2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:204–207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور بعضا آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر اور وہ سخت جھگڑالو ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو،

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرتا آمادہ کرے اس کو غرور گناہ سو کافی ہے اس کو دوزخ اور وہ بیشک برا ٹھکانا ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے کہ بیچتا ہے اپنی جان کو اللہ کی رضا جوئی میں، اور اللہ نہایت مہربان ہے اپنے بندوں پر۔

ربط آیات اوپر کی آیتوں میں دعا مانگنے والے آدمیوں کی دو قسمیں ٹھرائی تھیں ایک کافر کہ منکر آخرت ہے اس لئے صرف دنیا مانگتا ہے دوسرا مومن کہ معتقد آخرت ہے دنیا کی بھلائی کے ساتھ آخرت کی بھلائی بھی مانگتا ہے اب اگلی آیت میں اسی طرح کی تقسیم نفاق و اخلاص کے اعتبار سے فرماتے ہیں کہ بعض منافق ہوتے ہیں اور بعض مخلصین۔ خلاصہ تفسیر (کوئی شخص تھا اخنس بن شریق بڑا فصیح وبلیغ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں آکر قسمیں کھا کھا کر دعویٰ اسلام کیا کرتا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت و ایذا رسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں فرماتے ہیں) اور بعضا آدمی ایسا بھی ہے کہ آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیوی غرض سے ہوتی ہے (کہ اظہار اسلام سے مسلمانوں کی طرح قرب وخصوصیت کے ساتھ رہوں گا اس کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے) مزہ دار معلوم ہوتی ہے اور وہ (اپنا اعتبار بڑھانے کو) اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہے اپنے دل کی سچائی پر حالانکہ (بالکل جھوٹا ہے کیونکہ واقع میں) وہ (آپکی) مخالفت میں (نہایت) شدید ہے اور (جس طرح آپ کا مخالف ہے اسی طرح اور مسلمانوں کو بھی ایذا پہنچاتا ہے چنانچہ) جب (آپ کی مجلس سے) پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھرتا رہتا ہے کہ شہر میں (کوئی) فساد کردے اور (کسی کی) کھیت اور مواشی کو تلف کردے (چنانچہ ایک مسلمان کا اس طرح نقصان کردیا) اور اللہ تعالیٰ فساد (کی باتوں) کو پسند نہیں فرماتے اور (اس مخالفت و ایذاء کے ساتھ مغرور اس درجہ ہے کہ) جب اس سے کوئی کہتا ہے خدا سے ڈر تو (اور زیادہ) آمادہ کردیتا ہے اس کو غرور گناہ پر سو ایسے شخص کی کافی سزا جہنم اور وہ برا ٹھکانا ہے اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے بدلہ میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں۔ معارف و مسائل آیت کا آخری حصہ جس میں مومن کا یہ حال بیان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کی بھی بازی لگا دیتا ہے یہ ان مخلص صحابہ کرام ؓ اجمعین کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بےمثال قربانیاں اللہ کی راہ میں پیش کی ہیں، مستدرک حاکم ابن جریر، مسند ابن ابی حاتم وغیرہ میں بسند صحیح منقول ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب رومی کے اس واقعہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو راستہ میں کفار قریش کی ایک جماعت نے راستہ روک لیا یہ دیکھ کر حضرت صہیب رومی اپنی سواری سے اتر کر کھڑے ہوگئے اور ان کے ترکش میں جتنے تیر تھے سب نکال لئے اور قریش کی اس جماعت سے خطاب کیا کہ اے قبیلہ قریش تم سب جانتے ہو کہ میں تیر اندازی میں تم سب سے زیادہ ماہر ہوں میرا تیر کبھی خطا نہیں کرتا اور اب میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ تم میرے پاس اس وقت تک نہیں پہنچ سکو گے جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی باقی ہے اور تیروں کے بعد میں تلوار سے کام لوں گا جب تک مجھ میں دم رہے گا پھر جو تم چاہو کرلینا اور اگر تم نفع کا سودا چاہتے ہو تو میں تمہیں اپنے مال کا پتہ دیتا ہوں جو مکہ میں رکھا ہے تم وہ مال لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو اس پر قریش کی جماعت راضی ہوگئی اور حضرت صہیب رومی نے صحیح سالم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر واقعہ سنایا تو رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا۔ ربح البیع ابا یحییٰ ربح البیع ابا یحییٰ تمہارا بیوپار نفع بخش رہا تمہاری بیع نفع بخش رہی، اسی واقعہ میں آیت مذکورہ کے نزول نے اس کلام کی تصدیق کردی جو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلا تھا۔ اور بعض حضرات مفسرین نے کچھ دوسرے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے ایسے ہی واقعات کو آیت کا شان نزول بتلایا ہے (مظہری)
Ayahs 2:208–210

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والو داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے اور مت چلو قدموں پر شیطان کے بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے،

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم چلنے لگو بعد اس کے کہ پہنچ چکے تم کو صاف حکم تو جان رکھو کہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا،

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا وہ اسی کی راہ دیکھتے ہیں کہ آوے ان پر اللہ ابر کے سائبانوں میں اور فرشتے اور طے ہوجاوے قصہ اور اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے سب کام۔

