Ayah 2:261خلاصہ تفسیر
جو لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی امور خیر میں) اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کئے ہوئے مالوں کی حالت (عنداللہ) ایسی ہے جیسے ایک دانہ کی حالت جس سے (فرض کرو) سات بالیں جن میں (اور) ہر بالی کے اندر سو دانے ہوں (اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کا ثواب سات سو حصہ تک بڑھاتا ہے) اور یہ افزونی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے (بقدر اس کے اخلاص اور مشقت کے) عطا فرماتا ہے اور خدا تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں (ان کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں وہ سب کو یہ افزونی دے سکتے ہیں مگر ساتھ ہی) جاننے والے (بھی) ہیں (اس لئے اخلاص نیت وغیرہ کو دیکھ کر عطا فرماتے ہیں) جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو (جس کو دیا ہے اس پر زبان سے) احسان جتلاتے ہیں اور نہ (برتاؤ سے اس کو) آزار پہنچاتے ہیں ان لوگوں کو ان (کے عمل) کا ثواب ملے گا ان کے پروردگار کے پاس (جاکر) اور نہ (قیامت کے دن) ان پر کوئی خطرہ ہوگا اور نہ یہ مغموم ہوں گے (ناداری کے وقت جواب میں معقول و) مناسب بات کہہ دینا اور (اگر سائل بدتمیزی سے غصہ دلاوے یا اصرار سے تنگ کرے تو اس سے) درگذر کرنا (ہزار درجہ) بہتر ہے ایسی خیرات (دینے) سے جس کے بعد آزار پہنچایا جائے اور اللہ تعالیٰ (خود) غنی ہیں (کسی کے مال کی ان کو حاجت نہیں جو کوئی خرچ کرتا ہے اپنے واسطے پھر آزار کس بناء پر پہنچایا جائے اور آزار دینے پر جو فوراً سزا نہیں دیتے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ) حلیم (بھی) ہیں۔ اے ایمان والو تم احسان جتلا کر یا ایذاء پہنچا کر اپنی خیرات (کے ثواب بڑہنے) کو برباد مت کرو جس طرح وہ شخص (خودخیرات کے اصل ثواب ہی کو برباد کردیتا ہے) جو اپنا مال خرچ کرتا ہے (محض) لوگوں کو دکھلانے کی غرض سے اور ایمان نہیں رکھتا اللہ پر اور یوم قیامت پر (مراد اس سے بقرینہ نفی ایمان کے منافق ہے) سو اس شخص کی حالت ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر (فرض کرو اس پر) جب کچھ مٹی (آگئی) ہو (اور اس مٹی میں کچھ گھاس پھونس جم آیا ہو) پھر اس پر زور کی بارش پڑجائے سو اس کو (جیسا تھا ویسا ہی) بالکل صاف کردے (اسی طرح اس منافق کے ہاتھ سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ ہوگیا جو ظاہر میں ایک نیک عمل جس میں امید ثواب ہو معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے نفاق نے اس شخص کو ویسا ہی کو را ثواب سے خالی چھوڑ دیا۔ چناچہ قیامت میں) ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی (کیونکہ کمائی نیک عمل ہے اور اس کا ہاتھ لگنا ثواب کا ملنا ہے اور ثواب ملنے کی شرط ایمان اور اخلاص ہے اور ان لوگوں میں یہ مفقود ہے کیونکہ ریاکار بھی ہیں اور کافر بھی ہیں) اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو (قیامت کے روز ثواب کے گھر یعنی جنت کا) راستہ نہ بتلائیں گے (کیونکہ کفر کی وجہ سے ان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوا جس کا ثواب آخرت میں ذخیرہ ہوتا اور وہاں حاضر ہو کر اس کے صلہ میں جنت میں پہنچائے جاتے) اور ان لوگوں کے خرچ کئے ہوئے مال کی حالت جو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی غرض سے (جو کہ خاص اس عمل سے ہوگی) اور اس غرض سے کہ اپنے نفسوں (کو اس عمل شاق کا خوگر بنا کر ان) میں پختگی پیدا کریں (تاکہ دوسرے اعمال صالحہ سہولت سے پیدا ہوا کریں پس ان لوگوں کے نفقات و صدقات کی حالت) مثل حالت ایک باغ کے ہے جو کسی ٹیلے پر ہو کہ (اس جگہ کی ہوا لطیف اور بارآور ہوتی ہے اور) اس پر زور کی بارش پڑی ہو پھر وہ (باغ لطافت ہوا اور بارش کے سبب اور باغوں سے یا اور دفعوں سے) دونا (چوگنا) پھل لایا ہو اور اگر ایسے زور کا مینھ نہ پڑے تو ہلکی پھوار (یعنی خفیف بارش) بھی اس کو کافی ہے (کیونکہ زمین اور موقع اس کا اچھا ہے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتے ہیں (اس لئے جب وہ اخلاص دیکھتے ہیں ثواب بڑھا دیتے ہیں) بھلا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا (یعنی زیادہ درخت اس میں ان کے ہوں اور) اس (باغ) کے (درختوں کے) نیچے نہریں چلتی ہوں (جس سے وہ خوب سرسبز و شاداب ہوں) اور اس شخص کے یہاں اس باغ میں (علاوہ کھجوروں اور انگوروں کے) اور بھی ہر قسم کے (مناسب) میوے ہوں اور اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو (جو کہ زمانہ زیادہ احتیاج کا ہوتا ہے) اور اس کے اہل و عیال بھی ہوں جن میں (کمانے کی) قوت نہیں (اس صورت میں اہل و عیال سے بھی اس کی توقع خبر گیری کی نہیں ہوگی بس وجہ معاش صرف وہی باغ ہوا) سو (ایسی حالت میں یہ قصہ ہو کہ) اس باغ پر ایک بگولہ آئے جس میں آگ (کا مادہ) ہو پھر (اس سے) وہ جل جائے (ظاہر بات ہے کسی کو اپنے لئے یہ بات پسند نہیں آسکتی پھر اسی کے مشابہ تو یہ بات بھی ہے کہ اول صدقہ دیا یا کوئی اور نیک کام کیا جس کے قیامت میں کارآمد ہونے کی امید ہو جو کہ وقت ہوگا غایت احتیاج کا اور زیادہ مدار قبول ہوگا انہیں طاعات پر پھر ایسے وقت میں معلوم ہوگا کہ ہمارے احسان جتلانے یا غریب کو ایذاء دینے سے ہماری طاعات باطل یا بےبرکت ہوگئیں اس وقت کیسی سخت حسرت ہوگی کہ کیسی کیسی آرزوؤں کا خون ہوگیا پس جب تم مثال کے واقعہ کو پسند نہیں کرتے تو ابطال طاعات کو کیسے گوارا کرتے ہو) اللہ تعالیٰ اسی طرح نظائر بیان فرماتے ہیں تمہارے (سمجھانے کے) لئے تاکہ تم سوچا کرو (اور سوچ کر اس کے موافق عمل کیا کرو)
