ” شَھَادَۃً “ کی صفات ہیں۔ جبکہ ” عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ “ اس کی خصوصیت ہے۔ لفظ ” اَللّٰہُ “ مَا نافیہ کا اسم ہے اور ” بِغَافِلٍ “ اس کی خبر ہے۔ جبکہ ” عَمَّا تَعْمَلُوْنَ “ متعلق خبر ہے۔ ” عَمَّا “ دراصل ” عَنْ مَا “ ہے۔
Ayah 2:141(تِلْکَ : وہ) (اُمَّــۃٌ : ایک امت ہے جو) (قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہے) ( لَھَا : اس کے لئے ہی ہے ) (مَا کَسَبَتْ : وہ جو اس نے کمایا) (وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لئے ہی ہے ) (مَّا کَسَبْتُمْ : وہ جو تم لوگوں نے کمایا) (وَلَا تُسْئَلُوْنَ : اور تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا) (عَمَّا : اس کے بارے میں جو ) (کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کیا کرتے تھے)
Ayah 2:142(سَیَقُوْلُ : کہیں گے ) (السُّفَھَآئُ : بیوقوف لوگ) (مِنَ النَّاسِ : لوگوں میں سے) (مَا : کس چیز نے ) (وَلّٰٹھُمْ : پھیرا ان کو ) (عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ : ان کے اس قبلے سے ) (کَانُوْا : وہ لوگ تھے) (عَلَیْھَا : جس پر) (قُلْ : آپ ﷺ کہئے ) (لِّلّٰہِ : اللہ ہی کے لیے ہے ) (الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ : مشرق اور مغرب) (یَھْدِیْ : وہ ہدایت دیتا ہے ) (مَنْ یَّشَآئُ : اس کو جس کو وہ چاہتا ہے) (اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ : ایک سیدھے راستے کی طرف )
ترکیب : ” سَیَقُوْلُ “ کا فاعل ” السُّفَھَائُ “ ہے اور ” مِنَ النَّاسِ “ جار مجرور متعلق بمحذوف ” کَائِنِیْنَ “ حال ہے ” السُّفَہَآئُ “ کا۔ ” مَا “ استفہامیہ ہے اور مبتدأہے ‘ جبکہ جملہ فعلیہ ” وَلّٰــھُمْ “ اس کی خبر ہے۔” عَنْ قِبْلَتِھِمْ “ متعلق خبر ہے اور یہ ” قِبْلَتِھِمْ “ موصوف ہے ‘ جبکہ ” الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا “ اس کی صفت ہے۔ ” اَلْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ “ مبتدأ مؤخر ہیں ‘ ان کی خبر محذوف ہے اور ” لِلّٰہِ “ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” یَھْدِیْ “ کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے اور ” مَنْ “ اس کا مفعول ہے۔” یَشَائُ “ کا فاعل بھی ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے اور یہ جملہ مقولہ ہے ” قُلْ “ کا۔
Ayah 2:143(وَکَذٰلِکَ : اور اس طرح ) (جَعَلْنٰـکُمْ : ہم نے بنایا تم لوگوں کو) (اُمَّۃً وَّسَطًا : ایک معتدل امت) ( لِّــتَــکُوْنُوْا : تاکہ تم لوگ ہو جائو) (شُھَدَآئَ : گواہ) (عَلَی النَّاسِ : لوگوں پر) ( وَیَکُوْنَ : اور تاکہ ہوجائیں) (الرَّسُوْلُ : یہ رسول ﷺ ) (عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) (شَھِیْدًا : گواہ) (وَمَا جَعَلْنَا : اور ہم نے نہیں بنایا) (الْقِبْلَۃَ : اس قبلہ کو) (الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا : جس پر آپ ﷺ تھے) (اِلاَّ : سوائے اس کے) (لِنَعْلَمَ : تاکہ ہم جان لیں کہ ) (مَنْ : کون) (یَّـتَّبِعُ : پیروی کرتا ہے) (الرَّسُوْلَ : ان رسول ﷺ کی) (مِمَّنْ : اس میں سے جو ) (یَّنْقَلِبُ : پلٹ جاتا ہے) (عَلٰی عَقِبَیْہِ : اپنی دونوں ایڑیوں پر) (وَاِنْ : اور یقینا) (کَانَتْ : وہ تھی ) (لَــکَبِیْرَۃً : بھاری) (اِلاَّ عَلَی الَّذِیْنَ : سوائے ان لوگوں پر جنہیں) (ھَدَی اللّٰہُ : ہدایت دی اللہ نے) (وَمَا کَانَ اللّٰہُ : اور اللہ نہیں ہے ) (لِیُضِیْعَ : کہ وہ ضائع کرے ) (اِیْمَانَــکُمْ : تم لوگوں کے ایمان کو) (اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ : یقینا اللہ لوگوں پر) ( لَرَئُ وْفٌ: بےانتہا نرمی کرنے والا) ( رَّحِیْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے)
و س ط
وَسَطَ (ض) وَسْطًا : کسی کے درمیان میں بیٹھنا ‘ درمیان میں ہونا۔ { فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا ۔ } (العٰدیٰت) ” پھر وہ سب (یعنی گھوڑوں کے رسالے ) اس کے درمیان میں بیٹھے (یعنی گھس گئے جم کر) “
