Ayah 2:148( وَلِکُلٍّ : اور سب کے لیے ) ( وِّجْھَۃٌ : توجہ کرنے کی کچھ سمتیں ہیں ) ( ھُوَ : وہ ) ( مُوَلِّیْھَا : پھیرنے والا ہے (خود کو) اس کی طرف ) ( فَاسْتَـبِقُوا : پس تم لوگ آگے نکلنے کا مقابلہ کرو ) ( الْخَیْرٰتِ : بھلائیوں میں ) ( اَیـْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ) (تَــکُوْنُوْا : تم لوگ ہو گے ) ( یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ : اللہ لے آئے گا تم لوگوں کو ) ( جَمِیْعًا : سب کے سب کو ) ( اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ) ( عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ : ہر چیز پر ) ( قَدِیْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے )
وَجَہَ (ض) وَجْھًا فُلَانًا : مُنہ پر مارنا اور رد کرنا۔ لوگوں کے نزدیک وجاہت میں بڑھ جانا۔
وَجُہَ (ک) وَجَاھَۃً : وجیہہ ہونا ‘ صاحب وجاہت ہونا۔
وَجَّہَ اِلٰی فُلَانٍ : کسی کے پاس جانا ۔ ہٗ اِلٰی فُلَانٍ : کسی کے پاس بھیجنا۔ ہُ الاَمِیرُ : باعزت بنانا۔ وَجَّہَ الشَّیْ ئَ : کسی طرف پھیردینا۔ { وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ } (الانعام :79) ” میں نے اپنا چہرہ پھیرلیا اس ہستی کی طرف جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا “۔
تَوَجَّہَ اِلَــیْہِ : متوجہ ہونا اور قصد کرنا۔
اَلْوَجْہُ : چہرہ ۔ ج اَوْجُہٌ وَوُجُوْہٌ وَاُجُوْہٌ۔
” وِجْھَـۃٌ“ مصدر بمعنی قبلہ یا اسم مکان ہے۔ یعنی وہ سمت جس کی طرف رُخ کیا جائے۔ اوّل صورت میں ” واو “ کا موجود ہونا غیر قیاسی ہے۔ قیاس کا تقاضا ہے کہ اس کو حذف کردیا جائے ‘ لیکن صرف اصل پر تنبیہہ کرنے کے لیے باقی رکھا گیا ہے ۔ دوسری صورت میں ” واو “ کا بقاقیاسی ہے ‘ مراد ہر دو صورتوں میں وہ سمت ہے جس کی طرف رُخ کیا جائے۔
س ب ق
سَبَقَ (ض) سَبْقًا : تیز چلنا ‘ آگے نکلنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے : (1) کسی بات کا آگے نکلنا ‘ یعنی بات کا طے ہوجانا ‘ فیصلہ ہوجانا۔ { وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” اور آگے نکل چکا ہے ہمارا فرمان (یعنی ہمارا فیصلہ ہوچکا ہے ) ہمارے بھیجے ہوئے بندوں (یعنی رسولوں) کے لیے۔ “ (2) کسی کی پکڑ سے آگے نکلنا ‘ یعنی بھاگ نکلنا۔ { وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْاط } (الانفال :59) ” اور ہرگز گمان نہ کریں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ وہ لوگ بھاگ نکلے۔ “ (3) کسی کام میں آگے نکلنا ‘ یعنی پہل کرنا ‘ سبقت کرنا۔ { لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَا اِلَیْہِط } (الاحقاف :11) ” اگر وہ ہوتابہتر تو وہ لوگ ہم پر سبقت نہ کرتے اس کی طرف۔ “ (4) کسی کی بات سے آگے نکلنا ‘ یعنی حکم عدولی کرنا ‘ نافرمانی کرنا۔ { لاَ یَسْبِقُوْنَــہٗ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ ۔ } (الانبیائ) ” وہ لوگ نافرمانی نہیں کرتے اس کی بات میں اور وہ لوگ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ “
سَابِقٌ (اسم الفاعل) : آگے نکلنے والا۔ { وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِط } (یسٓ:40) ” اور نہ رات دن کے آگے نکلنے والی ہے۔ “
مَسْبُوْقٌ (اسم المفعول) : جس کی گرفت سے نکلا گیا ‘ یعنی بےبس کیا ہوا ‘ عاجز کیا ہوا۔ { وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ } (الواقعۃ) ” اور ہم عاجز کیے ہوئے نہیں ہیں۔ “
سَابَقَ (مفاعلہ) مُسَابَقَۃً : دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا ‘ لپکنا۔
سَابِقْ (فعل امر) : تو آگے نکل ‘ تو لپک ۔ { سَابِقُوْا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ } (الحدید :21) ” تم لوگ لپکو اپنے رب سے مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف۔ “
اِسْتَـبَقَ (افتعال) اِسْتِبَاقًا : اہتمام سے آگے نکلنا ‘ یعنی آگے نکلنے کا مقابلہ کرنا ‘ دوڑ لگانا۔ { اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا } (یوسف :17) ” بیشک ہم گئے کہ ہم دوڑ لگاتے ہیں اور ہم نے چھوڑا یوسف (ں) کو اپنے سامان کے پاس۔ “
ترکیب : اس میں ” واو “ استیناف ہے۔ ” وِجْھَۃٌ“ مبتدأ نکرہ ہے۔ اس کی خبر ” مَوْجُوْدٌ“ محذوف ہے۔ ” لِکُلٍّ “ متعلق خبر تھا جو اَب قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” ھُوَ “ مبتدأ اور ” مُوَلِّیْھَا “ اس کی خبر ہے۔ ” مُوَلِّیْھَا “ میں اسم الفاعل ” مُوَلٍّ “ آیا ہے۔ مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی تو ” مُوَلِّیْ “ ہوا۔ یہاں پر اسم الفاعل فعل کا کام کر رہا ہے جو دو مفعول کا تقاضا کرتا ہے۔ پورا جملہ اس طرح ہوتا : ” ھُوَ مُوَلٍّ نَفْسَہٗ اِلٰی تِلْکَ الْوِجْھَۃِ “۔ چونکہ دونوں مفعول ” نَفْسٌ“ اور ” وِجْھَۃٌ“ کی ضمیریں مضاف الیہ کے طور پر آئی ہیں اس لیے مفعول اوّل ” نَفْسٌ“ کی ضمیر کو محذوف کردیا گیا۔ یا تقدیر عبارت یوں ہے : ” لِکُلٍّ قِبْلَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا وِجْھَہٗ “۔ نیز یہ بھی احتمال ہے کہ ” ھُوَ “ ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہو۔ اس صورت میں تقدیر عبارت یوں ہوگی : ” اَللّٰہُ مُوَلِّیْھَا اِیَّاہُ “۔ ” فَاسْتَبِقُوْا “ فعل امر ہے۔ اس کا فاعل اس میں ضمیر مرفوع متصل واو ہے۔ ” اَلْخَیْرٰتِ “ اس کا مفعول ہے ‘ لیکن ” فَاسْتَبِقُوْا “ کو فعل لازم ہونے کی بنا پر مفعول کی ضرورت نہیں۔ اس کو پہلے حرفِ جر ” اِلٰی “ کے ذریعہ متعدی کیا گیا ۔ عبارت یوں ہے : ” فَاسْتَبِقُوْا اِلَی الْخَیْرٰتِ ‘ ‘ ۔ بعد میں ” اِلٰی “ کو حذف کردیا گیا اور ” اَلْخَیْرَاتِ “ کو منصوب کردیا گیا اور یہ منصوب علیٰ نزع الخافض ہے۔ ” اَیْنَمَا “ اسم شرط جازم منصوب علی الظرفیۃ المکانیۃ ہے۔ ” تَکُوْنُوْا “ فعل شرط مجزوم ” واو “ اس کا فاعل ” یَاْتِ “ جواب شرط فعل اور لفظ ” اللہ “ فاعل ” بِکُمْ “ جار مجرور متعلق ” یَاْتِ “ ” جَمِیْعًا “ حال ہے ” کُمْ “ ضمیر سے۔ { اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ} میں ” اِنَّ ‘ ‘ حرف مشبہ بالفعل ‘ لفظ ” اللہ “ اس کا اسم ” قَدِیْرٌ“ خبر اور ” عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ “ متعلق ” قَدِیْرٌ“ کے ہے۔ یہ جملہ اسمیہ تعلیلیہ ہے۔ ” لَا مَحْلَ لَھَا مِنَ الْاَعْرَابِ “ ۔ ” تَــکُوْنُوْا “ شرط ہونے کی وجہ سے اور ” یَاْتِ “ جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے حالت جزم میں ہیں۔
