2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے واسطے تو ہم نے کہا مار اپنا عصا کو پتھر پر سو بہہ نکلے اس سے بارہ چشمے، پہچان لیا ہر قوم نے اپنا گھاٹ۔ کھاؤ اور پیو اللہ کی روزی اور نہ پھرو ملک میں فساد مچاتے۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ ؑ نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے، اس پر ہم نے (موسیٰ ؑ کو) حکم دیا کہ اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (عصا پتھر پر مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ ہی خاندان تھے چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کرلیا اور ہم نے یہ نصیحت کی کہ کھانے کو) کھاؤ اور (پینے کو) پیو اللہ تعالیٰ کے رزق سے اور حد (اعتدال) سے مت نکلو فساد (وفتنہ) کرتے ہوئے سر زمین میں۔ فائدہیہ قصہ بھی وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ ؑ نے دعا کی تو ایک خاص پتھر کو صرف عصا مارنے سے قدرت خداوندی سے بارہ چشمے نکل پڑے اور ان کے بارہ خاندان اس طرح تھے کہ حضرت یعقوب ؑ کے بارہ فرزند تھے ہر ایک کی اولاد کا ایک ایک خاندان تھا ان کو انتظامی معاملات میں الگ الگ ہی رکھا جاتا تھا سب کے افسر بھی جدا جدا تھے اس لئے چشمے بھی بارہ ہی نکلے، کھانے سے مراد من وسلویٰ اور پینے سے مراد یہی پانی تھا اور نافرمانی اور ترک احکام کو فتنہ و فساد سے تعبیر فرمایا، قاضی بیضاوی فرماتے ہیں کہ ایسے خوارق (اور معجزات) کا انکار بہت بڑی غلطی ہے جب بعض پتھروں میں اللہ تعالیٰ نے بعید ازقیاس اور خلاف عقل یہ تاثیر رکھی ہے کہ لوہے کو جذب کرتا ہے تو اس پتھر میں اگر یہ تاثیر پیدا کردی ہو کہ اجزاء زمین سے پانی کو جذب کرلے اور اس سے پانی نکلنے لگے تو کیا محال ہے، ہمارے زمانے کے عقلاء کو اس بیان سے سبق حاصل کرنا اور فائدہ اٹھانا چاہئے اور پھر یہ نظیر بھی محض سطحی نظر والوں کے لئے ہے ورنہ خود اگر اس پتھر کے اجزاء ہی میں پانی پیدا ہوجائے تو بھی کون سا محال لازم آتا ہے جو حضرات ایسے امور کو محال کہتے ہیں تو واللہ وہ اب تک محال کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھے، معارف و مسائل آیت مذکورہ میں حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لئے استسقاء کی دعاء فرمائی اللہ تعالیٰ نے پانی کا سامان کردیا کہ پتھر پر لاٹھی مارنے سے چشمے ابل پڑے اس سے معلوم ہوا کہ استسقاء کی اصل دعا ہی ہے شریعت موسویہ میں بھی صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا ارشاد ہے کہ استسقاء کی اصل پانی کے لئے دعا کرنا ہے یہ دعا کبھی خاص نماز استسقاء کی صورت میں لی گئی ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول اللہ ﷺ کا نماز استسقاء کے لئے عیدگاہ کے میدان میں تشریف لے جانا اور نماز اور خطبہ اور دعا کرنا منقول ہے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ بغیر کسی خاص نماز کے صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے منقول ہے کہ خطبہ جمعہ ہی میں آپ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمادی، اور یہ بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ استسقاء خواہ بصورت نماز کیا جائے یا صرف دعا کی صورت میں اس کے مؤ ثر ہونے کے لئے گناہوں سے توبہ اپنے فقر ومسکنت اور عبودیت کا اظہار ضروری ہے گناہوں پر اصرار اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر قائم رہتے ہوئے تاثیر دعا کے انتظار کا کسی کو حق نہیں اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے یوں بھی قبول فرمالیں ان کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے،
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور جب کہا تم نے اے موسیٰ ہم ہرگز صبر نہ کریں گے ایک ہی طرح کے کھانے پر سو دعا مانگ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے کہ نکال دے ہمارے واسطے جو اگتا ہے زمین سے ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز، کہا موسیٰ نے کیا لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے کے بدلہ میں جو بہتر ہے، اترو کسی شہر میں تو تم کو ملے جو مانگتے ہو اور ڈالی گئی ان پر ذلت اور محتاجی اور پھرے اللہ کا غصہ لے کر یہ اس لئے ہوا کہ نہیں مانتے تھے احکام خداوندی کو اور خون کرتے تھے پیغمبروں کا ناحق، یہ اس لیے کہ نافرمان تھے، اور حد پر نہ رہتے تھے۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں نے (یوں) کہا کہ اے موسیٰ (روز کے روز) ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر بھی کبھی نہ رہیں گے (یعنی من وسلویٰ پر) آپ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کریں جو زمین میں اگا کرتی ہیں ساگ (ہوا) ککڑی (ہوئی) گیھوں (ہوا) مسور (ہوئی) پیاز (ہوئی) آپ نے فرمایا کیا تم عوض میں لینا چاہتے ہو، ادنی درجہ کی چیزوں کو ایسی چیز کے مقابلہ میں جو اعلیٰ درجہ کی ہے (اچھا اگر نہیں مانتے تو) کسی شہر میں (جاکر) اترو (وہاں) البتہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کی تم درخواست کرتے ہو اور (ایسی ایسی گستاخیوں سے ایک زمانہ میں جاکر نقش کی طرح) جم گئی ان پر ذلت (کہ دوسروں کی نگاہ میں قدر نہ رہی) اور پستی (کہ خود ان کی طبائع میں اولو العزمی نہ رہی) اور مستحق ہوگئے غضب الہی کے (اور) یہ (ذلت وغضب) اس وجہ سے (ہوا) کہ وہ لوگ منکر ہوجاتے تھے احکام الہیہ کے اور قتل کردیا کرتے تھے پیغمبروں کو (کہ وہ قتل خود ان کے نزدیک بھی) ناحق (ہوتا تھا) اور (نیز) یہ (ذلت وغضب) اس وجہ سے (ہوا) کہ ان لوگوں نے اطاعت نہ کی اور دائرہ (اطاعت) سے نکل نکل جاتے تھے، فائدہیہ قصہ بھی وادی تیہ کا ہے من وسلویٰ سے اکتا کر ان ترکاریوں اور غلوی کی درخواست کی اس میدان کے داخل حدود میں کوئی شہر آباد تھا وہاں جاکر رہنے کا حکم ہوا کہ بؤ و جو تو کھاؤ کماؤ ، اور منجملہ ذلت ومسکنت کے یہ بھی ہے کہ یہودیوں سے سلطنت قرب قیامت تک کیلئے چھین لی گئی البتہ بالکل قیامت کے قریب محض لٹیروں کا سا بےضابطہ تھوڑا زور شور دجال یہودی کا کل چالیس دن کے لیے ہوجائے گا اور اس کو کوئی عاقل سلطنت نہیں کہہ سکتا اور ان کو یہ بات موسیٰ ؑ کی معرفت جتلادی گئی تھی کہ اگر بےحکمی کرو گے تو ہمیشہ دوسری قوموں سے محکوم رہو گے جیسا کہ سورة اعراف کی آیت وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ، (167: 7) میں مذکور ہے (موجودہ اسرائیل حکومت کی حیثیت بھی امریکہ اور برطانیہ کے غلام سے زیادہ کچھ نہیں) اور بہت سے پیغمبر مختلف اوقات میں یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے جس کو وہ لوگ بھی دل میں سمجھتے تھے کہ ہمارا یہ فعل ناحق ہے لیکن عناد اور ضد نے اندھا بنا رکھا تھا، معارف و مسائل یہودیوں پر ابدی ذلت کا مطلب اور اسرائیل کی موجودہ حکومت سے شبہ اور اس کا جواب آیات مذکورہ میں یہود کی سزا دنیا میں دائمی ذلت ومسکنت اور دنیا وآخرت میں غضب الہی کو بیان کیا گیا ہے، ان کی دائمی ذلت ومسکنت کا مفہوم جو ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے منقول ہے اس کا خلاصہ ابن کثیر کے الفاظ میں یہ ہے کہ لا یزالون مستذلین من وجدہم استذلہم وضرب علیم الصغار یعنی وہ کہتے ہی مالدار بھی ہوجائیں ہمیشہ تمام اقوام میں ذلیل و حقیر ہی سمجھے جائیں گے جس کے ہاتھ لگیں گے ان کو ذلیل کرے گا اور ان پر غلامی کی علامتیں لگادے گا، امام تفسیر ضحاک ابن مزاحم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ان کی ذلت ومسکنت کا یہ مفہوم نقل کیا ہے کہ ہم اہل القبالات یعنی لا جزیۃ مطلب یہ ہے کہ یہودی ہمیشہ دوسروں کی غلامی میں رہیں گے ان کو ٹیکس وغیرہ ادا کرتے رہیں گے خود ان کو کوئی قوت و اقتدار حاصل نہ ہوگا، اس مضمون کی ایک آیت سورة آل عمران میں ایک زیادتی کے ساتھ اس طرح آئی ہے، ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (112: 3) جمادی گئی ان پر بےقدری جہاں کہیں جائیں گے مگر ہاں ایک تو ایسے ذریعہ سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ایک ایسے ذریعہ سے جو آدمیوں کی طرف سے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ کا مطلب تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے قانون میں امن دے دیاہو جیسے نابالغ بچے، عورتیں یا ایسے عبادت گذار جو مسلمانوں سے لڑتے نہیں پھرتے وہ محفوظ ومامون رہیں گے اور آدمیوں کے ذریعہ سے مراد صلح ہے جس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مسلمانوں سے معاہدہ صلح کا یا جزیہ دے کر ان کے ملک میں رہنے کا ہوجائے مگر الفاظ قرآنی میں مِنَ النَّاس فرمایا ہے مِنَ المسلمین نہیں اس لئے یہ صورت بھی متحمل ہے کہ دوسرے غیر مسلموں سے معاہدہ صلح کا کرکے ان کی پشت پناہی میں آجائیں تو مامون رہ سکتے ہیں پھر یہ استثنا حبل من اللہ اور حبل من الناس کا اگر بقول کشاف استثناء متصل قرار دیا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہود ہمیشہ ہر جگہ ذلیل و خوار رہیں گے بجز ان دو صورتوں کے کہ یا تو اللہ کے عہد کے ذریعہ ان کے بچے، عورتیں وغیرہ اس ذلت و خواری سے نکل جائیں یا معاہدہ صلح کے ذریعہ یہ اپنے آپ کو ذلت و خواری سے بچالیں، اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے معاہدہ صلح کے ذریعہ ذلت و خواری سے نکلنے کی صورت مسلمانوں سے معاہدہ صلح کرکے بھی ہوسکتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ دوسری قوموں سے معاہدہ صلح کا کرکے ان کے سہارے ذلت و خواری سے محفوظ رہیں یہ سب تقریر استثنا متصل کی تقدیر پر ہے اور بہت سے حضرات مفسرین نے اس کو استثناء منقطع قرار دیا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ اپنی ذلت اور اپنی قومی حیثیت سے تو ذلیل و خوار ہی رہیں گے گو قانون الہی کی وسعت میں آکر ان کے بعض افراد اس سے محفوظ ہوجائیں گے، یا دوسرے لوگوں کا سہارا لے ذلت و خواری پر پردہ ڈال دیں، اس طرح سورة بقرہ کی آیت کی وضاحت سورة آل عمران کی آیت سے پوری ہوگئی اور اسی سے وہ تمام شبہات بھی دور ہوگئے جو آجکل فلسطین میں یہودیوں کی حکومت قائم ہونے کی بنا پر بہت سے مسلمانوں کو پیش آتے ہیں کہ قرآن کے قطعی ارشادات سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں کی حکومت کبھی قائم نہ ہوگی اور واقعہ یہ پایا جاتا ہے کہ فلسطین میں ان کی حکومت قائم ہوگئی جواب واضح ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی موجودہ حکومت کی حقیقت سے جو لوگ باخبر ہیں وہ خوب جانتے ہیں کی یہ حکومت درحقیقت اسرائیل کی نہیں ہے بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی ایک چھاؤ نی سے زیادہ اس کی حیثیت نہیں، یہ اپنی ذاتی طاقت سے ایک مہینہ بھی زندہ نہیں رہ سکتے یورپین طاقتوں نے اسلامی بلاک کو کمزور کرنے کے لئے ان کے بیچ میں اسرائیل کا نام دے کر ایک چھاؤ نی بنائی ہوئی ہے اور اسرائیلی ان کو نظروں میں بھی ان کے فرماں بردار غلام سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے صرف قرآن کریم کے ارشاد بحبل من الناس کے سہارے ان کا اپنا وجود قائم ہے وہ بھی ذلت کے ساتھ اس لئے موجودہ اسرائیلی حکومت سے قرآن کریم کے کسی ارشاد پر ادنی شبہ بھی نہیں ہوسکتا، اس کے علاوہ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں میں سب سے پہلے یہود ہیں ان کی شریعت ان کی تہذیب سب سے پہلی ہے اگر پوری دنیا میں فلسطین کے ایک چھوٹے سے قصبہ پر ان کا تسلط کسی طرح ہو بھی گیا تو پوری دنیا کے نقشہ میں یہ حصہ ایک نقطہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے اس کے بالمقابل نصاریٰ کی سلطنتیں اور مسلمانوں کے دور تنزل کے باوجود ان کی سلطنتیں، بت پرستوں کی سلطنتیں لامذہبوں کی حکومتیں جو جگہ جگہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہیں ان کے مقابلے میں فلسطین اور وہ بھی آدھا اور اس پر بھی امریکہ، برطانیہ کے زیر سایہ کوئی تسلط یہودیوں کا ہوجائے تو کیا اس سے پوری قوم یہود پر خدا تعالیٰ کی طرف سے لگائی ہوئی دائمی ذلت کا کوئی جواب بن سکتا ہے ؟
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور انصاری اور صابئین جو ایمان لایا (ان میں سے) اللہ پر اور روز قیامت پر اور کام کئے نیک تو ان کے لئے ہے ان کا ثواب ان کے رب کے پاس، اور نہیں ان پر کچھ خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