وَسُطَ (ک) وَسَاطَۃً : شریف ہونا ‘ افضل ہونا۔
اَوْسَطُ (مؤنث وُسْطٰی) : افعل التفضیل ہے۔ زیادہ درمیان یعنی ٹھیک یا بالکل درمیان۔ { فَکَفَّارَتُہٗ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ } (المائدۃ :89) ” تو اس کا کفارہ ہے کھانا کھلانا دس مسکینوں کو ‘ اس کے اوسط سے جو تم لوگ کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو۔ “{ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰیق } (البقرۃ :238) ” تم لوگ نگہبان رہو نمازوں پر اور درمیانی نماز پر۔ “
وَسَطٌ : معتدل ‘ متوازن ‘ یعنی افراط و تفریط سے پاک ( آیت زیر مطالعہ) یہ مذکر ‘ مؤنث ‘ واحد ‘ جمع سب کے لیے آتا ہے۔
ع ق ب
عَقَبَ (ض ‘ ن) عَقْبًا : پیر کا پچھلا حصہ یعنی ایڑی مارنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے : (1) پیچھے آنا۔ (2) جانشین ہونا۔ (3) ایک چیز جانے کے بعد اس کا دوسرا رُخ سامنے آنا ‘ جیسے رات کے بعد صبح کا آنا ‘ یعنی نتیجہ ظاہر ہونا ‘ بدلہ سامنے آنا۔
عُقْبٰی : افعل التفضیل کا مؤنث ہے (فُعْلٰی کے وزن پر) ۔ زیادہ یا سب سے پیچھے ‘ یعنی آخر میں ظاہر ہونے والا نتیجہ یا بدلہ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ زیادہ تر دو معانی میں آتا ہے۔ (1) آخری۔ (2) بدلہ۔ { وَیَدْرَئُ ‘ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ ۔ } (الرعد) ” اور وہ لوگ دفع کرتے ہیں بھلائی سے برائی کو ‘ ان لوگوں کے لیے ہے آخری گھر۔ “ { تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ق وَعُقْبَی الْــکٰفِرِیْنَ النَّارُ ۔ } (الرعد) ” یہ بدلہ ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ‘ اور کافروں کا بدلہ ہے آگ۔ “
عَقِبٌ ج اَعْقَابٌ (اسم ذات ) : کسی چیز کا پچھلا حصہ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے : (1) ایڑی۔ (2) بیٹے ‘ پوتے وغیرہ۔ { فَلَمَّا تَرَآئَ ‘ تِ الْفِئَتٰنِ نَـکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ } (الانفال :48) ” پھر جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں فوجیں تو وہ پسپا ہوا اپنی دونوں ایڑیوں پر۔ “{ وَجَعَلَھَا کَلِمَۃً بَاقِیَۃً فِیْ عَقِبِہٖ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ } (الزخرف) ” اور اس نے بنایا اس کو ایک باقی رہنے والا فرمان اپنی اولاد میں ‘ شاید وہ لوگ رجوع کریں۔ “ { یَرُدُّوْکُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ } (آل عمران :149) ” تو وہ پھیر دیں گے تم لوگوں کو تمہاری ایڑیوں پر۔ “
عُقْبٌ (اسم ذات) : نتیجہ ‘ انجام۔ { ھُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ عُقْبًا ۔ } (الکہف) ” وہ بہتر ہے بطور بدلے کے اور بہتر ہے بطور انجام کے۔ “
عَاقِبَۃٌ (اسم ذات) : بدلہ (خواہ اچھا ہو یا برا) { فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ } (آل عمران) ” پس تم لوگ دیکھو کیسا تھا جھٹلانے والوں کا بدلہ۔ “ { اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ } (ھود) ” بیشک بدلہ ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے۔ “ { وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ۔ } (الحج) ” اور اللہ کی ہی ملکیت ہے تمام کاموں کا بدلہ۔ “
عَقَبَۃٌ : دشوار گزار گھاٹی۔ { فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۔ } (البلد) ” تو اس نے عبور نہیں کیا گھاٹی کو۔ “
اَعْقَبَ (افعال) اِعْقَابًا : کسی چیز کے بدلے میں کچھ دینا ‘ بدلہ دینا۔ { فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ } (التوبۃ :77) ” تو اس نے بدلے میں دیا ان کو ایک نفاق ان کے دلوں میں۔ “
عَقَّبَ (تفعیل) تَعْقِیْبًا : پیچھے ہونا ‘ پیچھے ڈالنا۔ { وَلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط } (النمل :10) ” وہ چل دیا پیٹھ پھیرتے ہوئے اور پیچھے ہوا ہی نہیں (یعنی مڑ کر نہ دیکھا) “