نوٹ (1) : اس آیت میں ہماری راہنمائی کی گئی ہے کہ ہر ایک نے اپنا اپنا قبلہ بنایا ہوا ہے اور وہ ادھر ہی رُخ کرے گا۔ اس لیے اپنے قبلہ کی برتری ثابت کرنے کے لیے بحث و مباحثہ میں وقت ضائع مت کرو ‘ کیونکہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ پس یہی وقت بھلائی کے کاموں میں صرف کرو اور اس میدان میں اپنے مدّمقابل سے آگے نکلنے کا مقابلہ کرو۔
Ayah 2:149(وَمِنْ حَیْثُ : اور جہاں سے ) (خَرَجْتَ : آپ ﷺ نکلیں) (فَوَلِّ : تو آپ ؐ پھیریں) (وَجْھَکَ : اپنے چہرے کو) (شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کی طرف) (وَاِنَّــہٗ : اور بیشک یہ) (لَلْحَقُّ : حق ہے ) (مِنْ رَّبِّکَ : آپ ﷺ کے رب کی جانب سے) (وَمَا اللّٰہُ : اور اللہ نہیں ہے ) (بِغَافِلٍ : غافل ) (عَمَّا : اس سے جو ) ( تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو)
ترکیب :” واو “ استیناف ” مِنْ “ حرف ِجر ” حَیْثُ “ مجرور۔ جار مجرور متعلق ” فَوَلِّ “ (متأخر) لیکن ” فَوَلِّ “ کو متعلق ماننے سے لازم آتا ہے اعمال ” مَا بَعْدَ الْفَائِ فِیْمَا قَبْلَھَا وَھُوَ مُمْتَنِعٌ فَالْاَوْلٰی تَعْلِیْقُھُمَا بِفِعْلٍ مَحْذُوْفٍ یُفَسِّرُہٗ فَوَلِّ اَیْ وَلِّ وَجْھَکَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ “ (خَرَجْتَ ) فعل و فاعل ‘ والجملۃ الفعلیۃ فی محل جر بالاضافۃ۔ ” فَوَلِّ “ فاء رابطہ ہے ‘ کیونکہ ” حَیْثُ “ میں معنی شرط کا موجود ہے۔ ” وَلِّ “ فعل امر ‘ اس میں ضمیر اس کا فاعل ” وَجْھَکَ “ مفعول بہ۔ ” شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “ ظرفِ مکان متعلق ” وَلِّ “ کے۔ ” وَاِنَّــہٗ “ میں ” واو “ عاطفہ یا حالیہ ” ہ ‘ ‘ ضمیر اس کا اسم ” لَلْحَقُّ “ میں لام مزحلقہ ” الْحَقُّ “ خبر ” مِنْ رَّبِّکَ “ جار مجرور متعلق محذوف ” کَائِنًا “ جو حال ہے ” الْحَقُّ “ سے۔
نوٹ (1) : آپ پڑھ چکے ہیں کہ لام تعریف پر جب لام جارّہ (لِ ) داخل ہوتا ہے تو لام تعریف کا ہمزۃ الوصل لکھنے میں گر جاتا ہے۔ جیسے ” لِلْمُتَّقِیْنَ “۔ اسی طرح سے لام تعریف پر جب لام تاکید (لَ ) داخل ہوتا ہے تب بھی ہمزۃ الوصل لکھنے میں گر جاتا ہے۔ اس حوالے سے نوٹ کریں کہ ” لَلْحَقُّ “ دراصل ” لَ الْحَقُّ “ تھا جو ” لَلْحَقُّ “ لکھا گیا ہے۔
Ayah 2:150(وَمِنْ حَیْثُ : اور جہاں سے ) (خَرَجْتَ : آپ ﷺ نکلیں) (فَوَلِّ : تو آپ ﷺ پھیریں) (وَجْھَکَ : اپنے چہرے کو) (شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کی طرف) (وَحَیْثُ مَا : اور جہاں کہیں بھی) (کُنْتُمْ : تم لوگ ہو) (فَوَلُّوْا : تو تم لوگ پھیرو) (وُجُوْھَکُمْ : اپنے چہروں کو) (شَطْرَہٗ : اس کی طرف) (لِئَلاَّ یَکُوْنَ : تاکہ نہ ہو) (لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے
عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) (حُجَّۃٌ : کوئی حجت) (اِلاَّ الَّذِیْنَ : سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے) (ظَلَمُوْا : ظلم کیا
مِنْھُمْ : ان میں سے) (فَلَا تَخْشَوْھُمْ : پس تم لوگ مرعوب مت ہو ان لوگوں سے) (وَاخْشَوْنِیْ : اور مرعوب ہو مجھ سے) (وَلِاُتِمَّ : اور تاکہ میں تمام کروں) (نِعْمَتِیْ : اپنی نعمت کو) (عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) (وَلَــعَلَّکُمْ : اور شاید کہ تم لوگ) (تَھْتَدُوْنَ : ہدایت پائو)
ترکیب : ” لِئَلاَّ “ میں لام تعلیل ” اَلَّا “ میں ” اَنْ “ ناصبہ اور ” لَا “ نافیہ ” یَکُوْنَ “ فعل ناقص ” لِلنَّاسِ “ جار مجرور متعلق خبر محذوف ” عَلَیْکُمْ “ جار مجرور متعلق ” قائمۃً ‘ ‘ محذوف جو حال ہے۔ ” عَلَیْکُمْ “ اگرچہ ” حُجَّۃٌ“ کی صفت ہے لیکن مقدم ہونے کی وجہ سے اس کو بجائے صفت کے حال بنادیا گیا ہے (کَمَا ھِیَ القَاعِدَۃُ ) ” حُجَّۃٌ“ اسم ہے ” یَکُوْنَ “ کا۔ ” اِلاَّ “ حرف استثناء ” الَّذِیْنَ “ موصول ” ظَلَمُوْا “ فعل ” واو “ فاعل ” مِنْھُمْ “ جار مجرور متعلق کَائِنِیْنَ حال ہے واو ضمیر سے۔ یہ صلہ ہے۔ موصول+صلہ مستثنیٰ ۔ مستثنیٰ منہ ” النَّاس “ ہے۔ ” فَلَا تَخْشَوْھُمْ “ میں الفاءھی الفصیحۃ ای اذا عرفتم ذالک ورسخت حقیقتہ فی نفوسکم۔ ” لاَ “ نَاھِیَۃ ” تَخْشَوْھُمْ “ میں ” تَخْشَوْا “ فعل ” واو “ ضمیر فاعل ” ھُمْ “ ضمیر مفعول۔ ” وَاخْشَوْنِیْ “ میں ” واو “ عاطفہ ” اخْشَوْا “ فعل+بافاعل ‘ ” ن “ وقایہ ” ی “ ضمیر مفعول بہ۔ ” وَلِاُتِمَّ “ میں ” واو “ عاطفہ ” لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ “ جملہ فعلیہ عطف ہے لِئَلَّایَکُوْنَ … پر۔
نوٹ (1) : تحویل قبلہ کا حکم یہودیوں پر بہت بھاری تھا۔ ان کی معزولی کے تابوت میں یہ آخری کیل تھا۔ اس لیے وہ اپنی تمام تر ذہانت اور فطانت کو بروئے کار لا کر ہر قسم کے اعتراضات کر رہے تھے اور وسوسہ اندازی کا کاروبار بھی پورے زور و شور سے جاری تھا۔ کچھ سادہ لوح صحابہ کرام ؓ کا اس طوفان سے متاثر ہوجانا ایک فطری بات تھی۔ ان کے اطمینانِ قلب کے لیے تحویل قبلہ کے حکم کی تکرار کی گئی ہے۔
