2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنہیں سنا دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ سَاَلَکَ : پوچھیں آپ ﷺ سے ] [ عِبَادِیْ : میرے بندے ] [ عَنِّیْ : میرے بارے میں ] [ فَاِنِّیْ : تو یقینا میں تو ] [ قَرِیْبٌ : قریب ہوں ] [ اُجِیْبُ : میں قبول کرتا ہوں ] [ دَعْوَۃَ الدَّاعِ : ہر پکارنے والے کی پکار کو اِذَا : جب بھی ] [ دَعَانِ : وہ پکارے مجھ کو ] [ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا : پس چاہیے کہ وہ لوگ حکم مانیں ] [ لِیْ : میرا وَلْیُؤْمِنُوْا : اور چاہیے کہ وہ لوگ ایمان لائیں ] [ بِیْ : مجھ پر ] [ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ : شاید کہ وہ لوگ ہدایت پائیں ] ج و ب جَابَ (ن) جَوْبًا : (1) کوئی فاصلہ طے کرنا۔ (2) کسی چیز کو کاٹنا یا تراشنا (کاٹنے والا کاٹتے یا تراشتے ہوئے ایک فاصلہ طے کرتا ہے) ۔ { وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ۔ } (الفجر) ” اور ثمود کے ساتھ (کیا معاملہ کیا ؟ ) جنہوں نے تراشا پتھروں کو وادی میں۔ “ جَوَابٌ (اسم ذات) : کسی بات کا جواب (کہنے والے کی بات جتنا فاصلہ طے کر کے آتی ہے ‘ جواب دینے والے کی بات وہی فاصلہ طے کرتی ہے) ۔ { وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْآ اَخْرِجُوْھُمْ } (الاعراف :82) ” اور نہیں تھا ان (علیہ السلام) کی قوم کا جواب مگر یہ کہ تم لوگ نکالو ان کو۔ “ اَجَابَ (افعال) اِجَابَۃً : (1) بات کا جواب دینا ۔ (2) کسی کی بات یعنی حکم کو ماننا ۔ (3) کسی کی بات یعنی درخواست کو قبول کرنا۔ { مَا ذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ } (القصص) ” کیا جواب دیا تم لوگوں نے رسولوں کو ؟ “ { اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ } (النمل :62) ” یا کون بات قبول کرتا ہے لاچار کی جب بھی وہ پکارے اس کو ؟ “ اَجِبْ (فعل امر) : تو کہنا مان ‘ تو قبول کر۔ { یٰـقَوْمَنَا اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ } (الاحقاف :31) ” اے ہماری قوم ! تم لوگ کہنا مانو اللہ کی دعوت دینے والے کا۔ “ مُجِیْبٌ (اسم الفاعل) : ماننے والا ‘ قبول کرنے والا۔ { اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ ۔ } (ھود) ” یقینا میرا رب قریب ہے ‘ قبول کرنے والا ہے۔ “ اِسْتَجَابَ (استفعال) اِسْتِجَابَۃً : یہ مادہ باب استفعال اور باب افعال میں ہم معنی ہے ‘ اس فرق کے ساتھ کہ باب استفعال میں جواب دینے ‘ بات ماننے اور قبول کرنے کو ضروری سمجھنے کا مفہوم ہے۔ ترجمے میں یہ فرق واضح کرنا مشکل ہوتا ہے۔ { فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ } (آل ‘ عمران :195) ” پس قبول کی ان کی بات ان کے رب نے۔ “ اِسْتَجِبْ (فعل امر) : تو ضرور کہنا مان ‘ تو ضرور قبول کر۔ { یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ } (الانفال :24) ” اے لوگو جو ایمان لائے ! تم لوگ ضرور حکم مانو اللہ کا اور رسول ﷺ ‘ کا۔ “ ر ش د رَشَِدَ (ن۔ س) رَشْدًا : صحیح یعنی نیک راہ پر چلنا ‘ ہدایت یافتہ ہونا ‘ ہدایت پانا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ رَاشِدٌ(اسم الفاعل) : ہدایت پانے والا۔ { اُولٰٓـئِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوْنَ ۔ } (الحجرات) ” وہ لوگ ہی ہدایت پانے والے ہیں۔ “ رَشِیْدٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہدایت یافتہ ‘ نیک چلن۔ { اَلَـیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ۔ } (ھود) ” کیا تم لوگوں میں کوئی نیک چلن مرد نہیں ہے ؟ “ رَشَادٌ (اسم ذات) : نیکی ‘ بھلائی ‘ ہدایت ۔{ وَمَآ اَھْدِیْکُمْ اِلاَّ سَبِیْلَ الرَّشَادِ ۔ } (المؤمن) ” اور میں ہدایت نہیں دیتا تم لوگوں کو مگر نیکی کے راستے کی۔ “ رَشَدٌ : بھلی راہ ‘ نیک راہ۔ { اَمْ اَرَادَ بِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا ۔ } (الجن) ” یا ارادہ کیا ان کے لیے ان کے رب نے نیک راہ کا۔ “ رُشْدٌ : (1) نیک راہ ‘ ہدایت ۔ (2) سوجھ بوجھ ‘ معاملہ فہمی (جو ہدایت کا باعث ہے) ۔ { قَدْ تَّـبَـیَّـنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّج } (البقرۃ :256) ” واضح ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے۔ “ { فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْہُمْ رُشْدًا } (النسائ :6) ” پھر اگر تم لوگ پائو ان میں کوئی سمجھ بوجھ۔ “ اَرْشَدَ (افعال) اِرْشَادًا : صحیح راہ بتانا ‘ ہدایت دینا۔ مُرْشِدٌ (اسم الفاعل) : سیدھی راہ بتانے والا ‘ ہدایت دینے والا۔ { فَلَنْ تَجِدَ لَـہٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا ۔ } (الکہف) ” پھر تو نہیں پائے گا اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا رفیق۔ “ ترکیب : ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” سَاَلَ “ سے ” عَنِّیْ “ تک شرط ہے ‘ جبکہ ” فَاِنِّیْقَرِیْبٌ“ جوابِ شرط ہے۔ ” سَاَلَ “ کا فاعل ” عِبَادِیْ “ ہے اور ” کَ “ اس کی ضمیر مفعولی ہے اور ” عَنِّیْ “ متعلق فعل ہے۔” فَاِنِّیْ “ میں ” ی “ ضمیر مبتدأ ہے جسے اب ” اِنَّ “ کا اسم کہینگے ۔” قَرِیْبٌ“ اس کی خبر اوّل ہے ‘ اور ” اُجِیْبُ “ سے ” دَعَانِ “ تک جملہ شرطیہ ہے جس میں شرط مؤخر اور جوابِ شرط مقدم ہے ۔ ” دَعْوَۃَ الدَّاعِ “ مرکب اضافی ہے اور ” اُجِیْبُ “ کا مفعول ہے اس لیے اس کا مضاف منصوب ہے۔ ” اَلدَّاعِ “ پر لام جنس ہے۔ ” دَعَانِ “ میں ” نِ “ دراصل ” نِیْ “ ہے جو ” دَعَا “ کی ضمیر مفعولی ہے۔ ” فَلْیَسْتَجِیْبُوْا “ اور ” وَلْیُؤْمِنُوْا “ فعل امر غائب ہیں۔ ان کے فاعل ” ھُمْ “ کی ضمیریں ہیں جو ” عِبَادِیْ “ کے لیے ہیں۔ نوٹ (1) : فَاِنِّیْ قَرِیْبٌکی مزید وضاحت کے لیے سورة المجادلۃ کی آیت 7 کا پورا مفہوم ذہن میں رکھیں ‘ جس میں بتایا گیا ہے کہ جہاں کہیں تین اشخاص باتیں کرتے ہیں ‘ وہاں چوتھا اللہ ہوتا ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ اپنے ڈرائنگ روم میں سیاست پر گفتگو کے دوران جب ہم شخصیات کو زیربحث لاتے ہیں ‘ اس وقت یا تو ہم غیبت کرتے ہیں یا بہتان لگاتے ہیں۔ کیونکہ لگایا جانے والا الزام اگر درست ہے تو غیبت ہے اور اگر غلط ہے تو بہتان ہے۔ یہ کام کرتے ہوئے اگر ہمیں احساس ہوجائے کہ ڈرائنگ روم میں ہم نشینوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھی ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے تو یقینا ہمارا رویہ تبدیل ہوگا۔ اسی طرح ٹیوی لائونج ‘ دفتر اور دکان وغیرہ میں اس احساس کو جگا کر تجربہ کرلیں اور پھر متعلقہ آیات کا مفہوم ذہن میں دہراتے رہیں تو ان شاء اللہ رمضان کا فیض جاری رہے گا ‘ خواہ نفلی ر وزے رکھیں یا نہ رکھیں۔ نوٹ (2) : اس آیت میں دوسری اہم بات یہ اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہے۔ اس کے لیے عابد ‘ زاہد ‘ فاسق اور فاجر وغیرہ کی کوئی قید نہیں لگائی گئی ہے۔ دوسری طرف ہمارا یعنی عام مسلمانوں کا تجربہ یہ ہے کہ ہماری اکثر دعائیں قبول نہیں ہوتیں ‘ اس لیے ہم ایسے پہنچے ہوئے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جن کی دعایا سفارش قبول ہوجائے۔ اس بظاہر تضاد کی وجہ یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کا مفہوم ہمارے ذہن میں محدود ہے ‘ جبکہ قرآن و حدیث میں اسے وسیع تر مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس فرق کو سمجھ لیں۔ اپنے وسیع تر مفہوم میں کسی بھی دعا کے قبول ہونے کی صورتیں یہ ہیں : (1) جو چیز ہم مانگ رہے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں اگر وہ ہمارے لیے مفید ہے اور فوری طور پر ملنے میں ہمارا کوئی نقصان بھی نہیں ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ وہ چیز ہمیں اسی وقت دے دیتا ہے۔ (2) جو چیز ہم مانگ رہے ہیں وہ ہمارے لیے مفید تو ہے ‘ لیکن اس کا فوری طور پر ملنا ہمارے لیے مفید نہیں ہے ‘ تو ایسی صورت میں دعا کے قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز ہمیں اس وقت دی جائے جب اس کا ملنا ہمارے لیے مفید ہو۔ (3) جو چیز ہم مانگ رہے ہیں وہ ہمارے لیے مفید نہیں ہے ‘ تو ایسی صورت میں دعا کی قبولیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چیز ہم کو نہ دی جائے اور اس کے بدلے کوئی مفید چیز دی جائے ‘ یا کوئی اور تکلیف یا پریشانی دور کردی جائے ‘ یا کسی آنے والی پریشانی کو روک دیا جائے۔ (4) دعا کی قبولیت کی ایک آخری شکل یہ بھی ہے کہ بندے کی دعا مذکورہ بالا کسی بھی طریقے سے اس دنیا میں قبول نہ کی جائے ‘ بلکہ اس کا ثواب آخرت کے لیے محفوظ کردیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت میں ایسا ثواب جب بندے کے سامنے لایا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرے گا کہ تو نے میری باقی دعائیں دنیا میں کیوں قبول کرلیں ؟ دعا کی قبولیت کا مفہوم اگر سمجھ میں آگیا ہے تو اب یقین کرلیں کہ اللہ ہر بندے کی سنتا ہے۔ شرط صرف ایک ہے کہ بندہ اسے پکارے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا دل سے نکلے اور ذہن اس پر مرتکز ہو۔ اگر دعا کے رٹے رٹائے الفاظ زبان ادا کر رہی ہو اور دل و دماغ کو لمبس بنے پھر رہے ہوں ‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اللہ کو پکارا ہی نہیں۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، مگر اُ س نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کر دیا ہے، اُسے حاصل کرو نیز راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نمایاں نظر آ جائے تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا اِس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے

[ اُحِلَّ : حلال کیا گیا ] [ لَــــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [ لَیـْـــــــلَۃَ الصِّیَامِ : روزہ رکھنے کی رات میں ] [ الرَّفَثُ : مباشرت کو اِلٰی نِسَآئِ کُمْ : تمہاری عورتوں کی طرف ] [ ھُنَّ : وہ ] [ لِبَاسٌ : لباس ہیں ] [ لَّــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [ وَاَنْتُمْ : اور تم لوگ ] [ لِبَاسٌ : لباس ہو ] [ لَّھُنَّ : ان کے لیے ] [ عَلِمَ : جانا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اَ نَّـــکُمْ : کہ تم لوگ ] [ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ : خیانت کرتے رہتے ہو ] [ اَنْفُسَکُمْ : اپنے آپ سے ] [ فَتَابَ : تو اس نے شفقت کی ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ وَعَفَا : اور اس نے درگزر کیا ] [ عَنْکُمْ : تم سے ] [ فَالْئٰنَ : تو اب ] [ بَاشِرُوْ : تم لوگ مباشرت کرو ] [ ھُنَّ : ان سے ] [ وَابْتَغُوْا : اور تم لوگ تلاش کرو ] [ مَا : اس کو جو ] [ کَتَبَ اللّٰہُ : اللہ نے لکھا ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَکُلُوْا : اور تم لوگ کھائو ] [ وَاشْرَبُوْا : اور پیئو ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَتَـبَیَّنَ : واضح ہوجائے ] [ لَـــــــکُمُ : تمہارے لیے ] [ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ : سفید دھاگہ ] [ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ : کالے دھاگے سے ] [ مِنَ الْفَجْرِ : فجر میں ] [ ثُمَّ اَتِمُّوا : پھر تم لوگ پورا کرو ] [ الصِّیَامَ : روزہ رکھنے کو ] [ اِلَی الَّـیْلِ : رات تک ] [ وَلَا تُبَاشِرُوْ : اور تم لوگ مباشرت مت کرو ] [ ھُنَّ : ان سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ عٰکِفُوْنَ : اعتکاف کرنے والے ہو ] [ فِی الْمَسٰجِدِ : مسجدوں میں ] [ تِلْکَ : یہ ] [ حُدُوْدُ اللّٰہِ : اللہ کی حدود ہیں ] [ فَلَا تَقْرَبُوْ : تو تم لوگ قریب مت ہو ] [ ھَا : ان کے ] [ کَذٰلِکَ : اس طرح ] [ یُـبَـیِّنُ اللّٰہُ : اللہ واضح کرتا ہے ] [ اٰیٰتِہٖ : اپنی نشانیوں کو ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ لَعَلَّھُمْ : شاید کہ وہ لوگ ] [ یَتَّقُوْنَ : تقویٰ اختیار کریں ] رث رَفِـثَ (س) رَفَـثًا : کوئی فحش بات کرنا۔ پھر کنایۃً مباشرت کے لیے بھی آتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ۔ رَفَثٌ (اسم ذات) : فحش کلام۔{ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ط } (البقرۃ :197) ” تو نہ کوئی فحش بات ہے اور نہ کوئی گناہ ہے اور نہ کوئی جھگڑا ہے حج میں۔ “ خ و ن خَانَ (ن) خَوْنًا : ڈول کی رسی کے ایک ایک بل کا ٹوٹ جانا ‘ عہد شکنی کرنا ‘ خیانت کرنا۔{ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ } (الانفال :71) ” وہ لوگ عہد شکنی کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے۔ “ خِیَانَۃٌ (اسم ذات) : عہد شکنی ‘ خیانت۔{ وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً } (الانفال :58) ” اور اگر تمہیں خوف ہو کسی قوم سے کسی عہد شکنی کا۔ “ خَائِنٌ (اسم الفاعل) : وعدہ خلافی کرنے والا۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ ۔ } (الانفال) ” یقینا اللہ وعدہ خلافی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ “ خَوَّانٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ): بار بار وعدہ خلافی کرنے والا۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ ۔ } (الحج) ” بیشک اللہ محبت نہیں کرتا کسی بھی بار بار وعدہ خلافی کرنے والے سے ‘ انتہائی ناشکری کرنے والے سے۔ “ خ ی ط خَاطَ (ض) خَیْطًا : کپڑا سینا۔ خَیْطٌ (اسم ذات) : دھاگہ ‘ ڈوری۔ آیت زیر مطالعہ۔ خِیَاطٌ (اسم ذات) : سوئی۔ { حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِط } (الاعراف :40) ” یہاں تک کہ داخل ہو اونٹ سوئی کے ناکے میں۔ “ ب ی ض بَاضَ (ض) بَیْضًا : پرندے کا انڈا دینا۔ کسی چیز پر سفیدی کا غالب ہونا۔ بَیْضٌ (اسم جنس): انڈا۔ { کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” جیسے کہ وہ محفوظ کیے ہوئے انڈے ہیں۔ “ اَبْـیَضُ مؤنث بَیْضَائُ ج بِیْضٌ (اَفْعَلُ الوان و عیوب کے وزن پر صفت) : سفید رنگ والا یعنی سفید۔ { وَنَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآئُ لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ } (الاعراف) ” اور انہوں (علیہ السلام) نے نکالا اپنا ہاتھ تو جب ہی (یعنی اسی وقت) وہ سفید تھا دیکھنے والوں کے لیے۔ “{ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْضٌ} (فاطر :27) ” اور پہاڑوں میں سفید گھاٹیاں ہیں۔ “ اِبْیَضَّ (اِفْعِلَالٌ) اِبْیِضَاضٌ : سفید ہوجانا۔ { وَابْیَضَّتْ عَیْنٰـہُ مِنَ الْحُزْنِ } (یوسف :84) ” اور سفید ہوگئیں ان (علیہ السلام) کی دونوں آنکھیں غم سے۔ “ س و د سَادَ (ن) سِیَادَۃً وَسُوْدًا : بزرگ ہونا ‘ کسی گروہ یا قوم کا سردار ہونا۔ سَوِدَ (س) سَوَدًا : سیاہ ہونا ‘ کالا ہونا۔ سَیِّدٌ ج سَادَۃٌ : سردار ‘ آقا۔ { وَاَلْـفَیَا سَیِّدَھَا لَدَا الْبَابِ ط } (یوسف :25) ” اور وہ دونوں ملے عورت کے آقا (یعنی شوہر) سے دروازے کے پاس۔ “{ رَبَّـنَآ اِنَّــآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآئَ ‘ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلاَ ۔ } (الاحزاب) ” اے ہمارے ربّ ! بیشک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں کی اور اپنے بڑوں کی تو انہوں نے بھٹکایا ہم کو سیدھے راستے سے۔ “ اَسْوَدُ ج سُوْدٌ (افعل الوان و عیوب کے وزن پر صفت) : کالے رنگ والا یعنی کالا۔ { وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ ۔ } (فاطر) ” اور کچھ انتہائی سیاہ ہیں۔ “ اِسْوَدَّ (اِفْعِلَالٌ) اِسْوِدَادًا : کالا ہوجانا۔{ یَـوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌج } (آل عمران :106) ” جس دن سفید ہوجائیں گے کچھ چہرے اور سیاہ پڑجائیں گے کچھ چہرے۔ “ مُسْوَدٌّ (اسم الفاعل) : سیاہ پڑنے والا ‘ کالا ہونے والا۔{ اَلَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْھُھُمْ مُّسْوَدَّۃٌ ط } (الزمر :60) ” جن لوگوں نے جھوٹ کہا اللہ پر ان کے چہرے سیاہ پڑنے والے ہیں۔ “ ح د د حَدَّ (ن) حَدًّا : کسی چیز کا آخری کنارہ یا انتہا مقرر کرنا۔ جیسے کسی پلاٹ کے کناروں ‘ یعنی حدوں کا تعین کرنا۔ حَدَّ (ض) حِدَّۃً : (1) غضب ناک ہونا ‘ سخت ہونا۔ (2) کسی چیز کا تیز ہونا جیسے چھری کا تیز ہونا۔ حَدٌّ ج حُدُوْدٌ (اسم ذات) : کنارہ ‘ انتہا ‘ حد۔{ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِط } (التوبۃ :112) ” اور حفاظت کرنے والے اللہ کی حدود کی۔ “ (اللہ کی حدود کا مطلب ہے اس کی دی ہوئی اجازت کی انتہا ‘ جس کے آگے اس کی نافرمانی شروع ہوتی ہے) ۔ حَدِیْدٌ (فَعِیْلٌکا وزن): (1) لوہا۔ (2) تیز۔ { اٰتـُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِط } (الکہف :96) ” تم لوگ لائو میرے پاس لوہے کے تختے۔ “{ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ ۔ } (قٓ) ” پس تیری بصارت آج تیز ہے۔ “ حَادَّ (مفاعلہ) حِدَادًا : ایک دوسرے پر تیز ہونا ‘ باہم مخالفت کرنا ‘ طعنہ دینا۔ { سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ } (الاحزاب :19) ” وہ لوگ چڑھائی کریں گے تم لوگوں پر طعنہ دینے والی زبانوں سے۔ “{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُولٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ ۔ } (المجادلۃ) ” بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی ‘ وہ لوگ انتہائی ذلیلوں میں ہیں۔ “ ترکیب : ” اُحِلَّ “ ماضی مجہول ہے اور ” اَلرَّفَثُ “ اس کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے ‘ جبکہ ” لَـیْلَۃَ “ ظرف ہونے کی وجہ سے نصب میں ہے۔ ” ھُنَّ “ اور ” اَنْتُمْ “ مبتدأہیں اور ” لِبَاسٌ“ خبر ہے۔ ” کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ “ ماضی استمراری ہے لیکن یہ ” اَنَّـکُمْ “ کی خبر ہے ‘ اس لیے ترجمہ حال میں ہوگا۔ ” فَتَابَ عَلَیْکُمْ “ یہاں پر اپنے لغوی مفہوم میں ہے۔ ” بَاشِرُوْا “ فعل امر ہے ‘ اس کا فاعل اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” ھُنَّ “ اس کا مفعول ہے۔” وَابْتَغُوْا “ کا مفعول ” مَا “ ہے۔ ” حَتّٰی “ کی وجہ سے ” یَتَـبَیَّنَ “ منصوب ہے اور ” اَلْخَیْطُ الْاَبْیَضُ “ اس کا فاعل ہے۔” اَتِمُّوْا “ کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اَلصِّیَامَ “ اس کا مفعول ہے۔ ” اِلَی الَّـیْلِ “ دو لام یعنی ” اللَّـیْلِ “ کے بجائے ایک لام سے لکھا گیا ہے ‘ یہ قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔ ” وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ “ کا وائوحالیہ ہے۔ ” یُـبَـیِّنُ “ کا فاعل ” اَللّٰہُ “ ہے اور ” اٰیٰتِہٖ “ اس کا مفعول ہے اس لیے اس کا مضاف ” اٰیٰتِ “ منصوب ہے۔ نوٹ (1) : مادہ ” ب ی ض “ اور ” س و د “ کی لغت میں ثلاثی مزید فیہ کے باب اِفْعِلَالٌکا ذکر آیا ہے۔ قرآن مجید میں اس باب کا استعمال نسبتاً کم ہوا ہے اس لیے ” آسان عربی گرامر “ نامی کتابچہ میں یہ نہیں پڑھایا گیا۔ اس کے ماضی ‘ مضارع اور مصدر کا وزن یہ ہے : اِفْعَلَّ ‘ یَفْعَلُّ ‘ اِفْعِلَالًا۔ اس کی ابتداء میں ہمزۃ الوصل ہے۔ یہ باب زیادہ تر ” اَفْعَلُ “ کے وزن پر آنے والے الوان و عیوب کے لیے آتا ہے ‘ اور اس میں مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ‘ مذکورہ صفت میں تبدیل ہوجانا یا اس صفت کا حامل ہوجانا۔ نوٹ (2) : اگر اپنے آپ سے خیانت کرنے پر صحابہ کرام ؓ توبہ کرتے اور وعدہ کرتے کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے ‘ تو ہم کہتے کہ فَتَابَ عَلَیْکُمْ اصطلاحی مفہوم میں ہے اور اس کے مطابق ترجمہ کرتے۔ لیکن اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے اس بات کو جانا اور اپنے حکم میں خود ہی نرمی کردی۔ اس لیے اس آیت میں فَتَابَ عَلَیْکُمْ اپنے لغوی مفہوم میں ہے ‘ اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نوٹ (3) : ابتدا میں روزوں میں سو جانے کے بعد کھانے پینے وغیرہ کی ممانعت تھی۔ یہ حکم قرآن میں کہیں مذکور نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے صحابہ کرام ؓ اس حکم پر عمل کرتے تھے۔ اس آیت میں پہلے اس حکم کو حکم الٰہی قرار دیا گیا ‘ پھر آسانی کے لیے اس کو منسوخ کیا گیا (معارف القرآن) ۔ اس طرح یہ بھی قرآن مجید کے ان مقامات میں سے ایک ہے جس سے وحی ٔ غیر متلو کا ثبوت ملتا ہے۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے

[ وَلَا تَاْکُلُوْا : اور تم لوگ مت کھائو ] [ اَمْوَالَـــــکُمْ : اپنے مال ] [ بَیْنَــــکُمْ : آپس میں ] [ بِالْبَاطِلِ : ناحق ] [ وَتُدْلُوْا : اور تم لوگ مت لٹکائو ] [ بِھَا : ان کو ] [ اِلَی الْحُکَّامِ : حاکموں کی طرف ] [ لِتَاْکُلُوْا : تاکہ تم لوگ کھائو ] [ فَرِیْقًا : کوئی ٹکڑا ] [ مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ : لوگوں کے مال سے ] [ بِالْاِثْمِ : گناہ سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جانتے ہو ] د ل و دَلَا (ن) دَلْوًا : (1) کنوئیں میں ڈول ڈال کر کھینچنا۔ (2) بہلا پھسلا کر کام نکالنا۔ دَلْوٌ (اسم ذات) : ڈول۔ { فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ ط } (یوسف :19) ” تو اس نے کنوئیں میں لٹکایا اپنا ڈول۔ “ اَدْلٰی (افعال) اِدْلَائً : کنویں میں کوئی چیز لٹکانا۔ اوپر دیکھیں (یوسف :19) دَلّٰی (تفعیل) تَدْلِیَۃً : بہلا پھسلا کر گمراہ کرنا ‘ نرمی سے پھسلا دینا۔ { فَدَلّٰٹھُمَا بِغُرُوْرٍج } (الاعراف :22) ” تو اس نے پھسلا دیا ان دونوں کو دھوکے سے۔ “ تَدَلّٰی (تفعّل) تَدَلًّی : لٹکنا ‘ اُترنا۔ { ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۔ } (النجم) ” پھر وہ نزدیک ہوا ‘ پھر وہ اترا۔ “ ترکیب : ” لاَ تَاْکُلُوْا “ فعل نہی ہے۔ اس کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اَمْوَالَـکُمْ “ مفعول ہے ‘ جبکہ ” بَیْنَـکُمْ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” لاَ تَاْکُلُوْا “ کے لائے نہی کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے ” تُدْلُوْا “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ اس طرح یہ بھی فعل نہی ہے۔ ” بِھَا “ میں ” ھَا “ کی ضمیر ” اَمْوَالَــکُمْ “ کے لیے ہے۔ ” لِتَاْکُلُوْا “ کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” فَرِیْقًا “ اس کا مفعول ہے اور یہاں اپنے لغوی مفہوم میں آیا ہے۔ ” وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ “ کا وائوحالیہ ہے۔ نوٹ (1) : اس آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ حاکموں کو رشوت دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرو۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب تم جانتے ہو کہ مال دوسرے شخص کا ہے ‘ تو محض کسی قانونی نقص کی وجہ سے اس کا مقدمہ عدالت میں نہ لے جائو۔ اگر عدالت نے تمہارے حق میں فیصلہ دے دیا تو اس دنیا میں تم اس کے قانونی مالک ہو گے ‘ لیکن اللہ کے نزدیک وہ تمہارے لیے حرام ہی رہے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہو: یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعین کی اور حج کی علامتیں ہیں نیز ان سے کہو: یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف داخل ہوتے ہو نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے

[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْاَھِلَّۃِ : باریک چاندوں کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے کہ ] [ ھِیَ : یہ ] [ مَوَاقِیْتُ : زمانے کی سرحدوں کو شناخت کرنے کے ذریعے ہیں ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ وَالْحَجِّ : اور حج کے لیے ] [ وَلَـیْسَ الْبِرُّ : اور یہ اصل نیکی نہیں ہے ] [ بِاَنْ تَاْتُوا : کہ تم لوگ آئو ] [ الْبُیُوْتَ : گھروں میں مِنْ ظُھُوْرِھَا : ان کے پچھواڑوں سے ] [ وَلٰــکِنَّ الْبِرَّ : اور لیکن (بلکہ) اصل نیکی ] [ مَنِ : اس کی ہے جس نے ] [ اتَّـقٰی : تقویٰ اختیار کیا ] [ وَاْتُوا : اور تم لوگ آئو ] [ الْبُیُوْتَ : گھروں میں ] [ مِنْ اَبْوَابِھَا : ان کے دروازوں سے ] [ وَاتَّقُوا اللّٰہَ : اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ] [ لَــعَلَّــکُمْ تُفْلِحُوْنَ : شاید کہ تم لوگ فلاح پائو ] و ق ت وَقَتَ (ض) وَقْتًا : کسی کام کے کرنے کے زمانے کی سرحد مقرر کرنا ‘ وقت مقرر کرنا۔ وَقْتٌ (اسم ذات) : زمانے کی طے شدہ سرحد ‘ وقت۔ { فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ } (الحجر) ” پس بیشک تو مہلت دیے ہوئوں میں سے ہے ‘ معلوم وقت کے دن تک۔ “ مَوْقُوْتٌ (اسم المفعول) : مقرر کیا ہوا وقت۔ { اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا ۔ } (النسائ) ” بیشک نماز مؤمنوں پر مقرر کیے ہوئے وقت پر فرض ہے۔ “ مِیْقَاتٌ ج مَوَاقِیْتُ (مِفْعَالٌ کے وزن پر اسم آلہ) : کسی کام کے کرنے کی سرحد کو شناخت کرنے کا آلہ : (1) طے شدہ وقت۔ (2) نشان زدہ جگہ۔ { فَجُمِعَ السَّحَرَۃُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ } (الشُّعرائ) ” تو جمع کیے گئے سب جادوگر ایک معلوم دن کے طے شدہ وقت پر۔ “{ وَلَمَّا جَآئَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا } (الاعراف :143) ” اور جب آئے موسٰی (علیہ السلام) ہماری طے شدہ جگہ پر۔ “ وَقَّتَ (تفعیل) تَوْقِیْتًا : مقررہ وقت یا جگہ پر جمع کرنا ‘ اکٹھا کرنا۔ { وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۔ } (المرسلـٰت) ” اور جب تمام رسول جمع کیے جائیں گے “۔” اُ قِّتَتْ “ اصل میں ” وُقِّتَتْ “ تھا۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب وائو کسی کلمہ کے شروع میں آرہی ہو اور اس کا ضمہ لازم ہو تو اسے ہمزہ سے بدلا جاسکتا ہے۔ اسی بناء پر ” وُجُوْہٌ “ کو ” اُجُوْہٌ“ پڑھنا جائز ہے۔ ترکیب : ” یَسْئَلُوْنَ “ فعل ہے۔ اس کا فاعل ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے اور مفعول ” کَ “ کی ضمیر ہے۔ ” ھِیَ “ مبتدأ ہے۔ ” مَوَاقِیْتُ “ اس کی خبر ہے ‘ جبکہ ” لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ “ متعلق خبر ہے۔ ” اَلْحَجِّ “ کی جر بتارہی ہے کہ یہ ” لِلنَّاسِ “ کے حرف جارہ ” لِ “ کے زیر اثر ہے۔ ” لَیْسَ “ کا اسم ” اَلْبِرُّ “ ہے اور ” بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ “ پورا جملہ اس کی خبر ہے ‘ جبکہ ” مِنْ ظُھُوْرِھَا “ متعلق فعل ہے ۔ ” لٰـکِنَّ “ کا اسم ” اَلْبِرَّ “ ہے اور ” مَنْ “ اس کی خبر ہے جو کہ مضاف الیہ ہے۔ اس کا مضاف ” بِرُّ “ محذوف ہے ۔ پورا جملہ اس طرح ہوتا ” وَلٰـکِنَّ الْبِرَّ بِرُّ مَنْ “ (اور لیکن (بلکہ) اصل نیکی اس کی نیکی ہے جس نے) ۔ ” اَلْبِرُّ “ اور ” اَلْبِرَّ “ دونوں پر لام جنس ہے۔ نوٹ (1) : چاند کا گھٹنا بڑھنا ایک ایسا منظر ہے جس نے ہر زمانے میں انسان کی توجہ کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ اس لیے اس کے متعلق طرح طرح کے اوہام دنیا میں رائج رہے ہیں اور اب تک رائج ہیں ‘ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ چاند میں کمی و بیشی کا کوئی اثر انسان کی قسمت پر پڑتا ہے۔ اہل عرب میں بھی ایسے اوہام پائے جاتے تھے جن کی حقیقت نبی اکرم ﷺ سے دریافت کی گئی۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ چاند کا گھٹنا بڑھنا اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ ایک قدرتی کیلنڈر ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ (2) : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے صحابہ کرام ؓ نے سوالات بہت کم کیے ہیں ‘ اور ان کے جن سوالات کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ کل چودہ ہیں ‘ جن میں ایک سوال اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ ہے ‘ دوسرا یہ ہے ‘ اور ان کے بعد سورة البقرۃ میں ہی چھ سوال اور مذکور ہیں ‘ جبکہ باقی چھ سوالات مختلف سورتوں میں آئے ہیں۔ (معارف القرآن) نوٹ (3) : اس آیت کے ” لَـیْسَ الْبِرُّ “ والے جز و سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ جس چیز کو اسلام نے عبادت یا ضروری قرار نہیں دیا اسے اپنی طرف سے ضروری یا عبادت سمجھ لینا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح جو چیز شرعاً جائز ہو اس کو گناہ سمجھنا بھی گناہ ہے۔ بدعات کے ناجائز ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

[ وَقَاتِلُوْا : اور تم لوگ قتال کرو ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جو ] [ یُـقَاتِلُوْنَــکُمْ : قتال کرتے ہیں تم لوگوں سے ] [ وَلَا تَعْتَدُوْا : اور زیادتی مت کرو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ لَا یُحِبُّ : محبت نہیں کرتا ] [ الْمُعْتَدِیْنَ : زیادتی کرنے والوں سے ] ترکیب : ” قَاتِلُوْا “ فعل امر ہے۔ اس کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” اَلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ “ پورا جملہ اس کا مفعول ہے۔ ” فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ “ متعلق فعل ہے ۔ ” اِنَّ “ کا اسم لفظ ” اللّٰہَ “ ہے اور ” لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ “ پورا جملہ اس کی خب رہے۔
