2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا اے آدم رہا کر تو اور تیری عورت جنت میں اور کھاؤ اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو اور پاس مت جانا اس درخت کے پھر تم ہوجاؤ گے ظالم

خلاصہ تفسیر اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم رہا کرو تم اور تمہاری بی بی (جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے آدم ؑ کی پسلی سے کوئی مادہ لے کر بنادیا تھا) بہشت میں پھر کھاؤ دونوں اس میں سے بافراغت جس جگہ سے چاہو اور نزدیک نہ جائیو اس درخت کے ورنہ تم بھی انہی میں شمار ہوجاؤ گے جو اپنا نقصان کر بیٹھے ہیں (خدا جانے وہ کیا درخت تھا مگر اس کے کھانے سے منع فرما دیا اور پھر آقا کو اختیار ہے کہ اپنے گھر کی چیزوں سے غلام کو جس چیز کے برتنے کی چاہے اجازت دیدے اور جس چیز کو چاہے منع کردے) پس لغزش دے دیآدم وحوا کو شیطان نے اس درخت کی وجہ سے سو برطرف کرکے رہا ان کو اس عیش سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ نیچے اترو تم میں سے بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین پر کچھ عرصہ ٹھہرنا ہے اور کام چلانا ایک میعاد معین تک (یعنی وہاں جاکر بھی دوام نہ ملے گا کچھ عرصہ کے بعد وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا) معارف و مسائل یہ آدم ؑ کے قصہ کا تکملہ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جس آدم ؑ کی فضیلت اور خلافت ارضی کیلئے صلاحیت فرشتوں پر واضح کردی گئی انہوں نے تسلیم کرلیا اور ابلیس اپنے تکبر اور معارضہ کی وجہ سے کافر ہو کر نکال دیا گیا تو آدم ؑ اور ان کی زوجہ حوّا کو یہ حکم ملا کہ تم دونوں جنت میں رہو اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ مگر ایک معین درخت کے لئے یہ ہدایت کی کہ اس کے پاس نہ جانا یعنی اس کے کھانے سے مکمل پرہیز کرنا شیطان جو آدم ؑ کی وجہ سے مردود ہوا وہ خار کھائے ہوئے تھا اس نے کسی طرح موقع پاکر اور مصلحتیں بتلا کر ان دونوں کو اس درخت کے کھانے پر آمادہ کردیا ان کی لغزش کی وجہ سے ان کو بھی یہ حکم ملا کہ اب تم زمین پر جاکر رہو اور یہ بھی بتلا دیا کہ زمین کی رہائش جنت کی طرح بےغل وغش نہ ہوگی بلکہ آپس میں اختلافات اور دشمنیاں بھی ہوں گی جس سے زندگی کا لطف پورا نہ رہے گا، وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ اور ہم نے کہا کہ اے آدم ! ٹھرو تم اور تمہاری زوجہ جنت میں یہ واقعہ حضرت آدم ؑ کی تخلیق اور ملائکہ کے سجدہ کے بعد کا ہے بعض حضرات نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ تخلیق اور سجدہ کا واقعہ جنت سے باہر کہیں ہوا ہے اس کے بعد جنت میں داخل کیا گیا لیکن ان الفاظ میں یہ مفہوم یقینی نہیں بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تخلیق بھی جنت میں ہوئی اور سجدے کا واقعہ بھی جنت میں پیش آیا مگر اس وقت تک ان کو کوئی فیصلہ اس کے متعلق نہیں سنایا گیا تھا کہ آپ کا مسکن ومستقر کہاں ہوگا اس واقعہ کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا، وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا۔ رَغَدًا کے معنی عربی لغت میں اس نعمت ورزق کے ہیں جس کے حاصل کرنے میں کوئی محنت ومشقت بھی نہ ہو اور وہ اتنی کثیر اور وسیع ہو کہ اس کے کم یا ختم ہوجانے کا خطرہ نہ ہو معنی یہ ہوئے کہ آدم وحوّا (علیہما السلام) کو فرمایا کہ جنت کے پھل با فراغت استعمال کرتے رہو نہ ان کے حاصل کرنے میں تمہیں کسی محنت کی ضرورت ہوگی اور نہ یہ فکر کہ یہ غذا ختم یا کم ہوجائے گی، وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَة کسی خاص درخت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا کہ اس کے قریب نہ جاؤ اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس کا پھل نہ کھاؤ مگر تاکید کے طور پر عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ اس کے پاس بھی نہ جاؤ اور مراد یہی ہے کہ کھانے کے لئے اس کے پاس نہ جاؤ یہ درخت کونسا تھا قرآن کریم نے متعین نہیں کیا اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی تعین مذکور نہیں ائمہ تفسیر میں سے کسی نے گندم کا درخت قرار دیا کسی نے انگور کا کسی نے انجیر کا مگر جس کو قرآن و حدیث نے مبہم چھوڑا ہے اس کو متعین کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے (قرطبی) فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِينَ یعنی اگر آپ نے اس شجر ممنوعہ کو کھایا تو آپ ظالموں میں داخل ہوجائیں گے، آیات مذکورہ سے متعلقہ مسائل و احکام شرعیہ اُسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ میں حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) دونوں کے لئے جنت کو مسکن بنانے کا ارشاد ہے جس کو مختصر لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے اسکنا الجنۃ یعنی آپ دونوں جنت میں رہیں جیسا کہ اس کے بعد کلا اور لاتقربا میں دونوں کو ایک ہی صیغہ میں جمع کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے خلاف اَنْتَ وَزَوْجُكَ کے الفاظ کو اختیار کرنے میں مخاطب صرف حضرت آدم ؑ کو قرار دیا اور انہی سے فرمایا کہ آپ کی زوجہ بھی جنت میں رہے اس میں دو مسئلوں کی طرف اشارہ ہے، مسئلہاول یہ کہ بیوی کے لئے رہائش کا انتظام شوہر کے ذمہ ہے دوسرے یہ کہ سکونت میں بیوی شوہر کے تابع ہے جس میں شوہر رہے اس میں اس کو رہنا چاہئے، مسئلہلفظ اُسْكُنْ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس وقت ان دونوں حضرات کے لئے جنت کا قیام محض عارضی تھا دائمی قیام جو شان ملکیت کی ہوتی ہے وہ نہ تھی کیونکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ آئندہ ایسے حالات پیش آئیں گے کہ آدم وحوا (علیہما السلام) کو جنت کا مکان چھوڑنا پڑے گا نیز جنت کا استحقاق ملکیت ایمان اور عمل صالح کرکے معاوضہ میں حاصل ہوتا ہے جو قیامت کے بعد ہوگا اسی سے حضرات فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو کہے کہ میرے گھر میں رہا کرو یا یہ کہ میرا گھر تمہارا مسکن ہے اس سے مکان کی ملکیت اور دائمی استحقاق اس شخص کو حاصل نہیں ہوتا (قرطبی) غذا و خوراک میں بیوی شوہر کے تابع نہیں وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا یعنی کھاؤ تم دونوں جنت سے بافراغت اس میں بطرز مذکور سابق خطاب صرف حضرت آدم ؑ کو نہیں کیا گیا بلکہ دونوں کو ایک ہی لفظ میں شریک کرکے وَكُلَا مِنْهَا فرمایا اس میں اشارہ اس کی طرف ہوسکتا ہے کہ غذاء اور خوراک میں بیوی شوہر کے تابع نہیں وہ اپنی ضرورت و خواہش کے وقت اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے اور یہ اپنی خواہش کے مطابق۔ ہر جگہ چلنے پھرنے کی آزادی انسان کا فطری حق ہے رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا لفظ رَغَدًا ماکولات میں وسعت و کثرت کی طرف اشارہ ہے کہ جو چیز جتنی چاہیں کھا سکتی ہیں بجز ایک درخت کے اور کسی چیز میں رکاوٹ اور ممانعت نہیں اور لفظ شئتما میں مقامات کی وسعت کا بیان ہے کہ پوری جنت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں کھائیں کوئی خطہ ممنوع نہیں اس میں اشارہ ہے کہ چلنے پھرنے اور مختلف مقامات سے اپنی ضروریات حاصل کرنے کی آزادی انسان کا فطری حق ہے ایک محدود ومعین مقام یا مکان میں اگرچہ ضرورت و خواہش کی ساری چیزیں مہیا کردی جائیں مگر وہاں سے باہر جانا ممنوع ہو تو یہ بھی ایک قسم کی قید ہے اس لئے حضرت آدم ؑ کو کھانے پینے کی تمام چیزیں بکثرت و فراغت عطا کردینے پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ حَيْثُ شِـئْتُمَـا فرما کر ان کو چلنے پھرنے اور ہر جگہ جانے کی آزادی بھی دی گئی۔ سید ذرائع کا مسئلہ وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ یعنی اس درخت کے قریب بھی نہ جاؤ ظاہر ہے کہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس درخت یا اس کے پھل کو نہ کھاؤ، مگر احتیاطی حکم یہ دیا گیا کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ اس سے اصول فقہ کا مسئلہ سدّ ذرائع ثابت ہوا یعنی بعض چیزیں اپنی ذات میں ناجائز یا ممنوع نہیں ہوتیں لیکن جب یہ خطرہ ہو کہ ان چیزوں کے اختیار کرنے سے کسی حرام ناجائز کام میں مبتلا ہوجائے گا تو اس جائز چیز کو بھی روک دیا جاتا ہے جیسے درخت کے قریب جانا ذریعہ بن سکتا تھا اس کے پھل پھول کھانے کا اس ذریعہ کو بھی منع فرما دیا گیا اسی کا نام اصول فقہ کی اصطلاح میں سدذرائع ہے، مسئلہ عصمت انبیاء (علیہم السلام) اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم ؑ کو کسی خاص درخت کے کھانے سے منع فرمایا گیا تھا اور اس پر بھی متنبہ کردیا گیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گناہ میں مبتلا کردے اس کے باوجود حضرت آدم ؑ نے اس درخت سے کھالیا جو بظاہر گناہ ہے حالانکہ انبیاء (علیہم السلام) گناہ سے معصوم ہوتے ہیں تحقیق یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت تمام گناہوں سے عقلا اور نقلا ثابت ہے ائمہ اربعہ اور جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں اور بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ صغیرہ گناہ ان سے بھی سرزد ہوسکتے ہیں جمہور امت کے نزدیک صحیح نہیں (قرطبی) وجہ یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو لوگوں کا مقتدا بنا کر بھیجا جاتا ہے اگر ان میں سے بھی کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف خواہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ صادر ہوسکے تو انبیاء کے اقول و افعال سے امن اٹھ جائے گا اور وہ قابل اعتماد نہیں رہیں گے جب انبیاء (علیہم السلام) ہی پر اعتماد و اطمینان نہ رہے تو دین کا کہاں ٹھکانہ ہے، البتہ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق ایسے واقعات مذکور ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عتاب بھی ہوا حضرت آدم ؑ کا یہ قصہ بھی اسی میں داخل ہے، ایسے واقعات کا حاصل باتفاق امت یہ ہے کہ کسی غلط فہمی یا خطاء ونسیان کی وجہ سے ان کا صدور ہوجاتا کوئی پیغمبر جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے خلاف عمل نہیں کرتا غلطی اجتہادی ہوتی ہے یا خطاء ونسیان کے سبب قابل معافی ہوتی ہے جس کو اصطلاح شرع میں گناہ نہیں کہا جاسکتا اور یہ سہو ونسیان کی غلطی ان سے ایسے کاموں میں نہیں ہوسکتی جن کا تعلق تبلیغ وتعلیم اور تشریع سے ہوا بلکہ ان سے ذاتی افعال اور اعمال میں ایسا سہو ونسیان ہوسکتا ہے (تفسیر بحرا لمحیط) مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) کا مقام نہایت بلند ہے اور بڑوں سے چھوٹی سی غلطی بھی ہوجائے تو بہت بڑی غلطی سجھی جاتی ہے اس لئے قرآن حکیم میں ایسے واقعات کو معصیت اور گناہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس پر عتاب بھی کیا گیا ہے اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے وہ گناہ ہی نہیں۔ حضرت آدم ؑ کے اس واقعہ کے متعلق علماء تفسیر نے بہت سے توجیہات لکھی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں اول یہ کہ جس وقت حضرت آدم ؑ کو منع کیا گیا تھا تو ایک خاص درخت کی طرف اشارہ کرکے منع کیا گیا کہ اس کے قریب نہ جاؤ اور مرادخاص یہی درخت نہیں تھا بلکہ اس کی جنس کے سارے درخت مراد تھے حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ ریشمی کپڑا اور ایک ٹکڑا سونے کا ہاتھ میں لے کر ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ظاہر ہے کہ حرمت صرف اس کپڑے اور سونے کے ساتھ مخصوص نہیں تھی جو آنحضرت ﷺ کے دست مبارک میں تھے بلکہ تمام ریشمی کپڑے اور سونے کا یہی حکم ہے لیکن یہاں کسی کو یہ وہم بھی ہوسکتا ہے کہ ممانعت صرف اس کپڑے اور سونے کے ساتھ وابستہ ہے جو اس وقت آپ کے دست مبارک میں تھے اسی طرح حضرت آدم ؑ کو یہ خیال ہوگیا کہ جس درخت کی طرف اشارہ کرکے منع کیا گیا تھا ممانعت اسی کے ساتھ خاص ہے شیطان نے یہی وسوسہ ان کے دل میں مزین اور مستحکم کردیا اور قسمیں کھا کر یہ باور کرایا کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں تمہیں کسی ایسے کام کا مشورہ نہیں دے رہا جو تمہارے لئے ممنوع یا مضر ہو جس درخت کی ممانعت کی گئی ہے دوسرا ہے اس درخت کی ممانعت نہیں ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان نے یہ وسوسہ دل میں ڈالا ہو کہ اس درخت کی ممانعت صرف آپ کی ابتداء پیدائش کے وقت کے ساتھ مخصوص تھی جیسے چھوٹے بچوں کو اول عمر میں قوی غذا سے روکا جاتا ہے ہلکی غذاء دی جاتی ہے اور قوت پیدا ہوجانے کے بعد ہر غذاء کی اجازت ہوجاتی ہے تو اب آپ قوی ہوچکے ہیں اس لئے ممانعت باقی نہیں رہی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت آدم ؑ کو جس شیطان نے اس درخت کے کھانے کے منافع بتلائے کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت کی نعمتوں میں رہنے کا اطمینان ہوجائے گا اس وقت ان کو وہ ممانعت یاد نہ رہی ہو ابتداء آفرینش کے وقت اس درخت کے متعلق کی گئی تھی قرآن مجید کی آیت فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (115: 20) یعنی حضرت آدم ؑ بھول گئے اور ہم نے ان میں پختگی نہ پائی یہ اسی احتمال کی تائید کرتی ہے، بہرحال اس طرح کے متعدد احتمالات ہوسکتے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جان بوجھ کر نافرمانی کا صدور حضرت آدم ؑ سے نہیں ہوا بھول ہوگئی یا اجتہادی لغزش جو درحقیقت گناہ نہیں مگر حضرت آدم ؑ کی شان نبوت میں اور قرب خداوندی کے مقام عالی کے اعتبار سے یہ لغزش بھی بڑی سمجھی گئی اور قرآن میں اس کو معصیت کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا اور حضرت آدم ؑ کی توبہ و استغفار کے بعد معاف کرنے کا ذکر فرمایا گیا۔ اور یہ بحث فضول ہے کہ جب شیطان کو جنت سے مردود کرکے نکال دیا گیا تھا تو پھر وہ آدم ؑ کو بہکانے کے لئے وہاں کس طرح پہنچا ؟ کیونکہ شیطان کے بہکانے اور وسوسہ ڈالنے کے لئے ضروری نہیں کہ جنت میں داخل ہو کر ہی وسوسہ ڈالے جنات و شیاطین کو حق تعالیٰ نے قدرت دی ہے کہ وہ دوسرے بھی دل میں وسوسہ ڈال سکتے ہیں اور اگر داخل ہو کر بالمشافہ گفتگو ہی کو تسلیم کیا جائے تو اس کے بھی مختلف احتمالات ہوسکتے ہیں جس کی تحقیق میں پڑنا بےفائدہ اور لایعنی بحث ہے، اسی طرح یہ سوال کہ حضرت آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ متنبہ کردیا تھا، اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ شیطان تمہارا دشمن ہے ایسا نہ کہ یہ کوئی ایسا کام کرادے جس کی وجہ سے تمہیں جنت سے نکلنا پڑے پھر آدم ؑ اس کے دھوکے میں کس طرح آگئے اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات و شیاطین کو مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے کی قدرت عطا فرمائی ہے ممکن ہے کہ وہ کسی ایسی صورت میں سامنے آیا ہو جس کی وجہ سے حضرت آدم ؑ یہ نہ پہنچان سکے کہ یہ شیطان ہے،
