Ayah 2:238[ حٰفِظُوْا : تم لوگ ہمیشگی اختیار کرو ] [ عَلَی الصَّلَوٰتِ : نمازوں پر ] [ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی : اور (بالخصوص نگرانی کرو) درمیانی نماز کی ] [ وَقُوْمُوْا : اور کھڑے ہو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ قٰنِتِیْنَ : فرماں بردار ہوتے ہوئے ]
حظ
حَفِظَ (س) حِفْظًا : کسی چیز کو ضائع ہونے یا رائیگاں جانے سے بچانا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) حفاظت کرنا۔ (2) نگرانی کرنا۔ (3) یاد کرنا۔{ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِط } (الرعد :11) ” وہ لوگ نگہبانی کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے۔ “
اِحْفَظْ (فعل امر) : تو حفاظت کر ‘ نگہبانی کر۔ { وَاحْفَظُوْا اَیْمَانَـکُمْط } (المائدۃ :89) ” اور تم لوگ حفاظت کرو اپنی قسموں کی۔ “
حَفِیْظٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : ہمیشہ اور ہر حال میں (1) حفاظت یا نگرانی کرنے والا (2) محفوظ کرنے والا۔ { وَمَا اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ ۔ } (الانعام) ” اور میں نہیں ہوں تم لوگوں کی نگہبانی کرنے والا۔ “{ وَعِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ ۔ } (قٓ) ” اور ہمارے پاس ایک محفوظ کرنے والی کتاب ہے۔ “
حَافِظٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : حفاظت کرنے والا ‘ نگرانی کرنے والا۔ { وَاِنَّا لَـہٗ لَحٰفِظُوْنَ } (الحجر) ” اور بیشک ہم اس کی لازماً حفاظت کرنے والے ہیں۔ “
مَحْفُوْظٌ (مفعولٌکے وزن پر اسم المفعول) : حفاظت کیا ہوا۔ { وَجَعَلْنَا السَّمَآئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًاج } (الانبیائ :32) ” اور ہم نے بنایا آسمان کو ایک حفاظت کی ہوئی چھت۔ “
حَفَظَۃٌ (صفت) : نگہبان ‘ نگران۔ { وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط } (الانعام :61) ” اور وہ بھیجتا ہے تم لوگوں پر نگہبان۔ “
حَافَظَ (مفاعلہ) مُحَافَظَۃً : کسی چیز کی مسلسل نگہبانی کرنا ‘ یعنی کسی کام پر ہمیشگی اختیار کرنا۔{ وَھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ } (الانعام) ” اور وہ لوگ اپنی نماز پر ہمیشگی اختیار کرتے ہیں۔ “
حَافِظْ (اسم الفاعل) : تو مسلسل نگرانی کر ‘ توہمیشگی اختیار کر۔ آیت زیر مطالعہ۔
اِسْتَحْفَظَ (استفعال) اِسْتِحْفَاظًا : کسی چیز کی حفاظت چاہنا۔ { بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ }(المائدۃ :44) ” اس وجہ سے کہ وہ حفاظت چاہے گئے اللہ کی کتاب میں سے۔ “
ترکیب : ” حَافِظُوْا عَلٰی “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” الصَّلٰوۃِ “ مجرور ہوا ہے۔ ” الْوُسْطٰی “ اس کی صفت ہے ‘ لیکن مبنی ہونے کی وجہ سے اس میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ ” قٰنِتِیْنَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 2:239[ فَاِنْ خِفْتُمْ : پھر اگر تمہیں خوف ہو (کسی چیز کا)] [ فَرِجَالاً : تو (نماز پڑھو) پیدل چلتے ہوئے ] [ اَوْ رُکْبَانًا : یا سواری کرتے ہوئے ] [ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ : پھر جب تم لوگ امن میں ہو ] [ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ : تو یاد کرو اللہ کو ] [ کَمَا : اس طرح جیسے ] [ عَلَّمَکُمْ : اس نے سکھایا تم لوگوں کو ] [ مَّا : جس کو ] [ لَمْ تَـکُوْنُوْا : تم لوگ تھے ہی نہیں ] [ تَعْلَمُوْنَ : کہ جانتے ]
ر ج ل
رَجَلَ (ن) رَجْلًا : ٹانگ پر مارنا۔
رَجِلَ (س) رَجَلًا : پیدل چلنا۔
رِجْلٌ ج اَرْجُلٌ (اسم ذات) : ٹانگ ‘ پیر ۔ { اُرْکُضْ بِرِجْلِکَج } (صٓ:42) ” آپ (علیہ السلام) ٹھوکر ماریں اپنے پیر سے۔ “{ اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَاز } (الاعراف :195) ” کیا ان کی ٹانگیں ہیں ‘ وہ لوگ چلتے ہیں جن سے ؟ “
رَجُلٌ ج رِجَالٌ (اسم ذات) : مرد ‘ آدمی۔ { اَلَـیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ۔ } (ھود) ” کیا تم لوگوں میں کوئی نیک چلن مرد نہیں ہے ؟ “ { وَنَادٰی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا } (الاعراف :48) ” اور پکارا اعراف کے لوگوں نے کچھ مردوں کو۔ “
رَاجِلٌ (ج) رِجَالٌ اور رَجِلٌ (اسم الفاعل) : پیدل چلنے والا ‘ پیادہ۔ ” رَاجِلٌ“ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔ رِجَالٌ آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ { وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ } (بنی اسرائیل :64) ” اور تو لے آ ان پر اپنے سواروں کو اور اپنے پیادوں کو۔ “
ر ک ب
رَکِبَ (س) رُکُوْبًا و مَرْکَبًا : کسی چیز پر چڑھنا ‘ سوار ہونا۔ { فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ } (العنکبوت :65) ” پھر جب وہ لوگ سوار ہوتے ہیں کشتی پر تو وہ پکارتے ہیں اللہ کو۔ “
اِرْکَبْ (فعل امر) : تو چڑھ ‘ تو سوار ہو۔ { یٰـبُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا } (ھود :42) ” اے میرے بچے ! تُو سوار ہو ہمارے ساتھ۔ “
رَاکِبٌ جمع رَکْبٌ‘ رَکُوْبٌ‘ رُکْبَانٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : سوار ہونے والا ‘ سوار۔ رَاکِبٌ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔ { وَالرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْط } (الانفال :42) ” اور سواروں کا دستہ تم سے زیادہ اترائی میں تھا۔ “{ فَمِنْھَا رَکُوْبُھُمْ وَمِنْھَا یَاْکُلُونَ ۔ } (یٰسٓ:72) ” تو اس میں سے ان کے سوار ہیں اور اس میں سے وہ لوگ کھاتے ہیں۔ “ رُکْبَانٌآیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔
رِکَابٌ : سوار کے پیر رکھنے کی جگہ ‘ رِکاب ‘ سواری کا اونٹ۔ { فَمَا اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ } (الحشر :6) ” تو تم نے نہیں دوڑایا اس پر کوئی گھوڑا اور نہ ہی کوئی اونٹ۔ “
رَکَّبَ (تفعیل) تَرْکِیْبًا : ایک پر دوسری چیز رکھنا ‘ ترتیب سے رکھنا ‘ کسی کو ترتیب دینا۔{ فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَ ۔ } (الانفطار) ” جیسی صورت میں اس نے چاہا ترتیب دیا تجھ کو۔ “
تَرَاکَبَ (تفاعل) تَرَاکُبًا : باہم ایک دوسرے پر چڑھنا ‘ ایک دوسرے میں گتھ جانا۔
مُتَرَاکِبٌ (اسم الفاعل) : ایک دوسرے میں گتھنے والا۔ { نُخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًاج } (الانعام :99) ” ہم نکالتے ہیں اس سے کچھ دانے باہم گتھے ہوئے۔ “
ترکیب : ” خِفْتُمْ “ کا مفعول محذوف ہے۔ ” رِجَالًا “ اور ” رُکْبَانًا “ دونوں حال ہیں اس لیے منصوب ہیں۔ ان کا فعل ” فَصَلُّوْا “ محذوف ہے۔ ” عَلَّمَکُمْ “ میں ” عَلَّمَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” اللّٰہ “ کے لیے ہے۔ ” مَا لَمْ “ میں ” مَا “ مفعول مقدم ہے ” تَعْلَمُوْنَ “ کا۔
