Ayah 2:221اٹھارہواں حکم مناکحت کفار
اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی (کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر عورت سے (چاہے وہ آزاد بی بی ہی کیوں نہ) گو وہ (کافر عورت بوجہ مال یا جمال کے) تم کو اچھی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان عورت ہی اس سے اچھی ہے) اور (اسی طرح اپنے اختیار کی) عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک یہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان مرد (چاہے) غلام (ہی کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر مرد سے (چاہے وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو) گو وہ (کافر مرد بوجہ مال یا جاہ کے) تم کو اچھا ہی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان ہی اس سے اچھا ہے اور وجہ ان کافروں کے برا ہونے کی اور وہی اصل سبب ان سے ممانعت نکاح کا ہے یہ ہے کہ) یہ (کافر) لوگ دوزخ (میں جانے) کی تحریک دیتے ہیں (کیونکہ کفر کی تحریک کرتے ہیں اور اس کا انجام جہنم ہے) اور اللہ تعالیٰ جنت اور مغفرت (کے حاصل کرنے) کی تحریک کرتے ہیں اپنے حکم سے (اور اس حکم کا ظہور اس طرح ہوا کہ کفار کے متعلق یہ حکم صادر فرما دیا کہ ان سے نکاح نہ کیا جائے تاکہ ان کی تحریک کے اثر سے پوری حفاظت رہ سکے اور اس سے محفوظ رہ کر جنت اور مغفرت حاصل ہوجاوے) اللہ تعالیٰ اس واسطے اپنے احکام بتلا دیتے ہیں تاکہ وہ لوگ نصیحت پر عمل کریں (اور مستحق جنت و مغفرت ہوجاویں)
فوائد از بیان القرآن
مسئلہجو قوم اپنی وضع اور طرز سے اہل کتاب سمجھے جاتے ہوں لیکن عقائد کی تحقیق کرنے سے کتابی ثابت نہ ہوں اور قوم کی عورتوں سے نکاح درست نہیں جیسے آجکل عموماً انگریزوں کو عام لوگ عیسائی سمجھتے ہیں حالانکہ تحقیق سے ان کے بعض عقائد بالکل ملحدانہ ثابت ہوئے کہ نہ خدا کے قائل نہ عیسیٰ ؑ کی نبوت کے معتقد نہ انجیل کی نسبت آسمانی کتاب ہونے کا اعتقاد، سو ایسے لوگ عیسائی نہیں ایسی جماعت میں جو عورت ہو اس سے نکاح درست نہیں لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں کہ بلا تحقیق یورپ کی عورتیں بیاہ لاتے ہیں۔
مسئلہاس طرح جو مرد ظاہری حالت سے مسلمان سمجھا جائے لیکن عقائد اس کے کفر تک پہنچے ہوں اس سے مسلمان عورت کا نکاح درست نہیں اور اگر نکاح ہوجانے کے بعد ایسے عقائد خراب ہوجاویں تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے جیسے آج کل بہت سے آدمی اپنے مذہب سے ناواقف سائنس کے اثر سے اپنے عقائد تباہ کرلیتے ہیں لڑکی والوں پر واجب ہے کہ پیام آنے کے وقت اول عقائد کی تحقیق کرلیا کریں تب زبان دیں۔
معارف و مسائل
مسلم و کافر کا باہمی ازدواج ممنوع ہے
آیات مذکورہ میں ایک اہم مسئلہ یہ بیان فرمایا گیا کہ مسلمان مردوں کا نکاح کافر عورتوں سے اور کافر مردوں کا نکاح مسلمان عورتوں سے جائز نہیں وجہ یہ ہے کہ کافر مرد اور عورتیں انسان کو جہنم کی طرف لے جانے کے سبب بنتے ہیں کیونکہ ازدواجی تعلقات آپس کی محبت ومودت اور یگانگت کو چاہتے ہیں اور بغیر اس کے ان تعلقات کا اصلی مقصد پورا نہیں ہوتا اور مشرکین کے ساتھ اس قسم کے تعلقات قریبہ محبت ومودت کا لازمی اثر یہ ہے کہ ان کے دل میں بھی کفر و شرک کی طرف میلان پیدا ہو یا کم ازکم شرک سے نفرت ان کے دلوں سے نکل جائے اور اس کا انجام یہ ہے کہ یہ بھی کفر و شرک میں مبتلا ہوجائیں اور اس کا نتیجہ جہنم ہے اس لئے فرمایا گیا کہ یہ لوگ جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انسان کو جنت اور مغفرت کی طرف دعوت دیتا ہے اور صاف صاف اپنے احکام بیان فرما دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پر عمل کریں اس جگہ چند باتیں قابل غور ہیں۔
اولیہ کہ اس آیت میں لفظ مشرک سے اگر مطلقا غیر مسلم مراد ہوں تو قرآن کریم کی ایک دوسری آیت کی بنا پر اہل کتاب کی غیر مسلم عورتیں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جس میں ارشاد فرمایا گیا ہےوَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اور اگر مشرک سے خاص وہ غیر مسلم مراد ہیں جو اہل کتاب نہیں تو یہ آیت اپنی جگہ عام ہے تمام ان غیر مسلموں کو جو کسی پیغمبر اور آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔
دوسری باتقابل غور یہ ہے کہ مسلم و کافر کے درمیان ازدواجی تعلقات کو حرام قرار دینے کی جو وجہ قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کے ساتھ ایسے تعلقات قریبہ کفر و شرک میں مبتلا ہوجانے کا سبب بن سکتے ہیں یہ بات تو بظاہر تمام غیرمسلم فرقوں میں مساوی ہے پھر اہل کتاب کی عورتوں کی متثنی کرنے کی کیا وجہ ہے ؟
جواب ظاہر ہے کہ اہل کتاب کا اختلاف اسلام کے ساتھ بہ نسبت دوسرے غیر مسلموں کے کم اور ہلکا ہے کیونکہ عقائد اسلام کے تین عمود ہیں، توحید، آخرت، رسالت، ان میں سے عقیدہ آخرت میں تو اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی اپنے اصل مذہب کے اعتبار سے مسلمانوں کے ساتھ متفق ہیں اسی طرح خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا خود ان کے اصل مذہب میں بھی کفر ہے یہ دوسری بات ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی عظمت و محبت کے غلو میں شرک تک جاپہنچے۔
اب بنیادی اختلاف صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتے اور اسلام میں یہ عقیدہ بھی بنیادی عقیدہ ہے اس کے بغیر کوئی انسان مومن نہیں ہوسکتا بہرحال دوسرے غیرمسلم فرقوں کی نسبت سے اہل کتاب کا اختلاف ہلکا اور کم ہے اس لئے اس میں مفسدہ کا خطرہ زیادہ نہیں۔
تیسری باتقابل غور یہ ہے کہ جب اہل کتاب کا اختلاف ہلکا قرار دے کر ان کی عورتوں سے نکاح مسلمان کا جائز ہوا تو اس کے برعکس مسلمان عورتوں کا نکاح بھی غیر مسلم اہل کتاب سے جائز ہوجانا چاہئے مگر ذرا غور کرنے سے فرق واضح ہوجاتا ہے کہ عورت کچھ فطرۃ ضعیف ہے اور پھر شوہر اس پر حاکم اور نگران بنایا گیا ہے اس کے عقائد ونظریات سے عورت کا متأثر ہوجانا مستبعد نہیں اس لئے اگر مسلمان عورت غیر مسلم کتابی کے نکاح میں رہے تو اس کے عقائد خراب ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے بخلاف اس کے کہ غیرمسلم کتابی عورت مسلمان کے نکاح میں رہے تو اس کے خیالات کا اثر شوہر پر پڑنا اصولاً مستبعد ہے کوئی بےاصول اور افراط کا شکار ہوجائے یہ اس کا اپنا قصور ہے۔
