2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:246–248

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ایک جماعت بنی اسرائیل کو موسیٰ کے بعد جب انہوں نے کہا اپنے نبی سے مقرر کرو ہمارے لئے ایک بادشاہ تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں پیغمبر نے کہا کیا تم سے بھی یہ توقع ہے کہ اگر حکم ہو لڑائی کا تو تم اس وقت نہ لڑو وہ بولے ہم کو کیا کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں اور ہم تو نکال دئیے گئے اپنے گھروں سے اور بیٹوں سے پھر جب حکم ہوا ان کو لڑائی کا تو وہ سب پھرگئے مگر تھوڑے سے اب میں کہ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے گنہگاروں کو ،

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور فرمایا ان سے ان کے نبی نے بیشک اللہ نے مقرر فرمادیا تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ کہنے لگے کیونکر ہو سکتی ہے اسی کو حکومت ہم پر اور ہم زیادہ مستحق سلطنت کے اس سے اور اس کو نہیں ملی کشایش مال میں پیغمبر نے کہا بیشک اللہ نے پسند فرمایا اس کو تم پر اور زیادہ فراخی دی اس کو علم اور جسم میں اور اللہ دیتا ہے ملک اپنا جس کو چاہے اور اللہ ہے فضل کرنے والا سب کچھ جاننے والا،

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور کہتا بنی اسرائیل سے ان کے نبی نے طالوت کی سلطنت کی نشانی یہ ہے کہ آدمی تمہارے پاس ایک صندوق کہ جس میں تسلی خاطر ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جو چھوڑ گئی تھی، موسیٰ اور ہارون کی اولاد اور اٹھالاویں گے اس صندوق کو فرشتے، بیشک اس میں پوری نشانی ہے تمہارے واسطے اگر تم یقین رکھتے ہو،

خلاصہ تفسیر ربط آیات مقصود اس مقام میں زیادہ ترغیب قتال کی ہے اوپر کا قصہ اسی کی تمہید ہے انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون اسی کی تائید ہے آگے طالوت و جالوت کا قصہ اسی کی تاکید ہے نیز اللہ تعالیٰ نے اس قصے میں قبض وبسط کا بھی مشاہدہ کرا دیا جس کا ذکر ماقبل کی آیت واللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُطُ میں آیا ہے کہ فقیر کو بادشاہ بنانا اور بادشاہ سے باداشاہت چھین لینا سب اسی کے اختیار میں ہے۔ طالوت اور جالوت کا قصہ (اے مخاطب) کیا تجھ کو بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو موسیٰ ؑ کے بعد ہوا ہے تحقیق نہیں ہوا (جس سے پہلے ان پر کافر جالوت غالب آچکا تھا اور ان کے کئی صوبے دبالئے تھے) جب کہ ان لوگوں نے اپنے ایک پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے کہ ہم (اس کے ساتھ ہوکر) اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جالوت سے) قتال کریں اس پیغمبر نے فرمایا کہ کیا یہ احتمال ہے اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے کہ تم (اس وقت) جہاد نہ کرو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے واسطے ایسا کونسا سبب ہوگا کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ (جہاد کے لئے ایک محرک بھی ہے وہ یہ کہ) ہم (ان کافروں کے ہاتھوں) اپنی بستیوں اور اپنے فرزندوں سے بھی جدا کردیئے گئے ہیں (کیونکہ ان کی بعض بستیاں بھی کافروں نے دبالی تھیں اور ان کی اولاد کو بھی قید کرلیا گیا تھا) پھر جب ان لوگوں کو جہاد کا حکم ہوا تو باستثناء ایک قلیل مقدار کے (باقی) سب پھرگئے (جیسا کہ آگے جہاد کی غرض سے بادشاہ کے مقرر ہونے کا اور ان لوگوں کے پھرجانے کا تفصیلا بیان آتا ہے) اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو (یعنی خلاف حکم کرنے والوں کو) خوب جانتے ہیں (سب کو مناسب سزا دیں گے) اور ان لوگوں سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا کہنے لگے ان کو ہم پر حکمرانی کا کیسے حق حاصل ہوسکتا ہے حالانکہ بہ نسبت ان کے ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں اور ان کو کچھ مالی وسعت بھی نہیں دی گئی (کیونکہ طالوت غریب آدمی تھے) ان پیغمبر نے (جواب میں) فرمایا کہ (اول تو) اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقابلے میں ان کو منتخب فرمایا ہے (اور انتخاب کی مصلحتوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں) اور (دوسرے) علم (سیاست وحکمرانی) اور جسامت میں اس کو زیادتی دی ہے (اور بادشاہ ہونے کے لئے اس علم کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ ملکی انتظام پر قادر ہو اور جسامت بھی بایں معنی ہے کہ موافق و مخالف کے قلب میں وقعت وہیبت ہو) اور (تیسرے) اللہ تعالیٰ (مالک الملک ہیں) اپنا ملک جس کو چاہیں دیں (ان سے کوئی سوال کا منصب نہیں رکھتا) اور (چوتھے) اللہ تعالیٰ وسعت دینے والے ہیں (ان کو مال دیدینا کیا مشکل ہے جس کے اعتبار سے تم کو شبہ ہو اور) جاننے والے ہیں (کہ کون لیاقت سلطنت کی رکھتا ہے) اور (جب ان لوگوں نے پیغمبر سے یہ درخواست کی کہ اگر کوئی ظاہری حجت بھی ان کو منجانب اللہ بادشاہ ہونے کی ہم مشاہدہ کرلیں تو اور زیادہ اطمینان ہوجاوے اس وقت) ان سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ ان کے (منجانب اللہ) بادشاہ ہونے کی یہ علامت ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق (بدون تمہارے لائے ہوئے) آجائے گا جس میں تسکین (اور برکت) کی چیز ہے تمہارے رب کی طرف سے (یعنی تورات، اور تورات کا منجانب اللہ ہونا ظاہر ہے) اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں جن کو حضرت موسیٰ و حضرت ہارون (علیہما السلام) چھوڑ گئے ہیں (یعنی ان حضرات کے کچھ ملبوسات وغیرہ، غرض) اس صندوق کو فرشتے لے آویں گے اس (طرح کے صندوق کے آجانے) میں تم لوگوں کے واسطے پوری نشانی ہے اگر تم یقین لانے والے ہو، پھر جب (بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ تسلیم کرلیا اور جالوت کے مقابلے کے لئے جمع ہوگئے اور) طالوت فوجوں کو لے کر (اپنے مقام یعنی بیت المقدس سے عمالقہ کی طرف) چلے تو انہوں نے اپنے (ہمراہی پیغمبر کی وحی کے ذریعے دریافت کرکے ساتھیوں سے) کہا کہ اب حق تعالیٰ (استقلالی وبے استقلالی میں) تمہارا امتحان کریں گے ایک نہر کے ذریعے (جو راہ میں آوے گی اور تم شدت تشنگی کے وقت اس پر گذرو گے) سو جو شخص اس سے (افراط کے ساتھ) پانی پیوے گا وہ تو میرے ساتھیوں میں نہیں اور جو اس کو زبان پر بھی نہ رکھے (اور اصل حکم یہی ہے) وہ میرے ساتھیوں میں ہے لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے (تو اتنی رخصت ہے غرض وہ نہر راستے میں آئی پیاس کی تھی شدت) سو سب نے اس سے (بےتحاشا) پینا شروع کردیا مگر تھوڑے سے آدمیوں نے ان میں سے (احتیاط کی کسی نے بالکل نہ پیا ہوگا کسی نے چلو سے زیادہ نہ پیا ہوگا) سو جب طالوت اور جو مؤمنین ان کے ہمراہ تھے نہر سے پار اتر گئے (اور اپنے مجمع کو دیکھا تو تھوڑے سے آدمی رہ گئے اس وقت بعضے آدمی آپس میں) کہنے لگے کہ آج تو (ہمارا مجمع اتنا کم ہے کہ اس حالت سے) ہم جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے کی طاقت نہیں معلوم ہوتی (یہ سن کر) ایسے لوگ جن کو یہ خیال (پیش نظر) تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں کہنے لگے کہ کثرت سے (ایسے واقعات ہوچکے ہیں کہ) بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر خدا کے حکم سے غالب آگئی ہیں (اصل چیز استقلال ہے) اور اللہ تعالیٰ استقلال والوں کا ساتھ دیتے ہیں اور جب (دیار عمالقہ میں پہنچے اور) جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے میدان میں آگئے تو (دعاء میں حق تعالیٰ سے) کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر (یعنی ہمارے قلوب پر) استقلال (غیب سے) نازل فرمائیے اور (مقابلہ کے وقت) ہمارے قدم جمائے رکھئے اور ہم کو اس کافر قوم پر غالب کیجئے پھر طالوت والوں نے جالوت والوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے شکست دے دی اور داؤد ؑ نے (جو کہ اس وقت طالوت کے لشکر میں تھے اور اس وقت تک نبوت وغیرہ نہ ملی تھی) جالوت کو قتل کر ڈالا (اور مظفر ومنصور واپس آئے) اور اس کے بعد) ان کو (یعنی داؤد ؑ کو) اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور حکمت (یہاں حکمت سے مراد نبوت ہے) عطاء فرمائی اور بھی جو منظور ہوا انکو تعلیم فرمایا (جیسے بغیر آلات کے زرہ بنانا اور جانوروں کی بولی سمجھنا۔ آگے اس واقعہ کی مصلحت عامہ فرماتے ہیں) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ بعض آدمیوں کو (جو کہ مفسد ہوں) بعضوں کے ذریعے سے (جو کہ مصلح ہوں وقتا فوقتا دفع کرتے رہا کرتے ہیں (یعنی اگر مصلحین کو مفسدین پر غالب نہ کرتے رہتے) تو سر زمین (تمام تر) فساد سے پر ہوجاتی لیکن اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں جہان والوں پر (اس لئے وقتا فوقتا اصلاح فرماتے رہتے ہیں) معارف و مسائل (1) اِذْ قَالُوْا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔ ان بنی اسرائیل نے حق تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ دیا تھا کفار عمالقہ پر مسلط کردئیے گئے اس وقت ان لوگوں کو اصلاح کی فکر اور جس نبی کا یہاں ذکر ہے ان کا نام شموئیل مشہور ہے۔ (2) اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں برکات تھے حضرت موسیٰ ؑ وغیرہ انبیاء (علیہم السلام) کے، بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت بنی اسرائیل پر غالب آیا تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کیا کہ وہ کافر جہاں صندوق کو رکھتے وہیں وباء اور بلاء آئی پانچ شہر ویران ہوگئے ناچار ہو کردو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا، فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے، بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کردی اور موسم نہایت گرم تھا۔
Ayahs 2:249–251

