Ayah 2:233خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 30 رضاعت
اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلایا کریں (یہ مدت اس کے لئے ہے) جو شیر خوارگی کی تکمیل کرنا چاہئے اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان ماؤں کا کھانا کپڑا قاعدہ کے موافق اور کسی شخص کو کوئی حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق کسی ماں کو تکلیف نہیں پہونچانا چاہئے اس کے بچے کی وجہ سے اور نہ کسی کے باپ کو تکلیف دینی چاہئے اس کے بچہ کی وجہ سے اور (اگر باپ زندہ نہ ہو تو) مثل طریق مذکور کے (بچے کی پرورش کا انتظام) اس کے (محرم قرابت دار کے) ذمہ ہے جو (شرعا بچے کا) وارث (ہونے کا حق رکھتا) ہے پھر (یہ سمجھ لو کہ) اگر دونوں (ماں اور باپ دو سال سے کم میں) دودھ چھڑانا چاہیں باہمی رضامندی اور مشورے سے تو بھی ان دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اگر تو لوگ (ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی کسی مصلحت ضروریہ سے مثلا یہ کہ ماں کا دودھ اچھا نہیں بچے کو ضرر ہوگا) اپنے بچوں کو کسی اور انّا کا دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ ان کے حوالے کردو جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے قاعدہ کے موافق، اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں۔
معارف و مسائل
اس آیت میں رضاعت یعنی بچوں کو دودھ پلانے کے متعلق احکام ہیں اس سے پہلی اور بعد کی آیات میں طلاق کے احکام مذکور ہیں درمیان میں دودھ پلانے کے احکام اس مناسبت سے ذکر کئے گئے ہیں کہ عموماً طلاق کے بعد بچوں کی پرورش اور دودھ پلانے یا پلوانے کے معاملات زیر نزاع آجاتے ہیں اور ان میں جھگڑے فساد ہوتے ہیں اس لئے اس آیت میں ایسے معتدل احکام بیان فرمادئیے گئے جو عورت ومرد دونوں کے لئے سہل اور مناسب ہیں خواہ دودھ پلانے یا چھڑانے کے معاملات قیام نکاح کی حالت میں پیش آئیں یا طلاق دینے کے بعد بہر دو صورت اس کا ایک ایسا نظام بتادیا گیا جس سے جھگڑے فساد یا کسی فریق پر ظلم وتعدی کا راستہ نہ رہے۔
مثلا آیۃ کے پہلے جملے میں ارشاد فرمایاوَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ یعنی مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلایا کریں دو سال کامل جبکہ کوئی عذر قوی اس سے پہلے دودھ چھڑانے کے لئے مجبور نہ کرے اس آیت سے رضاعت کے چند مسائل معلوم ہوئے،
دودھ پلانا ماں کے ذمہ واجب ہے
اول یہ کہ دودھ پلانا دیانۃ ماں کے ذمہ واجب ہے بلاعذر کسی ضد یا ناراضگی کے سبب دودھ نہ پلائے تو گنہگار ہوگی اور دودھ پلانے پر وہ شوہر سے کوئی اجرت و معاوضہ نہیں لے سکتی جب تک وہ اس کے اپنے نکاح میں ہے کیونکہ وہ اس کا اپنا فرض ہے۔
پوری مدت رضاعت
دوسرامسئلہیہ معلوم ہوا کہ پوری مدت رضاعت دو سال ہے جب تک کوئی خاص عذر مانع نہ ہو بچے کا حق ہے کہ یہ مدت پوری کی جائے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کے لئے پوری مدت دو سال دی گئی ہے اس کے بعد دودھ نہ پلایا جائے البتہ بعض آیات قرآن اور احادیث کی بناء پر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اگر تیس مہینے یعنی ڈھائی سال کے عرصہ میں بھی دودھ پلا دیا تو احکام رضاعت کے ثابت ہوجائیں گے اور اگر بچے کی کمزوری وغیرہ کے عذر سے ایسا کیا گیا تو گناہ بھی نہ ہوگا۔
ڈھائی سال پورے ہونے کے بعد بچہ کو مال کا دودھ پلانا باتفاق حرام ہے۔
اس آیت کے دوسرے جملے میں ارشاد ہے وَعَلَي الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۭ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا یعنی باپ کے ذمہ ہے ماؤں کا کھانا اور کپڑا قاعدہ کے موافق کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیا جاتا جس کو یہ برداشت نہ کرسکے۔
اس میں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ ماؤں کے لئے قرآن نے لفظ والْوَالِدٰتُ استعمال کیا مگر باپ کے لئے مختصر لفظ والِدُ چھوڑ کر اختیار فرمایا حالانکہ قرآن میں دوسری جگہ لفظ والد بھی مذکور ہے لَا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ (33: 31) مگر یہاں والد کی جگہ مَوْلُوْدِ لَهٗ کے اختیار کرنے میں ایک خاص راز ہے وہ یہ کہ پورے قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور طرز بیان ہے کہ وہ کسی قانون کو دنیا کی حکومتوں کی طرح بیان نہیں کرتا بلکہ مربیانہ اور مشفقانہ طرز سے بیان کرتا ہے اور ایسے انداز سے بیان کرتا ہے جس کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا انسان کے لئے آسان ہوجائے۔
یہاں بھی چونکہ بچہ کا نفقہ باپ کے ذمہ ڈالا گیا ہے حالانکہ وہ ماں اور باپ کی متاع مشترک ہے تو ممکن تھا کہ باپ کو یہ حکم کچھ بھاری معلوم ہو اس لئے بجائے وَالِدُ کے مَوْلُوْدِ لَهٗ کا لفظ اختیار کیا (وہ شخص جس کا بچہ ہے) اس میں اس طرف اشارہ کردیا کہ اگرچہ بچے کی تولید میں ماں اور باپ دونوں کی شرکت ضرور ہے مگر بچہ باپ ہی کا کہلاتا ہے نسب باپ ہی سے چلتا ہے اور جب بچہ اس کا ہوا تو ذمہ داری خرچ کی اس کو بھاری نہ معلوم ہونی چاہئے۔
بچے کو دودھ پلانا ماں کے ذمہ اور ماں کا نان ونفقہ و ضروریات باپ کے ذمہ ہیں
تیسرا مسئلہشرعیہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اگرچہ دودھ پلانا ماں کے ذمہ ہے لیکن ماں کا نان ونفقہ اور ضروریات زندگی باپ کے ذمہ ہیں اور یہ ذمہ داری جس وقت تک بچے کی ماں اس کے نکاح میں یا عدت میں ہے اس وقت تک ہے اور طلاق اور عدت پوری ہونے کے بعد نفقہ زوجیت تو ختم ہوجائے گا مگر بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ دینا باپ کے ذمہ پھر بھی لازم رہے گا (مظہری)
زوجہ کا نفقہ شوہر کی حیثیت کے مناسب ہونا چاہئے یا زوجہ کی
چوتھا مسئلہاس پر تو اتفاق ہے کہ میاں بیوی دونوں امیر مالدار ہوں تو نفقہ امیرانہ واجب ہوگا اور دونوں غریب ہوں تو نفقہ غریبانہ واجب ہوگا، البتہ جب دونوں کے حالات مالی مختلف ہوں تو اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ صاحب ہدایہ نے خصاف کے اس قول پر فتویٰ دیا ہے کہ اگر عورت غریب اور مرد مال دار ہو تو اس کا نفقہ درمیانہ حیثیت کا دیا جائے گا کہ غریبوں سے زائد مال داروں سے کم اور کرخی کے نزدیک اعتبار شوہر کے حال کا ہوگا فتح القدیر میں بہت سے فقہاء کا فتویٰ اس پر نقل کیا ہے واللہ اعلم (فتح القدیر ص 422 ج 3)
