2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:148–150

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر کسی کے واسطے ایک جانب ہے یعنی قبلہ کہ وہ منہ کرتا ہے اس طرف سو تم سبقت کرونیکیوں میں جہاں کہیں تم ہو گے کم لائے گا تم کا اکڑھا، بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے،

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور جس جگہ سے تو نکلے سو منہ کر اپنا مسجد حرام کی طرف اور بیشک یہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے،

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں سے تو نکلے منہ کر اپنا مسجد حرام کی طرف، اور جس جگہ تم ہو کرو منہ کرو اسی کی طرف تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم سے جھگڑنے کا موقع مگر جو ان میں بےانصاف ہیں، سو ان سے یعنی ان کے اعتراضوں سے، نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور اس واسطے کہ کامل کروں تم پر فضل اپنا اور تاکہ تم پاؤ راہ سیدھی۔

خلاصہ تفسیر اور (دوسری حکمت تحویل قبلہ میں یہ ہے کہ عادۃ اللہ جاری ہے کہ) ہر (مذہب والے) شخص کے واسطے ایک ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ (عبادت میں) منہ کرتا رہا ہے (چونکہ شریعت محمدیہ بھی ایک مستقل دین ہے اس کا قبلہ بھی ایک خاص ہوگیا جب حکمت سب پر ظاہر ہوچکی) سو (مسلمانوں) تم (اب اس بحث کو چھوڑ کر اپنے دین کے) نیک کاموں میں آگے بڑہنے کی کوشش کرو (کیونکہ ایک روز اپنے مالک سے سابقہ پڑنا ہے چنانچہ) تم خواہ کہیں ہوگے (لیکن) اللہ تعالیٰ تم سب کو (اپنے اجلاس میں) حاضر کردیں گے (اس وقت نیکیوں پر جزا اور اعمالِ بد پر سزا ہوگی اور) بالیقین اللہ تعالیٰ ہر امر پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور (اس حکمت کا مقتضاء بھی یہی ہے کہ جس طرح حضر میں کعبہ کی طرف رخ ہوتا ہے اسی طرح اگر مدینہ سے یا اور کہیں سے) جس جگہ سے بھی (کہیں سفر میں) آپ باہر جاویں تو (بھی) اپنا چہرہ (نماز میں) مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے (غرض حضر وسفر سب حالتوں کا یہی قبلہ ہے) اور یہ (حکم عام قبلہ کا) بالکل حق (اور صحیح) ہے (اور) منجانب اللہ (ہے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے کئے ہوئے کاموں سے ذرا بیخبر نہیں، تحویل قبلہ کی تیسری حکمت اور (مکرر پھر کہا جاتا ہے کہ) آپ جس جگہ سے بھی (سفر میں) باہر جاویں اور حضر میں بدرجہ اولیٰ) اپنا چہرہ (نماز میں) مسجد حرام کی طرف رکھئے اور (اسی طرح سب مسلمان بھی سن لیں کہ) تم لوگ جہاں کہیں (موجود) ہو اپنا چہرہ (نماز میں) اسی (مسجد حرام) کی طرف رکھا کرو (اور یہ حکم اس لئے مقرر کیا جاتا ہے) تاکہ (ان مخالف) لوگوں کو تمہارے مقابلہ میں (اس) گفتگو (کی مجال) نہ رہے (کہ اگر محمد مصطفیٰ ﷺ وہی نبی موعود آخر الزماں ہوتے تو ان کی علامات میں تو یہ بھی ہے کہ ان کا اصلی قبلہ کعبہ ہوگا اور یہ تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑہتے ہیں یہ تیسری حکمت ہے تحویل قبلہ کی ہاں) مگر ان میں جو (بالکل ہی) بےانصاف ہیں (وہ اب بھی کٹھ حجتی نکالیں گے کہ یہ کیسے نبی ہیں جو اتنے نبیوں کے خلاف کعبہ کی طرف نماز پڑہتے ہیں لیکن جب ایسے مہمل اعتراضوں سے دین حق کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا) جو ایسے لوگوں سے (ذرا) اندیشہ نہ کرو (اور ان کے اعتراضوں کے جواب کی فکر میں مت پڑو) اور مجھ سے ڈرتے رہو (کہ میرے احکام کی مخالفت نہ ہونے پاوے کہ یہی مخالفت البتہ تم کو مضر ہے) اور (ہم نے ان سب احکام مذکورہ پر عمل کرنے کی توفیق بھی دی) تاکہ تم پر جو (کچھ) میرا انعام (اکرام متوجہ) ہے (تم کو آخرت میں داخل بہشت کرکے) اس کی تکمیل کردوں اور تاکہ (دنیا میں) تم راہ (حق) پر (یعنی اسلام پر قائم رہنے والوں میں رہو (جس پر وہ تکمیل نعمت مرتب ہوتی ہے) معارف و مسائل تحویل قبلہ کی حکمتیں مذکور آیات میں تحویل قبلہ کے لئے الفاظ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام تین مرتبہ آئے ہیں اور حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ دو مرتبہ اس تکرار کی ایک عام وجہ تو یہ ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم مخالفین کے لئے شور وشغب کا ذریعہ تھا ہی خود مسلمانوں کے لئے بھی عبادات کا ایک عظیم انقلاب تھا اگر یہ حکم تاکیدات کے ساتھ بتکرار نہ لایا جاتا تو قلوب کا اطمینان و سکون آسان نہ ہوتا اس لئے اس حکم کو بار بار دہرایا گیا جس میں اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ یہ تحویل آخری اور قطعی ہے اب اس کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر میں جو تطبیق کی صورت لکھی گئی ہے قرطبی نے بھی اس کی ایک ایسی تقریر نقل کی ہے جس سے تکرار محض نہ رہے مثلاً فرمایا کہ پہلی مرتبہ جو حکم آیا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ یہ حکم حالت حضر کا ہے کہ جب آپ اپنی جگہ مقیم ہیں تو آپ مسجد حرام کی طرف رخ کیا کریں اور پھر پوری امت کو اسی کا حکم دیا گیا، اور حَيْثُ مَا كُنْتُمْ کا مفہوم اس تقریر پر یہ ہوگا کہ اپنے وطن اور شہر میں جس جگہ بھی ہوں استقبال بیت اللہ ہی کا کرنا ہے یہ حکم صرف مسجد نبوی کے ساتھ مخصوص نہیں، پھر دوسری مرتبہ جو انہی الفاظ کے ساتھ حکم آیا اس سے پہلے مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ کے الفاظ نے یہ واضح کردیا کہ یہ حکم وطن سے نکلنے اور سفر کی حالت کے لئے ہے اور چونکہ سفر کے حالات بھی مختلف ہوتے ہیں کبھی چند روز کے لئے کسی بستی میں قیام کیا جاتا ہے کبھی سفر قطع کرنے کا سلسلہ ہوتا ہے ان دونوں حالتوں کو عام کرنے لئے تیسری مرتبہ پھر ان الفاظ کے ساتھ اور وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ کا اضافہ کرکے بتلا دیا کہ سفر کی کوئی بھی حالت ہو ہر حال میں استقبال مسجد حرام ہی کا کرنا ہے اس تیسری مرتبہ کے اعادہ کے ساتھ تحویل قبلہ کی ایک حکمت کا بھی جوڑ لگا دیا گیا کہ مخالفین کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ تو توراۃ و انجیل کی تصریحات کے مطابق کعبہ ہونا چاہئے اور یہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے بجائے بیت المقدس کا استقبال کرتے ہیں وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا۔ وِجْهَةٌ بکسر الواؤ کے معنی لغوی جس چیز کی طرف رخ کیا جائے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد قبلہ ہے اور حضرت ابی بن کعب کی قراءت میں اس جگہ وجہۃٌ کی بجائے قبلۃٌ بھی منقول ہے مراد آیت کی جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ ہر قوم کا قبلہ جس کی طرف وہ عبادت میں رخ کرتے ہیں مختلف ہے خواہ منجانب اللہ ان کو ایسا ہی حکم ملا ہے یا انہوں نے خود کوئی جانب مقرر کرلی ہے بہرحال یہ امر واقعہ ہے کہ مختلف قوموں کے قبلے مختلف ہوتے چلے آئے ہیں تو اسی حالت میں اگر نبی امی ﷺ کے لئے کوئی خاص قبلہ مقرر کردیا گیا تو انکار وتعجب کی کیا بات ہے، مذہبی مسائل میں فضول بحثوں سے اجتناب کی ہدایت فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ اس سے پہلے جملہ میں یہ فرمایا تھا کہ مختلف قوموں کے مختلف قبلے ہیں، کوئی ایک دوسرے کے قبلہ کو تسلیم نہیں کرتا اس لئے اپنے قبلہ کے حق ہونے پر ان لوگوں سے بحث فضول ہے اس جملے کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ معلوم ہے کہ اس بحث سے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچنے گا تو پھر اس فضول بحث کو چھوڑ کر اپنے اصلی کام میں لگ جانا چاہئے اور وہ کام ہے نیک کاموں میں دوڑ دھوپ اور آگے بڑہنے کی کوشش اور چونکہ فضول بحثوں میں وقت ضائع کرنا اور مسابقت الی الخیرات میں سستی کرنا عموما آخرت سے غفلت کے سبب ہوتے ہیں جس کو اپنی آخرت اور انجام کی فکر درپیش ہو وہ کبھی فضول بحثوں میں نہیں الجھتا اپنی منزل طے کرنے کی فکر میں رہتا ہے اس لئے اگلے جملے میں آخرت کی یاد دلانے کے لئے ارشاد فرمایا اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا جس کا مطلب یہ ہے کہ بحثوں میں ہار جیت اور لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کی فکر میں سب چند روزہ دنیا کے لئے ہے اور عنقریب وہ دن آنے والا ہے جس میں اللہ تعالیٰ تمام اقوام عالم کو ایک جگہ جمع کرکے حساب لیں گے عقلمند کا کام یہ ہے کہ اپنے اوقات اس کی فکر میں صرف کرے، عبادات اور نیک اعمال میں بلاوجہ تاخیر کرنا مناسب نہیں مسارعت کرنا چاہئے لفظ فاسْتَبِقُوا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کو چاہئے کہ کسی نیک عمل کا جب موقع مل جائے تو اس کے کرنے میں دیر نہ کرے کیونکہ بعض اوقات اس کے ٹلانے اور تاخیر کرنے سے توفیق سلب ہوجاتی ہے پھر آدمی کام کر ہی نہیں سکتا خواہ وہ نماز روزہ ہو یا حج و صدقہ وغیرہ قرآن کریم میں یہی مضمون سورة انفال کی آیت میں زیادہ وضاحت سے آیا ہے، يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ (یعنی اے ایمان والو ! تم اللہ و رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو جبکہ رسول اللہ ﷺ تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان میں، کیا ہر نماز کا اول وقت میں پڑھنا افضل ہے اس مسابقت فی الخیرات سے بعض فقہاء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ ہر نماز کو اول وقت میں پڑھنا افضل ہے اور وہ روایات حدیث اس کی تائید میں پیش کی ہیں جن میں اول وقت نماز ادا کرنے کی فضیلت آئی ہے۔ امام شافعی کا یہی مذہب ہے مگر امام اعظم ابوحنیفہ ومالک رحمہما اللہ نے دوسری روایات حدیث کی بناء پر اس معاملے میں تفصیل کی ہے کہ جن نمازوں میں رسول اللہ ﷺ نے تاخیر کرکے پڑھنے کی تعلیم اپنے قول وعمل سے دی ہے ان کا اول اور افضل وقت وہی ہے جو ان احادیث میں بیان ہوا ہے باقی اپنی اصل پر اول وقت میں پڑھی جائیں مثلاً صحیح بخاری میں بروایت انس عشاء کی نماز کو مؤ خر کرکے پڑھنے کی فضیلت مذکور ہے اور حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو عشاء کی تاخیر پسند تھی (قرطبی) اسی طرح صحیح بخاری و ترمذی میں بروایت ابوذر منقول ہے کہ ایک سفر میں حضرت بلال نے ظہر کی اذان اول وقت میں دینا چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے روکا اور فرمایا کہ جب وقت ذرا ٹھنڈا ہوجائے اس وقت اذان کہی جائے کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی آگ سے ہے مطلب یہ ہے کہ گرمی کے زمانے میں نماز ظہر کو تاخیر سے پڑھنا پسند فرمایا، ان روایات کی بناء پر امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے فرمایا کہ ان نمازوں میں اول وقت پر عمل کرنے کی صورت یہی ہے کہ جب وقت مستحب ہوجائے تو پھر تاخیر نہ کریں اور جہاں کوئی تاخیر کا حکم نہیں آیا وہاں بالکل ابتداء وقت ہی میں نماز پڑھنا افضل ہے جیسے مغرب، بہرحال آیت مذکورہ سے یہ بات باتفاق ثابت ہوگئی کہ جب نماز کا وقت آجائے تو بغیر ضرورت شرعیہ یا طبعیہ کے تاخیر کرنا اچھا نہیں ضرورت شرعیہ تو وہی ہے جو اوپر لکھی گئی کہ بعض نمازوں کی تاخیر کا آنحضرت ﷺ نے حکم دیا ہے اور ضرورت طبعیہ اپنے ذاتی عوارض بیماری و محتاجی کے سبب تاخیر کرنا واللہ اعلم۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں رسول تم ہی میں کا پڑہتا ہے تمہارے آگے آیتیں ہماری اور پاک کرتا ہے تم کو اور سکھلاتا ہے تم کو کتاب اور اس کے اسرار اور سکھاتا ہے تم کو جو تم نہ جانتے تھے،