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب باہر نکلا طالوت فوجیں لے کر کہا بیشک اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے ایک نہر سے سو جس نے پانی پیا اس نہر کا تو وہ میرا نہیں اور جس نے اس کو نہ چکھا تو وہ بیشک میرا ہے مگر جو کوئی بھرے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پھر پی لیا سب نے اس کا پانی مگر تھوڑوں نے ان میں سے پھر جب پار ہوا طالوت اور ایمان والے ساتھ اس کو تو کہنے لگے طاقت نہیں ہم کو آج طالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی کہنے لگے وہ لوگ جن کو خیال تھا کہ ان کو اللہ سے ملنا ہے، بارہا تھوڑی جماعت غالب ہوئی بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ ہے

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب سامنے ہوئے جالوت کے اور اس کی فوجوں کے تو بولے اے رب ہمارے ڈال دے ہمارے دلوں میں صبر اور جمائے رکھ ہمارے پاؤں اور ہماری مدد کر اس کافر قوم پر،

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر شکست دی مومنوں نے جالوت کے لشکر کر اللہ کے حکم سے اور مارڈالا داؤد نے جالوت کو اور دی داؤد کو اللہ نے سلطنت اور حکمت اور سکھایا ان کو جو چاہا اور اگر نہ ہوتا دفع کرادینا اللہ کا ایک کو دوسرے سے تو خراب ہوجاتا ملک۔ لیکن اللہ بہت مہربان ہے جہان کے لوگوں پر۔

(3) قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ احقر کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش میں بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا اس کا یہ امتحان مقرر کیا گیا جو کہ نہایت ہی مناسب ہے کیونکہ قتال میں ضرورت استقلال وجفاکشی کی ہوتی ہے سو شدت پیاس کے وقت بےمنت پانی ملنے پر ضبط کرنا دلیل استقلال کی اور اندھے باؤ لوں کی طرح جا گرنا دلیل بےاستقلالی کی ہے، آگے خرق عادت ہے کہ زیادہ پانی پینے والے غیبی طور پر بھی زیادہ بیکار اور ازکار رفتہ ہوگئے جیسا روح المعانی میں بسند ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور اس قصے میں جو احوال و اقوال مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں تین قسم کے لوگ تھے، ناقص الایمان جو امتحان میں پورے نہ اترے اور کامل جو امتحان میں پورے اترے مگر اپنی قلت کی فکر ہوئی اور اکمل جن کو یہ بھی فکر نہیں ہوئی۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ آیتیں اللہ کی ہیں ہم تجھ کو سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک اور تو بیشک ہمارے رسولوں میں ہے

خلاصہ تفسیر چونکہ قرآن کریم کا ایک بڑا مقصد نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اثبات بھی ہے اس لئے جس جگہ مضمون کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے اس کا اعادہ کردیا جاتا ہے اس موقع پر اس قصہ کی صحیح صحیح خبر دینا جب کہ آپ نے نہ کسی سے پڑھا نہ کہیں سنا نہ دیکھا، ایک معجزہ ہے جو آپ کی نبوت کی صحیح دلیل ہے اس لئے ان آیات میں آپ کی نبوت پر استدلال فرماتے ہیں۔ نبوت محمدیہ پر استدلال یہ (آیتیں جن میں یہ قصہ مذکور ہوا) اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ) آپ بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہیں۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ سب رسول ﷺ فضیلت دی ہم نے ان میں بعض کو بعض سے کوئی تو وہ ہے کہ کلام فرمایا اس سے اللہ نے اور بلند کئے بعضوں کے درجے اور دئیے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح القدس یعنی جبرائیل سے اور اگر اللہ چاہتا تو نہ لڑتے وہ لوگ جو ہوئے ان پیغمبروں کے پیچھے بعد اس کے کہ پہنچ چکے ان کے پاس صاف حکم لیکن ان میں اختلاف پڑگیا، پھر کوئی تو ان میں ایمان لایا اور کافر ہوا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ باہم نہ لڑتے، لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہے۔