آیت مذکورہ میں احکام کے بعد ارشاد فرمایالَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ یعنی نہ تو کسی ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف میں ڈالنا جائز ہے اور نہ کسی باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے، مطلب یہ ہے کہ بچے کے ماں باپ آپس میں ضدا ضدی نہ کریں مثلاً ماں دودھ پلانے سے معذور ہو اور باپ اس پر یہ سمجھ کر زبردستی کرے کہ آخر اس کا بھی تو بچہ ہے یہ مجبور ہوگی اور پلادے گی یا باپ مفلس ہے اور ماں کو کوئی معذوری بھی نہیں پھر دودھ پلانے سے اس لئے انکار کرے کہ اس کا بھی تو بچہ ہے جھک مار کر کسی سے پلوالے گا۔
ماں کو دودھ پلانے پر مجبور کرنے یا نہ کرنے کی تفصیل
لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا سے پانچواں مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ ماں اگر بچہ کو دودھ پلانے سے کسی ضرورت کے سبب انکار کرے تو باپ کو اسے مجبور کرنا جائز نہیں اور اگر بچہ کسی دوسری عورت یا جانور کا دودھ نہیں لیتا تو ماں کو مجبور کیا جائے گا یہ مسئلہ وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ سے معلوم ہوا۔
عورت جب تک نکاح میں ہے تو اپنے بچے کو دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتی طلاق وعدت کے بعد کرسکتی ہے
چھٹامسئلہیہ معلوم ہوا کہ اگر بچے کی ماں دودھ پلانے کی اجرت مانگتی ہے تو جب تک اس کے نکاح یا عدت کے اندر ہے اجرت کے مطالبہ کا حق نہیں یہاں اس کا نان نفقہ جو باپ کے ذمہ ہے وہی کافی ہے مزید اجرت کا مطالبہ باپ کو ضرر پہنچانا ہے اور اگر طلاق کی عدت گذر چکی اور نفقہ کی ذمہ داری ختم ہوچکی ہے اب اگر یہ مطلقہ بیوی اپنے بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ باپ سے طلب کرتی ہے تو باپ کو دینا پڑے گا کیونکہ اس کے خلاف کرنے میں ماں کا نقصان ہے شرط یہ ہے کہ یہ معاوضہ اتنا ہی طلب کرے کہ جتنا کوئی دوسری عورت لیتی ہے زائد کا مطالبہ کرے گی تو باپ کو حق ہوگا کہ اس کی بجائے کسی انا کا دودھ پلوائے۔
یتیم بچے کے دودھ پلوانے کی ذمہ داری کس پر ہے ؟
آیت متذکرہ میں اس کے بعد یہ ارشاد ہےوَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ یعنی اگر باپ زندہ نہ ہو تو بچے کو دودھ پلانے یا پلوانے کا انتظام اس شخص پر ہے جو بچے کا جائز وارث اور محرم ہو یعنی اگر بچہ مرجائے تو جن کو اس کی وراثت پہچنتی ہے وہی باپ نہ ہونے کی حالت میں اس کے نفقہ کے ذمہ دار ہوں گے اگر ایسے وارث کئی ہوں تو ہر ایک پر بقدر میراث اس کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ امام اعظم ابوحنیفہ نے فرمایا کہ یتیم بچے کو دودھ پلوانے کی ذمہ داری وارث پر ڈالنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کا خرچہ دودھ چھڑانے کے بعد بھی وارثوں پر ہوگا کیونکہ دودھ کی کوئی خصوصیت نہیں مقصود بچے کا گذارہ ہے، مثلاً اگر یتیم بچے کی ماں اور دادا زندہ ہیں تو یہ دونوں اس بچے کے محرم بھی ہیں اور وارث بھی اس لئے اس کا نفقہ ان دونوں پر بقدر حصہ میراث عائد ہوگا یعنی ایک تہائی خرچہ ماں کے ذمہ اور دو تہائی دادا کے ذمہ ہوگا اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یتیم پوتہ کا حق دادا پر اپنے بالغ بیٹوں سے بھی زیادہ ہے کیونکہ بالغ اولاد کا نفقہ اس کے ذمہ نہیں اور یتیم پوتے کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے، ہاں میراث میں بیٹوں کے موجود ہوتے ہوئے پوتے کو حقدار بنانا اصول میراث اور انصاف کے خلاف ہے کہ قریب تر اولاد کے ہوتے ہوئے بعید کو دینا معقول بھی نہیں اور صحیح بخاری کی حدیث لاولیٰ رجل ذکر کے بھی خلاف ہے البتہ دادا کو یہ حق ہے کہ اگر ضرورت سمجھے تو یتیم پوتہ کے لئے کچھ وصیت کرجائے اور یہ وصیت بیٹوں کے حصہ سے زائد بھی ہوسکتی ہے اسی طرح یتیم پوتہ کی ضرورت کو بھی پورا کردیا گیا اور وراثت کا اصول کہ قریب کے ہوتے ہوئے بعید کو نہ دیا جائے یہ بھی محفوظ رہا۔
دودھ چھڑانے کے احکام
اس کے بعد آیت متذکرہ میں ارشاد ہوتا ہے فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا یعنی اگر بچے کے ماں باپ دونوں آپس کی رضا مندی اور باہمی مشورے سے یہ ارادہ کریں کہ شیر خوارگی کی مدت یعنی دو سال سے کم میں ہی دودھ چھڑا دیں خواہ ماں کی معذوری کے سبب یا بچے کی کسی بیماری کے سبب تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں آپس کے مشورے اور رضامندی کی شرط اس لئے لگائی کہ دودھ چھڑانے میں بچے کی مصلحت پیش نظر ہونی چاہئے آپس کے لڑائی جھگڑے کا بچے کو تختہ مشق نہ بنائیں۔
ماں کے سوا دوسری عورت کا دودھ پلوانے کے احکام
آخر میں ارشاد فرمایا گیاوَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَيْتُمْ بالْمَعْرُوْفِ یعنی اگر تو یہ چاہو کہ اپنے بچوں کی کسی مصلحت سے ماں کی بجائے کسی انا کا دودھ پلواؤ تو اس میں بھی کچھ گناہ نہیں شرط یہ ہے کہ دودھ پلانے والی کی جو اجرت مقرر کی گئی تھی وہ پوری پوری ادا کردیں اور اگر اس کو مقررہ اجرت نہ دی گئی تو اس کا گناہ ان کے ذمہ رہے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر ماں دودھ پلانے پر راضی ہے لیکن باپ یہ دیکھتا ہے کہ ماں کا دودھ بچے کے لئے مضر ہے تو ایسی حالت میں اس کو حق ہے کہ ماں کو دودھ پلانے سے روک دے اور کسی انا سے پلوائے۔
اس سے ایک باپ یہ بھی معلوم ہوئی کہ جس عورت کو دودھ پلانے پر رکھا جائے اس سے معاملہ تنخواہ یا اجرت کا پوری صفائی کے ساتھ طے کرلیا جائے کہ بعد میں جھگڑا نہ پڑے اور پھر وقت مقررہ پر یہ طے شدہ اجرت اس کو سپرد بھی کردے اس میں ٹال مٹول نہ کرے۔
یہ سب احکام رضاعت بیان کرنے کے بعد پھر قرآن نے اپنے مخصوص انداز اور اسلوب کے ساتھ قانون پر عمل کو آسان کرنے اور ظاہر و غائب ہر حال میں اس کا پابند رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کے علم محیط کا تصور سامنے کردیا ارشاد ہوتا ہے، وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کھلے اور چھپے اور ظاہر و غائب کو پوری طرح دیکھ رہے ہیں اور وہ تمہارے دلوں کے مخفی ارادوں اور نیتوں سے باخبر ہیں اگر کسی فریق نے دودھ پلانے یا چھڑانے کے مذکورہ احکام کی خلاف ورزی کی یا بچے کی مصلحت کو نظر انداز کرکے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا تو وہ مستحق سزا ہوگا۔
Ayahs 2:234–235خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 31 شوہر کی وفات ہونے کی صورت میں عدت کا بیان
وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الیٰ قولہ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ اور جو لوگ تم میں وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی (عدت کی) میعاد ختم کرلیں تو تم کو (بھی) کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات (کے جائز رکھنے) میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لئے کچھ کارروائی (نکاح کی) کریں قاعدہ کے موافق (البتہ اگر کوئی خلاف قاعدہ شرع کریں اور تم باوجود روک سکنے کے نہ روکو تو تم بھی شریک گناہ ہوگے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں۔
حکم نمبر 32 عدت میں نکاح کا پیغام دینا
اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو ان مذکورہ عورتوں کو (جو عدت وفات میں ہیں) پیغام (نکاح) دینے کے بارے میں کوئی بات اشارۃ کہہ دو (مثلا یہ کہ مجھ کو ایک نیک عورت سے نکاح کی ضرورت ہے) یا اپنے دل میں (آئندہ نکاح کرنے کے ارادہ کو) پوشیدہ رکھو (جب بھی گناہ نہیں اور وجہ اس اجازت کی یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا (ضرور) ذکر مذکور کرو گے (سو خیر ذکر مذکور کرو) لیکن ان سے (صاف لفظوں میں) نکاح کا وعدہ (اور گفتگو) مت کرو مگر یہ کہ کوئی بات قاعدہ کے موافق کہو (تو مضائقہ نہیں اور وہ بات قاعدہ کے مطابق یہی ہے کہ اشارۃ کہو) اور تم تعلق نکاح (فی الحال) کا ارادہ بھی مت کرو یہاں تک کہ عدت اپنے مقررہ وقت پر ختم ہوجائے اور یقین رکھو اس کا کہ اللہ کو اطلاع ہے تمہارے دلوں کی بات کی سو اللہ سے ڈرتے رہا کرو (اور ناجائز امر کا دل میں ارادہ بھی مت کیا کرو) اور (یہ بھی) یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ معاف بھی کرنے والے ہیں اور حلیم بھی ہیں۔
معارف و مسائل
عدت کے بعض احکام
(1) جس کا خاوند مرجائے اس کو عدت کے اندر خوشبو لگانا، سنگھار کرنا، سرمہ اور تیل بلاضرورت دوا لگانا مہندی لگانا، رنگین کپڑے پہننا درست نہیں، اور صریح گفتگوئے نکاح ثانی بھی درست نہیں جیسا اگلی آیت میں آتا ہے اور رات کو دوسرے گھر میں رہنا بھی درست نہیں ترجمہ میں نکاح کے ساتھ جو وغیرہ کہا گیا ہے اس سے یہی امور مراد ہیں اور یہی حکم ہے اس عورت کا جس پر طلاق بائن واقع ہوئی یعنی جس میں رجعت درست نہیں مگر اس کو اپنے گھر سے دن کو بھی بدون سخت مجبوری کے نکلنا درست نہیں۔
(2) اگر چاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی تب تو یہ مہینے خواہ تیس کے ہوں خواہ انتیس کے ہوں چاند کے حساب سے پورے کئے جاویں گے اور اگر چاند رات کے بعد وفات ہوئی ہے تو یہ سب مہینے تیس تیس دن کے حساب سے پورے کئے جاویں گے، پس کل ایک سو تیس دن پورے کریں گے، اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں اور جس وقت ہوئی ہو جب یہ مدت گزر کر وہی وقت آوے گا عدت ختم ہوجاوے گی اور یہ جو فرمایا کہ اگر عورتیں قاعدہ کے موافق کچھ کریں تو تم پر بھی گناہ نہ ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کوئی کام خلاف شرع کرے تو اوروں پر بھی واجب ہوتا ہے کہ بشرط قدرت اس کو روکیں ورنہ یہ لوگ بھی گنہگار ہوتے ہیں اور قاعدہ کے موافق سے یہ مراد ہے کہ جو نکاح تجویز ہو وہ شرعاً صحیح اور جائز ہو تمام شرائط حلت کی وہاں جمع ہوں۔
Ayah 2:236خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 33 طلاق قبل الدخول کی صورت میں مہر کے وجوب اور عدم وجوب کا بیان
طلاق قبل الدخول کے معنی یہ ہیں کہ زوجین میں یک جائی اور خلوت صحیہ سے پہلے ہی طلاق کی نوبت آجائے اس کی دو صورتیں ہیں یا تو اس نکاح کے وقت مہر مقرر کی مقدار متعین نہیں کی گئی یا مقدار متعین کردی گئی پہلی صورت کا حکم اولا مذکور ہے۔
لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ (الی قولہ) حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ یعنی تم پر (مہر کا) کچھ مواخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لئے کچھ مہر مقرر کیا ہے (سو اس صورت میں مہر اپنے ذمہ مت سمجھو) اور (صرف) ان کو (ایک) فائدہ پہنچاؤ صاحب وسعت کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے اور تنگدست کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے، ایک خاص قسم کا فائدہ پہنچانا جو قاعدہ کے موافق واجب ہے خوش معاملہ لوگوں پر (یعنی سب مسلمانوں پر کیونکہ خوش معاملگی کا بھی سب ہی کو حکم ہے مراد اس سے ایک جوڑا کپڑوں کا دینا ہے) اور دوسری صورت کا حکم یہ ہے وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ (الی قولہ) اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ اور اگر تم ان بیبیوں کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور ان کے لئے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے تھے تو (اس صورت میں) جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا نصف (واجب) ہے (اور نصف معاف) مگر (دو صورتیں اس مجموعی حکم سے مستثنیٰ ہیں ایک صورت تو) یہ کہ وہ عورتیں (اپنا نصف) بھی معاف کردیں (تو اس صورت میں نصف بھی واجب نہ رہا) یا دوسری صورت یہ (ہے) کہ وہ شخص رعایت کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق (رکھنا اور توڑنا) ہے (یعنی خاوند پورا مہر ہی اس کو دیدے تو اس صورت میں خاوند کی مرضی سے پورا ہی مہر ادا کرنا ہوگا) اور (اے اہل حق) تمہارا (اپنے حقوق کو) معاف کردینا (بہ نسبت وصول کرنے کے) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (کیونکہ معاف کرنے سے ثواب ملتا ہے اور ثواب کا کام کرنا ظاہر ہے کہ تقویٰ کی بات ہے) اور آپس میں احسان (اور رعایت) کرنے سے غفلت مت کرو (بلکہ ہر شخص دوسرے کے ساتھ رعایت کرنے کا خیال رکھا کرے) بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتے ہیں (تو تم اگر کسی کے ساتھ رعایت و احسان کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جزائے خبر تم کو دیں گے) (بیان القرآن)
معارف و مسائل
لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ (الیٰ قولہ) اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ طلاق کی مہر اور صحبت کے لحاظ سے چار صورتیں ہو سکتی ہیں ان میں سے دو کا حکم ان آیات میں بیان کیا گیا ہے ایک یہ کہ نہ مہر مقرر ہو نہ صحبت وخلوت، دوسری یہ کہ مہر تو مقرر ہو لیکن صحبت وخلوت کی نوبت نہ آئے، تیسری صورت یہ ہے کہ مہر بھی مقرر ہو اور صحبت کی بھی نوبت آوے اس میں جو مہر مقرر کیا ہے پورا دینا ہوگا، یہ حکم قرآن مجید میں دوسرے مقام پر بیان کیا گیا ہے چوتھی صورت یہ ہے کہ مہر معین نہ کیا، اور صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی اس میں مہر مثل پورا دینا ہوگا یعنی جو اس عورت کی قوم میں رواج ہے اس کا بیان بھی ایک دوسری آیت میں آیا ہے۔
