2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:43

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

اور قائم رکھو نماز کو اور یاد کرو زکوٰة اور مجھکو نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ

خلاصہ تفسیر اور نماز قائم کرو تم لوگ نماز کو (یعنی مسلمان ہو کر) اور زکوٰۃ دو اور عاجزی کرو عاجزی کرنے والوں کے ساتھ (علماء بنی اسرائیل کے بعض اقارب مسلمان ہوگئے تھے جب ان سے گفتگو ہوتی تو خفیہ طور پر یہ علماء ان سے کہتے تھے کہ بیشک محمد ﷺ رسول برحق ہیں ہم لوگ تو کسی مصلحت سے مسلمان نہیں ہوتے مگر تم اس مذہب اسلام کو نہ چھوڑنا اسی بنا پر حق تعالیٰ نے فرمایا) کیا غضب ہے کہ کہتے ہو اور لوگوں کو نیک کام کرنے کو (یعنی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کو) اور اپنی خبر نہیں لیتے حالانکہ تم تلاوت کرتے رہتے ہو کتاب کی (یعنی تورات کی جس میں جابجا ایسے عالم بےعمل کی مذمتیں مذکور ہیں) تو پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے اور مدد لو (یعنی اگر تم کو حب مال وحب جاہ کی وجہ سے ایمان لانا دشوار معلوم ہوتا ہو تو مدد لو) صبر اور نماز سے (یعنی ایمان لاکر صبر کا التزام بہت دشوار ہے تو سن لے کہ) بیشک وہ نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے قلوب میں خشوع ہو ان پر کچھ بھی دشوار نہیں وہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو خیال رکھتے ہیں اس کا کہ وہ بیشک ملنے والے ہیں اپنے رب سے اور اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے والے ہیں (تو اس وقت اس کا حساب کتاب بھی دینا ہوگا ان دونوں خیالوں سے رغبت بھی پیدا ہوگی اور یہی دو چیزیں ہر عمل کی روح ہیں) معارف و مسائل ربط آیات بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلا کر ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت دی ہے پچھلی تین آیتوں میں ایمان و عقائد سے متعلق ہدایات تھیں اور ان چار آیتوں میں اعمال صالحہ کی تلقین ہے اور ان میں جو اعمال سب سے زیادہ اہم ہیں ان کا ذکر ہے اور حاصل مطلب آیات کا یہ ہے کہ اور اگر تم کو حب مال وجاہ کے غلبہ سے ایمان لانا دشوار معلوم ہوتا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو صبر سے حب مال گھٹ جائے گی کیونکہ مال اسی وجہ سے مطلوب و محبوب ہے کہ وہ ذریعہ ہے لذات وشہوات کے پورا کرنے کا جب ان لذات وشہوات کی مطلق العنانی چھوڑنے پر ہمت باندھ لو گے تو پھر مال کی فراوانی کی نہ ضرورت رہے گی نہ اس کی محبت ایسی غالب آئے گی کہ اپنے نفع نقصان سے اندھا کردے اور نماز سے حب جاہ کم ہوجائے گی کیونکہ نماز میں ظاہری اور بابنی ہر طرح کی پستی اور عاجزی ہی ہے جب نماز کو صحیح صحیح ادا کرنے کی عادت ہوجائے گی توحب جاہ ومنصب اور تکبر و غرور گھٹے گا اصل مادہ فساد جس کے سبب ایمان لانا دشوار تھا یہی مال وجاہ کی محبت تھی جب یہ مادہ فساد گھٹ گیا تو ایمان لانا آسان ہوجائے گا، اب سمجئے کہ صبر میں تو صرف غیر ضروری خواہشات اور شہوات کا ترک کرنا ہے اور نماز میں بہت سے افعال کا واقع کرنا بھی ہے اور بہت سی جائز خواہشات کو بھی وقتی طور پر ترک کرنا ہے مثلا کھانا، پینا، کلام کرنا، چلنا پھرنا، اور دوسری انسانی ضرورت جو شرعا جائز ومباح ہیں ان کو بھی نماز کے وقت ترک کرنا ہے اور بھی اوقات کی پابندی کے ساتھ دن رات میں پانچ مرتبہ اس لئے نماز نام ہے کچھ افعال معینہ کا اور معین اوقات میں تمام ناجائز و جائز چیزوں سے صبر کرنے کا، غیر ضروری خواہشات کے ترک کرنے پر انسان ہمت باندھ لے تو چند روز کے بعد طبعی تقاضا بھی ختم ہوجاتا ہے کوئی دشواری نہیں رہتی لیکن نماز کے اوقات کی پابندی اور اس کی تمام شرائط کی پابندی اور ضروری خواہشات سے بھی ان اوقات میں پرہیز کرنا یہ انسانی طبیعت پر بہت بھاری اور دشوار ہے اس لئے یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ایمان کو آسان بنانے کا جو نسخہ تجویز کیا گیا کہ صبر اور نماز سے کام لو اس نسخہ کا استعمال خود ایک دشوار چیز ہے خصوصا نماز کی پابندیوں کا تو اس دشواری کا کیا علاج ہوگا ؟ اس کے لئے ارشاد فرمایا بیشک وہ نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے قلوب میں خشوع ہو ان پر کچھ دشوار نہیں اس میں نماز کے آسان کرنے کی ترکیب بتلادی گئی، حاصل یہ ہے کہ نماز میں دشواری کی وجہ اور سبب پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ انسان کا قلب خوگر ہے میدان خیال میں آزاد پھرنے کا اور سب اعضائے انسانی قلب کے تابع ہیں اس لئے قلب کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ اس کے سب اعضاء بھی آزاد ہیں اور نماز سراسر اس آزادی کے خلاف ہے کہ نہ ہنسو نہ بولو نہ کھاؤ نہ پیو نہ چلو وغیرہ وغیرہ اس لئے قلب ان تقیدات سے تنگ ہوتا ہے اور اس کے تابع اعضائے انسانی بھی اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ سبب اس دشواری اور گرانی کا قلب کی حرکت فکریہ ہے تو اس کا علاج سکون سے ہونا چاہئے اس لئے خشوع کو نماز کے آسان ہونے کا ذریعہ بتایا گیا کیونکہ خشوع کے معنی ہی سکون قلب کے ہیں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سکون قلب یعنی خشوع کس طرح حاصل ہو تو یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے قلب افکار و خیالات کو براہ راست نکالنا چاہے تو اس میں کامیابی قریب بمحال ہے بلکہ اس کی تدبیر یہ ہے کہ نفس انسانی چونکہ ایک وقت میں دو طرف متوجہ نہیں ہوسکتا اس لئے اگر اس کو کسی ایک خیال میں محو ومستغرق کردیا جائے تو دوسرے خیالات اور افکار خود بخود دل سے نکل جائیں اس لئے تلقین خشوع کے بعد وہ خیال بتلاتے ہیں جس میں مستغرق ہوجانے سے دوسرے خیالات دفع ہوں اور ان کے دفع ہونے سے حرکت فکریہ قلب کی منقطع ہو کر سکون حاصل ہو اور سکون سے نماز میں آسانی ہو کر اس پر مداومت اور پابندی نصیب ہو اور اس پابندی سے کبر و غرور اور حب جاہ کم ہو تاکہ ایمان کے راستہ میں جو حائل ہے وہ دور ہو کر ایمان کامل ہوجائے سبحان اللہ کیا مرتب علاج اور مطب ہے، اب اس خیال مذکور کی تلقین و تعیین اس طرح فرمائی وہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو خیال رکھتے ہیں اس کا کہ وہ بیشک ملنے والے ہیں اپنے رب سے تو اس وقت اس خدمت کا خوب انعام ملے گا اور اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے والے ہیں تو اس وقت اس کا حساب و کتاب بھی دینا ہوگا ان دونوں خیالوں سے رغبت و رہبت یعنی امید اور خوف پیدا ہوں گے اول تو ہر خیال محمود میں مستغرق ہوجانا قلب کو نیک کام پر جما دیتا ہے خصوصاً امید وبیم کا خیال اس کو تو خاص طور پر دخل ہے نیک کام میں مستعد کردینے کے لئے، وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ صلوٰۃ کے لفظی معنیٰ دعا کے ہیں اصطلاح شرع میں وہ خاص عبادت ہے جس کو نماز کہا جاتا ہے قرآن کریم میں عموماً نماز کی جتنی مرتبہ تاکید کی گئی لفظ اقامت کے ساتھ آئی ہے مطلق نماز پڑھنے کا ذکر صرف ایک دو جگہ آیا ہے اس لئے اقامت صلوٰۃ کی حقیقت کو سمجھنا چاہئے اقامت کے لفظی معنی سیدھا کرنے اور ثابت رکھنے کے ہیں اور عادۃ جو عمود یا دیوار یا درخت وغیرہ سیدھا کھڑا ہوتا ہے وہ قائم رہتا ہے گرجانے کا خطرہ کم ہوتا ہے اس لئے اقامت کے معنی دائم اور قائم کرنے کے بھی آتے ہیں، قرآن وسنت کی اصطلاح میں اقامت صلوۃ کے معنی نماز کو اس کے وقت میں پابندی کے ساتھ اس کے پورے آداب و شرائط کی رعایت کرکے ادا کرنا ہیں مطلق نماز پڑھ لینے کا نام اقامت صلوۃ نہیں ہے نماز کے جتنے فضائل اور آثار و برکات قرآن و حدیث میں آئے ہیں وہ سب اقامت صلوٰۃ کے ساتھ مقید ہیں مثلا قرآن کریم میں ہے اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ (45: 29) یعنی نماز انسان کو ہر بےحیائی اور ہر برے کام سے روک دیتی ہے، نماز کا یہ اثر اسی وقت ظاہر ہوگا جب کہ نماز کی اقامت اس معنی سے کرے جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں اس لئے بہت سے نمازیوں کو برائیوں اور بےحیائیوں میں مبتلا دیکھ کر اس آیت پر کوئی شبہ نہ کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں نے