خلاصہ تفسیر بعض انبیاء (علیہم السلام) اور امتوں کے کچھ احوال یہ حضرات مرسلین (جن کا ذکر ابھی اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ میں آیا ہے) ایسے ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے (مثلا) بعضے ان میں سے وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ (بلاواسطہ فرشتہ کے) ہم کلام ہوئے ہیں (مراد موسیٰ ؑ اور بعضوں کو ان میں بہت سے درجوں میں (اعلیٰ مقام سے) سرفراز کیا اور ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو کھلے کھلے دلائل (یعنی معجزات) عطا فرمائے اور ہم نے ان کی تائید روح القدس (یعنی جبرئیل ؑ سے فرمائی (ہر وقت یہود سے انکی حفاظت کرنے کے لئے ساتھ رہتے تھے) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو (امت کے) جو لوگ ان (پیغمبروں) کے بعد ہوئے ہیں (کبھی دین میں اختلاف کرکے) باہم قتل و قتال نہ کرتے بعد اس کے ان کے پاس (امر حق کے) دلائل (پیغمبروں کی معرفت) پہنچ چکے تھے (جن کا مقتضا تھا دین حق کے قبول پر متفق رہنا) لیکن (چونکہ اللہ تعالیٰ کو بعض حکمتیں منظور تھیں اس لئے ان میں اتفاق مذہبی نہیں پیدا کیا) یہ لوگ باہم (دین میں) مختلف ہوئے سو ان میں کوئی تو ایمان لایا اور کوئی کافر رہا (پھر اس اختلاف میں نوبت قتل و قتال بھی پہنچ گئی) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ لوگ باہم قتل و قتال نہ کرتے لیکن اللہ تعالیٰ (اپنی حکمت سے) جو چاہتے ہیں (اپنی قدرت سے) وہی کرتے ہیں۔ معارف و مسائل (1) تِلْكَ الرُّسُلُ الآیہ اس مضمون میں نبی کریم ﷺ کو ایک گونہ تسلی دینا ہے کیونکہ جب آپ کی رسالت دلیل سے ثابت تھی جس کو ابھی اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ میں بھی فرمایا ہے اور پھر بھی منکرین نہ مانتے تھے تو یہ آپ کے رنج و افسوس کا محل تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بات سنادی کہ اور بھی پیغمبر مختلف درجوں کے گزرے ہیں لیکن ایمان عام کسی کی امت میں نہیں ہوا کسی نے موافقت کی کسی نے مخالفت اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہوتی ہیں گو ہر شخص پر منکشف نہ ہوں مگر اجمالاً اتنا عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ کوئی حکمت ضرور ہے۔ (2) تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ یہاں یہ اشکال پیش آسکتا ہے کہ یہ آیت صراحۃ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ بعض انبیاء (علیہم السلام) بعض سے افضل ہیں حالانکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا تفضلوا بین انبیاء اللہ۔ انبیاء کے درمیان تفضیل نہ کیا کرو۔ نیز فرمایا لا تخیرونی علیٰ موسیٰ ٰ۔ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو ، اور فرمایا لا اقول ان احداً افضل من یونس بن متٰی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی یونس بن متیٰ سے افضل ہے۔ ان احادیث میں بعض انبیاء (علیہم السلام) کی بعض پر فضیلت دینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ؟ جوابیہ ہے کہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ دلیل کے بغیر اپنی رائے سے بعض کو بعض پر فضیلت نہ دو اس لئے کہ کسی نبی کے افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مرتبہ بہت زیادہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا علم رائے اور قیاس سے حاصل نہیں ہوسکتا لیکن قرآن وسنت کی کسی دلیل سے اگر بعض انبیاء (علیہم السلام) کی بعض پر فضیلت معلوم ہوگئی تو اس کے مطابق اعتقاد رکھا جائے گا۔ رہا آپ کا یہ ارشاد کہ لا اقول ان احداً افضل من یونس بن متٰی تو یہ اس وقت سے متعلق ہے جب کہ آپ کو یہ علم نہیں دیا گیا تھا کہ آپ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے افضل ہیں بعد میں بذریعہ وحی آپ کو یہ بات بتلا دی گئی اور صحابہ کرام سے آپ نے اس کا اظہار بھی فرما دیا (مظہری) (3) مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ موسیٰ ؑ کے ساتھ ہم کلامی گو بلاواسطہ فرشتہ کے ہو مگر بےحجاب نہ تھی پس سورة شوریٰ کی آیت مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ (51: 42) جس میں بےحجاب کلام کی نفی کی گئی اس سے کچھ تعارض نہ رہا البتہ بعد موت کے بےحجاب کلام ہونا بھی شرعاً ممکن ہے، پس وہ شوریٰ کی آیت دنیا کے اعتبار سے ہے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو روزی دی پہلے اس دن کے آنے سے کہ جس میں نہ خریدوفروخت ہے اور نہ آشنائی اور نہ سفارش اور جو کافر ہیں وہی ہیں ظالم

خلاصہ تفسیر انفاق فی سبیل اللہ میں تعجیل کرنا اے ایمان والو خرچ کرلو ان چیزوں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں قبل اس کے کہ وہ دن آجاوے (یعنی قیامت کا دن) جس میں (کوئی چیز اعمال خیر کا بدل نہ ہوسکے گی کیونکہ اس میں) نہ تو خریدو فروخت ہوگی (کہ کوئی چیز دے کر اعمال خیر کی خرید کرلو) اور نہ (ایسی) دوستی ہوگی (کہ کوئی تم کو اپنے اعمال خیر دیدے) اور نہ (بلا اذن الہیٰ کسی کی) کوئی سفارش ہوگی (جس سے اعمال خیر کی تم کو حاجت نہ رہے) اور کافر ہی لوگ ظلم کرتے ہیں (کہ اعمال اور مال کو بےموقع استعمال کرتے ہیں اس طرح کہ طاعات بدنیہ ومالیہ کو ترک اور معصیت مالیہ وبدنیہ کو اختیار کرتے ہیں تم تو ایسے نہ بنو) معارف و مسائل اس سورة میں عبادات و معاملات کے متعلق احکام کثیرہ بیان فرمائے جن میں سب کی تعمیل نفس کو ناگوار اور بھاری ہے اور تمام اعمال میں زیادہ دشوار انسان کو جان اور مال کا خرچ کرنا ہوتا ہے اور احکام الہیٰ اکثر جو دیکھے جاتے ہیں یا جان کے متعلق ہیں یا مال کے اور گناہ میں بندہ کو جان یا مال کی محبت اور رعایت ہی اکثر مبتلا کرتی ہے گویا ان دونوں کی محبت گناہوں کی جڑ اور اس سے نجات جملہ طاعات کی سہولت کا منشاء ہے اس لئے ان احکامات کو بیان فرما کر قتال اور انفاق کا بیان فرمانا مناسب ہوا وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الخ میں اول کا بیان فرماکر مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ میں دوسرے کا ذکر ہے اس کے بعد قصہ طالوت سے اول کی تاکید ہوئی تو اب اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ الخ سے دوسرے کی تاکید منظور ہے اور چونکہ انفاق مال پر بہت سے امور عبادات و معاملات کے موقوف ہیں تو اس کے بیان میں زیادہ تفصیل اور تاکید سے کام لیا، چناچہ اب جو رکوع آتے ہیں ان میں اکثروں میں امرثانی یعنی انفاق مال کا ذکر ہے، خلاصہ معنی یہ ہوا کہ عمل کا وقت ابھی ہے آخرت میں تو نہ عمل بکتے ہیں نہ کوئی دوستی سے دیتا ہے نہ کوئی سفارش سے چھڑا سکتا ہے جب تک پکڑنے والا نہ چھوڑے۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے سب کا تھامنے والا نہیں پکڑسکتی اس کو اونگھ اور نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور ایسا کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کی اجازت سے۔ جانتا ہے جو کچھ خلقت کے روبرو ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ سب احاطہ نہیں کرسکتے کسی چیز کا اس کی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا اور وہی ہے سب سے برتر عظمت والا