چوتھی باتقابل غور یہ ہے کہ ازدواجی تعلقات میں جو کچھ اثر ہوتا ہے وہ طرفین پر یکساں ہوتا ہے اس لئے جیسے یہ اندیشہ ہے کہ مسلمان کے عقائد غیرمسلم سے متاثر ہوجائیں اسی طرح یہ بھی تو احتمال ہے کہ معاملہ برعکس ہو غیرمسلم کے عقائد مسلمان سے متأثر ہوں اور وہ ہی اسلام قبول کرلے تو اس کا متقضا یہ ہے کہ مسلم وغیرمسلم کے ازدواجی تعلقات کو ممنوع نہ کیا جائے۔
لیکن یہاں حکمت کی بات یہ ہے کہ جب کسی چیز میں ایک نفع کی امید بھی ہو اور کسی ضرر کا خطرہ بھی ہو تو عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ ضرر سے بچنے کا اہتمام نفع کی فکر سے زیادہ ضروری ہے فارسی کا ایک حکیمانہ مقولہ مشہور ہے کہ " عقلمند تریاق بیقین وزہر بگماں نخورد " اس لئے اس نفع کی امید کو نظر انداز کیا گیا کہ شاید وہ غیرمسلم متاثر ہو کر اسلام قبول کرلے اہتمام اس کا کیا گیا کہ مسلمان متاثر ہو کر کفر میں مبتلا نہ ہوجائے۔
پانچویں باتقابل غور یہ ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے مسلمان مردوں کو نکاح کی اجازت کے بھی معنی یہ ہیں کہ اگر نکاح کرلیا جائے تو نکاح صحیح ہوجائے گا اولاد ثابت النسب ہوگی لیکن روایات حدیث اس پر شاہد ہیں کہ یہ نکاح بھی پسندیدہ نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو اپنے نکاح کے لئے دیندار صالح عورت تلاش کرنا چاہئے تاکہ خود اس کے لئے بھی دین میں معین ثابت ہو اور اس کی اولاد کو بھی دیندار ہونے کا موقع میسر آئے اور جب غیر متدین مسلمان عورت سے نکاح پسند نہیں کیا گیا تو کسی غیرمسلم سے کیسے پسند کیا جاتا یہی وجہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم کو جب خبر پہنچی کہ عراق وشام کے مسلمانوں میں کچھ ایسے ازدواج کی کثرت ہونے لگی تو بذریعہ فرمان ان کو اس سے روک دیا گیا اور اس پر توجہ دلائی گئی کہ یہ ازدواجی تعلق دیانۃً بھی مسلم گھرانوں کے لئے خرابی کا سبب ہے اور سیاسۃ بھی (کتاب الآثار للامام محمد) اور آج کے غیرمسلم اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور ان کے سیاسی مکر و فریب اور سیاسی شادیاں اور مسلم گھرانوں میں داخل ہو کر ان کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کے راز حاصل کرنا وغیرہ جس کا اقرار خود بعض مسیحی مصنفین کی کتابوں میں میجر جنرل اکبر کی کتاب حدیث دفاع میں اس کی کچھ تفصیلات حوالوں کے ساتھ مذکور ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فاروق اعظم کی دوربیں نظریں ان واقعات کو دیکھ رہی تھیں خصوصاً اس زمانہ کے یورپ کے اکثر وہ لوگ جو عیسائی یا یہودی کہلائے جاتے ہیں اور مردم شماری کے رجسٹروں میں ان کی قومیت عیسائی یا یہودی لکھی جاتی ہے اگر ان کے حالات کی تحقیق کی جائے تو ان میں بکثرت ایسے لوگ ملیں گے جن کو عیسائیت اور یہودیت سے کوئی تعلق نہیں وہ بالکل ملحد بےدین ہیں نہ عیسیٰ ؑ کو مانتے ہیں، یہ نہ انجیل کو نہ موسیٰ ؑ پر ایمان ہے نہ تورات پر نہ خدا تعالیٰ پر نہ آخرت پر ظاہر ہے کہ حلت نکاح کا قرآنی حکم ایسے لوگوں کو شامل نہیں ان کی عورتوں سے نکاح قطعاً حرام ہے ایسے لوگ ظاہر ہے کہ آیت قرآن والْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ کے استثناء میں داخل نہیں ہوتے غیر مسلموں کی طرح ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح بھی قطعاً حرام ہے۔
Ayahs 2:222–223خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 19 حیض میں جماع کی حرمت اور پاکی کی شرائط
وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ (الی قولہ) وَبَشِّرِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اور لوگ آپ سے حیض کی (حالت میں صحبت وغیرہ کرنے) کا حکم پوچھتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ وہ (حیض) گندگی کی چیز ہے تو حالت حیض میں عورتوں (کے ساتھ صحبت کرنے) سے علیحدہ رہا کرو اور (حالت میں) ان سے قربت مت کرو جب تک وہ (حیض سے) پاک نہ ہوجاویں پھر جب وہ (عورتیں) اچھی طرح پاک ہوجاویں (کہ ناپاکی کا شک وشبہ نہ رہے) تو ان کے پاس آؤ جاؤ (یعنی ان سے صحبت کرو) جس جگہ سے تم کو خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے (یعنی آگے سے) یقینا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے (مثلاً اتفاقا یا بےاحتیاطی سے حالت حیض میں صحبت کر بیٹھا پھر متنبہ ہو کر توبہ کرلی) اور محبت رکھتے ہیں پاک صاف رہنے والوں سے (جو حالت حیض میں صحبت کرنے سے اور دوسرے منہیات سے بچتے ہیں اور حالت پاکی میں اجازت صحبت کی دینا پھر اس قید سے اجازت دینا کہ آگے کے موقع میں صحبت ہو اس لئے ہے کہ) تمہاری بیبیاں تمہارے لیے (بمنزلہ) کھیت (کے) ہیں جس میں نطفہ بجائے تخم کے اور بچہ بجائے پیداوار کے ہے) سو اپنے کھیت میں جس طرف سے چاہو آؤ (اور جس طرح کھیتوں میں اجازت ہے اسی طرح بیبیوں کے پاس پاکی کی حالت میں ہر طرف سے آنے کی اجازت ہے خواہ کروٹ سے ہو یا پیچھے سے یا آگے بیٹھ کر ہو یا اوپر یا نیچے لیٹ کر ہو یا جس ہیئت سے ہو مگر آنا ہو ہر حال میں کھیت کے اندر کہ وہ خاص آگے کا موقع ہے کیونکہ پیچھے کا موقع کھیت کے مشابہ نہیں اس میں صحبت نہ ہو اور ان لذات میں ایسے مشغول مت ہوجاؤ کہ آخرت ہی کو بھول جاؤ بلکہ) آئندہ کے واسطے اپنے لئے کچھ (اعمال صالحہ) کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے (ہر حال میں) ڈرتے رہو اور یہ یقین رکھو کہ بیشک تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے والے ہو اور (اے محمد ﷺ ایسے) ایمان داروں کو (جو نیک کام کریں خدا سے ڈریں خدا تعالیٰ کے سامنے جانے کا یقین رکھیں) خوشی کی خبر سنا دیجئے (کہ ان کو آخرت میں ہر طرح کی نعمتیں ملیں گی)
