Ayahs 2:106–107خلاصہ تفسیر
(تبدیل قبلہ کا واقعہ جب ہوا تو یہود نے اس پر طعن کیا اور مشرکین بھی بعض احکام کی منسوخی پر زبان طعن دراز کرتے تھے حق تعالیٰ ان کے طعن اور اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ) ہم کسی آیت کا جو حکم موقوف کردیتے ہیں (گو آیت قرآن میں یا ذہنوں میں باقی رہے) یا اس آیت (ہی) کی (ذہنوں سے) فراموش کردیتے ہیں تو (یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں کیونکہ اس میں بھی مصلحت ہوتی ہے چنانچہ) ہم اس آیت سے بہتر یا اس آیت ہی کے مثل (بجائے اس کے دوسری چیز) لے آتے ہیں (اے معترض) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتے ہیں (پس ایسے قادر کو مصالح کی رعایت کیا مشکل ہے اور) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ایسے ہیں کہ خاص انہی کی سلطنت آسمانوں اور زمین پر ہے (جب ان کی اس قدرت و سلطنت میں کوئی شریک وسہیم نہیں ہے تو ان مصلحتوں کی رعایت کرکے دوسرا حکم دے دینے میں کون مزاحمت کرسکتا ہے غرض حکم ثانی کی تجویز سے بھی مانع نہیں اور اس حکم کے جاری کردینے میں بھی کوئی مانع نہیں) اور (یہ بھی سمجھ رکھو کہ) تمہارا حق تعالیٰ کے سوا کوئی یار و مددگار بھی نہیں پس جب وہ پار ہیں تو احکام میں مصلحت کی ضرور رعایت کریں گے اور جب مددگار ہیں تو ان احکام پر عمل کرنے کے وقت تمہارے مخالفین کی مزاحمت سے بھی ضرور محفوظ رکھیں گے، البتہ اگر اس ضرر سے بڑھ کر کوئی نفع اخروی ملنے والا ہو تو ظاہراً مخالف کا مسلط ہوجانا اور بات ہے،
معارف و مسائل
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا اس آیت میں کسی آیت قرآن کے منسوخ ہونے کی جتنی صورتیں ہوسکتی ہیں سب کو جمع کردیا ہے نسخ کے معنی لغت میں زائل کرنے اور لکھنے کے آتے ہیں اس پر تمام مفسرین امت کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں نسخ سے مراد کسی حکم کا زائل کرنا یعنی منسوخ کرنا ہے اور اسی لئے اصطلاح کتاب وسنت میں نسخ ایک حکم کے بجائے کوئی دوسرا حکم جاری کرنے کو کہا جاتا ہے خواہ وہ دوسرا حکم یہی ہو کہ سابق حکم بالکل ختم کردیا جائے یا یہ ہو کہ اس کی جگہ دوسرا عمل بتلایا جائے،
احکام الہیہ میں نسخ کی حقیقت
دنیا کی حکومتوں اور اداروں میں کسی حکم کو منسوخ کرکے دوسرا حکم جاری کردینا مشہور و معروف ہے لیکن انسانوں کے احکام میں نسخ کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ پہلے کسی غلط فہمی سے ایک حکم جاری کردیا بعد میں حقیقت معلوم ہوئی تو حکم بدل دیا کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ جس وقت یہ حکم جاری کیا گیا اس وقت کے حالات کے مناسب تھا اور آگے آنے والے واقعات و حالات کا اندازہ نہ تھا جب حالات بدلے تو حکم بھی بدلنا پڑا یہ دونوں صورتیں احکام خداوندی میں نہیں ہوسکتی،
ایک تیسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ حکم دینے والے کو اول ہی سے یہ بھی معلوم تھا کہ حالات بدلیں گے اور اس وقت یہ حکم مناسب نہیں ہوگا دوسرا حکم دینا ہوگا یہ جانتے ہوئے آج ایک حکم دے دیا اور جب اپنے علم کے مطابق حالات بدلے تو اپنی قرارداد سابق کے مطابق حکم بھی بدل دیا اس کی مثال ایسی ہے کہ مریض کے موجودہ حالات کو دیکھ کر حکیم یا ڈاکٹر ایک دوا تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ دو روز اس دوا کے استعمال کرنے کے بعد مریض کا حال بدلے گا اس وقت مجھے دوسری دوا تجویز کرنا ہوگی یہ سب جانتے ہوئے وہ پہلے دن ایک دوا تجویز کرتا ہے جو اس دن کے مناسب ہے دو دن کے بعد حالات بدلنے پر دوسری دوا تجویز کرتا ہے،
ماہر حکیم ڈاکٹر یہ بھی کرسکتا ہے کہ پہلے ہی دن پورے علاج کا نظام لکھ کر دیدے کہ دو روز تک یہ دوا استعمال کرو پھر تین روز فلاں دوا پھر ایک ہفتہ فلاں دوا لیکن یہ مریض کی طبیعت پر بےوجہ کا ایک بار بھی ڈالنا ہے اس میں غلط فہمی کی وجہ سے عملی خلل کا بھی خطرہ ہے اس لئے وہ پہلے ہی سے سب تفصیلات نہیں بتلاتا،
اللہ جل شانہ کے احکام میں اور اس کی نازل کی ہوئی کتابوں میں صرف یہی آخری صورت نسخ کی ہوسکتی ہے اور ہوتی رہی ہے ہر آنے والی نبوت اور ہر نازل ہونے والی کتاب نے پچھلی نبوت اور کتاب کے بہت سے احکام کو منسوخ کرکے نئے احکام جاری کئے اور اسی طرح ایک ہی نبوت و شریعت میں ایسا ہوتا رہا کہ کچھ عرصہ تک ایک حکم رہا پھر بتقاضائے حکمت خداوندی اس کو بدل کر دوسرا حکم نافذ کردیا گیا صحیح مسلم کی حدیث میں ہے۔
لم تکن نبوۃ قط الاتناسخت (مسلم)
یعنی کبھی کوئی نبوت نہیں آئی جس نے احکام میں نسخ اور رد وبدل نہ کیا ہو (قرطبی)
جاہلانہ شبہات
البتہ کچھ جاہل یہودیوں نے اپنی جہالت سے احکام الہیہ کے نسخ کو دنیوی احکام کے نسخ کی پہلی دونوں صورتوں پر قیاس کرکے نبی کریم ﷺ پر زبان طعن دراز کی اسی کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں (ابن جریر، ابن کثیروغیرہ)
مسلمانوں میں سے فرقہ معتزلہ کے بعض لوگوں نے شاید ان مخالفین کے طعن سے بچنے کی یہ راہ نکالی کہ احکام الہیہ میں نسخ ہونے کا امکان تو ہے کوئی امر اس امکان کے لئے مانع نہیں لیکن پورے قرآن میں نسخ کا وقوع کہیں نہیں ہوا نہ کوئی آیت ناسخ ہے نہ منسوخ یہ قول ابومسلم اصفہانی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جس پر علماء امت نے ہمیشہ رد ونکیر فرمایا ہے تفسیر روح المعانی میں ہے،
واتفقت اہل الشرائع علیٰ جواز النسخ ووقوعہ وخالفت الیہود غیر العیسویۃ فی جو ازہ وقالوا یمتنع عقلاً وابو مسلم الاصفہانی فی وقوعہ فقال انہ و ان جاز عقلا لکنہ لم یقع، (روح، ص 352 ج 1)
تمام اہل شرائع کا نسخ کے جواز اور وقوع دونوں پر اتفاق ہے صرف یہودیوں نے بجز عیسویہ کے امکان نسخ کا انکار کیا ہے اور ابو مسلم اصفہانی نے وقوع کا انکار کیا ہے وہ کہتا ہے کہ نسخ احکام الہیہ میں ممکن تو ہے مگر کہیں واقع ہوا نہیں،
اور امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا،
معرفۃ ہذا الباب اکیدۃ وفائدتہ عظیمۃ لاتستغنی عن معرفتہ العلماء ولا ینکرہ الا الجہلۃ الاغبیاء (قرطبی ص 55 ج 1)
باب نسخ کی معرفت بہت ضروری ہے اور فائدہ اس کا بہت بڑا ہے اس کی معرفت سے علماء مستغنی نہیں ہوسکتے اور جاہلوں بیوقوفوں کے سوا اس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا،
قرطبی نے اس جگہ ایک واقعہ حضرت علی ؓ کا بھی نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں تشریف لائے تو کوئی آدمی وعظ کہہ رہا تھا آپ نے لوگوں سے پوچھا یہ کیا کررہا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ وعظ و نصیحت کررہا ہے آپ نے فرمایا نہیں یہ کوئی وعظ نصیحت نہیں کرتا بلکہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں فلاں بن فلاں ہوں سو پہچانو پھر اس شخص کو بلوا کر پوچھا کہ کیا تم قرآن و حدیث کے ناسخ منسوخ احکام کو جانتے ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں میں نہیں جانتا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ہماری مسجد سے نکل جاؤ آئندہ کبھی یہاں وعظ نہ کہو،
