2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

حلال ہوا تم کو روزہ کی رات میں بےحجاب ہونا اپنی عورتوں سے وہ پوشاک ہیں تمہاری اور تم پوشاک ہو ان کی اللہ کو معلوم ہے کہ تم خیانت کرتے تھے اپنی جانوں سے سو معاف کیا تم کو اور درگذر کی تم سے پھر ملو اپنی عورتوں سے اور طلب کرو اس کو جو لکھ دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ صاف نظر آئے تم کو دھاری صبح کی جدا دھاری سیاہ سے، پھر پورا کرو روزہ کو رات تک، اور نہ ملو عورتوں سے جب تک کہ تم اعتکاف کرو مسجدوں میں یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ کی، سو ان کے نزدیک نہ جاؤ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ بچتے رہیں۔

خلاصہ تفسیر حکم چہارم رمضان کی راتوں میں جماع اس آیت روزہ کے بقیہ احکام کی کچھ تفسیر مذکور ہے تم لوگوں کے واسطے روزہ کی شب میں اپنی بیبیوں سے مشغول ہونا حلال کردیا گیا (اور پہلے جو اس سے ممانعت تھی وہ موقوف کی گئی) کیونکہ (بوجہ قرب واتصال کے) وہ تمہارے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہیں اور تم ان کے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہو خدا تعالیٰ کو (اس کی خبر تھی کہ تم (اس حکم الٰہی میں) خیانت (کر) کے گناہ میں اپنے کو مبتلا کر رہے تھے (مگر) خیر (جب تم معذرت سے پیش آئے تو) اللہ تعالیٰ نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے گناہ کو دھو دیا سو (جب اجازت ہوگئی تو) اب ان سے ملو ملاؤ اور جو (قانون اجازت) تمہارے لئے تجویز کردیا ہے (بےتکلف) اس کا سامان کرو اور (جس طرح شب صیام میں بی بی سے ہم بستری کی اجازت ہے اسی طرح یہ بھی اجازت ہے کہ تمام رات میں جب چاہو) کھاؤ (بھی) اور پیو (بھی) اس وقت تک کہ تم کو سفیدخط صبح (صادق کی روشنی) کا متمیز ہوجاوے سیاہ خط سے (یعنی رات کی تاریکی سے) تو پھر (صبح صادق سے) رات (آنے) تک روزہ کو پورا کیا کرو، صبح کی سفیدی کا سفید خط رات کی تاریکی کے سیاہ خط سے متمیز ہوجانے سے مراد یہ ہے کہ صبح صادق یقینی طور سے ثابت ہوجائے، حکم پنجم اعتکاف اور ان بیبیوں (کے بدن) سے اپنا بدن بھی (شہوت کے ساتھ) مت ملنے دو جس زمانے میں کہ تم لوگ اعتکاف والے ہو (جو کہ) مسجدوں میں (ہوا کرتا ہے) یہ (سب احکام مذکورہ) خداوندی ضابطے ہیں سو ان (ضابطوں) سے (نکلنا تو کیسا) نکلنے کے نزدیک بھی مت ہونا (اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ احکام بیان کئے ہیں) اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے (اور) احکام بھی لوگوں (کی اصلاح) کے واسطے بیان فرمایا کرتے ہیں اس امید پر کہ وہ لوگ (احکام پر مطلع ہو کر ان احکام کے خلاف کرنے سے) پرہیز رکھیں۔ معارف و مسائل اُحِلَّ لَكُمْ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ جو چیز اس آیت کے ذریعہ حلال کی گئی ہے وہ اس سے پہلے حرام تھی صحیح بخاری وغیرہ میں بروایت براء بن عازب مذکور ہے کہ ابتداء میں جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو افطار کے بعد کھانے پینے اور بیبیوں کے ساتھ اختلاط کی صرف اس وقت تک اجازت تھی جب تک سو نہ جائے سو جانے کے بعد یہ سب چیزیں حرام ہوجاتی تھیں بعض صحابہ کرام کو اس میں مشکلات پیش آئیں۔ قیس بن صرمہ انصاریٰ دن بھر مزدوری کرکے افطار کے وقت گھر پہنچنے تو گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا، بیوی نے کہا کہ میں کہیں سے کچھ انتظام کرکے لاتی ہوں جب وہ واپس آئی تو دن بھر کے تکان کی وجی سے ان کی آنکھ لگ گئی اب بیدار ہوئے تو کھانا حرام ہوچکا تھا اگلے دن اسی طرح روزہ رکھا، دوپہر کو ضعف سے بیہوش ہوگئے (ابن کثیر) اسی طرح بعض صحابہ سونے کے بعد اپنی بیبیوں کے ساتھ اختلاط میں مبتلا ہو کر پریشان ہوئے ان واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس میں پہلا حکم منسوخ کرکے غروب آفتاب کے بعد سے طلوع صبح صادق تک پوری رات میں کھانے پینے اور مباشرت کی اجازت دے دیگئی اگرچہ سو کر اٹھنے کے بعد ہو بلکہ سو کر اٹھنے کے بعد آخر شب میں سحری کھانا سنت قرار دیا گیا جس کا ذکر روایات حدیث میں واضح ہے اس آیت میں اسی حکم کا بیان کیا گیا ہے، رَّفَثُ کے لفظی معنی اگرچہ عام ہیں ایک مرد بی بی سے اپنی خواہش پورا کرنے کے لئے جو کچھ کرتا یا کہتا ہے وہ سب اس میں شامل ہے لیکن باتفاق امت اس جگہ اس سے مراد جماع ہے۔ ثبوت احکام شرعیہ کے لئے قول رسول اللہ ﷺ بھی بحکم قرآن ہے اس آیت نے جس حکم کو منسوخ کیا ہے یعنی سوجانے کے بعد کھانے پینے وغیرہ کی حرمت کو، یہ حکم قرآن میں کہیں مذکور نہیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے صحابہ کرام اس حکم پر عمل کرتے تھے (کما راوہ احمد فی مسندہ) اسی کو اس آیت نے حکم الہی قرار دے کر منسوخ کیا گیا اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سنت سے ثابت شدہ بعض احکام کو قرآن کے ذریعہ بھی منسوخ کیا جاسکتا ہے (جصاص وغیرہ) سحری کھانے کا آخری وقت حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ اس آیت میں رات کی تاریکی کو سیاہ خط اور صبح کی روشنی کو سفید خط کی مثال سے بتلا کر روزہ شروع ہونے اور کھانا پینا حرام ہوجانے کا صحیح وقت متعین فرمادیا اور اس میں افراط وتفریط کے احتمالات کو ختم کرنے کے لئے حَتّٰى يَتَبَيَّنَ کا لفظ بڑھا دیا جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نہ تو وہمی مزاج لوگوں کی طرح صبح صادق سے کچھ پہلے ہی کھانے پینے وغیرہ کو حرام سمجھو اور نہ ایسی بےفکری اختیار کرو کہ صبح کی روشنی کا یقین ہوجانے کے باوجود کھاتے پیتے رہو بلکہ کھانے پینے کو حرام سمجھنا درست نہیں اور تیقن کے بعد کھانے پینے میں مشغول رہنا بھی حرام اور روزے کے لئے مفسد ہے اگرچہ ایک ہی منٹ کے لئے ہو سحری کھانے میں وسعت اور گنجائش صرف اسی وقت تک ہے جب تک صبح صادق کا یقین نہ ہو بعض صحابہ کرام کے ایسے واقعات کو بعض کہنے والوں نے اس طرح بیان کیا کہ سحری کھاتے ہوئے صبح ہوگئی اور وہ بےپروائی سے کھاتے رہی یہ اسی پر مبنی تھا کہ صبح کا یقین نہیں ہوا تھا اس لئے کہنے والوں کی جلد بازی سے متاثر نہیں ہوئے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے مانع نہ ہونی چاہئے کیونکہ وہ رات سے اذن دیدیتے ہیں، اس لئے تم بلال کی اذان سن کر بھی اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم کی اذان نہ سنو کیونکہ وہ ٹھیک طلوع صبح صادق پر اذان دیتے ہیں (بخاری ومسلم) اس حدیث کے ناتمام نقل کرنے سے بعض معاصرین کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ اذان فجر کے بعد بھی کچھ دیر کھایا پیا جائے تو مضائقہ نہیں اور جس شخص کی آنکھ دیر میں کھلی کہ صبح کی اذان ہورہی تھی اس کے لئے جائز کردیا کہ وہ جلدی جلدی کچھ کھالے حالانکہ اسی حدیث میں واضح طور پر بتلا دیا گیا ہے کہ اذان ابن ام مکتوم جو ٹھیک طلوع فجر کے ساتھ ہوتی تھی اس پر کھانے سے رک جانا ضروری ہے اس کے علاوہ قرآن کریم نے خود جو حدبندی فرما دی ہے وہ طلوع صبح کا تیقن ہے اس کے بعد ایک منٹ کے لئے بھی کھانے پینے کی اجازت دینا نص قرآن کی خلاف ورزی ہے صحابہ کرام اور اسلاف امت سے جو افطار وسحر میں مساہلت کی روایات منقول ہیں ان سب کا محل نص قرآن کے مطابق یہی ہوسکتا ہے کہ تیقن صبح صادق سے پہلے پہلے زیادہ احتیاطی تنگی اختیار نہ کی جائے امام ابن کثیر نے بھی اس روایات کو اسی بات پر محمول فرمایا ہے ورنہ نص قرآنی کی صریح مخالفت کو کون مسلمان برداشت کرسکتا ہے اور صحابہ کرام سے تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا خصوصاً جبکہ قرآن کریم نے اسی آیت کے اخیر میں تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ کے ساتھ فَلَا تَقْرَبُوْھَا فرما کر خاص احتیاط کی تاکید بھی فرمادی ہے، مسئلہیہ سب کلام ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ایسے مقام پر ہیں جہاں سے صبح صادق کو بچشم خود دیکھ کر یقین حاصل کرسکتے ہیں اور مطلع بھی صاف ہے اور وہ صبح صادق کی ابتدائی روشنی کی پہچان بھی رکھتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ براہ راست افق کو دیکھ کر عمل کریں اور جہاں یہ صورت نہ ہو مثلا کھلا ہوا افق سامنے نہیں یا مطلع صاف نہیں یا اس کو صبح صادق کی پہچان نہیں اس لئے وہ دوسرے آثار و علامات یا ریاضی حسابات کے ذریعہ وقت کا تعین کرتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کے لئے کچھ وقت ایسا آئے گا کہ صبح صادق کا ہوجانا مشکوک ہو یقینی نہ ہو، ایسے لوگوں کو مشکوک حالت میں کیا کرنا چاہئے، اس کے متعلق امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس حالت میں اصل تو یہی ہے کہ کھانے پینے پر اقدام نہ کرے، لیکن مشکوک حالت میں تحقیق سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس وقت صبح ہوچکی تھی تو قضاء اس کے ذمہ لازم ہے جیسے شروع رمضان میں چاند نظر نہ آیا اور لوگوں نے روزہ نہیں رکھا مگر بعد میں شہادت سے 29 کا چاند ثابت ہوگیا تو جن لوگوں نے اس دن کو شعبان کی تیسویں تاریخ سمجھ کر روزہ نہیں رکھا تھا وہ گنہگار تو نہیں ہوئے مگر اس روزے کی قضاء ان پر باتفاق لازم ہے اسی طرح بادل کے دن میں غروب کے گمان پر روزہ افطار کرلیا بعد میں آفتاب نکل آیا تو یہ شخص گناہگار تو نہیں مگر قضاء اس پر واجب ہے، امام جصاص کے اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس شخص کی آنکھ دیر میں کھلی اور عام طور پر صبح کی اذان ہوئی تھی جس سے صبح ہونے کا یقین لازمی ہے وہ جان بوجھ کر اس وقت کچھ کھائے گا تو وہ گناہگار بھی ہوگا اور قضاء بھی اس پر لازم ہوگی اور مشکوک حالت میں کھائے گا تو گناہ ساقط ہوجائے گا مگر قضاء ساقط نہ ہوگی اور کسی نہ کسی درجہ میں کراہت بھی ہوگی، اعتکاف اور اس کے مسائل اعتکاف کے لغوی معنی کس جگہ ٹھہرنے کے ہیں اور اصطلاح قرآن وسنت میں خاص شرائط کے ساتھ مسجد میں ٹھرنے اور قیام کرنے کا نام اعتکاف ہے، لفظ فِي الْمَسٰجِدِ کے عموم سے ثابت ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہوسکتا جس میں جماعت ہوتی ہو غیر آباد مسجد جہاں جماعت نہ ہوتی ہو اس میں اعتکاف درست نہیں یہ شرط درحقیقت مسجد کے مفہوم ہی سے مستفاد ہے کیونکہ مساجد کے بنانے کا اصل مقصدجماعت کی نماز ہے ورنہ تنہا نماز تو ہر جگہ دکان مکان وغیرہ میں ہوسکتی ہے۔ مسئلہروزے کی رات میں کھانا پینا، بی بی سے مباشرت سب کا حلال ہونا اوپر بیان ہوا ہے حالت اعتکاف میں میں کھانے پینے کا تو وہی حکم ہے جو سب کے لئے ہے مگر مباشرت نساء کے معاملہ میں الگ ہے کہ وہ رات میں بھی جائز نہیں اس لئے اس آیت میں اسی کا حکم بتایا گیا ہے، مسئلہاعتکاف کے دوسرے مسائل کہ اس کے ساتھ روزہ شرط ہے اور یہ کہ اعتکاف میں مسجد سے نکلنا بغیر حاجت طبعی یا شرعی کے جائز نہیں کچھ اسی لفظ اعتکاف سے مستفاد ہیں کچھ رسول اللہ ﷺ کے قول وفعل سے، روزے کے معاملے میں احتیاط کا حکم آخر آیت میں تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا فرما کر اشارہ کردیا کہ روزے میں کھانے پینے اور مباشرت کی جو ممانعت ہے یہ اللہ تعالیٰ کے حدود ہیں ان کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ قریب جانے سے حد شکنی کا احتمال ہے اسی لئے روزہ کی حالت میں کلی کرنے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے، جس سے پانی اندر جانے کا خطرہ ہو منہ کے اندر کوئی دوا استعمال کرنا مکروہ ہے بی بی سے بوس وکنار مکروہ ہے اسی طرح سحری کھانے میں احتیاط وقت ختم ہونے سے دو چار منٹ پہلے ختم کرنا اور افطار میں دو تین منٹ مؤ خر کرنا بہتر ہے اس میں بےپروائی اور سہل انگاری اس ارشاد خداوندی کے خلاف ہے،
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق اور نہ پہنچاؤ انکو حاکموں تک کہ کھاجاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کر کے (ناحق) اور تم کو معلوم ہے۔

ربط آیات و خلاصہ تفسیر پچھلی آیتوں میں روزے کے احکام مذکور تھے جس میں حلال چیزوں کے استعمال کو ایک معین زمانے میں اور معین وقت میں حرام کردیا گیا ہے اس کے بعد مال حرام حاصل کرنے اور اس کے استعمال کرنے کی ممانعت اسی مناسبت سے ذکر کی گئی کہ عبادت صوم کا اصل منشاء یہی ہے کہ انسان کچھ عرصے حلال چیزوں سے بھی صبر کا خوگر ہوجائے گا تو حرام چیزوں سے بچنا آسان ہوجائے گا نیز یہ مناسبت بھی ہے کہ جب روزہ ختم ہو افطار کے لئے مال حلال مہیا کرنا چاہئے جس نے دن بھر روزہ رکھا شام کو مال حرام سے افطار کیا اس کا روزہ اللہ کے نزدیک قبول نہیں، حکم ششم، مال حرام سے بچنا اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق مت کھاؤ اور ان (کے جھوٹے مقدمہ) کو حکام کے یہاں اس غرض سے رجوع مت کرو کہ (اس کے ذریعہ سے) لوگوں کے مالوں کا ایک حصہ بطریق گناہ (یعنی ظلم) کے کھا جاؤ جبکہ تم کو (اپنے جھوٹ اور ظلم کا) علم بھی ہو، معارف و مسائل اس آیت میں حرام طریقوں سے مال حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی ممانعت ہے جس طرح اس سے پہلے اسی سورة بقرہ کی آیت نمبر 168 میں حلال طریقہ پر حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت کا بیان گذر چکا ہے جس میں ارشاد ہے يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ یعنی اے لوگوں کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے جو چیزیں حلال اور ستھری ہیں اور شیطان کے قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور سورة نحل آیت 114 میں ارشاد فرمایا۔ فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۔ یعنی کھاؤ جو روزی دی تم کو اللہ تعالیٰ نے حلال اور پاک اور شکر کرو اللہ کے احسان کا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو، کسب مال کے اچھے برے ذرائع اور اچھائی برائی کا معیار جس طرح مال کی ضرورت اور مدار زندگی ہونے پر ساری دنیا اور اس کی ہر قوم وملت کا اتفاق ہے اس طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس کی تحصیل کے کچھ ذرائع پسندیدہ اور جائز ہیں کچھ ناپسند اور ممنوع ہیں چوری، ڈاکہ، دھوکہ، فریب کو ساری ہی دنیا برا سمجھتی ہے لیکن ان ذرائع کے جائز یا ناجائز ہونے کا کوئی صحیح معیار عام طور پر لوگوں کے ہاتھ میں نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ اس کا تعلق پوری دنیا کے انسانوں کی صلاح و فلاح سے ہے اور پورا عالم انسانیت اس سے متاثر ہوتا ہے اس کا صحیح اور معقول معیار صرف وہی ہوسکتا ہے جو رب العالمین کی طرف سے بذریعہ وحی بھیجا گیا ہو ورنہ اگر خود انسان اس کا معیار بنانے کا مختار ہو تو جو لوگ اس کا قانون بنائیں گے وہ اپنی قوم یا اپنے وطن یا اپنی ملت کے بارے میں جو کچھ سوچیں گے وہ عام عادت کے مطابق اس سے مختلف ہوگا جو دوسری قومیں اور وطنوں کے متعلق سوچا جائے گا اور بین الاقوامی کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا کی نمائندگی کی جائے تو تجربہ شاہد ہے کہ وہ بھی ساری مخلوق کو مطمئن کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ قانون ناانصافی انجام کار جنگ وجدل اور فساد کی صورت اختیار کرے گی، اسلامی نظام معاش ہی دنیا میں امن عام قائم کرسکتا ہے، شریعت اسلام نے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا جو قانون بنایا ہے وہ صراحۃ وحی الہیٰ سے ہے یا اس سے مستفاد اور وہی ایک ایسا معقول فطری اور جامع قانون ہے جو ہر قوم وملت اور ہر ملک وطن میں چل سکتا ہے اور امن عامہ کا ضامن ہوسکتا ہے کیونکہ اس قانون الہیٰ میں قابل اشتراک چیزوں کو مشترک اور وقف عام رکھا گیا ہے جسمیں تمام انسان مساوی حق رکھتے ہیں جیسے ہوا، پانی، خود رو گھاس، آگ کی حرارت اور غیر مملوک جنگلات اور غیر آباد پہاڑی جنگلات کی پیداوار وغیرہ کہ ان میں سب انسانوں کا مشترک حق ہے کسی کو ان پر مالکانہ قبضہ جائز نہیں اور جن چیزوں کے اشتراک میں انسانی معاشرت میں خلل پیدا ہوتا ہے، یا نزاع وجدال کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں ان میں انفرادی ملکیت کا قانون جاری فرمایا گیا کسی زمین یا اس کی پیداوار پر ابتدائی ملکیت کا قانون جدا ہے اور پھر انتقال ملکیت کا جدا اس قانون کی ہر دفعہ میں اس کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ کوئی انسان ضروریات زندگی سے محروم نہ رہے بشرطیکہ وہ اپنی جدوجہد ان کی تحصیل میں خرچ کرے اور کوئی انسان دوسروں کے حقوق غصب کرکے یا دوسروں کو نقصان پہنچا کر سرمایہ کو محدود افراد میں مقید نہ کردے اتتقال ملکیت خواہ بعدالموت وراثت کے قانون الہیٰ کے مطابق ہو یا پھر بیع وشراء وغیرہ کے ذریعہ فریقین کی رضا مندی سے ہو مزدوری ہو یا کسی مال کا معاوضہ دونوں میں اس کو ضروری قرار دیا گیا کہ معاملہ میں کوئی دھوکہ، فریب، یا تلبیس نہ ہو اور کوئی ایسا ابہام اور اجمال نہ رہے جس کی وجہ سے باہمی منازعت کی نوبت آئے، نیز اس کی بھی رعایت رکھی گئی ہے کہ فریقین جو رضامندی دے رہے ہیں وہ حقیقی رضامندی ہو کسی انسان پر دباؤ ڈال کر کوئی رضا مندی نہ لی گئی ہو شریعت اسلام میں جتنے معاملات باطل یا فاسد اور گناہ کہلاتے ہیں ان سب کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان میں وجوہ مذکور میں کسی وجہ سے کہیں کسی کا حق غصب ہوتا ہے کہیں کسی کو نقصان پہنچا کر اپنا نفع کیا جاتا ہے کہیں حقوق عامہ میں ناجائز تصرف ہوتا ہے، سود قمار وغیرہ کو حرام قرار دینے اہم وجہ یہ ہے کہ وہ حقوق عامہ کے لئے مضر ہیں ان کے نتیجہ میں چند افراد پلتے بڑہتے ہیں اور پوری ملت مفلس ہوتی ہے ایسے معاملات فریقین کی رضامندی سے بھی اس لئے حلال نہیں کہ وہ پوری ملت کے خلاف ایک جرم ہے آیت مذکورہ ان تمام ناجائز صورتوں پر حاوی ہے، ارشاد ہے، وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ یعنی نہ کھاؤ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریق پر اس میں ایک بات تو یہ قابل غور ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں اَمْوَالَكُمْ آیا ہے جس کے اصلی معنی ہیں اپنے اموال جس میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا کہ تم جو کسی دوسرے کے مال میں ناجائز تصرف کرتے ہو تو یہ غور کرو کہ دوسرے شخص کو بھی اپنے مال سے ایسی ہی محبت اور تعلق ہوگا جیسا تمہیں اپنے مال سے ہے اگر وہ تمہارے مال میں ایسا جائز تصرف کرتا تو تمہیں جو دکھ پہنچتا اس کا اس وقت بھی ایسا ہی احساس کرو کہ گویا وہ تمہارا مال ہے، اس کے علاوہ اشارہ اس طرف بھی ہوسکتا ہے کہ جب ایک شخص دوسرے کے مال میں کوئی ناجائز تصرف کرتا ہے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ اگر یہ رسم چل پڑی تو دوسرے اس کے مال میں ایسا ہی تصرف کریں گے اس حیثیت سے کسی کے مال میں ناجائز تصرف درحقیقت اپنے مال میں ناجائز تصرف کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے غور کیجئے اشیاء ضرورت میں ملاوٹ کی رسم چل جائے کوئی گھی میں تیل یا چربی ملا کر زائد پیسے حاصل کرے تو اس کو جب دودھ خریدنے کی ضرورت پڑے گی دودھ والا اس میں پانی ملا کردے گا مسالہ کی ضرورت ہوگی تو اس میں ملاوٹ ہوگی دوا کی ضرورت ہوگی اس میں بھی یہی منظر سامنے آئے گا تو جتنے پیسے ایک شخص نے ملاوٹ کرکے زائد حاصل کرلئے دوسرا آدمی وہ پیسے اس کی جیب سے نکال لیتا ہے اسی طرح دوسرے کے پیسے تیسرا نکال لیتا ہے یہ بیوقوف اپنی جگہ پیسوں کی زیادتی شمار کرکے خوش ہوتا ہے مگر انجام دیکھتا کہ اس کے پاس کیا رہا تو جو کوئی دوسرے کے مال کو غلط طریقے سے حاصل کرتا ہے درحقیقت وہ اپنے مال کے ناجائز تصرف کا دروازہ کھولتا ہے، دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ اس ارشاد خداوندی کے الفاظ عام ہیں کہ باطل اور ناجائز طریق سے کسی کا مال نہ کھاؤ اس میں کسی کا مال غصب کرلینا بھی داخل ہے چوری، اور ڈاکہ بھی جن میں دوسرے پر ظلم کرکے جبرا مال چھین لیا جاتا ہے اور سود، قمار، رشوت اور تمام بیوع فاسدہ اور معاملات فاسدہ بھی جو ازروئے شرع جائز نہیں اگرچہ فریقین کی رضامندی بھی متحقق ہو جھوٹ بول کر یا جھوٹی قسم کھا کر کوئی مال حاصل کرلینا یا ایسی کمائی جس کو شریعت اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے اگرچہ اپنی جان کی محنت ہی سے حاصل کی گئی ہو وہ سب حرام اور باطل ہیں اور قرآن کے الفاظ میں اگرچہ صراحۃ کھانے کی ممانعت مذکور ہے لیکن مراد اس جگہ صرف کھانا ہی نہیں بلکہ مطلقاً استعمال کرنا ہے خواہ کھا پی کر یا پہن کر یا دوسرے طریقہ کے استعمال سے مگر محاورات میں ان سب قسم کے استعمالوں کو کھا لینا ہی بولا جاتا ہے کہ فلاں آدمی فلاں کا مال کھا گیا اگرچہ وہ مال کھانے پینے کے لائق نہ ہو، شان نزول یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے واقعہ یہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام میں سے دو صاحبوں کا آپس میں ایک زمین پر جھگڑا ہوا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا مدعی کے پاس گواہ نہ تھے آنحضرت ﷺ نے شرعی ضابطہ کے مطابق مدعاعلیہ کو حلف کرنے کا حکم دیا وہ حلف پر آمادہ ہوگیا اس وقت آنحضرت ﷺ نے بطور نصیحت ان کو یہ آیت سنائی، اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا جس میں قسم کھا کر کوئی مال حاصل کرنے پر وعید مذکور ہے صحابی نے جب یہ آیت سنی تو قسم کھانے کو ترک کردیا اور زمین مدعی کے حوالہ کردی (روح المعانی) اس واقعہ میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں ناجائز طریق پر کسی کا مال کھانے یا حاصل کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے آخر میں خاص طور پر جھوٹا مقدمہ بنانے اور جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹی شہادت دینے اور دلوانے کی سخت ممانعت اور اس پر وعید آئی ہے ارشاد ہے اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَال النَّاس بالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یعنی نہ لے جاؤ اموال کے مقدمات حکام تک تاکہ ان کے ذریعہ تم لوگوں کے اموال کا کوئی حصہ کھا جاؤ بطریق گناہ جب کہ تم جانتے بھی ہو کہ اس میں تمہارا کوئی حق نہیں تم جھوٹا مقدمہ بنا رہے ہو۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بناء پر اس چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے وہ اگر عدالت میں دعویٰ دائر کرکے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں اسی جیسے ایک واقعہ میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ انما انا بشر وانتم تختصمون الی ولعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علیٰ نحو ما اسمع منہ فمن قضیت لہ بشیء من حق اخیہ فلا یاخذنہ فانما اقطع لہ قطعۃً من النار (رواہ البخاری ومسلم عن ام سلمۃ) یعنی میں ایک انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لاتے ہو اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے معاملہ کو زیادہ رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کرے اور میں اسی سے مطمٔن ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کردو تو (یاد رکھو کہ حقیقت حال تو صاحب معاملہ کو خود معلوم ہوتی ہے) اگر فی الواقع وہ اس کا حق نہیں ہے تو اس کو لینا نہیں چاہئے کیونکہ اس صورت میں جو کچھ میں اس کو دوں گا وہ جہنم کا ایک قطعہ ہوگا، آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد میں واضح فرما دیا کہ اگر امام یا قاضی یا امام المسلمین کی مغالطہ کی وجہ سے کوئی فیصلہ کردے جس میں ایک کا حق دوسرے کو ناجائز طور پر مل رہا ہو تو اس عدالتی فیصلہ کی وجہ سے وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوجاتا، اور جس کے لئے حلال ہے اس کے لئے حرام نہیں ہوجاتا الغرض عدالت کا فیصلہ کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں بناتا، اگر کوئی شخص دھوکہ فریب یا جھوٹی شہادت یا جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی کا مال بذریعہ عدالت لے لے تو اس کا وبال اس کی گردن پر رہے گا اس کو چاہئے کہ آخرت کے حساب کتاب اور علیم وخبیر کی عدالت میں پیشی کا خیال کرکے اس کو چھوڑ دے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک جن معاملات میں کوئی عقد یا فسخ ہوتا ہو اور جن میں قاضی یا جج کو بھی شرعا اختیارات حاصل ہوتے ہیں ایسے معاملات میں اگر جھوٹی قسم یا جھوٹی شہادت کی بناء پر بھی کوئی فیصلہ قاضی نے صادر کردیا تو شرعاً وہ عقد یا فسخ صحیح ہوجائے گا اور حلال و حرام کے احکام اس پر عائد ہوجائیں گے اگرچہ جھوٹ بولنے اور شہادت دلوانے کا وبال اس کی گردن پر رہے گا۔ مال حلال کی برکات اور حرام کی نحوست حرام سے بچنے اور حلال کے حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم نے مختلف مقامات میں مختلف عنوانات سے تاکیدیں فرمائی ہیں ایک آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کے اعمال و اخلاق میں بہت بڑا دخل حلال کھانے کو ہے اگر اس کا کھانا پینا حلال نہیں تو اس سے اخلاق حمیدہ اور اعمال صالحہ کا صدور مشکل ہے ارشاد ہے يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحً آ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ (51: 23) یعنی اے گروہ انبیاء حلال اور پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو میں تمہارے اعمال کی حقیقت سے واقف ہوں۔ اس آیت میں حلال کھانے کے ساتھ عمل صالح کا حکم فرما کر اشارہ کردیا ہے کہ اعمال صالحہ کا صدور جب ہی ہوسکتا ہے جبکہ انسان کا کھانا پینا حلال ہو، اور آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں یہ بھی واضح فرما دیا کہ اس آیت میں اگرچہ خطاب انبیاء (علیہم السلام) کو ہے مگر یہ حکم کچھ انھیں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ سب مسلمان اس کے مامور ہیں اس حدیث کے آخر میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حرام مال کھانے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی بہت سے آدمی عبادت وغیرہ میں مشقت اٹھاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ دعاء کے لئے پھیلاتے ہیں اور یا رب یا رب پکارتے ہیں مگر کھانا ان کا حرام، پینا ان کا حرام، لباس ان کا حرام ہے تو ان کی یہ دعاء کہاں قبول ہوسکتی ہے، رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ایک بہت بڑا حصہ اسی کام کے لئے وقف رہا ہے کہ امت کو حرام سے بچانے اور حلال کے استعمال کرنے کی ہدایتیں دی، ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے حلال کھایا اور سنت کے مطابق عمل کیا اور لوگ اس کی ایذاؤں سے محفوظ رہے وہ جنت میں جائے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ آج کل تو یہ حالات آپ کی امت میں عام ہیں بیشتر مسلمان ان کے پابند ہیں آپ نے فرمایا ہاں ! آئندہ بھی ہر زمانہ میں ایسے لوگ رہیں گے جو ان احکام کے پابند ہوں گے (یہ حدیث ترمذی نے روایت کی ہے اور اس کو صحیح فرمایا ہے) ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر سے فرمایا کہ چار خصلتیں ایسی ہیں جب وہ تمہارے اندر موجود ہیں تو پھر دنیا میں کچھ بھی حاصل نہ ہو تو تمہارے لئے کافی ہیں وہ چار خصلتیں یہ ہیں کہ ایک امانت کی حفاظت، دوسرے سچ بولنا، تیسرے حسن خلق، چوتھے کھانے میں حلال کا اہتمام، حضرت سعد بن ابی وقاص نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے یہ دعا فرما دیجئے کہ میں مقبول الدعاء ہوجاؤں جو دعا کیا کروں قبول ہوا کرے آپ نے فرمایا اے سعد اپنا کھانا حلال اور پاک بنالو مستجاب الدعوات ہوجاؤ گے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے بندہ جب اپنے پیٹ میں حرام لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس روز تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور جس شخص کا گوشت حرام مال سے بنا ہو اس گوشت کے لئے تو جہنم کی آگ ہی لائق ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا جب تک اس کا قلب اور زبان مسلم نہ ہوجائے اور جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے محفوظ نہ ہوجائیں اور جب کوئی بندہ مال حرام کماتا ہے پھر اس کو صدقہ کرتا ہے تو وہ قبول نہیں ہوتا اور اگر اس میں سے خرچ کرتا ہے تو برکت نہیں ہوتی اور اگر اس کو اپنے وارثوں کے لئے چھوڑ جاتا ہے تو وہ جہنم کی طرف جانے کے لئے اس کا توشہ ہوتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ بری چیز سے برے عمل کو نہیں دھوتے ہاں اچھے عمل سے برے عمل کو دھو دیتے ہیں۔ محشر میں ہر انسان سے پانچ اہم سوالات اور حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ما تزال قدما عبد یوم القیامۃ حق یسأل عن اربع عن عمرہ فیما افناہ وعن شبابہٖ فیما ابلاہ وعن مالہ من این اکتسبہ وفیما انفقہ وعن علمہ ماذا عمل فیہ (البیہقی، ترغیب) قیامت کے روز محشر میں کوئی بندہ اپنی جگہ سے سرک نہ سکے گا جب تک اس سے چار سوالوں کا جواب نہ لیا جائے ایک یہ کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں فنا کی دوسرے یہ کہ اپنی جوانی کس شغل میں برباد کی تیسرے یہ کہ اپنا مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور چوتھی یہ کہ اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے جماعت مہاجرین پانچ خصلتیں ہیں جن کے متعلق میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ تمہارے اندر پیدا ہوجائیں ایک یہ ہے کہ جب کسی قوم میں بےحیائی پھیلتی ہے تو ان پر طاعون اور وبائیں اور ایسے نئے نئے امراض مسلط کردئیے جاتے ہیں جو ان کے آباء و اجداد نے سنے بھی نہ تھے اور دوسرے یہ کہ جب کسی قوم میں ناپ تول کے اندر کمی کرنے کا مرض پیدا ہوجائے تو ان پر قحط اور گرانی اور مشقت و محنت اور حکام کے مظالم مسلط کردئیے جاتے ہیں اور تیسرے یہ کہ جب کوئی قوم زکوٰۃ ادا نہ کرے تو بارش بند کردی جاتی ہے اور چوتھے یہ کہ جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ ڈالے تو اللہ تعالیٰ ان پر اجنبی دشمن مسلط فرما دیتے ہیں جو ان کے مال بغیر کسی حق کے چھین لیتا ہے اور پانچویں یہ کہ جب کسی قوم کے ارباب اقتدار کتاب اللہ کے قانون پر فیصلہ نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام ان کے دل کو نہ لگیں تو اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں منافرت اور لڑائی جھگڑے ڈال دیتے ہیں (یہ روایت ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح علیٰ شرط مسلم فرمایا ہے) اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو ان آفات سے محفوظ رہنے کی توفیق کامل عطا فرمائیں وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں حال نئے چاند کا کہہ دے کہ یہ اوقات مقررہ ہیں لوگوں کے واسطے اور حج کے واسطے اور نیکی یہ نہیں کہ گھروں میں آؤ ان کی پشت کی طرف سے اور لیکن نیکی یہ کہ جو کوئی ڈرے اللہ سے اور گھروں میں آؤ دروازوں سے اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم اپنی مراد کر پہنچو،

ربط آیات آیت لَيْسَ الْبِرُّ کے تحت بیان ہوچکا ہے کہ اس کے بعد آخر سورة بقرہ تک ابواب البر کا بیان ہوگا جو اہم احکام شرعیہ پر مشتمل ہیں، ان میں پہلا حکم قصاص کا دوسرا وصیت کا، تیسرا اور چوتھا صوم اور اس کے متعلقہ مسائل کا، پانچواں اعتکاف کا، چھٹا مال حرام سے بچنے کا تھا، مذکور الصدر دو آیتوں میں حج اور جہاد کے احکام و مسائل کا بیان ہے اور حج کے حکم سے پہلے یہ بتلایا گیا کہ روزہ اور حج وغیرہ میں قمری مہینوں اور دنوں کا اعتبار ہوگا، لغاتاَهِلَّةِ ہلال کی جمع ہے، قمری مہینہ کی ابتدائی چند راتوں کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے مواقیت، میقات کی جمع ہے جس کے معنی مطلق وقت یا منتہائے وقت کے آتے ہیں (قرطبی) خلاصہ تفسیر حکم ہفتم، اعتبار حساب قمری درحج وغیرہ (بعضے آدمی) آپ سے (ان) چاندوں کے (ہر مہینہ گھٹنے بڑہنے کی) حالت (اور اس میں جو فائدہ ہے اس فائدہ) کی تحقیقات کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ (فائدہ اس کا یہ ہے کہ) وہ چاند (اپنے اس گھٹنے اور بڑہنے کے اعتبار سے لزوما یا سہولۃ) آلہ شناخت اوقات ہیں لوگوں کے (اختیاری معاملات مثل عدت و مطالبہ حقوق کے) لئے اور (غیر اختیاری عبادات مثل) حج (وزکوۃ و روزہ وغیرہ) کے لئے، حکم ہشتم، اصلاح رسم جاہلیت (بعض لوگ قبل اسلام کے اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد کسی ضرورت سے گھر جانا چاہتے تھے تو دروازہ سے جانا ممنوع جانتے تھے اس لئے پشت کی دیوار میں نقب دے کر اس میں سے اندر جاتے تھے اور اس عمل کو فضیلت سمجھتے تھے حق تعالیٰ اس کے متعلق بعد ذکر حج کے ارشاد فرماتے ہیں) اور اس میں کوئی فضیلت نہیں کہ گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آیا کرو، ہاں لیکن فضیلت یہ ہے کہ کوئی شخص حرام (چیزوں) سے بچے اور (چونکہ گھروں میں دروازہ کی طرف سے آنا حرام نہیں ہے اس لئے اس سے بچنا بھی ضروری نہیں سو اگر آنا چاہو تو) گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور (اصل الاصول تو یہ ہے کہ) خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو (اس سے البتہ) امید ہے کہ تم (دارین میں) کامیاب ہو، حکم نہم، قتال کفار (ذی قعدہ 6 ہجری میں حضور ﷺ ادائے عمرہ کے قصد سے مکہ معظمہ تشریف لے چلے اس وقت تک مکہ معظمہ مشرکین کے قبضہ اور حکومت میں تھا ان لوگوں نے حضور ﷺ اور آپ کے ہمراہیوں کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا اور عمرہ رہ گیا آخر بڑی گفتگو کے بعد یہ معاہدہ قرار پایا کہ سال آئندہ تشریف لاکر عمرہ ادا فرماویں۔ چناچہ ذی قعدہ 7 ھ میں پھر آپ اسی قصد سے تشریف لے چلے لیکن آپ کے ساتھ مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید مشرکین اپنا معاہدہ پورا نہ کریں اور آمادہ مقابلہ ومقاتلہ نہ ہوجاویں تو ایسی حالت میں نہ سکوت مصلحت ہے اور اگر مقابلہ کیا جاوے تو ذی قعدہ میں قتال لازم آتا ہے اور یہ مہینہ منجملہ ان چار مہینوں کے ہے جن کو اشہر حرم کہا جاتا ہے ان چاروں مہینوں میں اس وقت تک قتل و قتال حرام و ممنوع تھا یہ چار مہینے ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب تھے غرض مسلمان اس تردد سے پریشان تھے حق تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ ان خاص معاہدہ کرنے والوں کے ساتھ بوجہ باہمی معاہدہ کے تم کو اپنی جانب سے ابتداءً قتال کرنے کی اجازت نہیں لیکن اگر وہ لوگ خود عہد شکنی کریں اور تم سے لڑنے کو آمادہ ہوجاویں تو اس وقت تم کسی طرح کا اندیشہ دل میں مت لاؤ) اور (بےتکلف) تم (بھی) لڑو اللہ کی راہ میں (یعنی اس نیت سے کہ یہ لوگ دین کی مخالفت کرتے ہیں) ان لوگوں کے ساتھ جو (نقص عہد کرکے) تمہارے ساتھ لڑنے لگیں اور (ازخود) حد (معاہدہ) سے مت نکلو (کہ عہد شکنی کرکے لڑنے لگو) واقعی اللہ تعالیٰ حد (قانون شرعی) سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور (جس حالت میں وہ خود عہد شکنی کریں تو اس وقت دل کھول کر خواہ) ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ اور (خواہ) ان کو (مکہ سے) نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تم کو (تنگ کرکے اور ایذائیں پہنچا کر) نکلنے (اور ہجرت کرنے) پر مجبور کیا ہے اور (تمہارے اس قتل واخراج کے بعد بھی عقلا الزام انھیں پر رہے گا کیونکہ عہد شکنی جو ان سے واقع ہوگی بڑی شرارت کی بات ہے اور ایسی) شرارت (ضرر میں) قتل (واخراج) سے بھی سخت تر ہے (کیونکہ اس قتل واخراج کی نوبت اس شرارت ہی کی بدولت پہنچتی ہے) اور (علاوہ معاہدہ کے ان کے ساتھ ابتداءً قتال کرنے سے ایک اور امر بھی مانع ہے وہ یہ کہ حرم شریف یعنی مکہ اور اس کا گردا گرد ایک واجب الاحترام جگہ ہے اور اس میں قتال کرنا اس کے احترام کے خلاف ہے اس لئے بھی حکم دیا جاتا ہے کہ) ان کے ساتھ مسجد حرام کے قرب (ونواح) میں (جو حرم کہلاتا ہے) قتال مت کرو جب تک کہ وہ لوگ وہاں تم سے خود نہ لڑیں ہاں اگر وہ (کفار) خود ہی لڑنے کا سامان کرنے لگیں تو (اس وقت پھر تم کو بھی اجازت ہے کہ) تم (بھی) ان کو مارو (دھاڑو) ایسے کافروں (جو حرم میں لڑنے لگیں) ایسی ہی سزا ہے، معارف و مسائل پہلی آیت میں صحابہ کرام کا ایک سوال اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جواب نقل کیا گیا ہے، امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کی ایک شان ہے کہ انہوں نے بوجہ عظمت وہیبت کے اپنے رسول ﷺ سے سوالات بہت کم کئے ہیں بخلاف پچھلی امتوں کے کہ جنہوں نے بکثرت سوالات کئے اور اس ادب کو ملحوظ نہیں رکھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے سوالات جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے کل چودہ ہیں جن میں سے ایک سوال ابھی اوپر گذرا ہے، وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ دوسرا سوال یہ ہے اور ان کے بعد سورة بقرہ ہی میں چھ سوال اور مذکور ہیں اور باقی چھ سوالات مختلف سورتوں میں آئے ہیں، آیت مذکورہ میں ذکر یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے اَهِلَّةِ یعنی شروع مہینے کے چاند کے متعلق سوال کیا کہ اس کی صورت آفتاب سے مختلف ہے کہ وہ کبھی باریک ہلالی شکل میں ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ بڑہتا ہے پھر پورا دائرہ ہوجاتا ہے پھر اس میں تدریجی کمی اسی طرح آتی ہے اس کی حقیقت دریافت کی یا حکمت و مصلحت کا سوال کیا دونوں احتمال ہیں مگر جو جواب دیا گیا اس میں حکمت و مصلحت کا بیان ہے اگر سوال ہی یہ تھا کہ چاند کے گھٹنے بڑہنے میں حکمت و مصلحت کیا ہے تب تو جواب اس کے مطابق ہو ہی گیا اور اگر سوال سے اس گھٹنے بڑ ہنے کی حقیقت دریافت کرنا مقصود تھا جو صحابہ کرام کی شان سے بعید ہے تو پھر جواب بجائے حقیقت کے حکمت و مصلحت بیان کرنے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اجرام سماویہ کے حقائق دریافت کرنا انسان کے بس میں بھی نہیں اور ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام اس حقیقت کے علم پر موقوف بھی نہیں اس لئے حقیقت کا سوال فضول ہے پوچھنے اور بتلانے کی بات یہ ہے کہ چاند کے اس طرح گھٹنے بڑہنے چھپنے اور طلوع ہونے سے ہمارے کون سے مصالح وابستہ ہیں اس لئے جواب میں رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری مصالح جو چاند سے وابستہ ہیں یہ ہیں کہ اس کے ذریعہ تمہیں اپنے معاملات اور معاہدوں کی میعاد مقرر کرنا اور حج کے ایام معلوم کرنا آسان ہوجائے گا، قمری اور شمسی حساب کی شرعی حیثیت اس آیت سے تو اتنا معلوم ہوا کہ چاند کے ذریعہ تمہیں تاریخوں اور مہینوں کا حساب معلوم ہوجائے گا جس پر تمہارے معاملات اور عبادات حج وغیرہ کی بنیاد ہے اسی مضمون کو سورة یونس کی آیت نمبر 5 میں اس عنوان سے بیان فرمایا ہے وَقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ (یونس) جس سے معلوم ہوا کہ چاند کو مختلف منزلوں اور مختلف حالات سے گذارنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سال اور مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم ہوسکے مگر سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 12 میں اس حساب کا تعلق آفتاب سے بھی بتلایا گیا ہے وہ یہ ہےفَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ (12: 17) پھر مٹایا رات کا نمونہ اور بنادیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب۔ اس تیسری آیت سے اگرچہ یہ ثابت ہوا کہ سال اور مہینوں وغیرہ کا حساب آفتاب سے بھی لگایا جاسکتا ہے (کما ذکرہ فی روح المعانی) لیکن چاند کے معاملہ میں جو الفاظ قرآن کریم نے استعمال کئے ان سے واضح اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ شریعت اسلام میں حساب چاند ہی کا متعین ہے خصوصاً ان عبادات میں جن کا تعلق کسی خاص مہینے اور اس کی تاریخوں سے ہے جیسے روزہ رمضان، حج کے مہینے، حج کے ایام، محرم، شب برأت وغیرہ سے جو احکام متعلق ہیں وہ سب رویت ہلال سے متعلق کئے گئے ہیں کیونکہ اس آیت میں ھِىَ مَوَاقِيْتُ للنَّاسِ وَالْحَجِّ فرما کر بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حساب چاند ہی کا معتبر ہے اگرچہ یہ حساب آفتاب سے بھی معلوم ہوسکتا ہے۔ شریعت اسلام نے چاند کے حساب کو اس لئے اختیار فرمایا کہ اس کو ہر آنکھوں والا افق پر دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے عالم، جاہل، دیہاتی، جزیروں، پہاڑوں کے رہنے والے جنگلی سب کو اس کا علم آسان ہے بخلاف شمسی حساب کے کہ وہ آلات رصدیہ اور قواعد ریاضیہ پر موقوف ہے جس کو ہر شخص آسانی سے معلوم نہیں کرسکتا پھر عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطور فرض متعین کردیا اور عام معاملات تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا جو عبادت اسلامی کا ذریعہ ہے اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں کیونکہ ایسا کرنے میں عبادات روزہ وحج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے جیسا اس زمانے میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہوگیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرت قومی وملی کا بھی دیوالیہ پن ہے اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں باقی نجی خط و کتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔ مسئلہلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِھَا اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ جس چیز کو شریعت اسلام نے ضروری یا عبادت نہ سمجھا ہو اس کو اپنی طرف سے ضروری اور عبادت سمجھ لینا جائز نہیں اسی طرح جو چیز شرعا جائز ہو اس کو گناہ سمجھنا بھی گناہ ہے ان لوگوں نے ایسا ہی کر رکھا تھا کہ گھر کے دروازوں سے داخل ہونا جو شرعاً جائز تھا اس کو گناہ قرار دیا، اور مکان کی پشت سے دیوار توڑ کر آیا جو شرعا ضروری نہیں تھا اس کو ضروری سمجھا اسی پر ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی بدعات کے ناجائز ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں کو فرض وواجب کی طرح ضروری سمجھ لیا جاتا ہے یا بعض چیزوں کو حرام و ناجائز قرار دے دیا جاتا ہے اس آیت سے ایسا کرنے کی ممانعت واضح طور پر ثابت ہوگئی جس سے ہزاروں اعمال کا حکم معلوم ہوگیا،
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے اور کسی پر زیادتی مت کرو بیشک اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے زیادتی کرنے والوں کو،

حکم نہم جہاد و قتال اس پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد و قتال ممنوع تھا اس وقت کی تمام آیات قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اور عفو و درگذر کی ہی تلقین تھی ہجرت مدینہ کے بعد سب سے پہلے اس آیت میں قتال کفار کا حکم آیا (قالہ الربیع بن انس وغیرہ) اور صدیق اکبر سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ قتال کفار کے متعلق پہلی آیت یہ ہے، اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا مگر اکثر حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین کے نزدیک پہلی آیت سورة بقرہ کی آیت مذکورہ ہی ہے اور صدیق اکبر نے جس کو پہلی فرمایا ہے وہ بھی ابتدائی آیتوں میں ہونے کے سبب پہلی کہی جاسکتی ہے، اس آیت میں حکم یہ ہے کہ مسلمان صرف ان کافروں سے قتال کریں جو ان کے مقابلہ پر قتال کے لئے آویں اس سے مراد یہ ہے کہ عورتیں، بچے، بہت بوڑھے اور اپنے مذہبی شغل میں دنیا سے یکسو ہو کر لگے ہوئے عبادت گذار راہب، پادری وغیرہ اور ایسے ہی اپاہج ومعذور لوگ یا وہ لوگ جو کافروں کے یہاں محنت مزدوری کا کام کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو جہاد میں قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حکم آیت کا صرف ان لوگوں سے قتال کرنے کا ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں قتال کریں اور مذکورہ قسم کے سب افراد قتال کرنے والے نہیں اسی لئے فقہاء رحمہم اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی عورت یا بوڑھا یا مذہبی آدمی وغیرہ کفار کی طرف سے قتال میں شریک ہوں یا مسلمانوں کے بالمقابل جنگ میں ان کی مدد کسی طرح سے کررہے ہوں ان کا قتل جائز ہے کیونکہ وہ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ میں داخل ہیں (مظہری قرطبی، جصاص) رسول اللہ ﷺ کی ہدایات جو مجاہدین اسلام کو بوقت جہاد دی جاتی تھیں ان میں اس حکم کی واضح تشریحات مذکور ہیں صحیح بخاری ومسلم میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر ایک حدیث میں ہے، نھی رسول اللہ ﷺ عن قتل النسآء والصبیان، یعنی رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد میں بروایت انس جہاد پر جانے والے صحابہ کو رسول اللہ ﷺ کی یہ ہدایات منقول ہیں تم اللہ کے نام پر اور رسول اللہ کی ملت پر جہاد کے لئے جاؤ کسی بوڑھے ضعیف کو اور چھوٹے بچے کو یا کسی عورت کو قتل نہ کرو (مظہری) حضرت صدیق اکبر نے جب یزید بن ابی سفیان کو ملک شام بھیجا تو ان کو یہی ہدایت دی اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عبادت گذار اور راہبوں کو اور کافروں کی مزدوری کرنے والوں کو بھی قتل نہ کریں جبکہ وہ قتال میں حصہ نہ لیں (قرطبی) آیت کے آخر میں وَلَا تَعْتَدُوْا کا بھی جمہور مفسرین کے نزدیک یہی مطلب ہے کہ قتال میں حد سے تجاوز نہ کرو کہ عورتوں بچوں وغیرہ کو قتل کرنے لگو۔
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور مارڈالو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا اور دین سے بچلانا مار ڈالنے سے بھی زیادہ سخت ہے اور نہ لڑو ان سے مسجد الحرام کے پاس جب تک کہ وہ نہ لڑیں تم سے اس جگہ پھر اگر وہ خود ہی لڑیں تم سے تو ان کو مادو یہی ہے سزا کافروں کی۔

وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ آیت واقعہ حدیبیہ کے بعد اس وقت نازل ہوئی ہے جب صلح حدیبیہ کی شرط کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ اس عمرہ کی قضاء کے لئے سفر کا ارادہ کیا جس سے اس سے پہلے سال میں کفار مکہ نے روک دیا تھا صحابہ کرام ؓ اجمعین کو اس سفر کے وقت یہ خیال ہو رہا تھا کہ کفار کی صلح اور معاہدہ کا کچھ بھروسہ نہیں اگر وہ لوگ اس سال بھی آمادہ پیکار ہوگئے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے اس پر آیت مذکورہ کے الفاظ نے ان کو اجازت دے دی کہ اگر وہ قتال کرنے لگیں تو تمہیں بھی اجازت ہے کہ جہاں پاؤ ان کو قتل کرو اور اگر قدرت میں ہو تو جس طرح انہوں نے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا تم بھی ان کو مکہ سے نکال دو۔ اور پوری مکی زندگی میں جو مسلمانوں کو کفار کے ساتھ مقاتلہ سے روکا ہوا تھا اور ہمیشہ عفو و درگذر کی تلقین ہوتی رہی تھی اس لئے صحابہ کرام کو اس آیت کے نازل ہونے سے یہی خیال تھا کہ کسی کافر کو قتل کرنا برا اور ممنوع ہے اس خیال کے ازالہ کے لئے فرمایا والْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ یعنی یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ کسی کو قتل کرنا سخت برا کام ہے مگر کفار مکہ کا اپنے کفر و شرک پر جما رہنا اور مسلمانوں کو ادائے عبادت حج وعمرہ سے روکنا اس سے زیادہ سخت وشدید ہے اس سے بچنے کے لئے ان کو قتل کرنے کی اجازت دے دیگئی ہے آیت میں لفظ فتنہ سے کفر و شرک اور مسلمانوں کو ادائے عبادت سے روکنا ہی مراد ہے (جصاص، قرطبی وغیرہ) البتہ اس آیت کے عموم سے جو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ کفار جہاں کہیں ہوں ان کا قتل کرنا جائز ہے اس عموم کی ایک تخصیص آیت کے اگلے جملے میں اس طرح کردی گئی وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ یعنی مسجد حرام کے آس پاس جس سے مراد پورا حرم مکہ ہے اس میں تم ان لوگوں سے اس وقت تک قتال نہ کرو جب تک وہ خود قتال کی ابتداء نہ کریں۔ مسئلہحرم مکہ میں انسان کیا کسی شکاری جانور کو بھی قتل کرنا جائز نہیں لیکن اسی آیت سے معلوم ہوا کہ اگر حرم محترم میں کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے لگے تو اس کو بھی مدافعت میں قتال کرنا جائز ہے اس پر جمہور فقہاء کا اتفاق ہے۔ مسئلہاسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابتداء جہاد و قتال کی ممانعت صرف مسجدِحرام کی آس پاس حرم مکہ کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے مقامات میں جیسے دفاعی جہاد ضروری ہے اسی طرح ابتدائی جہاد و قتال بھی درست ہے۔
Ayahs 2:192–193

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آئیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد اور حکم رہے خدا تعالیٰ کا پھر اگر وہ باز آجائیں تو کسی پر زیادتی نہیں مگر ظالموں پر،

خلاصہ تفسیر پھر اگر (بعد شروع قتال کے بھی) وہ لوگ (یعنی مشرکین مکہ اپنے کفر سے) باز آجاویں (اور اسلام قبول کرلیں) تو ان کا اسلام بےقدر نہ سمجھا جاوے گا بلکہ) اللہ تعالیٰ (ان کے گذشتہ کفر کو) بخش دے گا اور (مغفرت کے علاوہ بیشمار نعمتیں دے کر ان پر) مہربانی (بھی) فرمادیں گے اور (اگر وہ لوگ اسلام نہ لاویں تو اگرچہ دوسرے کفار کے لئے اسلامی قانون یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی اگر اسلامی حکومت کی اطاعت اور جزیہ دینے کا اقرار کرلیں تو ان کا قتل جائز نہیں رہتا بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت اسلامی حکومت پر لازم ہوجاتی ہے مگر یہ خاص کفار چونکہ اہل عرب ہیں ان کے لئے قانون جزیہ نہیں بلکہ ان کے لئے صرف دو راستے ہیں اسلام یا قتل اس واسطے) ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ (ان میں) فساد عقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے اور انکا دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجائے (اور کسی کا دین و مذہب کا خالصا اللہ کے لئے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام اختیار کرلیں) اور اگر وہ لوگ (کفر سے) باز آجاویں (جس کا ذکر ابھی ہوا ہے) تو (آخرت میں مغفرت و رحمت کے مستحق ہونے کے ساتھ دنیا میں ان کے لئے تم کو یہ قانون بتلایا جاتا ہے کہ سزا کی) سختی کسی پر نہیں ہوا کرتی بجز بےانصافی کرنے والوں کے (جو براہ بےانصافی خدائی احسانات کو بھول کر کفر و شرک کرنے لگیں اور جب یہ لوگ اسلام لے آئے تو بےانصاف نہ رہے لہذا ان پر سزائے قتل کی سختی نہ رہی اور مسلمانو ! تم کو جو یہ خیال ہے کہ کفار مکہ اگر اپنے عہد پر قائم نہ رہے تو شہر حرام یعنی ذی قعدہ میں ان سے لڑنا پڑے گا سو اس سے بھی بےفکر رہو کیونکہ) حرمت والا مہینہ (تم کو قتال کفار سے مانع ہو سکتا) ہے بعوض (اس کے کہ اس) حرمت والے مہینہ کے (سبب وہ بھی تم سے قتال نہ کریں) اور وجہ یہ ہے کہ یہ حرمتیں تو عوض معاوضہ کی چیزیں ہیں (سو جو تمہارے ساتھ ان حرمتوں کی رعایت کرے تو تم بھی رعایت رکھو اور) جو تم پر (ایسی حرمتوں کی رعایت نہ کرکے) زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور (ان سب احکام مذکورہ کے برتاؤ میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ کسی امر میں حد قانونی سے تجاوز نہ ہونے پاوے) اور یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ (اپنی عنایت و رحمت سے) ان ڈرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ حکم دہم انفاق فی الجہاد اور تم لوگ (جان کے ساتھ مال بھی) خرچ کیا کرو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو (کہ ایسے مواقع میں جان ومال خرچ کرنے سے جبن یا بخل کرنے لگو جس کا نتیجہ تمہارا ضعیف اور مخالف کا قوی ہوجانا ہے جو کہ عین تباہی ہے) اور جو کام (کرو) اچھی طرح کیا کرو (مثلا اس موقع پر خرچ کرنا ہی دل کھول کر خوشی سے اچھی نیت کیساتھ خرچ کرو) بلاشبہ اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت والا مہینہ بدلہ (مقابل ہے) حرمت والے مہینہ کے اور ادب رکھنے میں بدلہ ہے، پھر جس نے تم پر زیادتی کی تم اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے زیادتی کی تم پر اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیزگاروں کے،

معارف و مسائل 7 ہجری میں جب رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے قانون کے مطابق فوت شدہ عمرہ ادا کرنے کے لئے بہ معیت صحابہ کرام ؓ اجمعین مکہ کے سفر کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام جانتے تھے کہ ان کفار کے معاہدوں اور صلح کا کچھ اعتبار نہیں ممکن ہے کہ وہ جنگ کرنے لگیں تو اس جنگ میں صحابہ کرام ؓ اجمعین کے لئے ایک اشکال تو یہ تھا کہ حرم مکہ میں جنگ کی نوبت آئے گی جو اسلام میں ناجائز ہے اس کا جواب پچھلی آیت میں دے دیا گیا کہ حرم مکہ کی حرمت مسلمانوں پر ضرور لازم ہے لیکن اگر کفار حدود حرم میں ہی مسلمانوں سے جنگ کرنے لگیں تو ان کو بھی مدافعت میں جنگ کرنا جائز ہے۔ دوسرا اشکال یہ تھا کہ یہ مہینہ ذیقعدہ کا ہے جو ان چار مہینوں میں سے ہے جن کو اشہر حرم کہا جاتا ہے اور ان میں کسی سے کسی جگہ جنگ کرنا جائز نہیں تو اگر مشرکین مکہ نے ہمارے خلاف جنگ شروع کردی تو ہم اس مہینے میں دفاعی جنگ کیسے کرسکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جیسے حرم مکہ کی حرمت سے حالت دفاع مستثنی ہے اسی طرح اگر اشہر حرم میں کافر ہم سے قتال کرنے لگیں تو ہم کو بھی ان سے دفاعی جنگ لڑناجائز ہے۔ مسئلہاشہر حرم چار مہینے ہیں، ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم یہ تین ماہ تو مسلسل ہیں چوتھا مہینہ رجب کا ہے اسلام سے پہلے بھی ان چار مہینوں میں جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے ابتداء اسلام میں بھی 7 ہجری تک یہی قانون نافذ تھا اسی لئے صحابہ کرام کو اشکال پیش آیا اس کے بعد یہ حرمت قتال منسوخ کرکے عام قتال کی اجازت باجماع امت دے دیگئی مگر افضل اب بھی یہی ہے کہ ان چار مہینوں میں ابتداء بالقتال نہ کی جائے صرف مدافعت کی ضرورت سے قتال کیا جائے اس لحاظ سے یہ کہنا بھی فی الجملہ درست ہے کہ اشہر حرم کی حرمت منسوخ نہیں باقی ہے جیسے حرم مکہ میں قتال کی اجازت بضرورت مدافعت دینے سے حرم مکہ کی حرمت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ صرف ایک استثنائی صورت پر عمل ہوا،
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنی جان کو ہلاکت میں، اور نیکی کرو بیشک اللہ دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو۔

دسواں حکم جہاد کے لئے مال خرچ کرنا وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اس میں مسلمانوں پر لازم کیا گیا کہ جہاد کے لئے بقدر ضرورت اپنے اموال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں اس سے فقہاء نے یہ حکم بھی نکالا ہے کہ مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض کے علاوہ بھی دوسرے حقوق فرض ہیں مگر وہ نہ دائمی ہیں اور نہ ان کے لئے کوئی نصاب اور مقدار متعین ہے بلکہ جب وہ جتنی ضرورت ہو اس کا انتظام کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے اور ضرورت نہ ہو تو کچھ فرض نہیں جہاد کا خرچ بھی اسی میں داخل ہے، وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ کے لفظی معنے تو ظاہر ہیں کہ اپنے اختیار سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت بیان فرمائی ہے اب یہ بات کہ ہلاکت میں ڈالنے سے اس جگہ کیا مراد ہے ؟ اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں اور امام جصاص رازی نے فرمایا کہ ان سب اقوال میں کوئی تضاد نہیں سب ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاری نے فرمایا کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے ہم اس کی تفسیر بخوبی جانتے ہیں، بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ اور قوت عطا فرما دیا تو ہم میں یہ گفتگو ہوئی کہ اب جہاد کی کیا ضرورت ہے ہم اپنے وطن میں ٹھہر کر اپنے مال وجائداد کی خبر گیری کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے یہ بتلا دیا کہ ہلاکت سے مراد اس جگہ ترک جہاد ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ ترک جہاد مسلمانوں کی ہلاکت و بربادی کا سبب ہے اسی لئے حضرت ابوایوب انصاری نے عمر بھر جہاد میں صرف کردی یہاں تک کہ آخر میں قسطنطنیہ میں وفات پاکر وہیں مدفون ہوئے، حضرت ابن عباس، حذیفہ، قتادہ، مجاہد، ضحاک ائمہ تفسیر سے بھی یہی مضمون منقول ہے، حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ گناہوں کی وجہ سے اللہ کی رحمت اور مغفرت سے مایوس ہوجانا اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالنا ہے اس لئے مغفرت سے مایوس ہونا حرام ہے، بعض حضرات نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرنا کہ بیوی بچوں کے حقوق ضائع ہوجائیں یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ایسا اسراف جائز نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ایسی صورت میں قتال کے لئے اقدام کرنا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے جبکہ یہ اندازہ ظاہر ہے کہ دشمن کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے خود ہلاک ہوجائیں گے ایسی صورت میں اقدام قتال اس آیت کی بناء پر ناجائز ہے، اور جصاص کے فرمانے کے مطابق یہ سب ہی احکام اس آیت سے مستفاد ہوتے ہیں۔ وَاَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ اس جملے میں ہر کام کو اچھی طرح کرنے کی ترغیب ہے اور کام کو اچھی طرح کرنا جس کو قرآن میں احسان کے لفظ سے تعبیر کیا ہے دو طرح کا ہے ایک عبادت میں دوسرے آپس کے معاملات ومعاشرت میں عبادت میں، احسان کی تفسیر حدیث جبرئیل میں خود رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ ایسی طرح عبادت کرو جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو تو کم ازکم یہ تو اعتقاد لازم ہی ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ اور معاملات ومعاشرت میں احسان کی تفسیر مسند احمد میں بروایت حضرت معاذ حضرت رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ تم سب لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور جس چیز کو تم اپنے لئے برا سمجھتے ہو وہ دوسروں کے لئے بھی برا سمجھو (مظہری)