2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:166–167

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جب کہ بیزار ہوجاویں گے وہ کہ جن کی پیروی کی تھی ان سے جو کہ ان کے پیرو ہوئے تھے اور دیکھیں گے عذاب اور منقطع ہوجاویں گے ان کے سب علاقے،

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور کہیں گے پیرو کیا اچھا ہوتا جو ہم کو دنیا کی طرف لوٹ جانا مل جاتا تو پھر ہم بھی بیزار ہوجاتے ان سے جیسے یہ ہم سے بیزار ہوگئے، اسی طرح پر دکھلائے گا اللہ ان کو ان کے کام حسرت دلانے کو اور وہ ہرگز نکلنے والے نہیں نار سے۔

ربط اوپر عذاب آخرت کو سخت فرمایا ہے آگے اس سختی کی کیفیت کا بیان فرماتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر (وہ سختی عذاب کی اس وقت معلوم ہوگی) جب کہ (ان مشرکین میں سے) وہ (ذی اثر) لوگ جن کے کہنے پر دوسرے (عوام) چلتے تھے ان (عام) لوگوں سے صاف الگ ہوجاویں گے جو ان کے کہنے پر چلے تھے اور سب (خواص وعوام) عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے اور باہم ان میں جو تعلقات تھے (کہ ایک تابع تھا دوسرا متبوع تھا وغیرہ وغیرہ) اس وقت سب قطع ہوجاویں گے (جیسے دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جرم میں سب شریک ومتفق ہوتے ہیں اور تنقیح مقدمہ کے وقت سب الگ الگ بچنا چاہتے ہیں حتی کہ باہمدگر شناخت تک کے منکر ہوجاتے ہیں) اور (جب) یہ تابع لوگ (متبوعین کی یہ طوطا چشمی دیکھیں گے تو بڑے جھنجلاویں گے اور تو کچھ نہ ہوسکے گا مگر جھلا کر) یوں کہنے لگیں گے کسی طرح ہم سب کو (دنیا میں) بس ذرا ایک دفعہ جانا مل جاوے تو ہم بھی ان سے (اتنا بدلہ تو لے لیں کہ اگر یہ پھر ہم کو اپنے تابع ہونے کی ترغیب دیں تو ہم بھی ان سے) صاف (ٹکا سا جواب دے کر) الگ ہوجاویں جیسا یہ ہم سے (اس وقت) صاف الگ ہو بیٹھے (اور کہہ دیں کہ جناب آپ وہی ہیں کہ عین موقع پر بےرخی کی تھی اب ہم سے کیا غرض، حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان تجویزوں اور سوچ بچاروں سے کیا ہاتھ آوے گا فقط) اللہ تعالیٰ یوں ہی ان کی بداعمالیوں کو خالی ارمان (کے پیرائے میں) کرکے ان کو دکھلا دیں گے اور ان (تابعین ومتبوعین سب) کو دوزخ سے نکلنا کبھی نصیب نہ ہوگا (کیونکہ شرک کی سزا خلود فی النار ہے)
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگو ! کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیزہ اور پیروی نہ کرو شیطان کی بیشک وہ تمہارا دشمن ہے صریح،

خلاصہ تفسیر (بعض مشرکین بتوں کے نام جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضائے حق و وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے، حق تعالیٰ اس باب میں خطاب فرماتے ہیں کہ) اے لوگو ! جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے (شرعی) حلال پاک چیزوں (کی نسبت اجازت ہے کہ ان کو کھاؤ (برتو) اور (ان میں سے کسی حلال چیز سے یہ سمجھ کر پرہیز کرنا کہ اس سے اللہ راضی ہوگا یہ سب شیطانی خیالات ہیں تم) شیطان کے قدم بقدم مت چلو فی الواقع وہ (شیطان) تمہارا صریح دشمن ہے (کہ ایسے ایسے خیالات وجہالات سے تم کو خسران ابدی میں گرفتار کر رکھا ہے اور دشمن ہونے کی وجہ سے) وہ تم کو انہی باتوں کی تعلیم کرے گا جو کہ (شرعا) بری اور گندی ہیں اور یہ (بھی تعلیم کرے گا) کہ اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ جن کی تم سند بھی نہیں رکھتے (مثلا یہی کہ ہم کو خدا تعالیٰ کا اس طرح حکم ہے) معارف و مسائل حَلٰلًا طَيِّبًا لفظ حل کے اصلی معنی گرہ کھولنے کے ہیں جو چیز انسان کے لئے حلال کردی گئی گویا ایک گرہ کھول دی گئی اور پابندی ہٹا دی گئی۔ حضرت سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نجات تین چیزوں میں منحصر ہے، حلال کھانا، فرائض ادا کرنا، اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع کرنا اور لفظ طیب کے معنی ہیں پاکیزہ جس میں شرعی حلال ہونا بھی داخل ہے اور طبعی مرغوب ہونا بھی خُطُوٰتِ خطوہ کی جمع ہے اتنی مقدار کو خطوہ کہتے ہیں جو دونوں قدموں کے درمیان کا فاصلہ ہے خطوات شیطان سے مراد شیطانی اعمال و افعال ہیں۔ مسئلہسانڈ وغیرہ جو بتوں کے نام پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں یا اور کوئی جانور مرغا بکرا وغیرہ کسی بزرگ یا اور کسی غیر اللہ کے نامزد کردیا جاتا ہے اس کا حرام ہونا ابھی چار آیتوں کے بعد وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے تحت آنے والا ہے اس آیت يٰٓاَيُّهَا النَّاس میں ایسے جانور کے حرام ہونے کی نفی کرنا منظور نہیں جیسا کہ بعضوں کو شبہ ہوگیا بلکہ مقصد اس فعل کی حرمت و ممانعت ہے کہ غیر اللہ کے تقرب کے لئے جانوروں کو چھوڑ دینا اور اس عمل کو موجب برکت و تقرب سمجھنا اور ان جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا معاہدہ کرلینا اس کو دائمی سمجھنا یہ سب افعال ناجائز اور ان کا کرنا گناہ ہے۔ تو حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جن جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے حلال بنایا ہے ان کو بتوں کے نام کرکے حرام نہ بناؤ بلکہ اپنی حالت پر چھوڑ کر کھاؤ پیو اور اگر ایسی حرکت جہالت سے ہوجائے تو اصلاح نیت کے ساتھ تجدید ایمان اور توبہ کرکے اس حرمت کو ختم کرو اس طرح ان جانوروں کو تعظیماً حرام قرار دینا تو گناہ ہوا مگر غیر اللہ کے نام پر کردینے سے یہ مردار اور نجس کے حکم میں ہوگیا، نجاست کی وجہ سے حرمت ثابت ہوگئی، مسئلہاس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے جہالت یا غفلت سے کسی جانور کو کسی غیر اللہ کے ساتھ نامزد کرکے چھوڑ دیا تو اس کی توبہ یہی ہے کہ اپنے اس خیال حرمت سے رجوع کرے اور اس فعل سے توبہ کرے تو پھر اس کا گوشت حلال ہوجائے گا، واللہ اعلم۔
