2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم کو یقین ہے اللہ کے فرمانے کا،

چوتھی آیت يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ کا خلاصہ یہ ہے کہ سود و ربوٰ کی حرمت نازل ہونے کے بعد جو سود کی بقایا رقمیں کسی کے ذمہ باقی تھیں ان کا لینا دینا بھی حرام کردیا گیا۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے عام عرب میں سود کا رواج پھیلا ہوا تھا، آیات متذکرہ سے پہلی آیتوں میں اس کی ممانعت آئی تو حسب عادت تمام مسلمانوں نے سود کے معاملات ترک کردیئے لیکن کچھ لوگوں کے مطالبات سود کی بقایا رقموں کے دوسرے لوگوں پر تھے اسی میں یہ واقعہ پیش آیا کہ بنی ثقیف اور بنی مخزوم کے آپس میں سودی معاملات کا سلسلہ تھا اور بنو ثقیف کے لوگوں کا کچھ مطالبہ بنی مخزوم کی طرف تھا بنو مخزوم مسلمان ہوگئے تو اسلام لانے کے بعد انہوں نے سود کی رقم ادا کرنا جائز نہ سمجھا ادھر بنوثقیف کے لوگوں نے مطالبہ شروع کیا کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر مسلمانوں سے مصالحت کرلی تھی بنومخزوم کے لوگوں نے کہا کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہم اپنی اسلامی کمائی کو سود کی ادائیگی میں خرچ نہ کریں گے، یہ جھگڑا مکہ مکرمہ میں پیش آیا اس وقت مکہ فتح ہوچکا تھا رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مکہ کے امیر حضرت معاذ اور دوسری روایت میں عتاب بن اسید تھے انہوں نے اس جھگڑے کا قضیہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بغرض دریافت حکم لکھ بھیجا، اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد سود کے سابقہ معاملات ختم کردئیے جائیں پچھلا سود بھی وصول نہ کیا جائے۔ یہ اسلامی قانون رائج کیا گیا تو مسلمان تو اس کے پابند تھے ہی جو غیر مسلم قبائل بطور صلح و معاہدہ اسلامی قانون کو قبول کرچکے تھے وہ بھی اس کے پابند ہوچکے تھے، لیکن اس کے باوجود جب حجۃ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے اس قانون کا اعلان کیا تو اس کا اظہار فرمایا کہ یہ قانون کسی خاص شخص یا قوم یا مسلمانوں کے مالی مفاد کے پیش نظر نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تعمیر اور صلاح و فلاح کے لئے جاری کیا گیا ہے اسی لئے ہم سب سے پہلے مسلمانوں کی بہت بڑی رقم سود جو غیر مسلموں کے ذمہ تھی اس کو چھوڑتے ہیں، تو اب ان کو بھی اپنے بقایا سود کی رقم چھوڑنے میں کوئی عذر نہ ہونا چاہئے۔ چناچہ اس خطبہ میں ارشاد فرمایا (الا ان کل ربا کان فی الجاھلیۃ موضوع عنکم کلہ لکم رؤس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون واول ربا موضوع ربا العباس ابن عبد المطلب کلہ) یعنی زمانہ جاہلیت میں جو سودی معامعلات کئے گئے سب کو سود چھوڑ دیا گیا اب ہر شخص کو اصل رقم ملے گی سود کی زائد رقم نہ ملے گی نہ تم زیادتی وصول کرکے کسی پر ظلم کرسکو گے اور نہ کوئی اصل رأس المال میں کمی کرکے تم پر ظلم کرسکے گا اور سب سے پہلے جو سود چھوڑا تھا وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، جس کی بہت بھاری رقمیں غیر مسلموں کے ذمہ بطور سود کے عائد ہوتی تھیں، قرآن مجید کی آیت متذکرہ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ اور بقایا سود چھوڑنے کا حکم مذکور ہے۔ اس آیت کو شروع اس طرح کیا گیا کہ مسلمانوں کو خطاب کرکے اول اِتَّقُوا اللّٰهَ کا حکم سنایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس کے بعد اصل مسئلہ کا حکم بتلایا گیا یہ قرآن حکیم کا وہ خاص طرز ہے جس میں وہ دنیا بھر کے قانون کی کتابوں سے ممتاز ہے کہ جب کوئی ایسا قانون بنایا جاتا ہے جس پر عمل کرنے میں لوگوں کو کچھ دشواری معلوم ہو تو اس کے آگے پیچھے خدا تعالیٰ کے سامنے پیشی اعمال کے حساب اور آخرت کے عذاب وثواب کا ذکر کرکے مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں کو اس پر عمل کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے اس کے بعد حکم سنایا جاتا ہے یہاں بھی پیچھے عائد شدہ سود کی رقم کا چھوڑ دینا انسانی طبیعت پر بار ہوسکتا تھا اس لئے پہلے اِتَّقُوا اللّٰهَ فرمایا، اس کے بعد حکم دیا، وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا یعنی چھوڑ دو بقایا سود کو۔ آیت کے آخر میں فرمایا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ یعنی اگر تم ایمان والے ہو اس میں اشارہ کردیا کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ حکم خداوندی کی اطاعت کی جائے اس کی خلاف ورزی ایمان کے منافی ہے یہ حکم طبائع پر بھاری تھا، اس لئے حکم سے پہلے اِتَّقُوا اللّٰهَ اور حکم کے بعد اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ کے ارشادات ملا دئیے گئے۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پس اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہوجاؤ لڑنے کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اگر توبہ کرتے ہو تو تمہارے واسطے ہے اصل مال تمہارا نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر کوئی،

اس کے بعد پانچویں آیت میں اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی جس کا مضمون یہ ہے کہ اگر تم نے سود کو نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو یہ وعید شدید ایسی ہے کہ کفر کے سوا اور کسی بڑے سے بڑے گناہ پر قرآن میں ایسی وعید نہیں آئی پھر اس آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا ہے وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ یعنی اگر تم توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے سود کی بقایا رقم چھوڑنے کا عزم کرلو تو تمہیں تمہارے اصل رأس المال مل جائیں گے نہ تم اصل رأس المال سے زائد حاصل کرکے کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ کوئی اصل راس المال میں کمی یا دیر کرکے تم پر ظلم کرنے پائے گا اس میں اصل رأس المال دینے کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا ہے کہ تم توبہ کرلو اور آئندہ کو سود چھوڑنے کا عزم کرلو تب اصل رأس المال ملے گا۔ اس سے بظاہر اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اگر سود چھوڑنے کا عزم کرکے توبہ نہ کی تو اصل رأس المال بھی نہ ملے گا سو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مسلمان ہوجانے کے باوجود سود کو حرام ہی نہ سمجھے اس لئے سود چھوڑنے کے لئے توبہ نہیں کرتا تب تو یہ شخص اسلام سے خارج اور مرتد ہوگیا جس کا حکم یہ ہے کہ مرتد کا مال اس کی ملک سے نکل جاتا ہے پھر جو زمانہ اسلام کی کمائی ہے وہ اس کے مسلمان وارثوں کو مل جاتی ہے اور جو کفر کے بعد کی کمائی ہے تو وہ بیت المال میں جمع کردی جاتی ہے اس لئے سود سے توبہ نہ کرنا اگر حلال سمجھنے کی بناء پر ہو تو اس کو اصل راس المال بھی نہ ملے گا اور اگر حلال تو نہیں سمجھتا مگر عملاً باز نہیں آتا اور اس کے ساتھ جتہ بنا کر حکومت اسلامیہ کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ باغی ہے اس کا بھی سب مال ضبط کرکے بیت المال میں امانت رکھا جاتا ہے کہ جب یہ توبہ کرلے تب اس کا مال اس کو واپس دے دیا جائے شاید اس قسم کی جزئیات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بصورت شرط فرمایا گیا۔ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ یعنی اگر تم توبہ نہ کرو گے تو تمہارے رأس المال بھی ضبط ہوجائیں گے۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر ہے تنگدست تو مہلت دینی چاہیے کشائش ہونے تک اور بخش دو تو بہت بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم کو سمجھ ہے