معارف و مسائل
یہ سورة بقرہ کا چھتیسواں رکوع ہے جو آیت نمبر 261 سے شروع ہوتا ہے اب سورة بقرہ کے پانچ رکوع باقی ہیں جن میں آخری رکوع میں تو کلیات اور اہم اصولی چیزوں کا بیان ہے اس سے پہلے چار رکوع میں آیت نمبر 261 سے 283 تک کل 23 آیات ہیں جن میں مالیات سے متعلق خاص ہدایات اور ایسے ارشادات ہیں کہ اگر دنیا آج ان پر پوری طرح عامل ہوجائے تو معاشی نظام کا وہ مسئلہ خود بخود حل ہوجائے جس میں آج کی دنیا چار سو بھٹک رہی ہے کہیں سرمایہ داری کا نظام ہے تو کہیں اس کا ردعمل اشتراکیت اور اشمالیت کا نظام ہے اور ان نظاموں کے باہمی ٹکراؤ نے دنیا کو قتل و قتال اور جنگ وجدال کا ایک جہنم بنا رکھا ہے، ان آیات میں اسلام کے معاشی نظام کے ایک اہم پہلو کا بیان ہے جس کے دو حصے ہیں۔
(1) اپنی ضرورت سے زائد مال کو اللہ کی رضا کے لئے حاجت مند مفلس لوگوں پر خرچ کرنے کی تعلیم جس کو صدقہ و خیرات کہا جاتا ہے۔
(2) دوسرے سود کے لین دین کو حرام قرار دے کر اس سے بچنے کی ہدایات، ان میں سے پہلے دو رکوع صدقہ و خیرات کے فضائل اور اس کی ترغیب اور اس کے متعلقہ احکام و ہدایات پر مشتمل ہیں اور آخری دو رکوع سودی کاروبار کی حرمت و ممانعت اور قرض ادھار کے جائز طریقوں کے بیان میں ہیں۔
جو آیات اوپر لکھی گئی ہیں ان میں اول اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے فضائل کا بیان فرمایا گیا ہے اس کے بعد ایسی شرائط کا بیان ہے جن کے ذریعے صدقہ خیرات اللہ کے نزدیک قابل قبول اور موجب ثواب بن جائے پھر ایسی چیزوں کا بیان ہے جو انسان کے صدقہ و خیرات کو برباد کرکے نیکی برباد گناہ لازم کا مصداق بنا دیتی ہیں۔
اس کے بعد دو مثالیں بیان کی گئی ہیں ایک ان نفقات و صدقات کی جو اللہ کے نزدیک مقبول ہوئی دوسرے ان نفقات و صدقات کی جو غیرمقبول اور فاسد ہوں،
یہ پانچ مضمون ہیں جو اس رکوع میں بیان ہوئے ہیں۔
یہاں ان مضامین میں پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قرآن کریم نے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کو کہیں بہ لفظ انفاق بیان فرمایا ہے کہیں بہ لفظ اطعام کہیں بہ لفظ صدقہ اور کہیں بہ لفظ ایتاء الزکوٰۃ ان الفاظ قرآنی اور ان کے جگہ جگہ استعمال پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ انفاق، اطعام، صدقہ عام ہیں جو ہر قسم کے صدقہ خیرات اور رضائے الہی حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے خرچ پر حاوی ہے خواہ فرض وواجب ہوں یا نفلی اور مستحب، اور زکوٰۃ فرض کے لئے قرآن نے ایک ممتاز لفظ ایتاء الزکوۃ استعمال فرمایا ہے جس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس خاص صدقہ کے لئے حاصل کرنے اور خرچ کرنے دونوں میں کچھ خصوصیات ہیں۔
اس رکوع میں اکثر لفظ انفاق سے اور کہیں لفظ صدقہ سے تعبیر کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہاں عام صدقات ومبرات کا بیان ہے اور جو احکام یہاں ذکر کئے گئے ہیں وہ ہر قسم کے صدقات اور اللہ کے لئے خرچ کرنے کی سب صورتوں کو شامل اور حاوی ہیں۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ایک مثال
پہلی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی حج میں یا جہاد میں یا فقراء و مساکین اور بیواؤں اور یتیموں پر یا بہ نیت امداد اپنے عزیزوں دوستوں پر اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایک دانہ گیہوں کا عمدہ زمین میں بوئے اس دانہ سے گیہوں کا ایک پودا نکلے جس میں سات خوشے گیہوں کے پیدا ہوں اور ہر خوشے میں سو دانے ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دانہ سے سات سو دانے حاصل ہوگئے۔
مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کا اجروثواب ایک سے لے کر سات سو تک پہنچتا ہے ایک پیسہ خرچ کرے تو سات سو پیسوں کا ثواب حاصل ہوسکتا ہے۔
صحیح ومتعبر احادیث میں ہے کہ ایک نیکی کا ثواب اس کا دس گنا ملتا ہے اور سات سو گنے تک پہنچ سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جہاد اور حج میں ایک درہم خرچ کرنے کا ثواب سات سو درہم کے برابر ہے، یہ روایت ابن کثیر نے بحوالہ مسنداحمد بیان کی ہے۔