خلاصہ تفسیر اللہ (ایسا ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہے (جس کو کبھی موت نہیں آسکتی) سنبھالنے والا ہے (تمام عالم کا) نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے اور نہ نیند (دبا سکتی ہے) اسی کے مملوک ہیں سب جو کچھ (بھی) آسمانوں میں (موجودات) ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس (کسی کی) سفارش کرسکے بدون اس کی اجازت کے وہ جانتا ہے ان (تمام موجودات) کے تمام حاضر و غائب حالات کو اور وہ موجودات اس کی معلومات میں سے کسی چیز کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لاسکتے مگر جس قدر (علم دینا وہی) چاہے اس کی کرسی (اتنی بڑی ہے کہ اس) نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان دونوں (آسمان و زمین) کی حفاظت کچھ گراں نہیں گذرتی اور وہ عالی شان عظیم الشان ہے۔ معارف و مسائل آیۃ الکرسی کے خاص فضائل یہ آیت قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے، احادیث میں اس کے بڑے فضائل و برکات مذکور ہیں مسند احمد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو سب آیات سے افضل فرمایا ہے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب سے دریافت کیا کہ قرآن میں کونسی آیت سب سے زیادہ عظیم ہے ابی بن کعب نے عرض کیا آیت الکرسی آنحضرت ﷺ نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا اے ابوالمنذر تمہیں علم مبارک ہو، حضرت ابوذر نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا یارسول اللہ ﷺ قرآن میں عظیم تر آیت کونسی ہے ؟ فرمایا آیت الکرسی (ابن کثیر عن احمد فی المسند) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورة بقرہ میں ایک آیت ہے جو سیدہ آیات القرآن ہے وہ جس گھر میں پڑھی جائے شیطان اس سے نکل جاتا ہے۔ نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز فرض کے بعد آیت الکرسی پڑھا کرے تو اس کو جنت میں داخل ہونے کے لئے بجز موت کے کوئی مانع نہیں ہے یعنی موت کے بعد فورا وہ جنت کے آثار اور راحت و آرام کا مشاہدہ کرنے لگے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید ذات وصفات کا بیان ایک عجیب و غریب انداز میں بیان کیا گیا ہے جس میں اللہ جل شانہ کا موجود ہونا، زندہ ہونا، سمیع وبصیر ہونا، متکلم ہونا، واجب الوجود ہونا، دائم و باقی ہونا، سب کائنات کا مالک ہونا، صاحب عظمت و جلال ہونا کہ اس کے آگے کوئی بغیر اس کی اجازت کے بول نہیں سکتا، ایسی قدرت کاملہ کا مالک ہونا کہ سارے عالم اور اس کی کائنات کو پیدا کرنے باقی رکھنے اور ان کا نظام محکم قائم رکھنے سے اس کو نہ کوئی تھکان پیش آتا ہے نہ سستی ایسے علم محیط کا مالک ہونا جس سے کوئی کھلی یا چھپی چیز کا کوئی ذرہ یا قطرہ باہر نہ رہے یہ اجمالی مفہوم ہے اس آیت کا اب تفصیل کے ساتھ اس کے الفاظ کے معنی سنئے۔ اس آیت میں دس جملے ہیں پہلے جملہ ہے اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اس میں لفظ اللّٰهُ اسم ذات ہے جس کے معنی ہیں وہ ذات جو تمام کمالات کی جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ میں اسی ذات کا بیان ہے کہ قابل عبادت اس ذات کے سوا کوئی چیز نہیں۔ دوسرا جملہ ہے ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ لفظ حَيُّ کے معنی عربی زبان میں ہیں زندہ اسمائے الہیہ میں سے یہ لفظ لاکر یہ بتلانا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ اور باقی رہنے والا ہے وہ موت سے بالاتر ہے لفظ قیوم، قیام سے نکلا ہے، قیام کے معنے کھڑا ہونا قائم کھڑا ہونے والے کو کہتے ہیں قیوم اور قیام مبالغہ کے صیغے کہلاتے ہیں انکے معنی ہیں وہ جو خود قائم رہ کر دوسروں کو قائم رکھتا اور سنبھالتا ہے قیوم حق تعالیٰ کی خاص صفت ہے جس میں کوئی مخلوق شریک نہیں ہوسکتی کیونکہ جو چیزیں خود اپنے وجود وبقاء میں کسی دوسرے کی محتاج ہوں وہ کسی دوسری چیز کو کیا سنبھال سکتی ہیں ؟ اس لئے کسی انسان کو قیوم کہنا جائز نہیں، جو لوگ عبد القیوم کے نام کو بگاڑ کر صرف قیوم بولتے ہیں گنہگار ہوتے ہیں۔ اللہ جل شانہ کے اسماء صفات میں حیّ وقیّوم کا مجموعہ بہت سے حضرات کے نزدیک اسم اعظم ہے حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں میں نے ایک وقت یہ چاہا کہ حضور ﷺ کو دیکھوں آپ کیا کررہے ہیں، پہنچا تو دیکھا کہ آپ سجدہ میں پڑے ہوئے بار بار یاحیُّ یاقیُّوم یاحی یاقیُّوم کہہ رہے ہیں۔ تیسرا جملہلَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ہے لفظ سنۃٌ سین کے زیر کے ساتھ اونگھ کو کہتے ہیں جو نیند کے ابتدائی آثار ہوتے ہیں اور نومٌ مکمل نیند کو، اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اونگھ اور نیند سب سے بری وبالا ہے پچھلے جملے میں لفظ قیوم نے جب انسان کو یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ سارے آسمانوں، زمینوں اور ان میں سمانے والی تمام کائنات کو تھامے اور سنبھالے ہوئے ہیں اور ساری کائنات اسی کے سہارے قائم ہے تو ایک انسان کا خیال اپنی جبلت و فطرت کے مطابق اس طرف جانا ممکن ہے کہ جو ذات پاک اتنا بڑا کام کررہی ہے اس کو کسی وقت تھکان بھی ہونا چاہئے کچھ وقت آرام اور نیند کے لئے بھی ہونا چاہئے اس دوسرے جملے میں محدود علم و بصیرت اور محدود قدرت رکھنے والے انسان کو اس پر متنبہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر یا دوسری مخلوقات پر قیاس نہ کرے اپنا جیسا نہ سمجھے وہ مثل و مثال سے بالاتر ہے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ سارے کام نہ کچھ مشکل ہیں نہ اس کے لئے تکان کا سبب ہیں اور اس کی ذات پاک تمام تاثرات اور تکان وتعب اور اونگھ اور نیند سے بالاتر ہے۔ چوتھا جملہ ہے لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ اس کے شروع میں لفظ لہ کا لام تملیک کے معنی کے لئے آیا ہے جس کے معنے یہ ہوئے کہ تمام چیزیں جو آسمانوں یا زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کی مملوک ہیں وہ مختار ہے جس طرح چاہے ان میں تصرف فرمادے۔ پانچواں جملہ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ یعنی ایسا کون ہے جو اس کے آگے کسی کی سفارش کرسکے بدون اس کی اجازت کے اس میں چند مسائل بیان فرمادیئے ہیں۔ اول یہ کہ جب اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا مالک ہے کوئی اس سے بڑا اور اس کے اوپر حاکم نہیں تو کوئی اس سے کسی کام کے بارے میں باز پرس کرنے کا بھی حق دار نہیں وہ جو حکم جاری فرمائیں اس میں کسی کو چون وچرا کی مجال نہیں ہاں یہ ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص کسی کی سفارش و شفاعت کرے سو اس کو بھی واضح فرمادیا کہ بارگاہ عزت و جلال میں کسی کو مجال دم زدن نہیں، ہاں کچھ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہیں جن کو خاص طور پر کلام اور شفاعت کی اجازت دے دیجائیگی غرض بلا اجازت کوئی کسی کی سفارش و شفاعت بھی نہ کرسکے گا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشر میں سب سے پہلے میں ساری امتوں کی شفاعت کروں گا اسی کا نام مقام محمود ہے جو حضور ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔ چھٹا جملہ ہے، يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے آگے پیچھے کے تمام حالات و واقعات سے واقف و باخبر ہے آگے اور پیچھے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے اور پیدا ہونے کے بعد کے تمام حالات و واقعات حق تعالیٰ کے علم میں ہیں اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ آگے سے مراد وہ حالات ہیں جو انسان کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور پیچھے سے مراد اس سے مخفی واقعات و حالات ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ انسان کا علم تو بعض چیزوں پر ہے اور بعض پر نہیں کچھ چیزیں اس کے سامنے کھلی ہوئی ہیں کچھ چھپی ہوئی مگر اللہ جل شانہ کے سامنے یہ سب چیزیں برابر ہیں اس کا علم ان سب چیزوں کو یکساں محیط ہے اور ان دونوں مفہوموں میں کوئی تعارض نہیں آیت کی وسعت میں یہ دونوں داخل ہیں۔ ساتواں جملہ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ہے یعنی انسان اور تمام مخلوقات اللہ کے علم کے کسی حصہ کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر اللہ تعالیٰ ہی خود جس کو جتنا حصہ علم عطا کرنا چاہیں صرف اتنا ہی اس کو علم ہوسکتا ہے اس میں بتلا دیا گیا کہ تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم محیط صرف اللہ جل شانہ کی خصوصی صفت ہے انسان یا کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں ہوسکتی۔ آٹھواں جملہ ہے وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ یعنی اس کی کرسی اتنی بڑی ہے جس کی وسعت کے اندر ساتوں آسمان اور زمین سمائے ہوئے ہیں اللہ جل شانہ نشست وبرخاست اور حیز ومکان سے بالاتر ہیں اس قسم کی آیات کو اپنے معاملات پر قیاس نہ کیا جائے اس کی کیفیت و حقیقت کا ادراک انسانی عقل سے بالاتر ہے البتہ مستند روایات حدیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عرش اور کرسی بہت عظیم الشان جسم ہیں جو تمام آسمان اور زمین سے بدرجہا بڑے ہیں، ابن کثیر نے بروایت حضرت ابوذر غفاری نقل کیا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کرسی کیا اور کیسی ہے ؟ آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی مثال کرسی کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے ایک بڑے میدان میں کوئی حلقہ انگشتری جیسا ڈال دیا جائے۔ اور بعض دوسری روایات میں ہے کہ عرش کے سامنے کرسی کی مثال بھی ایسی ہی ہے جسے ایک بڑے میدان میں انگشتری کا حلقہ۔ نواں جملہ ہے وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا یعنی اللہ تعالیٰ کو ان دونوں عظیم مخلوقات آسمان و زمین کی حفاظت کچھ گراں نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ سب چیزیں نہایت آسان ہیں۔ دسواں آخری جملہ ہے، وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ یعنی وہ عالی شان اور عظیم الشان ہے۔ پچھلے نو جملوں میں حق تعالیٰ کی ذات وصفات کے کمالات بیان ہوئے ہیں ان کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد ہر عقل رکھنے والا انسان یہی کہنے پر مجبور ہے کہ ہر عزت و عظمت اور بلندی و برتری کی مالک وسزا وار وہی ذات پاک ہے ان دس جملوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی توحید کا مضمون پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ آگیا۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