اس کے بعد چھٹی آیت میں سود خوری کی انسانیت سوز حرکت کے بالمقابل پاکیزہ اخلاق اور غریبوں اور ناداروں کے ساتھ مساہلت کے سلوک کی تعلیم دی جاتی ہے ارشاد ہوتا ہے، وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ۔ یعنی اگر تمہارا مدیون تنگدست ہو تمہارا قرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو حکم شرعی یہ ہے کہ اس کو فراخی اور آسودگی کے وقت تک مہلت دی جائے اور اگر تم اس کو اپنا قرض معاف ہی کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ سود خوروں کی عادت تو یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی مدیون مفلس ہے اور میعاد مقررہ پر وہ قرض ادا نہیں کرسکتا تو سود کی رقم اصل میں جمع کرکے سود درسود کا سلسلہ چلاتے ہیں اور سود کی مقدار بھی اور بڑھا دیتے ہیں۔ یہاں احکم الحاکمین نے یہ قانون بنادیا کہ اگر کوئی مدیون واقعی مفلس ہے ادائے قرض پر قادر نہیں تو اس کو تنگ کرنا جائز نہیں بلکہ اس کو اس وقت تک مہلت دینی چاہئے جب تک کہ وہ ادا کرنے پر قادر نہ ہوجائے ساتھ ہی اس کی ترغیب بھی دے دی کہ اس غریب کو اپنا قرض معاف کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ یہاں معاف کرنے کو قرآن نے بلفظ صدقہ تعبیر فرمایا ہے جس میں اشارہ ہے کہ یہ معافی تمہارے لئے بحکم صدقہ ہو کر موجب ثواب عظیم ہوگی نیز یہ جو فرمایا کہ معاف کردینا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے حالانکہ بظاہر تو ان کے لئے نقصان کا سبب ہے کہ سود تو چھوڑا ہی تھا اصل راس المال بھی گیا مگر قرآن نے اس کو بہتر فرمایا اس کی دو وجہ ہیں اول تو یہ کہ یہ بہتری اس دنیا کی چند روزہ زندگی کے بعد مشاہدہ میں آجائے گی جب کہ اس حقیر مال کے بدلہ میں جنت کی دائمی نعمتیں اس کو ملیں گی۔ دوسرے شاید اس میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ دنیا میں بھی تمہیں اس عمل کی بہتری کا مشاہدہ ہوجائے گا کہ تمہارے مال میں برکت ہوگی۔ برکت کی حقیقت یہ ہے کہ تھوڑے مال میں کام بہت نکل جائیں یہ ضروری نہیں کہ مال کی مقدار یا تعداد بڑھ جائے سو یہ مشاہدہ ہے کہ صدقہ خیرات کرنے والوں کے مال میں بیشمار برکت ہوتی ہے ان کے تھوڑے مال سے اتنے کام نکل جاتے ہیں کہ حرام مال والوں کے بڑے بڑے اموال سے وہ کام نہیں نکلتے۔ اور جس مال میں بےبرکتی ہوتی ہے اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ جس مقصد کے لئے خرچ کرتا ہے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا یا غیر مقصود چیزوں میں مثلا دواء علاج اور ڈاکٹروں کی فیسوں میں ایسے مالداروں کی بڑی بڑی رقمیں خرچ ہوجاتی ہیں جس کا غریبوں کو کبھی سابقہ نہیں پڑتا اول تو اللہ تعالیٰ ان کو تندرستی کی نعمت عطا فرماتے ہیں کہ علاج میں کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے اور اگر کبھی بیماری آئی بھی تو معمولی اخراجات سے تندرستی حاصل ہوجاتی ہے اس لحاظ سے مدیون مفلس کو قرض معاف کردینا جو بظاہر اس کے لئے نقصان دہ نظر آتا تھا اس قرآنی تعلیم کے پیش نظر وہ ایک مفید ونافع کام بن گیا۔ مدیون مفلس کے ساتھ نرمی ومساہلت کی تعلیم کے لئے احادیث صحیحہ میں جو ارشادات وارد ہوئے ہیں ان کے چند جملے سنئے۔ طبرانی کی ایک حدیث ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کے سر پر اس روز اللہ کی رحمت کا سایہ ہو جبکہ اس کے سوا کسی کو کوئی سایہ سر چھپانے کے لئے نہ ملے گا تو اس کو چاہئے کہ تنگدست مقروض کے ساتھ نرمی اور مساہلت کا معاملہ کرے یا اس کو معاف کردے۔ اسی مضمون کی حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی مفلس مدیون کو مہلت دے گا تو اس کو ہر روز اتنی رقم کے صدقہ کا ثواب ملے گا جتنی اس مدیون کے ذمہ واجب ہے اور یہ حساب میعاد قرض پورا ہونے سے پہلے مہلت دینے کا ہے اور جب میعاد قرض پوری ہوجائے اور وہ شخص ادا کرنے پر قادر نہ ہو اس وقت اگر کوئی دے گا تو اس کو ہر روز اس کی دوگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کی دعاء قبول ہو یا اس کی مصیبت دور ہو تو اس کو چاہئے کہ تنگدست مدیون کو مہلت دیدے۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور ڈرتے رہے اس دن سے جس دن لوٹائے جاؤ گے اللہ کی طرف پھر پورا دیا جائے گا ہر شخص کو جس کچھ اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا

اس کے بعد آخری آیت میں پھر روز قیامت کا خوف اور محشر کے حساب کتاب اور ثواب و عذاب کے ذکر پر احکام سود کی آیات کو ختم کیا ارشاد فرمایا وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ یعنی ڈرو اس روز سے جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی میں لائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو اپنے اپنے عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت نزول کے اعتبار سے سب سے آخری آیت ہے اس کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اس کے اکتیس روز بعد آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی اور بعض روایات میں صرف نو دن بعد وفات ہونا مذکور ہے۔ یہاں تک ربا کے احکام سے متعلقہ سورة بقرہ کی آیات کی تفسیر آئی ہے ربا کی حرمت و ممانعت پر قرآن کریم میں سورة بقرہ میں مذکورہ سات آیتیں اور سورة آل عمران میں ایک آیت سورة نسآء میں دو آیتیں آئی ہیں اور ایک آیت سورة روم میں بھی ہے جس کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے اس کو بھی سود بیاج کے مفہوم پر محمول کیا ہے، بعض نے دوسری تفسیر بیان کی ہے اس طرح قرآن حکیم کی دس آیتیں ہیں جن میں سود وربا کے احکام مذکور ہیں۔ سود کی پوری حقیقت بتلانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان باقی آیات کا ترجمہ اور تفسیر بھی اسی جگہ لکھ دی جائے جو سورة آل عمران اور سورة نسآء اور سورة روم میں آئی ہیں تاکہ آیات یک جا ہو کر رباء کی حقیقت سمجھنے میں آسانی ہو۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (130: 3) یعنی اے ایمان والو سود مت کھاؤ حصے سے زائد اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔ اس آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے کہ جاہلیت عرب میں سود خوری کا عام طور پر یہ طریق تھا کہ ایک خاص میعاد معین کے لئے اُدھار سود پر دیا جاتا تھا اور جب وہ میعاد آگئی اور قرضدار اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو مزید مہلت اس شرط پر دی جاتی تھی کہ سود کی مقدار بڑھا دی جائے اسی طرح دوسری میعاد پر بھی ادائیگی نہ ہوئی تو سود کی مقدار اور بڑھا دی۔ یہ واقعہ عام کتب تفسیر میں بالخصوص لباب النقول میں بروایت مجاہد مذکور ہے۔ جاہلیت عرب کی اس ملت کش رسم کو مٹانے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی اسی لئے اس آیت میں اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً (یعنی کئی حصے زائد) فرما کر ان کے مروجہ طریقہ کی مذمت اور ملت کشی وخود غرضی پر تنبیہ فرما کر اس کو حرام قرار دیا اس کے معنی یہ نہیں کہ اضعاف ومضاعف نہ ہو تو حرام نہیں کیونکہ سورة بقرہ اور نسآء میں مطلقا ربا کی حرمت صاف صاف مذکور ہے اضعاف مضاعف ہو یا نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن کریم میں جابجا فرمایا گیا ہے لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا یعنی میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت مت لو، اس میں تھوڑی سی قیمت اس لئے فرمایا کہ آیات الہیہ کے بدلے میں اگر ہفت اقلیم کی سلطنت بھی لے لے تو وہ تھوڑی ہی قیمت ہوگی اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کی آیات کے بدلے میں تھوڑی قیمت لینا تو حرام ہے اور زیادہ لینا جائز، اسی طرح اس آیت میں اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً کا لفظ ان کے شرمناک طریقہ پر فکر کرنے کے لئے لایا گیا حرمت کی شرط نہیں۔ اور اگر سود کے مروجہ طریقوں پر غور کیا جائے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب سود خوری کی عادت پڑجائے تو پھر وہ سود تنہا سود ہی نہیں رہتا بلکہ لازماً اضعاف مضاعف ہوجاتا ہے کیونکہ جو رقم سود سے حاصل ہو کر سود خور کے مال میں شامل ہوئی تو اب اس سود کی زائد رقم کو بھی سود پر چلائے گا اور یہی سلسلہ آگے چلا تو اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ہوجائے گا، اس طرح ہر سود اضعاف مضاعفہ بن کر رہے گا۔ اور سورة نسآء میں دو آیتیں سود کے متعلق یہ ہیں فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا (161، 162: 4) یعنی یہود کے انہی بڑے بڑے جرائم کے سبب ہم نے بہت سی پاکیزہ چیزیں جو ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور بسبب اس کے کہ وہ بہت آدمیوں کو رشد کی راہ سے مانع بن جاتے تھے اور بسبب اس کے کہ وہ سود لیا کرتے تھے حالانکہ ان کو ان سے ممانعت کی گئی تھی اور بسبب اس کے کہ وہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھا جاتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کیلئے جو ان میں کافر ہیں درد ناک سزا کا سامان مقرر کر رکھا ہے۔ ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ شریعت موسویہ میں بھی سود حرام تھا اور یہود نے جب اس کی مخالفت کی تو دنیا میں بھی ان کو یہ مناسب سزا دی گئی کہ انہوں نے حرص دنیا کی خاطر کھانا شروع کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بعض حلال چیزیں بھی حرام فرمادیں۔ اور سورة روم کے چوتھے رکوع کی انتالیسویں آیت میں ہے وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ (39: 30) یعنی جو چیز تم اس لئے دوگے کہ وہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجائے تو یہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑہتا اور جو زکوٰۃ ٰدوگے جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو تو ایسے لوگ خدا کے پاس بڑھاتے رہیں گے۔ بعض حضرات مفسرین نے لفظ ربا اور زیادتی پر نظر کرکے اس آیت کو بھی سود بیاج پر محمول فرمایا ہے اور یہ تفسیر فرمائی ہے کہ سود بیاج کے لینے میں اگرچہ بظاہر مال کی زیادتی نظر آتی ہے مگر درحقیقت وہ زیادتی نہیں جیسے کسی شخص کے بدن پر ورم ہوجائے تو بظاہر وہ اس کے جسم میں زیادتی ہے لیکن کوئی عقل مند اس کو زیادتی سمجھ کر خوش نہیں ہوتا بلکہ اس کو ہلاکت کا مقدمہ سمجھتا ہے اس کے بالمقابل زکوٰۃ و صدقات دینے میں اگرچہ بظاہر مال میں کمی آتی ہے مگر درحقیقت وہ کمی نہیں بلکہ ہزاروں زیادتیوں کا موجب ہے جیسے کوئی مادہ فاسدہ کے اخراج کے لئے مسہل لیتا ہے یا فصد کھلوا کر خون نکلواتا ہے تو بظاہر وہ کمزور نظر آتا ہے اور اس کے بدن میں کمی محسوس ہوتی ہے مگر جاننے والوں کی نظر میں یہ کمی اس کی زیادتی اور قوت کا پیش خیمہ ہے۔ اور بعض علماء تفسیر نے اس آیت کو سود بیاج کی ممانعت پر محمول ہی نہیں فرمایا بلکہ اس کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ جو شخص کسی کو اپنا مال اخلاص ونیک نیتی سے نہیں بلکہ اس نیت سے دے کر میں اس کو یہ چیز دوں گا تو وہ مجھے اس کے بدلہ میں اس سے زیادہ دے گا، جیسے بہت سی برادریوں میں نوتا کی رسم ہے وہ ہدیہ کے طور پر نہیں بلکہ بدلہ لینے کی غرض سے دی جاتی ہے، یہ دینا چونکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی غرض کے لئے ہے اس لئے آیت میں فرمایا کہ اس طرح اگرچہ ظاہر میں مال بڑھ جائے مگر وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑہتا ہے ہاں جو زکوٰۃ صدقات اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے دیئے جائیں ان میں اگرچہ بظاہر مال گھٹتا ہے مگر اللہ کے نزدیک وہ دوگنا اور چوگنا ہوتا جاتا ہے۔ اس تفسیر پر آیت مذکورہ کا وہ مضمون ہوجائے گا جو دوسری ایک آیت میں رسول کریم ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (6: 74) یعنی آپ کسی پر احسان اس نیت سے نہ کریں کہ اس کے بدلہ میں کچھ مال کی زیادتی آپ کو حاصل ہوجائے گی۔ اور سورة روم کی اس آیت میں بظاہر یہ دوسری تفسیر ہی راجح معلوم ہوتی ہے، اول تو اس لئے کہ سورة روم مکی ہے جس کے لئے اگرچہ ضروری نہیں کہ اس کی ہر آیت مکی ہو مگر غالب گمان مکی ہونے کا ضرور ہے جب تک اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملے اور آیت کے مکی ہونے کی صورت میں اس کو حرمت سود کے مفہوم پر اس لئے محمول نہیں کیا جاسکتا کہ حرمت سود مدینہ میں نازل ہوئی ہے اس کے علاوہ اس آیت سے پہلے جو مضمون آیا ہے اس سے بھی دوسری تفسیر ہی کا رجحان معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس سے پہلے ارشاد ہے فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّــلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ ۡ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (37: 30) قرابت دار کو اس کا حق دیا کرو اور مسکین اور مسافر کو بھی یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں۔ اس آیت میں رشتہ داروں اور مساکین اور مسافروں پر خرچ کرنے کے ثواب ہونے کے لئے شرط لگائی گئی ہے کہ اس میں نیت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی گئی ہو تو اس کے بعد والی آیت مذکورہ میں اس کی توضیح اس طرح کی گئی کہ اگر مال کسی کو اس غرض سے دیا جائے کہ اس کا بدلہ اس کی طرف سے زیادہ ملے گا تو یہ رضاجوئی حق تعالیٰ کے لئے خرچ نہ ہوا اس لئے اس کا ثواب نہ ملے گا۔ بہرحال ممانعت سود کے مسئلہ میں اس آیت کو چھوڑ کر بھی مذکورۃ الصدر بہت سی آیتیں آئی ہیں جن میں سے سورة آل عمران کی ایک آیت نمبر 13 میں اضعاف مضاعف سود کی حرمت بیان کی گئی ہے اور باقی سب آیتوں میں مطلق سود کی حرمت کا بیان ہے اس تفصیل سے یہ تو واضح ہوگیا کہ سود خواہ اضعاف مضاعف اور سود درسود ہو یا اکہر اسود بہرحال حرام ہے اور حرام بھی ایسا شدید کہ اس کی مخالفت کرنے پر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سنایا گیا ہے۔