ربط آیات اوپر مخلص کی مدح تھی بعض اوقات اس اخلاص میں غلطی سے غلو اور افراط ہوجاتا ہے یعنی قصد تو ہوتا ہے زیادہ اطاعت کا مگر وہ اطاعت بنظر غائر حد شریعت وسنت سے متجاوز ہوتی ہے اس کو بدعت کہتے ہیں، چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ جو پہلے علماء یہود سے تھے اور اس مذہب میں ہفتہ کا روز معظم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا ان صاحبوں کو بعد اسلام کے یہ خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتہ کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدی میں اس کی بےتعظیمی واجب نہیں اسی طرح شریعت موسویہ میں اونٹ کا گوشت کھانا حرام تھا اور شریعت محمدی میں اس کا کھانا فرض نہیں سو اگر ہم بدستور ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت باوجود حلال اعتقاد رکھنے کے صرف عملاً ترک کردیں تو شریعت موسویہ کی بھی رعایت ہوجاوے اور شریعت محمدیہ کے بھی خلاف نہ ہوگا اور اس میں خدا تعالیٰ کی زیادہ اطاعت اور دین کی زیادہ رعایت معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس خیال کی اصلاح آیت آئندہ میں کسی قدر اہتمام سے فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کامل فرض ہے اور اس کا کامل ہونا جب ہے کہ جو امر اسلام میں قابل رعایت نہ ہو اس کی رعایت دین ہونے کی حیثیت سے نہ کی جاوے اور ایسے امر کو دین سمجھنا ایک شیطانی لغزش ہے اور بہ نسبت ظاہری معاصی کے اس کا عذاب زیادہ سخت ہونے کا خطرہ ہے۔ خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو (یہ نہیں کہ کچھ یہودیت کی بھی رعایت کرو) اور ایسے خیالات میں پڑکر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو واقعی وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (کہ ایسے پٹی پڑھا دیتا ہے کہ ظاہر میں تو سراسر دین معلوم ہو اور فی الحقیقت بالکل دین کے خلاف) پھر اگر تم بعد اس کے کہ تم کو واضح دلیلیں (احکام وشرائع اسلام کی) پہنچ چکی ہیں (پھر بھی صراط مستقیم سے) لغزش کرنے لگو تو یقین رکھو کہ حق تعالیٰ (بڑے) زبردست ہیں (سخت سزا دیں گے اور کچھ دنوں تک سزا نہ دیں تو اس سے دھوکہ مت کھانا کیونکہ وہ) یہ لوگ (جو کہ بعد وضوح دلائل حق کے کج راہی اختیار کرتے ہیں) صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ حق تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس (سزا دینے کے لئے) آویں اور سارا قصہ ہی ختم ہوجاوے (یعنی کیا اس وقت امر حق قبول کریں گے جس وقت کا قبول کرنا مقبول بھی نہ ہوگا) اور یہ سارے (جزاء وسزا کے) مقدمات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کئے جاویں گے (کوئی دوسرا صاحب اختیار نہ ہوگا سو ایسے زبردست کے ساتھ مخالفت کرنے کا انجام بجز خرابی کے کیا ہوسکتا ہے) معارف و مسائل اُدْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً سلم بالکسر والفتح دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک صلح دوسرے اسلام اس جگہ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اسلام مراد ہے (ابن کثیر) لفظ کافۃ جمیعا اور عامۃ کے معنی میں آتا ہے یہ لفظ اس جگہ ترکیب میں حال واقع ہوا ہے جس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ ضمیر ادخلوا کا حال قرار دیا جائے دوسرے یہ کہ سلم بمعنی اسلام کا حال ہو پہلی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ تم پورے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ یعنی تمہارے ہاتھ پاؤں، آنکھ کان، دل اور دماغ سب کا سب دائرہ اسلام و اطاعت الہہ کے اندر داخل ہونا چاہئے ایسا نہ کہ ہاتھ پاؤں سے تو احکام اسلامیہ بجا لارہے ہو مگر دل و دماغ اس پر مطمئن نہیں یا دل دماغ سے تو اس پر مطمئن ہو مگر ہاتھ پاؤں اور اعضاء وجوارح کا عمل اس سے باہر ہے۔ اور دوسری صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ تم داخل ہوجاؤ مکمل اور پورے اسلام میں یعنی ایسا نہ ہو کہ اسلام کے بعض احکام کو تو قبول کرو بعض میں پس وپیش رہے اور چونکہ اسلام نام ہے اس مکمل نظام حیات کا جو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے خواہ اس کا تعلق عقائد و عبادات سے ہو یا معاملات ومعاشرت سے حکومت وسیاست سے اس کا تعلق ہو یا تجارت وصنعت وغیرہ سے اسلام کا جو مکمل نظام حیات ہی تم سب اس پورے نظام میں داخل ہوجاؤ۔ خلاصہ دونوں صورتوں کا قریب قریب یہی ہے کہ احکام اسلام خواہ وہ کسی شعبہ زندگی سے متعلق ہوں اور اعضاء ظاہری سے متعلق ہوں یا قلب اور باطن سے ان کا تعلق ہو جب تک ان تمام احکام کو سچے دل سے قبول نہ کرو گے مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ہوگے، اس آیت کا شان نزول جو اوپر ہوا ہے اس کا بھی حاصل یہی ہے کہ صرف اسلام ہی کی تعلیمات تمہارا مطمح نظر ہونا چاہئے اس کو پورا پورا اختیار کرلو تو وہ تمہیں سارے مذاہب وملل سے بےنیاز کردے گا، تنبیہاس میں ان لوگوں کے لئے بڑی تنبیہ ہے جہنوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادات کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جزء ہی نہیں سمجھتے اصطلاحی دینداروں میں یہ غفلت عام ہے حقوق و معاملات اور خصوصا حقوق معاشرت سے بالکل بیگانہ ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کو وہ اسلام کے احکام ہی یقین نہیں کرتے نہ ان کے معلوم کرنے یا سیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں نہ ان پر عمل کرنے کا نعوذ باللہ کم ازکم مختصر رسالہ آداب معاشرت حضرت سیدی حکیم الامت کا ہر مسلمان مرد و عورت کو ضرور پڑھ لینا چاہئے، اور یہ واقعہ کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آجائیں قیامت میں پیش آئے گا اور اللہ تعالیٰ کا اس طرح آنا متشابہات میں سے ہے جس کے متعلق جمہور صحابہ وتابعین اور اسلاف امت کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے مضمون کے حق و صحیح ہونے کا اعتقاد و یقین رکھے اور کیفیت کہ کس طرح یہ کام ہوگا اس کی دریافت کی فکر میں نہ پڑے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اور تمام صفات کی حقیقت اور کیفیت کا معلوم کرنا انسان کی عقل سے بالاتر ہے یہ بھی اسی میں داخل ہے۔
Ayahs 2:211–212

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

پوچھ بنی اسرائیل سے کس قدر عنایت کیں ہم نے انکو نشانیاں کھلی ہوئی، اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت بعد اس کے کہ پہنچ چکی ہو وہ نعمت اس کو تو اللہ کا عذاب سخت ہے،

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

فریضہ کیا ہے کافروں کو دنیا کی زندگی پر اور ہنستے ہیں ایمان والوں سے اور جو پرہیزگار ہیں وہ ان کافروں سے بالا تر ہوں گے قیامت کے دن اور اللہ روزی دیتا ہے جسکو چاہے بیشمار

ربط آیات اوپر فرمایا تھا کہ بعد دلائل واضحہ آجانے کے حق کی مخالفت کرنا موجب سزا پہلی آیت میں اس کی دلیل بیان فرماتے ہیں کہ جیسے بنی اسرائیل کو ایسی ہی مخالفت پر سزادی گئی خلاصہ تفسیر آپ (علماء) بنی اسرائیل سے (ذرا) پوچھئے (تو سہی) ہم نے ان کو (یعنی ان کے بزرگوں کو) کتنی واضح دلیلیں دی تھیں (مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرتے اور الٹی گمراہی پر کمر باندھی پھر دیکھو سزائیں بھی بھگتیں مثلا توراۃ ملی، چاہئے تو یہ تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر کوہ طور گرانے کی ان کو دھمکی دی گئی اور مثلا حق تعالیٰ کا کلام سنا چاہئے تھا سر آنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے آخر بجلی سے ہلاک ہوئے اور مثلا دریا میں شگاف کرکے فرعون سے نجات دی گئی احسان مانتے مگر گوسالہ پرستی شروع کی جس پر سزائے قتل دی گئی اور مثلا من وسلویٰ نازل ہوا شکر کرنا چاہئے تھا نافرمانی کی وہ سڑنے لگا اور اس سے نفرت ظاہر کی تو وہ موقوف ہوگیا، اور کھیتی کی مصیبت سر پر پڑی اور مثلا انبیاء (علیہم السلام) کا سلسلہ ان میں جاری رہا غنیمت سمجھتے ان کو قتل کرنا شروع کردیا جس پر یہ سزا دی گئی کہ ان سے حکومت و سلطنت چھین لی گئی وعلیٰ ھذاٰ بہت سے معاملات اسی سورة بقرہ کے شروع میں بھی مذکور ہوچکے ہیں) اور (ہمارا قانون ہی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی (ایسی بڑی) نعمت (دلائل واضحہ) کو بدلتا ہے اس کے پاس پہنچنے کے بعد (یعنی بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرے اور الٹا گمراہ بنتا ہے) تو یقینا حق تعالیٰ (ایسے شخص کو) سخت سزا دیتے ہیں۔ (دوسری آیت میں مخالفت حق کی اصلی علت اکثر یہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ دنیا کی محبت ہے جس کے آثار میں سے اہل دین کو حقیر سمجھنا بھی ہے کیونکہ جب دنیا کا غلبہ ہوتا ہے دین کی طلب نہیں رہتی بلکہ دین کو اپنی دنیوی اغراض کے خلاف دیکھ کر ترک کر بیٹھتا ہے اور دوسرے طالبان دین پر ہنستا ہے چناچہ بعض رؤ سائے بنی اسرائیل اور جہلائے مشرکین غریب مسلمانوں کے ساتھ باستہزا پیش آیا کرتے تھے ان لوگوں کا بیان فرماتے ہیں) کہ دنیوی معاش کفار کو آراستہ پیراستہ معلوم ہوتی ہے اور (اسی وجہ سے) ان مسلمانوں سے تمسخر کرتے ہیں حالانکہ یہ (مسلمان) جو کفر و شرک سے بچتے ہیں ان کافروں سے اعلیٰ درجہ (کی حالت) میں ہوں گے قیامت کے روز (کیونکہ کفار جہنم میں ہوں گے اور مسلمان جنت میں) اور (آدمی کو محض معاشی وسعت پر مغرور نہ ہونا چاہئے کیونکہ) روزی تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بےانداز (یعنی بکثرت) دیدیتے ہیں (پس اس کا مدار قسمت پر ہے نہ کہ کمال اور مقبولیت پر سو یہ ضرور نہیں کہ جو روزی میں بڑا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی معزز ہو اور بڑی عزت وہی ہے جو اللہ کے نزدیک معتبر ہو پھر محض اس کے اوپر اپنے کو معزز اور دوسرے کو ذلیل سمجھنا بیوقوفی ہے) معارف و مسائل دنیا کے مال و دولت اور عزت وجاہ پر مغرور ہونے اور غریب لوگوں کا استہزاء کرنے کی حقیقت قیامت کے روز آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مومن مرد یا عورت کو اس کے فقر وفاقہ کی وجہ سے ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو اولین وآخرین کے مجمع میں رسوا اور ذلیل کریں گے اور جو شخص کسی مسلمان مرد یا عورت پر بہتان باندھتا ہے اور کوئی ایسا عیب اس کی طرف منسوب کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو آگ کے ایک اونچے ٹیلہ پر کھڑا کریں گے جب تک کہ وہ خود اپنی تکذیب نہ کرے، (ذکرالحدیث القرطبی)
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

تھے سب لوگ ایک دین پر پھر بھیجے اللہ نے پیغمبر خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے اور اتاری ان کے ساتھ کتاب سچی کہ فیصلہ کرے لوگوں میں جس بات میں وہ جھگڑا کریں، اور نہیں جھگڑا ڈالا کتاب میں مگر انہی لوگوں نے جن کو کتاب ملی تھی اس کے بعد کہ انکو پہنچ چکے صاف حکم آپس کی ضد سے پھر اب ہدایت کی اللہ نے ایمان والوں کو اس سچی بات کی جس میں وہ جھگڑا کررہے تھے اپنے حکم سے اور اللہ بتلاتا ہے جس کو چاہے سیدھا راستہ

ربط آیات اوپر دین حق سے اختلاف کرنے کی علت حب دنیا کو بتایا ہے آگے اسی مضمون کی تائید فرماتے ہیں کہ مدت سے یہی قصہ چلا آرہا ہے کہ ہم دلائل واضحہ دین حق پر قائم کرتے ہیں اور طالبان دنیا اپنی دنیوی اغراض کے سبب اس سے خلاف کرتے رہے۔ خلاصہ تفسیر (ایک زمانہ میں) سب آدمی ایک ہی طریق پر تھے (کیونکہ اول دنیا میں حضرت آدم ؑ مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گذر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہونا شروع ہوا حتی ٰکہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی) پھر (اس اختلاف کے رفع کرنے کو) اللہ تعالیٰ نے (مختلف) پیغمبروں کو بھیجا جو کہ (حق ماننے والوں کو) خوشی (کے وعدے) سناتے تھے اور (نہ ماننے والوں کو عذاب سے) ڈراتے تھے اور ان (پیغمبروں کی مجموعی جماعت) کے ساتھ (آسمانی) کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں (اور ان پیغمبروں کا بھیجنا اور کتابوں کا نازل فرمانا) اس غرض سے (تھا) کہ اللہ تعالیٰ (ان رسل وکتب کے ذریعہ سے اختلاف کرنے والے) لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ (مذہبی) میں فیصلہ فرمادیں (کیونکہ رسل وکتب امر واقعی کا اظہار کردیتے ہیں اور امر واقعی کے متعین ہونے سے ظاہر ہے کہ غیر واقعی کا غلط ہوجانا معلوم ہوجاتا ہے اور یہی فیصلہ ہے اور ان پیغمبروں کے ساتھ کتاب اللہ آنے سے چاہئے تھا کہ اس کتاب کو قبول کرتے اور اس پر مدار کار رکھ کر اپنے سب اختلافات مٹا دیتے مگر بعضوں نے خود اس کتاب ہی کو نہ مانا اور خود اسی میں اختلاف کرنا شروع کردیا) اور اس کتاب میں (یہ) اختلاف اور کسی نے نہیں کیا مگر صرف ان لوگوں نے جن کو (اولا) وہ کتاب ملی تھی (یعنی اہل علم واہل فہم نے کہ اول مخاطب وہی لوگ ہوتے ہیں دوسرے عوام ان کے ساتھ لگ لیا کرتے ہیں اور اختلاف بھی کیسے وقت کیا) بعد اس کے کہ ان کے پاس دلائل واضحہ پہنچ چکے تھے (یعنی ان کے ذہن نشین ہوچکے تھے اور اختلاف کیا کس وجہ سے صرف) باہمی ضدا ضدی کی وجہ سے (اور اصلی وجہ ضدا ضدی کی حب دنیا ہوتی ہے حب مال ہو یا حب جاہ پس مدار علت مخالفت حق کا وہی حب دنیا ٹھری اور یہی مضمون تھا سابق میں) پھر (یہ اختلاف کفار کا کبھی اہل ایمان کو مضر نہیں ہوا بلکہ) اللہ تعالیٰ نے (ہمیشہ) ایمان والوں کو وہ امر حق جس میں (مختلفین) اختلاف کیا کرتے تھے بفضلہ تعالیٰ (رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانے کی بدولت) بتلا دیا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اسی کو راہ راست بتلا دیتے ہیں۔ معارف و مسائل اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی زمانہ میں تمام انسان ایک ہی مذہب وملت اور عقیدہ و خیال پر تھے جو ملت اور دین فطرت تھی پھر ان میں مزاج و مذاق اور رائے وفکر کے اختلاف سے بہت سے مختلف خیالات و عقائد پیدا ہوگئے جن میں یہ امتیاز کرنا دشوار تھا کہ ان میں حق کونسا ہے اور باطل کونسا حق کو واضح کرنے اور صحیح راہ حق بتلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے اور ان پر کتابیں اور وحی نازل فرمائی انبیاء (علیہم السلام) کی جدوجہد اور تبلیغ و اصلاح کے بعد انسان دو گروہوں میں منقسم ہوگئے ایک وہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایات کو قبول کیا اور انبیاء (علیہم السلام) کے متبع ہوگئے جن کو مومن کہا جاتا ہے دوسرے وہ جنہوں نے آسمانی ہدایات اور انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا ان کی بات نہ مانی یہ لوگ کافر کہلاتے ہیں اس آیت کے پہلے جملہ میں ارشاد ہے وَمَا كَان النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ لفظ امۃ عربی لغت کے اعتبار سے ہر ایسی جماعت کو کہا جاتا ہے جس میں کسی وجہ سے رابطہ و اتحاد اور وحدت قائم ہو خواہ یہ وحدت نظریات و عقائد کی ہو یا ایک زمانہ میں یا کسی ایک خطہ ملک میں جمع ہونے کے یا کسی دوسرے علاقہ یعنی نسب، زبان، رنگ وغیرہ کی، مفہوم اس جملہ کا یہ ہے کہ کسی زمانہ میں تمام انسان باہم متفق ومتحد ایک جماعت تھے اس میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ اس جگہ وحدت سے کس قسم کی وحدت مراد ہے دوسرے یہ کہ وحدت کس زمانہ میں تھی امر اول کا فیصلہ تو اسی آیت کے آخری جملہ نے کردیا جس میں اس وحدت کے بعد اختلاف واقع ہونے کا اور مختلف راہوں میں حق متعین کرنے کے لئے انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابیں بھیجی ہے کیونکہ یہ اختلاف جس میں فیصلہ کرنے کے لئے انبیاء ؑ اور آسمانی کتابیں بھیجی گئی ہیں ظاہر ہے کہ وہ نسب یا زبان یا رنگ یا وطن اور زمانہ کا اختلاف نہ تھا بلکہ نظریات اور عقائد و خیالات کا اختلاف تھا اسی کے مقابلہ سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں وحدت سے بھی وحدت فکر و خیال اور وحدت عقیدہ ومسلک مراد ہے۔ تو اب مفہوم آیت کا یہ ہوگیا کہ ایک زمانہ ایسا تھا جب کہ تمام افراد انسانی صرف ایک ہی عقیدہ و خیال اور ایک ہی مذہب ومسلک رکھتے تھے وہ عقیدہ ومسلک کیا تھا اس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ سب عقیدہ توحید و ایمان پر متفق تھے دوسرے یہ کہ سب کفر وضلال پر متحد تھے مگر جمہور مفسرین کے نزدیک راجح یہ ہے کہ مراد عقائد صحیحہ توحید و ایمان پر سب کا متحد ہونا سورة یونس میں بھی اسی مضمون کی ایک آیت آئی ہے، وَمَا كَان النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْ آ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَھُمْ فِيْمَا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (19: 10) یعنی سب آدمی ایک ہی امت تھے پھر آپس میں اختلاف پڑگیا اور اگر اللہ تعالیٰ کا یہ ازلی فیصلہ نہ ہوتا (کہ اس عالم دنیا میں حق و باطل کھرا کھوٹا سچ اور جھوٹ ملے جلے چلیں گے تو قدرت الہیہ ان سب جھگڑوں کا ایسا فیصلہ کردیتی کہ حق سے اختلاف کرنے والوں کا نام ہی نہ رہتا۔ اور سورة انبیاء میں فرمایا اِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ (92: 21) یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں اس لئے سب میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اسی طرح سورة مؤ منون میں فرمایا وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ (52: 23) یعنی یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں اس لئے مجھ سے ہی ڈرتے رہو، ان تمام آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ وحدت سے عقیدہ ومسلک کی وحدت اور دین حق توحید ایمان میں سب کا متحد ہونا مراد ہے، اب یہ دیکھنا ہے کہ دین حق اسلام و ایمان پر تمام انسانوں کا اتفاق و اتحاد کسی زمانہ کا واقعہ ہے یہ وحدت کہاں تک قائم رہی ؟ مفسرین صحابہ کرام ؓ اجمعین میں سے حضرت ابی بن کعب اور ابن زید نے فرمایا کہ یہ واقعہ عالم ازل کا ہے جب تمام انسانوں کی ارواح کو پیدا کرکے ان سے سوال کیا گیا تھا الست بربکم یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں اور سب نے بلا استثناء یہ جواب دیا تھا کہ بیشک آپ ہمارے رب اور پروردگار ہیں اس وقت تمام افراد انسانی ایک ہی عقیدہ حق پر قائم تھے جس کا نام ایمان واسلام ہے (قرطبی) اور حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ یہ وحدت عقیدہ کا اس وقت کا ہے جب کہ آدم ؑ مع اپنی زوجہ محترمہ کے دنیا میں تشریف لائے اور آپ کی اولاد ہوئی اور پھیلتی گئی وہ سب کے سب حضرت آدم ؑ کے دین اور انہی کی تعلیم و تلقین کے تابع توحید کے قائل تھے اور سب کے سب باستثناء قابیل وغیرہ متبع شریعت و فرمانبردار تھے، مسند بزار میں حضرت ابن عباس کے اس قول کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے کہ وحدت عقیدہ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت ادریس ؑ تک قائم رہی اس وقت تک سب کے سب مسلم اور توحید کے معتقد تھے اور آدم ؑ اور ادریس ؑ کے درمیان زمانہ دس قرن ہے بظاہر قرن سے ایک صدی مراد ہے تو کل زمانہ ایک ہزار سال کا ہوگیا، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ وحدت عقیدہ کا زمانہ وہ ہے جب کہ نوح ؑ کی بدعاء سے دنیا میں طوفان آیا اور بجز ان لوگوں کے جو نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے باقی ساری دنیا غرق ہوگئی تھی طوفان ختم ہونے کے بعد جتنے آدمی اس دنیا میں رہے وہ سب مسلمان موحد اور دین حق کے پیرو تھے۔ اور درحقیقت ان تینوں اقوال میں کوئی اختلاف نہیں یہ تینوں زمانے ایسے ہی تھے جن میں سارے انسان ملت واحدہ اور امت واحدہ بنے ہوئے دین حق پر قائم تھے، آیت کے دوسرے جملہ میں ارشاد ہے، فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جو خوشی سناتے تھے اور ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ میں فیصلہ فرمادیں، یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ اوپر کے جملہ میں تمام انسانوں کا امت واحدہ اور ملت واحدہ ہونا بیان کیا تھا اور اس جملہ میں اسی پر تفریع کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ ہم نے انبیاء اور کتابیں بھیجی تاکہ اختلاف کا فیصلہ کیا جائے ان دونوں جملوں میں بظاہر جوڑ نہیں معلوم ہوتا کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اور کتابوں کے بھیجنے کی علت لوگوں کا اختلاف ہے اور اختلاف اس وقت تھا نہیں مگر جواب بالکل واضح ہے کہ مراد آیت مذکورہ کہ یہ ہے کہ ابتداء عالم میں تمام انسان ایک ہی عقیدہ حق کے قائل اور پابند تھے پھر رفتہ رفتہ اختلافات پیدا ہوگئے اختلافات پیدا ہونے کے بعد انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں بھیجنے کی ضرورت پیش آئی۔ اب ایک بات رہ جاتی ہے کہ اوپر صرف امت واحدہ ہونے کا ذکر کیا گیا اختلاف پیدا ہونے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا، جو لوگ قرآن کریم کے اسلوب حکیم پر کچھ نظر رکھتے ہیں ان کے لئے اس کا جواب مشکل نہیں کہ قرآن کریم احوال ماضیہ کے بیان میں قصہ کہانی یا تاریخ کی کتابوں کے سارے قصہ کو کہیں نقل نہیں کرتا بلکہ درمیان سے وہ حصہ حذف کردیتا ہے جو اس سیاق کلام سے خود بخود سمجھا جاسکے جیسے حضرت یوسف ؑ کے قصہ میں جو قیدی رہا ہو کر آیا اور خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے یوسف ؑ کے پاس بھیج دو تو قرآن میں اس قیدی کی تجویز نقل کرکے بعد بات یہاں سے شروع ہوتی ہے يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ اس کا ذکر نہیں کیا کہ بادشاہ نے اس کی تجویز کو پسند کیا اور اس کو جیل خانہ میں حضرت یوسف ؑ کے پاس بھیجا وہ وہاں پہنچ کر ان سے مخاطب ہوا کیونکہ پچھلے اور اگلے جملوں کے ملانے سے یہ ساری باتیں خود بخود سمجھ میں آجاتی ہیں، اسی طرح اس آیت میں وحدت ملت کے بعد اختلاف واقع ہونے کا تدکزہ اس لئے ضروری نہیں سمجھا گیا کہ اختلافات کا وقوع تو ساری دنیا جانتی ہے ہر وقت مشاہدہ میں آتا ہے ضرورت اس امر کے اظہار کی تھی کہ ان اختلافات کثیرہ سے پہلے ایک زمانہ ایسا بھی گذر چکا ہے جس میں سارے انسان ایک ہی مذہب وملت اور ایک ہی دین حق کے پیرو تھے اس کو بیان فرمایا پھر جو اختلاف دنیا میں پھیلے ہوئے اور سب مشاہدہ میں آرہے ہیں ان کے وقوع کا بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی، ہاں یہ بتلایا گیا کہ ان اختلافات میں راہ حق کی ہدایت اور رہنمائی کا سامان حق تعالیٰ نے کیا فرمایا اس کے متعلق ارشاد ہوا فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ یعنی حق تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجا جو دین حق کا اتباع کرنے والوں کو دائمی آرام و راحت کی خوش خبری اور اس سے اعراض کرنے والوں کو عذاب جہنم کی وعید سنادیں اور ان کے ساتھ اپنی وحی اور کتابیں بھیجی جو مختلف عقائد و خیالات میں سے صحیح اور حق کو واضح کرکے بتلادیں اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) ورسل اور آسمانی کتابوں کے کھلے ہوئے فیصلوں کے بعد بھی یہ دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی کچھ لوگوں نے ان ہدایات واضحہ کو قبول نہ کیا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ قبول نہ کرنے والے اول وہی لوگ ہوئے جن کے پاس یہ انبیاء (علیہم السلام) اور آیات الہیہ بھیجی گئی تھیں یعنی اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں کوئی اشتباہ یا التباس کی گنجائش نہ تھی کہ ان کی سمجھ میں نہ آئے یا غلط فہمی کا شکار ہوجائیں بلکہ حقیقت یہ تھی کہ جاننے بوجھنے کے باوجود ان لوگوں نے محض ضد اور ہٹ دھرمی سے انکار کیا۔ اور دوسرا گروہ وہ ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت پر لگادیا اور جس نے انبیاء ورسل اور آسمانی کتابوں کے فیصلے ٹھنڈے دل سے تسلیم کئے انھیں دونوں گروہوں کا بیان قرآن کریم نے سورة تغابن میں اس طرح فرمایا ہے، خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ (2: 64) یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا پھر تم میں سے کچھ کافر ومنکر ہوگئے کچھ مومن ومسلم۔ خلاصہ مضمون آیت کان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً کا یہ ہے کہ پہلے دنیا کے سب انسان دین حق پر قائم تھے پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہونا شروع ہوا ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی یہاں تک کہ حق و باطل میں التباس ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور اپنی کتابیں راہ حق کی ہدایت کرنے کے لئے اور اسی دین حق پر دوبارہ قائم ہوجانے کے لئے بھیجی جس پر سب انسان پہلے قائم تھے لیکن ان سب ہدایات واضحہ اور آیات بینات کے ہوتے ہوئے کچھ لوگوں نے مانا اور کچھ لوگوں نے ضد اور عناد سے انکار و انحراف کی راہ اختیار کرلی۔ مسائل مسئلہاس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت سے انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں دنیا میں بھیجیں یہ سب اس واسطے تھیں کہ یہ لوگ جو دین حق کی ملت واحدہ کو چھوڑ کر مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں پھر ان کو اسی ملت واحدہ پر قائم کردیں انبیاء (علیہم السلام) کا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا کہ جب لوگ اس راہ حق سے بچلے تو ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی بھیجا اور کتاب اتاری کہ اس کے موافق چلیں پھر کبھی بہکے تو دوسرا نبی اور کتاب اللہ تعالیٰ نے اسی راہ حق پر قائم کرنے کے لئے بھیج دیا اس کی مثال ایسی ہے جیسے تندرستی ایک ہے اور بیماریاں بیشمار جب ایک مرض پیدا ہوا تو اس کے موافق دوا اور پرہیز مقرر فرمایا جب دوسرا مرض پیدا ہوا تو دوسری دوا اور پرہیز اس کے موافق بتلایا اب آخر میں ایسا جامع نسخہ تجویز فرمایا جو ساری بیماریوں سے بچانے میں اس وقت تک کے لئے کامیاب ثابت ہو جب تک اس عالم کو باقی رکھنا منظور ہو یہ مکمل اور جامع نسخہ ایک جامع اصول علاج سب پچھلے نسخوں کے قائم مقام اور آئندہ سے بےنیاز کرنے والا ہو اور وہ نسخہ جامع اسلام ہے جس کے لئے خاتم الانبیاء ﷺ اور قرآن بھیجے گئے اور پچھلی کتابوں میں تحریف ہو کر جو پچھلے انبیاء کی تعلیمات ضائع اور گم ہوجانے کا سلسلہ اوپر سے چلا آیا تھا جس کے سبب نئے نبی اور نئی کتاب کی ضرورت پیش آتی تھی اس کا یہ انتظام فرما دیا گیا کہ قرآن کریم کے تحریف سے محفوظ رہنے کا ذمہ خود حق تعالیٰ نے لے لیا اور قرآن کریم کی تعلیمات کو قیامت تک ان کی اصلی صورت میں قائم اور باقی رکھنے کے لئے اللہ جل شانہ نے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں تاقیامت ایک ایسی جماعت قائم رکھنے کا وعدہ فرما لیا جو ہمیشہ دین حق پر قائم رہ کر کتاب وسنت کی صحیح تعلیم مسلمانوں میں شائع کرتی رہے گی کسی کی مخالفت و عداوت ان پر اثر انداز نہ ہوگی اس لئے اس کے بعد دروازہ نبوت اور وحی کا بند ہوجانا ناگزیر امر تھا آخر ختم نبوت کا اعلان کردیا گیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی مختلف کتابیں آنے سے کوئی اس دھوکہ میں نہ پڑجائے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں لوگوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کرنے اور افتراق پیدا کرنے کے لئے نازل کی گئی ہیں بلکہ منشاء ان سب انبیاء (علیہم السلام) اور کتابوں کا یہ ہے کہ جس طرح پہلے سارے انسان ایک ہی دین حق کے پیرو ہو کر ملت واحدہ تھے اسی طرح پھر اسی دین حق پر سب جمع ہوجائیں۔ مسئلہدوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مذہب کی بناء پر قومیت کی تقسیم مسلم وغیرمسلم کا دو قومی نظریہ عین منشاء قرآنی کے مطابق ہے آیت فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ (2: 64) اس پر شاہد ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوگیا کہ اسلام میں اس دو قومی نظرئیے کی اصل بنیاد درحقیقت صحیح متحدہ قومیت پیدا کرنے پر ہے جو ابتداء آفرینش میں قائم تھی جس کی بنیاد وطنیت پر نہ تھی بلکہ عقیدہ حق اور دین حق کی پیروی پر تھی ارشاد قرآنی کان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً نے بتلایا کہ ابتداء عالم میں اعتقاد صحیح اور دین حق کی پیروی کے اعتبار سے ایک صحیح اور حقیقی وحدت قومی قائم تھی بعد میں لوگوں نے اختلافات پیدا کئے انبیاء نے لوگوں کو اسی اصلی وحدت کی طرف بلایا جنہوں نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا وہ اس متحدہ قومیت سے کٹ گئے اور جداگانہ قوم قرار دئیے گئے۔ مسئلہتیسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ ازل سے سنت اللہ یہی جاری ہے کہ برے لوگ ہر نبی مبعوث کے خلاف اور ہر کتاب الہی سے اختلاف کو پسند کرتے رہے اور ان کے مقابلہ و مخالفت میں پورا زور خرچ کرنے کے لئے آمادہ رہے ہیں تو اب اہل ایمان کو ان کی بدسلوکی اور فساد سے تنگدل نہ ہونا چاہئے جس طرح کفار نے اپنے بڑوں کا طریقہ کفر وعناد اور انبیاء کی مخالفت کا اختیار کیا اسی طرح مؤمنین صالحین کو چاہئے کہ وہ اپنے بزرگوں کا یعنی انبیاء (علیہم السلام) کا وظیفہ اختیار کریں کہ ان لوگوں کی ایذاؤں اور مخالفتوں پر صبر کریں اور حکمت وموعظت اور نرمی کے ساتھ ان کو دین حق کی طرف بلاتے رہیں اور شاید اسی مناسبت سے اگلی آیت میں مسلمانوں کو مصائب وآفات پر تحمل اور صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم کو یہ خیال ہے کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ تم پر نہیں گزرے حالات ان لوگوں کے جیسے ہوچکے تم سے پہلے کہ پہنچی ان سختی اور تکلیف اور جھڑ جھڑائے گئے یہاں تک کہ کہنے لگے رسول اور جو اس کے سات ایمان لائے کب آوے گی اللہ کی مدد، سن رکھو اللہ کی مدد قریب ہے۔

ربط آیات اوپر کی آیت میں کفار کا ہمیشہ سے انبیاء ومؤ منین کے ساتھ اختلاف اور خلاف کرتے رہنا مذکور تھا جس میں ایک گونہ مسلمانوں کو اس طور پر تسلی دینا بھی مقصود تھا جن کو استہزاء کفار سے ایذاء ہوتی تھی کہ یہ خلاف تمہارے ساتھ نیا نہیں ہے ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے آگے ان کفار مخالفین سے انبیاء ومؤ منین کو انواع انواع کی ایذائیں اور شدائد پہنچنے کی حکایت بیان فرماتے ہیں اور اس سے بھی مسلمانوں کو تسلی دلاتے ہیں کہ تم کو بھی کفار سے جو ایذائیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ کامل راحت تو آخرت کی محنت ہی اٹھانے سے ہے۔ خلاصہ تفسیر (دوسری بات سنو) کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں (بےمشقت) جا داخل ہوگے حالانکہ (ابھی کچھ مشقت تو اٹھائی ہی نہیں کیونکہ) تم کو ہنوز ان (مسلمان) لوگوں کا سا عجیب واقعہ پیش نہیں آیا جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں ان پر (مخالفین کے سبب) ایسی ایسی تنگی اور سختی واقع ہوئی اور (مصائب سے) ان کو یہاں تک جنبشیں ہوئیں کہ (اس زمانہ کے) پیغمبر تک اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے (بےقرار ہوکر) بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کی امداد (موعود) کب ہوگی (جس پر ان کو جواب سے تسلی کی گئی کہ) یاد رکھو بیشک اللہ تعالیٰ کی امداد (بہت) نزدیک (ہونے والی) ہے۔ معارف و مسائل اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بغیر مشقت و محنت کے اور بغیر مصائب وآفات میں مبتلا ہوئے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا حالانکہ ارشادات قرآنی اور ارشادات نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ بہت سے گنہگار محض اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم اور مغفرت سے جنت میں داخل ہوں گے ان پر کوئی مشقت بھی نہ ہوگی وجہ یہ ہے کہ مشقت و محنت کے درجات مختلف ہیں ادنی ٰدرجہ نفس و شیطان سے مزاحمت کرکے یا دین حق کے مخالفین کے ساتھ مخالفت کرکے اپنے عقائد کا درست کرنا ہے اور یہ ہر مومن کو حاصل ہے آگے اوسط اور اعلیٰ درجات ہیں جس درجہ کی محنت ومشقت ہوگی اسی درجہ کا دخول جنت ہوگا اس طرح محنت ومشقت سے خالی کوئی نہ رہا ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثلسب سے زیادہ سخت بلائیں اور مصیبتیں انبیاء (علیہم السلام) کو پہنچتی ہیں ان کے بعد جو ان کے قریب تر ہیں۔ دوسری بات یہاں قابل نظر یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے ساتھیوں کا یہ عرض کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کب آئے گی کسی شک وشبہ کی وجہ سے نہ تھا جو ان کی شان کے خلاف ہے بلکہ اس سوال کا منشاء یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ مدد کا وعدہ فرمایا ہے مگر اس کا وقت اور مقام متعین نہیں فرمایا اس لئے حالت اضطرار میں ایسے الفاظ عرض کرنے کا مطلب یہ تھا کہ مدد جلد بھیجی جائے اور ایسی دعاء کرنا توکل یا منصب نبوت کے منافی نہیں بلکہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کی الحاح وزاری کو پسند فرماتے ہیں اس لئے انبیاء اور صلحاء امت اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں کہہ دو کہ جو کچھ تم خرچ کرو مال سو ماں باپ کے لئے اور قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافروں کے اور جو کچھ کرو گے تم کو بھلائی سو وہ بیشک اللہ کو خوب معلوم ہے۔

خلاصہ تفسیر بارہواں حکم صدقہ کے مصارف لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (ثواب کے واسطے) کیا چیز خرچ کیا کریں (اور کس موقع پر صرف کیا کریں) آپ فرما دیجئے کہ جو مال تم کو صرف کرنا ہو سو (اس کی تعیین تو تمہاری ہمت پر ہے مگر ہاں موقع ہم بتلائے دیتے ہیں کہ) ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں اور بےباپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کرو گے (خواہ راہ خدا میں خرچ کرنا ہو یا اور کچھ ہو) سو اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے (وہ اس پر ثواب دیں گے) معارف و مسائل اس سے پہلی آیتوں میں مجموعی حیثیت سے یہ مضمون بہت تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ کفر ونفاق کو چھوڑو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ حکم الہیٰ کے مقابل میں کسی کی بات مت سنو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جان اور مال خرچ کیا کرو اور ہر طرح کی شدت اور تکلیف پر تحمل کرو اب یہاں سے اسی اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ کی راہ میں جان ومال خرچ کرنے کے متعلق کچھ جزئیات کی تفصیل بیان ہوتی ہے جو کہ مال اور جان اور دیگر معاملات مثل نکاح و طلاق وغیرہ کے متعلق ہیں اور اوپر سے جو سلسلہ احکام ابواب البر کا جاری ہے اس میں داخل ہیں اور ان جزئیات کا بیان بھی ایک خاص نوعیت رکھتا ہے کہ اکثر ان میں سے وہ ہیں جن کے متعلق صحابہ کرام ؓ اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا ان کے استفتاء اور سوالات کا جواب براہ راست عرش رحمٰن سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ دیا گیا اس کو اگر یوں سمجھا جائے کہ حق تعالیٰ نے خود فتویٰ دیا تو یہ بھی صحیح ہے اور قرآن کریم کی آیت قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ (127: 4) میں صراحۃ حق تعالیٰ نے فتویٰ دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس لئے اس نسبت میں کوئی استبعاد بھی نہیں۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ فتاوٰی رسول اللہ ﷺ کے ہیں جو آپ کو بذریعہ وحی تلقین کئے گئے ہیں بہرحال اس رکوع میں جو احکام شرعیہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے چند سوالات کے جواب میں بیان ہوئے ہیں وہ ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں پورے قرآن میں اس طرح سوال و جواب کے انداز سے خاص احکام تقریباً سترہ جگہ میں آئے ہیں جن میں سے سات تو اسی جگہ سورة بقرہ میں ہیں ایک سورة مائدہ میں ایک سورة انفال میں، یہ نو سوالات تو صحابہ کرام کی طرف سے ہیں سورة اعراف میں دو اور سورة بنی اسرائیل، سورة کہف، سورة طٰہ، سورة نازعات میں ایک ایک، یہ کل چھ سوال کفار کی طرف سے ہیں جن کا جواب قرآن میں جواب کے عنوان سے دیا گیا ہے۔ مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی جماعت محمد ﷺ کے صحابہ کرام سے بہتر نہیں دیکھی کہ دین کے ساتھ انتہائی شغف اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انتہائی محبت وتعلق کے باوجود انہوں نے سوالات بہت کم کئے کل تیرہ مسائل میں سوال کیا ہے جن کا جواب قرآن میں دیا گیا ہے کیونکہ یہ حضرات بےضرورت سوال نہ کرتے تھے (قرطبی) متذکرہ بالا آیات میں سے پہلی آیت میں صحابہ کرام ؓ اجمعین کا استفتاء یعنی سوال ان الفاظ سے نقل فرمایا گیا ہے يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ یعنی لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں یہی سوال اس رکوع میں تین آیتوں کے بعد پھر انہی الفاظ کے ساتھ دہرایا گیا وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ لیکن اس ایک ہی سوال کا جواب آیت متذکرہ میں کچھ اور دیا گیا ہے اور تین آیتوں کے بعد آنے والے سوال کا جواب اور ہے۔ اس لئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک ہی سوال کے دو مختلف جواب کس حکمت پر مبنی ہیں یہ حکمت ان حالات و واقعات میں غور کرنے سے واضح ہوجاتی ہے جن میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں مثلا آیت متذکرہ کا شان نزول یہ ہے کہ عمرو بن جموح نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ ما ننفق من اموالنا واین نضعھا۔ (اخرجہ ابن المنذر مظہری) یعنی ہم اپنے اموال میں سے کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں اور ابن جریر کی روایت کے موافق یہ سوال تنہا عمرو ابن جموح کا نہیں تھا بلکہ عام مسلمانوں کا سوال تھا اس سوال کے دو جزو ہیں ایک یہ کہ مال میں سے کیا اور کتنا خرچ کریں دوسرے یہ کہ اس کا مصرف کیا ہو کن لوگوں کو دیں۔ اور دوسری آیت جو دو آیتوں کے بعد اسی سوال پر مشتمل ہے اس کا شان نزول بروایت ابن ابی حاتم یہ ہے کہ جب قرآن میں مسلمانوں کو اس کا حکم دیا گیا کہ اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں تو چند صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انفاق فی سبیل اللہ کا جو حکم ہمیں ملا ہے ہم اس کی وضاحت چاہتے ہیں کہ کیا مال اور کونسی چیز اللہ کی راہ میں خرچ کیا کریں اس سوال میں صرف ایک ہی جزء ہے یعنی کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں کا سوال تھا اور دوسرے میں صرف کیا خرچ کریں کا سوال ہے اور پہلے سوال کے جواب میں جو کچھ قرآن میں ارشاد فرمایا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال کے دوسرے جزء کو یعنی کہاں خرچ کریں زیادہ اہمیت دے کر اس کا جواب تو صریح طور پر دیا گیا اور پہلے جزء یعنی کیا خرچ کریں کا جواب ضمنی طور پر دے دینا کافی سمجھا گیا اب الفاظ قرآنی میں دونوں اجزاء پر نظر فرمائیں، پہلے جز یعنی کہاں خرچ کریں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے، قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ یعنی جو کچھ بھی تم کو اللہ کے لئے خرچ کرنا ہو اس کے مستحق ماں باپ اور رشتہ دار اور بےباپ کے بچے اور مساکین اور مسافر ہیں۔ اور دوسرے جزء یعنی کیا خرچ کریں کا جواب ضمنی طور پر ان الفاظ سے دیا گیا وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ یعنی تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے، اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر کوئی تحدید اور پابندی نہیں کہ مال کی اتنی ہی مقدار صرف کرو بلکہ جو کچھ بھی اپنی استطاعت کے موافق خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا اجر وثواب پاؤ گے۔ الغرض پہلی آیت میں شاید سوال کرنے والوں کے پیش نظر زیادہ اہمیت اسی سوال کی ہو کہ ہم جو مال خرچ کریں اس کا مصرف کیا ہو کہاں خرچ کریں، اسی لئے اس کے جواب میں اہمیت کے ساتھ مصارف بیان فرمائے گئے، اور کیا خرچ کریں اس سوال کا جواب ضمنی طور پر دے دینا کافی سمجھا گیا، اور بعد والی آیت میں سوال صرف اتنا ہی تھا کہ ہم کیا چیز اور کیا مال خرچ کریں اس لئے اس کا جواب ارشاد ہوا قُلِ الْعَفْوَ یعنی آپ فرمادیں کہ جو کچھ بچے اپنی ضرورت سے وہ خرچ کیا کریں ان دونوں آیتوں سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کے متعلق چند ہدایات و مسائل معلوم ہوئے۔ مسئلہاول یہ کہ دونوں آیتیں زکوٰۃ فرض کے متعلق نہیں کیونکہ زکوۃٰ فرض کے لئے تو نصاب مال بھی مقرر ہے اور اس میں جتنی مقدار خرچ کرنا فرض ہے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ پوری طرح متعین ومقرر فرمادی گئی ہے ان دونوں آیتوں میں نہ کسی نصاب مال کی قید ہے نہ خرچ کرنے کی مقدار بتلائی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں آیتیں صدقات نافلہ کے متعلق ہیں اس سے یہ شبہ بھی رفع ہوگیا کہ پہلی آیت میں خرچ کا مصرف والدین کو بھی قرار دیا گیا ہے حالانکہ ماں باپ کو زکوٰۃ دینا آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق جائز نہیں کیونکہ ان آیتوں کا تعلق فریضہ زکوٰۃ سے ہے ہی نہیں۔ مسئلہدوسری ہدایت اس آیت سے یہ حاصل ہوئی کہ ماں باپ اور دوسرے اعزاء و اقرباء کو جو کچھ بطور ہدیہ دیا یا کھلایا جاتا ہے اگر اس میں بھی اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لانے کی نیت ہو تو وہ بھی موجب اجر وثواب اور انفاق فی سبیل اللہ میں داخل ہے۔ مسئلہتیسری ہدایت یہ حاصل ہوئی کہ نفلی صدقات میں اس کی رعایت ضروری ہے کہ جو مال اپنی ضروریات سے زائد ہو وہی خرچ کیا جائے اپنے اہل و عیال کو تنگی میں ڈال کر اور ان کے حقوق کو تلف کرکے خرچ کرنا ثواب نہیں اسی طرح جس کے ذمہ کسی کا قرض ہے قرض خواہ کو ادا نہ کرے اور نفلی صدقات و خیرات میں اڑائے یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں پھر ضرورت سے زائد مال کے خرچ کرنے کا جو ارشاد اس آیت میں ہے اس کو حضرت ابوذر غفاری اور بعض دوسرے حضرات نے حکم وجوبی قرار دیا کہ اپنی ضروریات سے زائد جو کچھ ہے سب کا صدقہ کردینا واجب ہے مگر جمہور صحابہ کرام وتابعین اور ائمہ دین اس پر ہیں کہ ارشاد قرآنی کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو وہ ضروریات سے زائد ہونا چاہئے یہ نہیں کہ ضرورت سے زائد جو کچھ ہو اس کو صدقہ کردینا ضروری یا واجب ہے صحابہ کرام کے تعامل سے یہی ثابت ہوتا ہے۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