زبردستی نہیں دین کے معاملہ میں بیشک جدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے اب جو کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور یقین لاوے اللہ پر تو اس نے پکڑ لیا حلقہ مضبوط جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

خلاصہ تفسیر دین (اسلام کے قبول کرنے) میں زبردستی (کا فِی نَفسِہ کوئی موقع) نہیں (کیونکہ) ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے (یعنی اسلام کا حق ہونا دلائل سے واضح ہوچکا ہے تو اس میں اکراہ کا موقع ہی کیا ہے، اکراہ تو غیر پسندیدہ چیز پر مجبور کرنے سے ہوتا ہے اور جب اسلام کی خوبی یقیناً ثابت ہے) تو جو شخص شیطان سے بداعتقاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خوش اعتقاد (یعنی اسلام قبول کرلے) تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والے ہیں (اقوال ظاہری کے) اور خوب جاننے والے ہیں (احوال باطنی کے) معارف و مسائل اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت اور محرومی سے محفوظ رہتا ہے اس لئے اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ ہاتھ میں مضبوط تھام کر گرنے سے مامون رہتا ہے اور جس اسلام میں کسی قسم کی ہلاکت اور خسران نہیں ہے اور خود کوئی اسلام کو ہی چھوڑ دے تو اور بات ہے (بیان القرآن) اس آیت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں زبردستی نہیں ہے حالانکہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم اس کے معارض ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اعتراض صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم لوگوں کو قبول ایمان پر مجبور کرنے کے لیے نہیں ہے ورنہ جزیہ لے کر کفار کو اپنی ذمہ داری میں رکھنے اور ان کی جان ومال وآبرو کی حفاظت کرنے کے اسلامی احکام کیسے جاری ہوتے بلکہ دفع فساد کے لئے ہے کیونکہ فساد اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے جس کے درپے کافر رہتے ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ (64: 5) یہ لوگ زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاد اور قتال کے ذریعے سے ان لوگوں کے فساد کو دور کرنے کا حکم دیا ہے پس ان لوگوں کا قتل ایسا ہی ہے جیسے سانپ، بچھو اور دیگر موذی جانوروں کا قتل۔ اسلام نے عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور اپاہج وغیرہ کے قتل کو عین میدان جہاد میں بھی سختی سے روکا ہے کیونکہ وہ فساد کرنے پر قادر نہیں ہوتے ایسے ہی ان لوگوں کے بھی قتل کرنے کو روکا ہے جو جزیہ ادا کرنے کا وعدہ کرکے قانون کے پابند ہوگئے ہوں۔ اسلام کے اس طرز عمل سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ جہاد اور قتال سے لوگوں کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ اس سے وہ دنیا میں ظلم وستم کو مٹا کر عدل و انصاف اور امن وامان قائم رکھنا چاہتا ہے، حضرت عمر نے ایک نصرانی بڑھیا کو اسلام کی دعوت دی تو اس کے جواب میں اس نے کہا اَنَا عَجُوزٌ کبَیرۃ والمَوت الی قریبٌ، یعنی میں ایک قریب المرگ بڑہیا ہوں آخری وقت میں اپنا مذہب کیوں چھوڑوں ؟ حضرت عمر نے یہ سن کر اس کو ایمان پر مجبور نہیں کیا بلکہ یہی آیت تلاوت فرمائی لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ یعنی دین میں زبردستی نہیں ہے۔ درحقیقت ایمان کے قبول پر جبر واکراہ ممکن بھی نہیں ہے اس لئے کہ ایمان کا تعلق ظاہری اعضاء سے نہیں ہے بلکہ قلب کے ساتھ ہے اور جبرو اکراہ کا تعلق صرف ظاہری اعضاء سے ہوتا ہے اور جہاد و قتال سے صرف ظاہری اعضاء ہی متأثر ہوسکتے ہیں لہذا اس کے ذریعہ سے ایمان کے قبول کرنے پر جبر ممکن ہی نہیں ہے اس سے ثابت ہوا کہ آیات جہاد و قتال آیت لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کے معارض نہیں ہیں (مظہری، قرطبی)
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا نکالنا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے رفیق ہیں شیطان نکالتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف یہی لوگ ہیں دوزخ میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

خلاصہ تفسیر اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (الیٰ قولہ) خٰلِدُوْنَ اللہ تعالیٰ ساتھی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ان کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر یا بچاکر نور (اسلام) کی طرف لاتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے ساتھی شیاطین ہیں (انس یا جن) وہ ان کو نور (اسلام) سے نکال کر یا بچاکر (کفر کی) تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں ایسے لوگ (جو اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کریں) دوزخ میں رہنے والے ہیں (اور) یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ معارف و مسائل آیت سے ایمان کا سب سے بڑی نعمت اور کفر کا سب سے بڑی مصیبت ہونا بھی معلوم ہوا اور یہ کہ کافروں کی دوستی میں بھی ظلمت ہے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اس کے رب کی بابت اس وجہ سے کہ دی تھی اللہ نے اس کو سلطنت، جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ بولا میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں کہا ابراہیم نے بیشک وہ لاتا ہے سورج کو مشرق سے اب تو لے آ اس کو مغرب سے تب حیران رہ گیا وہ کافر اور اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا بےانصافوں کو۔