خلاصہ تفسیر اس مقام پر یہودیوں کی شرارت کا حال معلوم کرکے سامعین کو یا خود یہود کو یہ خیال گذر سکتا ہے کہ ان حالات میں اگر عذر پیش کرکے ایمان لانا بھی چاہئیں تو غالبا وہ اللہ کے نزدیک قبول نہ ہو اس خیال کو دفع کرنے کے لئے اس آیت میں ایک قانون اور ضابطہ ذکر فرمایا کہ یہ تحقیقی بات ہے کہ مسلمان یہودی اور نصارٰی اور فرقہ صابئین (ان سب میں) جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ تعالیٰ (کی ذات وصفات) پر اور قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے (موافق قانون شریعت کے) ایسوں کے لئے ان کا حق الخدمت بھی ہے ان کے پروردگار کے پاس (پہنچ کر) اور (وہاں جاکر) کسی طرح کا اندیشہ بھی نہیں ان پر اور نہ وہ مغموم ہوں گے، فائدہقانون کا حاصل ظاہر ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی تخصیص نہیں جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو ہمارے ہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور ظاہر ہے کہ نزول قرآن کے بعد پوری اطاعت محمدی یعنی مسلمان ہونے میں منحصر ہے مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجائے گا مستحق نجات اخروی ہوگا اس میں اس خیال کا جواب ہوگیا یعنی ان شرارتوں کے بعد بھی اگر مسلمان ہوجائیں تو ہم سب معاف کردیں گے، اور صابئین ایک فرقہ تھا جس کے معتقدات اور طرز عمل کے بارے میں چونکہ کسی کو پورا پتہ نہ چلا اس لئے مختلف اقوال ہیں واللہ اعلم، اور اس قانون میں بظاہر تو مسلمان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ تو مسلمان ہیں ہی لیکن اس سے کلام پاک میں ایک خاص بلاغت اور مضمون میں ایک خاص وقعت پیدا ہوگئی اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی حاکم یا بادشاہ کسی ایسے موقع پر یوں کہے کہ ہمارا قانون عام ہے کوئی موافق ہو یا مخالف جو شخص بھی اطاعت کرے گا مورد عنایت ہوگا اب ظاہر ہے کہ موافق تو اطاعت کر ہی رہا ہے سنانا تو اصل میں مخالف کو ہے لیکن اس میں نکتہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کو جو موافقین پر عنایت ہے سو اس کی علت ان سے کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ ان کی صفت موافقت پر مدار ہے ہماری عنایت کا سو اگر مخالف بھی اختیار کرلے تو وہ بھی اس موافق کے برابر ہوجائے گا اس لئے مخالف کے ساتھ موافق کو بھی ذکر کردیا گیا،
Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب لیا ہم نے تم سے اقرار اور بلند کیا تمہارے اوپر کوہ طور کو کہ پکڑو جو کتاب ہم نے تم کو دی زور سے اور یاد رکھو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم ڈرو۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا (کہ توراۃ پر عمل کریں گے) اور (اس قول وقرار لینے کے لئے) ہم نے طور پہاڑ کو اٹھا کر تمہارے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا (اور اس وقت کہا) کہ (جلدی) قبول کرو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے (یعنی توراۃ) مضبوطی کے ساتھ اور یاد رکھو جو احکام اس (کتاب) میں ہیں جس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ ، فائدہجب موسیٰ ؑ کو طور پر تورات عطا ہوئی اور آپ نے واپس تشریف لاکر قوم کو وہ دکھائی اور سنائی تو اس میں احکام ذرا سخت تھے مگر ان لوگوں کی حالت کے مطابق ایسے ہی احکام مناسب تھے تو اول تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ جب ہم سے اللہ تعالیٰ خود کہہ دیں گے کہ یہ میری کتاب ہے تب مانیں گے (جس کا قصہ اوپر گذر چکا ہے) غرض وہ ستر آدمی جو موسیٰ ؑ کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے واپس آکر انہوں نے گواہی دی مگر اس شہادت میں (اپنی طرف سے) اتنی آمیزش بھی کردی کہ اللہ تعالیٰ نے آخر میں یہ فرما دیا تھا کہ تم سے جس قدر عمل ہوسکے کرنا جو نہ ہوسکے معاف ہے تو کچھ جبلی شرارت کچھ احکام کی مشقت اور کچھ اس آمیزش کا حلیہ ملا غرض صاف کہہ دیا کہ ہم سے تو اس کتاب پر عمل نہیں ہوسکتا حق تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کوہ طور کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردو کہ یا تو مانو ورنہ ابھی گرا، آخرچار ناچار ماننا پڑا، ایک شبہ کا ازلہیہاں ہوسکتا ہے کہ دین میں تو اکراہ نہیں ہے یہاں کیوں اکراہ کیا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ اکراہ ایمان لانے پر نہیں بلکہ اول اپنی خوشی سے ایمان واسلام قبول کرلینے اور اس کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے ہے باغیوں کی سزا تمام حکومتوں میں بھی عام مخالف اور دشمن قوموں سے الگ ہوتی ہے ان کے لئے ہر حکومت میں دو ہی راستے ہوتے ہیں یا اطاعت قبول کریں یا قتل کئے جائیں اسی وجہ سے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے کفر کی سزا قتل نہیں ،
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم پھرگئے اس کے بعد سو اگر نہ ہوتا للہ کا فضل تم پر اور اس کی مہربانی تو ضرور تم تباہ ہوتے۔