نیز ” مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ “ کے ساتھ ” حَیْثُ مَا کُنْتُمْ “ کے الفاظ لا کر اس بات کو کھول دیا گیا کہ یہ حکم جو حضور ﷺ کو دیا گیا ہے وہی حکم پوری امت کے لیے بھی ہے۔ اُصول یہ ہے کہ جو حکم حضور ﷺ کو دیا گیا ہے وہی حکم پوری امت کے لیے بھی ہے ‘ لیکن تحویلِ قبلہ کے حکم کو اس اصول پر نہیں چھوڑا گیا تاکہ آگے چل کر تعیین قبلہ کے ضمن میں کوئی میں میخ نکالنے کی یا اگرچہ ‘ مگر چہ ‘ چنین کہ ‘ چناچہ کی دھونی رمانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ مثلاً کوئی ریسرچ سکالر یہ دور کی کوڑی لاسکتا تھا کہ چونکہ حضور ﷺ نے بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی ہے اور بیت اللہ کی طرف بھی ‘ اس لیے دونوں میں سے کسی طرف رُخ کرلیا جائے درست ہوگا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک دانشور دوست سے اس نکتہ پر میری بات ہوچکی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ہم لوگ اپنے ملّا پن سے باز آجائیں ‘ ذرا سی وسیع النظری کا مظاہرہ کریں تو عالمی امن میں انقلاب آجائے گا اور پاکستان کو ہونے والے فوائد کا شمار کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اس کی دلیل قاطع سورة البقرۃ کی آیت 143 ہے : { وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ… الی آخر الآیۃ }
بہرحال یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ تحویل قبلہ کے ضمن میں سورة البقرۃ کی آیت 142 سے اس آیت تک تکرار ‘ تاکید اور وضاحت کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس نوعیت کی حجت و تکرار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیے جائیں۔
نوٹ (2) : دوسروں کے نظریات اور طرز زندگی کو ترقی یافتہ سمجھنا جبکہ اسلامی نظریات اور طرز زندگی کو فرسودہ قرار دے کر موجودہ زمانے میں ناقابلِ عمل سمجھنا دراصل ایک ذہنی بیماری ہے جو عمل میں بھی سرایت کر جاتی ہے۔ اس قسم کی ذہنی مرعوبیت سے ‘ اس آیت میں ‘ بالکل دو ٹوک الفاظ میں منع فرمایا گیا ہے اور { فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ } کا یہی مطلب ہے ‘ کیونکہ یہ آیت صرف صحابہ کرام ؓ کے لیے ہی نہیں آئی تھی بلکہ ہمارے اور آپ کے لیے بھی آئی ہے۔
اس حکم کے ساتھ ہی ہمارے رب نے ایک وعدہ بھی کیا ہے کہ کوئی قوم جب کبھی بھی ” وَاخْشَوْنِیْ “ پر عمل کرے گی تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنی نعمت تمام کر دے گا۔ غور کریں کہ ” اُتِمُّ “ (میں تمام کرتا ہوں یا کروں گا) کہنے کے بجائے ” لِاُتِمَّ “ (تاکہ میں تمام کروں) فرمایا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ اتمام نعمت کا وعدہ ” وَاخْشَوْنِیْ “ کے حکم کے ساتھ مشروط ہے۔
میں نے اپنے دانشور دوست کے سامنے تصویر کا یہ رُخ رکھ کر انہیں دعوت دی کہ ہمارے دانشور لوگ اگر ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کر کے ” وَاخْشَوْنِیْ “ پر عمل پیرا ہونے پر آمادہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنی نعمت تمام کر دے گا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ہمارے دوست کم از کم ایک مرتبہ غور تو کرلیں کہ اس وقت پاکستان کو کتنے فوائد حاصل ہوں گے ‘ لیکن وہ اپنے قبلہ سے رُخ پھیرنے پر آمادہ نہ ہوئے اور ” ھُوَ مُوَلِّیْھَا “ کا عملی مظاہرہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اس کے ساتھ ہی اس آیت میں ” قِبْلَۃٌ“ کے بجائے ” وِجْھَۃٌ“ کا لفظ لانے کی حکمت بھی سمجھ میں آگئی۔ ہماری کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ ” وہ برا وقت “ آنے سے پہلے ہی ‘ محض اس کی دہشت سے ‘ ہمارے دوست ویزا لے کر کینیڈا چلے گئے۔ ” پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا “۔ یہ دراصل Brain Drain کا لطیف ترجمہ ہے۔ Drain کے لفظی معنی بیان کرنے سے ترجمہ کثیف ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:151(کَمَا : جیسا کہ ) (اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجا ) (فِیْکُمْ : تم لوگوں میں) (رَسُوْلًا : ایک ایسا رسول) (مِّنْکُمْ : تم لوگوں میں سے) (یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ : جو پڑھ کر سناتا ہے تم لوگوں کو) (اٰیٰتِنَا : ہماری آیات) (وَیُزَکِّیْکُمْ : اور جو تزکیہ کرتا ہے تم لوگوں کا) (وَیُعَلِّمُکُمُ : اور جو تعلیم دیتا ہے تم لوگوں کو) (الْکِتٰبَ : احکام کی ) (وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کی ) (وَیُعَلِّمُکُمْ : اور جو تعلیم دیتا ہے تم لوگوں کو) ( مَّا : اس کی جو ) ( لَمْ تَــکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے تھے)
” کَمَا “ میں ” کَ “ حرفِ جار ” ما “ مصدریہ ” اَرْسَلْنَا “ فعل فاعل ” فِیْکُمْ “ جار مجرور متعلق ” اَرْسَلْنَا “ ” رَسُوْلاً “ مفعول بہ ” مِنْکُمْ “ جار مجرور متعلق کائنًا صفت اوّل ” رَسُوْلاً “ کی۔ ” یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیَاتِنَا “ یہ جملہ فعلیہ صفت دوم ” وَیُزَکِّیْکُمْ “ صفت سوم۔ ” وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ “ صفت چہارم۔ ” وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ “ صفت پنجم۔ ” اَرْسَلْنَا “ فعل ‘ فاعل ‘ مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ب تاویل مصدر ہو کر مصدر محذوف ” ھِدَایَۃً “ کی صفت ہو کر محل نصب میں ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” لَعَلَّـکُمْ تَھْتَدُوْنَ ھِدَایَۃً کَاِرْسَالِنَا رَسُوْلًا مِّنْکُمْ “ ۔