خلاصہ تفسیر (یعنی ہم نے کعبہ کو قبلہ مقرر کرکے حضرت ابراہیم ؑ کی ایک دعا جو درباب مقبولیت بناء کعبہ تھی اس طرح قبول کی) جس طرح (ان کی دوسری دعا جو درباب بعثت محمدیہ کے تھی قبول کی کہ) تم لوگوں میں ہم نے ایک (عظیم الشان) رسول کو بھیجا (جو کہ) تم ہی میں سے (ہیں اور وہ) ہماری آیات (و احکام) پڑھ پڑھ کر تم کو سناتے ہیں اور (خیالات و رسوم جہالت سے) تمہاری صفائی کرتے رہتے ہیں اور تم کو کتاب (الہی) اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور تم کو ایسی (مفید) باتیں تعلیم کرتے ہیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی (اور نہ کتب سابقہ یا عقل ان کے لئے کافی تھی اور اس شان کے رسول کے مبعوث ہونے کی ابراہیم ؑ کی دعاء تھی سو اس کا ظہور ہوگیا) ان (مذکورہ) نعمتوں پر مجھ کو (منعم ہونے کی حیثیت سے) یاد کرو میں تم کو (عنایت سے) یاد رکھوں گا اور میری (نعمت کی) شکر گذاری کرو اور (انکار نعمت یا ترک اطاعت سے) میری ناسپاسی مت کرو، معارف و مسائل یہاں تک قبلہ کی بحث چلی آرہی تھی اب اس بحث کو ایسے مضمون پر ختم فرمایا گیا ہے جو اس بحث کی تمہید میں حضرت ابراہیم ؑ بانی کعبہ کی دعا میں ضمناً آیا تھا یعنی رسول اللہ ﷺ کا اولاد ابراہیم ؑ میں ایک خاص شان کے ساتھ مبعوث ہونا اس میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت میں بانی کعبہ کی دعا کو بھی دخل ہے اس لئے اگر ان کا قبلہ کعبہ کو بنادیا گیا تو اس میں کوئی تعجب یا انکار کی بات نہیں ہے، كَمَآ اَرْسَلْنَا میں حرف کاف جو تشبیہ کے لئے آتا ہے اس کی ایک توجیہ تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر سے معلوم ہوچکی ہے دوسری ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے جس کو قرطبی نے اختیار کیا ہے کہ اس حرف کاف کا تعلق بعد کی آیت فاذْكُرُوْنِيْٓ سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ جیسا ہم نے تم پر ایک نعمت قبلہ کی پھر دوسری نعمت رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی مبذول فرمائی ہے ایسی ہی نعمت ذکر اللہ بھی ہے ان سب نعمتوں کا شکر ادا کرو تاکہ یہ نعمتیں اور زیادہ ہوجائیں قرطبی نے فرمایا کہ كَمَآ اَرْسَلْنَا کا کاف یہاں ایسا ہی ہے جیسے انفال میں كَمَآ اَخرَجَکَ اور سورة حجر میں كَمَآ اَنزلنا علی المقتَسمین آیا ہے، فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ ذکر کے اصلی معنی یاد کرنے کے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے زبان سے ذکر کرنے کو بھی ذکر اس لئے کہا جاتا ہے کہ زبان ترجمان قلب ہے اس سے معلوم ہوا کہ ذکر زبانی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ دل میں بھی اللہ کی یاد ہو مولانا رومی نے اسی کے متعلق فرمایا، بر زبان تسبیح در دل گاؤ خر ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص زبان سے ذکر و تسبیح میں مشغول ہو مگر اس کا دل حاضر نہ ہو اور ذکر میں نہ لگے تو وہ بھی فائدہ سے خالی نہیں۔ حضرت ابوعثمان سے کسی نے ایسی ہی حالت کی شکایت کی کہ ہم زبان سے ذکر کرتے ہیں مگر قلوب میں اس کی کوئی حلاوت محسوس نہیں کرتے آپ نے فرمایا اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر کرو کہ اس نے تمہارے ایک عضو یعنی زبان کو تو اپنی اطاعت میں لگا لیا (قرطبی)
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانو میرا اور ناشکری مت کرو۔

