Ayah 2:28خلاصہ تفسیر
بھلا کیوں کر ناشکری کرتے ہو اللہ کے ساتھ (کہ اس کے احسانات کو بھلا دیتے ہو اور غیروں کا کلمہ پڑہتے ہو) حالانکہ (اس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللہ ہی مستحق عبادت ہے مثلا یہ کہ) تھے تم بےجان (یعنی نطفہ میں جان پڑنے سے پہلے) سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے (یعنی قیامت کے دن) پھر انہی کے پاس لے جائے جاؤ گے (یعنی میدان قیامت میں حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤ گے) وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدہ کے لئے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کا سب (یہ فائدہ عام ہے کھانے پینے کا ہو یا پہننے اور برتنے کا یا نکاح اور روح کو تازگی بخشنے کا اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو فائدہ نہ پہونچتا ہو اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چیز کا ہر استعمال حلال ہو جیسے سمیات قاتلہ بھی فائدہ انسان سے خالی نہیں مگر ان کا کھا لینا عقلاء کے نزدیک ممنوع) پھر توجہ فرمائی آسمان کی طرف (یعنی اس کی تخلیق و تکمیل کی طرف) تو درست کرکے بنا دئیے ان کو سات آسمان اور وہ تو سب چیزوں کے جاننے والے ہیں،
معارف و مسائل
ربط آیات
پچھلی آیتوں میں خدا تعالیٰ کے وجود، توحید اور رسالت کے دلائل واضحہ اور منکرین و مخالفین کے
خیالات باطلہ کا رد مذکور تھا مذکورہ دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا ذکر کرکے اس پر اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے کیسے یہ ظالم کفر و انکار میں مبتلا ہیں جس میں اس پر تنبیہ ہے کہ اگر دلائل میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے تو کم ازکم محسن کا احسان ماننا اس کی تعظیم و اطاعت پر آجاؤ،
پہلی آیت میں ان مخصوص نعمتوں کا ذکر ہے جو ہر انسان کی ذات اور نفس کے اندر موجود ہیں کہ پہلے وہ بےجان ذرات کی صورت میں تھا پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے زندگی پیدا فرمائی، دوسری آیت میں ان عام نعمتوں کا ذکر ہے جن سے انسان اور تمام مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ انسان کی زندگی اور بقاء کے لئے ضروری ہیں ان میں پہلے زمین اور اس کی پیداوار کا ذکر کیا گیا جس سے انسان کا قریبی تعلق ہے پھر آسمانوں کا ذکر کیا گیا جن کے ساتھ زمین کی حیات اور پیداوار وابستہ ہے،
كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ (کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو) ان لوگوں نے اگرچہ بظاہر خدا کا انکار نہیں کیا مگر رسول خدا کے انکار کو خدا ہی کا انکار قرار دے کر ایسا خطاب کیا گیا ہے،
كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم اموات، میت کی جمع ہے مردہ اور بےجان چیز کو کہا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی اصل حقیقت پر غور کرے تو معلوم ہوگا کہ اس کے وجود کی ابتداء وہ بیجان ذرات ہیں جو کچھ منجمد چیزوں کی شکل میں کچھ بہنے والی چیزوں میں کچھ غذاؤں کی صورت میں تمام دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان بےجان ذرات کو کہاں کہاں سے جمع فرمایا، پھر ان میں جان ڈالی ان کو زندہ انسان بنادیا یہ اس کی ابتداء پیدائش کا ذکر ہے،
ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ یعنی جس نے پہلی مرتبہ تمہارے بےجان ذرات کو جمع کر کے ان میں جان پیدا کی وہ اس عالم میں تمہاری عمر کا مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد تمہیں موت دے گا اور پھر ایک عرصہ کے بعد قیامت میں اسی طرح تمہارے جسم کے بےجان اور منتشر ذرّات کو اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کیا دوسری موت دنیا کی پوری عمر ہونے کے وقت اور دوسری زندگی قیامت کے روز ہوگی،
پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کوئی فاصلہ نہ تھا اس لئے اس میں حرف فاء استعمال کیا گیا فَاَحْيَاكُم اور چونکہ دنیا کی حیات اور موت کے درمیان اور اسی طرح اس موت اور قیامت کی زندگی کے درمیان خاصا فاصلہ تھا اس لئے وہاں لفظ ثُمَّ اختیار کیا گیا ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ کیونکہ لفظ ثُمَّ بعد مدت کے لئے استعمال ہوتا ہے ،
ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ یعنی پھر تم اسی ذات پاک کی طرف پھر کر جاؤ گے اس سے مراد حشر ونشر اور قیامت کا وقت ہے،
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام و احسان کا ذکر کیا ہے جو ہر انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہے اور جو سارے انعامات و احسانات کا مدار ہے یعنی زندگی، دنیا وآخرت اور زمین و آسمان کی جتنی نعمتیں انسان کو حاصل ہیں وہ سب اسی زندگی پر موقوف ہیں زندگی نہ ہو تو کسی نعمت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا زندگی کا نعمت ہونا ظاہر ہے مگر اس آیت میں موت کو بھی نعمتوں کی فہرست میں شمار اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ دنیا کی موت دروازہ ہے اس دائمی زندگی کا جس کے بعد موت نہیں اس لحاظ سے یہ موت بھی ایک نعمت ہے،
مسئلہآیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ جو شخص رسول کریم ﷺ کی رسالت کا منکر ہو یا قرآن کے کلام الہی ہونے کا منکر ہو وہ اگرچہ بظاہر خدا کے وجود و عظمت کا انکار نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ منکرین خدا ہی کی فہرست میں شمار ہے،
حیات برزخی
اس آیت میں دنیا کی زندگی اور موت کے بعد صرف ایک حیات کا ذکر ہے جو قیامت کے روز ہونے والی ہے قبر کی زندگی قبر کا سوال و جواب اور قبر میں ثواب و عذاب ہونا قرآن کریم کی متعدد آیات اور حدیث کی متواتر روایات سے ثابت ہے اس کا ذکر نہیں وجہ یہ ہے کہ یہ برزخی زندگی اس طرح کی زندگی نہیں ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہے یا آخرت میں پھر ہوگی بلکہ ایک درمیانی صورت مثل خواب کی زندگی کے ہے اس کو دنیا کی زندگی کا تکملہ بھی کہا جاسکتا ہے اور آخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی اس لئے کوئی مستقل زندگی نہیں جس کا جداگانہ ذکر کیا جائے،
