2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی کچھ یہی نہیں کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی، لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور دے مال اس کی محبت پر رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور قائم رکھے نماز اور دیا کرے زکوٰة، اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب عہد کریں، اور صبر کرنے والے سختی میں اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت یہی لوگ ہیں سچے اور یہی ہیں پرہیزگار

ربط از بیان القرآن شروع سورت سے یہاں تک تقریباً نصف سورة بقرہ ہے زیادہ روئے سخن منکرین کی طرف تھا کیونکہ سب سے اول قرآن کی حقانیت کا اثبات کیا اس ضمن میں اس کے ماننے والے اور نہ ماننے والے فرقوں کا ذکر کیا پھر توحید و رسالت کو ثابت کیا پھر اولاد ابراہیم ؑ پر انعامات و احسانات کو وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ تک بیان فرمایا وہاں سے قبلہ کی بحث چلی اور اس کو بیان کرکے صفا ومروہ کی بحث پر ختم کیا، پھر توحید کے اثبات کے بعد شرک کے اصول و فروع کا ابطال کیا اور یہاں تک یہی بیان ہوا اور ان سب مضامین میں ظاہر ہے کہ منکرین کو زیادہ تنبیہ ہے اور ضمناً کوئی خطاب مسلمانوں کو ہوجانا اور بات ہے، اب آیات آئندہ میں کہ بقیہ تقریباً سورة بقرہ کا نصف ہے زیادہ تر مقصود مسلمانوں کو بعض اصول و فروع کی تو تعلیم کرنا ہے گو ضمناً غیر مسلمین کو بھی کوئی خطاب ہوجاوے اور یہ مضمون ختم سورة تک چلا گیا ہے جس کو شروع کیا گیا ہے ایک مجمل عنوان بِرّ سے لفظ برّ بکسر الباء عربی زبان میں مطلق خیر کے معنی میں ہے جو تمام ظاہری اور باطنی طاعات و خیرات کو جامع ہے اور اول آیات میں الفاظ جامعہ سے کلی اور اصولی تعلیم دی گئی ہے مثلاً ایمان بالکتاب وایتاء مال و وفاء عہد وصبر حین البأس وغیرہ جس میں قرآنی تمام احکام کے بنیادی اصول آگئے کیوں کہ شریعت کے کل احکام کا حاصل تین چیزیں ہیں، عقائد، اعمال، اخلاق، باقی تمام جزئیات انھیں کلیات کے تحت میں داخل ہیں اور اس آیت میں ان تینوں قسم کے بڑے بڑے شعبے آگئے، آگے اس بِرّ کی تفصیل چلی ہے جس میں سے بہت سے احکام باقتضائے وقت ومقام مثل قصاص ووصیت و روزہ وجہاد وحج و انفاق وحیض وایلا، ویمین و طلاق ونکاح وعدت ومہر و تکرار ذکر جہاد و انفاق فی سبیل اللہ وبعض معاملات بیع وشراء و شہادت بقدر ضرورت بیان فرما کر بشارت و وعدہ رحمت و مغفرت پر ختم فرما دیا سبحان اللہ کیا بلیغ ترتیب ہے پس چونکہ ان مضامین کا حاصل بر کا بیان ہے اجمالاً وتفصیلاً اس لئے اگر اس مجموعہ کا لقب ابواب البِرّ رکھا جاوے تو نہایت زیبا ہے واللہ الموفق۔ خلاصہ تفسیر ابواب البر کچھ سارا کمال اسی میں نہیں (آگیا) کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو (کرلو) لیکن (اصلی) کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ (کی) ذات وصفات پر یقین رکھے اور (اسی طرح) قیامت کے دن (آنے پر) پر (بھی) اور فرشتوں پر (بھی کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں نور سے بنے ہیں گناہ سے معصوم ہیں کھانے پینے اور انسانی شہوات سے پاک ہیں) اور (سب) کتب (سماویہ) پر (بھی) اور (سب) پیغمبروں پر (بھی) اور (وہ شخص) مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں (اپنے حاجتمند) رشتہ داروں کو اور (نادار) یتیموں کو (یعنی جن بچوں کو ان کا باپ نابالغ چھوڑ کر مرگیا ہو) اور (دوسرے غریب) محتاجوں کو (بھی) اور (بےخرچ) مسافروں کو اور (لاچاری میں) سوال کرنے والوں کو اور (قیدی اور غلاموں کی) گردن چھڑانے میں (بھی مال خرچ کرتا ہو) اور (وہ شخص) نماز کی پابندی (بھی) رکھتا ہو اور (مقررہ) زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو اور جو اشخاص (کہ ان عقائد و اعمال کے ساتھ یہ اخلاق بھی رکھتے ہوں کہ) اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں جب (کسی امر جائز کا) عہد کرلیں اور (اس صفت کو خصوصیت کے ساتھ کہوں گا کہ) وہ لوگ (ان مواقع میں) مستقل (مزاج) رہنے والے ہوں (ایک تو) تنگدستی میں اور (دوسرے) بیماری میں اور (تیسرے معرکہ) قتال (کفار) میں (یعنی پریشان اور کم ہمت نہ ہوں بس) یہ لوگ ہیں جو سچے (کمال کے ساتھ موصوف) ہیں اور یہی لوگ ہیں جو (سچے) متقی (کہے جاسکتے) ہیں (غرض اصلی مقاصد اور کمالات دین کے یہ ہیں نماز میں کسی سمت کو منہ کرنا انہی کمالات مذکورہ میں سے ایک کمال خاص یعنی اقامت صلوۃ کے توابع اور شرائط میں سے ہے اور اس کے حسن سے اس میں حسن آگیا ورنہ اگر نماز نہ ہوتی تو کسی خاص سمت کو منہ کرنا بھی عبادت نہ ہوتا) معارف و مسائل جب مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کردیا گیا تو یہود و نصاریٰ اور مشرکین جو اسلام اور مسلمانوں میں عیب جوئی کی فکر میں رہتے تھے ان میں بڑا شور وشغب ہوا اور طرح طرح سے رسول اللہ ﷺ اور اسلام پر اعتراضات کا سلسلہ جاری کردیا جس کی جوابات پچھلی آیات میں بڑی توضیح و تفصیل کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں۔ ان آیات میں ایک خاص انداز سے اس بحث کو ختم کردیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم نے سارا دین صرف اس بات میں منحصر کردیا کہ نماز میں انسان کا رخ مغرب کی طرف ہو یا مشرق کی، مراد اس سے مطلق جہات اور سمتیں ہیں یعنی تم نے صرف سمت وجہت کو دین کا مقصد بنا لیا اور ساری بحثیں اس میں دائر ہوگئیں گویا شریعت کا کوئی اور حکم ہی نہیں ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت کا خطاب یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب کے لئے ہو اور مراد یہ ہو کہ اصل بِرّ اور ثواب اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہے وہ جس طرف رخ کرنے کا حکم دیں وہی ثواب وصواب ہوجاتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے مشرق ومغرب یا کوئی جانب وجہت نہ کوئی اہمیت رکھتی ہے نہ ثواب بلکہ ثواب دراصل اطاعت حکم کا ہے جس جانب کا بھی حکم ہوجائے جب تک بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا وہ ثواب تھا اور جب بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا ارشاد ہوا تو اب وہی ثواب ہے، جیسا کہ بسلسلہ ربط آیات بیان ہوچکا ہے کہ اس آیت سے سورة بقرہ کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے جس میں مسلمانوں کے لئے تعلیمات و ہدایات اصل ہیں مخالفین کے جوابات ضمنی، اسی لئے اس آیت کو احکام اسلامیہ کی ایک نہایت جامع آیت کہا گیا ہے۔ اس کے بعد بقرہ کے ختم تک تقریبا اسی آیت کی مزید تشریحات ہیں اس آیت میں اصولی طور سے تمام احکام شرعیہ، اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاق کا اجمالی ذکر آگیا ہے، پہلی چیز اعتقادات ہیں اس کا ذکر مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ میں مفصل آگیا دوسری چیز اعمال یعنی عبادات اور معاملات ہیں ان میں سے عبادات کا ذکر وَاٰتَى الزَّكٰوةَ تک آگیا پھر معاملات کا ذکر والْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ سے کیا گیا پھر اخلاق کا ذکر والصّٰبِرِيْنَ سے کیا گیا آخر میں بتلا دیا کہ سچے مومن وہی لوگ ہیں جو ان تمام احکام کی پیروی مکمل کریں اور انہی کو تقویٰ شعار کہا جاسکتا ہے، ان احکام کے بیان کرنے میں بہت سے بلیغ اشارات ہیں مثلا مال کو خرچ کرنے میں عَلٰي حُبِّهٖ کی قید لگا دی جس میں تین احتمال ہیں ایک یہ کہ حُبِّهٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ مال خرچ کرنے میں کوئی نفسانی غرض نام ونمود کی شامل نہ ہو بلکہ اخلاص کامل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اس خرچ کرنے کا داعیہ ہو، دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر مال کی طرف راجع ہو تو مراد یہ ہوگی کہ اللہ کی راہ میں وہ مال خرچ کرنا موجب ثواب ہے جو انسان کو محبوب ہو بیکار چیزیں جو پھینکنے کی تھیں ان کو دے کر صدقہ کا نام کرنا کوئی صدقہ نہیں اگرچہ پھینکنے کی نسبت سے بہتر یہی ہے کہ کسی کے کام آسکے تو اس کو دیدے۔ تیسرا حتمال یہ ہے کہ لفظ اٰتَى میں جو اس کا مصدر ایتاء مفہوم ہوتا ہے اس کی طرف ضمیر راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ وہ اپنے خرچ کرنے پر دل سے راضی ہو یہ نہ ہو کہ خرچ تو کر رہا ہے مگر اندر سے دل دکھ رہا ہے، امام جصاص نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ تینوں ہی چیزیں مراد میں داخل ہوں پھر اس جگہ مال کے خرچ کرنے کی دو صورتیں مقدم بیان کردیں جو زکوٰۃ کے علاوہ ہیں زکوٰۃ کا ذکر اس کے بعد کیا شاید تقدیم کی وجہ یہ ہو کہ عام طور سے ان حقوق میں غفلت اور کوتاہی برتی جاتی ہے صرف زکوٰۃ ادا کردینے کا کافی سمجھ لیا جاتا ہے، مسئلہاسی سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ مالی فرض صرف زکوٰۃ سے پورا نہیں ہوتا ہے زکوٰۃ کے علاوہ بھی بہت جگہ پر مال خرچ کرنا فرض وواجب ہوتا ہے (جصاص، قرطبی) جیسے رشتہ داروں پر خرچ کرنا کہ جب وہ کمانے سے معذور ہوں تو نفقہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے کوئی مسکین غریب مر رہا ہے اور آپ اپنی زکوٰۃ ادا کرچکے ہیں مگر اس وقت مال خرچ کرکے اس کی جان بچانا فرض ہے۔ اسی طرح ضرورت کی جگہ مسجد بنانا دینی تعلیم کے لئے مدارس ومکاتب بنانا یہ سب فرائض مالی میں داخل ہیں فرق اتنا ہے کہ زکوٰۃ کا ایک خاص قانون ہے اس کے مطابق ہر حال میں زکوٰۃ کا ادا کرنا ضروری ہے اور یہ دوسرے مصارف ضرورت و حاجت پر موقوف ہیں جہاں ضرورت ہو خرچ کرنا فرض ہوجائے گا جہاں نہ ہو فرض نہیں ہوگا، فائدہجن لوگوں پر مال خرچ کرنا ہے مثلا ذوی القربیٰ ، مساکین، مسافر، سوال کرنے والے فقیر، ان سب کو تو ایک انداز سے بیان فرمایا، پھر فِي الرِّقَاب میں حرف فی بڑھا کر اشارہ کردیا کہ مملوک غلاموں کو مال کا مالک بنانا مقصود نہیں بلکہ ان کے مالک سے خرید کر ان کے آزاد کرنے پر خرچ کیا جائے اس کے بعد اَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ کا ذکر بھی اسی طریق پر آیا جیسے دوسری چیزوں کا ذکر ہے آگے معاملات کا باب بیان کرنا تھا اس میں اسلوب (طریق) بدل کر بجائے صیغہ ماضی استعمال کرنے کے والْمُوْفُوْنَ صیغہ اسم فاعل استعمال کیا اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اس میں ایفاء عہد کی عادت دائمی ہونا چاہئے اتفاقی طور پر کوئی معاہدہ پورا کردے تو یہ ہر کافر فاجر بھی کبھی نہ کبھی کرتا ہے اس کا اعتبار نہیں اسی طرح معاملات کے باب میں صرف ایفائے عہد کا ذکر کیا گیا کیونکہ اگر غور کیا جائے تو تمام معاملات بیع وشراء اجارہ شرکت سب ہی کی روح ایفاء معاہدہ ہے، اسی طرح آگے اخلاق یعنی اعمال باطنہ کا ذکر کرنا تھا ان میں سے صرف صبر کو بیان کیا گیا کیونکہ صبر کے معنے ہیں نفس کو قابو میں رکھنے اور برائیوں سے بچانے کے اگر غور کیا جائے تو تمام اعمال باطنہ کی اصل روح صبر ہی ہے اسی کے ذریعہ اخلاق فاضلہ حاصل کئے جاسکتے اور اسی کے ذریعہ اخلاق رذیلہ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، ایک اور تغیر اسلوب بیان میں یہاں یہ کیا گیا کہ پہلے والْمُوْفُوْنَ ذکر کیا تھا یہاں والصّٰبِرُون نہیں بلکہ والصّٰبِرِيْنَ فرمایا حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ نصب علی المدح ہے جس کی مراد یہ ہے کہ اس جگہ لفظ مدح مقدر ہے اور صابرین اس کا مفعول ہے یعنی ان سب نیکوکار لوگوں میں خصوصیت سے قابل مدح صابرین ہیں کیونکہ صبر ہی ایک ایسا ملکہ اور ایسی قوت ہے جس سے تمام اعمال مذکورہ میں مدد لی جاسکتی ہے اس طرح آیت مذکورہ میں دین کے تمام شعبوں کے اہم اصول بھی آگئے ہیں اور بلیغ اشارات سے ہر ایک کی اہمیت کا درجہ بھی معلوم ہوگیا۔
Ayahs 2:178–179

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو فرض ہوا تم ہر (قصاص) برابری کرنا مقتولوں میں، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت پھر جسکو معاف کیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی تو تابعداری کرنی چاہیے موافق دستور کے اور ادا کرنا چاہیے اس کو خوبی کے ساتھ یہ آسانی ہوئی تمہارے رب کی طرف سے اور جو مہربانی اور پھر جو زیادتی کرے اس فیصلہ کے بعد تو اس کے لئے ہے عذاب دردناک،

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

تمہارے واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے اے عقلمندو ! تاکہ تم بچتے رہو۔