خلاصہ تفسیر پھر تم اس قول وقرار کے بعد بھی (اس سے) پھرگئے سو اگر تم لوگوں پر خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم نہ ہوتا (تو اس عہد شکنی کا مقتضا تو یہ تھا کہ) ضرور تم (فورا) تباہ (اور ہلاک) ہوجاتے (مگر ہماری عنایت و رحمت عامہ ہے کہ حیات مستعار کے ختم ہونے تک مہلت دے رکھی ہے لیکن کب تک ؟ آخر بعد از مرگ وبال اعمال میں مبتلا ہوگے) فائدہحق تعالیٰ کی رحمت عامہ دنیا میں مومن کافر سب پر ہے جس کا اثر عافیت اور دنیوی راحت ہے رحمت خاصہ کا ظہور آخرت میں ہوگا جس کا اثر نجات اور قرب خداوندی ہے، بظاہر اس آیت کے جزو آخر کے مخاطب وہ یہودی ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے چونکہ حضور ﷺ پر ایمان نہ لانا بھی عہد شکنی میں داخل ہے اس لئے ان کو بھی عہد شکنوں میں شامل کرکے بطور مثال فرمایا گیا کہ اس پر بھی ہم نے تم پر دنیا میں کوئی عذاب ایسا نازل نہیں کیا جیسا پہلے بےایمانوں اور عہد شکونوں پر ہوتا رہا یہ محض خدا کی رحمت ہے، اور چونکہ اب از روئے احادیث ایسے عذابوں کا نہ آنا حضور ﷺ کی برکت ہے اس لئے بعض مفسرین نے فضل و رحمت کی تفسیر بعثت محمدیہ سے کی ہے، اس مضمون کی تائید کے لئے گذشتہ بےایمانوں کا ایک واقعہ اگلی آیت میں بیان ہو رہا ہے،
Ayahs 2:65–66

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم خوب جان چکے ہو جنہوں نے کہ تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دن میں تو ہم نے کہا ان سے کہ ہوجاؤ بندر ذلیل،

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر کیا ہم نے اس واقعہ کو عبرت ان لوگوں کیلئے جو وہاں تھے اور جو پیچھے آنے والے تھے اور نصیحت ڈرنیوالوں کیواسطے۔