نوٹ (1) : آیت زیر مطالعہ کی ابتدا لفظ ” کَمَا “ (جیسا کہ) سے ہوئی ہے۔ اس کا ربط گزشتہ آیت کے آخری حصے سے ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تاکہ میں تم لوگوں پر اپنی نعمت تمام کروں اور تاکہ تم لوگ ہدایت پائو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضور ﷺ کی بعثت انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا ایک احسانِ عظیم ہے اور انسانیت کی ہدایت کے لیے ہے اسی طرح تحویل قبلہ کا حکم بھی اللہ کا احسان ہے اور ہماری ہدایت کے لیے ہے۔
نوٹ (2) : اس آیت کا مفہوم گزشتہ آیت 129 میں واضح کردیا گیا ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر ذہن نشین کرلیا جائے کہ اسلام کے تجویز کردہ تزکیہ کا طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات کی تلاوت اس طرح کی جائے جیسا کہ ان کی تلاوت کا حق ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : { یَتْلُوْنَـہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ط } (البقرۃ :121) ۔ باقی طریقے دیگر مذاہب سے مستعار لے کر مسلمان کیے گئے ہیں۔ نظریات و عقائد کے تزکیہ کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا ممکن ہوتا ہے اور احکام کی حکمت عمل کے بعد سمجھی جاتی ہے۔
دنیاوی معاملات میں تو کسی کام کی حکمت سمجھنے کے بعد اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا درست طریقہ کار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مختلف طریقہ ہائے کار میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا ہمیں اختیار اور آزادی حاصل ہے ‘ یعنی ہمارے پاس Choice ہے ‘ لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے کے بعد اس کے احکام کے ضمن میں ہماری Choice ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے احکامِ الٰہی کے لیے یہی ترتیب درست ہے کہ پہلے ان پر عمل کیا جائے اور بعد میں ان کی حکمت سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
Ayah 2:152(فَاذْکُرُوْنِیْ : پس تم لوگ یاد کرو مجھ کو) (اَذْکُرْْکُمْ : تو میں یاد رکھوں گا تم لوگوں کو) (وَاشْکُرُوْا لِیْ : اور تم لوگ شکر ادا کرو میرا) ( وَلَا تَــکْفُرُوْنِ : اور تم لوگ ناشکری مت کرو میری)
ترکیب : ” فائ “ فصیحۃ ای اذا شئتم الاھتداء الی محجۃ الصواب فاذکرونی “ ۔ ” اذْکُرُوْنِیْ “ فعل امر مبنی علی حذف النون۔” واو “ فاعل ” ن “ وقایہ ” یائ “ ضمیر متکلم مفعول بہ۔ ” اَذْکُرْکُمْ “ فعل مضارع مجزوم جواب امر ہونے کی بنا پر۔ فاعل ” اَنَا “ ضمیر مستتر۔ ” کُمْ “ ضمیر مفعول بہ۔ ” وَاشْکُرُوْالِیْ “ عطف ہے ” اذْکُرُوْنِیْ “ پر۔ فعل ” شَکَرَ “ متعدی بلاواسطہ اور کبھی متعدی بواسطہ حرف الجر ہوتا ہے۔ ” لِیْ “ جار مجرور متعلق ” اشْکُرُوْا “ ۔ ” وَلَا تَکْفُرُونِ “ میں ” واو “ حرف عطف ” لاَ “ ناہیہ ” تَکْفُرُوْا “ فعل۔ ” واو “ ضمیر اس کا فاعل۔” ن “ وقایہ ” ی “ ضمیر متکلم مفعول بہ۔
نوٹ (1) : بہت عرصہ پہلے ایک کتابچہ ” ذکر اللہ “ پڑھا تھا جو مفتی محمد شفیع صاحب (رح) کی تحریر تھی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص زبان سے سبحان اللہ کی تکرار کر رہا ہے لیکن اس کا دماغ اور دل کہیں اور مصروف ہے۔ یہ شخص ان سے تو بہتر ہے جن کی زبان کسی قسم کی بدگوئی میں مصروف ہے ‘ لیکن اس کا یہ عمل ذکر اللہ نہیں ہے ‘ بلکہ ذکر کا ذریعہ ہے۔ دوسرا شخص زبان سے الحمد للہ کی تکرار کر رہا ہے ‘ اس کا ذہن بھی متوجہ ہے لیکن دل شکر کے جذبات سے خالی ہے۔ یہ پہلے شخص سے بہتر ہے ‘ لیکن یہ بھی ابھی ” ذریعۂ ذکر “ میں ہے۔ تیسرا شخص اپنے قلب و ذہن کی گہرائیوں سے پھوٹ بہنے والے جذبۂ شکر کے اظہار کے لیے زبان سے الحمد للہ کی تکرار کر رہا ہے۔ یہ سب سے بہتر ہے ‘ لیکن یہ بھی ابھی ذکر اللہ کی منزل تک نہیں پہنچا ہے۔ صحیح جذبات و کیفیات کے ساتھ اللہ کو یاد کرنے والے کلمات کی زبان سے تکرار کرنے کے نتیجے میں جب کسی کو معاملات کرتے وقت اللہ کے احکام یاد آنے لگیں اور وہ ان پر عمل کرے ‘ تو یہ ذکر
اللہ ہے۔ اس حوالے سے اب آپ ” فَاذْکُرُوْنِیْ “ کا مفہوم سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کی
کوشش کریں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اس نے اللہ کو یاد کیا ‘ اگرچہ اس کی نماز ‘ روزہ (نفلی) وغیرہ کم ہوں ۔ اور جس نے احکامِ خداوندی کی خلاف ورزی کی اس نے اللہ کو بھلا دیا ‘ اگرچہ اس کی نماز ‘ روزہ (نفلی) ‘ تسبیحات وغیرہ زیادہ ہوں۔ (معارف القرآن)
Ayah 2:153(یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ) (اسْتَعِیْنُوْا : تم لوگ مدد طلب کرو (اللہ کی) بِالصَّبْرِ : ثابت قدمی کے ذریعے ) (وَالصَّلٰوۃِ : اور نماز کے ذریعے) (اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ) (مَعَ الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم لوگوں کے ساتھ ہے)
ص ب ر
صَبَرَ (ض) صَبْرًا : مشکل اور ناموافق حالات میں عقل کے تقاضے پر قائم رہنا ‘ ثابت قدم رہنا ‘ برداشت کرنا۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّھُمْ ط } (الاحقاف :35) ” تو آپ ﷺ ثابت قدم رہیں جیسے کہ ثابت قدم رہے عزم والے رسولوں میں سے اور آپ ﷺ جلدی نہ کریں ان کے لیے (یعنی کافروں کے لیے عذاب کی جلدی نہ کریں) “ { وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ } (الشوریٰ ) ” اور بیشک جس نے برداشت کیا اور معاف کیا تو یقینا یہ حوصلے کے کاموں میں سے ہے۔ “
اِصْبِرْ (فعل امر) : تو ثابت قدم رہ ‘ تو برداشت کر۔ اس کے لیے سورة الاحقاف کی آیت 35 ملاحظہ کیجئے !