ذکر اللہ کے فضائل بے شمار ہیں اور یہی ایک فضیلت کچھ کم نہیں ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد فرماتے ہیں ابو عثمان نہدی نے کہا کہ میں اس وقت کو جانتا ہوں جس وقت اللہ تعالیٰ ہمیں یاد فرماتے ہیں لوگوں نے کہا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے فرمایا اس لئے کہ قرآن کریم کے وعدے کے مطابق جب کوئی بندہ مومن اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتے ہیں اس لئے سب کو یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ جس وقت ہم اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی یاد فرمائیں گے، اور معنی آیت کے یہ بھی ہیں کہ تم مجھے اطاعت احکام کے ساتھ یاد کرو تو میں تمہیں ثواب اور مغفرت کے ساتھ یاد کروں گا حضرت سعید بن جبیر نے ذکر اللہ کی تفسیر ہی اطاعت و فرمانبرداری سے کی ہے وہ فرماتے ہیں، فمن لم یطعہ لم یذکرہ وان کثر صلوتہ و تسبیحہ۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی نہ کی اس نے اللہ کو یاد نہیں کیا اگرچہ ظاہر میں اس کی نماز اور تسبیح کتنی بھی ہو، ذکر اللہ کی اصل حقیقت قرطبی نے بحوالہ احکام القرآن ابن خویز منذاذ ایک حدیث بھی اس مضمون کی نقل کہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی یعنی اس کے احکام حلال و حرام کا اتباع کیا اس نے اللہ کو یاد کیا اگرچہ اس کی (نفل) نماز روزہ وغیرہ کم ہوں اور جس نے احکام خداوندی کی خلاف ورزی کی اس نے اللہ کو بھلا دیا اگرچہ (بظاہر) اس کی نماز روزہ تسبیحات وغیرہ زیادہ ہوں، حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ جو شخص حقیقی طور پر اللہ کو یاد کرتا ہے وہ اس کے مقابلے میں ساری چیزوں کو بھول جاتا ہے اور اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ خود اس کے لئے ساری چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اور تمام چیزوں کا عوض اس کو عطا کردیتے ہیں، اور حضرت معاذ نے فرمایا کہ انسان کا کوئی عمل اس کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے میں ذکر اللہ کے برابر نہیں اور ایک حدیث قدسی بروایت ابوہریرہ میں ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا ہے اور میرے ذکر میں اس کے ہونٹ ہلتے رہیں ذکر اللہ کے فضائل بیشمار ہیں ان کا مختصر خلاصہ احقر نے اپنے رسالہ ذکر اللہ میں جمع کردیا ہے،
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے مسلمانو ! مدد لو صبر اور نماز سے، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

ربط تحویل قبلہ میں جو مخالفین کی طرف سے اعتراض تھا اس کے دو اثر تھے ایک مذہب اسلام پر کہ اعتراض سے مذہب کی حقانیت میں شبہ پیدا کیا جایا کرتا ہے، اوپر کی آیتوں میں اس اعتراض کا جواب دے کر اس کا اثر کا دفع کرنا مقصود تھا دوسرا اثر طبائع اہل اسلام پر کہ اعتراض سے بالخصوص جواب دینے کے بعد بھی اس پر بےجا اصرار کرنے سے قلب میں رنج اور صدمہ پیدا ہوتا ہے آیت آئندہ میں تخفیف حزن کا طریقہ کہ صبر وصلوۃ ہے بتلا کر اس دوسرے اثر کو زائل فرماتے ہیں، خلاصہ تفسیر اے ایمان والو ! (طبیعتوں میں غم ہلکا کرنے کے بارے میں) صبر اور نماز سے سہارا (اور مدد) حاصل کرو بلاشبہ حق تعالیٰ (ہر طرح سے) صبر کرنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں (اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ تو بدرجہ اولیٰ وجہ یہ کہ نماز سب سے بڑی عبادت ہے جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جو اس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولیٰ یہ بشارت ہوگی) معارف و مسائل اِسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ اس آیت میں یہ ہدایت ہے کہ انسان کی تمام حوائج و ضروریات کے پورا کرنے اور تمام آفات و مصائب اور تکالیف کو دور کرنے کا نسخہ اکسیر دو جزء سے مرکب ہے ایک صبر دوسرے نماز اور اس نسخہ کے تمام حوائج اور تمام مصائب کے لئے عام ہونے کی طرف قرآن عظیم نے اس طرح سے اشارہ کردیا ہے کہ اِسْتَعِيْنُوْا کو عام چھوڑا ہے کوئی خاص چیز ذکر نہیں فرمائی کہ فلاں کام میں ان دونوں چیزوں سے مدد حاصل کرو، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے انسان کی ہر ضرورت میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے تفسیر مظہری میں اس عموم کو واضح کردیا ہے اب اس دو جزئی نسخے کے دونوں اجزاء کو سمجھ لیجئے، صبر کی اصل حقیقت صبر کے اصلی معنی اپنے نفس کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے ہیں قرآن وسنت کی اصطلاح میں صبر کے تین شعبے ہیں ایک اپنے نفس کو حرام و ناجائز چیزوں سے روکنا۔ دوسرے طاعات و عبادات کی پابندی پر مجبور کرنا تیسرے مصائب وآفات پر صبر کرنا یعنی جو مصیبت آگئی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھنا اور اس کے ثواب کا امیدوار ہونا اس کے ساتھ اگر تکلیف و پریشانی کے اظہار کا کوئی کلمہ بھی منہ سے نکل جائے تو وہ صبر کے منافی نہیں (ذکرہ ابن کثیر عن سعید بن جبیر) یہ تینوں شعبے صبر کے فرائض میں داخل ہیں ہر مسلمان پر یہ پابندی عائد ہے کہ تینوں طرح کے صبر کا پابند ہو عوام کے نزدیک صرف تیسرے شعبے کو تو صبر کہا جاتا ہے دو شعبے جو صبر کی اصل اور بنیاد ہیں عام طور پر ان کو صبر میں داخل ہی نہیں سمجھا جاتا، قرآن و حدیث کی اصطلاح میں صابرین انھیں لوگوں کا لقب ہے جو تینوں طرح کے صبر میں ثابت قدم ہوں بعض روایات میں ہے کہ محشر میں نداء کی جائے گی کہ صابرین کہاں ہیں ؟ تو وہ لوگ جو تینوں طرح کے صبر پر قائم رہ کر زندگی سے گذرے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں گے اور ان کو بلاحساب جنت میں داخلہ کی اجازت دے دیجائے گی ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ آیت قرآن اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (10: 39) سے بھی اس طرف اشارہ ہوتا ہے ، نماز، دوسرا جزء اس نسخہ کا جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور تمام پریشانیوں اور آفتوں سے نجات دلانے میں اکسیر ہے نماز ہے صبر کی جو تفسیر ابھی لکھی گئی ہے اس سے معلوم ہوگیا ہے کہ درحقیقت نماز اور تمام عبادات صبر ہی کے جزئیات ہیں مگر نماز کو جداگانہ بیان اس لئے کردیا کہ تمام عبادات میں سے نماز ایک ایسی عبادت ہے جو صبر کا مکمل نمونہ ہے کیونکہ نماز کی حالت میں نفس کو عبادت وطاعت پر محبوس بھی کیا جاتا ہے اور تمام معاصی ومکروہات سے بلکہ بہت سے مباحات سے بھی نفس کو بحالت نماز روکا جاتا ہے اس لئے صبر جس کے معنی نفس کو اپنے قابو میں رکھ کر تمام طاعات کا پیرو اور تمام معاصی سے مجتنب و بیزار بنانا ہے نماز اس کی ایک عملی تمثیل ہے، اس کے علاوہ نماز کو انسان کی تمام حاجات کے پورا کرنے اور تمام آفتوں مصیبتوں سے نجات دلانے میں ایک خاص تاثیر بھی ہے گو اس کی وجہ اور سبب معلوم نہ ہو جیسے دواؤں میں بہت سی ادویات کو مؤ ثر بالخاصہ تسلیم کیا جاتا ہے، یعنی کیفیات حرارت وبرودت کے حساب سے جیسے کسی خاص مرض کے ازالہ کے لئے بعض دوائیں بالخاصہ مؤ ثر ہوتی ہیں جیسے درد گردہ کے لئے فرنگی دانہ کو ہاتھ یا منہ میں رکھنا اور بہت سے امراض کے لئے عود صلیب وغیرہ کو گلے میں ڈالنا مؤ ثر بالخاصہ ہے سبب نامعلوم ہے لوہے کو کھنچنے میں مقناطیس مؤ ثر بالخاصہ ہے وجہ معلوم نہیں اسی طرح نماز تمام انسانی ضروریات کی کفالت اور تمام مصائب سے نجات دلانے میں مؤ ثر باالخاصہ ہے بشرطیکہ نماز کو نماز کی طرح آداب اور خشوع خضوع کے ساتھ پڑھا جائے ہماری جو نمازیں غیر مؤ ثر نظر آتی ہیں اس کا سبب ہمارا قصور ہے کہ نماز کے آداب اور خشوع و خضوع میں کوتاہی ہوتی ہے ورنہ رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کوئی مہم پیش آتی تو نماز کی طرف رجوع فرماتے تھے اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس مہم کو پورا فرما دیتے تھے حدیث میں ہے، اذاحزبہ امر فزع الی الصلوٰۃ۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی ضرورت پیش آتی تو نماز کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے۔ صبر اور نماز تمام مشکلات و مصائب سے نجات کا سبب اس لئے ہے کہ صبر سے اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ اس کلمہ میں اس کا راز بتلا دیا گیا ہے کہ صبر حل مشکلات اور دفع مصائب کا سبب کیسے بنتا ہے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ صبر کے نتیجہ میں انسان کو حق تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کے ساتھ رب العزت کی طاقت ہو اس کا کونسا کام رک سکتا ہے اور کونسی مصیبت اس کو عاجز کرسکتی ہے،
Ayahs 2:154–155