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا اُن سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ برا ہے، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چُوکیں، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے

[ وَاقْـتُلُوْھُمْ : اور تم لوگ قتل کرو ان کو ] [ حَیْثُ : جہاں کہیں ] [ ثَقِفْتُمُوْھُمْ : تم لوگ پائو ان کو ] [ وَاَخْرِجُوْھُمْ : اور نکالو ان کو ] [ مِّنْ حَیْثُ : جہاں سے ] [ اَخْرَجُوْکُمْ : انہوں نے نکالا تم کو ] [ وَالْفِتْنَۃُ : اور آزمائش (دین میں ] [ اَشَدُّ : زیادہ شدید ہے ] [ مِنَ الْقَتْلِ : قتل سے ] [ وَلَا تُقٰتِلُوْ : اور تم لوگ جنگ مت کرو ] [ ھُمْ : ان سے ] [ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کے پاس ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُقٰتِلُوْکُمْ : وہ لوگ جنگ کریں تم سے ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ فَاِنْ : پس اگر قٰــتَـلُوْکُمْ : وہ لوگ جنگ کریں تم سے (اس میں) ] [ فَاقْتُلُوْھُمْ : تو تم لوگ قتل کرو ان کو (اس میں) ] [ کَذٰلِکَ : اس طرح ] [ جَزَآئُ الْـکٰفِرِیْنَ : کافروں کی جزا ہے ] ث ق ثَقِفَ (س) ثَقَفًا : (1) مہارتِ نگاہ سے کسی چیز کا ادراک کرنا ‘ کسی چیز کو پالینا۔ آیت زیر مطالعہ۔ (2) کامیاب ہونا ‘ کسی کو جا پکڑنا۔{ اِنْ یَّثْـقَفُوْکُمْ یَـکُوْنُوْا لَـکُمْ اَعْدَائً } (المُمتحنۃ :2) ” اگر وہ لوگ پکڑ پائیں تم کو تو وہ لوگ ہوجائیں گے تمہارے دشمن۔ “ ترکیب : اس آیت میں ” ھُمْ “ کی ضمیریں گزشتہ آیت کے ” اَلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ “ کے لیے ہیں۔” اَلْفِتْنَۃُ “ مبتدأ ہے اور اس کے بعد ” فِی الدِّیْنِ “ محذوف ہے۔ ” اَشَدُّ “ تفضیل بعض ہے اور خبر ہے۔” فِیْہِ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر مسجدِ حرام کے لیے ہے۔ ” فَاِنْ قٰـتَلُوْکُمْ “ کے بعد ” فِیْہِ “ محذوف ہے۔ ” جَزَائُ الْـکٰفِرِیْنَ “ مرکب اضافی ہے اور مبتدأ مؤخر ہے۔ نوٹ (1) : مَکّہ میں مسلمان کمزور تھے تو انہیں حکم دیا گیا تھا کہ مخالفین کے ظلم پر صبر کریں اور ثابت قدم رہیں۔ اس حکم میں پہلی ترمیم سورة الحج کی آیت 39 میں نازل ہوئی جس میں مخالفین سے جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بعد مذکورہ بالا آیات (190‘191) میں ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ لیکن بچوں ‘ بوڑھوں ‘ عورتوں اور زخمیوں پر ہاتھ اٹھانے ‘ کھیتوں اور مویشیوں کو تباہ کرنے اور اسی قسم کے دوسرے وحشیانہ افعال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ سب ” زیادتی کرنے “ کی تعریف میں آتے ہیں اور حدیث میں ان سب کی ممانعت آئی ہے۔ نوٹ (2) : بات جنگ کرنے کے حکم سے شروع ہوئی ہے۔ اس لیے ” حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ “ کے حکم کا اطلاق ان لوگوں پر ہوگا جن کے خلاف اعلانِ جنگ ہو اور جو جنگ میں حصہ لے رہے ہوں۔ عام حالات میں کسی غیر مسلم پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ جزیرہ نمائے عرب کے باہر مفتوحہ علاقوں میں خلفاء راشدین کا طرز عمل اس بات کی سند ہے۔ نوٹ (3) : فتنہ ایک کثیر المعانی لفظ ہے۔ اس آیت میں یہ لفظ جس مفہوم میں استعمال ہوا ہے ‘ اسے سمجھ لیں۔ کوئی قوم رائج الوقت نظریات کی جگہ اپنے عقائد و نظریات سے اپنے نظام حیات کی اصلاح کی جب کوشش کرتی ہے تو رائج الوقت نظریات کے ٹھیکیدار اس کا مقابلہ بالعموم دلائل کے بجائے جبر سے کرتے ہیں۔ یہ جبر خواہ معاشی ناکہ بندی (sanctions) کی شکل میں ہو ‘ ہتھیاروں کے استعمال کی شکل میں ہو یا تشدد (persecution) کی کوئی بھی شکل ہو ‘ ان سب کو یہاں فتنہ کہا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فتویٰ یہ ہے کہ persecution قتل سے زیادہ گھنائونا جرم ہے ‘ اس لیے اس نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ persecution کے مقابلے کے لیے جوابی کارروائی کریں ‘ خواہ اس کے لیے ہتھیار ہی کیوں نہ اٹھانے پڑیں ۔ اس جوابی کارروائی کو دہشت گردی قرار دینا ذہنی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔
Ayah 2:192

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

[ فَاِنِ : پس اگر ] [ انْتَھَوْا : وہ لوگ باز آئیں ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ] ن ھـ ی نَھٰی (ف) نَھْیًا : (1) کسی کام سے منع کرنا ‘ روکنا۔ (2) ذہین ہونا ‘ زیرک ہونا (تاکہ صحیح چیز سے روکے) ۔ { اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِط } (العنکبوت :45) ” بیشک نماز روکتی ہے بےحیائیوں سے اور برائی سے۔ “ اِنْہَ (فعل امر) : تو منع کر ‘ تو روک۔ { وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ } (لقمن :17) ” تو ترغیب دے نیکی کی اور منع کر برائی سے۔ “ نَاہٍ (اسم الفاعل) : منع کرنے والا۔ { اَلْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ } (التوبۃ :112) ” ترغیب دینے والے نیکی کی اور منع کرنے والے برائی سے۔ “ نُھٰی (اسم ذات) : ذہانت ‘ فراست۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّھٰی ۔ } (طٰہٰ ) ” یقینا اس میں نشانیاں ہیں ذہانت والوں کے لیے۔ “ تَنَاھٰی (تفاعل) تَنَاھِیًا : باہم ایک دوسرے کو روکنا۔ { کَانُوْا لَا یَتَنَاھَوْنَ عَنِ مُنْکَرٍ } (المائدۃ :79) ” وہ لوگ ایک دوسرے کو نہیں روکا کرتے تھے کسی برائی سے۔ “ اِنْتَھٰی (افتعال) اِنْتِھَائً : اہتمام سے خود کو منع کرنا ‘ رک جانا ‘ باز آنا۔ { اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْلَھُمْ } (الانفال :38) ” اگر وہ لوگ باز آجائیں تو انہیں معاف کردیا جائے گا۔ “ اِنْـتَہِ (فعل امر) : تو باز آ۔ { وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰـثَۃٌط اِنْتَھُوْا خَیْرًا لَّــکُمْط } (النسائ :171) ” اور تم لوگ مت کہو کہ (اللہ) تین ہیں۔ تم لوگ باز آئو ‘ تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ مُنْتَھٍی (اسم الفاعل) : رکنے والا ‘ باز آنے والا۔ { فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ ۔ } (المائدۃ) ” تو کیا تم لوگ باز آنے والے ہو ؟ “ مُنْتَھًی (اسم المفعول ہے جو ظرف کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) : رکنے کی جگہ۔ { عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی ۔ } (النجم) ” رکنے کے بیری کے درخت کے پاس۔ “ ترکیب : ” فَاِنِ انْـتَھَوْا “ شرط ہے اور ” فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ“ جواب شرط ہے۔ ” اِنْـتَھَوْا “ فعل ماضی میں جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے ‘ اس لیے اس پر حرفِ شرط ” اِنْ “ نے کوئی عمل نہیں کیا۔ نوٹ (1) : باز آنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر وہ لوگ اپنی پوجا پاٹ سے باز آجائیں ‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگ اپنی تشدد کی روش سے باز آجائیں تو چونکہ اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے اس لیے تم بھی ان سے کچھ نہ کہو اور انہیں معاف کر دو ۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں

[ وَقٰتِلُوْہُمْ : اور تم لوگ جنگ کرو ان سے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ لاَ تَـکُوْنَ : نہ ہو ] [ فِتْنَۃٌ : کوئی تشدد ] [ وَّیَکُوْنَ : اور (یہاں تک کہ) ہو ] [ الدِّیْنُ : نظامِ حیات ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ فَاِنِ انْتَہَوْا : پھر اگر وہ لوگ باز آجائیں ] [ فَلاَ عُدْوَانَ : تو کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہے (ان پر) ] [ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ : مگر ظلم کرنے والوں پر ] ترکیب :” حَتّٰی “ کے بعد ” اَنْ “ مقدر ہے جس کی وجہ سے ” لَا تَـکُوْنَ “ منصوب ہے اور یہ ” کَانَ “ تامّہ ہے۔ ” فِتْنَۃٌ“ اس کا فاعل ہے۔” یَکُوْنَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ ” تَـکُوْنَ “ پر عطف ہے۔ یہ ” کَانَ “ ناقصہ ہے اور ” اَلدِّیْنُ “ اس کا اسم ہے۔ ” لِلّٰہِ “ متعلق خبر محذوف ہے۔” فَلَا عُدْوَانَ “ پر لائے نفی ٔجنس ہے اور یہ مبتدأ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ ” وَاجِبٌ“ یا ” ثَابِتٌ“ ہوسکتی ہے۔ قائم مقام خبر ” عَلَیْھِمْ “ بھی محذوف ہے۔ ” اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ “ اس کا استثناء ہے۔ نوٹ (1) : اوپر ترکیب میں ” کَانَ “ تامّہ کی بات ہوئی ہے ‘ اسے سمجھ لیں۔ ” کَانَ “ افعالِ ناقصہ میں سے ہے۔ اس لیے عام طور پر اس کا ایک اسم اور ایک خبر ہوتی ہے ‘ تب بات مکمل ہوتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی اس کا صرف اسم ہوتا ہے اور خبر کوئی نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں ” کَانَ “ فعل ہوتا ہے اور اس کا اسم دراصل اس کا فاعل ہوتا ہے اور فعل فاعل مل کر بات مکمل کردیتے ہیں۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ ایسے ” کَانَ “ کو ” کَانَتامّہ “ کہتے ہیں۔ نوٹ (2) : ” لاَ تَـکُوْنَ “ کا فاعل اگر ” اَلْفِتْنَۃُ “ ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں پر جو تشدد ہو رہا ہے وہ ختم ہوجائے۔ لیکن یہاں پر ” فِتْنَۃٌ“ نکرہ لا کر ہدایت کی گئی ہے کہ جنگ کر کے جس تشدد کو تم نے ختم کیا ہے ‘ اب غالب ہونے کے بعد خود اس کا ارتکاب مت کرنا۔ اس لیے مذہب کی بنیاد پر کسی غیر مسلم پر کسی قسم کا تشدد جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈبل اسٹینڈرڈ میڈ ان یو۔ ایس۔ اے کی اسلام میں گنجائش نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذہبی تشدد اگر ناجائز ہے تو پھر نظام حیات اللہ کے لیے ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ حاصل کرنے کے بعد اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے Personal Laws ان کے عقائد و نظریات کے مطابق ہی رہیں گے اور انہیں ان پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہوگی۔ جبکہ دین اللہ کے لیے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے Public Laws قرآن و سنت کے مطابق ہوں گے۔ نوٹ (3) : ” فَــلَا عُدْوَانَ “ میں اصل ہدایت یہ ہے کہ غلبہ حاصل کرنے کے بعد مغلوب مخالفین کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔ البتہ اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے جن کے جرائم کی نوعیت زیادہ سنگین اور فہرست طویل ہو۔ جنگ بدر کے تمام جنگی قیدی رہا کیے گئے ‘ لیکن دو کو قتل کیا گیا۔ فتح مکہ میں عام معافی کے اعلان کے ساتھ سترہ افراد کو مستثنیٰ قرار دیا گیا جن میں سے چار قتل بھی کیے گئے۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا لہٰذا جوتم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں

[ اَلشَّہْرُ الْحَرَامُ : محترم مہینہ ] [ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ : محترم مہینے سے ہے ] [ وَالْحُرُمٰتُ : اور تمام محترم چیزیں ] [ قِصَاصٌ: بدلہ ہیں ] [ فَمَنِ : پس جو ] [ اعْتَدٰی : زیادتی کرے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فَاعْتَدُوْا : تو تم لوگ (بھی) زیادتی کرلو ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ بِمِثْلِ مَا : اس جیسی سے جو ] [ اعْتَدٰی : اس نے زیادتی کی ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ وَاتَّقُوا اللّٰہَ : اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ ] [ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ : متقی لوگوں کے ساتھ ہے ] ترکیب :” اَلشَّھْرُ الْحَرَامُ “ مبتدأ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ ” قَائِمٌ“ ہوسکتی ہے۔ ” بِالشَّھْرِ الْحَرَامِ “ قائم مقام خبر ہے۔ ” اَلْحُرُمٰتُ “ مبتدأ ہے اور ” قِصَاصٌ“ خبر ہے۔ ” قِصَاصٌ“ واحد ‘ تثنیہ ‘ جمع سب کے لیے آتا ہے ‘ کیونکہ مبتدأ اور خبر میں عدد کی مناسبت اس صورت میں ضروری ہوتی ہے جبکہ مبتدأ اور خبر دونوں اسم مشتق ہوں۔ ” فَمَنِ اعْتَدٰی “ شرط ہے ” فَاعْتَدُوْا “ جوابِ شرط ہے۔ نوٹ (1) : آیت کے شروع میں اصولی بات عربی محاورہ میں بیان کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مہینے کا احترام اس کا احترام کرنے سے ہوتا ہے اور ہر احترام دراصل بدلہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک فریق کسی محترم چیز کا جتنا احترام کرے گا اتنا ہی دوسرا فریق بھی کرے گا۔ اگر ایک فریق احترام نہ کرے تو دوسرے فریق سے بھی احترام کی پابندی ختم ہوجاتی ہے۔ آگے پھر اسی کی وضاحت ہے۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنو ں کو پسند کرتا ہے

[ وَاَنْفِقُوْا : اور تم لوگ مال خرچ کرو ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) ] [ وَلاَ تُلْقُوْا : اور تم لوگ مت پھینکو (اپنے آپ کو) ] [ بِاَیْدِیْکُمْ : اپنے ہاتھوں سے ] [ اِلَی التَّہْلُکَۃِ : بربادی کی طرف ] [ وَاَحْسِنُوْا : اور تم لوگ بلا کم وکاست کام (جہاد) کرو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ یُحِبُّ : محبت کرتا ہے ] [ الْمُحْسِنِیْنَ : بلاکم وکاست کام کرنے والوں سے ] ھـ ل ک ھَلَکَ (ض) ھَلَاکًا : (1) تباہ و برباد ہونا۔ (2) کسی جاندار کا مردہ ہونا ‘ مرنا ‘ ہلاک ہونا۔ { ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ ۔ } (الحاقۃ) ” تباہ و برباد ہوئی (یعنی جاتی رہی) مجھ سے میری قوت “۔ { حَتّٰی اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْ م بَعْدِہٖ رَسُوْلًا ط } (المؤمن :34) ” یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو تم لوگوں نے کہا ہرگز نہیں بھیجے گا اللہ ان (علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول “۔ ھَالِکٌ (اسم الفاعل) : ہلاک ہونے والا ‘ تباہ و برباد ہونے والا۔ { کُلُّ شَیْ ئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْھَہٗط } (القصص :88) ” ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے۔ “ مَھْلِکٌ (اسم الظرف) : ہلاک ہونے کی جگہ یا وقت۔ { مَا شَھِدْنَا مَھْلِکَ اَھْلِہٖ } (النمل :49) ” ہم موجود نہیں تھے اس کے گھر والوں کے ہلاک ہونے کے وقت۔ “ تَھْلُکَۃٌ (اسم ذات) : تباہی ‘ بربادی ‘ ہلاکت۔ آیت زیر مطالعہ۔ اَھْلَکَ (افعال) اِھْلَاکًا : تباہ و برباد کرنا ‘ ہلاک کرنا۔ { اَھْلَکْتُ مَالًا لُّبَدًا ۔ } (البلد) ” میں نے برباد کیا ڈھیروں مال۔ “ { لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِّنْ قَـبْلُ } (الاعراف :155) ” اگر تو چاہتا تو ہلاک کرتا ان کو اس سے پہلے۔ “ مُھْلِکٌ (اسم الفاعل) : برباد کرنے والا ‘ ہلاک کرنے والا۔ { ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَـکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا غٰفِلُوْنَ ۔ } (الانعام) ” یہ اس لیے کہ نہیں ہے تیرا رب بستیوں کا ہلاک کرنے والا ظلم سے اس حال میں کہ اس کے لوگ غافل ہوں۔ “ ترکیب : انفاق کا لفظ مال خرچ کرنے کے لیے ہی آتا ہے اس لیے ” اَنْفِقُوْا “ کا مفعول محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیاق وسباق کے لحاظ سے اس آیت میں ” فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ “ سے مراد جہاد ہے اس لیے اس کے بعد ” لِلْجِھَادِ “ محذوف مانا جائے گا۔ ” وَلَا تُلْقُوْا “ کا مفعول ” اَنْفُسَکُمْ “ محذوف ہے ‘ جبکہ ” اَمْوَالَــکُمْ “ کو محذوف ماننے کی بھی گنجائش ہے۔ نوٹ (1) : مسلمانوں میں کچھ تربیت یافتہ پہلوان پائے جاتے ہیں جو قرآن کے ساتھ کشتی لڑتے ہیں۔ ایسے لوگ اس آیت میں ” وَلَا تُلْقُوْا “ کے بعد ” اَنْفُسَکُمْ “ کے بجائے ” اَمْوَالَـکُمْ “ کو محذوف مانتے ہیں اور مطلب یہ نکالتے ہیں کہ جہاد کے لیے خرچ کر کے اپنا مال تباہی کی طرف مت پھینکو۔ یہ کھلی اور ننگی جہالت ‘ بددیانتی اور دھوکہ دہی ہے۔ ان کی اتنی بات تو درست ہے کہ گرامر کے لحاظ سے یہاں ” اَمْوَالَــکُمْ “ کو محذوف ماننے کی گنجائش ہے ‘ لیکن ایسی صورت میں اس آیت کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جہاد کے لیے مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے مال کو تباہی کی طرف مت پھینکو ‘ یعنی اگر جہاد پر خرچ نہیں کرو گے تو تمہارا مال تباہ ہوجائے گا۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ جو قومیں جہاد ترک کردیتی ہیں وہ خود بھی تباہ و برباد ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ ان کا مال بھی مٹی ہوجاتا ہے۔ نوٹ (2) : اس آیت سے فقہاء نے یہ حکم بھی نکالا ہے کہ مسلمانوں پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی دوسرے حقوق فرض ہیں (یعنی ان کے مال میں) ‘ مگر وہ نہ دائمی ہیں اور نہ ان کے لیے کوئی نصاب متعین ہے ‘ بلکہ جب اور جتنی ضرورت ہو اس کا انتظام کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے۔ (معارف القرآن) ۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓ کا قول ہے کہ اس آیت میں ہلاکت سے مراد ترک جہاد ہے ‘ اسی لیے انہوں نے ساری عمر جہاد میں صرف کردی اور قسطنطنیہ میں شہید ہو کر وہیں مدفون ہوئے۔ (معارف القرآن)
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے، تو اُسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے (اور تم حج سے پہلے مکے پہنچ جاؤ)، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور ا گر قربانی میسر نہ ہو، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اِس طرح پورے دس روزے رکھ لے یہ رعایت اُن لوگوں کے لیے ہے، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں اللہ کے اِن احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

[ وَاَتِمُّوا : اور تم لوگ پورا کرو ] [ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ : حج کو اور عمرے کو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ : پھر اگر تم لوگ روک دیے جائو ] [ فَمَا : تو جو ] [ اسْتَیْسَرَ : آسان ہو ] [ مِنَ الْہَدْیِ : قربانی کے جانور میں سے وہ (واجب ہے تم پر) ] [ وَلاَ تَحْلِقُوْا : اور تم لوگ مت مونڈو ] [ رُئُ وْسَکُمْ : اپنے سروں کو ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَبْلُغَ الْہَدْیُ : پہنچے قربانی کا جانور ] [ مَحِلَّہٗ : اپنی منزل پر ] [ فَمَنْ : پھر جو ] [ کَانَ : ہو ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ مَّرِیْضًا : مریض ] [ اَوْ بِہٖٓ اَذًی : یا اس کو تکلیف ہو ] [ مِّنْ رَّاْسِہٖ : اپنے سر سے ] [ فَفِدْیَۃٌ : تو فدیہ (واجب) ہے ] [ مِّنْ : جیسے ] [ صِیَامٍ : روزہ رکھنا ] [ اَوْ صَدَقَۃٍ : یا کوئی صدقہ ] [ اَوْ نُسُکٍ : یا کوئی قربانی ] [ فَاِذَآ : پس جب ] [ اَمِنْتُمْ : تم لوگ امن میں ہو ] [ فَمَنْ : پھر جو ] [ تَمَتَّعَ : فائدہ اٹھائے ] [ بِالْعُمْرَۃِ : عمرے سے ] [ اِلَی الْحَجِّ : حج تک ] [ فَمَا : تو جو ] [ اسْتَیْسَرَ : آسان ہو ] [ مِنَ الْہَدْیِ : قربانی کے جانور میں سے وہ (واجب ہے اس پر ) ] [ فَمَنْ : پھر جو ] [ لَّمْ یَجِدْ : نہ پائے (اس کو) ] [ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ : تو تین دن کا روزہ رکھنا (واجب) ہے ] [ فِی الْْحَجِّ : حج میں ] [ وَسَبْعَۃٍ : اور سات ] [ اِذَا رَجَعْتُمْ : جب تم لوگ لوٹو ] [ تِلْکَ : یہ ] [ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ : پورے دس ہیں ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ لِمَنْ : اس کے لیے ہے جس کے ] [ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ : گھر والے نہیں ہیں ] [ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجدِ حرام کے حاضرین ] [ وَاتَّقُوا اللّٰہَ : اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور تم لوگ جان لو ] [ اَنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ ] [ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : سخت سزا دینے والا ہے [ ح ص ر حَصَرَ (ن) حَصَرًا : تنگی کرنا ‘ گھیرنا۔ حَصِرَ (س) حَصْرًا : تنگی محسوس کرنا۔ گھٹن محسوس کرنا ۔ { اَوْ جَآئُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُھُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ } (النسائ :90) ” یا وہ لوگ آئیں تمہارے پاس تنگی محسوس کرتے ہوئے اپنے سینوں میں کہ وہ قتال کریں تم سے۔ “ اُحْصُرْ (باب نَصَرَ سے فعل امر) : تو گھیر ‘ تو قید کر۔{ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ } (التوبۃ :5) ” اور تم لوگ پکڑو ان کو اور قید کرو ان کو۔ “ حَصُوْرٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : بہت زیادہ گھیرا ہوا۔ اصطلاحاً عورتوں سے بے رغبتی کرنے والے کے لیے آتا ہے۔ { وَسَیِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِیًّا } (آل عمران :39) ” اور سردار اور عورتوں سے بےرغبتی والا اور نبی۔ “ حَصِیْرٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : گھیرنے والا۔ اصطلاحاً قید خانے کے لیے آتا ہے۔ { وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” اور ہم نے بنایا جہنم کو کافروں کے لیے ایک قید خانہ۔ “ اَحْصَرَ (افعال) اِحْصَارًا : کسی کو کسی کام سے روک دینا۔ ( آیت زیر مطالعہ) ح ل ق حَلَقَ (ن) حَلْقًا : گلے پر مارنا ‘ حلق کاٹنا ‘ ذبح کرنا۔ حَلَقَ (ض) حَلْقًا : چھیلنا ‘ بال مونڈنا۔ ( آیت زیر مطالعہ) حَلَّقَ (تفعیل) تَحْلِیْقًا : اچھی طرح مونڈنا۔ مُحَلِّقٌ (اسم الفاعل) : مونڈنے والا۔ { اٰمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ } (الفتح :27) ” امن میں ہوتے ہوئے ‘ مونڈتے ہوئے اپنے سروں کو۔ “ ب ل غ بَلَغَ (ن) بُلُوْغًا : کسی مقصود چیز کی انتہا تک پہنچنا۔ { وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَط } (الانعام :19) ” اور وحی کیا گیا میری طرف یہ قرآن تاکہ میں خبردار کروں تم لوگوں کو اس قرآن کے ذریعے اور اس کو جس کو یہ پہنچا۔ “{ حَتّٰی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃًلا } (الاحقاف :15) ” یہاں تک کہ جب وہ پہنچا اپنی شدت کو اور وہ پہنچا چالیس سال کو۔ “ بَالِغٌ (اسم الفاعل) : پہنچنے والا۔ { فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُج } (الانعام :149) ” پس اللہ کی ہے پہنچنے والی (یعنی سمجھ میں آنے والی) دلیل۔ “ { وَمَنْ یَّـتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗط اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖط } (الطلاق :3) ” اور جو بھروسہ کرتا ہے اللہ پر تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ یقینا اللہ اپنے کام کو پہنچنے والا ہے۔ “ مَبْلَغٌ (اسم الظرف) : پہنچنے کی جگہ۔ { ذٰلِکَ مَبْلَغُھُمْ مِّنَ الْعِلْمِط } (النجم :30) ” یہ ان کے پہنچنے کی انتہا ہے علم میں سے۔ “ بَلُغَ (ک) بَلَاغَۃً : آسانی سے پہنچنا ‘ واضح ہونا ‘ فصیح ہونا۔ بَلِیْغٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : واضح ‘ فصیح۔{ وَقُلْ لَّھُمْ فِیْ اَنْفُسِھِمْ قَوْلًا بَلِیْغًا ۔ } (النسائ) ” اور آپ ﷺ ذ کہیں ان سے ان کے بارے میں کوئی واضح بات۔ “ اَبْلَغَ (افعال) اِبْلَاغٌ : پہنچانا۔ { لِیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّھِمْ } (الجن :28) ” تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے پہنچادیا ہے اپنے رب کے پیغامات کو۔ “ بَلَاغٌ (یہ باب افعال کا ایک مصدر بھی ہے اور اسم ذات بھی) : پہنچانا ‘ پیغام۔ { مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُط } (المائدۃ :99) ” ان رسول ﷺ پر نہیں ہے مگر پہنچانا۔ “{ اِنَّ فِیْ ھٰذَا لَــبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَ ۔ } (الانبیائ) ” یقینا اس میں ایک پیغام ہے عبادت گزاروں والی قوم کے لیے۔ “ اَبْلِـغْ (فعل امر) : تو پہنچا۔ { حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗط } (التوبۃ :6) ” یہاں تک کہ وہ سنے اللہ کا کلام ‘ پھر اسے پہنچا دو اس کی امن کی جگہ۔ “ بَلَّغَ (تفعیل) تَبْلِیْغًا : آہستہ آہستہ یا رفتہ رفتہ پہنچانا۔ { اَلَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ } (الاحزاب :39) ” وہ لوگ جو آہستہ آہستہ پہنچاتے رہتے ہیں اللہ کے پیغامات۔ “ بَلِّغْ (فعل امر) : تو آہستہ آہستہ پہنچاتا رہ۔ تبلیغ کرتا رہ۔ { یٰٓــاَیـُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط } (المائدۃ :67) ” اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ پہنچاتے رہیں اس کو جو نازل کیا گیا آپ ﷺ ‘ کی طرف آپ ﷺ کے رب کی جانب سے۔ “ ا ذ ی اَذَی (س) اَذًی : تکلیف پہنچنا ‘ دکھ پہنچنا۔ اَذًی (اسم ذات بھی ہے) : جسمانی اور نفسیاتی تکلیف ‘ اذیت ‘ کوفت۔ (آیت زیرمطالعہ) آذٰی (افعال) اِیْذَائً : تکلیف پہنچانا ‘ اذیت دینا۔ { لاَ تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی } (الاحزاب :69) ” تم لوگ مت ہو ان کی طرح جنہوں نے اذیت دی موسٰی (علیہ السلام) کو۔ “ اٰذِ (فعل امر) : تو تکلیف دے ‘ دکھ دے۔ { وَالَّذَانِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَاج } (النسائ :16) ” اور وہ دونوں جو پہنچتے ہیں تم میں سے اس تک (یعنی یہ کام کرتے ہیں) تو تم لوگ تکلیف دو ان دونوں کو۔ “ ترکیب : ” وَاَتِمُّوْا “ فعل امر ہے۔ ” اَلْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ “ اس کا مفعول ہے اور ” لِلّٰہِ “ متعلق فعل ہے۔ ” فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ “ شرط ہے اور ” فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ “ جواب شرط ہے۔ ” فَمَا “ کا ” مَا “ موصولہ ہے۔ ” اِسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ “ اس کا صلہ ہے۔ یہ صلہ موصول مل کر مبتدأ ہے ‘ جبکہ اس کی خبر اور متعلق خبر ” وَاجِبٌ عَلَیْکُمْ “ محذوف ہے۔ ” لَا تَحْلِقُوْا “ فعل نہی ہے۔ اس کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” رُ ئُ وْسَکُمْ “ مفعول ہے۔ ” یَبْلُغُ “ فعل لازم ہے ۔ ” الْھَدْیُ “ فاعل ہے اور اس کا مفعول نہیں آئے گا۔” مَحِلَّہٗ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” فَمَنْ کَانَ “ سے ” رَاْسِہٖ “ تک شرط ہے اور ” فَفِدْیَۃٌ“ جواب شرط ہے۔ ” مِنْ “ بیانیہ ہے۔ ” صِیَامٍ ‘ صَدَقَۃٍ ‘ نُسُکٍ “ فدیہ کی وضاحت کے لیے ہے۔ ” فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ “ شرط ہے ‘ اس کی ضمیر مفعولی ” ہُ “ محذوف ہے جو کہ ” الْھَدْیَ “ کے لیے ہے۔ ” فَصِیَامُ “ سے ” اِذَا رَجَعْتُمْ “ تک جواب شرط ہے۔ اس کے بعد ” وَاجِبٌ عَلَیْہِ “ محذوف ہے۔ ” تِلْکَ “ مبتدأ اور ” عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ“ خبر ہے۔ یہ جملہ تاکید کے لیے ہے۔ ” ذٰلِکَ “ کا اشارہ اس آیت میں مذکور واجبات کی طرف ہے اور یہ مبتدأ ہے۔ اس کی بھی خبر ” وَاجِبٌ“ محذوف ہے ‘ جبکہ ” لِمَنْ “ سے ” الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “ تک متعلق خبر ہے۔ ” لَمْ یَـکُنْ “ کا اسم ” اَھْلُہٗ “ ہے جبکہ ” حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “ اس کی خبر ہے۔ ” کَانَ “ کی خبر ہونے کی وجہ سے ” حَاضِرِیْنَ “ نصب میں ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے اس کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ” شَدِیْدُ الْعِقَابِ “ مرکب اضافی ہے لیکن اردو محاورہ کی وجہ سے اس کا ترجمہ مرکب توصیفی کا ہوگا۔ (البقرۃ :2 ۔ نوٹ (1) : اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ حج یا عمرہ کرو ‘ بلکہ کہا گیا ہے کہ انہیں پورا کرو۔ اس لیے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھ لینے کے بعد اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی مجبوری لاحق ہوجائے تو قربانی کر کے احرام کھول دے ‘ لیکن بعد میں اس کی قضا لازمی ہے۔ (معارف القرآن) نوٹ (2) : قربانی سے پہلے سر مونڈنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کسی بیماری یا مجبوری سے ایسا کرنا پڑجائے تو فدیہ میں روزے رکھنے ہوں گے ‘ یا صدقہ دینا ہوگا یا قربانی کرنی ہوگی۔ اس آیت میں اس کا نصاب نہیں دیا گیا۔ البتہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تین روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا کم از کم ایک بکری کی قربانی دے۔ (معارف القرآن) نوٹ (3) : اسلام سے پہلے ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج کرنے کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ٹھیک ہے جو مسجدِ حرام کے حاضرین ہیں ‘ یعنی جن کی رہائش حرم کی میقاتوں کے اندر ہے۔ لیکن باہر والوں کے لیے یہ مشکل تھا کہ وہ عمرہ کر کے واپس جائیں اور حج کے لیے دوبارہ سفر کریں۔ چناچہ اس آیت میں باہر والوں یعنی آفاقی لوگوں کو اجازت دی گئی کہ ایک ہی سفر میں وہ عمرہ سے حج تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمرہ کرنے کے بعد وہ احرام کھول دیں اور حج کے لیے دوبارہ احرام باندھیں ‘ البتہ ایسے حاجیوں کے لیے قربانی کرنا ضروری ہے۔