Ayahs 2:212–213ترکیب : زین فعل مجہول للذین کفروا متعلق ہے زین کے الحیوہ الدنیا صفت و موصوف مفعول مالم یسم فاعلہ اور زین کہا زینت نہ کہا کس لیے کہ زین اور الحیوۃ الخ میں فاصلہ آگیا۔ دوم یہ کہ مونث حقیقی نہیں ہے ویسخرون معطوف ہے زین پر۔ والذین اتقوا مبتداء وفوقہم خبر القیامۃ طرف سے مبشرین و منذرین حال ہے النبین سے وانزل موضع حال میں ہے کتاب سے بالحق بھی ہے اے مشتملا علی الحق لیحکم ای الکتاب اور لام متعلق ہے انزل سے فیہ ای الحق اوتوہ ای الکتاب من بعد الخ جملۃ متعلقہ ہے اختلف سے بغیًا مفعول لہ ہے اختلف کا من الحق حال ہے ضمیر فیہ یا ما سے باذنہ حال ہے الذین آمنوا سے ای ماذو نالہم
تفسیر : پہلی آیت میں اشارہ تھا کہ کفار دلائل و معجزات پر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ عیاناً خدا اور فرشتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر اس کے سبب کی طرف اشارہ تھا کہ یہ ساری باتیں دنیا اور دیگر نعماء کے نشے کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے نعمتوں کو بدلا شکر کی جگہ کفر کیا۔ اب یہاں دنیا اور اس کی نعمتوں کی بےوقعتی اہل ایمان کے سامنے دکھاتا ہے کہ دنیا اور اس کی نعمتیں بےثابت ہیں ان پر کافر ہی ریجھتے ہیں اور انہیں کی آزمائش کے لیے خدا نے بےحد سامان دیے کہ جن کا عالم آخرت پر یقین نہیں اور دنیا کو مدنظر رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ ایمان والوں پر کہ وہ عالم آخرت کی وجہ سے دنیا پوری حاصل نہیں کرتے اور یاد الٰہی میں رہتے ہیں۔ ان کو بیوقوف اور مفلس سمجھ کر قہق ہے مارتے ہیں۔ حالانکہ یہ اہل اللہ قیامت کے روز ان سے بالاتر ہوں گے اور اس فراغ دستی پر ان کا غرور بےجا ہے۔ خدا اپنی حکمت سے جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق و روزی عطا کرتا ہے اس میں کافر و مومن ہونے کو کچھ دخل نہیں ٗ پھر دنیا کی افزودگی سے یہ سمجھنا کہ ہم خدا کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب ہیں محض غلط ہے اور یہ کفر جب دنیا کی وجہ سے انسان کے لیے ایک عارضی بات ہے کس لیے کہ یہ سب لوگ بدء الخلقۃ میں فطری طور پر خدا کے وجود اور اس کے لاشریک ہونے کے قائل تھے۔ پھر جب نوع انسانی پھیلی اور ان پر طبیعت و لذات کے حجاب پڑتے گئے حقیقی نور کم ہوتا گیا اس لیے گمراہی کے رستوں پر بھی چلنے لگے۔ ان کے وہم و خیال نے ان کی کمزور عقل کو ڈگمگانا شروع کردیا۔ اوہام پرستی و شہوت رانی شروع ہوگئی تو اس رحیم و کریم نے انبیاء بھیجنے شروع کردیے۔ وہ حقائق الاشیا کے واقف تھے ہر ایک نیک و بد کے نتیجہ کی خوشخبری اور ڈر سنایا کرتے اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری کہ ہر اختلافی بات میں وہ کتاب آسمانی فیصلہ کردیا کرے لیکن جن پر گمراہی اور نفسانیت کا رنگ غالب تھا وہ اس کتاب میں بھی آیات وبینات دیکھنے کے بعد بھی مخالف رہے اور اختلاف کرتے رہے مگر اس نے اپنے فضل و کرم سے ایمانداروں کو اخلاقی باتوں میں امر حق کی ہدایت کردی اور وہ مختار ہے جس کو چاہے ہدایت کرے اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ پس کفار یہ سمجھ کر خوش نہ ہوں کہ ہمارا طریق قدیم ہے اور پیغمبروں کی باتیں باہم مختلف اور نئی ہیں۔