نوٹ (1) : گزشتہ آیت میں نماز میں ہمیشگی اختیار کرنے کے حکم کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنا ‘ اور دوسرے یہ کہ ہر نماز کو حضور قلبی کے ساتھ ادا کرنا۔ ہمیں حکم ہے کہ ان دونوں پہلوئوں سے ہم ہمیشہ ہر نماز کی حفاظت کریں۔ اگر کبھی حالات ایسے ہوں کہ کسی بھی وجہ سے مذکورہ حکم پر عمل کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں حضور قلبی کے پہلو کو چھوڑ دو ‘ لیکن مقررہ وقت کے پہلو کو قائم رکھو ‘ اور جیسے بھی بن پڑے نماز پڑھ لو۔
نوٹ (2) : کلمہ طیبہ دین اسلام کا پہلا رکن ہے۔ اس کا اقرار کرنے کے بعد انسان پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم پر عمل کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ لیکن ان میں سے چار فرائض نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج کی اہمیت زیادہ ہے اور ان کو ارکانِ دین کا درجہ حاصل ہے۔ اب نوٹ کریں کہ ان میں بھی روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج ایسے ارکان ہیں جن میں کچھ استثناء بھی ہیں ‘ لیکن نماز وہ واحد رکن ہے جس کا کوئی استثناء نہیں ہے۔
آیت زیر مطالعہ میں ” فَاِنْ خِفْتُمْ “ کے مفعول کو محذوف کر کے اسے عمومیت دی گئی اور حکم دیا گیا کہ خواہ کیسے بھی حالات ہوں ‘ نماز بہرحال پڑھنی ہے ‘ بیٹھ کر ‘ لیٹ کر ‘ چلتے ہوئے ‘ سواری کرتے ہوئے ‘ جیسے بھی بن پڑے نماز پڑھو۔ خوف کی انتہائی حالت جنگ ہے ‘ اس میں بھی استثناء نہیں ہے۔ حالت جنگ میں نماز پڑھنے کا طریقہ سورة النساء کی آیت 102 میں بتایا گیا ہے۔
نوٹ (3) : جان لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی صفات و کمالات اور آخرت کے تصورتک انسان کی عقل از خود رسائی حاصل کرسکتی ہے ‘ لیکن تفصیلات کے لیے انسان کی عقل اس کی راہنمائی نہیں کرسکتی ‘ اس کے لیے وہ علم وحی کا محتاج ہے۔ آیت زیر مطالعہ اس کی ایک مثال ہے۔
نوٹ (4) : شادی ‘ بیاہ اور طلاق وغیرہ کے مسائل کے درمیان میں نماز کا ذکر کرنے کا مقصد ہمیں یہ یاد دلانا ہے کہ نماز کے بیشمار فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی مشق انسان میں خدا ترسی کا جذبہ اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے کا حوصلہ پید ا کرتی ہے۔
Ayah 2:240[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ یُـتَوَفَّوْنَ : موت دی جاتی ہے ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ وَیَذَرُوْنَ : اور وہ لوگ چھوڑتے ہیں ] [ اَزْوَاجًا : بیویوں کو ] [ وَّصِیَّۃً : (اور کر جاتے ہیں) کوئی وصیت ] [ لِّاَزْوَاجِہِمْ : اپنی بیویوں کے لیے ] [ مَّتَاعًا : (یعنی) کچھ برتنے کا سامان ] [ اِلَی الْحَوْلِ : ایک سال تک ] [ غَیْرَ اِخْرَاجٍ : نکالنے کے بغیر (گھر سے) ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ خَرَجْنَ : وہ نکلتی ہیں ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فِیْ مَا : اس میں جو ] [ فَعَلْنَ : وہ کرتی ہیں ] [ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ : اپنے بارے میں ] [ مِنْ مَّعْرُوْفٍ : بھلائی میں سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [ حَکِیْمٌ : حکمت والا ہے ]
ترکیب : ” وَصِیَّـۃً “ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل ” یُوْصُوْنَ “ محذوف ہے۔ ” مَتَاعًا “ کی نصب ” وَصِیَّۃً “ کا بدل ہونے کی وجہ سے ہے۔ جبکہ ” غَیْرَ “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 2:241[ وَلِلْمُطَلَّقٰتِ : اور طلاق دی ہوئی خواتین کے لیے ] [ مَتَاعٌ : کچھ برتنے کا سامان (دینا) ہے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق ] [ حَقًّا : حق ہوتے ہوئے ] [ عَلَی الْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے والوں پر ]
ترکیب : ” مُطَلَّقٰتِ “ اسم المفعول ہے اور یہ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” مَتَاعٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ” بِالْمَعْرُوْفِ “ متعلق خبر ہے۔
Ayah 2:242[ کَذٰلِکَ : اس طرح ] [ یُـبَـیِّنُ : واضح کرتا ہے ] [ اللّٰـہُ : اللہ ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ اٰیٰتِہٖ : اپنی نشانیوں (یعنی ہدایات) کو ] [ لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَعْقِلُوْنَ : عقل (استعمال) کرو ]
Ayah 2:243[ اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور ہی نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں (کی حالت) کی طرف جو ] [ خَرَجُوْا : نکلے ] [ مِنْ دِیَارِہِمْ : اپنے گھروں سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُمْ اُلُوْفٌ : وہ ہزاروں تھے ] [ حَذَرَ الْمَوْتِ : موت کا ڈر کرتے ہوئے ] [ فَقَالَ : تو کہا ] [ لَہُمُ : ان سے ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مُوْتُوْا : تم لوگ مر جائو (تو وہ مرگئے) ] [ ثُمَّ اَحْیَاہُمْ : پھر اس نے زندہ کیا ان کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ لَذُوْ فَضْلٍ : فضل والا ہے ] [ عَلَی النَّاسِ : لوگوں پر ] [ وَلٰـکِنَّ : اور لیکن ] [ اَکْثَرَ النَّاسِ : لوگوں کی اکثریت ] [ لاَ یَشْکُرُوْنَ : شکر نہیں کرتی ہے ]
ء ل
اَلِفَ (س) اَلْـفًا : مانوس ہونا ‘ محبت کرنا۔
اَلَفَ (ض) اَلْــفًا : جمع ہونا ‘ ہم آہنگ ہونا۔
اٰلَفَ (افعال) اِیْلَافًا : کسی کو کسی سے مانوس کرنا۔ { اٖلٰفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ ۔ } (قریش) ” ان کو مانوس کرنا سردی اور گرمی کے سفر سے۔ “
اَلَّفَ (تفعیل) تَاْلِیْفًا : مانوس کرنا ‘ محبت پیدا کرنا ‘ جمع کرنا۔ { وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ط } (الانفال :63) ” اور اس نے محبت پیدا کی ان کے دلوں کے مابین۔ “{ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ } (النور :43) ” کہ اللہ ہنکاتا ہے بادل کو پھر وہ اکٹھا کرتا ہے اس کو آپس میں۔ “
مُؤَلَّفٌ (اسم المفعول) : جمع کیا ہوا ‘ جوڑا ہوا۔ { وَالْمُؤَلَّـفَۃِ قُلُوْبُھُمْ } (التوبۃ :60) ” اور جوڑے ہوئے ہونے کے لیے ان کے دل۔ “
اَلْفٌ ج اٰلَافٌ : ایک ہزار۔ { وَاِنْ یَّـکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِط } (الانفال :66) ” اور اگر ہوں تم میں سے ایک ہزار تو وہ غالب ہوں گے دو ہزار پر اللہ کے اذن سے۔ “{ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّـکُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰـفٍ مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ } (آل عمران :124) ” کہ مدد کرے تمہاری تمہارا رب تین ہزار فرشتوں سے۔ “
اُلُوْفٌ (فُعُوْلٌ کے وزن پر جمع) : ہزاروں۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” اَلَمْ تَرَ “ کا فاعل ” تَرَ “ میں شامل ” اَنْتَ “ کی ضمیر ہے اور ” اَلَّـذِیْنَ خَرَجُوْا “ اس کا مفعول ہے ‘ جبکہ ” مِنْ دِیَارِھِمْ “ متعلق فعل ہے۔ ” وَھُمْ اُلُوْفٌ“ کا وائو حالیہ ہے ‘ ” ھُمْ “ مبتدأ اور ” اُلُـوْفٌ“ خبر ہے۔ ” لَمْ “ کی وجہ سے اس جملہ اسمیہ کا ترجمہ حال کے بجائے ماضی میں ہوگا۔ ” حَذَرَ الْمَوْتِ “ بھی متعلق فعل ہے اور ” اَلَّـذِیْنَ خَرَجُوْا “ کا حال ہونے کی وجہ سے اس کا مضاف منصوب ہے۔