مُعَقِّبٌ (اسم الفاعل ) : پیچھے ہونے والا ‘ پیچھے ڈالنے والا ۔{ وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ ط } (الرعد :41) ” اور اللہ حکم کرتا ہے ‘ کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ہے اس کے حکم کو۔ “ { لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ } (الرعد :11) ” اس کے ہیں (یعنی اس کی ملکیت ہیں) پیچھے رہنے والے (یعنی پہرے دار) اس کے (یعنی انسان کے ) آگے سے اور اس کے پیچھے سے۔ “
عَاقَبَ (مفاعلہ) مُعَاقَــبَۃً : ایک دوسرے کے پیچھے پڑنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ جیسے : (1) کسی کے ساتھ زیادتی کرنا۔ (2) کسی زیادتی کا بدلہ دینا۔ (3) کسی زیادتی پر گرفت کرنا ‘ سزا دینا۔ { وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖط } (النحل :126) ” اور اگر تم لوگ بدلہ لو ‘ تو بدلہ لو اس کے جیسا تمہارے ساتھ زیادتی کی
گئی جتنی۔ “ { وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ } (البقرۃ) ” اور تم لوگ جان لو کہ اللہ سزا دینے کا سخت ہے۔ “
عَاقِبْ (فعل امر) : تُو بدلہ دے ‘ سزا دے۔ دیکھیے سورة النحل کی آیت 126 ۔
ض ی ع
ضَاعَ (ض) ضِیَاعًا : کسی چیز کا تلف ہونا ‘ بےکار ہونا۔
اَضَاعَ (افعال) اِضَاعَۃً : کسی چیز کا تلف کرنا ‘ ضائع کرنا۔ { اَ نِّیْ لَا اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ } (آل عمران :195) ” کہ میں ضائع نہیں کرتا کسی عمل کرنے والے کے عمل کو تم میں سے۔ “
ر ء
رَئَ فَ (ف) رَأْ فَۃً : نرم دل ہونا ‘ شفیق ہونا۔
رَئُ وْ فٌ: فعول کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت نرمی کرنے والا ‘ بہت شفقت کرنے والا۔ { وَاللّٰہُ رَئُ وْ فٌ بِالْعِبَادِ ۔ } (البقرۃ) ” اور اللہ بہت نرمی کرنے والا ہے بندوں سے “۔
رَاْفَــۃٌ (اسم ذات) : نرمی ‘ شفقت ۔ { وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً ط } (الحدید :27) ” اور ہم نے بنائی (یعنی رکھی) ان کے دلوں میں جنہوں نے پیروی کی ان (علیہ السلام) کی ‘ نرمی اور رحمت۔ “
ترکیب : ” وَکَذٰلِکَ “ واواستیناف ‘ کاف حرفِ جر اسم مجرور ‘ جار مجرور متعلق محذوف کے ساتھ بوضع نصب میں ہے ‘ مصدر محذوف کی صفت ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے : وَمِثْلَ ھِدَایَتِنَا مَنْ نَشَائُ جَعَلْنَاکُمْ ۔ ” جَعَلْنَا “ کا مفعول اوّل ” کُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ مرکب توصیفی ” اُمَّۃً وَّسَطًا “ مفعولِ ثانی ہے۔ ” لِتَــکُوْنُــوْا “ پر ” لامِ کَیْ “ داخل ہوا ہے اس لیے ” تَــکُوْنُوْنَ “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ اس کا اسم ” واو “ ہے۔ ” شُھَدَائَ “ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور ” عَلَی النَّاسِ “ متعلق خبر ہے۔ ” یَـکُوْنُ “ کی نصب ” لام کَیْ “ کی وجہ سے ہے جو ” لِتَــکُوْنُوْا “ پر آچکا ہے اور اس کا اسم ” اَلرَّسُوْلُ “ ہے ‘ جس پر لام تعریف داخل ہوا ہے ۔ ” شَھِیْدًا “ اس کی خبر ہے اور ” عَلَیْکُمْ “ متعلق خبر ہے۔ ” وَمَا جَعَلْنَا “ کا مفعولِ اوّل ” اَلْقِبْلَۃَ “ ہے جس پر لام تعریف داخل ہوا ہے جبکہ مفعولِ ثانی محذوف ہے۔ ” اَلَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا “ کا پورا فقرہ محذوف مفعول ثانی کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ ‘ اَلْقِبْلَۃَ الَّتِیْ …“ یا ” اَلَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا “ مذکور ” الْقِبْلَۃَ “ کی صفت ہے اور مفعول ثانی محذوف ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے :” وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا قِبْلَۃً “۔ ” مَا جَعَلْنَا “ کا مفعول ثانی ” عَلَیْھَا “ کے بعد آنا تھا جسے محذوف کیا گیا ہے اور یہ ” قِبْلَۃَ “ ہوسکتا ہے۔ ” اَلَّتِیْ “ کے ساتھ ” کُنْتَ “ کا اسم ” ت “ ضمیر بارز ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ ” قَائِمًا “ ہوسکتی ہے ۔ ” عَقِبَیْہِ “ دراصل ” عَقِبٌ“ کا تثنیہ ” عَقِبَانِ “ تھا۔ اس پر ” عَلٰی “ داخل ہوا تو حالت جر میں یہ ” عَقِبَیْنِ “ ہوگیا ‘ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے اس کا نون اعرابی گرگیا ‘ جبکہ ” ہِ “ کی ضمیر اس کا مضاف الیہ ہے۔ ” وَاِنْ “ میں ” وائو “ حالیہ ہے۔ ” اِنْ “ دراصل ” اِنَّ “ ہے۔ اس کا اسم محذوف ہے۔ اَیْ والحال انھا۔ ” کَانَتْ “ کی ضمیر ” ھِیَ “ اس کا اسم ہے۔ اور یہ ” التَّحْوِیْلَۃَ “ (تحویل) کے لیے ہے جبکہ ” لَــکَبِیْرَۃٌ“ میں لام فارقہ ہے اور یہ ” کَانَتْ “ کی خبر ہے۔ ” وَمَا کَانَ اللّٰہُ “ میں آفاقی صداقت کا بیان ہے اس لیے ” کَانَ “ کا ترجمہ حال میں ہوگا۔
