2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:131–132

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

یاد کرو جب اس کو کہا اس کے رب نے کہ حکم برداری کر تو بولا کہ میں حکم بردار ہوں تمام عالم کے پروردگار کا،

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور یہی وصیت کر گیا ابراہیم اپنے بیٹوں کو اور یعقوب بھی کہ اے بیٹو بیشک اللہ نے چن کردیا ہے تم کو دین سو تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان۔

ملت ابراہیمی کا بنیادی اصول اسلام یعنی اطاعت حق ہے وہ صرف اسلام میں منحصر ہے اس کے بعد دوسری آیت میں ملت ابراہیمی کے بنیادی اصول بتلائے گئے ارشاد ہوا۔ اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی جب فرمایا ابراہیم ؑ سے ان کے رب نے کہ اطاعت اختیار کرو تو انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اطاعت اختیار کی رب العالمین کی اس طرز بیان میں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اللہ جل شانہ کے خطاب اسلم کا جواب بظاہر خطاب ہی کے انداز میں یہ ہونا چاہئے کہ اَسْلَمْتُ لَکَ یعنی میں نے آپ کی اطاعت اختیار کرلی مگر حضرت خلیل اللہ ؑ نے اس طرز خطاب کو چھوڑ کر یوں عرض کیا کہ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی میں نے پروردگار عالم کی اطاعت اختیار کرلی ایک تو اس میں رعایت ادب کے ساتھ اور حق جل وعلا شانہ کی حمد وثناء شامل ہوگئی جس کا مقام تھا دوسری اس کا اظہار ہوگیا کہ میں نے جو اطاعت اختیار کی وہ کسی پر احسان نہیں کیا بلکہ میرے لئے اس کا کرنا ہی ناگزیر تھا کیونکہ وہ رب العلمین یعنی سارے جہان کا پروردگار ہے سارے جہان اور جہان والوں کو اس کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ کار نہیں جس نے اطاعت اختیار کی اس نے اپنا فرض ادا کرکے اپنا نفع حاصل کیا اس میں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ملت ابراہیمی کا بنیادی اصول اور پوری حقیقت ایک لفظ اسلام میں مضمر ہے جس کے معنی ہیں اطاعت حق اور یہی خلاصہ ہے حضرت ابراہیم ؑ کے مذہب ومسلک کا اور یہی حاصل ہے ان امتحانات کا جن سے گزر کر اللہ تعالیٰ کا یہ خلیل اپنے مقام عالی تک پہنچا ہے اور اسلام یعنی اطاعت حق ہی وہ چیز ہے جس کے لئے یہ سارا جہاں بنایا گیا اور جس کے لئے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے گئے آسمانی کتابیں نازل کی گئیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اسلام ہی تمام انبیاء (علیہم السلام) کا مشترک دین اور نقطہ وحدت ہے حضرت آدم سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک ہر آنے والے رسول اور نبی نے اسی کی طرف دعوت دی اسی میں اپنی اپنی امت کو چلایا قرآن کریم نے واضح الفاظ میں فرمایا، 1۔ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ (19: 3) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے 2۔ وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ (85: 3) اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین و مذہب اختیار کرے وہ مقبول نہیں، اور ظاہر ہے کہ جتنے دین و مذہب مختلف انبیاء (علیہم السلام) لائے ہیں وہ سب اپنے اپنے وقت میں اللہ کے نزدیک مقبول تھے اس لئے ضروری ہے کہ وہ سب دین دین اسلام ہی ہوں اگرچہ نام ان کا کچھ بھی رکھ دیا جائے، دین موسیٰ ؑ وعیسیٰ ؑ کہا جائے یا یہودیت ونصرانیت وغیرہ مگر حقیقت سب کی اسلام ہے جس کا حاصل اطاعت حق ہے البتہ اس میں ایک خصوصیت ملت ابراہیمی کو حاصل ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی ملت کا نام بھی اسلام تجویز کیا اور اپنی امت کو بھی امت مسلمہ کا نام دیا دعا میں عرض کیا، رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ (128: 2) اے ہمارے پروردگار بنادیجئے ہم دونوں (ابراہیم، اسمٰعیل) کو مسلم (یعنی اپنا فرمانبردار) اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرمانبردار بنا، اولاد کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا، فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (132: 2) تم بجز مسلم ہونے کے کسی مذہب پر جان نہ دینا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد یہ خصوصی امتیاز حضرت ابراہیم ؑ ہی کی تجویز کے مطابق امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کو حاصل ہوا کہ اس کا نام امت مسلمہ رکھا گیا اور اس کی ملت بھی ملت اسلامیہ کے نام سے معروف ہوئی قرآن کریم کا ارشاد ہے، مِلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ ۭهُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا (78: 22) تم اپنے باپ ابراہیم ؑ کے دین پر قائم رہو اس نے تمہارا لقب مسلمان رکھا ہے پہلے بھی اور اس میں بھی (یعنی قرآن میں) کہنے کو تو یہود بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم ملت ابراہیم ؑ پر ہیں نصاریٰ بھی اور مشرکین عرب بھی لیکن یہ سب غلط فہمی یا جھوٹے دعوے تھے حقیقت میں ملت محمدیہ ہی آخری دور میں ملت ابراہیمی اور دین فطرت کے مطابق تھی، خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے انبیاء (علیہم السلام) تشریف لائے اور جتنی کتابیں اور شرائع نازل ہوئے ان سب کی روح اسلام یعنی اطاعت حق ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نفسانی خواہشات کے مقابلہ میں فرمان حق کی اطاعت اور اتباع ہوٰی کو چھوڑ کر اتباع ہدیٰ کی پابندی، افسوس ہے کہ آج اسلام کا نام لینے والے لاکھوں مسلمان بھی اس حقیقت سے بیگانہ ہوگئی اور دین و مذہب کے نام پر بھی اپنی خواہشات کا اتباع کرنا چاہتے ہیں انھیں قرآن و حدیث کی صرف وہ تفسیر و تعبیر بھلی ہوتی ہے جو ان کی خواہش کے مطابق ہو ورنہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ جامہ شریعت کو کھینچ تان کر بلکہ چیر پھاڑ کر اپنی اغراض اور اہوا نفسانی کے بتوں کا لباس بنادیں کہ دیکھنے میں دین و مذہب کا اتباع نظر آئے اگرچہ وہ حقیقت میں خالص اتباع ہویٰ اور خواہشات کی پیروی ہے، سو وہ شد از سجدہ راہ بتاں پیشانیم چند بر خود تہمت دین مسلمانی نہم غافل انسان یہ نہیں جانتا کہ یہ حیلے اور تاویلیں مخلوق کے سامنے تو چل سکتی ہیں مگر خالق کے سامنے جس کا علم ذرہ ذرہ کو محیط ہے جو دلوں کے چھپے ہوئے ارادوں بھیدوں کو دیکھتا اور جانتا ہے اس کے آگے بجز خالص اطاعت کے کوئی چیز کارگر نہیں، کارہا با خلق آری جملہ راست با خدا تزویر وحیلہ کے رد است حقیقی اسلام یہ ہے کہ اپنی اغراض اور خواہشات سے بالکل خالی الذہن ہو کر انسان کو اس کی تلاش ہو کہ حضرت حق جل شانہ کی رضا کس کام میں ہے اور اس کا فرمان میرے لئے کیا ہے وہ ایک فرنبردار غلام کی طرح گوش برآواز رہے کہ کس طرف جانے کا اور کس کام کا حکم ہوتا ہے اور اس کام کو کس انداز سے کیا جائے جس سے وہ مقبول ہوا اور میرا مالک راضی ہو اسی کا نام عبادت و بندگی ہے، در راہ عشق وسوسہ اہرمن بسے ست ہشدار وگوش رابہ پیام سروش دار اسی جذبہ اطاعت و محبت کا کمال انسان کی ترقی کا آخری مقام ہے جس کو مقام عبدیت کہا جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر حضرت ابراہیم ؑ خلیل اللہ کا خطاب پاتے ہیں اور سید الرسل خاتم الانبیاء ﷺ کو عبدنا کا خطاب ملتا ہے اسی عبدیت اور اطاعت کے ذیلی درجات پر امت کے اولیاء اقطاب وابدال کے درجات دائر ہوتے ہیں اور یہی حقیقی توحید ہے جس کے حاصل ہونے پر انسان کے خوف وامید صرف ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں، امید و ہراسش نباشد زکس ہمیں ست بنیاد توحید وبس غرض اسلام کے معنی اور حقیقت اطاعت حق ہے اور اس کا راستہ صرف اتباع سنت رسول اللہ ﷺ میں منحصر ہے جس کو قرآن کریم نے واضح الفاظ میں اس طرح ارشاد فرمایا فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا (65: 4) تیرے رب کی قسم وہ کبھی مومن نہ ہوں گے جب تک وہ آپ کو اپنے تمام اختلافی معاملات میں حاکم تسلیم نہ کرلیں اور پھر آپ کے فیصلہ سے کوئی دلی تنگی محسوس نہ کریں اور فیصلہ کو ٹھنڈے دل سے تسلیم نہ کریں، مسئلہآیت مذکورہ میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی اور ان سے عہد لیا وہ یہ تھا کہ اسلام کے سوا اور کسی حالت اور کسی ملت پر نہ مرنا مراد اس کی یہ ہے کہ اپنی زندگی میں اسلام اور اسلامی تعلیمات پر پختگی سے عمل کرتے رہو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارا خاتمہ بھی اسلام پر فرما دے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ تم اپنی زندگی میں جس حالت کے پابند رہو گے اسی حالت پر تمہاری موت بھی ہوگی اور اسی حالت میں محشر میں قائم ہوگے اللہ جل شانہ کی عادت یہی ہے کہ جو بندہ نیکی کا قصد کرتا ہے اور اس کے لئے اپنے مقدور کے مطابق کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیکی کی توفیق دیدیتے ہیں اور یہ کام اس کے لئے آسان کردیتے ہیں، اس معا ملہ میں اس حدیث سے شبہ نہ کیا جائے جس میں یہ ارشاد ہے کہ بعض آدمی جنت کے کام اور اہل جنت کا عمل ہمیشہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس شخص اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فیصلہ رہ جاتا ہے مگر پھر اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور اہل دوزخ کے سے کام کرنے لگتا ہے اور انجام کار دوزخ میں جاتا ہے اسی طرح بعض آدمی دوزخ کے کام میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر تقدیر غالب آتی ہے اور آخر عمر میں اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کے بعض الفاظ میں یہ قید بھی لگی ہوئی ہے کہ فیما یبدو للناس یعنی جس نے عمر بھر جنت کے کام کئے اور آخر میں دوزخ کے کام میں لگا درحقیقت اس کے پہلے کام بھی دوزخ ہی کے عمل تھے مگر لوگوں کے ظاہر میں اور دیکھنے میں وہ اہل جنت کے عمل معلوم ہوتے تھے اسی طرح جو دوزخ کے اعمال میں مشغول رہا آخر میں جنت کے کام کرنے لگا درحقیقت وہ اول ہی سے جنت کے کام میں تھا مگر ظاہر نظر میں لوگ اس کو گناہگار سمجھتے تھے (ابن کثیر) خلاصہ یہ ہے کہ جو آدمی نیک کام میں مشغول رہے اس کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور عادت کی بناء پر یہی امید رکھنی چاہئے کہ اس کا خاتمہ بھی نیکی پر ہوگا،
Ayah 2:133