Ayah 2:224خلاصہ تفسیر
حکم نمر 20 نیک کام نہ کرنے کی قسم کی ممانعت
اور اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے ذریعے ان امور کا حجاب مت بناؤ کہ تم نیکی کے اور تقویٰ کے اور اصلاح فیما بین خلق کے کام کرو (یعنی اللہ کے نام کی یہ قسم نہ کھاؤ کہ ہم یہ نیک کام نہ کریں گے) اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتے جانتے ہیں (تو زبان سنبھال کر بات کرو اور دل میں برے خیالات مت لاؤ)
Ayah 2:225خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 21 جھوٹی قسمیں کھانے کا حکم
اللہ تعالیٰ تم پر آخرت میں دارو گیر نہ فرماویں گے تمہاری قسموں میں ایسی بیہودہ قسم پر (جس میں بلا قصد جھوٹ بولا گیا) لیکن دارو گیر فرماویں گے اس جھوٹی قسم پر جس میں تمہارے دلوں نے (جھوٹ بولنے کا) ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور ہیں (کہ ایسی بیہودہ قسم پر دارو گیر نہ فرمائی) حلیم ہیں (کہ قصدا جھوٹی قسم کھانے کی سزا میں آخرت تک کی مہلت دی)
Ayahs 2:226–227خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 22 ایلاء کا حکم
لِلَّذِيْنَ يُؤ ْلُوْنَ (الی قولہ) سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ یعنی جو لوگ (بلا قید مدت یا چار ماہ یا زائد مدت کے لئے) قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی بیبیوں کے پاس جانے سے ان کیلئے چار مہینے تک کی مہلت ہے سو اگر (ان چار مہینے کے اندر) یہ لوگ (اپنی قسم کو توڑ کر عورت کی طرف) رجوع کرلیں (تب تو نکاح باقی رہے گا اور) اللہ تعالیٰ (ایسی قسم کو توڑنے کا گناہ کفارہ سے) معاف کردیں گے (اور چونکہ اب بی بی کے حقوق ادا کرنے لگا اس پر) رحمت فرمادیں گے اور اگر بالکل چھوڑ ہی دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے (اور اس لئے چار ماہ کے اندر قسم توڑ کر رجوع نہیں کیا) تو (چار ماہ گذرتے ہی قطعی طلاق پڑجاویں گی اور) اللہ تعالیٰ (ان کی قسم کو بھی) سنتے ہیں اور ان کے اس پختہ ارادے کو بھی) جانتے ہیں (اس لئے اس کے متعلق حکم مناسب ارشاد فرمایا)
Ayah 2:228خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 23، 24 مطلقہ کی عدت اور مدت رجعت کا بیان
وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ (الی قولہ) اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا اور طلاق دی ہوئی عورتیں (جن میں اتنی صفتیں ہوں خاوند نے ان سے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو ان کو حیض آتا ہو آزاد ہوں یعنی شرعی قاعدہ سے لونڈی نہ ہوں) اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں تین حیض (ختم ہونے) تک (اور اس کو عدت کہتے ہیں) اور ان عورتوں کو یہ بات حلال نہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ان کے رحم (بچہ دان) میں پیدا کیا ہو (خواہ حمل ہو یا حیض) اس کو پوشیدہ کریں (کیونکہ اس کے پوشیدہ کرنے سے عدت کا حساب غلط ہوجاوے گا) اگر وہ عورتیں اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہیں (بوجہ اس کے کہ اس یقین کا مقتضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں کہ قیامت میں نافرمانی پر سزا نہ ہوجاوے) اور ان عورتوں کے شوہر (جب کہ ان کو طلاق رجعی ملی ہو جس کا بیان آگے آئے گا) ان کے (بلا تجدید نکاح) پھر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں اس عدت کے اندر (اور اس لوٹا لینے کو رجعت کہتے ہیں) بشرطیکہ (رجعت کرنے سے) اصلاح کا قصد رکھتے ہوں (ورنہ تنگ کرنے کے لئے رجعت کرنا لاحاصل ہے گو رجعت تو ہو ہی جاوے گی) اور (یہ حکم اصلاح کا اس لئے کیا گیا کہ) عورتوں کے حقوق میں (مردوں پر) جو کہ (نفس وجوب میں) مثل انہی کے حقوق کے ہیں جو ان عورتوں پر ہیں (مردوں کے کہ ان کو) قاعدہ (شرعی) کے موافق (ادا کیا جاوے) اور (اتنی بات ضرور ہے کہ) مردوں کا ان کے مقابلہ میں کچھ درجہ بڑھا ہوا ہے (اس لئے ان کے حقوق کی نوعیت عورتوں کے حقوق کی نوعیت سے بڑھی ہوئی ہے) اور اللہ تعالیٰ زبردست (حاکم) ہیں (اور) حکیم (بھی) ہیں۔
مسائل متعلقہ آیت از بیان القرآن
(1) اگر غلبہ شہوت سے حالت حیض میں صحبت ہوگئی تو خوب توبہ کرنا واجب ہے اور کچھ خیر خیرات بھی دیدے تو زیادہ بہتر ہے۔
(2) یپچھے کے موقع میں اپنی بی بی سے بھی صحبت کرنا حرام ہے۔
(3) لغو قسم کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی گذری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ نکل گئی یا نکلی تو ارادے سے مگر اس کو اپنے گمان میں صحیح سمجھتا ہے جیسے اپنے علم و گمان کے مطابق قسم کھا بیٹھا کہ زید آگیا ہے، اور واقع میں وہ نہ آیا تھا یا آئندہ بات پر اس طرح قسم نکل گئی کہ کہنا چاہتا تھا کچھ اور بےارادہ منہ سے قسم نکل گئی اس میں گناہ نہیں ہوتا اور اس کو اسی واسطے لغو کہتے ہیں، آخرت میں اس پر مواخذہ نہیں ہوگا اور اس کے مقابلہ میں جس پر مؤ اخذہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے یہ وہ قسم ہے جو قصداً جھوٹی سمجھ کر کھائی ہو اس کو غموس کہتے ہیں اس میں گناہ ہوتا ہے، مگر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک کفارہ نہیں آتا اور لغو بالمعنی المذکور میں بدرجہ اولیٰ کفارہ نہیں اس آیت میں انہی دونوں کا بیان ہے جن میں کفارہ نہیں۔
دوسرے معنی لغو کے یہ ہیں جس پر کفارہ نہ ہو اور اس کو لغو اس لئے کہیں گے کہ مؤ اخذہ دنیوی یعنی کفارہ اس پر نہیں آتا اس معنی کے لحاظ سے لفظ لغو غموس کو بھی شامل ہے کہ اس میں اگرچہ گناہ ہوتا ہے لیکن کفارہ نہیں آتا اس مقابلہ میں وہ قسم جس پر کفارہ بھی آتا ہے منعقدہ کہلاتی ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ قصداً یوں قسم کھائے کہ میں فلاں فعل کروں گا یا فلاں کام نہ کروں گا اس میں خلاف کرنے سے کفارہ لازم آتا ہے۔