نماز پڑھی تو ہے مگر اس کو قائم نہیں کیا، اٰتُوا الزَّكٰوةَ لفظ زکوٰۃ کے معنی لغت میں دو آتے ہیں پاک کرنا اور بڑہنا اصطلاح شریعت میں مال کے اس حصہ کو زکوٰۃ کہا جاتا ہے جو شریعت کے احکام کے مطابق کسی مال میں سے نکالا جائے اور اس کے مطابق صرف کیا جائے، اگرچہ یہاں خطاب موجودہ بنی اسرائیل کو ہے جس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نماز اور زکوٰۃ اسلام سے پہلے بنی اسرائیل پر فرض تھی مگر سورة ٔمائدہ میں وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا وَقَال اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوة (12: 5) سے ثابت ہے کہ نماز اور زکوٰۃ بنی اسرائیل پر فرض تھی اگرچہ اس کی کیفیت اور ہیئت وغیرہ میں فرق ہو، وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ رکوع کے لغوی معنی جھکنے کے ہیں اور اس معنی کے اعتبار سے یہ لفظ سجدہ پر بھی بولا جاسکتا ہے کیونکہ وہ بھی جھکنے کا انتہائی درجہ ہے مگر اصطلاح شرع میں اس خاص جھکنے کو رکوع کہتے ہیں جو نماز میں معروف و مشہور ہے، آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ یہاں ایک بات یہ قابل غور ہے کہ نماز کے تمام ارکان میں سے اس جگہ رکوع کی تخصیص کیوں کی گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں نماز کا ایک جز بول کر کل نماز مراد لی گئی ہے جیسے قرآن مجید میں ایک جگہ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ فرما کر پوری نماز فجر مراد ہے اور بعض روایات حدیث میں سجدہ کا لفظ بول کر پوری رکعت یا نماز مراد لی گئی ہے اس لئے مراد آیت کی یہ ہوگئی کہ نماز پڑھو نماز پڑھنے والوں کے ساتھ لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ نماز کے بہت سے ارکان میں سے رکوع کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہود کی نماز میں سجدہ وغیرہ تو تھا مگر رکوع نہیں تھا رکوع اسلامی نماز کی خصوصیات میں سے ہے اس لئے راکعین کے لفظ سے امت محمدیہ کے نمازی مراد ہوں گے جن کی نماز میں رکوع بھی ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ تم بھی امت محمدیہ کے نمازیوں کے ساتھ نماز ادا کرو یعنی اول ایمان قبول کرو پھر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرو، باجماعت نماز کے احکام نماز کا حکم اور اس کا فرض ہونا تو لفظ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ سے معلوم ہوچکا تھا اس جگہ مَعَ الرّٰكِعِيْن کے لفظ سے نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ حکم کس درجہ کا ہے ؟ اس میں علماء فقہا کا اختلاف ہے ایک جماعت صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین اور فقہائے امت کی جماعت کو واجب قرار دیتی ہے اور اس کے چھوڑنے کو سخت گناہ اور بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین تو اس نماز ہی کو جائز قرار نہیں دیتے جو بلا عذر شرعی کے بدون جماعت پڑھی جائے یہ آیت ظاہری الفاظ کے اعتبار سے ان حضرات کی حجت ہے جو وجوب جماعت کے قائل ہیں اس کے علاوہ چند روایات حدیث سے بھی جماعت کا واجب ہونا سمجھا جاتا ہے ایک حدیث میں ہے کہلاصلوٰۃ لجار المسجد الا فی المسجد (رواہ ابوداؤد) یعنی مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز صرف مسجد ہی میں جائز ہے، اور مسجد کی نماز سے ظاہر ہے کہ جماعت کی نماز مراد ہے تو الفاظ حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز بغیر جماعت کے جائز نہیں، مسجد کے سوا کسی اور جگہ جماعت اور صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ ایک نابینا صحابی نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا آدمی نہیں جو مجھے مسجد تک پہنچا دے اور لیجایا کرے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو میں نماز گھر میں پڑھ لیا کروں آنحضرت ﷺ نے اول تو ان کو اجازت دے دی مگر جب وہ جانے لگے تو سوال کیا کہ کیا اذان کی آواز تمہارے گھر تک پہونچتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اذان کی آواز تو میں سنتا ہوں آپ نے فرمایا پھر تو آپ کو مسجد میں آنا چاہئے اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پھر میں آپ کے لئے کوئی گنجائش اور رخصت نہیں پاتا (اخرجہ ابوداؤد) اور حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ من سمع النداء فلم یجب فلا صلوٰۃ لہ الا من عذر (صححہ القرطبی) یعنی جو شخص اذان کی آواز سنتا ہے اور جماعت مسجد میں نہیں آتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کو کوئی عذر شرعی ہو، ان احادیث کی بنا پر حضرت عبداللہ بن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری وغیرہ حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جو شخص مسجد سے اتنا قریب رہتا ہے کہ اذان کی آواز وہاں تک پہونچتی ہے تو اگر وہ بلاعذر کے جماعت میں حاضر نہ ہوا تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی (آواز سننے سے مراد یہ ہے کہ متوسط آواز والے آدمی کی آواز وہاں پہنچ سکے، آلہ مکبر الصوت یا غیر معمولی بلند آواز کا اس میں اعتبار نہیں) یہ سب روایات ان حضرات کی دلیل ہیں جو جماعت کو واجب قرار دیتے ہیں مگر جمہور امت علماء وفقہاء صحابہ وتابعین کے نزدیک جماعت سنت مؤ کدہ ہے مگر سنن مؤ کدہ میں سنت فجر کی طرح سب سے زیادہ مؤ کد اور قریب بوجوب ہے ان سب حضرات نے قرآن کریم کے امر وارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْن کو دوسری آیات اور روایات کی بنا پر تاکید کے لئے قرار دیا ہے، اور جن احادیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز بغیر جماعت کے ہوتی ہی نہیں اس کا یہ مطلب قرار دیتے ہیں کہ یہ نماز کامل اور مقبول نہیں اس معاملے میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان بہت واضح اور کافی ہے جس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے، فقیہہ الامت حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کل (محشر میں) اللہ تعالیٰ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملے تو اس کو چاہئے کی ان (پانچ) نمازوں کے ادا کرنے کی پابندی اس جگہ کرے جہاں اذان دی جاتی ہے (یعنی مسجد) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم ﷺ کے لئے کچھ ہدایت کے طریقے بتلائے ہیں اور ان پانچ نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا انہی سنن ھدٰی میں سے ہے اور اگر تم نے یہ نمازیں اپنے گھر میں پڑھ لیں جیسے یہ جماعت سے الگ رہنے والا اپنے گھر میں پڑھ لیتا ہے (کسی خاص شخص کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) تو تم اپنے نبی کریم ﷺ کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہوجاؤ گے (اور جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح پاکی حاصل کرے) پھر کسی مسجد کا رخ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم پر نیکی اس کے نامہ اعمال میں درج فرماتے ہیں اور اس کا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں اور ایک گناہ معاف کردیتے ہیں اور ہم نے اپنے مجمع کو ایسا پایا ہے کہ منافق بین النفاق کے سوا کوئی آدمی جماعت سے الگ نماز نہ پڑہتا تھا یہاں تک کہ بعض حضرات کو عذر اور بیماری میں بھی دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مسجد میں لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا تھا اس بیان میں جس طرح باجماعت نماز کی پوری تاکید اور اہمیت و ضرورت کا ذکر ہے اسی کے ساتھ اس کا یہ درجہ بھی بیان فرما دیا کہ وہ سنن ہدی میں سے ہے جس کو فقہاء سنت مؤ کدہ کہتے ہیں چناچہ اگر کوئی شخص عذر شرعی مثلاً مرض وغیرہ کے بغیر تنہا نماز پڑھ لے اور جماعت میں شریک نہ ہو تو اس کی نماز تو ہوجائے گی مگر سنت مؤ کدہ کے ترک کی وجہ سے مستحق عتاب ہوگا اور اگر ترک جماعت کی عادت بنالے تو سخت گنہگار ہے خصوصاً اگر ایسی صورت ہوجائے کہ مسجد ویران رہے اور لوگ گھروں میں نماز پڑھیں تو یہ سب شرعاً مستحق سزا ہیں اور قاضی عیاض نے فرمایا کہ ایسے لوگ اگر سمجھانے سے باز نہ آئیں تو ان سے قتال کیا جائے (قرطبی 298 ج 1)
Ayah 2:44