Ayah 2:29(آیت) ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب یہ اس نعمت عامہ کا ذکر ہے جس میں تمام انسان بلکہ حیوانات وغیرہ بھی شریک ہیں اور لفظ میں ان تمام نعمتوں کا اجمال آگیا جو دنیا میں کسی انسان کو حاصل ہوئیں یا ہوسکتی ہیں کیونکہ انسان کی غذا، لباس، مکان، اور دوا اور راحت کے کل سامان زمین ہی کی پیدوار ہیں،
ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے کے ہیں مراد یہ ہے کہ زمین کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق کا قصد راست فرمایا جس میں کوئی حائل اور مانع نہ ہوسکے یہاں تک کہ سات آسمانوں کی تخلیق مکمل فرمادی اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اس لئے تخلیق کائنات اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں،
دنیا کی ہر چیز نفع بخش ہے کوئی شے بیکار نہیں
اس آیت میں زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے پیدا فرمانے کا بیان ہوا ہے، اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو کسی نہ کسی حیثیت سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فائدہ نہ پہونچتا ہو خواہ یہ فائدہ دنیا میں استعمال کرنے کا ہو یا آخرت کے لئے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا، بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ انسان کو ان سے فائدہ پہونچتا ہے مگر اس کو خبر بھی نہیں ہوتی یہاں تک کہ جو چیزیں انسان کے لئے مضر سمجھی جاتی ہیں جیسے زہریلی اشیاء زہریلے جانور وغیرہ غور کریں تو وہ کسی نہ کسی حیثیت سے انسان کے لئے نفع بخش بھی ہوتی ہیں جو چیزیں انسان کے لئے ایک طرح سے حرام ہیں دوسری کسی طرح اور حیثیت سے ان کا نفع بھی انسان کو پہنچتا ہے،
نہیں ہے چیز نکمّی کوئی زمانے میں۔۔ کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
عارف باللہ ابن عطاء نے اس آیت کے تحت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو تمہارے واسطے پیدا فرمایا کہ ساری کائنات تمہاری ہو اور تم اللہ کے لئے ہو اس لئے عقل مند کا کام یہ ہے کہ جو چیز اسی کے لئے پیداہوئی ہے وہ اس کو ملے گی اس کی فکر میں لگ کر اس ذات سے غافل نہ ہو جس کے لئے یہ پیدا ہوا ہے (بحرمحیط)
اشیاء عالم میں اصل اباحت ہے یا حرمت
اس آیت سے بعض علماء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ دنیا کی تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ انسان کے لئے حلال ومباح ہوں کیونکہ وہ اسی کے لئے پیدا کی گئی ہیں بجز ان چیزوں کے جن کو شریعت نے حرام قرار دے دیا اس لئے جب تک کسی چیز کی حرمت قرآن وسنت سے ثابت نہ ہو اس کو حلال سمجھا جائے گا،
اس کے بالمقابل بعض علماء نے یہ قرار دیا کہ انسان کے فائدے کے لئے کسی چیز کے پیدا ہونے سے اس کا حلال ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے اصل اشیاء میں حرمت ہے جب تک قرآن وسنت کی کسی دلیل سے جواز ثابت نہ ہو ہر چیز حرام سمجھی جائے گی،
بعض حضرات نے توقف فرمایا
تفسیر بحر محیط میں ابن حیان نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اقوال مذکورہ میں سے کسی کے لئے حجت نہیں کیونکہ خَلَقَ لَكُمْ میں حرف لام سببیت بتلانے کے لئے آیا ہے کہ تمہارے سبب سے یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں اس سے نہ انسان کے لئے ان چیزوں کے حلال ہونے پر کوئی دلیل قائم ہوسکتی ہے نہ حرام ہونے پر بلکہ حلال و حرام کے احکام جداگانہ قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں انھیں کا اتباع لازم ہے،
اس آیت میں زمین کی پیدائش پہلے اور آسمانوں کی پیدائش بعد میں ہونا بلفط ثم بیان کیا گیا ہے اور یہی صحیح ہے اور سورة والنازعات میں جو یہ ارشاد ہے والْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا (30: 79) یعنی زمین کو آسمانوں کے پیدا کرنے کے بعد بچھایا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین کی پیدائش آسمانوں کے بعد ہوئی ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی درستی اور اس میں سے پیداوار نکالنے وغیرہ کے تفصیلی کام آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوئے اگرچہ اصل زمین کی تخلیق آسمانوں سے پہلے ہوچکی تھی (بحرمحیط وغیرہ)
اس آیت سے آسمانوں کی تعداد سات ہونا ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ علم ہیئت والوں کا آسمانوں کی تعداد نو بتلانا غلط، بےدلیل اور محض خیالات پر مبنی ہے
Ayah 2:30خلاصہ تفسیر
اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے (تاکہ وہ اپنی رائے ظاہر کریں جس میں حکمت و مصلحت تھی مشورہ کی حاجت سے تو حق تعالیٰ بالا و برتر ہیں غرض اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ) ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب (یعنی وہ میرا نائب ہوگا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجراء ونفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا) کہنے لگے کیا آپ پیدا کریں گے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کریں گے اس میں اور خوں ریزیاں کریں گے اور ہم برابر تسبیح کرتے رہتے ہیں بحمد اللہ اور آپ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں (فرشتوں کی یہ گذارش نہ بطور اعتراض اور نہ اپنا استحقاق جتانے کے لئے بلکہ فرشتوں کو کسی طرح یہ معلوم ہوگیا تھا کہ جو نئی مخلوق زمین سے بنائی جائے گی ان میں نیک وبد ہر طرح کے لوگ ہوں گے بعض لوگ اس نیابت کے کام کو اور زیادہ خراب کریں گے اس لئے نیاز مندانہ عرض کیا کہ ہم سب کے سب ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں اور گروہ ملائکہ میں کوئی گناہ کرنے والا بھی نہیں اس لئے کوئی نیا عملہ بڑھانے اور نئی مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے خصوصاً جب کہ اس نئی مخلوق میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ آپ کی مرضی کے خلاف کام کریں گے جس سے آپ ناخوش ہوں ہم ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں اور ہماری خدمت آپ کی مرضی کے مطابق ہی ہوگی) حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے (یعنی جو چیز تمہاری نظر میں تخلیق بنی آدم سے مانع ہے کہ ان میں بعض فساد بھی پھیلائیں گے وہی چیز درحقیقت ان کی تخلیق کا اصلی سبب ہے کیونکہ اجراء احکام و انتظام تو جبھی وقوع میں آسکتا ہے جب کوئی اعتدال سے تجاوز کرنے والا بھی ہو یہ مقصود تم فرمانبرداروں کے جمع ہونے سے پورا نہیں ہوسکتا، اور اعتدال سے تجاوز کرجانے والی ایک مخلوق جنات پہلے سے موجود تھی اس سے یہ کام کیوں نہ لیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کام کے لئے موزوں وہ مخلوق ہوسکتی ہے جن میں شر و فساد کا عنصر موجود تو ہو مگر غالب نہ ہو جنات میں یہ عنصر غالب تھا اس لئے تخلیق آدم کی تجویز فرمائی آگے اسی حکمت الہیہ کی مزید توضیح اس طرح کی گئی کہ نیابت خداوندی کے لئے ایک خاص علم کی ضرورت ہے وہ علم ملائکہ کی استعداد سے خارج ہے اس لئے فرمایا کہ) اور علم دے دیا اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو (ان کو پیدا کرکے) سب چیزوں کے اسماء کا (یعنی سب چیزوں کے نام اور ان کے خواص وآثار سب کا علم آدم کو دے دیا گیا) پھر وہ چیزیں فرشتوں کے روبرو کردیں پھر فرمایا کہ بتلاؤ مجھ کو اسماء ان چیزوں کے (یعنی مع ان کے آثار و خواص کے) اگر تم سچے ہو (یعنی اپنے اس قول میں سچے ہو کہ ہم خلافت ارضی کا کام اچھا انجام دے سکیں گے) فرشتوں نے عرض کیا کہ آپ تو پاک ہیں (اس الزام سے (کہ آدم ؑ پر اس علم کو ظاہر فرمادیا ہم سے پوشیدہ رکھا کیونکہ کسی آیت یا روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آدم ؑ کو علم اسماء کی تعلیم فرشتوں سے الگ کرکے دی گئی اس سے ظاہر یہ ہے کہ تعلیم تو سب کے سامنے یکساں دی گئی مگر آدم ؑ کی فطرت میں اس علم کے حاصل کرلینے کی صلاحیت تھی انہوں نے حاصل کرلیا فرشتوں کی طبیعت اس کی متحمل نہ تھی ان کو یہ علم حاصل نہ ہوا) مگر ہم کو ہی علم نہیں مگر وہی جو کچھ آپ نے ہم کو علم دیا بیشک آپ بڑے علم والے ہیں حکمت والے ہیں (کہ جس قدر جس کے لئے مصلحت جانا اسی قدر علم وفہم اس کو عطا فرمایا اس سے فرشتوں کا یہ اعتراف تو ثابت ہوگیا کہ وہ اس کام سے عاجز ہیں جو نائب کے سپرد کرنا ہے آگے حق تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ آدم ؑ میں اس علم خاص کی مناسبت کو فرشتوں کے سامنے آشکارا فرمادیں اس لئے حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم تم بتلادو ان کو ان چیزوں کے اسماء (یعنی مع حالات و خواص کے جب آدم ؑ نے یہ سب فرشتوں کے روبرو بتلا دیا تو فرشتے اتنا سمجھ گئے کہ آدم ؑ اس علم کے ماہر ہوگئے ہیں) سو جب بتلا دئیے ان کو آدم ؑ نے ان چیزوں کے اسماء تو حق تعالیٰ نے فرمایا (دیکھو) میں تم سے نہ کہتا تھا کہ بیشک میں جانتا ہوں تمام پوشیدہ چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی اور جانتا ہوں جس بات کو ظاہر کردیتے ہو اور جس کو دل میں رکھتے ہو
معارف و مسائل
ربط آیات
پچھلی آیات میں اللہ جل شانہ کی خاص وعام نعمتوں کا ذکر کر کے انسان کو ناشکری اور نافرمانی سے بچنے کی ہدایت کی گئی اس آیت سے آخر رکوع تک دس آیتوں میں آدم ؑ کا قصہ بھی اسی سلسلہ میں ذکر فرمایا ہے کیونکہ نعمت دو قسم کی ہوتی ہے ایک صوری یعنی محسوس جیسے کھانا، پینا، روپیہ، مکان جائیداد دوسری معنوی جیسے عزت وآبرو، مسرت علم۔ پچھلی آیات میں صوری اور ظاہری نعمتوں کا ذکر تھا اور ان گیارہ آیتوں میں معنوی نعمتوں کا ذکر ہے کہ ہم نے تمہارے باپ آدم ؑ کو دولت علم دی اور مسجود ملائکہ بنانے کی عزت دی اور تم کو ان کی اولاد میں ہونے کا فخر عطا کیا،
خلاصہ مضمون آیت کا یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے جب تخلیق آدم اور دنیا میں اس کی خلافت قائم کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں سے بظاہر ان کا امتحان لینے کے لئے اس ارادے کا ذکر فرمایا جس میں اشارہ یہ تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کریں فرشتوں نے رائے یہ پیش کی کہ انسانوں میں تو ایسے لوگ بھی ہوں گے جو فساد اور خوں ریزی کریں گے ان کو زمین کی خلافت اور انتظام سپرد کرنا سمجھ میں نہیں آتا اس کام کے لئے تو فرشتے زیادہ انسب معلوم ہوتے ہیں کہ نیکی ان کی فطرت ہے برائی کا صدور ہی ان سے ممکن نہیں وہ مکمل اطاعت گذار ہیں دنیا کے انتظامات بھی وہ درست کرسکیں گے اللہ تعالیٰ نے ان کی رائے کے غلط ہونے کا اظہار اول ایک حاکمانہ طرز سے دیا کہ خلافت ارضی کی حقیقت اور اس کی ضروریات سے تم واقف نہیں اس کو میں ہی مکمل طور پر جانتا ہوں،
پھر دوسرا جواب حکیمانہ انداز سے آدم ؑ کی فرشتوں پر ترجیح اور مقام علم میں آدم کے تفوق کا ذکر کرکے دیا گیا اور بتلایا گیا کہ خلافت ارض کے لئے زمینی مخلوقات کے نام اور ان کے خواص وآثار کا جاننا ضروری ہے اور فرشتوں کی استعداد اس کی متحمل نہیں،
تخلیق آدم کی گفتگو فرشتوں سے کس مصلحت پر مبنی تھی
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ حضرت حق جل وعلا شانہ کا فرشتوں کی مجلس میں اس واقعہ کا اظہار کس حیثیت سے تھا ؟ کیا ان سے مشورہ لینا مقصود تھا ؟ یا محض ان کو اطلاع دینا پیش نظر تھا ؟ یا فرشتوں کی زبان سے ان کی رائے کا اظہار کرانا اس کا منشاء تھا ؟
سو یہ بات ظاہر ہے کہ مشورہ کی ضرورت تو وہاں پیش آتی ہے جہاں مسٔلہ کے سب پہلو کسی پر روشن نہ ہوں اور اپنے علم و بصیرت پر مکمل اطمینان نہ ہو اس لئے دوسرے عقلاء واہل دانش سے مشورہ کیا جاتا ہے یا ایسی صورت میں جہاں حقوق دوسروں کے بھی مساوی ہوں تو ان کی رائے لینے کے لئے مشورہ ہوتا ہے جیسے دنیا کی عام نسلوں میں رائج ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ یہاں دونوں صورتوں نہیں ہوسکتیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ خالق کائنات ہیں ذرہ ذرہ کا علم رکھتے ہیں اور ظاہر و باطن ہر چیز ان کے علم وبصر کے سامنے برابر ہے ان کو کیا ضرورت کہ کسی سے مشورہ لیں ؟
اسی طرح یہاں یہ بھی نہیں کہ کوئی پارلیمانی حکومت ہے جس میں تمام ارکان کے مساوی حقوق ہیں اور سب سے مشورہ لینا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کے خالق اور مالک ہیں فرشتے ہوں یا جن وانس سب ان کی مخلوق ومملوک ہیں کسی کو حق نہیں کہ ان کے کسی فعل کے متعلق سوال بھی کرسکے کہ آپ نے یہ کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ (23: 21)
(اللہ تعالیٰ سے اس کے کسی فعل کے متعلق سوال نہیں کیا جاسکتا اور سب سے ان کے اعمال کا سوال کیا جائے گا)
بات یہی ہے کہ درحقیقت یہاں مشورہ لینا مقصود نہیں اور نہ اس کی ضرورت ہے مگر صورت مشورہ کی بنائی گئی جس میں مخلوق کو سنت مشورہ کی تعلیم کا فائدہ ہوسکتا ہے جیسے رسول کریم ﷺ کو صحابہ کرام سے مشورہ لینے کی ہدایت قرآن میں فرمائی گئی حالانکہ آپ تو صاحب وحی ہیں تمام معاملات اور ان کے تمام پہلو آپ کو بذریعہ وحی بتلائے جاسکتے تھے مگر آپ کے ذریعہ مشورہ کی سنت جاری کرنے اور امت کو سکھانے کے لئے آپ کو بھی مشورے کی تاکید فرمائی گئی، حالانکہ آپ تو صاحب وحی ہیں تمام معاملات اور ان کے تمام پہلو آپ کو بذریعہ وحی بتلائے جاسکتے تھے، مگر آپ کے ذریعہ مشورہ کی سنت جاری کرنے اور امت کو سکھانے کے لئے آپ کو بھی مشورے کی تاکید فرمائی گئی،
غرض فرشتوں کی مجلس میں اس واقعہ کے اظہار سے ایک فائدہ تو تعلیم مشورہ کا حاصل ہوا (کما فی روح البیان) دوسرا فائدہ خود الفاظ قرآنی کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے فرشتے یہ سمجھتے تھے کہ ہم سے زیادہ افضل واعلم کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ پیدا نہیں کریں گے،
اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت میں اس کی تصریح بھی ہے کہ خلقت آدم ؑ سے پہلے فرشتے آپس میں کہتے تھے کہلن یخلق اللہ خلقاً اکرم علیہ منا ولا اعلم (یعنی اللہ تعالیٰ کوئی مخلوق ہم سے افضل اور اعلم پیدا نہ فرماویں گے) حضرت حق جل شانہ کے علم میں تھا کہ ایک ایسی مخلوق بھی پیدا کرنے اور زمین کے نائب بنانے کا ذکر کیا گیا کہ وہ اپنے خیال کا اظہار کریں،
اس لئے فرشتوں کی مجلس میں آدم ؑ کو پیدا کرنے اور زمین کے نائب بنانے کا ذکر کیا گیا کہ وہ اپنے خیال کا اظہار کریں،
چنانچہ فرشتوں نے اپنے علم و بصیرت کے مطابق نیاز مندی کے ساتھ رائے کا اظہار کیا کہ جس مخلوق کو آپ خلیفہ زمین بنا رہے ہیں اس میں تو شر و فساد کا مادہ بھی ہے وہ دوسروں کی اصلاح اور زمین میں امن وامان کا انتظام کیسے کرسکتا ہے جبکہ وہ خود خوں ریزی کا بھی مرتکب ہوگا اس کے بجائے آپ کے فرشتوں میں شر و فساد کا کوئی مادہ نہیں وہ خطاؤں سے معصوم ہیں اور ہر وقت آپ کی تسبیح و تقدیس اور عبادت و اطاعت میں لگے ہوتے ہیں وہ بظاہر اس خدمت کو اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں،
غرض اس سے معاذ اللہ حضرت حق جل شانہ کے فعل پر اعتراض نہیں کیونکہ فرشتے ایسے خیالات و حالات سے معصوم ہیں بلکہ مقصد محض دریافت کرنا تھا کہ ایک ایسی معصوم جماعت کے موجود ہوتے ہوئے دوسری غیر معصوم مخلوق پیدا کر کے یہ کام اس کے حوالے کرنا اور اس کو ترجیح دینا کس حکمت پر مبنی ہے ؟
چنانچہ اس کے جواب میں پہلے تو حق تعالیٰ نے اجمالی طور پر یہ فرمایا کہ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی تم خلافت الہیہ کی حقیقت اور اس کے لوازم سے واقف نہیں اس لئے یہ سمجھ رہے ہو کہ ایک معصوم مخلوق ہی اس کو انجام دے سکتی ہے اس کی پوری حقیقت کو ہم ہی جانتے ہیں
خلافت ارض کا مسئلہ
زمین کا انتظام اور اس میں خدا کا قانون نافذ کرنے کے لئے اس کی طرف سے کسی نائب کا مقرر ہونا جو ان آیات سے معلوم ہوا اس سے دستور مملکت اہم باب نکل آیا کہ اقتدار اعلیٰ تمام کائنات اور پوری زمین پر صرف اللہ تعالیٰ کا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ (57: 6) اور لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (107: 2) اور اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ (54: 7) وغیرہ زمین کے انتظام کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نائب آتے ہیں جو بأذن خداوندی زمین پر سیاست و حکومت اور بندگان خدا تعالیٰ کی تعلیم و تربیت کا کام کرتے اور احکام الہیہ کو نافذ کرتے ہیں اس خلیفہ ونائب کا تقرر بلا واسطہ خود حق تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس میں کسی کے کسب وعمل کا کوئی دخل نہیں اسی لئے پوری امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ نبوت کسبی چیز نہیں جس کو کوئی اپنی سعی وعمل سے حاصل کرسکے بلکہ حق تعالیٰ ہی خود اپنے علم و حکمت کے تقاضے سے خاص خاص افراد کو اس کام کے لئے چن لیتے ہیں جن کو اپنا نبی و رسول یا خلیفہ ونائب قرار دیتے ہیں قرآن حکیم نے جگہ جگہ اس کا اظہار فرمایا ہے ارشاد ہے،
اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ (75: 22) اللہ تعالیٰ انتخاب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے اپنے رسول کو اور انسانوں میں سے بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے،
نیز ارشاد ہے
اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (124: 6) اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں کہ اپنی رسالت کس کو عطا فرماویں،
یہ خلیفۃ اللہ بلا واسطہ اللہ تعالیٰ سے اس کے احکام معلوم کرتے اور پھر ان کو دنیا میں نافذ کرتے ہیں یہ سلسلہ خلافت ونیابت الہیہ کا آدم ؑ سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء ﷺ تک ایک ہی انداز میں چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے آخری خلیفہ ہو کر بہت ہی اہم خصوصیات کے ساتھ تشریف لائے،
ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ سے قبل انبیاء خاص خاص قوموں یا ملکوں کے طرف مبعوث ہوتے تھے ان کا حلقہ حکومت اختیار انہی قوموں اور ملکوں میں محدود ہوتا تھا ابراہیم ؑ ایک قوم کی طرف لوط ؑ دوسری قوم کی طرف مبعوث ہوئے حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کے درمیان آنے والے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے،
آنحضرت ﷺ زمین میں اللہ کے آخری خلیفہ ہیں اور آپ کی خصوصیات
آنحضرت ﷺ کو پورے عالم اور اس کی دونوں قوم جنات و انسان کی طرف بھیجا گیا آپ کو اختیار و اقتدار پوری دنیا کی دونوں قوموں پر حاوی فرمایا گیا قرآن کریم نے آپ کی بعثت ونبوت کے عام ہونے کا اعلان اس آیت میں فرمایا
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (158: 7) آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ وہ ذات جس کے قبضہ میں ہے ملک آسمانوں اور زمین کا
اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر چھ چیزوں میں خاص فضیلت بخشی گئی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو تمام عالم کا نبی رسول بنا کر بھیجا گیا،
دوسری خصوصیت خاتم الانبیاء ﷺ کی یہ ہے کہ پچھلے انبیاء کی خلافت ونیابت جس طرح خاص خاص ملکوں اور قوموں میں محدود ہوتی تھی اسی طرح ایک خاص زمانے کے لئے مخصوص ہوتی تھی اس کے بعد دوسرا رسول آجاتا تو پہلے رسول کی خلافت ونیابت ختم ہو کر آنے والے رسول کی خلافت قائم ہوجاتی تھی، ہمارے رسول ﷺ کو حق تعالیٰ نے خاتم الانبیاء بنادیا کہ آپ کی خلافت ونیابت قیامت تک قائم رہے گی اس کا زمانہ بھی کوئی مخصوص زمانہ نہیں بلکہ جب تک زمین و آسمان قائم اور زمانہ کا وجود ہے وہ بھی قائم ہے،
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات و شریعت ایک زمانہ تک محفوظ رہتی اور چلتی تھی رفتہ رفتہ اس میں تحریفات ہوتے ہوئے وہ کالعدم ہوجاتی تھیں اس وقت کوئی دوسرا رسول اور دوسری شریعت بھیجی جاتی تھی،
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (9: 15) ہم نے ہی قرآن نازل فرمایا اور ہم اس کے محافظ ہیں،
اسی طرح آنحضرت ﷺ کی تعلیمات و ارشادات جن کو حدیث کہا جاتا ہے اس کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے ایک خاص انتظام فرما دیا کہ قیامت تک آپ کی تعلیمات اور ارشادات کو جان سے زیادہ عزیز سمجھنے والی ایک جماعت باقی رہے گی جو آپ کے علوم و معارف اور آپ کے شرعی احکام صحیح صحیح لوگوں کو پہونچاتی رہے گی کوئی اس جماعت کو مٹا نہ سکے گا اللہ تعالیٰ کی تایئد غیبی ان کے ساتھ رہے گی،
خلاصہ یہ ہے کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کی کتابیں اور صحیفے سب مسخ ومحرف ہوجاتے اور بالآخر دنیا سے گم ہوجاتے یا غلط سلط باقی رہتے تھے آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی کتاب قرآن اور آپ کی بتلائی ہوئی ہدایات حدیث سب کی سب اپنے خدوخال کے ساتھ قیامت تک موجود و محفوظ رہیں گی اسی لئے اس زمین پر آپ کے بعد نہ کسی نئے نبی اور رسول کی ضرورت ہے نہ کسی اور خلیفۃ اللہ کی گنجائش،
چوتھی خصوصیت آنحضرت ﷺ کی یہ ہے کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کی خلافت ونیابت جو محدود وزمانہ کے لئے ہوتی تھی ہر نبی و رسول کے بعد دوسرا رسول منجانب اللہ مقرر ہوتا اور نیابت کا کام سنبھالتا تھا،
آنحضرت ﷺ کے بعد نظام خلافت
خاتم الانبیاء ﷺ کا زمانہ خلافت ونیابت تا قیامت ہے اس لئے قیامت تک آپ ہی اس زمین میں خلیفۃ اللہ ہیں آپ کی وفات کے بعد نظام عالم کیلئے جو نائب ہوگا وہ خلیفۃ الرسول اور آپ کا نائب ہوگا صحیح بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،
کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی کلفہ نبی وانہ لانی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرونبنی اسرائیل کی سیاست و حکومت ان کے انبیاء کرتے تھے ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی آجاتا اور خبردار رہو کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہاں میرے خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے،
پانچویں خصوصیت آنحضرت ﷺ کی یہ ہے کہ آپ کے بعد آپ کی امت کے مجموعے کو اللہ تعالیٰ نے وہ مقام عطا فرمایا جو انبیاء (علیہم السلام) کا ہوتا ہے یعنی امت کے مجموعے کو معصوم قرار دے دیا کہ آپ کی پوری امت کبھی گمراہی اور غلطی پر جمع نہ ہوگی یہ پوری امت جس مسئلہ پر اجماع و اتفاق کرے وہ حکم خداوندی کا مظہر سمجھا جائے گا اسی لئے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بعد اسلام میں تیسری حجت اجماع امت قرار دی گئی ہے آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے، لن تجتمع امتی علی الضلالۃ میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی،
اس کی مزید تفصیل اس حدیث سے معلوم ہوجاتی ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت حق پر قائم رہے گی دنیا کتنی ہی بدل جائے حق کتنا ہی مضمحل ہوجائے مگر ایک جماعت حق کی حمایت ہمیشہ کرتی رہے گی اور انجام کار وہی غالب رہی گی،
اس سے بھی واضح ہوگیا کہ پوری امت کبھی گمراہی اور غلطی پر جمع نہ ہوگی اور جب کہ امت کا مجموعہ معصوم قرار دیا گیا تو خلیفہ رسول اللہ ﷺ کا انتخاب بھی اسی کے سپرد کردیا گیا اور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد نیابت زمین اور نظم حکومت کے لئے انتخاب کا طریقہ مشروع ہوگیا یہ امت جسے خلافت کے لئے منتخب کردے وہ خلیفہ رسول کی حیثیت سے نظام عالم کا واحد ذمہ دار ہوگا اور خلیفہ سارے عالم کا ایک ہی ہوسکتا ہے ،
خلفائے راشدین کے آخری عہد تک یہ سلسلہ خلافت صحیح اصول پر چلتا رہا اور اسی لئے ان کے فیصلے صرف دینی اور ہنگامی فیصلوں کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ایک محکم دستاویز اور ایک درجہ میں امت کے لئے حجت مانے جاتے ہیں کیونکہ خود آنحضرت ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا،
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین ؛
میری سنت کو لازم پکڑو اور خلفائے راشدین کی سنت کو
خلافت راشدہ کے بعد
خلافت راشدہ کے بعد کچھ طوائف الملوکی کا آغاز ہوا مختلف خطوں میں مختلف امیر بنائے گئے ان میں سے کوئی بھی خلیفہ کہلانے کا مستحق نہیں ہاں کسی ملک یا قوم کا امیر خاص کہا جاسکتا ہے اور جب پوری دنیا کے مسلمانوں کا اجتماع کسی ایک فرد پر متعذر ہوگیا اور ہر ملک ہر قوم کا علیٰحدہ علیحٰدہ امیر بنانے کی رسم چل گئی تو مسلمانوں نے اس کا تقرر اسی اسلامی نظریہ کے تحت جاری رکھا کہ ملک کے مسلمانوں کی اکثریت جس کو امیر منتخب کرے وہ ہی اس ملک کا امیر اور اولو الامر کہلائے قرآن مجید کے ارشاد وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ (42: 37)
مغربی جمہوریت اور اسلامی شورائیت میں فرق
اسمبلیاں اسی طرز عمل کا ایک نمونہ ہیں فرق اتنا ہے کہ عام جمہوری ملکوں کی اسمبلیاں اور ان کے ممبران بالکل آزاد وخود مختار ہیں محض اپنی رائے سے جو چاہیں اچھا یا برا قانون بنا سکتے ہیں اسلامی اسمبلی اور اس کے ممبران اور منتخب کردہ امیر سب اس اصول و قانون کے پابند ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول ﷺ کے ذریعہ ان کو ملا ہے اس اسمبلی یا مجلس شوریٰ کی ممبری کے لئے بھی کچھ شرائط ہیں اور جس شخص کو یہ منتخب کریں اس کے لئے بھی کچھ حدود وقیود ہیں پھر ان کی قانون سازی بھی قرآن وسنت کے بیان کردہ اصول کے دائرہ میں ہوسکتی ہے اس کے خلاف کوئی قانون بنانے کا ان کو اختیار نہیں،
آیت مذکورہ سے دستور مملکت کی چند اہم دفعات کا ثبوت
اول یہ کہ آسمان اور زمین میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے تنفیذ کے لئے اس کا نائب و خلیفہ اس کا رسول ہوتا ہے اور ضمنی طور پر یہ بھی واضح ہوگیا کہ خلافت الہیہ کا سلسلہ جب آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگیا تو اب خلافت رسول کا سلسلہ اس کے قائم مقام ہوا اور اس خلیفہ کا تقرر ملت کے انتخاب سے قرار پایا۔
Ayah 2:31اس کے بعد فرشتوں کو اس کا کچھ تفصیلی علم کرانے کے لئے ایک خاص واقعہ کا اظہار کیا گیا کہ تمام کائنات عالم کے نام اور ان کے خواص وآثار جن کے علم کی صلاحیت صرف آدم ؑ ہی میں ودیعت کی گئی تھی فرشتوں کی فطرت وجبلت اس کے مناسب نہ تھی وہ سب آدم ؑ کو سکھائے اور بتلائے گئے تھے مثلاً دنیا کی نافع ومضر چیزیں اور ان کے خواص وآثار، ہر جاندار اور ہر قوم کے مزاج و طبائع اور ان کے آثار، ان چیزوں کے معلوم کرنے کے لئے طبیعت ملکی متحمل نہیں فرشتہ کیا جانے کہ بھوک کیا ہوتی ہے پیاس کی تکلیف کیسی ہوتی ہے نفسانی جذبات کا کیا اثر ہوتا ہے کسی چیز سے نشہ کس طرح پیدا ہوتا ہے سانپ اور بچھو کا زہر کس بدن پر کیا اثر کرتا ہے،
غرض زمینی مخلوقات کے نام اور خواص و آثار کی دریافت فرشتوں کے مزاج اور مخصوص طبیعت سے بالکل علیحدہ چیز تھی یہ علم صرف آدم ہی کو سکھلایا جاسکتا تھا انہی کو سکھلایا گیا پھر قرآن کی کسی تصریح یا اشارہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آدم ؑ کو یہ تعلیم کسی تنہائی میں فرشتوں سے علیحدہ دی گئی اس لئے ہوسکتا ہے کہ تعلیم سب کے لئے عام ہی ہو مگر اس تعلیم سے فائدہ اٹھانا آدم ؑ کی طبیعت میں تھا وہ سیکھ گئے فرشتوں کی فطرت میں نہ تھا وہ نہ سیکھ سکے اسی لئے یہاں تعلیم کو آدم کی طرف منسوب کیا گیا اگرچہ یہ تعلیم فی نفسہ عام تھی آدم اور ملائکہ دونوں کو شامل تھی اور یہ بھی ہوسکتا کہ ظاہری تعلیم کی صورت ہی عمل میں نہ آئی ہو بلکہ آدم ؑ کی فطرت میں ان چیزوں کا علم ابتدائے آفرینش سے ودیعت کردیا گیا ہو جیسے بچہ ابتداء ولادت میں ماں کا دودھ پینا جانتا ہے بطخ کا بچہ تیرنا جانتا ہے اس میں کسی ظاہری تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اب رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو سب کچھ ہے وہ فرشتوں کا مزاج اور طبیعت بدل کر ان کو بھی یہ چیزیں سکھا سکتے تھے تو ان کو کیوں نہ سکھایا گیا ؟ مگر اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ فرشتوں کو ہی انسان کیوں نہ بنادیا کیونکہ اگر فرشتوں کی جبلت و فطرت کو بدلا جاتا تو پھر فرشتے نہ رہتے بلکہ انسان ہی ہوجاتے،
خلاصہ یہ ہے کہ زمینی مخلوقات کے اسماء اور ان کے خواص وآثار کا آدم ؑ کو علم دیا گیا جو فرشتوں کے بس میں نہیں تھا اور پھر ان مخلوقات کو فرشتوں کے سامنے کرکے سوال کیا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ ہم سے زیادہ کوئی مخلوق اعلم و افضل پیدا نہیں ہوگی یا یہ کہ زمین کی خلافت ونیابت کے لئے فرشتے بہ نسبت انسان کے زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتلاؤ جن پر خلیفہ زمین کو حکومت کرنا ہے،
یہاں سے یہ فائدہ بھی حاصل ہوگیا کہ حاکم کے لئے ضروری ہے کہ اپنی محکوم رعایا کے مزاج و طبائع سے اور ان کے خواص وآثار سے پورا واقف ہو اس کے بغیر وہ ان پر عدل و انصاف کے ساتھ حکمرانی نہیں کرسکتا جو شخص یہ نہیں جانتا کہ بھوک سے کیسی اور کتنی تکلیف ہوتی ہے اگر اس کی عدالت میں کوئی دعویٰ کسے کو بھوکا رکھنے کے متعلق پیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ کیا اور کس طرح کرے گا ؟
غرض اسی واقعہ سے حق تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ بتلا دیا کہ زمین کی نیابت کے لئے معصوم ہونے کو دیکھنا نہیں بلکہ اس کو دیکھنا ہے کہ وہ زمین کی چیزوں سے پورا واقف ہو ان کے استعمال کے طریقوں اور ان کے ثمرات کو جانتا ہو اگر تمہارا یہ خیال صحیح ہے کہ فرشتے اس خدمت کے لئے زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتلاؤ ،
فرشتوں کا اظہار رائے چونکہ کسی اعتراض یا فخر و غرور یا اپنا استحقاق جتلانے کے لئے نہیں بلکہ محض اپنے خیال کا اظہار ایک نیاز مندخادم کی طرح اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تھا اس لئے فوراً بول اٹھےقَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَاعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَ آ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ
(پاک ہیں آپ، ہم کو علم نہیں، مگر وہی جو آپ نے عطا فرمایا بیشک آپ بڑے علم و حکمت والے ہیں) جس کا حاصل اپنے خیال سے رجوع اور اس کا اقرار تھا کہ زیادہ اعلم و افضل مخلوق بھی موجود ہے اور یہ کہ زمین کی نیابت کے لئے وہی موزوں ہیں،
دوسرا سوال اس جگہ یہ ہے کہ فرشتوں کو اس کی کیسے خبر ہوئی کہ انسان خوں ریزی کرے گا کیا انھیں علم غیب تھا ؟ یا محض اٹکل اور تخمینہ سے انہوں نے یہی سمجھا تھا ؟
اس کا جواب جمہور محققین کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی ان کو انسان کے حالات اور اس کے ہونے والے معاملات بتلا دئیے تھے جیسا کہ بعض آثار میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے آدم ؑ کو خلیفہ زمین بنانے کا ذکر فرمایا تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ ہی سے اس کا خلیفہ کا حال دریافت کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی نے ان کو جو بتلایا (روح المعانی) اس سے فرشتوں کو تعجب ہوا کہ جب انسان کا یہ حال ہے کہ وہ فساد وخوں ریزی بھی کرے گا تو اس کو نیابت زمین کے لئے منتخب فرمانا کس حکمت پر مبنی ہے،
اسی کا جواب تو حضرت حق جل شانہ کی طرف سے آدم ؑ کے علمی تفوق کا اظہار فرما کر دے دیا گیا اور فساد و خون ریز سے جو شبہ اس کے استحقاق نیابت پر کیا گیا تھا، اس کا جواب اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ میں اجمالاً دے دیا گیا جس میں اشارہ ہے کہ جس چیز کو تم نیابت و خلافت کے منافی سمجھ رہے ہو درحقیقت وہ ہی اس کی اہلیت کا بڑا سبب ہے کیونکہ نیابت زمین کی ضرورت ہی رفع فساد کے لئے ہے جہاں فساد نہ ہو وہاں خلیفہ اور نائب بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں غرض یہ بتلا دیا گیا کہ منشائے الہی یہ ہے کہ جس طرح اس نے ایک ایسی مقدس معصوم مخلوق فرشتے پیدا کردئیے جس سے کسی گناہ خطاء کا صدور ہو ہی نہیں سکتا اور جس طرح اس نے شیاطین پیدا کردئیے جن میں نیکی اور بھلائی کی صلاحیت نہیں اسی طرح ایک ایسی مخلوق بھی پیدا کرنا منشاء خداوندی ہے جس میں خیر وشر، نیکی اور بدی کا مخلوط مجموعہ ہو، اور جس میں خیر وشر کے دونوں جذبات ہوں اور جو جذبات شر کو مغلوب کرکے خیر کے میدان میں آگے بڑھے اور رضائے خدا وندی کا خلعت حاصل کرے،
واضع لغت خود حق تعالیٰ ہیں
اس قصہ آدم ؑ اور تعلیم اسماء کے واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ زبان اور لغت کے اصل واضع خود حق سبحانہ وتعالیٰ ہی کو واضع لغت قرار دیا ہے،
آدم ؑ کا تفوق فرشتوں پر
اس واقعہ میں قرآن حکیم کے یہ بلیغ الفاظ بھی قابل نظر ہیں کہ جب فرشتوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ ان چیزوں کے نام بتلاؤ لفظ اَنْ ۢبِــُٔـوْنِىْ ارشاد فرمایا گیا کہ مجھے بتلاؤ اور جب آدم ؑ کو اسی چیز کا خطاب ہوا تو لفظ اَنْۢ بِــٔھُم فرمایا گیا یعنی آدم ؑ کو حکم ہوا کہ فرشتوں کو یہ اسماء بتلائیں،
اس طرز بیان کے فرق سے واضح ہوگیا کہ آدم ؑ کو معلم درجہ دیا گیا اور فرشتوں کو طالب علم کا جس میں آدم ؑ کو فضلیت وتفوق کا ایک اہم صورت سے اظہار کیا گیا ہے اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علوم میں بھی کمی اور زیادتی ہوسکتی ہے کیونکہ جس چیز کا ان کو علم نہیں تھا آدم ؑ کے ذریعہ ان کو بھی ان چیزوں کا اجمالی طور پر کسی نہ کسی درجہ میں علم دے دیا گیا
Ayahs 2:32–33خلاصہ تفسیر
اور جس وقت حکم دیا ہم نے سب فرشتوں کو (اور جنوں کو بھی جیسا کہ بعض روایات میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے غرض ان سب کو یہ حکم دیا گیا کہ) سجدہ میں گرجاؤ آدم کے سامنے سو سب سجدہ میں گر پڑے بجز ابلیس کے کہ اس نے کہنا نہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے،
Ayah 2:34معارف و مسائل
ربط آیات
پچھلے واقعہ میں جب آدم کی فضیلت فرشتوں پر ظاہر ہوچکی اور دلائل سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ صلاحیت خلافت کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے وہ آدم ؑ میں سب مجتمع ہیں اور ملائکہ کو ان میں سے بعض علوم حاصل ہیں اور جنوں کو تو بہت ہی کم حصہ ان علوم کا حاصل ہے جیسا کہ اوپر تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے اور اس حیثیت خاص سے کہ ملائکہ وجن ہر دو گروہ کے علوم کے یہ جامع ہیں ان کا شرف ہر دو گروہ پر ظاہر فرما دیا جاوے اور ملائکہ اور جنوں سے ان کو کوئی خاص تعظیم کرائی جاوے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ دونوں سے کامل اور مصداق،
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
کے ہیں اور آدم ؑ ان علوم خاصہ میں ملائکہ اور جن ہر دو گروہ سے کامل اور دونوں کے علوم وقویٰ کو جامع ہیں جیسا کہ مفصل طور پر مذکور ہوا اب حق تعالیٰ کو منظور ہوا کہ ان غیر کاملوں سے اس کامل کی کوئی ایسی تعظیم کرائی جاوے کی عملاً بھی یہ امر ظاہر ہوجاوے کہ یہ ان دونوں سے کامل اور جامع ہیں جب تو یہ دونوں ان کی تعظیم کر رہے ہیں اور گویا بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ جو اوصاف ہم میں الگ الگ ہیں وہ ان کے اندر یکجا ہیں اس لئے جو عمل تعظمیی تجویز فرمایا گیا ہے اس کی حکایت ذکر فرماتے ہیں کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم ؑ کو سجدہ کریں سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدے سے انکار کیا اور غرور میں آگیا،
کیا سجدہ کا حکم جنات کو بھی تھا
اس آیت میں جو بات صراحۃ مذکور ہے وہ تو یہ ہے کہ آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا تو اس سے فرشتے اور جنات سب داخل ہیں مگر حکم میں صرف فرشتوں کے ذکر پر اس لئے اکتفا کیا گیا کہ وہ سب سے افضل اور اشرف تھے جب آدم ؑ کی تعظیم کا حکم ان کو دیا گیا تو جنات کا بدرجہ اولیٰ اس حکم میں شامل ہونا معلوم ہوگیا،
سجدہ تعظیمی پہلی امتوں میں جائز تھا اسلام میں ممنوع ہے
اس آیت میں فرشتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آدم ؑ کو سجدہ کریں اور سورة یوسف میں حضرت یوسف ؑ کے والدین اور بھائیوں کا مصر پہنچنے کے بعد یوسف ؑ کو سجدہ کرنا مذکور ہے
وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا (12: 100) یہ تو ظاہر ہے کہ یہ سجدہ عبادت کے لئے نہیں ہوسکتا کیونکہ غیر اللہ کی عبادت شرک و کفر ہے جس میں احتمال ہی نہیں کہ کسی وقت کسی شریعت میں جائز ہوسکے اس کے سوا کوئی احتمال نہیں کہ قدیم انبیاء (علیہم السلام) کے زمانے میں سجدے کا بھی وہی درجہ ہوگا جو ہمارے زمانے میں سلام، مصافحہ، معانقہ اور دست بوسی یا تعظیم کے لئے کھڑے ہوجانے کا ہے۔
امام جصاص نے احکام القرآن میں یہی فرمایا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سابقین کی شریعت میں بڑوں کی تعظیم اور تحیہ کے لئے سجدہ مباح تھا شریعت محمدیہ میں منسوخ ہوگیا اور بڑوں کی تعظیم کے لئے صرف سلام مصافحہ کی اجازت دی گئی، رکوع، سجدہ اور بیئت نماز ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کو ناجائز قرار دے دیا گیا ،
توضیح اس کی یہ ہے کہ اصل کفر و شرک اور غیر اللہ کی عبادت تو اصول ایمان کے خلاف ہے وہ کبھی کسی شریعت میں جائز نہیں ہوسکتے لیکن کچھ افعال و اعمال ایسے ہیں جو اپنی ذات میں شرک و کفر نہیں مگر لوگوں کی جہالت اور غفلت سے وہ افعال ذریعہ شرک و کفر کا بن سکتے ہیں ایسے افعال کو انبیاء سابقین کی شریعتوں میں مطلقاً منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کو ذریعہ شرک بنانے سے روکا گیا جیسے جانداروں کی تصویر بنانا اور استعمال کرنا اپنی ذات میں کفر و شرک نہیں اس لئے پچھلی شریعتوں میں جائز تھا حضرت سلیمان ؑ کے قصہ میں مذکور ہے،
يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ (37: 13) یعنی جنات ان کے لئے بڑی محرابیں اور تصویریں بنایا کرتے تھے،
اسی طرح سجدہ تعظیمی پچھلی شریعتوں میں جائز تھا لیکن آخر کار لوگوں کی جہالت سے یہی چیزیں شرک وبت پرستی کا ذریعہ بن گئیں اور اسی راہ سے انبیاء (علیہم السلام) کے دین و شریعت میں تحریف ہوگی،
اور پھر دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اور دوسری شریعتوں نے آکر اس کو مٹایا شریعت محمدیہ چونکہ دائمی اور ابدی شریعت ہے رسول اللہ ﷺ پر نبوت و رسالت ختم اور آپ کی شریعت آخری شریعت ہے اس لئے اس کو مسخ و تحریف سے بچانے کے لئے ہر ایسے سوراخ کو بند کردیا گیا جہاں سے شرک وبت پرستی آسکتی تھی اسی سلسلہ میں وہ تمام چیزیں اس شریعت میں حرام قرار دے دیگئیں جو کسی زمانے میں شرک وبت پرستی کا ذریعہ بنی تھیں،
تصویر سازی اور اس کے استعمال کو اس وجہ سے حرام کیا گیا سجدہ تعظیمی اسی وجہ سے حرام ہوا ایسے اوقات میں نماز پڑھنے کو حرام کردیا گیا جن میں مشرکین اور کفار اپنے معبودوں کی عبادت کیا کرتے تھے کہ یہ ظاہری مطابقت کسی وقت شرک کا ذریعہ نہ بن جائے،
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے آقاؤں کو یہ حکم دیا کہ اپنے غلام کو عبد یعنی بندہ کہہ کر نہ پکاریں اور غلاموں کو یہ حکم دیا کہ وہ آقاؤں کو اپنا رب نہ کہیں حالانکہ لفظی معنی کے اعتبار سے بندہ کے معنی غلام کے اور رب کے معنی پالنے والنے اور تربیت کرنے والے کے ہیں ایسے الفاظ کا استعمال ممنوع نہ ہونا چاہئے تھا مگر محض اس لئے کہ یہ الفاظ موہم شرک ہیں کسی وقت جہالت سے یہی الفاظ آقاؤں کی پرستش کا دروازہ نہ کھول دیں اس لئے ان الفاظ کے استعمال کو روک دیا گیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ آدم ؑ کو فرشتوں کا سجدہ اور یوسف ؑ کو ان کے والدین اور بھائیوں کا سجدہ جو قرآن میں مذکور ہے یہ سجدہ تعظیمی تھا جو ان کی شریعت میں سلام، مصافحہ، اور دست بوسی کا درجہ رکھتا تھا اور جائز تھا شریعت محمدیہ کو کفر و شرک کے شائبہ سے بھی پاک رکھنا تھا اس لئے اس شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بقصد تعظیم بھی سجدہ یا رکوع کرنا جائز نہیں رکھا گیا،
بعض علماء نے فرمایا کہ نماز جو اصل عبادت ہے اس میں چار طرح کے افعال ہیں کھڑا ہونا بیٹھنا، رکوع، سجدہ ان میں سے پہلے دو یعنی کھڑا ہونا اور بیٹھنا تو ایسے کام ہیں جو عادۃ بھی انسان اپنی ضرورتوں کے لئے کرتا ہے اور عبادۃ بھی نماز میں کئے جاتے ہیں مگر رکوع اور سجدہ ایسے فعل ہیں جو انسان عادۃ نہیں کرتا وہ عبادت ہی کے ساتھ مخصوص ہیں اس لئے ان دونوں کو شریعت محمدیہ میں عبادت ہی کا حکم دے کر غیر اللہ کے لئے ممنوع کردیا،
اب یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ سجدہ تعظیمی کا جواز تو قرآن کی مذکورہ آیات سے ثابت ہے شریعت محمدیہ میں اس کا منسوخ ہونا کس دلیل سے ثابت ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث متواترہ مشہورہ سے سجدہ تعظیمی کا حرام ہونا ثابت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں غیر اللہ کے لئے سجدہ تعظیمی کو جائز قرار دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کیا کرے (مگر اس شریعت میں سجدہ تعظیم مطقاً حرام ہے اس لئے کسی کو کسی کے لئے جائز نہیں)
یہ حدیث بیس صحابہ کرام کی روایت سے ثابت ہے اصول حدیث کی معروف کتاب تدریب الراوی میں ہے کہ جس روایت کو دس صحابہ کرام ؓ اجمعین نقل فرمادیں تو وہ حدیث متواتر ہوجاتی ہے جو قرآن کی طرح قطعی ہے یہاں تو بیس صحابہ کرام ؓ اجمعین سے منقول ہے یہ بیس صحابہ کرام ؓ اجمعین روایتیں حاشیہ بیان القرآن میں حضرت حکیم الامت تھانوی نے جمع فرمادی ہیں ضرورت ہو تو وہاں سے دیکھا جاسکتا ہے،
ابلیس کا کفر محض عملی نافرمانی کا نتیجہ نہیں
مسئلہابلیس کا کفر محض عملی نافرمانی کا نتیجہ نہیں کیونکہ کسی فرض کو عملاً ترک کردینا اصول شریعت میں فسق و گناہ ہے کفر نہیں ابلیس کے کفر کا اصل سبب حکم ربانی سے معارضہ اور مقابلہ کرنا ہے کہ آپ نے جس کو سجدہ کرنے کا مجھے حکم دیا ہے وہ اس قابل نہیں کہ میں اس کو سجدہ کروں یہ معارضہ بلاشبہ کفر ہے،
ابلیس کو طاؤس الملائکہ کہا جاتا تھا
مسئلہیہ بات قابل غور ہے کہ ابلیس علم و معرفت میں یہ مقام رکھتا تھا کہ اس کو طاؤس الملائکہ کہا جاتا تھا پھر اس سے یہ حرکت کیسے صادر ہوئی ؟ بعض علماء نے فرمایا کہ اس کے تکبر کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی دی ہوئی معرفت اور علم وفہم کی دولت سلب کرلی اس لئے ایسی جہالت کا کام کر بیٹھا بعض نے فرمایا کہ حب جاہ اور خود پسندی نے حقیقت شناسی کے باوجود اس بلا میں مبتلا کردیا تفسیر روح المعانی میں اس جگہ ایک شعر نقل کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعض اوقات کسی گناہ کے وبال سے تائید حق انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو اس کی ہر کوشش اور عمل اس کو گمراہی کی طرف دھکیل دیتا ہے شعر یہ ہے،
اذا لم یکن عون من اللہ للفتٰی
فاول ما یجنی علیہ اجتہادہ
روح المعانی میں اس سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ انسان کا ایمان وہی معتبر ہے جو آخر عمر اور اول منازل آخرت تک ساتھ رہے موجودہ ایمان وعمل اور علم و معرفت پر غرہ نہ ہونا چاہئے (روح)