خلاصہ تفسیر (اے مخاطب) کیا تجھ کو اس شخص کا قصہ تحقیق نہیں ہوا (یعنی نمرود کا) جس نے ابراہیم ؑ سے مباحثہ کیا تھا اپنے پروردگار کے (وجود کے) بارے میں (یعنی توبہ توبہ وہ خدا کے وجود ہی کا منکر تھا) اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو سلطنت دی تھی (یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ نعمت سلطنت پر احسان مانتا اور ایمان لاتا اس کے برعکس انکار اور کفر شروع کردیا اور یہ مباحثہ اس وقت شروع ہوا تھا) جب ابراہیم ؑ نے (اس کے پوچھنے پر کہ خدا کیسا ہے جواب میں) فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے کہ وہ جلاتا ہے اور مارتا ہے (یعنی زندہ کرنا اور مارنا اس کی قدرت میں ہے وہ کوڑھ مغز جلانے مارنے کا مطلب تو سمجھا نہیں) کہنے لگا کہ (یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں کہ) میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں (چنانچہ جس کو چاہوں قتل کردوں یہ تو مارنا ہے اور جس کو چاہوں قتل سے معاف کردوں یہ جلانا ہے) ابراہیم ؑ نے (جب دیکھا کہ بالکل ہی بھدّی عقل کا ہے کہ اس کو جلانا اور مارنا سمجھتا ہے حالانکہ جلانے کی حقیقت بےجان چیز میں جان ڈال دینا ہے اسی طرح مارنے کا معاملہ سمجھو اور قرائن سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ جلانے اور مارنے کی حقیقت سمجھے گا نہیں اس لئے اس ضرورت سے دوسرے جواب کی طرف متوجہ ہوئے اور) فرمایا کہ (اچھا) اللہ تعالیٰ آفتاب کو (روزانہ) مشرق سے نکالتا ہے تو (ایک ہی دن) مغرب سے نکال (کر دکھلا) اس پر متحیر رہ گیا وہ کافر (اور کچھ جواب نہ بن آیا اس کا متقضی یہ تھا کہ وہ ہدایت کو قبول کرتا مگر وہ اپنی گمراہی پر جما رہا اس لئے ہدایت نہ ہوئی) اور اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) ایسے بےجا راہ چلنے والوں کو ہدایت نہیں فرماتے۔ معارف و مسائل اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کافر کو دنیاوی عزت وشرف اور ملک و سلطنت عطاء کردیں تو اس نام سے تعبیر کرنا جائز ہے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت مناظرہ اور مجادلہ کرنا بھی جائز ہے تاکہ حق و باطل میں فرق ظاہر ہوجائے۔ (قرطبی) بعضوں کو یہ شبہ ہوا کہ اس کو یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ اگر خدا موجود ہے وہی مغرب سے نکالے دفع اس شبہ کا یہ ہے کہ اس کے قلب میں بلا اختیار یہ بات پڑگئی کہ خدا ضرور ہے اور یہ مشرق سے نکالنا اسی کا فعل ہے اور وہ مغرب سے بھی نکال سکتا ہے اور یہ شخص پغمبر ہے اس کے کہنے سے ضرور ایسا ہوگا اور ایسا ہونے سے انقلاب عظیم عالم میں پیدا ہوگا کہیں اور لینے کے دینے نہ پڑجائیں مثلا لوگ اس معجزے کو دیکھ کر مجھ سے منحرف ہو کر ان کی راہ پر ہولیں ذرا سی حجت میں سلطنت جاتی رہے، یہ جواب تو اس لئے نہ دیا اور دوسرا کوئی جواب تھا نہیں اس لئے حیران رہ گیا (بیان القرآن)
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گزرا وہ ایک شہر پر اور وہ گر پڑا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مرگئے پیچھے، پھر وہ مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو کہا تو کتنی دیر یہاں رہا، بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم نہیں بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا، سڑ نہیں گیا، اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کیواسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم نے ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتے ہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت، پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ پر چیز پر قادر ہے۔

خلاصہ تفسیر اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰي قَرْيَةٍ وَّهِيَ خَاوِيَةٌ (الی ٰ قولہ) اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ کیا تم کو اس طرح کا قصہ بھی معلوم ہے جیسے ایک شخص تھا کہ (چلتے چلتے) ایک بستی پر ایسی حالت میں اس کا گذر ہوا کہ اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرگئے تھے (یعنی پہلے چھتیں گریں پھر ان پر دیواریں گر گئیں مراد یہ ہے کہ کسی حادثہ سے وہ بستی ویران ہوگئی تھی، اور سب آدمی مر مرا گئے وہ شخص یہ حالت دیکھ کر حیرت سے) کہنے لگا کہ (معلوم نہیں) اللہ تعالیٰ اس بستی کو (یعنی اس کے مردوں کو) اس کے مرے پیچھے کس کیفیت سے (قیامت میں) زندہ کریں گے (یہ تو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ میں مردوں کو جلادیں گے، مگر اس وقت کے جلانے کا جو خیال غالب ہوا تو بوجہ اس امر کے عجیب ہونے کے ایک حیرت سی دل میں غالب ہوگئی اور چونکہ خدا تعالیٰ ایک کام کو کئی طرح کرسکتے ہیں اس لئے طبیعت اس کی متلاشی ہوئی کہ خدا جانے جلا دینا کس صورت سے ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ اس کا تماشا اس کو دنیا ہی میں دکھلا دیں تاکہ ایک نظیر کے واقع ہوجانے سے لوگوں کو زیادہ ہدایت ہو) سو (اس لئے) اللہ تعالیٰ نے اس شخص (کی جان قبض کرکے اس کو) سو برس تک مردہ رکھا پھر (سو برس کے بعد) اس کو زندہ اٹھایا (اور پھر) پوچھا کہ تو کتنی مدت اس حالت میں رہا ؟ اس شخص نے جواب دیا کہ ایک دن رہا ہوں گا یا ایک دن سے بھی کم (کنایہ ہے مدت قلیل سے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تو (اس حالت میں) سو برس رہا ہے (اور اگر آپ نے بدن کے اندر تغیر نہ ہونے سے تعجب ہو) تو اپنے کھانے پینے (کی) چیز کو دیکھ لے کہ (ذرا) نہیں سڑی گلی (ایک قدرت تو ہماری یہ ہے) اور (دوسری قدرت دیکھنے کے واسطے) اپنے (سواری کے) گدھے کی طرف نظر کر (کہ گل سڑ کر کیا حال ہوگیا ہے اور ہم عنقریب اس کو تیرے سامنے زندہ کئے دیتے ہیں) اور (ہم نے تجھ کو اس لئے مار کر زندہ کیا ہے) تاکہ ہم تجھ کو (اپنی قدرت کی) ایک نظیر لوگوں کے لئے بنادیں (کہ اس نظیر سے بھی قیامت کے روز زندہ ہونے پر استدلال کرسکیں) اور (اب اس گدھے کی) ہڈیوں کی طرف نظر کر کہ ہم ان کو کس طرح ترکیب دیئے دیتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں (پھر اس میں جان ڈال دیتے ہیں غرض یہ سب امور یوں ہی کردیئے گئے) پھر جب یہ سب کیفیت اس شخص کو (مشاہدہ سے) واضح ہوگئی تو (بےاختیار جوش میں آکر) کہہ اٹھا کہ میں (دل سے) یقین رکھتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے اے پروردگار میرے دکھلاوے مجھ کو کیونکر زندہ کرے گا تو مردے، فرمایا کیا تو نے یقین نہیں کیا کہا کیوں نہیں لیکن اس واسطے کہ چاہتا ہوں کہ تسکین ہوجاوے میرے دل کو فرمایا تو پکڑ لے چارجانور اڑنے والے پھر ان کو ہلالے اپنی ساتھ، پھر رکھ دے ہر پہاڑ پر ان کے بعد کا ایک ایک ٹکڑا پھر ان کو بلا، چلے آویں گے تیرے پاس دوڑتے ہوئے اور جان لے کہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا۔

