2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپائیں اُنہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے

[ وَالْمُطَلَّقٰتُ : اور طلاق شدہ خواتین ] [ یَتَرَبَّصْنَ : انتظار کریں گی ] [ بِاَنْفُسِہِنَّ : اپنے نفس کے ساتھ ] [ ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍ : تین مدتیں (یعنی حیض) ] [ وَلاَ یَحِلُّ : اور حلال نہیں ہوتا ] [ لَہُنَّ : ان کے لیے ] [ اَنْ یَّــکْتُمْنَ : کہ وہ چھپائیں ] [ مَا : اس کو جس کو ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ فِیْ اَرْحَامِہِنَّ : ان کے رحموں میں ] [ اِنْ کُنّ : اگر وہ ہیں ] [ یُؤْمِنَّ : (کہ) ایمان رکھتی ہیں ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن (یعنی آخرت) پر ] [ وَبُعُوْلَتُہُنَّ : اور ان کے شوہر ] [ اَحَقُّ : زیادہ حق دار ہیں ] [ بِرَدِّہِنَّ : ان کو لوٹانے کے ] [ فِیْ ذٰلِکَ : اس میں ] [ اِنْ اَرَادُوْآ : اگر وہ لوگ ارادہ کریں ] [ اِصْلاَحًا : اصلاح کرنے کا ] [ وَلَہُنَّ : اور ان کے لیے ہے ] [ مِثْلُ الَّذِیْ : اس کے جیسا جو ] [ عَلَیْہِنَّ : ان پر ہے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلائی سے ] [ وَلِلرِّجَالِ : اور مردوں کے لیے ہے ] [ عَلَیْہِنَّ : ان پر ] [ دَرَجَۃٌ : ایک درجہ ] [ وَاللّٰہُ اور اللہ ] [ عَزِیْزٌ: بالادست ہے ] [ حَکِیْمٌ : حکمت والا ہے ] ب ع ل بَعَلَ (ن) بَعَالَۃً : شوہر ہونا ‘ شوہر بننا۔ بَعْلٌ ج بُعُوْلَۃٌ (اسم ذات) : شوہر ‘ خاوند۔ { وَھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًاط } (ھود :72) ” اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ “ جمع کے لیے آیت زیر مطالعہ دیکھیں۔ بَعْلٌ : شام کے ایک قدیم شہر بَعْلَـبَکَّ کے ایک بت کا نام۔ { اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” کیا تم لوگ پکارتے ہو بعل کو اور چھوڑتے ہو بہترین خالق کو ؟ “ د رج دَرَجَ (ن) دُرُوْجًا : سیڑھیاں چڑھنا ‘ آہستہ آہستہ چلنا۔ دَرَجَۃٌ : سیڑھی کا ایک زینہ ‘ بلندی ‘ رتبہ۔ { مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍط } (البقرۃ :253) ” ان میں وہ بھی ہے جس سے کلام کیا اللہ نے اور بلند کیا ان کے بعض کو درجوں کے لحاظ سے۔ “ اِسْتَدْرَجَ (استفعال) اِسْتِدْرَاجًا : آہستہ آہستہ لے جانا۔ { سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ } (القلم) ” ہم عنقریب آہستہ آہستہ لے جائیں گے ان کو جہاں سے وہ نہیں جانتے۔ “ ترکیب : ” اَلْمُطَلَّقٰتُ “ مبتدأ ہے۔ ” یَتَرَبَّصْنَ “ سے ” قُرُوْئٍ “ تک پورا جملہ اس کی خب رہے۔ ” ثَلٰـثَۃَ قُرُوْئٍ “ ظرف ہے اس لیے ” ثَلٰــثَۃَ “ منصوب ہے۔ ” اَنْ یَّـکْتُمْنَ “ سے ” فِیْ اَرْحَامِھِنَّ “ تک پورا جملہ ” لَا یَحِلُّ “ کا فاعل ہے اور یہ جوابِ شرط ہے اگلے شرطیہ جملے کی۔ ” یَکْتُمْنَ “ اور ” خَلَقَ “ دونوں کا مفعول ” مَا “ ہے۔ ” بُعُوْلَتُھُنَّ “ مبتدأ ہے اور ” اَحَقُّ “ اس کی خبر ہے۔ ” ذٰلِکَ “ کا اشارہ ” ثَلٰـثَۃَ قُرُوْئٍ “ کی طرف ہے۔ ” دَرَجَۃٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے اور ” لِلرِّجَالِ “ قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ ” عَلَیْھِنَّ “ متعلق خبر ہے۔ نوٹ (1) : شوہر اور بیوی کے تعلقات پر بات ہو رہی ہے۔ اس پس منظر میں { وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ } کے دو مفہوم ہیں اور یہاں دونوں ہی مراد ہیں۔ اوّلاً یہ کہ جس طرح شوہر کے ساتھ بھلا سلوک کرنا بیوی پر فرض ہے ‘ اسی طرح اس کا یہ حق بھی ہے کہ شوہر اس کے ساتھ بھلا سلوک کرے۔ ثانیاً یہ کہ جس طرح بیوی کے کچھ فرائض ہیں ‘ اسی طرح اس کے کچھ حقوق بھی ہیں۔ شوہر و بیوی کے حقوق و فرائض کا تعین وقت کے تہذیبی اور تمدنی دستور اور رواج کے مطابق ہوگا ‘ بشرطیکہ کوئی دستور اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ ہو ‘ کیونکہ جب کوئی دستور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوتا ہے تو وہ نیکی اور بھلائی کے درجے سے گر جاتا ہے اور وہی دراصل فساد کا سبب بنتا ہے۔ نوٹ (2) : { وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ} کا مطلب یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق و فرائض تو ہیں لیکن اس کی وجہ سے کوئی اس خبط میں مبتلا نہ ہو کہ دونوں بالکل مساوی ہیں۔ کیونکہ دونوں کے حقوق و فرائض ہونے کے باوجود شوہر کو بیوی پر ایک درجہ برتری حاصل ہے اور یہ برتری اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ اس کے اتنے واضح فرمان کے باوجود عورت اور مرد کی مساوات کا نعرہ جہالت ہے۔ عورت کرکٹ کھیل لے ‘ باکسنگ کرلے ‘ ہوائی جہاز اڑا لے ‘ خلائی سفر سے ہو آئے ‘ جو مرضی ہو کرلے لیکن جب کبھی اسے کوئی کانٹا چبھے گا تو اس نے اُوئی اللہ کرنا ہی کرنا ہے۔ یہ بات میں نے مذاق میں نہیں کی بلکہ مجبوراً کی ہے کہ شاید اس طرح ہی ان لوگوں کی آنکھ کھل جائے جنہوں نے ایسے حقائق سے آنکھ بند کی ہوئی ہے جو اندھے کو بھی نظر آتے ہیں۔ عورت اور مرد کے جسم کی ظاہری ساخت کا فرق بہت نمایاں ہے لیکن ان کے اندرونی نظام میں بھی فرق ہے۔ جسمانی اعضاء اور غدود (glands) کی کارکردگی ‘ (functions) مختلف ہیں ‘ ان کے اثرات بھی مختلف ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کی نفسیات بھی مختلف ہے۔ مساوات کا نعرہ لگانے والوں کو چاہیے کہ پہلے وہ ان فرقوں کو دور کریں ‘ پھر مساوات کا نعرہ لگائیں۔ نوٹ (3) : آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے دو صفات ’ عزیز اور حکیم ‘ ہم کو یاد دلائی گئی ہیں۔ اللہ کے عزیز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اختیار مطلق ہے جس پر کسی قسم کی کوئی تحدید (limitation) نہیں ہے۔ وہ جو چاہے فیصلہ کرسکتا ہے اور جو چاہے حکم دے سکتا ہے۔ حکیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں حکمت والا ہے۔ اس لیے اس کا ہر فیصلہ اور ہر حکم اس کی حکمت سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ جو بھی مسلمان مرد یا عورت اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اللہ کے ہر حکم کو اس یقین کے ساتھ قبول کرتا ہے کہ اسی میں ہم لوگوں کے لیے بھلائی ہے۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں

[ اَلطَّلاَقُ : طلاق ] [ مَرَّتٰنِ : دو مرتبہ ہے ] [ فَاِمْسَاکٌ : پھر روکنا ہے ] [ بِمَعْرُوْفٍ : بھلائی سے ] [ اَوْ : یا ] [ تَسْرِیْحٌ : آزاد کرنا ہے ] [ بِاِحْسَانٍ : خوبصورت انداز سے ] [ وَلاَ یَحِلُّ : اور حلال نہیں ہے ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَاْخُذُوْا : تم لوگ لو ] [ مِمَّــآ : اس میں سے جو ] [ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ : تم لوگوں نے دیا ان کو ] [ شَیْئًا : کوئی چیز ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّخَافَـآ : وہ دونوں خوف کریں ] [ اَلاَّ یُـقِیْمَا : کہ وہ قائم نہیں رکھیں گے ] [ حُدُوْدَ اللّٰہِ : اللہ کی حدود کو ] [ فَاِنْ : پس اگر ] [ خِفْتُمْ : تم لوگ خوف کرو ] [ اَلاَّ یُقِیْمَا : کہ وہ دونوں قائم نہیں رکھیں گے ] [ حُدُوْدَ اللّٰہِ : اللہ کی حدوں کو ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِمَا : ان دونوں پر ] [ فِیْمَا : اس میں ] [ افْتَدَتْ : وہ خاتون خود کو چھڑائے ] [ بِہٖ : جس سے ] [ تِلْکَ : یہ ] [ حُدُوْدُ اللّٰہِ : اللہ کی حدود ہیں ] [ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا : پس تم لوگ تجاوز مت کرو ان سے ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّـتَـعَدَّ : جانتے بوجھتے تجاوز کرتا ہے ] [ حُدُوْدَ اللّٰہِ : اللہ کی حدوں سے ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ : ہی ظلم کرنے والے ہیں ] م ر ر مَرَّ (س) مَرَارَۃً : تلخ ہونا ‘ کڑوا ہونا۔ اَمَرُّ (افعل التفضیل) : زیادہ کڑوا ‘ انتہائی کڑوا۔ { وَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَاَمَرُّ ۔ } (القمر) ” اور قیامت بڑی مصیبت اور انتہائی کڑوی ہے۔ “ مَرَّ (ن) مَرًّا : (1) رسّی کو بٹنا ‘ دیرپا بنانا ‘ ہمیشگی دینا۔ (2) کسی کے پاس سے گزرنا (بٹی ہوئی رسّی کی ایک لڑی دوسری کے پاس سے گزرتی ہے) ۔ { وَکَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا وَھُمْ عَنْھَا مُعْرِضُوْنَ ۔ } (یوسف) ” اور نشانیوں میں سے کتنی ہی ہیں زمین اور آسمانوں میں کہ وہ لوگ گزرتے ہیں ان کے پاس سے اس حال میں کہ وہ لوگ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ “ مَرَّۃٌ : بار ‘ دفعہ ‘ مرتبہ (یعنی بٹی ہوئی رسّی کی لڑیوں میں سے کوئی لڑی) ۔ { اِنَّـکُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ } (التوبۃ :83)” بیشک تم لوگ راضی ہوئے بیٹھنے پر پہلی بار۔ “ { اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْط } (التوبۃ :80) ” اگر آپ ﷺ استغفار کریں ان کے لیے ستر دفعہ تو بھی ہرگز معاف نہیں کرے گا اللہ ان کو۔ “{ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ } (الانفال :56) ” پھر وہ لوگ توڑتے ہیں اپنا عہد ہر مرتبہ۔ “ اِسْتَمَرَّ (استفعال) اِسْتِمْرَارًا : ہمیشگی چاہنا ‘ یعنی ہمیشہ ہونا ‘ دائمی ہونا۔ مُسْتَمِرٌّ(اسم الفاعل) : ہمیشہ ہونے والا ‘ دائمی۔{ اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ ۔ } (القمر) ” بیشک ہم نے بھیجا ان پر ایک تیز آندھی کو ایک دائمی نحوست کے دن۔ “ م س ک مَسَکَ (ض) مَسْکًا : کسی سے متعلق ہونا ‘ کسی سے چمٹنا۔ مَسُکَ (ک) مَسَاکَۃً : مشک کی خوشبو لگانا۔ مِسْکٌ (اسم ذات) : مشک۔ { خِتٰمُہٗ مِسْکٌط } (المطفّفین :26) ” اس کی مہر مشک ہے۔ “ اَمْسَکَ (افعال) اِمْسَاکًا : کسی چیز کو تھامنا ‘ روکنا۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ } (فاطر :41) ” یقینا اللہ تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو۔ “{ وَلَا تُمْسِکُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاج } (البقرۃ :231) ” اور تم لوگ مت روکو ان کو تکلیف دیتے ہوئے کہ تم لوگ زیادتی کرو۔ “ اَمْسِکْ (فعل امر) : تو تھام ‘ تو روک۔ { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ } (الطلاق :2) ” پھر جب وہ پہنچیں اپنی مدت کو تو تم لوگ روکو ان کو بھلائی کے ساتھ یاجدا کرو ان کو بھلائی سے۔ “ مُمْسِکٌ (اسم الفاعل) : تھامنے والا ‘ روکنے والا۔ { مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَھَاج } (فاطر :2) ” جو کھولتا ہے اللہ لوگوں کے لیے اپنی کسی رحمت میں سے تو کوئی روکنے والا نہیں ہے اس کو۔ “ مَسَّکَ (تفعیل) تَمْسِیْکًا : کثرت سے تھامنا ‘ یعنی مضبوطی سے تھامنا ‘ مضبوطی سے پکڑنا۔ { وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَط } (الاعراف :170) ” اور جو لوگ مضبوطی سے تھامتے ہیں کتاب کو اور قائم رکھتے ہیں نماز کو۔ “ اِسْتَمْسَکَ (استفعال) اِسْتِمْسَاکًا : کسی سے چمٹنا چاہنا ‘ چمٹ جانا۔ { فَمَنْ یَّـکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق } (البقرۃ :256) ” تو جو انکار کرتا ہے طاغوت کا اور ایمان لاتا ہے اللہ پر تو وہ چمٹ گیا ہے انتہائی مضبوط رسّی سے۔ “ اِسْتَمْسِکْ (فعل امر) : تو چمٹ جا۔ { فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْ اُوْحِیَ اِلَیْکَج } (الزّخرف :43) ” پس آپ ﷺ چمٹ جائیں اس سے جو وحی کیا گیا آپ ﷺ ‘ کی طرف۔ “ مُسْتَمْسِکٌ (اسم الفاعل) : چمٹ جانے والا۔ { اَمْ اٰتَیْنٰھُمْ کِتٰـبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَھُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ ۔ } (الزّخرف) ” یا ہم نے دی ان کو کوئی کتاب اس سے پہلے تو وہ لوگ اس سے چمٹ جانے والے ہیں۔ “ س رح سَرَحَ (ف) سَرْحًا : سرح کا درخت (ایک قسم کا بغیر کانٹے والا درخت) چرنے کے لیے اونٹ کو کھلا چھوڑنا ‘ مویشی کو چرنے کے لیے چھوڑنا۔ { حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ ۔ } (النحل) ” جب تم لوگ واپس لاتے ہو اور جب چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ “ سَرَاحٌ (اسم فعل) : چھوڑنا ‘ آزاد کرنا۔ { وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا ۔ } (الاحزاب) ” اور میں آزاد کروں تم سب کو ‘ خوبصورت آزاد کرنا۔ “ سَرَّحَ (تفعیل) تَسْرِیْحًا : بالکل چھوڑنا ‘ آزاد کرنا ‘ بیوی کو طلاق دینا۔ مذکورہ بالا آیت (الاحزاب :28) دیکھیں۔ سَرِّحْ (فعل امر) : تو بالکل آزاد کر ‘ طلاق دے۔ { اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍص } (البقرۃ :231) ” یا تم لوگ بالکل آزاد کرو ان کو بھلائی سے۔ “ ترکیب : ” اَلطَّلَاقُ “ مبتدأ ہے اور ” مَرَّتَانِ “ خبر ہے ۔ ” اِمْسَاکٌ“ اور ” تَسْرِیْحٌ“ مبتدأ نکرہ ہیں ‘ ان کی خبریں محذوف ہیں جو کہ ” جَائِزٌ“ ہوسکتی ہیں ‘ جبکہ ” بِمَعْرُوْفٍ “ اور ” بِاِحْسَانٍ “ قائم مقام خبر ہیں۔ ” مِمَّا “ دراصل ” مِنْ مَا “ ہے۔ ” تَاْخُذُوْا “ اور ” اٰتَیْتُمُوْا “ دونوں کا مفعول ” مَا “ ہے ‘ جبکہ ” مَا “ کی تمیز ہونے کی وجہ سے ” شَیْئًا “ منصوب ہے۔ ” اَنْ “ کی وجہ سے ” یَخَافَانِ “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔” اَلاَّ “ دراصل ” اَنْ لَا “ ہے۔ اس کے ” اَنْ “ کی وجہ سے ” یُقِیْمَانِ “ کا نون اعرابی گرا ہوا ہے۔ ” لَا تَعْتَدُوْا “ بابِ افتعال سے فعل نہی ہے اور جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے ‘ جبکہ ” یَتَعَدَّ “ باب تفعّل سے فعل مضارع میں واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور یہ ” مَنْ “ شرطیہ کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے۔ نوٹ (1) : اسلام سے پہلے کچھ لوگ اپنی بیوی کو طلاق دیتے تھے اور عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیتے تھے۔ اس کے بعد پھر طلاق دیتے رہتے اور رجوع کرتے رہتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ نہ تو اس عورت کا گھر آباد ہوتا تھا اور نہ ہی وہ کسی اور جگہ نکاح کرنے کے لیے آزاد ہوتی تھی۔ اس آیت میں شوہر کے اس اختیار کو برقرار رکھا گیا ہے ‘ لیکن اسے محدود کردیا گیا ہے۔ اپنی عائلی زندگی میں ایک شوہر اپنا یہ اختیار دو مرتبہ استعمال کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ تیسری مرتبہ طلاق دیتا ہے تو اس کا رجوع کرنے کا اختیار ختم ہوچکا ہے۔ اب عدت پوری ہونے کے بعد طلاق ہی ہوگی۔ نوٹ (2) : ” ایک عورت آپ ﷺ ‘ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ میں اپنے خاوند سے ناخوش ہوں ‘ اس کے یہاں رہنا نہیں چاہتی۔ آپ ﷺ نے تحقیق کی تو عورت نے کہا کہ وہ میرے حقوق میں کوتاہی نہیں کرتا اور نہ اس کے اخلاق و تدین پر مجھ کو اعتراض ہے ‘ لیکن مجھ کو اس سے منافرتِ طبعی ہے۔ آپ ﷺ نے عورت سے مہر واپس کرایا اور شوہر سے طلاق دلوا دی۔ اس پر یہ آیت اتری “۔ (ترجمۂ شیخ الہند (رح) ) مذکورہ شان نزول کا تعلق آیت کے اگلے حصے سے ہے۔ شوہر کے طلاق دینے کے اختیار کو محدود کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اگر اس کے نتیجے میں طلاق ہو تو شوہر کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی چیزوں میں سے کچھ بھی واپس لے ‘ اِلّا یہ کہ اگر دونوں کو خوف ہو کہ وہ ایک دوسرے سے بھلا سلوک نہ کرسکیں گے۔ اس کا ایک مطلب یہ نکالنے کی گنجائش تھی کہ اگر شوہراس خوف کا اظہار کرے اور کہے کہ اس لیے میں فلاں فلاں چیزیں واپس لے کر طلاق دیتاہوں۔ اس گنجائش کو ختم کرنے کے لیے آگے وضاحت کردی گئی کہ مذکورہ استثنائی صورت کا تعلق بیوی کے خلع مانگنے سے ہے کہ اگر اس خوف کی بنیاد پر وہ کوئی چیز واپس کر کے خود کو آزاد کرانا چاہے تو ایسی صورت میں واپس لینے پر شوہر پر اور واپس کرنے پر بیوی پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ نوٹ (3) : طلاق اور خلع میں ایک فرق ہے۔ شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے ‘ لیکن بیوی اپنے شوہر کو خلع نہیں دے سکتی بلکہ مانگ سکتی ہے۔ خلع کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار شوہر کو نہیں دیا گیا ‘ بلکہ فَاِنْ خِفْتُمْ کی شرط لگا کر بتادیا گیا کہ خلع کے متعلق فیصلہ خاندان ‘ برادری یا معاشرے کا کوئی اجتماعی ادارہ کرے گا ‘ مثلاً پنچایت ‘ قاضی یا عدالت وغیرہ۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر (دو بارہ طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار) طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہوگی، الّا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجو ع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنہیں وہ اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے، جو (اس کی حدود کو توڑنے کا انجام) جانتے ہیں

[ فَاِنْ : پس اگر ] [ طَلَّقَہَا : وہ طلاق دیتا ہے اس کو ] [ فَلاَ تَحِلُّ : تو وہ حلال نہیں ہوگی ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ مِنْم بَعْدُ : اس کے بعد ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ تَنْکِحَ : وہ عورت نکاح کرے ] [ زَوْجًا : کسی (ہونے والے) شوہر سے ] [ غَیْرَہٗ : اس کے علاوہ ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ طَلَّـقَہَا : وہ طلاق دے اس کو ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِمَا : ان دونوں پر ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـتَرَاجَعَا : وہ دونوں باہم رجوع کریں ] [ اِنْ : اگر ] [ ظَنَّــا : ان دونوں کو خیال ہو ] [ اَنْ یُّقِیْمَا : کہ وہ قائم رکھیں گے ] [ حُدُوْدَ اللّٰہِ : اللہ کی حدوں کو ] [ وَتِلْکَ : اور یہ ] [ حُدُوْدُ اللّٰہِ : اللہ کی حدود ہیں ] [ یُـبَـیِّنُہَا : وہ واضح کرتا ہے ان کو ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لیے ] [ یَّعْلَمُوْنَ : جو علم رکھتے ہیں ] ترکیب : ” طَلَّقَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو شوہر کے لیے ہے اور ضمیر مفعولی ” ھَا “ بیوی کے لیے ہے۔ ” تَحِلُّ “ کا فاعل اس میں ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو طلاق شدہ بیوی کے لیے ہے اور ” لَـہٗ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر شوہر کے لیے ہے۔ ” تَنْکِحَ “ کا فاعل اس میں ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو طلاق شدہ بیوی کے لیے ہے اور ” زَوْجًا “ اس کا مفعول ہے۔ ” زَوْجًا “ کا بدل ہونے کی وجہ سے ” غَیْرَ “ منصوب ہے اور ” ہُ “ کی ضمیر طلاق دینے والے شوہر کے لیے ہے۔ اس کے بعد ” طَلَّقَ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” زَوْجًا “ کے لیے ہے۔ ” عَلَیْھِمَا “ میں ” ھُمَا “ کی ضمیر بیوی اور اس کے پہلے شوہر کے لیے ہے۔ ” یُـبَـیِّنُ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے اور اس کی ضمیرمفعولی ” ھَا “ حُدُوْد کے لیے ہے۔ ” لِقَوْمٍ “ نکرہ موصوف ہے۔ نوٹ (1) : سورة البقرۃ کی آیت 221 میں مشرکوں سے نکاح کی ممانعت آئی تھی۔ وہاں مردوں کو منع کرنے کے لیے لفظ ” نَـکَحَ “ ثلاثی مجرد سے آیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ مشرکات سے نکاح مت کرو۔ لیکن خواتین کی ممانعت کے لیے وہ لفظ باب افعال سے آیا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ مشرکوں کے نکاح میں مت دو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواتین کے نکاح کے لیے ان کے ولی کی اجازت ضروری ہے۔ اس کی مزید وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس کسی عورت نے نکاح کیا ‘ اپنے ولی کی اجازت کے بغیر ‘ تو اس کا نکاح باطل ہے ‘ تو اس کا نکاح باطل ہے ‘ تو اس کا نکاح باطل ہے “۔ (ابودائود شریف ‘ کتاب النکاح) آیت زیر مطالعہ میں طلاق شدہ خواتین کے نکاح کی بات ہو رہی ہے۔ یہاں پر لفظ ” نَـکَحَ “ ثلاثی مجرد سے آیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت نکاح کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر شادی شدہ خواتین کے نکاح کے لیے ان کے ولی کی اجازت ضروری ہے ‘ لیکن مطلقہ خواتین کے لیے یہ ضروری نہیں ہے۔ بیوہ خواتین کا بھی یہی حکم ہے۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا، وہ در حقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ طَلَّقْتُمُ : تم لوگ طلاق دو ] [ النِّسَآئَ : عورتوں کو ] [ فَـبَلَغْنَ : پھر وہ پہنچیں ] [ اَجَلَہُنَّ : اپنی مدت (کے قرب) کو ] [ فَاَمْسِکُوْہُنَّ : تو تم لوگ روکو ان کو ] [ بِمَعْرُوْفٍ : بھلائی سے ] [ اَوْ : یا ] [ سَرِّحُوْہُنَّ : آزاد کرو ان کو ] [ بِمَعْرُوْفٍ : بھلائی سے ] [ وَلاَ تُمْسِکُوْہُنَّ : اور تم لوگ مت روکو ان کو ] [ ضِرَارًا : تکلیف دیتے ہوئے ] [ لِّـتَعْتَدُوْا : تاکہ تم زیادتی کرو ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ : یہ کرتا ہے ] [ فَقَدْ ظَلَمَ : تو اس نے ظلم کیا ہے ] [ نَفْسَہٗ : اپنے آپ پر ] [ وَلاَ تَتَّخِذُوْْآ : اور تم لوگ مت بنائو ] [ اٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیات کو ] [ ہُزُوًا : مذاق (کا ذریعہ) ] [ وَاذْکُرُوْا : اور یاد کرو ] [ نِعْمَتَ اللّٰہِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَیْکُمْ : (جو اس نے اتاری ) تم لوگوں پر ] [ وَمَآ : اور (یاد کرو) اس کو جو ] [ اَنْزَلَ : اس نے اتارا ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ : کتاب اور حکمت میں سے ] [ یَعِظُکُمْ : وہ نصیحت کرتا ہے تم لوگوں کو ] [ بِہٖ : جس سے ] [ وَاتَّقُوا : اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ ] [ بِکُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز کو ] [ عَلِیْمٌ : ہر حال میں جاننے والا ہے ] ترکیب : ” اِذَا “ شرطیہ ہے۔ ” طَلَّقْتُمْ “ سے ” اَجَلَھُنَّ “ تک شرط ہے اور ” فَاَمْسِکُوْا “ سے ” لِتَعْتَدُوْا “ تک جوابِ شرط ہے۔ اسی طرح ” مَنْ “ بھی شرطیہ ہے اور آگے اس کی شرط اور جوابِ شرط ہے۔ ” لَا تَتَّخِذُوْا “ کا مفعولِ اوّل ” اٰیٰتِ اللّٰہِ “ ہے اور ” ھُزُوًا “ مفعولِ ثانی ہے۔ ” اَنْزَلَ “ اور ” یَعِظُکُمْ “ کے فاعل ان میں ” ھُوَ “ کی ضمیریں ہیں جو اللہ کے لیے ہیں۔ ” نِعْمَتَ اللّٰہِ “ کے بعد ” مَا اَنْزَلَ “ محذوف ہوگا ‘ مطلب ہوگا کہ اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اتاری ۔ اور ” وَمَا “ میں ” مَا “ سے پہلے ” وَاذْکُرُوْا “ محذوف ہے۔ مفہوم یہ ہوگا کہ یاد کرو اس کو جو اس نے اتاراتم پر۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ طَلَّقْتُمُ : تم لوگ طلاق دو ] [ النِّسَآئَ : عورتوں کو ] [ فَـبَلَغْنَ : پھر وہ پہنچیں ] [ اَجَلَہُنَّ : اپنی مدت (کے اختتام) کو ] [ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ : تو تم لوگ مت روکو ان کو ] [ اَنْ یَّنْکِحْنَ : کہ وہ نکاح کریں ] [ اَزْوَاجَہُنَّ : اپنے (سابقہ یا آئندہ) شوہروں سے ] [ اِذَا تَرَاضَوْا : جب وہ راضی ہوں ] [ بَیْنَہُمْ : آپس میں ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلائی سے ] [ ذٰلِکَ : یہ ہے ] [ یُوْعَظُ : نصیحت کی جاتی ہے ] [ بِہٖ : جس کی ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ کَانَ مِنْکُمْ : تم میں سے ہو ] [ یُؤْمِنُ : (کہ) ایمان رکھتا ہو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخرت پر ] [ ذٰلِکُمْ : یہ ] [ اَزْکٰی : زیادہ پاک ہے پھلنے پھولنے کی رکاوٹوں سے) ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَاَطْہَرُ : اور زیادہ پاک ہے (نجاستوں سے) ] [ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ : اور اللہ جانتا ہے ] [ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ : اور تم لوگ نہیں جانتے ] ع ض ل عَضَلَ (ن) عَضْلاً : روکنا ‘ منع کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔ نوٹ (1) : آیات 231 اور 232 ‘ دونوں میں الفاظ آئے ہیں : ” فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ “۔ دونوں کا ترجمہ ایک ہی ہے لیکن مفہوم میں فرق ہے۔ یہ فرق آگے جوابِ شرط سے واضح ہوتا ہے۔ آیت 231 میں مفہوم یہ ہے کہ جب وہ اپنی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچیں تو تم کو اختیار ہے چاہے رجوع کرلو یا طلاق دے دو ۔ آیت 232 میں مفہوم یہ ہے کہ جب وہ اپنی مدت پوری کرلیں تو رجوع کرنے کا اختیار ختم ہوگیا اور وہ دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے آزاد ہوگئیں۔ اس لیے اب ان کے نکاح میں ان کے لیے مشکلات پیدا مت کرو۔ نوٹ (2) : آیت 229 میں الفاظ آئے ہیں : ” اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ “ (طلاق دو مرتبہ ہے) ۔ اس کے بعد آیت 230 میں بات کا آغاز ” فَاِنْ “ (پھر اگر) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ اس سے اگلی دو آیتوں میں بات کا آغاز ” وَاِذَا “ (اور جب بھی : جب کبھی) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ اس فرق سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ آیت 230 میں تیسری طلاق کی بات ہوئی ہے اور اس کے متعلق حکم دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ ” مَرَّتٰنِ “ کے لفظ کو پکڑ کر کہتے ہیں کہ قرآن میں تیسری طلاق کا تو ذکر ہی نہیں ہے۔ یہ دراصل ان کی ‘ subjective thinking کا کرشمہ ہے جسے قرآن مجید ” تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ “ کہتا ہے۔ نوٹ (3) : ان آیات یعنی آیات 229 تا 232 کے مطالعہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کے لیے ایک ضابطہ اور طریقۂ کار کا تعین کیا ہے۔ اسے حدود اللہ قرار دے کر تاکید کی گئی ہے کہ اس سے تجاوز مت کرو اور اللہ کی آیات کو مذاق مت بنائو۔ اتنے واضح احکام اور ہدایات کے بعد بھی اگر کوئی شخص بیک وقت تین طلاق دیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا مجرم اور گنہگار ہے۔ اور ساتھ ہی اس کی بیوی اس سے تین طلاقوں کے ساتھ آزاد ہوگئی۔ اب رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔” رسول کریم ﷺ کو ایک آدمی کے متعلق خبر دی گئی جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں۔ آپ ﷺ غصے کے عالم میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے ‘ حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ؟ “ (معارف القرآن) ۔ حضرت عمر ؓ سے یہاں تک ثابت ہے کہ جو شخص بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا تھا آپ ؓ اس کو درّے لگاتے تھے۔ (تفہیم القرآن) مذکورہ ثبوت کے علی الرغم ہم لوگ ایسے شخص کو برا بھلا نہیں کہتے ‘ بلکہ الٹا اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو سزا مقرر کی ہے اس سے اس کو بچانے کے لیے چور دروازے تلاش کرتے ہیں ۔ یہ ایک معمّہ ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ نوٹ (4) : اصول یہ ہے کہ اگر کسی نکاح میں وقت کا ذکر ہو تو وہ نکاح فاسد ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں پندرہ دن کے لیے نکاح کرتا ہوں تو اس کا نکاح فاسد ہے۔ دوسراکہتا ہے کہ میں ایک ہزار سال کے لیے نکاح کرتا ہوں ‘ تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ پوری زندگی کے لیے نکاح کر رہا ہے ‘ لیکن چونکہ اس میں بھی وقت کا ذکر ہے اس لیے یہ نکاح بھی فاسد ہے۔ اسی اصول کے تحت اگر کسی کے لیے اس کی مطلقہ بیوی کو حلال کرانے کے لیے اس کا دوسرا نکاح کرایا جائے جس میں یہ طے ہو کہ وہ اسے طلاق دے گا ‘ تو یہ نکاح ‘ نکاح نہیں بلکہ محض ایک بدکاری ہوگی اور اس طرح وہ عورت اپنے سابق شوہر کے لیے حلال نہیں ہوگی۔ متعدد صحابہ کرام ؓ کی متفقہ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس طریقہ سے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (تفہیم القرآن) ہم میں سے اکثر لوگ مذکورہ اصول کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور متعلقہ احادیث کو بھی مانتے ہیں ‘ اس کے باوجود ہم ایسے حلالے کا فتویٰ بھی دیتے ہیں اور اعانت بھی کرتے ہیں جس کے کرنے اور کرانے والے پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ یہ دوسرا معمہ ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ آیت 230 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس نے اپنی حدود کو ان لوگوں کے لیے واضح کیا ہے جو علم رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ یہ ساری خرابی عوام الناس کی جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ تیسرا معمہ ہے۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولا د پوری مدت رضاعت تک دودھ پیے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں اِس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچے کے باپ پر ہے ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کر دو اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے

[ وَالْوَالِدٰتُ : اور بچہ جننے والیاں ] [ یُرْضِعْنَ : دودھ پلائیں گی ] [ اَوْلاَدَہُنَّ : اپنے بچوں کو ] [ حَوْلَـیْنِ کَامِلَیْنِ : کامل دو سال ] [ لِمَنْ : اس کے لیے جو ] [ اَرَادَ : چاہتا ہے ] [ اَنْ یُّـتِمَّ : کہ وہ پورا کرے ] [ الرَّضَاعَۃَ : بچے کے دودھ پینے کو ] [ وَعَلَی : اور اس پر ہے ] [ الْمَوْلُوْدِ : بچہ جنا گیا ] [ لَـہٗ : جس کے لیے ] [ رِزْقُہُنَّ : ان کی خوراک ] [ وَکِسْوَتُہُنَّ : اور ان کا لباس ] [ بِالْمَعْرُوفِ : بھلائی سے ] [ لَا تُکَلَّفُ : پابند نہیں کیا جاتا ] [ نَفْسٌ : کسی جان کو ] [ اِلاَّ : مگر ] [ وُسْعَہَا : اس کی وسعت کو ] [ وَلاَ تُضَآرَّ : اور دکھ نہ دے ] [ وَالِدَۃٌ : کوئی والدہ (کسی کو) ] [ بِوَلَدِہَا : اپنے بچے کے ذریعے ] [ وَلاَ : اور نہ ہی (دکھ دے) ] [ مَوْلُــوْدٌ لَّـہٗ : کوئی والد (کسی کو) ] [ بِوَلَدِہٖ : اپنے بچے کے ذریعے ] [ وَعَلَی الْوَارِثِ : اور وارث پر (واجب) ہے ] [ مِثْلُ ذٰلِکَ : اس کی مانند ] [ فَاِنْ اَرَادَا : پھر اگر دونوں چاہیں ] [ فِصَالاً : بچے کا دودھ چھڑانا ] [ عَنْ تَرَاضٍ : باہمی رضامندی سے ] [ مِّنْہُمَا : ان دونوں میں ] [ وَتَشَاوُرٍ : اور باہمی مشورے سے ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِمَا : ان دونوں پر ] [ وَاِنْ اَرَدْتُّمْ : اور اگر تم لوگ چاہو ] [ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْآ : کہ کسی (اور) سے دودھ پلوائو ] [ اَوْلاَدَکُمْ : اپنے بچوں کو ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِذَا : جب (بشرطیکہ) ] [ سَلَّمْتُمْ : تم لوگ حوالے کر دو ] [ مَّــآ : اس کو جو ] [ اٰتَیْتُمْ : تم نے دینا ہے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق ] [ وَاتَّقُوا اللّٰہَ : اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو اللہ کا ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ بَصِیْرٌ : دیکھنے والا ہے ] ر ض ع رَضَعَ (ف) رَضَاعَۃً : بچے کا دودھ پینا۔ مَرْضَعٌ ج مَرَاضِعُ : دودھ پینے کی جگہ۔ { وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ } (القصص :12) ” اور ہم نے حرام کیا ان (علیہ السلام) پر دودھ پینے کی جگہوں کو اس سے پہلے۔ “ اَرْضَعَ (افعال) اِرْضَاعًا : بچے کو دودھ پلانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ اَرْضِعِیْ (فعل امر) : تو دودھ پلا۔ { وَاَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّ مُوْسٰی اَنْ اَرْضِعِیْہِج } (القصص :7) ” اور ہم نے وحی کی موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کی طرف کہ آپ دودھ پلائیں ان کو۔ “ مُرْضِعَۃٌ (اسم الفاعل) : دودھ پلانے والی۔ { یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّا اَرْضَعَتْ } (الحج :2) ” جس دن تم لوگ دیکھو گے اس کو کہ بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی اس کو جسے اس نے دودھ پلایا ۔ “ اِسْتَرْضَعَ (استفعال) اِسْتِرْضَاعًا : بچے کو کسی سے دودھ پلوانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ک س و کَسَا (ن) کَسْوًا : کسی کو کچھ پہنانا ‘ لباس پہنانا۔ { فَـکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاق } (المؤمنون :14) ” پھر ہم نے پہنایا ہڈیوں کو گوشت۔ “ اُکْسُ (فعل امر) : تو پہنا۔{ وَارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ } (النّساء : 5) ” اور تم لوگ کھلائو ان کو اس میں سے اور پہنائو ان کو۔ “ کِسْوَۃٌ (اسم ذات) : پہنانے کی چیز ‘ لباس۔ آیت زیر مطالعہ۔ ک ل کَلِفَ (س) کَلَفًا : (1) چہرے پر سرخی اور مٹیالا پن چھانا ‘ جھائیاں ہونا۔ (2) مشقت پر آمادہ ہونا۔ کَلَّفَ (تفعیل) تَکْلِیْفًا : کسی کو مشقت میں ڈالنا ‘ کسی کام کا پابند کرنا ‘ تکلیف دینا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ تَکَلَّفَ (تفعّل) تَکَلُّفًا : خود کو مشقت میں ڈالنا ‘ بےدلی سے کام کرنا ‘ بناوٹ کرنا ‘ دکھاوا کرنا۔ مُتَکَلِّفٌ (اسم الفاعل) : بناوٹ کرنے والا ‘ دکھاوا کرنے والا۔ { وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ ۔ } (صٓ) ” اور میں دکھاوا کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “ و ر ث وَرِثَ (ح) وَرْثًا : کسی چیز کا مالک بننا ‘ میت کے ترکے کا مالک بننا ‘ وارث بننا۔ { لَا یَحِلُّ لَـکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْھًاط } (النّسائ :19) ” حلال نہیں ہوتا تم لوگوں کے لیے کہ تم لوگ مالک بنو عورتوں کے زبردستی۔ “{ وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ } (النمل :16) ” اور وارث ہوئے سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کے۔ “ وَارِثٌ ج وَارِثُوْنَ اور وَرَثَۃٌ (اسم الفاعل) : مالک بننے والا ‘ وارث بننے والا۔ { وَنَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ ۔ } (القصص) ” اور یہ کہ ہم بنائیں ان کو پیشوا اور ہم بنائیں ان کو مالک ہونے والے۔ “{ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ ۔ } (الشُّعرائ) ” اور تو بنا مجھ کو ہمیشہ سرسبز رہنے والے باغ کے مالک بننے والوں میں سے۔ “ مِیْرَاثٌ (مِفْعَالٌ کے وزن پر اسم الآلہ) : وارث بننے کا ذریعہ ‘ یعنی ترکہ۔ { وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط } (آل عمران :180) ” اور اللہ کے لیے ہی ہے زمین اور آسمانوں کا ترکہ۔ “ تُرَاثٌ (اسم ذات) : میت کا چھوڑا ہوا مال۔ { وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا ۔ } (الفجر) ” اور تم لوگ کھاتے ہو میت کا مال ‘ سمیٹ کر کھانا۔ “ اَوْرَثَ (افعال) اِیْرَاثًا : کسی کو مالک بنانا ‘ وارث بنانا۔ { تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا ۔ } (مریم) ” یہ باغ وہ ہے جس کا ہم مالک بنائیں گے اپنے بندوں میں سے اس کو جو صاحب ِ تقویٰ تھا۔ “ ص ل فَصَلَ (ض) فَصْلًا : دو چیزوں کے درمیان دوری کرنا ‘ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا ‘ فیصلہ کرنا۔ { اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط } (الحج) ” بیشک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن۔ “ فَصَلَ (ن) فَصُوْلاً : شہر سے نکلنا ‘ روانہ ہونا۔ { فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ } (البقرۃ :249) ” پھر جب روانہ ہوا طالوت لشکروں کے ساتھ۔ “ فَاصِلٌ (اسم الفاعل) : فیصلہ کرنے والا ۔ { وَھُوَ خَیْرُ الْفٰـصِلِیْنَ ۔ } (الانعام) ” اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ “ فَصِیْلَۃٌ (فصیل کا مؤنث) : گھر کی چہار دیواری۔ یہ لفظ پھر گھر میں رہنے والوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ‘ یعنی کنبہ ‘ گھرانہ۔ { وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤْوِیْہِ ۔ } (المعارج) ” اور اپنے گھرانے کو جو اس کو ٹھکانہ دیتا تھا “۔ فَصْلٌ (اسم ذات) : فیصلہ۔ { ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” یہ فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ “ فَصَّلَ (تفعیل) تَفْصِیْلاً : کسی چیز کے اجزاء کو الگ الگ کرنا ‘ کھول کھول کر بیان کرنا ‘ تفصیل سے بتانا۔ { وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلَـعَلَّھُمْ یَـرْجِعُوْنَ ۔ } (الاعراف) ” اور اس طرح ہم کھول کھول کر بتاتے ہیں آیتوں کو اور یہ اس لیے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔ “ مُفَصَّلٌ (اسم المفعول) : تفصیل سے بتایا ہوا ‘ الگ الگ کیا ہوا۔ { ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلًاط } (الانعام :114) ” وہ ہے جس نے اتارا تم لوگوں کی طرف کتاب کو ‘ الگ الگ کی ہوئی حالت میں۔ “ فَاصَلَ (مفاعلہ) فِصَالاً : کسی کو شراکت سے الگ کرنا ‘ بچے کا دودھ چھڑانا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ ش و ر شَارَ (ن) شَوْرًا : (1) چھتے سے شہد نکالنا ‘ کسی چیزکا جوہر نکالنا۔ (2) گھوڑے کی صلاحیت معلوم کرنے کے لیے اس پر سواری کرنا ‘ کسی کا تعارف حاصل کرنا۔ اَشَارَ (افعال) اِشَارَۃً : کسی کا تعارف کرانا ‘ اشارہ کرنا۔ { فَاَشَارَتْ اِلَیْہِط } (مریم :29) ” تو اس نے اشارہ کیا اس کی طرف۔ “ شَاوَرَ (مفاعلہ) مُشَاوَرَۃً : کسی کے دماغ سے اس کی رائے نکالنا ‘ رائے لینا ‘ مشورہ لینا ‘ رائے معلوم کرنا۔ شَاوِرْ (فعل امر) : تو رائے لے۔ { وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِج } (آل عمران :159) ” اور آپ ﷺ رائے لیں ان سے فیصلے میں۔ “ تَشَاوَرَ (تفاعل) تَشَاوُرًا : ایک دوسرے سے رائے لینا ‘ باہم مشورہ کرنا۔ آیت زیرمطالعہ۔ شُوْرٰی (اسم فعل) : باہم مشورہ کرنا۔ { وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْص } (الشّورٰی :38) ” اور ان لوگوں کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے۔ “ ترکیب : ” یُرْضِعْنَ “ کا فاعل اس میں ” ھُنَّ “ کی ضمیر ہے جو ” اَلْوَالِدٰتُ “ کے لیے ہے۔ ” اَوْلاَدَھُنَّ “ اس کا مفعول ہے اور ” حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ “ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” رِزْقُھُنَّ وَکِسْوَتُھُنَّ “ مبتدأ مؤخر ہیں۔ ان میں ” ھُنَّ “ کی ضمیر ” اَلْوَالِدٰتُ “ کے لیے ہے۔ ان کی خبر محذوف ہے جو ” وَاجِبٌ“ ہوسکتی ہے۔ ” عَلَی الْمَوْلُوْدِ لَـہٗ “ قائم مقام خبر مقدم ہے اور ” بِالْمَعْرُوْفِ “ متعلق خبر ہے۔ ” تُکَلَّفُ “ باب تفعیل کا مضارع مجہول ہے اور یہ واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ ” نَفْسٌ“ اس کا نائب فاعل ہے ‘ جبکہ اس کا مفعول محذوف ہے جو ” شَیْئًا “ ہوسکتا ہے ۔ ” لَا تُضَارَّ “ باب مفاعلہ کا مضارع مجزوم ہے ‘ لیکن یہ مضارع معروف اور مجہول دونوں کا فعل نہی بنتا ہے ‘ اس لیے دونوں ترجموں کی گنجائش ہے اور یہاں دونوں ہی مراد ہیں۔ ” وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّــہٗ “ میں ” وَلَا “ کے بعد ” یُضَارَّ “ محذوف ہے اور اس کے بھی دونوں ترجمے مراد ہیں۔ زیادہ تر تراجم میں مجہول کا ترجمہ کیا گیا ہے اس لیے دوسرا پہلو واضح کرنے کے لیے ہم معروف کا ترجمہ دیں گے۔” اٰتَـیْتُمْ “ کا ایک مفعول ” مَا “ ہے اور دوسرا مفعول ” ھُنَّ “ محذوف ہے ۔ ” اِذَا “ شرطیہ کی وجہ سے ” اٰتَیْتُمْ “ کا ترجمہ حال میں ہوگا۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ مر جائیں، اُن کے پیچھے اگر اُن کی بیویاں زندہ ہوں، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے، دس دن روکے رکھیں پھر جب ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں، کریں تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے

[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ یُـتَوَفَّوْنَ : موت دی جاتی ہے ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ وَیَذَرُوْنَ : اور وہ لوگ چھوڑتے ہیں ] [ اَزْوَاجًا : بیویوں کو ] [ یَّـتَرَبَّصْنَ : وہ انتظار کریں گی ] [ بِاَنْفُسِہِنَّ : اپنے نفس کے ساتھ ] [ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ : چار مہینے ] [ وَّعَشْرًا : اور دس (راتیں) ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ بَلَغْنَ : وہ پہنچیں ] [ اَجَلَہُنَّ : اپنی مدت کو ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فِیْمَا : اس میں جو ] [ فَعَلْنَ : وہ کریں ] [ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ : اپنے لیے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلائی سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ خَبِیْرٌ: آگاہ ہے ] و ذ ر وَذَرَ (ف) وَذْرًا : کسی چیز کو چھوڑنا ‘ ترک کرنا۔ { اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” کیا تم لوگ پکارتے ہو بعل کو اور چھوڑتے ہو بہترین پیدا کرنے والے کو ؟ “ ذَرْ (فعل امر) : تو چھوڑ۔ { وَقَالُوْا ذَرْنَا نَـکُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ ۔ } (التوبۃ) ” اور انہوں نے کہا تو چھوڑ ہم کو تو ہم ہوجائیں بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ “ خ ب ر خَبَرَ (ف) خَبْرًا : کسی چیز کے متعلق معلومات حاصل کرنا ‘ آگاہ ہونا۔ خَبَرٌ ج اَخْبَارٌ (اسم ذات) : آگاہی ‘ خبر ‘ معلومات۔ { اِنِّیْ اٰنَسْتُ نَارًا ط سَاٰتِیْکُمْ مِّنْھَا بِخَبَرٍ } (النمل :7) ” بیشک میں دیکھتا ہوں آگ کو ۔ عنقریب میں لائوں گا تم لوگوں کے پاس اس سے کوئی خبر ۔ “{ قَدْ نَـبَّـاَنَا اللّٰہُ مِنْ اَخْبَارِکُمْط } (التوبۃ :94) ” ہم کو بتادیا ہے اللہ نے تمہاری خبروں میں سے۔ “ خَبِیْرٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہمیشہ اور ہر حال میں آگاہ ‘ باخبر ‘ آیت زیر مطالعہ۔ خُبْــرٌ (اسم ذات) : تجربہ ‘ علم۔ { وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ خُبْرًا ۔ } (الکہف) ” اور آپ (علیہ السلام) کیسے ثابت قدم رہیں گے اس پر ‘ آپ (علیہ السلام) نے احاطہ نہیں کیا جس کا ‘ بطور علم کے۔ “ ترکیب :” یُتَوَفَّوْنَ “ باب تفعّل سے مضارع مجہول ہے۔ اس کا نائب فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے جو ” الَّذِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” یَذَرُوْنَ “ کا فاعل اس میں ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے اور یہ بھی ” الَّذِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” اَزْوَاجًا “ اس کا مفعول ہے۔ ” یَتَرَبَّصْنَ “ کا فاعل اس میں ” ھُنَّ “ کی ضمیر ہے جو ” اَزْوَاجًا “ کے لیے ہے۔ ” اَرْبَعَۃَ “ مضاف ہے اور ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ” عَشْرًا “ کے بعد ” لَـیَالٍ “ (راتیں) محذوف ہے۔ یہ دراصل ” عَشْرَ لَیَالٍ “ تھا۔ ” لَـیَالٍ “ محذوف ہوا تو ” عَشْرَ “ مضاف نہیں رہا اس لیے ” عَشْرًا “ آیا ہے۔ اگر یہاں دن مراد ہوتے تو یہ ” عَشْرَۃَ اَیَّامٍ “ بنتا اور پھر ” اَیَّامٍ “ محذوف کرنے سے ” عَشْرَۃً “ آتا۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

زمانہ عدت میں خواہ تم اُن بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو، خواہ دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں اللہ جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی مگر دیکھو! خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا اگر کوئی بات کرنی ہے، تو معرف طریقے سے کرو اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اُس وقت تک نہ کرو، جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے

[ وَلاَ جُنَاحَ : اور کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فِیْمَا : اس میں ] [ عَرَّضْتُمْ : تم لوگ اشارۃً پیش کرو ] [ بِہٖ : جس کو ] [ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآئِ : ان خواتین کے رشتہ کے پیغام میں سے ] [ اَوْ اَکْنَنْتُمْ : یا تم لوگ ] [ چھپائو ] [ فِیْ اَنْفُسِکُمْ : اپنے جی میں ] [ عَلِمَ اللّٰہُ : اللہ نے جانا ] [ اَنَّــکُمْ : کہ تم لوگ ] [ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ : تذکرہ کرو گے ان کا ] [ وَلٰکِنْ : اور لیکن ] [ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ : تم لوگ معاہدہ مت کرو ان سے ] [ سِرًّا : چوری چھپے ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ تَقُوْلُوْا : تم لوگ کہو ] [ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا : دستور کے مطابق کوئی بات ] [ وَلاَ تَعْزِمُوْا : اور پختہ ارادہ مت کرو ] [ عُقْدَۃَ النِّکَاحِ : نکاح کی گرہ کا ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَبْلُغَ : پہنچے ] [ الْکِتٰبُ : قانون ] [ اَجَلَہٗ : اپنی مدت کو ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور تم لوگ جان لو ] [ اَنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ ] [ یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِیْ اَنْفُسِکُمْ : تمہارے نفسوں میں ہے ] [ فَاحْذَرُوْہُ : پس تم لوگ بچو اس سے ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّ اللّٰہَ : کہ اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ حَلِیْمٌ : ہر حال میں بردبار ہے ] خ ط ب خَطَبَ (ن) خَطْبًا : (1) کسی کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنا ‘ وعظ کرنا ‘ تقریر کرنا۔ (2) منگنی کا پیغام دینا ‘ منگنی کرنا۔ خَطْبٌ : صورت حال ‘ حال ‘ مدّعا ‘ مطلب۔ { فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّـھَا الْمُرْسَلُوْنَ ۔ } (الحجر) ” تم لوگوں کا کیا مدعا ہے اے بھیجے ہوئے لوگو ! ( یعنی فرشتو) “ خِطْبَۃٌ : رشتہ کا پیغام۔ آیت زیر مطالعہ۔ خَاطَبَ (مفاعلہ) مُخَاطَبَۃً اور خِطَابًا : کسی کو اپنی طرف متوجہ کر کے گفتگو کرنا ‘ خطاب کرنا۔{ وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاج } (ھود :37) ” اور تم گفتگو مت کرنا مجھ سے ان کے بارے میں جنہوں نے ظلم کیا۔ “ خِطَابٌ (اسم ذات بھی ہے) : گفتگو ‘ خطاب۔ { وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۔ } (صٓ) ” اور وہ حاوی ہوا مجھ پر گفتگو میں۔ “ ک ن ن کَنَّ (ن) کَنًّا : کسی چیز کو کسی چیز میں چھپانا ‘ ڈھانکنا ‘ محفوظ کرنا۔ مَکْنُوْنٌ (اسم المفعول) : چھپایا ہوا ‘ محفوظ کیا ہوا۔ { کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” جیسے کہ وہ ہوں محفوظ کیے ہوئے انڈے۔ “ کِنَانٌ ج اَکِنَّــۃٌ : وہ چیز جس میں چھپایا جائے ‘ غلاف ‘ پردہ۔ { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ } (حٰمٓ السجدۃ :5) ” اور انہوں نے کہا ہمارے دل غلافوں میں ہیں۔ “ کِنٌّ ج اَکْنَانٌ : جس میں انسان خود کو چھپائے ‘ کمرے کے اندر کوٹھڑی ‘ غار۔ { وَجَعَلَ لَـکُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَکْنَانًا }(النحل :81) ” اور اس نے بنائی تمہارے لیے پہاڑوں میں غار۔ “ اَکَنَّ (افعال) اِکْنَانًا : کسی بات کو دل میں چھپانا۔ آیت زیر مطالعہ۔ ع ق د عَقَدَ (ض) عَقْدًا : (1) کسی چیز کو باندھنا ‘ گرہ لگانا۔ (2) کسی چیز کو پکا کرنا ‘ مضبوط کرنا ‘ جیسے وعدہ یا سودا وغیرہ (متعدی) ۔ (3) مضبوط ہونا (لازم) ۔ { وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَـاٰ تُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْط } (النّسائ :33) ” اور وہ لوگ جن سے پکی ہوئیں تمہاری قسمیں تو ان کو دو ان کا حصہ۔ “ عُقْدَۃٌ ج عُقَدٌ (اسم ذات) : گرہ۔ آیت زیر مطالعہ ۔{ وَمِنْ شَرِّ النّٰفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ۔ } (الفلق) ” اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔ “ عِقْــدٌ ج عُقُوْدٌ (اسم ذات) : عہد ‘ پیمان۔ { یٰٓــاَیـُّــھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِط } (المائدۃ :1) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم لوگ پورا کرو عہدوں کو۔ “ عَقَّدَ (تفعیل) تَعْقِیْدًا : بار بار پکا کرنا ‘ خوب مضبوط کرنا۔ { یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَج } (المائدۃ :89) ” وہ پکڑے گا تم کو اس پر جو تم نے پکا کیا قسموں کو۔ “ ترکیب : ” عَرَّضْتُمْ بِہٖ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر ” فِیْمَا “ کے لیے ہے۔ ” مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ “ میں ” مِنْ “ بیانیہ ہے جو ” فِیْمَا “ کی وضاحت کرر ہا ہے۔ ” خِطْبَۃِ “ مضاف ہے اور اس کا مضاف الیہ ” اَلنِّسَائِ “ ہے۔ اس پر لام تعریف لگا ہوا ہے جو گزشتہ آیت کے لفظ ” اَزْوَاجًا “ کے لیے ہے۔ ” لَا تُوَاعِدُوْا “ کا مفعول ” ھُنَّ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” سِرًّا “ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

تم پر کچھ گنا ہ نہیں، اگر اپنی تم عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے یہ حق ہے نیک آدمیوں پر

[ لاَ جُنَاحَ : کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ : اگر تم لوگ طلاق دو عورتوں کو ] [ مَا : جبکہ ] [ لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ : تم نے چھوا نہیں ان کو ] [ اَوْ : یا ] [ تَفْرِضُوْا : (جبکہ نہیں) تم نے فرض کیا ] [ لَہُنَّ : ان کے لیے ] [ فَرِیْضَۃً : کوئی واجب (مہر) ] [ وَّمَتِّعُوْہُنَّ : اور تم لوگ سامان دو ان کو ] [ عَلَی الْمُوْسِعِ : (سامان دینا واجب ہے) فراغ دست پر ] [ قَدَرُہٗ : اس کے اندازے سے ] [ وَعَلَی الْمُقْتِرِ : اور تنگ دست پر ] [ قَدَرُہٗ : اس کے اندازے سے ] [ مَتَاعًا : سامان ہوتے ہوئے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق ] [ حَقًّا : حق ہوتے ہوئے ] [ عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ : بلاکم وکاست کام کرنے والوں پر ] ق ت ر قَـتَرَ (ن) قَتْرًا : خرچ میں تنگی کرنا۔ { وَالَّذِیْنَ اِذَا اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا } (الفرقان :67) ” اور وہ لوگ جو جب بھی خرچ کرتے ہیں تو بےجا خرچ نہیں کرتے اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں۔ “ قَـتُوْرٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : خرچ میں بہت زیادہ تنگی کرنے والا ‘ کنجوس ‘ بخیل۔{ وَکَانَ الْاِنْسَانُ قَـتُوْرًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” اور انسان کنجوس ہے۔ “ قَتِرَ (س) قَتَرًا : کسی چیز کی بو پھیلنا ‘ آگ کا دھواں دینا۔ قَتَرٌ (اسم ذات) : دھواں ‘ سیاہی۔ { وَلَا یَرْھَقُ وُجُوْھَھُمْ قَتَـرٌ وَّلَا ذِلَّــۃٌط } (یونس :26) ” اور نہیں چھائے گی ان کے چہروں پر کوئی سیاہی اور نہ ہی کوئی ذلت۔ “ اَقْتَرَ (افعال) اِقْتَارًا : مال کا کم ہوجانا۔ مُقْتِرٌ (اسم الفاعل) : مال میں کم ہونے والا ‘ تنگ دست۔ آیت زیر مطالعہ۔ ترکیب : ” مَا لَمْ “ کا ” مَا “ ظرفیہ ہے۔ ” اَوْ تَفْرِضُوْا “ میں ” اَوْ “ کے بعد ” مَا لَمْ “ محذوف ہے اس لیے فعل ” تَفْرِضُوْا “ مجزوم آیا ہے۔ ” عَلَی الْمُوْسِعِ “ سے پہلے اس کا مبتدأ” تَمْتِیْعٌ“ اور خبر ” وَاجِبٌ“ محذوف ہے۔ ” مَتَاعًا “ اور ” حَقًّا “ خبر محذوف ” وَاجِبٌ“ کا حال ہے۔
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہے، لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو، تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہر نہ لے) یا وہ مرد، جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے، نرمی سے کام لے (اور پورا مہر دیدے)، اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ : تم لوگ طلاق دو ان کو ] [ مِنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَمَسُّوْہُنَّ : تم نے چھوا ان کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ قَدْ فَرَضْتُمْ : تم فرض کرچکے ہو ] [ لَہُنَّ : ان کے لیے ] [ فَرِیْضَۃً : کوئی واجب (مہر) ] [ فَنِصْفُ مَا : تو اس کا آدھا ہے جو ] [ فَرَضْتُمْ : تم نے فرض کیا (واجب ہے تم پر) ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّعْفُوْنَ : وہ خواتین معاف کردیں ] [ اَوْ : یا (یہ کہ) ] [ یَعْفُوَا : زیادہ دے ] [ الَّذِیْ بِیَدِہٖ : وہ جس کے ہاتھ میں عُقْدَۃُ النِّکَاحِ : نکاح کی گرہ ہے ] [ وَاَنْ : اور یہ کہ ] [ تَعْفُوْآ : تم لوگ زیادہ دو ] [ اَقْرَبُ : (تو یہ) زیادہ قریب ہے لِلتَّقْوٰی : تقویٰ سے ] [ وَلاَ تَنْسَوُا : اور تم لوگ مت بھولو ] [ الْفَضْلَ : حق سے زیادہ چیز کو ] [ بَیْنَـکُمْ : آپس میں ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ بَصِیْرٌ: ہر حال میں دیکھنے والا ہے ] ترکیب : ” وَقَدْ فَرَضْتُمْ “ کا ” واؤ“ حالیہ ہے۔ ” فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ “ میں ” نِصْفُ “ مضاف ہے ‘ ” مَا “ اس کا مضاف الیہ ہے اور یہ پورا فقرہ مبتدأ ہے۔ اس کی خبر ” وَاجِبٌ“ اور متعلق خبر ” عَلَیْکُمْ “ محذوف ہے۔ ” یَعْفُوْنَ “ جمع مذکر غائب اور جمع مؤنث غائب کے صیغوں میں ہم شکل ہوجاتا ہے۔ یہاں چونکہ ” اِلاَّ اَنْ یَّعْفُوْنَ “ میں ” اَنْ “ کی وجہ سے نون اعرابی نہیں گرا ‘ اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ جمع مؤنث غائب ہے۔ ” اَوْ یَعْفُوَا “ دراصل واحد مذکر غائب کا صیغہ ” یَعْفُوْ “ ہے جو ” اِلاَّ اَنْ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہو کر ” یَعْفُوَا “ ہوا ہے اور اس کے آگے ” الف “ لکھنا قرآن کا مخصوص املاء ہے۔ اس کی وجہ سے اس کو تثنیہ کا صیغہ ماننا ممکن نہیں ہے ‘ کیونکہ آگے ” اَلَّذِیْ “ واحد آیا ہے ۔ جبکہ ” وَاَنْ تَعْفُوْا “ جمع مذکر مخاطب ہے ‘ کیونکہ ” اَنْ “ کی وجہ سے نون عرابی گرا ہوا ہے۔ نوٹ (1) : ” تَمَسُّوْھُنَّ “ سے پہلے طلاق دینے کا پاکستانی اصطلاح میں مطلب ہے رخصتی سے پہلے طلاق دینا۔ اس میں دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ نکاح کے وقت مہر طے نہیں ہوا تھا اور رخصتی سے پہلے طلاق ہوگئی۔ اس کے لیے ہدایت گزشتہ آیت میں ہے۔ دوسرے یہ کہ نکاح کے وقت مہر طے ہوا تھا پھر رخصتی سے پہلے طلاق ہوئی۔ اس کے لیے ہدایت آیت زیر مطالعہ میں ہے۔