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور نہ کہو ان کو جو مارے گئے خدا کی راہ میں کہ مردے ہیں بلکہ وہ زندے ہیں لیکن تم کو خبر نہیں،

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصانوں سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے اور خوش خبری دے صبر کرنے والوں کو

ربط اوپر ایک خاص ناگوار واقعہ میں صبر کی تعلیم اور صابرین کی فضیلت بیان فرمائی تھی آیات آئندہ میں اور بھی بعض واقعات خلاف طبع کی تفصیل اور اس میں صبر کی ترغیب اور فضیلت بیان فرماتے ہیں جن میں قتل و قتال مع الکفار کا مضمون مقدم فرماتے ہیں دو وجہ سے اول بوجہ اعظم ہونے کے کہ اعظم پر صبر کرنے والا اصغر پر بدرجہ اولی صبر کرے گا دوسرے خاص طور پر مناسب مقام ہونے کی وجہ سے کیونکہ معترضین مذکورین کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تھا، خلاصہ تفسیر اور جو لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی دین کے واسطے) قتل کئے جاتے ہیں ان (کی ایسی فضیلت ہی کہ ان) کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں بلکہ وہ لوگ (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں لیکن تم (اپنے موجودہ) حواس سے (اس حیات کا) ادراک نہیں سکتے اور (دیکھو) ہم صفت رضا و تسلیم میں جو کہ مقتضا ایمان کا ہے) تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے (جو کہ ہجوم مخالفین یا نزول حوادث وشدائد سے پیش آوے) اور (کسی قدر فقرو) فاقہ سے اور (کسی قدر) مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے (مثلا مواشی مرگئے یا کوئی آدمی مرگیا یا بیمار ہوگیا یا پھل اور کھیتی کی پیداوار تلف ہوگئی پس تم صبر کرنا) اور (جو لوگ ان امتحانوں میں پورے اتر آویں اور مستقل رہیں تو) آپ ایسے صابرین کو بشارت سنا دیجئے (جن کی یہ عادت ہے) کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ (دل سے سمجھ کر یوں) کہتے ہیں کہ ہم تو (مع مال واولاد حقیقۃً اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں (اور مالک حقیقی کو اپنی ملک میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار حاصل ہے اس سے مملوک کا تنگ ہونا کیا معنی) اور ہم سب (دنیا سے) اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانے والے ہیں (سو یہاں کے نقصانوں کا بدلہ وہاں جاکر رہے گا اور جو مضمون بشارت کا ان کو سنایا جاوے گا وہ یہ ہے کہ) ان لوگوں پر (جدا جدا) خاص خاص رحمتیں بھی ان کے پروردگار کی طرف سے (مبذول) ہوں گی اور (سب پر بالاشتراک) عام رحمت بھی ہوگی اور یہی لوگ ہیں جن کی (حقیقت حال تک) رسائی ہوگئی (کہ حق تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک اور نقصان کا تدارک کردینے والا سمجھ گئے) معارف و مسائل شہدا اور انبیاء کی حیات برزخی اور اس کے درجات میں تفاضل یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اسلامی روایات کی رو سے ہر مرنے والے کو برزخ میں ایک خاص قسم کی حیات ملتی ہے جس سے وہ قبر کے عذاب یا ثواب کو محسوس کرتا ہے اس میں مومن و کافر یا صالح وفاسق میں کوئی تفریق نہیں لیکن اس حیات برزخی کے مختلف درجات ہیں ایک درجہ تو سب کو عام اور شامل ہے کچھ مخصوص درجے انبیاء و صالحین کے لئے مخصوص ہیں اور ان میں بھی باہمی تفاضل ہے اس مسئلہ کی تحقیق پر علماء کے مقالات وتحقیقات بیشمار ہیں لیکن ان میں سے جو بات اقرب الی الکتاب والسنت ہے اور شبہات سے پاک ہے اس کو سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی نے بیان القرآن میں واضح فرمایا ہے اس جگہ اسی کو نقل کرنا کافی معلوم ہوا، فایسے مقتول کو جو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے شہید کہتے ہیں اور اس کی نسبت گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ بعد مرنے کے گو برزخی حیات میں اور مردوں سے ایک گونہ امتیاز ہے اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اس کی یہ حیات آثار میں اوروں سے قوی ہے جیسے انگلیوں کے اگلے پوروے اور ایڑی اگرچہ دونوں میں حیات ہے اور حیات کے آثار بھی دونوں میں موجود ہیں لیکن انگلیوں کے پوروں میں حیات کے آثار احساس وغیرہ بہ نسبت ایڑی کے زیادہ ہیں اسی طرح شہداء میں آثار حیات عام مردوں سے بہت زیادہ ہیں حتیٰ کے شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر برخلاف معمولی مردوں کے اس کے جسد ظاہری تک بھی پہنچا ہے کہ اس کا جسم باوجود مجموعہ گوشت و پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور مثل جسم زندہ کے صحیح سالم رہتا ہے جیسا کہ احادیث اور مشاہدات شاہد ہیں پس اس امتیاز کی وجہ سے شہداء کو احیاء کہا گیا اور ان کو دوسرے اموات کے برابر اموات کہنے کی ممانعت کی گئی مگر احکام ظاہرہ میں وہ عام مردوں کی طرح ہیں ان کی میراث تقسیم ہوتی ہے اور ان کی بیویاں دوسروں سے نکاح کرسکتی ہیں اور یہی حیات ہے جس میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) شہداء سے بھی زیادہ امتیاز اور قوت رکھتے ہیں یہاں تک کہ سلامت جسم کے علاوہ اس حیات برزخی کے کچھ آثار ظاہری احکام پر بھی پڑتے ہیں مثلا ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی ان کی ازواج دوسروں کے نکاح میں نہیں آسکتیں، پس اس حیات میں سب سے قوی تر انبیاء (علیہم السلام) ہیں پھر شہداء پھر اور معمولی مردے البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اولیاء و صالحین بھی اس فضیلت میں شہداء کے شریک ہیں سو مجاہدہ نفس میں مرنے کو بھی معنی شہادت میں داخل سمجھیں گے اس طور پر وہ بھی شہداء ہوگئے یا یوں کہا جاوے کہ آیت میں شہداء کی تخصیص عام قرون کے اعتبار سے ہے شہداء کے ہم مرتبہ دوسرے لوگ صالحین وصدیقین کے اعتبار سے نہیں، اور اگر کسی شخص نے کسی شہید کی لاش کو خاک خوردہ پایا ہو تو سمجھ لے کہ ممکن ہے اس کی نیت خالص نہ ہو جس پر مدار ہے قتل کے شہادت ہونے کا اور صرف قتل شہادت نہیں ہے اور اگر فرضاً ایسا شہید خاک خوردہ پایا جاوے جس کا قتل فی سبیل اللہ اور اس کا جامع شرائط شہادت ہونا دلیل قطعی تواتر وغیرہ سے ثابت ہو (جس کا شبہ صاحب روح المعانی کو ہوگیا ہے) تو اس کی وجہ میں کہا جاوے گا کہ حدیث میں جس چیز کی تصریح ہے وہ یہ انبیاء (علیہم السلام) وشہدا کے جسم کو زمین نہیں کھاتی یعنی مٹی ان کے جسم کو خراب نہیں کرسکتی اجزاء ارضیہ مٹی وغیرہ کے علاوہ کسی دوسری چیز سے ان کے جسم کا متاثر ہو کر فنا ہوجانا پھر بھی ممکن ہے کیونکہ زمین میں اور بھی بہت سی اقسام و انواع کی دھاتیں اور ان کے اجزاء اللہ تعالیٰ نے رکھ دیئے ہیں اگر ان کی وجہ سے کسی شہید کا جسم متاثر ہوجائے تو اس آیت کے منافی نہیں۔ چنانچہ دوسرے اجسام مرکبہ مثل اسلحہ وادویہ واغذیہ واخلاط و اجسام بسیطہ مثل آب وآتش وباد کی تاثیر انبیاء (علیہم السلام) کے اجساد میں بھی ثابت ہے اور شہداء کی حیات بعد الممات انبیاء (علیہم السلام) کی حیات قبل الممات سے اقویٰ نہیں اور بعض حصہ ارض میں بعض اجزاء غیر ارضیہ بھی شامل ہوجاتے ہیں جس طرح دوسرے عناصر میں بھی مختلف عناصر شامل ہوجاتے ہیں سو اگر ان اجزائے غیر ارضیہ سے ان کے اجساد متأثر ہوجاویں تو اس سے ان احادیث پر اشکال نہیں ہوتا جن میں حرمت اجساد علی الارض وارد ہے، اور ایک جواب یہ ہے کہ امتیاز اجساد شہداء کے لئے یہ کافی ہے کہ دوسری اموات سے زیادہ مدت تک ان کے اجساد خاک سے متأثر نہ ہوں گو کسی وقت میں ہوجاویں اور احادیث سے یہی امر مقصود کہا جاوے کہ ان کی محفوظیت اجساد کی خارق عادت ہے اور خرق عادت کی دونوں صورتیں ہیں حفظ مؤ بد اور حفظ طویل اور چونکہ عالم برزخ حواس یعنی آنکھ کان، ناک، ہاتھ وغیرہ سے مدرک نہیں ہوتا اس لئے لا تشعرون فرمایا گیا کہ تم ان کی حیات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔
Ayahs 2:156–157

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب پہنچے ان کو مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں،

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں پر عنایتیں ہیں اپنے رب کی اور مہربانی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر۔

مصائب پر صبر کے آسان کرنے کی خاص تدبیر فاللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بندوں کا امتحان ہوتا ہے اس کی حقیقت آیت وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ کی تفسیر میں گذر چکی ہے اور حوادث کے واقع ہونے سے پہلے ان کی خبر دیدینے میں یہ فائدہ ہوا کہ صبر آسان ہوجاتا ہے ورنہ دفعۃ کوئی صدمہ پڑنے سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے اور یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا دار المحن ہے (یعنی محنتوں اور تکلیفوں کی جگہ ہے) اس لئے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھا جاوے تو بےصبری نہ ہوگی اور چونکہ یہ لوگ نفس عمل صبر میں سب مشترک ہیں اس لئے اس کا صلہ مشترکہ تو عام رحمت ہے جو نفس صبر پر موعود ہے اور چونکہ مقدار اور شان اور خصوصیت پر صابر کے صبر کی جدا ہے اس لئے ان خصوصیات کا صلہ جدا جدا خاص عنایتوں سے ہوگا جو ان خاص خصوصیات پر موعود ہیں جیسے دنیا میں مواقع انعام پر دعوت طعام تو عام ہوتی پھر روپے اور جوڑے ہر ایک کو علی قدر الحیثیت والخدمت دئیے جاتے ہیں، مصیبت میں انا للہ کو سمجھ کر پڑھا جائے تو تسکین قلب کا بہترین علاج ہے صابرین کی طرف نسبت کرکے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ مصیبت کے وقت انا للہ وانا الیہ راجعون کہا کرتے ہیں حقیقت میں مقصود اس کی تعلیم سے یہ ہے کہ مصیبت والوں کو ایسا کہنا چاہئے کیونکہ ایسا کہنے میں ثواب بھی بڑا ہے اور اگر دل سے سمجھ کر یہ الفاظ کہے جائیں تو غم ورنج کے دور کرنے اور قلب کو تسلی دینے کے معاملہ میں بھی اکسیر کا حکم رکھتے ہیں۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مردہ نشانیوں میں سے ہیں اللہ کی سو جو کوئی حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ تو کچھ گناہ نہیں اس کو کہ طواف کرے ان دونوں میں اور جو کوئی اپنی خوشی سے کرے نیکی تو اللہ قدر دان ہے سب کچھ جاننے والا۔

ربط آیات متقدمہ میں وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ سے دور تک خانہ کعبہ کا مفصل ذکر ہوا ہے جس کے اول میں خانہ کعبہ کے جائے عبادت ہونے کا بیان تھا اور اس کے آگے دعائے ابراہیمی کی حکایت تھی کہ انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ ہمیں احکام مناسک سکھلا دئیے جاویں اور مناسک میں حج وعمرہ بھی داخل ہے پس بیت اللہ کا معبد ہونا جیسے اس کے قبلہ نماز بنانے سے ظاہر کیا گیا اسی طرح حج وعمرہ میں بیت اللہ کو مقصد بنا کر اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا، اب آیت آئندہ میں اس کے مقصد حج وعمرہ بننے کے متعلق ایک مضمون کا بیان ہے وہ یہ کہ صفا ومروہ دو پہاڑیاں مکہ میں ہیں حج وعمرہ میں کعبہ کا طواف کرکے ان کے درمیان میں دوڑتے چلتے ہیں جس کو سعی کہتے ہیں چونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی یہ سعی ہوتی تھی اور اس وقت صفا ومروہ پر کچھ مورتیاں رکھی تھیں اس لئے بعض مسلماں کو شبہ پڑگیا کہ شاید یہ رسوم جاہلیت سے ہو اور موجب گناہ ہو اور بعض جاہلیت میں بھی اس کو گناہ سمجھتے تھے ان کو یہ شبہ ہوا کہ شاید اسلام میں بھی گناہ ہو اللہ تعالیٰ کو یہ شبہ دفع فرمانا مقصود ہے پس مضمون سابق میں کعبہ کے قبلہ نماز ہونے پر اعتراض کفار کا دفع کرنا مقصود تھا اور مضمون لاحق میں کعبہ کے مقصد حج وعمرہ ہونے کے متعلق ایک امر یعنی صفا ومروہ کی سعی پر خود مسلمانوں کے شبہ کا ازالہ فرمانا مقصود ہے یہ وجہ دونوں مضمونوں میں ربط کی ہے، خلاصہ تفسیر (صفا ومروہ کی سعی میں کوئی شبہ نہ کرو کیونکہ) تحقیقاً صفا اور مروہ اور ان کے درمیان میں سعی کرنا) منجملہ یادگار (دین) خداوندی ہیں سو جو شخص حج کرے بیت اللہ کا یا (اس کا) عمرہ کرے اس پر ذرا بھی گناہ نہیں (جیسا تم کو شبہ ہوگیا) ان دونوں کے درمیان (سعی کے معروف طریقہ کے مطابق) آمد ورفت کرنے میں (جس کا نام سعی ہے اور گناہ کیا بلکہ ثواب ہوتا ہے کیونکہ یہ سعی تو شرعاً امر خیر ہے) اور ہمارے یہاں کا ضابطہ ہے کہ جو شخص خوشی سے کوئی امر خیر کرے تو حق تعالیٰ (اس کی بڑی) قدردانی کرتے ہیں (اور اس خیر کرنے والے کی نیت و خلوص) خوب جانتے ہیں، پس اس ضابطہ کی رو سے سعی کرنے والے کو بمقدار اخلاص ثواب عنایت ہوگا) معارف و مسائل بعض لغات کی تحقیق شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ شعائر جمع ہے شعیرہ کی جس کے معنی علامت کے ہیں، شعائر اللہ سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کی علامتیں قرار دیا ہے حج کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں اور اصطلاح قرآن وسنت میں خاص خانہ کعبہ کا قصد کرنے اور وہاں افعال مخصوصہ کے ادا کرنے کو حج کہا جاتا ہے عمرہ کے لفظی معنی زیارت کے ہیں اور اصطلاح شرع میں مسجد حرام کی حاضری اور طواف وسعی کو کہا جاتا ہے، صفا ومروہ کے درمیان سعی واجب ہے حج اور عمرہ اور سعی کا طریقہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ سعی امام احمد کے نزدیک سنت مستحبہ ہے اور مالک اور شافعی کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے کہ ترک سے ایک بکری ذبح کرنا پڑتی ہے، آیت مذکورہ کے الفاظ سے یہ شبہ نہ کرنا چاہئے کہ اس آیت میں تو صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے کے متعلق صرف اتنا فرمایا گیا ہے کہ وہ گناہ نہیں اس سے تو زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوا کہ سعی مباحات میں سے ایک مباح ہے وجہ یہ ہے کہ اس جگہ عنوان لَا جُنَاحَ کا سوال کی مناسبت سے رکھا گیا ہے سوال اسی کا تھا کہ صفا ومروہ پر بتوں کی مورتیں رکھی تھیں اور اہل جاہلیت انہی کی پوجا پاٹ کے لئے صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے تھے اس لئے یہ عمل حرام ہونا چاہئے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس میں کوئی گناہ نہیں چونکہ یہ دراصل سنت ابراہیمی ہے کسی کے جاہلانہ عمل سے کوئی گناہ نہیں ہوجانا یہ فرمانا اس کے واجب ہونے کے منافی نہیں۔
Ayahs 2:159–160

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارے صاف حکم اور ہدایت کی باتیں بعد اس کے کہ ہم ان کو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں ان پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنیوالے،

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اور درست کیا اپنے کلام کو اور بیان کردیا حق بات کو تو ان کو معاف کرتا ہوں اور میں ہوں بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان،

ربط اوپر بحث قبلہ کے ضمن میں صاحب قبلہ کی نبوت کے متعلق اہل کتاب کی حق پوشی کا مضمون مذکور تھا اس آیت میں اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗا الی قولہ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ آگے اس مضمون کی تکمیل کے واسطے حق کو چھپانے والوں کی اور کتمانِ حق پر اصرار کرنے والوں کی وعید اور توبہ کرنے پر معافی کا وعدہ ارشاد فرماتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر جو لوگ اخفاء کرتے ہیں ان مضامین کا جن کو ہم نے نازل کیا ہے جو کہ (اپنی ذات میں) واضح ہیں اور (دوسروں کے لئے) ہادی ہیں (اور اخفاء بھی) اس (حالت) کے بعد کہ ہم ان (مضامین) کو کتاب (الہیٰ توراۃ و انجیل) میں (نازل فرما کر) عام لوگوں پر ظاہر کرچکے ہوں ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتے ہیں (کہ اپنی رحمت خاصہ سے ان کو بعید کردیتے ہیں) اور (دوسرے بہتیرے) لعنت کرنے والے بھی (جن کو اس فعل سے نفرت ہے) ان پر لعنت بھیجتے ہیں (کہ ان پر بد دعا کرتے ہیں ہاں) مگر جو لوگ (ان اخفاء کرنے والوں میں اپنی اس حرکت سے) توبہ (یعنی حق تعالیٰ کے رو برو گذشتہ سے معذرت) کرلیں اور (جو کچھ ان کے اس فعل سے خرابی ہوگئی تھی آئندہ کے لئے اس کی) اصلاح کردیں (اور اس اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ ان اخفاء کئے ہوئے مضامین کو عام طور پر) ظاہر کردیں (تاکہ سب کو اطلاع ہوجائے اور ان پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا بار نہ رہے اور اظہار معتبر عند الشرع یہ ہے کہ اسلام کو قبول کرلیں کیونکہ اسلام نہ لانے میں نبوت محمدیہ کے متعلق عوام پر بھی حق مخفی رہے گا وہ یہی سمجھیں گے کہ اگر نبوت حق ہوتی تو یہ کتاب جاننے والے لوگ کیوں نہ ایمان لاتے خلاصہ یہ کہ یہ لوگ مسلمان ہوجاویں) تو ایسے لوگوں (کے حال) پر میں (عنایت سے) متوجہ ہوجاتا ہوں (اور ان کی خطاء معاف کردیتا ہوں) اور میری تو بکثرت عادت ہے تو یہ قبول کرلینا اور مہربانی فرمانا (کوئی توبہ کرنے والا ہونا چاہئے) البتہ جو لوگ (ان میں سے) اسلام نہ لاویں اور اسی حالت غیر اسلام پر مرجاویں ایسے لوگوں پر (وہ) لعنت (مذکورہ) اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں اور آدمیوں کی بھی سب کی (ایسے طور پر برسا کرے گی کہ) وہ ہمیشہ ہمیشہ کو اسی (لعنت) میں رہیں گے (حاصل یہ کہ وہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے اور ہمیشہ کا جہنم میں رہنے والا ہمیشہ ہی خدا کی خاص رحمت سے دور بھی رہے گا اور ہمیشہ ملعون رہنا یہی ہے اور ہمیشگی لعنت کے ساتھ یہ بھی ہے کہ داخل ہونے کے بعد کسی وقت) ان (پر) سے (جہنم کا) عذاب ہلکا (بھی) نہ ہونے پاوے گا اور نہ (داخل ہونے کے قبل) ان کو (کسی میعاد تک) مہلت دی جاوے گی (کیونکہ میعاد اس وقت دی جاتی ہے جب کہ مقدمہ میں گنجائش ہو اور گنجائش نہ ہونے پر اول ہی پیشی میں حکم سزا ہوجاتا ہے) معارف و مسائل علم دین کا اظہار اور پھیلانا واجب اور اس کا چھپانا سخت حرام ہے آیت مذکورہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایات بینات نازل کی گئی ہیں ان کا لوگوں سے چھپانا اتنا بڑا جرم عظیم ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت کرتے ہیں اور تمام مخلوق لعنت بھیجتی ہے اس سے چند احکام حاصل ہوئے، اولیہ کہ جس علم کے اظہار اور پھیلانے کی ضرورت ہے اس کا چھپانا حرام ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ؛ من سئل عن علم یعلمہ فکتمہ الجمہ اللہ یوم القیامۃ بلجام من النار (رواہ ابوہریرۃ وعمروبن العاص اخرجہ ابن ماجۃ (ازقرطبی) " یعنی جو شخص دین کے کسی حکم کا علم رکھتا ہے اور اس سے وہ حکم دریافت کیا جائے اگر وہ اس کو چھپائے گا تو قیامت کے روز اس کے منہ میں اللہ تعالیٰ آگ کا لگام ڈالیں گے، حضرات فقہاء نے فرمایا کہ یہ وعید اس صورت میں ہے جب کہ اس کے سوا کوئی دوسرا آدمی مسئلہ کا بیان کرنے والا وہاں موجود نہ ہو اور اگر دوسرے علماء بھی موجود ہوں تو گنجائش ہے کہ یہ کہہ دے کہ دوسرے علماء سے دریافت کرلو (قرطبی، جصاص) دوسریبات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ جس کو خود صحیح علم حاصل نہیں اس کو مسائل و احکام بتانے کی جرأت نہیں کرنا چاہئے، تیسرا مسئلہیہ معلوم ہوا کہ علم کو چھپانے کی یہ سخت وعید انہیں علوم و مسائل کے متعلق ہے جو قرآن وسنت میں واضح بیان کئے گئے ہیں اور جن کے ظاہر کرنے اور پھیلانے کی ضرورت ہے وہ باریک اور دقیق مسائل جو عوام نہ سمجھ سکیں بلکہ خطرہ ہو کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں گے تو ایسے مسائل و احکام کا عوام کے سامنے بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور وہ کتمان علم کے حکم میں نہیں ہے آیت مذکورہ میں لفظ من البینات والھدے سے اسی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ایسے ہی مسائل کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ تم اگر عوام کو ایسی حدیثیں سناؤ گے جن کو وہ پوری طرح نہ سمجھ سکیں تو ان کو فتنہ میں مبتلا کردو گے (قرطبی) اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے انہوں نے فرمایا کہ عام لوگوں کے سامنے صرف اتنے ہی علم کا اظہار کرو جس کو ان کی عقل وفہم برداشت کرسکے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تکذیب کریں کیونکہ جو بات ان کی سمجھ سے باہر ہوگی ان کے دلوں میں اس سے شبہات وخدشات پیدا ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس سے انکار کر بیٹھیں، اس سے معلوم ہوا کہ عالم کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مخاطب کے حالات کا اندازہ لگا کر کلام کرے جس شخص کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو اس کے سامنے ایسے مسائل بیان ہی نہ کرے اسی لئے حضرات فقہاء بہت سے مسائل کے بیان کے بعد لکھ دیتے ہیں مما یعرف ولا یعرف یعنی یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اہل علم کو خود تو سمجھ لینا چاہئے مگر عوام میں پھیلانا نہیں چاہئے، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا تمنعوا الحکمۃ اہلھا فتظلموھم ولا تضعوھا فی غیر اہلھا فتظلموھا۔ یعنی حکمت کی بات کو ایسے لوگوں سے نہ روکو جو اس بات کے اہل ہوں اگر تم نے ایسا کیا تو ان لوگوں پر ظلم ہوگا اور جو اہل نہیں ہیں ان کے سامنے حکمت کی باتیں نہ رکھو کیونکہ اس صورت میں اس حکمت پر ظلم ہوگا، امام قرطبی نے فرمایا کہ اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کسی کافر کو جو مسلمانوں کے مقابلہ میں مناظرے کرتا ہو یا کوئی مبتدع گمراہ جو لوگوں کو اپنے غلط خیالات کی طرف دعوت دیتا ہو اس کو علم دین سکھانا اس وقت تک جائز نہیں جب تک یہ ظن غالب نہ ہوجائے کہ علم سکھانے سے اس کے خیالات درست ہوجائیں گے، اسی طرح کسی بادشاہ یا حاکم وقت کو ایسے مسائل بتلانا جن کے ذریعہ وہ رعیت پر ظلم کرنے کا راستہ نکال لیں جائز نہیں اسی طرح عوام کے سامنے احکام دین میں رخصتیں اور حیلوں کی صورتیں بلا ضرورت بیان نہ کرنا چاہئے جس کی وجہ سے وہ احکام دین پر عمل کرنے میں حیلہ جوئی کے عادی بن جائیں (قرطبی) حدیث رسول بھی قرآن کے حکم میں ہے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر قرآن کی یہ آیت نہ ہوتی تو میں تم سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا آیت سے مراد یہی آیت ہے جس میں کتمان علم پر لعنت کی وعید شدید مذکور ہے ایسے ہی بعض دوسرے صحابہ کرام نے بھی بعض روایات حدیث کے ذکر کرنے کے ساتھ ایسے ہی الفاظ فرمائے کہ اگر قرآن کریم کی یہ آیت کتمان علم کے بارے میں نہ ہوتی تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا، ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے نزدیک حدیث رسول اللہ ﷺ قرآن ہی کے حکم میں ہے کیونکہ آیت میں تو کتمان کی وعید ان لوگوں کے لئے آئی ہے جو قرآن میں نازل شدہ ہدایات وبینات کو چھپائیں اس میں حدیث کا صراحۃ ذکر نہیں لیکن صحابہ کرام ؓ اجمعین نے حدیث رسول اللہ ﷺ کو بھی قرآن ہی کے حکم میں سمجھ کر اس کے اخفاء کرنے کو اس وعید کا سبب سمجھا۔ بعض گناہوں کا وبال ایسا ہوتا ہے کہ اس پر ساری مخلوق لعنت کرتی ہے وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ میں قرآن کریم نے لعنت کرنے والوں کو متعین نہیں کیا کہ کون لوگ لعنت کرتے ہیں امام تفسیر مجاہد اور عکرمہ نے فرمایا کہ اس عدم تعیین سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور ہر مخلوق ان پر لعنت کرتی ہے یہاں تک کہ تمام جانور اور حشرات الارض بھی ان پر لعنت کرتے ہیں کیونکہ ان کی بداعمالی سے ان سب مخلوقات کو نقصان پہونچتا ہے حضرت براء بن عازب کی حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللاّٰعِنُوْنَ مراد تمام زمین پر چلنے والے جانور ہیں (قرطبی بحوالہ ابن ماجہ باسناد حسن)
Ayahs 2:161–162

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور مرگئے کافر ہی انہی پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی،

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

ہمیشہ رہیں گے اسی لعنت میں نہ ہلکا ہوگا ان پر عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی۔

کسی معیین شخص پر لعنت اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کے کفر پر مرنے کا یقین نہ ہو وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ کے لفظ سے جصاص اور قرطبی وغیرہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ جس کافر کے کفر کی حالت میں مرنے کا یقین نہ ہو اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور چونکہ ہمیں کسی شخص کے خاتمہ کا یقینی علم ہونے کا اب کوئی ذریعہ نہیں اس لئے کسی کافر کا نام لے کر اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور رسول اللہ ﷺ نے جن کافروں پر نام لے کر لعنت کی ہے آپ کو ان کی موت علی الکفر کا منجانب اللہ علم ہوگیا تھا البتہ عام کافروں، ظالموں پر بغیر تعیین کے لعنت کرنا درست نہیں ہے، اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جب لعنت کا معاملہ اتنا شدید ہے کہ کسی کافر پر بھی اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کا یقین نہ ہوجائے کہ اس کی موت کفر ہی پر ہوگی تو کسی مسلمان پر یا کسی جانور پر لعنت کیسے جائز ہوسکتی ہے اور عوام اس سے بالکل غفلت میں ہیں خصوصاً عورتیں کہ بات بات پر لعنت کے الفاظ اپنے متعلقین کے متعلق استعمال کرتی رہتی ہیں اور لعنت صرف لفظ لعنت ہی کے کہنے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے ہم معنی جو الفاظ ہیں وہ بھی لعنت ہی کے حکم میں ہیں لعنت کے اصلی معنی خدا تعالیٰ کی رحمت سے دور کرنے کے ہیں اس لئے کسی کو مردود، راندہ درگاہ، اللہ مارا وغیرہ کے الفاظ کہنا بھی لعنت ہی کے حکم میں ہے۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور معبود تم سب کا ایک ہی ہے کوئی معبود نہیں اس کے سوا بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا

ربط مشرکین عرب نے جو آیت وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ اپنے عقیدہ کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے اور اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنا چاہئے حق تعالیٰ آگے دلیل بیان فرماتے ہیں، خلاصہ تفسیر اور (ایسا معبود) جو تم سب کے معبود بننے کا مستحق وہ تو ایک ہی معبود (حقیقی) ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی رحمٰن ہے، رحیم ہے (اور کوئی ان صفات میں کامل نہیں اور بدون کمال صفات معبودیت کا استحقاق باطل ہے پس بجز معبود حقیقی کے کوئی اور مستحق عبادت نہ ہوا) بلاشبہ آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے میں اور جہازوں (کے چلنے) میں جو کہ سمندر میں چلتے ہیں آدمیوں کے نفع کی چیزیں (اور اسباب) لے کر اور (بارش کے) پانی میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے برسایا پھر اس (پانی) سے زمین کو تروتازہ کیا اس کے خشک ہوئے پیچھے (یعنی اس میں نباتات پیدا کئے) اور (ان نباتات سے) ہر قسم کے حیوانات اس (زمین) میں پھیلا دی (کیونکہ حیوانات کی زندگی اور توالد وتناسل اسی غذائے نباتی کی بدولت ہے) اور ہواؤں کی (سمتیں اور کیفتیں) بدلنے میں (کہ کبھی پروا ہے کبھی پچھوا کبھی گرم ہے کبھی سرد) اور ابر (کے وجود) میں جو زمین و آسمان کے درمیان مقید (اور معلق) رہتا ہے (ان تمام چیزوں میں) دلائل (توحید کے موجود ہیں) ان لوگوں کے (استدلال کے) لئے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔ معارف و مسائل وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ اللہ تعالیٰ کی توحید متعدد اور مختلف حیثیتوں سے ثابت ہے مثلا وہ ایک ہے یعنی کائنات میں کوئی اس کی نظیر و شبیہ نہیں نہ کوئی اس کا ہمسر (برابر ہے اس لئے وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو واحد کہا جائے، دوسرے یہ کہ وہ ایک ہی استحقاق عبادت میں یعنی اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، تیسرے یہ کہ وہ ایک ہے یعنی ذی اجزاء نہیں وہ اجزاء واعضاء سے پاک ہے نہ اس کا تجزیہ اور تقسیم ہو سکتی ہے، چوتھے یہ کہ وہ ایک ہے یعنی اپنے وجود ازلی ابدی میں ایک وہ اس وقت بھی موجود تھا جب کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس وقت بھی موجود رہے گا جب کوئی چیز موجود نہ رہے گی اس لئے وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو واحد کہا جائے لفظ واحد میں یہ تمام حیثتیں توحید کی ملحوظ ہیں (جصاص)
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور کشتیوں میں جو کہ لے کر چلتی ہیں دریا میں لوگوں کے کام کی چیزیں اور پانی میں جسکو کہ اتارا اللہ نے آسمان سے پھر جلایا اس سے زمین کو اس کے مرگئے پیچھے اور پھیلائے اس میں سب قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلنے میں بادل میں جو کہ تابعدار ہے اس کے حکم کا درمیان آسمان و زمین کے بیشک ان سب چیزوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کیلئے