الغرض اس آیت نے بتلایا کہ اللہ کی راہ میں ایک روپیہ خرچ کرنے والے کا ثواب سات سو روپے کے خرچ کے برابر ملتا ہے۔
قبولیت صدقات کی مثبت شرائط
لیکن قرآن حکیم نے اس مضمون کو بجائے مختصر اور صاف لفظوں میں بیان کرنے کے دانہ گندم کی مثال کی صورت میں بیان فرمایا جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح کاشتکار ایک دانہ گندم سے سات سو دانے اسی وقت حاصل کرسکتا ہے جب کہ یہ دانہ عمدہ ہو خراب نہ ہو اور دانہ ڈالنے والا کاشتکار بھی کاشتکاری کے فن سے پورا واقف ہو اور جس زمین میں ڈالے وہ بھی عمدہ زمین ہو کیونکہ ان میں سے اگر ایک چیز بھی کم ہوگئی تو یا یہ دانہ ضائع ہوجائے گا ایک دانہ بھی نہ نکلے گا اور یا پھر ایسا بارآور نہ ہوگا کہ ایک دانہ سے سات سو دانے بن جائیں۔
اسی طرح عام صالحہ اور خصوصاً انفاق فی سبیل اللہ کی مقبولیت اور زیادتی اجر کے لئے بھی یہی تین شرطیں ہیں کہ جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے وہ پاک اور حلال ہو کیونکہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک اور حلال مال کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں فرماتے، دوسرے خرچ کرنے والا بھی نیک نیت اور صالح ہو بدنیتی یا نام ونمود کے لئے خرچ کرنے والا، اس ناواقف کاشتکار کی طرح ہے جو دانہ کو کسی ایسی جگہ ڈال دے کہ وہ ضائع ہوجائے۔
تیسرے جس پر خرچ کرے وہ بھی صدقہ کا مستحق ہو کسی نااہل پر خرچ کرکے ضائع نہ کرے اس طرح اس مثال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بہت بڑی فضیلت بھی معلوم ہوگئی اور ساتھ ہی اس کی تین شرطیں بھی کہ مال حلال سے خرچ کرے اور خرچ کرنے کا طریقہ بھی سنت کے مطابق ہو اور مستحقین کو تلاش کرکے ان پر خرچ کرے محض جیب سے نکال ڈالنے سے یہ فضیلت حاصل نہیں ہوتی ،
Ayah 2:262دوسری آیت میں صدقہ کرنے کے صحیح اور مسنون طریقہ کا بیان اس طرح فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ جن کو دیا گیا ہے ان کو کوئی ایذاء پہنچاتے ہیں ان کا ثواب ان کے رب کے پاس محفوظ ہے نہ ان پر آئندہ کے لئے کوئی خطرہ ہے اور نہ گذشتہ پر کوئی رنج وغم۔
قبولیت صدقہ کی منفی شرائط
اس آیت میں صدقہ کے قبول ہونے کی دو منفی شرطیں بیان فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ دے کر احسان نہ جتائیں دوسرے یہ کہ جس کو دیں اس کو عملاً ذلیل و خوار نہ سمجھیں اور کوئی ایسا برتاؤ نہ کریں جس سے وہ اپنی حقارت وذلت محسوس کرے یا اس کو ایذاء پہنچے۔
Ayah 2:263تیسری آیت قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ میں بھی صدقات و خیرات کے اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی ان دو شرطوں کی مزید وضاحت کی گئی ہے جن کا بیان اس سے پہلی آیت میں ہوچکا ہے ایک یہ کہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کر کے کسی پر احسان نہ جتائیں دوسرے یہ کہ جس کو دیں اس کے ساتھ کوئی ایسا برتاؤ نہ کریں جس سے وہ اپنی ذلت و حقارت محسوس کرے یا جس سے اس کو ایذاء پہنچے۔
وضاحت اس طرح کی گئی کہ ناداری یا معذوری کی حالت میں سائل کے جواب میں کوئی معقول و مناسب عذر پیش کردینا اور اگر سائل بدتمیزی سے غصہ دلادے تو اس سے درگذر کرنا ہزار درجے بہتر ہے ایسی خیرات دینے سے جس کے بعد اس کو ایذاء پہنچائی جائے اور اللہ تعالیٰ خود غنی وحلیم ہیں ان کو کسی کے مال کی حاجت نہیں جو خرچ کرتا ہے اپنے نفع کے لئے کرتا ہے تو ایک عاقل انسان کو خرچ کرنے کے وقت اس کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ میرا کسی پر احسان نہیں میں اپنے نفع کے لئے کرچ کر رہا ہوں اور اگر لوگوں کی طرف سے کوئی نہ شکری بھی محسوس کرے تو اخلاق الہیہ کے تابع ہو کر عفو و درگذر سے کام لے۔
Ayah 2:264چوتھی آیت میں اسی مضمون کو دوسرے عنوان سے اور بھی تاکید کے ساتھ اس طرح ارشاد فرمایا کہ اپنے صدقات کو برباد نہ کرو زبان سے احسان جتلا کر یا برتاؤ سے ایذاء پہنچا کر۔
اس سے واضح ہوگیا کہ جس صدقہ و خیرات کے بعد احسان جتلانے یا مستحقین کو ایذاء پہنچانے کی صورت ہوجائے وہ صدقہ باطل کالعدم ہے اس پر کوئی ثواب نہیں، اس آیت میں صدقہ کے قبول ہونے کی ایک اور شرط کا اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو شخص لوگوں کے دکھاوے اور نام ونمود کے واسطے خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر کچھ مٹی جم جائے اور اس میں کوئی دانہ بوئے پھر اس پر زور کی بارش پڑجائے اور وہ اس کو بالکل صاف کردے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو راستہ نہ دکھلائیں گے اس سے قبولیت صدقہ و خیرات کی یہ شرط معلوم ہوئی کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور ثواب آخرت کی نیت سے خرچ کرے، دکھلاوے یا نام ونمود کی نیت سے نہ ہو، نام ونمود کی نیت سے خرچ کرنا اپنے مال کو برباد کرنا ہے اور آخرت پر ایمان رکھنے والا مومن بھی اگر کوئی خیرات محض نام ونمود اور ریاء کے لئے کرتا ہے تو اس کا بھی یہی حال ہے کہ اس کو کوئی ثواب نہیں ملتا پھر اس جگہ لَا يُؤ ْمِنُ کے اضافہ سے شاید اس طرف اشارہ کرنا منظور ہے کہ ریاء کاری اور نام ونمود کے لئے کام کرنا اس شخص سے متصور ہی نہیں جو اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے ریاء کاری اس کے ایمان میں خلل کی علامت ہے۔