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور بھولتے ہو اپنے آپ کو اور تم تو پڑھتے ہو کتاب پھر کیوں نہیں سوچتے ہو

بےعمل واعظ کی مذمت اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ اس آیت میں خطاب اگرچہ علمائے یہود سے ہے ان کو ملامت کی جارہی ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو یہ تلقین کرتے کہ تم محمد ﷺ کی پیروی کرتے رہو اور دین اسلام پر قائم رہو (جو علامت ہے اس بات کی کہ علمائے یہود دین اسلام کو یقینی طور پر حق سمجھتے تھے) مگر خود نفسانی خواہشات سے اتنے مغلوب تھے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن معنی کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کی مذمت ہے جو دوسروں کو تو نیکی اور بھلائی کی ترغیب دے مگر خود عمل نہ کرے دوسروں کو خدا سے ڈرائے مگر خود نہ ڈرے ایسے شٰخص کے بارے میں احادیث میں بڑی ہولناک وعیدیں آئی ہیں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میرا گذر کچھ لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ اور زبانیں آگ کی قینچوں سے کترے جارہے تھے میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون ہیں ! جبرئیل نے بتایا کہ یہ آپ کی امت کے دنیادار واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر اپنی خبر نہ لیتے تھے (ابن کثیر) ابن عساکر نے ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بعض جنتی بعض دوخیوں کی آگ میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ تم آگ میں کیونکر پہنچ گئے ؟ حالانکہ ہم تو بخدا انہی نیک اعمال کی بدولت جنت میں داخل ہوئے ہیں جو ہم نے تم سے سیکھے تھے اہل دوزخ کہیں گے ہم زبان سے کہتے ضرور تھے لیکن خود عمل نہیں کرتے تھے (ابن کثیر) کیا فاسق وعظ و نصیحت نہیں کرسکتا ؟: لیکن مذکورہ بیان سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ بےعمل یا فاسق کے لئے دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنا جائز نہیں اور جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہو وہ دوسروں کو اس گناہ سے باز رہنے کی تلقین نہ کرے کیونکہ کوئی اچھا عمل الگ نیکی ہے اور اس اچھے عمل کی تبلیغ دوسری مستقل نیکی ہے اور ظاہر ہے کہ ایک نیکی کو چھوڑنے سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ دوسری نیکی بھی چھوڑدی جائے، جیسے ایک شخص اگر نماز نہیں پڑہتا تو اس کے لئے یہ لازم نہیں کہ وہ روزہ بھی ترک کردے بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑہتا تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ دوسروں کو نماز پڑھنے کے لئے بھی نہ کہے اسی طرح کسی ناجائز فعل کا ارتکاب الگ گناہ ہے اور اپنے زیر اثر لوگوں کو اس ناجائز فعل سے نہ روکنا دوسرا گناہ ہے اور ایک گناہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا گناہ بھی ضرور کیا جائے (روح المعانی) چنانچہ امام مالک نے حضرت سعید بن جبیر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر ہر شخص یہ سوچ کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑدے کہ میں خود گنہگار ہوں جب گناہوں سے خود پاک ہوجاؤں گا تو لوگوں کو تبلیغ کروں گا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ تبلیغ کرنے والا کوئی بھی باقی نہ رہے گا کیونکہ ایسا کون ہے جو گناہوں سے بالکل پاک ہو ؟ حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ اسی غلط خیال میں پڑ کر تبلیغ کا فریضہ چھوڑ بیٹھیں (قرطبی) بلکہ حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی تو فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھے اپنی کسی بری عادت کا علم ہوتا ہے تو میں اس عادت کی مذمت اپنے مواعظ میں خاص طور سے بیان کرتا ہوں تاکہ وعظ کی برکت سے یہ عادت جاتی رہے، خلاصہ یہ ہے کہ آیت، اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بےعمل آدمی کو وعظ کہنا جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ واعظ کو بےعمل نہیں ہونا چاہئے اور دونوں میں فرق واضح ہے مگر یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ بےعمل ہونا نہ تو واعظ کیلئے جائز ہے نہ غیر واعظ کیلئے پھر واعظ کی تخصیص کیوں ؟ جواب یہ ہے کہ ناجائز تو دونوں کے لئے ہے مگر واعظ کا جرم غیر واعظ کے جرم کے مقابلے میں زیادہ سنگین اور زیادہ قابل ملامت ہے کیونکہ واعظ جرم کو جرم سمجھتے ہوئے جان بوجھ کر کرتا ہے اس کے پاس یہ عذر نہیں ہوتا کہ مجھے اس کا جرم ہونا معلوم نہ تھا برخلاف غیر واعظ کے اور ان پڑھ جاہل کے کہ اس کو خواہ علم حاصل نہ کرنے کا الگ گناہ ہو لیکن ارتکاب گناہ میں اس کے پاس کسی درجہ میں عذر موجود ہوتا ہے کہ مجھے معلوم نہ تھا اس کے علاوہ عالم اور واعظ اگر کوئی جرم کرتا ہے تو یہ دین کے ساتھ ایک قسم کا استہزاء ہے چناچہ حضرت انس سے روایت ہے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے جتنا ان پڑھ لوگوں کو معاف کرے گا اتنا علماء کو معاف نہیں کریگا، دو نفسیاتی بیماریاں اور ان کا علاج حب مال اور حب جاہ یہ دونوں قلب کی ایسی بیماریاں ہیں جن کے باعث انسان کی دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اور غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی تاریخ میں اب تک جتنی انسانیت سوز لڑائیاں لڑی گئیں اور جو فساد برپا ہوئے ان میں سے اکثر وبیشتر کو انہی دو بیماریوں نے جنم دیا تھا، حب مال کے نتائج یہ نکلتے ہیں (1) کنجوسی اور بخل پیدا ہوتا ہے جس کا ایک قومی نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ اس کی دولت قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی دوسرا نقصان خود اس کی ذات کو پہنچتا ہے کہ معاشرہ میں کوئی ایسے شخص کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا، (2) خود غرضی پیدا ہوتی ہے جو مال کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے اسے اشیاء میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی رشوت ستانی، مکروفریب اور دغا بازی کے نت نئے حیلے سجھاتی ہے وہ اپنی تجوری پہلے سے زیادہ بھرنے کے لئے دوسروں کا خون نچوڑ لینا چاہتا ہے بالآخر سرمایہ دار اور مزدور کے جھگڑے جنم لیتے ہیں، (3) ایسے شخص کو کتنا ہی مال مل جائے لیکن مزید کمانے کی دھن ایسی سوار ہوتی ہے کہ تفریح اور آرام کے وقت بھی یہی بےچینی اسے کھائے جاتی ہے کہ کسی طرح اپنے سرمایہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کروں بالآخر جو مال اس کے آرام و راحت کا ذریعہ بنتا وہ اس کے لئے وبال جان بن جاتا ہے ؛ (4) حق بات خواہ کتنی ہی روشن ہو کر سامنے آجائے مگر وہ ایسی کسی بات کو ماننے کی ہمت نہیں کرتا جو اس کی ہوس مال سے متصادم ہو یہ تمام چیزیں بالآخر پورے معاشرہ کا امن وچین برباد کر ڈالتی ہیں غور کیا جائے تو قریب قریب یہی حال حب جاہ کا نظر آئے گا کہ اس کے نتیجہ میں تکبر خود غرضی حقوق کی پامالی ہوس اقتدار اور اس کے لئے خوں ریز لڑائیاں اور اسی طرح کی بیشمار انسانیت سوز خرابیاں جنم لیتی ہیں جو بالآخر دنیا کو دوزخ بنا کر چھوڑتی ہیں ان دونوں بیماریوں کا علاج قرآن کریم نے یہ تجویز فرمایا، وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ (اور مدد لو صبر اور نماز سے) یعنی صبر اختیار کرو یعنی اپنی لذات وشہوات پر قابوحاصل کرلو اس سے حب مال گھٹ جائے گی کیونکہ مال کی اندھا دھند پیروی چھوڑنے پر ہمت باندھ لو گے تو شروع میں اگرچہ شاق گذرے گا لیکن رفتہ رفتہ یہ خواہشات اعتدال پر آجائیں گی اور اعتدال تمہاری عادت بن جائے گا تو پھر مال کی فراوانی کی ضرورت نہ رہے گی نہ اس کی محبت ایسی آئے گی کہ اپنے نفع نقصان سے اندھا کردے، اور نماز سے حب جاہ کم ہوجائے گی کیونکہ نماز میں ظاہری اور باطنی ہر طرح کی عاجزی اور پستی ہے جب نماز کو صحیح صحیح ادا کرنے کی عادت ہوجائے گی تو ہر وقت اللہ کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا تصور رہنے لگے گا جس سے تکبر و غرور اور حب جاہ گھٹ جائے گی
Ayahs 2:45–46