ربط آیات اور خلاصہ تفسیر اس سے پہلی آیات کی تفسیر میں آپ معلوم کرچکے ہیں کہ ان آیات میں اجمالی طور پر نیکی اور خوبی کے اصول بتلا دئیے گئے ہیں آگے ان کی جزئی تفصیلات آئیں گی جن کو ابواب البر کہا جاسکتا ہے آگے انہی ابواب البر کے کچھ احکام جزئیہ کا بیان ہوتا ہے جو ضرورت اور حالات و واقعات کے تابع بیان ہوئے ہیں۔ حکم اول قصاص اے ایمان والو تم پر (قانون) قصاص فرض کیا جاتا ہے مقتولین (بقتل عمد) کے بارے میں (یعنی ہر) آزاد آدمی (قتل کیا جاوے ہر دوسرے) آزاد آدمی کے عوض میں اور (اسی طرح ہر) غلام (دوسرے ہر) غلام کے عوض میں اور (اسی طرح ہر) عورت (دوسری ہر) عورت کے عوض میں (گو یہ قاتلین بڑے درجہ کے اور مقتولین چھوٹے درجہ کے ہوں جب بھی سب سے برابر قصاص لیا جاوے گا یعنی قاتل کو سزا میں قتل کیا جاوے گا) ہاں جس (قاتل) کو اس کے فریق (مقدمہ) کی طرف سے کچھ معافی ہوجاوے (مگر پوری معاف نہ ہو) تو (اس سے سزائے قتل سے تو بری ہوگیا لیکن دیت یعنی خون بہا کے طور پر ایک معین مقدار سے مال بذمہ قاتل واجب ہوجاوے گا تو اس وقت فریقین کے ذمہ ان دو امر کی رعایت ضروری ہے مدعی یعنی وارث مقتول کے ذمہ تو) معقول طور پر (اس مال کا) مطالبہ کرنا (کہ اس کو زیادہ تنگ نہ کرے) اور (مدعا علیہ یعنی قاتل کے ذمہ) خوبی کے ساتھ (اس مال کا) اس مدعی کے پاس پہنچا دینا (کہ مقدار میں کمی نہ کرے اور خواہ مخواہ ٹالے نہیں) یہ (قانون دیت وعفو) تمہارے پروردگار کی طرف سے (سزا میں) تخفیف ہے اور (شاہانہ) ترحم ہے (ورنہ بجز سزائے قتل کے کوئی گنجائش ہی نہ ہوتی) پھر جو شخص اس (قانون) کے (مقرر ہوئے) بعد تعدی کا مرتکب ہو (مثلا کسی پر جھوٹا یا اشتباہ میں دعویٰ قتل کا کردے یا معاف کرکے پھر قتل کی پیروی کرے) تو اس شخص کو (آخرت میں) بڑا دردناک عذاب ہوگا اور فہیم لوگو (اس قانون) قصاص میں تمہاری جانوں کا بڑا بچاؤ ہے (کیونکہ اس قانون کے خوف سے ارتکاب قتل سے ڈریں گے تو کئی جانیں بچیں گی) ہم امید کرتے ہیں کہ تم لوگ (ایسے قانون امن کی خلاف ورزی سے) پرہیز رکھو گے، معارف و مسائل قصاص کے لفظی معنی مماثلت کے ہیں مراد یہ ہے کہ جتنا ظلم کسی نے کسی پر کیا اتنا ہی بدلہ لینا دوسرے کے لئے جائز ہے اس سے زیادتی کرنا جائز نہیں قرآن مجید کی آیت میں عنقریب اسی سورت میں اس کی زیادہ وضاحت اس طرح آئی ہے بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ (194: 2) اور سورة نحل کی آخری آیات میں وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ (126: 16) اسی مضمون کے لئے آیا ہے، اسی لئے اصطلاح شرع میں قصاص کہا جاتا ہے قتل کرنے اور زخم لگانے کی اس سزا کو جس میں مساوات اور مماثلت کی رعایت کی گئی ہو، مسئلہقتل عمد وہ کہ ارادہ کرکے کسی کو آہنی ہتھیار سے یا ایسی چیز سے جس سے گوشت پوست کٹ کر خون بہہ سکے قتل کیا جاوے، قصاص یعنی جان کے بدلے جان لینا ایسے ہی قتل کے جرم کے ساتھ مخصوص ہے، مسئلہایسے قتل میں جیسے آزاد آدمی آزاد کے عوض میں قتل کیا جاتا ہے ایسے ہی غلام کے عوض میں بھی غلام اور جس طرح عورت کے عوض میں عورت ماری جاتی ہے اسی طرح مرد بھی عورت کے مقابلہ میں قتل کیا جاتا ہے، آیت میں آزاد کے مقابل آزاد اور عورت کے مقابل عورت کا جو ذکر آیا ہے یہ اس خاص واقعہ کی بناء پر ہے جس میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، ابن کثیر نے باسناد ابن ابی حاتم نقل کیا ہے کہ زمانہ اسلام سے کچھ پہلے دو عرب قبیلوں میں جنگ ہوگئی طرفین کے بہت سے آدمی آزاد اور غلام مرد اور عورتیں قتل ہوگئے ابھی ان کے معاملہ کا تصفیہ ہونے نہیں پایا تھا کہ زمانہ اسلام شروع ہوگیا اور یہ دونوں قبیلے اسلام میں داخل ہوگئے اسلام لانے کے بعد اپنے اپنے مقتولوں کا قصاص لینے کی گفتگو شروع ہوئی تو ایک قبیلہ جو قوت و شوکت والا تھا اس نے کہا کہ ہم اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے میں تمہارا آزاد آدمی اور عورت کے بدلے میں مرد قتل نہ کیا جائے، قصاص کے متعلق اسلام کا عادلانہ قانون اور قصاص کے مسائل ان کے جاہلانہ اور ظالمانہ مطالبہ کی تردید کرنے کیلئے یہ آیت نازل ہوئی اَلْحُــرُّ بالْحُــرِّ وَالْعَبْدُ بالْعَبْدِ وَالْاُنْـثٰى بالْاُنْـثٰى جس کا حاصل ان کے مطالبہ کو رد کرنا تھا کہ غلام کے بدلے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ قاتل نہ ہو اسلام نے اپنا عادلانہ قانون یہ نافذ کردیا کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے اگر عورت قاتل ہے تو کسی بےگناہ مرد کو اس کے بدلے میں قتل کرنا اسی طرح قاتل اگر غلام ہے تو اس کے بدلے میں کسی بےگناہ آزاد کو قتل کرنا ظلم عظیم ہے جو اسلام میں قطعا برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا حاصل اس کے سوا نہیں کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے گا عورت ہو یا غلام قاتل عورت اور غلام کے بجائے بےگناہ مرد یا آزاد کو قتل کرنا جائز نہیں۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورت کو کوئی مرد قتل کردے یا غلام کو کوئی آزاد قتل کردے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا قرآن مجید کی اسی آیت کے شروع میں اَلْحُــرُّ بالْحُــرِّ وَالْعَبْدُ بالْعَبْدِ وَالْاُنْـثٰى بالْاُنْـثٰى اس عموم کی واضح دلیل ہے اور دوسری آیات میں اس سے بھی زیادہ وضاحت ہے مثلاً النَّفْسَ بالنَّفْسِ وغیرہ۔ مسئلہاگر قتل عمد میں قاتل کو پوری معافی دے دیجاوے مثلاً مقتول کے وارث صرف اس کے دو بیٹے تھے اور ان دونوں نے اپنا حق معاف کردیا تو قاتل پر کوئی مطالبہ نہیں رہا اور اگر پوری معافی نہ ہو مثلاً صورت مذکورہ میں دو بیٹوں میں سے ایک نے معاف کیا دوسرے نے معاف نہیں کیا سزائے قصاص سے تو قاتل بری ہوگیا لیکن معاف نہ کرنے والے کو نصف دیت (خون بہا) دلایا جاوے گا اور دیت یعنی خوں بہا شریعت میں سو اونٹ یا ہزار دینار یا دس ہزار درہم ہوتے ہیں اور درہم آجکل کے مروجہ وزن کے اعتبار سے تقریباً ساڑھے تین ماشہ چاندی کا ہوتا ہے تو پوری دیت دو ہزار نو سو سولہ تولے 8 ماشے چاندی ہوگی، یعنی 36 سیر 36 تولے 8 ماشے، مسئلہجس طرح ناتمام معافی سے مال واجب ہوجاتا ہے اسی طرح اگر باہم کسی قدر مال پر مصالحت ہوجاوے تب بھی قصاص ساقط ہو کر مال واجب ہوجاتا ہے لیکن اس میں کچھ شرائط ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ مسئلہمقتول کے جتنے شرعی وارث ہیں وہی قصاص اور دیت کے مالک بقدر اپنے حصہ میراث کے ہوں گے اگر دیت یعنی خوں بہا لیا گیا تو مال ان وارثوں میں بحساب وراثت تقسیم ہوگا اور قصاص کا فیصلہ ہوا تو قصاص کا حق بھی سب میں مشترک ہوگا مگر چونکہ قصاص ناقابل تقسیم ہے اس لئے کوئی ادنیٰ درجہ کا حق رکھنے والا بھی اپنا حق قصاص معاف کر دے گا تو دوسرے وارثوں کا حق قصاص بھی معاف ہوجائے گا ہاں ان کو دیت (خون بہا) کی رقم حسب حصہ ملے گی، مسئلہقصاص لینے کا حق اگرچہ اولیاء مقتول کا ہے مگر باجماع امت ان کو اپنا یہ حق خود وصول کرنے کا اختیار نہیں کہ خود ہی قاتل کو مار ڈالیں بلکہ اس حق کے حاصل کرنے کے لئے حکم سلطان مسلم یا اس کے کسی نائب کا ضروری ہے کیونکہ قصاص کس صورت میں واجب ہوتا ہے کس میں نہیں اس کی جزئیات بھی دقیق ہیں جن کو ہر شخص معلوم نہیں کرسکتا اس کے علاوہ اولیاء مقتول اپنے غصہ میں مغلوب ہو کر کوئی زیادتی بھی کرسکتے ہیں اس لئے باتفاق علماء امت حق قصاص حاصل کرنے کے لئے اسلامی حکومت کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے (قرطبی)