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تو یہی حکم کرے گا تم کو کہ برے کام اور بی حیائی کرو اور جھوٹ لگاؤ اللہ پر وہ باتیں جن کو تم نہیں جانتے۔

اَلسُّوْۗءِ وَالْفَحْشَاۗءِ سوء وہ چیز جس کو دیکھ کر عقلمند شریف آدمی کو دکھ ہو، فحشاء، بےحیائی کا کام، بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ سوء سے مراد مطلق معصیت اور فحشاء سے مراد کبیرہ گناہ ہے، اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ شیطان کے امر اور حکم کرنے سے مراد دل میں وسوسہ ڈالنا ہے جیسا حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدم کے بیٹے کے قلب میں ایک شیطانی الہام و اثر ہوتا ہے اور دوسرا فرشتہ کی طرف سے شیطانی وسوسہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ برے کام کرنے کے فوائد اور مصالح سامنے آتے ہیں اور حق کو جھٹلانے کی راہیں کھلتی ہیں اور الہام فرشتہ کا اثر اور نیکی پر انعام و فلاح کا وعدہ اور حق کی تصدیق پر قلب کا مطمئن ہونا ہوتا ہے،
Ayahs 2:170–171

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہزگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ،

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور مثال ان کافرون کی ایسی ہے جیسے پکارے کوئی شخص ایسی چیز کو جو کچھ نہ سنے سوائے پکارنے اور چلانے کے بہرے گانگے اندھے ہیں سو وہ کچھ نہیں سمجھتے۔

خلاصہ تفسیر اور جب کوئی ان (مشرک) لوگوں سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم (اپنے پیغمبر کے پاس) بھیجا ہے اس پر چلو تو (جواب میں) کہتے ہیں (کہ نہیں) بلکہ ہم تو اسی (طریقہ) پر چلیں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے (کیونکہ وہ لوگ اس طریقہ کے اختیار کرنے میں مامور من اللہ تھے حق تعالیٰ ان پر رد فرماتے ہیں) کیا (ہر حالت میں یہ لوگ اپنے باپ دادا ہی کے طریقہ پر چلیں گے) اگرچہ ان کے باپ دادا (دین کی) نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ (کسی آسمانی کتاب کی) ہدایت رکھتے ہوں۔ وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ (الی قولہ) فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ اور ان کافروں کی کیفیت (نافہمی میں) اس (جانور) کی کیفیت کے مثل ہے (جس کا ذکر اس مثال میں کیا جاتا ہے) کہ ایک شخص ہے وہ ایسے (جانور) کے پیچھے چلا رہا ہے جو بجز بلانے اور پکارنے کے کوئی (پُرمضمون) بات نہیں سنتا (اسی طرح) یہ کفار (بھی ظاہری بات چیت تو سنتے ہیں لیکن کام کی بات سے بالکل) بہرے ہیں گویا (سنا ہی نہیں) گونگے ہیں (کہ کبھی ایسی بات زبان ہی پر نہیں آتی) اندھے ہیں (کیونکہ نفع نقصان نظر ہی نہیں آتا) سو (جب سارے ہی حواس مختل ہیں تو) سمجھتے (سمجھاتے) کچھ نہیں، معارف و مسائل اس آیت سے جس طرح باپ دادوں کی اندھی تقلید و اتباع کی مذمت ثابت ہوئی اسی طرح جائز تقلید و اتباع کے شرائط اور ایک ضابطہ بھی معلوم ہوگیا جس کی طرف دو لفظوں میں اشارہ فرمایا ہے لَا يَعْقِلُوْنَ اور لَا يَهْتَدُوْنَ کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ ان آباء و اجداد کی تقلید و اتباع کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ انھیں نہ عقل تھی نہ ہدایت، ہدایت سے مراد وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح طور پر نازل کئے گئے اور عقل سے مراد وہ جو بذریعہ اجہتاد نصوص شرعیہ سے استنباط کئے گئے، تو وجہ ان کے اتباع و تقلید کے عدم جواز کی یہ ہے کہ نہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کئے ہوئے احکام ہیں اور نہ اس کی صلاحیت کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان سے احکام نکال سکیں اس میں اشارہ پایا گیا کہ جس عالم کے متعلق یہ اطمینان ہوجائے کہ ان کے پاس قرآن وسنت کا علم ہے اور اس کو درجہ اجتہاد بھی حاصل ہے کہ جو احکام صراحۃ قرآن وسنت میں نہ ہوں ان کو نصوص قرآن وسنت سے بذریعہ قیاس نکال سکتا ہے تو ایسے عالم مجتہد کی تقلید و اتباع جائز ہے نہ اس لئے کہ اس کا حکم ماننا اور اس کا اتباع کرنا ہے بلکہ اس لئے کہ حکم اللہ کا ماننا اور اسی کا اتباع کرنا ہے مگر چونکہ ہم براہ راست اللہ کے حکم سے واقف نہیں ہوسکتے اس لئے کسی عالم مجتہد کا اتباع کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل ہوسکے، جاہلانہ تقلید اور ائمہ مجتہدین کی تقلید میں فرق اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مطلق تقلید ائمہ مجہتدین کے خلاف اس طرح کی آیات پڑھ دیتے ہیں وہ خود ان آیات کے صحیح مدلول سے واقف نہیں۔ امام قرطبی نے اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس آیت میں تقلید آبائی کے ممنوع ہونے کا جو ذکر ہے اس سے مراد باطل عقائد و اعمال میں آباء و اجداد کی تقلید کرنا ہے عقائد صحیحہ و اعمال صالحہ میں تقلید اس میں داخل نہیں جیسا کہ حضرت یوسف ؑ کے کلام میں ان دونوں چیزوں کی وضاحت سورة یوسف میں اس طرح آئی ہے، (آیت) اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤ ْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ (38: 37: 12) میں نے ان لوگوں کی ملت و مذہب کو چھوڑ دیا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور جو آخرت کے منکر ہیں، اور میں نے اتباع کیا اپنے آباء ابراہیم اسحاق اور یعقوب کا، اس میں پوری وضاحت سے ثابت ہوگیا کہ آباء کی تقلید باطل میں حرام ہے حق میں جائز بلکہ مستحسن ہے، امام قرطبی نے اسی آیت کے ذیل میں ائمہ مجتہدین کی تقلید کے متعلق بھی مسائل و احکام بیان کئے ہیں اور فرمایا ہے ، تعلق قوم بھذہ الایۃ فی ذم التقلید (الیٰ) وھذا فی الباطل صحیح اما التقلید فی الحق فاصل من اصول الدین وعصمۃ من عصم المسلمین یلجاء الیھا الجاہل المقصر عن درک النظر۔ (قرطبی ص 194: ج 2) " کچھ لوگوں نے اس آیت کو تقلید کی مذمت میں پیش کیا ہے اور یہ باطل کے معاملہ میں تو صحیح ہے لیکن حق کے معاملہ میں تقلید سے اس کا کوئی تعلق نہیں حق میں تقلید کرنا تو دین کے اصول میں سے ایک مستقل بنیاد ہے اور مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہے کہ جو شخص اجتہاد کی صلاحیت نہیں کرتا وہ دین کے معاملہ سے تقلید ہی پر اعتماد کرتا ہے،