آیت کے آخر میں جو یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو راستہ نہ دکھائیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایات اور آیات جو سب انسانوں کے لئے عام ہیں کافر جو ان ہدایات پر نظر نہیں کرتے بلکہ تمسخر اور استہزاء کرتے ہیں اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کو توفیق سے محروم کردیتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی ہدایت قبول نہیں کرتے۔
Ayah 2:265پانچویں آیت میں صدقہ مقبولہ اور انفاق مقبول کی ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ اپنے مال خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی نیت سے خرچ کرتے ہیں کہ اپنے نفسوں میں پختگی پیدا کریں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی باغ ہو کسی ٹیلے پر اور اس پر زور کی بارش پڑی ہو پھر وہ اپنا پھل لایا ہو دو چند اور اگر ایسے زور کی بارش بھی نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لئے کافی ہے، اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتے جانتے ہیں۔
اس میں اخلاص نیت اور رعایت شرائط مذکورہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی بڑی فضیلت اس مثال سے واضح کردی گئی کہ نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ تھوڑا بھی خرچ کیا جائے تو وہ کافی اور موجب ثمرات آخرت ہے۔
Ayah 2:266چھٹی آیت میں صدقہ و خیرات میں شرائط مذکورہ کی خلاف ورزی کرنے پر صدقہ کے باطل و مردود ہونے کا بیان بھی ایک مثال میں اس طرح واضح فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجور اور انگوروں کا اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور اس شخص کے باغ میں ہر قسم کے میوے ہوں اور اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے اہل و عیال بھی ہوں جن میں قوت نہیں ان حالات میں اس باغ پر ایک بگولہ آوے میں جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل جاوے اللہ تعالیٰ اسی طرح نظائر بیان فرماتے ہیں تمہارے لئے تاکہ تم سوچا کرو۔
مطلب یہ ہے کہ خلاف شرائط صدقہ کرنے کی مثال ایسی ہی ہے کہ بظاہر وہ صدقہ کرکے آخرت کے لئے بہت سا ذخیرہ جمع کر رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ذخیرہ کچھ بھی کام نہیں آتا۔
اور اس کی مثال میں جو چند قیدیں بڑھائی گئیں کہ اس کا بڑھاپا آگیا اس کے اولاد بھی ہے اور اولاد بھی چھوٹے بچے جو ضعیف کمزور ہیں ان قیدوں کا مقصد یہ ہے کہ جوانی کی حالت میں کسی کا باغ یا کھیتی جل جائے تو اسے یہ امید ہوسکتی ہے کہ پھر باغ لگالوں گا، اور جس شخص کے اولاد نہ ہو اور اس کو دوبارہ باغ لگانے کی امید بھی نہ ہو تو باغ جل جانے کے بعد بھی اس کو کوئی خاص فکر معاش کی نہیں ہوتی، اکیلا آدمی جس طرح چاہے تنگی ترشی سے گذارا کرسکتا ہے اور اگر اولاد بھی ہو مگر جوان صالح ہوں جن سے یہ توقع کی جائے کہ وہ باپ کا ہاتھ بٹائیں گے اور مدد کریں گے ایسی صورت میں بھی انسان کو باغ کے جل جانے یا لٹ جانے پر بھی کچھ زیادہ صدمہ نہیں ہوتا کیونکہ اولاد کی فکر سے فارغ ہے بلکہ اولاد اس کا بھی بوجھ اٹھا سکتی ہے، غرض یہ تینوں قیدیں شدت احتیاج کو بیان کرنے کے لئے لائی گئیں، کی ایسا شخص جس نے اپنا مال اور محنت خرچ کرکے ایک باغ لگایا اور وہ باغ تیار ہو کر پھل بھی دینے لگا اور اسی حالت میں اس کا بڑھاپا اور کمزوری کا زمانہ بھی آگیا اور یہ شخص صاحب عیال بھی ہے اور عیال بھی چھوٹے اور کمزور بچے ہیں تو ان حالات میں اگر لگایا ہوا باغ جل جائے تو صدمہ شدید ہوگا اور تکلیف بےحد ہوگی۔
اسی طرح جس شخص نے ریاء کاری سے صدقہ و خیرات کیا یہ گویا اس نے باغ لگایا پھر موت کے بعد اس کی حالت اس بوڑھے جیسی ہوگئی جو کمانے اور دوبارہ باغ لگانے کی قدرت نہیں رکھتا، کیونکہ موت کے بعد انسان کا کوئی عمل ہی نہیں رہا اور جس طرح عیال دار بوڑھا اس کا بہت محتاج ہوتا ہے کہ پچھلی کمائی محفوظ ہو تاکہ ضعیفی میں کام آئے اور اگر اس اس حالت میں اس کا باغ اور مال و متاع جل جائے تو اس کے دکھ اور درد کی انتہا نہ رہے گی اسی طرح یہ صدقہ و خیرات جو ریاء ونمود کے لئے کیا گیا تھا عین ایسے وقت ہاتھ سے جاتا رہے گا جب کہ وہ اس کا بہت حاجتمند ہوگا۔
اس پوری آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ صدقہ و خیرات کے اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی ایک بڑی شرط اخلاص ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے خرچ کیا جائے کسی نام ونمود کا اس میں دخل نہ ہو۔