Ayahs 2:180–182

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

فرض کیا گیا تم پر جب حاضر ہو کسی کو تم میں موت بشرطیکہ چھوڑے کچھ مال وصیت کرنا ماں باپ کے واسطے اور رشتہ داروں کے لئے انصاف کے ساتھ یہ حکم لازم ہے پرہیزگاروں پر،

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو کوئی بدل ڈالے وصیت کو بعد اس کے کہ جو سن چکا تو اس کا گناہ انہی پر ہے جنہوں نے اس کو بدلا بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے،

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر جو کوئی خوف کرے وصیت کرنے والے سے طرفداری کا یا گناہ کا پھر ان میں باہم صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

ربط آیات و خلاصہ تفسیر حکم دوم از ابواب البر وصیت وصیت ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے کا حکم دیا جائے خواہ زندگی میں یا بعد الموت لیکن عرف میں اس کام کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے کا حکم بعدالموت ہو۔ خیر۔ لفظ خیر کے بہت سے معانی میں سے ایک معنی مال کے بھی آتے ہیں جیسے قرآن میں ہے وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ (8: 100) اس جگہ باتفاق مفسرین خیر سے مراد مال ہے شروع اسلام میں جب تک میراث کے حصے شرع سے مقرر نہ ہوئے تھے یہ حکم تھا کہ ترکہ کے ایک ثلث میں مرنے والا اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے لئے جتنا جتنا مناسب سمجھے وصیت کردے اتنا تو ان لوگوں کو حق تھا باقی جو کچھ رہتا وہ سب اولاد کا حق ہوتا تھا اس آیت میں یہ حکم مذکور ہے یعنی، تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب کسی کو (آثار سے) موت نزدیک معلوم ہونے لگے بشرطیکہ کچھ مال بھی ترکہ میں چھوڑا ہو تو (اپنے) والدین اور (دیگر) اقارب کے لئے معقول طور پر (کہ مجموعہ ایک ثلث سے زیادہ نہ ہو) کچھ کچھ بتلا جاوے (اس کا نام وصیت ہے جن کو خدا کا خوف ہے ان کے ذمہ یہ ضروری (کیا جاتا) ہے پھر (جن لوگوں نے اس وصیت کو سنا ہے ان میں سے) جو شخص بھی سن لینے کے بعد اس (کے مضمون) کو تبدیل کرے گا (اور باہمی تقسیم و فیصلہ کے وقت غلط اظہار دے گا اور اس کے موافق فیصلہ ہونے سے کسی کا حق تلف ہوجاوے گا) تو اس (حق تلفی) کا گناہ انہی لوگوں کو ہوگا جو اس (مضمون) کو تبدیل کریں گے (حاکم عدالت یا ثلث کو یا مرنے والے کو گناہ نہ ہوگا کیونکہ) اللہ تعالیٰ تو یقیناً سنتے جانتے ہیں (تو تبدیل کرنے والے کے اظہار بھی سنتے ہیں اور حاکم کا بیخبر اور معذور ہونا بھی جانتے ہیں) ہاں (ایک طرح کی تبدیل کی اجازت بھی ہے وہ یہ کہ) جس شخص کو وصیت کرنے والے کی جانب سے (وصیت کے بارے میں) کسی غلطی کی یا (قصدا قانون وصیت کے کسی دفعہ کی خلاف ورزی کے) کسی جرم کے ارتکاب کی تحقیق ہوئی ہو (اور اس بےضابطہ وصیت کی وجی سے اس میت کے پسماندہ مستحقان ترکہ ومستحقان مال وصیت میں نزاع کا خطرہ یا وقوع معلوم ہو) پھر یہ شخص ان میں باہم مصالحت کرادے (گو وہ مصالحت اس مضمون وصیت کے خلاف ہو جو ظاہرا تبدیل وصیت ہے) تو اس شخص پر کوئی بار گناہ نہیں ہے (اور) واقعی اللہ تعالیٰ تو (خود گناہوں کے) معاف فرمانے والے ہیں اور (گنہگاروں پر) رحم کرنے والے ہیں (اور اس شخص نے تو کوئی گناہ نہیں کیا کیونکہ وصیت میں تبدیلی اصلاح کے لئے ہے تو اس پر کیوں نہ رحمت ہوگی) معارف و مسائل اس آیت میں جو وصیت کرنا اس مرنے والے پر فرض کیا ہے جو کچھ مال چھوڑ کر مر رہا ہو اس حکم کے تین جزء ہیں ایک یہ کہ مرنے والے کے ترکہ میں اولاد کے سوا کسی دوسرے وارث کے حصے مقرر نہیں ہیں ان کے حصوں کا تعین مرنے والے کی وصیت کی بنیاد پر ہوگا، دوسرے یہ کہ ایسے اقارب کے لئے وصیت کرنا مرنے والے پر فرض ہے، تیسرے یہ کہ ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں، ان تین احکام میں سے پہلاحکم تو اکثر صحابہ کرام وتابعین کے نزدیک آیت میراث سے منسوخ ہوگیا ابن کثیر نے بتصحیح حاکم وغیرہ حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ اس حکم کو آیت میراث نے منسوخ کردیا یعنی للرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ ۭ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا (7: 4) اور حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک دوسری روایت میں اس کی یہ تفصیل ہے کہ آیت میراث نے ان لوگوں کی وصیت کو منسوخ کردیا جن کا میراث میں حصہ مقرر ہے دوسرے رشتہ دار جن کا میراث میں حصہ نہیں ان کے لئے حکم وصیت اب بھی باقی ہے (جصاص، قرطبی) لیکن باجماع امت یہ ظاہر ہے کہ جن رشتہ داروں کا میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں ان کے لئے میت پر وصیت کرنا کوئی فرض و لازم نہیں اس لئے فرضیت وصیت ان کے حق میں بھی منسوخ ہی ہوگی (جصاص، قربطی) یعنی بشرط ضرورت صرف مستحب رہ جائے گی، دوسرا حکم وصیت کا فرض ہونا یہ بھی باجماع امت منسوخ ہے اور ناسخ اس کا وہ حدیث متواتر ہے جس کا اعلان رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ صحابہ کے سامنے فرمایا۔ ان اللہ اعطیٰ لکل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث اخرجہ الترمذی وقال ھذا حدیث حسن صحیح۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک حق والے کو اس کا حق خود دے دیا ہے اس لئے اب کسی وارث کے لئے وصیت جائز نہیں۔ اسی حدیث میں بروایت ابن عباس یہ الفاظ بھی منقول ہیں ؛ لا وصیۃ لوارث الا ان تجیزہ الورثہ (جصاص) کسی وارث کے لئے وصیت اس وقت تک جائز نہیں جب تک باقی سب وارث اجازت نہ دیدیں، اس لئے حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرمادئیے ہیں اس لئے اسے وصیت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وارث کے حق میں وصیت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہاں اگر دوسرے ورثہ اس کی اجازت دیدیں تو جائز ہے، امام جصاص نے فرمایا کہ یہ حدیث ایک جماعت صحابہ سے منقول ہے اور فقہاء امت نے باتفاق اس کو قبول کیا ہے اس لئے بحکم متواتر ہے جس سے آیت قرآن کا نسخ جائز ہے، اور امام قرطبی نے فرمایا کہ یہ بات علماء امت میں متفق علیہ ہے کہ جب کوئی حکم رسول اللہ ﷺ کی زبانی یقینی طور پر معلوم ہوجائے جیسے خبر متواتر، مشہور وغیرہ میں ہوتا ہے تو وہ بالکل بحکم قرآن ہے اور وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کا فرمان ہے اس لئے ایسی حدیث سے کسی آیت قرآن کا منسوخ ہوجانا کوئی محل شبہ نہیں پھر فرمایا کہ اگرچہ یہ حدیث ہم تک خبر واحد ہی کے طریق پر پہنچی ہو مگر اس کے ساتھ حجۃ الوداع کے سب سے بڑے اجتماع میں ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کے سامنے اس کا اعلان فرمانا اور اس پر اجماع صحابہ اور اجماع امت نے یہ واضح کردیا کہ یہ حدیث ان حضرات کے نزدیک قطعی الثبوت ہے ورنہ شک وشبہ کی گنجائش ہوتے ہوئے اس کی وجہ سے آیت قرآن کے حکم کو چھوڑ کر اس پر اجماع نہ کرتے۔ تیسرا حکم وصیت ایک تہائی مال سے زیادہ کی جائز نہیں یہ باتفاق امت اب بھی باقی ہے ہاں وارثوں کی اجازت سے ایک تہائی سے زائد کی بلکہ پورے مال کی بھی وصیت جائز اور قابل قبول ہے، مسئلہتفصیل مذکور سے یہ واضح ہوچکا کہ اب جن رشتہ داروں کے حصے قرآن کریم نے خود مقرر کردیئے ہیں ان کے لئے اب وصیت واجب نہیں بلکہ بدون اجازت دوسرے وارثوں کے جائز بھی نہیں البتہ جو رشتہ دار شرعی وارث نہیں ان کے لئے وصیت کرنے کی اجازت ایک تہائی مال تک ہے، مسئلہاس آیت میں ذکر ایک خاص وصیت کا تھا جو مرنے والا اپنے متروکہ مال کے متعلق کرتا تھا جو منسوخ ہوگیا لیکن جس شخص کے ذمے دوسرے لوگوں کے حقوق واجب ہوں یا اس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو اس پر ان تمام چیزوں کی ادائیگی کے لئے وصیت واجب ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ کچھ لوگوں کے حقوق ہوں اس پر تین راتیں ایسی نہ گذرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس موجود نہ ہو، مسئلہآدمی کو جو ایک تہائی مال میں وصیت کرنے کا حق دیا گیا ہے اپنی زندگی میں اس کو یہ بھی حق رہتا ہے کہ اس وصیت میں کچھ تبدیلی کردے یا بالکل ختم کردے (جصاص)
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ

خلاصہ تفسیر حکم سوم صوم اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے (امتوں کے) لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ (کیونکہ روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی بنیاد ہے تقویٰ کی سو) تھوڑے دنوں روزہ رکھ لیا کرو (ان تھوڑے دنوں سے مراد رمضان ہے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے) پھر (اس میں بھی اتنی آسانی ہے کہ) جو شخص تم میں (ایسا) بیمار ہو (جس کو روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں تو (اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور بجائے رمضان کے) دوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب ہے) اور (دوسری آسانی جو بعد میں منسوخ ہوگئی یہ ہے کہ) جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں (اور پھر روزہ رکھنے کو دل نہ چاہے تو) ان کے ذمہ (صرف روزے کا) فدیہ (یعنی بدلہ) ہے کہ وہ ایک غریب کا کھانا (کھلا دینا یا دیدینا) ہے اور جو شخص خوشی سے (زیادہ) خیر (خیرات) کرے (کہ زیادہ فدیہ دیدے) تو یہ اس شخص کے لئے اور بہت رہے اور (گو ہم نے آسانی کے لئے ان حالتوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے لیکن) تمہارا روزہ رکھنا (اس حالت میں بھی) زیادہ بہتر ہے اگر تم (کچھ روزے کی فضیلت کی) خبر رکھتے ہو، معارف و مسائل صوم کے لفظی معنی امساک یعنی رکنے اور بچنے کے ہیں اور اصطلاح شرع میں کھانے پینے اور عورت سے مباشرت کرنے سے رکنے اور باز رہنے کا نام صوم ہے بشرطیہ وہ طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل رکا رہے اور نیت روزہ کی بھی ہو اس لئے اگر غروب آفتاب سے ایک منٹ پہلے بھی کچھ کھا پی لیا تو روزہ نہیں ہوا اسی طرح اگر ان تمام چیزوں سے پرہیز تو پورے دن پوری احتیاط سے کیا مگر نیت روزہ کی نہیں کی تو بھی روزہ نہیں ہوا، صوم یعنی روزہ ان عبادات میں سے ہے جن کو اسلام کے عمود اور شعائر قرار دیا گیا ہے اس کے فضائل بیشمار ہیں جن کے تفصیلی بیان کا یہ موقع نہیں۔ پچھلی امتوں میں روزہ کا حکم روزے کی فرضیت کا حکم مسلمانوں کو ایک خاص مثال سے دیا گیا ہے حکم کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہ روزے کی فرضیت کچھ تمہارے ساتھ خاص نہیں پچھلی امتوں پر بھی روزے فرض کئے گئے تھے اس سے روزے کی خاص اہمیت بھی معلوم ہوئی اور مسلمانوں کی دلجوئی کا بھی انتظام کیا گیا کہ روزہ اگرچہ مشقت کی چیز ہے مگر یہ مشقت تم سے پہلے بھی سب لوگ اٹھاتے آئے ہیں طبعی بات ہے کہ مشقت میں بہت سے لوگ مبتلا ہوں تو وہ ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے (روح المعانی) قرآن کریم کے الفاظ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ عام ہیں حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی تمام شریعتوں اور امتوں کو شامل ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح نماز کی عبادت سے کوئی شریعت اور کوئی امت خالی نہیں رہی اسی طرح روزہ بھی ہر شریعت میں فرض رہا ہے، جن حضرات نے فرمایا ہے کہ مِنْ قَبْلِكُمْ سے اس جگہ نصاریٰ مراد ہیں وہ بطور ایک مثال کے ہے اس سے دوسری امتوں کی نفی نہیں ہوتی (روح) آیت میں صرف اتنا بتلایا گیا ہے کہ روزے جس طرح مسلمانوں پر فرض کئے گئے پچھلی امتوں میں بھی فرض کئے گئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پچھلی امتوں کے روزے تمام حالات وصفات میں مسلمانوں ہی کے روزوں کے برابر ہوں مثلاً روزوں کی تعداد، روزوں کے اوقات کی تحدید اور یہ کہ کن ایام میں رکھے جائیں ان امور میں اختلاف ہوسکتا ہے چناچہ واقعہ بھی ایسا ہی ہوا کہ تعداد میں بھی کمی بیشی ہوتی رہی اور روزے کے ایام اور اوقات میں فرق ہوتا رہا ہے (ورح) لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ تقویٰ کی قوت حاصل کرنے میں روزہ کو بڑا دخل ہے کیونکہ روزہ سے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ایک ملکہ پیدا ہوتا ہے وہی تقوے کی بنیاد ہے،
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو ان پر ان کی گنتی ہے اور دنوں سے اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کی ذمہ بدلہ ہے ایک فقیر کا کھانا، پھر جو کوئی کوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور وزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔

مریض کا روزہ (آیت) فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا مریض سے مراد وہ مریض ہے جس کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف پہنچے یا مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو بعد کی آیت وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے جمہور فقہاء امت کا یہی مسلک ہے، مسافر کا روزہ اَوْ عَلٰي سَفَرٍ یہاں لفظ مسافر کے بجائے علیٰ سفر کا لفظ اختیار فرما کر کئی مسائل کی طرف اشارہ فرمادیا۔ اول یہ کہ مطلقا لغوی سفر یعنی اپنے گھر اور وطن سے باہر نکل جانا روزہ میں رخصت سفر کے لئے کافی نہیں بلکہ سفر کچھ طویل ہونا چاہئے کیونکہ لفظ عَلٰي سَفَرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پر سوار ہو جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھر سے دس پانچ میل چلے جانا مراد نہیں مگر یہ تحدید کہ سفر کتنا طویل ہو قرآن کے الفاظ میں مذکور نہیں رسول اللہ ﷺ کے بیان اور صحابہ کے تعامل سے امام اعظم ابوحنیفہ اور بہت سے فقہاء نے اس کی مقدار تین منزل یعنی وہ مسافت جس کو پیادہ سفر کرنے والا بآسانی تین روز میں طے کرسکے قرار دی ہے اور بعد کے فقہاء نے میلوں کے حساب سے اڑتالیس میل لکھے ہیں۔ دوسرا مسئلہ اسی لفظ عَلٰي سَفَرٍ سے یہ نکلا کہ وطن سے نکل جانے والا مسافر اسی وقت تک رخصت سفر کا مستحق ہے جب تک اس کے سفر کا سلسلہ جاری رہے اور یہ ظاہر ہے کہ آرام کرنے یا کچھ کام کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہر جانا مطلقا اس کے سلسلہ سفر کو ختم نہیں کردیتا جب تک کوئی معتدبہ مقدار قیام نہ ہو اور اسی معتدبہ قیام کی مدت نبی کریم ﷺ کے بیان سے ثابت ہوئی کہ پندرہ دن ہیں جو شخص کسی ایک مقام پر پندرہ دن ٹھرنے کی نیت کرے تو وہ عَلٰي سَفَرٍ نہیں کہلاتا اس لئے وہ رخصت سفر کا بھی مستحق نہیں، مسئلہاسی سے یہ بھی نکل آیا کہ کوئی شخص پندرہ دن کے قیام کی نیت ایک جگہ نہیں بلکہ متفرق مقامات شہروں اور بستیوں میں کرے تو وہ بدستور مسافر کے حکم میں رہ کر رخصت سفر کا مستحق رہے گا، کیونکہ وہ عَلٰي سَفَرٍ کی حالت میں ہے، روزہ کی قضا (آیت) فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ یعنی مریض ومسافر کو اپنے فوت شدہ روزوں کی گنتی کے مطابق دوسرے دنوں میں روزے رکھنا واجب ہے اس میں بتلانا تو یہ منظور تھا کہ مرض یا سفر کی مجبوری سے جو روزے چھوڑے گئے ہیں ان کی قضاء ان لوگوں پر واجب ہے جس کے لئے فعلیہ القَضَاءُ کا مختصر جملہ بھی کافی تھا مگر اس کے بجائے فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ فرما کر اشارہ کردیا گیا کہ مریض ومسافر پر فوت شدہ روزوں کی قضاء صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب کہ مریض صحت کے بعد اور مسافر مقیم ہونے کے بعد اتنے دنوں کی مہلت پائے جنھیں قضاء کرسکے تو اگر کوئی شخص اتنے دن سے پہلے ہی مرگیا تو اس پر قضاء یا وصیت فدیہ لازم نہیں ہوگی، مسئلہعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ میں چونکہ اس کی کوئی قید نہیں کہ ترتیب وار رکھے یا غیر مسلسل رکھے بلکہ عام اختیار ہے اس لئے اگر کوئی شخص جس کے رمضان کے ابتدائی دس روزے قضا ہوگئے ہوں وہ دسویں یا نویں روزے کی قضا پہلے کرے اور ابتدائی روزوں کی قضا بعد میں تو اس میں بھی مضائقہ نہیں اسی طرح متفرق کرکے قضا روزے رکھے تو یہ بھی جائز ہے کیوں کہ عِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ میں اس کی گنجائش ہے، روزہ کا فدیہ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ اس آیت کے بےتکلف معنی وہی ہیں جو خلاصہ تفسیر میں بتلائے گئے ہیں کہ جو لوگ مریض یا مسافر کی طرح روزہ رکھنے سے مجبور نہیں بلکہ روزے کی طاقت تو رکھتے ہیں مگر کسی وجہ سے دل نہیں چاہتا تو ان کے لئے بھی یہ گنجائش ہے کہ وہ روزے کے بجائے روزے کا فدیہ بصورت صدقہ ادا کردیں اس کے ساتھ اتنا فرما دیا وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ یعنی تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ ہی رکھو، یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب لوگوں کو روزے کا خوگر کرنا مقصود تھا اس کے بعد جو آیت آنے والی ہے یعنی مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ اس سے یہ حکم عام لوگوں کے حق میں منسوخ کردیا گیا صرف ایسے لوگوں کے حق میں اب بھی باجماع امت باقی رہ گیا جو بہت بوڑھے ہوں (جصاص) یا ایسے بیمار ہوں کہ اب صحت کی امید ہی نہیں رہی جمہور صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے (جصاص، مظہری) صحیح بخاری ومسلم و ابوداؤد، نسائی، ترمذی، طبرانی وغیرہ تمام ائمہ حدیث نے حضرت سمہ بن اکوع سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ نازل ہوئی تو ہمیں اختیار دے دیا گیا تھا کہ جس کا جی چاہے روزے رکھے جس کا جی چاہے ہر روزے کا فدیہ دیدے پھر جب دوسری آیت مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ نازل ہوئی تو یہ اختیار ختم ہو کر طاقت والوں پر صرف روزہ ہی رکھنا لازم ہوگیا۔ مسند احمد میں حضرت معاذ بن جبل کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نماز کے معاملات میں بھی ابتدائے اسلام میں تین تغیرات ہوئے اور روزے کے معاملے میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں روزے کی تین تبدیلیاں یہ ہیں کہرسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو ہر مہینہ میں تین روزے اور ایک روزہ یوم عاشورا (یعنی دسویں محرم) کا رکھتے تھے پھر رمضان کی فرضیت نازل ہوگئی كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ تو حکم یہ تھا کہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ روزہ رکھ لے یا فدیہ دیدے اور روزہ رکھنا بہتر اور افضل ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ نازل فرمادی اس آیت نے تندرست قوی کے لئے یہ اختیار ختم کرکے صرف روزہ رکھنا لازم کردیا، مگر بہت بوڑھے آدمی کے لئے یہ حکم باقی رہا کہ وہ چاہے تو فدیہ ادا کردے، یہ تو دو تبدیلیاں ہوئیں تیسری تبدیلی یہ ہوئی کہ شروع میں افطار کے بعد کھانے پینے اور اپنی خواہش پورا کرنے کی اجازت صرف اس وقت تک تھی جب تک آدمی سوئے نہیں جب سوگیا تو دوسرا روزہ شروع ہوگیا کھانا پینا وغیرہ ممنوع ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے آیت اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَام الرَّفَثُ نازل فرما کر یہ آسانی عطا فرمادی کہ اگلے دن کی صبح صادق تک کھانا پینا وغیرہ سب جائز ہیں سو کر اٹھنے کے بعد سحری کھانے کو سنت قرار دے دیا گیا صحیح بخاری، مسلم، ابوداؤد، میں بھی اس مضمون کی احادیث آئی ہیں (ابن کثیر) فدیہ کی مقدار اور متعلقہ مسائل ایک روزہ کا فدیہ نصف صاع گندم یا اس کی قیمت ہے، نصف صاع ہمارے مروّجہ اسی (80) تولہ کے حساب سے تقریبا پونے دو سیر ہوتے ہیں اس کی بازاری قیمت معلوم کرکے کسی غریب مسکین کو مالکانہ طور پر دیدینا ایک روزہ کا فدیہ ہے بشرطیکہ کسی مسجد مدرسہ کی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو، مسئلہایک روزہ کے فدیہ کو دو آدمیوں میں تقسیم کرنا یا چند روزوں کے فدیہ کو ایک ہی شخص کو ایک تاریخ میں دینا درست نہیں جیسا کہ شامی نے بحوالہ بحراز قنیہ نقل کیا ہے اور بیان القرآن میں اسی کو نقل کیا گیا ہے مگر حضرت نے امداد الفتاوٰی میں فتویٰ اس پر نقل کیا ہے کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں، شامی نے بھی فتویٰ اس پر نقل کیا ہے البتہ امداد الفتاوٰی میں ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ کئی روزوں کا فدیہ ایک تاریخ میں ایک کو نہ دے لیکن دے دینے میں گنجائش بھی ہے یہ فتویٰ مورخہ 16 جمادی الاخریٰ 1353 امداد الفتاویٰ جلد دوم صفحہ 15 میں منقول ہے، مسئلہاگر کسی کو فدیہ ادا کرنے کی بھی وسعت نہ ہو تو وہ فقط استغفار کرے اور دل میں نیت رکھے کہ جب ہوسکے گا ادا کروں گا (بیان القرآن)