فرض ہوئی تم پو لڑائی اور وہ بری لگتی ہے تم کو اور شاید کہ بری لگے تم کو ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری تمہارے حق میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

خلاصہ تفسیر تیرہواں حکم فرضیت جہاد جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو (طبعا) گراں (معلوم ہوتا) ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی بات کو گراں سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں خیر (اور مصلحت) ہو اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی کا ہو اور (ہر شے کی حقیقت حال کو) اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم (پورا پورا) نہیں جانتے (اچھے برے کا فیصلہ اپنی خواہش کی بنیاد نہ کرو جو کچھ اللہ کا حکم ہوجائے اسی کو اجمالا مصلحت سمجھ کر اس پر کار بند رہا کرو) چودہواں حکم تحقیق قتال در شہر حرام (حضور ﷺ کے چند صحابہ کرام ؓ اجمعین کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوا رجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ کرام اس کو جمادی الاخریٰ کی تیس سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم میں سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کا بھی خیال نہیں کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور حضور ﷺ سے پوچھا اور بعض روایات میں ہے کہ خود بعض کفار قریش نے بھی حاضر ہو کر اعتراضا سوال کیا اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے)۔ لوگ آپ سے شہر حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اس میں خاص طور) یعنی عمدا) قتال کرنا جرم عظیم ہے (مگر مسلمانوں سے یہ فعل بالقصد صادر نہیں ہوا بلکہ تاریخ کی تحقیق نہ ہونے کے سبب غلطی سے ایسا ہوگیا یہ تو تحقیقی جواب ہے) اور (الزامی جواب یہ ہے کہ کفار و مشرکین کا تو کسی طرح منہ ہی نہیں مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا، کیونکہ اگرچہ شہر حرام میں لڑنا جرم عظیم لیکن ان کفار کی جو حرکتیں ہیں یعنی) اللہ تعالیٰ کی راہ (دین) سے (لوگوں کو) روک ٹوک کرنا (یعنی مسلمان ہونے پر تکلیفیں پہنچانا کہ ڈر کے مارے لوگ مسلمان نہ ہوں) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے ساتھ کفر کرنا (کہ وہاں بہت سے بت رکھ چھوڑے تھے اور بجائے خدا کی عبادت کے ان کی عبادت اور طواف کرتے تھے) اور جو لوگ مسجد حرام کے اہل تھے (یعنی رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مؤ منین) ان کو (تنگ اور پریشان کرکے) اس (مسجد حرام) سے خارج (ہونے پر مجبور) کردینا (جس سے نوبت ہجرت یعنی ترک وطن کی پہنچی سو یہ حرکتیں شہر حرام میں قتال کرنے سے بھی زیادہ) جرم عظیم ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک (کیونکہ یہ حرکتیں دین حق کے اندر فتنہ پردازی کرنا) اور (ایسی) فتنہ پردازی کرنا (اس) قتل (خاص) سے (جو مسلمانوں سے صادر ہوا) بدرجہا (قباحت میں) بڑھ کر ہے (کیونکہ اس قتل سے دین حق کو تو کوئی مضرت نہیں پہنچی بہت سے بہت اگر کوئی جان کر کرے خود ہی گنہگار ہوگا اور ان حرکتوں سے تو دین حق کو ضرر پہنچتا ہے کہ اس کی ترقی رکتی ہے) اور یہ کفار تمہارے ساتھ ہمیشہ جنگ (وجدال کا سلسلہ جاری ہی) رکھیں گے اس غرض سے کہ اگر (خدا نہ کرے) قابو پاویں تو تم کو تمہارے دین (اسلام) سے پھیر دیں (ان کے اس فعل سے دین کی مزاحمت ظاہر ہے) انجام ارتداد اور جو شخص تم میں سے اپنے دین (اسلام) سے پھر جاوے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مرجاوے تو ایسے لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں (اور) یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ شہر حرام میں قتال کرنے کے بارے میں مسلمانوں کو جواب مذکور سن کر گناہ نہ ہونے کا تو اطمینان ہوگیا تھا مگر اس خیال سے دل شکستہ تھے کہ ثواب تو ہوا ہی نہ ہوگا آگے اس میں تسلی کی گئی۔ وعدہ ثواب پر اخلاص نیت حقیقۃ جو لوگ ایمان لائے ہوں اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا ہو اور جہاد کیا ہو ایسے لوگ تو رحمت خداوندی کے امیدوار ہوا کرتے ہیں (اور تم لوگوں میں یہ صفات علی سبیل منع الخلو موجود ہیں، چناچہ ایمان اور ہجرت تو ظاہر ہے رہا اس جہاد خاص میں شبہ ہوسکتا ہے، سو چونکہ تمہاری نیت تو جہاد ہی کی تھی لہذا ہمارے نزدیک وہ بھی جہاد ہی میں شمار ہے پھر ان صفات کے ہوتے ہوئے تم کیوں ناامید ہوتے ہو) اور اللہ تعالیٰ (اس غلطی کو) معاف کردیں گے (اور ایمان و جہاد و ہجرت کی وجہ سے تم پر) رحمت کریں گے۔ معارف و مسائل بعض احکام جہاد مسئلہمذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں جہاد کے فرض ہونے کا حکم ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَال یعنی تم پر جہاد فرض کیا گیا ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاد ہر مسلمان پر ہر حالت میں فرض ہے، بعض آیات قرآنی اور رسول کریم ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریضہ فرض عین کے طور پر ہر ہر مسلم پر عائد نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس فرض کو ادا کردے تو باقی مسلمان سبکدوش سمجھے جائیں گے ہاں کسی زمانہ یا کسی ملک میں کوئی جماعت بھی فریضہ جہاد ادا کرنے والی نہ رہے تو سب مسلمان ترک فرض کے گنہگار ہوجائیں گے، حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد الجہاد ماض الیٰ یوم القیامۃ کا یہ مطلب ہے کہ قیامت تک ایسی جماعت کا موجود رہنا ضروری ہے جو فریضہ جہاد ادا کرتی رہے قرآن مجید کی دوسری آیت میں ارشاد ہے فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَةً ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰي (95: 4) یعنی اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو تارکین جہاد پر فضیلت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے دونوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے، اس میں ایسے لوگوں سے جو کسی عذر کے سبب یا کسی دوسری دینی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوں ان سے بھی بھلائی کا وعدہ مذکور ہے ظاہر ہے کہ اگر جہاد ہر فرد مسلم پر فرض عین ہوتا تو اس کے چھوڑنے والوں سے وعدہ حسنیٰ یعنی بھلائی کا وعدہ ہونے کی صورت نہ تھی۔ اسی طرح ایک دوسری آیت میں ہے فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ (122: 9) اور کیوں نہ نکل کھڑی ہوئی تمہاری ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت اس کام کے لئے کہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں۔ اس میں خود قرآن کریم نے یہ تقسیم عمل پیش فرمائی کہ کچھ مسلمان جہاد کا کام کریں اور کچھ تعلیم دین میں مشغول رہیں اور یہ جبھی ہوسکتا ہے جبکہ جہاد فرض عین نہ ہو بلکہ فرض کفایہ ہو۔ نیز صحیح بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے شرکت جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جاؤ ماں باپ کی خدمت کرکے جہاد کا ثواب حاصل کرو اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ جہاد فرض کفایہ ہے جب مسلمانوں کی ایک جماعت فریضہ جہاد کو قائم کئے ہوئے ہو تو باقی مسلمان دوسری خدمتوں اور کاموں میں لگ سکتے ہیں ہاں اگر کسی وقت امام المسلمین ضرورت سمجھ کر نفیر عام کا حکم دے اور سب مسلمانوں کو شرکت جہاد کی دعوت دے تو پھر جہاد سب پر فرض عین ہوجاتا ہے قرآن کریم نے سورة توبہ میں ارشاد فرمایا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ (38: 9) اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم بوجھل بن جاتے ہو۔ اس آیت میں اسی نفیر عام کا حکم مذکور ہے اسی طرح اگر خدانخواستہ کسی وقت کفار کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہوں اور مدافعت کرنے والی جماعت ان کی مدافعت پر پوری طرح قادر اور کافی نہ ہو تو اس وقت بھی یہ فریضہ اس جماعت سے متعدی ہو کر پاس والے سب مسلمانوں پر عائد ہوجاتا ہے اور اگر وہ بھی عاجز ہوں تو ان کے پاس والے مسلمانوں پر، یہاں تک کہ پوری دنیا کے ہر ہر فرد مسلم پر ایسے وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے قرآن مجید کی مذکورہ بالا تمام آیات کے مطالعہ سے جمہور فقہا ومحدثین نے یہ حکم دیا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے۔ مسئلہاسی لئے جب تک جہاد فرض کفایہ ہو اولاد کو بغیر ماں باپ کی اجازت کے جہاد میں جانا جائز نہیں۔ مسئلہجس شخص کے ذمہ کسی کا قرض ہو اس کے لئے جب تک قرض ادا نہ کردے اس فرض کفایہ میں حصہ لینا درست نہیں ہاں اگر کسی وقت نفیر عام کے سبب یا کفار کے نرغہ کے باعث جہاد سب پر فرض عین ہوجائے تو اس وقت نہ والدین کی اجازت شرط ہے نہ شوہر کی اور نہ قرض خواہ کی اس آیت کے آخر میں جہاد کی ترغیب کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ جہاد اگرچہ طبعی طور پر تمہیں بھاری معلوم ہو لیکن خوب یاد رکھو کہ انسانی بصیرت ودانشمندی اور تدبیر و محنت عواقب و نتائج کے بارے میں بکثرت فیل ہوتی ہے کسی مفید کو مضر یا مضر کو مفید سمجھ لینا بڑے سے بڑے ہوشیار عقلمند سے بھی مستبعد نہیں ہر انسان اگر اپنی عمر میں پیش آنے والے وقائع پر نظر ڈالے تو اپنی ہی زندگی میں اس کو بہت سے واقعات ایسے نظر پڑیں گے کہ وہ کسی چیز کو نہایت مفید سمجھ کر حاصل کر رہے تھے اور انجام کار یہ معلوم ہوا کہ وہ انتہائی مضر تھی یا کسی چیز کو نہایت مضر سمجھ کر اس سے اجتناب کر رہے تھے، اور انجام کار یہ معلوم ہوا کہ وہ نہایت مفید تھی، انسانی عقل و تدبیر کی رسوائی اس معاملہ میں بکثرت مشاہدہ میں آتی رہتی ہے۔ خویش را دیدم و رسوائی خویش اس لئے فرمایا کہ جہاد و قتال میں اگرچہ بظاہر مال اور جان کا نقصان نظر آتا ہے لیکن جب حقائق سامنے آئیں گے تو کھلے گا کہ یہ نقصان ہرگز نقصان نہ تھا بلکہ سراسر نفع اور دائمی راحت کا سامان تھا۔