اب اس پورے رکوع کی تمام آیات پر مکرر نظر ڈالئے تو ان سے انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات کے اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی چھ شرائط معلوم ہوں گی۔
اول اس مال کا حلال ہونا جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، دوسرے طریق سنت کے مطابق خرچ کرنا، تیسرے صحیح مصرف میں خرچ کرنا، چوتھے خیرات دے کر احسان نہ جتلانا، پانچویں ایسا کوئی معاملہ نہ کرنا جس سے ان لوگوں کی تحقیر ہو جن کو یہ مال دیا گیا ہے، چھٹے جو کچھ خرچ کیا جائے اخلاص نیت کے ساتھ خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے ہو نام ونمود کے لئے نہ ہو۔
دوسری شرط یعنی طریق سنت کے مطابق خرچ کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت اس کا لحاظ رہے کہ کسی حقدار کی حق تلفی نہ ہو اپنے عیال کے ضروری اخراجات بغیر ان کی رضامندی کے بند یا کم کرکے صدقہ و خیرات کرنا کوئی امر ثواب نہیں، حاجتمند وارثوں کو محروم کرکے سارے مال کو صدقہ و خیرات یا وقف کردینا تعلیم سنت کے خلاف ہے پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہزاروں صورتیں ہیں۔
طریق سنت یہ ہے کہ مصرف کی اہمیت اور ضرورت کی شدت کا لحاظ کرکے مصرف کا انتخاب کیا جائے عام طور پر خرچ کرنے والے اس کی رعایت نہیں کرتے۔
تیسری شرط کا حاصل یہ ہے کہ ثواب ہونے کے لئے صرف اتنی بات کافی نہیں کہ اپنے خیال میں کسی کام کو نیک سمجھ کر نیک نیتی سے اس میں صرف کردے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مصرف شریعت کی رو سے جائز اور مستحسن بھی ہو کوئی شخص ناجائز کھیل تماشوں کے لئے اپنی جائیداد وقف کردے تو وہ بجائے ثواب کے عذاب کا مستحق ہوگا یہی حال تمام ان کاموں کا ہے جو شریعت کی رو سے مستحسن نہیں ہیں۔
Ayah 2:267خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (نیک کام میں) خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور (عمدہ چیز کو) اس میں سے جو کہ ہم نے تمہارے (کام میں لانے کے) لئے زمین سے پیدا کیا اور ردی (ناکارہ) چیز کی طرف نیت مت لے جایا کرو کہ اس میں سے خرچ کردو حالانکہ (ویسی ہی چیز اگر کوئی تم کو تمہارے حق واجب کے عوض یا سوغات میں دینے لگے تو) تم کبھی اس کے لینے والے نہیں ہاں مگر چشم پوشی (اور رعایت) کرجاؤ (تو اور بات ہے) اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں (جو ایسی ناکارہ چیزوں سے خوش ہوں) تعریف کے لائق ہیں (یعنی ذات وصفات میں کامل ہیں تو ان کے دربار میں چیز بھی کامل تعریف کے لائق ہی پیش کرنا چاہئے) شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے (کہ اگر خرچ کرو گے یا اچھا مال خرچ کرو گے تو محتاج ہوجاؤ گے) اور تم کو بری بات (یعنی بخل) کا مشورہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ کرتا ہے (خرچ کرنے پر اور اچھی چیز خرچ کرنے پر) اپنی طرف سے گناہ معاف کردینے کا اور زیادہ دینے کا (یعنی چونکہ نیک جگہ خرچ کرنا اطاعت ہے، اور اطاعت سے معصیت کا کفارہ ہوجاتا ہے لہذا اس سے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں اور حق تعالیٰ کسی کو دنیا میں بھی اور آخرت میں تو سبھی کو خرچ کا عوض بھی زیادہ کرکے دیتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں (وہ سب کچھ دے سکتے ہیں) خوب جاننے والے ہیں (نیت کے موافق ثمرہ دیتے ہیں اور یہ سب مضامین بہت ظاہر ہیں لیکن ان کو وہی سمجھتا ہے جس کو دین کا فہم ہو اور اللہ تعالیٰ) دین کا فہم جس کو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں اور (سچ تو یہ ہے کہ) جس کو دین کا فہم مل جاوے اس کو بڑی خیر کی چیز مل گئی (کیونکہ دنیا کی کوئی نعمت اس کے برابر نافع نہیں) اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (یعنی جو عقل صحیح رکھتے ہیں) اور تم لوگ جو کسی قسم کا خرچ کرتے ہو یا کسی طرح کی نذر مانتے ہو سو حق تعالیٰ کو سب کی یقینا اطلاع ہے اور بےجا کام کرنے والوں کا (قیامت میں) کوئی ہمراہی (حمایتی) نہ ہوگا اگر تم ظاہر کرکے دو صدقات کو تب بھی اچھی بات ہے اور اگر ان کا اخفاء کرو اور (اخفاء کے ساتھ) فقیروں کو دو تب اخفاء تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) تمہارے گناہ بھی دور کردیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کئے ہوئے کاموں کی خوب خبر رکھتے ہیں (چونکہ بہت سے صحابہ کفار کو بایں مصلحت خیرات نہ دیتے تھے کہ شاید اسی تدبیر سے کچھ لوگ مسلمان ہوجاویں اور رسول اللہ ﷺ نے بھی یہی رائے دی تھی اس لئے اس آیت میں دونوں طرح کے خطاب کرکے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ان (کافروں) کو ہدایت پر لے آنا کچھ آپ کے ذمہ (فرض واجب) نہیں (جس کے لئے اتنی دور دراز اہتمام کئے جاویں) لیکن (یہ تو) خدا تعالیٰ (کا کام ہے) جس کو چاہیں ہدایت پر لے آویں (آپ کا کام صرف ہدایت کا پہنچا دینا ہے