مذکورہ آیت میں پہلی دو قسموں کا حکم بیان کیا گیا ہے، اس میں سے پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ مہر کچھ واجب نہیں مگر زوج پر واجب ہے کہ اپنے پاس سے عورت کو کچھ دیدے کم ازکم یہی کہ ایک جوڑا کپڑے کا دیدے دراصل قرآن کریم نے اس عطیہ کی کوئی مقدار متعین نہیں کی البتہ یہ بتلا دیا کہ مالدار کو اپنی حیثیت کے مطابق دینا چاہئے جس میں اس کی ترغیب ہے کہ صاحب وسعت اس میں تنگی سے کام نہ لے۔ حضرت حسن نے ایسے ہی ایک واقعہ میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار کا عطیہ دیا اور قاضی شریح نے پانسو درہم کا اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑے کا دیدے (قرطبی)
Ayah 2:237اور دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر ہوا ہو، اور اس کو قبل صحبت وخلوت صحیحہ کے طلاق دے دیہو تو مقرر کئے ہوئے مہر کا نصف مرد کے ذمے واجب ہوگا البتہ اگر عورت معاف کردے یا مرد پورا دیدے تو اختیاری بات ہے جیسا کہ آیت اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سے معلوم ہوتا ہے۔
(1) مرد کے پورا مہر دینے کو بھی معاف کرنے کے لفظ سے شاید اس لئے تعبیر کیا کہ عام عادت عرب کی یہ تھی کہ مہر کی رقم شادی کے ساتھ ہی دے دیجاتی تھی تو طلاق قبل از خلوت کی صورت میں وہ نصف واپس لینے کا حق دار ہوگیا اب اگر وہ رعایت کرکے اپنا نصف واپس نہ لے تو یہ بھی معاف ہی کرنا ہے اور معاف کرنے کو افضل اور اقرب للتقوٰی قرار دیا کیونکہ یہ معافی علامت اس کی ہے کہ تعلق نکاح کا قطع کرنا بھی احسان اور حسن سلوک کے ساتھ ہوا جو مقصد شریعت اور موجب ثواب عظیم ہے خواہ معافی عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے۔
(2) الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ کی تفسیر خود رسول کریم ﷺ نے یہ فرمائی ولی عقدۃ النکاح الزوج یعنی عقدہ نکاح کا مالک شوہر ہے یہ حدیث دار قطنی میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ منقول ہے، اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے بھی (قرطبی) اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ نکاح مکمل ہوجانے کے بعد نکاح کو قائم رکھنے یا ختم کرنے کا مالک شوہر ہے طلاق وہی دے سکتا ہے عورت کا طلاق میں کوئی اختیار نہیں۔
Ayahs 2:238–239خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 34 نمازوں کی حفاظت کا بیان
اس سے آگے پیچھے طلاق وغیرہ کے احکام ہیں درمیان میں نماز کے احکام بیان فرمانا اشارہ اس طرف ہے کہ مقصود اصلی توجہ الی الحق ہے اور معاشرت اور معاملات کے احکام سے علاوہ اور مصلحتوں کے اس توجہ کی حفاظت اور ترقی بھی مقصود ہے، چناچہ جب ان کو خدائی احکام سمجھ کر عمل کیا جاوے گا تو توجہ لازم ہوگی پھر یہ کہ ان احکام میں ادائے حقوق عباد بھی ہے اور حقوق عباد کے اتلاف سے درگاہ الہی سے دوری ہوتی ہے جس کے لوازم میں سے حق وعبد دونوں کی طرف سے بےتوجہی ہے چونکہ نماز میں یہ توجہ زیادہ ظاہر ہے اس لئے اس کے درمیان میں لانے سے اس توجہ کے مقصود ہونے پر زیادہ دلالت ہوگی تاکہ بندہ اس توجہ کو ہر وقت پیش نظر رکھے۔
حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى (الی قولہ) مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ محافظت کرو سب نمازوں کی (عموما) اور درمیان والی نماز (یعنی عصر) کی (خصوصا) اور (نماز) میں کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے پھر اگر تم کو (باقاعدہ نماز پڑھنے میں کسی دشمن وغیرہ کا) اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے (جس طرح بن سکے خواہ قبلہ کی طرف بھی منہ ہو یا نہ ہو اور گو رکوع و سجود صرف اشارہ ہی سے ممکن ہو) پڑھ لیا کرو (اس حالت میں بھی اس پر محافظت رکھو اس کو ترک مت کرو) پھر جب تم کو (بالکل) اطمینان ہوجاوے (اور اندیشہ جاتا رہے تو تم اللہ تعالیٰ کی یاد (یعنی اس ادائے نماز) اس طریق سے کرو جو تم کو (اطمینان کی حالت میں) سکھلایا ہے جس کو تم (پہلے سے) نہ جانتے تھے۔
معارف و مسائل
کثرت سے علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے یہ ہے کہ بیچ والی نماز سے مراد نماز عصر ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں فجر اور ظہر اور ایک طرف دو نمازیں رات کی ہیں مغرب اور عشاء، اس کی تاکید خصوصیت کے ساتھ اس لئے کی گئی کہ اکثر لوگوں کو یہ وقت کام کی مصروفیت کا ہوتا ہے اور عاجزی کی تفسیر حدیث میں سکوت کے ساتھ آئی ہے۔
اسی آیت سے نماز میں باتیں کرنے کی ممانعت ہوئی ہے پہلے کلام کرنا درست تھا اور یہ نماز کھڑے کھڑے اشارہ سے جب صحیح ہوگی جب ایک جگہ کھڑا ہوسکے اور اس میں سجدے کا اشارہ ذرا زیادہ پست کرے اور چلنے سے نماز نہیں ہوگی البتہ جب ایسا ممکن نہ ہو مثلا عین لڑائی کا وقت ہے تو نماز کو قضا کردیا جاوے گا دوسرے وقت پڑھ لیں (بیان القرآن)
Ayah 2:240خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 35 بیوہ عورت کی سکونت اور متاع کی بعض اقسام کا بیان
وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الی قولہ) وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ اور جو لوگ وفات پاجاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیبیوں کو (ان کے ذمہ لازم ہے کہ) وہ وصیت کرجایا کریں اپنی بیبیوں کے واسطے ایک سال تک (نان ونفقہ اور گھر میں سکونت رکھنے سے) منتفع ہونے کی اس طور پر کہ وہ گھر سے نکالی نہ جاویں ہاں اگر (چار مہینے دس دن کے بعد یا وضع حمل کے بعد عدت گذار کر) خود نکل جاویں تو تم کو کوئی گناہ نہیں، اس قاعدہ کی بات میں جس کو اپنے بارے میں (تجویز) کریں (جیسے نکاح وغیرہ) اور اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (ان کے خلاف حکم مت کرو) اور حکمت والے ہیں (کہ تمام احکام میں تمہاری مصلحتیں ملحوظ رکھی ہیں گو تمہاری فہم میں نہ آسکیں) وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ (الیٰ قولہ) لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ اور سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لئے کچھ کچھ فائدہ پہنچانا (کسی درجہ میں مقرر ہے) قاعدہ کے موافق (اور یہ) مقرر ہوا ہے ان پر جو (شرک و کفر سے) پرہیز کرتے ہیں (یعنی مسلمانوں پر خواہ یہ مقرر ہونا وجوب کے درجہ میں ہو یا استحباب کے مرتبہ میں) اسی طرح حق تعالیٰ تمہارے (عمل کرنے کے) لئے اپنے احکام بیان فرماتے ہیں اس توقع پر کہ تم (ان کو) سمجھو (اور عمل کرو)
معارف و مسائل