صَابِرٌ (اسم الفاعل) : ثابت قدم رہنے والا ‘ برداشت کرنے والا۔ { اِنْ یَّــکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ج } (الانفال :65) ” اگر ہوں تم میں بیس ثابت قدم رہنے والے ( جھیلنے والے ) تو وہ لوگ غالب ہوں گے دو سو پر۔ “
صَبَّارٌ: فَعَّالٌکے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ مراد ہے بہت زیادہ ثابت قدم رہنے والا ‘ بہت زیادہ جھیلنے اور برداشت کرنے والا۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ } (ابراہیم) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک بہت زیادہ ثابت قدم رہنے والے شکر گزار کے لیے۔ “
صَبْرٌ (اسم ذات) : ثابت قدمی ‘ برداشت۔{ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔ } (العصر) ” اور انہوں نے باہم تاکید کی حق کی اور باہم تاکید کی ثابت قدمی کی۔ “
صَابَرَ (مفاعلہ) مُصَابَرَۃً : کسی کے مقابلہ پر ثابت قدمی میں غالب آنے کی کوشش کرنا۔
صَابِرْ ج صَابِرُوْا (فعل امر) : ثابت قدمی میں غالب آئو یا غالب رہو۔ { یٰٓـــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا قف } (آل عمران :200) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم لوگ ثابت قدم رہو اور ثابت قدمی میں غالب رہو اور باہم رابطہ رکھو۔ “
اِصْطَبَرَ (افتعال) اِصْطِبَارًا : اہتمام سے ڈٹے رہنا۔
اِصْطَبِرْ (فعل امر) : اہتمام سے ڈٹے رہو۔{ وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا ط } (طٰہٰ :132) ” اور حکم دو اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود ڈٹے رہو اس (نماز) پر “۔
ترکیب : ” یٰٓـایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ میں ” یا “ حرفِ ندائ ” اَیُّ “ منادیٰ نکرہ معینہ مقصودہ مبنی علی الضم مبدل منہ ” ھَا “ حرفِ تنبیہہ۔ ” الَّذِیْنَ “ اسم موصول ” اٰمَنُوْا “ میں ” واو “ ضمیر بارز مرفوع متصل فاعل۔ فعل+فاعل جملہ فعلیہ ہوکر صلہ۔ موصول صلہ مل کر بدل۔ مبدل منہ اور بدل مل کر منادیٰ ۔ ندا اور منادیٰ مل کر مبتدأ۔ ” اِسْتَعِیْنُوْا “ فعل+فاعل ” بِالصَّبْرِ “ جار مجرور متعلق ” اِسْتَعِیْنُوْا “ ۔ ” وَالصَّلٰوۃِ “ میں ” واو “ حرفِ عطف ” الصَّلٰوۃِ “ معطوف بر ” الصَّبْرِ “۔” اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ “ میں ” اِنَّ “ حرف مشبہ بالفعل۔ لفظ ” اللہ “ اس کا اسم۔ ” مَعَ “ ظرف مکان مضاف ” الصّٰبِرِیْنَ “ مضاف الیہ۔ مضاف+ مضاف الیہ کا متعلق ” مَوْجُوْدٌ“ ہے جو خبر محذوف ہے۔ ” اِنَّ “ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ تعلیلیہ لامحل لھا من الاعراب۔ استعانت کے افعال کا مفعول ‘ یعنی جس کی مدد طلب کی جائے ‘ وہ بنفسہٖ آتا ہے اور جس چیز کے ذریعہ اس کی مدد حاصل کی جائے اس پر ” بِ “ کا صلہ آتا ہے۔ اس آیت میں ” اسْتَعِیْنُوْا “ کے ساتھ ” بِالصَّبْرِ “ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ ” اسْتَعِیْنُوْا “ کا مفعول محذوف ہے جو کہ اللہ ہے اور ” بِالصَّبْرِ “ متعلق فعل ہے۔ ” وَالصَّلٰوۃِ “ کی جربتا رہی ہے کہ یہ بھی ” بِ “ کے صلہ کے زیر اثر ہے۔ ” اِنَّ “ کا اسم منصوب ہوتا ہے اس لیے ” اِنَّ ھِیَ “ نہیں آسکتا ‘ کیونکہ ” ھِیَ “ ضمیر مرفوعہ ہے۔ چناچہ ” اِنَّ “ کے ساتھ ضمیر منصوبہ ” ھَا “ آئی ہے جو کہ صلوٰۃ کے لیے ہے۔
Ayah 2:154[ وَلَا تَقُوْلُوْا : اور تم لوگ مت کہو ] [ لِمَنْ : ان کے لیے جو ] [ یُّقْتَلُ : قتل کیے جاتے ہیں اور قتل ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں کیے جائیں گے ] [ اَمْوَاتٌ : (کہ وہ لوگ) مردہ ہیں ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَحْیَـآئٌ : (وہ لوگ) زندہ ہیں ] [ وَّلٰــکِنْ : اور لیکن ] [ لَّا تَشْعُرُوْنَ : تم لوگ شعور نہیں رکھتے اور نہ رکھو گے ]
ترکیب : ” وائو “ عاطفہ ” وَلَا تَقُوْلُوْا “ فعل نہی ‘ فاعل وائو ضمیر۔ ” لِمَنْ “ میں ” لام “ حرفِ جر ” مَنْ “ اسم موصول ” یُقْتَلُ “ فعل مضارع مجہول ۔ اس میں ضمیر ” ھُوَ “ راجع بسوئے ” مَنْ “ ” فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ “ جار و مجرور متعلق ” یُقْتَلُ “۔ فعل+نائب فاعل+متعلق جملہ فعلیہ ہو کر ” مَنْ “ کا صلہ۔ موصول صلہ مل کر مجرور لام حرف جار کا۔ جار مجرور مل کر متعلق ” لَا تَقُوْلُوْا “۔” اَمْوَاتٌ“ خبر مبتدا محذوف ” ھُمْ “۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہو کر مقولہ ” لَا تَقُوْلُوْا “ کا۔ فعل+ فاعل+مقولہ مل کر معطوف علیہ۔ ” بَلْ “ حرف اضراب وعطف۔ ” اَحْیَائٌ“ خبر مبتدا محذوف ” ھُمْ “۔” وائو “ حالیہ ” لٰـکِنْ “ مخففہ من المتعلقہ مہملہ ۔” لَا تَشْعُرُوْنَ “ فعل+فاعل جملہ فعلیہ ہو کر حال ” ھُمْ “ ضمیر مبتدا ہے۔
نوٹ (1) : شہداء کے بہت سے درجے ہیں۔ ان میں سب سے بلند درجہ ان لوگوں کا ہے جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بات سمجھ لیں کہ اس آیت میں جو ہدایت ہے وہ مقتول فی سبیل اللہ کے لیے ہے۔ جب معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ زندہ ہیں تو ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ (1) کہاں زندہ ہیں اور (2) ان کی زندگی کی کیفیت کیا ہے ؟ اس آیت میں پہلے سوال کا جواب نہیں ہے ‘ البتہ آگے چل کر سورة آل عمران کی آیت 169 میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ دوسرے سوال کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ ہم لوگ ان کی زندگی کا شعور حاصل نہیں کرسکتے۔
Ayah 2:155[ وَلَـنَبْلُوَنَّــکُمْ : اور ہم لازماً آزمائیں گے تم لوگوں کو ] [ بِشَیْ ئٍ : کسی چیز سے ] [ مِّنَ الْخَوْفِ : خوف میں سے ] [ وَالْجُوْعِ : اور بھوک میں سے ] [ وَنَقْصٍ : اور کچھ گھاٹے سے ] [ مِّنَ الْاَمْوَالِ : مالوں میں سے ] [ وَالْاَنْفُسِ : اور جانوں میں سے ] [ وَالثَّمَرٰتِ : اور پھلوں میں سے ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیں ] [ الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم رہنے والوں کو ]
ج و ع
جَاعَ (ن) جَوْعًا : بھوکا ہونا۔ { اِنَّ لَکَ اَلاَّ تَجُوْعَ فِیْھَا وَلَا تَعْرٰی ۔ } (طٰہٰ ) ” بیشک تیرے لیے ہے کہ تو بھوکا نہیں ہوگا اس میں اور نہ ننگا۔ “
جُوْعٌ (اسم ذات) : بھوک۔ { اَلَّذِیْ اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ 5} (قریش :4) ” جو کھانا دیتا ہے ان کو بھوک میں۔ “