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم موجود تھے جس وقت قریب آئی یعقوب کے موت جب کہا اپنے بیٹوں کو تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد بولے ہم بندگی کریں گے تیرے رب کی اور تیرے باپ دادوں کے رب کی جو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور سحٰق ہیں، وہی ایک معبود ہے اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں،

خلاصہ تفسیر کیا (تم لوگ کسی معتبر صحیح نقل سے دعویٰ مذکورہ کرتے ہو) یا تم خود (اس وقت) موجود تھے جس وقت یعقوب ؑ کا آخری وقت آیا (اور) جس وقت انہوں نے اپنے بیٹے سے (تجدید معاہدہ کے لئے) پوچھا کہ تم لوگ میرے (مرنے کے) بعد کس چیز کی پرستش کرو گے انہوں نے (بالاتفاق) جواب دیا کہ ہم اس (ذات پاک) کی پرستش کریں گے جس کی آپ اور آپ کے بزرگ (حضرات) ابراہیم واسمٰعیل واسحٰق (علیہم السلام) پرستش کرتے آئے ہیں یعنی وہی معبود جو وحدہ لا شریک ہے اور ہم (احکام میں) اسی کی اطاعت پر (قائم) رہیں گے یہ (ان بزرگوں کی) ایک جماعت تھی جو (اپنے زمانہ میں) گذر چکی ان کے کام ان کا کیا ہوا آئے گا اور تمہارے کام تمہارا کیا ہوا آئے گا اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ بھی تو نہ ہوگی (اور خالی تذکرہ بھی تو نہ ہوگا رہا اس سے تم کو نفع پہنچنا یہ تو بڑی دور ہے) معارف و مسائل سابقہ آیات میں ملت ابراہیم ؑ اور اسلام کی حقیقت کا بیان تھا اب آیات مذکورہ میں ایک اور اصولی بات قابل نظر ہے کہ ملت ابراہیم ؑ کہئے یا اسلام یہ پوری قوم بلکہ ساری دنیا کے لئے ہدایت نامہ ہے پھر اس میں اولاد ابراہیم و یعقوب (علیہم السلام) کی کیا خصوصیت ہے کہ آیات مذکورہ میں ان کو خاص خطاب فرمایا گیا اور اللہ تعالیٰ کے ان دونوں برگزیدہ پیغمبروں نے اپنی اولاد کو بطور وصیت خاص اس کی ہدایت فرمائی، اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اولاد کی محبت اور اس کی بھلائی کی فکر مقام رسالت ونبوت بلکہ مقام خلت کے بھی منافی نہیں اللہ تعالیٰ کا وہ خلیل جو ایک وقت اپنے رب کا اشارہ پاکر اپنے چہیتے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے کمر بستہ نظر آتا ہے وہی دوسرے وقت اپنی اولاد کی دینی اور دنیوی آسائش اور بھلائی کے لئے اپنے رب سے دعائیں بھی کرتا ہے دنیا سے رخصت ہونے کے وقت اپنی اولاد کو وہ چیز دے کر جانا چاہتا ہے جو اس کی نظر میں سب سے بڑی نعمت ہے یعنی اسلام آیت مذکورہ وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ کا یہی مطلب ہے اور آیت اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ کا یہی حاصل ہے فرق اتنا ہے کہ عام انسانوں کی نظروں میں نعمت و دولت دنیا کی فانی اور ذلیل چیزیں ہیں ان کی نظر اور حوصلہ بلند ہے ان کے نزدیک اصلی دولت ایمان اور عمل صالح یا اسلام ہے، جس طرح عام انسان اپنی موت کے وقت یہ چاہتے ہیں کہ جو بڑی سے بڑی دولت ان کے پاس ہے وہ اولاد کو دے جائیں ایک سرمایہ دار تاجر کی آجکل یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری اولاد ملوں اور فیکڑیوں کی مالک ہو ان کو امپورٹ اور ایکسپورٹ کے بڑے بڑے لائسنس ملیں، لاکھوں اور کروڑوں کا بینک بیلنس ہو یا ایک سروس والا انسان یہ چاہتا ہے کہ میری اولاد کو اونچے عہدے اور بڑی تنخواہیں ملیں یا ایک صنعت پیشہ آدمی کو یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اس کی صنعت میں کمال حاصل کرے، اس کو اس کے اپنی عمر بھر کے گر بتلا دے، اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین اولیاء کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جس چیز کو وہ اصلی اور دائمی لازوال دولت سمجھتے ہیں وہ ان کی اولاد کو پوری پوری مل جائے اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور کوششیں بھی، آخر وقت میں وصیت اسی کی کرتے ہیں جیسا کہ آیات مذکورہ سے واضح ہے، اولاد کے لئے کوئی دولت دین و اخلاق سکھانے کے برابر نہیں انبیاء (علیہم السلام) کے اس طرز خاص میں عام انسانوں کے لئے بھی یہ ہدایت ہے کہ وہ جس طرح ان کی دنیوی پرورش اور ان کے دنیوی آرام و راحت کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ان پر لازم ہے کہ اولاد کی نظری عملی اور اخلاقی تربیت کریں برے راستوں اور برے اعمال و اخلاق سے ان کو بچانے میں سعی بلیغ کریں کہ اولاد کی سچی محبت اور اصلی خیر خواہی یہی ہے یہ کوئی عقل کی بات نہیں کہ ایک انسان اپنے بچہ کو دھوپ کی گرمی سے بچانے کے لئے تو ساری توانائی خرچ کرے اور دائمی آگ سے اور عذاب سے بچانے کے لئے کوئی دھیان نہ دے اس کے بدن سے پھانس نکالنے میں تو سارے ذرائع اور وسائل استعمال کرے اور بندوق کی گولی کا نشانہ بننے سے اس کو نہ بچائے، انبیاء (علیہم السلام) کے اس طرز عمل سے ایک اصولی بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ والدین کا فرض اور اولاد کا حق ہے کہ سب سے پہلے ان کی صلاح و فلاح کی فکر کی جائے ان کے بعد دوسروں کی طرف توجہ کی جائے جس میں دو حکمتیں ہیں، اول یہ کہ طبعی اور جسمی تعلق کی بناء پر وہ نصیحت کا اثر زیادہ جلد