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور مدد چاہو صبر سے اور نماز سے اور البتہ وہ بھاری ہے مگر انہی عاجزوں پر

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

جن کو خیال ہے کہ وہ روبرو ہونے والے ہیں اپنے رب کے اور یہ کہ ان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

خشوع کی حقیقت اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْن قرآن وسنت میں جہاں خشوع کی ترغیب مذکور ہے اس سے مراد وہ قلبی سکون و انکساری ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اطاعت آسان ہوجاتی ہے کبھی اس کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ وہ باادب متواضع اور شکستہ قلب نظر آتا ہے اگر دل میں خوف خدا اور تواضع نہ ہو تو خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی باادب اور متواضع نظر آئے وہ خشوع کا حامل نہیں۔ بلکہ آثار خشوع کا قصداً اظہار کرنا بھی پسندیدہ نہیں حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ سر جھکائے بیٹھا ہے فرمایا سر اٹھا خشوع دل میں ہوتا ہے ، حضرت ابراہیم نخعی کا ارشاد ہے کہ موٹا پہننے موٹا کھانے اور سر جھکانے کا نام خشوع نہیں خشوع تو یہ ہے کہ تم حق کے معاملہ میں شریف ورذیل کے ساتھ یکساں سلوک کرو اور اللہ نے جو تم پر فرض کیا ہے اسے اداس کرنے میں اللہ تعالیٰ کے لئے قلب کو فارغ کرلو، حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ جب بات کرتے تو سنا کرتے تھے جب چلتے تو تیز چلتے اور جب مارتے تو زور سے مارتے تھے حالانکہ بلاشبہ وہ خشوع رکھنے والے تھے، خلاصہ یہ کہ اپنے قصد واختیار سے خاشعین کی سی صورت بنانا شیطان اور نفس کا دھوکہ ہے اور مذموم ہے ہاں اگر بےاختیار یہ کیفیت ظاہر ہوجائے تو معذور ہے (قرطبی) فائدہخشوع کے ساتھ ایک دوسرا لفظ خضوع بھی استعمال ہوتا ہے قرآن کریم میں یہ بھی بار بار آیا ہے یہ دونوں لفظ تقریباً ہم معنی ہیں لیکن خشوع کا لفظ اصل کے اعتبار سے آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ وہ مصنوعی نہ ہو بلکہ قلبی خوف اور تواضع کا نتیجہ ہو قرآن کریم میں ہے، خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ (آوازیں پست ہوگئیں) اور خضوع کا لفظ بدن کی تواضع اور انکساری کے لئے استعمال ہوتا ہے قرآن حکیم میں ہے، فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ (4: 26) پس ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک گئیں، نماز میں خشوع کی فقہی حیثیت نماز میں خشوع کی تاکید قرآن وسنت میں بار بار آئی ہے قرآن کریم کا ارشاد ہے وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (14: 20) اور نماز قائم کر مجھے یاد کرنے کے لئے، اور ظاہر ہے کہ غفلت یاد کرنے کی ضد ہے جو نماز میں اللہ تعالیٰ سے غافل ہے وہ اللہ کو یاد کرنے کا فریضہ ادا نہیں کررہا ؛ ایک اور آیت میں ارشاد ہے وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ (205: 7) اور تو غافلوں میں سے نہ ہو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے نماز تو صرف تمسکن اور تواضع ہی ہے جس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ جب تمسکن اور تواضع دل میں نہ ہو تو وہ نماز نہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کی نماز اسے بےحیائی اور برائیوں سے نہ روک سکے وہ اللہ سے دور ہوتا جاتا ہے اور غافل کی نماز بےحیائی سے اور برائیوں سے نہیں روکتی معلوم ہوا کہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والا اللہ سے دور ہی ہوتا جاتا ہے، امام غزالی نے مذکورہ آیات و روایات اور دوسرے دلائل پیش کرکے فرمایا ہے کہ ان کا یہ تقاضا ہے کہ خشوع نماز کے لئے شرط ہو اور نماز کی صحت اس پر موقوف ہو پھر فرمایا کہ سفیان ثوری حسن بصری اور معاذ بن جبل کا مذہب یہی تھا کہ خشوع کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی بلکہ فاسد ہے لیکن ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء نے خشوع کو شرط صلوٰۃ قرار نہیں دیا بلکہ اسے نماز کی روح قرار دینے کے باوجود صرف اتنا شرط کیا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قلب کو حاضر کرکے اللہ کے لئے نماز کی نیت کرے باقی نماز میں اگر خشوع حاصل نہ ہو تو اگرچہ اتنی نماز کا ثواب اسے نہیں ملے گا جتنے حصہ میں خشوع نہیں رہا لیکن فقہ کی رو سے وہ تارک صلوٰۃ نہیں کہلائے گا اور نہ اس پر تعزیر وغیرہ کے وہ احکام مرتب ہوں گے جو تارک صلوٰۃ پر لگتے ہیں، امام غزالی نے اس کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ فقہاء باطنی احوال اور قلبی کیفیات پر حکم نہیں لگاتے بلکہ وہ تو صرف اعضائے ظاہرہ کے اعمال پر ظاہری احکام بیان کرتے ہیں یہ بات یہ فلاں عمل کا ثواب آخرت میں ملے گا یا نہیں یہ فقہ کی حدود سے خارج ہے تو چونکہ باطنی کیفیات پر حکم لگانا ان کی بحث سے خارج ہے اور خشوع ایک باطنی کیفیت ہے اس لئے انہوں نے خشوع کو پوری نماز میں شرط قرار نہیں دیا بلکہ خشوع کے ادنی مرتبہ کو شرط کہا اور وہ یہ کہ کم ازکم تکبیر تحریمہ کے وقت محض اللہ کی عبادت و تعظیم کی نیت کرلے، خشوع کو پوری نماز میں شرط قرار نہ دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن حکیم کی دوسری آیات میں تشریع احکام کا یہ واضح اصول بتادیا گیا ہے کہ انسانوں پر کوئی ایسی چیز فرض نہیں کی جاتی جو ان کی طاقت و امکان سے باہر ہو، اور پوری نماز میں خشوع برقرار رکھنے سے ماسوا چند خاص افراد کے اکثر لوگ عاجز ہوتے ہیں اس لئے تکلیف مالایطاق سے بچنے کے لئے پوری نماز کے بجائے صرف ابتداء صلوٰۃ میں خشوع کو شرط قرار دے دیا گیا ، نماز خشوع کے بغیر بھی بالکل بےفائدہ نہیں امام غزالی آخر میں ارشاد فرماتے ہیں کہ خشوع کی اس غیر معمولی اہمیت کے باوجود ہمیں اللہ سے یہی امید ہے کہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والا بھی بالکلیہ تارک صلوٰۃ کے درجہ میں نہیں کیونکہ بہرحال اس نے ادائے فرض کا اقدام تو کیا ہے اور تھوڑی سی دیر کے لئے قلب کو اللہ کے لئے فارغ بھی کیا کہ کم از کم نیت کے وقت تو صرف اللہ ہی کا دھیان تھا ایسی نماز کا کم سے کم فائدہ یہ ضرور ہے کہ اس کا نام نافرمانوں اور بےنمازوں کی فہرست سے نکل گیا، مگر دوسری حیثیت سے یہ خوف بھی ہے کہ کہیں غافل کی حالت تارک سے بھی زیادہ بری نہ ہو، کیونکہ جو غلام آقا کی خدمت میں حاضر ہو کر آقا سے بےتوجہی برتتا اور تحقیر آمیز لہجہ میں کلام کرتا ہے اس کی حالت اس غلام سے زیادہ شدید ہے جو خدمت میں حاضر ہی نہیں ہوتا، خلاصہ کلام یہ کہ معاملہ بیم ورجاء کا ہے عذاب کا خوف بھی ہے اور بخشش کی امید بھی اس لئے غفلت وتساہل کو چھوڑنے کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش کرتے رہنا چاہئے وما توفیقنا الا باللہ۔
Ayahs 2:47–48