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر ہلا دیا شیطان نے اس جگہ سے پھر نکالا ان کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ایک وقت تک

(آیت) فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا۔ زلۃ کے معنی عربی میں لغزش کے ہیں ازلال کے معنی کسی کو لغزش دینا معنی یہ ہیں کہ شیطان نے آدم وحوا کو لغزش دے دی قرآن کے یہ الفاظ صاف اس کا اظہار کررہے ہیں کہ حضرت آدم وحوّا کی یہ خلاف ورزی اس طرح کی نہ تھی جو عام گناہگاروں کی طرف سے ہوا کرتی ہے بلکہ شیطانی تلبیس سے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا ہو کر ایسے اقدام کی نوبت آگئی کہ جس درخت کو ممنوع قرار دیا تھا اس کا پھل وغیرہ کھا بیٹھے۔ عنہا میں لفظ عن بمعنی سبب ہے یعنی اس درخت کے سبب و ذریعہ سے شیطان نے آدم وحوّا کو لغزش میں مبتلا کردیا، یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب شیطان کو سجدے سے انکار کی بنا پر پہلے ہی مردود کرکے جنت سے نکال دیا گیا تھا تو یہ آدم وحوا کو بہکانے کے لئے جنت میں کیسے پہنچا ؟ اس کا بےغبار جواب یہ ہے کہ شیطان کے بہکانے اور وہاں تک پہنچنے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ بغیر ملاقات کے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان جنات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو بہت سے ایسے تصرفات پر قدرت دی ہے جو عام طور پر انسان نہیں کرسکتے ان کی مختلف شکلوں میں متشکل ہوجانے کی بھی قدرت دی ہے ہوسکتا ہے کہ اپنی قوت جنیہ کے ذریعہ مسمریزم کی صورت سے آدم وحوّا کے ذہن کو متأثر کیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی دوسری شکل میں مثلاً سانپ وغیرہ کی شکل میں متشکل ہو کر جنت میں داخل ہوگیا ہو اور شاید یہی سبب ہوا کہ آدم ؑ کو اس کی دشمنی کی طرف دھیان نہ رہا قرآن مجید کی آیت وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ (21: 7) سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے صرف وسوسہ اور ذہنی اثر ڈالنے سے کام نہیں لیا بلکہ آدم وحوّا سے زبانی گفتگو کرکے اور قسمیں کھا کر متاثر کیا۔ فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ یعنی شیطان نے اس دھوکہ اور لغزش کے ذریعہ آدم وحوا (علیہما السلام) کو ان نعمتوں سے نکال دیا جن میں وہ آرام سے گذر بسر کر رہے تھے یہ نکالنا اگرچہ بحکم خداوندی ہوا مگر سبب اس کا شیطان تھا اس لئے نکالنے کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ یعنی ہم نے حکم دیا کہ نیچے اتر جاؤ اس طرح کہ تم میں بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اس حکم کے مخاطب حضرت آدم وحوا ہیں اور اگر شیطان کو اس وقت تک آسمانوں سے باہر نہیں کیا گیا تھا تو وہ بھی اسی خطاب میں شامل ہے اس صورت میں باہم عداوت ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ شیطان کے ساتھ تمہاری عداوت کا سلسلہ دنیا میں بھی جاری رہے گا اور اگر بقول بعض اس واقعہ کے وقت سے پہلے ہی شیطان نکالا جاچکا تھا تو پھر اس کلام کا رخ آدم وحوا اور ان کی اولاد کی طرف ہوگا کہ ان کو بطور عتاب کے یہ جتلایا گیا کہ ایک سزا تو یہ ہے کہ جنت سے زمین پر اتارا گیا دوسری سزا اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ آپ کی اولاد کے درمیان باہم عداوتیں بھی ہوں گی، اور ظاہر ہے کہ اولاد کے باہم عداوت ہونے سے والدین کا لطف زندگی بھی رخصت ہوجاتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کی معنوی اور روحانی سزا ہوگی (بیان القرآن) وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) کو یہ بھی ارشاد ہوا کہ تم کو زمین پر کچھ عرصہ ٹھرنا ہے اور ایک میعاد معین تک کام چلانا ہے یعنی زمین پر جاکر بھی دوام نہ ملے گا کچھ مدت کے بعد اس گھر کو بھی چھوڑنا پڑے گا،
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے رب سے چند باتیں پھر متوجہ ہوگیا اللہ اس پر بیشک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان

خلاصہ تفسیر بعدازاں حاصل کرلئے حضرت آدم ؑ نے اپنے رب سے چند الفاظ (یعنی معذرت کے کلمات کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل ہوئے تھے حضرت آدم ؑ کی ندامت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوئی اور خود ہی معذرت کے الفاظ تلقین فرما دئیے) تو اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی ان پر (یعنی توبہ قبول کرلی) بیشک وہی ہیں بڑی توبہ قبول کرنے والے بڑے مہربان (اور حضرت حوّا کی توبہ کا بیان سورة اعراف میں ہے قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا جس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی توبہ اور قبول توبہ میں حضرت آدم ؑ کے ساتھ شریک رہیں مگر معاف فرمانے کے بعد بھی زمین پر جانے کے حکم کو منسوخ نہیں فرمایا کیونکہ اس میں ہزاروں حکمتیں اور مصلحتیں مضمر تھیں البتہ اس کا طرز بدل دیا کہ پہلا حکم زمین پر اترنے کا حاکمانہ طور پر بطرز سزا تھا اب یہ حکم حکیمانہ انداز سے اس طرح ارشاد ہوا قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا الآیہ یعنی) ہم نے حکم فرمایا کہ نیچے جاؤ اس بہشت سے سب کے سب پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت (یعنی احکام شرعیہ بذرعیہ وحی) سو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا ان پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے (یعنی ان پر کوئی خوفناک واقعہ نہ پڑے گا اور قیامت کے ہولناک واقعات سے ان کا بھی خوف زدہ ہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ احادیث صحیحہ میں سب پر ہول اور خوف کا عام ہونا معلوم ہوتا ہے حزن وہ کیفیت ہے جو کسی مضرت و مصیبت کے واقع ہوجانے کے بعد قلب میں پیدا ہوتی ہے، اور خوف ہمیشہ قبل وقوع ہوا کرتا ہے، یہاں حق تعالیٰ نے حزن وغم دونوں کی نفی فرمادی کیونکہ ان پر کوئی آفت وکلفت واقع نہ ہوگی جس سے حزن یا خوف آگے ان لوگوں کا حال بیان کیا ہے جو اس ہدایت کی پیروی نہ کریں فرمایا) اور جو لوگ کفر کریں گے اور تکذیب کریں گے ہمارے احکام کی یہ لوگ ہوں گے دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ کو رہیں گے، معارف و مسائل ربط آیات پچھلی آیات میں شیطانی وسوسہ اور حضرت آدم ؑ کی لغزش اور اسکے نتیجہ میں جنت سے نکلنے اور زمین پر اترنے کا حکم مذکور تھا حضرت آدم ؑ نے ایسے خطاب و عتاب