Ayahs 2:214–216ترکیب : ام بمنزلہ اہل اور ہمزہ استفہام یعنی منفطعہ حسبتم فعل بافاعل ان تدخلوا الجنۃ سارا جملہ قائم مقام دو مفعولون کے ولما الخ جملہ مستفائفہ ہے۔ شرح احوال کے لیے اور ممکن ہے کہ قد مضمرمان کر حال قرار دیا جاوے الرسول فاعل یقول والذین آمنوا اس پر معطوف معہ متعلق ہے یقول کے اور ممکن ہے کہ آمنوا کے ہو متی نصر اللّٰہ جملہ مقولہ۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ دنیا اور اس کی زینت کفار کو دی گئی اور وہ مسلمانوں سے ہنسی اور تمسخر کرتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کو صبر اور توکل اور ثابت قدمی کی ترغیب دیتا ہے تاکہ اسلام میں جس قدر مصیبتیں اور تکالیف اور تنگدستی اور ناامیدی اور دنیا کی ناکامی اور دشمنوں سے ہر قسم کی تکلیفیں پیش آویں ان پر ثابت قدم رہیں کس لیے کہ امر حق اور طلب مولیٰ اور استحقاق دار آخرت بغیر برداشت کرنے شدائد کے نصیب نہیں ہوتا اور بالخصوص صحابہ کو ہمت بندھاتا ہے جبکہ وہ گھر بار چھوڑ کر مدینہ میں آرہے اور ان پر طرح طرح کی مشکلیں پیش آئیں۔ خصوصاً جنگ احد میں کہ جس کی نسبت فرماتا ہے وبلغت القلوب الحناجر کہ اے مسلمانو ! صرف ایمان لانا ہی بس نہیں کرتا بلکہ تم کو ہر قسم کی مصیبتوں کی برداشت کرنا چاہیے اور تم سے پہلے انبیاء اور ان کے مطیع ایماندار کیا کچھ مصیبتیں نہ اٹھا چکے ہیں ٗ آروں سے چیرے گئے جلتی آگ میں ڈالے گئے۔ ان کے گھر بار لوٹ لیے گئے مگر تب بھی وہ دین حق پر ثابت قدم رہے بلکہ ان پر یہاں تک مصیبت پڑی کہ رسول اور مومنوں کو باوجود یکہ مدد غیبی کے آنے کا یقین کامل تھا مگر بےقرار ہو کر پکار اٹھے کہ وہ کب آئے گی جس پر غیب سے ان کو مژدہ دیا گیا کہ مدد الٰہی عنقریب آتی ہے۔
انسان کا مقتضائے طبعی ہے کہ وہ نہایت سختی کے وقت بےقرار ہوجاتا ہے اور باوجود یکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ مشکل کشائی ہوگی مگر پھر بھی ایک قسم کی مایوسی طاری ہوجاتی ہے کما قال اللہ تعالیٰ حتیٰ اذا ستائس الرسل وظنوا انہم قدکذبوا جاء ھم نصرنا الآیۃ مگر اس سے یہ سمجھنا کہ رسول کو وعدہ الٰہی میں شک ہوگیا غلطی ہے کیونکہ اگر یہ ہوتا تو مدد الٰہی کا وقت دریافت نہ کرتے بلکہ یوں کہتے کہ آیا مدد آوے گی یا نہیں ؟