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کئے اور اس کو کہ میں نے تم کو بڑائی دی تمام عالم پر

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی اور قبول نہ ہو اس کی طرف سے سفارش اور نہ لیا جائے اس کی طرف سے بدلہ اور نہ ان کو مدد پہنچے

خلاصہ تفسیر اے اولاد یعقوب ؑ کہ تم لوگ میری اس نعمت کو یاد کرو (تاکہ شکر اور اطاعت کی تحریک ہو) جو میں نے تم کو انعام میں دی تھی اور اس (بات) کو (یاد کرو) کہ میں نے تم کو (خاص خاص برتاؤ میں) تمام دنیا جہان والوں پر فوقیت دی تھی (اور ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تم کو ایک بڑے حصہ مخلوق پر فوقیت دی تھی مثلاً اس زمانہ کے لوگوں پر)۔ فائدہاس آیت میں خطاب چونکہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے اور عموما ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا پر جو احسان و اکرام کیا جائے اس سے اس کی اولاد بھی فائدہ حاصل کرتی ہے جس کا عام طور پر مشاہدہ ہوتا رہتا ہے اس لئے ان کو بھی اس آیت میں مخاطب سمجھا جاسکتا ہے، اور ڈرو تم ایسے دن سے کہ (جس میں) نہ تو کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکتا ہے اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوسکتی ہے (جبکہ خود اس شخص میں ایمان نہ ہو جس کی سفارش کرتا ہے) اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی معاوضہ لیا جاسکتا ہے اور نہ ان لوگوں کی طرفداری چل سکے گی، فائدہآیت میں جس یوم کا ذکر ہے اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطالبہ ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کسی کے ذمہ نماز روزہ کا مطالبہ ہو اور دوسرا کہہ دے کہ میرا نماز روزہ لے کر اس کا حساب بیباق کردیا جائے اور معاوضہ یہ کہ کچھ مال وغیرہ داخل کرکے بچا لادے سو دونوں باتیں نہ ہوں گی اور بدون ایمان کے سفارش قبول نہ ہونے کو جو فرمایا ہے تو اور آیتوں سے معلوم ہوا کہ اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایسوں کی خود سفارش ہی نہ ہوگی جو قبول کی گنجائش ہو اور طرفداری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی زوردار حمایت کرکے زبردستی نکال لادے، غرض یہ کہ دنیا میں مدد کرنے کے جتنے طریقے ہوتے ہیں بدون ایمان کے کوئی طریقہ بھی نہ ہوگا،
Ayah 2:49

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور یاد کرو اس وقت کو جبکہ رہائی دی ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے جو کرتے تھے تم کو بڑا عذاب، ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تماری عورتوں کو اور اس میں آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بڑی۔

خلاصہ تفسیر اوپر جن خاص برتاؤں کا حوالہ دیا ہے اب یہاں سے ان کی تفصیل بیان کرنی شروع کی پہلا معاملہ تو یہ ہے کہ اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ رہائی دی ہم نے تم (لوگوں کے آباء و اجداد) کو متعلقین فرعون سے جو فکر میں لگے رہتے تھے تمہاری دل آزاری کے گلے کاٹتے تھے تمہاری اولاد (ذکور) کے اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری عورتوں کو (لڑکیوں کو کہ زندہ رہ کر بڑی عورتیں ہوجائیں) اور اس واقعہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا ایک بڑا بھاری امتحان تھا، فائدہکسی نے فرعون سے پشینگوئی کردی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیری سلطنت جاتی رہے گی اس لئے اس نے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردیا اور چونکہ لڑکیوں سے کوئی اندیشہ نہ تھا اس لئے ان سے کچھ تعرض نہیں کیا دوسرے اس میں اس کا اپنا ایک مطلب بھی تھا کہ ان عورتوں سے ماماگری اور خدمت گاری کا کام لیتا تھا سو یہ عنایت بھی اپنے مطلب کے لئے تھی اور اس واقعہ سے یا تو یہ ذبح و قتل مذکور مراد ہے اور مصیبت میں صبر کا امتحان ہوتا ہے اور یا رہائی دینا مراد ہے جو کہ ایک نعمت ہے اور نعمت میں شکر کا امتحان ہوتا ہے اور اس نجات دینے کی تفصیل آگے بیان فرمائی،
Ayah 2:50

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمہاری وجہ سے دریا کو پھر بچادیا ہم نے تم کو اور ڈبو دیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھ رہے تھے

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ شق کردیا ہم نے تمہارے (رستہ دینے کی) وجہ سے دریائے شور کو پھر ہم نے (ڈوبنے سے) بچا لیا تم کو اور غرق کردیا متعلقین فرعون کو (مع فرعون کے) اور تم (اس کا) معائنہ کر رہے تھے، فائدہیہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ ؑ پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے جب وہ کسی طرح نہ مانا تو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو خفیہ طور پر لے کر یہاں سے چلے جاؤ، راستہ میں دریا حائل ہوا اور اسی وقت پیچھے سے فرعون بھی مع لشکر آپہنچا حق تعالیٰ کے حکم سے دریا شق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو گذرنے کا راستہ مل گیا یہ تو پار ہوگئے فرعون کے پہنچنے تک دریا اسی طرح رہا وہ بھی تعاقب کی غرض سے اس میں گھس گیا اس وقت سب طرف سے دریا سمٹ کر اپنی سابق حالت پر ہوگیا اور فرعون اور اس کے ساتھی سب وہاں ہی غرق ہو کر ختم ہوگئے،
Ayah 2:51

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے چالیس رات کا پھر تم نے بنالیا بچھڑا موسیٰ کے بعد اور تم ظالم تھے

