2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے

[ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اور تم لوگ نماز کو قائم کرو ] [ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ : اور پہنچاؤ زکاۃ کو ] [ وَمَا تُقَدِّمُوْا : اور جو تم لوگ آگے بھیجو گے ] لِاَنْفُسِكُمْ : اپنے آپ کے لیے ] [ مِّنْ خَيْرٍ : کوئی بھی بھلائی ] [ تَجِدُوْهُ : تو تم لوگ پاؤ گے اس کو ] [ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے پاس ] [ اِنَّ اللّٰهَ : ب یقینا اللہ ] [ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس کی جو تم لوگ کرتے ہو ] [ بَصِيْرٌ : ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ… بعینہٖ یہی عبارت جو دو جملوں پر مشتمل ہے سب سے پہلے البقرہ : 43 میں گزری ہے۔ اس کی اعرابی بحث کے لیے دیکھیے [ 2: 29: 2] میں جملہ نمبر 2 ۔ اس کے بعد یہی عبارت البقرہ : 83 میں بھی آئی تھی ‘ جس کے اعراب پر بات [ 2: 51: 2] میں جملہ نمبر 5 میں ہوئی تھی۔ F وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ [ وَ ] مستانفہ ہے۔ یہاں سے ایک الگ مضمون شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے اس سے پہلے عبارت کے آخر پر وقف مطلق (ط) ہے۔ [ مَا ] موصولہ شرطیہ ہے بمعنی ” جو کچھ بھی کہ “ جو یہاں اگلے فعل الشرط (تُقَدِموا) کا مفعول مقدم ہو کر محل نصب میں ہے۔ مبنی ہونے کی وجہ سے ” مَا “ میں ظاہراً کوئی علامت نصب نہیں ہے۔ [ تُقَدِّمُوْا ] فعل مضارع مجزوم (سیغہ جمع مذکر حاضر) ہے۔ جزم کی وجہ اس سے پہلے اسم الشرط جازم (مَا) کا آنا ہے اور اس (فعل الشرط) کی علامت جزم آخری نون (اعرابی) کا گر جانا ہے۔ اب اس کے واو الجمع میں ضمیر الفاعلین ” انتم “ شامل ہے۔ [ لِاَنْفُسِکم ] یہ مرکب جاری جو لام الجر (لِ ) + کم کا مرکب ہے اور جس میں انفسکم “ مرکب اضافی ہے اور ” انفس “ مجرور اور آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہے۔ علامت جر کسرہ (-ِ ) ہوگئی ہے۔ یہ پورا مرکب جاری (لِاَنفُسِکم) فعل ” تقدِّموا “ سے متعلق ہے اور [ مِن خَیْر ] جار (مِن)+ مجرور (خَیْرٍ ) مل کر اس فعل (تُقَدِّمُوا) کے مفعول مقدم (مَا) کی صفت یا تمیز ہے جس میں ” مِن “ تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے اور بیانیہ بھی۔ دیکھیے [ 2: 2: 1 (5)] یہاں تک کہ حصہ عبارت (وَ ما تقدِّموا لانفسِکم مِن خیرٍ ) کی سلیس و سادہ شکل (فعل فاعل مفعول کی عام ترتیب کے مطابق) ” وَ ما تقدِّموا من خیرٍ لانفُسِکم “ ہوتی۔ اب ” لِاَنفسُسِکم “ کی تقدیم سے اس میں ” اپنی ہی جانوں کے لیے : اپنے ہی لیے “ کا مفہوم ہے۔ [ تَجِدُوہُ ] کی آخری ” ہ “ تو ضمیر منصوب (مفعول) ہے اور ” تَجِدُوا “ (ضمیر مفعول کے بغیر واو الجمع کے بعد الف الوقایہ لکھنا ضروری ہوتا ہے) فعل مضارع مجزوم ہے۔ جزم کی وجہ جوابِ شرط میں آتا ہے اور علامت جزم آخری نون کا گرنا ہے (در اصل صیغہ مضارع ” تَجِدون “ تھا) اور واو الجمع میں ضمیر الفاعلین ” انتم “ موجود ہے۔ یہاں فعل ” وجَد یجِد “ صرف ایک مفعول کے ساتھ بمعنی ” پالینا : حاصل کرنا “ آیا ہے۔ [ عندَ اللّٰہِ ] میں ” عِنْدَ “ ظرف مکان مضاف (لہٰذا) منصوب ہے ‘ علامت نصب ” د “ کی فتحہ (-َ ) ہے اور اسم جلالت اس کا مضاف الیہ ہو کر مجرور ہے اور یہ مرکب ظرفی فعل ” تَجِدُوا “: سے متعلق ہے ‘ یعنی اس میں ” کہاں : کس جگہ پائو گے “ کا جواب ہے۔ G اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ … اس سے ملتا جلتا جملہ ” وَاللّٰہُ بصیرٌ بما یَعْمَلون “ : البقرہ : 96 میں گزرا ہے جس کے اعراب پر [ 2: 59: 2] کے جملہ نمبر 5 میں بات ہوچکی ہے۔ بہر حال یہاں جملہ [ اِنَّ ] حرف مشبہ بالفعل سے شروع ہوتا ہے اور اسم جلالت [ اللّٰہ ] اس ” اِنَّ “ کا اسم ہو کر منصوب ہے۔ [ بِمَا ] باء جارہ یہاں فعل (بصُر بِہ - کو دیکھنا) کے صلہ والی ہے اور ” مَا “ اسم موصول مجرور (بِالبَائ) ہے اور ” مَا “ مبنی ہے “ اس لیے اس میں ظاہراً کوئی علامت جر نہیں ہے۔ [ تعمَلُون ] فعل مضارع معروف صیغہ جمع مذکر حاضر ہے جس میں ضمیر فاعلین ” انتم “ شامل ہے اور یہ جملہ فعلیہ (فعل فاعل) ہو کر موصول ہے جس میں ضمیر عائد محذوف ہے ‘ یعنی در اصل ” تعمَلونَہٗ “ : تھا۔ اور یہ صلہ موصول (مَا تعمَلون) باء الجر کے ساتھ (بصورت ” بما تعمَلُون “ متعلق خبر مقدم ہے اور [ بَصِیرٌ] خبر ” اِنَّ “ (لہٰذا) مرفوع ہے جملے کی سادہ نثر ” اِن اللّٰہَ بصیرٌ بما تعملون “ بنتی ہے جس میں رعایت فاصلہ کی بناء پر متعلق خبر (بما تعملون) کو مقدم کردیا گیا ہے۔ خیال رہے فعل ” یبصُر بِ اور صفتِ مشبہ ” بصیرٌ بِ …“ دونوں کا مطلب تو ”… کو دیکھتا : دیکھنے والا “ بنتا ہے مگر صفت مشبہ میں دوام و استمرار کا مفہوم ہے جیسا کہ حصہ ” اللّغۃ “ میں بیان ہوا۔ 2: 66: 3 الرّسم بلحاظ رسم زیر مطالعہ قطعہ میں صرف چار لفظ قابل ذکر ہیں یعنی ” الکتٰب ‘ ایمَانُکم ‘ الصلٰوۃ اور الزکٰوۃ “ … ان میں سے ” ایمانکم “ کا رسم عثمانی مختلف فیہ ہے۔ باقی تین کا رسم متفق علیہ ہے۔ یہ چاروں الفاظ پہلے بھی گزر چکے ہیں … ” الکتٰب “ کے رسم کے لیے دیکھیے البقرہ : 2 [ 2: 1: 3] میں نمبر 2 ۔ ” ایمانکم “ کے لفظ ” ایمان “ کے رسم کے اختلاف کے لیے دیکھیے البقرہ : 93 [ 2: 57: 3] میں نمبر 6 ۔ ” الصلوۃ “ کے رسم پر بحث کے لیے دیکھیے البقرہ : 3 [ 2: 2: 3] میں نمبر 1 اور پھر ” الصلٰوۃ “ اور ” الزکٰوۃ “ دونوں کے رسم کے لیے دیکھیے البقرہ : 43 [ 2: 29: 3) میں نمبر 2 ۔ 2: 66: 4 الضبط اس قطعہ سے صرف بعض چیدہ الفاظ (مفرد و مرکب) کے ضبط بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔ اکثر الفاظ پہلے متعدد بار گزر چکے ہیں یا ان کے ضبط میں صرف حرکات کی شکل کا اختلاف ہے۔
Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو (یا عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو یہ ان کی تمنائیں ہیں ان سے کہو، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو

( وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا ( ( لَنْ یَّدْخُلَ : ہرگز داخل نہیں ہوگا) (الْجَنَّۃَ : جنت میں) (اِلاَّ مَنْ : سوائے اس کے جو) (کَانَ ھُوْدًا : یہودی ہو) (اَوْ نَصٰرٰی : یا عیسائی ہو) ( تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ : یہ ان کی آرزوئیں ہیں) ( قُلْ : (آپ ﷺ ) کہئے ! ) (ھَاتُوْا : تم لوگ دو ) (بُرْھَانَــکُمْ : اپنی روشن دلیل) (اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : اگر تم لوگ سچے ہو) ھـ ت و ھَتْوًا (ن) : کسی چیز کو توڑ کر روندنا۔ ھِتَائً (مفاعلہ) : دوسرے کی بات کو روندنا ‘ اپنی رائے دینا۔ ھَاتِ (ج ھَاتُوْا) : فعل امر ۔ تُو دے ‘ تُو لا ( آیت زیر مطالعہ) ب ر ھـ بَرَھًا (س) : جسم کا صحت مند ہونا ‘ صحت مند جلد کی طرح چمکدار ہونا۔ بُرْھَانٌ : فُعلانٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ انتہائی چمکدار ‘ انتہائی روشن۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ یہ لفظ زیادہ تر فیصلہ کن دلیل کے لئے آتا ہے۔ { یٰٓـاَ یُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمْ بُّرْھَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ } (المائدۃ :174)” اے لوگو ! آچکی ہے تمہارے پاس ایک انتہائی روشن دلیل تمہارے رب کی طرف سے “۔ نوٹ (1) ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی میں ” اَو “ تفصیل کے لئے ہے۔ یعنی یہودی اپنے لئے اور نصاریٰ اپنے لئے یہی بات کہتے تھے۔ نوٹ (2) اس آیت میں بُرْہَانٌ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تورات یا انجیل میں ایسی کوئی بات موجود ہے تو اسے سامنے لائو۔