قرآن وسنت میں نسخ کے وجود وقوع کے متعلق صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین کے اتنے آثار و اقوال موجود ہیں جن کو نقل کرنا مشکل ہے تفسیر ابن جریر ابن کثیر درمنثور وغیرہ میں اسانید قویہ صحیحہ کے ساتھ بھی بہت سی روایات مذکور ہیں اور روایات ضعیفہ کا تو شمار نہیں،
اسی لئے امت میں یہ مسئلہ ہمیشہ اجماعی رہا ہے صرف ابومسلم اصفہانی اور چند معتزلہ نے وقوع نسخ کا انکار کیا ہے جن پر امام رازی نے تفسیر کبیر میں شرح وبسط کے ساتھ رد کیا ہے،
نسخ کے مفہوم میں متقدمین ومتاخرین کی اصطلاحوں میں فرق
چونکہ نسخ کے اصطلاحی معنی تبدیل حکم کے ہیں اور یہ تبدیلی جس طرح ایک حکم کو بالکلیہ منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسرا حکم لانے میں ہے جیسے بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کو قبلہ بنادینا اسی طرح کسی مطلق یا عام حکم میں کسی قید وشرط کو بڑھا دینا بھی ایک قسم کی تبدیلی ہے اسلام امت نے نسخ کو اسی عام معنی میں استعمال فرمایا ہے جس میں کسی حکم کی پوری تبدیلی بھی داخل ہے اور جزوی تبدیلی قید وشرط یا استثناء وغیرہ کی بھی اس میں شامل ہے اسی لئے متقدمین حضرات کے نزدیک قرآن میں آیات منسوخہ پانسو تک شمار کی گئی ہیں،
حضرات متاخرین نے صرف اس تبدیلی کا نام نسخ رکھا ہے جس کی پہلے حکم کے ساتھ کسی طرح تطبیق نہ ہو سکے ظاہر ہے کہ اس اصطلاح کے مطابق آیات منسوخہ کی تعداد بہت گھٹ جائے گی، اسی کا لازمی اثر یہ تھا کہ متقدمین نے تقریباً پانسو آیات قرآنی میں نسخ ثابت کیا تھا جس میں معمولی سی تبدیلی قید وشرط یا استثناء وغیرہ کو بھی شامل کیا تھا اور حضرات متأخرین میں علامہ سیوطی نے صرف بیس آیتوں کو منسوخ قرار دیا ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے ان میں بھی تطبیق کی صورت پیدا کرکے صرف پانچ آیتوں کو منسوخ فرمایا ہے جن میں کوئی تطبیق بغیر تاویل بعید کے نہیں ہوسکتی یہ امر اس لحاظ سے مستحسن ہے کہ احکام میں اصل بقاء حکم ہے نسخ خلاف اصل ہے اس لئے جہاں آیت کے معمول بھا ہونے کی کوئی توجیہ ہوسکتی ہے اس میں بلاضرورت نسخ ماننا درست نہیں،
لیکن اس تقلیل کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہوسکتا کہ مسئلہ نسخ اسلام یا قرآن پر کوئی عیب تھا جس کے ازالہ کی کوشش چودہ سو برس تک چلتی رہی آخری انکشاف حضرت شاہ ولی اللہ کا ہوا جس میں گھٹتے گھٹتے پانچ رہ گئی اور اب اس کا انتظار ہے کہ کوئی جدید محقق ان پانچ کا بھی خاتمہ کرکے بالکل صفر تک پہنچادے،
مسئلہ نسخ کی تحقیق میں ایسا رخ اختیار کرنا نہ اسلام اور قرآن کی کوئی صحیح خدمت ہے اور نہ ایسا کرنے سے صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین اور پھر چودہ سو برس کے علماء متقدمین ومتاخرین کے مقالات وتحقیقات کو دھویا جاسکتا ہے اور نہ مخالفین کی زبان طعن اس سے بند ہوسکتی ہے بلکہ اس زمانے کے ملحدین کے ہاتھ میں یہ ہتھیار دینا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چودہ سو برس تک تمام علماء امت کچھ کہتے رہے ہوں اور آخر میں اس کا غلط ہونا ثابت ہوجائے معاذ اللہ ! اگر یہ دروازہ کھلے گا تو قرآن اور شریعت سے امن اٹھ جائے گا اس کی کیا ضمانت ہے کہ آج جو کسی نے تحقیق کی وہ کل کو غلط ثابت نہیں ہوجائیں گی،
عصر حاضر میں بعض علماء کی ایسی تحریریں نظر سے گذری ہیں جھنوں نے آیت مذکورہ ماننسخ کو متضمن معنے شرط پر ہونے کی وجہ سے ایک قضیہ فرضیہ مثل لو کان فیھما الھۃ اور لو کان للرحمٰن ولد قرار دے کر صرف امکان نسخ کی دلیل بنایا اور وقوع انکار کیا حالانکہ تضمن معنی شرط اور قضیہ شرطیہ بحرف لو میں بڑا فرق ہے اور وہی استدلال ہے جو ابوم سلم اصفہانی اور معتزلہ پیش کرتے ہیں،
لیکن صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین کی تفسریں اور پوری امت کے تراجم دیکھنے کے بعد اس کو مدلول قرآنی کہنا کسی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتا صحابہ کرام نے اسی آیت سے وقوع نسخ پر استدلال کیا ہے اور متعدد واقعات شمار کرائے ہیں (ابن کثیر، ابن جریر وغیرہ)
یہی وجہ ہے کہ امت کے متقدمین ومتاخرین میں کسی نے بھی وقوع نسخ کا مطلقاً انکار نہیں کیا خود حضرت شاہ ولی اللہ نے تطبیق کرکے تعداد تو کم بتلائی مگر مطلقاً وقوع نسخ کا انکار نہیں فرمایا ان کے بعد بھی اکابر علماء دیوبند بلا استثناء سبھی وقوع نسخ کے قائل چلے آئے ہیں جن میں متعدد حضرات کی مستقل یا جزوی تفسیریں بھی موجود ہیں کسی نے بھی نسخ کے وقوع کا مطلقاً انکار نہیں کیا، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم،
او ننسھا یہ مشہور قرات کے مطابق انسا اور نسیان سے ماخوذ ہے معنی یہ ہیں کہ کبھی نسخ آیت کی یہ صورت بھی ہوتی ہے کہ وہ آیت رسول اللہ ﷺ اور تمام صحابہ کرام ؓ اجمعین کے ذہنوں سے بالکل بھلا دینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آئندہ اس پر عمل کرانا مقصود نہیں،
نسخ کے متعلق بقیہ احکام کی تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں اس کا اصل محل اصول فقہ کی کتابیں ہیں۔
Ayah 2:108خلاصہ تفسیر
(بعض یہود نے حضور ﷺ کی خدمت میں عناداً عرض کیا کہ جس طرح موسیٰ ؑ پر ایک ہی دفعہ توراۃ نازل ہوئی اسی طرح آپ قرآن مجموعی طور پر لائیے اس پر ارشاد ہوتا ہے کہ) ہاں کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول (وقت) سے (بیجا بیجا) درخواستیں کرو جیسا کہ اس کے قبل (تمہارے بزرگوں کی طرف سے حضرت) موسیٰ ؑ سے بھی (ایسی ایسی) درخواستیں کی جا چکی ہیں (مثلا خدا تعالیٰ کو علانیہ دیکھنے کی درخواست کی تھی اور ایسی درخواستیں جن میں صرف رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرنا اور مصالح الہیہ میں مزاحمت کرنا ہی مقصود ہو اور ایمان لانے کا پھر بھی ارادہ نہ ہو نری کفر کی باتیں ہیں اور) جو شخص ایمان لانے کی بجائے کفر (کی باتیں) کرے بلاشک وہ شخص راہ راست سے دور جاپڑا۔
فائدہاس درخواست کو بیجا اس لئے فرمایا کہ ہر فعل میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور مصلحتیں جدا جدا ہوتی ہیں بندے کو اس میں تعیین طریق کا کیا حق ہے کہ وہ کہے کہ یہ بات اس طرح ہو یہ اس طرح ہو اس کا کام تو بس یہ ہونا چاہئے،
زباں تازہ کردن باقرارِ تو نینگیختنٍ علت از کار تو