” قِبْلَۃَ “ : کعبہ کا رُخ جو نماز میں سامنے ہوتا ہے۔ سامنے کا رخ۔ محاورہ ہے : ” اَیْنَ قِبْلَتُکَ “ تمہارا رُخ کدھر کو ہے ؟ جو چیز مُنہ کے سامنے ہو اس کو بھی قبلہ کہتے ہیں۔ نماز پڑھنے والے کے منہ کے سامنے کعبہ ہوتا ہے اس لیے کعبہ کو بھی قبلہ کہتے ہیں۔
امام راغب نے ” مفردات “ میں اور پروفیسر عبدالرئوف مصری نے ” معجم القرآن “ میں لکھا ہے کہ اصل لغت میں سامنے والے (مقابل) آدمی کی حالت کو قبلہ کہا جاتا تھا ‘ مجازاً سامنے والے آدمی اور سامنے کی جہت میں اس کا استعمال ہونے لگا ۔
لیکن سورة یونس آیت 87 { وَاجْعَلُوْا بُیُوْتَــکُمْ قِبْلَۃً } سے مراد بقول سیوطی اور خازن نماز کا مقام ہے۔ فرعون نے چونکہ نماز پڑھنے کی ممانعت کردی تھی اس لیے بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ گھروں کو ہی مقام نماز بنا لو اور چھپ کر گھروں میں ہی نماز پڑھا کرو۔ بعض غیر معتبر مفسرینِ لغاتِ قرآن نے اس آیت میں قِبْلَۃً کا ترجمہ کیا ہے آمنے سامنے ‘ یعنی اپنے مکان آمنے سامنے بنائو تاکہ ضرورت کے وقت باہم شریک ہو سکو۔ لیکن یہ تشریح سیاق قرآنی کے علاوہ قدماء مفسرین کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ نہ لغت اس کی اجازت دیتی ہے نہ قرینہ اس کا مقتضی ہے ‘ اور نہ ہی واقعہ اس کی تائید کرتا ہے۔
نوٹ (1) :” اِنَّ “ کی تخفیف (دوسرا نون حذف کر کے) جائز ہے۔ تخفیف کے بعد اگر اس کے بعد کوئی فعل آجائے تو اس کو مہملہ بنانا واجب ہے۔ مثلاً ارشاد ربانی ہے : { وَاِنْ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ } (الشعرائ) اور اگر اس کے بعد اسم آجائے تو اس کو عاملہ قرار دینا قلیل اور مہملہ قرار دینا غالب و اکثر ہے۔ مہملہ کی مثال ” اِنْ اَنْتَ لَصَادِقٌ“ اور عاملہ کی مثال ” اِنْ زَیْدًا مُنْطَلِقٌ“ ہے۔
(1) تخفیف کے بعد اگر اس کو مہملہ قرار دیا جائے تو ” اِنْ “ نافیہ اور اس کے درمیان فرق کرنے کے لیے اس کی خبر پر لام مفتوح لگانا واجب ہے۔ اس لام کا نام لام فارقہ ہے ۔
(2) ” اِنْ “ مخففہ کے بعد صرف افعال ناسخہ لحکم المبتدأ والخبر (افعال ناقصہ اور افعال مقاربہ) آئیں گے۔ پھر اکثر و بیشتر ان افعال کے فعل ماضی ہی کا استعمال ہوتا ہے اگرچہ فعل مضارع کا استعمال بھی جائز ہے۔ مثلاً : (1) { اِنْ کَانَتْ لَــکَبِیْرَۃً اِلاَّ عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ } (آیت زیر مطالعہ) (2) { تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ ۔ }(الصّٰفّٰت) (3){ وَاِنْ وَّجَدْنَا اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ ۔ } (الاعراف) مضارع کی مثال : { وَاِنْ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ } (الشعرائ)
نوٹ (2) : ” کَانَ “ نافیہ ( مَا کان) کے بعد مضارع پر اگر ” لام “ آئے تو وہ ” لامِ جحود “ کہلاتا ہے ” لامِ کَیْ “ نہیں۔
نوٹ (3) : وحی کی ایک قسم وہ ہے جسے قرآن مجید میں لکھ دیا گیا۔ اسے ” وحی ٔ ‘ متلو “ یعنی تلاوت کی ہوئی وحی کہتے ہیں۔ وحی کی دوسری قسم وہ ہے جسے قرآن مجید میں نہیں لکھا گیا ‘ لیکن نبی اکرم ﷺ کے اپنے اقوال و اعمال اسی وحی کی بناء پر تھے۔ اسے ” وحی ٔ غیر متلو “ کہتے ہیں اور اس کا ثبوت ہمیں قرآن مجید سے ملتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ ایسے ہی مقامات میں سے ایک ہے۔
مدینہ منورہ میں تقریباً سولہ یا سترہ مہینے حضور ﷺ نے بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھائی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس کو قبلہ ہم نے بنایا تھا ‘ لیکن قرآن مجید میں یہ حکم درج نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ کا یہ عمل وحی ٔغیر متلو کے تحت تھا۔