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور شکر کرو اللہ کا اگر تم اسی کے بندے ہو،

خلاصہ تفسیر اوپر اکل طیبات کے معاملہ میں مشرکین کی غلطی بتلا کر ان کی اصلاح مقصود تھی آگے اہل ایمان کو اس بات سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس غلطی میں مشرکین کی موافقت نہ کرنے لگیں اسی کے ضمن میں اہل ایمان کو اپنے انعامات کا ذکر اور اس پر ادائے شکر کی تعلیم بھی ہے۔ اے ایمان والو ! (ہماری طرف سے تم کو اجازت ہے کہ) جو (شرع کی رو سے) پاک چیزیں ہم نے تم کو مرحمت فرمائی ہیں ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ (برتو) اور (اس اجازت کے ساتھ یہ حکم ہے کہ) حق تعالیٰ کی شکر گذاری کرو (زبان سے بھی ہاتھ پاؤں سے خدمت وطاعت بجا لاکر بھی اور دل سے ان نعمتوں کو منجانب اللہ سمجھ کر بھی) اگر تم خاص ان کے ساتھ غلامی کا تعلق رکھتے ہو (اور یہ تعلق ہونا مسلم اور ظاہر ہے پس وجوب شکر بھی ثابت ہے) ربط اوپر تو اس کا بیان تھا کہ حلال کو حرام مت کرو آگے یہ مذکور ہوتا ہے کہ حرام کو حلال مت سمجھو جیسا کہ مشرکین اس میں مبتلا تھے مثلاً مردار جانور اور ایسے جانور جن کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو مشرکین ان کو کھایا کرتے تھے اس سے منع کیا گیا اسی کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ کے نزدیک فلاں فلاں جانور حرام ہیں ان کے سوا دوسرے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا غلطی ہے اس سے پچھلے مضمون کی تائید ہوگئ۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر صرف (ان چیزوں کو) حرام کیا ہے (اور ان چیزوں کو حرام نہیں کیا جن کو تم اپنی طرف سے حرام کر رہے ہو جیسا کہ گذرا یعنی) مردار (جانور) کو (جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مرجاوے) اور خون کو (جو بہتا ہو) اور خنزیر کے گوشت کو (اسی طرح اس کے سب اجزاء کو بھی) اور ایسے جانور کو جو (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (ان سب کو بیشک حرام کیا ہے) پھر بھی (اس میں اتنی آسانی رکھی ہے کہ جو شخص (بھوک سے بہت ہی) بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو (کھانے میں) طالب لذت ہو اور نہ (قدر ضرورت و حاجت سے) تجاوز کرنے والا ہو تو (اس حالت میں ان چیزوں سے کھانے میں بھی) اس شخص پر کچھ گناہ نہیں ہوتا واقعی اللہ تعالیٰ ہیں بڑے غفور ورحیم (کہ ایسے وقت میں یہ رحمت فرمائی کہ گناہ کی چیز میں بھی گناہ اٹھا دیا) معارف و مسائل حلال کھانے کی برکت اور حرام کھانے کی نحوست آیات مذکورہ میں جیسے حرام کھانے کی ممانعت کی گئی ہے اسی طرح حلال طیب چیزوں کے کھانے اور اس پر شکر گذار ہونے کی ترغیب بھی ہے کیونکہ جس طرح حرام کھانے سے اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں عبادت کا ذوق جاتا رہتا ہے دعاء قبول نہیں ہوتی اسی طرح حلال کھانے سے ایک نور پیدا ہوتا ہے، اخلاق رذیلہ سے نفرت، اخلاق فاضلہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، عبادت میں دل لگتا ہے گناہ سے دل گھبراتا ہے دعاء قبول ہوتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب رسولوں کو یہ ہدایت فرمائی ہے، (آیت) يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (23: 51) اے ہمارے رسولو ! تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، اس میں اشارہ ہے کہ نیک عمل کرنے میں رزق حلال کو بڑا دخل ہے اسی طرح قبول دعا میں حلال کھانا معین اور حرام مانع قبول ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے لوگ طویل السفر پریشان حال اللہ کے سامنے دعاء کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور یا رب یا رب پکارتے ہیں مگر کھانا ان کا حرام، پینا ان کا حرام، لباس ان کا حرام، غذا ان کی حرام، ان حالات میں ان کی دعاء کہاں قبول ہوسکتی ہے (صحیح مسلم، ترمذی، از ابن کثیر)
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تم پر یہی حرام کیا ہے مردہ جانور اور لہو اور گوشت سور کا اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی بےاختیار ہوجائے نہ تو نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان۔

اِنَّمَا حَرَّمَ کلمہ انما حصر کے لئے آتا ہے اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف وہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا آگے ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا کچھ حرام نہیں اس آیت میں تو لفظ انما سے اس کی طرف اشارہ ہوا اور دوسری آیت میں اس سے زیادہ صراحت کے ساتھ یہ بھی آیا ہے، قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ الآیۃ (145: 6) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ میری وحی میں بجز ان چند چیزوں کے جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے اور کوئی چیز حرام نہیں، مگر اس پر اشکال یہ ہے کہ دوسری آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے ان چند چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کی حرمت ثابت ہے تو یہ حصر اور حرمت ماسوٰی کی نفی کیسے درست ہوگی ؟ جواب یہ ہے کہ یہاں مطلق حلال و حرام کا بیان نہیں بلکہ ان مخصوص جانوروں کی حلت و حرمت کا بیان ہے جن کے بارے میں مشرکین مکہ اپنے مشرکانہ عقائد کی غلطیاں کیا کرتے تھے پچھلی آیت میں اس کی وضاحت آچکی ہے کہ بہت سے حلال جانوروں کو مشرکین حرام سمجھ لیتے تھے یا اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے اس کی مخالفت کی گئی تھی اس کے بالمقابل یہاں یہ بتلایا گیا کہ اللہ کے نزدیک فلاں فلاں جانور حرام ہیں جن سے تم اجتناب نہیں کرتے اور جو اللہ کے نزدیک حلال ہیں ان سے پرہیز کرتے ہو اس لئے اس جگہ حصر مطلق نہیں بلکہ اضافی ہے مشرکانہ عقائد کے بالمقابل۔ آگے اس آیت میں جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ چار چیزیں یہ ہیں، (1) میتہ (مردار) ، (2) خون۔ (3) لحم خنزیر، (4) وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، پھر چاروں چیزوں کی مزید تشریحات خود قرآن کریم کی دوسری آیات اور احادیث صحیحہ میں آئی ہیں جن کو ملانے کے بعد ان چاروں چیزوں کے احکام حسب ذیل ہیں ان کو کسی قدر تفصیل سے لکھا جاتا ہے، میتہجس کو اردو میں مردار کہتے ہیں اس سے مراد وہ جانور ہے جس کے حلال ہونے کے لئے ازروئے شرع ذبح کرنا ضروری ہے مگر وہ بغیر ذبح کے خود بخود مرجائے یا گلا گھونٹ کر یا کسی دوسری طرح چوٹ مار کر مار دیا جائے جو وہ مردار اور حرام ہے لیکن خود قرآن کریم کی دوسری آیت اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ (96: 5) سے معلوم ہوا کہ دریائی جانور کے لئے ذبح کرنا شرط نہیں وہ بلا ذبح بھی جائز ہے اس بناء پر احادیث صحیحہ میں مچھلی اور ٹڈی کو میتہ سے مستثنیٰ قرار دے کر حلال کیا گیا ہے رسول ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مردار حلال کردئیے گئے ایک مچھلی دوسرے ٹڈی اور دو خون حلال کردئیے گئے جگر اور طحال (ابن کثیر از احمد، ابن ماجہ، دارقطنی) معلوم ہوا کہ جانوروں میں سے مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح کے حلال ہیں، خواہ وہ خود مرجائیں یا کسی کے مارنے سے مرجائیں البتہ جو مچھلی سڑ جانے کی وجہ سے خود پانی کے اوپر آجائے وہ حرام ہے (جصاص) اسی طرح وہ شکاری جانور جو قابو میں نہیں کہ ذبح کرلیا جائے اور اس کو بھی بسم اللہ پڑھ کر تیر وغیرہ دھاردار چیز سے زخم لگا دیں تو بغیر ذبح کے حلال ہوجاتا ہے مطلقا زخمی ہوجانا کافی نہیں کسی آلہ جارحہ تیز دھار سے زخمی ہونا شرط ہے، بندوق کی گولی سے شکار مسئلہبندوق کی گولی سے کوئی جانور زخمی ہو کر قبل ذبح مرجائے تو وہ ایسا ہے جیسے پتھر یا لاٹھی مارنے سے مرجائے جس کو قرآن کریم کی دوسری آیت میں موقوذۃ کہا گیا ہے اور حرام قرار دیا ہے ہاں مرنے سے پہلے اس کو ذبح کرلیا جائے تو حلال ہوجائے گا۔ مسئلہآج کل بندوق کی ایک گولی نوکدار بنائی گئی ہے اس کے متعلق بعض علماء کا خیال ہے کہ تیر کے حکم میں ہے مگر جمہور علماء کے نزدیک یہ بھی تیر کی طرح آلہ جارحہ نہیں بلکہ خارقہ ہے جس سے بارود کی طاقت کے ذریعہ گوشت پھٹ جاتا ہے ورنہ خود اس میں کوئی دھار نہیں جس سے جانور زخمی ہوجائے اس لئے ایسی گولی کا شکار بھی بغیر ذبح کے جائز نہیں۔ مسئلہآیت مذکورہ میں مطلقًا میتہ کو حرام قرار دیا ہے اس لئے جس طرح اس کا گوشت کھانا حرام ہے اس کی خریدو فروخت بھی حرام ہے یہی حکم تمام نجاسات کا ہے کہ جیسے ان کا استعمال حرام ہے ان کی خریدو فروخت اور ان سے نفع اٹھانا بھی حرام ہے یہاں تک کہ مردار جانور یا ناپاک کوئی چیز باختیار خود جانور کو کھلانا بھی جائز نہیں ہاں ایسی جگہ رکھ دے کہ جہاں سے کوئی کتا بلی خود کھالے یہ جائز ہے مگر خود اٹھا کر ان کو کھلانا جائز نہیں (جصاص، قرطبی وغیرہ) مسئلہاس آیت میں میتہ کے حرام ہونے کا حکم عام معلوم ہوتا ہے جس میں میتہ کے تمام اجزاء شامل ہیں لیکن دوسری آیت میں اس کی تشریح طاعِمٍ يَّطْعَمُهٗٓ کے الفاظ سے کردی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ مردار جانور کے وہ اجزاء حرام ہیں جو کھانے کے قابل ہیں، اس لئے مردار جانور کی ہڈی، بال جو کھانے کی چیز نہیں وہ پاک ہیں اور ان کا استعمال جائز ہے آیت قرآن کریم وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ (80: 16) میں ان جانوروں کے بالوں کو مطلقاً جائز الانتفاع قرار دیا ہے ذبیحہ کی شرط نہیں (جصاص) کھال پر چونکہ خون وغیرہ کی نجاست لگی ہوتی ہے اس لئے وہ دباغت سے پہلے حرام ہے مگر دباغت دینے کے بعد حلال اور جائز ہے احادیث صحیحہ میں اس کی مزید تصریح موجود ہے (جصاص) مسئلہمردار جانور کی چربی اور اس سے بنائی ہوئی چیزیں بھی حرام ہیں ان کا استعمال کسی طرح سے جائز نہیں اور خریدو فروخت بھی حرام ہے، مسئلہیورپ وغیرہ سے آئی ہوئی چیزیں صابون وغیرہ جن میں چربی استعمال ہوتی ہے ان سے پرہیز کرنا احتیاط ہے مگر مردار کی چربی ہونے کا علم یقینی نہ ہونے کی وجہ سے گنجائش ہے نیز اس وجہ سے بھی کہ بعض صحابہ کرام ابن عمر، ابوسعید خدری، ابو موسیٰ اشعری نے مردار کی چربی کا صرف کھانے میں استعمال حرام قرار دیا ہے خارجی استعمال کی اجازت دی ہے اس لئے اس کی خریدو فروخت کو بھی جائز رکھا ہے (جصاص) مسئلہدودھ کا پنیر بنانے میں ایک چیز استعمال کی جاتی ہے جس کو عربی زبان میں انفَحہ کہا جاتا ہے یہ جانور کے پیٹ سے نکالی جاتی ہے اس کو دودھ میں شامل کرنے سے دودھ جم جاتا ہے اب اگر یہ جانور اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا ہو تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں مذبوح جانور کا گوشت چربی وغیرہ سب حلال ہیں لیکن غیر مذبوح جانور کے پیٹ سے لیا جائے تو اس میں فقہا کا اختلاف ہے امام اعظم ابوحنفیہ اور امام مالک اس کو پاک قرار دیتے ہیں لیکن صاحبین امام ابو یوسف ومحمد اور ثوری وغیرہ اس کو ناپاک کہتے ہیں (جصاص، قرطبی) یورپ اور دوسرے غیر اسلامی ملکوں سے جو پنیر بنا ہوا آتا ہے اس میں غیر مذبوح جانوروں کا انفحہ استعمال ہونے کا احتمال غالب ہے اس لئے جمہور فقہاء کے قول پر اس سے پرہیز کرنا چاہئے امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک کے قول پر گنجائش ہے ہاں یورپ سے آئے ہوئے بعض پنیر ایسے