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

دراصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے، نہ کسی اور کی حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اُس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں

(بَلـٰی : کیوں نہیں) (مَنْ اَسْلَمَ : جس نے تابع فرمان کیا) ( وَجْھَــہٗ : اپنے چہرے کو) (لِلّٰہِ : اللہ کے لئے) (وَ : اس حال میں کہ) (ھُوَ : وہ) (مُحْسِنٌ : بلا کم وکاست کام کرنے والا ہے) (فَــلَــــــــہٗ : تو اس کے لئے ہے) (اَجْرُ ہٗ : اس کا اجر ) (عِنْدَ رَبِّہٖ : اس کے رب کے پاس) (وَلَا خَوْفٌ : اور کوئی خوف نہیں ہے) (عَلَیْھِمْ : ان پر ) (وَلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ) (یَحْزَ نُوْنَ : پچھتاتے ہیں) و ج ھـ وَجَاھَۃً (ک) : بلند رتبہ ہونا ‘ باعزت ہونا۔ وَجِیْہٌ : فَعِیلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ہمیشہ بلند رتبہ ‘ باعزت۔ { اِسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ }(البقرۃ :45)” ان کا نام مسیح ابن مریم (ں) ہے ‘ بلند رتبہ ہوتے ہوئے دنیا اور آخرت میں “۔ وَجْہٌ (ج وُجُوْہٌ) : اسم ذات ہے اور مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) کسی چیز کا اشرف یا ابتدائی حصہ۔ { اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّھَارِ وَاکْفُرُوْا اٰخِرَہٗ } (آل عمران :72) ” تم لوگ ایمان لائو اس پر جو نازل کیا گیا ان پر جو ایمان لائے ‘ دن کے اشرف حصہ میں ( یعنی صبح کو) اور انکار کرو اس کے آخر میں ( یعنی شام ‘ کو) “ (2) چہرہ (کیونکہ یہ انسان کا اشرف اور ابتدائی حصہ ہے) { فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا ج } (یوسف :93) ” پس ڈالو اس کو میرے والد کے چہرے پر تو وہ ہوجائیں گے دیکھنے والے۔ “ { یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ} (آل عمران :176)” جس دن سفید (یعنی روشن) ہوجائیں گے کچھ چہرے اور سیاہ ہوجائیں گے کچھ چہرے “۔ (3) توجہ ‘ خوشنودی۔ { اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ } (الدہر :9)” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ہم کھلاتے ہیں تم لوگوں کو اللہ کی خوشنودی کے لئے۔ “ { اُقْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْہُ اَرْضًا یَّخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیْکُمْ } (یوسف :9)” تم لوگ قتل کرو یوسف (علیہ السلام) کو یا پھینک دو اس کو کسی زمین میں تو خالی (یعنی خالص) ہوجائے گی تمہارے لئے تمہارے والد کی توجہ۔ “ جِھَۃٌ (ج وِجْہَۃٌ) : اسم ذات ہے۔ توجہ کرنے کی سمت ۔ { وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا } (البقرۃ :148)” اور سب کے لئے توجہ کرنے کی کچھ سمتیں ہیں ‘ وہ پھیرنے والا (یعنی اپنے چہرے کو پھیرنے والا ) ہے اس کی طرف۔ “ تَوْجِیْھًا (تفعیل) : (1) کسی کا رُخ کسی جانب کرنا۔ (2) کسی کو کسی جانب بھیجنا۔ { اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ } (البقرۃ :79)” میں رُخ کرتا ہوں اپنے چہرے کا اس کی طرف جس نے بنایا آسمانوں اور زمین کو۔ “ { اَیْنَمَا یُوَجِّھْہُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ } (النحل :76)” جہاں کہیں وہ بھیجتا ہے اس کو تو وہ نہیں لاتا کوئی بھلائی۔ “ تَوَجُّھًا (تفعّل) : اپنا رُخ کسی جانب کرنا ‘ متوجہ ہونا ۔ { وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَآئَ مَدْیَنَ } (القصص :22)” اور جب وہ متوجہ ہوئے مدین کے سامنے۔ “ ترکیب : ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” اَسْلَمَ “ سے ” مُحْسِنٌ“ تک شرط ہے۔ ” فَلــَـــــــــــہٗ “ سے ” یَحْزَنُوْنَ “ تک جوابِ شرط ہے۔ اَسْلَمَ میں شامل ضمیر ” ھُوَ “ اس کا فاعل ہے ‘ جو کہ مَنْ کے لئے ہے۔ مرکب اضافی وَجْھـَــــــــہٗ اس کا مفعول ہے ‘ اس لئے اس کے مضاف وَجْہَ پر نصب آئی ہے۔ وَھُوَ مُحْسِنٌ کا ” واو “ حالیہ ہے۔ مرکب اضافی اَجْرُ ہٗ مبتدأ مؤخر ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے ‘ جو کہ ” ثَابِتٌ“ ہوسکتی ہے۔ فَلَـــــــــہٗ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ خَوْفٌ مبتدأ نکرہ ہے ‘ کیونکہ اصول بیان کیا گیا ہے ۔ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ مَوْجُوْدٌ ہوسکتی ہے۔ نوٹ (1) قرآن مجید کا یہ ایک خاص انداز ہے کہ اکثر وہ کسی چیز کے کسی جز وکا ذکر کر کے اس چیز کے کُل کو مراد لیتا ہے۔ نماز کے ذکر میں یہ انداز نسبتاً زیادہ واضح ہے۔ جیسے { قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْـلًا } (المزمل :2) ۔ اس میں نماز کے ایک رکن ” قیام “ کا ذکر کر کے نماز مراد لی گئی ہے۔ یا : { وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ } (البقرۃ :43) اس میں نماز کے ایک رکن ” رکوع “ کا ذکر کر کے نماز باجماعت مراد لی گئی ہے۔ اسی طرح آیت زیر مطالعہ میں وَجْــہَــــــہٗ سے صرف چہرہ مراد نہیں بلکہ پوری شخصیت مراد ہے۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

یہودی کہتے ہیں: عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں عیسائی کہتے ہیں: یہودیوں کے پاس کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں اور اسی قسم کے دعوے ان لوگوں کے بھی ہیں، جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں، ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا

(وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ : اور کہا یہود نے ) (لَیْسَتِ النَّصٰرٰی : نہیں ہیں عیسائی) ( عَلٰی شَیْ ئٍ : کسی چیز پر) (وَقَالَتِ النَّصٰرٰی : اور کہا عیسائیوں نے) (لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ : نہیں ہیں یہود) (عَلٰی شَیْ ئٍ : کسی چیز پر) (وَّ : اس حال میں کہ) (ھُمْ یَتْلُوْنَ : وہ لوگ پڑھتے ہیں) (الْکِتٰبَ : کتاب کو ) (کَذٰلِکَ : ایسے ہی) ( قَالَ : کہا) (الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جو) (لَا یَعْلَمُوْنَ : علم نہیں رکھتے) (مِثْلَ قَوْلِھِمْ : ان کے قول کی مانند) (فَاللّٰہُ : تو اللہ ) (یَحْکُمُ : فیصلہ کرے گا) (بَیْنَھُمْ : ان کے مابین) (یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن) (فِیْمَا : اس میں) (کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْن : وہ لوگ اختلاف کیا کرتے تھے جس میں) ترکیب : اَ لْــیَھُوْدُ اور اَلنَّصٰرٰی عاقل کی جمع مکسر ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ افعال کے مذکر اور مؤنث دونوں صیغے جائز ہیں۔ اس آیت میں قَالَتْ اور لَـیْسَتْ مؤنث کے صیغے آئے ہیں۔ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی اور لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ میں النَّصٰرٰی اور اَلْیَھُوْدُ دونوں لَیْسَتْ کا اسم ہیں ‘ ان کی خبر محذوف ہے جو کہ قَائِمًا ہوسکتی ہے ‘ جبکہ عَلٰی شَیْ ئٍ متعلق خبر ہے۔ وَھُمْ یَتْلُوْنَ کا ” وائو “ حالیہ ہے۔ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ کا مفعول ” قولاً “ محذوف ہے ‘ مرکب اضافی مِثْلَ قَوْلِھِمْ اس کی صفت ہے ‘ اس لئے مضاف مِثْلَ پر نصب آئی ہے۔ نوٹ (1) اس آیت میں اَلْکِتٰبَ سے مراد ہے توراۃ اور انجیل۔ چناچہ توراۃ اور انجیل پڑھنے والے علماء یہود اور علمائِ نصاریٰ کے قول کو نقل کرنے کے بعد ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایسی ہی بات وہ یہود اور نصاریٰ بھی کہتے ہیں جو علم نہیں رکھتے ‘ یعنی جاہل ہیں۔ اس طرح عالم اور جاہل برابر ہوگئے۔ یہاں زندگی کے ایک اہم اصول کی جانب ہماری راہنمائی کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ subjective thinking یعنی کسی آرزو سے مغلوب سوچ انسان کو عالم ‘ سے جاہل بنا دیتی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے علماء کرام کے لئے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اوراس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی، تو ڈرتے ہوئے جائیں ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم

( وَمَنْ : اور کون) (اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے) (مِمَّنْ : ان سے جو ) (مَّنَعَ : روکیں) ( مَسٰجِدَ اللّٰہِ : اللہ کی مسجدوں کو) (اَنْ یُّذْکَرَ : کہ یاد کیا جائے) (فِیْھَا : ان میں) (اسْمُہٗ : اس کے نام کو) (وَسَعٰی : اور کوشش کریں) (فِیْ خَرَابِھَا : ان کی ویرانی میں) (اُولٰئِکَ : یہ لوگ ہیں) (مَا کَانَ لَھُمْ : نہیں تھا جن کے لئے) (اَنْ یَّدْخُلُوْھَا : کہ وہ داخل ہوں ان میں) (اِلاَّ خَائِفِیْنَ : مگر خوف کرنے والے ہوتے ہوئے) (لَھُمْ فِی الدُّنْیَا : ان کے لئے دنیا میں ہے) (خِزْیٌ : ایک رسوائی) (وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ : اور ان کے لئے آخرت میں ہے) (عَذَابٌ عَظِیْمٌ : ایک عظیم عذاب) م ن ع مَنْعًا (ف) : (1) کِسی کو کسی کام سے روکنا۔ { مَا مَنَعَکَ اَ لاَّ تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ } (الاعراف :12)” کس چیز نے روکا تجھ کو کہ تو سجدہ نہ کرے جب میں نے حکم دیا تجھ کو “۔ (2) کسی چیز کو اپنے پاس روکنا ‘ کنجوسی کرنا۔ { وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۔ } (الماعون) ” اور اپنے پاس روکتے ہیں برتنے کی چیز کو “۔ (3) کسی کو نقصان پہنچانے سے روکنا ‘ کسی کو کسی سے بچانا۔ { اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَنَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْ مِنِیْنَط } (النسائ :141)” کیا ہم قابو یافتہ نہ تھے تم پر اور کیا ہم نے نہیں بچایا تم کو مؤمنوں سے ؟ “ مَانِعٌ (مؤنث مَانِعَۃٌ) : ( اسم الفاعل) : روکنے والا ‘ بچانے والا۔ { وَظَنُّوْا اَ نَّھُمْ مَّانِعَتُھُمْ حُصُوْنُــھُمْ مِّنَ اللّٰہِ }(الحشر :2)” اور انہوں نے گمان کیا کہ ان کو بچانے والے ہیں ان کے قلعے اللہ سے۔ “ مَمْنُوْعٌ (مؤنث مَمْنُوْعَۃٌ) : (اسم المفعول) : روکا ہوا۔ { وَفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ ۔ } (الواقعۃ)” اور کثیرپھل ‘ نہ کاٹے ہوئے اور نہ روکے ہوئے۔ “ مَنُوْعٌ : فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت روکنے والا۔ { وَاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا ۔ } (المعارج)” اور جب بھی پہنچے اس کو بھلائی تو بہت کنجوسی کرنے والا ہو۔ “ مَنَّاعٌ : فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت روکنے والا۔ { مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ } (ق :25)” بہت روکنے والا بھلائی سے “۔ س ع ی سَعْیًا (ف) : تیز تیز چلنا ‘ کسی کام کے لئے بھاگ دوڑ کرنا ‘ کوشش کرنا۔ { یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ }(الحدید :12) ” جس دن تو دیکھے گا مؤمنوں اور مؤمنات کو ‘ دوڑتا ہوگا ان کا نور ان کے سامنے ۔ “ { یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی } (النّٰزعٰت :35)” جس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے بھاگ دوڑ کی۔ “ اِسْعَ (فعل امر) : تُو دوڑ ‘ تُو کوشش کر۔ { اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ } (الجمعۃ :9)” جب بھی ندا دی جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو تم لوگ لپکو اللہ کے ذکر کی طرف۔ “ سَعْیٌ (اسم ذات) : بھاگ دوڑ ‘ کوشش۔ { فَــلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج } (الانبیائ :94)” تو کسی قسم کی کوئی ناشکری نہیں ہے اس کی کوشش کی “۔ خ ر ب خَرَبًا (س) : کسی جگہ کا اجاڑ ہونا ‘ ویران ہونا۔ خَرَابٌ (اسم ذات) : ویرانی ( آیت زیر مطالعہ) اِخْرَابًا (افعال) : اجاڑنا ‘ ویران کرنا۔{ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَھُمْ بِاَیْدِیْھِمْ } (الحشر :2) ” وہ لوگ اجاڑتے ہیں اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے۔ “ ترکیب : مَنْ استفہامیہ مبتدأ ہے اور اَظْلَمُاس کی خبر ہے۔ مِمَّنْ اصل میں مِنْ اور مَنْ ہے۔ یہ مَنْ جمع کے مفہوم میں ہے۔ لفظی رعایت کے تحت فعل مَنَعَ اور سَعٰی واحد آیا ہے۔ پھر معنوی رعایت کے تحت اسم اشارہ اُولٰئِکَ اور لَھُمْ میں ھُمْکی ضمیر جمع آئی ہے۔ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مرکب اضافی ہے اور مَنَعَ کا مفعول ہے۔ فِیْھَا میں ھاکی ضمیر مساجد کے لئے ہے جبکہ اِسْمُہٗ میں ہٗ کی ضمیر اللہ کے لئے ہے ۔ خَرَابِھَا میں بھی ھَا کی ضمیر مساجد کے لئے ہے ‘ خَائِفِیْنَحال ہے۔ خِزْیٌ اور عَذَابٌ عَظِیْمٌمبتدأ مؤخر نکرہ ہیں اور ان کی خبریں محذوف ہیں۔ ” اَنْ یُّذْکَرَ “ کی ترکیب میں تین احتمال ہیں : (1) ” مَسَاجِدَ اللّٰہِ “ سے بدل اشتمال ہونے کی بنا پر محلاً منصوب ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰہِ ذِکْرَ اسْمِہٖ فِیْھَا “۔ (2) مفعول لہٗ ہونے کی بنا پر محلاً منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” کَرَاھِیَۃً اَنْ یُذْکَرَ “۔ (3) محلاً مجرور ہے اور اس سے پہلے مِنْ حرفِ جر مقدر ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” مِنْ اَنْ یُذْکَرَ فِیْھَا “ اور مِنْ حرفِ جر متعلق ہے مَنَعَ سے۔ نوٹ (1) مفتی محمد شفیع نے ” معارف القرآن “ میں اس آیت سے حاصل ہونے والی راہنمائی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : 1) مسجد میں نماز اور ذکر سے روکنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب ناجائز اور حرام ہیں۔ 2) اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو مسجد میں جانے سے صراحتاً روکا جائے۔ 3) دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد میں شور کر کے یا اس کے قرب و جوار میں شور کر کے لوگوں کی نماز اور ذکر میں خلل ڈالے۔ یہ بھی ذکر اللہ سے روکنے میں داخل ہے۔ 4) تیسری صورت یہ ہے کہ جب لوگ اپنی نوافل یا تسبیح و تلاوت میں مصروف ہوں اس وقت مسجد میں کوئی بلند آواز سے تلاوت یا ذکر کرنے لگے تو یہ بھی نمازیوں کی نماز و تسبیح میں خلل ڈالنے اور ذکر اللہ کو روکنے کی صورت ہے۔ اس لئے یہ بھی ناجائز ہے۔ 5) جس وقت لوگ نماز و تسبیح میں مشغول ہوں اس وقت مسجد میں اپنے لئے سوال کرنا یا دینی کام کے لئے چندہ کرنا ممنوع ہے۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں جس طرف بھی تم رخ کرو گے، اسی طرف اللہ کا رخ ہے اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

(وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لئے ہی ہے ) ( الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ : مشرق اور مغرب) (فَاَیْنَمَا : پس جہاں کہیں بھی) (تُوَلُّوْا : تم لوگ پھیرو گے (اپنے چہروں کو) فَثَمَّ : تو وہیں) (وَجْہُ اللّٰہِ : اللہ کی توجہ ہے) ( اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ) (وَاسِعٌ عَلِیْمٌ: وسعت والا جاننے والا ہے) ش ر ق شَرْقًا (ن ۔ س) : روشنی کا پھوٹنا ‘ کسی چیز کا سرخ ہونا۔ مَشْرِقٌ (ج مَشَارِقُ ) : مَفْعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے ‘ یعنی روشن یا سرخ ہونے کی جگہ یا سمت۔ اصطلاحاً سورج نکلنے کی سمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ { لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ } (البقرۃ :177) ” نیکی یہی نہیں ہے کہ تم لوگ پھیر دو اپنے چہروں کو مشرق اور مغرب کی طرف “۔ { وَرَبُّ الْمَشَارِقِ } (الصّٰفّٰت :5)” اور تمام مشرقوں کا ربّ ۔ “ شَرْقِیٌّ : (اسم نسبت ہے) : مشرق والا ‘ مشرقی۔ { لَا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ } (النور :35) ” نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے “۔ اِشْرَاقًا (افعال) : کسی چیز سے کسی چیز کا روشن یا سرخ ہونا۔ { وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّھَا } (الروم :69)” اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے۔ “ اَلْاِشْرَاقُ : یہ باب افعال کا مصدر ہے۔ اصطلاحاً اس کا مطلب ہے سورج سے زمین کا روشن ہونا یا روشن ہونے کا وقت جب سورج سوا نیزا بلند ہوجائے ‘ یعنی طلوع آفتاب کے 20 سے 25 منٹ بعد۔ { یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ } (ص :18)” وہ سب تسبیح کرتے ہیں عشاء اور اشراق میں۔ “ مُشْرِقٌ (اسم الفاعل) : روشن ہونے والا۔ اصطلاحاً اس کا مطلب ہے سورج نکلتے ہی صبح کا وقت۔ { فَاَ تْبَعُوْھُمْ مُّشْرِقِیْنَ } (الشعرائ :60) ” تو انہوں نے پیچھا کیا ان کا سورج نکلتے ہی “۔ غ ر ب غَرْبًِا (ن) : دور چلے جانا ‘ دوری کی وجہ سے چھپ جانا ‘ غروب ہونا۔ { وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ } (الکہف :17)” اور جب وہ (یعنی سورج ) غروب ہوتا ہے ‘ کترا جاتا ہے ان سے بائیں جانب “ ۔ غَرَبًا (س) : سیاہ رنگ والا ہونا (سیاہی اصل رنگ کو چھپا دیتی ہے) غُرُوْبٌ : یہ باب نَصَرَ کے مصدر غَرْبٌ کی جمع ہے۔ { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا ح } (طٰہٰ :130)” اور آپ تسبیح کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔ “ مَغْرِبٌ (جمع مَغَارِبُ ) : مَفعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے۔ غروب ہونے کی سمت یا وقت۔ مادہ ” ش ر ق “ میں ” البقرۃ “ کی آیت 177 دیکھئے۔ نیز : { فَلَا اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ }(المعارج :40)” پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی “۔ غَرْبِیٌّ : اسم نسبت ہے۔ مغرب والا ‘ مغربی۔ مادہ ” ش ر ق “ میں ” النور “ کی آیت 35 دیکھیں۔ غُرَابٌ : اسم جنس ہے۔ کوّا (کیونکہ وہ سیاہ ہوتا ہے) { فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا } (المائدۃ :31) ” تو بھیجا اللہ نے ایک کوا “ ۔ غِرْبِیْبٌ (جمع غَرَابِیْبُ ) : صفت ہے۔ انتہائی سیاہ ‘ بھجنگ۔ { وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ}(فاطر :27)” اور پہاڑوں میں سفید راستے ہیں ‘ مختلف سرخی ہے ان کے رنگوں کی ‘ اور کچھ بھجنگ سیاہ ہیں “ ۔ ث م م ثَمًّا (ن): کسی چیز کو درست کرنا۔ ثُمَّ : پھر ‘ تب ‘ اس کے بعد۔ حرف عطف ہے جو کلام کی ترتیب کو درست رکھنے کے لئے آتا ہے۔ { ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا }(المائدۃ :93) ” پھر انہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے ‘ اس کے بعد پھر انہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور بلاکم وکاست نیکی کی “۔ ثَمَّ : اشارہ بعید کے طور پر آتا ہے ۔ وہیں ‘ اسی جگہ ۔ { وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا } (الدھر :20)” جب بھی تو دیکھے گا تو وہیں تو دیکھے گا ہمیشگی والی آسودگی “۔ و س ع سَعَۃً وَسِعَۃً ( س ‘ ح) : کشادہ ہونا (لازم) ‘ کشادہ کرنا (متعدی) ۔ { وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ئٍ ط } ” اور میری رحمت کشادہ ہوئی ہر چیز پر۔ “ سَعَۃٌ : اسم ذات بھی ہے۔ کشادگی ‘ وسعت ۔ { لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖط } (الطلاق :7) ” چاہیے کہ خرچ کرے کشادگی والا اپنی کشادگی میں سے “۔ وُسْعٌ : اسم ذات ہے۔ وسعت ‘ اہلیت۔ { لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَاط }(البقرۃ :286) ” اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی جان کو مگر اس کی اہلیت کو “ ۔ وَاسِعٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ کشادہ کرنے والا۔ { ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ج وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ } (المائدۃ)” یہ اللہ کا فضل ہے ‘ وہ دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے ‘ اور اللہ کشادہ کرنے والا جاننے والا ہے “۔ وَاسِعَۃٌ : یہ وَاسِعٌ کا مؤنث ہے۔ زیادہ تر صفت کے طور پر آتا ہے۔ کشادہ ہونے والی یعنی کشادہ۔ { وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ط }(الروم :10) ” اور اللہ کی زمین کشادہ ہے “۔ اِیْسَاعًا (افعال) : رزق میں کشادہ ہونا ‘ کسی جگہ کو کشادہ کرنا۔ مُوْسِعٌ (اسم الفاعل) : رزق میں کشادہ ہونے والا ‘ جگہ کو کشادہ کرنے والا۔ { عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُ ہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُ ہٗ } (البقرۃ :236)” رزق میں کشادہ ہونے والے پر ہے اس کے مقدور بھر اور تنگدست پر ہے اس کے مقدور بھر “۔ { وَالسَّمَآئَ بَِنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۔ }(الذریت)” اور آسمان ‘ ہم نے بنایا اس کو (اپنے) ہاتھوں سے اور بیشک ہم کشادہ کرنے والے ہیں “۔ ترکیب : اَلْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ مبتدأ مؤخر ہیں ‘ خبر محذوف ہے اور قائم مقام خبر کو تاکید کے لئے مقدم کیا گیا ہے۔ اَیْنَمَا ‘ تُوَلُّوْا کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ کلمہ شرط ہے۔ تُوَلُّوْا شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ جواب شرط ہے۔ مضارع مجزوم تُوَلُّوْا کا فاعل اس میں شامل اَنْتُمْ کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول وُجُوْھَکُمْ محذوف ہے۔ نوٹ (1) یہ آیت تحویلِ قبلہ کے حکم سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے اسے تحویلِ قبلہ کے حکم کی پیش بندی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اور اس پہلو سے آیت میں مشرق اور مغرب کے الفاظ کی اہمیت کو سمجھ لیں۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی گئی۔ اس وقت مدینہ کے نمازیوں کا رُخ شمال کی طرف ہوتا تھا ‘ کیونکہ بیت المقدس مدینہ کے شمال میں ہے۔ تحویلِ قبلہ کے بعد اب مدینہ کے نمازیوں کا رُخ جنوب کی طرف ہوتا ہے ‘ کیونکہ خانۂ کعبہ مدینہ کے جنوب میں ہے۔ اب نوٹ کریں کہ اس آیت میں شمال اور جنوب کے بجائے مشرق اور مغرب کی بات کی گئی ہے۔ اس طرح گویا چاروں سمتوں کا احاطہ کر کے فرمایا :” فَاَیْنَمَا “ جہاں کہیں بھی ‘ یعنی جس طرف بھی رُخ کرو اللہ کی توجہ ہر طرف ہے۔ نوٹ (2) اس میں یہ حقیقت واضح کردی کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ کسی سمت میں مقید نہیں ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرلینے کے بعد عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص کو آزادی دے دی جائے کہ جس طرف اس کا جی چاہے رُخ کر کے نماز پڑھ لے۔ دوسری یہ کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود کوئی ایک سمت مقرر کی جائے۔ اسلام میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ اس لحاظ سے بڑا عجیب ہے کہ نہ تو افراد کو آزادی ہے کہ جدھر جی چاہے رُخ کر کے نماز پڑھیں اور نہ ہی کسی ایک سمت کا تعین ہے۔ البتہ ایک رُخ کا تعین کیا گیا ہے ۔ ایک قبلہ مقرر کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت کا ہر فرد پابند ہے کہ وہ اسی طرف رُخ کر کے نماز پڑھے۔ اس طرح امت میں تنظیم اور اتحاد کی عملی تربیت کا اہتمام ہوگیا۔ اب ساری دنیا کے مسلمان جب قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے ہیں تو نہ صرف شمال و جنوب اور مشرق و مغرب بلکہ ان کے درمیان کے تمام زاویۂ سمت کا خود بخود احاطہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اللہ پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں، سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں

( وَقَالُوا : اور انہوں نے کہا ) (اتَّخَذَ : بنایا ) ( اللّٰہُ : اللہ نے ) (وَلَدًا : ایک بیٹا) (سُبْحَانَـــــہٗ : اس کی پاکیزگی ہے) (بَلْ لَّـــــہٗ : بلکہ اس کی ملکیت ہے) (مَا : جو کچھ) (فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں میں اور زمین میں ہے) (کُلٌّ لَّـــــہٗ : سب اس کی ) (قٰنِتُوْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ہیں) و ل د وَلَدَ (ض) لِدَۃً ۔ وِلادۃً ۔ وِلَادًا (ض) : بچہ جننا۔ { وَلَا یَلِدُوْا اِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا ۔ } (نوح) ” اور وہ لوگ نہیں جنیں گے مگر گنہگار ناشکرے کو “۔ وَالِدٌمؤنث وَالِدَۃٌ (اسم الفاعل): پیدائش کا باعث ہونے والا۔ والد ‘ باپ۔ { وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ ز } (لقمان :33) ” تم لوگ ڈرو ایک ایسے دن سے جب کام نہیں آئے گا کوئی باپ اپنی اولاد کے “۔ { لَا تُضَارَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِھَا } (البقرۃ :233) ” ضرر نہ پہنچایا جائے کسی ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے ۔ “ وَالِدَانِ (وَالِدٌکاتثنیہ) : اصطلاحاً ماں باپ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔{ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط } (لقمان :14)” کہ تو شکر کر میرا اور اپنے ماں باپ کا “۔ مَوْلُوْدٌ (اسم المفعول) : پیدا کیا ہوا ‘ یعنی بچہ۔ { وَلَا مَوْلُوْدٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ } (لقمان :33)” اور نہ کوئی بچہ کام آنے والا ہے اپنے باپ کے “۔ وَلَدٌ ج اَوْلَادٌ (اسم ذات) : بچہ یا بچی ‘ لیکن زیادہ تر عرف میں بیٹے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ” وَلَدٌ “ کا لفظ واحد ‘ جمع ‘ مذکر ‘ مؤنث ‘ سب کے لئے آتا ہے اور اس کی جمع اَوْلَادٌ ‘ وِِلْدَۃٌ ‘ اِلْدَۃٌ اور وُلْدٌ بھی آتی ہے۔ وَلِیْدٌ ج وِلْدَانٌ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ کم عمر لڑکا ۔ { وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَج } (الدھر :19) ” اور پھریں گے ان کے گرد ہمیشگی دیئے ہوئے کم عمر لڑکے۔ “ ق ن ت قَنَتَ (ن) قُنُوْتًا : اطاعت کرنا ‘ فرمانبرداری کرنا۔ { وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ } (الاحزاب :31) ” اور جو فرمانبرداری کرے گی تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ “ اُقْنُتْ (فعل امر) : تو اطاعت کر ‘ فرمانبرداری کر ۔ { یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ } (آل ‘ عمران :43) ” اے مریم ! آپ فرمانبرداری کریں اپنے رب کی۔ “ قَانِتٌ (اسم الفاعل) : فرمانبرداری کرنے والا ۔ { اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَائَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّقَائِمًا } (الزمر :9) ” یا وہ جو فرمانبرداری کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرنے والا اور قیام کرنے والا ہوتے ہوئے۔ “ ترکیب : ” اِتَّخَذَ “ فعل ” اَللّٰہُ “ فاعل اور ” وَلَدًا “ مفعول ‘ یہ جملہ فعلیہ ” قَالُوْا “ کا مقولہ ہے ‘ جبکہ ” سُبْحٰـنَـــــہٗ “ جملہ معترضہ ہے۔ مفعول مطلق ہے فعل محذوف کا۔ ” بَلْ “ حرفِ عطف و اِضراب مقولہ کی تردید کے لئے آیا ہے۔ ” مَا “ موصولہ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر ” مَوْجُوْدٌ“ محذوف ہے ‘ جبکہ ” فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “ اور ” لَـــــــــہٗ “ متعلق خبر ہیں۔ ” لَـــــــــہٗ “ کا لام ‘ لامِ تملیک ہے۔ ” کُلٌّ“ مبتدأ نکرہ ہے۔ لما فیہ من معنی العموم۔ ” قَانِتُوْنَ “ خبر اور ” لَـــــــــہٗ “ متعلق خبر ہیں۔ ” کُلٌّ “ ہمیشہ مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے ‘ اس کا مضاف الیہ محذوف ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے :” کُلُّ اَحَدٍ مِّنْھُمْ “۔ یا ” کُلُّھُمْ “ مضاف الیہ کو حذف کر کے اس کے عوض میں ” کُلٌّ“ کے اوپر تنوین آگئی ۔ اس کو ” تنوین عوض “ کہتے ہیں۔ نوٹ (1) فعل ” اِتَّخَذَ “ دو مفعول کا تقاضا کرتا ہے کہ کس کو بنایا اور کیا بنایا ؟ اس آیت میں مفعول اوّل (کس کو بنایا) محذوف ہے اور صرف مفعول ثانی (کیا بنایا) مذکور ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس طرح سے اس نوعیت کے تمام عقائد کی تردیدہو گئی ہے۔ اگر مفعول اوّل مذکور ہوتا تو صرف مذکورہ عقیدے کی تردید ہوتی۔ نوٹ (2) اولاد کی ضرورت صاحب اولاد کی ذات کے کسی نقص کی دلیل ہوتی ہے۔ مثلاً صاحب اولاد کی ذات کا فانی ہونا ‘ تاکہ اولاد کی شکل میں اس کی ذات کا تسلسل برقرار رہے اور کوئی نام لینے والا ہو۔ یا صاحب اولاد کے کسی کام کا نامکمل رہ جانا ‘ تاکہ اولاد اس کے کام کو آگے بڑھائے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ جملہ معترضہ ” سُبْحٰـنَــــــہٗ “ سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نوعیت کے نقص سے پاک ہے۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے

(بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا ایجاد کرنے والا ہے) (وَاِذَا : اور جب بھی ) (قَضٰی : وہ فیصلہ کرتا ہے ) (اَمْرًا : کسی کام کا ) (فَاِنَّمَا : تو بس) (یَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ) (لَــــــــہٗ : اس کو ) (کُنْ : تو ہوجا) (فَیَــــکُوْنُ : پس وہ ہوجاتا ہے ) ب د ع بَدَعَ (ف) بَدْعًا : نمونے کے بغیر کوئی چیز بنانا ‘ ایجاد کرنا۔ اس لفظ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے تو اس کا مفہوم ہوتا ہے کہ نمونہ ‘ مادہ یا اوزار وغیرہ کے بغیر ایجاد کرنا۔ بَدِیْعٌ (فَعِیلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ) : ایجاد کرنے والا۔ (آیت زیر مطالعہ) بِدْعٌ (صفت) : نیا ‘ انوکھا ۔ { مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } (الاحقاف :9) ” میں کوئی انوکھا نہیں ہوں رسولوں میں سے۔ “ اِبْتِدَاعًا (باب افتعال سے) : اہتمام سے کوئی نئی چیز ایجاد کرنا۔ { وَرَھْبَانِیَّۃَنِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ } (الحدید :27) ” اور رہبانیت ! انہوں نے ایجاد کیا اس کو ‘ ہم نے واجب نہیں کیا جسے ان پر۔ “ ق ض ی قَضٰی (ض) قَضَائً : (1) کسی چیز کو مضبوطی سے بنانا ۔ { فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ } (حم ‘ السجدۃ :12) ” تو اس نے مضبوطی سے بنایا ان کو سات آسمان۔ “ (2) کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہوجانا۔ { فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ } (البقرۃ :200) ” پس جب تم لوگ فارغ ہو جائو اپنے عبادت کے طریقوں سے تو یاد کرو اللہ کو۔ “ (3) کسی بات یا کام کا فیصلہ کرنا۔ { وَقَضٰی رَبُّکَ اَ لاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیَّاہُ } (بنی اسرائیل :23) ” اور فیصلہ کیا تیرے رب نے کہ تم لوگ عبادت مت کرو مگر اسی کی۔ “ اِقْضِ (فعل امر) : تو فیصلہ کر ۔ { فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍط اِنَّمَا تَقْضِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ۔ } (طٰہٰ ) ” پس تو فیصلہ کر جو تو فیصلہ کرنے والا ہے۔ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تو فیصلہ کرے گا اس دنیا کی زندگی کا۔ “ قَاضٍ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل): فیصلہ کرنے والا۔ (ملاحظہ کریں مذکورہ بالا آیت) مَقْضِیٌّ (اسم المفعول) : فیصلہ کیا ہوا۔ { وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ۔ } (مریم) ” اور وہ تھا فیصلہ کیا ہوا کام۔ “ ترکیب : مرکب اضافی ” بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “ خبر ہے۔ اس کا مبتدأ ” ھُوَ “ محذوف ہے۔ ” اِذَا “ کلمۂ شرط ‘ ظرف اور ” قَضٰی اَمْرًا “ اِذَا کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے محلاً مجرور۔ قَضٰی اَمْرًا شرط اور ” فَاِنَّمَا “ میں فاء رابطہ ہے اور ” اِنَّمَا “ میں ” مَا “ کا فہ زائدہ ہے۔ ” کُنْ “ کَانَ تامہ سے فعل امر ہے۔ ” فَیَکُوْنُ “ میں ” فائ “ استیناف اور یَکُوْنُ فعل مضارع ہے کَانَ تامہ سے اور معنی ہے فھو یحدث ۔ ” فَاِنَّمَا “ سے ” فَـــیَــکُوْنُ “ تک جوابِ شرط ہے۔ ” فَــیَـــکُوْن “ کو جمہور نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے ” یَقُوْلُ “ پر عطف کرتے ہوئے یا اس سے پہلے ” ھُوَ “ ضمیر مبتدأ محذوف کی خبر مان کر۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” فَھُوَ یَکُوْنُ “۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ایسی ہی باتیں اِن سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے اِن سب (اگلے پچھلے گمراہوں) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں یقین لانے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں

(وَقَالَ : اور کہا ) ( الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جو) (لَا یَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے) ( لَوْ لَا : کیوں نہیں) (یُکَلِّمُنَا : کلام کرتا ہم سے) ( اللّٰہُ : اللہ) ( اَوْ : یا (کیوں نہیں) تَاْتِیْنَا : آتی ہمارے پاس) ( اٰیَۃٌ : کوئی نشانی) (کَذٰلِکَ : اس کی طرح) ( قَالَ : کہا) (الَّذِیْنَ : انہوں نے جو ) ( مِنْ قَبْلِھِمْ : ان سے پہلے تھے ) ( مِّثْلَ قَوْلِھِمْ : ان کے قول کی مانند) (تَشَابَھَتْ : باہم ملتے جلتے ہوئے) (قُلُوْبُھُمْ : ان کے دل ) (قَدْ بَیَّنَّا : ہم واضح کرچکے ہیں ) (الْاٰیٰتِ : نشانیوں کو ) (لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ) (یُّوْقِنُوْنَ : یقین کرتے ہیں) ترکیب : ” یُکَلِّمُ “ فعل ضمیر مفعولی ” نَا “ اس کا مفعول اور ” اَللّٰہُ “ فاعل ہے۔ اسی طرح ” تَاْتِیْ “ فعل ‘ ضمیر مفعولی ” نَا “ اس کا مفعول اور ” اٰیَۃٌ“ فاعل ہے۔ ” کَذٰلِکَ قَالَ “ کا فاعل ” الَّذِیْنَ “ ہے اور اس کا مفعول ” قَوْلاً “ محذوف ہے۔ ” مِثْلَ “ اس کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” بَـــــیَّــــنَّا “ کا فاعل اس میں شامل ” نَحْنُ “ کی ضمیر ہے۔ ” ا لْاٰیٰتِ “ اس کا مفعول ہے۔ ” لِقَوْمٍ “ متعلق فعل ہے اور ” قَوْمٍ “ نکرہ موصوفہ ہے ‘ اس کی صفت جملہ فعلیہ ” یُوْقِنُوْنَ “ ہے۔ نوٹ (1) ” لَوْ لَا “ اور ” لَوْمَا “ جب فعل پر آتے ہیں تو زیادہ تر مضارع پر آتے ہیں۔ اس وقت ” لَوْ “ شرطیہ نہیں ہوتا بلکہ تمنی ہوتا ہے ‘ اس لئے غیر عامل ہوتا ہے ‘ یعنی مضارع کو مجزوم نہیں کرتا اور منفی ہونے کی وجہ سے ” کاش ایسا ہوتا “ کے بجائے ” کیوں نہ ایسا ہوا “ کے معانی دیتا ہے۔ اس کے بعد اگر فعل مستقبل آئے تو بمعنی تخضیض اور اگر ماضی آئے تو بمعنی توبیخ ہوتا ہے۔ نوٹ (2) ” اَوْ تَاْتِیْنَا اٰیَۃٌ“ میں آیت کا لفظ قرآن مجید کی آیات کے لئے نہیں ہے ‘ بلکہ کھلی نشانی کے لئے ہے اور ” مِنْ قَبْلِھِمْ “ میں عمومیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے اس نوعیت کے جتنے مطالبے کئے جا چکے ہیں ‘ ان سب کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی ایک بہت واضح مثال بنو اسرائیل کا حضرت موسیٰں سے یہ مطالبہ تھا کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں ‘ اس وقت تک ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے۔ (البقرۃ :55) نوٹ (3) ” لِقَوْمٍ “ کی صفت ” یُوْقِنُوْنَ “ آئی ہے۔ یہ دراصل علم الیقین کی بات ہے۔ اس دنیا میں انسان کا اصل امتحان علم کی بنیاد پر یقین کرنا یعنی ایمان لانا ہے۔ اور صرف علم الیقین پر ہی اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کو دیکھ لینے کے بعد یقین کرنے یعنی ایمان لانے میں کوئی کمال نہیں ہے۔ اس لئے عین الیقین پر کوئی اجر و ثواب بھی نہیں ہے۔ اب یہ سمجھ لیں کہ علم الیقین کے لئے objective thinking شرط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پسند و ناپسند اور معاشرتی رواج کو ایک طرف رکھتے ہوئے صحیح بات اور حقیقت کو معلوم کرنے کی خواہش رکھے اور اس کے لئے کوشش کرے۔ یہ خواہش اور تڑپ جتنی زیادہ ہوگی ‘ انسان اتنا ہی علم سے استفادہ کر کے حقائق کا یقین حاصل کرے گا۔ اس کے برعکس subjective thinking میں انسان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ کہیں سے اور کسی طرح سے کوئی ایسی بات ملے جس سے اس کی پسند و ناپسند کی تصدیق و تائید ہوتی ہو۔ ایسا انسان کتنی بھی معلومات جمع کرلے ‘ علم حاصل کرلے اور تحقیق کرلے ‘ اس کے دل و دماغ کھلی کھلی نشانیوں کو بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس حوالہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس طرح قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے تقویٰ شرط ہے (البقرۃ :2) اسی طرح ہمارے اپنے وجود اور اس کائنات میں بکھری ہوئی بیشمار نشانیوں (حٰمٓ السجدۃ :53) سے عرفان حاصل کرنے کے لئے objective thinking شرط ہے۔ ع فیضانِ محبت عام تو ہے ‘ عرفانِ محبت عام نہیں !