(1) وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الی قولہ) وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ زمانہ جاہلیت میں وفات زوج کی عدت ایک سال تھی اور اسلام میں بجائے ایک سال کے چار مہینے دس دن مقرر ہوئے جیسا کہ ماقبل میں آیت يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا سے معلوم ہوچکا ہے مگر اس میں عورت کی اتنی رعایت رکھی گئی تھی کہ چونکہ اس وقت تک میراث کا حکم نازل نہ ہوا تھا، اور بیوی کا کوئی حصہ میراث میں مقرر نہ ہوا تھا بلکہ اوروں کے حق کا مدار محض مردے کی وصیت پر تھا جیسا کہ آیت كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ (180: 2) کی تفسیر میں معلوم ہوچکا ہے اسلئے یہ حکم ہوگیا تھا کہ اگر عورت اپنی مصلحت سے خاوند کے ترکہ کے گھر میں رہنا چاہے تو سال بھر تک اس کو رہنے کا حق حاصل ہے اور اسی کے ترکہ سے اس مدت میں اس کو نان نفقہ بھی دیا جاوے اس آیت میں اسی کا بیان ہے اور خاوندوں کو حکم ہے کہ اس طرح کی وصیت کرجایا کریں، اور چونکہ یہ حق عورت کا تھا اس کو اس کے وصول کرنے نہ کرنے کا اختیار حاصل تھا اس لئے وارثوں کو تو گھر سے نکالنا جائز نہ تھا لیکن خود اس کو جائز تھا کہ خود اس کے گھر نہ رہے اور اپنا حق ورثہ کو چھوڑدے بشرطیکہ عدت پوری ہوچکے اور نکاح کرنا وغیرہ سب درست تھا اور یہی مراد ہے قاعدہ کی بات سے۔ البتہ عدت کے اندر نکلنا اور نکاح کرنا وغیرہ سب گناہ تھا عورت کے لئے بھی اور جو منع کرسکے اور نہ روکے اس کے لئے بھی پھر جب آیت میراث کی نازل ہوئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا سو اپنے حصہ میں رہے اور اپنے حصہ سے خرچ کرے یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
Ayahs 2:241–242(2) وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ مطلقہ عورتوں کو متعہ یعنی فائدہ پہچانا اس سے پہلی آیات میں بھی آچکا ہے مگر وہ صرف دو قسم کی مطلقات کے لئے تھا جن کو صحبت وخلوت سے پہلے طلاق ہوگئی ہو ایک کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ جوڑا دیا جائے دوسری کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ آدھا مہر دیا جائے اب وہ طلاق والیاں رہ گئیں جن کو صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی جاوے سو ان میں جس کا مہر مقرر کیا گیا ہو اس کو فائدہ پہنچانا یہ ہے کہ پورا مہر دینا چاہئے اور جس کا مہر مقرر نہ کیا جاوے اس کے لئے بعد دخول کے مہر مثل واجب ہے یہ متاع بمعنی مطلق فائدہ پہنچانا اس تفصیل سے تو واجب ہے اور اگر متاع سے مراد فائدہ خاص یعنی تحفہ یا جوڑا دینا ہی لیا جائے تو ایک مطلقہ کو تو دینا واجب ہے جس کا ذکر ماقبل میں آچکا ہے اور باقی سب اقسام میں مستحب ہے اور اگر متاع سے مراد نفقہ لیا جاوے تو جس طلاق میں عدت ہے اس میں عدت گزر نے تک واجب ہے خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن غرض آیت اپنے الفاظ عامہ سے سب صورتوں کو شامل ہے۔
Ayahs 2:243–244خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تجھ کو ان لوگوں کا قصہ تحقیق نہیں ہوا جو کہ اپنے گھروں سے نکل گئے اور وہ لوگ ہزاروں ہی تھے موت سے بچنے کے لئے سو اللہ نے ان کے لئے (حکم) فرمادیا کہ مرجاؤ (سب مرگئے) پھر ان کو جلا دیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں (کے حال) پر مگر اکثر شکر نہیں کرتے اور (اس واقعہ پر غور کرکے) اللہ کی راہ میں قتال کرو اور یقین رکھو اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں (جہاد کرنے اور نہ کرنیوالوں کی باتیں سنتے اور ہر ایک کی نیت جانتے ہیں اور سب کو مناسب جزادیں گے)
معارف و مسائل
یہ تین آیتیں جو اوپر مذکورہوئی ہیں ان میں ایک عجیب بلیغ انداز میں اللہ تعالیٰ کہ راہ میں جان ومال کی قربانی پیش کرنے کی ہدایت ہے کہ ان احکام کے بیان کرنے سے پہلے تاریخ کا ایک اہم واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ موت وحیات تقدیر الہٰی کے تابع ہے جنگ و جہاد میں جانا موت کا سبب نہیں اور بزدلی سے جان چرانا موت سے بچنے کا ذریعہ نہیں، تفسیر ابن کثیر میں سلف صحابہ کرام ؓ اجمعین اور تابعین کے حوالہ سے اس واقعہ کی تشریح یہ بیان کی ہے کہ بنی اسرائیل کی کوئی جماعت ایک شہر میں بستی تھی اور وہاں کوئی وباء طاعون وغیرہ پھیلا، یہ لوگ جو تقریباً دس ہزار کی تعداد میں تھے گھبرا اٹھے اور موت کے خوف سے اس شہر کو چھوڑ کر سب کے سب دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان میں جاکر مقیم ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے ان پر اور دنیا کی دوسری قوموں پر یہ واضح کرنے کے لئے موت سے کوئی شخص بھاگ کر جان نہیں چھڑا سکتا دو فرشتے بھیج دیئے جو میدان کے دونوں سروں پر آکھڑے ہوئے اور کوئی ایسی آواز دی جس سے سب کے سب بیک وقت مرے ہوئے رہ گئے ایک بھی زندہ نہ رہا، آس پاس کے لوگوں کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی یہاں پہنچے دس ہزار انسانوں کے کفن دفن کا انتظام آسان نہ تھا اس لئے ان کے گرد ایک احاطہ کھینچ کر حظیرہ جیسا بنادیا ان کی لاشیں حسب دستور گل سڑ گئیں ہڈیاں پڑی رہ گئیں ایک زمانہ دراز کے بعد بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر جن کا نام حزقیل بتلایا گیا ہے اس مقام پر گذرے اس حظیرہ میں جگہ جگہ انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرے ہوئے دیکھ کر حیرت میں رہ گئے بذریعہ وحی ان کو ان لوگوں کا پورا واقعہ بتلا دیا گیا۔ حضرت حزقیل ؑ نے دعا کہ یا اللہ ان لوگوں کو پھر زندہ فرمادے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور انھیں حکم دیا گیا کہ آپ ان شکستہ ہڈیوں کو اس طرح خطاب فرمائیں۔
ایتہا العظام البالیۃ ان اللہ یأمرک ان تجمتعییعنی اے پرانی ہڈیوں اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ہر جوڑ کی ہڈی اپنی جگہ جمع ہوجائے۔
پیغمبر کی زبان سے خدا تعالیٰ کا حکم ان ہڈیوں نے سنا اور حکم کی تعمیل کی جن کو دنیا بےعقل و بےشعور سمجھتی ہے مگر دنیا کے ہر ذرہ ذرہ کی طرح وہ بھی تابع فرمان اور اپنے وجود کے مناسب عقل و ادراک رکھتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مطیع ہیں، قرآن کریم نے آیت اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى (50: 20) میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا پھر اس کو اس کے مناسب حال ہدایت فرمائی۔ مولانا رومی نے ایسے ہی امور کے متعلق فرمایا
خاک وباد وآب وآتش بندہ اند
بامن وتو مردہ باحق زندہ اند
بہرحال ایک آواز پر ہر انسان کی ہڈیاں اپنی اپنی جگہ لگ گئیں پھر حکم ہوا کہ اب ان کو یہ آواز دو ،
ایتہا ان اللہ یأمرک ان تکتسی لحماً وعصباً وجلدا، یعنی اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنا گوشت پہن لو اور پٹھے اور کھال درست کرلو۔
