Ayahs 2:275–277ترکیب : الذین یاکلون الخ مبتداء لا یقومون الخ جملہ خبر کما کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ الا قیاما مثل قیام الذی الخ ذلک مبتداء بانہم الخ خبر ‘ من المس متعلق ہے یتخبطہ سے فمن جاء شرط فلہ ماسلف جواب ‘ وامرہ معطوف جواب پر ومن عاد شرط فاولئک جواب الذین آمنوا اسم ان لہم اجر خبر۔
تفسیر : صدقہ و خیرات کے بعد سود کی برائیاں بیان کرنا اور اس کو حرام کردینا گویا صدقہ و خیرات کے بیان کو پورا کردینا ہے۔ کس لیے کہ جس طرح صدقہ و خیرات میں رحمدلی اور مسکینوں اور غریبوں کی دستگیری ہے اسی طرح سود میں سخت دلی اور حاجت مندوں پر سخت گیری ہے۔ یہ اس کی پوری ضد ہے۔ ہم پہلے الفاظِ آیت کی تفسیر پھر مسئلہ ربوا کی تشریح اور اس کے حرام ہونے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔
فرماتا ہے جو لوگ کہ سود کھاتے ہیں وہ قیامت میں اس فعلِ بد کی سزا میں عذاب الٰہی کی دہشت سے بدحواس ہوں گے۔ جیسا کہ کوئی خلل آسیب سے بدحواس ہوجاتا ہے (چونکہ دنیا میں محتاجوں کو ان کی سخت گیری سے دہشت اور حیرانی ہوتی تھی ان کا یہ فعل اس عالم میں ان پر آسیب بن کر سوار ہوگا) اور یہ اس لیے ہوگا کہ ان سود خوروں نے یہ بات بنائی ہے کہ سود میں اور بیع میں کیا فرق ہے جس طرح ایک روپیہ کی چیز کو دس روپیہ میں بیچنا درست ہے اسی طرح بوقت حاجت کسی کو دس روپیہ دے کر پندرہ لینا اپنے روپیہ کا نفع حاصل کرنا ہے کہ جس سے اتنی مدت میں ہم نفع حاصل کرتے ٗ اس کا جواب دیتا ہے یہ تمہارا قیاس غلط ہے کیونکہ بیع میں ایک چیز معاوضہ میں دی جاتی ہے اور سود میں اصل روپیہ لے کر اس پر زیادتی کونسی چیز کا معاوضہ ہے۔ رہی یہ بات کہ اس سے ہم نفع حاصل کرتے تو یہ یقینی بات نہیں۔ اس تقریر کی طرف اجمالاً احل اللّٰہ البیع و حرم الربوا میں اشارہ کردیا۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ اس کی ممانعت سے پہلے جو کچھ کسی نے لے لیا وہ اس کا ہوگیا۔ دنیا میں اس پر کچھ مطالبہ نہیں ٗ آخرت میں خدا چاہے تو معاف کرے۔ چاہے حساب لے۔ وامرہ الی اللّٰہ لیکن باوجود حکم ممانعت آنے کے پھر جو کوئی سود لے گا اور خدا کے حکم کو حقیر جانے گا تو جہنمی ہوگا۔ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سود خور نازاں نہ ہوں کہ ہم نفع حاصل کر رہے ہیں بلکہ نقصان کر رہے ہیں کیونکہ خدا کے نزدیک یہ روپیہ نہایت مکروہ ہے۔ اس عالم میں اس سے کچھ نفع نہ ہوگا کیونکہ اس عالم میں خدا اس کو مٹاتا ہے گو بظاہر زیادتی معلوم ہو مگر باطن میں بربادی ہے۔ بر خلاف صدقہ و خیرات کے ظاہر میں مال گھٹتا ہے لیکن باطن میں بڑھتا ہے اس لیے احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ جب کوئی خلوص نیت سے خدا کی راہ میں کوئی تھوڑی سی چیز بھی دیتا ہے تو خدا اس کو عالم باطن میں بڑھاتا ہے اور زیادہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بعد مرنے وہ تھوڑی سی چیز اس کو پہاڑ کے برابر اجر میں معلوم ہوگی۔ ویربی الصدقات چونکہ سود خور چند مدت کی مہلت کا معاوضہ لیتا ہے اور یہ خدا کی نعمت دولت کی ناشکری ہے۔ سو اس کو کوئی ناشکر گنہگار نہیں بھاتا بلکہ وہ نفرت کرتا ہے جس کی نفرت کا پرتو اس عالم میں یہ ہوتا ہے کہ سود خور کو لوگ بنظر حقارت دیکھتے اور مکروہ جانتے ہیں اور سخی کی عزت اور اس سے محبت کرتے ہیں۔
اس وعید کے بعد ایمانداروں کو (کہ جو خیرات و زکوٰۃ دیتے ہیں) خوشخبری سناتا ہے کہ یہ ان کا مال برباد نہیں جاتا بلکہ اس کے پاس جمع ہوتا ہے۔ اس عالم میں سب کا اجر ملے گا کہ ان کو کوئی رنج و غم نہ ہوگا۔ عالم قدس میں شاداں رہیں گے کیونکہ انہوں نے میرے محتاج بےکسوں کے دل خوش کئے تھے لا خوف علیہم ولاھم یحزنون ربواء یعنی سود (بیاج) لغت میں زیادتی کا نام ہے۔ کہتے ہیں ربی الشیء یربو ومنہ قولہ تعالیٰ اہتزت و دربت ای زادت۔ ربوا کی دو قسم ہیں ربا النسیہ ‘ ربا الفضل اول قسم کا ربوا ایام جاہلیت میں جاری تھا اور وہ یہ تھا کہ کوئی شخص کسی کو کسی میعاد پر قرض دیا کرتا تھا اور اس پر کچھ ماہواری مقرر کرلیتا تھا۔ پھر جب میعاد پر وہ روپیہ مدیون سے ادا نہ ہوتا تھا تو قرض خواہ اصل میں کچھ اور بڑھا کر مہلت دیتا تھا اور کبھی سود کو اصل میں جمع کرکے پھر اس پر سود لگایا کرتا تھا جس کو اضعافاً مضاعفاً اور سود کہتے ہیں۔ سود خواروں کا عموماً دستور ہے۔ قسم دوم یہ ہے کہ گیہوں یا جو وغیرہ کسی چیز کو اسی کی جنس سے ڈیڑھ یا دگنے پر فروخت کیا جاوے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اول میں یہ رائے تھی کہ اول قسم کا ربوٰ حرام ہے اور قسم ثانی درست ہے مگر انہوں نے اس مذہب سے رجوع کیا لیکن جمہور آئمہ دونوں قسم کے سود کو حرام کہتے ہیں۔ اول کی حرمت قرآن کی انہیں آیات سے ثابت ہے اور قسم دوم کا حرام ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ منجملہ ان کے ایک حدیث صحیح ہے کہ جس کو عمر بن الخطاب اور عبادہ بن صامت اور ابو سعید حذری ؓ سے اصحاب الصحاح نے روایت کیا ہے۔ قال النبی ﷺ الذھب بالذھب والفضۃ بالفضۃ والبر بالبر والشعیربالشعیر والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثلٍ سوائً بسوائٍ یدًا بیدٍ فاذا اختلف ھذہ الاصناف فبیعوا کیف شئتم اذا کان یدًا بیدٍ ۔ رواہ مسلم۔
احکام ربواء : اس حدیث میں جناب نبی ﷺ نے ان چھ چیزوں میں برابر اور دست بدست فروخت کرنے کا حکم دیا اور وہ چھ چیزیں یہ ہیں سونا چاندی ٗ گیہوں ٗ جوٗ چھوہارے ٗ نمک۔ پس جب سونے کو سونے سے اور چاندی کو چاندی سے اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے اور چھواروں کو چھواروں سے اور نمک کو نمک سے فروخت کریں تو کمی زیادتی نہ کریں اور اسی وقت دیویں تو اسی وقت لیویں۔ اگر سیر دے کر دو سیر لے گا یا دوسرے وقت سیر بھر ہی لے گا تو یہ ربوا ہوگا۔ پھر علما ظاہریہ کہتے ہیں کہ صرف انہیں چھ چیزوں میں ربوٰ ہے باقی اور چیزوں میں نہیں۔ 1 ؎ سیر بھر باجرہ جوار دے کر دو سیر خواہ اسی وقت لو خواہ پھر مگر مجتہدین بالخصوص ائمہ اربعہ یہ کہتے ہیں کہ علاوہ ان کے اور چیزوں میں بھی انہیں پر قیاس کرکے حکم جاری ہوگا مگر جب کسی چیز کو کسی چیز پر قیاس کرتے ہیں تو دونوں میں ایک وصف مشترک ضرور دیکھا جاتا ہے جس کو علم اصول فقہ میں علت کہتے ہیں۔ اس علت میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قدر و جنس ہے یعنی تلنی اور نپنے میں آتی ہوں۔ تول اور ماپ کو قدر کہتے ہیں۔ پس اگر یہ چیز بھی تل کر بکتی ہے اور دوسری بھی جیسا کہ چاندی سونا پھر اگر دونوں ایک جنس ہیں تو بیع میں کمی زیادتی بھی منع ہوگی اور ادھار بیچنا بھی اور اگر صرف قدر میں شریک ہیں اور جنس غیر ہیں جیسا کہ گیہوں اور جو کہ دونوں نپ کر عرب میں بکتے ہیں مگر جنس الگ الگ ہیں۔ اس صورت میں زیادہ لینا دینا تو درست ہوگا مثلاً سیر گیہوں دے کر دو سیر جو خرید لے مگر ادھار کرنا درست نہ ہوگا۔ اسی طرح جنس ایک ہو مگر قدر میں شریک نہ ہوں جیسا کہ پشاور کی ایک لنگی کو دو کے ساتھ فروخت کرے تو وہاں پر بھی فضل جائز ہے۔ نسیئہ حرام خلاصہ یہ کہ اگر قدر و جنس دونوں متحد ہوں گے تو فضل اور نسیئہ دونوں حرام ہوں گے اور ایک بات میں اتحاد ہوگا تو صرف نسیہ یعنی ادھار بیچنا حرام ہوگا۔ فضل یعنی زیادہ لینا درست ہوگا اور جو دونوں میں اتحاد نہیں تو فضل نسیہ دونوں درست ہوں گے جیسا کہ روپیہ سے غلہ خریدنا بیچنا۔ اب رہی یہ بات کہ امام صاحب نے ان دونوں چیزوں کو علت کیوں قرار دیا ؟ اس کے ادلہ کتب حنفیہ میں مذکور ہیں۔
دوسرا قول امام شافعی (رح) کا ہے۔ وہ یہ کہ چار چیزوں میں علت ربوٰ کے حرام ہونے کے لیے طعم ہے یعنی کھانے میں آنا اور چاندی سونے میں نقدیت اور دوسرا وصف جنس کا متحد ہونا تیسرا قول امام مالک (رح) کا ہے۔ وہ یہ کہ علت قوت ہے یعنی غذا ہونا یا جو اس کی اصلاح کرے جیسا کہ نمک چوتھا قول عبدالمالک بن ما حبشون (رح) کا ہے یعنی قابل نفع ہونا۔
انہیں باتوں پر نظر کرکے علماء نے فرمایا ہے کہ آیت ربوٰ مجمل ہے اور حضرت عمر ؓ نے بھی کہا کہ آنحضرت ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور ربوٰ کے مسائل ہنوز ہم نے حل نہیں کئے۔ اس مجمل کی تفسیر آئمہ نے خوب کردی ہے۔ اب جو کوئی خواہ مخواہ اس آیت کی تخصیص کرکے کہ صرف غریبوں سے سود لینا حرام ہے اور دولت مندوں سے درست ہے اور گورنمنٹ کے پرامیسری نوٹ کی آمدنی بھی درست ہے
1 ؎ یعنی معاملات بمعاوضہ قیمت ان کا جاری ہونا و یکہوجو کچہہ لین دین ہوتا ہے تو روپیہ اشرفی سے ہوتا ہے۔ 12 منہ
امام ابوحنیفہ کے نزدیک پہلون وغیرہ ان چیزوں میں کہ جو وزن اور پیمانہ سے نہیں فروخت ہوتیں بڑہوتری ربوٰ کا حکم نہیں رکھتیں۔ اسی طرح امام شافعی کے نزدیک جو چیزیں مبادلہ میں سوا چاندی سونے کے دی جاتی ہیں جیسا کہ لوہا تانبا پیتل اور کپڑا وغیرہ ان کی بڑہوتری میں ربوٰ نہیں اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہے اور امام مالک کے نزدیک سونا چاندی سونے کے اور جس قدر چیزیں کھانے میں نہیں آتیں نہ ذخیرہ ہوسکتی ہیں جیسا کہ سبز ترکاری اور تانبا لوہا وغیرہ ان میں بھی ربوٰ نہیں اور اس سلسلہ کی تعریفات کتب فقہ میں نہایت تشریح کے ساتھ مذکور ہیں۔ 12 منہ
اور رفاہ عام کے سرمایہ کا سود لینا بھی درست ہے اور ریل وغیرہ امور تمدن میں بھی سود کے لیے روپیہ دینا درست ہے اس کا کیا اعتبار ہے ؟ پھر اس پر دہلی کے علماء پر بہتان باندھنا کہ انہوں نے ایسا فتویٰ دیا تھا ٗ صریح غلط ہے اور یہ کہنا یہ مسئلہ تجارت اور ترقی ملک کے حق میں سدِّ راہ ہے۔ سخت بیوقوفی اور ابلہ فریبی ہے۔ حق یہ ہے کہ سود کی تمام قسمیں حرام ہیں اور اس پر چار وعید نازل ہیں۔
اول : تحبط اور اس کے بعد حرم الربوٰ ۔ دوم ومن عاد فاولئک اصحاب النارھم فیہا خالدون کہ سود کو جائز کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ سوم یمحق اللّٰہ الربوٰ ۔ چہارم فاذ نوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ کہ سود خواروں کو اللہ اور رسول سے لڑائی کرنے پر مطلع کر دو ۔ اسی طرح احادیث صحیحہ میں اس کے لینے والے اور دینے والے اور کاتب اور شاہد سب پر لعنت آئی ہے اور سر اس کا یہ ہے
سود کی حرمت کی وجہ : (1) ہر فعل کی روح پر رنگ کی طرح پیوست ہوجاتا ہے اور تجربہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سود خوری سے دل پر سختی اور روپیہ کی محبت اور بزدلی اس درجہ کی طاری ہوتی ہے کہ جس کا کچھ بیان نہیں اور یہ تینوں اوصاف نہایت درجہ کے خراب ہیں۔ دیکھئے سود خور کیسے سخت دل ہوتے ہیں کہ کیسا ہی غریب و مفلس کیوں نہ ہو اس کی خانہ بربادی کرکے اپنا بھلا کرنے میں دریغ نہیں کرتے اور بزدلی ان کی مشہور ہے اور اسی لیے آپ تاریخوں کے ورق الٹ جایئے کبھی کسی سود خور قوم کو آپ نہ پاویں گے کہ اس نے اولوالعزمی کی ہو یا فاتح الملک ہوئی ہو بلکہ پیشتر یہ ناجائز روپیہ جمع کیا ہوا دلیروں کے ہاتھ لگا کرتا ہے۔ یہ تاثیر دنیا میں ظاہر ہوتی ہے اور عالم باطن میں اس کے یہ اخلاق رذیلہ ہمیشہ اس کی روح کو صدمہ پہنچاتے ہیں۔ جیسا کہ اس نے لوگوں کے دلوں پر صدمہ پہنچایا۔ (2) سود خوری سے ملک کی ترقی اور علوم و فنون اور کارخانوں اور تجارت کی طرف (کہ جو قوم اور ملک اور سلطنت کی رونق کا باعث ہیں) توجہ نہیں رہتی اور کاہلی اور بدنیتی آجاتی ہے۔ آپ سود خوروں کے ملک کو کبھی سرسبز نہیں دیکھیں گے بلکہ صرف انہیں چند مردار خوروں کو۔ (3) صلہ رحمی اور ہمدردی انسانی اور مروت کا دروازہ اس سے بند ہوجاتا۔ اعاذنا اللہ منہ۔
Ayahs 2:278–281ترکیب : ان کنتم مؤمنین شرط جملہ مقدم دال برجزا فان لم تفعلوا شرط فاذنوا الخ جواب ‘ وان شرطیہ کان تامہ ذوعسرۃ اس کا اسم فنظرۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالحکم نظرۃ الخ۔ یہ تمام جملہ جواب شرط واتقوا فعل انتم فاعل یوما مفعول بہ ترجعون الخ جملہ اس کی صفت۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اور سود سے باز آئو اور جو کچھ ممانعت سے پیشتر لے لوا چکے ہو وہ تمہارا ہے۔ اس پر خیال پیدا ہوتا تھا کہ ممانعت سے پہلے کا جو سود قرضہ دار کے ذمہ پر چڑھا ہوا ہے وہ بھی ہمارا ہے اس کو لینا چاہیے۔ اس خیال کو خدا تعالیٰ نے رد کیا کہ جو کچھ سود قرضداروں کے ذمہ پر باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر سچا ایمان رکھتے ہو اور جو تم باز نہیں آتے تو تم کو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کا اشتہار دیا جاتا ہے کس لیے کہ باوجود ممانعت شدید اور تاکید مزید کے پھر سود لینا اور غریبوں کا دل دکھانا خدا اور اس کے رسول سے جنگ کرنا ہے۔ ہاں اگر تم اس فعلِ بد سے توبہ کرتے ہو تو تم کو تمہارا اصل مال پہنچتا ہے نہ سود لے کر تم کسی پر ظلم کرو نہ اصل مال میں کمی کرکے تم پر ظلم کیا جاوے
جبکہ سود کی سخت ممانعت ہوگئی اور ذمہ پر چڑھا ہوا سود لینا بھی حرام ہوا تو قرض خواہ کا قرضدار کو تنگ کرکے جلدی وصول کرنا بھی ایک طبعی بات ہے کس لیے کہ جو امید نفع کی تھی جس کی وجہ سے مہلت دے رہا تھا وہ تو منقطع ہوگئی مگر جو قرضدار تنگ دست ہیں ان کے لیے اس میں بڑی دقت ہے۔ وہ کہاں سے لا کر ان کو دیں ادھر قرض خواہ ہے کہ تقاضوں کے مارے اس کو پیسے ڈالتا ہے ٗ بےآبرو کر رہا ہے۔ قید میں ڈلوانے کی فکر کر رہا ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے ان بےکسوں کے حال زار پر رحم کرکے اس کے ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ اگر قرض دار تنگ دست ہے یعنی سردی گرمی کے کپڑوں اور دو ایک دن کے کھانے اور خرچ عیال کے علاوہ نہ کوئی جائیداد رکھتا ہے کہ اس کو فروخت کرکے ادا کرے نہ نقد مال ہے کہ دے کر پیچھا چھڑائے تو اس کو مہلت دینی چاہیے یہاں تک کہ اس کو قرض ادا کرنے کا مقدور حاصل ہوجائے۔ اتنے عرصہ میں اس کو تنگ کرنا یا قید کرانا حرام ہے۔ اسلام میں سراسر رحمدلی ہے۔ اول ربوالفضل کو بھی اسی لیے حرام کیا تھا کہ اگر مثلاً کسی غریب کو اچھے گیہوں کی ضرورت پڑی تو برابر سرا بر کسی سے بدلہ لے اس تفاوت قلیل پر نظر نہ کی جائے اسی طرح ربوالنسیئہ کو حرام کیا باہم احسان اور صلہ رحمی کے طور پر دوسرے بھائی کی حاجت قرض دے کر روا کردینا چاہیے۔ پھر فرماتا ہے اگر تم بالکل معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ خزانہ الٰہی میں جمع ہو کر تمہیں آخرت میں نفع دے گا۔ اس کے بعد اس صلہ رحمی اور رحمدلی اور اس سخت گیری کے لیے ایک کوڑا سا غافلوں کی پشت پر مار دیا کہ اس دن سے ڈرو کہ جس میں تم پھر خدا کے پاس واپس جائو گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا نتیجہ پائے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ تم پر بھی خدا تعالیٰ کے سینکڑوں مطالبات ہیں۔ پھر جب تم سخت گیری کرتے ہو تو اپنے لیے اس کا روز رحم کی کس بھروسہ پر امید رکھتے ہو۔
Ayah 2:282ترکیب : یا حرف ندا ‘ ایہا الذین الخ صلہ و موصول منادی ‘ اذا کلمہ شرط تدا ینتم بدین الی اجل متعلق ہے فعل سے۔ یہ جملہ شرط فاکتبوہ جواب بالعدل متعلق ہے ولیکتب سے۔ کما علمہ اللّٰہ کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی۔ ولیملل اس کی ماضی امل ہے من رجالکم صفت ہے شہیدین کی ممن ترضون موضع رفع میں صفت ہے رجل وامرتان کی۔ من الشہداء بدل ہے من سے جو ممن میں ہے۔ ان تضل ان مصدریہ ناصبہ فعل ہے اور یہ مفعول لہ ہے تقدیرہ لان تضل۔ فتذکر منصوب ہے معطوف ہے تضل پر۔ احدھما فاعل الاخری مفعول ان تکتبوہ بتاویل مصدر مفعول ہے لاتساموا کا صغیرا اوکبیرا دونوں حال ہیں تکتبوہ کی ہ سے عند اللہ ظرف ہے اقسط کا اور لام للشہادۃ میں اقوم سے متعلق ہے ان لا ترتابوا موضع نصب میں ہے وتقدیرہ لئلا ترتابوا۔ تجارۃ موصوف حاضرۃ صفت مجموعہ خبر۔ تکون اور اسم اس کا ضمیر ہے یکون میں جو المعاملۃ کی طرف پھرتی ہے تدیرو نہا بینکم ای نقبضونہا جملہ صفت ثانیہ ہے تجارۃ کی رھان موصوف مقبوضۃ صفت مجموعہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے الوثیقہ رہان۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں صدقہ و خیرات کا حکم دیا۔ اس کے بعد سود کو منع کیا جس سے بظاہر مال میں کمی ہوتی ہے۔ اس کے بعد مال کی حفاظت اور ترقی کی تدبیران آیات میں بیان کی۔ لکھنے اور بیع السلم کا حکم دیا۔ یہ اس لیے کہ مال سے انسان بہت سے نیک کام کرسکتا ہے اور سوال اور ذلت سے بچتا رہے۔ بفراغتِ دل عبادت کرسکتا ہے اور اسی لیے بیجا صرف کرکے مال برباد کرنے سے بھی بڑی تاکید سے منع فرمایا۔ ولا تسرفوا یا یوں کہو جبکہ خدا نے سود سے منع کیا تو اس کے بدلہ میں ایک اور جائز آمدنی یعنی بیع السلم کو جائز کیا کیونکہ بعض مفسرین نے اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی سے بیع السلم مراد لی ہے۔ جیسا کہ ابھی بیان ہوتا ہے۔ فرماتا ہے اے مسلمانو ! جب تم باہم کچھ قرض کسی میعاد پر لو دو تو اس کو لکھ لیا کرو اور کوئی لکھنے والا حق حق لکھے ‘ کمی زیادتی نہ کرے اور قرض لینے والا خود بتاتا جاوے اور جو وہ کم سنی یا بیوقوفی وغیرہ کی وجہ سے خود نہیں لکھ سکتا یا مضمون تمسک نہیں بتا سکتا تو اس کے ولی وارث بتائیں اور لکھوائیں اور پھر دو شخصوں کو کہ جو معتبر ہوں گواہ بنا لو اور جو دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہی میں کافی ہیں تاکہ ایک بھولے تو دوسری یاد دلائے اور جب وقت پڑے تو گواہوں کو لازم ہے کہ پوری گواہی دیں۔ اس کو ہرگز نہ چھپائیں۔ ہاں اگر نقد بنقد تجارت ہو تو اس کا لکھنا کچھ ضرور نہیں اور جو باہم بیع کرو تو کسی کو اس پر گواہ بنا لیا کرو اور جو سفر کی وجہ سے لکھنے والا نہ ملے تو کوئی چیز رہن کر دینی چاہیے اور جو کوئی کسی کو امانت سپرد کرے تو اس کو لازم ہے کہ پھر اس کی امانت واپس کر دے۔ خدا سے ڈرے۔ یہ آیت کا خلاصہ مطلب ہے اب ہم اس میں جس قدر احکام ہیں ان کی تفصیل کرتے ہیں اور اس میں اقوال مفسرین بھی بیان کرتے ہیں تاکہ آیت کے مطالب پر بخوبی آگاہی ہوجاوے۔ (1) اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی فاکتبوہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جبکہ نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ چھوہاروں کی دو برس تین برس کے وعدہ پر بیع کیا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا جو کوئی بیع سلم کرے تو وزن اور وقت اور پیمانہ معین کرلیا کرے۔ اس پر خدا تعالیٰ نے اور بھی اس آیت میں اس بیع کی حفاظت کردی کہ ان سب باتوں کو لکھ لیا کرو۔ پس ابن عباس ؓ کے نزدیک اس آیت میں تداینتم بدین سے بیع سلم مراد ہے اور اس کے لکھنے سے یہ مراد ہے کہ وزن اور پیمانہ اور وقت لکھ لیا جاوے۔ جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ بیع چار طور سے ہوسکتی ہے۔ اول نقد بنقد یعنی ابھی دام دینا اور ابھی چیز لینا جس کو تجارۃ حاضرۃ سے تعبیر کیا ہے سو وہ اس جگہ مراد نہیں کیونکہ وہاں دین نہیں اور تداین تفاعل ہے۔ دین سے اور تداینتم بتبایعتم بدین دوم اور ادھار کو ادھار سے فروخت کرنا کہ ہم تم کو پرسوں اتنے روپیہ دیں گے تم ہم کو اس قدر چیز دینا سو یہ بیع باطل ہے۔ یہ بھی اس آیت میں داخل نہیں۔ تیسرے کسی چیز کو ادھار سے فروخت کرنا یعنی بیع العین بالدین جیسا کہ کوئی کہے ہم نے یہ شے اتنے روپیہ سے خریدی مگر روپیہ دو مہینے میں دوں گا۔ چوتھی بیع الدین بالعین یعنی روپیہ تو اسی وقت دے دیا جاوے اور مال کے لیے کوئی مہلت مقرر ہوجاوے۔ مثلاً کوئی کہے کہ ہم نے تم سے سو من گیہوں اس نرخ سے خریدے اور فلاں مہینے میں ہم تم سے لے لیں گے۔ اس کو بیع السلم 1 ؎ اور بیع السلف کہتے ہیں۔ اس آیت میں تیسری اور چوتھی قسم مراد ہے اور یہی قوی ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے قرض دینا مراد ہے کہ
1 ؎ بیع السلم جمہور آئمہ کے نزدیک جائز ہے جس کو ہمارے عرف میں بدنی کہتے ہیں مگر اس میں چند شرطیں ہیں ٗ مال جو لیا جاوے گا اس کی ناپ تول مقرر
اگر کوئی کسی کو قرض دے تو اس کو لکھ لے لیکن اس میں ضعف ہے کیونکہ لغت میں قرض اور چیز ہے دین اور چیز ہے قرض میں مدت مقرر کرنا درست نہیں دین میں ہے۔ قرض روپیہ پیسہ وغیرہ کسی کو بشرط واپسی دینا دین کسی حق کی بابت کوئی چیز اس پر لازم ہونا اور کبھی دونوں ایک معنی میں بھی مستعمل ہوتے ہیں۔ پس آیت میں دین کا ذکر ہے نہ قرض کا۔
(2) فاکتبوہ جمہور محققین کے نزدیک یہ امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ اباحت کے لیے یعنی لکھنا اس معاملہ کا فرض و واجب نہیں بلکہ بہتر ہوتا کہ باہم نزاع اور کسی شرط پر جھگڑا نہ ہو۔ (3) ولیکتب بینکم کاتب بالعدل کاتب پر بھی اس کا لکھنا بقول جمہور فرض واجب نہیں۔
(4) ولا یضار کاتب ولا شہید بلکہ اسی لیے متاخرین نے کاتب کے لیے اجرت کتابت لے کر لکھنا جائز قرار دیا ہے اور مستحب یہ ہے کہ کاتب بلا اجرت اس شکریہ میں کہ خدا نے اس کو لکھنا سکھایا یا ثواب جان کر لکھے۔ جیسا کہ اہل اسلام کے اور سب کار اجر آخرت پر ہوتے ہیں۔ والیہ یشیربقولہ ولایاب کاتب ان یکتب کما علمہ اللّٰہ۔ (5) ولیملل الذین علیہ الحق املال اور املاء دونوں کے لغت میں بتانے اور پڑھ کر سنانے کے معنی ہیں۔ قال تعالیٰ فہی تملیٰ علیہ بکرۃ واصیلا یعنی جس پر دین ہے اور اس نے اپنے ذمہ پر لے لیا ہے کہ میں فلاں مہینے میں اس شے کو کہ جس پر بیع واقع ہوئی دوں گا۔ وہ اقرار کرلے اور لکھوائے اور کچھ کم زیادہ نہ کرے اور جو یہ خود لکھوا نہیں سکتا یا خود لکھ نہیں سکتا تو اس کا ولی انصاف سے یہ کام کرے۔
(6) واستشہد واشہیدین من رجالکم گواہ بنانا بھی امر استحابی ہے من رجالکم اور ممن ترضون من الشہداء سے شہادت کے متعلق چند مسائل مستفاد ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ سوائے شہادت زنا کے ہر امر کی شہادت کے لیے دو آدمی کافی ہیں۔ لانہ قال شہیدین اور زنا کے معاملہ میں چار شخصوں کی گواہی معتبر ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ واللاتی یا تین الفاحشۃ من نساء کم فاستشہدوا علیہن اربعۃ منکم وقال ثم لم یا توا باربعۃ شہداء کیونکہ یہ کام مرد اور عورت دونوں سے متعلق ہے۔ ہر ایک کے دو دو گواہ چاہییں اور نیز پردہ پوشی بھی مطلوب ہے۔ پھر سوائے زنا کے اگر حدود و قصاص کا معاملہ ہے تو اس میں صرف دو مرد ہوں ٗ عورتیں نہ ہوں کیونکہ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں زہری سے روایت کی ہے۔ مضت السنۃ من لدن رسول اللہ ﷺ والخلیفتین من بعدہ ان لاشہادۃ للنساء فی الحدود کہ حضرت ﷺ کے عہد سے ابوبکر و عمر ؓ کے عہد تک حدود (و قصاص) میں عورتوں کی گواہی قبول نہ کی جاتی تھی۔ اس کے سوائے اور سب معاملات میں خواہ مالی ہوں خواہ غیر مالی دو مردوں کی گواہی اور جو دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد 1 ؎ اور دو عورتوں کی کافی ہے۔ دو عورتیں ایک مرد کے قائم مقام کی گئی ہیں کیونکہ ان کے مزاج میں برودت ہے جس سے نسیان پیدا ہوتا ہے دو میں اگر ایک بھولے گی تو دوسری یاد دلائے گی۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی مالی معاملات میں قبول ہوگی اور غیر مالی میں مرد کا ہونا ضروری بات ہے۔ (دوم) فمن ترضون سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہر شخص گواہی کے قابل نہیں بلکہ عمدہ آدمی ہو۔ اب اس کی تفسیر بالتفصیل علمائِ امت نے احادیث اور قیاس سے یوں کی ہے کہ گواہ میں دس شرطیں ہونی چاہییں۔ اول حر ہو یعنی کسی کا غلام نہ ہو۔ دوم بالغ ہو کم سن لڑکا نہ ہو۔ سوم مسلمان ہو جیسا کہ من رجالکم سے سمجھاتا ہے۔ کافر نہ ہو البتہ کافر مستامن کی گواہی دوسرے کافر مستامن پر درست ہوسکتی ہے نہ مسلمانوں پر۔ واضح ہو کہ یہ شرطیں ان باتوں کی گواہی میں معتبر ہیں جو دین سے متعلق ہیں اور معاملات میں تو صرف اہل عقل و تمیز
ہونی چاہیے اور یہ کہ کب لیا جاوے گا اور کہاں لیا جاوے گا۔ وغیرہ ذلک تاکہ کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔ خواہ وقت مقررہ پر وہ چیز ارزاں ہو خواہ گراں بائع کو دینی پڑے گی اور اس کا نفع مشتری کو درست ہوگا۔ 12 منہ
1 ؎ امام بخاری وغیرہ محدثین نے روایت کیا ہے۔ 12 منہ
کا قول معتبر ہوگا ٗ خواہ حر خواہ غلام خواہ مسلمان ہو۔ خواہ کافر جوان ہو یا عقل وتمیز والا لڑکا کس لیے کہ معاملات کثیر الوقوع ہیں اگر ان میں یہ قیدیں معتبر ہوں تو حرج ہوگا۔ چناچہ ہدایہ کی کتاب الکراہۃ میں لکھا ہے ویقبل فی المعاملات قول الفاسق ولا یقبل فی الدیانات الاقول العدل دوجہ الفرق ان المعاملات یکثر وجودھا فیما بین الناس فلو شرطناشرط زائدا یودی الی الحرج فیقبل قول الواحد فیہا عدلاکان وفا سقا کافرا کان او مسلما عبدا کان او حرا ذکرا کان او انثی دفعا للحرج۔ معاملات کی مثال شراء اور اذن تجارت اور وکیل بنانا وغیرہ دیانات کی مثال نجاستِ آب کی خبر دینا یا اور کوئی حل و حرمت کے متعلق خبر دینا۔ چہارم عادل ہو فاسق نہ ہو۔ پنجم جس چیز کی گواہی دیتا ہو اس کو خوب جانتا ہو۔ ششم اس گواہی سے اس کا کوئی نفع نہ ہو۔ ہفتم اس سے کوئی اس کی مضرت دفع نہ ہو۔ ہشتم غلط اور نسیان میں مشہور نہ ہو۔ نہم بےمروت ‘ لالچی نہ ہو۔ دہم جس پر گواہی دے رہا اس میں اور اس میں کوئی عداوت نہ ہو۔ (سوم) ولایاب الشہداء اذا ما دعویٰ ولا تکتموا الشہادۃ سے گواہوں پر فرض واجب ہوگیا کہ جب ان کو عدالت میں طلب کیا
جاوے تو ایمانداری سے سچی شہادت دیویں اور اس میں سے ہرگز کوئی بات مخفی نہ کریں نہ اس کو بدل کر کہیں ٗ خواہ اپنا ہی نقصان کیوں نہ ہوتا ہو۔ اگر گواہ کا کوئی خرچ وادائے شہادت میں سفر کرنا پڑے تو جب درس تدریس و عہدہ قضا کے لیے اجرت لینا متاخرین نے جائز رکھا ہے تاکہ یہ دروازہ بند ہوجائے تو اسی طرح گواہ کو خرچ و خوراک بھی دینا جائز ہوسکتا ہے جس کی طرف ولایضار کاتب ولاشہید میں اشارہ ہے۔
1 ؎ مگر وہ معاملات جن پر مرد مطلع نہیں ہوتے وہاں صرف ایک عورت کی بھی شہادت کافی ہے جیسا کہ بکارت ولادت اور عورتوں کے خاص عیب ہدایہ۔ 12 منہ
Ayah 2:283(چہارم) وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتب فرھان مقبوضۃ جمہور محققین کہتے ہیں کہ یہ قید (اگر تم سفر میں ہو اور کوئی کاتب نہ ملے تب کوئی چیز رہن کر دو ) ایک امر کثیر الوقوع کے بیان کے لیے ہے کیونکہ سفر میں اکثر ایسا ہوتا ہے مگر اس سے یہ غرض نہیں کہ وطن میں باوجود کاتب ہونے کے رہن نہ کرو بلکہ خود آنحضرت ﷺ نے مدینہ کے ایک یہودی کے پاس اپنی درع 1 ؎ کو کسی قدر جو لے کر رہن کیا تھا جیسا کہ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے۔ (پنجم) فان امن بعضکم بعضاً الآیہ۔ چونکہ کبھی اس طرح سے بھی بیع ہوتی ہے کہ نہ مشتری سے نقد روپیہ لیا جاتا ہے نہ معتبر اور امین سمجھ کر تمسک لکھوایا جاتا ہے ٗ نہ کوئی شے زر ثمن کی عوض میں رہن کی جاتی ہے۔ گویا اس مشتری کو امین تصور کیا جاتا ہے۔ اس امر میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کو ایسا سمجھے تو اس کو لازم ہے کہ اس پر جو کچھ آتا ہے خدا سے ڈر کر حسب وعدہ دے دے ٗ انکار نہ کرے اور نیز اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جو چیز کسی کے پاس رہن کی گئی ہے ٗوہ مرتہن کے پاس رہن رکھنے والے کی امانت ہے۔ اس کو واپس دے دے جبکہ قرضہ ادا کردیا جائے۔ اس سے بہت سے مسائل رہن کے ثابت ہوتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ کہ اس چیز پر جو کچھ صرف ہو ٗ اس کے مالک کو حساب میں لگے اور جو کچھ اس کی آمدنی ہو وہ بھی مالک کی ہے۔
منجملہ ان کے یہ کہ اگر امانت کسی آسمانی یا زمینی حادثہ سے تلف ہوجاوے تو امانت ہے۔ اس کا معاوضہ نہیں اور نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ یوں بھی کوئی کسی کو امانت سپرد کرے تو اس کو واپس دینا لازم ہے۔ یہ بھی حفظ مال کا ایک عمدہ ذریعہ ہے اور حفظ مال کے لیے یہ آیات بیان ہو رہی ہیں۔ ان آیات میں جس قدر احکام اشارتاً مذکور ہیں اور پھر جو کچھ الفاظ میں اسرار رکھے گئے ہیں اور بلاغت مرعی ہے وہ ایک بحر زخار ہے جس کے بیان کے لیے ایک دفتر چاہیے۔
Ayahs 2:284–285ترکیب : مافی السموات الخ مبتداء للّٰہ خبر ‘ وان تبدوا شرط ‘ یحاسبکم جزا ‘ فیغفر مرفوع ‘ جملہ مستانفہ اور جو مجزوم پڑھا جاوے تو یہ یحاسب پر معطوف ہے۔ والمؤمنون معطوف ہے۔ الرسول پر کل مبتداء امن باللّٰہ الخ خبر بعض کہتے ہیں المؤمنون مبتداء اور یہ جملہ اعنی مبتداء و خبر اس کی خبر۔ غفرانک ای نسئل غفرانک۔
تفسیر : پہلے رکوع میں فرمایا تھا کہ ” گواہی نہ چھپائو اور جو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا “ اور نیز یہ بھی فرمایا تھا کہ ” کسی کو مضرت نہ پہنچائو “ اور یہ بھی کہ ” امانت کو گو اس پر کوئی گواہ نہ ہو واپس دو “ اور ایسا ہوتا ہے کہ بعض ظاہر میں تو گواہی دیتے ہیں مگر اس میں ایسی گول گول باتیں کہہ جاتے ہیں کہ جس سے مضرت ہوتی ہے یا کوئی حیلہ کرکے اور شرع اور قانون کو آڑ بنا کے مضرت پہنچاتے ہیں یا بدنیتی سے کوئی ایسا کام کرتے ہیں کہ جو بظاہر اچھا ہے مگر درپردہ اس میں خیانت ہے جس پر حکام ظاہری کچھ مؤاخذہ نہیں کرسکتے۔ ان سب باتوں کے لیے جب تک خوف خدا نہ ہو اور یہ بات دلنشین نہ ہوجائے کہ وہ ظاہر و باطن سب کچھ جانتا ہے ہر خطرہ قلبی بھی اس کے سامنے موجود ہے۔ وہ بدنیتی اور باطن کے فریبوں اور حیلوں پر عذاب دے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اور کوئی علاج نہیں۔ اس لیے یہ آیت للّٰہ مافی السموات الخ نازل فرمائی تاکہ خدا کا علام الغیوب اور قادر مطلق ہونا دل پر نقش ہوجائے۔ صفات کمالیہ میں سب سے بڑھ کر علم وقدرت ہے۔ اس لیے للّٰہ مافی السموات ومافی الارض میں تو اپنی قدرت کاملہ کو ظاہر کردیا اور وان تبدوا ما فی انفسکم الآیۃ سے کمال علم کو تعبیر کیا کہ اس کو ہر بات معلوم ہے۔ اس سے فرمانبرداروں کو پوری تسلی ثواب اور جزائِ خیر ملنے کے لیے ہے اور سرکشوں اور نافرمانوں کو پوری پوری تہدید اور تنبیہ ہے اور اسی لیے سورة بقرہ میں نماز ٗ زکوٰۃ ٗ حج ٗ روزہ ٗ قصاص ٗ جہاد ٗ نکاح ٗ طلاق ٗ مہر ٗ ایلاء ٗ خلع ٗ رضاعت ٗ بیع ٗ ربوٰا ٗ رہن وغیرہ احکام متعلقہ بحقوق العباد اور حقوق اللہ کو بیان کرکے اس آیت پر کلام کو تمام کردیا۔
واضح ہو کہ انسان کے افعال کی دو قسم ہیں۔ ایک وہ کہ جو خاص قلب سے متعلق ہیں جیسا کہ محبت الٰہی ٗرحمدلی ‘ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور قیامت اور فرشتوں پر ایمان لانا اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس سے ڈرنا اور معبود حقیقی اور مولیِٰ حقیقی سمجھ کر محبت رکھنا یا کینہ ‘ حسد بغض ‘ نفاق ‘ دل میں رکھنا اور اس کی ذات وصفات اور قیامت اور فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں کا انکار کرنا ان سب کو اعتقادیات اور نظریات کہتے ہیں۔ دوسرے وہ کہ جن کا ظہور ہاتھ پائوں زبان وغیرہ اعضاء سے متعلق ہے جیسا کہ نماز ٗ زکوٰۃ صدقہ و خیرات و غیرہا یا زنا ٗ چوری اور جھوٹ بولنا ٗ گالی دینا وغیرہ ان کو عملیات کہتے ہیں اور یہ باتیں امور ظاہرہ میں شمار ہوتی ہیں۔ قسم اول میں بھی نیک و بد باتیں ہیں اور قسم دوم میں بھی۔ قسم دوم کو ان تبدواما فی انفسکم سے تعبیر کیا اور قسم اول کو اوتخفوہ سے تعبیر کیا مگر نیک لوگوں سے بھی کبھی بھول چوک ہوجاتی ہے اور دل میں بھی کبھی بےاختیار خطراتِ بد پیدا ہوتے ہیں۔ اگر گرفت ہو تو بڑی مشکل پیش آوے اس لیے فیغفر لمن یشاء بھی فرما دیا مگر بری باتوں کے لیے ویعذب من یشاء سے تہدید کردی۔
اور جبکہ فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء فرما دیا جس میں اشارہ تھا کہ انسان کی بعض باتیں مغفرت و رفعت درجات کا سبب اور بعض عذاب کا سبب ہیں۔ عام ہے کہ دنیاوی ہوں یا اخروی یا دونوں ہوں۔ اس لیے اس کے بعد موجبات رحمت و مغفرت کو بالخصوص ان کو جو علم و معرفت سے متعلق ہیں کس لیے کہ انسان کی سعادت کا زیادہ تر مدار اعتقادیات و معارف ہی کی درستی پر ہے اس لیے فرمادیا وآمن الرسول بما انزل الیہ الآیہ۔ اس میں یہ بھی بات ظاہر ہوگئی کہ اول سورة میں جو ھدی للمتقین الآیہ آیا اور متقین کا حال بیان فرمایا اس سے یہی لوگ مراد ہیں تاکہ ابتدائے کلام اور انتہائے کلام میں وہ ربط ہوجاوے جو کہ دعویٰ اور دلیل کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ یہ کمال بلاغت ہے اور نیز یہ بات بھی بتلا دی کہ وصف تقویٰ امت محمد ﷺ کو حاصل ہوگیا۔
یہ بات ہم مقدمہ کتاب میں ظاہر کرچکے ہیں کہ خدا اور بندوں میں بہت سے وسائط ہیں۔ پاکباز بندوں یعنی رسولوں میں اور اللہ میں واسطہ فرشتہ ہے کہ تجرد زیادہ رکھتا ہے۔ پھر اور آدمیوں کے لیے واسطہ رسول ہیں۔ کس لیے کہ ملائکہ پر تو عالم ملکوت خود ظاہر ہے ان کو بجز یقین کرنے کے چارہ نہیں۔ ہاں انسانوں سے بچشم ظاہر مخفی ہے۔ اس لیے ان کا ایمان لانا زیادہ تر ضروری ہے۔ سب سے اور پیشتر ان کے ہادی اور مرشد رسول کو اس عالم کا یقین ہونا پر ضرور ہے تاکہ اس کی صداقت اور ایمان کا پرتو امت کے دلوں پر پڑے اور اسی لیے جناب نبی (علیہ السلام) کو شب معراج میں مختلف اوقات میں اس عالم کا مشاہدہ کرا دیا اور سب کچھ دکھا دیا۔ اس لیے فرماتا ہے امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ اس کے بعد والمؤمنون کا ذکر کیا اور پھر سب کو جمع کرکے کل امن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہٖ میں علی ترتیب ذکر فرمایا اور مومنوں کی طرف سے یہ بھی ظاہر کردیا لا نفرق 1 ؎ بین احد من رسلہٖ کہ ہم کو اس کے کسی رسول کا بھی انکار نہیں۔ حقیقت میں خدا کی
1 ؎ اسی لیے مسلمان تمام انبیاء (علیہ السلام) کو برحق جانتے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ ان پر بالتفصیل ایمان رکھتے ہیں اور جن کا ذکر نہیں بموجب اس آیت کے وان من امۃ الاخلافیہا نذیر ‘ ولکل قوم ہاد۔ ان کو اجمالاً برحق جانتے ہیں۔ یہاں سے یہ بات بھی پیدا ہوئی کہ ہندوستان ٗ ایران چین وغیرہ بڑے آباد ملکوں میں ضرور خدا کے انبیاء اور ہادی آئے ہوں گے۔ بعد میں بمرور زمانہ ان کے مذہب و ملت میں تحریف ہو کر صورت بگڑ گئی۔ اس لیے ان کے مذاہب میں بعض بعض باتیں حقانی بھی ملتی ہیں اور اسی لیے ان کے مشاہیر کی بابت سکوت بہتر ہے۔ سوئِ ادبی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ رسول ہوں۔ ان کے پیرو وں کی غلط تاریخ اور غلط کاری سے وہ ملزم نہیں ہوسکتے۔ حقانی
فرمانبرداری کے یہی معنی بھی ہیں کہ اس کے کسی برگزیدہ یا رسول کا انکار نہ کیا جاوے۔ سو یہ بات بھی خاص اہل اسلام کو حاصل ہے۔ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرتے ہیں۔ عیسائی انہیں لچر وجوہ سے کہ جن سے یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کسر شان پر استدلال کرتے ہیں۔ جناب محمد ﷺ کا انکار کرتے ہیں جن کے انکار کی وجہ نہ تورات سے ثابت ہے نہ انجیل سے۔ نہ وہ ان حضرات انبیاء کے برخلاف ہے بلکہ ان کی مصدق علاوہ اس کے صدہا معجزات اور سب سے بڑھ کر معجزہ عرب جیسی جاہل اور وحشی قوم کو خدا پرست اور نیکوکار ہوتے اور کایا پلٹتے بھی دیکھ چکے ہیں اور ان کی بشارت بھی کتب مقدسہ میں ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان کی سیرت اور رویہ کو بیان کرتا ہے۔ وقالوا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر یہ آپ بھی جان چکے ہیں کہ انسان کا کمال اس کی قوت نظریہ اور عملیہ کی تکمیل پر منحصر ہے۔ قوت نظریہ کی تکمیل اعتقادیات کو درست کرنا اور اس کے رسولوں پر قیامت اور فرشتوں پر ایمان لانا ہے۔ سو اس کی طرف کل امن باللّٰہ وملائکتہ الخ میں اشارہ تھا اور قوت عملیہ کی تکمیل اس کی اطاعت کرنا اور اس کے احکام پر کان دھرنا ہے۔ سو اس کو اس آیت قالو اسمعنا الخ میں واضح کیا۔ اور یہ بھی ہے کہ انسان کے تین حال ہیں۔ اول وہ جو گزر گیا۔ گزشتہ اور پہلی باتوں کے علم کو علم المبداء کہتے ہیں۔ دوسرا حال موجودہ اس کے علم کو علم الحاضر 1 ؎ کہتے ہیں کہ اس عالم میں انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ تیسرا حال آیندہ کے مرنے کے بعد اس پر کیا گزرے گا اور کیا پیش آوے گا۔ اس کو علم المعادکہتے ہیں۔ قرآن چونکہ کتاب الٰہی ہے اس میں ان تینوں علموں کی طرف ضرور اشارہ ہوتا ہے اور انہیں کی تعلیم کے لیے انبیاء دنیا میں آئے اور کتابیں لائے ہیں۔ اس لیے اخیر سورة بقرہ میں ان تینوں علوم کو بیان فرما دیا امن الرسول سے لے کر لا نفرق بین احد من رسلہ تک تو علم المبداء کی طرف اشارہ ہے کہ اول سب سے وہ ذات باری ہے اور پھر ملائکہ مخلوقات میں مظہر اول ہیں۔ پھر آسمان و زمین جن و انس ان کی ہدایت کے لیے کتابیں اور رسول آئے اور علم الوسط کی طرف وقالوا سمعنا واطعنا میں اشارہ ہے کیونکہ بجز طاعت و فرمانبرداری کے دنیا میں انسان کے لیے فلاح و نجات کا اور کون ذریعہ ہوسکتا ہے۔ اس کو دنیا میں ہی کرنا چاہیے۔ غفرانک ربنا والیک المصیر میں علم المعاد کی طرف اشارہ ہے کہ مر کر عالم قدس میں جانا اور خدا کے پاس حاضر ہونا ہے جہاں سوائے مفغرت کے اور کوئی عمدہ چیز نہیں۔
1 ؎ اور اس کو علم الوسط بھی کہتے ہیں۔ 12
Ayah 2:286اللہ بھی کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جس نے اچھے کام کئے تو اپنے لیے اور جس نے برے کام کئے تو اپنے لئے۔ (اس کا وبال بھی اسی پر ہے) اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول چوک جائیں تو ہم کو نہ پکڑنا۔ اے ہمارے رب ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال دینا جیسا کہ ہم سے پہلوں پر ڈال دیا تھا اور اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بارگراں نہ رکھ دینا کہ جس کی ہم کو طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر کر اور ہم کو بخش دے اور ہم پر مہربانی کر تو ہمارا کارساز ہے۔ پس ہم کو کافروں پر فتح یاب بھی کر۔
2 ؎ بعض علماء نے اس سے یہ بات پیدا کی ہے کہ خدا کو اختیا رہے کہ بندہ کو اس کی طاقت سے زیادہ کسی کام کا حکم دے۔ اس پر بہت کچھ قیل و قال ہوئی ہے مگر جب طاقت وقدرت سے وہ مراد لی جائے کہ جس سے بآسانی و سہولت کام کرسکے تو جو کام مشکل اور دقت سے ہو سکے عرف عام میں اس کو طاقت وقدرت سے باہر کہتے ہیں۔ کونسا اشکال ہوسکتا ہے۔ اس سے ناممکن کام کا حکم دینا ثابت کرکے پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے ارتکاب عبث و ظلم کا جوابدہ ہونا ایک فضول بات ہے۔ حقانی کتاب احبار وغیرہ تورات کے حصوں میں اب تک موجود ہیں یا یہ مطلب کہ ہم پر دنیا میں سخت تکلیفیں اور غیر قوموں کی غلامی کا بوجھ نہ ڈالیو جیسا کہ بنی اسرائیل پر پڑا۔ ولا تحملنا مالا طاقۃ لنابہ حمل اور تحمیل میں فرق ہے۔ حمل آپ اٹھانا تحمیل اٹھوانا۔ یہ تیسری قسم دعا کی ہے کہ ہم پر کوئی ایسی افتاد نہ پڑے جس سے ہم کو وہ باتیں برداشت کرنی پڑیں جو ہماری طاقت سے باہر ہوں واعف عنا عذاب اور مکافات اعمالِ سیئہ سے درگزر کرنا واغفرلنا پردہ پوشی بھی کر بلکہ اس سے بڑھ کر وارحمنا اپنے کرم سے نعمائِ دنیا و آخرت نصیب کر اور وانصرنا علی القوم الکافرین اور ہم کو دشمنان دین پر فتح یاب بھی رکھیو۔ یہ چوتھی قسم کی دعا تھی۔ حقیقت میں غیر ملت کی حکومت میں رہنا پوری غلامی ہے۔ مخالفوں پر فتح یابی بھی ایک عجیب نعمت ہے۔