Ayahs 2:282–283

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والوجب تم آپس میں معاملہ کرو ادھار کا کسی وقت مقرر تک تو اس کو لکھ لیا کرو اور چاہئے کہ لکھ دے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف سے اور انکارنہ کرو لکھنے والا اس سے کہ لکھ دیوے جیسا سکھایا اس کو اللہ نے سو اس کو چاہیے کہ لکھ دے اور بتلاتا جاوے وہ شخص کہ جس پر قرض ہے اور ڈرے اللہ سے جو اس کا رب ہے اور کم نہ کرے اس میں سے کچھ پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بےعقل ہے یا ضعیف ہے یا آپ نہیں بتلا سکتا تو بتلادے کار گذار اس کا انصاف سے اور گواہ کرو دو شاہد اپنے مردوں میں سے پھر اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں اور ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو گواہوں میں تاکہ بھول جائے ایک ان میں سے تو یاد دلاوے اس کو دوسری اور انکار نہ کریں گواہ جس وقت بلائے جاویں اور کاہلی نہ کرو اس کے لکھنے سے چھوٹا ہو معاملہ یا بڑا اس کی معیاد تک اس میں پورا انصاف ہے اللہ کے نزدیک اور بہر درست رکھنے والا ہے گواہی کو اور نزدیک ہے کہ شبہ میں نہ پڑو مگر یہ کہ سوداہو ہاتھوں ہاتھ لیتے دیتے ہو اس کو آپس میں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اگھر اس کو نہ لکھو اور گواہ کرلیا کرو جب تم سودا کرو، اور نقصان نہ کرے لکھنے والا اور نہ گواہ اور اگر ایساکرو تو یہ گناہ کی بات ہے تمہارے اندر اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ تم کو سکھلاتا ہے اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے،

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور نہ پاؤ کوئی لکھنے والا تو گرو ہاتھ میں رکھنی چاہیئے پھر اگر اعتبار کرے ایک دوسرے کا تو چاہئے کہ پورا کرے وہ شخص کہ جس پر اعتبار کیا پنی امانت کو اور ڈرتا ہے اللہ سے جو رب ہے اس کا اور مت چھپاؤ گواہی کو اور جو شخص اس کو چھپاوے تو بیشک گنہگار ہے دل اس کا اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے۔

خلاصہ تفسیر اے ایمان والوں جب معاملہ کرنے لگو ادھار کا (خواہ دام ادھار ہوں یا جو چیز خریدنا ہے وہ ادھار ہو جیسے بیع سلم میں) ایک میعاد معین تک (کے لئے) تو اس (کی یاد داشت ودستاویز) کو لکھ لیا کرو اور یہ ضرور ہے کہ تمہارے آپس میں (جو) کوئی لکھنے والا (ہو وہ) انصاف کے ساتھ لکھے (یعنی کسی کی رعایت کرکے مضمون میں کمی بیشی نہ کرے) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار بھی نہ کرے جیسا کہ خدا نے اس کو (لکھنا) سکھایا ہے، اس کو چاہئے کہ لکھ دیا کرے اور (کاتب کو) وہ شخص (بتلادے اور) لکھوا دے جس کے ذمہ وہ حق واجب ہو (کیونکہ دستاویز کا حاصل اقرار حق کا ہوتا ہے، تو جس کے ذمہ حق ہے اسی کا اقرار ضرور ٹھرا) اور (لکھاتے وقت) اللہ تعالیٰ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرتا رہے اور اس (حق) میں سے ذرہ برابر (بتلانے میں) کمی نہ کرے، پھر جس شخص کے ذمہ حق واجب تھا وہ اگر ضعیف العقل (یعنی معتوہ یا مجنون) ہو یا ضیعف البدن (یعنی نابالغ یا پیر فرتوت) ہو یا (اور کسی اتفاقی امر سے) خود (بیان کرنے کی اور) لکھانے کی قدرت نہ رکھتا ہو، (مثلا گونگا ہے اور لکھنے والا اس کا اشارہ نہیں سمجھتا یا مثلا دوسرے ممالک کا رہنے والا ہے اور زبان غیر رکھتا ہے اور لکھنے والا اس کی بولی نہیں سمجھتا) تو (ایسی حالت میں) اس کا کارکن ٹھیک ٹھیک طور پر لکھوا دے اور دو شخصوں کو اپنے مردوں میں سے گواہ (بھی) کرلیا کرو (اور شرعا اصل مدار ثبوت دعویٰ کا یہی گواہ ہیں گو دستاویز نہ ہو اور خالی دستاویز بدون گواہوں کے ایسے معاملات میں حجت اور معتبر نہیں۔ دستاویز لکھنا صرف یاد داشت کی آسانی کے لئے رہے کہ اس کا مضمون دیکھ کر اور سن کر طبعی طور پر اکثر تمام واقعہ یاد آجاتا ہے جیسا عنقریب قرآن ہی میں آتا ہے) پھر اگر وہ گواہ مرد (میسر) نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (گواہ بنالی جائیں) ایسے گواہوں میں سے جن کو تم (ان کے معتبر ہونے کی وجہ سے) پسند کرتے ہو (اور ایک مرد کی جگہ دو عورتیں اس لئے تجویز کی گئیں) تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے کوئی ایک بھی (شہادت کے کسی حصہ کو خواہ ذہن سے یا شہادت کے وقت بیان کرنے سے) بھول جائے تو ایک دوسری کو یاد دلادے (اور یاد دلانے کے بعد شہادت کا مضمون مکمل ہوجائے) اور گواہ بھی انکار نہ کریں جب (گواہ بننے کے لئے) بلائے جایا کریں (کہ اس میں اعانت ہے اپنے بھائی کی) اور تم اس (دین) کے (بار بار) لکھنے سے اکتایا مت کرو خواہ وہ (معاملہ دین کا) چھوٹا ہو یا بڑا ہو یہ لکھ لینا انصاف کا زیادہ قائم رکھنے والا ہے اللہ کے نزدیک اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ سزا وار ہے اس بات کا کہ تم (معاملہ کے متعلق) کسی شبہ میں نہ پڑو (اس لئے لکھ ہی لینا اچھا ہے) مگر یہ کہ کوئی سودا دست بدست ہو جس کو باہم لیتے دیتے ہو تو اس کے نہ لکھنے میں تم پر کوئی الزام (اور مضرت) نہیں اور (اتنا اس میں بھی ضرور کیا کرو کہ اس کے) خریدو فروخت کے وقت گواہ کرلیا کرو (شاید کل کو کوئی بات نکل آئے، مثلاً بائع کہنے لگے کہ مجھ کو دام ہی وصول نہیں ہوئے یا یہ چیز میں نے فروخت ہی نہیں کی یا مشتری کہنے لگے کہ میں نے تو واپسی کا اختیار بھی لے لیا تھا یا ابھی تو مبیع پوری میری پاس نہیں پہنچی) اور (جس طرح ہم نے اوپر کاتب اور گواہ کو منع کیا ہے کہ کتابت اور شہادت سے انکار نہ کریں اسی طرح ہم تم کو بھی تاکید کرتے ہیں کہ تمہاری طرف سے) کسی کاتب کو تکلیف نہ دی جائے اور نہ کسی گواہ کو (مثلا اپنی مصلحت کے لئے ان کی طرف سے) کسی مصلحت میں خلل ڈالا جائے) اور اگر تم ایسا کرو گے تو اس میں تم کو گناہ ہوگا اور خدا تعالیٰ سے ڈرو (اور جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے وہ مت کرو) اور اللہ تعالیٰ (کا تم پر احسان ہے کہ) تم کو (احکام مفیدہ کی) تعلیم فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کے جاننے والے ہیں (تو وہ مطیع اور عاصی کو بھی جانتے ہیں ہر ایک کو مناسب جزاء دیں گے) اور اگر تم (دین کا معاملہ کرانے کے وقت) کہیں سفر میں ہو اور (دستاویز لکھنے کے واسطے وہاں) کوئی کاتب نہ پاؤ سو (ایسی حالت میں اطمینان کا ذریعہ) رہن رکھنے کی چیزیں (ہیں) جو مدیون کی طرف سے صاحب حق کے) قبضہ میں دے دیجائیں اور اگر (ایسے وقت میں بھی) ایک دوسرے کا اعتبار کرتا ہو (اور اس لئے رہن کی ضرورت نہ سمجھے) تو جس شخص کا اعتبار کرلیا گیا ہے (یعنی مدیون) اس کو چاہئے کہ دوسرے کا حق (پورا پورا) ادا کردے اور اللہ تعالیٰ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے (اور اس کا حق نہ مارے) اور شہادت کا اخفاء مت کرو اور جو شخص اس کا اخفاء کرے گا اس کا قلب گنہگار ہوگا اور اللہ تعالیٰ تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتے ہیں (سو اگر کوئی اخفاء کرے گا اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ضرور ہے سو وہ سزا دیں گے۔ معارف و مسائل قرض اور ادھار کے لئے اقرار نامہ لکھنے کی ہدایت اور متعلقہ احکام آیات مذکورہ میں قانون معاملات جن کو آجکل کے قانون میں معاہدات کہا جاتا ہے اس کے اہم اصول کا بیان ہے اور اس کے بعد ضابطہ شہادت کے خاص اصول کا ذکر ہے۔ آجکل تو زمانہ لکھنے لکھانے کا ہے اور تحریر ہی انسان کی زبان کی قائم مقام بن گئی ہے لیکن آپ چودہ سو سال پہلے زمانہ کی طرف مڑ کر دیکھئے تو اس وقت دنیا کا سب کاروبار صرف زبانی ہوتا تھا لکھنے لکھانے اور دستاویز مہیا کرنے کا اصول نہ تھا سب سے پہلے قرآن نے اس طرف توجہ دلائی اور فرمایا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ یعنی جب تم آپس میں ادھار کا معاملہ کیا کرو کسی معین مدت کے لئے تو اس کو لکھ لیا کرو۔ اس میں ایک اصول تو یہ بتلا دیا کہ ادھار کے معاملات کی دستاویز لکھنی چاہئے تاکہ بھول چوک یا انکار کے وقت کام آئے۔ دوسرا مسئلہ یہ بیان فرمایا گیا کہ ادھار کا معاملہ جب کیا جائے تو اس کی میعاد ضرور مقرر کی جائے غیر معین مدت کے لئے ادھار دینا لینا جائز نہیں کیونکہ اس سے جھگڑے فساد کا دروازہ کھلتا ہے اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا کہ میعاد بھی ایسی مقرر ہونا چاہئے جس میں کوئی ابہام نہ ہو مہینہ اور تاریخ کے ساتھ معین کی جائے کوئی مبہم میعاد نہ رکھیں، جیسے کھیتی کٹنے کے وقت کیونکہ وہ موسم کے اختلاف سے آگے پیچھے ہوسکتا ہے اور چونکہ لکھنا اس زمانے میں عام نہ تھا اور آج بھی عام ہونے کے بعد دنیا کی بیشتر آبادی وہی ہے جو لکھنا نہیں جانتی تو یہ ممکن تھا کہ لکھنے والا کچھ کا کچھ لکھ دے جس سے کسی کا نفع اور کسی کا نقصان ہوجائے اس لئے اس کے بعد ارشاد فرمایا وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ یعنی یہ ضروری ہے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے۔ اس میں ایک تو اس طرف ہدایت کی گئی کہ کاتب کسی فریق کا مخصوص آدمی نہ ہو بلکہ غیر جانبدار ہو تاکہ کسی کو شبہ اور خلجان نہ رہے، دوسرے کاتب کو ہداہت کی گئی کہ انصاف کے ساتھ لکھے دوسرے کے فانی نفع کے لئے اپنا دائمی نقصان نہ کرے اس کے بعد کاتب کو اس کی ہدایت کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ ہنر دیا ہے کہ وہ لکھ سکتا ہے اس کا شکرانہ یہ ہے کہ وہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔ اس کے بعد یہ بتلایا گیا کہ دستاویز کی کتابت کس کی طرف سے ہو تو فرمایا وَلْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ یعنی لکھوا دے وہ آدمی جس کے ذمہ حق ہے مثلاً سودا خریدا اور قیمت کا ادھار کیا تو جس کے ذمہ ادھار ہے وہ دستاویز کا مضمون لکھوا دے کیونکہ یہ اس کی طرف سے اقرار نامہ ہوگا، اور لکھوانے میں بھی یہ احتمال تھا کہ کوئی کمی بیشی کردے اس لئے فرمایا وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَـيْــــًٔـا یعنی اللہ تعالیٰ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرتا رہے اور حق کے لکھوانے میں ذرہ برابر کمی نہ کرے معاملات میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس شخص پر حق عائد ہو وہ خفیف العقل یا سٹھیا ہوا بوڑھا یا نابالغ بچہ یا گونگا ہو یا کوئی دوسری زبان بولنے والا ہو جس کو کاتب نہیں سمجھتا اس لئے دستاویز لکھوانے پر اس کو قدرت نہیں ہوتی اس لئے اس کے بعد فرمایا کہ اگر ایسی صورت پیش آئے تو ان کی طرف سے ان کا ولی لکھوا دے مجنون اور نابالغ کی طرف سے تو ولی کا ہونا ظاہر ہے کہ ان کے سارے معاملات ولی ہی کی معرفت ہوا کرتے ہیں اور گونگے یا دوسری زبان بولنے والے کا ولی بھی یہ کام کرسکتا ہے اور اگر وہ کسی کو اپنا وکیل بنادے تو بھی ہوسکتا ہے۔ قرآن میں اس جگہ لفظ ولی دونوں معنے ٰ پر حاوی ہے۔ ضابطہ شہادت کے چند اہم اصول یہاں تک معاملات میں دستاویز لکھنے اور لکھوانے کے اہم اصول کا بیان تھا۔ آگے یہ بتلایا گیا کہ دستاویز کی صرف تحریر کو کافی نہ سمجھیں بلکہ اس پر گواہ بھی بنالیں کہ اگر کسی وقت باہمی نزاع پیش آجائے تو عدالت میں ان گواہوں کی گواہی سے فیصلہ ہوسکے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محض تحریر حجت شرعی نہیں جب تک کہ اس پر شہادت شرعی موجود نہ ہو خالی تحریر پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، آج کل کی عام عدالتوں کا بھی یہی دستور ہے کہ تحریر پر زبانی تصدیق و شہادت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتیں۔ گواہی کے لئے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونا ضروری ہیں اس کے بعد ضابطہ شہادت کے چند اہم اصول بتلائے گئے مثلا (1) گواہ دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں ہونا ضروری ہیں ایک اکیلا مرد یا صرف دو عورتیں عام معاملات کی گواہی کے لئے کافی نہیں۔ گواہوں کی شرائط (2) دوسرے یہ کہ گواہ مسلمان ہوں، لفظ مِنْ رِّجَالِكُمْ میں اس کی طرف ہدایت کی گئی ہے (3) تیسرے یہ کہ گواہ ثقہ اور عادل ہوں جن کے قول پر اعتماد کیا جاسکے فاسق وفاجر نہ ہوں مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاۗءِ میں یہ حکم مذکور ہے۔ گواہی دینے سے بلا عذر شرعی انکار کرنا گناہ ہے اس کے بعد لوگوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ جب ان کو کسی معاملہ میں گواہ بنانے کے لئے بلایا جائے تو وہ آنے سے انکار نہ کریں کیونکہ شہادت ہی احیائے حق کا ذریعہ اور جھگڑے چکانے کا طریقہ ہے اس لئے اس کو اہم قومی خدمت سمجھ کر تکلیف برداشت کریں اس کے بعد پھر معاملات کی دستاویز لکھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا سب کو لکھنا چاہئے اس میں اکتائیں نہیں کیونکہ معاملات کا قلم بند کرلینا انصاف کو قائم رکھنے اور صحیح دینے اور شک وشبہ سے بچنے کے لئے بہترین ذریعہ ہے، ہاں اگر کوئی معاملہ دست بدست ہو ادھار نہ ہو اس کو اگر نہ لکھیں تب بھی کچھ حرج نہیں مگر اتنا اس میں بھی کیا جائے کہ معاملہ پر گواہ بنالیں کہ شاید کسی وقت فریقین میں کوئی نزاع واختلاف پیش آجائے۔ مثلا بائع کہے کہ قیمت وصول نہیں ہوئی یا مشتری کہے کہ مجھے مبیع پوری وصول نہیں ہوئی تو اس جھگڑے کے فیصلہ میں شہادت کام آئے گی۔ اسلام میں عدل و انصاف قائم کرنے کا اہم اصول کہ گواہوں کو کوئی نقصان یا تکلیف نہ پہونچے آیت کے شروع میں لکھنے والوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لکھنے یا شاہد بننے سے انکار نہ کریں تو یہاں یہ احتمال تھا کہ لوگ ان کو پریشان کریں گے اس لئے آخر آیت میں فرمایا وَلَا يُضَاۗرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ یعنی کسی لکھنے والے یا گواہی دینے والے کو نقصان نہ پہنچایا جائے یعنی ایسا نہ کریں کہ اپنی مصلحت اور فائدہ کے لئے ان کی مصلحت اور فائدہ میں خلل ڈالیں۔ پھر فرمایا وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ یعنی اگر تم نے لکھنے والے یا گواہ کو نقصان پہنچایا تو اس میں تم کو گناہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لکھنے والے یا گواہ کو نقصان پہنچانا حرام ہے، اسی لئے فقہاء نے فرمایا کہ اگر لکھنے والا اپنے لکھنے کی مزدوری مانگے یا گواہ اپنی آمد ورفت کا ضروری خرچ طلب کرے تو یہ اس کا حق ہے اس کو ادا نہ کرنا بھی اس کو نقصان پہنچانے میں داخل اور ناجائز ہے، اسلام نے اپنے نظام عدالت میں جس طرح گواہ کو گواہی دینے پر مجبور کیا ہے اور گواہی چھپانے کو سخت گناہ قرار دیا ہے اس طرح اس کا بھی انتظام کیا کہ لوگ گواہی سے بچنے پر مجبور نہ ہوجائیں اسی دو طرفہ احتیاط کا یہ اثر تھا کہ ہر معاملہ میں سچے بےغرض گواہ مل جاتے اور فیصلے جلد اور آسان حق کے مطابق ہوجاتے۔ آج کی دنیا نے اس قرآنی اصول کو نظر انداز کردیا ہے تو سارا نظام عدالت برباد ہوگیا۔ واقعہ کے اصلی اور سچے گواہ ملنا تقریبا مفقود ہوگیا ہر شخص گواہی سے جان چرانے پر مجبور ہوگیا، وجہ یہ کہ جس کا نام گواہی میں آگیا اگر معاملہ پولیس اور فوجداری کا ہے تو روز وقت بےوقت تھانیدار صاحب اس کو بلا بھیجتے ہیں اور بعض اوقات گھنٹوں بٹھائے رکھتے ہیں، دیوانی عدالتوں میں بھی گواہ کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی مجرم ہے پھر روز روز مقدمہ کی پیشیاں بدلتی ہیں تاریخیں لگتی ہیں گواہ بیچارہ اپنا کاروبار اور مزدوری اور ضروریات چھوڑ کر آنے پر مجبور ہے ورنہ وارنٹ کے ذریعہ گرفتار کیا جائے اس لئے کوئی شریف کاروباری آدمی کسی معاملہ کا گواہ بننا اپنے لئے ایک عذاب سمجھنے اور مقدور بھر اس سے بچنے پر مجبور کردیا گیا صرف پیشہ ور گواہ ملتے ہیں جن کے ہاں جھوٹ سچ میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ قرآن حکیم نے ان بنیادی ضروریات کو اہمیت کے ساتھ بتلا کر ان تمام خرابیوں کا انسداد فرمایا۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہے واتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ یعنی ڈرو اللہ سے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اصول صحیہ کی تعلیم دیتا ہے (یہ اس کا احسان ہے) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے چونکہ اس آیت میں بہت سے احکام آئے ہیں بعض فقہاء نے بیس اہم مسائل فقہی اس آیت سے نکالے ہیں اور قرآن کریم کی عام عادت ہے کہ قانون بیان کرنے سے آگے اور پیچھے خوف خدا اور خوف روز جزاء دلا کر لوگوں کے ذہنوں کو تعمیل حکم کے لئے آمادہ کرتا ہے، اسی طریقہ کے مطابق اس آیت کا خاتمہ خوف خداوندی پر کیا اور یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اگر تم کسی ناجائز حیلہ سے بھی کوئی خلاف ورزی کرو گے تو خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ دوسری آیت میں دو اہم مضمون بیان فرمائے گئے۔ ایک یہ کہ ادھار کے معاملہ میں اگر کوئی یہ چاہے کہ اعتماد کے لئے کوئی چیز گروی رکھ لے تو اس کی بھی اجازت ہے، مگر اس میں لفظ مقبوضۃ سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شئے مرہونہ سے نفع اٹھانا اس کے لئے جائز نہیں مرتہن کو صرف اتنا حق ہے کہ اپنے قرض وصول ہونے تک اس کی چیز پر اپنا قبضہ رکھے اور منافع اس کے وہ سب اصل مالک کا حق ہیں۔ دوسرا مضمون یہ ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو کسی نزاعی معاملہ کا صحیح علم ہو وہ شہادت کو نہ چھپائے اور اگر اس نے چھپایا تو اس کا دل گنہگار ہے، دل کو اس لئے گنہگار فرمایا کہ کوئی شخص اس کو خالی زبان ہی کا گناہ نہ سمجھے کیونکہ اول ارادہ تو دل ہی سے ہوا ہے، اس لئے اول گناہ دل ہی کا ہے۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اگر ظاہر کرو گے اپنے جی کی بات یا چھپاؤ گے اس کو حساب لے گا اس کا تم سے اللہ پھر بخشے گا جسکو چاہے اور عذاب کرے گا جس کو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

خلاصہ تفسیر اللہ ہی کی ملک میں ہیں سب (مخلوقات) جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں (جیسے خود زمین و آسمان بھی اسی کی ملک میں ہیں) اور (جب وہ مالک ہیں تو ان کو اپنی مملوکہ اشیاء میں ہر طرح قانون بنانے کا حق ہے اس میں مجال کلام نہ ہونی چاہئے جیسا کہ ایک قانون یہ ہے کہ) جو باتیں (عقائد فاسدہ یا اخلاق مذمومہ یا گناہوں پر پختہ عزم و ارادہ کی) تمہارے نفسوں میں ہیں ان کو اگر تم (زبان وجوارح سے) ظاہر کرو گے (مثلا زبان سے کلمہ کفر کہہ دیا یا اپنے تکبر حسد وغیرہ کا خود اظہار کردیا یا کسی گناہ جس کا قصد تھا اسی کو کر ہی ڈالا) یا کہ (دل ہی میں) پوشیدہ رکھو گے (دونوں حالتوں میں) حق تعالیٰ تم سے (مثل دوسرے معاصی کے ان کا) حساب لیں گے پھر (حساب لینے کے بعد بجز کفر و شرک کے) جس کے لئے (بخشنا) منظور ہوگا بخش دیں گے اور جس کو (سزا دینا) منظور ہوگا سزا دیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ معارف و مسائل پہلی آیت میں شہادت کے اظہار کا حکم اور چھپانے کی ممانعت مذکور تھی یہ آیت بھی اسی مضمون کا تکملہ ہے اس میں انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ شہادت کا چھپانا حرام ہے اگر تم نے معاملہ کو جانتے ہوئے چھپایا تو رب علیم وخبیر تم سے اس کا حساب لے گا۔ حضرت ابن عباس، عکرمہ، شعبی، اور مجاہد سے یہی تفسیر منقول ہے (قرطبی) اور عموم الفاظ کے اعتبار سے عام ہے اور تمام اعتقادات، عبادات اور معاملات کو شامل ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا مشہور قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی مخلوق کے تمام اعمال کا محاسبہ فرمائیں گے وہ عمل بھی جس کو وہ کر گذرے ہیں اور وہ بھی جن کا دل سے پختہ ارادہ کرلیا اور اس کو دل میں چھپا کر رکھا مگر عمل کی نوبت نہیں آئی جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں بروایت حضرت ابن عمر منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مومن قیامت کے روز اپنے رب عزوجل وعلیٰ سے قریب کیا جائے گا یہاں تک کہ حق تعالیٰ اس کے ایک ایک گناہ کو یاد دلائیں گے، اور سوال کریں گے کہ تو جانتا ہے کہ تو نے نہ یہ گناہ کیا تھا، بندہ مومن اقرار کرے گا، حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے دنیا میں بھی تیری پردہ پوشی کی اور تیرا گناہ لوگوں میں ظاہر نہیں ہونے دیا اور میں آج اس کو معاف کرتا ہوں اور حسنات کا اعمالنامہ اس کو دے دیا جائے گا لیکن کفار اور منافقین کے گناہوں کو مجمع عام میں بیان کیا جائے گا۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں پوشیدہ چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا اور دلوں کے پوشیدہ راز کھولے جائیں گے اور یہ کہ میرے کاتب اعمال فرشتوں نے تو تمہارے صرف وہ اعمال لکھے ہیں جو ظاہر تھے اور میں ان چیزوں کو بھی جانتا ہوں جن پر فرشتوں کو اطلاع نہیں اور نہ انہوں نے وہ چیزیں تمہارے نامہ اعمال میں لکھی ہیں اور اب وہ سب تمہیں بتلاتا ہوں اور ان پر محاسبہ کرتا ہوں پھر جس کو چاہوں گا بخش دوں گا اور جس کا چاہوں گا عذاب دوں گا پھر مؤمنین کو معاف کردیا جائے گا اور کفار کو عذاب دیا جائے گا (قرطبی) یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ حدیث میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے ان اللہ تجاوز عن امتی عما حدثت انفسہا مالم یتکلموا او یعملوا بہ (قرطبی) اللہ تعالیٰ نے میری امت کو معاف کردیا ہے وہ جو ان کے دل میں خیال آیا جب تک اس کو زبان سے نہ کہا یا عمل نہ کیا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل کے ارادہ پر کوئی عذاب و عتاب نہیں