کہاں سنے تھے نہ ایسے سنگدل تھے کہ اس کی سہار کرجاتے بےچین ہوگئے اور فوراً ہی معافی کی التجاء کرنے لگے مگر پیغمبرانہ معرفت اور اس کی وجہ سے انتہائی ہیبت سے کوئی بات زبان سے نہ نکلتی تھی یا اس خوف سے کہ معافی کہ التجا کہیں خلاف شان ہو کر مزید عتاب کا سبب نہ بن جائے زبان خاموش تھی اللہ رب العزت دلوں کی بات سے واقف اور رحیم و کریم ہیں یہ حالت دیکھ کر خود ہی معافی کے لئے کچھ کلمات ان کو سکھا دئیے اس کا بیان ان آیات میں ہے کہ آدم ؑ نے حاصل کرلئے اپنے رب سے چند الفاظ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی (یعنی ان کی توبہ قبول کرلی) بیشک وہی ہیں بڑے توبہ قبول کرنے والے مہربان مگر چونکہ روئے زمین پر آنے میں اور بھی ہزاروں حکمتیں اور مصلحتیں مضمر تھیں مثلاً ان کی نسل سے فرشتوں اور جنات کے درمیان ایک نئی نوع انسان کا وجود میں آنا اور ان کو ایک طرح کا اختیار دے کر احکام شرعیہ کا مکلف بنانا پھر ان میں خلافت الہیہ قائم کرنا حدود اور احکام شرعیہ نافذ کرنا تاکہ یہ نئی مخلوق ترقی کرکے اس مقام پر پہنچ سکے جو بہت سے فرشتوں کو بھی نصیب نہیں اور ان مقاصد کا ذکر تخلیق آدم ؑ سے پہلے ہی کردیا گیا تھا، اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً اس لئے خطا معاف کرنے کے بعد بھی زمین پر اترنے کا حکم منسوخ نہیں فرمایا البتہ اس کا طرز بدل دیا کہ پہلا حکم حاکمانہ اور زمین پر اترنا بطور سزا کے تھا اب یہ ارشاد حکیمانہ اور زمین پر آنا خلافت الہیہ کے اعزاز کے ساتھ ہوا اس لئے بعد کی آیات میں ان فرائض منصبی کا بیان ہے جو ایک خلیفۃ اللہ ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد کئے گئے تھے اسی لئے زمین پر اترنے کے حکم کو پھر مکرر بیان کرکے فرمایا کہ ہم نے حکم فرمایا کہ نیچے جاؤ اس جنت میں سے سب کے سب پھر اگر آوے تمہارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت، یعنی احکام شرعیہ بذریعہ وحی کے تو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے یعنی نہ کسی گذشتہ چیز کے فوت ہونے کا غم ہوگا نہ آئندہ کسی تکلیف کا خطرہ، تَلَـقّيٰٓ۔ تلقی کے معنی ہیں شوق اور رغبت کے ساتھ کسی کا استقبال کرنا اور اس کو قبول کرنا (ورح کشاف) مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب ان کو توبہ کے کلمات کی تلقین کی گئی تو آدم ؑ نے اہتمام کے ساتھ ان کو قبول کیا، كَلِمٰتٍ وہ کلمات جو حضرت آدم ؑ کو بغرض توبہ بتلائے گئے کیا تھے اس میں مفسرین صحابہ سے کئی روایات منقول ہیں مشہور قول حضرت ابن عباس کا ہے کہ وہ کلمات وہی ہیں جو قرآن مجید میں دوسری جگہ منقول ہیں یعنی قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (23: 7) تاب۔ توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے کے ہیں اور جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف کی جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے اول اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم وشرمندہ ہونا دوسرے اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا، تیسرے آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو وہ بھی توبہ نہیں اس سے معلوم ہوا کہ محض زبان سے اللہ توبہ کے الفاظ بول دینا نجات کے لئے کافی نہیں جب تک یہ تینوں چیزیں جمع نہ ہوں یعنی گذشتہ پر ندامت اور حال میں اس کا ترک اور مستقبل میں اس کے نہ کرنے کا عزم و ارادہ، تاب علیہیہاں توبہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس کے معنی ہیں توبہ قبول کرنا، بعض سلف سے پوچھا گیا کہ جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے وہ کیا کرے تو فرمایا وہی کام کرے جو اس کے پہلے والدین آدم وحوّا (علیہما السلام) نے کیا کہ اپنے کئے پر ندامت اور آئندہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی کے لئے عرض کیا قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا (یعنی ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا ہے اگر آپ معاف نہ کریں اور ہم پر رحم نہ کریں تو ہم سخت خسارہ والوں میں داخل ہوجائیں گے) اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ (21: 28) یعنی اے میرے پالنے والے میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا ہے تو آپ ہی میری مغفرت فرمائیے اور حضرت یونس ؑ سے جب لغزش ہوگئی تو عرض کیا اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ (87: 21) یعنی اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں آپ ہر برائی سے پاک ہیں میں ظلم کرنے والوں میں داخل ہوگیا ہوں (مطلب یہ ہے کہ مجھ پر رحم فرمائیے) (قرطبی) فائدہحضرت آدم وحوا سے جو اجتہادی لغزش یا بھول صادر ہوئی ہے اولا تو قرآن کریم نے دونوں ہی کی طرف اس کی نسبت کی ہے، فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا اور زمین پر اترنے کے حکم میں بھی حضرت حوّا کو شریک کرکے لفظ اِھْبِطُوْا فرمایا ہے مگر بعد میں توبہ اور قبول توبہ میں بہ لفظ مفرد صرف حضرت آدم ؑ کی طرف کرکے کیا گیا ہے۔ عصٰی ادم وغیرہ، ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ رعایت ہو کر عورت کو اللہ تعالیٰ نے مستور رکھا ہے اس لئے بطور پردہ پوشی کے گناہ اور عتاب کے ذکر میں اس کا ذکر صراحۃ نہیں فرمایا اور ایک جگہ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا میں دونوں کی توبہ کا ذکر بھی کردیا گیا تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ رہے کہ حضرت حوّا کا قصور معاف نہیں ہوا اس کے علاوہ عورت چونکہ اکثر احوال میں مرد کے تابع ہے اس لئے اس کے مستقل ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی گئی (قرطبی) تواب اور نائب میں فرق امام قرطبی نے فرمایا کہ لفظ تواب بندہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے جیسے اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ (222: 2) اور اللہ تعالیٰ کیلئے بھی جیسے اس آیت میں ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ جب بندے کے لئے استعمال ہوتا ہے تو معنی ہوتے ہیں گناہ سے اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے تو معنی ہوتے ہیں توبہ قبول کرنے والا یہ صرف لفظ تَوَّابٌ کا حکم ہے اسی معنی کا دوسرا لفظ تائبٌ ہے اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کے لئے جائز نہیں اگرچہ لغوی معنی کے اعتبار سے وہ بھی غلط نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی شان میں صرف وہی صفات اور القاب استعمال کرنا جائز ہیں جن کا ذکر قرآن وسنت میں وارد ہے باقی دوسرے الفاظ اگرچہ معنی کے اعتبار سے صحیح ہوں مگر اللہ تعالیٰ کے لئے اس کا استعمال درست نہیں، گناہ سے توبہ قبول کرنے کا اختیار خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ توبہ قبول کرنے اور گناہ معاف کرنے کا اختیار سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں یہود و نصاریٰ اس قاعدہ سے غفلت کی بنا پر سخت فتنہ میں مبتلا ہوگئے کہ پادریوں اور پیروں کے پاس جاتے اور ان کو کچھ ہدیہ دے کر اپنے گناہ معاف کرا لیتے اور سمجھتے تھے کہ انہوں نے معاف کردیا تو اللہ کے نزدیک بھی معاف ہوگیا آج بھی بہت سے ناواقف مسلمان اس طرح کے غلط اور خام عقیدے رکھتے ہیں جو سراسر غلط ہیں کوئی عالم یا مرشد کسی کے گناہ کو معاف نہیں کرسکتا زیادہ سے زیادہ دعا کرسکتا ہے،