ن ق ص
نَقَصَ (ن) نَقْصًا : کمی کرنا ‘ گھٹانا۔ { قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ 5} (قٓ:4) ” ہمیں علم ہے اس کا جو گھٹاتی ہے زمین ان میں سے۔ “
اُنْقُصْ (فعل امر) : تو کمی کر ‘ تو گھٹا۔ { اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا ۔ } (المزمل) ” یا آپ ﷺ گھٹائیں اس میں سے تھوڑا سا۔ “
مَنْقُوْصٌ (اسم المفعول) : کمی کیا ہوا ‘ گھٹایا ہوا۔ { وَاِنَّا لَمُوَفُّوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ ۔ } (ھود) ” اور بیشک ہم پورا پورا دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ بغیر کوئی کمی کیا ہوا۔ “
نَقْصٌ (اسم ذات) : کمی ‘ گھاٹا ۔ (آیت زیر مطالعہ)
ترکیب : ” وائو “ استیناف۔ ” لام “ موطئہ للقسم۔ ” نَبْلُوَنَّ “ فعل مضارع مبنی علی الفتح۔ اس کا فاعل ” نَحْنُ “ ضمیر مستتر وجوباً ” کُمْ “ ضمیر مفعول بہ۔ ” بِشَیْ ئٍ “ میں ” بِ ‘ ‘ حرف جار ” شَیْ ئٍ “ موصوف ” مِنَ الْخَوْفِ “ میں ” مِنْ “ حرفِ جار ” الْخَوْفِ “ معطوف علیہ ” وَالْجُوْعِ “ میں ” وائو “ حرفِ عطف ” الْجُوْعِ “ معطوف۔ معطوف علیہ اور معطوف مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر متعلق ” کَائِن “۔ ” کَائِن “ اپنے متعلق سے مل کر ” شَیْ ئٍ “ کی صفت۔ موصوف صفت مل کر معطوف علیہ ۔” وائو “ حرفِ عطف ” نَقْصٍ “ موصوف ” مِنَ الْاَمْوَالِ “ میں ” مِنْ “ حرفِ جار ” الْاَمْوَالِ “ معطوف علیہ ” وائو “ حرفِ عطف۔ ” الْاَنْفُسِ “ معطوف اول ” وائو “ حرفِ عطف ” الثَّمَرَاتِ “ معطوفِ ثانی۔ معطوف علیہ اپنے دونوں معطوفوں سے مل کر ” مِنْ “ حرف جار کا مجرور ۔ جار مجرور مل کر متعلق ” کَائِنٌ“۔ ” کَائِنٌ“ اپنے متعلق سے مل کر صفت ہے ” نَقْصٍ “ کی۔ ” نَقْصٍ “ اپنی صفت سے مل کر معطوف۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر باء حرف جار کا مجرور۔ جار مجرور متعلق ” نَبْلُوَنَّ “۔ ” نَبْلُوَنَّ “ فعل+فاعل+مفعول+متعلق جملہ فعلیہ ہو کر معطوف علیہ۔ ” وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ “ میں ” وائو “ حرفِ عطف ” بَشِّرْ “ فعل امر۔ اس کا فاعل ضمیر مستتر ” اَنْتَ “۔ ” الصَّابِرِیْنَ “ موصوف۔
نوٹ (1) : ” بِشَیْ ئٍ “ کا لفظی ترجمہ تو یہی بنتا ہے کہ ” کسی چیز سے “ لیکن محاورہ میں اس کا مفہوم ہے ” تھوڑا سا “ یا ” ذرا سا “۔ اس آیت میں یہ لفظ لا کر ہمیں بتادیا گیا ہے کہ کوئی آزمائش ہمیں کتنی بھی بڑی معلوم ہو ‘ لیکن دراصل وہ چھوٹی ہی ہوگی۔ ہم لوگوں کو اس کا تجربہ بھی ہے۔ جب کوئی آزمائش گزر جاتی ہے تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ اتنی بڑی آزمائش نہیں تھی جتنا ہم واویلا کر رہے تھے۔ اور جب کوئی نئی آزمائش آتی ہے تو ہم پچھلے تجربے کو بھول جاتے ہیں۔
نوٹ (2) : آزمائش کے ضمن میں پہلی بات یہ نوٹ کرلیں کہ یہ ہر انسان کی ضرورت ہے۔ اس نظام سے اللہ کی کوئی غرض نہیں اٹکی ہوئی ہے۔ اس لیے اس دنیا میں عابد و زاہد ‘ فاسق و فاجر ‘ مومن و کافر ‘ غرض ہر قسم کے انسان کو مختلف آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے جو مختلف قسم کے انسانوں کی مختلف ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ اس آیت کے سیاق وسباق میں نیکوکار اہل ایمان کی بات ہو رہی ہے۔ اس لیے اس مقام پر یہ بات سمجھ لیں کہ ایمان کی حالت میں عمل صالح کرنے والے لوگوں کی کون سی ضرورت ان آزمائشوں سے پوری ہوتی ہے۔
ہماری ایک کمزوری یہ ہے کہ ہم کو کتنا بھی انعام و اکرام دے دیا جائے ‘ عام طور پر ہم اس سے مطمئن نہیں ہوتے اور مزید کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ مطالبہ زبانی دعووں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ہماری دوسری کمزوری یہ ہے کہ اگر ہمارے مطالبے کے مطابق ہم کو دے دیا جائے تو ہم پھر بھی مطمئن نہیں ہوتے ‘ کیونکہ ہم دوسرے کی تھالی میں جھانکتے ہیں کہ اس کو اتنا کیوں ملا ؟ اور یہ بات طے ہے کہ میدان حشر میں ہماری یہ کمزوریاں ختم نہیں ہوں گی بلکہ زیادہ ہوجائیں گی۔
اس کا علاج یہی ہے کہ ہمارے بلند بانگ دعووں کا لپ اسٹک اور پائوڈر آزمائش کی کڑی دھوپ میں اتار دیا جائے اور ہر ایک کے دعوے کی حقیقت ریکارڈ پر آجائے۔ اس طرح نیکوکار اہل ایمان میدان حشر میں اطمینانِ قلب کی نعمت حاصل کریں گے۔
Ayah 2:156[ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [ اِذَا : جب بھی ] [ اَصَابَتْھُمْ : پہنچتی ہے ان کو ] [ مُّصِیْبَۃٌ : کوئی مصیبت ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اِنَّا : بیشک ہم ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ہیں ] [ وَاِنَّا : اور یقینا ہم ] [ اِلَــیْہِ : اس کی طرف ہی ] [ رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے ہیں ]
ترکیب : ” اَلَّذِیْنَ “ اسم موصول۔ ” اِذَا “ حرف شرط ” اَصَابَتْھُمْ “ میں ” ھُمْ “ ضمیر مفعول مقدم۔ ” مُصِیْبَۃٌ“ فاعل مؤخر۔ فعل+فاعل+مفعول جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ” قَالُوْا “ فعل ” وائو “ ضمیر بارز فاعل ” اِنَّا “ میں ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ” نَا “ ضمیر اسم۔ ” لِلّٰہِ “ جار مجرور متعلق بمحذوف جملہ اسمیہ معطوف علیہ ” وَاِنَّا “ میں ” وائو “ حرف عطف ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ” نَا “ ضمیر اس کا اسم ” رَاجِعُوْنَ “ خبر ” اِلَــیْہِ “ رَاجِعُوْنَسے متعلق ۔ یہ جملہ اسمیہ ہو کر معطوف۔ معطوف+معطوف علیہ مقولہ ” قَالُوْا “ کا ۔ ” قَالُوْا “ فعل+فاعل +مقولہ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جزا۔ شرط+جزا مل کر صلہ موصول ” الَّذِیْنَ “ کا ۔ موصول+صلہ صفت ” الصَّابِرِیْنَ “ کا۔ موصوف+صفت مفعول ” بَشِّرْ “ کا۔ ” بَشِّرْ “ فعل +فاعل +مفعول مل کر جملہ فعلیہ ہو کر عطف ہے ” وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ “ پر۔ ” لَـنَــبْلُوَنَّــکُمْ “ اپنے معطوف سے مل کر جواب قسم ہے فعل محذوف قسم کا۔ فعل قسم محذوف+جواب قسم جملہ قسمیہ ہے۔