” ثُمَّ “ ترتیب کے لیے آتا ہے اس لیے اس سے پہلے ” فَمَاتُوْا “ محذوف ہے جو کہ فعل امر ” مُوْتُوْا “ کا جواب ام رہے۔” اَحْیَا “ کا فاعل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” اَللّٰہُ “ کے لیے ہے۔ ” ھُمْ “ ضمیر مفعولی ہے جو ” اَلَّـذِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” لٰـکِنَّ “ کا اسم ” اَکْثَرَ النَّاسِ “ ہے اس لیے اس کا مضاف منصوب ہے ‘ جبکہ جملہ فعلیہ ” لاَ یَشْکُرُوْنَ “ خبر ہے۔
نوٹ (1) : ” رَ ئٰ ی۔ یَرٰی “ کا مفعول بنفسہٖ آتا ہے ۔ اور جب ” اِلٰی “ کے صلہ کے ساتھ آئے تو اس میں اس کے مفعول کی حالت پر غور کرنے اور اسے سمجھنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ ترجمہ میں اسے ظاہر کیا گیا ہے۔
نوٹ (2) : یہ بنی اسرائیل کی ایک بستی کا واقعہ ہے جہاں کوئی وبا پھوٹ پڑی تھی۔ اس سے بچنے کے لیے یہ لوگ بستی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے گئے جہاں انہیں موت آئی۔ پھر ایک نبی کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔
Ayah 2:244[ وَقَاتِلُوْا : اور تم لوگ قتال کرو ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [ عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
نوٹ (1) : مادہ ” ق ت ل “ سے فَاعِلٌکے وزن پر اسم الفاعل ” قَاتِلٌ“ بنتا ہے۔ اس کی جمع ” قَاتِلُوْنَ “ سے جب نون اعرابی گرتا ہے تو ” قَاتِلُوْ “ استعمال ہوتا ہے ‘ یعنی واو الجمع کے الف کے بغیر۔ اور باب مفاعلہ سے اس کا فعلِ امر ” قَاتِلْ “ بنتا ہے جس کی جمع ” قَاتِلُوْا “ ہے۔ اس طرح دونوں میں فرق صرف واو الجمع کے الف کا ہے۔ اسی لیے ” قَاتِلُو الْمُشْرِکِیْنَ “ کا ترجمہ ہوگا ” مشرکوں کو قتل کرنے والے “ ۔ جبکہ ” قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ “ کا ترجمہ ہوگا ” تم لوگ جنگ کرو مشرکوں سے “۔
نوٹ (2) : اس آیت میں گزشتہ آیت سے ربط یہ ہے کہ جب موت سے بچنا انسان کے بس میں نہیں ہے ‘ تو پھر موت کے ڈر سے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے سے جی چرانا حماقت بھی ہے اور محرومی بھی۔
Ayah 2:245[ مَنْ ذَا الَّذِیْ : کون ہے وہ جو ] [ یُقْرِضُ : قرضہ دے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ قَرْضًا حَسَنًا : ایک خوبصورت قرض ] [ فَیُضٰعِفَہٗ : اس سبب سے وہ ضرب دے کر بڑھائے اس کو ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً : کئی گنا ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَقْبِضُ : سکیڑتا ہے ] [ وَیَبْصُطُ : اور کشادہ کرتا ہے (رزق کو) ] [ وَاِلَـیْہِ : اور اس کی طرف ہی ] [ تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جائو گے ]
ق ر ض
قَرَضَ (ض) قَرْضًا : (1) کسی سے بچتے ہوئے گزر جانا ‘ کترا جانا۔ (2) کسی کو بدلہ دینا۔ { وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ } (الکہف :17) ” اور جب وہ غروب ہوتا ہے تو وہ کترا جاتا ہے ان سے بائیں طرف۔ “
قَرْضٌ (اسم ذات) : اُدھار ‘ قرض۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَقْرَضَ (افعال) اِقْرَاضًا : کسی کو ادھار دینا۔ قرض دینا۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَقْرِضْ (فعل امر) : تو قرض دے۔ { وَاَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًاط } (المزمل :20) ” اور تم لوگ قرض دو اللہ کو ‘ خوبصورت قرضہ۔ “
ض ع
ضَعَفَ (ف) ضَعْفًا : کسی چیز کو زیادہ کرنا۔
ضَعُفَ (ک) ضَعَافَۃً : کمزور ہونا۔ { وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَـکَانُوْاط }(آل عمران :146) ” اور وہ لوگ نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے۔ “
اَضْعَفُ (افعل التفضیل) : زیادہ کمزور۔ { مَنْ ھُوَ شَرٌّ مَّـکَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا ۔ } (مریم) ” کون زیادہ برا ہے بلحاظ مقام کے اور زیادہ کمزور ہے بلحاظ فوج کے۔ “
ضَعِیْفٌ ج ضِعَافٌ اور ضُعَفَائُ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : کمزور۔ { وَخُلِقَ الاْنِسْاَنُ ضَعِیْفًا ۔ } (النسائ) ” اور پیدا کیا گیا انسان کو کمزور۔ “ { لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا } (النسائ :9) ” اگر وہ لوگ چھوڑیں اپنے پیچھے کچھ کمزور اولادیں۔ “{ فَقَالَ الضُّعَفٰؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا } (ابراھیم :21) ” تو کہیں گے کمزور لوگ ان سے جنہوں نے بڑائی چاہی۔ “
ضَعْفٌ اور ضُعْفٌ (اسم ذات) : کمزوری۔{ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًاط } (الانفال :66) ” اور اس نے جانا کہ تم لوگوں میں کچھ کمزوری ہے۔ “{ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ } (الروم :54) ” اللہ ہے جس نے پیدا کیا تم لوگوں کو کمزوری سے۔ “
ضِعْفٌ ج اَضْعَافٌ : دوگنا (واحد لفظ ضِعْفٌ بھی دوگنے کے لیے آتا ہے اور اس کا تثنیہ ضِعْفَیْنِ بھی آتا ہے) { رَبَّنَا ھٰٓـؤُلَآئِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِط } (الاعراف :38) ” اے ہمارے ربّ ! ان لوگوں نے بہکایا ہم کو پس تو دے ان کو دوگنا عذاب آگ میں سے۔ “{ رَبَّـنَا اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ } (الاحزاب :68) ” اے ہمارے ربّ ! تو دے ان کو دوگنا عذاب میں سے۔ “ جمع آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔
اَضْعَفَ (افعال) اِضْعَافًا : زیادہ کرنا ‘ بڑھانا۔
مُضْعِفٌ (اسم الفاعل) : زیادہ کرنے والا۔ { فَاُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ۔ } (الروم) ” تو وہ لوگ ہی بڑھانے والے ہیں۔ “
ضَاعَفَ (مفاعلہ) مُضَاعَفَۃً : گنوں میں بڑھانا ‘ multiply کرنا ‘ ضرب دے کر بڑھانا۔ { وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُط } (البقرۃ :261) ” اور اللہ ضرب دے کر بڑھاتا ہے اس کے لیے جس کے لیے وہ چاہتا ہے۔ “
اِسْتَضْعَفَ (استفعال) اِسْتِضْعَافًا : کسی کو کمزور سمجھنا۔ { اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ } (الاعراف :150) ” بیشک قوم نے کمزور سمجھا مجھ کو۔ “
مُسْتَضْعَفٌ (اسم المفعول) : صفت کے طور پر آتا ہے ‘ کمزور سمجھا ہوا یعنی کمزور۔ { قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِط } (النسائ :97) ” ان لوگوں نے کہا ہم لوگ تھے کمزور زمین میں۔ “
ق ب ض
قَـبَضَ (ض) قَـبْضًا : کسی چیز کو پنجے سے پکڑنا۔ (1) پکڑنا ‘ قبضے میں لینا۔ (2) سمیٹنا ‘ سکیڑنا۔{ فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ } (طٰہٰ :96) ” تو میں نے پکڑا ایک مٹھی بھر فرشتے کے نشان سے۔ “{ ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَـیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا ۔ } (الفرقان) ” پھر ہم نے سمیٹا اس کو اپنی طرف ‘ آسان سمیٹنا۔ “