ہے۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ حدیث احکام دنیا کے متعلق ہے، طلاق، عتاق، بیع، ہبہ، وغیرہ محض دل میں ارادہ کرلینے سے منعقد نہیں ہوجاتے جب تک ان کو زبان سے یا عمل سے نہ کیا جائے اور آیت میں جو کچھ مذکور ہے وہ احکام آخرت سے متعلق ہے اس لئے کوئی تعارض نہیں اور دوسرے حضرات علماء نے اس شبہ کا جواب یہ دیا ہے کہ جس حدیث میں دل کی چھپی ہوئی چیزوں کی معافی مذکور ہے اس سے مراد وہ وساوس اور غیر اختیاری خیالات ہیں جو انسان کے دل میں بغیر قصد اور ارادہ کے آجاتے ہیں بلکہ ان کے خلاف کا ارادہ کرنے پر بھی وہ آتے رہتے ہیں ایسے غیر اختیاری خیالات اور وساوس کو اس امت کے لئے حق تعالیٰ نے معاف کردیا ہے اور آیت مذکور میں جس محاسبہ کا ذکر ہے اس سے مراد وہ ارادے اور نیتیں ہیں جو انسان اپنے قصد اور اختیار سے اپنے دل میں جماتا ہے اور اس کے عمل میں لانے کی کوشش بھی کرتا ہے پھر اتفاق سے کچھ موانع پیش آجانے کی بناء پر ان پر عمل نہیں کرسکتا قیامت کے دن ان کا محاسبہ ہوگا پھر حق تعالیٰ جس کو چاہیں اپنے فضل وکرم سے بخش دیں جس کو چاہیں عذاب دیں جیسا کہ مذکورہ حدیث بخاری ومسلم میں گذر چکا ہے۔ اور چونکہ آیت مذکورہ کے ظاہری الفاظ میں دونوں قسم کے خیالات داخل ہیں خواہ اختیاری ہوں یا غیر اختیاری، اس لئے جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام کو سخت فکر وغم لاحق ہوگیا کہ اگر غیر اختیاری خیالات و وساوس پر بھی مواخذہ ہونے لگا تو کون نجات پائے گا۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے اس فکر کو رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تو آپ نے سب کو یہ تلقین فرمائی کہ جو کچھ حکم ربانی نازل ہوا اس کی تعمیل و اطاعت کا پختہ قصد کرو اور کہو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا یعنی ہم نے حکم سن لیا اور تعمیل کی صحابہ کرام ؓ اجمعین نے اس کے مطابق کیا اور اس پر یہ جملہ قرآن کا نازل ہوا لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی قدرت سے زائد تکلیف نہیں دیتا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ غیر اختیاری وساوس اور خیالات پر مواخذہ نہیں ہوگا اس پر صحابہ کرام ؓ اجمعین کا اطمینان ہوگیا۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بروایت ابن عباس نقل کی گئی ہے (قرطبی) یہ پوری آیت آگے آرہی ہے۔ اور تفسیر مظہری میں ہے کہ انسان پر جو اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کئے گئے ہیں یا حرام کئے گئے ہیں وہ کچھ تو ظاہری اعضاء وجوارح سے متعلق ہیں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور تمام معاملات اسی قسم میں داخل ہیں اور کچھ اعمال و احکام وہ بھی ہیں جو انسان کے قلب اور باطن سے تعلق رکھتے ہیں ایمان و اعتقاد کے تمام مسائل تو اسی میں داخل ہیں اور کفر و شرک جو سب سے زیادہ حرام و ناجائز ہیں ان کا تعلق بھی انسان کے قلب سے ہی ہے اخلاق صالحہ تواضع، صبر، قناعت سخاوت وغیرہ اسی طرح اخلاق رذیلہ کبر، حسد، بغض، حب دنیا حرص وغیرہ یہ سب چیزیں ایک درجہ میں حرام قطعی ہیں ان سب کا تعلق بھی انسان کے اعضاء وجوارح سے نہیں بلکہ دل سے اور باطن سے ہے۔ اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ جس طرح اعمال ظاہرہ کا حساب قیامت میں لیا جائے گا اسی طرح اعمال باطنہ کا بھی حساب ہوگا، اور خطا پر بھی مواخذہ ہوگا، یہ آیت سورة بقرہ کے اخیر میں لائی گئی اس میں بڑی حکمت ہے کیونکہ سورة بقرہ قرآن کریم کی ایسی بڑی اور مہم سورة جس میں احکام الہیہ کا بہت بڑا آگیا ہے اس سورة میں اصولی اور فروغی معاش ومعاد کے متعلق اہم ہدایات، نماز، زکوٰۃ، روزہ قصاص، حج، جہاد، طہارت، طلاق، عدت، خلع، رضاعت، حرمت شراب، ربا اور قرض، لین دین کے جائز و ناجائز طریقوں کا تفصیلی بیان آگیا ہے اسی لئے حدیث میں اس سورت کا نام سنام القرآن بھی آیا ہے یعنی قرآن کا سب سے بلند حصہ اور تمام احکام کی تعمیل میں سب کی روح اخلاص ہے یعنی کسی کام کو کرنا یا اس سے بچنا دونوں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہوں ان میں نام و نمود یا دوسری نفسانی اغراض شامل ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ اخلاص کا تعلق انسان کے باطن اور قلب سے ہے سب کی درستی اسی پر موقوف ہے اس لئے سورت کے آخر میں اس آیت کے ذریعہ انسان کو تنبیہ کردی گئی کہ فرائض کی ادائیگی یا محرمات سے پرہیز کے معاملہ میں مخلوق کے سامنے تو حیلہ جوئی کے ذریعہ بھی راہ فرار اختیار کی جاسکتی ہے مگر حق تعالیٰ علیم وخبیر ہے اس سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں اس لئے جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ رقیب وحفیظ میرے سب ظاہری اور باطنی حالات کو لکھ رہا ہے اور سب کا حساب قیامت کے روز دینا ہے یہی وہ روح ہے جو قرآن کریم انسانوں میں پیدا کرتا ہے کہ ہر قانون کے اول یا آخر میں خوف خدا اور فکر آخرت کا ایسا محافظ ان کے قلوب پر بٹھاتا ہے کہ وہ رات کی اندہیری میں اور خلوتوں میں کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہوا ڈرتا ہے۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

مان لیا رسول نے جو کچھ اترا اس پر اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اسکے رسولوں کو کہتے ہیں کہ ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے اور کہہ اٹھے کہ ہم نے سنا اور قبول کیا تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

خلاصہ تفسیر اعتقاد رکھتے ہیں رسول کریم ﷺ اس چیز (کے حق ہونے) کا جو ان کے پاس رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور (دوسرے) مؤمنین بھی (اس کا اعتقاد رکھنا کہا جائے گا) سب کے سب (رسول بھی اور دوسرے مؤمنین بھی) عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ (کہ وہ موجود ہے اور واحد اور ذات وصفات میں کامل ہے) اور اس کے فرشتوں کے ساتھ (کہ وہ موجود ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں اور مختلف کاموں پر مقرر ہیں) اور اس کی کتابوں کے ساتھ (کہ اصل میں سب سچی ہیں) اور اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں (عقیدہ رکھنے میں) تفریق نہیں کرتے (کہ کسی کو پیغمبر سمجھیں کسی کو نہ سمجھیں) اور ان سب نے یوں کہا کہ ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا (اور اس) کو خوشی سے مانا ہم آپ سے بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے پروردگار اور آپ ہی کی طرف (ہم سب کو) لوٹنا ہے (یعنی ہم نے جو پہلی آیت میں کہا ہے کہ نفوس کی پوشیدہ باتوں پر بھی محاسبہ ہوگا اس سے مراد امور غیر اختیاری نہیں بلکہ صرف امور اختیاریہ ہیں کیونکہ) اللہ کسی کو (احکام شرعیہ میں) مکلف نہیں بناتا (یعنی ان امور کو واجب یا حرام نہیں فرماتا) مگر اسی کا جو اس کی طاقت (اور اختیار) میں ہو اس کو ثواب بھی اسی کا ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے اور اس پر عذاب بھی اسی کا ہوگا جو ارادہ سے کرے (اور جو وسعت سے باہر ہے اس کا مکلف نہیں کیا گیا اور جس کے ساتھ قصد اور ارادہ متعلق نہیں اس کا نہ ثواب ہے نہ عذاب اور وساوس طاقت سے خارج ہیں تو ان کے آنے کو حرام اور ان کے نہ آنے دینے کو واجب نہیں کیا اور نہ ان پر عذاب رکھا) اے ہمارے رب ہم پر داروگیر نہ فرمائیے اگر ہم بھول جاویں یا چوک جاویں اے ہمارے رب (ہماری یہ بھی درخواست ہے کہ) ہم پر کوئی سخت حکم نہ بھیجئے جیسے ہم سے پہلے لوگوں پر آپ نے بھیجے تھے، اے ہمارے رب اور (ہم یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ) ہم پر کوئی ایسا بار (تکلیف کا دنیا یا آخرت میں) نہ ڈالئے جس کی ہم کو سہار نہ ہو اور درگذر کیجئے ہم سے اور بخش دیجئے ہم کو اور رحم کیجئے ہم پر آپ ہمارے کارساز ہیں (اور کارساز طرف دار ہوتا ہے) سو آپ ہم کو کافر لوگوں پر غالب کیجئے۔ معارف و مسائل ان دو آیتوں کے خاص فضائل یہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں احادیث صحیحہ معتبرہ میں ان دو آیتوں کے بڑے بڑے فضائل مذکور ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے رات کو یہ دو آیتیں پڑھ لیں تو یہ اس کے لئے کافی ہیں۔ اور ابن عباس کی روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو آیتیں جنت کے خزائن میں سے نازل فرمائی ہیں جس کو تمام مخلوق کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے خود رحمنٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھ دیا تھا، جو شخص ان کو عشاء کی نماز کے بعد پڑھ لے تو وہ اس کے لئے قیام اللیل یعنی تہجد کے قائم مقام ہوجاتی ہیں اور مستدرک حاکم اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے سورة بقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس خزانہ خاص سے عطاء فرمائی ہیں جو عرش کے نیچے ہے اس لئے تم خاص طور پر ان آیتوں کو سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو سکھاؤ اسی لئے حضرت فاروق اعظم اور علی مرتضیٰ نے فرمایا کہ ہمارا خیال یہ ہے کہ کوئی آدمی جس کو کچھ بھی عقل ہو وہ سورة بقرہ کی ان دونوں آیتوں کو پڑھے بغیر نہ سوئے گا ان دونوں آیتوں کی معنوی خصوصیات تو بہت ہیں لیکن ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سورة بقرہ میں اکثر احکام شرعیہ اجمالاً وتفصیلاً ذکر کردیئے گئے ہیں اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت وغیرہ۔ آخری دو آیتوں میں پہلی آیت میں اطاعت شعار مؤمنین کی مدح کہ گئی ہے جنہوں نے اللہ جل شانہ کے تمام احکام پر لبیک کہا اور تعمیل کے لئے تیار ہوگئے، اور دوسری آیت میں ایک شبہ کا جواب دیا گیا جو ان دو آیتوں سے پہلی آیت میں صحابہ کرام ؓ اجمعین کو پیدا ہوگیا تھا اور ساتھ ہی اپنے فضل و رحمت بےحساب کا ذکر فرمایا گیا وہ یہ تھا کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ جو کہ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، ہر حال میں اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لیں گے آیت کی اصل مراد تو یہ تھی کہ اپنے اختیار و ارادہ سے جو کوئی عمل اپنے دل میں کرو گے اس کا حساب ہوگا غیر اختیاری وسوسہ اور بھول چوک اس میں داخل ہی نہ تھی لیکن الفاظ قرآن بظاہر عام تھے ان کے عموم سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ انسان کے دل میں غیر اختیاری طور پر کوئی خیال آجائے گا تو اس کا بھی حساب ہوگا۔ صحابہ کرام یہ سن کر گھبرا اٹھے اور آنحضرت ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ اب تک تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کام اپنے ارادہ واختیار سے کرتے ہیں حساب ان ہی اعمال کا ہوگا غیر اختیاری خیالات جو دل میں آجاتے ہیں ان کا حساب نہ ہوگا مگر اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر خیال پر جو دل میں آئے حساب ہوگا اس میں تو عذاب سے نجات پانا سخت دشوار ہے رسول کریم ﷺ کو اگرچہ آیت کی صحیح مراد معلوم تھی مگر الفاظ کے عموم کے پیش نظر آپ نے اپنی طرف سے کچھ کہنا پسند نہ فرمایا بلکہ وحی کا انتظار کیا اور صحابہ کرام کو یہ تلقین فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم آئے خواہ آسان ہو یا دشوار مومن کا یہ کام نہیں کہ اس کے ماننے میں ذرا بھی تامل کرے تم کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام سن کر یہ کہو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ یعنی اے ہمارے پروردگار ہم نے آپ کا حکم سنا اور اس کی اطاعت کی، اے ہمارے پروردگار اگر حکم کی تعمیل میں ہم سے کوئی کوتاہی یا فرو گذاشت ہوئی ہو تو اس کو معاف فرمادے کیونکہ ہمارا سب کا آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا اگرچہ ان کے ذہن میں یہ خیال کھٹک رہا تھا کہ بےاختیار دل میں آنے والے خیالات اور وساوس سے بچنا تو سخت دشوار ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں نازل فرمائیں جن میں سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی مدح اور دوسری میں اس آیت کی اصلی تفسیر بتلائی گئی جس میں صحابہ کرام ؓ اجمعین کو اشتباہ پیش آیا تھا اب پہلی آیت کے الفاظ دیکھئے۔ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤ ْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ باللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۣلَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ یعنی ایمان رکھتے ہیں رسول اس چیز پر جو ان کے پاس نازل ہوئی ان کے رب کی طرف سے اس میں تو آنحضرت ﷺ کی مدح فرمائی اور اس کی بجائے آپ کا نام مبارک لینے کے لفظ رسول فرما کر آنحضرت ﷺ کی تعظیم و تشریف کو واضح کردیا اس کے بعد فرمایا والْمُؤ ْمِنُوْنَ یعنی جس طرح آنحضرت محمد ﷺ کا اپنی وحی پر ایمان و اعتقاد ہے اس طرح عام مؤمنین کا بھی اعتقاد ہے اور جو طرز بیان اس جملہ میں اختیار فرمایا کہ پہلے پورا جملہ آنحضرت محمد ﷺ کے ایمان کے ذکر میں لایا گیا اس کے بعد مؤمنین کے ایمان کا علیحدہ تذکرہ کیا گیا اس میں اشارہ ہے کہ اگرچہ نفس ایمان میں آنحضرت محمد ﷺ اور سب مسلمان شریک ہیں لیکن درجات ایمان کے اعتبار سے ان دونوں میں بڑا فرق ہے، رسول اللہ ﷺ کا علم مشاہدہ اور سماع کی بناء پر ہے اور دوسرے مسلمانوں کا علم ایمان بالغیب آنحضرت محمد ﷺ کی رویت کی بناء پر۔ اس کے بعد ایمان مجمل کی تفصیل بتلائی جو آنحضرت ﷺ اور عام مؤمنین میں شریک تھا کہ وہ ایمان تھا اللہ تعالیٰ کے موجود اور ایک ہونے پر اور تمام صفات کاملہ کے ساتھ متصف ہونے پر اور فرشتوں کے موجود ہونے پر اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور سب رسولوں کے سچے ہونے پر۔ اس کے بعد اس کی وضاحت فرمائی کہ اس امت کے مؤمنین پچھلی امتوں کی طرح ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے رسولوں میں باہمی تفرقہ ڈالیں کہ بعض کو نبی مانیں اور بعض کو نہ مانیں جیسے یہود نے حضرت موسیٰ ؑ کو اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی مانا مگر خاتم الانبیاء ﷺ کو نبی نہ مانا اس امت کی یہ مدح فرمائی کہ یہ اللہ کے کسی رسول کا انکار نہیں کرتے اور پھر صحابہ کرام کے اس جملہ پر ان کی تعریف کی گئی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے موافق زبان سے کہا تھا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