ترجمہ شیخ الہند میں یہ خطاب مسلمانوں سے قرار دیا ہے اس کا حاصل مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کرنا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ سے بےجا سوال نہ کیا کریں،
Ayahs 2:109–110خلاصہ تفسیر
(بعض یہود شب وروز مختلف تدبیروں سے دوستی اور خیر خواہی کے پیرایہ میں مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور باوجود ناکامی کے اپنی دھن سے باز نہ آتے تھے حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس پر متبنہ فرما دیا کہ) ان اہل کتاب (یعنی یہود) میں بہتیرے دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر کافر کر ڈالیں (اور یہ چاہنا کچھ خیر خواہی سے نہیں جیسا کہ وہ اظہار کرتے ہیں بلکہ) محض حسد کی وجہ سے جو کہ (تمہاری جانب سے کسی امر کے سبب پیدا نہیں ہوا بلکہ) خود ان کے دلوں ہی سے (جوش مارتا) ہے (اور یہ بھی نہیں کہ ان کو حق واضح نہ ہوا بلکہ) حق واضح ہوئے پیچھے (یہ حالت ہے اب اس پر مسلمانوں کو ان پر غصہ آنے کا محل تھا اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ) خیر (اب تو) معاف کرو اور درگذر کرو جب تک اللہ تعالیٰ (اس معاملہ کے متعلق) اپنا حکم (قانون جدید) بھجیں (اشارۃ بتلا دیا کہ ان کی شرارتوں کا علاج قانون انتظام امن عام یعنی قتال وجزیہ سے ہم جلد کرنے والے ہیں اس پر مسلمانوں کو اپنا ضعف اور ان کی قوت دیکھ کر اس قانون کے اجراء کے متعلق تعجب ہوسکتا تھا اس پر ارشاد ہوتا ہے کہ تم تعجب کیوں کرتے ہو) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر (خواہ وہ معمولی ہو خواہ عجیب ہو) قادر ہیں اور (سردست صرف) نمازیں پابندی سے پڑھے جاؤ اور (جن پر زکوٰۃ فرض ہے) زکوٰۃ دئیے جاؤ (اور جب قانون آجائے گا ان اعمال صالحہ کے ساتھ اس کا بھی اضافہ کرلینا) اور یہ نہ سمجھو کہ جب تک جہاد کا حکم نہ آوے صرف نماز روزہ سے کچھ ثواب میں کمی رہے گی نہیں بلکہ جو نیک کام بھی اپنی بھلائی کے واسطے جمع کرتے رہو گے حق تعالیٰ کے پاس (پہنچ کر) اس کو (پورا پورا مع صلہ کے) پالو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کئے ہوئے کاموں کی دیکھ بھال کررہے ہیں (ان میں ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہونے پائے گا)
فائدہاس وقت کی حالت کا یہی مقتضا تھا پھر حق تعالیٰ نے اس وعدے کو پورا فرمایا اور جہاد کی آیات نازل ہوئیں جس کے بعد یہود کے ساتھ بھی وہ قانون برتا گیا اور ناشائستہ لوگوں کے ساتھ حسب حیثیت ان کے فساد کے بدلے قتل یا جلا وطنی یا جزیہ پر عملدرآمد کیا گیا،
Ayahs 2:111–113خلاصہ تفسیر
اور یہود نصاریٰ (یوں) کہتے ہیں کہ بہشت میں ہرگز کوئی نہ جانے پاوے گا بجز ان لوگوں کے جو یہودی ہوں (یہ تو یہود کا قول ہے) یا ان لوگوں کے جو نصرانی ہوں (یہ نصاریٰ کا قول ہے حق تعالیٰ ان کی تردید فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) یہ (خالی) دل بہلانے کی باتیں ہیں (اور حقیقت کچھ بھی نہیں) آپ (ان سے یہ تو) کہیے کہ (اچھا) اپنی دلیل لاؤ اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو (سو وہ تو کیا دلیل لاویں گے کیونکہ کوئی دلیل ہے ہی نہیں اب ہم اس کے خلاف پہلے تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ) ضرور دوسرے لوگ (بھی جنت میں) جاویں گے (پھر اس پر دلیل لاتے ہیں کہ ہمارا قانون جو باتفاق سماوی ملتوں کے ماننے والوں کے پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے یہ ہے کہ) جو کوئی شخص بھی اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دے (یعنی اعمال و عقائد میں فرمانبرداری اختیار کرے) اور (اس کے ساتھ) وہ مخلص بھی ہو (کہ فرمانبرداری دلی طور پر اختیار کی ہو محض مصلحت سے ظاہر داری نہ ہو) تو ایسے شخص کو اس (کی فرمانبرداری) کا عوض ملتا ہے پروردگار کے پاس پہنچ کر اور ایسے لوگوں پر (قیامت میں) نہ کوئی اندیشہ (ناک واقعہ پڑنے والا) ہے اور نہ ایسے لوگ (اس روز) مغموم ہونے والے ہیں (کیونکہ فرشتے ان کو بشارتیں سنا کر بےفکر کردیں گے) حاصل استدلال کا یہ ہوا کہ جب یہ قانون مسلم ہے تو اب صرف یہ دیکھ لو کہ یہ بات کس پر صادق آتی ہے ؟ سو ظاہر ہے کہ کسی حکم سابق کے منسوخ ہوجانے کے بعد اس پر عمل کرنے والا کسی بھی طور پر فرمانبردار نہیں کہلا سکتا لہذا یہود و نصاریٰ فرمانبردار نہ ہوئے بلکہ حکم ثانی پر عمل کرنا فرمانبرداری سمجھی جائے گی اور یہ شان مسلمانوں کی ہے کہ نبوت و شریعت محمدیہ کو قبول کرلیا چناچہ یہی جنت میں داخل ہونے والے شمار ہوئے،
اور مخلصین کی قید سے منافقین نکل گئے (کیونکہ وہ بھی شرعاً کفار ہی میں داخل اور مستحق جہنم ہیں) اور (ایک بار کچھ یہودی اور کچھ نصرانی جمع ہو کر مذہبی مباحثہ کرنے لگے تو یہود تو اپنے عقیدہ کے موافق نصاریٰ کے دین کو باطل بتاتے اور حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت اور انجیل کے کتاب اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے مگر نصاریٰ بھی ضد وتعصب میں آکر دین یہود کو بےاصل و باطل کہنے لگے اور حضرت موسیٰ ؑ کی رسالت اور توریت کے کتاب اللہ ہونے کا انکار کرنے لگے اللہ تعالیٰ اس قصہ کو نقل فرما کر بطور تردید فرماتے ہیں کہ) یہود کہنے لگے کہ نصاریٰ (کا مذہب) کسی بنیاد پر (قائم) نہیں (یعنی سرے سے غلط ہے) اور اسی طرح نصاریٰ کہنے لگے کہ یہود (کا مذہب) کسی بنیاد پر (قائم) نہیں (یعنی سرے سے غلط ہے) حالانکہ یہ سب (فریقین کے لوگ آسمانی) کتابیں بھی پڑھتے (پڑھاتے) ہیں (یعنی یہودی توریت کو اور عیسائی انجیل کو پڑہتے اور دیکھتے ہیں اور دونوں کتابوں میں دونوں رسولوں اور دونوں کتابوں کی تصدیق موجود ہے جو کہ دونوں مذہبوں کی اصل بنیاد ہے گو منسوخ ہوجانے کی بنا پر قابل عمل نہ ہو یہ اور بات ہے)
(اور اہل کتاب تو ایسے دعوے کرتے ہی تھے ان کی دیکھا دیکھی مشرکین کو بھی جوش آیا اور) اسی طرح سے یہ لوگ (بھی) جو کہ (محض) بےعلم ہیں ان (ہی اہل کتاب) کا سا قول دھرانے لگے (کہ ان یہود و نصاریٰ سب کا دین بےبنیاد ہے حق پر بس ہم ہی ہیں) سو (یہاں سب اپنی اپنی ہانک لیں) اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان (عملی) فیصلہ کردیں گے قیامت کے دن ان تمام مقدمات میں جن میں وہ باہم اختلاف کررہے تھے (اور وہ عملی فیصلہ یہ ہوگا کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا عملی فیصلہ کی قید اس لئے لگائی کہ قولی اور برہانی فیصلہ تو عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعہ دنیا میں بھی ہوچکا ہے)
معارف و مسائل
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر رد کا ذکر فرما کر ان کی نادانی اور اس اختلاف کے مضر اثرات کا بیان پھر اصل حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ان تمام واقعات میں مسلمانوں کے لئے بڑی اہم ہدایات ہیں جن کا بیان آگے آتا ہے،