(4) اگر قسم کھالے کہ اپنی بیوی سے صبحت نہ کروں گا اس کی چار صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کوئی مدت معین نہ کرے دوم یہ کہ چار مہینے کی مدت کی قید لگادے، سوم یہ کہ چار ماہ سے زیادہ کی مدت کی قید لگادے، چہارم یہ کہ چار ماہ سے کم کی مدت کا نام لے، پس صورت اول دوم اور سوم کو شرع میں ایلاء کہتے ہیں اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے اندر اپنی قسم توڑ ڈالے اور بیوی کے پاس چلا آوے تو قسم کا کفارہ دے اور نکاح باقی ہے اور اگر چار ماہ گذر گئے اور قسم نہ توڑی تو اس عورت پر قطی طلاق پڑگئی یعنی بلانکاح رجوع کرنا درست نہیں رہا البتہ اگر دونوں رضامندی سے پھر نکاح کرلیں تو درست ہے حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی، اور چوتھی صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم توڑے تو کفارہ لازم ہوگا اور اگر قسم پوری کرلی جب بھی نکاح باقی ہے (بیان القرآن)
معارف و مسائل
مرد و عورت کے فرق اور میاں بیوی کے باہمی حقوق و درجات پر ایک جامع آیت
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بالْمَعْرُوْفِ (الآیۃ، یہ آیت عورتوں اور مردوں کے باہمی حقوق و فرائض اور ان کے درجات کے بیان میں ایک شرعی ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہے اس آیت سے پہلے اور اس کے بعد کئی رکوع تک اسی ضابطہ کی اہم جزئیات کا بیان ہوا ہے۔
اسلام میں عورت کا موقف
اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے عورت کے اس موقف کی کچھ تشریح کردی جائے جو اسلام نے اس کو عطا کیا ہے جس کو سمجھ لینے کے بعد یقینی طور پر اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ایک عادلانہ اور معتدلانہ نظام کا مقتضیٰ یہی تھا اور یہی وہ مقام ہے جس سے اونچ نیچ یا انحراف انسان کے دین و دنیا کے لئے عظیم خطرہ بن جاتا ہے۔
غور کیا جائے تو دنیا میں دو چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اس عالم کی بقاء اور تعمیر و ترقی میں عمود کا درجہ رکھتی ہیں ایک عورت، دوسرے دولت، لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو یہی دونوں چیزیں دنیا میں فساد وخوں ریزی اور طرح طرح کے فتنوں کا سبب بھی ہیں اور غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچنا کچھ دشوار نہیں کہ یہ دونوں چیزیں اپنی اصل میں دنیا کی تعمیر و ترقی اور اس کی رونق کا ذریعہ ہیں لیکن جب کہیں ان کو اپنے اصلی مقام اور موقف سے ادھر ادھر کردیا جاتا ہے تو یہی چیزیں دنیا میں سب سے بڑا زلزلہ بھی بن جاتی ہیں۔
قرآن نے انسان کو نظام زندگی دیا ہے اس میں ان دونوں چیزوں کو اپنے اپنے صحیح مقام پر ایسا رکھا گیا ہے کہ ان کے فوائد وثمرات زیادہ سے زیادہ حاصل ہوں اور فتنہ و فساد کا نام نہ رہے دولت کا صحیح مقام اس کے حاصل کرنے کے ذرائع اور خرچ کرنے کے طریقے اور تقسیم دولت کا عادلانہ نظام یہ ایک مستقل علم ہے جس کو اسلام کا معاشی نظام کہا جاسکتا ہے اس کا بیان انشاء اللہ کسی اور موقع پر ہوگا احقر کا مطبوعہ رسالہ تقسیم دولت بھی ضروری اشارات کا کام دے سکتا ہے۔
اس وقت عورت اور اس کے حقوق و فرائض کا ذکر ہے اس کے متعلق آیت مذکورہ میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں جن کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح مردوں پر عورتوں کے حقوق ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے ہاں اتنا فرق ضروری ہے کہ مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے اور تقریبا یہی مضمون سورة نسآء کی آیت میں اس طرح آیا ہے۔
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ (34: 4) یعنی مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی اللہ نے دی ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال۔
اسلام سے پہلے معاشرہ میں عورت کا درجہ
اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں تمام دنیا کی اقوام میں جاری تھا کہ عورت کی حیثیت گھریلو استعمال کی اشیاء سے زیادہ نہ تھی چوپاؤں کی طرح اس کی خریدو فروخت ہوتی تھی اس کو اپنی شادی بیاہ میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہ تھا اس لئے اولیاء جس کے حوالے کردیتے وہاں جانا پڑتا تھا عورت کو اپنے رشتہ داروں کی میراث میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا بلکہ وہ خود گھریلو اشیاء کی طرح مال وراثت سمجھی جاتی تھی وہ مردوں کی ملکیت تصور کی جاتی تھی اس کی ملکیت کسی چیز پر نہ تھی اور جو چیزیں عورت کی ملکیت کہلاتی تھیں ان میں اس کو مرد کی اجازت کے بغیر کسی قسم کے تصرف کا کوئی اختیار نہ تھا ہاں اس کے شوہر کو ہر قسم کا اختیار تھا کہ اس کے مال کو جہاں چاہے اور جس طرح چاہے خرچ کر ڈالے اس کو پوچھنے کو بھی کوئی حق نہ تھا یہاں تک کہ یورپ کے وہ ممالک جو آجکل دنیا کے سب سے زیادہ متمدن ملک سمجھے جاتے ہیں ان میں بعض لوگ اس حد کو پہنچے ہوئے تھے کہ عورت کے انسان ہونے کو بھی تسلیم نہ کرتے تھے۔
عورت کے لئے دین و مذہب میں بھی کوئی حصہ نہ تھا نہ اس کو عبادت کے قابل سمجھا جاتا تھا نہ جنت کے روما کی بعض مجلسوں میں باہمی مشورہ سے یہ طے کیا گیا تھا کہ وہ ایک ناپاک جانور ہے جس میں روح نہیں عام طور پر باپ کے لئے لڑکی کا قتل بلکہ زندہ درگور کردینا جائز سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ عمل باپ کے لئے عزت کی نشانی اور شرافت کا معیار تصور کیا جاتا تھا بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورت کو کوئی بھی قتل کردے نہ تو اس پر قصاص واجب ہے نہ خوں بہا، اور اگر شوہر مرجائے تو بیوی کو بھی اس کی لاش کے ساتھ جلا کر سَتِی کردیا جاتا تھا رسول کریم ﷺ کی ولادت کے بعد اور آپ کی نبوت سے پہلے 586 ء میں فرانس نے عورت پر یہ احسان کیا کہ بہت سے اختلافات کے بعد یہ قرارداد پاس کی کہ عورت ہے تو انسان مگر وہ صرف مرد کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی۔
الغرض پوری دنیا اور اس میں بسنے والے تمام اقوام و مذاہب نے عورت کے ساتھ یہ برتاؤ کیا ہوا تھا کہ جس کو سن کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس بیچاری مخلوق کے لئے نہ کہیں عقل و دانش سے کام لیا جاتا تھا نہ عدل و انصاف سے۔