Ayah 2:157[ اُولٰٓـئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [ عَلَیْھِمْ : جن پر ہیں ] [ صَلَوٰتٌ: عنایتیں ] [ مِّنْ رَّبِّھِمْ : ان کے رب (کی جانب) سے ] [ وَرَحْمَۃٌ: اور رحمت ] [ وَاُولٰٓـئِکَ : اور وہ لوگ ] [ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ : ہی ہدایت پانے والے ہیں ]
ترکیب : ” صلٰوۃ “ سے مراد ہے نماز ‘ دعا ‘ رحمت۔ قرآن مجید میں جہاں بھی لفظ ” صلٰوۃ “ بغیراضافت ہے وائو کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔ یہ لفظ کے مفخم ہونے کی بنا پر ہے۔ جیسے زکوٰۃ۔ صلوٰۃ ” تَصْلِیَۃ “ سے اسم ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں بہت سے اہل لغت کا بیان ہے کہ صلوٰۃ کے معنی دعا کرنے ‘ برکت مانگنے اور بزرگی سے یاد کرنے کے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : (اِذَا دُعِیَ اَحَدُکُمْ اِلٰی طَعَامٍ فَلْیُجِبْ وَاِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُصَلِّ (اَیْ فَلْیَدْعُ ) ۔ نیز ارشاد خداوندی ہے : { وَصَلِّ عَلَیْھِمْ 1 اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ 1 } (التوبۃ :103) ” اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو ‘ کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجۂ تسکین ہوگی “۔ ” فَصَلِّ عَلَیْھِمْ “ اَیْ اُدْعُ لَـھُمْ ۔ اللہ کی طرف سے مسلمانوں پر صلوٰۃ کا مطلب ان کو سراہنا ہے۔ { اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ}(آیت زیر مطالعہ) فرشتوں کی طرف سے ” صَلٰوۃ “ کا معنی وہی ہے جو آدمیوں کی طرف سے صلوٰۃ کا ہے (دعا اور مغفرت) ۔ اور وہ صلوٰۃ کہ جو عبادت مخصوصہ ہے (بمعنی نماز) اس کی اصل بھی دعا ہی ہے ‘ جس طرح کہ کسی شے کو بعض اجزاء کے نام پر موسوم کردیتے ہیں اسی طرح یہ عبادت یعنی نماز بھی دعا پر مشتمل ہونے کی وجہ سے صلوٰۃ سے موسوم ہوئی۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ صلوٰۃ کی اصل ” صلا “ ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ” صَلَّ الرَّجُلُ “ کے معنی ہیں کہ اس شخص نے اس عبادت کے ذریعہ ” صلا “ کو جو کہ حق تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہے ‘ اپنے اوپر سے دفع کردیا۔ نیز عبادت خانہ کو بھی صلوٰۃ کہا جاتا ہے۔ چناچہ کنائس یہود (یہودیوں کے عبادت خانے) صلوات سے موسوم ہیں۔ { لَھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیْعٌ وَّصَلَوٰتٌ} (الحج :40)
تنبیہہ : ہر وہ مقام کہ جہاں حق تعالیٰ نے فعل صلوٰۃ پر مدح فرمائی ہے یا اس پر رغبت دلائی ہے وہاں لفظ ” اِقَامَۃ “ مذکور ہے۔ مثلاً : ” الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ ‘ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ‘ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ “ جبکہ منافقین کے بارے میں فرمایا گیا : { فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ ۔ }(الماعون) اور : { لَا یَاْتُوْنَ الصَّلَاۃَ اِلاَّ وَھُمْ کُسَالٰی } (التوبۃ :54)
Ayah 2:158[ اِنَّ : بیشک ] [ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ : صفا اور مروہ ہیں ] [ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ : اللہ کا شعور حاصل کرنے کی علامتوں میں سے ] [ فَمَنْ : پس جس نے ] [ حَجَّ الْبَیْتَ : زیارت کی اس گھر کی ] [ اَوِ اعْتَمَرَ : یا عمرہ کیا ] [ فَلَا جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ اَنْ یَّطَّوَّفَ : کہ وہ بتکلف چکر لگائے ] [ بِھِمَا : ان دونوں میں ] [ وَمَنْ : اور جس نے ] [ تَطَوَّعَ : نفلاً کی ] [ خَیْرًا : کوئی بھلائی ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ شَاکِرٌ : قدر دان ہے ] [ عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ]
ج ن ح
جَنَحَ (ض) جُنُوْحًا : کشتی کا کسی جانب جھک جانا ‘ کسی کا کسی طرف مائل ہونا۔ { وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا } (الانفال :61) ” اور اگر وہ لوگ مائل ہوں صلح کے لیے تو آپ ﷺ بھی مائل ہوں اس کے لیے۔ “
اِجْنَحْ (فعل امر) : تو جھک ‘ تو مائل ہو۔ (آیت مذکورہ بالا)
جَنَاحٌ (ج) اَجْنِحَۃٌ : اسم ذات ہے۔ کسی چیز کا کوئی جانب ‘ انسان کا پہلو ‘ بغل ‘ پرندوں کے پر۔ { وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ } (الحجر) ” اور آپ ﷺ جھکائیں اپنا پہلو مؤمنوں کے لیے۔ “ { وَاضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ } (طٰہٰ :22) ” اور آپ ﷺ ملا لیں اپنا ہاتھ اپنی بغل کی طرف۔ “{ وَلَا طٰـئِـرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ } (الانعام :38) ” اور نہ کوئی اڑنے والا جو اڑتا ہے اپنے دونوں پروں سے۔ “ { جَاعِلِ الْمَلٰٓـئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیْ اَجْنِحَۃٍ } (فاطر :1) ” فرشتوں کو بنانے والا رسول ‘ جن کے پر ہیں۔ “
جُنَاحٌ (اسم ذات) : کسی غلط جانب جھکائو ‘ گناہ۔ ( آیت زیر مطالعہ)
ط و ع
طَاعَ (ف۔ ن) طَوْعًا : تابع فرمان ہونا ‘ فرمانبردار ہونا۔
طَائِعٌ : تابع فرمان بنانے والا۔ { فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا ط قَالَـتَا اَتَیْنَا طَائِعِیْنَ ۔ } (حٰمٓ السجدۃ) ” تو اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے ) کہا اس سے (یعنی آسمان سے) اور زمین سے کہ تم دونوں آئو مطیع ہوتے ہوئے یا کراہیت کرتے ہوئے۔ ان دونوں نے کہا ہم آئے مطیع ہونے والے ہوتے ہوئے۔ “
اَطَاعَ (افعال) اِطَاعَۃً اور طَاعَۃً : کسی کی فرمانبرداری کرنا ‘ اطاعت کرنا۔ { وَیَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌز } (النسائ :81) ” اور وہ لوگ کہتے ہیں فرمانبرداری کرنا ہے۔ “ { یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَا اَطَعْنَا اللّٰہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ ۔ } (الاحزاب) ” وہ لوگ کہیں گے اے کاش ! ہم اطاعت کرتے اللہ کی اور ہم اطاعت کرتے ان رسول ﷺ کی۔ “
اَطِعْ (ج) اَطِیْعُوْا (فعل امر) : تو اطاعت کر ‘ { اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَج } (آل عمران :32) ” تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی اور ان رسول ﷺ کی۔ “
لَا تُطِعْ (فعل نہی) : تو اطاعت مت کر ‘ تو کہنا مت مان۔ { وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا } (الکہف :28) ” اور تو کہنا مت مان اس کا ہم نے غافل کیا جس کے دل کو اپنی یاد سے۔ “
