Ayah 2:118خلاصہ تفسیر
اور (بعضے) جاہل (یہود و نصاریٰ اور مشرکین رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں) یوں کہتے ہیں کہ (خود) اللہ تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں فرماتے (خواہ فرشتوں کے بغیر جیسے خود فرشتوں سے کلام فرماتے ہیں یا فرشتوں کے واسطے سے جیسے پیغمبروں سے بطور وحی بات کرتے ہیں اور اس کلام میں یا تو خود ہم کو احکام بتادیں کہ دوسرے رسول کی ہم کو ضرورت ہی نہ رہے یا کم از کم اتنا ہی کہہ دیں کہ محمد ﷺ ہمارے رسول ہیں تو ہم ان کی ہی رسالت کے قائل ہو کر ان کی اطاعت کرنے لگیں) یا کلام نہیں کرتے تو) ہمارے پاس کوئی اور ہی دلیل (ثبوت رسالت کی) آجائے (حق تعالیٰ اولا اس بات کا جاہلانہ رسم ہونا بتلاتے ہیں کہ) اس طرح وہ (جاہل) لوگ بھی کہتے چلے آئے ہیں جو ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان ہی کا سا (جاہلانہ) قول (سو معلوم ہوا کہ یہ قول کوئی باوقعت اور باریک بینی پر مبنی نہیں یوں ہی ہانک دیا جاتا ہے پھر ثانیاً اس قول کا منشاء اور سبب بیان فرماتے ہیں کہ) ان سب (اگلے پچھلے جاہلوں) کے قلوب (کج فہمی میں) باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہیں (اس لئے سب سے بات بھی ایک ہی سی پیدا ہوئی پھر ثالثا اس قول کا جواب دیتے ہیں اور چونکہ اس قول کا جزو اول حماقت محض تھا کہ اپنے کو اس لیاقت پر ہم پلہ ملائکہ اور انبیاء کا بنانا چاہتے تھے جو بالکل ہی بدیہی البطلان ہے اس لئے اس احمقانہ بات کو نظر انداز کرکے صرف دوسرے جز کا جواب ارشاد ہوتا ہے کہ تم ایک دلیل کو لئے پھرتے ہو) ہم نے تو بہت سی دلیلیں (رسالت محمدیہ کے ثبوت میں) صاف صاف بیان کردی ہیں (مگر وہ) ان لوگوں کے لئے (نافع و کافی ہوسکتی ہیں) جو یقین (اور اطمینان حاصل کرنا) چاہتے ہیں اور چونکہ معترضین کو محض ضد اور کدہی مقصود ہے اس لئے حق طلبی کی نظر سے ان کو تحقیق ہی منظور نہیں سو ایسوں کی تسلی وتشفی کا کون ذمہ دار بنے)
فائدہیہود و نصاریٰ تو اہل کتاب تھے ان میں اہل علم بھی تھے اس کے باوجود جو ان کو اللہ تعالیٰ نے جاہل فرمایا تو اس لئے کہ باوجودیکہ قطعی اور قوی دلائل کثرت سے قائم کردئیے گئے تھے پھر بھی جو انکار کئے جارہے تھے تو جہالت نہیں تو اور کیا تھا اور یہ جاہلوں ہی کی سی بات کہلائے گی لہذا اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو جاہل فرمایا،
Ayah 2:119خلاصہ تفسیر
(چونکہ رسول اللہ ﷺ کی شان رحمۃ للعالمینی کا تقاضا یہ ہوسکتا تھا کہ آپ کو اس جہالت اور عناد کی بدولت دل تنگی پیش آتی اور ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی صورت سمجھ میں نہ آنے کے سبب آپ ملول وآزردہ خاطر ہوجاتے اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے رسول) ہم نے آپ کو ایک سچا دین دے کر (خلق کی طرف) بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) خوش خبری سناتے رہئے اور (نہ ماننے والوں کو سزا سے) ڈراتے رہئے اور آپ سے دوزخ میں جانے والوں کی باز پرس نہ ہوگی (کہ ان لوگوں نے کیوں نہیں قبول کیا اور کیوں دوزخ میں گئے آپ اپنا کام کرتے رہئے آپ کو کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی کوئی فکر نہیں کرنی چاہئے)
Ayah 2:120خلاصہ تفسیر
اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک کہ آپ (خدانخواستہ) ان کے مذہب کے (بالکل) پیرونہ ہوجائیں (اور یہ محال ہے پس ان کا راضی ہونا محال ہے اور اگر کبھی اس قسم کی بات ان کی زبان یا حال سے مترشح ہو تو) آپ (صاف) کہہ دیجئے کہ (بھائی) حقیقت میں ہدایت کا تو وہی راستہ ہے جس کو خدا نے (ہدایت کا راستہ) بتلایا ہے (اور دلائل سے ایسا راستہ صرف اسلام ہونا ثابت ہوچکا ہے پس راہ ہدایت وہی رہا) اور (یہ امر کہ آپ نعوذ باللہ ان کے مذہب کے پیرو ہوجائیں محال اس لئے ہے کہ اس سے ایک محال لازم آتا ہے کیونکہ) اگر آپ ان کے غلط خیالات کا اتباع کرنے لگیں (جس کو وہ اپنا مذہب سمجھتے ہیں مگر کچھ تحریف سے اور کچھ منسوخ ہوجانے سے اب وہ محض چند غلط خیالات کا مجموعہ رہ گیا ہے اور پھر اتباع بھی کیسی حالت میں کہ) علم (قطعی ثابت بالوحی) آچکنے کے بعد تو (ایسی حالت میں تو) آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار (بلکہ توبہ توبہ پنجہ قہر میں گرفتار ہوجانا لازم آوے اور یہ لازم محال ہے کیونکہ دلائل قطعیہ سے دوام رضائے حق تعالیٰ آپ سے ثابت ہے پس غضب محال ہے اور اتباع مذکور سے یہ لازم آیا تھا اس لئے اتباع مذکور بھی محال اور بدون اتباع کے ان کا راضی ہونا غیر ممکن تو ایسے امر کی امید کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے اس سے دل کو خالی کرلینا چاہئے)۔
Ayah 2:121خلاصہ تفسیر
(اس آیت سے پہلے کی آیت میں معاندین اہل کتاب کا ذکر اور مخالفین کے ایمان سے کلی مایوسی کا بیان تھا اس کے بعد حسب عادت قرآن انصاف پسند اہل کتاب کا بیان ہے جنہوں نے حق واضح ہوجانے کے بعد جناب رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور آپ کا اتباع اختیار کرلیا پس ارشاد ہے) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی بشرطیکہ وہ اس کی تلاوت (اس طرح) کرتے رہے جس طرح تلاوت کا حق ہے (کہ قوت علمیہ کو فہم مضامین میں صرف کیا اور قوت ارادیہ کو عزم اتباع حق میں استعمال کیا) ایسے لوگ (البتہ آپ کے) اس (دین حق اور علم وحی) پر ایمان لے آتے ہیں اور جو شخص نہ مانے گا (کس کا نقصان کرے گا) خود ہی ایسے لوگ خسارہ میں رہیں گے (کہ ایمان پر جو ثمرات عطا ہوتے ہیں ان سے محروم رہیں گے)۔
Ayahs 2:122–123خلاصہ تفسیر