خلاصہ تفسیر اور اس وقت (کے واقعہ) کو یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے (حق تعالیٰ سے) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو (یہ) دکھلا دیجئے کہ آپ مردوں کو (قیامت میں مثلا) کس کیفیت سے زندہ کریں گے (یعنی زندہ کرنے کا یقین ہے لیکن زندہ کرنے کی مختلف صورتیں اور کیفیتیں ہوسکتی ہیں وہ معلوم نہیں اس لئے وہ معلوم کرنے کو دل چاہتا ہے اس سوال سے کسی کم سمجھ آدمی کو اس کا شبہ ہوسکتا تھا کہ معاذ اللہ ابراہیم ؑ کو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان و یقین نہیں اس لئے حق تعالیٰ نے خود یہ سوال قائم کرکے بات کھول دی۔ چناچہ ابراہیم ؑ سے اس سوال کے جواب میں اول) ارشاد فرمایا کہ کیا تم (اس پر) یقین نہیں لاتے انہوں نے (جواب میں) عرض کیا کہ یقین کیوں نہ لاتا لیکن اس غرض سے یہ درخواست کرتا ہوں تاکہ میرے قلب کو (معین صورت زندہ کرنے کی مشاہدہ کرنے سے) سکون ہوجاوے (ذہن دوسرے احتمالات سے چکر میں نہ پڑے) ارشاد ہوا کہ اچھا تو تم چار پرندے لو پھر ان کو (پال کر) اپنے لئے ہلالو، (تاکہ ان کی خوب شناخت ہوجاوے) پھر سب کو ذبح کرکے اور ہڈیوں پروں سمیت ان کا قیمہ سا کرکے اس کے کئی حصے کرو اور کئی پہاڑ اپنی مرضی سے انتخاب کرکے) ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دو (اور) پھر ان سب کو بلاؤ (دیکھو) تمہارے پاس زندہ ہوکر) دوڑے دوڑے چلے آویں گے اور خوب یقین رکھو اس بات کا کہ حق تعالیٰ زبردست (قدرت والے) ہیں (سب کچھ کرسکتے ہیں پھر بھی بعض باتیں نہیں کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ) حکمت والے (بھی) ہیں (ہر کام حکمت و مصلحت کے مطابق کرتے ہیں) معارف و مسائل حضرت خلیل اللہ کی درخواست حیات بعد الموت کا مشاہدہ اور شبہات کا ازالہ یہ تیسرا قصہ ہے جو آیت مذکورہ میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ نے حق تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ مجھے اس کا مشاہدہ کرا دیجئے کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے ؟ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس درخواست کی کیا وجہ ہے ؟ کیا آپ کو ہماری قدرت کاملہ پر یقین نہیں کہ وہ ہر چیز پر حاوی ہے، حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا واقعی حال عرض کیا کہ یقین تو کیسے نہ ہوتا کیونکہ آپ کی قدرت کاملہ کے مظاہر ہر لحظہ ہر آن مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور غور وفکر کرنے والے کے لئے جس کام کا مشاہدہ نہ ہو خواہ وہ کتنا ہی یقینی ہو اس میں اس کے خیالات منتشر رہتے ہیں کہ یہ کیسے اور کس طرح ہوگا ؟ یہ ذہنی انتشار سکون قلب اور اطمینان میں خلل انداز ہوتا ہے اس لئے یہ مشاہدہ کی درخواست کی گئی کہ احیاء موتی کی مختلف صورتوں اور کیفیتوں میں ذہنی انتشار واقع نہ ہو کر قلب کو سکون و اطمینان حاصل ہوجائے۔ حق تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول فرما کر ان کے مشاہدہ کی بھی ایک ایسی عجیب صورت تجویز فرمائی جس میں منکرین کے تمام شبہات وخدشات کے ازالہ کا بھی مشاہدہ ہوجائے وہ صورت یہ تھی کہ آپ کو حکم دیا گیا کہ چار پرندے جانور اپنے پاس جمع کرلیں پھر ان کو پاس رکھ کر ہلالیں کہ وہ ایسے ہل جائیں کہ آپ کے بلانے سے آجایا کریں اور ان کی پوری طرح شناخت بھی ہوجائے یہ شبہ نہ رہے کہ شاید کوئی دوسرا پرندہ آگیا ہو پھر ان چاروں کو ذبح کرکے اور ہڈیوں اور پروں سمیت ان کا خوب قیمہ سا کرکے اس کے کئی حصے کردیں اور پھر اپنی تجویز سے مختلف پہاڑوں پر اس قیمہ کا ایک ایک حصہ رکھ دیں پھر ان کو بلائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے زندہ ہو کر دوڑے دوڑے آپ کے پاس آجائیں گے۔ تفسیر روح المعانی میں بسند ابن المنذر حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ایسا ہی کیا پھر ان کو پکارا تو فوراً ہڈی سے ہڈی پر سے پر خون سے خون گوشت سے گوشت مل ملا کر سب اپنی اپنی اصلی ہیئت میں زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آگئے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم قیامت کے روز اسی طرح سب اجزاء واجساد کو جمع کرکے ایک دم سے ان میں جان ڈالدوں گا۔ قرآن کے الفاظ میں يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا آیا ہے کہ یہ پرندے دوڑتے ہوئے آئیں گے، جس سے معلوم ہوا کہ اڑ کر نہیں آئیں گے کیونکہ آسمان میں اڑ کر آنے میں نظروں سے اوجھل ہو کر بدل جانے کا شبہ ہوسکتا ہے زمین پر چل کر آنے میں یہ بالکل سامنے رہیں گے، اس واقعہ میں حق تعالیٰ نے قیامت کے بعد حیات بعد الموت کا ایسا نمونہ حضرت خلیل اللہ کو دکھلا دیا جس نے مشرکین اور منکرین کے سارے شبہات کا ازالہ مشاہدہ سے کرادیا۔ حیات بعد الموت اور عالم آخرت کی زندگی پر سب سے بڑا اشکال منکرین کو یہی ہوتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد مٹی ہوجاتا ہے پھر یہ مٹی کہیں ہوا کے ساتھ اڑ جاتی ہے کہیں پانی کے ساتھ بہہ جاتی ہے کہیں درختوں اور کھیتوں کی شکل میں برآمد ہوتی ہے، پھر کہیں ذرہ ذرہ دنیا کے اطراف بعیدہ میں پھیل جاتا ہے ان منتشر ذروں اور اجزاء انسانی کو جمع کردینا اور پھر ان میں روح ڈال دینا سطحی نظر والے انسان کی اس لئے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ سب کو اپنی قدرت و اپنی حیثیت پر قیاس کرتا ہے وہ اپنے سے مافوق اور ناقابل قیاس قدرت میں غور نہیں کرتا، حالانکہ اگر وہ ذرا سا اپنے ہی وجود میں غور کرلے تو اسے نظر آئے گا کہ آج بھی اس کا وجود ساری دنیا میں بکھرے ہوئے اجزاء وذرات کا مجموعہ ہے انسان کی آفرینش جن ماں اور باپ کے ذریعے ہوتی ہے اور جن غذاؤں سے ان کا خون اور جسم بنتا ہے وہ خود جہان کے مختلف گوشوں سے سمٹے ہوئے ذرات ہوتے ہیں پھر پیدائش کے بعد انسان جس غذا کے ذریعے نشوونما پاتا ہے جس سے اس کا خون اور گوشت پوست بنتا ہے اس میں غور کرے تو اس کی غذاؤں میں ایک ایک چیز ایسی ہے جو تمام دنیا کے مختلف ذرات سے بنی ہوئی ہے دودھ پیتا ہے تو وہ کسی گائے، بھینس یا بکری کے اجزاء ہیں اور ان جانوروں میں یہ اجزاء اس گھاس دانے سے پیدا ہوئے جو انہوں نے کھائے ہیں یہ گھاس دانے معلوم نہیں کس کس خطہ زمین میں سے آئے ہیں اور ساری دنیا میں پھرنے والی ہواؤں نے کہاں کہاں کے ذرات کو ان کی تربیت میں شامل کردیا ہے