خلاصہ تفسیر اور تم جانتے ہی ہو ان لوگوں کا حال جنہوں نے تم میں سے (حد شرع سے) تجاوز کیا تھا دوبارہ (اس حکم کے جو) ہفتہ کے دن کے (متعلق تھا کہ اس روز مچھلی کا شکار نہ کریں) سو ہم نے ان کو (اپنے حکم قہری تکوینی سے مسخ کرنے کے لئے) کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ (چنانچہ وہ بندروں کے قالب میں مسخ ہوگئے) پھر ہم نے اس کو ایک (واقعہ) عبرت (انگیز) بنادیا ان لوگوں کے لئے بھی جو قوم کے معاصر تھے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مابعد کے زمانے میں آتے رہے اور (نیز اس واقعہ کو) موجب نصیحت (بنایا، خدا سے) ڈرنیوالوں کے لئے، فائدہیہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کا حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں ہوا بنی اسرائیل کے لئے ہفتہ کا دن معظم اور عبادت کے لئے مقرر تھا اور مچھلی کا شکار بھی اس روز ممنوع تھا یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے اور مچھلی کے شوقین تھے اس حکم کو نہ مانا اور شکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسخ صورت کا عذاب نازل ہوا تین دن کے بعد وہ سب مرگئے، اس واقعہ کو دیکھنے اور سننے والے دو قسم کے لوگ تھے فرمانبردار و نافرمان تو نافرمانوں کے لئے تو یہ واقعہ نافرمانی سے توبہ کرانے والا تھا اس لئے اس کو نکال فرمایا اور فرمانبرداروں کو یہ واقعہ فرمانبرداری پر قائم رکھنے والا تھا اس کو موعظۃ فرمایا، معارف و مسائل دینی معاملات میں کوئی ایسا حیلہ جس سے اصل حکم شرعی باطل ہوجائے حرام ہے،: اس آیت میں یہودیوں کے جس اعتداء یعنی حدود سے تجاوز کا ذکر کرکے اس کو سبب عذاب بتلایا گیا ہے روایات سے ثابت ہے کہ وہ صاف طور پر حکم شرعی کی خلاف ورزی نہ تھی بلکہ ایسے حیلے تھے جن سے حکم شرعی کا ابطال لازم آتا تھا مثلاً ہفتہ کے دن مچھلی کی دم میں ایک پھندا لگا کر دریا میں چھوڑ دیا اور یہ ڈور زمین پر کسی چیز سے باندھ دی پھر اتوار کے روز اس کو پکڑ کر کھالیا تو یہ ایک ایسا حیلہ ہے جس میں حکم شرعی کا ابطال بلکہ ایک قسم کا استہزاء ہے اس لئے ایسا کرنے والوں کو بڑا سرکش نافرمان قرار دے کر ان پر عذاب آیا، مگر اس سے ان فقہی حیلوں کی حرمت ثابت نہیں ہوتی جن میں سے بعض خود رسول اللہ ﷺ نے بتلائے ہیں مثلاً ایک سیر عمدہ کھجور کے بدلے دو سیر خراب کھجور خریدنا سود میں داخل ہے مگر اس سے بچنے کا ایک حیلہ خود رسول اللہ ﷺ نے یہ بتلایا کہ جنس کو تبادلہ جنس سے نہ کرو قیمت کے ذریعہ خریدو فروخت کرلو مثلا دو سیر خراب کہجوریں دو درہم میں فروخت کردیں پھر ان دو درہموں میں سے ایک سیر عمدہ کھجور خریدلی تو یہاں حکم شرعی کی تعمیل مقصود ہے، ابطلال نہ مقصود ہے نہ واقع ہے اسی طرح بعض دوسرے مسائل میں بھی فقہا نے حرام سے بچنے کی بعض ایسی ہی تدبیریں بتلائی ہیں ان کو یہودیوں کے حیلوں کی طرح کہنا اور سمجھنا غلط ہے، واقعہ مسخ صورت یہود تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہود نے اول اول تو اس طرح کے حیلے کرکے مچھلیاں پکڑیں پھر ہوتے ہوتے عام طور پر شکار کھیلنے لگے تو ان میں دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت علماء وصلحا کی تھی جنہوں نے ان کو ایسا کرنے سے روکا یہ باز نہ آئے تو ان سے برادرانہ تعلقات قطع کرکے بالکل الگ ہوگئے اور بستی کے دو حصے کرلئے ایک یہ نافرمان لوگ رہ گئے دوسرے میں علماء وصلحاء رہے ایک روز ان کو یہ محسوس ہوا کہ جس حصہ میں یہ نافرمان لوگ رہتے تھے ادھر بالکل سناٹا ہے تو وہاں جاکر دیکھا تو سب کے سب بندروں کی صورت میں مسخ ہوگئے تھے اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ان کے جوان بندر بنا دئیے گئے تھے اور بوڑھے خنزیر کی شکل میں منتقل کردئیے گئے تھے اور مسخ شدہ بندر اپنے رشتہ دار اور تعلق والے انسانوں کو پہچانتے تھے ان کے قریب آکر روتے تھے، ممسوخ قوم کی نسل نہیں چلتی اس معاملہ میں صحیح بات وہ ہے جو خود رسول اللہ ﷺ سے بروایت عبداللہ بن مسعود صحیح مسلم میں منقول ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے زمانے کے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا یہ وہی مسخ شدہ یہودی ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم میں مسخ صورت کا عذاب نازل کرتے ہیں تو ان کی نسل نہیں چلتی (بلکہ چند روز میں ہلاک ہو کر ختم ہوجاتے ہیں) اور پھر فرمایا کہ بندر اور خنزیر دنیا میں پہلے سے بھی موجود تھے (اور آج بھی ہیں مگر مسخ شدہ بندروں اور خنزیروں سے ان کا کوئی جوڑ نہیں) اس موقع پر بعض مفسرین نے صحیح بخاری کے حوالے سے بندروں میں زنا کی سزا میں سنگساری کرنے کا ایک واقعہ نقل کیا ہے مگر یہ واقعہ نہ بخاری کے صحیح نسخوں میں موجود ہے نہ روایۃ صحیح ہے قرطبی نے اس جگہ اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے،
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اللہ فرماتا ہے تم کو، ذبح کرو ایک گائے وہ بولے کیا تو ہم سے ہنشی کرتا ہے کہا پناہ خدا کی کہ ہوں میں جاہلوں میں۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ (اگر اس لاش کے قاتل کا پتہ لگانا چاہتے ہو تو) تم ایک بیل ذبح کرو وہ کہنے لگے کہ آیا آپ ہم کو مسخرہ بناتے ہیں (کہاں قاتل کی تحقیق کہاں جانور کا ذبح کرنا) موسیٰ ؑ نے فرمایا نعوذ باللہ جو میں ایسی جہالت والوں کا سا کام کروں (کہ احکام خداوندی میں تمسخر کرنے لگوں) فائدہیہ قصہ اس طرح ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا جس کی وجہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں یہ لکھی ہے کہ کسی شخص نے مقتول کی کسی لڑکی سے شادی کی درخواست کی تھی مگر اس نے انکار کردیا اور اس شخص نے اس کو قتل کردیا قاتل لاپتہ تھا اس کا پتہ نہ لگتا تھا۔ اور معالم نے کلبی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس وقت تک توریت میں اس کے متعلق کوئی شرعی قانون بھی نازل نہیں ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ نزول تورات سے قبل کا ہے غرض بنی اسرائیل نے موسیٰ ٰعلیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ چلے آپ نے بحکم خداوندی ایک بیل ذبح کرنے کا حکم فرمایا انہوں نے حسب عادت اور اپنی جبلت کے مطابق اس میں حجتیں نکالنا شروع کیں آیات آئندہ میں اسی کی تفصیل ہے،
Ayahs 2:68–71

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

بولے کہ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتادی ہم کو کہ وہ گائے کیسی ہے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ بن بیاہی درمیان میں ہی بڑھاپے اور جوانی کے اب کر ڈالو جو تم کو حکم ملا ہے،

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

بولے کہ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتادی ہم کو کیسا ہے اس کا رنگ، کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے زرد خوب گہری ہے اس کی زردی، خوش آتی ہے دیکھنے والوں کو

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

بولے کہ دعا کر ہمارئے واسطے اپنے رب سے کہ بتادے ہم کو کس قسم میں ہے وہ کیونکہ اس گائے میں شبہ پڑا ہے ہم کو اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور راہ پالیں گے

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے محنت کرنے والی نہیں کہ جو تتی ہو زمین کو یا پانی دیتی ہو کھیتی کو، بےعیب ہے کوئی داغ اس میں نہیں، بولے اب لایا تو ٹھیک بات پھر اس کو ذبح کیا وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے۔

خلاصہ تفسیر وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ درخواست کیجئے ہمارے اپنے رب سے ہم سے بیان کردیں کہ اس (بیل) کے کیا اوصاف ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ (میری درخواست کے جواب میں) یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا بیل ہو کہ نہ بوڑھا ہو نہ بہت بچہ ہو (بلکہ) پٹھا ہو دونوں عمروں کے اوسط میں سو اب (زیادہ حجت مت کیجیو بلکہ کرڈالو جو کچھ تم کو ملا ہے کہنے لگے کہ (اچھا یہ بھی) درخواست کردیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے ہم سے یہ (بھی) بیان کردیں کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ (اس کے متعلق) حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہو جس کا رنگ تیز زرد ہو کہ ناظرین کو فرحت بخش ہو کہنے لگے کہ (اب کی بار اور) ہماری خاطر اپنے رب سے دریافت کردیجئے کہ (اول بار کے سوال کا جواب ذرا اور واضح) ہم سے بیان کردیں کہ اس کے اوصاف کیا کیا ہوں کیونکہ ہم کو اس بیل میں (قدرے) اشتباہ (یہ باقی) ہے (کہ وہ معمولی بیل ہوگا یا کوئی اور عجیب و غریب جس میں تحقیق قاتل کا خاص اثر ہو) اور ہم ضرور انشاء اللہ تعالیٰ (اب کی بار) ٹھیک سمجھ جاویں گے موسیٰ ؑ نے جواب دیا کہ حق تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ وہ (کوئی عجیب و غریب جانور نہیں ہے یہی معمولی بیل ہے البتہ عمدہ ہونا چاہئے کہ اوصاف مذکورہ کے ساتھ) نہ تو ہل میں چلا ہوا ہو، جس سے زمین جوتی جاوے اور نہ (کنویں میں جوڑا گیا ہو کہ) اس سے زراعت یا آبپاشی کی جاوے غرض ہر قسم کے عیب سے) سالم ہو اور اس میں (کسی طرح کا) کوئی داغ نہ ہو (یہ سن کر) کہنے لگے کہ (ہاں) اب آپ نے پوری (اور صاف) بات فرمائی (القصہ جانور تلاش کرکے خریدا) پھر اس کو ذبح کردیا حالانکہ بظاہر کرتے ہوئے معلوم نہ ہوتے تھے، فائدہحدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ یہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے ذمہ نہ ہوتیں جو بھی بقرہ ذبح کردیا جاتا کافی ہوجاتا،
Ayahs 2:72–73

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب مار ڈالا تھا تم نے ایک شخص کو پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