خواہ کوئی ہدایت پر آوے یا نہ آوے اور ہدایت کا پہنچا دینا کچھ اس ممانعت پر موقوف نہیں) اور (اے مسلمانو) جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنے فائدہ کی غرض سے کرتے ہو اور (اس فائدہ کا بیان یہ ہے کہ) تم اور کسی غرض سے خرچ نہیں کرتے بجز رضاجوئی ذات پاک حق تعالیٰ کے (ثواب اس کے لوازم سے ہے اور یہ ہر جاجت مند کی رفع حاجت کرنے سے حاصل ہوتی ہے پھر مسلمان فقیر کی تخصیص کیوں کی جاوے) اور (نیز) جو کچھ مال خرچ کر رہے ہو یہ سب (یعنی اس کا عوض اور ثواب) پورا پورا تم (ہی) کو (آخرت میں) مل جاوے گا اور تمہارے لئے اس میں ذرا کمی نہ کی جاوے گی (سو تم کو اپنے عوض سے مطلب رکھنا چاہئے اور عوض ہر حال میں ملے گا پھر تم کو اس سے کیا بحث کہ ہمارا صدقہ مسلمان ہی کو ملے کافر کو نہ ملے صدقات) اصل حق ان حاجت مندوں کا ہے جو مقید ہوگئے ہوں اللہ کی راہ میں (یعنی دین کی خدمت) میں اور اسی خدمت دین میں مقید اور مشغول رہنے سے) وہ لوگ (طلب معاش کے لئے) کہیں ملک میں چلنے پھرنے کا (عادۃ) امکان نہیں رکھتے (اور) ناواقف ان کو مالدار خیال کرتا ہے ان کے سوال سے بچنے کے سبب سے (البتہ) تم ان لوگوں کو ان کے طرز (ہئیت) سے پہچان سکتے ہو (کیونکہ فقروفاقہ سے چہرے اور بدن میں ایک گونہ اضمحلال ضرور آجاتا ہے اور یوں) وہ لوگوں سے لپٹ کر مانگتے نہیں پھرتے (جس سے کوئی ان کو حاجت مند سمجھے یعنی مانگتے ہی نہیں کیونکہ اکژ جو لوگ مانگنے کے عادی ہیں وہ لپٹ کر ہی مانگتے ہیں) اور (ان لوگوں کی خدمت کرنے کو) جو مال خرچ کرو گے بیشک حق تعالیٰ کو اس کی خوب اطلاع ہے (اور لوگوں کو دینے سے ان کی خدمت کا فی نفسہ زیادہ ثواب دیں گے) جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو رات میں اور دن میں (یعنی بلا تخصیص اوقات) پوشیدہ اور آشکارا (یعنی بلا تخصیص حالات) سو ان لوگوں کو ان کا ثواب ملے گا (قیامت کے روز) ان کے رب کے پاس (جاکر) اور نہ (اس روز) ان پر کوئی خطرہ (واقع ہونے والا ہی ہے اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔
معارف و مسائل
اس سے قبل کے رکوع میں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کا بیان تھا اب اسی سے متعلقہ امور کا مزید بیان اس رکوع کی سات آیات میں کیا گیا ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا (الیٰ قولہ) غَنِىٌّ حَمِيْدٌ شان نزول سے طیب کے معنے عمدہ کے کئے گئے ہیں کیونکہ بعض لوگ خراب چیزیں لے آتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی اور بعض نے عموم لفظ سے طیب کی تفسیر حلال سے کی ہے کیونکہ پوری عمدہ جب ہی ہوتی ہے جب حلال بھی ہو، پس اس بناء پر آیت میں اس کی بھی تاکید ہوگئی اور پہلی تفسیر پر دوسرے دلائل سے اس تاکید کو ثابت کیا جاوے گا اور یاد رکھو کہ یہ اس شخص کے لئے ہے جس کے پاس عمدہ چیز ہو اور پھر وہ بری نکمی چیز خرچ کرے جیسا کہ لفظ كَسَبْتُمْ اور اَخْرَجْنَا اس کے موجود ہونے پر اور وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ عمدا نکمی چیز کے خرچ کرنے پر دلالت کر رہا ہے اور جس کے پاس اچھی چیز ہو ہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے اور اس کی وہ بری چیز بھی مقبول ہے لفظ مَا كَسَبْتُمْ سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والد کا اپنے بیٹے کی کمائی سے کھانا جائز ہے لقولہ علیہ السلام۔
اولادکم من طیب اکسابکم فکلوا من اموال اولادکم ھنئا (قرطبی) تمہاری اولاد تمہاری کمائی کا ایک پاکیزہ حصہ ہے پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے مزے سے کھاؤ۔
عشر اراضی کے احکام
وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ میں لفظ اَخْرَجْنَا سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عشری زمین میں عشر واجب ہے، اس آیت کے عموم سے امام اعظم ابوحنیفہ نے استدلال کیا ہے کہ عشری زمین کی ہر قلیل و کثیر پیداوار پر عشر واجب ہے، سورة انعام کی آیت اٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ (141: 6) وجوب عشر میں بالکل صریح اور واضح ہے عشر و خراج شریعت اسلامی کے دو اصلاحی لفظ ہیں ان دونوں میں ایک بات مشترک ہے کہ اسلامی حکومت کی طرف سے زمینوں پر عائد کردہ ٹیکس کی ایک حیثیت ان دونوں میں ہے فرق یہ ہے کہ عشر فقط ٹیکس نہیں بلکہ اس میں ٹیکس سے زیادہ اصلی حیثیت عبادت مال کی ہے مثل زکوٰۃ کے اسی اس کو زکوٰۃ الارض بھی کہا جاتا ہے اور خراج خالص ٹیکس ہے جس میں عبادت کی کوئی حیثیت نہیں مسلمان چونکہ عبادت کے اہل اور پابند ہیں ان سے جو زمین کی پیداوار کا حصہ لیا جاتا ہے اس کو عشر کہتے ہیں اور غیرمسلم چونکہ عبادت کے اہل نہیں ان کی زمینوں پر جو کچھ عائد کیا جاتا ہے اس کا نام خراج ہے عملی طور پر زکوٰۃ اور عشر میں یہ بھی فرق ہے کہ سونا چاندی اور تجارت کے مال پر زکوٰۃ سال بھر گذرنے کے بعد عائد ہوتی ہے اور عشر زمین سے پیداوار حاصل ہوتے ہی واجب ہوجاتا ہے۔
دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ اگر زمین سے کوئی پیداوار نہ ہو تو عشر ساقط ہوجاتا ہے لیکن اموال تجارت اور سونے چاندی پر اگر کوئی نفع بھی نہ ہو تب بھی سال پورا ہونے پر ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی عشر و خراج کے مسائل کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، کتب فقہ میں مذکور ہے اور احقر نے اپنی کتاب نظام الارضی میں بھی تفصیل سے لکھ دیا ہے جس میں پاکستان ہندوستان کی زمینوں کے خصوصی احکام بھی لکھے گئے ہیں۔
Ayah 2:268اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ (الیٰ قولہ) وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ جب کسی کے دل میں یہ خیال آئے کہ اگر کروں گا تو مفلس ہوجاؤں گا اور حق تعالیٰ کی تاکید سن کر بھی اس کی ہمت نہ ہو اور دل چاہے کہ اپنا مال خرچ نہ کرے اور وعدہ الہٰی سے اعراض کرکے وعدہ شیطانی پر طبیعت کو میلان اور اعتماد ہو تو اس کو یقین کرلینا چاہئے کہ یہ مضمون شیطان کی طرف سے ہے، یہ نہ کہے کہ شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت بھی نہیں دیکھی حکم کرنا تو درکنار رہا اور اگر یہ خیال آوے کہ صدقہ و خیرات سے گناہ بخشے جائیں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہوگی تو جان لے کہ یہ مضمون اللہ کی طرف سے آیا ہے، اور خدا کا شکر کرے اور اللہ کے خزانے میں کمی نہیں سب کے ظاہر و باطن نیت وعمل کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 2:269حکمت کے معنے اور تفسیر
يُّؤ ْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاۗءُ لفظ حکمت قرآن کریم میں بار بار آیا ہے اور ہر جگہ اس کی تفسیر میں مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں، تفسیر بحر محیط میں اس جگہ تمام اقوال مفسرین کو جمع کیا ہے وہ تقریبا تیس ہیں مگر آخر میں فرمایا کہ درحقیقت یہ سب اقوال متقارب ہیں ان میں کوئی اختلاف نہیں صرف تعبیرات کا فرق ہے کیونکہ لفظ حکمت احکام بالکسر کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں کسی عمل یا قول کو اس کے تمام اوصاف کے ساتھ مکمل کرنا۔
اسی لئے بحر محیط میں آیت بقرہ اٰتٰهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ (251: 2) جو حضرت داؤد ؑ کے متعلق ہے اس کی تفسیر میں فرمایا
والحکمۃ وضع الامور فی محلہا علی الصواب و کمال ذلک انما یحصل بالنبوۃحکمت کے اصلی معنی ہر شے کو اس کے محل میں رکھنے کے ہیں اور اس کا کمال صرف نبوت سے ہوسکتا ہے اس لئے یہاں حکمت کی تفسیر نبوت سے کی گئی ہے۔
امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ لفظ حکمت جب حق تعالیٰ کے لئے استعمال کیا جائے تو معنی تمام اشیاء کی پوری معرفت اور مستحکم ایجاد کے ہوتے ہیں اور جب غیر اللہ کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے، موجودات کی صحیح معرفت اور اس کے مطابق عمل مراد ہوتا ہے۔
اسی مفہوم کی تعبیریں مختلف الفاظ میں کی گئی ہیں کسی جگہ اس سے مراد قرآن ہے کسی جگہ حدیث کسی جگہ علم صحیح کہیں عمل صالح کہیں قول صادق کہیں عقل سلیم، کہیں فقہ فی الدین، کہیں اصابت رائے اور کہیں خشیۃ اللہ اور آخری معنی تو خود حدیث میں بھی مذکور ہیں۔ رأس الحکمہ خشیۃ اللہ یعنی اصل حکمت خدا تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور آیت وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ (2: 62) میں حکمت کی تفسیر صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین سے حدیث وسنت منقول ہے اور بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ آیت زیر نظر يُؤ ْتَ الْحِكْمَةَ میں یہ سب چیزیں مراد ہیں (بحر محیط، ص 320، ج 2) اور ظاہر یہی قول ہے اور ارشاد قرآنی وَمَنْ يُّؤ ْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا سے بھی اس کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ جس شخص کو حکمت دے دیگئی اس کو خیر کثیر دے دیگئی واللہ اعلم۔
Ayah 2:270وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ (الیٰ قولہٖ) وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ کسی قسم کے خرچ کرنے میں سب خرچ آگئے وہ بھی جس میں سب شرائط مذکورہ کی رعایت ہو اور وہ بھی بھی جس میں کل کی یا بعض کی رعایت نہ ہو مثلاً فی سبیل اللہ نہ ہو بلکہ معصیت میں ہو یا انفاق میں ریاء شامل ہو یا انفاق کرکے اس پر احسان جتلاناہو، یا حلال یا عمدہ مال نہ ہو، اسی طرح نذر کے عموم میں سب نذریں آگئیں مثلا عبادت مالیہ کی نذر، اور اسی مناسبت سے انفاق کے ساتھ نذر کو لائے ہیں یا عبادت بدنیہ کی نذر ہو پھر وہ مطلق ہو یا کسی امر پر معلق ہو پھر یہ کہ اس کا ایفاء کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو اور مقصود اس کہنے سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان سب چیزوں کا علم ہے وہ اس کی جزاء دیں گے یہ اس لئے سنایا تاکہ حدود و شرائط کی رعایت کی ترغیب اور عدم رعایت سے ترہیب ہو، اور بےجا کام کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو ضروری شرائط کی رعایت نہیں کرتے ان کو صریحا وعید سنا دی۔