Ayah 2:144(قَدْ نَرٰی : ہم نے دیکھا ہے) (تَقَلُّبَ وَجْھِکَ : آپ ﷺ کے چہرے کا پلٹنا) (فِی السَّمَآئِ : آسمان میں) (فَلَنُوَلِّیَنَّکَ : تو ہم لازماً پھیر دیں گے آپ ﷺ ‘ کو) (قِبْلَۃً : اس قبلہ کی طرف) (تَرْضٰٹھَا : آپ ﷺ راضی ہوں جس سے) (فَوَلِّ : پس آپ پھیریں) (وَجْھَکَ : اپنے چہرے کو) (شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کی طرف) (وَحَیْثُ مَا : اور جہاں کہیں بھی ) (کُنْتُمْ : تم لوگ ہو ) (فَوَلُّوْا : تو تم لوگ پھیرو) (وُجُوْھَکُمْ : اپنے چہروں کو ) (شَطْرَہٗ : اس کی طرف
وَاِنَّ الَّذِیْنَ : اور بیشک وہ لوگ جن کو) (اُوْتُوا الْکِتٰبَ : دی گئی کتاب) (لَــیَعْلَمُوْنَ : یقینا جانتے ہیں) (اَ نَّہُ الْحَقُّ : کہ وہ ہی حق ہے ) (مِنْ رَّبِّھِمْ : ان کے رب سے ) (وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ : اور اللہ غافل نہیں ہے) (عَمَّا : اس سے جو) (یَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں)
ش ط ر
شَطَرَ (ن) شَطْرًا : کسی چیز کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرنا۔
شَطْرٌ : کسی چیز کا نصف یا وسط۔ پھر کسی چیز کے رُخ یا سمت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔
ح ی ث
اس مادہ سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔
حَیْثُ : یہ ظرفِ مکان ہے اور ضمہ پر مبنی ہے۔ جہاں ‘ کہاں (یہ زیادہ تر مکان مبہم کے لیے آتا ہے اس لیے اس کے بعد کسی جملہ یا فقرہ سے اس کی وضاحت کی جاتی ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” نَرٰی “ کا فاعل اس میں شامل ” نَحْنُ “ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ لفظ ” تَقَلُّبَ “ میں حرفِ لام کی ضمہ بتارہی ہے کہ یہ باب تفعّل کے ماضی کا صیغہ نہیں ہے ‘ بلکہ اس کا مصدر ہے۔ مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین سے خالی ہے۔ ” وَجْہِ “ اس کا مضاف الیہ بھی ہے اور آگے ضمیر ” کَ “ کا مضاف بھی ہے۔ یہ پورا مرکب اضافی ” نَرٰی “ کا مفعول ہے اس لیے اس کے مضاف ” تَقَلُّبَ “ پر نصب آئی ہے۔ جبکہ ” فِی السَّمَائِ “ متعلق ” تَقَلُّبَ “ ہے۔
” لَنُوَلِّیَنَّ “ دراصل باب تفعیل میں ” وَلّٰی ۔ یُوَلِّیْ “ کا نون ثقیلہ کے ساتھ مضارع ہے اور جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ اس میں شامل ” نَحْنُ “ کی ضمیر اس کا فاعل ہے ‘ جو کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ضمیر ” کَ “ اس کا مفعولِ اوّل ہے جبکہ ” قِبْلَۃً “ مفعول ثانی ہے اور نکرہ موصوفہ ہے ” تَرْضٰٹھَا “ اس کی صفت ہے۔
” فَوَلِّ “ واحد مذکر مخاطب کے صیغے میں فعل امر ہے۔ اس کا فاعل اس میں شامل ” اَنْتَ “ کی ضمیر ہے۔ مرکب اضافی ” وَجْھَکَ “ اس کا مفعول اوّل ہے اس لیے ” وَجْہَ “ ‘ پر نصب آئی ہے۔ مرکب اضافی ” شَطْرَ الْمَسْجِدِ “ مفعول فیہ (ظرفِ مکان) وَلِّ کے لیے ۔ اس لیے ” شَطْرَ “ نصب میں ہے ‘ جبکہ ” اَلْحَرَام ‘ اَ لْمَسْجِدِ “ کی صفت ہے۔ ” حَیْثُمَا “ وا واستینافیہ ” حَیْثُمَا “ اسمِ شرط جازم فی محل نصب علی الظرفیۃ۔ متعلق لمحذوف خبر ” کُنْتُمْ “ المقدم (موجودین) کُنْتُمْ ” کَانَ “ فعل ناقص ” تُمْ “ ضمیر بارز اس کا اسم۔ خبر موجودین مقدم ۔ یہ سارا جملہ فعل شرط ہے اور ” فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ… اِلٰی آخِرِہٖ “ جزا ہے۔ ” فَوَلُّوْا “ جمع مذکر مخاطب کے صیغے میں فعل ام رہے۔ اس کا فاعل ” واو “ ہے۔ ” وُجُوْھَکُمْ “ مفعول اوّل اور ” شَطْرَہٗ “ مفعول فیہ ظرف مکان ہے۔ اس میں ” ہٗ “ کی ضمیر مسجد حرام کے لیے ہے۔ یہ جملہ فعلیہ ” حَیْثُ مَا کُنْتُمْ “ شرط کی جزا ہے۔
{ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ } میں واواستیناف ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ” اَلَّذِیْنَ “ اسم موصول ” اُوْتُوْا “ فعل ماضی مجہول ” واو “ ضمیر بارز ‘ نائب الفاعل ” اَلْکِتٰبَ “ مفعول ثانی۔ یہ جملہ فعلیہ صلہ ہے موصول کا ۔ موصول اور صلہ مل کر اس کا اسم۔ ” لَیَعْلَمُوْنَ “ میں ” لامِ مزحلقہ “ ہے ۔” یَعْلَمُوْنَ اَنَّــہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ “ جملہ خبر یہ ہے۔ پھر ” یَعْلَمُوْنَ “ متعدی بہ دو مفعول ۔ جملہ اسمیہ ” اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ “ اس کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ ” اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ “ میں ” اَنَّ “ حرف مشبہ بالفعل ” ہ “ ضمیر اس کا اسم ‘ ” اَلْحَقُّ “ خبر ‘ ضمیر فاصل محذوف۔ ” مِنْ رَّبِّھِمْ “ جار مجرور متعلق ” کائناً “ کے ساتھ ‘ یہ حال ہے ” اَلْحَقُّ “ سے۔ ” اَنَّـہُ الْحَقُّ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر ” اَنَّ “ کا اسم ہے اور ” الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “ کے لیے ہے۔ ” الْحَقُّ “ خبر معرّف باللّام ہے اور ضمیر فاصل ” ھُوَ “ کے بغیر ہے۔ پورا جملہ اس طرح ہوتا ہے : ” اَنَّــہٗ ھُوَ الْحَقُّ “۔
نوٹ (1) : اہل کتاب کے علماء پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تھا اور یہ بنو اسماعیل اور بنو اسرائیل دونوں کا قبلہ تھا۔ پھر تیرہ سو سال بعد حضرت سلیمان نے بیت المقدس تعمیر کرایا تو وہ یہودیوں کا قبلہ قرار پایا۔ لیکن اپنی کتابوں میں وہ لکھا ہوا پاتے تھے کہ ” اس نبی “ یعنی آخری نبی (حضرت محمد ﷺ ) کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگا۔
ابوالعالیہ (رح) ‘ کا ایک یہودی سے مناظرہ ہوگیا۔ یہودی نے کہا کہ حضرت موسٰیں کا قبلہ بیت المقدس تھا۔ ابوالعالیہ (رح) نے کہا نہیں ‘ حضرت موسٰی (علیہ السلام) بیت المقدس کے پاس نماز پڑھتے تھے لیکن آپ (علیہ السلام) کا رُخ بیت اللہ کی طرف ہی ہوتا تھا (واضح رہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں بیت المقدس تعمیر نہیں ہوا تھا) یہودی نے انکار کیا تو ابوالعالیہ (رح) نے کہا اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت صالح کی مسجد کرے گی جو بیت المقدس کے نیچے ایک پہاڑ پر تھی۔ دیکھا گیا تو اس کا قبلہ بیت اللہ کی طرف تھا۔ (معارف القرآن ‘ ج 1‘ ص 375)
Ayah 2:145(وَلَئِنْ : اور اگر ) (اَتَیْتَ : آپ ﷺ لے آئیں) (الَّذِیْنَ : ان کے پاس جن کو ) (اُوْتُوا الْکِتٰبَ : دی گئی کتاب) (بِکُلِّ اٰیَۃٍ : تمام نشانیاں (ہر نشانی) مَّا تَبِعُوْا : تو بھی وہ لوگ پیروی نہیں کریں گے) (قِبْلَتَکَ : آپ ﷺ کے قبلے کی ) (وَمَآ اَنْتَ : اور نہ آپ ﷺ ) (بِتَابِعٍ : پیروی کرنے والے ہیں) (قِبْلَتَھُمْ : ان کے قبلے کی ) (وَمَا بَعْضُھُمْ : اور نہ ان کے کچھ لوگ ) (بِتَابِعٍ : پیروی کرنے والے ہیں) (قِبْلَۃَ بَعْضٍ : (اپنے) کچھ لوگوں کے قبلے کی) (وَلَئِنِ : اور اگر ) (اتَّبَعْتَ : آپ ﷺ نے پیروی کی ) (اَھْوَآئَ ھُمْ : ان کی خواہشات کی) (مِّنْ بَعْدِ : اس کے بعد) (مَا جَآئَ کَ : کہ جو آیا آپ ﷺ کے پاس
مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے) ( اِنَّکَ اِذًا : پھر تو یقینا آپ ﷺ ) (لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ : ظلم کرنے والوں میں ) (سے ہوں گے)
ترکیب : ” وَلَئِنْ “ میں واو استیناف ‘ لامِ مُوَطَّئَۃٌ لِلْقَسَم ۔ ” اِنْ “ شرطیہ۔ ” اَتَیْتَ “ فعل ماضی۔ ” تَ “ ضمیر بارزفاعل۔ ” اَلَّذِیْنَ “ اسم موصول۔ ” اُوْتُوْا “ فعل ماضی مجہول۔ وائو ضمیر بارز ‘ نائب الفاعل ” الْکِتٰبَ “ مفعولِ ثانی۔ ” بِکُلِّ اٰیَۃٍ “ جار مجرور متعلق ” اَتَیْتَ “ کے۔ فعل نائب الفاعل ‘ مفعولِ ثانی اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ ہے موصول کا۔ موصول صلہ مل کر ” اِتَّبَعْتَ “ کا مفعول بہ۔ فعل+فاعل+مفعول مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ” مَا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ “ میں ” مَا “ نافیہ ” تَبِعُوْا “ فعل ‘ واو ضمیر بارز فاعل ” قِبْلَتَکَ “ مفعول۔ فعل ‘ فاعل اور مفعول بہ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جوابِ قسم ہے جوابِ شرط نہیں۔ کیونکہ قسم پہلے ہے اور شرط بعد میں ہے اور قاعدہ ہے : اِذَا اجْتَمَعَ شَرْطٌ وَقَسَمٌ فَالْجَوَابُ لِلْمُتَقَدَّمِ مِنْھُمَا۔ { وَمَا اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ } میں ” وائو “ عاطفہ ” مَا “ نافیہ ” اَنْتَ “” مَا “ کا اسم ” بِتَابِعٍ “ میں ” بائ “ حرفِ جر زائد ” تَابِعٍ “ مجرور لفظاً ومنصوب محلاً ‘ کیونکہ ” مَا “ کی خبر ہے ۔ ” قِبْلَتَھُمْ “ ” تَابِعٍ “ کا مفعول اور یہ جملہ سابقہ جملہ پر عطف ہے۔ { وَمَا بَعْضُھُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ } ان کی بعینہٖ وہی ترکیب ہے جو سابقہ جملہ کی ہے۔ { وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَائَھُمْ …} میں واو استینافیہ ” ل “ حرفِ قسم ” اِنْ “ حرفِ شرط ” اِتَّبَعْتَ “ فعل ” تَ “ ضمیر بارز فاعل ” اَھْوَائَ ھُمْ “ مفعول بہ ” مِنْ “ حرفِ جار ” بَعْدِ “ مضاف ” مَا “ موصولہ ” جَائَ کَ “ ضمیر مستتر ھُوَ راجع ہوئے۔ ” مَا “ فاعل ” کَ “ ضمیر مفعول فیہ ” مِنَ الْعِلْمِ “ جار مجرور متعلق ” کَائِنًا “ حال ہے ” جَائَ “ کے فاعل ” ھُوَ “ ضمیر سے۔ فعل ‘ فاعل ‘ مفعول فیہ اور حال مل کر جملہ فعلیہ ہو کر مضاف الیہ بعد کا۔ مضاف+ مضاف الیہ مل کر مجرور حرف جار ” مِنْ “ کا۔ جار مجرور متعلق ” اتَّبَعْتَ “ کا۔ فعل+ فاعل+ مفعول بہ اور متعلق مل کر شرط۔ { اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ } میں ” اِنَّ “ حرف مشبہ بالفعل ” کَ “ ضمیر اس کا اسم ” اِذَا “ حرفِ جواب و جزا۔ لیکن یہاں یہ فہملہ ہے ‘ حرفِ قسم کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ ” لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ “ میں ” ل “ مزحلقہ۔ ” مِنْ “ حرفِ جر ” الظّٰلِمِیْنَ “ مجرور اور یہ متعلق ہے اِنَّ کی خبر کے جو محذوف ہے۔ ” اِنَّ “ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جوابِ قسم ہے ‘ جوابِ شرط (جزائ) نہیں ہے ‘ ورنہ تو اس پر ” فاء “ کا استعمال کیا جاتا ۔
(نوٹ) جیسا کہ ابھی ابھی گزار ہے کہ کسی جملہ میں اگر شرط اور قسم دونوں آجائیں تو ان میں سے جو مقدم ہوگا تو بعد والا جملہ اس کا جواب ہوگا۔ اگر شرط پہلے ہے تو بعد کا جملہ جزاء ہوگا اور اس پر جزاء والے احکام لاگو ہوں گے۔ اور اگر قسم پہلے ہو تو بعد کا جملہ جوابِ قسم ہوگا اور اس پر جوابِ قسم کے احکام جاری ہونگے۔
نوٹ : (1) اس آیت میں بھی انداز وہی ہے کہ خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن دراصل وارننگ ہم لوگوں کو دی گئی ہے۔
(2) : اس آیت میں بھی ” اَھْوَائَ ھُمْ “ اور ” مِنَ الْعِلْمِ “ کا تقابلی مطالعہ ہماری راہنمائی اس حقیقت کی جانب کر رہا ہے کہ subjective thinking کے نتیجہ میں انسان جو عقائد اور نظریات قائم کرتا ہے ‘ ان پر سائنٹیفک ریسرچ کے خواہ کتنے ہی ردے چڑھا لے ‘ لیکن بہرحال وہ خواہشات ہی ہوتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کا راستہ صرف ایک ہے ‘ اور وہ یہ کہ علم وحی کی روشنی میں انسان اپنی objective thinking کی صلاحیت کو استعمال کرے۔ یہ بھی نوٹ کرلیں کہ اس راستے کی ضرورت و اہمیت فزیکل سائنس سے زیادہ سوشل سائنس میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں آج آسمان سے تارے توڑ کر لا رہی ہیں ‘ سوشل سائنس میں وہی قومیں آج ترقی ٔ معکوس کا شکار ہیں۔ انسانیت کو تباہی سے بچانے کے لیے اس حقیقت کا ادراک کرنا اور اس کا اعتراف کرنا ازبس ضروری ہے۔ اس ضمن میں آج کے ” اہل کتاب “ یعنی امت وسط کی ذمہ داری دوچند ہے ‘ کیونکہ اب علم وحی ہمارے پاس ہے۔ اگر ہم نے اپنا فریضہ سرانجام نہ دیا تو میدان حشر میں ہم شُہَداء عَلَی النَّاسِ کا فریضہ سرانجام نہیں دے سکیں گے اور بقول مولانا مودودی (رح) اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے گا کہ جب دنیا میں معصیت ‘ ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا تو تم کہاں مرگئے تھے۔