پھر ہم نے کہا مارو اس مردے پر اس گائے کا ایک ٹکڑا اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی قدرت کے نمونے تاکہ تم غور کرو۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں (میں سے کسی) نے ایک آدمی کا خون کردیا پھر (اپنی برات کے لئے ایک دوسرے پر ڈالنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو اس امر کا ظاہر کرنا منظور تھا جس کو تم (میں کے مجرم ومشتبہ لوگ) مخفی رکھنا چاہتے تھے، اس لئے (ذبح بقرہ کے بعد) ہم نے حکم دیا کہ اس (مقتول کی لاش) کو اس (بقرہ) کے کوئی سے ٹکڑے سے چھوا دو (چنانچہ چھوانے سے وہ زندہ ہوگیا) آگے اللہ تعالیٰ بمقابلہ منکرین قیامت کے اس قصہ سے استدلال اور اپنے نظیر کے طور پر فرماتے ہیں کہ اسی طرح حق تعالیٰ (قیامت میں) مردوں کو زندہ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نظائر (قدرت) تم کو دکھلاتے ہیں اس توقع پر کہ تم عقل سے کام کرو (اور ایک نظیر سے دوسری نظیر کے انکار سے باز آؤ) فائدہجب اس مردہ کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا تو وہ زندہ ہوگیا اس نے قاتل کا نام بتایا اور پھر فوراً ہی مرگیا، اس جگہ صرف مقتول کا بیان اس لئے کافی سمجھا گیا کہ حضرت موسیٰ ؑ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ مقتول سچ بولے گا ورنہ صرف مقتول کے بیان سے بغیر شرعی شہادت کے کسی پر قتل کا ثبوت کافی نہیں ہوتا، یہاں یہ شبہ کرنا بھی درست نہیں کہ حق تعالیٰ کو تو مردہ زندہ کرنے کی ویسی ہی قدرت تھی یا مقتول کو زندہ کئے بغیر قاتل کا نام بتایا جاسکتا تھا پھر اس سامان کی کیا ضرورت تھی تو بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی فعل ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے تو ہوتا نہیں بلکہ مصلحت اور حکمت کے لئے ہوتا ہے اور ہر واقعہ کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی کے احاطہ علمی میں آسکتی ہے نہ ہم اس کے مکلف ہیں کہ ہر واقعہ کی مصلحت معلوم کریں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہر واقعہ کی حکمت ہماری سمجھ میں آجائے اس لئے اس کے پیچھے پڑ کر اپنی عمر عزیز ضائع کرنے کے بجائے بہتر طریقہ تسلیم و سکوت کا ہے،
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کے بعد سو وہ ہوگئے جیسے پتھر یا اس سے بھی سخت، اور پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں جن سے جاری ہوتی ہیں نہریں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں نکلتا ہے ان سے پانی اور ان میں ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں اللہ کئے ڈر سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے۔

خلاصہ تفسیر (گذشتہ واقعات سے متاثر نہ ہونے پر شکایت کے طور پر ارشاد ہوتا ہے) ایسے ایسے واقعات کے بعد (چاہئے تھا کہ تم لوگوں کے دل بالکل نرم اور حق تعالیٰ کی عظمت سے پر ہوجاتے لیکن) تمہارے دل پھر بھی سخت ہی رہے تو (یوں کہنا چاہئے کہ) ان کی مثال پتھر کی سی ہے یا (یوں کہئے کہ وہ) سختی میں ان سے (بھی) زیادہ (ہیں) اور زیادہ سخت اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بعضے پتھر تو ایسے ہیں جن سے (بڑی بڑی) نہریں پھوٹ کر چلتی ہیں اور انہی پتھروں میں بعض ایسے ہیں کہ جو شق ہوجاتے ہیں پھر ان سے (اگر زیادہ نہیں تو تھوڑا ہی) پانی نکل آتا ہے اور ان ہی پتھروں میں بعضے ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے خوف سے اوپر سے نیچے لڑھک آتے ہیں (اور تمہارے قلوب میں کسی قسم کا اثر ہی نہیں ہوتا) اور (قساوت سے جو اعمال بد صادر ہوتے ہیں) حق تعالیٰ تمہارے (ان) اعمال سے بیخبر نہیں ہیں (بہت جلد تم کو سزا تک پہنچادیں گے) فائدہاس جگہ پتھر کے تین اثرات بیان کئے گئے ہیں اول ان سے زیادہ پانی نکلنا دوم کم پانی نکلنا، ان دو میں تو کسی کو شبہ نہیں پڑتا، تیسری صورت یعنی خدا کے خوف سے پتھر کا نیچے آگرنا اس میں ممکن ہے کسی کو شبہ ہو کیونکہ پتھر کو تو عقل کی ضرورت نہیں کیونکہ حیوانات لایعقل میں خوف کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے البتہ حس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جمادات میں اتنی حس بھی نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ حس حیات پر موقوف ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان میں ایسی لطیف حیات ہو جس کا ہم کو ادراک نہ ہوتا ہو جیسا جوہر دماغ کے احساس کا بہت سے عقلاء کو ادراک نہیں ہوتا، وہ محض دلائل سے اس کے قائل ہوتے ہیں تو دلائل طبیہ سے ظاہر نص قرآن کی دلالت اور قوت کسی طرح بھی کم نہیں، پھر ہمارا یہ دعویٰ بھی نہیں کہ ہمیشہ پتھر گرنے کی علت خوف ہی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بعض پتھر اس وجہ سے گرجاتے ہیں سو بہت ممکن ہے کہ گرنے کے اسباب مختلف ہوں ان میں سے بعض طبعی ہوں اور ایک سبب خوف خدا بھی ہو، اس مقام پر تین قسم کے پتھروں کے ذکر میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود نہایت بلیغ انداز میں کیا گیا ہے یعنی بعض پتھروں میں تاثر اتنا قوی ہے جس سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں جن سے مخلوق خدا فائدہ اٹھاتی ہے اور ان (یہودیوں) کے دل ایسے بھی نہیں (کہ مخلوق خدا کی تکلیف و مصیبت میں پگھل جائیں) اور بعض پتھروں میں ان سے کم تاثر ہوتا ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے تو یہ پتھر بہ نسبت اول کے کم نرم ہوئے اور ان کے قلوب ان درجہ دوم کے پتھروں سے بھی سخت ہیں، اور بعض پتھروں میں گو اس درجہ کا اثر نہیں مگر پھر بھی ایک اثر تو ہے (کہ خوف خدا سے نیچے گرآتے ہیں) گو درجے میں پہلی قسموں سے یہ ضعیف تر ہیں مگر ان کے قلوب میں تو کم درجہ اور ضعیف ترین جذبہ انفعال بھی نہیں
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

اب کیا اے مسلمانو ! توقع رکھتے ہو کہ وہ مانیں تمہاری بات اور ان میں ایک فرقہ تھا کہ سنتا تھا اللہ کا کلام پھر بدل ڈالتے تھے اس کو جان بوجھ کر اور وہ جانتے تھے۔

خلاصہ تفسیر (مسلمان یہودیوں کو مومن بنانے کی جو کوشش کر رہے تھے اور اس میں کلفت اٹھاتے تھے تو یہود کے حالات و واقعات بتا اور سنا کر مسلمانوں کو امید کا انقطاع کرکے ان کی کلفت اس آیت کے ذریعہ فرماتے ہیں) (اے مسلمانو !) کیا (یہ سارے قصے سن کر) اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہارے کہنے سے ایمان لے آویں گے حالانکہ (ان سب مذکورہ قصوں سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ان سے ہوچکی ہے کہ) ان میں کچھ لوگ ایسے گذرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے اور اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے (اور) اس کو سمجھنے کے بعد (ایسا کرتے) اور لطف یہ کہ یہ بھی) جانتے تھے (کہ ہم برا کر رہے ہیں محض اغراض نفسانیہ اس کاروائی کا باعث ہوتیں) فائدہمطلب یہ کہ جو لوگ ایسے بیباک اور اغراض نفسانی کے اسیر ہوں اور کسی کے کہنے سننے سے کب باز آنے والے اور کسی کی کب سننے والے ہیں، اور کلام اللہ سے مراد یا تو تورات ہے اور سماع سے مراد بواسطہ انبیاء (علیہم السلام) کے ہے اور تحریف سے مراد اس کے بعض کلمات یا تفاسیر یا دونوں بدل ڈالنا ہیں اور یا کلام سے مراد وہ کلام ہے جو ان ستر آدمیوں نے بطور تصدیق موسیٰ ؑ کوہ طور پر سنا تھا، اور سماع سے مراد بلاواسطہ اور تحریف سے مراد قوم سے یہ نقل کردینا کہ اخیر میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو حکم تم سے ادا نہ ہوسکے وہ معاف ہے، امور مذکورہ بالا میں سے کسی امر کا صدور گو ان یہودیوں سے نہ ہوا ہو جو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں موجود تھے لیکن چونکہ یہ لوگ بھی اپنے اسلاف کے ان اعمال پر انکار ونفرت نہ رکھتے تھے اس لئے حکما یہ بھی ویسے ہی ہوئے،
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب ملتے ہیں مسلمانوں سے کہتے ہیں ہم مسلمان ہوئے اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس تو کہتے ہیں تم کیوں کہ دیتے ہو ان سے جو ظاہر کیا اللہ نے تم پر تاکہ جھٹلائیں تم کو اس سے تمہارے رب کے آگے کیا تم نہیں جانتے۔