اوپر کی آیت تک بنی اسرائیل کے متعلق جن خاص مضامین کا بیان کرنا مقصود تھا وہ تو ختم ہوئے اب ان مضامین کی ابتدائی تمہید جن کے اجمال کے یہ سارے مضامین تفصیل تھے اس کو دوبارہ پھر بیان کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ تمہید کا مضمون خاص یعنی ترغیب کے لئے انعام عام وخاص کا یاد دلانا اور ترہیب کیلئے قیامت کو پیش نظر کردینا بوجہ تکرار خوب ذہن نشین ہوجائے کیونکہ مقصود اعظم کلیات ہوتے ہیں جن کا خود استحضار ان کے اختصار کی وجہ سے سہل اور آسان ہوتا ہے اور بوجہ جامعیت اور انطباق کے ان کے ذریعہ سے ان کے جزئیات کا محفوظ رکھنا آسان ہوتا ہے اور محاورات میں یہ طرز بلیغ بھی اعلیٰ درجہ کا سمجھا جاتا ہے کہ مفصل اور مطول بات کرنے سے پہلے ایک مجمل عنوان سے اس کی تقریر کردی جائے جس کا قدر مشترک تمام تفاصیل کے سمجھنے میں معین و مددگار ہو اور آخر میں بطور خلاصہ اور نتیجہ تفصیل اسی مجمل عنوان کا پھر اعادہ کردیا جائے مثلاً یہ کہا جائے کہ تکبر بڑی مضر خصلت ہے اس میں ایک ضرر یہ دوسرا یہ تیسرا یہ دس بیس مضرتیں گنوا کر پھر آخر میں کہہ دیا جائے کہ غرض تکبر بڑی مضر خصلت ہے اسی طور پر اس آیت يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ کا اعادہ فرمایا گیا ہے،
اے اولاد یعقوب ؑ میری ان نعمتوں کو یاد کرو جن کا میں نے تم پر (وقتا فوقتا) انعام کیا اور اس کو (بھی یاد کرو) کہ میں نے تم کو بہت لوگوں پر (بہت سی باتوں میں) فوقیت دی اور تم ڈرو ایسے دن سے (یعنی روز قیامت سے) جس میں کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ (اور حق واجب) ادا کرنے پاوے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ (بجائے حق واجب کے) قبول کیا جاوے گا اور نہ کسی کی کوئی سفارش (جبکہ ایمان نہ ہو) مفید ہوگی اور نہ ان لوگوں کو کوئی (بزور) بچا سکے گا۔
Ayah 2:124خلاصہ تفسیر
اور جس وقت امتحان کیا حضرت ابراہیم ؑ کا ان کے پروردگار نے چند باتوں میں (اپنے احکام میں سے) اور وہ ان کو پورے طور سے بجا لائے (اس وقت) حق تعالیٰ نے (ان سے) فرمایا کہ میں تم کو (اس کے صلہ میں نبوت دے کر یا امت بڑھا کر) لوگوں کو مقتدا بناؤں گا انہوں نے عرض کیا اور میری اولاد میں سے بھی کسی کو (نبوت دیجئے) ارشاد ہوا کہ (آپ کی درخواست منظور ہے مگر اس کا ضابطہ سن لیجئے کہ) میرا (یہ) عہدہ (نبوت) خلاف ورزی (قانون) کرنے والوں کو نہ ملے گا (سو ایسے لوگوں کو تو صاف جواب ہے البتہ اطاعت کرنے والوں میں سے بعض کو نبوت دی جائے گی)
معارف و مسائل
اس آیت میں حق تعالیٰ کے خاص پیغمبر حضرت ابراہیم ؑ کے مختلف امتحانات اور ان میں ان کی کامیابی پھر اس کے انعام وصلہ کا بیان اور پھر جب حضرت خلیل اللہ ؑ نے ازراہ شفقت اپنی اولاد کے لئے بھی اسی انعام کی درخواست کی تو انعام پانے کا ایک ضابطہ ارشاد فرما دیا گیا جس میں حضرت ابراہیم ؑ کی درخواست کی منظوری مشروط صورت میں دی گئی کہ یہ انعام آپ کی ذریت کو بھی ملے گا مگر جو لوگ ذریت میں سے نافرمان اور ظالم ہوں گے وہ یہ انعام نہ پاسکیں گے،
حضرت خلیل اللہ ؑ کے عظیم امتحانات اور مضامین امتحان
یہاں چند باتیں غور طلب ہیں ؛
اول یہ کہ امتحان کسی شخص کی قابلیت معلوم کرنے لئے لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ علیم و خیبر ہیں کسی بھی شخص کا کوئی حال یا کمال ان پر مخفی نہیں پھر اس امتحان کا مقصد کیا تھا ؟
دوسرے یہ کہ امتحان کس کس عنوان سے لیا گیا،
تیسرے یہ کہ کامیابی کس صورت میں اور کس نوعیت کی رہی،
چوتھے یہ کہ انعام کیا دیا گیا اور اس کی حیثیت کیا ہے،
پانچویں یہ کہ اس انعام کے لئے جو ضابطہ مقرر کیا گیا ہے اس کی کچھ توضیح و تفصیل۔
ان پانچوں سوالات کے جوابات بالتفصیل ملاحظہ فرمائیے،
پہلی بات کہ امتحان کا مقصد کیا تھا ؟ قرآن کے ایک لفظ ربُّہ نے اس کو حل کردیا جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اس امتحان کے ممتحن خود اللہ جل شانہ ہیں اور ان کے اسماء حسنی میں سے اس جگہ لفظ رب لاکر شان ربوبیت کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو آہستہ آہستہ درجہ کمال تک پہنچانا،
مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ ابتلاء و امتحان کسی جرم کی پاداش میں یا نامعلوم قابلیت کا علم حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ شان تربیت و ربوبیت اس کا منشاء ہے ان آزمائشوں کے ذریعے اپنے خلیل ؑ کی تربیت کرکے ان کے درجات و مقامات تک پہنچانا مقصود ہے پھر اس جملہ میں مفعول کو مقدم اور فاعل کو مؤ خر کرکے یوں ارشاد ہوا وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ اس میں ابراہیم ؑ کی جلالت شان کو اور نمایاں فرمایا گیا،
دوسرا سوال کہ امتحان کس عنوان سے لیا گیا ؟ اس کے متعلق قرآن شریف میں تو صرف کلمات کا لفظ آیا ہے اور اس لفظ کی تفسیر و تشریح میں حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین کے مختلف اقوال ہیں کسی نے احکام الہیہ میں سے دس چیزیں شمار کیں کسی نے تیس بتلائی ہیں اور کسی نے اور کچھ کم وبیش دوسری چیزیں بتائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں وہ چیزیں سب کی سب ہی حضرت خلیل اللہ ؑ کے مضامین امتحان تھے ائمہ تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر کی یہی رائے ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک علمی موشگافیوں سے زیادہ قابل قدر اخلاق و کردار کی عملی ثابت قدمی ہے
یہی مضامین امتحان جن کی تفصیل آگے بیان ہوگی مدارس کے امتحانات کی طرح فنی مسائل اور ان کی تحقیقات نہیں بلکہ اخلاقی قدروں اور عملی ثابت قدمی کی جانچ ہے اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہ عزوجلال میں جس چیز کی قیمت ہے وہ علمی موشگافیاں نہیں بلکہ عملی اور اخلاقی برتری ہے،
اب ان مضامین امتحان میں سے چند اہم چیزیں سنیے،
حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی خلت کا خلعت خاص عطا فرمایا جائے اس لئے ان کو سخت امتحانات سے گذارا گیا پوری قوم کی قوم حتی کہ اپنا خاندان سب کے سب بت پرستی میں مبتلا تھے سب کے عقائد و رسوم سے مختلف ایک دین حنیف ان کو عطا کیا گیا اور اس کی تبلیغ اور قوم کو اس کی طرف دعوت دینے کا بارگراں آپ پر ڈالا گیا آپ نے پیغمبرانہ جرأت وہمت کے ساتھ بےخوف وخطر قوم کو خدائے وحدہ لاشریک لہ کی طرف بلایا بت پرستی کی شرمناک رسم کی خرابیاں مختلف عنوانات سے بیان کیں عملی طور پر بتوں کے خلاف جہاد کیا پوری قوم کی قوم آمادہ جنگ وجدال ہوگئی بادشاہ وقت نمرود اور اس کی قوم نے آپ کو آگ میں ڈال کر زندہ جلا دینے کا فیصلہ کرلیا اللہ کے خلیل ؑ نے اپنے مولا کی رضا مندی کے لئے ان سب بلاؤں پر راضی ہو کر اپنے آپ کو آگ میں ڈال دینے کے لئے پیش کردیا اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل اللہ ؑ کو امتحان میں کامیاب پایا تو آگ کو حکم دیا ؛
قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ (69: 21) ہم نے حکم دے دیا کہ اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور ذریعہ سلامتی بن جا۔
جس وقت یہ حکم خداوندی آتش نمرود کے متعلق آیا تو حکم کے الفاظ عام تھے کسی خاص آگ کی تعیین کرکے حکم دیا گیا تھا اس لئے پوری دنیا میں جہاں کہیں آگ موجود تھی اس حکم خداوندی کے آتے ہی اپنی اپنی جگہ ہر آگ ٹھنڈی ہوگئی اور نار نمرود بھی اس زمرہ کا فرد بن کر ٹھنڈی پڑگئی،
قرآن میں لفظ بردًا کے ساتھ سلاماً کا اضافہ اس لئے فرمایا گیا کہ کسی چیز کی ٹھنڈک حد اعتدال سے بڑھ جائے تو وہ بھی برف کی طرح تکلیف دہ بلکہ مہلک ہوجاتی ہے اگر لفظ سلاماً ارشاد نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ آگ برف کی طرح ٹھنڈی ہوجاتی جو بجائے خود ایک عذاب بن جاتی جیسے جہنم میں ایک عذاب زمہریر کا بھی ہے،
اس امتحان سے فارغ ہو کر دوسرا امتحان یہ لیا گیا کہ اپنے اصلی وطن کو چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کرجائیں حضرت ابراہیم ؑ نے رضائے خداوندی کی تڑپ میں قوم ووطن کو بھی خیر باد کہہ دیا اور مع اہل و عیال ہجرت کرکے شام میں چلے آئے،
آنکس کہ ترا شناخت جاں راچہ کند
فرزند و عیال وخانماں راچہ کند
اب قوم ووطن کو چھوڑ کر ملک شام میں قیام کیا ہی تھا کہ یہ حکم ملا کہ بی بی ہاجرہ ؓ اور ان کے شیر خوار بچے حضرت اسماعیل ؑ کو ساتھ لے کر یہاں سے بھی کوچ کریں (ابن کثیر)
جبرئیل امین آئے اور دونوں کو ساتھ لے کر چلے راستہ میں جہاں کوئی سرسبز جگہ آتی تو حضرت خلیل اللہ ؑ فرماتے کہ یہاں ٹھہرا دیا جائے جبرئیل فرماتے کہ یہاں کا حکم نہیں منزل آگے ہے جب وہ خشک پہاڑ اور گرم ریگستان آجاتا جہاں آگے کسی وقت بیت اللہ کی تعمیر اور شہر مکہ کی بستی بسانا مقدر تھا اس ریگستان میں آپ کو اتار دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے خلیل ؑ اپنے پروردگار کی محبت میں مسرور مگن اسی چٹیل میدان اور بےآب وگیاہ جنگل میں بی بی کو لے کر ٹھہر جاتے لیکن یہ امتحان اسی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اب حضرت ابراہیم ؑ کو حکم ملتا ہے کہ بی بی اور بچے کو یہیں چھوڑ دیں اور خود ملک شام کو واپس ہوجائیں اللہ کا خلیل حکم پاتے ہی اس کی تعمیل میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور شام کی طرف روانہ ہوجاتا ہے تعمیل حکم میں اتنی تاخیر بھی گوارا نہیں کہ بیوی کو یہ اطلاع ہی دیدے کہ مجھے چونکہ خدا کا یہ حکم ملا ہے اس لئے میں جارہا ہوں حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) جس آپ کو جاتے ہوئے دیکھتی ہیں تو پکارتی ہیں مگر آپ جواب نہیں دیتے پھر پکارتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس لق ودق میدان میں ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہی ہو ؟ اس کا بھی جواب نہیں دیتے مگر وہ بی بی بھی خلیل اللہ ؑ کی بی بی تھیں سمجھ گئیں کہ ماجرا کیا ہے اور کہنے لگیں کہ کیا آپ کو اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم ملا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو بھی جب حکم خداوندی کا علم ہوگیا تو نہایت اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ جائیے جس مالک نے آپ کو چلے جانے کا حکم فرمایا ہے وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا،
اب حضرت ہاجرہ اپنے شیرخوار بچہ کے ساتھ اس لق ودق جنگل میں وقت گذارنے لگتی ہیں، پیاس کی شدت پانی کی تلاش پر مجبور کرتی ہے بچے کو کھلے میدان میں چھوڑ کر صفا ومروہ کی پہاڑیوں پر بار بار چڑہتی اترتی ہیں کہ کہیں پانی کے آثار نظر آئیں یا کوئی انسان نظر آجائے جس سے کچھ معلومات حاصل کریں سات مرتبہ کی دوڑ دھوپ کے بعد مایوس ہو کر بچے کے پاس لوٹ آتی ہیں صفا ومروہ کے درمیان سات مرتبہ دوڑنا اسی کی یادگار کے طور پر قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے احکام حج میں ضروری قرار دیا گیا ہے حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) اپنی دوڑ دھوپ ختم کرنے اور مایوس ہونے کے بعد جب بچے کے پاس آتی ہیں تو رحمت خداوندی نازل ہوتی ہے جبرئیل امین آتے ہیں اور اس خشک ریگستان کی زمین سے پانی کا ایک چشمہ نکال دیتے ہیں جس کا نام آج زمزم ہے پانی کو دیکھ کر اول جانور آجاتے ہیں پھر جانوروں کو دیکھ کر انسان پہنچتے ہیں اور مکہ کی آبادی کا سامان ہوجاتا ہے، ضروریات زندگی کچھ آسانیاں مہیا ہوجاتی ہیں،
نو مولود بچہ جن کو آج حضرت اسماعیل ؑ کہا جاتا ہے نشو ونما پاتے ہیں اور کام کاج کے قابل ہوجاتے ہیں حضرت ابراہیم ؑ باشارات ربانی گاہ گاہ تشریف لاتے ہیں اور بی بی وبچہ کو دیکھ جاتے ہیں اس وقت پھر اللہ تعالیٰ اپنے خلیل کا تیسرا امتحان لیتے ہیں یہ بچہ اس بیکسی اور بےسرو سامانی میں پروان چڑھا اور بظاہر اسباب باپ کی تربیت اور شفقت سے بھی محروم رہا اب والد ماجد کو بظاہر یہ حکم ملتا ہے اس بچے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کردو ارشاد قرآنی ہے،
فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤ ْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ (102: 37) جب بچہ اس قابل ہوگیا کہ باپ کے ساتھ کام کاج میں کچھ مدد دے سکے تو ابراہیم ؑ نے اس سے کہا کہ اے بیٹے میں خواب میں یہ دیکھتا ہوں کہ تجھ کو ذبح کر رہا ہوں تو بتلا کہ تیرا کیا خیال ہے ؟ فرزند سعید نے عرض کیا کہ ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اس کی تعمیل کیجئے آپ مجھے بھی اس کی تعمیل میں انشاء اللہ ثابت قدم پائیں گے،
اس کے بعد کا واقعہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ صاحبزادے کو ذبح کرنے کے لئے منیٰ کے جنگل میں گئے اور اپنی طرف سے حکم حق جل وعلا شانہ کی پوری تعمیل کردی مگر وہاں مقصود بچے کو ذبح کرانا نہیں بلکہ شفیق باپ کا امتحان کرنا تھا واقعہ خواب کے الفاظ میں غور کیا جائے کہ اس میں یہ نہیں دیکھا تھا کہ ذبح کردیا بلکہ ذبح کا عمل کرتے دیکھا جو حضرت ابراہیم ؑ نے کر دکھایا اور اس عمل کو بذریعہ وحی منام دکھلانے میں بھی شاید یہی مصلحت ہو کہ بذریعہ کلام حکم ذبح دینا منظور نہ تھا اسی وجہ سے ارشاد یہ ہوا کہ صدقت الرؤ یا کہ خواب میں جو کچھ دیکھا تھا آپ نے اس کو پورا کردیا جب اسمیں وہ پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے اس کا فدیہ نازل فرما کر اس کی قربانی کا حکم دے دیا اور یہ سنت ابراہیمی آنے والی دنیا کے لئے دائمی سنت بن گئی،
یہ کڑے اور سخت امتحانات تھے جن میں حضرت خلیل اللہ ؑ کو گزارا گیا اس کے ساتھ ہی دوسرے بہت سے اعمال و احکام کی پابندیاں آپ پر عائد کی گئیں جن میں سے دس خصائل فطرت کے نام سے موسوم ہیں جن کا تعلق بدن کی صفائی ستھرائی اور پاکی سے ہے اور یہ خصائل فطرت آنے والی تمام امتوں کے لئے بھی مستقل احکام بن گئے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے اپنی امت کو ان تمام امور کے لئے تاکیدی احکام دیئے،
اور ابن کثیر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ پورا اسلام تیس حصوں میں دائر ہے جس میں سے دس سورة برأت میں مذکور ہیں اور دس سورة احزاب میں اور دس سورة مومنون میں حضرت ابراہیم ؑ نے ان تمام چیزوں کا پورا حق ادا کیا اور ان سب امتحانات میں پورے اترے اور کامیاب رہے،
سورة برأت میں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے مسلمان کی دس مخصوص علامات وصفات کا اس طرح بیان کیا گیا ہے،
اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ (112: 9) وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنیوالے عبادت کرنیوالے حمد کرنیوالے روزہ رکھنے والے رکوع و سجدہ کرنیوالے نیک باتوں کی تعلیم کرنیوالے اور بری باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کا خیال رکھنے والے اور ایسے مؤمنین کو آپ خوش خبری سنا دیجئے،
اور سورة مؤ منون کی دس صفات یہ ہیں
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤ ْمِنُوْنَ ۙالَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ وَالَّذِيْنَ هُمْ للزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ ۚفَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ۭ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (11133)
یقینا ان مسلمانوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں اور جو لغو باتوں سے برکنار رہنے والے ہیں اور جو اپنے آپ کو پاک کرنیوالے ہیں اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنیوالے ہیں لیکن بیویوں سے یا اپنی لونڈیوں سے کیونکہ ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو اس کے علاوہ طلب گار ہوں ایسے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں جو فردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
اور سورة احزاب میں مذکورہ دس صفات یہ ہیں
اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤ ْمِنِيْنَ وَالْمُؤ ْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّاۗىِٕـمِيْنَ وَالـصـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا (35: 33)
بیشک اسلام کے کام کرنیوالے مرد اور اسلام کے کام کرنیوالی عورتیں اور ایمان لانیوالے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرمانبرداری کرنیوالی عورتیں، اور راستباز مرد اور راستباز عورتیں اور صبر کرنیوالے مرد اور صبر کرنیوالی عورتیں اور خشوع کرنیوالے مرد اور خشوع کرنیوالی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنی والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور بکثرت اللہ کی یاد کرنے والی عورتیں ان سب کیلئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے،
مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لئے جتنی، علمی، عملی اخلاقی صفات مطلوب ہیں وہ ان تینوں سورتوں کی چند آیات میں جمع کردی گئی ہیں اور یہی صفات وہ کلمات ہیں جن میں حضرت خلیل اللہ ؑ کا امتحان لیا گیا اور آیت وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰت میں انہی صفات کی طرف اشارہ ہے،
ان آیات کے متعلق قابل غور سوالات میں سے دو سوالوں کا جواب یہاں تک ہوگیا،
تیسرا سوال یہ تھا کہ اس امتحان میں حضرت ابراہیم ؑ کی کامیابی کا درجہ اور مقام کیا رہا، تو وہ خود قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں ان کو سند کامیابی عطا فرمائی ارشاد ہوا،
وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ (37: 53) (وہ ابراہیم ؑ جس نے پورا کر دکھایا)
اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر امتحان کی مکمل اور سو فیصدی کامیابی کا اعلان فرمادیا،
چوتھا سوال کہ اس امتحان پر انعام کیا ملا اس کا ذکر خود اسی آیت میں آچکا ہے یعنی،
قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ للنَّاسِ اِمَامًا (124: 2) (امتحان کے بعد) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بنانے والا ہوں،
اس سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوا کہ حضرت خلیل اللہ ؑ کو اس کامیابی کے صلہ میں امامت خلق اور پیشوائی کا انعام دیا گیا دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا کہ خلق خدا کے امام ومقتداء اور پیشوا بننے کے لئے جو امتحان درکار ہے وہ دنیا کے مدارس اور یونیورسٹیوں جیسا امتحان نہیں جس میں چند مسائل کی فنی تحقیق اور علمی موشگانی کو کامیابی کا اعلی درجہ سمجھا جاتا ہے اس عہدے کے حاصل کرنے کے لئے ان تیس اخلاقی اور عملی صفات میں کامل اور مکمل ہونا شرط ہے جن کا ذکر ابھی بحوالہ آیات آچکا ہے قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ بھی یہی مضمون اس طرح بیان فرمایا ہے ،
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ (24: 32) یعنی ہم نے ان میں سے امام اور پیشوا بنائے کہ وہ ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کریں جب انہوں نے اپنے نفس کو خلاف شرع سے روکا اور ہماری آیتوں پر یقین کیا،
اس آیت میں امامت و پیشوائی کے لئے ان تیس صفات کا خلاصہ دو لفظوں میں کردیا گیا ہے یعنی صبر ویقین، یقین علمی اور اعتقادی کمال اور صبر عملی اور اخلاقی کمال ہے اور وہ تیس صفات جن کا ذکر ابھی اوپر گذر چکا ہے سب کی سب انہی دو وصفوں میں سموئی ہوئی ہیں،
پانچواں سوال یہ تھا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو منصب امامت و پیشوائی دینے کے لئے جو یہ ضابطہ ارشاد ہوا ہے کہ فاسق اور ظالم لوگوں کو یہ منصب نہ ملے گا اس کا کیا مطلب ہے ؟
اس کی توضیح یہ ہے کہ امامت و پیشوائی ایک حیثیت سے اللہ جل شانہ کی خلافت ہے یہ کسی شخص کو نہیں دی جاسکتی جو اس کا باغی اور نافرمان ہو اسی لئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے اختیار سے اپنا نمائندہ یا امیر کسی ایسے شخص کو مقرر نہ کریں جو اللہ تعالیٰ کا باغی یا نافرمان ہو،
Ayah 2:125حل لغات مثابۃ یہ لفظ ثاب یثوب ثوباً ومثاباً سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں اس لئے مثابہ کے مرجع کے ہوگئے جہاں آدمی بار بار لوٹ کرجائے
خلاصہ تفسیر
(اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ) جس وقت ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کا معبد اور (مقام) امن (ہمیشہ سے) مقرر رکھا اور (آخر میں امت محمدیہ کو حکم دیا کہ برکت حاصل کرنے کے لئے) مقام ابراہیم کو (کبھی کبھی) نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیا کرو اور ہم نے (بناء کعبہ کے وقت) ابراہیم و (حضرت) اسمعٰیل (علیہما السلام) کی طرف حکم بھیجا کہ میرے (اس) گھر کو خوب پاک (صاف) رکھا کرو بیرونی اور مقامی لوگوں (کی عبادت) کے واسطے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے واسطے۔
معارف و مسائل
حضرت خلیل اللہ ؑ کی ہجرت مکہ اور بناء بیت اللہ کا تفصیلی واقعہ
اس آیت میں بیت اللہ کعبہ کی تاریخ کی طرف اشارہ ہے اور حضرت خلیل اللہ ؑ اور اسمعٰیل (علیہما السلام) کے ہاتھوں اس کی تعمیر جدید نیز بیت اللہ اور مکہ مکرمہ کی چند خصوصیات کا ذکر اور بیت اللہ اور مکہ مکرمہ کی چند خصوصیات کا ذکر اور بیت اللہ کے احترام سے متعلقہ احکام مذکور ہیں یہ مضمون قرآن کی بہت سی آیات میں مختلف سورتوں میں پھیلا ہوا ہے اس جگہ مختصر طور پر اس کو بیان کیا جاتا ہے جس سے مذکورہ آیات کا پورا مضمون واضح ہوجائے گا یہ مضمون سورة حج کی آیت نمبر 26 میں اس طرح مذکور ہے،
وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ للطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ وَاَذِّنْ فِي النَّاس بالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ یعنی وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ ہم نے ابراہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ بتلادی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے اور قیام و رکوع وسجود کرنے والوں کے واسطے پاک رکھنا اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز کے راستوں سے پہنچی ہوں گی،
تفسیر ابن کثیر میں ائمہ تفسیر حضرت مجاہد وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ ملک شام میں مقیم تھے اور حضرت اسماعیل ؑ شیر خوار بچے تھے جس وقت حق تعالیٰ کا ان کو یہ حکم ملا کہ ہم خانہ کعبہ کی جگہ آپ کو بتلاتے ہیں آپ اس کو پاک صاف کرکے طواف و نماز سے آباد رکھیں اس حکم کی تعمیل کے لئے جبریل امین براق لے کر حاضر ہوئے اور حضرت ابراہیم ؑ کو اور اسماعیل کو مع ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کے ساتھ لے کر سفر کیا راستے میں جب کسی بستی پر نظر پڑتی اور حضرت ابراہیم ؑ جبریل امین سے دریافت کرتے کہ کیا ہمیں یہاں اترنے کا حکم ملا ہے تو حضرت جبریل ؑ فرماتے کہ نہیں آپ کی منزل آگے ہے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کی جگہ سامنے آئی جس میں کانٹے دار جھاڑیاں اور ببول کے درختوں کے سوا کچھ نہ تھا اس خطہ زمین کے آس پاس کچھ آس پاس کچھ لوگ بستے تھے جن کو عمالین کہا جاتا تھا بیت اللہ اس وقت ایک ٹیلہ کی شکل میں تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے اس جگہ پہنچ کر جبریل امین سے دریافت کیا کہ کیا ہماری منزل یہ ہے تو فرمایا کہ ہاں،
حضرت ابراہیم ؑ مع اپنے صاحبزادے اور حضرت ہاجرہ کے یہاں اتر گئے اور بیت اللہ کے پاس ایک معمولی چھپر ڈال کر حضرت اسماعیل اور ہاجرہ (علیہما السلام) کو یہاں ٹھہرا دیا ان کے پاس ایک توشہ دان میں کچھ کھجوریں اور ایک مشکیزہ میں پانی رکھ دیا اور ابراہیم ؑ کو اس وقت یہاں ٹھہرنے کا حکم نہ تھا وہ اس شیر خوار بچہ اور ان کی والدہ کو حوالہ بخدا کرکے واپس ہونے لگے جانے کی تیاری دیکھ کر حضرت ہاجرہ نے عرض کیا کہ ہمیں اس لق ودق میدان میں چھوڑ کر آپ کہاں جاتے ہیں جس میں نہ کوئی مونس ومدد گار ہے نہ زندگی کی ضروریات،