قربان جائیے رحمۃ للعالمین ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین حق کے جس نے دنیا کی آنکھیں کھولیں انسان کو انسان کی قدر کرنا سکھلایا، عدل و انصاف کا قانون جاری کیا عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے ہی لازم کئے جیسے عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں اس کو آزاد وخودمختار بنایا، وہ اپنی جان ومال کی ایسی ہی مالک قراردی گئی جیسے مرد، کوئی شخص خواہ باپ دادا ہی ہو بالغ عورت کو کسی شخص کے ساتھ نکاح پر مجبور نہیں کرسکتا اور اگر بلا اس کی اجازت کے نکاح کردیا جائے تو وہ اس کی اجازت پر موقوف رہتا ہے اگر نامنظور کردے تو باطل ہوجاتا ہے اس کے اموال میں کسی مرد کو بغیر اس کی رضا و اجازت کے کسی تصرف کا کوئی حق نہیں شوہر کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد وہ مختار ہے کوئی اس پر جبر نہیں کرسکتا اپنے رشتہ داروں کی میراث میں اس کو بھی ایسا ہی حصہ ملتا ہے جیسا لڑکوں کو، اس پر خرچ کرنے اور اس کے راضی رکھنے کو شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام نے ایک عبادت قرار دیا شوہر اس کے حقوق واجبہ ادا نہ کرے تو وہ اسلامی عدالت کے ذریعہ اس کو اداء حقوق پر ورنہ طلاق پر مجبور کرسکتی ہے۔
عورتوں کو مردوں کو سیادت اور نگرانی سے بالکل آزاد کردینا بھی فساد عالم کا بہت بڑا سبب ہے
عورت کو اس کے حقوق مناسبہ نہ دینا ظلم وجور اور قساوت وشقاوت تھی جس کو اسلام نے مٹایا ہے اسی طرح ان کو کھلے مہار چھوڑ دینا اور مردوں کی نگرانی وسیادت سے آزاد کردینا اس کو اپنے گذارے اور معاش کا خود متکفل بنانا بھی اس کی حق تلفی اور بربادی ہے نہ اس کی ساخت اس کی متحمل ہے اور نہ گھریلو کاموں کی ذمہ داری اور اولاد کی تربیت کا عظیم الشان کام جو فطرۃ اس کے سپرد ہے وہ اس کا متحمل ہے۔
علاوہ ازیں مردوں کی سیادت و نگرانی سے نکل کر عورت پورے انسانی معاشرہ کے لئے خطرہ عظیم ہے جس سے دنیا میں فساد وخوں ریزی اور طرح طرح کے فتنے پیدا ہونا لازمی اور روز مرہ کا مشاہدہ ہے اس لئے قرآن کریم نے عورتوں کے حقوق واجبہ کے بیان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ یعنی مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے اور دوسرے لفظوں میں یہ کہ مرد ان کے نگران اور ذمہ دار ہیں۔
مگر جس طرح اسلام سے پہلے جاہلیت اولیٰ میں اقوام عالم سب اس غلطی کا شکار تھیں کہ عورتوں کو ایک گھریلو سامان یا چوپایہ کی حیثیت میں رکھا ہوا تھا اسی طرح اسلام کے زمانہ انحطاط میں جاہلیت اخرٰی کا دور شروع ہوا اس میں پہلی غلطی کا رد عمل اس کے بالمقابل دوسری غلطی کی صورت میں کیا جارہا ہے کہ عورتوں پر مردوں کی اتنی سیادت سے بھی چھٹکارا حاصل کرنے اور کرانے کی سعی مسلسل جارہی ہے جس کے نتیجے میں فحش وبے حیائی عام ہوگئی دنیا جھگڑوں اور فساد کا گھر بن گئی قتل وخوں ریزی کی اتنی کثرت ہوگئی کہ جاہلیت اولیٰ کو مات دے دیاعراب کا مشہور مقولہ ہے۔ الجاھل امامفرط او مفرط (یعنی جاہل آدمی کبھی اعتدال پر نہیں رہتا اگر افراط یعنی حد سے زیادہ کرنے سے باز آجاتا ہے تو کوتاہی اور تقصیر میں مبتلا ہوجاتا ہے)
یہی حال اس وقت ابنائے زمانہ کا ہے کہ یا تو عورت کو انسان کہنے اور سمجھنے کے لئے بھی تیار نہ تھے اور آگے بڑھے تو یہاں تک پہچنے کہ مردوں کی سیادت و نگرانی جو مردوں عورتوں اور پوری دنیا کے لئے عین حکمت و مصلحت ہے اس کا جوا بھی گردن سے اتارا جارہا ہے جس کے نتائج بد روزانہ آنکھوں کے سامنے آرہے ہیں اور یقین کیجئے کہ جب تک وہ قرآن کے اس ارشاد کے سامنے نہ جھکیں گے ایسے فتنے روز بڑہتے رہیں گے۔
آج کی حکومتیں دنیا میں قیام امن کے لئے روز نئے نئے قانون بناتی ہیں اس کے لئے نئے نئے ادارے قائم کرتی ہیں کروڑوں روپیہ ان پر صرف ہوتا ہے لیکن فتنے جس چشمے سے پھوٹ رہے ہیں اس کی طرف دہیان نہیں دیتیں، اگر آج کوئی کمیشن اس تحقیق کے لئے بٹھایا جائے کہ فساد وخوں ریزی اور باہمی جنگ وجدل کے اسباب کی تحقیق کرے تو خیال یہ ہے کہ پچاس فی صد سے زائد ایسے جرائم کا سبب عورت اور اس کی بےمہار آزادی نکلے گی مگر آج کی دنیا میں نفس پرستی کے غلبہ نے بڑے بڑے حکماء کی آنکھوں کو خیرہ کیا ہوا ہے خواہشات نفسانی کے خلاف کسی مصلحانہ قدغن کو گوارا نہیں کیا جاتا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے قلوب کو نور ایمان سے منور فرمائیں اور اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کی ہدایات پر پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں کہ وہی دنیا وآخرت میں سرمایہ سعادت ہے۔
مسئلہاس آیت کے ضمن میں یہ معلوم ہوا کہ قرآن حکیم نے زوجین کو ان کے ذمہ عائد ہونے والے فرائض بتلائے کہ مردوں کے ذمہ عورتوں کے حقوق ادا کرنا ایسا ہی فرض ہے جیسے کہ عورتوں پر مردوں کے حقوق کا ادا کرنا فرض ہے اس میں اشارہ ہے کہ ہر فریق کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی بجائے اپنے فرائض پر نظر رکھنا چاہئے اور اگر وہ ایسا کرلیں تو مطالبہ حقوق کا قضیہ ہی درمیان میں نہیں آئے گا کیونکہ مرد کے فرائض ہی عورت کے حقوق ہیں جب فرائض اداء ہوگئے تو خود بخود حقوق ادا ہوجائیں گے۔ آجکل دنیا کے سارے جھگڑے یہاں سے چلتے ہیں کہ ہر شخص اپنے حقوق کا مطالبہ تو سامنے رکھتا ہے مگر اپنے فرائض کی ادائیگی سے غافل ہے، اس کا نتیجہ مطالبہ حقوق کی جنگ ہوتی ہے جو آج کل عام طور پر حکومتوں اور عوام میں زوجین میں اور دوسرے اہل معاملہ میں چلی ہوئی ہے قرآن کریم کے اس اشارہ نے معاملہ کے رخ کو یوں بدلا ہے کہ ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے فرائض پورا کرنے کا اہتمام کرے اور اپنے حقوق کے معاملہ میں مساہلت اور عفو درگذر سے کام لے اگر اس قرآنی تعلیم پر دنیا میں عمل ہونے لگے تو گھروں اور خاندانوں کے بلکہ ملکوں اور حکومتوں کے بیشتر نزاعات ختم ہوجائیں۔
مرد و عورت میں درجہ کا تفوق دنیوں معاملات میں ہے آخرت کی فضلیت میں اس کا کوئی اثر نہیں
دنیا میں نظام عالم اور انسانی فطرت اور خود عورتوں کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ مردوں کو عورتوں پر ایک قسم کی حاکمیت اور نگرانی کا نہ صرف دیا جائے بلکہ ان پر لازم کیا جائے اسی کا بیان آیت الرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ میں آیا ہے لیکن اس سے سب مردوں کا سب عورتوں سے افضل ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ فضیلت عنداللہ کا تمام تر مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے وہاں درجات کی ترقی وتنزل ایمان اور عمل کے درجات کے مطابق ہوتا ہے اس لئے امور آخرت میں یہ ضروری نہیں کہ مردوں ہی کا درجہ عورتوں سے بلند رہے یہ بھی ہوسکتا ہے اور حسب تصریح آیات وروایات ایسا ہوگا بھی کہ بعض عورتیں اپنی اطاعت و عبادت کے ذریعہ بہت سے مردوں پر فائق ہوجائیں گی ان کا درجہ بہت سے مردوں سے بڑھ جائے گا۔
قرآن مجید میں احکام شرعیہ اور اعمال کی جزاء وسزا اور ثواب و عذاب کے بیان میں اگرچہ حسب تصریح قرآن کریم عورتیں اور مرد بالکل برابر ہیں اور جن احکام میں کچھ فرق ہے ان کو مستقل طور پر وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے لیکن عام طور پر خطاب مردوں کو کیا گیا اور صیغے مذکر کے استعمال کئے گئے ہیں اور یہ بات صرف قرآن کریم کے ساتھ مخصوص نہیں عام طور پر حکومتوں کے قوانین میں بھی صیغے مذکر کے استعمال کئے جاتے ہیں حالانکہ قانون مرد و عورت کے لئے عام ہوتا ہے، اس کا ایک سبب تو وہی فرق ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی آیات میں مذکور ہوا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر ایک حیثیت سے تفوق حاصل ہے۔
دوسری بات شاید یہ بھی مضمر ہو کہ مستورات کے ذکر کے لئے بھی ستر ہی بہتر ہے لیکن قرآن کریم میں جابجا مردوں کی طرح عورتوں کا ذکر نہ ہونے سے ان کو خیال پیدا ہوا تو ام المؤ منین حضرت ام سلمہ نے آنحضرت ﷺ سے اس کا اظہار کیا تو سورة احزاب کی یہ آیت نازل ہوگئی، اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤ ْمِنِيْنَ وَالْمُؤ ْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ (35: 33) جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا مستقل ذکر واضح کردیا گیا کہ اطاعت و عبادت اور اس کی وجہ سے حق تعالیٰ کے قرب ورضا اور درجات جنت میں عورتوں کا درجہ مردوں سے کچھ کم نہیں (یہ روایت نسائی مسند احمد، اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں مفصل مذکور ہے)
اور تفسیر ابن کثیر میں ایک روایت یہ ہے کہ بعض مسلمان عورتیں ازاوج مطہرات کے پاس آئیں اور کہا کہ قرآن کریم میں جابجا مردوں کا تو ذکر ہے عورتوں میں سے ازواج مطہرات کا بھی مستقل تذکرہ ہے مگر عام مسلمانوں عورتوں کا ذکر نہیں اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
خلاصہ یہ ہے کہ دنیوی نظام میں عورتوں پر مردوں کا ایک گونہ تفوق اور حاکمیت انکی مصلحت اور حکمت کا تقاضا ہے ورنہ نیک و بدعمل کی جزاء وسزا اور درجات کا آخرت میں کوئی فرق نہیں۔
قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ یہی مضمون اور بھی وضاحت سے اس طرح مذکور ہے۔
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤ ْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً (97: 16) یعنی جو مرد و عورت نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو ہم اس کو پاکیزہ زندگی عطا کریں گے، اس تمہید کے بعد اصل آیت کے الفاظ پر غور کیجئے ارشاد فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ یعنی ان کے حقوق مردوں کے ذمہ ہیں جیسے کہ ان کے ذمہ مردوں کے حقوق ہیں اس میں عورتوں کے حقوق کا ذکر مردوں کے حقوق سے پہلے کیا جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مرد تو اپنی قوت اور خداداد تفوق کی بناء پر عورت سے اپنے حقوق وصول کر ہی لیتا ہے فکر عورتوں کے حقوق کی ہونی چاہئے کہ وہ عادۃ اپنے حقوق زبردستی وصول نہیں کرسکتیں۔
دوسرا اشارہ اس میں یہ بھی ہے کہ مردوں کو عورت کے حقوق ادا کرنے میں مسابقت کرنا چاہئے اور یہاں جو لفظ مثل کے ساتھ دونوں کے حقوق کی مثلیت اور مساوات کا ارشاد ہے اس کا یہ مطلب تو ہو ہی نہیں سکتا کہ جس طرح کے کام مرد کرے اسی طرح کے عورت بھی یا برعکس کیونکہ مرد و عورت میں تقسیم کار اور ہر ایک کے فرائض فطرۃ جدا جدا ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ دنوں کے حقوق کی ادائیگی یکساں طور پر واجب ہے اور اس میں کوتاہی اور تقصیر کی سزا بھی یکساں ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے ایک مختصر سے جملے میں ایک عظیم الشان دفتر حقوق و فرائض کو کیسا سمویا ہے کیونکہ مفہوم آیت میں عورتوں کے تمام حقوق مردوں پر اور مردوں کے تمام حقوق عورتوں پر داخل اور شامل ہیں (بحر محیط) اس جملے کے آخر میں ایک لفظ بالمعروف اور بڑھا کر آپس میں پیش آنے والے جھگڑوں کا خاتمہ فرما دیا کہ حقوق کی ادائیگی معروف طریقے پر کی جائے کیونکہ معروف کے معنی یہ ہیں کہ جو شرعاً بھی منکر و ناجائز نہ ہو اور عام عادات اور عرف کے لحاظ سے بھی اس میں کوئی تشدد اور زیادتی نہ ہو اس کا حاصل یہ ہوا کہ زوجین کے حقوق اور ان کو اذیت سے بچانے کے معاملہ میں دوسرے کو کوئی ایذاء یا ضرر تو نہیں پہنچتا جو چیزیں عرف و عادت کے اعتبار سے ایذاء اور اضرار کی قرار دی جائیں وہ ممنوع و ناجائز ہوں گی مثلاً بےرخی، بےالتفاتی یا ایسے افعال اور حرکات جن سے دوسرے کو ایذاء پہنچے یہ چیزیں قانونی دفعات میں تو نہیں آسکتیں مگر بالعروفِ کے لفظ نے ان کا احاطہ کرلیا اس کے بعد فرمایا وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ اس کا مشہور مطلب و مفہوم تو یہی ہے کہ حقوق طرفین مساوی ہونے کے باوجود حق تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ کا تفوق اور حاکمیت عطا فرمادی ہے اور اس میں بڑی حکمتیں ہیں جس کی طرف آیت کے الفاظ واللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ میں اشارہ فرما دیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس اس جملے کا مطلب یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے حقوق میں کوئی کوتاہی ہو بھی جائے تو ان کا درجہ یہ ہے کہ یہ اس کو برداشت کریں اور صبر سے کام لیں اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں (قرطبی)