خلاصہ تفسیر اور جب ملتے ہیں (منافقین یہود) مسلمانوں سے تو (ان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہائی میں جاتے ہیں یہ بعضے (منافق یہودی) دوسرے بعضے (علانیہ) یہودیوں کے پاس (تو ان سے ان کو معیت و ہم مشربی کے مدعی ہوتے ہیں اس وقت) وہ (دوسرے یہودی) ان سے کہتے ہیں کہ تم (یہ) کیا (غضب کرتے ہو کہ) مسلمانوں کو (خوشامد میں) وہ باتیں بتلا دیتے ہو جو (ان کے مفید مذہب) اللہ تعالیٰ نے (تورات میں) تم پر منکشف کردی ہیں (مگر ہم بمصلحت پوشیدہ رکھتے ہیں) نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ تم کو حجت میں مغلوب کردیں گے کہ (دیکھو) یہ مضمون اللہ کے پاس (سے تمہاری کتاب میں آیا) ہے کیا تم (اتنی موٹی سی بات) نہیں سمجھتے، فائدہمنافقین کبھی ایک آدھ بات خوشامد میں اپنے ایمان کی سچائی جتلانے کے لئے مسلمانوں سے کہہ دیتے تھے کہ تورات میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق بشارت آئی ہے یا قرآن مجید کے متعلق خبر آئی ہے وغیرہ وغیرہ، اس پر دوسرے لوگ ان کو ملامت کرتے تھے۔
Ayahs 2:77–79

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعض ان میں بےپڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کے سوائے جھوٹی آرزوں کے اور ان کے پاس کچھ نہیں مگر خیالات

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

سو خرابی ہے ان کو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے، پھر کہہ دیتی ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مال، سو خرابی ہے انکو اپنے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی کمائی سے

خلاصہ تفسیر کیا ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ حق تعالیٰ کو سب خبر ہے ان چیزوں کی بھی جن کو وہ مخفی رکھتے ہیں اور ان کی بھی جن کا وہ اظہار کرتے ہیں (تو اگر منافقین نے مؤمنین سے اپنا کفر چھپایا تو کیا اور ان ملامت گروں نے حضور ﷺ کی بشارت وغیرہ کے مضامین چھپائے تو کیا، اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مضامین سے مسلمانوں کو جابجا مطلع فرما دیا ہے) اس آیت میں تو یہودیوں کے خواندہ لوگوں کا ذکر تھا آگے ان کے ناخواندہ لوگوں کا ذکر اس طرح فرماتے ہیں کہ، اور ان (یہودیوں) میں بہت سے ناخواندہ (بھی) ہیں جو کتابی علم نہیں رکھتے لیکن (بلاسند) دل خوش کن باتیں (بہت یاد ہیں) اور وہ لوگ کچھ اور نہیں (ویسے ہی بےبنیاد) خیالات پکا لیتے ہیں (اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ تو ان کے علماء کی تعلیم ناقص اور مخلوط ہے اور پھر اوپر سے ان میں فہم کی کمی ہے ایسی صورت میں بجز بےبنیاد خیالات کے حقائق واقعیہ کی تحقیق کہاں نصیب ہوسکتی ہے بقول شخصے " کریلا اور نیم چڑھا " اس میں مٹھاس کہاں اور چونکہ ان کی اس توہم پرستی میں ان کے علماء کی خیانت بڑا سبب ہے اس لئے جرم میں بھی وہ اپنے عوام سے زیادہ ہوئے اسی کا بیان اب یہاں کرتے ہیں،) جب عوام مذکورین قابل زجر وتوبیخ ہیں اور ان کا جہل کا اصلی سبب ان کے علماء ہی ہیں) تو بڑی خرابی ان کی ہوگی جو لکھتے ہیں (بدل سدل کر) کتاب (تورات) کو اپنے ہاتھوں سے (اور) پھر (عوام سے) کہہ دیتے ہیں کہ یہ (حکم) خدا کی طرف سے (یوں ہی آیا ہے اور غرض (صرف) یہ ہوتی ہے کہ اس ذریعہ سے کچھ نقد قدرے قلیل وصول کرلیں سو بڑی خرابی (پیش) آوے گی ان کی اس (تحریف کتاب) کی بدولت (بھی) جس کو ان کے ہاتھوں نے لکھا تھا اور بڑی خرابی ہوگی ان کو اس (نقد) کی بدولت بھی جس کو وہ وصول کرلیا کرتے تھے، فائدہعوام کی رضا جوئی کے لئے غلط سلط مسئلے دینے سے ان کو کچھ نقد وغیرہ بھی وصول ہوجاتا تھا اور ان کی نظر میں وقعت اور وقار بھی رہتا تھا اسی غرض سے تورات میں لفظی اور معنوی پھیر پھار بھی کرتے رہتے تھے اس آیت میں اسی پر وعید سنائی گئی ،
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہم کو ہرگز نہ آگ نہ لگے کی مگر چند روز گنے چنے کہہ دو کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار کہ اب ہرگز خلاف نہ کرے گا اللہ اپنے قرار کے یا جوڑتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے۔

خلاصہ تفسیر اور یہودیوں نے (یہ بھی) کہا کہ ہرگز ہم کو آتش (دوزخ) چھوئے گی (بھی تو) نہیں (ہاں) مگر (بہت) تھوڑے روز جو (انگلیوں پر) شمار کرلئے جاسکیں (اے محمد ﷺ آپ ان سے یوں فرما دیجئے کیا تم لوگوں نے حق تعالیٰ سے (اس کے متعلق) کوئی معاہدہ لے لیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے معاہدہ کے خلاف نہ کریں گے یا (معاہدہ نہیں لیا) بلکہ ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگا رہے ہو جس کی کوئی علمی سند اپنے پاس نہیں رکھتے، فائدہیہود کے اس قول کی مفسرین نے مختلف تقریریں کی ہیں منجملہ اس کے یہ کہ یہ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گو بقدر گناہ دوزخ کے عذاب میں داخل ہو لیکن ایمان کی وجہ سے دائمی عذاب جہنم نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجائے گی، پس یہود کے دعوے کا حاصل یہ تھا کہ چونکہ ان بزعم دین موسوی منسوخ نہیں ہے لہذا وہ مومن ہیں انکار نبوت حضرت عیسیٰ ؑ وجناب حضور مقبول ﷺ سے کافر نہیں ہوئے پس اگر کسی عصیان کے سبب دوزخ میں چلے بھی گئے پھر نکال لئے جائیں گے اور چونکہ یہ دعویٰ بناء الفاسد علی الفاسد ہے کیونکہ دین موسوی کی ابدیت کا دعویٰ خود غلط ہے لہذا انکار نبوت مسیحیہ ومحمدیہ کے سبب وہ لوگ کافر ہوں گے اور کفار کے لئے بعد چندے دوزخ سے نجات پاجانا کسی بھی آسمانی کتاب میں نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے عہد سے تعبیر فرمایا پس ثابت ہوا کہ دعویٰ بلادلیل بلکہ خلاف دلیل ہے،
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک وہی جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