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا نیچے جاؤ یہاں سے تم سب، پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

آدم کا زمین پر اترنا سزا کے طور پر نہیں بلکہ ایک مقصد کی تکمیل کے لئے تھا۔ قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا جنت سے زمین پر اترنے کا حکم اس سے پہلی آیت میں آچکا ہے اس جگہ پھر اس کو مکرر لانے میں غالبا حکمت یہ ہے کہ پہلی آیت میں زمین پر اتارنے کا ذکر بطور عتاب اور سزا کے آیا تھا اسی لئے اس کے ساتھ انسانوں کی باہمی عداوت کا بھی ذکر کیا گیا اور یہاں زمین پر اتارنے کا ذکر ایک خاص مقصد خلافت الہیہ کی تکمیل کے لئے اعزاز کے ساتھ ہے اسی لئے اس کے ساتھ ہدایت بھیجنے کا ذکر ہے جو خلافت الہیہ کے فرائض منصبی میں سے ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگرچہ زمین پر اترنے کا ابتدائی حکم بطور عتاب اور سزا کے تھا مگر بعد میں جب خطا معاف کردی گئی تو دوسری مصالح اور حکمتوں کے پیش نظر زمین پر بھیجنے کے حکم کی حیثیت سے ہوا اور یہ وہی حکمت ہے جس کا ذکر تخلیق آدم کے وقت ہی فرشتوں سے کیا جاچکا تھا کہ زمین کے لئے ان کو خلیفہ بنانا ہے، رنج وغم سے نجات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ فرمانبردار ہیں فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ اس آیت میں آسمانی ہدایات کی پیروی کرنے والوں کے لئے دو انعام مذکور ہیں ایک یہ کہ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا، دوسرے وہ غمگین نہ ہوں گے، خَوْفٌ آئندہ پیش آنے والی کسی تکلیف و مصیبت کے اندیشہ کا نام ہے اور حزن کسی مقصد و مراد کے فوت ہوجانے سے پیدا ہونے والے غم کو کہا جاتا ہے غور کیا جائے تو عیش و راحت کی تمام انواع و اقسام کا ان دو لفظوں میں ایسا احاطہ کردیا گیا ہے کہ آرام و آسائش کا کوئی فرد اور کوئی قسم اس سے باہر نہیں پھر ان دونوں لفظوں کی تعبیر میں ایک خاص فرق کیا گیا ہے کہ خوف کی نفی تو عام انداز میں کردی گئی مگر حزن کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ لاحزن علیہم بلکہ بصیغہ فعل لایا گیا اور اس کی ضمیر فاعل کو مقدم کرکے وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ فرمایا گیا اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ کسی چیز یا مراد کے فوت ہونے کے غم سے آزاد ہونا صرف انہی اولیاء اللہ کا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات کی مکمل پیروی کرنے والے ہیں ان کے سوا کوئی انسان اس غم سے نہیں بچ سکتا خواہ وہ ہفت اقلیم کا بادشاہ ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑا مالدار، کیونکہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس کو اپنی طبیعت اور خواہش کے خلاف کوئی بات پیش نہ آئے اور اس کا غم نہ ہو جیسا کہ کہا گیا ہے، دریں دنیا کسے بےغم نباشد وگر باشد بنی آدم نباشد بخلاف اولیاء اللہ کے کہ وہ اپنی مرضی اور ارادے کو اللہ رب العزت کی مرضی اور ارادے میں فنا کردیتے ہیں اس لئے ان کو کسی چیز کے فوت ہونے کا غم نہیں ہوتا قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی اس کو ظاہر کیا گیا ہے کہ خاص اہل جنت ہی کا یہ حال ہوگا کہ وہ جنت میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا اس پر شکر کریں گے کہ ان سے غم دور کردیا گیا، الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (34: 35) اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کچھ نہ کچھ غم ہونا ہر انسان کے لئے ناگزیز ہے بجز اس شخص کے جس نے اپنا تعلق حق تعالیٰ کے ساتھ مکمل اور مضبوط کرلیا ہو خواجہ عزیز الحسن مجذوب نے خوب فرمایا، جو بچنا ہو غموں سے آپ کا دیوانہ ہوجائے، اس آیت میں اللہ والوں سے خوف وغم کی نفی کرنے سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی کسی تکلیف یا کسی خواہش و مراد پر ان کو خوف وغم نہ ہوگا آخرت کی فکر وغم اور اللہ جل شانہ کی ہیبت و جلال تو ان پر اور سب سے زیادہ ہوتی ہے اسی لئے رسول اللہ ﷺ کی شان میں یہ آیا ہے کہ آپ اکثر غمگین اور متفکر رہتے تھے وجہ یہ ہے کہ آپ کا یہ فکر وغم کسی دنیوی نعمت کے فوت ہونے یا کسی مصیبت کے خطرہ سے نہیں بلکہ اللہ جل شانہ کی ہیبت و جلال سے اور امت کے حالات کی وجہ سے تھا، نیز اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ دنیا میں جو چیزیں خوفناک سمجھی جاتی ہیں ان سے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کو بشری طور پر طبعی خوف نہ ہو کیونکہ حضرت موسیٰ ٰ ؑ کے سامنے جب لاٹھی کا سانپ بن گیا تو انکا ڈر جانا قرآن مجید میں مذکور ہے فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى (67: 20) کیونکہ یہ فطری اور طبعی خوف ابتداء حال میں تھا جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا لاتخف تو یہ ڈر بالکل نکل گیا، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ خوف عام انسانوں کی طرح اس بنیاد پر نہ تھا کہ یہ سانپ ان کو تکلیف پہنچائے گا بلکہ اس لئے تھا کہ بنی اسرائیل اس سے کہیں گمراہی میں نہ پڑجائیں تو یہ خوف ایک قسم کا اخروی خوف تھا،
Ayah 2:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ ہیں دوزخ میں جانے والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

آخری آیت والَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہ بتلا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہوگا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت کو ہدایت سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کردیں یعنی کفار اور مؤمنین جو ہدایت کو ہدایت ماننے کا اقرار کرتے ہیں وہ عملاً کیسے بھی گہنگار ہوں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جہنم سے نکال لئے جائیں گے، واللہ اعلم
Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل یاد کرو میرے وہی احسان جو میں نے تم پر کئے اور تم پورا کرو میرا اقرار تو میں پورا کروں تمہارا اقرار اور مجھ ہی سے ڈرو