قَبْضَۃٌ (اسم ذات) : مُٹھی۔ { وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } (الزمر :67) ” اور زمین کُل کی کُل اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن۔ “
مَقْبُوْضَۃٌ (اسم المفعول) : قبضہ میں لیا ہوا ‘ پکڑا ہوا۔ { وَلَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌط } (البقرۃ :283) ” اور تم لوگ نہ پائو کوئی لکھنے والا تو رہن ہے قبضہ میں لیا ہوا۔ “
ب س ط
بَسَطَ (ن) بَسْطًا : کسی چیز کو پھیلانا ‘ کشادہ کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
بَاسِطٌ (اسم الفاعل) : پھیلانے والا۔ { مَا اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَـیْکَ لِاَقْتُلَکَج } (المائدۃ :28) ” میں پھیلانے والا نہیں ہوں اپنا ہاتھ تیری طرف کہ میں قتل کروں تجھ کو۔ “
مَبْسُوْطٌ (اسم المفعول) : پھیلایا ہوا۔ { بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِلا } (المائدۃ :64) ” بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھولے ہوئے ہیں۔ “
بَسْطَۃٌ (اسم ذات) : پھیلائو ‘ کشادگی۔ { وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِط } (البقرۃ :247) ” اور اس نے زیادہ کیا اس کو بلحاظ کشادگی ‘ علم میں اور جسم میں۔ “
بِسَاطٌ (اسم ذات) : پھیلائی ہوئی چیز ‘ بچھونا ‘ فرش۔ { وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا ۔ } (نوح) ” اور اللہ نے بنایا تم لوگوں کے لیے زمین کو ایک بچھونا۔ “
ترکیب : ” مَنْ “ استفہامیہ ہے اور مبتدأ ہے۔” ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ “ صلہ موصول مل کر اس کی خبر ہے۔ ” یُقْرِضُ “ کا مفعول ” اللّٰہَ “ ہے ‘ جبکہ ” قَرْضًا حَسَنًا “ مفعول مطلق ہے۔ ” فَیُضٰعِفَہٗ “ کا ” فَا “ سببیہ ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ مضارع کو نصب دیتا ہے۔ اسی لیے ” یُضٰعِفَ “ منصوب آیا ہے۔ اس میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” قَرْضًا حَسَنًا “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” لَـہٗ “ کی ضمیر ” مَن ذَا الَّذِیْ “ کے لیے ہے ” اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً “ تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” یَبْصُطُ “ کے بعد ” الرِّزْقَ “ محذوف ہے۔ ثلاثی مجرد کے مضارع مجہول کا وزن ” یُفْعَلُ “ ہے ‘ اور باب افعال کے مضارع مجہول کا بھی یہی وزن ہے۔ یہاں ” تُرْجَعُوْنَ “ ثلاثی کا مضارع مجہول ہے ‘ کیونکہ مادہ ” ر ج ع “ باب افعال سے نہیں آتا۔
نوٹ (1): جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح ؓ نے کہا کہ میں کھجور کے دو باغوں کا مالک
ہوں۔ اس کے علاوہ میری ملک میں کچھ نہیں ہے۔ میں اپنے یہ دونوں باغ اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ ایک اللہ کے راستے میں وقف کر دو اور دوسرا اپنے اہل و عیال کی معاشی ضرورت کے لیے باقی رکھو۔ تو ابوالدحداح ؓ نے کہا کہ ان دونوں میں سے اچھا باغ جس میں چھ سو درخت ہیں ‘ اس کو میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں۔ (معارف القرآن)
Ayah 2:246[ اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور ہی نہیں کیا ] [ اِلَی الْمَلَاِ : سرداروں (کی حالت) کی طرف ] [ مِنْم بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ : بنی اسرائیل میں سے ] [ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی : موسٰی (علیہ السلام) کے بعد ] [ اِذْ قَالُوْا : جب ان لوگوں نے کہا ] [ لِنَبِیٍّ لَّہُمُ : اپنے ایک نبی سے ] [ ابْعَثْ : تو بھیج (یعنی مقرر کر) ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ مَلِکًا : ایک بادشاہ ] [ نُّـقَاتِلْ : تو ہم قتال کریں ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ قَالَ : انہوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ ہَلْ عَسَیْتُمْ : کیا ہوسکتا ہے تم لوگوں سے ] [ اِنْ : اگر ] [ کُتِبَ : فرض کیا جائے ] [ عَلَیْکُمُ : تم پر ] [ الْقِتَالُ : قتال کو ] [ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا : کہ تم لوگ قتال نہ کرو ] [ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ وَمَا لَـنَـآ : اور ہمیں کیا ہے ] [ اَلاَّ نُقَاتِلَ : کہ ہم قتال نہ کریں ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَ : (جب) حال یہ ہے کہ ] [ قَدْ اُخْرِجْنَا : ہم نکالے گئے ہیں ] [ مِنْ دِیَارِنَا : اپنے گھروں سے ] [ وَاََبْنَــآئِنَا : اور اپنے بیٹوں سے ] [ فَلَمَّا : پھر جب ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَیْہِمُ : ان پر ] [ الْقِتَالُ : قتال کو ] [ تَوَلَّــوْا : تو انہوں نے منہ موڑا ] [ اِلاَّ : مگر ] [ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ : ان میں سے تھوڑوں نے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [بِالظّٰلِمِیْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
م ل ء
مَلَأَ (ف) مِلَائَ ۃً : کسی چیز کو کسی چیز سے بھر دینا۔ { لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ } (الاعراف) ” میں لازماً بھر دوں گا جہنم کو تم سب کے سب سے۔ “
مَلُؤَ (ک) مَلَائً : بھرا ہوا ہونا ‘ دولت مند ہونا ‘ رئیس یا سردار ہونا۔
مَالِــؤٌ (اسم الفاعل) : بھرنے والا۔ { فَاِنَّھُمْ لَاٰکِلُوْنَ مِنْھَا فَمَالِئُوْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” پس وہ لوگ کھانے والے ہیں اس سے تو وہ بھرنے والے ہیں اس سے پیٹوں کو۔ “
مِلْــؤٌ : اتنی مقدار جس سے کوئی چیز بھر جائے۔ بھر۔ (جیسے گلاس بھر پانی۔ مَن بھر آٹا وغیرہ) { فَلَنْ یُّـقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْئُ الْاَرْضِ ذَھَبًا } (آل عمران :91) ” تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان کے کسی ایک سے زمین بھر سونا۔ “
مَلَــؤٌ (اسم جمع) : کسی قوم کے رئیسوں اور سرداروں کی جماعت۔ آیت زیر مطالعہ۔
اِمْتَـلَأَ (افتعال) اِمْتِلَائً : کسی چیز کا کسی چیز سے بھر جانا۔{ یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ } (قٓ:30) ” جس دن ہم کہیں گے جہنم سے کیا تو بھر گئی ؟ “
ترکیب :” اِذْ قَالُوْا “ کا فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلْمَلَاِ “ کے لیے ہے۔ فعل امر ” اُبْعَثْ “ کا جواب امر ہونے کی وجہ سے ” نُقَاتِلْ “ مجزوم ہوا ہے۔ ” عَسَیْتُمْ “ میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر فعل مقاربہ ” عَسٰی “ کا اسم ہے اور ” اَلاَّ تُقَاتِلُوْا “ اس کی خبر ہے ‘ جبکہ درمیان میں جملہ شرطیہ ہے۔ ” اَلاَّ “ دراصل ” اَنْ لاَ “ ہے۔ اس میں ” اَنْ “ کی وجہ سے ” تُقَاتِلُوْا “ منصوب ہوا ہے۔ جملہ شرطیہ میں ” کُتِبَ “ ماضی مجہول ہے اس لیے اس پر ” اِنْ “ کا عمل ظاہر نہیں ہوا اور ” اَلْقِتَالُ “ اس کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ” مَا “ استفہامیہ ہے اور مبتدأ ہے۔ ” لَـنَا “ قائم مقام خبر ہے۔ ” وَقَدْ اُخْرِجْنَا “ کا وائو حالیہ ہے۔ ” اَبْنَائِنَا “ کے مضاف کی جر بتارہی ہے کہ یہ ” دِیَارِنَا “ پر عطف ہے۔ ” لَـمَّا “ حرفِ شرط ہے۔ ” کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ “ شرط ہے اور ” تَوَلَّوْا “ جوابِ شرط ہے۔ ” اِلاَّ “ کی وجہ سے ” قَلِیْلًا “ منصوب ہوا ہے۔
Ayah 2:247[وَقَالَ : اور کہا ] [لَہُمْ : ان سے ] [نَبِیُّہُمْ : ان کے نبی نے ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ نے ] [قَدْ بَعَثَ : مقرر کیا ہے ] [لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [طَالُوْتَ : طالوت کو ] [مَلِکًا : بادشاہ ] [قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [یَکُوْنُ : ہوگی ] [لَہُ : اس کے لیے ] [الْمُلْکُ : بادشاہت ] [عَلَیْنَا : ہم پر ] [وَ : حالانکہ ] [نَحْنُ : ہم ] [اَحَقُّ : زیادہ حق دار ہیں ] [بِالْمُلْکِ : بادشاہت کے ] [مِنْہُ : اس سے ] [وَلَمْ یُؤْتَ : اور اس کو دی ہی نہیں گئی ] [سَعَۃً : کوئی وسعت ] [مِّنَ الْمَالِ : مال میں سے ] [قَالَ : (نبی نے) کہا ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ نے ] [اصْطَفٰٹہُ : ترجیح دی اس کو ] [عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [وَزَادَہٗ : اور اس نے زیادہ کیا اس کو ] [بَسْطَۃً : بلحاظ کشادگی ‘] [فِی الْْعِلْمِ : علم میں ] [وَالْجِسْمِ : اور جسم میں ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُؤْتِیْ : دیتا ہے ] [مُلْکَہٗ : اپنا ملک ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [وَاسِعٌ : وسعت دینے والا ہے ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
ترکیب : ” بَعَثَ “ کا مفعول اوّل ” طَالُوْتَ “ ہے اور ” مَلِکًا “ مفعول ثانی ہے۔” یَکُوْنُ “ کا اسم ” الْمُلْکُ “ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لَـہٗ “ قائم مقام خبر ہے۔” یُـؤْتَ “ کا نائب فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” طَالُوْتَ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” سَعَۃً “ مفعول ثانی ہے۔ ” زَادَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” اللّٰہَ “ کے لیے ہے ‘ اس کا مفعول ” ہٗ “ کی ضمیر ہے جو ” طَالُوْتَ “ کے لیے ہے ‘ جبکہ ” بَسْطَۃً “ تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
نوٹ : حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بعثت سے تقریباً گیارہ سو سال پہلے کا یہ واقعہ ہے جس کا تذکرہ آیت 246 سے شروع ہوا ہے۔ اس طرح یہ قصہ آج سے تقریباً سوا تین ہزار سال پہلے کا ہے۔ آیت زیر مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی لوگ انسانوں کو ان کے مال و دولت سے ناپتے تھے۔ حالانکہ کسی انسان کی شخصیت اور کردار کی اساس مال و دولت نہیں ‘ بلکہ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت ہے۔ اس آیت میں ذہنی صحت کو علم کی کشادگی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ علم کے بغیر دولت مل جانا ایسا ہی ہے جیسے کسی بندر کے ہاتھ چھچھوندر لگ جائے۔ ہمارا موجودہ معاشرہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
Ayah 2:248[وَقَالَ : اور کہا ] [لَہُمْ : ان سے ] [نَبِیُّہُمْ : ان کے نبی نے ] [اِنَّ : بیشک ] [اٰیَۃَ مُلْکِہٖ : اس کی بادشاہت کی نشانی ہے ] [اَنْ : کہ ] [یَّاْتِیَکُمُ : آئے گا تمہارے پاس ] [التَّابُوْتُ : تابوت ] [فِیْہِ : اس میں ] [سَکِیْنَۃٌ : اطمینان ہے ] [مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی جانب) سے ] [وَبَـقِیَّۃٌ : اور باقی ماندہ ہے ] [مِّمَّا : اس میں سے جو ] [تَرَکَ : چھوڑا ] [اٰلُ مُوْسٰی : موسٰی (علیہ السلام) کے پیروکاروں نے ] [وَاٰلُ ہٰرُوْنَ : اور ہارون (علیہ السلام) کے پیروکاروں نے ] [تَحْمِلُہُ : اٹھائے ہوئے ہوں گے اس کو ] [الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتے ] [اِنَّ : بیشک ] [فِیْ ذٰلِکَ : اس میں ] [لَاٰیَۃً : ایک نشانی ہے ] [لَّــکُمْ : تم لوگوں کے لیے
اِنْ : اگر ] [کُنْتُمْ : تم لو گ ] [مُّؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والے ہو ]
ت ب ت
(x) : اس مادہ سے کسی باب میں کوئی فعل استعمال نہیں ہوتا۔
تَابُوْتٌ (اسم ذات) : صندوق۔ آیت زیر مطالعہ۔
ب ق ی
بَقِیَ (س) بَـقَائً : (1) ہمیشہ رہنا ‘ (2) باقی رہنا ‘ باقی بچنا ‘ دیرپا ہونا۔ { وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ } (الرحمٰن :27) ” اور ہمیشہ رہے گا تیرے رب کا چہرہ یعنی اس کی ذات۔ “ { وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا } (البقرۃ :278) ” اور تم لوگ چھوڑ دو اس کو جو باقی بچا سود میں سے۔ “
بَاقٍ (اسم الفاعل) : باقی رہنے والا۔ { مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍط } (النحل :96) ” جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ “
اَبْقٰی (افعل التفضیل) : زیادہ باقی رہنے والا ‘ زیادہ دیرپا۔ { وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَاَبْقٰی } (طٰہ :127) ” اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ شدید ہے اور زیادہ دیرپا ہے۔ “
بَقِیَّـۃٌ (اسم نسبت) : باقی رہنے والی چیز ‘ باقی ماندہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
اَبْقٰی (افعال) اِبْقَائً : باقی رہنے دینا ‘ باقی چھوڑنا۔ { وَاَنـَّـہٗ اَھْلَکَ عَادَا نِ الْاُوْلٰی ۔ وَثَمُوْدَا فَمَا اَبْقٰی ۔ } (النجم) ” اور یہ کہ اس نے ہلاک کیا پہلی قوم عاد کو ‘ اور ثمود کو تو باقی نہیں چھوڑا۔ “
ح م ل
حَمَلَ (ض) حَمْلاً : (1) کسی چیز کو اپنے اوپر لادنا یعنی بوجھ اٹھانا۔ { اِنِّیْ اٰرٰٹنِیْ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا } (یوسف :36) ” بیشک میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں اٹھاتا ہوں اپنے سر کے اوپر کچھ روٹی۔ “ (2) کسی چیز کو دوسرے پر لادنا یعنی بوجھ ڈالنا۔ { رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا } (البقرۃ :286) ” اے ہمارے رب ! اور تو بوجھ نہ ڈال ہم پر۔ “ (3) کسی کو کسی چیز پر لادنا یعنی سوار کرنا یا سواری دینا۔ { وَّلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لاَ اَجِدُ مَا اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ص } (التوبۃ :92) ” اور نہ ہی ان لوگوں پر (گناہ) ہے کہ جب وہ آئے آپ ﷺ کے پاس تاکہ آپ ﷺ ان کو سواری دیں تو آپ ﷺ نے کہا کہ میں نہیں پاتا اس کو ‘ مَیں سوار کروں تم کو جس پر۔ “
اِحْمِلْ (فعل امر) : تو بوجھ اٹھا ‘ تو بوجھ ڈال۔ { قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ } (ھود :40) ” ہم نے کہا آپ (علیہ السلام) سوار کریں اس میں ہر چیز کے زوجین میں سے دو کو۔
حَامِلٌ (اسم الفاعل) : بوجھ اٹھانے والا۔ { وَمَا ھُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰھُمْ مِّنْ شَیْئٍط } (العنکبوت :12) ” حالانکہ وہ لوگ اٹھانے والے نہیں ہیں ان کی خطائوں میں سے کچھ بھی۔ “
حَمَّالٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بار بار بوجھ اٹھانے والا ‘ بوجھ ڈھونے والا۔ { وَامْرَاَتُہٗ ط حَمَّالَـۃَ الْحَطَبِ ۔ } (اللھب) ” اور اس کی عورت ‘ ایندھن ڈھونے والی۔ “
حَمُوْلٌ (فَـعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : بہت زیادہ بوجھ اٹھانے والا۔{ وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًاط } (الانعام :142) ” اور مویشیوں میں کوئی بکثرت بوجھ اٹھانے والا اور کوئی بچھا ہوا۔ “
حَمْلٌ ج اَحْمَالٌ (اسم ذات) : کسی مادہ کے پیٹ کا حمل۔ { وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ ط } (الطلاق :4) ” اور حملوں والیاں ‘ ان کی مدت ہے کہ وہ رکھ دیں اپنا حمل (یعنی بچہ پیدا ہوجائے۔ )“
حِمْلٌ (اسم ذات) : بوجھ۔ { وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ } (یوسف :72) ” اور جو لائے گا اس کو ‘ اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے۔ “
حَمَّلَ (تفعیل) تَحْمِیْلًا : (1) کسی سے بوجھ اٹھوانا۔ (2) کسی کے لیے کوئی چیز لازم کرنا۔ { رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖج } (البقرۃ :286) ” اے ہمارے ربّ ! اور تو ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا ‘ طاقت نہیں ہے ہم میں جس کی۔ “{ فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْط } (النور :54) ” پس کچھ نہیں سوائے اس کے کہ اس پر ہے وہ جو لازم کیا گیا (اس پر) اور تم لوگوں پر ہے وہ جو تم پر لازم کیا گیا۔ “
اِحْتَمَلَ (افتعال) اِحْتِمَالاً : اہتمام سے لادنا۔ { وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا ۔ } (الاحزاب) ” اور جو لوگ اذیت دیتے ہیں مؤمنوں کو اور مؤمنات کو بغیر اس کے جو انہوں نے کمایا ‘ تو انہوں نے اپنے اوپر لادا ہے ایک بہتان اور ایک کھلا گناہ۔ “
نوٹ : ” سَکِیْنَۃٌ“ کا لفظ قرآن مجید میں چھ مقامات پر آیا ہے۔ وہ مقامات یہ ہیں : آیت زیر مطالعہ ‘ التوبۃ :26 ۔ 40 اور الفتح :4 ۔ 18 ۔ 26 ۔ ان مقامات کے مطالعہ سے مجموعی تأثر یہ ملتا ہے کہ یہ ایک خاص قلبی کیفیت ہے اور اللہ تعالیٰ کا خصوصی عطیہ ہے۔ کیونکہ ہر مقام پر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے۔
Ayah 2:249[ فَلَمَّا : پھر جب ] [فَصَلَ : دور ہوا (یعنی روانہ ہوا) ] [طَالُوْتُ : طالوت ] [بِالْجُنُوْدِ : لشکروں کے ساتھ ] [قَالَ : تو اس نے کہا ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [مُبْتَلِیْکُمْ : تم لوگوں کو آزمانے والا ہے ] [بِنَہَرٍ : ایک نہر سے ] [فَمَنْ : پس جس نے ] [شَرِبَ : پیا ] [مِنْہُ : اس سے ] [فَلَیْسَ : تو وہ نہیں ہے ] [مِنِّیْ : مجھ سے ] [وَمَنْ : اور جس نے ] [لَّمْ یَطْعَمْہُ : چکھا ہی نہیں اس کو ] [فَاِنَّہٗ : تو بیشک وہ ہے ] [مِنِّیْ : مجھ سے ] [اِلاَّ : مگر یہ کہ ] [مَنِ : جس نے ] [اغْتَرَفَ : احتیاط سے بھرا ] [غُرْفَۃً : (صرف) ایک چلّو ] [بِیَدِہٖ : اپنے ہاتھ سے ] [فَشَرِبُوْا : پھر ان لوگوں نے پیا ] [مِنْہُ : اس سے ] [اِلاَّ : مگر ] [قَلِیْلاً : تھوڑوں نے ] [مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [فَلَمَّا : پھر جب ] [جَاوَزَہٗ : اس نے پار کیا اس کو ] [ہُوَ : اس نے ] [وَالَّذِیْنَ : اور ان لوگوں نے جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [مَعَہٗ : اس کے ساتھ ] [قَالُوْا : تو ان لوگوں نے کہا ] [لاَ طَاقَۃَ : کوئی ] [طاقت نہیں ہے ] [لَنَا : ہم میں (قتال کے لیے) ] [الْیَوْمَ : آج ] [بِجَالُوْتَ : جالوت سے ] [وَجُنُوْدِہٖ : اور اس کے لشکروں سے ] [قَالَ : کہا ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جو ] [یَظُنُّوْنَ : خیال کرتے تھے ] [اَنَّہُمْ : کہ وہ لوگ ] [مُّلٰقُوا اللّٰہِ : اللہ سے ملاقات کرنے والے ہیں ] [کَمْ مِّنْ : (کہ) کتنی ہی ] [فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ : چھوٹی جماعتیں ] [غَلَـبَتْ : غالب ہوئیں ] [فِئَۃً کَثِیْرَۃً : بڑی جماعتوں پر ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کی اجازت سے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [مَعَ الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے ]
ج ن د
ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔
جُنْـدٌ ج جُنُوْدٌ (اسم جمع) : فوج ‘ لشکر۔ { اِنَّھُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ۔ } (الدُّخان) ” بیشک وہ لوگ غرق کیا جانے والا ایک لشکر ہیں۔ “
غ ر
غَرَفَ (ض) غَرْفًا : کسی چیز میں کوئی رقیق مادہ اٹھانا یا بلند کرنا ‘ جیسے چمچے وغیرہ میں شوربہ لینا یا چلو میں پانی اٹھانا ‘ یعنی لینا ‘ بھرنا۔
غُرَفٌ اور غُرُوْفٌ : بلند مقام ‘ بلند رتبہ۔ { لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّـقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ غُرَفٌ} (الزمر :20) ” لیکن جن لوگوں نے تقویٰ کیا اپنے رب کا ‘ ان کے لیے ایک بلند مقام ہے۔ “ { وَھُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ ۔ } (سبا) ” اور وہ لوگ بلند مقامات میں امن میں ہونے والے ہیں۔ “
غُرْفَۃٌ : (1) کسی عمارت میں اوپر کا کمرہ ‘ بالاخانہ ۔ { اُولٰٓـئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ } (الفرقان :75) ” ان لوگوں کو جزا میں دیا جائے گا بالاخانہ۔ “ (2) چلو ‘ چلو بھر پانی۔ آیت زیر مطالعہ۔
اِغْتَرَفَ (افتعال) اِغْتِرَافًا : اہتمام سے لینا ‘ بھرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
ج و ز
جَازَ (ن) جَوْزًا : کسی چیز کے وسط میں ہونا۔
جَاوَزَ (مفاعلہ) مُجَاوَزَۃً : وسط سے آگے بڑھنا ‘ گزرنا ‘ دریا کے وسط سے گزرنا یعنی دریا پار کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔
تَجَاوَزَ (تفاعل) تَجَاوُزًا : کسی چیز سے آگے بڑھنا ‘ نظر انداز کرنا۔ { وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِھِمْ } (الاحقاف :16) ” اور ہم نظر انداز کریں گے ان کی برائیوں کو۔ “
غ ل ب
غَلَبَ (ض) غَلْبًا : کسی پر بالادستی حاصل کرنا ‘ غالب آنا۔ { رَبَّـنَا غَلَـبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا } (المؤمنون :106) ” اے ہمارے ربّ ! غلبہ پایا ہم پر ہماری بدبختی نے۔ “
غُلِبَ (ماضی مجہول) : غلبہ پایا ہواہونا ‘ مغلوب ہونا۔ { غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ } (الروم) ” مغلوب ہوئے رومی۔ “
غَلَبٌ (اسم ذات) : مغلوبی۔ { وَھُمْ مِّنْم بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ۔ } (الروم) ” اور وہ لوگ اپنی مغلوبی کے بعد غالب آئیں گے۔ “
غَالِبٌ (اسم الفاعل) : غالب آنے والا ‘ غلبہ پانے والا۔ { فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّـکُمْ غٰلِبُوْنَج } (المائدۃ : ) ” پس جب تم لوگ داخل ہو گے اس میں تو یقینا تم لوگ غلبہ پانے والے ہو۔ “
مَغْلُوْبٌ (اسم المفعول) : جس پر غلبہ پایا گیا۔ { فَدَعَا رَبَّـہٗ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ۔ } (القمر) ” تو انہوں نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوں پس تو بدلہ لے۔ “
غَلِبَ (س) غَلَبًا : موٹی گردن والا ہونا۔
اَغْلَبُ ج غُلْبٌ (افعل الوان وعیوب) : گنجان آبادی ‘ موٹے تنے والا درخت۔ { وَحَدَائِقَ غُلْبًا ۔ } (عبس) ” اور باغات موٹے تنے والے درختوں کے۔ “
ک ث ر
کَثُرَ (ک) کَثْرَۃً : تعداد میں زیادہ ہونا۔ { مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ ط } (النسائ :7) ” اس میں سے جو کم ہو اس میں یا زیادہ ہو۔ “
کَثْرَۃٌ (اسم ذات) : زیادتی ‘ کثرت۔ { لَا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ج } (المائدۃ :100) ” برابر نہیں ہوتے خبیث اور پاکیزہ چاہے بھلی لگے تجھ کو خبیث کی کثرت۔ “
اَکْثَرُ (افعل التفضیل) : زیادہ تر ‘ اکثریت۔{ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ } (الاعراف) ” اور لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ “
کَثِیْرٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : زیادہ ‘ بہت۔ آیت زیر مطالعہ۔
کُثْرٌ : کسی چیز کی بہتات۔ یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
کَوْثَرٌ : یہ کُثْرٌ کا مبالغہ ہے (تدبر قرآن) ۔ انتہائی بہتات ‘ بےانتہا۔{ اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ ۔ } (الکوثر) ” بیشک ہم نے عطا کیا آپ ﷺ ‘ کو بےانتہا۔ “
اَکْثَرَ (افعال) اِکْثَارًا : زیادہ کرنا۔ { فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ } (الفجر :12) ” پھر انہوں نے زیادہ کیا اس میں فساد کو۔ “
کَثَّرَ (تفعیل) تَکْثِیْرًا : بتدریج زیادہ کرنا۔ { وَاذْکُرُوْا اِذْ کُنْتُمْ قَلِیْلًا فَـکَثَّرَکُمْص } (الاعراف :86) ” اور یاد کرو جب تم لوگ تھوڑے تھے تو اس نے زیادہ کیا تم لوگوں کو۔ “
تَـکَاثَرَ (تفاعل) تَکَاثُرًا : ایک دوسرے سے زیادہ ہونے کی کوشش کرنا ‘ کثرت میں مقابلہ کرنا۔ { وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُـرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِط } (الحدید :20) ” اور ایک دوسرے پر فخر کرنا تمہارے مابین اور ایک دوسرے سے زیادہ ہونے کی کوشش کرنا مال میں اور اولاد میں۔ “
اِسْتَکْثَرَ (استفعال) اِسْتِکْثَارًا : کسی چیز کی کثرت چاہنا ‘ جمع کرنا۔ { وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِج } (الاعراف :188) ” اور اگر میں جانتا ہوتا غیب کو تو میں لازماً جمع کرتا بھلائی میں سے۔ “
ء ی
فَائَ (ف) فَاْیًا : کسی چیز کو پھاڑ دینا۔
فِئَۃٌ : پھٹا ہوا ٹکڑا ‘ جماعت ‘ گروہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” مُبْتَلِیْکُمْ “ ” اِنَّ “ کی خبر ہے۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” شَرِبَ مِنْہُ “ شرط ہے اور ” فَلَیْسَ مِنِّیْ “ جوابِ شرط ہے۔” لَـیْسَ “ کا اسم اس کی ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” مِنِّیْ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” اِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ “ کا استثناء ” لَمْ یَطْعَمْہُ “ سے ہے۔ ” لَا طَاقَۃَ لَنَا “ کے بعد ” لِلْقِتَالِ “ محذوف ہے۔ ” مُلٰـقُوْا “ دراصل اسم الفاعل ” مُلٰقُوْنَ “ ہے۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہے اور اس کے آگے الف کا اضافہ قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔ ” کَمْ “ خبریہ ہے اس لیے ” فِئَۃٌ“ کا ترجمہ جمع میں ہوگا۔
نوٹ (1) : نہر سے پانی پینے پر پابندی لگا کر اسے آزمائش بنانے کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرح کچے اور پکے ایمان والوں کی چھانٹی مقصود تھی۔ کیونکہ حضرت طالوت کی فوج میں ہر طرح کے ایمان والے لوگ شامل تھے۔
یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ کچے ایمان والوں کے لیے آزمائش اور سختی میں ثابت قدم رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور سے میدان جنگ میں ایسے لوگ جلدی ہمت ہار دیتے ہیں اور راہ فرار اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے فوج کا نظم بگڑ جاتا ہے اور ثابت قدم رہنے والوں کے لیے بھی جنگ جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے کچے ایمان والوں کو پکے ایمان والوں سے الگ کردیا گیا تاکہ میدان جنگ میں صرف وہ لوگ اتریں جو صبر و استقامت کے ساتھ جنگ کریں۔
آج کے دور میں اس آیت میں ہمارے لیے راہنمائی یہ ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں اور خاص طور سے میدان جنگ میں کامیابی کا انحصار افراد کی تعداد سے زیادہ ان کے level of commitment پر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اسی چیز کی قدر ہے۔ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَکا یہی مطلب ہے۔
Ayah 2:250[وَلَمَّا : اور جب ] [بَرَزُوْا : وہ لوگ سامنے آئے ] [لِجَالُوْتَ : جالوت کے ] [وَجُنُوْدِہٖ : اور اس کے لشکروں کے ] [قَالُوْا : تو ان لوگوں نے کہا ] [رَبَّـنَـآ : اے ہمارے ربّ ! ] [اَفْرِغْ : تو انڈیل دے ] [عَلَیْنَا : ہم پر ] [صَبْرًا : ثابت قدمی کو ] [وَّثَـبِّتْ : اور تو جما دے ] [اَقْدَامَنَا : ہمارے قدموں کو ] [وَانْصُرْنَا : اور تو ہماری مدد کر ] [عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ : کافر قوم (کے مقابلہ) پر ]
ب ر ز
بَرَزَ (ن) بُرُوْزًا : صاف اور کھلی فضا میں نمودار ہونا۔ (1) کہیں سے نکلنا۔ (2) کسی کے سامنے آنا ‘ ظاہر ہونا۔{ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ } (النسائ :81) ” پھر جب وہ لوگ نکلتے ہیں آپ ﷺ کے پاس سے۔ “
بَارِزٌ (اسم الفاعل) : نکلنے والا ‘ ظاہر ہونے والا۔ { یَوْمَ ھُمْ بٰرِزُوْنَ } (المؤمن :16) ” جس دن وہ لوگ ظاہر ہونے والے ہیں۔ “
بَارِزَۃٌ : صاف اور کھلی ہونے والی۔ { وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃًلا } (الکہف :47) ” اور تو دیکھے گا زمین کو صاف اور کھلی ہونے والی حالت میں۔ “
بَرَّزَ (تفعیل) تَبْرِیْزًا : نکالنا ‘ سامنے لانا ‘ ظاہر کرنا۔ { وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَ ۔ } (الشُّعرائ) ” اور سامنے لائی جائے گی دوزخ گمراہوں کے لیے۔ “
ر غ
فَرَغَ (ن) فَرَاغًا : کسی کام کو ختم کر کے خالی ہونا ‘ فارغ ہونا۔ { فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ } (الانشراح) ” پھر جب آپ ﷺ فارغ ہوں تو آپ ﷺ محنت کریں۔ “
فَرُغَ (ک) فَرَاغَۃً : بےچین ہونا ‘ گھبرانا۔