خلاصہ تفسیر خلود فی النار کا ضابطہ (بجز چند روز کے تم کو آتش دوزخ) کیوں نہیں (لگے گی بلکہ ابد الآباد تک اس میں رہنا ضرور ہے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ کہ) جو شخص قصد ابری باتیں کرتا رہے اور اس کو اس کی خطا (و قصور اس طرح) احاطہ کرلے (کہ کہیں نیکی کا اثر تک نہ رہے) سو ایسے لوگ اہل دوزخ ہوتے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے اور جو لوگ (اللہ و رسول پر) ایمان لاویں اور نیک کام کریں ایسے لوگ اہل بہشت ہوتے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ فائدہخطاؤں کے احاطہ کے جو معنی اور ذکر کئے گئے ہیں اس قسم کا احاطہ اس معنی کے ساتھ کفار کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کفر کی وجہ سے کوئی بھی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا بلکہ کفر کے قبل اگر کچھ نیک اعمال کئے بھی ہوں تو وہ بھی ضائع اور ضبط ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے کفار میں سر تا پا بدی ہی بدی ہوگی جس کی جزا ابدی جہنم ہوگی بخلاف اہل ایمان کے کہ اول تو ان کا ایمان خود بہت بڑا عمل صالح ہے دوسرے اعمال فرعیہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوتے ہیں اس لئے وہ نیکی کے اثر سے خالی نہیں پس احاطہ مذکور ان کی حالت پر صادق نہیں آتا، خلاصہ یہ ہوا کہ جب اس ضابطہ کی رو سے کافر کا ابدی جہنمی ہونا ثابت ہوگیا تو چونکہ حضرت موسیٰ ؑ خاتم الانبیاء نہیں ہیں آپ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی نبی ہیں تو یہود ان کا انکار کرکے کافروں میں شامل ہوگئے اس لئے اس ضابطہ کی رو سے وہ بھی خالد فی النار ہوں گے تو ان کا دعویٰ مذکور دلیل قطعی سے باطل ٹھرا،
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے لیا قرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت نہ کرنا مگر اللہ کی اور ماں باپ سے سلوک نیک کرنا اور کنبہ والوں سے اور یتیموں اور محتاجوں سے اور کہیو سب لوگوں سے نیک بات اور قائم رکھیو نماز اور دیتے رہیو زکوٰة پھر تم پھرگئے مگر تھوڑے سے تم میں اور تم ہی ہو پھرنے والے۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب لیا ہم نے (تورات میں) قول وقرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت مت کرنا (کسی کی) بجز اللہ کے اور ماں باپ کی اچھی طرح خدمت گذاری کرنا اور اہل قرابت کی بھی اور بےباپ کے بچوں کی بھی اور غریب محتاجوں کی بھی اور عام لوگوں سے (جب کوئی) بات کہنا ہو تو اچھی طرح (خوش خلقی سے) کہنا اور پابندی رکھنا نماز کی اور ادا کرتے رہنا زکوٰۃ پھر تم (قول وقرار کرکے) اس سے پھرگئے بجز معدودے چند کے اور تمہاری تو معمولی عادت ہے اقرار کر کے ہٹ جانا، فائدہیہ معدودے چند وہ لوگ ہیں جو تورات کے پورے پابند رہے تورات کے منسوخ ہونے سے قبل شریعت موسویہ کے پابند رہے جب تورات منسوخ ہوگئی تو شریعت محمدیہ کے متبع ہوگئے، مسئلہاس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ احکام اسلام اور سابقہ شریعتوں میں مشترک ہیں جن میں توحید، والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کی خدمت اور تمام انسانوں کے ساتھ گفتگو میں نرمی وخوش خلقی کرنا اور نماز اور زکوٰۃ سب داخل ہیں، تعلیم و تبلیغ میں سخت کلامی کافر سے بھی درست نہیں وَقُوْلُوْا للنَّاسِ سے مراد قولاً فاحسن ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب لوگوں سے خطاب کرے تو بات نرم کرے خوش روئی اور کشادہ دلی سے کرے چاہے مخاطب نیک ہو یا بد سنی ہو یا بدعتی، ہاں دین کے معاملہ میں مداہنت اور اس کی خاطر سے حق پوشی نہ کرے وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جب موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا تو یہ ہدایت نامہ دیا کہ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا (44: 20) تو آج جو کلام کرنے والا ہے وہ حضرت موسیٰ ؑ سے افضل نہیں اور مخاطب کتنا ہی برا ہو فرعون سے زیادہ برا خبیث نہیں، طلحہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے امام تفسیر و حدیث عطاء سے کہا کہ پاس فاسد عقیدے والے لوگ بھی جمع رہتے ہیں مگر میرے مزاج میں تیزی ہے میرے پاس ایسے لوگ آتے ہیں تو میں ان کو سخت باتیں کہہ دیتا ہوں حضرت عطاء نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو کیونکہ حق تعالیٰ کا حکم ہے کہ وَقُوْلُوْا للنَّاسِ ، اس میں تو یہودی و نصرانی بھی داخل ہیں مسلمان خواہ کیسا ہی ہو وہ کیوں نہ داخل ہوگا (قرطبی)
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب لیا ہم نے وعدہ تمہارا کہ نہ کرو گے خون آپس میں اور نہ نکال دو گے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے اقرار کرلیا اور تم مانتے ہو۔

خلاصہ تفسیر اوپر جو عہد میثاق لیا گیا تھا اس آیت میں اس کا تتمہ بیان کیا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تم کو یہ قول وقرار (بھی) لیا کہ (خانہ جنگی کرکے) باہم خونریزی مت کرنا اور ایک دوسرے کو ترک وطن مت کرانا پھر (ہمارے اس اقرار لینے پر) تم نے اقرار بھی کرلیا اور اقرار بھی (ضمنًا نہیں بلکہ) ایسا جیسے تم (اس پر) شہادت (بھی) دیتے ہو، فائدہبعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی تقریر سے کسی امر کا اقرار مترشح ہوتا ہے گو صاف اقرار نہیں ہوتا مگر عرفا اور عقلا اس کو اقرار ہی سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں تو ثُمَّ اَقْــرَرْتُمْ سے اس شبہ کو بھی رفع کردیا اور بتادیا کہ یہ اقرار اتنا صریح اور واضح تھا جیسے شہادت صاف اور واضح ہوا کرتی ہے ترک وطن کرانے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آزار پہنچا کر اتنا تنگ مت کرنا کہ بیچارہ ترک وطن پر مجبور ہوجائے،
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہ لوگ ہو کہ ویسے ہی خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے اور اگر وہی آویں تمہارے پاس کسی کے قید ہو کر تو ان کا بدلہ دیکر چھڑاتے ہو، حالانکہ حرام ہے تم پر ان کا نکال دینا بھی تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو، سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن پہنچائے جاویں سخت سے سخت عذاب میں، اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے

خلاصہ تفسیر تتمہ میثاق میں جو حکم ان کو دیا گیا ہے اس کے متعلق عہد شکنی کا بیان اس آیت میں فرمایا ہے پھر (اس اقرار صریح کے بعد) تم (جیسے ہو) یہ (آنکھوں کے سامنے) موجود (ہی) ہو کہ باہم قتل و قتال بھی کرتے ہو اور ایک دوسرے کو ترک وطن بھی کراتے ہو، (اس طور پر کہ) ان اپنوں کے مقابلہ میں (ان کی مخالف قوموں کی) امداد کرتے ہو، گناہ اور ظلم کے ساتھ (سو ان دونوں حکموں کو تو یوں غارت کیا) اور (ایک تیسرا حکم جو سہل سا سمجھا اس پر عمل کرنے کو خوب تیار رہتے ہو کہ) اگر ان لوگوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر تم تک پہنچ جاتا تو ایسوں کو کچھ خرچ کرا کر رہا کرا دیتے ہو حالانکہ یہ بات (بھی معلوم) ہے کہ تم کو ان کا ترک وطن کرا دینا (اور قتل تو اور بھی بدرجہ اولیٰ) نیز ممنوع ہے، معارف و مسائل فائدہاس باب میں ان پر تین حکم لازم تھے اول قتل نہ کرنا، دوم اخراج یعنی ترک وطن نہ کرانا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو قید وبند میں گرفتار دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا تو ان لوگوں نے اول کے دو حکم کو تو چھوڑ دیا اور تیسرے حکم کو اہتمام کرنے لگے اور صورت اس کی یہ ہوئی تھی کہ اہل مدینہ میں دو قومیں تھیںاوس و خزرج، اور ان میں باہم عداوت رہتی تھی اور کبھی کبھی قتال کی نوبت بھی آجاتی تھی اور مدینہ کے گرد ونواح میں یہودیوں کی دو قومیں بنی قریظہ اور بنی نضیر آباد تھیں اوس وبنی قریظہ کی باہم دوستی تھی اور خزرج و بنی نضیر میں باہم یارانہ تھا جب اوس و خزرج میں باہم لڑائی ہوتی تو دوستی کی بنا پر بنو قریظہ تو اوس کے مددگار ہوتے اور بنو نضیر خزرج کی طرفداری کرتے تو جہاں اوس و خزرج مارے جاتے اور خانماں آوارہ ہوتے ان کے دوستوں اور حامیوں کو بھی یہ مصیبت پیش آتی اور ظاہر ہے کہ بنو قریظہ کے قتل واخراج میں بنو نضیر کا بھی ہاتھ ہوتا اور ایسا ہی بالعکس البتہ یہود کی دونوں جماعتوں میں سے اگر کوئی جنگ میں قید ہوجاتا تو ہر جماعت اپنے دوستوں کو مال پر راضی کرکے اس قیدی کو رہائی دلا دیتے اور کوئی پوچھتا کہ ایسا کیوں کرتے ہو تو اس کو جواب دیتے کہ اسیر کر رہا کرا دینا ہم پر واجب ہے اور اگر کوئی قتل و قتال میں معین و مددگار بننے پر اعتراض کرتا تو کہتے کہ کیا کریں دوستوں کا ساتھ نہ دینے سے عار آتی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی شکایت فرمائی ہے اور ان کی حیلہ سازیوں کا پردہ چاک فرمایا ہے ، اس آیت میں جن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر ہے اس سے اوس و خزرج مراد ہیں کہ اوس بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے، اثم وعدوان (ظلم وگناہ) دو لفظ لانے سے اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حکم الہی کی تعمیل نہ کرکے حق ضائع کیا اور دوسرے کو آزار پہنچا کر حق العباد بھی ضائع کردیا، آگے اس عہد شکنی پر ملامت و شکایت کے ساتھ ساتھ سزا کو بھی بالتصریح بیان فرمایا ہے ارشاد ہے، کیا تو (بس یوں کہو کہ) کتاب (تورات) کے بعض (احکام) پر تم ایمان رکھتے ہو اور بعض (احکام) پر ایمان نہیں رکھتے تو اور کیا سزا ہونا (چاہئے) ایسے شخص کی جو تم لوگوں میں سے ایسی حرکت کرے بجز رسوائی کے دنیوی زندگانی میں اور روز قیامت کو بڑے سخت عذاب میں ڈال دیئے جاویں گے اور اللہ تعالیٰ (کچھ) بیخبر نہیں ہیں تمہارے اعمال (زشت) سے، فائدہہرچند کہ وہ یہودی جن کا قصہ میں ذکر ہے نبی کریم ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے کی بناء پر کافر ہی تھے مگر یہاں ان کا کفر مذکور نہیں بلکہ بعض احکام پر عمل نہ کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ہے حالانکہ جب تک حرام کو حرام سمجھے کافر نہیں ہوتا سو اس شبہ کو جواب یہ ہے کہ جو گناہ بہت شدید ہوتا ہے اس پر محاورات شرعیہ میں اس کی شدت کے پیش نظر کفر کا اطلاق کردیا جاتا ہے ہم اپنے محاورات عرفیہ میں اس کی مثالیں دن رات دیکھتے ہیں جیسے کسی ذلیل حرکت کرنے والے کو کہہ دیتے ہیں تو باکل چمار ہے، حالانکہ مخاطب چمار یقیناً نہیں ہے اس سے مقصود شدت نفرت اور اس کام کی قباحت ظاہر کرنا ہوتا ہے اور یہی معنی ہیں اس حدیث من ترک الصلوم متعمدا فقد کفر وغیرہ، اس مقام پر جن دو سزاؤں کا ذکر ہے ان میں سے پہلی سزا یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی تو اس کا وقوع اس طرح ہوا کہ حضور ﷺ ہی کے زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے سبب بنی قریظہ قتل وقید کئے گئے اور بنی نضیر ملک شام کی طرف بہزار ذلت و خواری نکال دئیے گئے،
Ayah 2:86