یہ کہنا تھا کہ ہڈیوں کا ہر ڈھانچہ ان کے دیکھتے دیکھتے ایک مکمل لاش بن گئی پھر حکم ہوا کہ اب ارواح کو یہ خطاب کیا جائے۔
ایتہا الارواح ان اللہ یأمرک ان ترجع کل روح الی الجسد الذین کانت تعمرہیعنی اے ارواح تمہیں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے اپنے بدنوں میں لوٹ آئیں جن کی تعمیر وحیات ان سے وابستہ تھی۔
یہ آواز دیتے ہی ان کے سامنے سارے لاشے زندہ ہو کر کھڑے ہوگئے اور حیرت سے چار طرف دیکھنے لگے سب کی زبانوں پر تھا سبحانک لا الہ الا انت۔
یہ واقعہ ہائلہ دنیا کے فلاسفروں اور عقلاء کے لئے دعوت فکر اور منکرین قیامت پر حجت قاطعہ ہونے کے ساتھ اس ہدایت پر بھی مشتمل ہے کہ موت کے خوف سے بھاگنا خواہ جہاد سے ہو یا کسی وباء وطاعون سے اللہ تعالیٰ اور ان کی تقدیر پر ایمان رکھنے والے کے لئے ممکن نہیں جس کا یہ ایمان ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے نہ اس سے ایک سیکنڈ پہلے آسکتی ہے اور نہ ایک سیکنڈ مؤ خر ہوسکتی ہے اس لئے یہ حرکت فضول بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہونے کی وجہ بھی۔
اب اس واقعہ کو قرآن کے الفاظ سے دیکھئے بیان واقعہ کے لئے قرآن نے فرمایا اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ یعنی کیا آپ نے ان لوگوں کے واقعہ کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے بخوف موت نکل کھڑے ہوئے تھے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے زمانے سے ہزاروں برس پہلے کا ہے اس کے دیکھنے کا حضور سے سوال ہی نہیں ہوسکتا تو یہاں اَلَمْ تَرَ فرمانے کا کیا منشاء ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ایسے تمام مواقع میں جہاں آنحضرت ﷺ کو لفظ اَلَمْ تَرَ کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے حالانکہ واقعہ آپ کے زمانے سے پہلے کا ہے جس کے دیکھنے کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا ان سب مواقع میں رویت سے رویت قلبی مراد ہوتی ہے جس کے معنی ہیں علم و ادراک یعنی اَلَمْ تَرَ ایسے مواقع میں اَلَمْ تَرَ کے معنی میں ہوتا ہے لیکن اس کو لفظ اَلَمْ تَرَ سے تعبیر کرنے میں حکمت اس واقعہ کے مشہور ومشہود ہونے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ واقعہ ایسا یقینی ہے جیسے کوئی آج دیکھ رہا ہو اور دیکھنے کے قابل ہو اَلَمْ تَرَ کے بعد حرف الیٰ بڑھانے سے ازروئے زبان اس کی طرف اشارہ بھی ہوتا ہے۔
اس کے بعد قرآن میں ان کی ایک بڑی تعداد ہونے کا بیان فرمایا گیا وَھُمْ اُلُوْفٌ یعنی وہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے اس تعداد کی تعیین میں روایات مختلفہ ہیں لیکن عربی زبان کے قاعدہ سے یہ لفظ جمع کثرت ہے جس کا اطلاق دس سے کم پر نہیں ہوتا اس سے معلوم ہوا کہ ان کی تعداد دس ہزار سے کم نہ تھی۔
اس کے بعد ارشاد ہے فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا یعنی کہہ دیا ان کو اللہ تعالیٰ نے کہ مرجاؤ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بلاواسطہ بھی ہوسکتا ہے اور بواسطہ کسی فرشتے کے بھی جیسے دوسری آیت میں ارشاد ہے اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (82: 36)
اس کے بعد فرمایا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاس یعنی اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں پر اس میں وہ فضل بھی داخل ہے جو بنی اسرائیل کی اس قوم کو دوبارہ زندہ کرکے فرمایا اور یہ فضل بھی شامل ہے جو یہ واقعہ امت محمدیہ کو بتلا کر ان کے لئے درس عبرت بنایا۔
آخر میں غفلت شعار انسان کو بیدار کرنے کے لئے فرمایا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ہزاروں مظاہر انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود اکثر انسان شکر گذار نہیں ہوتے۔
مسائل متعلقہ
اس آیت سے چند مسائل اور احکام مستفاد ہوئے
تدبیر پر تقدیر غالب ہے
اول یہ کہ تقدیر الہٰی کے مقابلے میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی اور جہاد سے یا طاعون وغیرہ سے بھاگنا جان بچانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا اور نہ ان میں قائم رہنا موت کا باعث ہوتا ہے بلکہ موت کا ایک وقت معین ہے نہ اس میں کمی ہوسکتی ہے نہ زیادتی۔
جس بستی میں کوئی وباء طوعون وغیرہ ہو اس میں جانا یا وہاں سے بھاگ کر کہیں اور جانا دونوں ناجائز ہیں
دوسرا مسئلہیہ ہے کہ جس شہر میں کوئی وبائی مرض طاعون پھیل جائے وہاں سے بھاگ کر دوسری جگہ جانا جائز نہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد میں اس پر اتنا اضافہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو وہاں جانا بھی درست نہیں حدیث میں ہے۔
ان ھذا السقم عذب بہ الامم قبلکم فاذا سمعتم بہ فی الارض فلا تدخلوہا واذا وقع بارض وانتم بہا فلا تخرجوا فراراً (بخاری ومسلم، ابن کثیر) یعنی اس بیماری (طاعون) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل فرمایا ہے سو جب تم یہ سنو کہ کسی شہر میں طاعون وغیرہ وبائی مرض پھیل رہا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی بستی میں یہ مرض پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے ایک مرتبہ ملک شام کے قصد سے سفر کیا سرحد شام پر تبوک کے قریب ایک مقام سَرَغ ہے وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ملک شام میں سخت طاعون ملک شام کی تاریخ میں ایک عظیم سانحہ تھا یہ طاعون عمواس کے نام سے مشہور ہے کیونکہ اول یہ طاعون ایک بستی عمواس نامی میں شروع ہوا جو بیت المقدس کے قریب ہے پھر سارے ملک میں پھیل گیا ہزارہا انسان جن میں بہت سے صحابہ وتابعین بھی تھے اس طاعون میں شہید ہوئے۔
فاروق اعظم نے طاعون کی شدت کی خبر سنی تو اسی مقام پر ٹھہر کر صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ ہمیں ملک شام میں اس وقت جانا چاہیے یا واپس ہونا مناسب ہے اس وقت جتنے حضرات مشورہ میں شریک تھے ان میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کوئی حکم نہ سنا ہو بعد میں حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے اطلاع دی کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اس معاملے کے متعلق یہ ہے