Ayah 2:229خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 25، طلاق رجعی کی تعداد
طلاق دو مرتبہ کی پھر (دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد دو اختیار ہیں) خواہ (یہ کہ رجعت کرکے عورت کو) قاعدہ کے مطابق رکھ لے خواہ (یہ کہ رجعت نہ کرے عدت پوری ہونے دے اور اس طرح) اچھے طریقے سے اس کو چھوڑ دے۔
حکم نمبر 26، خلع
اور تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ (بیبیوں کو چھوڑنے کے وقت ان سے) کچھ بھی لو (اگرچہ وہ لیا ہو) اسی (مال) میں سے (کیوں نہ ہو) جو تم نے (ہی مہر میں) ان کو دیا تھا مگر (ایک صورت البتہ حلال ہے وہ) یہ کہ (کوئی) میاں بیوی (ایسے ہوں کہ) دونوں کو خطرہ ہو کہ (دوبارہ حقوق زوجیت) وہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے سو اگر تم کو (یعنی میاں بیوی کو) یہ خطرہ ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑائے (بشرطیکہ مہر سے زیادہ نہ ہو) یہ سب احکام خدائی ضابطے ہیں تم ان سے باہر نہ نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں (کو توڑ کر) باہر نکل جائے تو ایسے لوگ اپنا ہی نقصان کرنے والے ہیں۔
حکم نمبر 27، تین طلاقوں کے بعد حلالہ
پھر اگر (دو طلاقوں کے بعد) کوئی (تیسری) طلاق (بھی) دیدے تو پھر وہ عورت اس (تیسری طلاق دینے) کے بعد اس شخص کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک وہ اس خاوند کے سوا دوسرے شخص کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح نہ کرے (اور حقوق زوجیت صحبت کے ادا نہ کرے) پھر اگر یہ دوسرا خاوند اس کو طلاق دیدے (اور اس کی عدت بھی گذر جائے) تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ دوبارہ آپس میں نکاح کرکے) بدستور پھر مل جاویں بشرطیکہ دونوں کو اپنے اوپر یہ اعتماد ہو کہ آئندہ خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو دانشمند ہیں۔
معارف و مسائل
طلاق ونکاح کے احکام پورے قرآن کریم میں بہت سی آیتوں میں آئے ہیں مگر یہ چند آیتیں جو یہاں مذکور ہیں طلاق کے معاملہ میں اہم ضابطوں کی حیثیت رکھتی ہیں ان کو سمجھنے کیلئے پہلے نکاح کی شرعی حیثیت کو جاننا ضروری ہے۔
نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت اور حکیمانہ نظام
نکاح کی ایک حیثیت تو ایک باہمی معاملے اور معاہدے کی ہے جیسے بیع وشراء اور لین دین کے معاملات ہوتے ہیں دوسری حیثیت ایک سنت اور عبادت کی ہے اس پر تو تمام امت کا اتفاق ہے کہ نکاح عام معاملات معاہدات سے بالاتر ایک حیثیت شرعی عبادت وسنت کی رکھتا ہے اسی لئے نکاح کے منعقد ہونے کے لئے باجماع امت کچھ ایسی شرائط ضروری ہیں جو عام معاملات بیع وشراء میں نہیں ہوتیں۔
اول تو یہ کہ ہر عورت سے اور ہر مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا اس میں شریعت کا ایک مستقل قانون ہے جس کے تحت بہت سی عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا۔
دوسرے تمام معاملات ومعاہدات کے منعقد اور مکمل ہونے کے لئے کوئی گواہی شرط نہیں، گواہی کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب فریقین میں اختلاف ہوجائے لیکن نکاح ایسا معاملہ نہیں یہاں اس کے منعقد ہونے کیلئے بھی گواہوں کا سامنے ہونا شرط ہے اگر دو مرد و عورت بغیر گواہوں کے آپس میں نکاح کرلیں اور دونوں میں کوئی فریق کبھی اختلاف و انکار بھی نہ کرے اس وقت بھی شرعاً وہ نکاح باطل کالعدم ہے جب تک گواہوں کے سامنے دونوں کا ایجاب و قبول نہ ہو اور سنت یہ ہے کہ نکاح اعلان عام کے ساتھ کیا جائے اسی طرح کی اور بہت سی شرائط اور آداب ہیں جو معاملہ نکاح کے لئے ضروری یا مسنون ہیں۔
امام اعظم ابوحنیفہ اور بہت سے دوسرے حضرات ائمہ کے نزدیک تو نکاح میں معاملہ اور معاہدہ کی حیثیت سے زیادہ عبادت وسنت کی حیثیت غالب ہے اور قرآن وسنت کے شواہد اس پر قائم ہیں۔
نکاح کی اجمالی حقیقت معلوم کرنے کے بعد طلاق کو سمجھئے، طلاق کا حاصل نکاح کے معاملے اور معاہدے کو ختم کرنا ہے جس طرح شریعت اسلام نے نکاح کے معاملے اور معاہدے کو ایک عبادت کی حیثیت دے کر عام معاملات ومعاہدات کی سطح سے بلند رکھا ہے اور بہت سی پابندیاں اس پر لگائی ہیں اسی طرح اس معاملہ کا ختم کرنا بھی عام لین دین کے معاملات کی طرح آزاد نہیں رکھا کہ جب چاہے جس طرح چاہے اس معاملہ کو فسخ کردے اور دوسرے سے معاملہ کرلے بلکہ اس کے لئے ایک خاص حکیمانہ قانون بنایا ہے جس کا بیان آیات مذکورہ میں کیا گیا ہے، اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہ ہے کہ نکاح کا معاملہ اور معاہدہ عمر بھر کے لئے ہو اس کے توڑنے اور ختم کرنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ اس معاملہ کے انقطاع کا اثر صرف فریقین پر نہیں پڑتا نسل واولاد کی تباہی و بربادی اور بعض اوقات خاندانوں اور قبیلوں میں فساد تک کی نوبت پہونچتی ہے اور پورا معاشرہ بری طرح اس سے متاثر ہوتا ہے اسی لئے جو اسباب اور وجوہ اس معاملہ کو توڑنے کا سبب بن سکتے ہیں قرآن وسنت کی تعلیمات میں ان تمام اسباب کو راہ سے ہٹانے کا پورا انتظام کیا ہے، زوجین کے ہر معاملے اور ہر حال کے لئے جو ہدایتیں قرآن وسنت میں مذکور ہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ یہ رشتہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا جائے ٹوٹنے نہ پائے ناموافقت کی صورت میں اول افہام و تفہیم کی پھر زجر و تنبیہ کی ہدایتیں دی گئیں اور اگر بات بڑھ جائے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو خاندان ہی کے چند افراد کو حکم اور ثالث بنا کر معاملہ طے کرنے کی تعلیم دی آیت حَكَمًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا (35: 4) میں خاندان ہی کے افراد کو ثالث بنانے کا ارشاد کس قدر حکیمانہ ہے کہ اگر معاملہ خاندان سے باہر گیا تو بات بڑھ جانے اور دلوں میں زیادہ بعد پیدا ہوجانے کا خطرہ ہے۔