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا ہوگا ان پر عذاب اور نہ ان کی مدد پہنچے گی۔

خلاصہ تفسیر (اور وجہ سزا ان کے لئے یہ ہے کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے (احکام کی مخالفت کرکے) دنیاوی زندگانی (کے مزوں) کو لے لیا ہے بعوض (نجات) آخرت کے (جس کا ذریعہ اطاعت ہے) سو نہ تو (سزا دینے والے کی طرف سے) ان کی سزا میں (کچھ) تخفیف دی جاوے گی اور نہ کوئی (وکیل مختار یا دوست رشتہ دار) ان کی طرفداری (پیروی) کرنے پاوے گا،
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور بیشک دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول اور دئیے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح پاک سے پھر بھلا کیا جب تمہارے پاس لایا کوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا تمہارے جی کو تو تم تکبر کرنے لگے، پھر ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو تم نے قتل کردیا۔

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (اے بنی اسرائیل تمہاری ہدایت کے لئے ہمیشہ سے بڑے بڑے سامان کئے سب سے اول) موسیٰ ؑ کو کتاب (توراۃ) دی اور (پھر) ان کے بعد (درمیان میں) یکے بعد دیگرے (برابر مختلف) پیغمبروں کو بھیجتے رہے اور (پھر اس خاندان کے سلسلہ کے اخیر میں) ہم نے (حضرت) عیسیٰ بن مریم کو (نبوت کے) واضح دلائل (انجیل اور معجزات) عطا فرمائے اور ہم نے ان کو روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) سے جو تائید دی (سو الگ جو بجائے خود ایک دلیل واضح تھی تو) کیا (تعجب کی بات نہیں کہ اس پر بھی تم سرکشی کرتے رہے اور) جب کبھی بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسے احکام لائے جن کو تمہارا دل نہ چاہتا تھا (جب ہی) تم نے (ان پیغمبروں کی اطاعت سے) تکبر کرنا شروع کردیا سو (ان پیغمبروں میں سے) بعضوں کو تو (نعوذباللہ) تم نے جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو (بیدھڑک) قتل ہی کر ڈالتے تھے، فائدہقرآن و حدیث میں جابجا حضرت جبرئیل ؑ کو روح القدس کہا گیا ہے جیسے قرآن کی اس آیت میں نیز قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ (102: 16) میں اور حدیث میں حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر وجبریل رسول اللہ فینا، وروح القدس لیس لہ کفاء اور جبریل ؑ کے واسطے سے عیسیٰ ؑ کئی طریقوں سے تائید ہوئی اول تو ولادت کے وقت مس شیطان سے حفاظت کی گئی پھر ان کے دم کرنے سے حمل عیسوی قرار پایا پھر یہود چونکہ کثرت سے حضرت عیسیٰ ؑ کے مخالف تھے اس لئے جبرئیل ؑ حفاظت کے لئے ساتھ رہتے تھے حتٰی کے آخر میں ان کے ذریعہ سے آسمان پر اٹھوالئے گئے یہود نے بہت سے پیغمبروں کی تکذیب کی حتی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی بھی تکذیب کی اور حضرت زکریا و حضرت یحییٰ ٰ (علیہم السلام) کو قتل بھی کیا،
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہے بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو بہت کم ایمان لاتے ہیں۔

خلاصہ تفسیر اور وہ (یہودی طنزیہ طور پر) کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب (ایسے) محفوظ ہیں (کہ اس میں مخالف مذہب کا جو اسلام ہے اثر ہی نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محفوظی اور پختگی نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر کے سبب ان پر خدا کی مار ہے (کہ اسلام جو مذہب حق ہے اس سے نفور اور منسوخ مذہب پر مصر ہیں) سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں (اور تھوڑا ایمان مقبول نہیں پس وہ کافر ہی ٹھہرے) فائدہیہ تھوڑا سا ایمان ان امور کے بابت ہے جو ان کے مذہب اور اسلام میں مشترک ہیں مثلاً خدا کا قائل ہونا قیامت کا قائل ہونا کہ ان امور کے وہ بھی قائل تھے لیکن خود نبوت محمدیہ اور قرآن کے کلام الہی ہونے کے منکر تھے اس لئے پورا ایمان نہ تھا، اور اس تھوڑے ایمان کو باعتبار لغت ایمان کہا جس کے معنی یقین کے ہیں گو وہ بعض اشیاء کے ساتھ ہی متعلق ہو شرعاً اس کو ایمان نہیں کہتے شرعاً وہ ایمان معتبر ہے جو کل امور وارد فی الشرع کے یقین کے ساتھ ہو،
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب پہنچی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو انکے پاس ہے اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر، پھر جب پہنچا ان کو جس کو پہچان رکھا تھا تو اس سے منکر ہوگئے، سو لعنت ہے اللہ کی منکروں پر

خلاصہ تفسیر اور جب ان کو (ایک) ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن مجید) جو منجانب اللہ ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے (جو پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی توراۃ) حالانکہ اس کے قبل (خود) بیان کرتے تھے (اور) کفار سے (یعنی مشرکین عرب سے کہ ایک نبی آنے والے ہیں اور ایک کتاب لانے والے ہیں مگر) پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے سو (بس) خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر (کہ جان بوجھ کر محض تعصب کے سبب انکار کریں) فائدہقرآن کو جو مصدق توراۃ فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ توراۃ میں بعثت محمدیہ اور نزول قرآن کی جو پیشینگوئیاں تھیں ان سے ان کا صدق ظاہر ہوگیا سو توراۃ کا ماننے والا تو قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی تکذیب کر ہی نہیں سکتا ورنہ توراۃ کی تکذیب لازم آئے گی، ایک شبہ اور اس کا جواب اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جب وہ حق کو حق جانتے تھے تو پھر ان کو مومن کہنا چائیے کافر کیسے کہا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان صرف جاننے کا نام نہیں بلکہ ماننے کا نام ہے ورنہ یوں تو شیطان سب سے زیادہ حق کو حق جانتا ہے مگر جاننے کے باوجود انکار کرنے کی وجہ سے اور بھی کفر میں شدت بڑھ گئی اسی لئے اگلی آیت میں ان کے کفر کی وجہ ان کا عناد بتلایا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ،