2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے واسطے پھر اگر تم روک دیئے جاؤ تو تم پر ہے جو کچھ کہ میسر ہو قربانی سے اور حجامت نہ کرو اپنے سروں کی جب تک نہ پہنچ چکے قربانی اپنے ٹھکانے پر پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کو تکلیف ہو سر کی تو بدلہ دیوے روزے یا خیرات یا قربانی، پھر جب تمہاری خاطر جمع ہو تو جو کوئی فائدہ اٹھاوے عمرہ ملا کر حج کے ساتھ تو اس پر ہے جو کچھ میسر ہو قربانی نہ ملے تو روزے رکھے تین حج کے دنوں میں اور سات روزے جب لوٹو یہ دس روزے ہوئے پورے، یہ حکم اس کے لئے ہے جس کے گھر والے نہ رہتے ہوں مسجد الحرام کے پاس اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو کہ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،

خلاصہ تفسیر گیارہواں حکم متعلق حج وعمرہ اور (جب حج یا عمرہ کرنا ہو تو اس) حج اور عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے (راضی کرنے کے) واسطے پورا پورا ادا کیا کرو (کہ اعمال وآداب بھی سب بجا لاؤ اور نیت بھی خالص ثواب ہی کی ہو) پھر اگر (کسی دشمن کی جانب سے یا کسی مرض کے سبب سے حج وعمرہ کے پورا کرنے سے) روک دیئے جاؤ تو (اس حالت میں یہ حکم ہے کہ) قربانی کا جانور جو کچھ میسر ہو (ذبح کرے اور حج وعمرہ کی جو وضع اختیار کر رکھی تھی موقوف کرے اس کو احرام کھولنا کہتے ہیں جس کا طریقہ شرع میں سر منڈانا ہے اور بال کٹا دینے کا بھی یہی اثر ہے) اور (یہ نہیں کہ فورا روک ٹوک کے ساتھ ہی تم کو احرام کھولنا درست ہوجاوے بلکہ) اپنے سروں کو (احرام کھولنے کی غرض سے) اس وقت تک مت منڈاؤ جب تک کہ (وہ) قربانی (کا جانور جس کے ذبح کا اس حالت میں حکم تھا) اپنے موقع پر نہ پہنچ جاوے (اور وہ موقع حرم ہے کہ اس قربانی کا جانور حدود حرم ہی میں ذبح کیا جاسکتا ہے وہاں اگر خود نہ جاسکے تو کسی کے ہاتھ بھیج کر ذبح کرایا جاوے جب جانور ذبح ہوجاوے اس وقت احرام کھولنا جائز ہوگا) البتہ اگر کوئی تم میں سے (کچھ) بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ (زخم یا درد یا جوؤں وغیرہ کی) تکلیف ہو (اور اس بیماری یا تکلیف کی وجہ سے پہلے ہی سر منڈانے کی ضرورت پڑے) تو (اس کو اجازت ہے کہ وہ سر منڈا کر) فدیہ (یعنی شرعی بدلہ) دیدے (یعنی خواہ تین) روزے سے یا (چھ مسکینوں کو فی مسکین صدقہ فطر کے برابر یعنی نصف صاع گیہوں) خیرات (کے طور پر) دیدینے سے یا (ایک بکری) ذبح کردینے سے پھر جب تم امن کی حالت میں ہو (خواہ تو پہلے ہی سے کوئی خوف ومزاحمت پیش نہیں آیا یا ہو کرجاتا رہا) تو (اس صورت میں حج وعمرہ کے متعلق قربانی کرنا ہر ایک کے ذمہ نہیں بلکہ خاص) جو شخص عمرہ سے اس کو حج کے ساتھ ملا کر منتفع ہوا ہو (یعنی ایام حج میں عمرہ بھی کیا ہو) تو (فقط اس پر واجب ہے کہ) جو کچھ قربانی میسر ہو (ذبح کرے اور جس نے صرف عمرہ کیا ہو یا صرف حج کیا ہو اس پر حج یا عمرہ کے متعلق کوئی قربانی نہیں) پھر (ایام حج میں حج وعمرہ کو جمع کرنے والوں میں سے) جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو (مثلا غریب ہے) تو (اس کے ذمہ بجائے قربانی کے) تین دن کے روزے ہیں (ایام) حج میں (کہ آخر ان ایام کا نویں تاریخ ذی الحجہ ہے) اور سات (دن کے روزے) ہیں جبکہ حج سے تمہارے لوٹنے کا وقت آجاوے (یعنی حج کرچکو خواہ لوٹنا ہو یا کہ وہیں رہنا ہو) یہ پورے دس (دن کے روزے) ہوئے (اور یہ بھی یاد رکھو کہ ابھی جو حج وعمرہ کے ملانے کا حکم ہوا ہے یہ (ملانا ہر ایک کو درست نہیں بلکہ خاص) اس شخص کے لئے (درست) ہے جس کے اہل (و عیال) مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے قرب (نواح) میں نہ رہتے ہوں (یعنی حدود حرم مکہ میں ان کا وطن نہ ہو) ان سب احکام کی بجاآوری میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ کسی امر میں خلاف نہ ہوجاوے) اور (خوب) جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ (بیباکی اور مخالفت کرنے والوں کو) سزائے سخت دیتے ہیں۔ (زمانہ افعال) حج (کا) چند مہینے ہیں جو (مشہور و) معلوم ہیں (ایک شوال دوسرا ذی قعدہ تیسرا دس تاریخیں ذی الحجہ کی) سو جو شخص ان (ایام) میں (اپنے ذمہ) حج مقرر کرلے (کہ حج کا احرام باندھ لے) تو پھر (اس شخص کو) نہ کوئی فحش بات (جائز) ہے اور نہ کوئی بےحکمی (درست) ہے اور نہ کسی قسم کا نزاع (و تکرار) زیبا ہے (بلکہ اس کو چاہئے کہ ہر وقت نیک ہی کاموں میں لگا رہے) اور جو نیک کام کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کی اطلاع ہوتی ہے (سو اس کا ثمرہ تم کو عنایت ہوگا) اور (جب حج کو جانے لگو تو) خرچ ضرور (ساتھ) لے لیا کرو سب سے بڑی بات (اور خوبی) خرچ میں (گداگری سے) بچا رہنا ہے اور اے ذی عقل لوگو (ان احکام کی تعمیل میں) مجھ سے ڈرتے رہو (اور کسی حکم کے خلاف مت کرو) (اور اگر حج میں کچھ اسباب تجارت ہمراہ لیجانا مصلحت سمجھو تو) تم کو اس میں ذرا بھی گناہ نہیں کہ (حج میں) معاش کی تلاش کرو جو (تمہاری قسمت میں) تمہارے پروردگار کی طرف سے (لکھی) ہے پھر جب تم لوگ عرفات (میں ٹھر کر وہاں) سے واپس آنے لگو تو مشعر حرام کے پاس (یعنی مزدلفہ میں آکر شب کو وہاں قیام کرکے) خدا تعالیٰ کی یاد کرو اور (یاد کرنے کے طریقہ میں اپنی رائے کو دخل مت دو بلکہ) اس طرح یاد کرو جس طرح تم کو (اللہ تعالیٰ نے) بتلا رکھا ہے اور حقیقت میں قبل اس (بتلانے) کے تم محض ہی ناواقف تھے پھر (اس میں اور بھی بات یاد رکھو کہ جیسا قریش نے دستور نکال رکھا تھا کہ تمام حجاج تو عرفات میں ہو کر پھر وہاں سے مزدلفہ کو آتے تھے اور یہ مزدلفہ ہی میں رہ جاتے تھے عرفات نہ جاتے تھے یہ جائز نہیں بلکہ) تم سب کو (خواہ قریش ہوں یا غیر قریش) ضروری ہے کہ اسی جگہ ہو کر واپس آؤ جہاں اور لوگ جاکر وہاں سے واپس آتے ہیں اور (احکام حج میں پرانی رسموں پر عمل کرنے سے) خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے اور مہربانی فرمادیں گے، (جاہلیت میں بعضوں کی تو یہ عادت تھی کہ حج سے فارغ ہو کر منی میں جمع ہو کر اپنے آباء و اجداد کے مفاخر و فضائل بیان کیا کرتے حق تعالیٰ بجائے اس بہیودہ شغل کے اپنے ذکر کی تعلیم کے لئے فرماتے ہیں کہ) پھر جب تم اپنے اعمال حج پورے کرچکا کرو تو حق تعالیٰ کا (شکر و عظمت کے ساتھ) ذکر کیا کرو جس طرح تم اپنے آباء (و اجداد) کا ذکر کیا کرتے ہو بلکہ یہ ذکر اس سے (بدرجہا) بڑھ کر ہونا (چاہئے اور بعضوں کی عادت تھی کہ حج میں ذکر تو اللہ تعالیٰ ہی کا کرتے تھے لیکن چونکہ آخرت کے قائل نہ تھے لہذا تمام تر ذکر ان کا صرف دنیا کے لئے دعا مانگنا ہوتا تھا حق تعالیٰ صرف دنیا طلبی کی مذمت بیان فرما کر بجائے اس کے خیر دارین طلب کرنے کی ترغیب دینے کے لئے فرماتے ہیں) سو بعضے آدمی (جو کہ کافر ہیں) ایسے ہیں جو (دعا میں یوں) کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (جو کچھ دینا ہو) دنیا میں دیدیجئے (بس سو ان کو جو کچھ ملنا ہوگا دنیا ہی میں مل رہے گا) اور ایسے شخص کو آخرت میں (بوجہ انکار آخرت کے) کوئی حصہ نہ ملے گا اور بعضے آدمی (جو کہ مومن ہیں) ایسے ہیں جو (دعا میں یوں) کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو دنیا میں بھی بہتری عنایت کیجئے اور آخرت میں بھی بہتری دیجئے اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچائیے (سو یہ لوگ اوپر کے لوگوں کی طرح بےبہرہ نہیں بلکہ) ایسے لوگوں کو (دونوں جہان میں) بڑا حصہ ملے گا بدولت ان کے اس عمل (یعنی طلب خیر دارین) کے اور اللہ تعالیٰ جلدی ہی حساب لینے والے ہیں (کیونکہ قیامت میں حساب ہوگا اور قیامت نزدیک آتی جاتی ہے جب حساب جلدی ہونے والا ہے تو وہاں کی بہتری کو مت بھولو) اور (منیٰ میں خاص طریقہ سے بھی) اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کئی روز تک (وہ خاص طریقہ کنکریوں کا خاص تین پتھروں پر مارنا ہے اور وہ کئی روز دسویں گیارہویں بارہویں تاریخیں ذی الحجہ کی ہیں، یا تیرہویں بھی کہ ان میں کنکریاں ماری جاتی ہیں) پھر جو شخص (کنکریاں مار کر دسویں تاریخ کے بعد) دو دن میں (مکہ واپس آنے میں) تعجیل کرے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو شخص (ان) دو دن میں (واپسی مکہ میں) تاخیر کرے (یعنی بارہویں کو نہ آوے بلکہ تیرہویں کو آوے) اس میں بھی کچھ گناہ نہیں (اور یہ سب باتیں) اس شخص کے واسطے (ہیں) جو (خدا سے) ڈرے (اور نہ ڈرنے والے کو گناہ ثواب ہی سے غرض نہیں) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور خوب یقین رکھو کہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے۔ معارف و مسائل احکام حج وعمرہ ابواب البر جن کے بیان کا سلسلہ نصف سورة بقرہ سے چل رہا ہے ان میں گیا رہواں حکم حج کا ہے حج کا تعلق چونکہ مکہ مکرمہ اور بیت اللہ یعنی کعبہ سے ہے اس لئے اس کے متعلقہ کچھ مسائل تو قبلہ کے بیان میں ضمنی طور پر سورة بقرہ کی آیات 125 سے 128 تک وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً سے شروع ہو کر وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا تک ذکر میں آگئے ہیں پھر بحث قبلہ کے ختم پر ایک 158 اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ میں صفا کے درمیان سعی کرنے کا حکم بھی ضمنی طور پر بیان ہوچکا ہے اب آیت نمبر 196 سے آیت نمبر 203 تک وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ سے شروع ہو کر فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ الخ تک آٹھ آیات مسلسل حج وعمرہ کے احکام و مسائل سے متعلق ہیں۔ حج باجماع امت اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اور فرائض اسلام میں سے ایک اہم فرض ہے جس کی تاکید و اہمیت قرآن کریم کی بہت سی آیات اور بیشمار احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہے۔ جمہور کے قول کے مطابق حج کی فرضیت ہجرت کے تیسرے یعنی غزوہ احد کے سال میں سورة آ لِ عمران کی اس آیت (97) سے ہوتی ہے، وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ (الآیہ ابن کثیر) اسی آیت میں فرضیت حج کی شرائط کا بیان اور باوجود قدرت ہونے کے حج نہ کرنے پر سخت وعید مذکور ہے، مذکور الصدر آٹھ آیتوں میں سے پہلی آیت وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ باتفاق مفسرین قصہ حدیبیہ میں نازل ہوئی جو 6 ہجری میں واقعہ ہوا ہے اسی سے یہ معلوم ہوگیا کہ اس آیت کا مقصد حج کی فرضیت بتلانا نہیں وہ پہلے بتلائی جاچکی ہے بلکہ اس جگہ حج وعمرہ کے کچھ خاص احکام بتلانا مقصود ہے، عمرہ کا حکم اور چونکہ سورة آل عمران جس میں حج کا فرض ہونا مذکور ہے اس میں صرف حج ہی کا ذکر ہے عمرہ کا نہیں اور یہ آیت جس میں عمرہ کو بذریعہ احرام شروع کردے تو اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے جیسا عام نفلی نماز اور روزہ کا بھی حکم یہی ہے کہ شروع کرنے سے واجب ہوجاتے ہیں اس لیے اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم نہیں ہوتا کہ عمرہ واجب ہے یا نہیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شروع کردے تو اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ ابن کثیر نے بحوالہ ترمذی، احمد، بیہقی حضرت جابر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ عمرہ واجب ہے آپ نے فرمایا واجب تو نہیں لیکن کرلو تو بہتر و افضل ہے (قال الترمذی ہذا حدیث حسن صحیح) اس وجہ سے امام اعظم ابوحنیفہ مالک وغیرہ کے نزدیک عمرہ واجب نہیں سنت ہے آیت مذکورہ میں جب یہ بیان ہوا کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیں تو ان کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے تو اب یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر احرام باندھنے کے بعد کوئی مجبوری پیش آجائے حج وعمرہ ادا نہ کرسکیں تو کیا کریں اس کا بیان بعد کے جملہ میں فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ سے فرمادیا، احرام کے بعد کوئی مجبوری پیش آجائے حج وعمرہ ادا نہ کرسکیں تو کیا کریں یہ آیت چونکہ واقعہ حدیبیہ میں نازل ہوئی ہے جس میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا کفار مکہ نے مکہ میں داخل ہونے اور عمرہ ادا کرنے سے روک دیا اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ احرام کا فدیہ ایک قربانی دینا ہے بکری، گائے، اونٹ وغیرہ کی جو آسان ہو قربانی دے کر احرام کھول دیں مگر ساتھ ہی اگلے جملے وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ میں یہ بھی بتلا دیا کہ احرام کھولنا جس کی شرعی صورت سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا ہے اس وقت تک جائز نہیں جب تک محرم کی قربانی اپنے موقع پر پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے، موقع پر پہنچنے سے مراد امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک یہ ہے کہ حدود حرم میں پہنچ کر ذبح کی جائے خود نہ کرسکیں تو کسی دوسرے سے کرادیں، اس آیت میں مجبوری کی یہ صورت کہ کوئی دشمن حائل ہوجائے صراحۃ مذکور ہے، امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ نے بیماری وغیرہ کی مجبوری کو بھی اس میں باشتراک علت داخل قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے عملی بیان سے یہ امر بھی ثابت ہوگیا کہ مجبوری کی حالت میں قربانی دے کر احرام کھول دینا جائز ہے مگر بعد میں قضاء کرنا واجب ہے جیسا آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام نے اگلے سال عمرہ کی قضا کی ہے۔ اس آیت میں سر منڈانے کو احرام کھولنے کی علامت قرار دیا گیا جس سے ثابت ہوا کہ حالت احرام میں سر منڈانا یا بال کٹوانا ممنوع ہے اس کی مناسبت سے اگلا حکم یہ بتلایا گیا کہ جو شخص حج وعمرہ کے افعال ادا کرنے سے تو مجبور نہیں مگر حالت احرام میں کوئی مجبوری سر کے بال منڈانے یا کٹوانے کی پیش آجائے تو وہ کیا کرے۔ حالت احرام میں بال منڈانے پر کوئی مجبور ہوجائے تو وہ کیا کرے فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖٓ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ میں ارشاد فرمایا کہ اگر کسی بیماری کے سبب سر یا بدن کے کسی دوسرے حصہ کے بال منڈانے کی مجبوری ہو یا سر میں جوُویں پیدا ہو کر تکلیف دے رہی ہوں تو ایسی صورت میں بال منڈانا بقدر ضرورت جائز ہے مگر اس کا فدیہ اور بدلہ یہ ہے کہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے، قربانی کے لئے تو حدود حرم کی جگہ متعین ہے روزے اور صدقہ کے لئے کوئی جگہ متعین نہیں ہر جگہ ادا کرسکتا ہے قرآن کے الفاظ میں صیام کا کوئی عدد اور صدقہ کی کوئی مقدار مذکور نہیں ہے مگر حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت کعب بن عجرہ صحابی کی ایسی ہی حالت میں یہ فرمایا کہ تین روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کو آدھا صاع گندم کا بطور صدقہ دیدیں (صحیح بخاری) آدھا صاع ہمارے اسی تولہ کے سیر کے حساب سے تقریبا پونے دو سیر گندم ہوتے ہیں ان کی قیمت صدقہ کردینا بھی کافی ہے، حج کے مہینوں میں حج وعمرہ کو جمع کرنے کے احکام اسلام سے پہلے عرب اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ جب حج کے مہینے شروع ہوجائیں یعنی ماہ شوال شروع ہوجائے تو ان ایام میں حج وعمرہ کا جمع کرنا سخت گناہ ہے اس آیت کے آخری حصے میں ان کے اس خیال کی اصلاح اس طرح کردی گئی کہ حدود میقات کے اندر رہنے والوں کے لئے تو حج وعمرہ دونوں کو اشہر حج میں جمع کرنا ممنوع رکھا گیا کیونکہ ان کو اشہر حج کے بعد دوبارہ عمرہ کے لئے سفر کرنا مشکل نہیں لیکن حدود میقات کے باہر سے آنے والوں کے لئے جمع کرنے کو جائز قرار دیا کہ دور دراز سے عمرہ کے لئے مستقل سفر کرنا ان کے لئے آسان نہیں، میقات وہ معین مقامات ہیں جو اطراف عالم سے مکہ میں آنے والوں کے ہر راستہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین ہیں کہ جب بقصد مکہ آنے والا مسافر یہاں پہنچے تو یہاں سے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام با ندھنا لازم ہے بغیر احرام کے یہاں سے آگے بڑہنا جرم و گناہ ہے، لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کا یہی مفہوم ہے کہ جس شخص کے اہل و عیال مسجد حرام کے قرب و جوار یعنی حدود میقات کے اندر نہیں رہتے، مقصد یہ ہے کہ اس کا وطن حدود میقات کے اندر نہیں ہے اس کیلئے حج وعمرہ کو اشہر حج میں جمع کرنا جائز ہے، البتہ جو لوگ حج وعمرہ کو اشہر حج میں جمع کریں ان پر واجب ہے کہ دونوں عبادتوں کو جمع کرنے کا شکرانہ ادا کریں وہ یہ ہے کہ جس کو قربانی دینے کی قدرت ہو وہ ایک قربانی دیدے بکری، گائے، اونٹ جو اس کے لئے آسان ہو، لیکن جس شخص کی مالی حیثیت قربانی ادا کرنے کے قابل نہیں اس پر دس روزے اس طرح واجب ہیں کہ تین روزے تو ایام حج کے اندر ہی رکھے یعنی نویں ذی الحجہ تک پورے کردے باقی سات روزے حج سے فارغ ہو کر جہاں چاہے اور جب چاہے رکھے وہیں مکہ مکرمہ میں رہ کر پورے کرے یا گھر واپس آکر اختیار ہے، اگر کوئی شخص تین روزے ایام حج میں نہ رکھ سکا تو پھر امام اعظم ابوحنیفہ اور اکابر صحابہ کے نزدیک اس کے لئے قربانی کرنا ہی متعین ہے جب قدرت ہو کسی کے ذریعہ حرم میں قربانی کرادے، (جصاص) تمتع وقران اشہر حج میں حج کے ساتھ عمرہ کو جمع کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ میقات سے ہی حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھ لے اس کو اصطلاح حدیث میں قرن کہا گیا ہے اس کا احرام حج کے احرام کے ساتھ کھلتا ہے آخر ایام حج تک اس کو احرام ہی کی حالت میں رہنا پڑتا ہے دوسرے یہ کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے اور مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کے افعال ادا کرکے احرام کھول دے پھر آٹھویں ذی الحجہ کو منیٰ جانے کے وقت حج کا احرام حرم شریف کے اندر ہی باندھ لے اس کو اصطلاح میں تمتع کہا جاتا ہے۔ اور لفظی معنی کے اعتبار سے لفظ تمتع دونوں صورتوں میں برابر ہے قرآن کی آیت مذکورہ میں فَمَنْ تَمَتَّعَ اسی عام معنی میں ہے احکام حج وعمرہ میں خلاف ورزی اور کوتاہی موجب عذاب آخر آیت میں اول تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا جس کے معنیٰ ہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی سے ڈرنے اور بچنے کے، اس کے بعد فرمایا واعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَاب یعنی جو شخص جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے آج کل حج وعمرہ کو جانے والے بکثرت اس سے غافل ہیں اول تو حج وعمرہ کے احکام معلوم کرنے ہی کی پوری کوشش نہیں کرتے پھر معلوم بھی ہو تو بکثرت ان کے مطابق عمل نہیں کرتے غلط کار معلموں اور ساتھیوں کی بےپروائی سے بہت سے واجبات تک چھوٹ جاتے ہیں اور آداب وسنن کا تو کہنا کیا، اللہ تعالیٰ سب کو اصلاح عمل کی توفیق عطا فرمادیں۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے چند مہینے ہیں معلوم، پھر جس شخص نے لازم کرلیا ان میں حج تو بےحجاب ہونا جائز نہیں عورت سے اور نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانے میں اور جو کچھ تم کرتے ہو نیکی اللہ اسکو جانتا ہے اور زادراہ لے لیا کرو کہ بیشک بہتر فائدہ زادراہ کا بچنا ہے سوال سے اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقلمندو،

احکام حج کی آٹھ آیتوں میں سے دوسری آیت اور اس کے مسائل اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ اشہر اَشْهُرٌ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں مہینہ۔ پچھلی آیت میں یہ بتلایا گیا تھا کہ جو کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے تو اس پر لازم آتا ہے کہ اس کے احکام پورے ادا کرے ان دونوں میں عمرہ کے لئے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں سال بھر میں جب چاہئیں کرسکتے ہیں لیکن حج کے لئے مہینے اور اس کے افعال و اعمال کے لئے خاص تاریخیں اور اوقات مقرر ہیں اس لئے اس آیت کے شروع میں یہ بتلا دیا کہ حج کا معاملہ عمرہ کی طرح نہیں ہے اس کے لئے کچھ مہینے مقرر ہیں جو معروف و مشہور ہیں جاہلیت عرب سے لے کر زمانہ اسلام تک یہی مہینے حج کے مقرر رہے ہیں وہ مہینے شوال ذی قعدہ اور دس روز ذی الحجہ کے ہیں جیسا کہ حدیث میں بروایت ابوامامہ وابن عمر منقول ہے (مظہری) شوال سے حج کے مہینے شروع ہونے کا حاصل یہ ہے کہ اس سے پہلے حج کا احرام باندہنا جائز نہیں بعض ائمہ کے نزدیک تو قبل شوال کے احرام سے حج کی ادائیگی ہی نہیں ہوسکتی، امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس احرام سے حج تو ادا ہوجائے گا مگر مکروہ ہوگا (مظہری) فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ اس میں حج کا احرام باندہنے والے کے لئے کچھ منفی آداب و احکام کا بیان ہے جن سے حالت احرام میں پرہیز کرنا لازم و واجب ہے وہ تین چیزیں ہیں رفث، فسوق، جدال۔ رفث ایک لفظ جامع ہے جس میں عورت سے مباشرت اور اس کے مقدمات یہاں تک کہ زبان سے عورت کے ساتھ اس کی کھلی گفتگو بھی داخل ہے محرم کو حالت احرام میں یہ سب چیزیں حرام ہیں تعریض وکنایہ کا مضائقہ نہیں۔ فسوق کے لفظی معنی خروج کے ہیں اصطلاح قرآن میں عدول حکمی اور نافرمانی کو فسوق کہا جاتا ہے جو اپنے عام معنی کے اعتبار سے سب گناہوں کو شامل ہے اسی لئے بعض حضرات نے اس جگہ عام معنی ہی مراد لئے ہیں مگر حضرت عبداللہ بن عمر نے اس جگہ فسوق کی تفسیر مخطورات احرام سے فرمائی ہے یعنی وہ کام جو حالت احرام میں ممنوع و ناجائز ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اس مقام کے مناسب یہی تفسیر ہے کیونکہ عام گناہوں کی ممانعت احرام کے ساتھ خاص نہیں ہر حال میں حرام ہیں۔ وہ چیزیں جو اصل سے گناہ نہیں مگر احرام کی وجہ سے ناجائز ہوجاتی ہیں چھ چیزیں ہیں اول عورت کے ساتھ مباشرت اور اس کے تمام متعلقات یہاں تک کہ کھلی گفتگو بھی، دوسرے برّی جانوروں کا شکار، خود کرنا یا شکاری کو بتلانا، تیسرے بال یا ناخن کٹوانا، چوتھے خوشبو کا استعمال یہ چار چیزیں تو مرد و عورت دونوں کے لئے حالت احرام میں ناجائز ہیں باقی دو چیزیں مردوں کے ساتھ خاص ہیں یعنی سلے ہوئے کپڑے پہننا، اور سر اور چہرے کو ڈھانپنا، امام اعظم ابوحنیفہ ومالک کے نزدیک چہرہ کو ڈھانپنا حالت احرام میں عورت کے لئے بھی ناجائز ہے اس لئے یہ بھی مشترک محظورات احرام میں شامل ہے۔ ان چھ چیزوں میں پہلی یعنی عورت سے مباشرت وغیرہ اگرچہ فسوق میں داخل ہے لیکن اس کو فسوق سے پہلے الگ کرکے لفظ رفث سے اس لئے بتلا دیا کہ احرام میں اس سے اجتناب سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دوسرے محظورات احرام کا تو کوئی بدل اور کفارہ بھی ہوجاتا ہے اور مباشرت کی بعض صورتیں ایسی بھی ہیں کہ اگر ان میں کوئی مبتلا ہوجائے تو حج ہی فاسد ہوجاتا ہے اس کا کوئی کفارہ بھی نہیں ہوسکتا مثلاً وقوف عرفات سے پہلے بیوی سے صحبت کرلی تو حج فاسد ہوگیا اور اس کا جرمانہ بھی گائے یا اونٹ کی قربانی سے دینا پڑے گا اور اگلے سال پھر حج کرنا پڑے گا اس مزید اہمیت کی بنا پر اس کو فَلَا رَفَثَ کے لفظ سے مستقلا بیان فرمادیا۔ جدال کے معنی ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کے ہیں اس لئے سخت قسم کے جھگڑے کو جدال کہا جاتا ہے یہ لفظ بھی بہت عام ہے اور بعض حضرات مفسرین نے عام ہی معنی مراد لئے ہیں اور بعض حضرات نے مقام حج و احرام کی مناسبت سے اس جگہ جدال کے معنی یہ لئے ہیں کہ جاہلیت عرب کے لوگ مقام وقوف میں اختلاف رکھتے تھے کچھ لوگ عرفات میں وقوف کرنا ضروری سمجھتے تھے جیسا کہ حقیقت ہے اور کچھ مزدلفہ میں وقوف ضروری کہتے تھے، عرفات میں جانے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور اسی کو موقف ابراہیم ؑ قرار دیتے تھے اسی طرح اوقات حج کے معاملہ میں بھی اختلاف تھا کچھ لوگ ذی الحجہ میں حج کرتے تھے اور کچھ ذی قعدہ ہی میں کرلیتے تھے اور پھر ان معاملات میں باہمی نزاعات اور جھگڑے ہوتے تھے ایک دوسرے کو گمراہ کہتا تھا۔ قرآن کریم نے ۙوَلَا جِدَال فرما کر ان جھگڑوں کا خاتمہ فرمایا اور جو بات حق تھی کہ وقوف فرض عرفات میں اور پھر وقوف واجب مزدلفہ میں کیا جائے اور حج صرف ذی الحجہ کے ایام میں کیا جائے اس کا اعلان کرکے اس کے خلاف جھگڑا کرنے کو ممنوع کردیا، اس تفسیر وتقریر کے لحاظ سے اس آیت میں صرف مخطورات احرام کا بیان ہوا جو اگرچہ فی نفسہ جائز ہیں مگر احرام کی وجہ سے ممنوع کردی گئی ہیں جیسے نماز، روزہ کی حالت میں کھانا پینا، کلام کرنا وغیرہ جائز چیزوں کو منع کردیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس جگہ فسوق وجدال کو عام معنی میں لے کر مقصد یہ قرار دیا کہ اگرچہ فسق و گناہ اسی طرح باہم جدال و خلاف ہر جگہ ہر حال میں مذموم و گناہ ہے لیکن حالت احرام میں اس کا گناہ اور زیادہ شدید ہوجاتا ہے مبارک ایام اور مقدس سرزمین میں جہاں صرف اللہ کے لئے عبادت کے واسطے آتے ہیں اور لبیک لبیک پکار رہے ہیں احرام کا لباس ان کو ہر وقت اس کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ تم اس وقت عبادت میں ہو ایسی حالت میں فسق و فجور اور نزاع وجدال انتہائی بیباکی اور اشد ترین گناہ ہوجاتا ہے۔ اس عام معنی کے اعتبار سے اس جگہ رفث، فسوق، جدال سے روکنے اور ان کی حرمت کو بیان کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مقام حج اور زمانہ حج کے حالات ایسے ہیں کہ ان میں انسان کو ان تینوں چیزوں میں ابتلاء کے مواقع بہت پیش آتے ہیں حالت احرام میں اکثر اپنے اہل و عیال سے ایک طویل مدت تک علیحدہ رہنا پڑتا ہے اور پھر مطاف ومسعیٰ ، عرفات، مزدلفہ منیٰ کے اجتماعات میں کتنی بھی احتیاط برتی جائے عورتوں مردوں کا اختلاط ہو ہی جاتا ہے ایسی حالت میں نفس پر قابو پانا آسان نہیں اس لئے سب سے پہلے رفث کی حرمت کا بیان فرمایا اسی طرح اس عظیم الشان اجتماع میں چوری وغیرہ دوسرے گناہوں کے مواقع بھی بیشمار پیش آتے ہیں اس لئے لَا فُسُوْقَ کی ہدایت فرما دی اسی طرح سفر حج میں اول سے آخر تک بیشمار مواقع اس کے بھی پیش آتے ہیں کہ رفقاء سفر اور دوسرے لوگوں سے جگہ کی تنگی اور دوسرے اسباب کی بناء پر جھگڑا لڑائی ہوجائے اس لئے لَا جِدَالَ کا حکم دیا گیا۔ بلاغت قرآن اس آیت فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ کے الفاظ نفی کے الفاظ ہیں کہ یہ سب چیزیں حج میں نہیں ہیں حالانکہ مقصود ان چیزوں سے نہی اور ممانعت کرنا ہے جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ لاترفثوا ولا تفسقوا ولا تجادلوا کہا جاتا مگر یہاں نہی کی جگہ نفی کے الفاظ رکھ کر اس طرف اشارہ فرمادیا کہ ان افعال کی حج میں کوئی گنجائش اور تصور ہی نہیں۔ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ محظورات وممنوعات احرام بیان فرمانے کے بعد آخر میں اس جملے میں یہ ہدایت دی گئی کہ حج کے مبارک ایام اور مقدس مقامات میں تو صرف یہی نہیں کہ محظورات اور گناہوں سے بچو بلکہ غنیمت جان کر عبادت و ذکر اللہ اور نیک کاموں میں لگے رہو تم جو بھی نیک کام کرو گے وہ اللہ کے علم میں ہے اور تمہیں اس پر بڑے انعامات ملیں گے، وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّاد التَّقْوٰى اس میں ان لوگوں کی اصلاح ہے جو حج وعمرہ کے لئے بےسروسامانی کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں پھر راستہ میں بھیک مانگنا پڑتی ہے یا خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں ان کی ہدایت کے لئے حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے اسباب وسائل کو اپنے مقدور کے مطابق حاصل اور جمع کرے پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرے، رسول کریم ﷺ سے توکل کی یہی تفسیر منقول ہے بالکل ترک اسباب کا نام توکل رکھنا جہالت ہے۔
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

کچھ گناہ نہیں تم پر کہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا پھر جب طواف کے لئے لوٹوعرفات سے تو یاد کرو اللہ کو نزدیک مشعر الحرام کے اور اس کو یاد کرو جس طرح تم کو سکھلایا اور بیشک تم تھے اس سے پہلے ناواقف،

سفر حج میں تجارت یا مزدوری کرنا کیسا ہے لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سفر حج میں تجارت یا مزدوری کے ذریعے کچھ روزی کمالو اور اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق حاصل کرو، واقعہ نزول اس آیت کا یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب نے جس طرح تمام عبادات و معاملات کو مسخ کرکے طرح طرح کی بیہودہ رسمیں ان میں شامل کردی تھیں اور عبادات کو بھی کھیل تماشہ بنادیا تھا اسی طرح افعال حج میں بھی طرح طرح کی بیہودگیاں کرتے تھے منیٰ کے عظیم اجتماع میں ان کے خاص خاص بازار لگتے تھے نمائش ہوتی تھی تجارتوں کے فرورغ کے ذرائع لگائے جاتے تھے اسلام آیا اور حج مسلمانوں پر فرض کیا گیا تو ان تمام بہیودہ رسموں کا قلع قمع کیا گیا صحابہ کرام جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر مٹ جانے والے تھے اب ان کو یہ خیال ہوا کہ ایام حج میں تجارت کرنا یا مزدوری کرکے کچھ کما لینا یہ بھی جاہلیت کی پیداوار ہے شاید اسلام میں اس کی مطلقاً حرمت و ممانعت ہوجائے یہاں تک کہ ایک صاحب حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پیشہ پہلے سے یہ ہے کہ ہم اونٹ کرایہ پر چلاتے ہیں کچھ لوگ ہمارے اونٹ حج کے لئے کرایہ پر لیجاتے ہیں ہم ان کے ساتھ جاتے ہیں اور حج کرتے ہیں کیا ہمارا حج نہیں ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ سے وہی سوال کیا تھا جو تم مجھ سے کر رہے ہو آنحضرت ﷺ نے اس کو اس وقت کوئی جواب نہ دیا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ اس وقت آپ نے اس شخص کو بلوایا اور فرمایا کہ ہاں تمہارا حج صحیح ہے۔ الغرض اس آیت نے یہ واضح کردیا کہ اگر کوئی شخص دوران حج میں کوئی بیع وشراء یا مزدوری کرے جس سے کچھ نفع ہوجائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہاں کفار عرب نے جو حج کو تجارت کی منڈی اور نمائش گاہ بنالیا تھا اس کی اصلاح قرآن کے دو لفظوں سے کردی گئی ایک تو یہ کہ جو کچھ کمائیں اس کو اللہ تعالیٰ کا فضل اور عطا سمجھ کر حاصل کریں شکر گذار ہوں۔ محض سرمایہ سمیٹنا مقصد نہ ہو فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ میں اسی کی طرف اشارہ ہے، دوسرے لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ کے لفظ نے یہ بتلا دیا کہ اس میں کمائی میں تم پر کوئی گناہ نہیں جس میں ایک اشارہ اس طرف ہے کہ اگر اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اخلاص کامل میں فرق آتا ہے اور حقیقت مسٔلہ کی یہ ہے کہ اس کا مدار اصل نیت پر ہے اگر کسی شخص کی نیت اصل میں دنیوی نفع تجارت یا مزدوری ہے اور ضمنی طور پر حج کا بھی قصد کرلیا یا نفع تجارت اور قصد حج دونوں مساوی صورت میں ہیں تب تو یہ اخلاص کے خلاف ہے حج کا ثواب اس سے کم ہوجائیگا اور برکات حج جیسی حاصل ہونی چاہئے وہ حاصل نہ ہوں گی اور اگر اصل میں نیت حج کی ہے اسی کے شوق میں نکلا ہے لیکن مصارفِ حج میں یا گھر کی ضرورت میں تنگی ہے اس کو پورا کرنے کے لئے کوئی معمولی تجارت یا مزدوری کرلی یہ اخلاص کے بالکل منافی نہیں ہاں اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ خاص ان پانچ ایام میں جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں ان میں کوئی مشغلہ تجارت و مزدوری کا نہ رکھے بلکہ ان ایام کو خالص عبادت وذکر میں گذارے اسی وجہ سے بعض علماء نے خاص ان ایام میں تجارت و مزدوری کو ممنوع بھی فرمایا ہے۔ عرفات میں وقوف اور اس کے بعد مزدلفہ کا وقوف اس کے بعد اسی آیت میں ارشاد ہے فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ یعنی پھر جب تم عرفات سے واپس آنے لگو گو مشعر حرام کے پاس خدا تعالیٰ کی یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس طرح تم کو بتلا رکھا ہے اور حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے پہلے تم محض ہی ناواقف تھے اس میں بتلایا گیا ہے کہ عرفات سے واپسی میں رات کو مزدلفہ میں قیام اور اس کا خاص ذکر واجب ہیں۔ عرفات لفظ جمع ہے اور ایک خاص میدان کا نام ہے جس کے حدود اربعہ معروف و مشہور ہیں یہ میدان حرم سے خارج واقع ہوا ہے حجاج کو اس میں پہنچنا اور زوال آفتاب سے مغرب تک یہاں قیام کرنا حج میں حج کا اہم ترین فرض ہے جس کے فوت ہونے کا کوئی کفارہ اور فدیہ نہیں ہوسکتا۔ عرفات کو عرفات کہنے کی بہت سی وجوہ بتلائی جاتی ہیں ان میں واضح یہ ہے کہ اس میدان میں انسان اپنے رب کی معرفت اور بذریعہ عبادت وذکر اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے نیز مشرق ومغرب کے مسلمانوں کو آپس میں تعارف کا ایک موقع ملتا ہے ارشاد قرآنی میں اس کی تاکید فرمائی ہے کہ عرفہ کے دن بعد مغرب عرفات سے واپس آتے ہوئے مشعر حرام کے پاس ٹھہرنا چاہئے مشعر حرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میں واقع ہے مشعر کے معنی شعار اور علامت کے ہیں اور حرام بمعنی محترم ومقدس کے ہیں معنی یہ ہیں کہ یہ پہاڑ شعار اسلام کے اظہار کے لئے ایک مقدس مقام ہے اس کے آس پاس کے میدان کو مزدلفہ کہتے ہیں اس میدان میں رات گذارنا اور مغرب و عشاء دونوں نمازوں کو ایک وقت میں مزدلفہ میں پڑھنا واجب ہے مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اگرچہ ہر طرح کے ذکر اللہ کو شامل ہے مگر خصوصیت سے دونوں نمازوں کو ایک وقت یعنی مغرب کو عشاء کے ساتھ ادا کرنا اس جگہ کی مخصوص عبادت ہے آیت کے جملہ واذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ میں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی یاد اور ذکر کے لئے جو طریقہ بتلایا ہے اسی طرح اس کو یاد کرو اپنی رائے اور قیاس کو اس میں دخل نہ دو کیونکہ رائے اور قیاس کا مقتضی تو یہ تھا کہ مغرب کی نماز مغرب کے وقت میں پڑھی جاتی عشاء کی عشاء کے وقت میں، لیکن اس روز اس مقام پر حق تعالیٰ کی یہی پسند ہے کہ مغرب کی نماز مؤ خر کی جائے اس کو عشاء کے ساتھ پڑھا جائے ارشاد قرآنی واذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ایک اور بھی اصولی مسئلہ نکل آیا کہ ذکر اللہ اور عبادات میں آدمی خود مختار نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح چاہے یاد کرے اور جس طرح چاہے اس کی عبادت کرے بلکہ ذکر اللہ اور ہر عبادت کے خاص آداب ہیں ان کے موافق ادا کرنا ہی عبادت ہے اس کے خلاف کرنا جائز نہیں اور اس میں کمی بیشی یا مقدم مؤ خر کرنا خواہ اس میں ذکر اللہ کی کچھ زیادتی بھی ہو وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں نفلی عبادات اور صدقہ و خیرات وغیرہا میں جو لوگ بلا دلیل شرعی اپنی طرف سے کچھ خصوصیات اور اضافے کرلیتے ہیں اور ان کی پابندی کو ضروری سمجھ لیتے ہیں حالانکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کو ضروری قرار نہیں دیا اور ان افعال کے نہ کرنے والوں کو خطاوار سمجھتے ہیں اس آیت نے ان کی غلطی کو واضح کردیا کہ وہ اہل جاہلیت کی سی عبادت ہے کہ اپنی رائے و قیاس سے عبادت کی صورتیں گھڑ رکھی تھیں اور چند رسموں کا نام عبادت رکھ لیا تھا۔
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر طواف کے لئے پھر وہاں جہاں سے سب لوگ پھریں، اور مغفرت چاہو اللہ سے بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے ولا مہربان،

اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہے ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی پھر تم سب کو ضروری ہے کہ اس جگہ ہو کر واپس آؤ جہاں اور لوگ جاکر واپس آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے اور مہربانی فرمادیں گے۔ اس جملے کا شان نزول یہ ہے کہ قریش عرب جو بیت اللہ کے محافظ ومجاور تھے اور سارے عرب میں ان کا اقتدار مسلم تھا اور ان کی ایک ممتاز حیثیت تھی زمانہ جاہلیت میں وہ اپنی امتیازی شان بنانے کے لئے یہ حرکت کرتے تھے اور سب لوگ تو عرفات کو جاتے اور وہاں وقوف کرکے واپس آتے تھے یہ لوگ راستہ میں مزدلفہ کے اندر ہی ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم چونکہ بیت اللہ اور حرم کے مجاور ہیں اس لئے حدودِحرم سے باہر جانا ہمارے لئے مناسب نہیں مزدلفہ حدود حرم کے اندر ہے اور عرفات اس سے خارج یہ بہانہ کرکے مزدلفہ ہی میں قیام کرلیتے اور وہیں سے واپس آجایا کرتے تھے اور درحقیقت وجہ اس حیلہ بہانہ کی اپنا فخر و غرور اور عام لوگوں سے ممتاز ہو کر رہنا تھا حق تعالیٰ کے اس فرمان نے ان کی غلط کاری واضح فرمادی اور ان کو حکم دیا کہ تم بھی وہیں جاؤ جہاں سب لوگ جاتے ہیں یعنی عرفات میں اور پھر وہیں سے سب کے ساتھ واپس آؤ۔ اول تو عام انسانوں سے اپنے آپ کو ممتاز کرکے رکھنا خود ایک متکبرانہ فعل ہے جس سے ہمیشہ ہی پرہیز لازم ہے خصوصاً حج کے ایام میں جہاں لباس احرام اور پھر قیام ومقام کی یکسانیت کے ذریعہ اسی کا سبق دینا ہے کہ انسان سب برابر ہیں امیر و غریب یا عالم و جاہل یا بڑے چھوٹے کا یہاں کوئی امتیاز نہیں حالت احرام میں یہ امتیازی شان بنانا اور بھی زیادہ جرم ہے۔ انسانی مساوات کا زریں سبق اور اس کی بہترین عملی صورت اس ارشاد قرآنی سے اصول معاشرت کی ایک اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ رہن سہن قیام ومقام میں بڑوں کو چاہئے کہ چھوٹوں سے الگ ممتاز ہو کر نہ رہیں بلکہ مل جل کر رہیں کہ اس میں باہمی اخوت و ہمدردی اور محبت وتعلق پیدا ہوتا ہے اور امیر و غریب کی تفریق مٹتی ہے، مزدور وسرمایہ دار کی جنگ ختم ہوجاتی ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنے آخری حج کے خطبہ میں اس کو خوب واضح کرکے ارشاد فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں فضیلت کا مدار تقویٰ اور اطاعت خداوندی پر ہے اسی لئے جو لوگ ان کے خلاف مزدلفہ میں قیام کرکے اپنی ممتاز حیثیت بنانا چاہتے تھے ان کے اس فعل کو گناہ قرار دے کر ان پر لازم کیا کہ اپنے اس گناہ سے توبہ استغفار کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرماویں اور اپنی رحمت فرماویں۔
Ayah 2:200

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب پورے کرچکو اپنے حج کے کام کو تو یاد کرو اللہ کو جیسے تم یاد کرتے ک تھے اپنے باپ دادوں کو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو پھر کوئی آدمی تو کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں اور اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں،

رسوم جاہلیت کی اصلاح منیٰ میں فضول اجتماعات کی ممانعت چوتھی پانچویں اور چھٹی آیات میں چند رسوم جاہلیت کی اصلاح کی گئی ہے، ایک تو یہ کہ عرب زمانہ جاہلیت میں عرفات ومزدلفہ اور طواف و قربانی سے فارغ ہو کر جب منیٰ میں قیام کرتے تھے تو ان کی مجلسیں صرف اس کام کے لئے ہوتی تھیں کہ مشاعرے منعقد کریں اور ان میں اپنے مفاخر اور اپنے آباء و اجداد کے مفاخر اور کارناموں کا بیان کریں ان کی مجلسیں ذکر اللہ سے یکسر خالی ہوتی تھیں ان مبارک ایام کو ایسی لغو اور فضول چیزوں میں ضائع کرتے تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ جب تم اپنے افعال احرام کو پورا کرچکو اور منیٰ میں قیام کرو تو وہاں رہ کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اپنے آباء و اجداد کو یاد کرنا اور خصوصاً ان کے جھوٹے سچے مفاخر اور کارناموں کو بیان کرنا چھوڑو جتنا تم ان کو یاد کرتے ہو اس کی جگہ بلکہ اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کو یاد کرو اور ذکر اللہ میں مشغول رہو قرآن کی اس آیت نے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹا کر مسلمانوں کو یہ ہدایت کی کہ یہ ایام اور یہ مقام عبادت اور ذکر اللہ کے لئے مخصوص ہیں ان میں ذکر اللہ و عبادت کے جو فضائل و برکات ہیں وہ پھر ہاتھ نہ آئیں گے ان کو غنیمت جاننا چاہئے۔ علاوہ ازیں حج ایک ایسی عبادت ہے جو عموماً سفر طویل کی مشقت اہل و عیال کی مفارقت کاروبار کو ترک کرنے اور ہزاروں روپے اور بہت سا وقت خرچ کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اس میں حوادث کا پیش آجانا کچھ بعید نہیں کہ آدمی باوجود کوشش کے اپنے مقصد حج میں کامیاب نہ ہوسکے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام موانع ہٹا کر آپ کے مقصد میں کامیاب فرمایا اور فرائض حج پورے ہوگئے تو یہ مقام شکر ہے جس کا اقتضاء یہ ہے کہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہو ان اوقات کو فضول اجتماعات اور فضول کام یا کلام میں ضائع نہ کرو اہل جاہلیت ان اوقات میں اپنے آباء و اجداد کے تذکرے کرتے تھے جن کا کوئی نفع دین و دنیا میں نہ تھا، تم اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرو جو نور ہی نور اور نفع ہی نفع ہے دنیا کے لئے بھی آخرت کے لئے بھی، آجکل اگرچہ مسلمانوں میں وہ رسم جاہلیت تو نہیں رہی کہ مشاعرے قائم کریں اور آباء و اجداد کے تذکرے کریں لیکن آج بھی ہزاروں مسلمان ہیں جو ان ایام کو فضول اجتماعات میں فضول دعوتوں اور تفریحات میں صرف کرتے ہیں یہ آیت ان کی تنبیہ کے لئے کافی ہے۔ بعض حضرات مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو جیسے بچپن میں اپنے باپ کو یاد کرتے ہیں کہ ان کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کلام یَا اَب یَا اَب ہوتا ہے تم اب بالغ ہو جوان ہو عاقل ہو یَا اَب یَا اَب کی جگہ یَا رَب یَارَب کو اختیار کرو اور اس پر نظر ڈالو کہ بچہ اپنے باپ کو اس لئے پکارتا ہے کہ وہ اپنے تمام کاموں میں اپنے آپ کو باپ کا محتاج سمجھتا ہے انسان اگر ذرا غور کرے تو وہ ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج اس سے زیادہ ہے جیسا بچہ اپنے باپ کا محتاج ہے نیز بعض اوقات کچھ لوگ اپنے باپ کا ذکر فخراً بھی کیا کرتے ہیں جیسے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اس آیت نے یہ بھی ہدایت کردی کہ فخر وعزت کے لئے بھی ذکر اللہ سے زیادہ کوئی چیز مؤ ثر نہیں (روح البیان) ایک اور رسم جاہلیت کی اصلاح دین و دنیا کی طلب میں اسلامی اعتدال جس طرح جاہلیت کی یہ رسم بیہودہ تھی کہ ان مبارک ایام کو اپنے باپ دادوں کے تذکروں اور مشاعروں میں گذاریں اسی طرح کچھ لوگوں کی یہ عادت تھی کہ اگرچہ ایام حج میں شغل تو ذکر اللہ اور دعاؤں ہی کا رکھتے تھے مگر ان کی تمام تر دعائیں صرف دنیوں حاجات اور دنیا کی راحت وعزت یا دولت کے لئے ہوتی تھیں آخرت کی طرف کوئی دھیان نہ ہوتا تھا ان کی اصلاح کے لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ بعض لوگ وہ ہیں جو حج میں دعاء بھی مانگتے ہیں تو صرف دنیا کی بھلائی مانگتے ہیں آخرت کی فکر نہیں کرتے ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں کیونکہ ان کے اس طرز عمل سے معلوم ہوا کہ فریضہ حج بھی انہوں نے محض رسماً ادا کیا ہے یا دنیا میں فخر و وجاہت حاصل کرنے کے لئے کیا ہے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور آخرت میں نجات حاصل کرنا ان کے پیش نظر ہے ہی نہیں۔ اس جگہ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ صرف دنیاوی دعاء مانگنے والوں کا ذکر اس آیت میں اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ کہتے رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا اس کے ساتھ حَسَنَةً کا لفظ مذکور نہیں جس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ وہ دنیا کے لئے بھی حسنہ کے طلبگار نہیں بلکہ اغراض دنیویہ میں ایسے مست و سرشار ہیں کہ ان کی طلب یہ رہ گئی ہے کہ اپنی خواہش کسی طرح پوری ہو خواہ وہ اچھی ہو یا بری اور اچھے طریقہ سے حاصل ہو یا برے راستہ سے لوگ ان کو اچھا کہیں یا براُ ، اس آیت میں ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑی تنبیہ ہے جو موسم حج اور مقامات مقدسہ میں بھی دعاؤں میں اپنی اغراض دنیویہ ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور بیشتر اوقات انہیں کے لئے صرف کرتے ہیں اور اگر ہمارے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوگا کہ بہت سے دولتمند لوگ یہاں بھی جو وظائف اور دعائیں کرتے ہیں یا بزرگوں سے کراتے ہیں ان میں بکثرت لوگ ایسے ہیں کہ ان کی غرض ان تمام وظائف و دعاؤں سے بھی صرف دولت کی ترقی تجارت میں برکت اغراض دنیویہ میں کامیابی ہوتی ہے وہ بہت سے وظائف اور نوافل پڑھ کر یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم بہت عبادت گذار ہیں لیکن وہ حقیقت میں ایک طرح کی دنیا پرستی ہوتی ہے بہت سے حضرات زندہ بزرگوں سے اور وفات یافتہ اولیاء اللہ سے بڑا تعلق رکھتے ہیں لیکن اس تعلق کا بھی بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کی دعاء یا تعویذ سے ہمارے کام نکلیں گے دنیا کی آفات دور ہوں گی مال میں برکت ہوگی ایسے لوگوں کے لئے بھی اس آیت میں خاص ہدایت ہے معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے جو علیم وخبیر ہے ہر شخص کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے کہ وظائف ونوافل اور دعاء و درود سے اور حج وزیارت سے اس کی نیت کیا ہے اس آیت کے آخری حصہ میں کم نصیب محروم القسمۃ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد حق تعالیٰ نے نیک اور مقبول بندوں کا ذکر اس طرح فرمایا ہے۔
Ayahs 2:201–202

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور کوئی ان میں کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے،

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

انہی لوگوں کے واسطے حصہ ہے اپنی کمائی سے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے،

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار یعنی ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے دنیا کی بھلائی اور بہتری بھی مانگتے ہیں اور آخرت کی بہتری بھی اور عذاب جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس میں لفظ حسنۃ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں اور بھلائیوں کو شامل ہے مثلاً دنیا کی حسنہ میں بدن کی صحت اہل و عیال کی صحت، رزق حلال میں وسعت و برکت دنیوی سب ضروریات کا پورا ہونا اعمال صالحہ، اخلاق محمودہ علم نافع، عزت و وجاہت، عقائد کی درستی صراط مستقیم کی ہدایت، عبادات میں اخلاص کامل سب داخل ہیں اور آخرت کی حسنہ میں جنت اور اس کی بیشمار اور لازوال نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رضا اور اس کا دیدار یہ سب چیزیں شامل ہیں۔ الغرض یہ دعاء ایک ایسی جامع ہے کہ اس میں انسان کے تمام دنیوی اور دینی مقاصد آجاتے ہیں دنیا وآخرت دونوں جہان میں راحت و سکون میسر آتا ہے آخر میں خاص طور پر جہنم کی آگ سے پناہ کا بھی ذکر ہے یہی وجہ کہ رسول اللہ ﷺ بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار اور حالت طواف میں خصوصیت کے ساتھ یہ دعاء مسنون ہے اس آیت میں ان جاہل درویشوں کی بھی اصلاح کی گئی ہے جو صرف آخرت ہی کی دعاء مانگنے کو عبادت جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ درحقیقت یہ ان کا دعوی غلط اور خیال خام ہے، انسان اپنے وجود اور بقاء اور عبادت وطاعت سب میں ضرورت دنیوی کا محتاج ہے وہ نہ ہوں تو دین کا بھی کوئی کام کرنا مشکل ہے اسی لئے انبیاء (علیہم السلام) کی سنت یہ ہے کہ جس طرح وہ آخرت کی بھلائی اور بہتری اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں اسی طرح دنیا کی بھلائی اور آسائش بھی طلب کرتے ہیں، جو شخص دنیوی حاجات کے لئے دعاء مانگنے کو زہد و بزرگی کے خلاف سمجھے وہ مقام انبیاء (علیہم السلام) سے بیخبر اور جاہل ہے ہاں صرف دنیوی حاجات ہی کو مقصد زندگی نہ بنائے اس سے زیادہ آخرت کی فکر کرے اور اس کے لئے دعاء مانگے۔ آیت کے آخر میں اسی دوسرے طبقہ کا جو کہ اپنی دعاؤں میں دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی مانگتا ہے انجام ذکر کیا گیا ہے کہ ان کے اس صحیح اور نیک عمل اور دعاؤں کا نتیجہ ان کو دنیا وآخرت میں ملے گا اس کے بعد ارشاد ہے واللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَاب یعنی اللہ جلد حساب لینے والا ہے کیونکہ اس کا علم محیط اور قدرت کاملہ کے لئے ساری مخلوقات کے ایک ایک فرد اور پھر اس کی عمر بھر کے اعمال کا حساب لینے میں ان آلات و ذرائع کی ضرورت نہیں جن کا انسان محتاج ہے اس لئے وہ بہت جلد ساری مخلوقات کا حساب لے لیں گے اور ان پر جزاء وسزا مرتب فرمائیں گے۔
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور یاد کرو اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں پھر جو کوئی جلدی چلا گیا دو ہی دن میں تو اس پر گناہ نہیں اور جو کوئی رہ گیا تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں جو کہ ڈرتا ہے اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو بیشک تم سب اسی کے پاس جمع ہو گے۔

منیٰ میں دو یا تین دن کا قیام اور ذکر اللہ کی تاکید آٹھویں آیت جو اس جگہ احکام حج کی آخری آیت ہے اس میں حجاج کو ذکر اللہ کی طرف متوجہ کرکے ان کے مقصد حج کی تکمیل اور آئندہ زندگی کو درست رکھنے کی ہدایت اس طرح فرمائی گئی وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ یعنی اللہ کو یاد کرو گنتی کے چند دنوں میں ان چند دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں جن میں ہر نماز کے بعد تکبیر کہنا واجب ہے، آگے ایک مسئلہ کی وضاحت کی گئی کہ منٰی میں قیام اور جمرات پر کنکریاں مارنا کب تک ضروری ہے اس میں اہل جاہلیت کا اختلاف رہا کرتا تھا بعض لوگ تیرہویں تاریخ ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام اور جمرات پر رمی کرنے کو ضروری سمجھتے تھے اس سے پہلے بارہویں کو واپس آجانے کو ناجائز اور ایسا کرنے والوں کو گنہگار کہا کرتے تھے اسی طرح دوسرے لوگ بارہویں تاریخ کو چلے آنا ضروری سمجھتے اور تیرھویں تک ٹھہرنے کو گناہ جانتے تھے اس آیت میں ان دونوں کی اصلاح اس طرح کی گئی کہ فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۚ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ یعنی جو شخص عید کے بعد صرف دو دن منٰی میں قیام کرکے واپس آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن تک مؤ خر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں یہ دونوں فریق جو ایک دوسرے کو گنہگار کہتے ہیں غلو اور غلطی میں مبتلا ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ حجاج کو دونوں صورتوں میں اختیار ہے جس پر چاہیں عمل کریں ہاں افضل واولیٰ یہی ہے کہ تیسرے دن تک ٹھہریں، فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو شخص دوسرے دن غروب آفتاب سے پہلے منٰی میں چلا آیا اس پر تیسرے دن کی رمی واجب نہیں لیکن اگر آفتاب منیٰ میں غروب ہوگیا پھر تیسرے دن کی رمی کرنے سے پہلے وہاں سے واپس آجانا جائز نہیں رہتا البتہ تیسرے دن کی رمی میں یہ رعایت رکھی گئی ہے کہ وہ زوال آفتاب سے پہلے صبح کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔ منیٰ سے واپسی کا اور اس میں حجاج کو اختیار دینے کا ذکر فرمانے کے بعد جو کچھ کہا گیا کہ دوسرے دن واپس آجائے تو کچھ گناہ نہیں اور تیسرے دن واپس آجائے تو کچھ گناہ نہیں یہ سب اس شخص کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کے احکام کی پابندی کرنے والا ہے کیونکہ درحقیقت حج اسی کا ہے، جیسا قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (27: 5) یعنی اللہ تعالیٰ عبادت انہی کی قبول کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اطاعت شعار بندے ہیں، اور جو شخص حج سے پہلے بھی گناہوں میں ملوّث تھا اور حج کے اندر بھی بےپروائی سے کام لیتا رہا حج کے بعد بھی گناہوں سے پرہیز نہ کیا تو اس کا حج کوئی فائدہ نہ دے گا اگرچہ اس کا حج فرض ادا ہوگیا ترک حج کا مجرم نہیں رہا۔ آخر میں ارشاد فرمایا واتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ یعنی ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اور یقین کرو کہ تم سب اللہ کے پاس جمع ہونے والے ہو وہ تمہارے کھلے ہوئے اور چھپے ہوئے اعمال کا حساب لیں گے اور ان پر جزا وسزا دیں گے احکام حج جو اوپر کی آیات میں بیان کئے گئے ہیں یہ جملہ درحقیقت ان سب کی روح ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ خاص ایام حج میں جب کہ اعمالِ حج میں مشغول ہو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرو احکام حج میں کوئی کوتاہی نہ کرو کیونکہ وزن اعمال کے وقت انسان کے گناہ اس کے نیک اعمال کو کھا جائیں گے نیک اعمال کا اثر اور وزن ظاہر نہ ہونے دیں گے عبادت حج کے متعلق حدیث میں ہے کہ جب انسان حج سے فارغ ہو کر آتا ہے تو اپنے سابقہ گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے آج پیدا ہوا ہے اس لئے خاص طور سے حجاج کو آئندہ کے لئے تقویٰ کی ہدایت کی گئی کہ پچھلے گناہوں سے پاک ہوچکے ہو آگے احتیاط رکھو تو دنیا وآخرت کی بھلائی تمہارے لئے ہے ورنہ جو شخص حج کے بعد پھر گناہوں میں مبتلا ہوگیا تو پچھلے گناہوں کی معافی اس کو اس طرح کوئی خاص کام نہ آوے گی بلکہ علماء نے فرمایا ہے کہ حج مقبول کی علامت یہ ہے کہ اپنے حج سے اس طرح واپس آئے کہ اس کا دل دنیا کی محبت سے فارغ اور آخرت کی طرف راغب ہو ایسے شخص کا حج مقبول اور گناہ معاف ہیں اور دعاء اس کی مقبول ہے دوران حج میں جگہ جگہ انسان اللہ تعالیٰ سے اطاعت و فرمانبرداری کا معاہدہ اس کے بیت کے سامنے کرتا ہے اگر حج کرنے والے اس کا دھیان رکھیں تو اس معاہدہ کے پورا کرنے کا آئندہ اہتمام میسر آسکتا ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں حج سے واپس آیا تو اتفاقاً میرے دل میں ایک گناہ کا وسوسہ پیدا ہوا مجھے غیب سے ایک آواز آئی کہ کیا تو نے حج نہیں کیا ؟ کیا تو نے حج نہیں کیا ؟ یہ آواز میرے اور اس گناہ کے درمیان ایک دیوار بن گئی اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ فرمادیا، ایک ترکی بزرگ جو مولانا جامی کے مرید تھے ان کا حال یہ تھا کہ ہمیشہ اپنے سر پر ایک نور کا مشاہدہ کیا کرتے تھے وہ حج کو گئے اور فارغ ہو کر واپس آئے تو یہ کیفیت بجائے بڑہنے کے بالکل سلب ہوگئی اپنے مرشد مولانا جامی سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حج سے پہلے تمہارے اندر تواضع و انکسار تھا اپنے آپ کو گنہگار سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے الحاح وزاری کرتے تھے حج کے بعد تم اپنے آپ کو نیک اور بزرگ سمجھنے لگے اس لئے یہ حج ہی تمہارے لئے غرور کا سبب بن گیا اسی وجہ سے یہ کیفیت زائل ہوگئی۔ احکام حج کے ختم پر تقویٰ کی تاکید میں ایک راز یہ بھی ہے کہ حج ایک بڑی عبادت ہے اس کے ادا کرنے کے بعد شیطان عموماً انسان کے دل میں اپنی بڑائی اور بزرگی کا خیال ڈالتا ہے جو اس کے تمام عمل کو بیکار کردینے والا ہے اس لئے خاتمہ کلام میں فرمایا کہ جس طرح حج سے پہلے اور حج کے اندر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اس کی اطاعت لازم ہے اسی طرح حج کے بعد اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور گناہوں سے پرہیز کا اہتمام کرتے رہو کہ کہیں یہ کری کرائی عبادت ضائع ہوجائے۔ اللہم وفقنا لما تحب وترضی من القول والفعل والنیۃ۔