Ayah 2:271اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ (الیٰ قولہٖ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ
بظاہر یہ آیت فرض اور نفل سب صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفاء ہی افضل ہے اس میں دینی مصلحت بھی ہے کہ ریاء سے ابعد ہے لینے والا بھی نہیں شرماتا، اور دنیوی مصلحت بھی ہے کہ اپنے مال کی مقدار عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی اور مراد افضلیت اخفاء سے آیت میں افضلیت فی نفسہ ہے، پس اگر کسی مقام پر کسی عارض سے مثلا رفع تہمت یا امید اقتداء وغیرہ سے اظہار کو ترجیح ہوجاوے تو افضلیت فی نفسہ کے منافی نہیں وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ کفارہ سیات کچھ اخفاء کے ساتھ تو خاص نہیں صرف اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے اخفاء کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے کہ اخفاء میں تجھے اگر کوئی ظاہری فائدہ نظر نہ آئے تو منقبض نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے اور یہ تمہارے لئے فائدہ عظیمہ ہے۔
Ayah 2:272لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ (الیٰ قولہ) وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی ہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا پھر ان زوائد پر کیوں نظر کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں اور کافر کو نہ دیں۔
یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس صدقہ سے مراد صدقہ نفلی ہے جس کا ذمی کافر کو بھی دینا جائز ہے زکوٰۃ مراد نہیں ہے کیونکہ وہ سوائے مسلمان کے کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں (مظہری)
(1) مسئلہحربی کافر کو کسی قسم کا صدقہ وغیرہ دینا جائز نہیں۔
(2) مسئلہکافر ذمی یعنی غیر حربی کو صرف زکوٰۃ وعشر دینا جائز نہیں اور دوسرے صدقات واجبہ ونفل سب جائز ہیں اور آیت میں زکوٰۃ داخل نہیں۔
Ayah 2:273لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الی قولہ) فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ یہاں فقراء سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو دینی مشغولیت کی وجہ سے دوسرا کوئی کام نہیں کرسکتے۔
يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی فقیر قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اس کی وجہ سے اس کو غنی کہا جائے گا اور ایسے آدمی کو زکوٰۃ دینا بھی صحیح ہوگا (قرطبی)
تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ سے معلوم ہوا کہ علامات کو دیکھ کر حکم لگانا صحیح ہے، چناچہ اگر کوئی مردہ اس قسم کا پایا جائے کہ اس پر زنا رہے اور اس کا ختنہ بھی نہیں کیا ہوا ہو تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا (قرطبی)
لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا اس آیت سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ لپٹ کر نہیں مانگتے لیکن بغیر لپٹ کر مانگنے کی نفی نہیں ہے، چناچہ بعض حضرات کا یہی قول ہے لیکن جمہور کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سوال بالکل ہی نہیں کرتے، لانہم متعففون عن المسألۃ عفۃ تامۃ (قرطبی)
Ayah 2:274آٹھویں آیت اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَار میں ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضلیت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں تمام حالات واوقات میں رات میں اور دن میں خفیہ اور علانیہ ہر طرح فی سبیل اللہ خرچ کرتے رہتے ہیں اس کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ صدقہ و خیرات کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں نہ رات اور دن کی کوئی تعیین ہے اس طرح خفیہ اور علانیہ دونوں طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ثواب ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ خرچ کیا جائے نام ونمود مقصود نہ ہو خفیہ خرچ کرنے کی فضیلت بھی اسی حد تک ہے کہ علانیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی ضرورت داعی نہ ہو اور جہاں ایسی ضرورت ہو وہاں علانیہ خرچ کرنا ہی افضل ہے۔
روح المعانی میں بحوالہ ابن عساکر نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے چالیس ہزار دینار اللہ کی راہ میں اسی طرح خرچ کئے کہ دس ہزار دن میں دس ہزار رات میں، دس ہزار خفیہ اور دس ہزار علانیہ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا شان نزول اسی واقعہ صدیق اکبر کو لکھا ہے اسکے شان نزول کے متعلق اور بھی مختلف اقوال ہیں۔