یہود و نصاریٰ دونوں نے دین کی اصل حقیقت کو فرمواش کرکے مذہب کے نام پر ایک قومیت بنالی تھی اور ان میں سے ہر ایک اپنی ہی قوم کے جنتی اور مقبول ہونے اور اپنے سوا تمام اقوام عالم کے دوزخی اور گمراہ ہونے کا معتقد تھا،
اس نامعقول اختلافات کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرکین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ عیسائیت بھی بےبنیاد اور یہودیت بھی بےاصل حق و صحیح بس ہماری بت پرستی ہے، حق تعالیٰ نے ان دونوں قوموں کی جہالت و گمراہی کے متعلق فرمایا کہ یہ دونوں قومیں جنت میں جانے کے اصل سبب سے غافل ہیں محض مذہب کے نام کی قومیت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ مذہب یہود ہو یا نصاریٰ یا اسلام ان سب کی اصل روح دو چیزیں ہیں ؛
ایک یہ کہ بندہ دل وجان سے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنا عقیدہ و مذہب سمجھے چاہے یہ کسی مذہب میں حاصل ہو حقیقت دین و مذہب کو فراموش کرکے یا پس پشت ڈال کر یہودی یا نصرانی قومیت کو اپنا مقصد بنا لینا دین و مذہب سے ناواقفیت اور گمراہی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جنت میں جانے کے لئے صرف یہ بھی کافی نہیں کہ کوئی آدمی اپنے دل سے خدا کی فرمانبرداری کا قصد تو درست کرلے مگر اطاعت فرمانبرداری اور عبادت کے طریقے اپنے ذہن و خیال کے مطابق خود گھڑلے بلکہ یہ ضروری ہے کہ عبادت و اطاعت اور امتثال امر کے طریقے بھی وہی اختیار کرے جو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے بتائے اور متعین کئے ہوں،
پہلی بات بَلٰي ۤمَنْ اَسْلَمَ کے ذریعے اور دوسری وَھُوَ مُحْسِنٌ کے ذریعے واضح کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ نجات اخروی اور دخول جنت کے لئے صرف اطاعت کافی نہیں بلکہ حسن عمل بھی ضروری ہے اور حسن عمل کا مصداق وہی تعلیم وطریقہ ہے جو قرآن اور سنت رسول خیر الانام ﷺ کے مطابق ہو۔
نسلی مسلمان ہو یا یہودی و نصرانی اللہ کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے
جو شخص ان بنیادی اصولوں میں سے کسی بھی اصول کو چھوڑ دے خواہ یہودی ہو یا نصرانی یا مسلمان اور پھر محض نام کی قومیت کے زعم میں اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکہ دار سمجھ لے تو یہ صرف اس کی خود فریبی ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی ان ناموں کا سہارا لے کر قریب نہیں ہوسکتا نہ مقبول بن سکتا ہے جب تک اس میں ایمان وعمل صالح کی روح موجود نہ ہو،
پھر اصول ایمان تو ہر رسول اور ہر شریعت کے زمانے میں مشترک و یکساں رہے ہیں البتہ عمل صالح و مقبول کی شکلیں کچھ ادلتی بدلتی رہی ہیں تورات کے زمانے میں عمل صالح وہ سمجھا گیا جو حضرت موسیٰ ؑ اور جو تورات کی تعلیم کے مطابق تھا انجیل کے دور میں عمل صالح یقیناً وہی عمل تھا جو حضرت عیسیٰ ؑ اور انجیل کی تعلیم کے مطابقت رکھتا تھا اور اب قرآن کے زمانے میں وہی عمل صالح کہے جانے کا مستحق ہوگا جو نبی آخر الزمان ﷺ کے فرمان اور ان کی لائی ہوئی اللہ کی کتاب قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق ہوگا،
خلاصہ کلام یہ کہ یہود و نصاریٰ کے اس اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دونوں قومیں جہالت کی باتیں کر رہی ہیں دونوں میں سے کوئی بھی جنت کا ٹھیکہ دار نہیں اور نہ ہی دونوں کے مذہب بےبنیاد اور بےاصل ہیں بلکہ دونوں مذہبوں کی صحیح بنیاد موجود ہے غلط فہمی کا سبب اصلی یہ ہے کہ انہوں نے مذہب وملت کی اصل روح یعنی عقائد و اعمال اور نظریات کو چھوڑ کر نسلی یا وطنی بنیاد پر کسی قوم کو یہود ٹھہرا لیا اور کسی کو نصرانی سمجھ لیا،
جو یہود کی نسل سے ہو یا یہود کے شہر میں بستا ہو یا مردم شماری میں اپنے آپ کو یہودی بتانا ہو اس کو یہود سمجھ لیا گیا اسی طرح نصرانیوں کی تشخیص و تعیین کی گئی حالانکہ اصول ایمان کو توڑ کر اور اعمال صالحہ سے منہ موڑ کر نہ کوئی یہودی رہتا ہے نہ نصرانی۔
قرآن کریم میں اس اختلاف اور اس فیصلہ کا ذکر مسلمانوں کو سنانے اور متنبہ کرنے کے لئے ہے کہ کہیں وہ بھی اس قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ ہم تو پشتی مسلمان ہیں ہر دفتر و رجسڑ میں ہمارا نام مسلمان کے خانے میں درج ہے اور ہم زبان سے بھی اپنے کو مسلمان ہی کہتے ہیں اس لئے جنت کے نیز ان تمام انعامی وعدوں کے ہم ہی مستحق ہیں جو نبی کریم ﷺ کے ذریعے مسلمانوں سے کئے گئے،
اس فیصلہ سے ان پر واضح ہوجانا چاہے کہ کوئی شخص نہ محض دعوے سے حقیقی مسلمان بنتا ہے نہ کہیں مسلمان نام درج کرانے یا مسلمان کی صلب سے یا ان کے شہر میں پیدائش ہونے کی وجہ سے بلکہ مسلمان ہونے کے لئے اول اسلام ضروری ہے اور اسلام کے معنی ہی اپنے آپ کو سپرد کرنے اور سونپ دینے کے ہیں دوسرے احسان عمل یعنی سنت کے مطابق عمل کو درست کرنا،
لیکن قرآن کریم کی اس تنبیہ کے باوجود بہت سے مسلمان اسی یہودی اور نصرانی غلطی کا شکار ہوگئے کہ خدا و رسول اور آخرت و قیامت سے بالکل غافل رہ کر اپنا نسلی مسلمان ہونا مسلمان ہونے کے لئے کافی سمجھنے لگے اور قرآن و حدیث میں جو وعدے فلاح دنیا وآخرت کے مسلمانوں سے کئے گئے ہیں اپنے آپ کو ان کا مستحق سمجھ کر ان کے پورے ہونے کا انتظار کرنے لگے اور جب وہ پورے ہوتے نظر نہیں آتے تو قرآن و حدیث کے وعدوں میں شک کرنے لگے اس کو نہیں دیکھتے کہ قرآن نے محض نسلی مسلمانوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا جب تک وہ اپنے تمام ارادوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے تابع نہ کردیں اور ان کے بتلائے ہوئے طریقوں پر عمل صالح کے پابند نہ ہوں یہی خلاصہ ہے آیت مذکورہ بَلٰيۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗٓ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْن کا
آج کل پوری دنیا کے مسلمان طرح طرح کے مصائب وآفات کا شکار ہیں اس کو دیکھ کر بہت سے ناواقف لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید ان آفات و مصائب کا سبب ہمارا اسلام ہی ہے لیکن مذکورہ تحریر سے واضح ہوگیا کہ اس کا اصلی سبب ہمارا اسلام نہیں بلکہ ترک اسلام ہے کہ ہم نے اسلام کو صرف نام باقی رکھا ہے نہ اس کے عقائد ہمارے اندر ہیں نہ اخلاق، نہ اعمال، گویا،
وضع میں ہم ہیں نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
پھر ہمیں کیا حق ہے کہ اسلام اور مسلم کے لئے کئے ہوئے وعدوں اور انعاموں کا ہم انتظار کریں،