اور آسانی سے قبول کرسکیں گے اور پھر وہ ان کی تحریک اور اصلاحی کوشش میں ان کے دست وبازو بن کر اشاعتِ حق میں ان کے معین ہوں گے، دوسرے اشاعت حق کا اس سے زیادہ سہل اور مفید راستہ کوئی نہیں کہ ہر گھر کا ذمہ دار آدمی اپنے اہل و عیال کو حق بات سکھانے اور اس پر عمل کرانے کی سعی میں دل وجان سے لگ جائے کہ اس طرح تبلیغ وتعلیم اور اصلاح و تربیت کا دائرہ عمل سمٹ کر صرف گھروں کے ذمہ داروں تک آجاتا ہے ان کو سکھلانا پوری قوم کو سکھانے کے ہم معنی ہوجاتا ہے قرآن کریم نے اسی تنظیمی اصول کے پیش نظر ارشاد فرمایا ہے ، يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا (6: 66) اے ایمان والوں بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو بڑی آگ سے، اور رسول اللہ ﷺ جو ساری دنیا کے رسول ہیں اور جن کی ہدایت قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے عام ہے آپ کو بھی سب سے پہلے اس کا حکم دیا گیا کہ وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ (214: 26) اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے، اور ارشاد ہوا، وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (132: 20) یعنی اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کیجئے اور خود بھی اس کے پابند رہئے، آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ اس کی تعمیل فرمائی، ایک تیسری حکمت یہ بھی ہے کہ جب تک کسی شخص کے اہل و عیال اور قریبی خاندان اس کے نظریات اور عملی پروگرام میں اس کا ساتھی اور ہم رنگ نہیں ہوتا تو اس کی تعلیم و تبلیغ دوسروں پر اتنی مؤ ثر نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تبلیغ کے جواب میں ابتداء اسلام کے وقت عام لوگوں کا یہ جواب ہوتا تھا کہ پہلے اپنے خاندان قریش کو تو آپ درست کرلیں پھر ہماری خبر لیں اور جب خاندان میں اسلام پھیل گیا اور فتح مکہ کے وقت اس کی تکمیل ہوئی تو اس کا نتیجہ قرآن کے الفاظ میں یہ ظاہر ہوا کہ، يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (2: 110) یعنی لوگ اللہ کے دین میں فوج درفوج ہو کر داخل ہوں گے، آج کل مسلمانوں میں بےعلمی اور بےدینی پھیلنے کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اگر خود دین سے واقف اور دیندار بھی ہیں تو اس کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری اولاد بھی دیندار ہو کر دائمی راحت کی مستحق ہو عام طور پر ہماری نظریں صرف اولاد کی دنیوی اور چند روزہ راحت پر رہتی ہیں اسی کے لئے انتظامات کرتے رہتے ہیں، دولت لازوال کی طرف توجہ نہیں دیتے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمادیں کہ آخرت کی فکر میں لگ جائیں اور اپنے لئے اور اپنی اولاد کیلئے سب سے بڑا سرمایہ ایمان اور عمل صالح کو سمجھ کر اس کی کوشش کریں، بعض مسائل متعلقہ مسئلہ توریث الجد اس آیت میں حضرت یعقوب کی اولاد کی طرف سے جو جواب نقل کیا گیا ہے اس میں اِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ دادا بھی باپ ہی کہلاتا ہے اور باپ ہی کے حکم میں ہے اس لئے حضرت عبداللہ بن عباس نے اس آیت سے استدلال کرکے فرمایا کہ میراث میں دادا کا بھی وہی حکم ہے جو باپ کا ہے،
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گذر چکی ان کے واسطے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے واسطے ہے جو تم نے کیا اور تم سے پوچھ نہیں ان کے کاموں کی۔

آباء و اجداد کے اعمال کی جزا سزا اولاد پر نہیں ہوگی لَهَا مَا كَسَبَتْ لآیۃ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کے نیک اعمال اولاد کے لئے کافی ہوں گے جب تک وہ خود اپنے اعمال کو درست نہ کریں اسی طرح باپ دادا کے برے اعمال کا عذاب بھی اولاد پر نہ پڑے گا جب کہ یہ اعمال صالحہ کے پابند ہوں اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مشرکین کی اولاد جو بلوغ سے پہلے مرجائے ان کو اپنے ماں باپ کے کفر و شرک کی وجہ سے عذاب نہیں ہوگا اور اس سے یہود کے اس عقیدے کی بھی تردید ہوگئی کہ ہم جو چاہیں عمل کرتے رہیں ہماری مغفرت تو ہمارے آباء و اجداد کے اعمال سے ہوجائے گی اسی طرح آجکل کے بعض سید خاندان کے لوگ اس خیال میں رہتے ہیں کہ ہم اولاد رسول ہیں ہم جو چاہیں گناہ کرتے رہیں ہماری مغفرت ہی ہوگی، قرآن کریم نے اس مضمون کو بار بار مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْهَ آ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي (164: 6) وغیرہ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اے بنی ہاشم ایسا نہ ہو کہ قیامت کے روز اور لوگ تو اپنے اپنے اعمال صالحہ لے کر آئیں اور تم اعمال صالحہ سے غفلت برتو اور صرف میرے نسب کا بھروسہ لے کر آؤ اور میں اس روز تم سے یہ کہوں کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، اور دوسری حدیث میں ارشاد ہے مَن بطأ بہ عملہ لم یسرع بہٖ نسبُہیعنی جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے ڈالا اس کو اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا،
Ayahs 2:135–136