بھی جن میں خنزیر کی چربی استعمال ہوتی ہے اور ڈبہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے وہ قطعا حرام اور نجس ہیں، خون کے مسائل دوسری چیز جو آیت مذکورہ میں حرام قرار دی گئی ہے وہ خون ہے لفظ دم بمعنی خون اس آیت میں اگرچہ مطلق ہے مگر سورة انعام کی آیت میں اس کے ساتھ مسفوح یعنی بہنے والا ہونے کی شرط ہے، (آیت) او دما مسفوحا (145: 6) اس لئے باتفاق فقہاء خون منجمد جیسے گردہ تلی وغیرہ وہ حلال اور پاک ہیں، مسئلہجب کہ حرام صرف بہنے والا خون ہے تو جو خون ذبح کے بعد گوشت میں لگا رہ جاتا ہے وہ پاک ہے فقہاء و صحابہ وتابعین اور امت کا اس پر اتفاق ہے اسی طرح مچھر، مکھی، کھٹمل وغیرہ کا خون بھی ناپاک نہیں لیکن زیادہ ہوجائے تو اس کو بھی دھونا چاہیں (جصاص) مسئلہجس طرح خون کا کھانا پینا حرام ہے اسی طرح اس کا خارجی استعمال بھی حرام ہے اور جس طرح تمام نجاسات کی خریدو فروخت بھی اور اس سے نفع اٹھانا حرام ہے اسی طرح خون کی خریدو فروخت بھی حرام ہے اس سے حاصل کی ہوئی آمدنی بھی حرام ہے کیونکہ الفاظ قرآنی میں مطلقا دم کو حرام فرمایا ہے جس میں اس کے استعمال کی تمام صورتیں شامل ہیں، مریض کو دوسرے کا خون دینے کا مسئلہ تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ انسانی خون انسان کا جزء ہے اور جب بدن سے نکال لیا جائے تو وہ نجس بھی ہے اس کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ ایک انسان کا خون دوسرے کے بدن میں داخل کرنا دو وجہ سے حرام ہو، اول اس لئے کہ اعضاء انسانی کا احترام واجب ہے اور یہ اس احترام کے منافی ہے دوسرے اس لئے کہ خون نجاست غلیظہ ہے اور نجس چیزوں کا استعمال ناجائز ہے، لیکن اضطراری حالات اور عام معالجات میں شریعت اسلام کی دی ہوئی سہولتوں میں غور کرنے سے امور ذیل ثابت ہوئے، اول یہ کہ خون اگرچہ جزء انسانی ہے مگر اس کو کسی دوسرے انسان کے بدن میں منتقل کرنے کے لئے اعضاء انسانی میں کانٹ چھانٹ اور آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی، انجکشن کے ذریعہ خون نکالا اور دوسرے کے بدن میں ڈالا جاتا ہے اس لئے اس کی مثال دودھ کی سی ہوگئی جو بدن انسانی سے بغیر کسی کاٹ چھانٹ کے نکلتا اور دوسرے انسان کا جزء بنتا ہے اور شریعت اسلام نے بچہ کی ضرورت کے پیش نظر انسانی دودھ ہی کو اس کی غذا قرار دیا ہے اور ماں پر اپنے بچوں کو دودھ پلانا واجب کیا، جب تک وہ بچوں کے باپ کے نکاح میں رہے طلاق کے بعد ماں کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا بچوں کا رزق مہیا کرنا باپ کی ذمہ داری ہے وہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوائے یا ان کی ماں ہی کو معاوضہ دے کر اس سے دودھ پلوائے قرآن کریم میں اس کی واضح تصریح موجود ہے، (آیت) فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ (6: 65) اگر تمہاری مطلقہ بیوی تمہارے بچوں کو دودھ پلائے تو اس کو اجرت و معاوضہ دیدو، خلاصہ یہ ہے کہ دودھ جزء انسانی ہونے کے باوجود بوجہ ضرورت اس کے استعمال کی اجازت بچوں کے لئے دی گئی ہے اور علاج کے طور پر بڑوں کے لئے بھی جیسا کہ عالمگیری میں ہے، ولابأ سَ بان یسعط الرجل بلبن المرأۃ ویشربہ للدواء (عالمگیری ص 4) اس میں مضائقہ نہیں کہ دوا کے لئے کسی شخص کی ناک میں عورت کا دودھ ڈالا جائے یا پینے میں استعمال کیا جائے، اور مغنی ابن قدامہ میں اس مسئلہ کی مزید تفصیل مذکور ہے (مغنی کتاب الصید ص 602 ج 8) اگر خون کو دودھ پر قیاس کیا جائے تو کچھ بعید از قیاس نہیں کیونکہ دودھ بھی خون کی بدلی ہوئی صورت ہے اور جزء انسان ہونے میں مشترک ہے فرق صرف یہ ہے کہ دودھ پاک ہے اور خون ناپاک، تو حرمت کی پہلی وجہ یعنی جزء انسانی ہونا تو یہاں وجہ ممانعت نہ رہی صرف نجاست کا معاملہ رہ گیا علاج ودواء کے معاملہ میں بعض فقہاء نے خون کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے، اس لئے انسان کا خون دوسرے کے بدن میں منتقل کرنے کا شرعی حکم یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں تو جائز نہیں مگر علاج ودواء کے طور پر اس کا استعمال اضطراری حالت میں بلاشبہ جائز ہے اضطراری حالت سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان کا خطرہ ہو اور کوئی دوسری دوا اس کی جان بچانے کے لئے مؤ ثر یا موجود نہ ہو اور خون دینے سے اس کی جان بچنے کا ظن غالب ہو، ان شرطوں کے ساتھ خون دینا تو اس نص قرآنی کی رو سے جائز ہے جس میں مضطر کے لئے مردار جانور کھا کر جان بچانے کی اجازت صراحۃ مذکور ہے اور اگر اضطراری حالت نہ ہو یا دوسری دوائیں بھی کام کرسکتی ہوں تو ایسی حالت میں مسئلہ مختلف فیہا ہے بعض فقہا کے نزدیک جائز ہے بعض ناجائز کہتے ہیں جس کی تفصیل کتب فقہ بحث تداوی بالمحرم میں مذکور ہے واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم احقر کا ایک مستقل رسالہ بھی اس موضوع پر شائع ہوگیا ہے جس کا نام ہے اعضائے انسانی کی پیوند کاری اس کو ملاحظہ فرمایا جائے۔ تحریم خنزیرتیسری چیز جو اس آیت میں حرام کی گئی ہے وہ لحم خنزیر ہے آیت میں حرمت خنزیر کے ساتھ لحم کی قید مذکور ہے، امام قرطبی نے فرمایا کہ اس سے مقصود لحم یعنی گوشت کی تخصیص نہیں بلکہ اس کے تمام اجزاء ہڈی، کھال، بال، پٹھے سب ہی باجماع امت حرام ہیں لیکن لفظ لحم بڑھا کر اشارہ اس طرف ہے کہ خنزیر دوسرے حرام جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ وہ ذبح کرنے سے پاک ہوسکتے ہیں اگرچہ کھانا حرام ہی رہے کیونکہ خنزیر کا گوشت ذبح کرنے سے بھی پاک نہیں ہوتا کہ وہ نجس العین بھی ہے حرام بھی صرف چمڑا سینے کے لئے اس کے بال کا استعمال حدیث میں جائز قرار دیا ہے (جصاص قرطبی) مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کی تین صورتیں چوتھی چیز جس کو آیت میں حرام قرار دیا گیا ہے وہ جانور ہے جو غیر اللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو جس کی تین صورتیں متعارف ہیں اول یہ کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے اور بوقت ذبح اسی غیر اللہ کا نام لیا جائے یہ صورت باتفاق و بااجماع امت حرام ہے اور یہ جانور میتہ ہے اس کے کسی جزء سے انتفاع جائز نہیں کیونکہ یہ صورت آیت مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا مدلول صریح ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کو تقرب الی غیر اللہ کے لئے ذبح کیا جائے یعنی اس کا خون بہانے سے تقرب الیٰ غیر اللہ مقصود ہو لیکن بوقت ذبح اس پر نام اللہ ہی کا لیا جائے جیسے بہت سے ناواقف مسلمان بزرگوں پیروں کے نام پر ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بکرے، مرغے وغیرہ ذبح کرتے ہیں لیکن ذبح کے وقت اس پر نام اللہ ہی کا پکارتے ہیں یہ صورت بھی باتفاق فقہا حرام اور مذبوحہ مردار ہے، مگر تخریج دلیل میں کچھ اختلاف ہے بعض حضرات مفسرین وفقہاء نے اس کو بھی مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا مدلول صریح قرار دیا ہے جیسا کہ حواشی بیضاوی میں ہے۔ فکل ما نودی علیہ بغیر اسم اللہ فھو حرام وان ذبح باسم اللہ تعالیٰ حیث اجمع العلماء لو ان مسلماً ذبح ذبیحۃ وقصد بذبحہ التقرب الیٰ غیر اللہ صار مرتدا وذبیحتہ ذبیحۃ مرتد۔ " ہر وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام کردیا گیا وہ حرام ہے اگرچہ بوقت ذبح اللہ ہی کا نام لیا ہو اس لئے کہ علماء فقہاء کا اتفاق ہے کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے تقرب کے لئے اگر کوئی مسلمان ذبح کرے تو وہ مرتد ہوجاوے گا اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ کہلائے گا "۔ نیز درمختار کتاب الذبائح میں ہے ذبح لقدوم الامیر ونحوہ کو احد من العظماء یحرم لانہ اھل بہ لغیر اللہ ولو ذکر اسم اللہ واقرہ الشامی (ص 214 ج 5) " کسی امیر یا بڑے کے آنے پر جانور ذبح کیا تو وہ حرام ہوگا کیونکہ وہ ما اہل بہ ل غیر اللہ میں داخل ہے اگرچہ بوقت ذبح اللہ ہی کا نام لیا ہو اور شامی نے اس کی تائید کی "۔ اور بعض حضرات نے اس صورت کو مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا مدلول صریح تو نہیں بنایا کیونکہ وہ بحیثیت عربیت تکلف سے خالی نہیں مگر بوجہ اشتراک علت یعنی تقرب الیٰ غیر اللہ کی نیت کے اس کو بھی مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے ساتھ ملحق کرکے حرام قرار دیا ہے احقر کے نزدیک یہی وجہ احوط اور اسلم ہے۔ نیز اس صورت کی حرمت کے لئے ایک مستقل آیت بھی دلیل ہے یعنی وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ نصب ان تمام چیزوں کو کہا جاتا ہے جن کی باطل طور پر پرستش کی جاتی ہے معنی یہ ہیں کہ وہ جانور جس کو معبودات باطلہ کے لئے ذبح کیا گیا ہے اس سے پہلے وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مَآ اُهِلَّ کا مدلول صریح تو وہی جانور ہے جس پر بوقت ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا اور ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ (3: 5) اس کے بالمقابل آیا ہے جس میں غیر اللہ کے نام لینے کا ذکر نہیں صرف بتوں و غیر اللہ کی خوشنودی کی نیت سے ذبح کرنا مراد ہے اس میں وہ جانور بھی داخل ہیں جن کو ذبح تو کیا گیا ہے غیر اللہ کے تقرب کے لئے مگر بوقت ذبح اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے (افادہ شیخ حکیم الامت) امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کیا ہے ان کی عبارت یہ ہے، وجرت عادۃ العرب بالصیاح باسم المقصود بالذبیحۃ وغلب ذلک فی استعمالھم حتی عبر بہ عن النیۃ اللتی ھی علۃ التحریم (تفسیر قرطبی ص 207 ج 2) " عرب کی عادت تھی کہ جس کے لئے ذبح کرنا مقصود ہوتا ذبح کرنے کے وقت اس کا نام بلند آواز سے پکارتے اور یہ رواج ان میں عام تھا یہاں تک کہ اس آیت میں تقرب الیٰ غیر اللہ کو جو کہ اصل علت تحریم ہی اہلال کے لفظ سے تعبیر کردیا، امام قرطبی نے اپنی اس تحقیق کی بنیاد صحابہ کرام میں سے دو حضرات حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت صدیقہ عائشہ عنہا کے فتاویٰ پر رکھی ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانہ میں فرزدق شاعر کے باپ غالب نے ایک اونٹ ذبح کیا تھا جس پر کسی غیر اللہ کا نام لینے کا کوئی ذکر نہیں مگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کو بھی مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ میں داخل قرار دے کر حرام فرمایا اور سب صحابہ کرام نے اس کو قبول کیا اسی طرح امام مسلم کے شیخ یحییٰ بن یحییٰ کی سند سے حضرت صدیقہ عائشہ کی ایک طویل حدیث نقل کہ جس کے آخر میں ہے کہ ایک عورت نے حضرت صدیقہ سے سوال کیا کہ ام المؤ منین ہمارے کچھ رضاعی رشتہ دار عجمی لوگوں میں سے ہیں اور ان کے یہاں تو روز روز کوئی نہ کوئی تہوار ہوتا رہتا ہے یہ اپنے تہواروں کے دن کچھ ہدیہ تحفہ ہمارے پاس بھی بھیج دیتے ہیں ہم اس کو کھائیں یا نہیں ؟ اس پر صدیقہ عائشہ نے فرمایا اما ما ذبح لذلک الیوم فلا تاکلوا ولکن کلوا من اشجارہم (تفسیر قرطبی ص 207 ج 2) " جو جانور اس عید کے دن کے لئے ذبح کیا گیا ہو وہ نہ کھاؤ لیکن ان کے درختوں کے پھل وغیرہ کھا سکتے ہو "۔ الغرض یہ صورت ثانیہ جس میں نیت تو تقرب الیٰ غیر اللہ کی ہو مگر ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا جائے اول تو اشتراک علت یعنی نیت تقرب الی غیر اللہ کی وجہ سے مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے حکم میں ہے دوسرے آیت وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ کا بھی مدلول ہے اس لئے یہ بھی حرام ہے، تیسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کو کان کاٹ کر یا کوئی دوسری علامت لگا کر تقرب الی غیر اللہ اور تعظیم غیر اللہ کے لئے چھوڑ دیا جائے نہ اس سے کام لیں اور نہ اس کے ذبح کرنے کا قصد ہو بلکہ اس کے ذبح کرنے کو حرام جانیں یہ جانور مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ اور وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ دونوں میں داخل نہیں بلکہ اس قسم کے جانور کو بحیرہ یا سائبہ وغیرہ کہا جاتا ہے اور حکم ان کا یہ ہے کہ یہ فعل تو بنص قرآن حرام ہے جیسا کہ آیت مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ (103: 5) میں انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا، مگر ان کے اس حرام عمل سے اور اس جانور کو حرام سمجھنے کے عقیدہ سے یہ جانور حرام نہیں ہوجاتے بلکہ اس کو حرام سمجھنے میں تو ان کے عقیدہ باطلہ کی تائید وتقویت ہوتی ہے اس لئے یہ جانور عام جانوروں کی طرح حلال ہے، مگر شرعی اصول کے مطابق یہ جانور اپنے مالک کی ملک سے خارج نہیں ہوا اسی کا مملوک ہے اگرچہ وہ اپنے غلط عقیدہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میری ملک سے نکل کر غیر اللہ کے لئے وقف ہوگیا مگر شرعاً اس کا یہ عقیدہ باطل ہے وہ جانور بدستور اس کی ملک میں ہے، اب اگر وہ شخص خود اس جانور کو کسی کے ہاتھ فروخت کردے یا ہبہ کردے تو اس کے لئے یہ جانور حلال ہے جیسا بکثرت ہندو اپنے دیوتاؤں کے نام بکری یا گائے وغیرہ کو اپنے نزدیک وقف کرکے چھوڑ دیتے ہیں اور مندروں کے پجارویوں جوگیوں کو اختیار دیتے ہیں وہ جو چاہیں کریں یہ مندروں کے پجاری ان کو مسلمانوں کے ہاتھ بھی فروخت کردیتے ہیں، یا اسی طرح بعض جاہل مسلمان بھی بعض مزارات پر ایسا ہی عمل کرتے ہیں کہ بکرا یا مرغا چھوڑ دیتے ہیں اور مزارات کے مجاورین کو اختیار دیتے ہیں وہ ان کو فروخت کردیتے ہیں تو جو لوگ ان جانوروں کو ان لوگوں سے خرید لیں جن کو اصل مالک نے اختیار دیا ہے ان کے لئے خریدنا اور ذبح کرکے کھانا اور فروخت کرنا سب حلال ہے، نذر غیر اللہ کا مسئلہ یہاں ایک چوتھی صورت اور ہے جس کا تعلق حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں سے ہے مثلاً مٹھائی کھانا وغیرہ جن کو غیر اللہ کے نام پر نذر (منت) کے طور سے ہندو لوگ بتوں پر اور جاہل مسلمان بزرگوں کے مزارات پر چڑھاتے ہیں حضرات فقہاء نے اس کو بھی اشتراک علت یعنی تقرب الیٰ غیر اللہ کی وجہ سے مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے حکم میں قرار دے کر حرام کہا ہے اور اس کے کھانے پینے دوسروں کو کھلانے اور بیچنے خریدنے سب کو حرام کہا ہے کتب فقہ بحر الرائق وغیرہ میں اس کی تفصیلات مذکور ہیں یہ مسئلہ قیاسی ہے جس کو نص قرآنی متعلقہ حیوانات پر قیاس کیا گیا ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم، اضطرار ومجبوری کے احکام آیت مذکورہ میں چار چیزیں حرام قرار دینے کے بعد ایک حکم استثنائی مذکور ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ اس حکم میں اتنی آسانی کردی گئی ہے کہ جو شخص بھوک سے بہت ہی بیتاب ہوجائے بشرطیکہ نہ تو کھانے میں طالب لذت ہو اور نہ قدر ضرورت سے تجاوز کرنے والا ہو تو اس حالت میں ان حرام چیزوں کو کھا لینے سے بھی اس شخص کو کوئی گناہ نہیں ہوتا بیشک اللہ تعالیٰ ہیں بڑے غفور ورحیم۔ اس میں مضطر کے لئے جان بچانے کے واسطے دو شرطوں کے ساتھ ان حرام چیزوں کے کھا لینے سے بھی گناہ اٹھا دیا گیا ہے، مضطرشرعی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی جان خطرہ میں ہو معمولی تکلیف یا ضرورت سے مضطر نہیں کہا جاسکتا تو جو شخص بھوک سے ایسی حالت پر پہنچ گیا کہ اگر کچھ نہ کھائے تو جان جاتی رہے گی اس کے لئے دو شرطوں کے ساتھ یہ حرام چیزیں کھا لینے کی گنجائش دی گئ ہے ایک شرط یہ ہے کہ مقصود جان بچانا ہو کھانے کی لذت حاصل کرنا مقصود نہ ہو دوسری شرط یہ ہے کہ صرف اتنی مقدار کھائے جو جان بچانے کے لئے کافی ہو پیٹ بھر کر کھانا یا قدر ضرورت سے زائد کھانا اس وقت بھی حرام ہے، اہم فائدہیہاں قرآن عزیز نے اضطرار کی حالت میں بھی حرام چیزوں کے کھانے کو حلال نہیں فرمایا بلکہ لآ اِثْمَ عَلَيْهِ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں تو اب بھی اپنی جگہ حرام ہی ہیں مگر اس کھانے والے سے بوجہ اضطرار کے استعمال حرام کا گناہ معاف کردیا گیا حلال ہوجانے اور گناہ معاف کردینے میں بڑا فرق ہے اگر اضطراری حالت میں ان چیزوں کو حلال کردینا مقصود ہوتا تو حرمت سے صرف استثناء کردینا کافی ہوتا مگر یہاں صرف استثناء پر اکتفاء کردینے کے بجائے لآ اِثْمَ عَلَيْهِ کا اضافہ فرما کر اس نکتہ کی طرف اشارہ کردیا کہ حرام تو اپنی جگہ حرام ہی ہے اور اس کا استعمال گناہ ہی ہے مگر مضطر سے یہ گناہ معاف کردیا گیا، حالت اضطرار میں دواء کے طور پر حرام چیزوں کا استعمال آیت مذکورہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس شخص کی جان خطرہ میں ہو وہ جان بچانے کے لئے بطور دواء کے حرام چیز کو استعمال کرسکتا ہے مگر آیت مذکورہ ہی کے اشارہ سے اس میں چند شرطیں معلوم ہوتی ہیں، اول یہ کہ حالت اضطرار کی ہو خطرہ جان جانے کا ہو، معمولی تکلیف و بیماری کا یہ حکم نہیں ہے دوسرے یہ کہ بجز حرام چیز کے اور کوئی چیز علاج ودواء کے لئے مؤ ثر نہ ہو یا موجود نہ ہو جیسے شدید بھوک کی حالت میں استثناء اسی وقت ہے جب کہ کوئی دوسری حلال غذا موجود ومقدور نہ ہو تیسرے یہ کہ اس حرام کے استعمال کرنے سے جان بچ جانا یقینی ہو جیسے بھوک سے مضطر کے لئے ایک دو لقمہ حرام گوشت کا کھا لینا عادۃ اس کی جان بچانے کا یقینی سامان ہے اگر کوئی دواء ایسی ہے کہ اس کا استعمال مفید تو معلوم ہوتا ہے مگر اس سے شفاء یقینی نہیں تو اس دواء کا استعمال آیت مذکورہ کے استثنائی حکم میں داخل ہو کر جائز نہیں ہوگا اس کے ساتھ مزید دو شرطیں آیت قرآنی میں منصوص ہیں کہ اس کے استعمال سے لذت حاصل کرنا مقصود نہ ہو اور قدر ضرورت سے زائد استعمال