اسی طرح دنیا کا دانہ دانہ اور پھل اور ترکاریاں اور انسان کی تمام غذائیں اور دوائیں جو اس کے بدن کا جزو بنتی ہیں وہ کس کس گوشہ عالم سے کس کس طرح حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور نظام محکم نے ایک انسان کے بدن میں جمع فرما دیئے اگر غافل اور کوتاہ نظر انسان دنیا کو چھوڑ کر اپنے ہی تن بدن کی تحقیق (ریسرچ) کرنے بیٹھ جائے تو اس کو یہ نظر آئے گا کہ اس کا وجود خود ایسے بیشمار اجزاء سے مرکب ہے جو کوئی مشرق کا ہے کوئی مغرب کا کوئی جنوبی دنیا کا کوئی شمالی حصہ کا، آج بھی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اجزاء قدرت کے نظام محکم نے اس کے بدن میں جمع فرمادئیے ہیں اور مرنے کے بعد یہ اجزاء پھر اسی طرح منتشر ہوجائیں گے تو اب دوسری مرتبہ پھر ان کا جمع فرمادینا اس کی قدرت کاملہ کے لئے کیا دشوار ہے جس نے پہلی مرتبہ اس کے وجود میں ان منتشر ذرات کو جمع فرما دیا تھا۔ واقعہ مذکورہ پر چند سوالات مع جوابات آیت متذکرہ بالا کے مضمون میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اولیہ کہ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ سوال ہی کیوں پیدا ہوا جبکہ وہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایمان لانے میں اس وقت کی ساری دنیا سے زیادہ یقین پر تھے ؟ اس کا جواب اس تقریر کے ضمن میں آچکا ہے جو اوپر کی گئی ہے کہ درحقیقت حضرت ابراہیم ؑ کا سوال کسی شک وشبہ کی بناء پر تھا ہی نہیں بلکہ سوال کا منشاء صرف یہ تھا کہ حق تعالیٰ قیامت میں مردوں کو زندہ کریں گے ان کی قدرت کاملہ سے یہ کسی طرح بھی مستبعد یا حیرت انگیز نہیں بلکہ یقینی ہے لیکن مردہ کو زندہ کرنے کا کام انسان کی طاقت سے باہر ہے اس نے کبھی کسی مردہ کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھا نہیں اور مردہ کو زندہ کرنے کی کیفیات اور صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں انسان کی فطرت ہے کہ جو چیز اس کے مشاہدہ میں نہ ہو اس کی کیفیات کی کھوج لگانے کی فکر میں رہا کرتا ہے اس میں اس کا خیال مختلف راہوں پر چلتا ہے، جس میں ذہنی انتشار کی تکلیف بھی برداشت کرتا ہے اس ذہنی انتشار کو رفع کرکے قلب کو سکون مل جانے ہی کا نام اطمینان ہے اسی کے لئے حضرت خلیل اللہ نے یہ درخواست پیش فرمائی تھی۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ایمان اور اطمینان میں کیا فرق ہے ایمان اس اختیاری یقین کا نام ہے جو انسان کو رسول کے اعتماد پر کسی غیب کی بات کے متعلق حاصل ہوجائے اور اطمینان سکون قلب کا نام ہے بعض اوقات نظروں سے غائب کسی چیز پر یقین کامل تو ہوتا ہے مگر قلب کو سکون اس لئے نہیں ہوتا کہ اس کی کیفیات کا علم نہیں ہوتا یہ سکون صرف مشاہدہ سے حاصل ہوسکتا ہے۔ حضرت خلیل اللہ کو بھی حیات بعد الموت پر تو کامل ایمان و یقین تھا سوال صرف کیفیت احیاء کے متعلق تھا۔ دوسرا سوالیہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کا سوال زندہ کرنے کی کیفیت سے متعلق تھا اصل حیات بعد الموت میں کوئی شک وشبہ نہ تھا تو پھر ارشاد ربانی اَوَلَمْ تُؤ ْمِنْ یعنی کیا آپ کو یقین نہیں فرمانے کا کوئی موقع نہیں رہتا ؟ جواب یہ ہے کہ جو سوال حضرت ابراہیم ؑ نے پیش فرمایا کہ اصل واقعہ میں کوئی شک نہیں لیکن اس سوال کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ زندہ کرنے کی کیفیت دریافت کرنا منظور ہے۔ انہی الفاظ سوال کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہوسکتا ہے جو اصل قدرت میں شبہ یا انکار سے پیدا ہوا کرتا ہے جیسے آپ کسی بوجھ کے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ فلاں آدمی اس کو نہیں اٹھا سکتا اور آپ اس کا عاجز ہونا ظاہر کرنے کے لئے کہیں کہ دیکھیں تم کیسے اس بوجھ کو اٹھا تے ہو چونکہ حضرت ابراہیم ؑ کے سوال کا یہ غلط مفہوم بھی کوئی لے سکتا تھا اس لئے حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس غلط بات سے بری ثابت کرنے کے لئے ہی یہ ارشاد فرمایا اَوَلَمْ تُؤ ْمِنْ تاکہ حضرت ابراہیم ؑ اس کے جواب میں بلیٰ فرما کر افتراء پردازوں کی زد سے نکل جائیں۔ تیسرا سوالیہ ہے کہ اس سوال ابراہیمی سے کم ازکم اتنا تو معلوم ہوا کہ ان کو حیات بعد الموت پر اطمینان حاصل نہ تھا حالانکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر عالم غیب سے پردہ اٹھا دیا جائے تو میرے یقین و اطمینان میں کوئی زیادتی نہ ہوگی کیونکہ مجھے ایمان بالغیب ہی سے اطمینان کامل حاصل ہے تو جب بعض امتیوں کو درجہ اطمینان حاصل ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے خلیل کو اطمینان کا درجہ حاصل نہ ہو ؟ اس کے متعلق یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اطمینان کے بھی بہت سے درجات ہیں ایک وہ اطمینان ہے جو اولیاء اللہ اور صدیقین کو حاصل ہوتا ہے اور ایک اس سے اعلیٰ مقام اطمینان ہے جو عام انبیاء کو حاصل ہوتا ہے اور ایک اس سے بھی مافوق ہے جو خاص خاص کو بصورت مشاہدہ عطا فرمایا جاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جو درجہ اطمینان کا حاصل تھا وہ بلاشبہ حضرت ابراہیم ؑ کو حاصل تھا بلکہ اس سے اعلیٰ درجہ اطمینان کا حاصل جو مقام نبوت کے ساتھ خاص ہے اس اطمینان میں حضرت ابراہیم ؑ اور سب امتیوں سے فائق تھے، پھر جس کو وہ طلب فرما رہے ہیں وہ سب سے اعلیٰ مقام اطمینان ہے جو خاص خاص انبیاء (علیہم السلام) کو عطا فرمایا جاتا ہے جیسے سرور کائنات سید الانبیاء ﷺ کو جنت و دوزخ کا مشاہدہ کرا کر اطمینان خاص بخشا گیا۔ الغرض اس سوال کی وجہ سے یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اطمینان حاصل نہ تھا یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اطمینان کامل جو مشاہدہ سے حاصل ہوا کرتا ہے وہ نہ تھا اسی کے لئے یہ درخواست فرمائی تھی۔ آیت کے آخر میں اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ یعنی اللہ تعالیٰ زبردست ہیں اور حکمت والے ہیں، زبردست ہونے میں قدرت کاملہ کا بیان فرمایا اور حکمت والا کہہ کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ بمقتضائے حکمت ہر ایک کو حیات بعد الموت کا مشاہدہ نہیں کرایا جاتا ورنہ حق جل شانہ کے لئے کوئی دشوار نہیں کہ ہر انسان کو مشاہدہ کرادیں مگر پھر ایمان بالغیب کی جو فضیلت ہے وہ قائم نہیں رہ سکتی۔