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہوجاؤ یہودی یا نصرانی تو تم پالو گے راہ راست کہہ دے کہ ہرگز نہیں بلکہ ہم نے اختیار کی راہ ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا تھا اور نہ تھا شرک کرنیوالوں میں

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو اترا ہم پر اور جو اترا ابراہیم پر اور اسماعیل پر اور اسحٰق پر اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر اور جو ملا موسیٰ کو اور عیسیٰ کو اور جو ملا دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے ہم فرق نہیں کرتے ان سب میں سے ایک میں بھی اور ہم اسی پروردگار کے فرمانبردار ہیں۔

خلاصہ تفسیر اور یہ (یہودی و نصرانی) لوگ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہوجاؤ (یہ تو یہود نے کہا تھا) یا نصرانی ہوجاؤ (یہ نصاریٰ نے کہا تھا) تم بھی راہ (حق) پر پڑجاؤ گے (اے محمد ﷺ آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ ہم تو (یہودی یا نصرانی کبھی نہ ہوں گے بلکہ) ملت ابراہیم (یعنی اسلام) پر رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں (بخلاف یہودیت ونصرانیت کے جس میں علاوہ محرف ہونے کے اس کے منسوخ ہو چکنے کے سبب اب اس میں کجی آگئ) اور ابراہیم ؑ مشرک بھی نہ تھے (مسلمانو ! یہود و نصاریٰ کے جواب میں جو تم نے اجمالاً کہا ہے کہ ہم ملت ابراہیمی پر رہیں گے اس ملت کی تفصیل بیان کرنے کے لئے) کہہ دو کہ (اس ملت پر رہنے کا حاصل یہ ہے کہ) ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس (حکم) پر بھی جو ہمارے پاس (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) بھیجا گیا اور اس (حکم) پر بھی جو حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) اور اولاد یعقوب (میں جو نبی گذرے ہیں ان) کی طرف (بواسطہ وحی کے) بھیجا گیا اور اس (حکم اور معجزہ) پر بھی جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو دیا گیا اور اس پر بھی جو کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے (سو ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان بھی) اس کیفیت سے کہ ہم ان (حضرات) میں سے کسی ایک میں بھی (دوسرے سے ایمان لانے میں) تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان رکھیں کسی پر نہ رکھیں) (اور ہم تو اللہ تعالیٰ کے مطیع ہیں (انہوں نے ہم کو یہ دین بتلایا) ہم نے اختیار کرلیا (پس یہ حاصل ہے اس ملت کا جس پر ہم قائم ہیں جس میں کسی کو اصلاً انکار و سرتابی کی گنجائش نہیں) معارف و مسائل اولاد یعقوب ؑ کو قرآن کریم نے لفظ اسباط سے تعبیر فرمایا ہے یہ جمع ہے سبط کی جس کے معنی قبیلہ اور جماعت کے ہیں ان کو سبط کہنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یعقوب ؑ کے صلبی لڑکے بارہ تھے پھر ہر لڑکے کی اولاد ایک مستقل قبیلہ بن گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی نسل میں یہ برکت دی کہ جب حضرت یوسف ؑ کے پاس مصر گئے تو بارہ بھائی تھے اور جب فرعون کے مقابلہ کے بعد موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کی اولاد بنی اسرائیل نکلے تو ہر بھائی کی اولاد ہزاروں افراد پر مشتمل قبیلے تھے اور دوسری برکت اولاد یعقوب ؑ میں اللہ تعالیٰ نے یہ عطا فرمائی کہ دس انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ باقی سب انبیاء ورسل ان کی اولاد میں پیدا ہوئے بنی اسرائیل کے علاوہ باقی انبیاء (علیہم السلام) حضرت آدم ؑ کے بعد نوح، شیث، ہود، صالح، لوط، ابراہیم، اسحق، یعقوب، اسماعیل، اور محمد مصطفٰے ﷺ ہیں۔
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

سو اگر وہ بھی ایمان لویں جس طرح ہر تم ایمان لائے تو ہدایت پائی انہوں نے بھی اور اگر پھر جاویں تو پھر وہی ہیں صند پر، سو اب کافی ہے تیری طرفر سے ان کو اللہ اور وہی سننے والا جاننے والا