اور (وہ زمانہ یاد کرو) جبکہ وعدہ کیا تھا ہم نے موسیٰ ؑ سے (تورات دینے کا ایک مدت گذرنے پر جس میں دس رات کا اضافہ ہوکر) چالیس رات کا (زمانہ ہوگیا تھا) پھر تم لوگوں نے (پرستش کے لئے) تجویز کرلیا گوسالہ کو موسیٰ ؑ کے (جانے کے) بعد اور تم نے (اس تجویز میں صریح) ظلم پر کمر باندھ رکھی تھی (کہ ایسی بےجا بات کے قائل ہوگئے تھے) فائدہیہ قصہ اس وقت ہوا جب فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل بقول بعض مصر میں واپس آکر رہنے لگے یا بقول بعض کسی اور مقام پر ٹھر گئے تو موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ اب ہم بالکل مطمئن ہوگئے اگر کوئی شریعت ہمارے لئے مقرر ہو تو اس کو اپنا دستور العمل بنائیں موسیٰ ؑ کی عرض پر حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ تم کوہ طور پر آکر ایک مہینہ ہماری عبادت میں مشغول رہو ایک کتاب تم کو دیں گے آپ نے ایسا ہی کیا اور تورات آپ کو مل گئی مگر دس روز مزید عبادت میں مشغول رہنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ موسیٰ ؑ نے ایک ماہ روزہ رکھنے کے بعد افطار فرما لیا تھا اللہ تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کا رائحہ (جو خلوئے معدہ کی تبخیر سے پیدا ہوجاتا ہے پسند ہے اس لئے موسیٰ ؑ کو حکم ہوا کہ دس روزے اور رکھیں تاکہ وہ رائحہ پھر پیدا ہوجائے اس طرح یہ چالیس روزے پورے ہوگئے موسیٰ ؑ تو یہ یہاں رہے اور وہاں ایک شخص سامری نامی تھا اس نے چاندی یا سونے کا ایک بچھڑے کا قالب بنا کر اس کے اندر وہ مٹی جو اس نے جبرئیل ؑ کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اٹھا کر اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی تھی ڈال دی اس بچھڑے میں جان پڑگئی اور جہلا بنی اسرائیل نے اسی کی پرستش شروع کردی،
Ayah 2:52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر معاف کیا، ہم نے تم کو اس پر بھی تاکہ تم احسان مانو۔

خلاصہ تفسیر پھر بھی ہم نے (تمہاری توبہ کرنے پر) درگذر کیا تم سے اتنی بڑی بات ہوئے پیچھے اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے، فائدہاس توبہ کا بیان آگے کی تیسری آیت میں مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس توقع رکھنے کا مطلب نعوذ باللہ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کو شک تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ درگذر کرنا ایسی چیز ہے کہ دیکھنے والوں کو شکر گذاری کی توقع کا گمان ہوسکتا ہے،
Ayah 2:53

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور جب دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا کرنے والے احکام تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (تورات) دی اور فیصلہ کی چیز اس توقع پر کہ تم چلتے رہو، فائدہفیصلہ کی چیز یا تو ان احکام شرعیہ کو کہا جو تورات میں لکھے ہیں (کیونکہ) شرع سے تمام تر اعتقادی اور عملی اختلافات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ یا معجزوں کو کہا کہ ان سے بچے، جھوٹے دعوی کا فیصلہ ہوتا ہے یا خود تورات ہی کو کہہ دیا کہ اس میں کتاب ہونے کی صفت بھی ہے اور فیصل ہونے کی صفت بھی۔
Ayah 2:54

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنا کر سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک پھر متوجہ ہوا تم پر بیشک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم بیشک تم نے اپنا بڑا نقصان کیا اس گوسالہ (پرستی) کی تجویز سے سو تم اب اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو پھر بعض (جنہوں نے گوسالہ پرستی نہیں کی) بعض آدمیوں کو (جنہوں نے گوسالہ پرستی کی) قتل کرو یہ (عمل درآمد) تمہارے لئے بہتر ہوگا تمہارے خالق کے نزدیک پھر (اس عملدر آمد کرنے سے) حق تعالیٰ تمہارے حال پر (اپنی عنایت سے) متوجہ ہوئے بیشک وہ تو ایسے ہی ہیں کہ توبہ قبول کرلیتے ہیں اور عنایت فرماتے ہیں، فائدہیہ اس طریق کا بیان ہے جو ان کی توبہ کے لئے تجویز ہوا یعنی مجرم لوگ قتل کئے جائیں جیسا ہماری شریعت میں بھی بعض گناہوں کی سزا باوجود توبہ کے بھی قتل وجان ستانی مقرر ہے مثلاً قتل عمد کے عوض قتل اور ثبوت زنا بالشہادۃ پر رجم، کہ توبہ سے یہ سزا ساقط نہیں ہوتی چناچہ ان لوگوں نے اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے آخرت میں مورد رحمت و عنایت ہوگئے،
Ayah 2:55

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم نے ہرگز یقین نہ کریں گے تیرا جب تک کہ نہ دیکھ لیں اللہ کو سامنے پھر آلیا تم کو بجلی نے اور تم دیکھ رہے تھے۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں نے (یوں) کہا کہ اے موسیٰ ہم تمہارے کہنے سے ہرگز نہ مانیں گے (کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے) یہاں تک کہ ہم (خود) اللہ تعالیٰ کو علانیہ طور پر دیکھ لیں سو (اس گستاخی پر) تم پر کڑک بجلی کی آ پڑی اور تم (اس بجلی کا آنا) آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ فائدہاس کا قصہ اس طرح ہوا تھا کہ جب موسیٰ ؑ نے کوہ طور سے تورات لاکر پیش کی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے تو بعض گستاخ لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ ہماری کتاب ہے تو بیشک ہم کو یقین آجائے گا موسیٰ ٰ ؑ نے باذن الہی فرمایا کہ کوہ طور پر چلو یہ بات بھی ہوجائے گی بنی اسرائیل نے اس کام کے لئے ستر آدمی منتخب کرکے موسیٰ ؑ کے ساتھ کوہ طور پر روانہ کئے وہاں پہنچنے پر اللہ تعالیٰ کا کلام ان لوگوں نے خود سنا تو اس وقت اور رنگ لائے کہ ہم کو تو کلام سننے سے قناعت نہیں ہوتی خدا جانے کون بول رہا ہوگا اگر خدا کو دیکھ لیں تو بیشک مان لیں چونکہ دنیا میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی قوت نہیں رکھتا اس لئے اس گستاخی پر ان پر بجلی آپڑی اور سب ہلاک ہوگئے (ہلاکت کے متعلق اگلی آیت میں بیان ہے)
Ayah 2:56

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر اٹھا کھڑا کیا ہم نے تم کو مرگتے پیچھے تاکہ تم احسان مانو

خلاصہ تفسیر پھر ہم نے (موسیٰ ؑ کی دعا سے) تم کو زندہ کر اٹھایا تمہارے مرجانے کے بعد اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے، فائدہموت کے لفظ سے ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس بجلی سے مرگئے تھے ان کے دوبارہ زندہ کئے جانے کا قصہ یہ ہوا کہ موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ بنی اسرائیل یوں ہی بدگمان رہتے ہیں اب وہ یہ سمجھیں گے کہ میں نے ان کو کہیں لے جا کر کسی تدبیر سے ان کا کام تمام کرا دیا ہوگا مجھ کو اس تہمت سے محفوظ رکھئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو پھر زندہ کردیا
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور سایہ کیا ہم نے تم پر ابرکا اور اتارا تم پر من اور سلویٰ کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے

خلاصہ تفسیر اور سایہ فگن کیا ہم نے تم پر ابر کو (میدان تیہ میں) اور (خزانہ غیب سے) پہنچایا ہم نے تمہارے پاس ترنجین اور بٹیریں (اور تم کو اجازت دی کہ) کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں (مگر وہ لوگ اس میں بھی خلاف بات کر بیٹھے) اور (اس سے) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے، فائدہدونوں قصے وادی تیہ میں واقع ہوئے وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام ہے حضرت یوسف ؑ کے وقت میں مصر آئے تھے اور یہاں ہی رہ پڑے اور ملک شام میں عمالقہ نامی قوم کا تسلط ہوگیا فرعون جب غرق ہوگیا اور یہ لوگ مطمئن ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کا ان کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنی اصلی جگہ کو ان کے قبضہ سے چھڑا لو بنی اسرائیل اس ارادہ پر مصر سے چلے اور ان کی حدود میں پہنچ کر جب عمالقہ کے زور وقوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے صاف انکار کردیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس انکار کی یہ سزا دی کہ چالیس برس تک ایک میدان میں سرگرداں و پریشان پھرتے رہے گھر پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا، یہ میدان کچھ بہت بڑا رقبہ نہ تھا بلکہ مصر اور شام کے درمیان پانچ چھ کوس یعنی تقریباً دس میل کا رقبہ تھا روایت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے وطن مصر جانے کے لئے دن بھر سفر کرتے اور رات کو کسی منزل پر اترتے صبح کو دیکھتے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں ہیں اسی طرح چالیس سال سرگرداں و پریشان اس میدان میں پھرتے رہے اسی لئے میدان کو وادی تیہ کہا جاتا ہے۔ تیہ کے معنی ہیں سرگردانی اور پریشانی کے یہ وادی تیہ ایک کھلا میدان تھا نہ اس میں کوئی عمارت تھی نہ درخت جس کے نیچے دھوپ اور سردی اور گرمی سے بچا جاسکے اور نہ یہاں کوئی کھانے پینے کا سامان تھا نہ پہننے کے لئے لباس مگر اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کی دعا سے اسی میدان میں ان کی تمام ضروریات کا انتظام فرما دیا بنی اسرائیل نے دھوپ کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک سفید رقیق ابر کا سایہ کردیا اور بھوک کا تقاضا ہوا تو من وسلوٰی نازل فرما دیا یعنی درختوں پر ترنجین جو ایک شیریں چیز ہے بکثرت پیدا کردی یہ لوگ اس کو جمع کرلیتے اسی کو من کہا گیا ہے اور بٹیریں ان کے پاس جمع ہوجاتیں ان سے بھاگتی نہ تھیں یہ ان کو پکڑ لیتے اور ذبح کرکے کھاتے اسی کو سلویٰ کہا گیا ہے یہ لوگ دونوں لطیف چیزوں سے پیٹ بھر لیتے چونکہ جرنجین کی کثرت معمول سے زائد تھی اور بٹیروں کا وحشت نہ کرنا یہ بھی معمول کے خلاف ہے لہذا اس حیثیت سے دونوں چیزیں خزانہ غیب سے قرار دی گئیں ان کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو موسیٰ ؑ کو ایک پتھر پر لاٹھی مارنے کا حکم دیا گیا اس پتھر سے چشمے پھوٹ پڑے جیسا کہ دوسری آیات قرآنی میں مذکور ہے ان لوگوں نے رات کی اندھیری کا شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایک روشنی عمودی شکل میں ان کے محلہ کے درمیان قائم فرمادی کپڑے میلے ہوئے اور پھٹنے لگے اور لباس کی ضرورت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے بطور اعجاز یہ صورت کردی کہ ان کے کپڑے نہ میلے ہوں نہ پھٹیں اور بچوں کے بدن پر جو کپڑے ہیں وہ ان کے بدن کے بڑہنے کے ساتھ ساتھ اسی مقدار میں بڑہتے رہیں (تفسیر قرطبی) اور ان لوگوں کو یہ بھی حکم ہوا تھا کہ بقدر خرچ لے لیا کریں، آئندہ کے لئے جمع کرکے نہ رکھیں مگر ان لوگوں نے حرص کے مارے اس میں بھی خلاف کیا تو رکھا ہوا گوشت سڑنا شروع ہوگیا اسی کو فرمایا ہے کہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے،
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور جب ہم نے کہا داخل ہو اس شہر میں اور کھاتے پھرو اس میں جہاں چاہو فراغت سے اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور کہتے جاؤ بخشدے تو معاف کردیں گے ہم تمہارے قصور اور زیادہ بھی دیں گے نیکی والوں کو

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے حکم کیا کہ تم لوگ اس آبادی کے اندر داخل ہو پھر کھاؤ اس کی چیزوں میں جس جگہ تم رغبت کرو بےتکلفی سے اور (یہ بھی حکم دیا کہ جب اندر جانے لگو تو) دروازہ میں داخل ہونا (عاجزی سے) جھکے جھکے اور (زبان سے یہ) کہتے جانا کہ توبہ ہے (تو یہ ہے) ہم معاف کردیں گے تمہاری (پچھلی) خطائیں (توسب کی) اور مزید برآں اور دیں گے دل سے نیک کام کرنے والوں کو، فائدہبقول شاہ عبد القادر صاحب یہ قصہ بھی زمانہ وادی تیہ کا ہے کہ جب من وسلویٰ کھاتے کھاتے اکتا گئے اور اپنے معمولی کھانے کی درخواست کی (جیسا آگے کی چوتھی آیت میں آرہا ہے) تو ان کو ایک شہر میں جانے کا حکم ہوا تھا کہ وہاں کھانے پینے کی اور معمولی چیزیں ملیں گی سو یہ حکم اس شہر کے اندر جانے کے متعلق ہے اس میں قولی اور فعلی ادب داخل ہونے کے متعلق بیان کیا گیا اور اندر جاکر کھانے پینے میں توسیع کی گئی اس قول پر بہت سے بہت یہ کہا جاسکے گا کہ قصہ کے بیان میں تقدم وتأخر ہوگیا کہ بعد کا قصہ پہلے بیان ہوا اور پہلے کا بعد میں تو یہ اشکال اس وقت ہوتا جب قرآن مجید میں خود قصوں کا بیان کرنا مقصود اصلی ہوتا اور جب نظر نتائج پر ہے تو اگر ایک قصہ کے اجزا میں ہر جزو کا نتیجہ جدا ہو اور ان نتائج کے کسی اثر کا لحاظ کرکے جزو مقدم کو مؤ خر اور جزو مؤ خر کو مقدم کردیا جائے تو اس میں نہ کوئی مضائقہ ہے اور نہ کوئی اشکال، دیگر مفسرین حضرات نے اس حکم کو اس شہر سے متعلق سمجھا ہے جس پر جہاد کرنے کا حکم ہوا تھا اور بعد مدت تیہ کے پھر اس پر جہاد ہوا اور وہ فتح ہوا اس وقت یوشع ؑ نبی تھے یہ حکم ان کی معرفت اس شہر کے بارے میں ہوا تھا، قول اول کی بناء پر پچھلی خطاؤں میں وہ درخواست بھی داخل کرلینا مناسب ہے جو من وسلویٰ چھوڑ کر معمولی کھانوں کے متعلق کی گئی تھی مطلب یہ ہوگا کہ درخواست تھی تو گستاخی لیکن خیر اب اگر اس ادب اور حکم کو بجا لائے تو اس کو معاف کردیں گے اور ہر قول پر یہ معافی تو سب کہنے والوں کے لئے عام ہوگی اور جو اخلاص سے اعمال صالحہ کریں گے ان کا انعام اس کے علاوہ ہے،
Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے کہ جو کہہ دی گئی تھی ان سے پھر اتارا ہم نے ظالموں پر عذاب آسمان سے ان کی عدول حکمی پر