خلاصہ تفسیر اے بنی اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب ؑ کی اولاد) یاد کرو تم لوگ میرے ان احسانوں کو جو کئے ہیں میں نے تم پر (تاکہ حق نعمت سمجھ کر ایمان لانا تمہارے لئے آسان ہوجائے، آگے اس یاد کرنے کی مراد بتلاتے ہیں) اور پورا کرو تم میرے عہد کو (یعنی تم نے جو تورات میں مجھ سے عہد کیا تھا جس کا بیان قرآن کی اس آیت میں ہے، وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا (12: 5) پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو (یعنی میں نے جو عہد تم سے کیا تھا ایمان لانے پر جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ اور صرف مجھ ہی سے ڈرو (اپنے عوام معتقدین سے نہ ڈرو کہ ان کا اعتقاد نہ رہے گا اور ان سے آمدنی بند ہوجاوے گی) اور ایمان لے آؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے (یعنی قرآن پر) ایسی حالت میں کہ وہ سچ بتلانے والی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے (یعنی تورات کے کتاب الہی ہونے کی تصدیق کرتی ہے اور جو اس میں تحریفات کی گئی ہیں وہ خود تورات و انجیل ہونے ہی سے خارج ہیں ان کی تصدیق اس سے لازم نہیں آتی) اور مت بنو تم پہلے انکار کرنے والے اس قرآن کے (یعنی تمہیں دیکھ کر جو دوسرے لوگ انکار کریں گے ان سب میں اول بانی انکار و کفر کے تم ہوگے اس لئے قیامت تک ان کے کفر و انکار کا وبال تمہارے نامہ اعمال میں ہی درج ہوتا رہے گا) اور مت لو بمقابلہ میرے احکام کے معاوضہ حقیر اور خاص مجھ ہی سے پورے طور پر ڈرو (یعنی میرے احکام چھوڑ کر یا ان کو بدل کر یا چھپا کر عوام الناس سے دنیائے ذلیل و قلیل کو وصول مت کرو جیسا کہ ان کو عادت تھی جس کی تصریح آگے آتی ہے وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ اور مخلوط مت کرو حق کو ناحق کے ساتھ اور پوشیدہ بھی مت کرو حق کو جس حالت میں کہ تم جانتے بھی ہو (کہ حق کو چھپانا بری بات ہے) معارف و مسائل ربط آیات سورة بقرہ قرآن کے ذکر سے شروع کی گئی اور یہ بتلایا گیا کہ قرآن کی ہدایت اگرچہ ساری مخلوق کے لئے عام ہے مگر اس سے نفع صرف مؤمنین اٹھائیں گے اس کے بعد ان لوگوں کے عذاب شدید کا ذکر فرمایا جو اس پر ایمان نہیں لائے ان میں ایک طبقہ کھلے کافروں اور منکروں کا تھا دوسرا منافقین کا دونوں کا مع ان کے کچھ حالات اور غلط کاریوں کا ذکر کیا گیا اس کے بعد مؤمنین مشرکین، منافقین کے تینوں طبقوں کو خطاب کرکے سب کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تاکید کی گئی اور قرآن مجید کے اعجاز کا ذکر کرکے سب کو دعوت ایمان دی گئی پھر تخلیق آدم ؑ کا ذکر کرکے ان پر ان کی اصلیت اور حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ واضح کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی ترغیب اور نافرمانی سے بچنے کی فکر ہو، پھر کفار کی دو جماعتیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے کھلے کافر اور منافق ان دونوں میں دو طرح کے لوگ تھے ایک تو بت پرست مشرکین جو محض باپ دادوں کی رسوم کی پیروی کرتے تھے کوئی علم قدیم یا جدید ان کے پاس نہ تھا عام طور پر ان پڑھ امی تھے جیسے عام اہل مکہ اسی لئے قرآن میں ان لوگوں کو امیین کہا گیا ہے دوسرے وہ لوگ تھے جو انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لائے اور پہلی کتابوں تورات و انجیل وغیرہ کا علم ان کے پاس تھا لکھے پڑھے لوگ کہلاتے تھے ان میں بعض حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان رکھتے تھے عیسیٰ ؑ پر نہیں ان کو یہود کہا جاتا تھا اور بعض موسیٰ ؑ پر ایمان رکھتے تھے حضرت موسیٰ ٰ ؑ کو بحیثیت نبی معصوم نہیں مانتے تھے یہ نصاریٰ کہلاتے تھے ان دونوں کو قرآن میں اس بناء پر اہل کتاب کہا گیا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتاب تورات یا انجیل پر ایمان رکھتے تھے یہ لوگ لکھے پڑھے اہل علم ہونے کہ وجہ سے لوگوں کی نظر میں معزز اور قابل اعتماد مانے جاتے تھے ان کی بات ان پر اثر انداز ہوتی تھی یہ راستے پر آجائیں تو دوسروں کے مسلمان ہونے کی توقع بڑی تھی مدینہ طیبہ اور اس کے قرب و جوار میں ان لوگوں کی کثرت تھی، سورة بقرہ چونکہ مدنی سورت ہے اس لئے اس میں مشرکین و منافقین کے بیان کے بعد اہل کتاب کو خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے چالیسویں آیت سے شروع ہو کر ایک سو تئیس آیات آخر پارہ (الۗمّۗ) تک انہیں لوگوں سے خطاب ہے جس میں ان کو مانوس کرنے کے لئے اوّل ان کی خاندانی شرافت اور اس سے دنیا میں حاصل ہونے والے اعزاز کا پھر اللہ تعالیٰ کی مسلسل نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے پھر ان کی بےراہی اور غلط کاری پر متنبہ کیا گیا اور صحیح راستہ کی طرف دعوت دی گئی ان میں سے پہلی سات آیتوں میں اجمالی خطاب ہے جن میں تین میں دعوت ایمان اور چار میں اعمال صالحہ کی تلقین ہے اس کے بعد بڑی تفصیل سے ان کو خطاب کیا گیا تفصیلی خطاب کے شروع میں اور بالکل ختم پر پھر اہتمام کے لئے يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فرما کر انھیں الفاظ کا اعادہ کیا گیا ہے جن سے شروع کیا گیا تھا ؛ جیسا کہ کلام کو موثر اور وقیع بنانے کے لئے ایسا کرنے کا دستور ہے، (يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی عبداللہ ہیں یہ حضرت یعقوب ؑ کا دوسرا نام ہے بعض علماء نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور نبی کے نام متعدد نہیں ہیں صرف حضرت یعقوب ؑ کے دو نام ہیں یعقوب اور اسرائیل، قرآن میں اس جگہ ان کو نبی یعقوب کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ دوسرے نام اسرائیل کا استعمال کیا اس میں حکمت یہ ہے کہ خود اپنے لقب اور نام ہی سے ان کو معلوم ہوجائے کہ ہم عبداللہ یعنی اللہ کے عبادت گذار بندے کی اولاد ہیں ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ پورا کرو تم میرے عہد کو یعنی تم نے مجھ سے عہد کیا تھا توریت میں جس کا بیان بقول قتادہ و مجاہد اس آیت میں ہےوَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا (پارہ 6 سورة مائدہ، آیت نمبر 12) اس میں سب سے اہم معاہدہ تمام رسولوں پر ایمان لانے کا شامل ہے جن میں ہمارے رسول اللہ ﷺ خصوصیت سے داخل ہیں نیز نماز، زکوٰۃ، اور صدقات بھی اس عہد میں شامل ہیں جس کا خلاصہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان اور آپ کا مکمل اتباع ہے اسی لئے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس عہد سے مراد محمد ﷺ کا اتباع ہے (ابن جریر بسند صحیح) پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو یعنی اسی آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور جنت میں داخل کیا جائے گا تو حسب وعدہ ان لوگوں کو جنت کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا، خلاصہ یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل تم میرا عہد محمد مصطفٰے ﷺ کے اتباع کا پورا کرو تو میں اپنا عہد تمہاری مغفرت اور جنت کا پورا کردوں گا اور صرف مجھ سے ہی ڈرو اور عوام الناس معتقدین سے نہ ڈرو کہ ان کی منشاء کے خلاف کلمہ حق کہیں گے تو وہ معتقد نہ رہیں گے آمدنی بند ہوجائے گی۔ (1) امت محمدیہ کی ایک خاص فضیلت تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ جل شانہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلا کر اپنی یاد اور اطاعت کی طرف دعوت دی ہے اور امت محمدیہ کو جب اسی کام کے لئے دعوت دی تو احسانات و انعامات کے ذکر کے بغیر فرمایا فاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ یعنی تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اس میں امت محمدی کی خاص فضیلت کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا تعلق محسن ومنعم سے بلا واسطہ ہے یہ محسن کو پہچان کر احسان کر کے پہچانتے ہیں بخلاف دوسری امتوں کے کہ وہ احسانات کے ذریعہ محسن کو پہچانتے ہیں، (2) ایفائے عہد واجب اور عہد شکنی حرام ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ عہد ومعاہدے کو پورا کرنا ضروری ہے اور عہد شکنی حرام ہے سورة مائدہ کی پہلی آیت میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ مضمون آیا ہےاَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عہد شکنی کرنے والوں کو جو سزا آخرت میں ملے گی اس سے پہلے ہی ایک سزا یہ دی جائے گی کہ محشر کے میدان میں جہاں تمام اولین وآخرین کا اجتماع ہوگا عہد شکنی کرنے والے پر ایک جھنڈا بطور علامت کے لگا دیا جائے گا اور جیسی بڑی عہد شکنی کی ہے اتنا ہی یہ جھنڈا بلند ہوگا اس طرح ان کو میدان حشر میں رسوا اور شرمندہ کیا جائے گا (صحیح مسلم عن سعید) (3) جو شخص کسی گناہ یا ثواب کا سبب بنتا ہے اس پر بھی کرنے والوں کا گناہ یا ثواب لکھا جاتا ہے