اللغات والبلاغۃ الشِقَاقٍ قال البیضاوی ہو المناواۃ والمخالفۃ فان کل واحد من المخالفین فی شق غیر شق الآخر، الصبغۃ بالکسر فعلۃ من صبغ وہی الحالۃ اللتی یقع علیہا الصبغ، خلاصہ تفسیر (یعنی جب اوپر طریق اسلام میں دین حق کا منحصر ہونا ثابت ہوچکا) سو اگر وہ (یہود و نصاریٰ) بھی اسی طریق سے ایمان لے آویں جس طریق سے تم (اہل اسلام) ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہ (حق) پر لگ جاویں گے اور اگر وہ (اس سے) روگردانی کریں تو (تم ان کی روگردانی سے کچھ تعجب نہ کرو کیونکہ) وہ لوگ تو (ہمیشہ سے) برسر مخالفت ہیں ہی (اور اگر انکی مخالفت سے کچھ اندیشہ ہو) تو (سمجھ لیجئے کہ) آپ کی طرف سے عنقریب ہی نمٹ لیں گے ان سے اللہ تعالیٰ (تمہاری اور ان کی باتیں) سنتے ہیں (اور تمہارے اور ان کے برتاوے) جانتے ہیں (تمہارے فکر وغم کی کوئی ضرورت نہیں) (اے مسلمانو ! کہہ دو کہ ہم نے جو اوپر تم لوگوں کے جواب میں کہا ہے کہ ہم ملت ابراہیم پر رہیں گے اس کلام کی حقیقت یہ ہے کہ) ہم (دین کی) اس حالت پر رہیں گے جس میں (ہم کو) اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے (اور رنگ کی طرح ہمارے رگ وریشہ میں بھر دیا ہے) اور (دوسرا) کون ہے جس کے رنگ دینے کی حالت اللہ تعالیٰ (کے رنگ دینے کی حالت) سے خوب تر ہو (جب اور کوئی دوسرا ایسا نہیں تو ہم نے اور کسی کا دین بھی اختیار نہیں کیا) اور (اس لئے) ہم اس کی غلامی اختیار کئے ہوئے ہیں، معارف و مسائل ایمان کی مختصر اور جامع تفسیر فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ شروع سورة بقرہ سے یہاں تک ایمان کی حقیقت کہیں مجمل کہیں مفصل بیان کی گئ ہے اس آیت میں ایک ایسا اجمال ہے جو تمام تفصیلات اور تشریحات پر حاوی ہے کیونکہ اٰمَنْتُمْ کے مخاطب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ہیں اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و معتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے اختیار فرمایا جو اعتقاد اس سے سرمو مختلف ہو اللہ کے نزدیک مقبول نہیں، توضیح اس کی یہ ہے کہ جتنی چیزوں پر یہ ایمان لائے ان میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو اور جس طرح اخلاص کے ساتھ ایمان لائے اس میں کوئی فرق نہ آئے کہ وہ نفاق میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) ورسل، آسمانی کتابیں اور ان کی تعلیمات کے متعلق جو ایمان و اعتقاد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا وہی اللہ کے نزدیک مقبول ہے اس کے خلاف اس میں کوئی تاویل کرنا یا کوئی دوسرے معنی مراد لینا اللہ کے نزدیک مردود ہے فرشتوں اور انبیاء ورسل کے لئے جو مقام آپ کے قول وعمل سے واضح ہوا اس سے ان کو گھٹانا یا بڑھانا ایمان کے منافی ہے، اس توضیح سے ان تمام باطل فرقوں کے ایمان کا خلل واضح ہوگیا جو ایمان کے دعویدار ہیں مگر حقیقت ایمان سے بےبہرہ ہیں کیونکہ زبان دعویٰ ایمان کا تو بت پرست مشرکین بھی کرتے تھے اور یہود و نصاریٰ بھی اور ہر زمانے میں زندیق وملحد بھی مگر چونکہ ان کا ایمان اللہ پر اور رسولوں پر اور فرشتوں پر اور یوم قیامت وغیرہ پر اس طرح کا نہیں تھا جیسا رسول اللہ ﷺ کا ہے اس لئے وہ اللہ کے نزدیک مردود نامقبول ہوا، فرشتہ اور رسول کی عظمت و محبت میں اعتدال مطلوب ہے غلو گمراہی ہے مشرکین میں سے بعض نے تو فرشتوں کے وجود ہی کا انکار کیا بعض نے ان کو خدا کی بیٹیاں بنادیا دونوں کی تردید بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ سے ہوگئی یہود و نصاریٰ کے بعض گروہوں نے اپنے پیغمبروں کی مخالفت اور نافرمانی کی یہاں تک کہ بعض کو قتل بھی کردیا اور بعض گروہوں نے ان کی عزت و عظمت کو اتنا بڑھایا کہ خدا، یا خدا کا بیٹا یا خدا کا مثل بنادیا یہ دونوں قسم کی افراط وتفریط ضلالت و گمراہی قرار دی گئی، شریعت اسلام میں رسول کی عظمت و محبت فرض ہے اس کے بغیر ایمان ہی نہیں ہوتا مگر رسول کو کسی صفت علم یا قدرت وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے برابر کردینا گمراہی اور شرک ہے قرآن کریم نے شرک کی حقیقت یہی بیان فرمائی ہے کہ غیر اللہ کو کسی صفت میں اللہ کے برابر کریں اِذْ نُسَوِّيْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (98: 26) کا یہی مفہوم ہے آج بھی جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی عالم الغیب اور خدا تعالیٰ کی طرح ہر جگہ موجود و حاضر وناظر کہتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کی عظمت و محبت کا حق ادا کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود آنحضرت ﷺ کے حکم کی اور عمر بھر کی کوششوں کی صریح مخالفت کر رہے ہیں اس آیت میں ان کے لئے بھی سبق ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت و محبت اللہ کے نزدیک ایسی ہی مطلوب ہے جیسی صحابہ کرام کے دل میں آپ کی تھی اس سے کمی بھی جرم ہے اور اس میں زیادتی بھی غلو اور گمراہی ہے، نبی و رسول کی اختراعی قسمیں ظلی بروزی لغوی سب گمراہی ہے اسی طرح جن فرقوں نے رسول اللہ ﷺ پر ختم نبوت کا انکار کرکے نئے نبی کے لئے دروازہ کھولنا چاہا اور قرآن کریم کی واضح تصریح خاتم النبیین کو اپنے مقصد میں حائل پایا تو انہوں نے رسول و نبی کی بہت سی قسمیں اپنی طرف سے اختراع کرلیں جن کا نام نبی ظلی، نبی بروزی وغیرہ رکھ دیا، اور ان کے لئے گنجائش نکالنے کی کوشش کی مذکور الصدر آیت نے ان کے دجل و گمراہی کو بھی واضح کردیا کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے ایمان بالرسل میں کسی ظلی وبروزی کا کہیں نام ونشان نہیں یہ کھلا ہوا زندقہ اور الحاد ہے، ایمان بالآخرۃ کی تاویلات باطلہ مردود ہیں اسی طرح وہ لوگ جن کے قلب و دماغ صرف مادے اور مادیات میں کھوئے ہوئے ہیں عالم غیب اور عالم آخرت کی چیزیں جب انھیں مستبعد نظر آتی ہیں تو طرح طرح کی تاویلوں میں پڑجاتے ہیں اور اپنے نزدیک اس کو دین کی خدمت سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس کو اقرب الی الفہم کردیا مگر چونکہ وہ تاویلیں بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ کے خلاف ہیں، اس لئے سب مردود و باطل ہیں آخرت کے تمام حالات و واقعات جس طرح قرآن وسنت میں وارد ہوئے ہیں ان پر بغیر کسی جھجک اور تاویل کے ایمان لانا ہی درحقیقت ایمان ہے حشر اجساد کے بجائے حشر روحانی اور عذاب وثواب جسمانی و روحانی اسی طرح وزن اعمال میں تاویلیں کرنا سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک مردود باطل اور گمراہی ہے، رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے لے لی فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ میں واضح فرمادیا کہ آپ اپنے مخالفوں کی زیادہ فکر نہ فرما ویں ہم خود ان سے نمٹ لیں گے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا دوسری ایک آیت واللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (67: 5) میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ فرمادیا کہ آپ مخالفین کی فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ ان سے آپ کی حفاظت خود کریں گے۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

ہم نے قبول کرلیا رنگ اللہ کا اور کس کا رنگ بہتر ہے اللہ کے رنگ سے اور ہم اسی بندگی کی کرتے ہیں۔

دین و ایمان ایک گہرا رنگ ہے جو انسان کے چہرہ بشرہ سے نظر آنا چاہئے صِبْغَةَ اللّٰهِ اس سے پہلی آیت میں دین اسلام کو حضرت ابراہیم ؑ کی طرف منسوب کیا گیا تھا مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ حَنِيْفًا اس جگہ اس کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے بتلا دیا کہ دین درحقیقت اللہ تعالیٰ کا ہے کسی پیغمبر کی طرف اس کی نسبت مجازی کردی جاتی ہے اور اس جگہ ملت کو صبغت کے لفظ سے تعبیر کرکے دو باتوں کی طرف اشارہ ہوگیا اول تو نصاریٰ کی ایک رسم کی تردید ہوگئی ان کی عادت یہ تھی کہ جو بچہ پیدا ہو اس کو ساتویں روز ایک رنگین پانی میں نہلاتے تھے اور بجائے ختنہ کے اسی نہلانے کو بچہ کی طہارت اور دین نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے اس آیت نے بتلایا کہ یہ پانی کا رنگ تو دھل کر ختم ہوجاتا ہے اس کا بعد میں کوئی اثر نہیں رہتا نیز ختنہ نہ کرنے کی وجہ سے جو گندگی اور ناپاکی جسم میں رہتی ہے اس سے بھی یہ رنگ نجات نہیں دیتا اصل رنگ دین و ایمان کا رنگ ہے جو ظاہری اور باطنی پاکی کی ضمانت بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی، دوسرے دین و ایمان کو رنگ فرما کر اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ جس طرح رنگ آنکھوں سے محسوس ہوتا ہے مومن کے ایمان کی علامات اس کے چہرہ بشرہ اور تمام حرکات و سکنات معاملات و عادات میں ظاہر ہونا چاہئیں۔ واللہ اعلم،
Ayahs 2:139–141

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

کہہ دے کیا تم جھگڑا کرتے ہو ہم سے اللہ کی نسبت حالانکہ وہی ہے رب ہمارا اور رب تمہارا اور ہمارے لئے ہیں عمل ہمارے اور تمہارے لئے ہیں عمل تمہارے اور ہم تو خالص اسی کے ہیں