فَارِغٌ (اسم الفاعل) : فارغ ہونے والا ‘ بےچین ہونے والا۔ { وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًاط } (القصص :10) ” اور ہوگیا موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےچین ہونے والا۔ “
اَفْـرَغَ (افعال) اِفْرَاغًا : کسی برتن کا پانی گرا کر برتن کو خالی کرنا ‘ اُنڈیلنا۔ { اٰتُوْنِیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا ۔ } (الکہف) ” تم لوگ لائو میرے پاس تو میں انڈیلوں اس پر تانبا۔ “
اَفْرِغْ (فعل امر) : تو انڈیل ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ث ب ت
ثَـبَتَ (ن) ثُبُوْتًا : ایک حالت پر جمے رہنا ‘ قائم رہنا۔
اُثْبُتْ (فعل امر) : تو جما رہ ‘ قائم رہ۔ { اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا } (الانفال :45) ” جب بھی تم لوگ سامنے آئو (مقابلہ کے لیے) کسی جماعت کے تو تم لوگ جمے رہو۔ “
ثَابِتٌ (اسم الفاعل) : جما رہنے والا ‘ قائم رہنے والا۔ { اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَائِ ۔ } (ابراھیم) ” اس کی جڑ جمی رہنے والی ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ “
اَثْبَتَ (افعال) اِثْبَاتًا : (1) قائم رہنے دینا۔ (2) ہلنے نہ دینا ‘ یعنی قید کرنا۔ { یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآئُ وَیُثْبِتُج } (الرعد :39) ” اللہ مٹاتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور باقی رہنے دیتا ہے۔ “ { وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَط } (الانفال :30) ” اور جب سازش کرتے تھے آپ ﷺ کے لیے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ وہ قید کریں آپ ﷺ ‘ کو ‘ یا قتل کریں آپ ﷺ ‘ کو ‘ یا نکالیں آپ ﷺ ‘ کو۔ “
ثَـبَّتَ (تفعیل) تَثْبِیْتًا : جمے رہنے یا قائم رہنے کی صلاحیت دینا ‘ جما دینا ‘ قائم کرنا۔ { لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ } (الفرقان :32) ” تاکہ ہم جما دیں اس سے آپ ﷺ کے دل کو۔ “
ثَــبِّتْ (فعل امر) : تو جما دے۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” لَمَّا “ شرطیہ ہے۔ ” بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ “ شرط ہے اور ” قَالُوْا “ سے آیت کے آخر تک جوابِ شرط ہے ۔ ” بَرَزُوْا “ اور ” قَالُوْا “ دونوں کے فاعل ان کی ” ھُمْ “ کی ضمیریں ہیں جو گزشتہ آیت میں مذکور ” اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ “ کے لیے ہیں۔
Ayah 2:251[فَـہَزَمُوْہُمْ : تو ان لوگوں نے شکست دی ان لوگوں کو ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کے اذن سے ] [وَقَتَلَ : اور قتل کیا ] [دَاوٗدُ : دائود نے ] [جَالُوْتَ : جالوت کو ] [وَاٰتٰٹہُ : اور دیا اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْمُلْکَ : ملک ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور دانائی ] [وَعَلَّمَہٗ : اور اس نے سکھایا اس کو ] [مِمَّا : اس میں سے جس میں سے ] [یَشَآئُ : اس نے چاہا ] [وَلَوْلاَ : اور اگر نہ ہوتا ] [دَفْعُ اللّٰہِ : اللہ کا دفع کرنا ] [النَّاسَ : لوگوں کو ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [بِبَعْضٍ : بعض سے ] [لَّـفَسَدَتِ الْاَرْضُ : تو بگڑ جاتی زمین (نظم کے توازن میں) ] [وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ : اور لیکن اللہ ] [ذُوْ فَضْلٍ : فضل (کرنے) والا ہے ] [عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں پر ]
ھـ ز م
ھَزَمَ (ض) ھَزْمًا : کسی خشک چیز کو دبا کر توڑ دینا ‘ شکستہ کرنا ‘ شکست دینا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
مَھْزُوْمٌ (اسم المفعول) : شکست دیا ہوا۔ { جُنْدٌ مَّا ھُنَالِکَ مَھْزُوْمٌ} (صٓ:11) ” ایک لشکر ہے جو وہاں شکست دیا جانے والا ہے۔ “
دع
دَفَعَ (ف) دَفْعًا : (1) کسی چیز کو ہٹانا ‘ دور کرنا۔ (2) کسی کو کسی چیز سے ہٹانا ‘ بچانا ‘ دفاع کرنا۔ (3) کسی چیز کو کسی کی طرف ہٹانا ‘ دینا ‘ حوالے کرنا۔ { فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَـیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ فَاَشْھِدُوْا عَلَیْھِمْ ط } (النسائ :6) ” پھر جب تم لوگ ہٹائو ان کی طرف (یعنی حوالے کرو ان کے) ان کے اموال تو گواہ بنائو ان پر۔ “
اِدْفَعْ (فعل امر) : مذکورہ تینوں معانی میں آتا ہے : (1) { وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ } (حٰم السجدۃ :34) ” اور برابر نہیں ہوتیں بھلائیاں اور نہ ہی برائیاں۔ تو دور کر (برائیوں کو) اس سے جو سب سے اچھی ہے۔ “ (2) { وَقِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِادْفَعُوْاط } (آل عمران :167) ” اور کہا گیا ان سے کہ تم لوگ آئو قتال کرو اللہ کی راہ میں یا دفاع کرو۔ “ (3) { فَادْفَعُوْا اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْج } (النسائ :6) ” تو تم لوگ حوالے کرو ان کے ان کے اموال۔ “
دَافِـعٌ (اسم الفاعل) : ہٹانے والا ‘ بچانے والا۔ { اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۔ مَّالَہٗ مِنْ دَافِـعٍ ۔ } (الطور) ” یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے اس سے۔ کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ “
دَافَعَ (مفاعلہ) مُدَافَعَۃً اور دِفَاعًا : دفاع کرنا ‘ بچانا ‘ ہٹانا۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط } (الحج :38) ” بیشک اللہ ہٹاتا ہے ان سے جو لوگ ایمان لائے۔ “
ترکیب :” فَھَزَمُوْا “ کا فاعل اس کی ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو آیت 249 میں مذکور ” اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ “ کے لیے ہے۔ اس کے آگے ” ھُمْ “ ضمیر مفعولی ہے جو گزشتہ آیت میں ” لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ “ کے لیے ہے۔ ” وَاٰتٰٹہُ اللّٰہُ “ میں ” اٰتٰی “ کا فاعل ” اَللّٰہُ “ ہے ‘ اس میں ” ہٗ “ کی ضمیر ” دَاوٗدَ “ کے لیے ہے اور یہ اس کا مفعول اوّل ہے ‘ جبکہ ” اَلْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ “ مفعول ثانی ہیں۔ ” لَوْ لَا “ شرطیہ ہے۔ ” دَفْعُ اللّٰہِ “ سے ” بِبَعْضٍ “ تک شرط ہے اور ” لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ “ جواب شرط ہے۔ ” دَفْعٌ“ مصدر نے فعل کا کام کیا ہے اور ” اَلنَّاسَ “ اس کا مفعول ہے ‘ جبکہ ” اَلنَّاسَ “ کا بدل ہونے کی وجہ سے ” بَعْضَھُمْ “ منصوب ہوا ہے۔ ” اَلْعٰلَمِیْنَ “ پر لام جنس ہے۔
Ayah 2:252[تِلْکَ : یہ ] [اٰیٰتُ اللّٰہِ : اللہ کی آیات ہیں ] [نَتْلُوْہَا : ہم پڑھ کر سناتے ہیں انہیں ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ ‘ کو ] [بِالْحَقِّ : حق سے ] [وَاِنَّکَ : اور بیشک آپ ﷺ ] [لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ : بھیجے ہوئوں میں سے ہیں ]
ترکیب : ” تِلْکَ “ مبتدأ ہے اور مرکب اضافی ” اٰیٰتُ اللّٰہِ “ اس کی خبر ہے۔ ” نَتْلُوْھَا “ میں ” ھَا “ کی ضمیر مفعولی ” اٰیٰت “ کے لیے ہے۔