Ayah 2:41

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور مان لو اس کتاب کو جو میں نے اتاری ہے سچ بتانیوالی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے اور مت ہو سب میں اوّل منکر اس کے اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا اور مجھ ہی سے بچتے رہو

(اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ) کافر ہونا خواہ سب سے پہلے ہو یا بعد میں بہرحال انتہائی ظلم اور جرم ہے مگر اس آیت میں یہ فرمایا کہ پہلے کافر نہ بنو اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جو شخص اول کفر اختیار کرے گا تو بعد میں اس کو دیکھ کر جو بھی کفر میں مبتلا ہوگا اس کا وبال جو اس شخص پر پڑے گا اس پہلے کافر پر بھی اس کا وبال آئے گا اس طرح یہ پہلا کافر اپنے کفر کے علاوہ بعد کے لوگوں کے کفر کا سبب بن کر ان سب کے وبال کفر کا بھی ذمہ دار ٹھہرے گا اور اس کا عذاب چند ورچند ہوجائے گا۔ فائدہاس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دنیا میں دوسروں کے لئے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنتا ہے تو جتنے آدمی اس کے سبب سے مبتلائے گناہ ہوں گے ان سب کا گناہ ان لوگوں کو بھی ہوگا اور اس شخص کو بھی اسی طرح جو شخص دوسروں کے لئے کسی نیکی کا سبب بن جائے تو جتنے آدمی اس کے سبب سے نیک عمل کریں گے اس کا ثواب جیسا ان لوگوں کو ملے گا ایسا ہی اس شخص کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا قرآن مجید کی متعدد آیات اور رسول کریم ﷺ کی متعدد احادیث میں یہ مضمون بار بار آیا ہے، (4) وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے میں قیمت لینے کی ممانعت کا مطلب وہ ہی ہے جو آیت کے سباق وسیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی مرضی اور ان کی اغراض کی خاطر اللہ تعالیٰ کی آیات کا مطلب غلط بتلا کر یا چھپا کر لوگوں سے پیسے لئے جائیں یہ فعل باجماع امت حرام ہے، (5) تعلیم قرآن پر اجرت لینا جائز ہے رہا یہ معاملہ کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات صحیح صحیح بتلا کر یا پڑھا کر اس کی اجرت لینا کیسا ہے ؟ اس کا تعلق آیت مذکورہ سے نہیں، خود یہ مسئلہ اپنی جگہ قابل غور وبحث ہے کہ تعلیم قرآن پر اجرت و معاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں فقہا امت کا اس میں اختلاف ہے امام مالک شافعی، احمد بن حنبل جائز قرار دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ منع فرماتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کو ذریعہ کسب معاش کا بنانے سے منع فرمایا ہے ، لیکن متاخرین حنفیہ نے بھی جب ان حالات کا مشاہدہ کیا کہ قرآن مجید کے معلمین کو اسلامی بیت المال سے گذارہ ملا کرتا تھا اب ہر جگہ اسلامی نظام میں فتور کے سبب ان معلمین کو عموماً کچھ نہیں ملتا یہ اگر آپ نے معاش کے لئے کسی محنت مزدوری یا تجارت وغیرہ میں لگ جائیں تو بچوں کو تعلیم قرآن کا سلسلہ یکسر بند ہوجائے گا کیونکہ وہ دن بھر کا مشغلہ چاہتا ہے اس لئے تعلیم قرآن پر تنخواہ لینے کو بضرورت جائز قرار دیا جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا ہے کہ آج کل اسی پر فتویٰ دینا چاہئے کہ تعلیم قرآن پر اجرت وتنخواہ لینا جائز ہے صاحب ھدایہ کے بعد آنے والے دوسرے فقہا نے بعض ایسے ہی دوسرے وظائف جن پر تعلیم قرآن کی طرح دین کی بقاء موقوف ہے مثلاً امامت و اذان اور تعلیم حدیث وفقہ وغیرہ کو تعلیم قرآن کے ساتھ ملحق کرکے ان کی بھی اجازت دی (درمختار، شامی) (6) ایصال ثواب کے لئے ختم قرآن پر اجرت لینا باتفاق جائز نہیں علامہ شامی نے درمختار کی شرح میں اور اپنے رسالہ شفاء العلیل میں بڑی تفصیل اور قوی دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کردی ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ پر اجرت لینے کو جن متاخرین فقہاء نے جائز قرار دیا ہے اس کی علت ایک ایسی دینی ضرورت ہے جس میں خلل آنے سے دین کا پورا نظام مختل ہوجاتا ہے اس لئے اس کو ایسی ہی ضرورت کے مواقع میں محدود رکھنا ضروری ہے اس لئے مردوں کو ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن کرانا یا کوئی دوسرا وظیفہ پڑھوانا اجرت کے ساتھ حرام ہے کیونکہ اس پر کسی عام دینی ضرورت کا مدار نہیں اور اجرت لے کر پڑہناحرام ہوا تو اس طرح پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گناہگار ہوئے اور جب پڑھنے والے ہی کو کوئی ثواب نہ ملا تو میت کو وہ کیا پہنچائے گا علامہ شامی نے اس بات پر فقہاء کی بہت سی تصریحات تاج الشریعۃ، عینی شرح ہدایہ، حاشیہ خیر الدین بر بحر الرائق وغیرہ سے نقل کی ہیں اور خیر الدین رملی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ایصال ثواب کے لئے قبر پر قرآن پڑھوانا یا اجرت دے کر ختم قرآن کرانا صحابہ وتابعین اور اسلاف امت سے کہیں منقول نہیں اس لئے بدعت ہے (شامی ص 47، ج 1)
Ayah 2:42

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

اور مت ملاؤ صحیح میں غلط اور مت چھپاؤ سچ کو جان بوجھ کر

(7) حق بات کو چھپانا یا اس میں خلط ملط کرنا حرام ہے آیت وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ الخ سے ثابت ہوا کہ حق بات کو غلط باتوں کے ساتھ گڈمڈ کرکے اس طرح پیش کرنا جس سے مخاطب مغالطہ میں پڑجائے جائز نہیں اسی طرح کسی خوف یا طمع کی وجہ سے حق بات کا چھپانا بھی حرام ہے مسئلہ واضح ہے اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں حق کو چھپانے سے پرہیز کرنے کا ایک واقعہ اور مفصل مکالمہ حضرت ابو حازم تابعی اور خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا نقل کیا ہے جو بہت سے فوائد کی وجہ سے قابل ذکر ہے، حضرت ابو حازم تابعی سلیمان ابن عبد الملک کے دربار مسند دارمی میں سند کے ساتھ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن عبد الملک مدینہ طیبہ پہنچے اور چند روز قیام کیا تو لوگوں سے دریافت کیا کہ مدینہ طیبہ میں اب کوئی ایسا آدمی موجود ہے جس نے کسی صحابی کی صحبت پائی ہو ؟ لوگوں نے بتلایا ہاں ابوحازم ایسے شخص ہیں سلیمان نے اپنا آدمی بھیج کر ان کو بلوا لیا جب وہ تشریف لائے تو سلیمان نے کہا کہ اے ابوحازم یہ کیا بےمروتی اور بیوفائی ہے ؟ ابوحازم نے کہا آپ نے میری کیا بےمروتی اور بیوفائی دیکھی ہے ؟ سلیمان نے کہا کہ مدینہ کے سب مشہور لوگ مجھ سے ملنے آئے آپ نہیں آئے ابوحازم نے کہا امیر المؤ منین میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں جو واقعہ کے خلاف ہے آج سے پہلے نہ آپ مجھ سے واقف تھے اور نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا تھا ایسے حالات میں خود ملاقات کے لئے آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بیوفائی کیسی ؟ سلیمان نے جواب سن کر ابن شہاب زہری اور حاضرین مجلس کی طرف التفات کیا تو امام زہری نے فرمایا کہ ابوحازم نے صحیح فرمایا آپ نے غلطی کی، اس کے بعد سلیمان نے روئے سخن بدل کر کچھ سوالات شروع کئے اور کہا اے ابوحازم یہ کیا بات ہے کہ ہم موت سے گھبراتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی آخرت کو ویران اور دنیا کو آباد کیا ہے اس لئے آبادی سے ویرانہ میں جانا پسند نہیں۔ سلیمان نے تسلیم کیا اور پوچھا کہ کل اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کیسے ہوگی ؟ فرمایا کہ نیک عمل کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح جائے گا جیسا کوئی مسافر سفر سے واپس اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہے اور برے عمل کرنے والا اس طرح پیش ہوگا جیسا کوئی بھاگا ہوا غلام پکڑ کر آقا کے پاس حاضر کیا جائے، سلیمان یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا صورت تجویز کر رکھی ہے ابوحازم نے فرمایا کہ اپنے اعمال کو اللہ کی کتاب پر پیش کرو تو پتہ لگ جائیگا، سلیمان نے دریافت کیا کہ قرآن کی کس آیت سے یہ پتہ لگے گا ؟ فرمایا اس آیت سے، اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ ۚوَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ (14: 13: 82) یعنی بلاشبہ نیک عمل کرنے والے جنت کی نعمتوں میں ہیں اور نافرمان گناہ شعار دوزخ میں، سلیمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو بڑی ہے وہ بدکاروں پر بھی حاوی ہے فرمایا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ (56: 7) یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک عمل کرنے والوں سے قریب ہے، سلیمان نے پوچھا اے ابو حازم اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ کون عزت والا ؟ فرمایا وہ لوگ جو مروّت اور عقل سلیم رکھنے والے ہیں، پھر پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے ؟ تو فرمایا کہ فرائض وواجبات کی ادائیگی حرام چیزوں سے بچنے کے ساتھ، پھر دریافت کیا کہ کونسی دعا زیادہ قابل قبول ہے ؟ تو فرمایا کہ جس شخص پر احسان کیا گیا ہو اس کی دعا اپنے محسن کے لئے اقرب الی القبول ہے، پھر دریافت کیا کہ صدقہ کونسا افضل ہے ؟ تو فرمایا کہ مصیبت زدہ سائل کے لئے باوجود اپنے افلاس کے جو کچھ ہوسکے اس طرح خرچ کرنا کہ نہ اس سے پہلے احسان جتائے اور نہ ٹال مٹول کرکے ایذاء پہونچائے، پھر دریافت کیا کہ کلام کونسا افضل ہے ؟ تو فرمایا کہ جس شخص سے تم کو خوف ہو یا جس سے تمہاری کوئی حاجت ہو اور امید وابستہ ہو اس کے سامنے بغیر کسی رو رعایت کے حق بات کہہ دینا پھر دریافت کیا کہ کونسا مسلمان سب سے زیادہ ہوشیار ہے ؟ فرمایا وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے تحت کام کیا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دی ہو، پھر پوچھا کہ مسلمانوں میں کون شخص احمق ہے ؟ فرمایا وہ آدمی جو اپنے کسی بھائی کی اس کے ظلم میں امداد کرے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اس نے دوسرے کی دنیا درست کرنے کے لئے اپنا دین بیچ دیا سلیمان نے کہا کہ صحیح فرمایا اس کے بعد سلیمان نے اور واضح الفاظ میں دریافت کیا کہ ہمارے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، ابوحازم نے فرمایا کہ مجھے اس سوال سے معاف رکھیں تو بہتر ہے سلیمان نے کہا کہ نہیں آپ ضرور کوئی نصیحت کا کلمہ کہیں۔ ابوحازم نے فرمایا اے امیر المؤ منین تمہارے آباء و اجداد نے بزور شمشیر لوگوں پر تسلط کیا اور زبردستی ان کی مرضی کے خلاف ان پر حکومت قائم کی اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ اب وہ مرنے کے بعد کیا کہتے ہیں اور ان کو کیا کہا جاتا ہے، حاشیہ نشینوں میں ایک شخص نے بادشاہ کے مزاج کے خلاف ابوحازم کی اس صاف گوئی کو سن کر کہا کہ ابوحازم تم نے یہ بہت بری بات کہی ہے ابوحازم نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو بری بات نہیں کہی بلکہ وہ بات کہی جس کا ہم کو حکم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علماء سے اس کا عہد لیا ہے کہ حق بات لوگوں کو بتلائیں گے چھپائیں گے نہیں لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَهٗ (183: 3) یہی وہ بات ہے جس کے لئے یہ طویل حکایت امام قرطبی نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں درج فرمائی ہے، سلیمان نے پھر سوال کیا کہ اچھا اب ہمارے درست ہونے کا کیا طریقہ ہے ؟ فرمایا کہ تکبر چھوڑو مروّت اختیار کرو اور حقوق والوں کو ان کے حقوق انصاف کے ساتھ تقسیم کرو۔ سلیمان نے کہا کہ ابوحازم کیا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں فرمایا خدا کی پناہ سلیمان نے پوچھا یہ کیوں ؟ فرمایا کہ اس لئے کہ مجھے خطرہ یہ ہے کہ میں تمہارے مال و دولت اور عزت وجاہ کی طرف کچھ مائل ہوجاؤں جس کے نتیجہ میں مجھے عذاب بھگتنا پڑے، پھر سلیمان نے کہا کہ اچھا آپ کی کوئی حاجت ہو تو بتلائیے کہ ہم اس کو پورا کریں ؟ فرمایا ہاں ایک حاجت ہے کہ جہنم سے نجات دلادو اور جنت میں داخل کردو، سلیمان نے کہا کہ یہ تو میرے اختیار میں نہیں فرمایا کہ پھر مجھے آپ سے اور کوئی حاجت مطلوب نہیں، آخر میں سلیمان نے کہا کہ اچھا میرے لئے دعا کیجئے تو ابوحازم نے یہ دعا کی یا اللہ اگر سلیمان آپ کا پسندیدہ ہے تو اس کے لئے دنیا وآخرت کی بہتری کو آسان بنا دے اور اگر وہ آپ کا دشمن ہے تو اس کے بال پکڑ کر اپنی مرضی اور محبوب کاموں کی طرف لے آ، سلیمان نے کہا کہ مجھے کچھ وصیت فرمادیں ارشاد فرمایا کہ مختصر یہ ہے کہ اپنے رب کی عظمت و جلال اس درجہ میں رکھو کہ وہ تمہیں اس مقام پر نہ دیکھے جس سے منع کیا ہے اور اس مقام سے غیر حاضر نہ پائے جس کی طرف آنے کا اس نے حکم دیا ہے، سلیمان نے اس مجلس سے فارغ ہونے کے بعد سو گنیاں بطور ہدیہ کے ابوحازم کے پاس بھجیں ابوحازم نے ایک خط کے ساتھ ان کو واپس کردیا خط میں لکھا تھا کہ اگر یہ سو دینار میرے کلمات کا معاوضہ ہیں تو میرے نزدیک خون اور خنزیر کا گوشت اس سے بہتر ہے اور اگر اس لئے بھیجا ہے کہ بیت المال میں میرا حق ہے تو مجھ جیسے ہزاروں علماء اور دین کی خدمت کرنے والے ہیں اگر سب کو آپ نے اتنا ہی دیا ہے تو میں بھی لے سکتا ہوں ورنہ مجھے اس کی ضرورت نہیں، ابوحازم کے اس ارشاد سے کہ اپنے کلمات نصیحت کا معاوضہ لینے کو خون اور خنزیر کی طرح قرار دیا ہے اس مسئلہ پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ کسی اطاعت و عبادت کا معاوضہ لینا ان کے نزدیک جائز نہیں