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور اس کی اولاد تو یہودی تھے یا نصرانی، کہہ دے کہ تم کو زیادہ خبر ہے یا اللہ کو، اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے چھپائی وہ گواہی جو ثابت ہوچکی اس کو اللہ کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے،

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گذر چکی، ان کیواسطے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے واسطے ہے جو تم نے کیا، اور تم سے کچھ پوچھ نہیں ان کے کاموں کی۔

خلاصہ تفسیر آپ (ان یہود و نصاری سے) فرما دیجئے کہ کیا تم لوگ (اب بھی) ہم سے حجت کئے جاتے ہو حق تعالیٰ کے معاملہ میں (کہ وہ ہم کو قیامت میں نہ بخشیں گے) حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا (سب کا) رب (اور مالک) ہے (سو ربوبیت میں تو تمہارے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں جیسا تمہارے بعض دعو وں سے اختصاص مفہوم ہوتا ہے مثل نحن ابناء اللہ) اور ہم کو ہمارا کیا ہوا ملے گا اور تم کو تمہارا کیا ہوا ملے گا (یہاں تک تو تمہارے نزدیک بھی مسلم ہے) اور (اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ) ہم نے صرف حق تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے اپنے (دین) کو (شرک وغیرہ سے) خالص کر رکھا ہے (بخلاف تمہارے طریقہ موجودہ کے کہ علاوہ منسوخ ہونے کے خود شرک سے بھی مخلوط ہے جیسا ان کے اقوال عزیر ابن اللہ اور مسیح ابن اللہ سے ظاہر ہے اور اس میں ہم کو اللہ تعالیٰ نے ترجیح دی ہے پھر ہم کو نجات نہ ہونے کے کیا معنی) یا (اب بھی اپنے حق پر ہونے کے ثابت کرنے کو یہی) کہے جاتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب (میں جو انبیاء گذرے ہیں یہ سب حضرات) یہود یا نصاریٰ تھے (اور اس سے بواسطہ موافقت طریق اپنا حق پر ہونا ثابت کرتے ہو سو اس کے جواب میں) اے محمد ﷺ (ایک اتنی مختصر سی بات ان سے) کہہ دیجئے کہ (اچھا یہ بتلاؤ کہ) تم زیادہ واقف ہو یا حق تعالیٰ (اور ظاہر ہے کہ خدا ہی زیادہ واقف ہے اور وہ ان انبیاء (علیہم السلام) کا ملت اسلام پر ہونا ثابت کرچکے ہیں جیسا ابھی اوپر گذر چکا ہے) اور (جانتے ہیں یہ کافر بھی مگر چھپاتے ہیں سو) ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کا اخفا کرے جو اس کے پاس منجانب اللہ پہنچی ہو اور (اے اہل کتاب) اللہ تعالیٰ تمہارے کئے ہوئے سے بیخبر نہیں ہیں (پس جب یہ حضرات یہود و نصاریٰ نہ تھے سو تم طریق دین میں ان کے موافق کب ہوئے پھر تمہارا حق پر ہونا ثابت نہ ہوا) یہ (ان بزرگوں کی) ایک جماعت تھی جو (اپنے زمانے میں) گذر گئی ان کے کام ان کا کیا ہوا آوے گا اور تمہارے کام تمہارا کیا ہوا آوے گا، اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ بھی تو نہ ہوگی (اور جب خالی تذکرہ بھی نہ ہوگا تو اس سے تم کو کچھ نفع پہنچنا تو درکنار) معارف و مسائل اخلاص کی حقیقتوَنَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ اس میں امت مسلمہ کی ایک خصوصیت یہ بتلائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخلص ہے، اخلاص کے معنی حضرت سعید بن جبیر نے یہ بتلائے ہیں کہ انسان اپنے دین میں مخلص ہو کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اور اپنے عمل کو خالص اللہ کے لئے کرے لوگوں کے دکھلانے یا ان کی مدح وشکر کی طرف نظر نہ ہو، بعض بزرگوں نے فرمایا کہ اخلاص ایک ایسا عمل ہے جس کو نہ تو فرشتے پہچان سکتے ہیں اور نہ شیطان وہ صرف بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک راز ہے۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

اب کہیں گے بیوقوف لوگ کہ کس چیز نے پھر دیا مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے جس پر وہ تھے تو کہہ اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب، چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ۔

خلاصہ تفسیر (جب کعبہ قبلہ نماز مقرر ہو کر یہود کا قبلہ متروک ہوگیا تو بوجہ ناگواری کے) اب تو (یہ) بیوقوف لوگ ضرور ہی کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو ان کے (سابق سمیت) قبلہ سے (کہ بیت المقدس تھا) جس طرف پہلے متوجہ ہوا کرتے تھے کس بات نے (دوسری سمت کی طرف) بدل دیا آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ سب (سمتیں خواہ) مشرق ہو اور (خواہ) مغرب (ہو) اللہ ہی ملک ہیں (خدا تعالیٰ کو مالکانہ اختیار ہے جس سمت کو چاہیں مقرر فرمادیں کسی کو منصب علت دریافت کرنے کا نہیں ہے اور سیدھا طریق احکام شرعیہ کے باب میں یہی اعتقاد ہے لیکن بعضوں کو اس راہ کے اختیار کرنے کی توفیق نہیں ہوتی خواہ مخواہ علتیں ڈھونڈتے پھرا کرتے ہیں البتہ) جس کو خدا ہی (اپنے فضل سے) چاہیں (یہ) سیدھا طریق بتلا دیتے ہیں، معارف و مسائل اس آیت میں میں مخالفین کا اعتراض درباہ تحویل قبلہ نقل کرکے اس کا جواب دیا گیا ہے اس اعتراض اور جواب سے پہلے قبلہ کی حقیقت اور اس کی مختصر تاریخ سن لیجئے جس سے سوال و جواب کا سمجھنا آسان ہوجائے گا، قبلہ کے لفظی معنی ہیں سمت توجہ یعنی جس طرف رخ کیا جائے یہ ظاہر ہے کہ مومن کا رخ ہر عبادت میں صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف ہوتا ہے اور اس کی ذات پاک مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی قیدوں اور سمتوں سے بالاتر ہے وہ کسی خاص سمت میں نہیں اس کا اثر طبعی طور پر یہ ہونا تھا کہ کوئی عبادت کرنے والا کسی خاص رخ کا پابند نہ ہوتا جس کا جس طرف جی چاہتا نماز میں اپنا رخ اس طرف کرلیتا اور ایک ہی آدمی کسی وقت ایک طرف اور کسی وقت کئی طرف رخ کرتا تو وہ بھی بےجا نہ ہوتا، لیکن ایک دوسری حکمت الہیہ اس کی مقتضی ہوئی کہ تمام عبادت گذاروں کا رخ ایک ہی طرف ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ عبادت کی مختلف قسمیں ہیں بعض انفرادی ہیں بعض اجتماعی ذکر اللہ اور روزہ وغیرہ انفرادی عبادات ہیں جن کو خلوت میں اور اخفاء کے ساتھ ادا کیا جاسکتا ہے اور نماز اور حج اجتماعی عبادات ہیں جن کو جماعت و اجتماع و اعلان کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے ان میں عبادت کے ساتھ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی کے آداب کا بتلانا اور سکھانا بھی پیش نظر ہے اور یہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ اجتماعی نظام کا سب سے بڑا بنیادی اصول افراد کثیرہ کی وحدت اور یک جہتی ہے، یہ وحدت جتنی زیادہ قوی سے قوی ہوگی اتنا ہی اجتماعی نظام مستحکم اور مضبوط ہوگا انفرادیت اور تشتت اجتماعی نظام کے لئے سم قاتل ہے پھر نقطہ وحدت متعین کرنے میں ہر قرن ہر زمانہ کے لوگوں کی مختلف راہیں رہی ہیں کسی قوم نے نسل اور نسب کو نقطہ وحدت قرار دیا کسی نے وطن اور جغرافیائی خصوصیات کو کسی نے رنگ اور زبان کو، لیکن دین الہی اور شرائع انبیاء (علیہم السلام) نے ان غیر اختیاری چیزوں کو نقطہ وحدت بنانے کے قابل نہیں سمجھا اور نہ درحقیقت یہ چیزیں ایسی ہیں جو پورے افراد انسانی کو کسی ایک مرکز پر جمع کرسکیں بلکہ جتنا غور کیا جائے یہ وحدتیں درحقیقت افراد انسانی کو بہت سی کثرتوں میں تقسیم کر ڈالنے اور آپس میں ٹکراؤ اور اختلافات کے اسباب ہیں، دین اسلام نے جو درحقیقت تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ہے وحدت کا اصل نقطہ فکر و خیال اور عقیدہ کی وحدت کو قرار دیا اور کروڑوں خداؤں کی پرستش میں بٹی ہوئی دنیا کو ایک ذات حق وحدہ لاشریک لہ کی عبادت اور اطاعت کی دعوت دی جس پر مشرق ومغرب اور ماضی و مستقبل کے تمام افراد انسانی جمع ہوسکتے ہیں پھر اس حقیقی فکری اور نظری وحدت کو عملی صورت اور قوت دینے کے لئے کچھ ظاہری وحدتیں بھی ساتھ لگائی گئیں مگر ان ظاہری وحدتوں میں بھی اصول یہ رکھا گیا کہ وہ عملی اور اختیاری ہوں تاکہ تمام افراد انسانی ان کو اختیار کرکے ایک رشتہ اخوت میں منسلک ہوسکیں نسب، وطن، زبان، رنگ وغیرہ اختیاری چیزیں نہیں ہیں جو شخص ایک خاندان کے اندر پیدا ہوچکا ہے وہ کسی طرح دوسرے خاندان میں پیدا نہیں ہوسکتا جو پاکستان میں پیدا ہوچکا وہ انگلستان یا افریقہ میں پیدا نہیں ہوسکتا جو کالا ہے وہ اپنے اختیار سے گورا اور جو گورا ہے وہ اپنے اختیار سے کالا نہیں ہوسکتا، اب اگر ان چیزوں کو مزکز وحدت بنایا جائے تو انسانیت کا سیکڑوں بلکہ ہزاروں ٹکڑوں اور گروہوں میں تقسیم ہوجانا ناگریز ہوگا اس لئے دین اسلام نے ان چیزوں سے جن سے تمدنی مفاد وابستہ ہیں ان کا پورا احترام رکھتے ہوئے ان کو وحدت انسانی کا مرکز نہیں بننے دیا کہ یہ وحدتیں افراد انسانی کو مختلف کثرتوں میں بانٹنے والی ہیں ہاں اختیاری امور میں اس کی پوری رعایت رکھی کہ فکری وحدت کے ساتھ عملی اور صوری وحدت بھی قائم ہوجائے مگر اس میں بھی اس کا پورا لحاظ رکھا گیا کہ مرکز وحدت ایسی چیزیں بنائی جائیں جن کا اختیار کرنا ہر مرد و عورت لکھے پڑھے اور ان پڑھ شہری اور دیہاتی امیر و غریب کو یکساں طور پر آسان ہو، یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلام نے تمام دنیا کے لوگوں کو لباس اور مسکن کھانے اور پینے کے کسی ایک طریقہ کا پابند نہیں کہا کہ ہر جگہ کے موسم اور طبائع مختلف اور ان کے ضروریات مختلفہ ہیں سب کو ایک ہی طرح کے لباس یا شعار (یونیفارم) کا پابند کردیا جائے تو بہت سی مشکلات پیش آئیں گی پھر اگر یہ یونیفارم کم سے کم تجویز کردیا جائے تو یہ اعتدال انسانی پر ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے عمدہ لباس اور عمدہ کپڑوں کی بےحرمتی ہوگی اور اگر اس سے زائد کسی لباس کا پابند کیا جائے تو غریب مفلس لوگوں کو مشکلات پیش آئیں گی، اس لئے شریعت اسلام نے مسلمانوں کا کوئی ایک شعار (یونیفارم) مقرر نہیں کیا بلکہ مختلف قوموں میں جو طریقے اور اوضاع لباس کی رائج تھیں ان سب پر نظر کرکے ان میں سے جو صورتیں اسراف بیجا یا فخر وغیرہ یا کسی غیر مسلم قوم کی نقالی پر مبنی تھیں صرف ان کو ممنوع قرار دے کر باقی چیزوں میں ہر فرد اور ہر قوم کو آزاد اور خود مختار رکھا مرکز وحدت ایسی چیزوں کو بنایا گیا جو اختیاری بھی ہوں اور آسان اور سستی بھی ان چیزوں میں جیسے جماعت نماز کی صف بندی ایک امام کی نقل و حرکت کی مکمل پابندی حج میں لباس اور مسکن کا اشتراک وغیرہ ہیں، اسی طرح ایک اہم چیز سمت قبلہ کی وحدت بھی ہے کہ اگرچہ اللہ جل شانہ کی ذات پاک ہر سمت وجہت سے بالاتر ہے اس کے لئے شش جہت یکساں ہیں لیکن نماز میں اجتماعی صورت اور وحدت پیدا کرنے کے لئے تمام دنیا کے انسانوں کا رخ کسی ایک ہی جہت وسمت کی طرف ہونا ایک بہترین اور آسان اور بےقیمت وحدت کا ذریعہ ہے جس پر سارے مشرق ومغرب اور جنوب و شمال کے انسان آسانی سے جمع ہوسکتے ہیں اب وہ ایک سمت وجہت کونسی ہو جس کی طرف ساری دنیا کا رخ پھیر دیا جائے اس کا فیصلہ اگر انسانوں پر چھوڑا جائے تو یہ ایک سب سے بڑی بناء اختلاف ونزاع بن جاتی ہے اس لئے ضرور تھا کہ اس کا تعین خود حضرت حق جل وعلا شانہ کی طرف سے ہوتا حضرت آدم ؑ کو دنیا میں اتارا گیا تو فرشتوں کے ذریعہ بیت اللہ کعبہ کی بنیاد پہلے ہی رکھ دی گئی تھی حضرت آدم ؑ اور اولاد آدم ؑ کا سب سے پہلا قبلہ یہی بیت اللہ اور خانہ کعبہ بنایا گیا، اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ للنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ (96: 3) سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ گھر ہے جو مکہ میں ہے برکت والا ہدایت والا جہان والوں کیلئے نوح ؑ تک سب کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا طوفان نوح ؑ کے وقت پوری دنیا غرق ہو کر تباہ ہوگئی بیت اللہ کی عمارت بھی منہدم ہوگئی اور ان کے بعد حضرت خلیل اللہ ؑ اور اسماعیل ؑ نے دوبارہ بحکم خداوندی بیت اللہ کی تعمیر کی اور یہی ان کا اور ان کی امت کا قبلہ رہا اس کے بعد انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے لئے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا اور بقول ابو العالیہ انبیاء سابقین جو بیت المقدس میں نماز پڑہتے تھے وہ بھی عمل ایسا کرتے تھے کہ صخرہ بیت المقدس بھی سامنے رہے اور بیت اللہ بھی (ذکرہ القرطبی) حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر جب نماز فرض کی گئی تو بقول بعض علماء ابتدا آپ کا قبلہ آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ یعنی خانہ کعبہ ہی قرار دیا گیا مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے اور مدینہ طیبہ میں قیام کرنے کے بعد اور بعض روایات کے اعتبار سے ہجرت مدینہ سے کچھ پہلے آپ کو اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ آپ بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائیے صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے سولہ سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز ادا فرمائی مسجد نبوی میں آج تک اس کی علامات موجود ہیں جہاں کھڑے ہو کر آپ نے بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا فرمائی تھیں (قرطبی) حکم خداوندی کی تعمیل کے لئے تو سید الرسل سر تاپا اطاعت تھے اور حکم خداوندی کے مطابق نمازیں بیت المقدس کی طرف ادا فرما رہے تھے لیکن آپ کی طبعی رغبت اور دلی خواہش یہی تھی کہ آپ کا قبلہ پھر وہی آدم ؑ اور ابراہیم ؑ کا قبلہ قرار دے دیا جائے اور چونکہ عادۃ اللہ یہی ہے کہ وہ اپنے مقبول بندوں کی مراد اور خواہش ورغبت کو پورا فرماتے ہیں، تو چناں خواہی خدا خواہد چنیں می دہد یزداں مراد متقیں آنحضرت ﷺ کو بھی یہ امید تھی کہ آپ کی تمنا پوری کی جائے گی اور اس لئے انتظار وحی میں آپ بار بار آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے تھے اسی کا بیان قرآن کی اس آیت میں ہے، قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَ آفَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (144: 2) ہم دیکھ رہے ہیں آپ کا بارہا آسمان کی طرف نظر اٹھانا سو ہم آپ کا قبلہ وہی بدل دیں گے جو آپ کو پسند ہے اس لئے آئندہ آپ نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کیا کریں، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی تمنا کا اظہار فرما کر اس کو پورا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے کہ آئندہ آپ مسجد حرام کی طرف رخ کیا کریں، نماز میں خاص بیت اللہ کا استقبال ضروری نہیں اس کی سمت کا استقبال بھی بیرونی دنیا کے لئے کافی ہے یہاں ایک فقہی نکتہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس آیت میں کعبہ یا بیت اللہ کے بجائے لفظ مسجد حرام کا استعمال فرمایا گیا ہے جس میں اشارہ ہے کہ بلاد بعیدہ کے رہنے والوں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ عین بیت اللہ کی محاذات پائی جائے، بلکہ سمت بیت اللہ کی طرف رخ کرلینا کافی ہے، ہاں جو شخص مسجد حرام میں موجود ہے یا کسی قریبی پہاڑ پر بیت اللہ کو سامنے دیکھ رہا ہے اس کے لئے خاص بیت اللہ ہی کی طرف رخ کرنا ضروری ہے اگر بیت اللہ کی کوئی چیز بھی اس کے چہرے کے محاذات میں نہ آئی تو اس کی نماز نہیں ہوتی بخلاف ان لوگوں کے جن کے سامنے بیت اللہ نہیں کہ ان کے واسطے سمت بیت اللہ یا سمت مسجد حرام کی طرف رخ کرلینا کافی ہے، بہرحال ہجرت مدینہ سے سولہ سترہ مہینے بعد پھر آپ کا اور مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ کو بنایا گیا اس پر یہود اور بعض مشرکین و منافقین آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام پر یہ اعتراض کرنے لگے کہ ان کے دین کا بھی کوئی ٹھکانا نہیں ان کا قبلہ بھی روز روز بدلتا رہتا ہے، قرآن کریم نے ان کا یہ اعتراض آیت مذکورہ میں نقل فرمایا مگر ساتھ ہی عنوان یہ رہا کہ بیوقوف لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں اور ان کی بیوقوفی اس جواب سے واضح ہوگئی جو اس کے بعد ذکر فرمایا گیا ہے ارشاد ہے، قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ یعنی آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی کے ہیں مشرق اور مغرب وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ چلاتا ہے، اس میں استقبال قبلہ کی حقیقت کو واضح فرما دیا کہ کعبہ اور بیت المقدس کی کوئی خصوصیت بجز اس کے نہیں کہ حکم ربانی نے ان کو کوئی امتیاز دے کر قبلہ بنادیا وہ اگر چاہیں تو ان دونوں کے علاوہ کسی تیسری چوتھی چیز کو بھی قبلہ بنا سکتے ہیں پھر جس کو قبلہ بنادیا گیا اس کی طرف رخ کرنے میں جو کچھ فضیلت اور ثواب ہے اس کی روح حکم حق جل شانہ کی اطاعت کے سوا کچھ نہیں جو بانی کعبہ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت کا بنیادی اصول ہے اور اسی لئے دوسری آیت میں اور زیادہ واضح فرمایا کہ لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ (177: 2) اس میں ذاتی کوئی نیکی اور ثواب نہیں کہ تم مشرق کی طرف رخ کرو یا مغرب کی طرف لیکن نیکی اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے میں ہے، اور ایک آیت میں فرمایا، فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ (115: 2) یعنی تم اللہ کے فرمان کے مطابق جس طرف بھی رخ کرو اللہ تعالیٰ کی توجہ اسی طرف پاؤ گے، ان آیات نے قبلہ اور استقبال قبلہ کی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا کہ اس میں ان مقامات کی کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ ان میں فضیلت پیدا ہونے کا سبب ہی یہ ہے کہ ان کو حق تعالیٰ نے قبلہ بنانے کے لئے اختیار فرما لیا اور اس کی طرف رخ کرنے میں ثواب کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ حکم ربانی کی اطاعت ہے اور شاید آنحضرت ﷺ کے لئے قبلہ میں تغیر وتبدل فرمانے کی یہ بھی حکمت ہو کہ عملی طور سے لوگوں پر یہ واضح ہوجائے کہ قبلہ کوئی بت نہیں جس کی پرستش کی جائے بلکہ اصل چیز حکم خداوندی ہے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا آگیا تو اس کی تعمیل کی پھر جب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم مل گیا تو اسی کی طرف رخ کرنا عبادت ہوگیا اس کے بعد والی آیت میں خود قرآن کریم نے بھی اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں فرمایا ہے ، وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ (143: 2) یعنی جس قبلہ پر آپ پہلے رہ چکے ہیں اس کو قبلہ بنانا تو محض اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے تھا کہ کون رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرتا ہے اور کون پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس حقیقت قبلہ کے بیان سے ان بیوقوف مخالفین کا بھی پورا جواب ہوگیا جو قبلہ کے بارے میں تغییر وتحویل کو اصول اسلام کے منافی سمجھتے اور مسلمانوں کو طعنے دیتے تھے آخر میں ارشاد فرمایا يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ اس میں بتلا دیا ہے کہ سیدھی راہ یہی ہے کہ انسان حکم حق جل شانہ کے لئے کمربستہ منتظر رہے جو حکم مل جائے اس پر بےچون وچرا عمل کرے اور یہ سیدھی راہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل کتاب کو مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑا حسد تین چیزوں پر ہے ایک یہ کہ ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لئے مخصوص کرنے کا حکم ساری امتوں کو ملا تھا یہود نے سنیچر کا دن مقرر کرلیا اور نصاریٰ نے اتوار کا اور حقیقت میں عنداللہ وہ جمعہ کا روز تھا جو مسلمانوں کے انتخاب میں آیا۔ دوسرے وہ قبلہ جو تحویل کے بعد مسلمانوں کے لئے مقرر کیا گیا اور کسی امت کو اس کی توفیق نہیں ہوئی تیسرے امام کے پیچھے آمین کہنا کہ یہ تینوں خصلتیں صرف مسلمانوں کو میسر ہوئیں اہل کتاب ان سے محروم ہیں۔