اس کے بعد حق تعالیٰ کے واحد حقیقی ہونے پر تکوینی علامات و دلائل بتلائے گئے ہیں جن کو ہر عالم و جاہل سمجھ سکتا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق اور رات دن کے دائمی انقلاب اس کی قدرت کاملہ اور توحید کے واضح دلائل ہیں کہ ان چیزوں کی پیدائش اور بقاء میں کسی دوسری ہستی کا کوئی دخل نہیں۔ اسی طرح پانی پر کشتیوں کا چلنا ایک بڑی آیت قدرت ہے کہ پانی کو حق تعالیٰ نے ایسا جوہر سیال بنادیا کہ رقیق اور سیال ہونے کے باوجود اس کی پیٹھ پر لاکھوں من وزن کے جہاز بڑے بڑے وزن کو لے کر مشرق سے مغرب تک منتقل کردیتے ہیں اور ان کو حرکت میں لانے کے لئے ہواؤں کا چلانا اور پھر اپنی حکمت کے ساتھ ان کے رخ بدلتے رہنا یہ سب اس کا پتہ دیتے ہیں کہ ان چیزوں کا پیدا کرنیوالا اور چلانے والا کوئی بڑا علیم وخبیر اور حکیم ہے اگر پانی کا مادہ سیال نہ ہو تو یہ کام نہیں ہوسکتا اور مادہ سیال بھی ہو تو جب تک ہوائیں نہ چلیں جو ان جہازوں کو حرکت میں لاتی ہیں جہازوں کا لمبی لمبی مسافتیں طے کرنا ممکن نہیں قرآن کریم نے اسی مضمون کو فرمایا، اِنْ يَّشَاْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰي ظَهْرِهٖ (33: 42) اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو ہواؤں کو ساکن کردیں اور یہ جہاز سمندر کی پشت پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ کے لفظ میں اشارہ کردیا گیا کہ بحری جہازوں کے ذریعہ ایک ملک کا سامان دوسرے ملک میں درآمد وبرآمد کرنے کے ذریعہ عام انسانوں کے بیشمار فائدے ہیں جن کو شمار بھی نہیں کیا جاسکتا اور یہ فائدے ہر زمانے ہر ملک میں نئی نئی صورتیں پیدا کردیتے ہیں، اسی طرح آسمان سے پانی کو قطرہ قطرہ کرکے اس طرح نازل کرنا کہ اس سے کسی چیز کو نقصان نہ پہنچنے اگر سیلاب کی طرح آتا تو کوئی آدمی جانور، سامان کچھ نہ رہتا پھر پانی برسنے کے بعد اس کا زمین پر محفوظ رکھنا، انسان کے بس کا نہیں اگر کہہ دیا جاتا کہ چھ مہینہ کے پانی کا کوٹہ اپنا اپنا ہر شخص رکھ لے تو ہر شخص اس کے رکھنے کا کیا انتظام کرتا اور کسی طرح رکھ بھی لیتا تو اس کو سڑنے اور خراب ہوجانے سے کیسے بچاتا قدرت نے یہ سب انتظامات خود فرمادئیے ارشاد فرمایا فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ وَاِنَّا عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ (18: 23) یعنی ہم نے ہی پانی کو زمین کے اندر ٹھہرا دیا اگرچہ ہمیں اس کی بھی قدرت تھی کہ بارش کا پانی برسنے کے بعد بہہ کر ختم ہوجاتا، مگر قدرت نے پانی کو اہل زمین انسان اور جانوروں کے لئے کہیں کھلے طور پر تالابوں اور حوضوں میں جمع کردیا کہیں پہاڑوں کی زمین میں پھیلی ہوئی رگوں کے ذریعہ زمین کے اندر اتار دیا اور پھر ایک غیر محسوس پائپ لائن ساری زمین میں بچھا دی ہر شخص جہاں چاہئے کھود کر پانی نکال لیتا ہے اور اسی پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بحر منجمد بنا کر برف کی صورت میں پہاڑوں کے اوپر لاد دیا جو سڑنے اور خراب ہونے سے بھی محفوظ ہے اور آہستہ آہستہ پگھل کر زمین کے اندر قدرتی پائپ لائن کے ذریعہ پورے عالم میں پہونچتا ہے غرض آیت مذکورہ میں قدرت کاملہ کے چند مظاہر کا بیان کرکے توحید کو ثابت کیا گیا علماء مفسرین نے ان تمام چیزوں پر تفصیلی بحث کی ہے دیکھئے۔ جصاص، قرطبی وغیرہ۔
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو ان کی محبت ایسے رکھتے ہیں جیسے محبت اللہ کی اور ایمان والوں کو ان سے زیادہ تر ہے محبت اللہ کی، اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جبکہ دیکھیں گے عذاب کہ قوت ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔

ربطاوپر کی آیات میں توحید کا اثبات تھا آگے مشرکین کی غلطی اور وعید کا بیان فرماتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اور ایک آدمی وہ (بھی) ہیں جو علاوہ خدا تعالیٰ کے اوروں کو بھی شریک (خدائی) قرار دیتے ہیں (اور ان کو اپنا کارساز سمجھتے ہیں اور) ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے (رکھنا) ضروری ہے (یہ حالت تو مشرکین کی ہے) اور جو مومن ہیں ان کو (صرف) اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت قوی محبت ہے (کیونکہ اگر کسی مشرک کو یہ ثابت ہوجاوے کہ میرے معبود سے مجھ پر کوئی ضرر پڑے گا تو فوراً محبت منقطع ہوجاوے اور مومن باوجود اس کے کہ نافع وضار حق تعالیٰ ہی کو اعتقاد کرتا ہے لیکن پھر بھی محبت ورضا اس کی باقی رہتی ہے ونیز اکثر مشرکین مصیبت شدیدہ کے وقت اپنے شرکاء کو چھوڑ دیتے ہیں اور مومنین من حیث الایمان مصیبت میں بھی خدا کو نہ چھوڑتے تھے اور محاورات میں ایسے قضا یا باعتبار حالت عالیہ کے بھی صادق ہوتے ہیں) اور کیا خوب ہوتا اگر یہ ظالم (مشرکین) جب (دنیا میں) کسی مصیبت کو دیکھتے تو (اس کے وقوع میں غور کرکے) یہ سمجھ لیا کرتے کہ سب قوت حق تعالیٰ ہی کو ہے (اور دوسرے سب اس کے سامنے عاجز ہیں چناچہ اس مصیبت کو نہ کوئی روک سکا نہ ٹال سکا اور نہ ایسے وقت میں اور کوئی یاد رہا) اور (اس مصیبت کی شدت میں غور کرکے) یہ (سمجھ لیا کرتے) کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب (آخرت میں کہ دار الجزاء ہے اور بھی) سخت ہوگا (تو اس طرح غور کرنے سے تراشیدہ معبودوں کا عجز اور حق تعالیٰ کی قدرت و عظمت منکشف ہو کر توحید و ایمان اختیار کرلیتے)