لیکن بعض اوقات ایسی صورتیں بھی پیش آتی ہیں کہ اصلاح حال کی تمام کوشش ناکام ہوجاتی ہیں اور تعلق نکاح کے مطلوبہ ثمرات حاصل ہونے کے بجائے طرفین کا آپس میں مل رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے ایسی حالت میں اس ازدواجی تعلق کا ختم کردینا ہی طرفین کے لئے راحت اور سلامتی کی راہ ہوجاتی ہے اس لئے شریعت اسلام نے بعض دوسرے مذاہب کی طرح یہ بھی نہیں کیا کہ رشتہ ازدواج ہر حال میں ناقابل فسخ ہی رہے بلکہ طلاق اور فسخ نکاح کا قانون بنایا طلاق کا اختیار تو صرف مرد کو دیا جس میں عادۃ فکر و تدبر اور تحمل کا مادہ عورت سے زائد ہوتا ہے عورت کے ہاتھ میں یہ آزاد اختیار نہیں دیا تاکہ وقتی تاثرات سے مغلوب ہوجانا جو عورت میں بہ نسبت مرد کے زیادہ ہے وہ طلاق کا سبب نہ بن جائے۔
لیکن عورت کو بھی بالکل اس حق سے محروم نہیں رکھا وہ شوہر کے ظلم وستم سہنے ہی پر مجبور ہوجائے اس کو یہ حق دیا کہ حاکم شرعی کی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرکے اور شکایات کا ثبوت دے کر نکاح فسخ کرا سکے یا طلاق حاصل کرسکے پھر مرد کو طلاق کا آزادانہ اختیار تو دے دیا مگر اول تو یہ کہہ دیا کہ اس اختیار کا استعمال کرنا اللہ کے نزدیک بہت مبغوض و مکروہ ہے صرف مجبوری کی حالت میں اجازت ہے حدیث میں ارشاد نبوی ہے۔
ابغض الحلال الی اللہ الطلاقیعنی حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض اور مکروہ اللہ کے نزدیک طلاق ہے۔
دوسری پابندی یہ لگائی کہ حالت غیظ وغضب میں یا کسی وقتی اور ہنگامی ناگواری میں اس اختیار کو استعمال نہ کریں اسی حکمت کے ماتحت حالت حیض میں طلاق دینے کو ممنوع قرار دیا اور حالت طہر میں بھی جس طہر میں صحبت وہمبستری ہوچکی ہے اس میں طلاق دینے کو اس بناء پر ممنوع قرار دیا کہ اس کی وجہ سے عورت کی عدت طویل ہوجائے گی اس کو تکلیف ہوگی ان دونوں چیزوں کے لئے قرآن کریم کا ارشاد یہ آیافَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ (1: 65) یعنی طلاق دینا ہو تو ایسے وقت میں دو جس میں بلاوجہ عورت کی عدت طویل نہ ہو حیض کی حالت میں طلاق ہوئی تو موجودہ حیض عدت میں شمار نہ ہوگا اس کے بعد طہر اور پھر طہر کے بعد حیض سے عدت شمار ہوگی اور جس طہر میں ہمبستری ہوچکی ہے اس میں یہ امکان ہے کہ حمل رہ گیا ہو تو عدت وضع حمل تک طویل ہوجائیگی طلاق دینے کے لئے مذکورہ وقت طہر کا مقرر کرنے میں یہ بھی حکمت ہے کہ اس انتظار کے وقفہ میں بہت ممکن ہے کہ غصہ فرو ہو معافی تلافی ہو کر طلاق کا ارادہ ہی ختم ہوجائے۔
تیسری پابندی یہ لگائی کہ معاہدہ نکاح توڑنے اور فسخ کرنے کا طریقہ بھی وہ نہیں رکھا جو عام بیع وشراء کے معاملات ومعاہدات کا ہے کہ ایک مرتبہ معاہدہ فسخ کردیا تو اسی وقت اسی منٹ میں فریقین آزاد ہوگئے اور پہلا معاملہ بالکل ختم ہوگیا ہر ایک کو اختیار ہوگیا کہ دوسرے سے معاہدہ کرلے بلکہ معاملہ نکاح کو قطع کرنے کے لئے اول تو اس کے تین درجے تین طلاقوں کی صورت میں رکھے گئے پھر اس پر عدت کی پابندی لگادی کہ عدت پوری ہونے تک معاملہ نکاح کے بہت سے اثرات باقی رہیں گے عورت کو دوسرا نکاح حلال نہ ہوگا مرد کے لئے بھی بعض پابندیاں باقی رہیں گی۔
چوتھی پابندی یہ لگائی کہ اگر صاف وصریح لفظوں میں ایک یا دو طلاق دی گئی ہے تو طلاق دیتے ہی نکاح نہیں ٹوٹا بلکہ رشتہ ازدواج عدت پوری ہونے تک قائم ہے دوران عدت میں اگر یہ اپنی طلاق سے رجوع کرلے تو نکاح سابق بحال ہوجائے گا۔
لیکن یہ رجوع کرنے کا اختیار صرف ایک یا دو طلاق تک محدود کردیا گیا تاکہ کوئی ظالم شوہر ایسا نہ کرسکے کہ ہمیشہ طلاق دیتا رہے پھر رجوع کرکے اپنی قید میں رکھتا رہے اس لئے حکم یہ دے دیا کہ اگر کسی نے تیسری طلاق بھی دے دیتو اب اس کو رجوع کرنے کا بھی اختیار نہیں بلکہ اگر دونوں راضی ہو کر آپس میں دوبارہ بھی نکاح کرنا چاہیں تو بغیر ایک مخصوص صورت کے جس کا ذکر آگے آتا ہے دوبارہ نکاح بھی آپس میں حلال نہیں۔
آیات مذکورہ میں اسی نظام طلاق کے اہم احکام کا ذکر ہے اب ان آیات کے الفاظ پر غور کیجئے پہلی آیت میں اول تو ارشاد فرمایااَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ یعنی طلاق دو ہی مرتبہ ہے پھر ان دونوں مرتبہ کی طلاقوں میں یہ لچک رکھ دی کہ ان سے نکاح بالکل ختم نہیں ہوا بلکہ عدت پوری ہونے تک مرد کو اختیار ہے کہ رجوع کرکے بیوی کو اپنے نکاح میں روک لے یا پھر رجوع نہ کرے عدت پوری ہونے دے، عدت پوری ہونے پر نکاح کا تعلق ختم ہوجائے گا اسی مضمون کو ان الفاظ میں ارشاد فرمایافَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ یعنی یا تو شرعی قاعدے کے مطابق رجعت کرکے بیوی کو اپنے نکاح میں روک لے یا پھر خوب صورتی اور خوش معاملگی کے ساتھ اس کی عدت پوری ہونے دے تاکہ وہ آزاد ہوجائے۔
ابھی تیسری طلاق کا ذکر نہیں آیا درمیان میں ایک اور مسئلہ بیان فرما دیا جو ایسے حالات میں عموماً زیر بحث آجاتا ہے وہ یہ کہ بعض شوہر بیوی کو نہ رکھنا چاہتے ہیں نہ اس کے حقوق کی فکر کرتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں بیوی تنگ ہوتی ہے اس کی مجبوری سے یہ ناجائز فائدہ اٹھا کر طلاق دینے کے لئے اس سے کچھ مال کا یا کم ازکم مہر کی معافی یا واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں قرآن کریم نے اس کو حرام قرار دیا ارشاد فرمایاوَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا یعنی تمہارے لئے حلال نہیں کہ طلاق کے معاوضہ میں ان سے اپنا دیا ہوا مال اور مہر وغیرہ واپس لے لو۔
البتہ ایک صورت اس سے مستثنیٰ فرمادی کہ اس میں مہر کی واپسی یا معافی جائز کردی وہ یہ کہ عورت بھی یہ محسوس کرے کہ طبیعتوں میں بعد و مخالفت کی وجہ سے میں شوہر کے حقوق ادا نہیں کرسکتی اور مرد بھی یہی سمجھے تو ایسی صورت میں یہ بھی جائز ہے کہ مہر کی واپسی یا معافی کے بدلے میں طلاق دی جائے اور لی جائے۔