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

(اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہوگی کہ) ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا ور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو

(اِنَّا : بیشک ہم نے ) (اَرْسَلْنٰکَ : بھیجا آپ ﷺ کو ) (بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ) (بَشِیْرًا : خوشخبری دینے والا ہوتے ہوئے) ( وَّنَذِیْرًا : اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے) ( وَلَا تُسْئَلُ : اور آپ سے نہیں پوچھا جائے گا) ( عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِِ : دوزخ والوں کے بارے میں) ترکیب : ” اِنَّا “ دراصل ” اِنَّ نَا “ ہے۔ ضمیر منصوبہ ’ نَا ‘ ’ اِنَّ ‘ کا اسم ہے۔ ” اَرْسَلْنٰکَ “ سے ” نَذِیْرًا “ تک جملہ فعلیہ ” اِنَّ “ کی خبر ہے۔ ” اَرْسَلْنَا “ فعل ہے ‘ اس میں شامل ” نَا “ ضمیر متصل مرفوع کی ضمیر اس کا فاعل ہے اور ضمیر مفعولی ” کَ “ مفعول ہے۔ ” بالحق “ جار ومجرور یا تو ضمیر مفعولی ” کَ “ سے حال واقع ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہیں اور تقدیر عبارت یوں ہے : ” اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ وَمَعَکَ الْحَقُّ “ اور یا فاعل سے حال واقع ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے :” اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ وَمَعَنَا الْحَقُّ “ جبکہ ” بَشِیْرًا “ اور ” نَذِیْرًا “ ضمیرمفعولی ” کَ “ کا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ” بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا “ عطف ہو کر مقام نصب میں ہے ۔ وَلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ مرفوع اور بضم التاء پڑھنے کی صورت میں حال ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے :” اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّغَیْرَمَسْئُوْلٍ عَنْ اَصْحَابِ الْجَحِیْمِ “۔ مضارع مجہول ہے اور اس میں شامل ” اَنْتَ “ کی ضمیر نائب الفاعل ہے۔ نیز بصیغہ نہی وَلَا تُسْئَلْ پڑھنا بھی جائز ہے ‘ اس صورت میں جملہ مستأنفہ ہوگا۔ نوٹ (1) مطلب یہ ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ حضور ﷺ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ہم نے حق دے کر آپ کو بھیجا تھا ‘ لوگوں کو خوشخبری دینا اور خبردار کرنا آپ کی ذمہ داری تھی ‘ تو پھر یہ اتنے لوگ جہنمی کیوں قرار پائے۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ کسی کوشش کے نتیجے کے بارے میں قیامت کے دن انسان کو جوابدہی نہیں کرنی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نتیجہ پر انسان کا اختیار نہیں ہے۔ کسی کوشش کا نتیجہ نکلے گا یا نہیں ‘ کب نکلے گا ‘ کتنا نکلے گا ‘ یہ سارے فیصلے اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضۂ قدرت میں رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کوئی اختیار اس نے انسان کو delegate نہیں کیا ہے ۔ اس لئے نتیجہ سے انسان بری ٔالذمہ ہے۔ البتہ کوشش کرنے یا نہ کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کوشش کی quantity اور quality دونوں پر انسان کو کنٹرول دیا گیا ہے۔ اس لئے قیامت میں اس کی کوششوں کے متعلق انسان سے پوچھا جائے گا اور اس کی اسے جواب دہی کرنی ہوگی۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو صاف کہہ دوکہ راستہ بس وہی ہے، جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگراُس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آ چکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے

(وَلَنْ تَرْضٰی : اور ہرگز راضی نہیں ہوں گے ) (عَنْکَ : آپ ﷺ سے ) ( الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی : یہودی اور نہ ہی عیسائی) (حَتّٰی : یہاں تک کہ ) (تَتَّبِعَ : آپ ﷺ پیروی کریں) (مِلَّتَھُمْ : ان کے عقیدوں کی) (قُلْ : آپ ﷺ کہئے ) (اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ : بیشک اللہ کی ہدایت) (ھُوَ الْھُدٰی : ہی کل ہدایت ہے ) (وَلَئِنِ : اور اگر) (اتَّبَعْتَ : آپ ﷺ نے پیروی کی ) (اَھْوَآئَ ھُمْ : ان کی خواہشات کی) (بَعْدَ الَّذِیْ : اس کے بعد جو ) (جَآئَ کَ : آیا آپ کے پاس) (مِنَ الْعِلْمِ : العلم میں سے ) (مَالَکَ : تو نہیں ہے آپ ﷺ کے لئے) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف ) سے) (مِنْ وَّلِیٍّ : کوئی بھی کارساز) (وَّلاَ نَصِیْرٍ : اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی مددگار) رض ی رَضِیَ (س) رِضًی اور مَرْضَاۃً : (1) کسی سے راضی ہونا۔ اس معنی میں عموماً ” عَنْ “ کا صلہ آتا ہے۔ { رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط } (المائدۃ :119) ” اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ لوگ راضی ہوئے اس سے۔ “ (2) کسی چیز کو پسند کرنا۔ اس معنی میں ” بِ “ کا صلہ آتا ہے یا مفعول بنفسہ آتا ہے۔ { اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج } (التوبۃ :38) ” کیا تم لوگوں نے پسند کیا دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں۔ “ { وَرَضِیْتُ لَــکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط } (المائدۃ :3) ” اور میں نے پسند کیا تمہارے لئے اسلام کو بطور دین۔ “ رَاضِیَۃً (فَاعِلٌ مؤنث فَاعِلَۃٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : راضی ہونے والا ‘ پسند کرنے والا۔ { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۔ لِّسَعْیِھَا رَاضِیَۃٌ ۔ } (الغاشیۃ) ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہونے والے ہیں ‘ اپنی کوشش پر راضی ہونے والے ہیں۔ “ مَرْضِیَّۃٌ : ناقص کے اسم المفعول کے وزن مَرْضِیٌّ کا مؤنث ہے۔ مطلب ہے پسند کیا ہوا ‘ پسندیدہ۔ { یٰـاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ } (الفجر) ” اے مطمئن جان ! تو واپس چل اپنے رب کی طرف ‘ پسند کرنے والی ہوتے ہوئے ‘ پسندیدہ ہوتے ہوئے۔ “ رَضِیٌّ : فَعِیْلٌ کے وزن پر اسم المفعول کے معنی میں صفت ہے۔ { وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا ۔ } (مریم) ” اور تو بنا اس کو ‘ اے میرے ربّ ‘ پسندیدہ۔ “ رِضْوَانٌ (اسم ذات): خوشنودی ۔ { وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ } (التوبۃ :73) ” اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ “ اِرْضَائٌ (باب افعال) : کسی کو راضی کرنا۔ { یُرْضُوْنَــــکُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ } (التوبۃ :8) ” وہ راضی کرتے ہیں تم لوگوں کو اپنے مُنہ سے (یعنی اپنی باتوں سے) ۔ “ تَرَاضٍ : باب تفاعل کا مصدر ہے۔ باہم ایک دوسرے سے راضی ہونا۔ { اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْقف } (النسائ :29) ” سوائے اس کے کہ وہ ہو کوئی سودا تم لوگوں کے باہم راضی ہونے سے۔ “ اِرْتِضَائٌ (اِفتعال ) : اہتمام سے پسند کرنا۔ { وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلاَّ لِمَنِ ارْتَضٰی } (الانبیائ :28) ” اور وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر جس کے لئے وہ پسند کرے گا۔ “ مِلَّۃ امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ دین کی طرح ” مِلَّۃ “ بھی اس دستور الٰہی کا نام ہے جو اللہ اپنے بندوں کے لئے جاری فرماتا ہے ‘ تاکہ اس پر چل کر انسان قرب خداوندی حاصل کرسکے اور یہ دستور انبیاء کی وساطت سے بندوں تک پہنچتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں لفظ ملت کا اطلاق کئی جگہ باطل مذاہب پر بھی ہوا ہے جو خود انسانوں کا تراشیدہ تھا ‘ دستور الٰہی پر مبنی نہ تھا۔ جیسا کہ حضرت یوسف نے جیل خانہ کے دونوں قیدیوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :{ اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ } اسی طرح سورة ” ص “ میں اللہ عزوجل نے قریش کا قول نقل فرمایا ہے : { مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ } (آیت 7) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ ” ابن عباس ‘ کلبی اور مقاتل کے نزدیک ملۃٌ آخرۃٌ سے مراد نصرانیت ہے ‘ اس لئے کہ نصرانیت توحید سے خالی ہوچکی تھی (اور تثلیث پر مبنی تھی) مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مذہب قریش مراد ہے “۔ مِلۃٌ آخرۃٌ سے مذہب قریش مراد ہو یا تثلیث پر مبنی نصرانیت ‘ دونوں دستور الٰہی پر مبنی نہیں تھیں۔ اس صورت میں راغب کا یہ کہنا کہ ملت دین ہی کی طرح دستور الٰہی کا نام ہے ‘ بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے ۔ شاید راغب کی مراد یہ ہو کہ ” مِلَّۃ “ اصل میں تو دستور الٰہی ہی کا نام ہے جو انبیاء کی معرفت بھیجا جاتا ہے ‘ لیکن اگر انسانی دماغ کبھی اس میں خرد برد کرلیں تب بھی بطور مجاز اس پر لفظ ملت کا اطلاق ہوجاتا ہے کیونکہ خرد برد کرنے والوں کے دعویٰ میں تو شکستہ اور بریدہ دین یا دستور بھی اللہ کا بھیجا ہوا دین ہوتا ہے۔ واللہ اعلم ! امام راغب نے ملۃ اور دین کا فرق ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” لفظ ’ ملت ‘ کی اضافت صرف انبیاء کی طرف ہوتی ہے کسی غیر نبی کی طرف نہیں ‘ اسی طرح اس کی اضافت اللہ کی طرف بھی نہیں ہوتی۔ چناچہ ” مِلّۃُ اللّٰہ “ اور ” مِلۃُ زیدٍ “ یا ” مِلَّتِی “ نہیں کہا جاتا ۔ ہاں ’ دین ‘ کا استعمال عام ہے “۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ لفظ ” ملت “ کی انبیاء کے ساتھ تخصیص بھی امام راغب کے اسی نظریہ پر مبنی ہے کہ ملت صرف دستور الٰہی کا نام ہے جو انبیاء کی معرفت بھیجا جاتا ہے۔ کیونکہ غیر انبیاء کی طرف اضافت خود سورة یوسف کی آیت { اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ } میں موجود ہے۔ امام راغب نے لفظ ” ملت “ کا استعمالی ماخذ أمللت الکتاب کو قرار دیا ہے ‘ اگر کوئی تحریر آپ کسی سے لکھوائیں تو کہیں گے أمللت الکتاب ۔ تو گویا اللہ کی جاری کردہ یا تحریر کردہ چیز ” ملۃ “ ہوئی۔ ترکیب : واواستیناف اور ” لَــنْ “ حرفِ نفی ‘ نصب اور استقبال ہے۔ ” تَرْضٰی “ فعل مضارع منصوب بِلَنْ ہے۔ ” عَنْکَ “ جار ومجرور متعلق ” تَرْضٰی “ ” الْیَھُوْدُ “ فاعل ” وَلَا النَّصَارٰی “ اَ لْیَھُوْدُپر عطف ہے۔ ” حَتّٰی “ حرف غایت و جر ” تَـــــتَّبِعَ “ فعل مضارع منصوب بان مضمرۃ وجوبا بعد حتی ” مِلَّتَھُمْ “ مفعول بہ اور فاعل تَتَّبِعَ میں اَنْتَ ضمیر مقدر۔ ” قُلْ “ فعل امر مبنی علی السکون والجملۃ مستانفۃ ۔ ” اِنَّ “ حرف مشبہ بالفعل ” ھُدَی اللّٰہِ “ اس کا اسم۔” ھُوَ “ مبتدا ” الْھُدٰی “ اس کی خبر ‘ یہ جملہ اسمیہ ” اِنَّ “ کی خبر ” وَلَئِنْ “ واو استیناف ۔ ” لام “ موطئہ للقسم ” اِنْ “ حرف شرط جازم ” اِتَّبَعْتَ “ فعل ماضی محلاً مجزوم تاء ضمیر بارز فاعل ” اَھْوَائَ ھُمْ “ مفعول بہ۔ جواب شرط محذوف ہے جس پر جواب قسم دلالت کرتا ہے۔ ” بَعْدَ “ ظرف۔ ” اَلَّذِیْ “ اسم موصول بعد کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے محلاً مجرور ‘ اور یہ متعلق ہے ” اِتَّبَعْتَ “ کے ” جَائَ کَ “ صلہ ہے موصول کا۔ ” مِنَ الْعِلْمِ “ لفظاً مجرور محلاً منصوب ہے جَائَ کے خبر فاعل سے حال ہونے کی بناء پر۔ تقدیر عبارت یوں ہے ” جَائَ کَ کَاَنَّ مِنَ الْعِلْمِ ۔ ” مَالَکَ “ ما نافیہ ” لَکَ “ جار مجرور متعلق لمحذوف خبر مقدم ” مِنَ اللّٰہِ “ جار مجرور متعلق ولی کے۔ ” مِنْ وَّلِیٍّ “ من جر زائد ولی مجرور لفظاً مرفوع محلا عَلٰی انہ مبتدا مؤخر۔ ” وَلَا نَصِیْرٍ “ عطف علی ” ولی “۔ نوٹ (1) لفظ ” ھُدًی “ مبنی کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت میں ” ھُدَی اللّٰہِ “ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کرلیں کہ مبنی کی طرح ہونے کے باوجود جب یہ مضاف بنتا ہے تو اس کی تنوین ختم ہوجاتی ہے۔ نوٹ (2) پنجابی کی ایک کہاوت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کہنا بیٹی سے لیکن سنانا بہو کو۔ اس آیت میں خطاب کا انداز یہی ہے۔ بظاہر خطاب حضور ﷺ سے ہے لیکن درحقیقت ہم لوگوں کے کان کھولے گئے ہیں اور خبردار کیا گیا ہے۔ نوٹ (3) اس آیت میں استعمال ہونے والے الفاظ ” مِلَّتَھُمْ “ اور ” اَھْوَائَ ھُمْ “ نیز ” ھُدَی اللّٰہ “ اور ” اِلْعِلْمِ “ کے مابین جو ربط و ترتیب ہے اس پر اگر تھوڑا سا غور کریں تو آیت کے بین السطور پیغام کو آسانی سے سمجھاجا سکتا ہے۔ وہ پیغام یہ ہے کہ یہود ‘ عیسائی یا دنیا کے دیگر عقائد و نظریات کی بنیاد دراصل ان عقائد کے حامل افراد کی خواہشات پر رکھی گئی ہے۔ ایسے نظریات میں علم کا جو عنصر شامل ہوتا ہے ‘ اسے analyse کرنے کے بجائے rationalise کیا جاتا ہے یعنی subjective thinking سے کام لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رُسل کے ذریعہ جو ہدایت بھیجی ہے اس کی بنیاد اصل اور حقیقی علم پر ہے اور وہ انسانی خواہشات سے پاک ہے۔ کسی استثناء کے بغیر دنیا کے تمام نظریات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ کسی چیز کا حقیقی علم اس کے ڈیزائنر اور مینوفیکچرر کے پاس ہی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے تقریباً تمام نظریات اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی نام سے جانتے ہیں اور اسے اس کائنات کا مصور اور خالق تسلیم کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرلینے کے بعد اس کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کو ترجیح دینا بالکل غیر منطقی حرکت ہے۔ اس صورت میں انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو ان کی خواہشات کے حوالے کردیا جائے۔