خلاصہ تفسیر سو بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس (کے کہنے) کی ان سے فرمائش کی گئی تھی اس پر ہم نے نازل کی ان ظالموں پر ایک سماوی آفت اس وجہ سے کہ وہ عدول حکمی کرتے تھے، فائدہیہ آیت آیت سابقہ کا تتمہ ہے وہ کلمہ خلاف یہ تھا کہ حطۃ بمعنی توبہ کی جگہ از راہ تمسخر۔ حبۃ فی شعیرۃ (یعنی غلہ درمیان جو کے) کہنا شروع کیا وہ آفت سماوی طاعون تھا جو حدیث کی رو سے بےحکموں کے لئے عذاب اور حکم برداروں کے لئے رحمت ہے اس شرارت کی ان کو یہ سزا ملی کہ ان میں طاعون پھوٹ پڑا اور بہت سے آدمی فنا ہوگئے (بعضوں نے ہلاک شدگان کی تعداد ستر ہزار تک بتائی) (قرطبی) معارف و مسائل کلام میں لفظی تغیر وتبدل کا حکم شرعی اس آیت سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس شہر میں حطۃ یعنی توبہ توبہ کہتے ہوئے داخل ہوں انہوں نے شرارت سے ان الفاظ کو بدل کر حنطۃ کہنا اختیار کیا اس کی وجہ سے ان پر آسمانی عذاب نازل ہوا یہ الفاظ کی تبدیلی ایسی تھی کہ جس میں صرف الفاظ ہی نہیں بدلے بلکہ معنی بھی بالکل الٹ گئے حطۃ کے معنی توبہ یعنی گناہوں کو نظر انداز کرنے کے تھے اور حنطۃ کے معنی گندم کے ہیں جس کا کلمہ مامور بہا سے کوئی تعلق نہیں الفاظ کی ایسی تبدیلی خواہ قرآن میں ہو یا حدیث میں یا اور کسی امر الہی میں بلاشبہ اور بالاتفاق حرام ہے کیونکہ یہ ایک قسم کا استہزاء یا تحریف ہے اسی پر یہ عذاب نازل ہوا، اب رہا یہ مسئلہ کہ معنی اور مقصود کو محفوظ رکھتے ہوئے صرف الفاظ کی تبدیلی کا کیا حکم ہے ؟ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس کے متعلق فرمایا ہے کہ بعض کلمات اور اقوال میں معنی کی طرح الفاظ بھی مقصود اور اداء عبارت کے لئے ضروری ہوتے ہیں ایسے اقوال میں لفظی تبدیلی بھی جائز نہیں جیسے اذان کے الفاظ مقررہ کے بجائے اسی معنی کے دوسرے الفاظ پڑھنا جائز نہیں اسی طرح نماز میں جو دعائیں مثلا سبحانک اللہم، التحیات، دعائے قنوت، یا تسبیحات رکوع و سجود جن الفاظ سے منقول ہیں انہی الفاظ میں ادا کرنا ضروری ہے دوسرے الفاظ میں اگرچہ معنی وہی محفوظ بھی رہیں مگر تبدیلی جائز نہیں اسی طرح تمام قرآن کریم کے الفاظ کا یہی حکم ہے کہ تلاوت قرآن سے جو احکام متعلق ہیں وہ صرف انہی الفاظ کے ساتھ ہیں جو قرآن کریم کے نازل ہوئے ہیں اگر کوئی ان الفاظ کا ترجمہ دوسرے لفظوں میں کرکے پڑھے جس میں معنی بالکل محفوظ رہیں اس کو اصطلاح شریعت میں تلاوت قرآن نہ کہا جائے گا اور نہ اس پر وہ ثواب حاصل ہوگا جو قرآن پڑھنے پر مقرر ہے کہ ایک حرف پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں کیونکہ قرآن صرف معنی کا نام نہیں بلکہ معنی اور الفاظ نازل شدہ کے مجموعہ کو قرآن کہا جاتا ہے، آیت مذکورہ میں فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِىْ قِيْلَ لَھُمْ کے الفاظ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو توبہ کے لئے جو الفاظ حطۃ کے بتلائے گئے تھے یہ الفاظ بھی ماموربہ تھے ان کا بدلنا خود بھی گناہ تھا پھر تبدیلی ایسی کردی کہ معنی ہی الٹ گئے اس لئے عذاب آسمانی کے مستحق ہوگئے، لیکن جن اقوال اور کلمات میں اصل معنی ہی ہیں الفاظ مقصود نہیں ان میں اگر لفظی تبدیلی ایسی کی جائے کہ معنی پر کوئی اثر نہ پڑے وہ پوری طرح محفوظ رہیں تو جمہور محدثین اور فقہا کے نزدیک یہ تبدیلی جائز نہیں۔ بعض حضرات محدثین حدیث رسول اللہ ﷺ میں ایسی لفظی تبدیلی کو بھی جائز کہتے ہیں، قرطبی نے امام مالک، شافعی، امام اعظم ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ حدیث میں روایت بالمعنی بھی جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ روایت کرنے والا عربی زبان کا ماہر اور مواقع خطاب اور جس ماحول میں حدیث وارد ہوئی ہے اس سے پوری طرح واقف ہو تاکہ اس کی غلطی سے معنی میں فرق نہ آجائے، اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت جس طرح الفاظ حدیث سنے ہیں اسی طرح نقل کرنا ضروری سمجھتے ہیں کوئی لفظی تغیر وتبدل جائز نہیں رکھتے۔ محمد بن سیرین قاسم بن محمد وغیرہ حضرات کا بھی یہی مسلک ہے یہاں تک کہ ان میں سے بعض حضرات کا تعامل یہ ہے کہ اگر راوی حدیث نے کوئی لفظ نقل کرنے میں کوئی لغوی غلطی بھی کی ہے تو اس سے سننے والے کو اسی غلطی کے ساتھ روایت کرنا چاہئے اپنی طرف سے تغیر نہ کرے اس کے ساتھ یہ ظاہر کردے کہ میرے خیال میں صحیح لفظ اس طرح ہے مگر مجھے روایت اس طرح پہنچی ہے ان حضرات کا استدلال اس حدیث سے ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ جب سونے کے لئے بستر پر جائے تو یہ دعا پڑھےامنت بکتابک الذی انزلت ونبیک الذی ارسلت، اس شخص نے نبیک کی جگہ رسولک پڑھ دیا تو آنحضرت ﷺ نے پھر یہی ہدایت فرمائی کہ لفظ نیبک پڑھا کرے جس سے معلوم ہوا کہ لفظی تبدیلی بھی جائز نہیں، اسی طرح ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے نضر اللہ امرا سمع مقالتی فبلغہا کما سمعہا، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو سرسبز و شاداب رکھے جس نے میرا کوئی کلام سنا اور پھر امت کو اسی طرح پہنچا دیا جس طرح سنا تھا، مگر جمہور محدثین اور فقہاء کے نزدیک اگرچہ اولیٰ اور افضل تو یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے حدیث کی روایت میں ٹھیک وہی الفاظ نقل کرے جو سنے ہیں اپنے قصد سے ان میں تبدیلی نہ کرے لیکن اگر وہ الفاظ پوری طرح یاد نہیں رہے تو ان کا مفہوم اپنے الفاظ میں نقل کردینا بھی جائز ہے اور حدیث بلغہا کما سمعہا کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو مضمون سنا ہے وہی بعینہ نقل کردے، اس کے مفہوم میں کوئی فرق نہ آوے الفاظ کی تبدیلی اس کے منافی نہیں امام قرطبی نے اس کی تائید میں فرمایا کہ خود یہی حدیث اس کی دلیل ہے کہ الفاظ کی تبدیلی بضرورت جائز ہے کیونکہ خود اس حدیث کی روایت ہی ہم تک مختلف الفاظ سے پہنچی ہے۔ اور پہلی حدیث میں جو لفظ رسولک کے بجائے نبیک ہی پڑھنے کا امر فرمایا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لفظ نبی میں صفت مدح بہ نسبت رسول کے زیادہ ہے کیونکہ رسول کا لفظ تو قاصد کے معنی میں دوسروں کے لئے بھی بولا جاتا ہے بخلاف لفظ نبی کے کہ وہ خاص اسی منصب کیلئے استعمال ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مخصوص بندوں کو بذریعہ وحی خطاب کرنے کا عطا کیا جاتا ہے، اور دوسری وجہ یہ بھی ہو کہ دعاؤں میں الفاظ منقولہ کا اتباع خواص وآثار کے اعتبار سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے دوسرے الفاظ میں وہ خاصیت نہیں رہتی (قرطبی) اس لئے عامل حضرات جو تعویذ گنڈے کرتے ہیں وہ اس کی بڑی رعایت کرتے ہیں کہ جو الفاظ منقول ہیں ان میں تغیر وتبدل نہ کیا جائے اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ادعیہ ماثورہ بھی اسی قسم اول میں داخل ہیں جن میں معنی کے ساتھ مخصوصہ کی حفاظت بھی مقصود ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