نہ کرے، آیت مذکورہ کی تصریح اور اشارات سے جو قیود و شرائط حاصل ہوئے ان شرائط کے ساتھ ہر حرام و ناپاک دواء کا استعمال خواہ کھانے پینے میں ہو یا خارجی استعمال میں باتفاق فقہاء امت جائز ہے ان شرائط کا خلاصہ پانچ چیزیں ہیں، (ا) حالت اضطرار کی ہو یعنی جان کا خطرہ ہو (2) دوسری کوئی حلال دواء کارگر نہ ہو یا موجود نہ ہو (3) اس دواء سے مرض کا ازالہ عادۃ یقینی ہو (4) اس کے استعمال سے لذت حاصل کرنا مقصود نہ ہو (5) قدر ضرورت سے زائد اس کو استعمال نہ کیا جائے، غیر اضطراری حالت میں عام علاج ودواء کے لئے حرام چیز کا استعمال اضطراری حالت کا مسئلہ تو شرائط مذکورہ کے ساتھ نص قرآن سے ثابت اور اجماعی حکم ہے لیکن عام بیماریوں میں بھی کسی ناپاک یا حرام دواء کا استعمال جائز ہے یا نہیں اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے اکثر فقہاء نے فرمایا کہ بغیر اضطرار اور ان تمام شرائط کے جو اوپر مذکور ہوئیں حرام دواء کا استعمال جائز نہیں کیونکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حرام میں شفاء نہیں رکھی (بخاری شریف) بعض دوسرے فقہاء نے ایک خاص واقعہ حدیث سے استدلال کرکے جائز قرار دیاوہ واقعہ عرنیین کا ہے جو تمام کتب حدیث میں مذکور ہے کہ کچھ گاؤں والے لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے آنحضرت ﷺ نے ان کو اونٹ کا دودھ اور پیشاب استعمال کرنے کی اجازت دی جس سے ان کو شفاء ہوگئی، مگر اس واقعہ میں متعدد احتمالات ہیں جن سے حرام چیز کا استعمال مشکوک ہوجاتا ہے اس لئے اصل حکم تو یہی ہے کہ عام بیماریوں میں جب تک شرائط اضطرار مذکورہ موجود نہ ہوں حرام دواء کا استعمال جائز نہیں۔ لیکن فقہاء متاخرین نے موجودہ زمانے میں حرام و ناپاک دواؤں کی کثرت اور ابتلاء عام اور عوام کے ضعف پر نظر کرکے اس شرط کے ساتھ اجازت دی ہے کہ کوئی دوسری حلال اور پاک دواء اس مرض کے لئے کارگر نہ ہو یا موجود نہ ہو، کما فی الدر المختار قبیل فصل البیر اختلف فی التداوی بالمحرم وظاہر المذہب المنع کما فی رضاع البحر ولکن نقل المصنف ثم وھھنا عن الحاوی قیل یرخص اذا علم فیہ الشفاء ولم یعلم دواء اخر کما رخص فی الخمر للعطشان وعلیہ الفتوٰی و مثلہ فی العالمگیریۃ (ص 355 ج 5) درمختار میں فصل بیر سے پہلے مذکور ہے حرام چیزوں کو بطور دواء استعمال کرنے میں اختلاف ہے اور ظاہر مذہب میں اس کی ممانعت آئی ہے جیسا کہ بحر الرائق کتاب الرضاع میں مذکور ہے لیکن مصنف تنویر نے اس جگہ رضاع میں بھی اور یہاں بھی حاوی قدسی سے نقل کیا ہے کہ بعض علماء نے فرمایا دواء وعلاج کے لئے حرام چیزوں کا استعمال اس شرط سے جائز ہے کہ اس دواء کے استعمال سے شفاء ہوجانا عادۃ یقینی ہو اور کوئی حلال دواء اس کا بدل نہ ہوسکے جیسا کہ پیاسے کے لئے شراب کا گھونٹ پینے کی اجازت دی گئی ہے، مسئلہتفصیل مذکور سے ان تمام انگریزی دواؤں کا حکم معلوم ہوگیا جو یورپ وغیرہ سے آتی ہیں جن میں شراب وغیرہ نجس اشیاء کا ہونا معلوم و یقینی ہو اور جن دواؤں میں حرام ونجس اجزاء کا وجود مشکوک ہے ان کے استعمال میں اور زیادہ گنجائش ہے اور احتیاط بہرحال احتیاط ہے خصوصاً جبکہ کوئی شدید ضرورت بھی نہ ہو، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayahs 2:174–176

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لئے ہے عذاب دردناک،

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے خریدا گمراہی کو بلدے ہدایت کے اور عذاب بدلے بخشش کے، سو کس قدر صبر کرنے والے ہیں دوزخ پر،

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ اللہ نے نازل فرمائی کتاب سچی، اور جنہوں نے اختلاف کو ڈالا کتاب میں وہ بیشک ضد میں دور جا پڑے۔

خلاصہ تفسیر وربط آیات اس سے پہلی آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر تھا جو محسوسات میں سے ہیں اگلی آیات میں ایسے حرام کاموں کا ذکر ہے جو محسوس نہیں بلکہ وہ باطنی اور ظاہری اعمال شر ہیں مثلاً علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے موافق فتوے دیدیتے تھے، اور توریت کی آیات میں تحریف کر کے ان مطلب کے موافق بناتے تھے، اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کریں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں، دین فروشی کی سزا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب (کے مضامین) کا اخفاء کرتے ہیں اور اس (خیانت) کے معاوضہ میں (دنیا کی) متاع قلیل وصول کرتے ہیں ایسے لوگ اور کچھ نہیں اپنے پیٹ میں آگ (کے انگارے) بھر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے نہ تو قیامت میں (لطف کے ساتھ) کلام کریں گے اور نہ (گناہ معاف کرکے) ان کی صفائی کریں گے اور ان کو سزائے درد ناک ہوگی یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے (دنیا میں تو) ہدایت چھوڑ کر ضلالت اختیار کی اور (آخرت میں) مغفرت چھوڑ کر عذاب (سر پر لیا) سو (شاباش ہے ان کی ہمت کو) دوزخ (میں جانے) کے لئے کیسے باہمت ہیں (اور) یہ (ساری مذکورہ) سزائیں (ان کو) اس وجہ سے ہیں کہ حق تعالیٰ نے (اس) کتاب کو ٹھیک ٹھیک بھیجا تھا اور جو لوگ (ایسی ٹھیک ٹھیک بھیجی ہوئی کتاب میں بےراہی (اختیار) کریں وہ ظاہر ہے کہ بڑی دور (ودراز) کی خلاف (ورزی) میں (مبتلا) ہوں گے (اور ایسی خلاف ورزی پر ضرور ایسی ہی سخت سزاؤں کا استحقاق ہوگا) معارف و مسائل مسئلہآیات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ جو شخص مال کے لالچ سے حکم شرعی کو بدل دے وہ جو یہ مال حرام کھاتا ہے گویا اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہا ہے کیونکہ اس عمل کا انجام یہی ہے اور بعض محقق علماء نے فرمایا کہ مال حرام درحقیقت جہنم کی آگ ہی ہے اگرچہ اس کا آگ ہونا دنیا میں محسوس نہیں ہوتا مگر مرنے کے بعد اس کا یہ عمل آگ کی شکل میں سامنے آجائے گا۔