البتہ یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم کچھ بھی سہی نام تو اسلام کا لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے نام لیوا تو ہیں اور جو کفار کھلے طور پر اللہ و رسول کی مخالفت کرتے ہیں اسلام کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے وہ تو آج دنیا میں ہر طرح کی ترقی کررہے ہیں بڑی بڑی حکومتوں کے مالک بنے ہوئے ہیں دنیا کی صنعتوں اور تجارتوں کے ٹھیکہ دار بنے ہوئے ہیں اگر ہماری بدعملی کی ہمیں یہ سزا مل رہی ہے کہ ہم ہر جگہ پامال و پریشان ہیں تو کفار و فجار کو اس سے زیادہ سزا ملنی چاہیے لیکن اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو یہ شبہ خود بخود رفع ہوجائے گا،
اول تو اس لئے کہ دوست اور دشمن کے ساتھ معاملہ یکساں نہیں ہوا کرتا دوست کو قدم قدم اور بات بات پر ٹوکا جاتا ہے اولاد اور شاگرد کو ذرا ذرا سی بات پر سزا دی جاتی ہے لیکن دشمن کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوتا اس کی ڈھیل دی جاتی ہے اور وقت آنے پر دفعۃ پکڑ لیا جاتا ہے، مسلمان جب تک ایمان واسلام کا نام لیتا ہے اور اللہ کی عظمت و محبت کا دم بھرتا ہے،
وہ دوستوں کی فہرست میں داخل ہے اس کے برے اعمال کی سزا عموما دنیا ہی میں دے دیجاتی ہے تاکہ آخرت کا بار ہلکا ہوجائے بخلاف کافر کے کہ اس پر باغیوں اور دشمنوں کا قانون جاری ہے دنیا کی ہلکی ہلکی سزاؤں سے ان کا بار عذاب ہلکا نہیں کیا جاتا ان کو یک لخت عذاب میں پکڑا جائے گا، رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے،
دوسری اہم بات مسلمانوں کے تنزل اور پریشانی اور کفار کی ترقی و آرام کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کا جداگانہ خاصہ رکھا ہے ایک عمل کرنے سے دوسرے عمل کے خواص حاصل نہیں ہوسکتے مثلاً تجارت کا خاصہ ہے مال میں زیادتی دوا کا خاصہ ہے بدن کی صحت اب اگر کوئی شخص تجارت میں تو دن رات لگا رہے بیماری اور اس کے علاج کی طرف توجہ نہ دے تو محض تجارت کے سبب وہ بیماری سے نجات نہیں پاسکتا اسی طرح دوا دارو کا استعمال کرکے تجارت کا خاصہ یعنی مال کی زیادتی حاصل نہیں کرسکتا کفار کی دنیوی ترقی اور مال و دولت کی فراوانی ان کے کفر کا نتیجہ نہیں بلکہ کفار نے جب آخرت کی فکر چھوڑ دی اور پوری طرح دنیا کے مال و دولت اور عیش و آرام کی فکر میں لگ گئے تجارت، صنعت، زراعت اور حکومت وسیاست کے مفید راستوں کو اختیار کیا مضر طریقوں سے بچے تو دنیا میں ترقی حاصل کرلی اگر وہ بھی ہماری طرح صرف اپنے اپنے مذہب کا نام لے کر بیٹھ جاتے اور دنیوی ترقی کے لئے اس کے اصول کے مطابق جدوجہد نہ کرتے تو ان کا کفران کو مال و دولت یا حکومت کا مالک نہ بنا دیتا پھر ہم یہ کیسے سمجھ لیں کہ ہمارا سلام اور وہ بھی صرف نام کا ہماری ساری فتوحات کے دروازے کھول دے گا ؟ اسلام و ایمان اگر بالکل صحیح اصول پر بھی ہو تو اس کا اصلی خاصہ اور نتیجہ نجات آخرت اور جنت کی دائمی راحت ہے دنیا میں مال و دولت کی فراوانی یا عیش و آرام کی وسعت اس کے نتیجہ میں حاصل ہونا ضروری نہیں جب تک اس کے لئے اس کے مناسب جدوجہد نہ کی جائے،
اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ جہاں کہیں اور جب کوئی مسلمان تجارت وصنعت، حکومت وسیاست کے اصول صحیحہ کو سیکھ کر ان پر عمل پیرا ہوجاتا ہے تو وہ بھی ان دنیوی ثمرات و نتائج سے محروم نہیں رہتا جو کسی کافر کو حاصل ہورہے ہیں،
اس سے واضح ہوا کہ دنیا میں ہمارا افلاس و احتیاج اور مصائب وآفات ہمارے اسلام کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طرف اسلامی اخلاق و اعمال چھوڑنے کا اور دوسری طرف ان تمام کاموں سے منہ موڑنے کا نتیجہ ہے جن کے عمل میں لانے سے مال و دولت میں زیادتی ہوا کرتی ہے،
افسوس ہے کہ ہمیں جب یورپ والوں کے ساتھ اختلاط کا اتفاق پیش آیا تو ہم نے ان سے صرف ان کا کفر اور آخرت سے غفلت اور بےحیائی وبداخلاقی تو سب سیکھ لی لیکن ان کے وہ اعمال نہ سیکھے جن کی وجہ سے وہ دنیا میں کامیاب نظر آتے ہیں جس مقصد کے لئے کھڑے ہوں اس کے پیچھے ان تھک کوشش معاملہ کی سچائی بات کی سچائی اور دنیا میں اثر رسوخ حاصل کرنے کے نئے نئے طریقے جو درحقیقت اسلام ہی کی اصلی تعلیمات ہیں ہم نے ان کو دیکھ کر بھی اس کی نقل اتارنے کی کوشش نہ کی تو یہ قصور ہمارے اسلام کا ہے یا ہمارا اپنا قصور ہے،
الغرض قرآن کی ان آیات نے واضح کردیا کہ محض نسلی طور پر اسلام کا نام رکھ لینا کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا سکتا جب تک ایمان اور عمل صالح کو مکمل طور پر اختیار نہ کیا جائے،
Ayah 2:114خلاصہ تفسیر
(یہود تو قبلہ کا حکم بدلنے کے وقت طرح طرح کے اعتراض کرکے کم سمجھ لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرتے تھے اگر وہ شبہات عام طور پر قلوب میں اثر کرتے تو ان کا لازمی نتیجہ انکار رسالت اور ترک نماز نکلتا اور ترک نماز سے مسجد کی ویرانی لازم ہے تو گویا یہ یہودی اس طور سے ترک نماز اور ویرانی مساجد خصوصاً مسجد نبوی میں بھی کوشاں تھے اور روم کے بعض سلاطین جو نصاریٰ ان کے افعال کا انکار بھی نہ کرتے تھے گو وہ نصرانی نہ ہوں کسی زمانے میں یہود وشام پر چڑھ آئے تھے قتل و قتال بھی ہوا اور اس وقت بعض جہلاء کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس کی بےحرمتی بھی ہوئی اور بدامنی کی وجہ سے اس میں نماز وغیرہ کا اہتمام بھی نہ ہوا اس طور پر نصاری کے اسلاف ترک نماز اور ویرانی مسجد کے بانی ہوئے اور نصاریٰ پر بوجہ عدم انکار اس کا الزام دیا گیا اس بادشاہ کا نام طیطس تھا اور نصاریٰ کو یہ قصہ اس لئے ناگوار نہ تھا کہ اس میں یہودیوں کی تذلیل ہوئی تھی اور یہود سے عداوت رکھتے تھے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ سے پہلے جب مکہ معظمہ میں داخل ہو کر مسجد الحرام کا طواف اور نماز ادا فرمانی چاہی تو مشرکین مکہ نے آپ کو نہ جانے دیا یہاں تک کہ آپ اس سال واپس تشریف لے آئے تو اس طرح یہ مشرکین بھی مسجد حرام کی ویرانی میں کوشاں ہوئے اس لئے حق تعالیٰ نے صیغہ عموم سے اس کی قباحت اور برائی ظاہر فرمائی یعنی) اور اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو خدا تعالیٰ کی مسجدوں میں (جس میں مکہ کی مسجد حرام، مدینہ کی مسجد بیت المقدس کی مسجد اور سب مسجدیں آگئیں) ان کا ذکر (اور عبادت) کئے جانے سے بندش کرے اور ان (مساجد) کے ویران (اور معطل) ہونے (کے بارے) میں کوشش کرے ان لوگوں کو تو کبھی بےہیبت (اور بیباک) ہو کر ان (مساجد) میں قدم بھی نہ رکھنا چاہئے تھا (بلکہ جب جاتے تو نہایت عظمت و حرمت وادب سے جاتے جب بیباک ہو کر اندر جانے تک کا استحقاق نہیں تو اس کی ہتک حرمت کا حق کب حاصل ہے اسی کو ظلم فرمایا گیا) ان لوگوں کو دنیا میں بھی رسوائی (نصیب) ہوگی اور ان کو آخرت میں بھی سزائے عظیم ہوگی،
(یہود نے تبدیل قبلہ کے حکم پر اعتراض کیا تھا کہ مسلمان اس جہت سے دوسری جہت کی طرف کیوں پھرگئے اس کا جواب حق تعالیٰ دیتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی) اور اللہ ہی کی مملوک ہیں (سب جہتیں) مشرق بھی اور مغرب بھی (اور وہ اس کا مکان نہیں)
(پس جب وہ مالک ہیں جس کو چاہیں قبلہ مقرر کردیں کیونکہ حکمت تعیین قبلہ میں مثلاً عابدین کا اتفاق ہیئت اور اجتماع خاطر ہے اور یہ حکمت ہر جہت سے حاصل ہوسکتی ہے جس کا حکم دیدیں وہی متعین ہوجائے گی ہاں البتہ اگر معبود کی ذات نعوذ باللہ کسی جہت خاص کے ساتھ مقید ہوتی تو ضرورت کی وجہ سے اسی جہت میں قبلہ عبادت بننے کا انحصار زیبا تھا لیکن وہ ذات پاک کسی جہت کے ساتھ مقید و محدود نہیں جب یہ بات ہے) تو تم لوگ جس طرف منہ کرو ادھر (ہی) اللہ تعالیٰ کی (ذات پاک) کا رخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ (خود تمام جہات اور اشیاء کو) محیط ہیں (جس طرح کا احاطہ ان کی شان کے لائق ہے لیکن باوجود محیط وغیر محدود ہونے کے پھر بھی جہت عبادت کو متعین اس لئے فرمایا کہ وہ) کامل العلم ہیں (کہ ہر شے کے مصالح کو خوب جانتے ہیں چونکہ ان کے علم میں یہ تعیین بعض مصالح سے تھی اس لئے اس کا حکم دیدیا)
فوائد از بیان القرآن
1۔ ویرانی مساجد میں کوشاں گروہ کی دنیا میں تو یہ رسوائی ہوئی کہ یہ ساری قومیں اسلامی سلطنت کی رعایا اور باج گذار ہوئیں اور عذاب آخرت تو کافر ہونے کی وجہ سے ظاہر ہے ہی اور ویرانی مساجد میں کوشش کے سبب یہ عذاب اور بھی سخت وشدید ہوجائے گا، اور اوپر کی آیت میں جو ان تینوں فرقوں کے حق پر ہونے کا دعویٰ مذکور ہوا تھا اس قصہ سے اس کی تردید کا ایک گونہ مفہوم بھی نکل آیا کہ ایسے ایسے افعال کرکے صاحب حق ہونے کا دعویٰ بڑے شرم کی بات ہے،
2۔ تعیین قبلہ کی جو ایک حکمت بطور مثال اوپر بیان کی گئی اس سے بعض مخالفین اسلام کا یہ اعتراض کہ مسلمان کعبہ پرست ہیں بالکل اٹھ گیا،
جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ عبادت و پرستش تو خدا تعالیٰ کی ہے لیکن عبادت کے وقت یکسوئی قلب کی ضرورت ہے نیز عابدین کی ہیئت اجتماعیہ کو بھی اس یکسوئی میں دخل ہے چناچہ یہ دونوں باتیں تجربہ و مشاہدہ سے ثابت ہیں اس لئے اس یکسوئی اور اجتماع ہیئت حاصل کرنے میں تعیین جہت مشروع ہوئی لہذا اس اعتراض وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں،
اور اگر اس پر کوئی اپنی برات کے لئے یہ دعویٰ کرے کہ ہم بھی بتوں کو سامنے اسی قصد وغرض سے رکھتے ہیں تو اول تو اپنی برأت کے دعوے سے مسلمانوں پر مذکورہ اعتراض نہیں لوٹتا وہ بدستور مرتفع رہا جو اس مقام پر مقصود اصلی ہے،
ثانیاً عام مسلمانوں اور عام کافروں کی حالت تفتیش کرنے سے عدم پرستش کے دعوے میں مسلمانوں کا راست گو ہونا اور دوسروں کا دروغ گو ہونا ہر وقت ہر شخص کو معلوم ہوسکتا ہے،
تیسرے علیٰ سبیل التنزل کہا جاتا ہے کہ اگر اس دعوے کی سچائی مان بھی لی جائے پھر بھی اس تعیین اور تقیید کے لئے کسی غیر منسوخ شریعت کا حکم پیش کرنا لازم ہے اور یہ بجز اہل اسلام کے دوسروں کے پاس مفقود ہے، اور ترجمہ و تفسیر کے ضمن میں بیان حکمت کے لئے جو لفظ مثلاً اضافہ کیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ احکام خداوندی کی حکمتیں اور مصلحتیں انحصار اور استیعاب کے ساتھ کسی کے ادراک میں نہیں آسکتیں سو اس حکم میں بھی ہزاروں حکمتیں ہوں گی ایک دو کے سمجھ جانے سے ان میں انحصار اور دوسروں کی نفی نہیں ہوسکتی،
3۔ اور یہ جو فرمایا ہے ادھر ہی اللہ تعالیٰ کا رخ ہے اور اسی طرح یہ جو فرمایا ہے کہ وہ محیط ہے اور ایسے ہی جو مضامین ہوں ان سب میں زیادہ کھود کرید نہ کرنی چاہئے کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کا پورا ادراک کسی بندہ سے ممکن نہیں اسی طرح اس کی صفات کی حقیقت بھی فہم سے خارج ہے۔
اجمالاً ان سب پر ایمان لے آوے اس سے زیادہ کا انسان مکلف نہیں،
عنقا شکار کس نشود دام باز چین
کا ینجا ہمیشہ باد بدست است دام را
معارف و مسائل
ان دو آیتوں میں دو اہم مسئلوں کا بیان ہے پہلی آیت ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے،
واقعہ یہ ہے کہ زمانہ اسلام سے پہلے جب یہودیوں نے حضرت یحییٰ ؑ کو قتل کر ڈالا تو روم کے نصاریٰ نے ان سے انتقام لینے کی خاطر عراق کے ایک مجوسی بادشاہ کے ساتھ مل کر اپنے بادشاہ طیطوس کی سر کردگی میں شام کے بنی اسرائیل پر حملہ کرکے ان کو قتل و غارت کیا اور تورات کے نسخے جلا ڈالے بیت المقدس میں نجاسات اور خنزیر ڈال دیئے اس کی عمارت کو خراب ویران کردیا بنی اسرائیل کی قوت و شوکت کو بالکل پامال اور ختم کردیا آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک تک بیت المقدس اسی طرح ویران منہدم پڑا تھا،
حضرت فاروق اعظم کے عہد میں جب شام و عراق فتح ہوئے تو آپ کے حکم سے بیت المقدس کی دربارہ تعمیر کرائی گئی زمانہ دراز تک پورا ملک شام وبیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں رہا پھر ایک عرصہ کے بعد بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ سے نکل گیا اور تقریباً سو سال یورپ کے عیسائیوں کا اس پر قبضہ رہا تاآنکہ چھٹی صدی ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے پھر اس کو فتح کیا رومی نصاری کی اس گستاخانہ حرکت پر کہ تورات کو جلایا اور بیت المقدس کو خراب ویران کرکے اس کی بےحرمتی کی یہ آیت نازل ہوئی،
یہ قول مفسرا لقرآن حضرت عبداللہ بن عباس کا ہے اور حضرت ابن زید وغیرہ دوسرے مفسرین نے آیت کا شان نزول یہ بتلایا ہے جب مشرکین مکہ نے رسول کریم ﷺ کو واقعہ حدیبیہ کے وقت مسجد حرام میں داخل ہونے اور طواف کرنے سے روک دیا تو یہ آیت نازل ہوئی ابن جریر نے پہلی روایت کو اور ابن کثیر نے دوسری کو ترجیح دی ہے،
بہرحال آیت کا شان نزول تو مفسرین کے نزدیک ان دونوں واقعوں میں سے کوئی خاص واقعہ ہے مگر اس کا بیان عام لفظوں میں ایک مستقل ضابطہ اور قانون کے الفاظ میں فرمایا گیا ہے تاکہ یہ حکم انہی نصاریٰ یا مشرکین وغیرہ کے لئے مخصوص نہ سمجھا جائے بلکہ تمام اقوام عالم کے لئے عام رہے یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں خاص بیت المقدس کا نام لینے کے بجائے مساجد اللہ فرما کر تمام مساجد پر اس حکم کو عام کردیا گیا اور آیت کا مضمون یہ ہوگیا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی مسجد میں لوگوں کو اللہ کا ذکر کرنے سے روکے یا کوئی ایسا کام کرے جس سے مسجد ویران ہوجائے تو وہ بہت بڑا ظالم ہے۔
مساجد اللہ کی عظمت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ ان میں جو شخص داخل ہو ہیبت و عظمت اور خشوع و خضوع کے ساتھ داخل ہو جیسے کسی شاہی دربار میں داخل ہوتے ہیں۔
اس آیت سے جو چند ضروری مسائل و احکام نکلے ان کی تفصیل یہ ہے،
اول یہ کہ دنیا کی تمام مساجد آداب مسجد کے لحاظ سے مساوی ہیں جیسے بیت المقدس، مسجد حرام یا مسجد نبوی کی بےحرمتی ظلم عظیم ہے اسی طرح دوسری تمام مساجد کے متعلق بھی یہی حکم ہے اگرچہ ان تینوں مساجد کی خاص بزرگی و عظمت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر اور مسجد نبوی ونیز بیت المقدس میں پچاس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے ان تینوں مساجد میں نماز پڑھنے کی خاطر دور دراز ملکوں سے سفر کرکے پہنچنا موجب ثواب عظیم اور باعث برکات ہے بخلاف دوسری مساجد کے کہ ان تینوں کے علاوہ کسی دوسری مسجد میں نماز پڑھنے کو افضل جان کر اس کے لئے دوسرے سفر کرکے آنے کو آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا ہے ،
دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ مسجد میں ذکر و نماز سے روکنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب ناجائز و حرام ہیں ان میں سے ایک صورت تو یہ کھلی ہوئی ہے ہی کہ کسی کو مسجد میں جانے سے یا وہاں نماز و تلاوت سے صراحۃ روکا جائے دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد میں شور وشغب کرکے یا اس کے قرب و جوار میں باجے گاجے بجا کر لوگوں کی نماز وذکر وغیرہ میں خلل ڈالے یہ بھی ذکر اللہ سے روکنے میں داخل ہے،
اسی طرح اوقات نماز میں جبکہ لوگ اپنی نوافل یا تسبیح و تلاوت وغیرہ میں مشغول ہوں مسجد میں کوئی بلند آواز سے تلاوت یا ذکر بالجہر کرنے لگے تو یہ بھی نمازیوں کی نماز و تسبیح میں خلل ڈالنے اور ایک حیثیت سے ذکر اللہ کو روکنے کی صورت ہے اسی لئے حضرات فقہاء نے اس کو بھی ناجائز قرار دیا ہے ہاں جب مسجد عام نمازیوں سے خالی ہو اس وقت ذکر یا تلاوت جہر کا مضائقہ نہیں، اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا جس وقت لوگ نماز و تسبیح وغیرہ میں مشغول ہوں مسجد میں اپنے لئے سوال کرنا یا کسی دینی کام کے لئے چندہ کرنا بھی ایسے وقت ممنوع ہے،
تیسرا مسئلہیہ معلوم ہوا کہ مسجد کی ویرانی کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب حرام ہوں اس میں جس طرح کھلے طور پر مسجد کو منہدم اور ویران کرنا داخل ہے اسی طرح ایسے اسباب پیدا کرنا بھی اس میں داخل ہے جن کی وجہ سے مسجد ویران ہوجائے اور مسجد کی ویرانی یہ ہے کہ وہاں نماز کے لئے لوگ نہ آئیں یا کم ہوجائیں کیونکہ مسجد کی تعمیر وآبادی دراصل درودیوار یا ان کے نقش ونگار سے نہیں بلکہ ان میں اللہ کا ذکر کرنے والوں سے ہے اسی لئے قرآن شریف میں ایک جگہ ارشاد ہے،
اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ (18: 9) یعنی اصل میں مسجد کی آبادی ان لوگوں سے ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور روز قیامت پر اور نماز قائم کریں زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں،
اسی لئے حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرب قیامت میں مسلمان کی مسجدیں بظاہر آباد اور مزین وخوب صورت ہوں گی مگر حقیقتاً ویران ہوں گی کہ ان میں حاضر ہونے والے نمازی کم ہوجائیں گے،
حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے کہ شرافت و انسانیت کے چھ کام ہیں تین حضر کے اور تین سفر کے۔ حضر کے تین یہ ہیں تلاوت قرآن کرنا، مسجدوں کو آباد کرنا، ایسے دوستوں کی جمیعت بنانا جو اللہ تعالیٰ اور دین کے کاموں میں امداد کریں اور سفر کے تین کام یہ ہیں اپنے توشہ سے غریب ساتھیوں پر خرچ کرنا، حسن خلق سے پیش آنا اور رفقائے سفر کے ساتھ ہنسی خوشی، تفریح وخوش طبعی کا طرز عمل رکھنا بشرطیکہ یہ خوش طبعی گناہ کی حد میں داخل نہ ہوجائے،
حضرت علی ؓ کے اس ارشاد میں مسجدوں کے آباد کرنے کا مطلب یہی ہے کہ وہاں خشوع خضوع کے ساتھ حاضر بھی ہوں اور وہاں حاضر ہو کر ذکر و تلاوت میں مشغول رہیں اب اس کے مقابلہ میں مسجد کی ویرانی یہ ہوگی کہ وہاں نمازی نہ رہیں یا کم ہوجائیں یا ایسے اسباب جمع ہوں جن سے خشوع و خضوع میں خلل آئے،
اور اگر آیت کا شان نزول واقعہ حدیبیہ اور مشرکین مکہ کا مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنا ہے تو اسی آیت سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ مساجد کی ویرانی صرف یہی نہیں کہ انھیں منہدم کردیا جائے بلکہ مساجد جس مقصد کے لئے بنائی گئی ہیں یعنی نماز اور ذکر اللہ جب وہ نہ رہے یا کم ہوجائے تو مساجد ویران کہلائیں گی ،
Ayah 2:115تحویل قبلہ کی بحث
دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین مکہ نے اگرچہ آپ کو مکہ اور بیت اللہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور مدینہ پہنچ کر ابتدائی زمانہ میں سولہ سترہ مہینہ تک آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا لیکن اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں نہ آپ کے لئے غمگین ہونے کی کوئی وجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کسی خاص سمت میں نہیں وہ ہر جگہ ہے اس کے لئے مشرق ومغرب یکساں ہیں کعبہ کو قبلہ نماز بنائیں یا بیت المقدس کو دونوں میں کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ امر الہی کی تعمیل ہی دونوں جگہ سبب فضیلت ہے،
داد حق را قابلیت شرط نیست
بلکہ شرط قابلیت داد ہست
اس لئے جب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا اس میں فضیلت تھی اور جب بیت المقدس کا استقبال کرنے کا حکم ہوگیا تو اس میں فضیلت ہے آپ دل گیر نہ ہوں اللہ تعالیٰ کی توجہ دونوں حالتوں میں یکساں ہے جبکہ بندہ اس کے حکم کی تعمیل کررہا ہو،
چند مہینوں کے لئے بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کا حکم دے کر عملاً اور آپ نے قولاً اس بات کو واضح کردیا کہ کسی خاص مکان یا سمت کو قبلہ قرار دینا اس وجہ سے نہیں کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ اس مکان یا اس سمت میں ہے دوسری جگہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر سمت میں یکساں توجہ کے ساتھ موجود ہے کسی خاص سمت کو قبلہ عالم قرار دینا دوسری حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کی توجہ کسی خاص سمت یا جگہ کے ساتھ مقید نہیں تو اب عمل کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ ہر شخص کو اختیار دے دیا جائے کہ جس طرف چاہے رخ کرکے نماز پڑھے دوسرے یہ کہ سب کے لئے کوئی خاص سمت وجہت معین کردی جائے ظاہر ہے کہ پہلی صورت میں ایک تشتت وافتراق کا منظر سامنے آئے گا کہ دس آدمی نماز پڑھ رہے ہیں اور ہر ایک کا رخ الگ الگ اور ہر ایک کا قبلہ جدا جدا ہے اور دوسری صورت میں تنظیم و اتحاد کا عملی سبق ملتا ہے ان حکمتوں کی بناء پر سارے عالم کا قبلہ ایک ہی چیز کو بنانا زیادہ مناسب ہے اب وہ بیت المقدس ہو یا کعبہ دونوں مقدس اور متبرک مقامات ہیں ہر قوم اور ہر زمانہ کے مناسب اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام آتے ہیں ایک زمانے تک بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا پھر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کی دلی خواہش کے مطابق اس حکم کو منسوخ کرکے کعبہ کو قبلہ عالم بنادیا گیا ارشاد ہوا
قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَ آفَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭوَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ (144: 2)
ترجمہ(یعنی کعبہ کو قبلہ بنادینے کی دلی رغبت کی وجہ سے) بار بار آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے ہیں کہ (شاید فرشتہ حکم لے آئے) ہم یہ سب دیکھ رہے ہیں اس لئے اب ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کردیں گے جس کو آپ چاہتے ہیں اس لئے اب سے آپ اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور (یہ حکم کچھ آپ ہی کے لئے مخصوس نہیں بلکہ تمام امت کے لئے یہی حکم دے دیا گیا کہ) تم جہاں کہیں بھی موجود ہو یہاں تک کہ خود بیت المقدس کے اندر بھی ہو تو نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کیا کرو،
الغرض آیت مذکورہ وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ نے استقبال قبلہ کی پوری حقیقت کو واضح کردیا کہ اس کا منشاء بیت اللہ یا بیت المقدس کی معاذ اللہ پرستش نہیں اور نہ ان دونوں مکانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک مخصوص ہے بلکہ اس کی ذات سارے عالم پر محیط اور ہر سمت میں اس کی توجہ یکساں ہے پھر کسی خاص مکان یا سمت کو مخصوص کیا جاتا ہے اس میں دوسری حکمتیں ہیں،
آیت مذکورہ کے اس مضمون کو واضح اور دل نشین کرنے ہی کے لئے شاید آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو ہجرت کے اوائل میں سولہ سترہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم دے کر عملی طور پر بتلا دیا گیا کہ ہماری توجہ ہر طرف ہے اور نوافل میں اس حکم کو ہمیشہ کے لئے جاری رکھا کہ سفر میں کوئی شخص کسی سواری مثلاً اونٹ، گھوڑے وغیرہ پر سوار ہو تو اس کو اجازت ہے کہ سواری پر بیٹھے ہوئے اشارہ سے نفلی نماز پڑھ لے اور اس کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا بھی ضروری نہیں جس طرف اس کی سواری چل رہی ہے اسی طرف رخ کرلینا کافی ہے،
بعض مفسرین نے آیت فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ کو اسی نفلی نماز کا حکم قرار دیا ہے مگر یاد رہے کہ یہ حکم صرف ان سواریوں کا ہے جن پر سوار ہو کر چلتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنا دشوار ہے اور جن سواریوں میں سوار کو قبلہ کی طرف رخ کرلینا دشوار نہیں جیسے ریل، پانی کا جہاز، ہوائی جہاز، ان کا وہی حکم ہے جو حالت حضر میں رخ قبلہ کا ہے کہ اگر نفل نماز بھی ان میں پڑھی جائے تو قبلہ رخ ہو کر پڑھی جائے (البتہ نماز کی حالت میں ریل کا یا جہاز کا رخ مڑجائے اور نمازی کے لئے گنجائش نہ ہو کہ وہ بھی قبلہ رخ پھرجائے تو اسی حالت میں نماز پوری کرلے)
اسی طرح جہاں نمازی کو سمت قبلہ معلوم نہ ہو اور رات کی اندھیری وغیرہ کی وجہ سے سمتیں متعین کرنا بھی دشوار ہو اور کوئی بتلانے والا بھی نہ ہو تو وہاں بھی یہی حکم ہے کہ وہ اپنا اندازہ اور تخمینہ لگا کر جس طرف کو بھی متعین کرلے گا وہی سمت اس کا قبلہ قراردی جائے گی نماز ادا کرنے کے بعد اگر یہ بھی ثابت ہوجائے کہ اس نے غلط سمت میں نماز ادا کی ہے تب بھی نماز صحیح ہے اعادہ کی ضرورت نہیں
آیت کے اس بیان اور آنحضرت ﷺ کے تعامل اور جزئیات مذکورہ سے استقبال قبلہ کے حکم شرعی کی پوری حقیقت واضح ہوگئی،
Ayahs 2:116–117خلاصہ تفسیر
(بعض یہودی حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو اور مشرکین عرب ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں جیسا مختلف آیات میں ان اقوال کی خبر دی گئی ہے حق تعالیٰ اس قول کی قباحت اور بطلان کا بیان فرماتے ہیں، یعنی) اور یہ لوگ (مختلف عنوان سے) کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد رکھتا ہے سبحان اللہ (کیا مہمل بات ہے) بلکہ (ان کے تو اولاد ہونا عقلاً ممکن نہیں کیونکہ دو حال سے خالی نہیں یا تو اولاد غیر جنس ہوگی اور یا ہم جنس ہوگی اگر غیر جنس ہو تب تو ناجنس اولاد ہونا عیب ہے اور حق تعالیٰ عیب پاک ہیں عقلا بھی جیسا مسلم ہے اور نقلاً بھی جیسا سبحانہ مذکور کا بھی مدلول ہے اور اگر ہم جنس ہو تو اس لئے باطل ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی ہم جنس نہیں کیونکہ جو صفات کمال لوازم ذات واجبہ سے ہیں وہ اللہ کے ساتھ مخصوص اور غیر اللہ میں معدوم ہیں اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی کی دلیل ہے اس لئے غیر اللہ ذات واجب نہ ہوگا اور وجوب خود عین حقیقت یا لازم حقیقت ہے پس کوئی غیر اللہ اللہ کے ساتھ حقیقت میں شریک نہ ہوا لہذا ہم جنس ہونا بھی باطل ہوگیا اب صفات کمال صرف حق تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہونے کی دلیلیں مذکور ہوتی ہیں اول یہ کہ) خاص اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں (موجودات) ہیں (اور دوسرے یہ کہ مملوک ہونے کے ساتھ) سب ان کے محکوم (بھی) ہیں (بایں معنی کہ ان کے تصرفات قدرت جیسے مارنا جلانا وغیرہ کو کوئی نہیں ہٹا سکتا گو احکام شرعیہ کو کوئی ٹال دے اور تیسرے یہ کہ حق تعالیٰ) موجد (بھی) ہیں آسمانوں اور زمین کے اور (چوتھے یہ ایجاد کی بھی قدرت ایسی عظیم وعجیب ہے کہ) جب کسی کام کا (مثلا پیدا ہی کرنا ہے) پورا کرنا چاہتے ہیں تو بس (اتنی بات ہے کہ) اس کو (اتنا) فرما دیتے ہیں کہ ہوجا بس وہ (اسی طرح) ہوجاتا ہے (ان کو آلات و اسباب اور صناعوں اور معینوں کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ چاروں امر بجز حق تعالیٰ کے کسی میں نہیں پائے جاتے اور یہ مدعیان اولاد کے بھی مسلمات سے تھا پس دلیل سے مقدمہ اختصاص بھی ثابت ہو کر حجت تمام ہوگئی)
فوائد
1۔ خاص خاص کاموں پر خاص خاص ملائکہ کو مقرر کرنا مثلاً بارش، رزق وغیرہ اور اسی طرح اسباب اور مواد اور قوی سے کام لینا یہ سب کسی حکمت خداوندی پر مبنی ہوتا ہے اس لئے نہیں کہ لوگ انہیں اسباب وقوات کو حاجت روا مان کر استعانت ومدد کے طبگار ہوں،
2۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ پہلی شرائع میں اللہ تعالیٰ کو سبب اول ہونے کی وجہ سے باپ کہا کرتے تھے جاہلوں نے ولادت کے معنی سمجھ لئے اس لئے یہ عقیدہ رکھنا یا ایسا کہنا کفر قرار دیا گیا دفع فساد کی مصلحت سے اب ایسے لفظ کے استعمال کی بالکل اجازت نہیں۔