Ayah 2:146(اَ لَّذِیْنَ : وہ لوگ ) (اٰتَیْنٰھُمُ : ہم نے دی جن کو ) (الْکِتٰبَ : کتاب) (یَعْرِفُوْنَــہٗ : وہ لوگ پہچانتے ہیں اس کو) (کَمَا : جیسے کہ ) (یَعْرِفُوْنَ : وہ پہچانتے ہیں ) (اَبْنَائَ ھُمْ : اپنے بیٹوں کو) (وَاِنَّ : اور یقینا) (فَرِیْقًا : ایک ایسا فریق) (مِّنْھُمْ : ان میں ہے ) (لَـیَکْتُمُوْنَ : جو چھپاتا ہے ) (الْحَقَّ : حق کو ) (وَھُمْ : اس حال میں کہ وہ لوگ ) (یَعْلَمُوْنَ : جانتے ہیں)
ترکیب : ” اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ “ مبتدأ ہے اور ” یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ
اَبْنَائَ ھُمْ “ اس کی خبر ہے۔ ” اِنَّ “ کا اسم ” فَرِیْقًا “ ہے جو نکرہ موصوفہ ہے۔ ” مِنْھُمْ “ جار مجرور متعلق ” کَائِنًا “۔ ” کَائِنًا “ اپنے متعلق سے مل کر ” فَرِیْقًا “ کی صفت ہے۔ ” لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ “ میں ” ل “ مزحلقہ ” یَکْتُمُوْنَ فعل یا فاعل ” الْحَقَّ “ مفعول بہ ۔ ” وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ “ میں وائو حالیہ ” ھُمْ یَعْلَمُوْنَ “ جملہ فعلیہ حال۔ فعل+فاعل + مفعول بہ مل کر ان کی خبر۔
نوٹ (1) : ” یَعْرِفُوْنَہٗ “ میں ” ہٗ “ کی ضمیر کو حضور ﷺ کے لیے بھی مانا گیا ہے ‘ قرآن کے لیے بھی مانا گیا ہے اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قبلہ کے طور پر بیت اللہ کے لیے ہے۔ میرے خیال میں یہ ضمیر ان سب کی جامع ہے ‘ کیونکہ حضور ﷺ کو انہی علامتوں سے پہچانا جاتا تھا اور اہل کتاب نے انہی علامتوں کے ذریعے حضور ﷺ کو اس طرح پہچان لیا تھا جیسے کوئی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔
Ayah 2:147(اَلْحَقُّ : (یہ ہی) حق ہے ) ( مِنْ رَّبِّکَ : آپ ﷺ کے رب کی طرف سے) (فَلَا تَـکُوْنَنََّ : پس آپ ﷺ ہرگز نہ ہوں) (مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ : شک کرنے والوں میں سے)
م ری
مَریٰ (ض) مِرْیَۃً : شک کی وجہ سے جھگڑا کرنا۔
مِرْیَۃٌ ( اسم ذات ) : شک ‘ شبہ ۔ { فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ق } (ھود :17) ” تو آپ ﷺ نہ ہوں کسی شبہ میں اس سے۔ “
مَارٰی (مفاعلہ) مِرَائً : ایک دوسرے سے جھگڑنا۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنُ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ ۔ } (الشوریٰ ) ” بیشک جو لوگ جھگڑتے ہیں اس گھڑی میں (یعنی قیامت کے بارے میں ) وہ دور کی گمراہی میں ہیں۔ “
لَا تُمَارِ (فعل نہی) : تو مت جھگڑ۔ { فَلَا تُمَارِ فِیْھِمْ اِلاَّ مِرَائً ظَاھِرًاص } (الکہف :22) ” پس تو مت جھگڑ ان میں مگر ظاہری جھگڑنا (یعنی سرسری اختلاف ظاہر کردینا) “
تَمَارٰی (تفاعل) تَمَارًا : باہم کسی پر یا کسی چیز میں شک کرنا ‘ جھگڑا کرنا۔ { وَلَقَدْ اَنْذَرَھُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ۔ } (القمر) ” اور اس نے خبردار کیا ان کو ہماری پکڑ سے تو ان لوگوں نے جھگڑا کیا خبردار کرنے میں۔ “
اِمْتَرٰی (افتعال) اِمْتِرَائً : اہتمام سے جھگڑا کرنا ‘ شک کرنا۔ { اِنَّ ھٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ ۔ } (الدُّخان) ” بیشک یہ وہ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے۔ “
مُمْتَرٍ (اسم الفاعل) : شک کرنے والا ‘ جھگڑا کرنے والا ( آیت زیر مطالعہ)
ترکیب : ” اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ “ کی ترکیب میں میرا ذہن مولانا اصلاحی کی رائے کو ترجیح دیتا ہے کہ ” اَلْحَقُّ “ خبر معرف باللام ہے۔ اس کا مبتدأ اور ضمیر فاعل دونوں محذوف ہیں۔ پورا جملہ اس طرح ہوتا : ” ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ “ جبکہ ” مِنْ رَّبِّکَ “ متعلق خبر ہے۔ ” لَا تَــکُوْنَنَّ “ واحد مذکر مخاطب کے صیغے میں ” یَکُوْنُ “ کا فعل نہی ہے ‘ نون ثقیلہ کے ساتھ۔ اس کا فاعل اس میں شامل ” اَنْتَ “ کی ضمیر ہے۔ ” مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ “ دراصل اس کا مفعول تھا لیکن اس پر ” مِنْ “ داخل ہونے کی وجہ سے اب متعلق فعل کہلائے گا۔