حضرت خلیل اللہ ؑ نے کوئی جواب نہ دیا اور چلنے لگے حضرت ہاجرہ ساتھ اٹھیں پھر بار بار یہی سوال دہرایا حضرت خلیل اللہ ؑ کی طرف سے کوئی جواب نہ تھا یہاں تک کہ خود ان کے دل میں بات پڑی اور عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہاں چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دیا ہے تب حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ملا ہے، اس کو سن کر حضرت ہاجرہ نے فرمایا کہ پھر آپ شوق سے جائیں جس نے آپ کو یہ حکم دیا ہے وہ ہمیں بھی ضائع نہ کرے گا ابراہیم ؑ حکم خداوندی کی تعمیل میں یہاں سے چل کھڑے ہوئے مگر شیرخوار بچہ اور اس کی والدہ کا خیال لگا ہوا تھا جب راستہ کے موڑ پر پہنچے جہاں سے حضرت ہاجرہ نہ دیکھ سکیں تو ٹھہر گئے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی جو سورة ابراہیم کی آیت نمبر 35، 37 میں اس طرح مذکور ہے،
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ (سورة ابراہیم 35: 14) اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا بنا دیجئے اور مجھ کو اور میرے خاص فرزندوں کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھئے،
پھر دعاء میں عرض کیا
رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ (37: 14) یعنی اے ہمارے رب میں اپنی اولاد کو آپ کے محترم گھر کے قریب ایک میدان میں جو زراعت کے قابل نہیں آباد کرتا ہوں اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز کا اہتمام رکھیں تو آپ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کردیجئے اور ان کو پھل کھانے کو دیجئے تاکہ یہ لوگ شکر کریں،
سابقہ حکم جس کی بناء پر شام سے ہجرت کرا کر حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کو یہاں لایا گیا تھا اس میں یہ ارشاد ہوا تھا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا حضرت خلیل اللہ ؑ جانتے تھے کہ پاک رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ظاہری نجاسات اور گندگی سے بھی پاک رکھا جائے اور باطنی نجاست کفر و شرک سے پاکی بھی فرمان الہی میں مقصود ہے اس لئے یہاں ٹھہر کر جو دعائیں فرمائیں ان میں اول تو اس بستی کے محفوظ ومامون رہنے اور جائے امن ہونے کی دعاء فرمائی پھر یہ دعا کی کہ مجھے اور میری اولاد کو شرک وبت پرستی سے بچائیے کیونکہ حضرت خلیل اللہ ؑ کو معرفتِ حق تعالیٰ کا وہ مقام حاصل تھا جس میں انسان کو اپنا وجود ہی نابود نظر آتا ہے،
اپنے تمام افعال و اعمال اور ارادوں کو یہ محسوس کرتا ہے کہ سب کچھ حق تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اسی کی مشیت و ارادہ سے سب کام ہوتے ہیں اس لئے کفر و شرک سے بیت اللہ کو پاک رکھنے کا جو حکم ملا تھا اس میں حق تعالیٰ ہی سے امداد طلب کی اس دعاء کے اندر کفرو شرک سے محفوظ رہنے کی التجاء میں ایک خاص راز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب بیت اللہ کی تعظیم و تکریم کا حکم ہوا تو یہ احتمال بھی تھا کہ آئندہ چل کر کوئی ناواقف اس بیت اللہ ہی کو معبود نہ بنالے اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوجائے اس لئے یہ دعاء فرمائی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو شرک سے محفوظ رکھا جائے،
اس کے بعد شیرخوار بچہ اور اس کی والدہ پر شفقت کے پیش نظر یہ دعاء فرمائی کہ میں نے ان کو آپ کے حکم کے مطابق آپ کے محترم گھر کے پاس ٹھہرا تو دیا ہے لیکن یہ جگہ زراعت کے قابل بھی نہیں جہاں کوئی اپنی محنت سے ضروریات زندگی حاصل کرسکے اس لئے آپ ہی اپنے فضل سے ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمادیں،
یہ دعا کرکے حضرت خلیل اللہ ؑ تو اپنے وطن شام کی طرف روانہ ہوگئے ادھر حضرت ہاجرہ کا کچھ وقت تو اس توشہ کھجور اور پانی کے ساتھ کٹ گیا جو حضرت خلیل اللہ ؑ چھوڑ گئے تھے پانی ختم ہونے کے بعد خود بھی پیاس سے بےچین اور شیرخوار بچہ بھی اس وقت پانی کی تلاش میں ان کا نکلنا اور کبھی کوہ صفا پر کبھی کوہ مروہ پر چڑھنا اور ان دونوں کے درمیان دوڑ دوڑ کر راستہ طے کرنا تاکہ حضرت اسماعیل آنکھوں کے سامنے آجائیں عام مسلمانوں میں معروف ہے اور حج میں صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا آج تک اسی کی یادگار ہے،
اس قصہ کے آخر میں حضرت جبریل امین کا بحکم خداوندی وہاں پہنچنا اور چشمہ زمزم کا جاری کرنا اور پھر قبیلہ جرہم کے کچھ لوگوں کو یہاں آکر مقیم ہوجانا اور حضرت اسماعیل ؑ کے جوان ہونے کے بعد قبیلہ جرہم کی ایک بی بی سے شادی ہوجانا یہ صحیح بخاری کی روایت میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے روایت حدیث کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء سورة حج کی آیت میں جو بیت اللہ کو آباد کرنے اور پاک صاف رکھنے کا حکم حضرت خلیل اللہ ؑ کو ملا تھا اس وقت اتنا ہی عمل مقصود تھا کہ اس جگہ کو حضرت اسمعٰیل اور ہاجرہ (علیہما السلام) کے ذریعہ آباد کردیا جائے اس کے مخاطب صرف حضرت ابراہیم ؑ تھے کیونکہ اسماعیل ؑ ابھی شیرخواری کے عالم میں تھے اس وقت بیت اللہ کی تعمیر جدید کا حکم نہ ملا تھا، سورة بقرہ کی یہ آیت جو اس وقت زیر نظر ہے، وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ اس میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ حضرت اسماعیل ؑ کو بھی شریک کرلیا گیا ہے یہ حکم اس وقت کا ہے جب کہ حضرت اسماعیل ؑ جوان اور متاہل ہوچکے تھے اس وقت دونوں کو بناء بیت اللہ کا حکم دیا گیا،
صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک روز حضرت ابراہیم ؑ حسب عادت حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کی ملاقات کے لئے مکہ مکرمہ پہنچے تو دیکھا کہ اسماعیل ؑ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تیر بنا رہے ہیں والد ماجد کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ملاقات کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک کام کا حکم دیا ہے کیا تم اس میں میری مدد کرو گے ؟ لائق فرزند نے عرض کیا کہ بسر وچشم کروں گا اس پر حضرت ابراہیم ؑ نے اس ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا جہاں بیت اللہ تھا کہ مجھے اس کی تعمیر کا حکم ہوا ہے بیت اللہ کے حدود اربعہ حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو بتلا دئیے تھے دونوں بزرگوار اس کام میں لگے تو بیت اللہ کی قدیم بنیادیں نکل آئیں انہی پر دونوں نے تعمیر شروع کردی اگلی آیت میں اسی کا بیان ہے، وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بانی بیت اللہ اصل میں حضرت خلیل اللہ ؑ ہیں اور اسماعیل ؑ مددگار کی حیثیت سے شریک ہیں،
ان تمام آیات پر غور کرنے سے وہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے جو بعض روایات حدیث اور تاریخ میں مذکور
ہے کہ بیت اللہ پہلے سے دنیا میں موجود تھا کیونکہ تمام آیات میں کہیں بیت اللہ کی جگہ بتلا دینے کا ذکر ہے کہیں اس کو پاک صاف رکھنے کا ذکر ہے یہ کہیں مذکور نہیں کہ آج کوئی نیا گھر تعمیر کرانا ہے اس کی تعمیر کریں اس سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ کا وجود اس واقعہ سے پہلے موجود تھا پھر طوفان نوح کے وقت منہدم ہوگیا یا اٹھا لیا گیا تھا صرف بنیادیں موجود تھیں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کعبہ کے پہلے بانی نہیں بلکہ بناء سابق کی بنیادوں پر جدید تعمیر ان کے ہاتھوں ہوئی ہے،
اب رہا یہ معاملہ کہ پہلی تعمیر کس نے اور کس وقت کی ؟ اس میں کوئی صحیح اور قوی روایت حدیث کی منقول نہیں اہل کتاب کی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اس کی تعمیر آدم ؑ کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی فرشتوں نے کی تھی پھر آدم ؑ نے اس کی تجدید فرمائی یہ تعمیر طوفان نوح تک باقی رہی طوفان نوح میں منہدم ہوجانے کے بعد سے ابراہیم ؑ کے زمانے تک یہ ایک ٹیلہ کی صورت میں باقی رہی حضرت ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل ؑ نے ازسرنو تعمیر فرمائی اس کے بعد اس تعمیر میں شکست وریخت تو ہمیشہ ہوتی رہی مگر منہدم نہیں ہوئی آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل قریش مکہ نے اس کو منہدم کرکے ازسرنو تعمیر کیا جس کی تعمیر میں آنحضرت ﷺ نے بھی خاص شرکت فرمائی،
احکام و مسائل متعلقہ حرم محترم
1۔ لفظ مثابہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو یہ خاص فضیلت بخشی ہے کہ وہ ہمیشہ مرجع خلائق بنا رہے گا اور لوگ بار بار اس کی طرف جانے اور لوٹنے کے آرزو مند رہیں گے امام تفسیر حضرت مجاہد نے فرمایا لا یقضی احد منہا وطراً (قرطبی) یعنی کوئی آدمی اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتا بلکہ ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ زیارت و طواف کا شوق لے کر لوٹتا ہے اور بعض علماء نے فرمایا کہ قبول حج کی علامات میں سے ہے کہ وہاں سے لوٹنے کے بعد پھر وہاں جانے کا شوق دل میں پائے چناچہ عام طور پر اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ جتنا شوق زیارت بیت اللہ کا ہوتا دوسری مرتبہ کے لئے اس شوق میں اضافہ ہوجاتا ہے اور جوں جوں بار بار زیارت کرتا رہتا ہے یہ شوق اور بڑہتا جاتا ہے،
یہ معجزہ بیت اللہ ہی کی خصوصیت ہوسکتی ہے ورنہ دنیا کے بہتر سے بہتر مناظر کو انسان ایک دو مرتبہ دیکھ لینے کے بعد سیر ہوجاتا ہے اور پانچ سات مرتبہ دیکھنے کے بعد تو دیکھنے کا دھیان بھی نہیں آتا اور یہاں تو نہ کوئی خوش منظر سینری نہ وہاں پہنچنا کچھ آسان ہے نہ وہاں دنیا کے کاروبار ہی کی کوئی اہمیت ہے اس کے باوجود لوگوں کے دل میں اس کی تڑپ ہمیشہ موجزن رہتی ہے ہزاروں روپیہ خرچ کرکے سینکڑوں مشقتیں جھیل کر وہاں پہنچنے کے مشتاق رہتے ہیں،
2۔ لفظ امناً اس جگہ مامن یعنی جائے امن کے معنی میں ہے اور لفظ بیت سے مراد صرف بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ نہیں بلکہ پورا حرم مراد ہے قرآن کریم میں بیت اللہ اور کعبہ کا لفظ بول کر پورا حرم مراد لینے کے اور بھی شواہد موجود ہیں جیسے ارشاد ہے، هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ (95: 5) اس میں لفظ کعبہ بول کر پورا حرم مراد لیا گیا ہے کیونکہ اس میں ذکر قربانی کا ہے اور بیت کعبہ کے اندر تو قربانی نہیں ہوتی اور نہ وہاں قربانی جائز ہے اس لئے معنی آیت کے یہ ہوئے کہ ہم نے حرم مکہ کو جائے امن بنادیا ہے اور جائے امن بنا دینے سے مراد لوگوں کو یہ حکم دینا ہے کہ حرم محترم کو عام قتل و قتال اور انتقام سے بالاتر رکھیں (ابن عربی)
چنانچہ زمانہ جاہلیت میں بھی عربوں کے ہاتھ میں ملت ابراہیمی کے جو کچھ آثار باقی رہ گئے تھے، ان میں یہ بھی تھا کہ حرم میں اپنے باپ اور بھائی کا قاتل بھی کسی کو ملتا تو انتقام نہیں لیتے تھے اور عام جنگ و قتال کو بھی حرم میں حرام سمجھتے تھے شریعت اسلام میں بھی یہ حکم اسی طرح باقی رکھا گیا فتح مکہ کے وقت صرف چند گھنٹوں کے لئے رسول اللہ ﷺ کے واسطے ارض حرم میں قتال کو جائز کیا گیا تھا مگر اسی وقت پھر ہمیشہ کے لئے حرام کردیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے خطبہ میں اس کا اعلان فرمادیا (صحیح بخاری)
اب رہا یہ مسئلہ کہ کوئی شخص حرم کے اندر ہی کوئی ایسا جرم کرے جس پر حد وقصاص اسلامی شریعت کی رو سے عائد ہوتا ہے تو حرم اس کو امن نہیں دے گا بلکہ اس پر باجماع امت حدود وقصاص جاری کئے جائیں گے (احکام القرآن جصاص و قرطبی) کیونکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے، فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ (191: 2) یعنی اگر تم سے لوگ حرم میں قتال کرنے لگیں تو تم بھی وہیں ان کو قتل کردو،
البتہ یہاں ایک مسئلہ ائمہ مجتہدین میں مختلف فیہ ہے وہ یہ کہ کوئی شخص باہر سے جرم کرکے حرم میں پناہ لے لے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اس میں بعض ائمہ اس پر بھی حرم میں حدود قصاص کی سزائیں جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس کو سزا سے چھوڑنا تو نہیں کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو جرائم کرکے سزا سے بچنے کا راستہ کھل جائے گا اور عالم میں فساد برپا ہوجائے گا اور حرم مجرموں کا ٹھکانا بن جائے گا لیکن احترام حرم کے سبب حرم کے اندر سزا نہ دی جائیگی بلکہ اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ حرم سے باہر نکلے وہاں سے نکلنے کے بعد سزا جاری کی جائے گی،
3۔ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى اس میں مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم ؑ کے قدم مبارک کا بطور معجزہ نشان پڑگیا تھا اور جس کو تعمیر بیت اللہ کے وقت آپ نے استعمال کیا تھا (صحیح بخاری)
حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ میں نے اس پتھر میں حضرت ابراہیم ؑ کے قدم مبارک کا نقش دیکھا ہے مگر لوگوں کے بکثرت چھونے اور ہاتھ لگانے سے اب وہ نشان ہلکا پڑگیا ہے (قرطبی) اور حضرت عبداللہ بن عباس سے مقام ابراہیم کی تفسیر میں یہ بھی منقول ہے کہ پورا حرم مقام ابراہیم ہے ممکن ہے کہ اس مراد یہ ہو کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں جن کو مقام ابراہیم پر پڑھنے کا حکم اس آیت میں ہے اس حکم کی تعمیل پورے حرم میں کسی جگہ بھی یہ رکعتیں پڑھنے سے ہوجائے گی اس پر اکثر فقہا امت متفق ہیں۔
4۔ آیت مذکورہ میں مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنانے کا حکم ہے اس کی وضاحت خود رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے قول وعمل سے اس طرح فرما دی کہ آپ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پاس پہنچے جو بیت اللہ کے سامنے تھوڑے فاصلہ سے رکھا ہوا ہے وہاں پہنچ کر یہ آیت تلاوت فرمائی وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے اس طرح دو رکعت نماز پڑھی کہ مقام ابراہیم کو درمیان میں رکھتے ہوئے بیت اللہ کا استقبال ہوجائے (صحیح مسلم) اسی لئے فقہاء امت نے فرمایا ہے کہ جس شخص کو مقام ابراہیم کے پیچھے متصلاً جگہ نہ ملے وہ کتنے ہی فاصلہ پر بھی جب اس طرح کھڑا ہو کہ مقام ابراہیم بھی اس کے سامنے رہے اور بیت اللہ بھی تو اس حکم کی پوری تعمیل ہوجائے گی،
5۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں واجب ہیں (جصاص ومناسک ملاعلی قاری)
البتہ ان دو رکعتوں کا خاص مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کرنا سنت ہے اور حرم میں کسی دوسری جگہ بھی ادا کرے تو کافی ہوگا کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ان رکعتوں کا بیت اللہ کے دروازہ متصل پڑھنا بھی ثابت ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اس جگہ پڑھنا منقول ہے (جصاص)
اور ملا علی قاری نے کتاب مناسک میں فرمایا ہے کہ دو رکعت طواف تو واجب ہیں اور سنت یہ ہے کہ مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کی جائیں لیکن اگر کسی وجہ سے وہاں ادا نہ کرسکا تو پھر حرم میں یا حرم سے باہر جہاں کہیں ممکن ہو ادا کرنے سے واجب ادا ہوجائے گا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں حضرت ام سلمہ کو ایسا ہی اتفاق ہوا کہ ان کو واجب طواف نماز پڑھنے کا وہاں موقع نہ ملا تو مسجد حرام بلکہ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے بعد ادا کی اور بضرورت حرم سے باہر ادا کرنے پر جمہور علماء کے نزدیک کوئی دم بھی واجب نہیں ہوتا صرف امام مالک وجوب دم کے قائل ہیں (مناسک ملا علی قاری)
6۔ طَهِّرَا بَيْتِىَ اس میں بیت اللہ کو پاک کرنے کا حکم ہے جس میں ظاہری نجاسات اور گندگی سے طہارت بھی داخل ہے اور باطنی نجاسات کفر و شرک اور اخلاق رذیلہ بغض وحسد، حرص وہوا تکبر و غرور ریا ونام ونمود سے پاکی بھی شامل ہے اور اس حکم طہارت کیلئے لفظ بیتی میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ حکم تمام مساجد کے لئے عام ہے کیونکہ ساری مساجد بیوت اللہ ہیں،
جیسا کہ ارشاد ہے، فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ (36: 24)
حضرت فاروق اعظم نے مسجد میں ایک شخص کی آواز سنی تو فرمایا تمہیں خبر نہیں کہ تم کہاں کھڑے ہو (قرطبی) یعنی مسجد کا ادب و احترام چاہے اس میں غیر مشروع آواز بلند نہیں کرنا چاہئے، حاصل یہ ہے کہ اس آیت سے جس طرح بیت اللہ کا تمام ظاہری اور باطنی نجاسات سے پاک رکھنا ضروری ہے اسی طرح تمام مساجد کو بھی پاک رکھنا واجب ہے یعنی مساجد میں داخل ہونے والوں پر لازم ہے کہ اپنے بدن اور کپڑوں کو بھی نجاسات اور بدبو کی چیزوں سے پاک صاف رکھیں اور اپنے دلوں کو شرک ونفاق اور تمام اخلاق رذیلہ، تکبر حسد، بغض، حرص وریاء وغیرہ کی نجاسات سے پاک کرکے داخل ہوں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی شخص پیاز، لہسن وغیرہ بدبودار چیز کھا کر مسجد میں نہ جائے اور چھوٹے بچوں اور دیوانوں کو مسجدوں میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے کہ ان سے نجاست کا خطرہ رہتا ہے،
7۔ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ آیت کے ان کلمات سے چند احکام و فوائد حاصل ہوئے اول یہ کہ بناء بیت اللہ کا مقصد طواف، اعتکاف اور نماز ہے دوسرے یہ کہ طواف نماز سے مقدم ہے (کما روی عن ابن عباس) تیسرے یہ کہ اطراف عالم سے جانے والے حجاج کے لئے طواف بہ نسبت نماز کے افضل ہے چوتھے یہ کہ بیت کے اندر نماز علی الاطلاق جائز ہے فرض ہو یا نفل (جصاص)