ان رسول اللہ ﷺ ذکر الوجع فقال رجز وعذابٌ عُذِبَ بہ الامم ثم بقی منہ بقیۃ فیذھب المرۃ ویأتی الاخرٰی فمن سمع بہ بارض فلا یقد من علیہ ومن کان بارض وقع بہا فلا یخرج فراراً منہ رواہ البخاری عن اسامۃ بن زید واخرجہ الائمۃ بمثلہ۔ رسول اللہ ﷺ نے (طاعونی گلٹی کے) درد کا ذکر کیا تو فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے جس سے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا پھر اس کا کچھ بقیہ رہ گیا اب اس کا یہ حال ہے کہ کبھی چلا جاتا ہے اور پھر آجاتا ہے تو جو شخص یہ سنے کہ فلاں خطہ زمین میں یہ عذاب آیا ہوا ہے تو اس کو چاہئے کہ اس خطہ زمین میں نہ جائے اور جو شخص اس خطہ میں پہلے سے موجود ہے تو طاعون سے بھاگنے کے لئے وہاں سے نہ نکلے (بخاری وغیرہ)
حضرت فاروق اعظم نے جب یہ حدیث سنی تو رفقاء کو واپسی کا حکم دے دیا حضرت ابوعبیدہ ملک شام کے عامل و امیر (گورنر) بھی اس مجلس میں موجود تھے، فاروق اعظم کا یہ حکم سن کر فرمانے لگےافراراً من قدر اللہ یعنی کیا آپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگنا چاہتے ہیں ؟ فاروق اعظم نے جواب میں فرمایا ا بوعبیدہ کاش یہ بات کوئی اور کہتا یعنی تمہاری زبان سے ایسی بات قابل تعجب ہے اور پھر فرمایا
نعم نفر من قدر اللہ الی قدر اللہ، بیشک ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے حکم کے مطابق کر رہے ہیں جس کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔
دربارہ طاعون ارشاد نبوی کی حکمتیں
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مذکور سے معلوم ہوا کہ جس شہر یا بستی میں طاعون وغیرہ امراض وبائی پھیلے ہوئے ہوں باہر والوں کو وہاں جانا ممنوع ہے اور وہاں کے رہنے والوں کو اس جگہ سے بخوف موت بھاگنا ممنوع ہے۔
اور اس کے ساتھ اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ نہ کسی جگہ جانا موت کا سبب ہے نہ کہیں سے بھاگنا نجات کا سبب، اس اہم عقیدہ کے ہوتے ہوئے حکم مذکور بڑی دور رس حکمتوں پر مبنی ہے باہر والوں کو وہاں جانے سے روکنے کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ ممکن ہے وہاں پہنچ کر کسی کی عمر ختم ہوچکی ہو اور اس مرض میں مبتلا ہو کر انتقال ہوگیا تو مرنے والے کو کبھی یہ گمان ہوگا کہ اگر میں یہاں نہ آتا تو زندہ رہتا اور دوسروں کو بھی یہی خیال ہوگا کہ یہاں آنے سے اس کی موت واقع ہوئی حالانکہ جو کچھ ہوا وہ پہلے سے لکھا ہوا تھا اس کی عمر اتنی ہی تھی کہیں بھی رہتا اس وقت اس کی موت لازمی تھی اس حکم میں مسلمانوں کے عقیدہ کو تذبذب سے بچایا گیا کہ وہ غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
دوسری حکمتیہ بھی ہے کہ حق تعالیٰ نے انسان کو یہ ہدایت دی ہے کہ جس جگہ تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو یا جہاں ہلاکت کا اندیشہ ہو وہاں نہ جائے بلکہ مقدور بھر ایسی چیزوں سے بچنے کی فکر کرے جو اس کے لئے مضر یا ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں اور اپنی جان کی حفاظت ہر انسان کے ذمے پر واجب قرار دی ہے اس قاعدہ کا مقتضی بھی یہی ہے کہ تقدیر الہی پر ایمان کامل رکھتے ہوئے احتیاطی تدبیروں میں کمی نہ کرے اور ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ ایسی جگہ نہ جائے جہاں جان کا خطرہ ہو۔
اسی طرح اس بستی کے رہنے والوں کو بخوف موت وہاں سے بھاگنے کی ممانعت میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں۔
ایک حکمت تو اجتماعی اور عوامی ہے کہ اگر یہ بھاگنے کا سلسلہ چلا تو امیر اور پیسے والے اور قدرت و طاقت والے آدمی تو بھاگ جائیں گے مگر بستی میں ایسے ضعفاء مرد و عورت کا بھی عادۃ ہونا لازمی ہے جو کہیں جانے پر قدرت نہیں رکھتے ان کا حشر کیا ہوگا، اول تو وہ تنہا رہ کر ہیبت ہی سے مرنے لگیں گے پھر ان میں جو بیمار ہیں ان کی خبرگیری کون کرے گا مرجائیں گے تو دفن کفن کا انتظام کیسے ہوگا۔
دوسری حکمت یہ ہے کہ جو لوگ اس جگہ موجود ہیں بعید نہیں کہ ان میں اس مرض کے جراثیم اثر کرچکے ہوں ایسی حالت میں وہ سفر کریں گے تو اور زیادہ مصیبتوں اور مشقتوں کے شکار ہوں گے، سفر کی حالت میں بیمار ہوئے تو ظاہر ہے کہ ان پر کیا گذرے گی، ابن المدینی نے علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ مافر احد من الوباء فسلم (قرطبی) یعنی جو شخص وباء سے بھاگتا ہے وہ کبھی سالم نہیں رہتا۔
تیسری حکمت یہ بھی ہے کہ اگر ان میں مرض کے جراثیم سرایت کرچکے ہیں تو یہ مختلف بستیوں میں پہنچیں گے تو وہاں جراثیم پھیلیں گے اور اگر اپنی جگہ صبر و توکل کے ساتھ ٹھہرے رہے تو بہت ممکن ہے کہ مرض سے نجات حاصل ہوجائے اور بالفرض اسی مرض میں موت مقدر تھی تو ان کو اپنے صبر وثبات کی وجہ سے درجہ شہادت کا ملے گا جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے
روی البخاری عن یحییٰ بن یعمر عن عائشۃ انھا اخبرتہ انھا سألت رسول اللہ ﷺ عن الطاعون فاخبرہا النبی ﷺ انہ کان عذاباً یبعثہ اللہ علی من یشاء فجعلہ اللہ رحمۃ للمؤ منین فلیس من عبد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابراً یعلم انہ لن یصیبہ الا ماکتب اللہ لہ الا کان لہ مثل اجر شہید وھذا تفسیر لقولہ ﷺ الطاعون شہادۃ والمطعون شہید (قرطبی ص 235 ج 3)
امام بخاری نے یحییٰ بن یعمر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق سوال کیا تھا، تو آپ نے ان کو بتلایا کہ یہ بیماری اصل میں عذاب کی حیثیت سے نازل ہوئی تھی اور جس قوم کو عذاب دینا منظور ہوتا تھا اس پر بھیج دی جاتی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو مؤمنین کے لئے رحمت بنادیا تو جو اللہ کا بندہ طاعون پھیلنے کے بعد اپنی بستی میں صبر و سکون کے ساتھ ٹھرا رہے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اس کو صرف وہی مصیبت پہنچ سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے تو ایسے شخص کو شہید کے برابر ثواب ملے گا۔
اور یہی تشریح ہے اس حدیث کی جس میں ارشاد ہے کہ طاعون زدہ شخص شہید ہے۔
بعض خاص صورتوں کا استثناء
حدیث کے الفاظ میں فلا تخرجوا فرارا منہ آیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص موت سے فرار کے لئے نہیں بلکہ اپنی کسی دوسری ضرورت سے دوسری جگہ چلا جائے تو وہ اس ممانعت میں داخل نہیں اسی طرح اگر کسی کا عقیدہ اپنی جگہ پختہ ہو کہ یہاں سے دوسری جگہ چلا جانا مجھے موت سے نجات نہیں دے سکتا اگر میرا وقت آگیا ہے تو جہاں جاؤں گا موت لازمی ہے اور وقت نہیں آیا تو یہاں رہنے سے بھی موت نہیں آئے گی یہ عقیدہ پختہ رکھتے ہوئے محض آب وہوا کی تبدیلی کے لئے یہاں سے چلا جائے تو وہ بھی ممانعت سے مستثنے ہے۔
اسی طرح کوئی آدمی کسی ضرورت سے اس جگہ میں داخل ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے اور عقیدہ اس کا پختہ ہو کہ یہاں آنے سے موت نہیں آئے گی وہ اللہ کی مشیت کے تابع ہے تو ایسی حالت میں اس کے لئے وہاں جانا بھی جائز ہوگا۔
تیسرا مسئلہاس آیت سے یہ مستفاد ہوا کہ بخوف موت جہاد سے بھاگنا بھی حرام ہے، قرآن کریم میں یہ مسئلہ دوسری جگہ زیادہ تفصیل اور وضاحت سے آیا ہے جس میں بعض خاص صورتوں کو مستثنے ٰ بھی فرمایا گیا ہے، جو مضمون اس آیت کا ہے تقریباً یہی مضمون دوسری آیت میں جہاد سے بھاگنے والوں یا اس میں شامل نہ ہونے والوں کے بارے میں آیا ہے ارشاد یہ ہے
اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْ آ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (168: 3) یعنی کچھ لوگ خود بھی جہاد میں شریک نہ ہوئے اور جہاد میں شریک ہو کر شہید ہوجانے والوں کے متعلق لوگوں سے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہماری بات نہ سنی اس لئے مارے گئے اگر یہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے (آنحضرت ﷺ کو حکم ہوا کہ) آپ ان سے فرما دیں کہ اگر موت سے بچنا تمہارے اختیار میں ہے تو اوروں کی کیا فکر کرتے ہو تم خود اپنی فکر کرو اور اپنے آپ کو موت سے بچالو یعنی جہاد میں جانے پر موقوف نہیں تمہیں گھر بیٹھے ہوئے بھی آخر موت آئے گی،
عجائب قدرت سے ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے سب سے بڑے جنگی جرنیل سیف اللہ حضرت خالد بن ولید جن کی اسلامی عمر ساری جہاد ہی میں گذری ہے وہ کسی جہاد میں شہید نہیں ہوئے بیمار ہو کر گھر میں وفات پائی وفات کے قریب اپنے بستر پر مرنے کا افسوس کرتے ہوئے گھر والوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں فلاں فلاں عظیم الشان جنگوں اور جہادوں میں شریک ہوا اور میرا کوئی عضو ایسا نہیں جس میں تیر یا نیزے یا چوٹ کے زخم کا اثر ونشان نہ ہو مگر افسوس ہے کہ میں اب گدھے کی طرح بستر پر مر رہا ہوں خدا تعالیٰ بزدلوں کو آرام نہ دے ان کو میری نصیحت پہنچاؤ، اس آیت میں بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بطور تمہید لایا گیا تھا اگلی آیت میں جہاد و قتال کا حکم دیا گیا جو اس قصہ کے ذکر کرنے سے اصل مقصود تھا کہ جہاد میں جانے کو موت یا بھاگنے کو نجات نہ سمجھو بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرکے فلاح دارین حاصل کرو اللہ تعالیٰ تمہاری سب باتیں سننے والے اور جاننے والے ہیں۔
تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا ذکر ہے۔
Ayah 2:245خلاصہ تفسیر
جہاد وغیرہ کار خیر میں انفاق کی ترغیب
کون شخص ہے (ایسا) جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے اچھے طور پر قرض دینا (یعنی اخلاص کے ساتھ) پھر اللہ تعالیٰ اس (قرض کے ثواب) کو بڑھا کر بہت سے حصے کو دیوے اور (اس کا اندیشہ مت کرو کہ خرچ کرنے سے مال کم ہوجائے گا کیونکہ یہ تو) اللہ (ہی کے قبضہ میں ہے وہی) کمی کرتے ہیں (وہی) فراخی کرتے ہیں (کچھ خرچ کرنے نہ کرنے پر اس کا اصلی مدار نہیں) اور تم اسی کی طرف (بعد مرنے کے) لے جائے جاؤ گے (سو اس وقت نیک کام میں خرچ کرنے کی جزاء اور واجب موقع پر خرچ نہ کرنے کی سزا تم کو ملے گی)
معارف و مسائل
(1) مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا قرض سے مراد نیک عمل کرنا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ہے اس کو قرض مجازًا کہہ دیا ورنہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے مطلب یہ ہے کہ جیسے قرض کا عوض ضروری دیا جاتا ہے اسی طرح تمہارے انفاق کا عوض ضروری ملے گا اور بڑھانے کا بیان ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک خرما اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ اس کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ وہ احد پہاڑ سے بڑا ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کا یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بندوں کو قرض دیا جائے اور ان کی حاجت برآری کی جائے، چناچہ حدیث میں قرض دینے کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ما من مسلم یقرض مسلماً قرضاً مرۃ الا کان کصدقتہ مرتین (مظہری بحوالہ ابن ماجہ)
جو مسلمان دوسرے مسلمان کو قرض دے دیتا ہے یہ قرض دینا اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس مال کے دو دفعہ صدقہ کرنے کے برابر ہے۔
(2) ابن عربی فرماتے ہیں اس آیت کو سن کر لوگوں کے تین فرقے ہوگئے، پہلا فرقہ ان بدنصیب لوگوں کا ہے جنہوں نے یہ آیت سن کر کہا کہ محمد ﷺ کا رب ہماری طرف محتاج ہے اور ہم غنی ہیں اس کا جواب قرآن کریم کی ایک اور آیت لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ (181: 3) سے دیا، دوسرا فرقہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس آیت کو سن کر اس کے خلاف کیا اور بخل ہی کو اختیار کرلیا مال کی طرف زیادہ رغبت اور اس کی حرص نے ان کو اس طرح باندھ لیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوئی تیسرا فرقہ ان مخلص مسلمانوں کا ہے جنہوں نے فوراً ہی اس آیت پر عمل کرلیا اور اپنا پسندیدہ مال اللہ کے راستے میں دے دیا جیسا کہ ابوالدحداح وغیرہ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگتے ہیں، حالانکہ وہ قرض سے مستثنیٰ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے تم کو جنت میں داخل کردیں۔ ابوالدحداح نے یہ سن کر کہا اللہ تعالیٰ کے رسول ہاتھ بڑھائیں آپ نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا ابوالدحداح نے کہنا شروع کیا۔
آپ نے ان سے فرمایا ایک اللہ کے راستے میں وقف کردو اور دوسرا اپنے اہل و عیال کی معاشی ضرورت کے لئے باقی رکھو، ابوالدحداح نے کہا آپ گواہ رہئے ان دونوں میں سے بہترین باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں اس کو میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہوں، آپ نے فرمایا اللہ تمہیں اس کے بدلے میں جنت عطا کریں گے،
ابوالدحداح اپنے گھر آئے اور بیوی کو اس کی اطلاع دے دیتو وہ بھی ابوالدحداح کے اس بہترین سودے پر بہت خوش ہوئیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،
کم من عذق رداح ودار فیاح لأ بی الدحداح (قرطبی) کھجوروں سے لبریز بیشمار درخت اور کشادہ محلات کس قدر ابوالدحداح کے لئے تیار ہیں (یعنی جنت میں)
(3) قرض میں واپسی کے وقت اگر زیادتی کی شرط نہ ٹھہرائی گئی ہو اور اپنی طرف سے قرض سے کچھ زیادہ ادا کردیا تو یہ پسندیدہ ہے رسول ﷺ نے فرمایا،
ان خیارکم احسنکم قضاء (تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے حق (قرض) کو اچھے طریقے سے ادا کرے۔
لیکن اگر زیادتی کی شرط ٹھرائی گئی تو وہ حرام ہے اور سود ہے۔