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حقکو باطل سے جدا کرنے کی، سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اس کے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کی گنتی پوری کرنی چاہیے دنوں سے اور اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو۔

خلاصہ تفسیر اور ربط آیات تعیین ایام صیام اوپر ارشاد ہوا تھا کہ تھوڑے روزہ رکھ لیا کرو آگے ان تھوڑے دنوں کا بیان ہے، (وہ تھوڑے ایام جن میں روزے کا حکم ہوا ہے) ماہ رمضان ہے جس میں (ایسی برکت ہے کہ اس کے ایک خاص حصہ یعنی شب قدر میں) قرآن مجید (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) بھیجا گیا ہے جس کا (ایک) وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے (ذریعہ) ہدایت ہے اور (دوسرا وصف یہ ہے کہ ہدایت کے طریقے بتلانے میں اس کا جزو جزو) واضح الدلالۃ ہے (اور ان دونوں وصفوں میں) منجملہ ان کتب (سماویہ) کے ہے جو کہ (انہی دو وصفوں سے موصوف ہیں یعنی ذریعہ) ہدایت (بھی) ہیں اور (وضوح دلالت کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان) فیصلہ کرنے والی (بھی) ہیں سو جو شخص اس ماہ میں موجود ہو اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہئے (اور وہ فدیہ کی اجازت جو اوپر مذکور تھی منسوخ و موقوف ہوئی) اور (مریض اور مسافر کے لئے جو اوپر قانون تھا وہ البتہ اب بھی اسی طرح باقی ہے کہ) جو شخص (ایسا) بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں ہو تو (اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور بجائے ایام رمضان کے) دوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کر کے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب ہے) اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ (احکام میں) آسانی (کی رعایت کرنا منظور ہے (اس لئے ایسے احکام مقرر کئے جن کو تم آسانی سے بجا لاسکو چناچہ سفر اور مرض میں کیسا آسان قانون مقرر کردیا) اور تمہارے ساتھ (احکام و قوانین مقرر کرنے میں) دشواری منظور نہیں (کہ سخت احکام تجویز کردیتے) اور (یہ احکام مذکورہ ہم نے خاص خاص مصلحتوں سے مقرر کئے چناچہ اولا روزہ ادا رکھنے کا اور کسی شرعی عذر سے رہ جاوے تو دوسرے ایام میں قضا کرنے کا حکم تو اسی لئے کیا) تاکہ تم لوگ (ایام ادا یا قضاء کی) شمار کی تکمیل کرلیا کرو تاکہ ثواب میں کمی نہ رہے اور خود قضا رکھنے کا حکم اس لئے کیا تاکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور ثناء بیان کیا کرو اس پر کہ تم کو (ایک ایسا) طریقہ بتلا دیا (جس سے تم برکات وثمرات صیام سے محروم نہ رہو ورنہ اگر قضا واجب نہ ہوتی تو کون اتنے روزے رکھ کر ثواب حاصل کرتا) اور (عذر سے خاص رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اس لئے دے دی) تاکہ تم لوگ (اس نعمت آسمانی پر اللہ تعالیٰ کا) شکر ادا کیا کرو (ورنہ اگر یہ اجازت نہ ہوتی تو سخت مشقت ہوجاتی) معارف و مسائل اس آیت میں پچھلی مجمل آیت کا بیان بھی ہے اور ماہ رمضان کی اعلیٰ فضیلت کا ذکر بھی، بیان اس لئے کہ پچھلی آیات میں اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ کا لفظ مجمل ہے جس کی شرح اس آیت نے کردی کہ وہ پورے ماہ رمضان کے ایام ہیں اور فضیلت یہ بیان کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو اپنی وحی اور آسمانی کتابیں نازل کرنے کے لئے منتخب کر رکھا ہے چناچہ قرآن بھی اسی ماہ میں نازل ہوا مسند احمد میں حضرت واثلہ بن اسقع سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے صحیفے رمضان کی پہلی تاریخ میں نازل ہوئے اور تورات چھ رمضان میں، انجیل تیرہ رمضان اور قرآن چوبیس رمضان میں نازل ہوا، اور حضرت جابر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ زبور بارہ رمضان میں انجیل اٹھارہ رمضان میں نازل ہوئی (ابن کثیر) حدیث مذکور میں پچھلی کتابوں کا نزول جس تاریخ میں ذکر کیا گیا ہے اسی تاریخ میں وہ کتابیں پوری کی پوری انبیاء پر نازل کردی گئی ہیں قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ رمضان کی ایک رات میں پورا کا پورا لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا گیا مگر نبی کریم ﷺ پر اس کا نزول تیئیس سال میں رفتہ رفتہ ہوا، رمضان کی وہ رات جس میں قرآن نازل ہوا قرآن ہی کی تصریح کے مطابق شب قدر تھی اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مذکور الصدر حدیث میں اس کو 24 رمضان کی شب بتلایا ہے اور حضرت حسن کے نزدیک چوبیسویں شب شب قدر ہوتی ہے اس طرح یہ حدیث آیت قرآن کے مطابق ہوجاتی ہے اور اگر یہ مطابقت نہ تسلیم کی جائے تو بہرحال قرآن کریم کی تصریح سب پر مقدم ہے جو رات بھی شب قدر ہو وہی اس کی مراد ہوگی، فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ اس ایک جملہ میں روزے کے متعلق بہت سے احکام و مسائل کی طرف اشارات ہیں لفظ شہد شہود سے بنا ہے جس کے معنی حضور یعنی حاضر و موجود ہونے کے ہیں اور الشھر عربی لغت میں مہینہ کے معنی میں آتا ہے مراد اس سے مہینہ رمضان کا ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اس لئے معنی اس جملے کے یہ ہوگئے کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں حاضر یعنی موجود ہو اس پر لازم ہے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے روزہ کے بجائے فدیہ دینے کا عام اختیار جو اس سے پہلی آیت میں مذکور ہے اس جملے نے منسوخ کرکے روزہ ہی رکھنا لازم کردیا ہے، ماہ رمضان میں حاضر و موجود ہونے کا مفہوم یہی ہے کہ وہ ماہ رمضان کو ایسی حالت میں پائے کہ اس میں روزہ رکھنے کی صلاحیت موجود ہو یعنی مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم، حیض ونفاس سے پاک ہو، اسی لئے جس شخص کا پورا رمضان ایسی حالت میں گذر گیا کہ اس میں روزہ رکھنے کی مطلق صلاحیت ہی نہیں جیسے کافر، نابالغ، مجنون، تو یہ لوگ اس حکم کے مخاطب ہی