مُطَاعٌ (اسم المفعول) : اطاعت کیا ہوا ‘ بات مانا ہوا۔ { ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۔ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ۔ } (التکویر) ” قوت والا ‘ عرش والے کے پاس رہنے والا ‘ مانا جانے والا ‘ وہی امانت والا۔ “
طَوَّعَ (تفعیل) تَطْوِیْعًا : کسی کو مطیع فرمان بنانا ‘ کسی کام کے لیے راضی کرنا۔ { فَطَوَّعَتْ لَــہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ } (المائدۃ :30) ” پس راضی کیا اس کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر۔ “
تَطَوَّعَ (تفعل) تَطَوُّعًا : بتکلف فرمانبرداری کرنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ پھر اصطلاحاً نفلی عبادات کرنے کے لیے آتا ہے۔ (آیت زیر مطالعہ)
مُطَوِّعٌ (اسم الفاعل) : نفلی عبادت کرنا والا۔ { اَ لَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ } (التوبۃ :79) ” وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں نفلی عبادت کرنے والوں کو “۔
اِسْتَطَاعَ (استفعال) اِسْتِطَاعَۃً : فرمانبرداری کرنے کے لائق ہونا ‘ صلاحیت یا قدرت رکھنا۔ { فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ } (التغابن :16) ” پس تقویٰ اختیار کرو اللہ کا اتنا جتنی تمہاری صلاحیت ہو۔ “
ش ک ر
شَکَرَ (ن) شَکْرًا اور شُکُوْرًا : کسی نعمت و بھلائی کا اعتراف کرنا ‘ احسان ماننا ‘ شکر کرنا۔ { وَمَنْ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ج } (النمل :40) ” اور جس نے شکر کیا تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ شکر کرتا ہے اپنے آپ کے لیے۔ “
اُشْکُرْ (فعل امر) : تو احسان مان ‘ تو شکر کر۔ { اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَط } (لقمٰن :14) ” کہ تو احسان مان میرا اور اپنے والدین کا۔ “
شَاکِرٌ(اسم الفاعل) : شکر کرنے والا۔ اس کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو مطلب ہوتا ہے قدر کرنے والا۔ (آیت زیر مطالعہ) اور :{ شَاکِرًا ّلِاَنْعُمِہٖ ط } (النحل :121) ” شکر کرنے والا اس کے احسانوں کا۔ “
مَشْکُوْرٌ(اسم المفعول) : شکر کیا ہوا ‘ قدر کیا ہوا۔ { فَاُولٰٓــئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا ۔ } (بنی اسرائیل) ” تو وہ لوگ ہیں جن کی بھاگ دوڑ قدر کی ہوئی ہے۔ “
شَکُوْرٌ: فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بےانتہا شکر کرنے والا۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ } (ابراہیم) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک بار بار صبر کرنے والے ‘ بےانتہا شکر کرنے والے کے لیے۔ “{ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ ۔ } (الشوریٰ ) ” بیشک اللہ بےانتہا بخشنے والا ‘ بےانتہا قدر کرنے والا ہے۔ “
ترکیب : صَفا ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے جو مکہ معظمہ میں مسجد حرام کے پاس ہے۔ امام بغوی لکھتے ہیں : صَفَا ‘ صَفَاۃٌ کی جمع ہے۔ ” صَفَاۃٌ“ اس سخت چٹان کو کہتے ہیں جو صاف اور ہموار ہو۔ ” صَفَاۃٌ“ اور ” صَفَا “ جیسے ” حَصَاۃٌ“ اور ” حَصٰی “ اور ” نَوَاۃٌ“ اور ” نَوٰی “۔ مَروۃ نرم پتھر کو کہتے ہیں اور اس کی جمع ” مرَوَاتٌ“ آتی ہے اور جمع کثرت ” مُرَۃٌ“ ہے ۔ جیسے ” ثَمْرَۃٌ“ کی جمع ” ثَمَرَاتٌ“ اور ” ثُمَرٌ“ ہے۔ (معالم التنزیل 1:111)
” اِنَّ “ حرف مشبہ بالفعل ” الصَّفَا “ معطوف علیہ ” وائو “ حرف عطف ” الْمَرْوَۃَ “ معطوف ۔ معطوف اور معطوف علیہ مل کر ” اِنَّ “ کا اسم۔ ” مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ “ جار مجرور مل کر متعلق ” کَائِنَان “ خبر۔ ” فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ “ میں ” فاء “ استیناف ” مَنْ “ اسم شرط جازم مبتدا ” حَجَّ “ فعل ماضی۔ اس میں ضمیر ” ھُوَ “ اس کا فاعل ” الْبَیْتَ “ مفعول۔ فعل+ فاعل+ مفعول جملہ فعلیہ ہو کر معطوف علیہ۔ ” اَوْ “ حرفِ عطف ” اعْتَمَرَ “ فعل ماضی ۔ اس میں ضمیر ” ھُوَ “ اس کا فاعل۔ فعل+فاعل جملہ فعلیہ ہو کر معطوف۔ معطوف+مطعوف علیہ فعل شرط۔ ” فَلَا جُنَاحَ “ میں ” فا “ جزائیہ ” لا “ نفی ٔجنس ” جُنَاحَ “ اس کا اسم ” عَلَیہ “ جار مجرور متعلق ” وَاقِعٌ“ خبر ہے۔ ” اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا “ میں ” اَنْ “ حرف مصدریہ ” یَطَّوَّفَ “ فعل۔ ضمیر ” ھُوَ “ اس کا فاعل ” بِھِمَا “ جار مجرور اس کا متعلق۔ یہ جملہ فعلیہ ب تاویل مصدرہو کر منصوب ” بنزع الخافض “۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ” فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ فِیْ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا “۔ ” فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ “ سے لے کر ” اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا “ تک جملہ جزاء ہے ” حَجَّ الْبَیْتَ “ کے لیے۔ شرط اور جزا مل کر خبر ہے ” مَنْ “ مبتدا کی۔” وائو “ حرفِ عطف ” مَنْ “ اسم شرط جازم مبتدا ” تَطَوَّعَ “ فعل ۔ ضمیر ” ھُوَ “ اس کا فاعل ” خَیْرًا “ صفت ہے موصوف محذوف ” تَطَوُّعًا “ کی ۔ موصوف صفت مفعول مطلق۔ فعل+فاعل+مفعول مطلق جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ” فائ “ جزائیہ ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ۔ لفظ ” اللّٰہ “ اس کا اسم ” شَاکِرٌ عَلِیْمٌ“ اس کی خبر۔ یہ جملہ اسمیہ ہو کر جزائ۔ شرط اور جزاء مل کر جملہ شرطیہ ہو کر ” مَنْ “ مبتدا کی خبر ہے۔
نوٹ (1) : زمانۂ جاہلیت میں صفا اور مروہ پر مورتیاں رکھی ہوتی تھیں اور کفار انہی کی پوجا کرنے کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔ اس وجہ سے کچھ صحابۂ کرام ؓ کو شبہ تھا کہ کہیں اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔ اس آیت میں اس شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے کہ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ بی بی ہاجرہ کا عمل تھا اور سنت ابراہیمی (علیہ السلام) ہے۔ امام احمد (رح) کے نزدیک حج یا عمرہ میں سعی کرنا مستحب ہے ‘ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک واجب ہے ‘ جبکہ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ فرض ہے۔ (معارف القرآن)