نہیں اس لئے ان پر گذشتہ رمضان کے روزے فرض ہی نہیں ہوئے اور جن میں صلاحیت ذاتی طور پر موجود ہے مگر کسی وقت عذر کی وجہ سے مجبور ہوگئے جیسے حیض ونفاس والی عورت یا مریض اور مسافر، تو انہوں نے ایک حیثیت سے ماہ رمضان بحالت صلاحیت پالیا اس لئے حکم آیت کا ان کے حق میں ثابت ہوگیا مگر وقتی عذر کے سبب اس وقت روزہ معاف ہے البتہ بعد میں قضاء لازم ہے جیسا کہ اس کے بعد تفصیل آئے گی، مسئلہاس آیت سے معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے کے لئے ماہ رمضان کا بحالت صلاحیت پالینا شرط ہے اس لئے جس نے پورا رمضان پالیا اس پر پورے رمضان کے روزے فرض ہوگئے جس نے کچھ کم پایا اس پر اتنے ہی دن کے روزے فرض ہوئے جتنے دن رمضان کے پائے اس لئے وسط رمضان میں جو کافر مسلمان ہوا یا نابالغ بالغ ہوا اس پر صرف آئندہ کے روزے لازم ہوں گے گذشتہ ایام رمضان کی قضاء لازم نہ ہوگی، البتہ مجنون مسلمان اور بالغ ہونے کے اعتبار سے ذاتی صلاحیت رکھتا ہے وہ رمضان کے کسی حصہ میں ہوش میں آجائے تو گذشتہ ایام رمضان کی قضا بھی اس پر لازم ہوجائے گی اسی طرح حیض ونفاس والی عورت، وسط رمضان میں پاک ہوجائے یا مریض تندرست ہوجائے یا مسافر مقیم ہوجائے تو گدشتہ ایام کی قضاء لازم ہوگی، مسئلہماہ رمضان کا پالینا شرعاً تین طریقوں سے پابت ہوتا ہے ایک یہ کہ خود رمضان کا چاند دیکھ لے دوسرے یہ کہ کسی معتبر شہادت سے چاند دیکھنا ثابت ہوجائے اور جب یہ دونوں صورتیں نہ پائی جائیں تو شعبان کے تیس روز پورے کرنے کے بعد ماہ رمضان شروع ہوجائے گا، مسئلہشعبان کی انتیسویں تاریخ کی شام کو اگر ابر وغیرہ کے سبب چاند نظر نہ آئے اور کوئی شرعی شہادت بھی چاند دیکھنے کی نہ پہنچنے تو اگلا روز یوم الشک کہلاتا ہے کیونکہ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ حقیقۃً چاند ہوگیا ہو مگر مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے نظر نہ آیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آج چاند ہی مطلع پر نہ آیا ہو، اس روز میں چونکہ شہود شہر یعنی رمضان کا پالینا صادق نہیں آتا اس لئے اس دن کا روزہ رکھنا واجب نہیں بلکہ مکروہ ہے حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے تاکہ فرض اور نفل میں اختلاط اور التباس نہ پیدا ہوجائے (جصاص) مسئلہجن ملکوں میں رات دن کئی کئی مہینوں کے طویل ہوتے ہیں وہاں شہود شہر یعنی رمضان کا پالینا بظاہر صادق نہیں آتا اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ ان پر روزے فرض ہی نہ ہوں فقہائے حنفیہ میں سے حلوانی اور قبالی وغیرہ نے نماز کے متعلق تو اسی پر فتویٰ دیا ہے کہ ان لوگوں پر اپنے ہی دن رات کے اعتبار سے نماز کا حکم عائد ہوگا مثلاً جس ملک میں مغرب کے فوراً بعد صبح صادق ہوجاتی ہے وہاں نماز عشاء فرض ہی نہیں (شامی) اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ جہاں چھ مہینے کا دن ہے وہاں چھ مہینے میں صرف پانچ نمازیں ہوں گی اور رمضان وہاں آئے گا ہی نہیں اس لئے روزے بھی فرض نہ ہوں گے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی نے امداد الفتاوٰی میں روزے کے متعلق اسی قول کو اختیار فرمایا ہے ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَ يَّامٍ اُخَرَ اس میں مریض اور مسافر کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ اس وقت روزہ نہ رکھیں، تندرستی ہونے پر اور سفر کے ختم ہونے پر اتنے دنوں کی قضاء کرلیں یہ حکم اگرچہ پچھلی آیت میں بھی آچکا تھا مگر جب اس آیت میں روزہ کے بجائے فدیہ دینے کا اختیار منسوخ کیا گیا ہے تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید مریض اور مسافر کی رخصت بھی منسوخ ہوگئی ہو اس لئے دوبارہ اس کا اعادہ کردیا گیا،
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو سو میں تو قریب ہوں قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو جب مجھ سے دعا مانگے تو چاہئیے کہ وہ حکم مانین میرا اور یقین لائیں مجھ پر تاکہ نیک راہ پر آئیں۔

خلاصہ تفسیر مع ربط آیات پچھلی تین آیتوں میں روزہ اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر تھا اور اس کے بعد بھی ایک طویل آیت میں روزہ اور اعتکاف کے احکام کی تفصیل ہے درمیان کی اس مختصر آیت میں بندوں کے حال پر حق تعالیٰ کی خاص عنایت ان کی دعائیں سننے اور قبول کرنے کا ذکر فرما کر اطاعت احکام کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ روزہ کی عبادت میں رخصتوں سہولتوں کے باوجود کسی قدر مشقت ہے اس کو سہل کرنے کے لئے اپنی مخصوص عنایت کا ذکر فرمایا کہ میں اپنے بندوں سے قریب ہی ہوں جب بھی وہ دعاء مانگتے ہیں میں ان کی دعائیں قبول کرتا ہوں اور ان کی حاجات کو پورا کردیتا ہوں۔ ان حالات میں بندوں کو بھی چاہئے کہ میرے احکام کی تعمیل میں کچھ مشقت بھی ہو تو برداشت کریں اور امام ابن کثیر نے اس درمیانی جملہ ترغیب دعا کی یہ حکمت بتلائی ہے کہ اس آیت میں اشارہ کردیا کہ روزہ کے بعد دعا قبول ہوتی ہے اس لئے دعاء کا خاص اہتمام کرنا چاہئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ للصائم عند فطرہٖ دعوۃ مستجابۃ (ابوداؤد طیالسی بروایۃ عبداللہ بن عمر) یعنی روزہ افطار کرنے کے وقت روزہ دار کی دعا مقبول ہے، اسی لئے حضرت عبداللہ بن عمر افطار کے وقت سب گھر والوں کو جمع کرکے دعا کیا کرتے تھے تفسیر آیت کی یہ ہے، اور (اے محمد ﷺ جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں (کہ میں ان سے قریب ہوں یا دور) تو (میری طرف سے ان سے فرما دیجئے کہ) میں قریب ہی ہوں (اور باستثناء نامناسب درخواست کے) منظور کرلیتا ہوں (ہر) عرضی درخواست کرنے والے کی جب کہ وہ میرے حضور میں درخواست دے سو (جس طرح میں ان کی عرض معروض کو منظور کرلیتا ہوں) ان کو چاہئے کہ میرے احکام کو (بجاآوری کے ساتھ) قبول کیا کریں (اور چونکہ ان احکام میں کوئی نامناسب نہیں اس لئے اس میں استثناء ممکن نہیں) اور مجھ پر یقین رکھیں (یعنی میری ہستی پر بھی میرے حاکم ہونے پر بھی میرے حکیم ہونے پر اور رعایت ومصالح پر بھی اس طرح) امید ہے کہ وہ لوگ رشد (و فلاح) حاصل کرسکیں گے، مسئلہاس آیت میں اِنِّىْ قَرِيْبٌ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ دعا آہستہ اور خفیہ کرنا چاہئے دعا میں آواز بلند کرنا پسند نہیں ابن کثیر نے آیت کا شان نزول یہی ذکر کیا ہے کہ کسی گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ہمارے رب اگر ہم سے قریب ہے تو ہم آہستہ آواز سے مانگا کریں اور دور ہو تو بلند آواز سے پکارا کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