Ayahs 2:217–218ترکیب : یسئلون فعل بافاعل کا مفعول ینفقون فعل بافاعل ماذا اس کا مفعول اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لیے ہو بمعنی اے شی اور ذا بمعنی الذین اور ینفقون اس کا صلہ اور عائد محذوف پس مامبتدا اور ذامع صلہ کے اس کی خبر پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوگا۔ یسئلون کا وقیل تفسیرہ ما شرطیہ انفقتم الخ شرط فللوالدین الخ جواب شرط پھر یہ تمام جملہ محلا منصوب ہے۔ قل کا مفعول ہو کر اور ممکن ہے ما بمعنی الذی ہو اور مبتداء قرار دیا جاوے اور من خیر حال ہو محذوف سے فللو الدین خبر۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ مومنوں کو دنیا کی بےثباتی بتا چکا اور آخرت کے لیے صبر اور استقلال کی تاکید فرما چکا کہ اس کے لیے جان و مال بھی دریغ نہ کرنا چاہیے پھر اس کے بعد چند احکام بیان فرماتا ہے اس آیت سے لے کر اَلَمْ تَرَالَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ تک کس لیے کہ قرآن مجید کی عادت ہے کہ وہ توحید کے ساتھ پند و نصائح اور احکام ملا کر بیان فرماتا ہے تاکہ مخاطب کے دل پر ملال نہ آوے اور ایک کو دوسرے سے تقویت ہوجاوے لیکن ان احکام میں بھی باہم ایک عجیب ربط ہے۔
پہلا حکم اس آیت میں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کا شان نزول یہ ہے کہ عمرو بن جموح ؓ کہ جو احد کی لڑائی میں مقتول ہوا ایک نہایت عمر رسیدہ اور بڑا مالدار شخص تھا۔ اس نے آکر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ یا حضرت ! ہم اپنا مال کس کو للہ دیں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ سب سے اول ماں باپ کا حق ہے پھر اوراقارب پھر یتیم اور فقیر اور مسافر کو للہ دینا اور ان کے ساتھ سلوک کرنا چاہیے ماذا ینفقون کے معنی بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ کونسا مال خرچ کریں۔ یہ سوال تھا۔ خدا پاک نے اس کا جواب بھی ضمناً من خیر کے ساتھ دے دیا کہ فائدہ کی چیز ہو ٗ خواہ کپڑا ہو خواہ اناج ہو ٗ خواہ نقد ہو اور اس کے ساتھ مال کے مصارف (یعنی وہ لوگ کہ جن کو دینا چاہیے اور جن کا پوچھنا سائل کو ضروری تھا) ۔ بیان کردیے اور اخیر میں عموماً ہر کسی کے ساتھ بھلائی کرنے کے لیے ایک جملہ وما تنفقوا من خیر فان اللہ بہ علیم ایسا کہہ دیا کہ جو سب کو شامل ہے۔ بعض علما کہتے ہیں کہ اس آیت کا حکم آیت میراث سے کہ جو آگے آتی ہے ٗ منسوخ ہوگیا یعنی یہ حکم والدین اوراقارب کے دینے کا جب تک تھا جب تک ان کے حصہ اور میراث قائم نہ ہوئے تھے۔
جمہور محققین فرماتے ہیں یہ قول غلط ہے کس لیے کہ یہ حکم اپنی زندگی میں بطور خیرات کے دینے کے ہے۔ اس کو میراث سے کیا علاقہ ؟ اور نیز جس طرح مسافروں اور یتیموں کو تبرعاً اب دینے کا حکم ہے اسی طرح اپنی زندگی میں ماں باپ اوراقارب کے ساتھ ہر ایک قسم کے سلوک کرنے کا حکم بھی ہنوز باقی ہے۔
ترکیب : کتب فعل مجہول القتال ذی الحال وھو کرہ لکم جملہ حال مجموعہ مفعول مالم یسم فاعلہ عسی فعل ان تکر ھوا جملہ بتاویل مصدر اس کا فاعل وھو خیر لکم صفت شیئا اور ممکن ہے کہ حال ہو۔ قتال فیہ بدل ہے الشہر سے بدل الاشتمال لان القتال یقع فیہ اور فیہ قتال کے متعلق ہے اور جائز ہے کہ اس کی صفت ہو قتال فیہ مبتداء کبیر خبر صد مبتداء عن سبیل اللّٰہ اس کے متعلق یا صفت و کفربہ صد پر معطوف والمسجد الحرام مجرور معطوف ہے۔ سبیل اللّٰہ پر مدخول ہے عن کا ای صدعن المسجد الحرام واخراج اھلہ منہ معطوف ہے صد پر ان تینوں کی خبر اکبر عنداللہ۔ ان استطاعوا شرط ولا یزالون دال برجزا۔ ومن یرتدد شرط منکم موضع حال میں ہے من سے فیمت معطوف ہے یرتدد پر فاولئک جزا۔
تفسیر : خرچ کرنے کا حکم تھا مگر مال کے خرچ کرنے سے اللہ کی راہ میں جان خرچ کرنے کا بڑا درجہ ہے اور نیز قوام ملت و قوم کے لیے ان دونوں عزیز چیزوں کا خرچ کرنا اصل الاصول ہے اس لیے موجب رضائے الٰہی بھی ہے۔ اس لیے اس کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مکہ میں صرف صبر و برداشت کا حکم تھا پھر جب کفار کے ظلم سے مدینہ میں تشریف لائے تو اجازت ہوئی کہ جو تم سے لڑے اور تم پر ظلم کرے تو تم اس سے بدلہ لو ٗ پھر اس پر بھی مخالفین جورو ظلم سے باز نہ آئے اور ایمان والوں کو ہر جگہ ستانا شروع کیا تو بموجب انہیں بشارات کتب مقدسہ کے اس فتنہ و فساد اور شرو الحاد کے دفع کرنے کو عموماً جنگ کی اجازت دی بلکہ حکم دیا کہ یہ تم پر فرض ہوگیا اور چونکہ اپنی جان کو ہاتھ پر رکھنا اور اپنے بیگانہ کا کچھ لحاظ نہ رکھنا البتہ انسان کی طبیعت کو ناگوار اور شاق معلوم ہوتا ہے اس لیے فرمایا کہ اس کی مصلحتیں تم نہیں جانتے۔ خدا ہی جانتا ہے تم بعض باتوں کو شاق اور مکروہ جانتے ہو مگر اس کے نتائج اچھے ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کج طبع شریر لوگوں کو کتنا ہی وعظ و پند کرو۔ کتنی ہی خرق عادات و معجزات دکھائو مگر وہ کبھی فساد اور فتنہ سے باز نہیں آتے۔ جب تک کہ سیاست سے کام نہ لیا جاوے۔ دنیاوی سلطنتوں کی بھی یہی سیاست باعث رونق ہے۔ ہرچند آدمیوں کو گھر میں بیٹھا رہنا ‘ عورتوں سے مخالطت کرنا ‘ ہر قسم کا عیش کرنا ‘ سفر اور جنگ کی مصیبتوں سے بچنا بھلا معلوم ہوتا ہے مگر اس کے نتائج بربادی ملک و دولت ‘ دشمنوں کا غالب آکر مقہور کرنا ‘ دین و ملت کو خراب کرنا وغیرہ برے پیدا ہوتے ہیں اور اسی طرح جفا کشی اور مخالفوں کی مصائب پر برداشت کرنے کے بھی نتائج بہت عمدہ تجربہ میں آتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ہر ایک قسم کی راحت و عزت نصیب ہوتی ہے۔ آج کل جو اہل اسلام کا تنزل اور یورپ کے لوگوں کا عروج دنیاوی ہے تو اسی وجہ سے ہے۔ باقی علم و ہنر سب اقبال کے تابع ہیں۔ صحابہ کی بےنظیر فتوحات کا یہی سبب تھا۔
عرب کا قدیم دستور تھا کہ وہ رجب اور ذی قعدہ اور ذی الحج اور محرم میں باہم جنگ وجدال نہ کرتے تھے اور ان میں کوئی کسی پر چڑھائی نہ کرتا تھا 1 ؎ بلکہ اس کو سخت معیوب جانتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے یہ دستور چل آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا ان مہینوں میں بھی قتال و جہاد جائز ہے ؟ جواب آیا کہ ہرچند ان مہینوں میں لڑائی سخت اور بری بات ہے مگر ان مہینوں میں لوگوں کو خدا کی راہ سے روکنا جیسا کہ کفار کرتے ہیں اور خدا سے انکار کرنا اور مسجد الحرام سے روکنا اور وہاں کے باشندوں کو ناحق نکال دینا جیسا کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو نکال دیا تھا اس سے بھی بڑھ کر گناہ ہے اور ان کا فتنہ کہ وہ ہر جگہ ایمان والوں کو ستاتے پھرتے ہیں قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ پس جب انہوں نے ان مہینوں کی رعایت نہ کی تو تم پر بدلہ لینے میں کیا گناہ ہے ؟ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جنگ بدر سے دو مہینے پہلے عبداللہ بن جحش ؓ کو چند آدمیوں کے ساتھ بمقام بطن بخل کہ جو طائف کے قریب ہے کفار قریش کے قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ سو انہوں نے جا کر ان کو گرفتار کرلیا لیکن اسی روز جمادی الثانی کی تیسویں تاریخ [1 ؎ اس لیے ان کو شہر حرام کہتے تھے۔ 12 منہ ]
تھی مگر انتیسویں کا چاند ہوگیا تھا ٗ پر صحابہ کو معلوم نہ تھا اس پر کفار نے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو طعنہ دینا شروع کیا کہ یہ لوگ شہر حرام میں بھی لڑتے ہیں۔ اس کا جواب بھی اس آیت میں دیا گیا۔ (کبیر)
بعض علماء کہتے ہیں کہ شہر حرام کا حکم اس آیت واقتلوھم حیث تقفتموھم سے منسوخ ہوگیا۔ اسلام نے ہر زمانہ میں دفع فساد کے لیے کفار سے جنگ کی اجازت دے دی۔ بعض کہتے ہیں ابتداء نہ کرے اور جو کفار چڑھ کر آویں تو مدافعت ضرور ہے کس لیے کہ ظلم ہر مہینہ میں ممنوع ہے اور بدلہ لینا ہر وقت درست ہے۔ خواہ شہر حرام میں خواہ مسجد الحرام کے پاس۔ یہ دوسرا سوال اور دوسرا حکم تھا۔
Ayah 2:219ترکیب : یسئلون فعل بافاعل کے مفعول عن الخمر والمیسر متعلق فعل سے اثم کبیر مبتداء فیہما خبر ومنافع للناس معطوف ہے اثم پر اے فیہا منافع للناس۔ العفو منصوب ہے بفعل مضمر تقدیرہ انفقوا العفو کذلک موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی اے یبین مثل ہذا التبین۔
تفسیر۔ شراب اور جوئے کی ممانعت : قوام ملت و قومیت بیان فرما کر قوم و مذہب کو برباد کرنے والے کام بھی جواب سوال کے پیرایہ میں بیان کئے جاتے ہیں تاکہ قانون سعادت کی تکمیل ہوجائے۔ از انجملہ جوا اور شراب ہے۔ عرب میں شراب نوشی کا مدت سے دستور تھا جس چیز کو شریعت نے منع نہ کیا تھا۔ صحابہ اس کو اپنے دستور کے موافق استعمال میں لاتے تھے۔ چناچہ مکہ میں اس کا استعمال ہوتا رہا۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو بتدریج 1 ؎ شراب اور قمار کو حرام کردیا بلکہ ایک مدت تک شراب کے برتنوں کا بھی استعمال منع رہا۔ الخمر یعنی شراب اس کی ماہیت میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں جو چیز نشہ پیدا کرے وہ خمر ہے مسکر اور خمر دونوں لفظ ایک ہی معنی لیے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں زبان عرب میں خمر اس شراب کو کہتے ہیں جو انگور سے بنتی تھی یعنی انگور کا شیرہ جب گا ڑھا ہوجاوے اور اس میں جھاگ اٹھنے لگیں۔ دلائل دونوں کے ان کی کتابوں میں مندرج ہیں۔ اس اختلاف کا یہ ثمرہ ہوگا کہ امام شافعی (رح) کے نزدیک ہر ایک مسکر کو حرام قطعی کہا جاوے گا اور اس کے تھوڑے بہت کا استعمال کرنا ممنوع ہوگا۔ امام اعظم (رح) کے نزدیک وہ خاص شراب تو ] 1 ؎ یہ چار آیتیں اس کی تحریم میں نازل ہوئی ہیں۔ اول میں ذرا سا ممانعت کی طرف اشارہ ہوا پھر دوسری میں کچھ اور اور تیسری میں کچھ اور چوتھی میں صاف ممانعت کردی۔ اول آیت ومن ثمرات النخیل والا عناب الآیۃ دوسری فیہما اثم کبیر و منافع للناس تیسری لاتقربوا الصلوٰۃ وانتم سکارٰی چوتھی انما الخمر والمیسر الآیۃ۔ 12 منہ۔[ قطعی حرام ہوگی اور اس کا ایک قطرہ بھی مگر اور مسکرات کو جو حرام کہا جائے گا تو اس پر قیاس کرکے اور ان مسکرات کا اس حد میں استعمال منع ہوگا کہ جس قدر سے نشہ پیدا ہو۔ المیسر یعنی قمار یا جوا یہ الیسر کا مصدر ہے۔ جیسا کہ موعد اور مرجع اور اس کا ماخذ یسر ہے یعنی جوئے میں چونکہ آسانی سے مال حاصل ہوتا ہے اس لیے اس کو میسر کہنے لگے (کبیر) بعض کہتے ہیں حصہ مقرر کرنے کے معنی اس میں ملحوظ 1 ؎ ہیں۔ ایام جاہلیت میں دستور تھا کسی جانور کو بالاشتراک لے کر ذبح کرتے اور اس کا گوشت یوں تقسیم کرتے تھے۔ دس تیرلے رکھے تھے اور ان کے نام مقرر کر رکھے تھے۔ ان کو ازلام اوراقلام بھی کہتے تھے۔ مسبل ‘ معلی ‘ نافس ‘ منج ‘ سفیح ‘ وعذ ‘ فذ ‘ توام ‘ رقیب ‘ علس۔ ہر ایک کے متفاوت حصہ لگے ہوئے تھے۔ بعض میں خالی لکھا ہوا ہوتا تھا۔ سب کو جمع کرکے ایک تھیلی میں بند کردیتے اور ہاتھ ڈال کر نکالتے جس کے نام سے جو نکل آتا اور جو جیت جاتا تو وہ گوشت فقیروں کو دے دیتا اور بڑا خوش ہوتا تھا۔ شراب اور جوئے کا نفع تو یہی ہے کہ مفت مال ہاتھ آتا ہے اور بدن فربہ ہوتا ہے مگر نقصان عقل جو جوہر لطیف ہے اور باہمی عداوت زیادہ تر ہے اس لیے ان کو منع کیا اور پھر مال خرچ کرنے کا لوگوں نے سوال کیا کہ کس قدر دیں فرمایا۔ جو حاجت سے زیادہ ہو دو ۔ اس سے صدقہ نافلہ مراد ہے۔
Ayahs 2:220–221ترکیب : اصلاح مبتداء لہم اس کی صفت خیر خبر وان تخالطوھم شرط فہم اخوانکم جزا ولو شرط شاء فعل اللّٰہ فاعل مفعول اعنتکم محذوف لا عنتکم جواب شرط ولو بمعنی ان۔
تفسیر۔ یتیموں کے حقوق کا بیان اور کافروں سے نکاح کی ممانعت : از آنجملہ یتیموں کی حق تلفی ہے۔ اس کے متعلق اول ] 1 ؎ شرع میں انہیں پر منحصر نہیں رکھا بلکہ جس میں دو طرفہ شرط ہو جیسا کہ ثرد اور کعتبیں وغیرہ۔[ آیت میں بیان ہے۔ از آنجملہ مشرکوں سے مناکحت ہے کیونکہ اس سے زہر آلود اختلاط ہوتا ہے مشرکوں کی عادت اور خصائل رواج پا کر نہ قومیت باقی رہتی رہے نہ دین خالص ‘ جس کی نظیر ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ دوسری آیت میں اس کی ممانعت کی گئی جب خدا نے یتیموں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمَ اِلَّا بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ تو لوگوں نے احتیاطاً یتیموں کا کھانا پانی گھر میں الگ رکھنا شروع کیا اور ان کے مال کو تجارت وغیرہ منافع میں بھی لگانے سے دست کشی کی یہاں تک کہ جو کھانا یتیم کا بچ رہتا تو وہ سڑ بس کر خراب جاتا۔ اس میں یتیموں کا حرج تھا اور یتیموں کی پرورش کرنے والوں کو بھی دقت تھی۔ اس لیے یہ آیت نازل فرمائی اور چند کلمات جامع کہہ کر تمام باتیں ختم کردیں۔ فرمایا کہ یتیموں کی اصلاح خواہ مال کے معاملہ میں ‘ خواہ ان کی تعلیم و تربیت کے معاملہ میں بہتر ہے۔ ان کے لیے بھی اور دنیا و آخرت میں تمہارے لیے بھی۔ پھر فرمایا اگر ان کو ملا لو خواہ ان کا کھانا پینا ‘ خواہ تجارت میں مال ‘ خواہ ان سے نکاح بیاہ کرکے تو وہ تمہارے بھائی واجب الرحم ہیں۔ اس کے بعد ظاہراً و باطناً خدا ترسی اور دلی نیک نیتی کی طرف اشارہ کیا کہ خدا کو بھلائی چاہنے والا اور برائی کرنے والا معلوم ہے۔ پھر نعمت جتلاتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو سخت احکام کی مشقت میں تم کو ڈال دیتے مگر نہ ڈالا اور آسانی ملحوظ رکھی۔ یتیموں کی پرورش اور اصلاح اور خدا ترسی زیادہ گھر کی بیویوں سے متعلق ہے کیونکہ مرد اپنے کاروبار میں اندر باہر آتا جاتا رہتا ہے اور نیز جزئیات امور پر اس کی نظر بھی نہیں رہتی۔ اس لیے خانہ داری کی اصلاح بھی ضرور ہوئی۔ پس فرمایا کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو کس لیے کہ اس میں دیانت نہیں ‘ پھر خدا ترسی اور حقوق پر نظر کجا ؟ اور نیز تمہاری معاش و معاونین میں بھی خلل پڑے گا۔ زن و شوہر کا ایک نازک معاملہ ہے جو باہمی محبت پر مبنی ہے۔ اگر اختلاف مذہب کی وجہ سے محبت نہ ہوئی تو روز کے جھگڑے پیدا ہوئے اور جو محبت ہوئی تو اس کی رسوم شرک و کفر پر چشم پوشی کرنی پڑی جس سے دین برباد 1 ؎ ہو اور اسی طرح سے مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں سے نکاح کی ممانعت کردی اور فرمایا کہ مشرک سے غلام بہتر ہے اور مشرک سے لونڈی افضل ہے۔ نکاح سے یہاں مراد عقد ہے مگر اس لفظ کے معنی میں اختلاف ہے۔ امام اعظم (رح) کہتے ہیں اس کے اصل معنی وطی 2 ؎ کے ہیں اور مجازاً عقد پر اطلاق ہوتا ہے۔ امام شافعی (رح) اس کے برعکس کہتے ہیں المشرکات سے مراد سوا اہل کتاب کے اور بت پرست عورتیں ہیں یا جو خدا کی ذات وصفات میں کسی اور کو حصہ دار سمجھتے ہیں اور اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح بحکم آیت سورة مائدہ والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب حلال ہے مگر المشرکین سے بالا جماع اہل کتاب وغیرہ سب کافر مراد ہیں پس مسلمان عورتوں کا کسی کافر سے نکاح درست نہیں۔ اس آیت سے پہلے مسلمانوں اور کافروں میں بیاہ شادی کا عام دستور تھا۔ اس کے بعد ممانعت ہوگئی۔
1 ؎ اولئک یدعون الی النار سے اسی طرف اشارہ ہے۔ 12 منہ
2 ؎ جماع یعنی صحبت کرنا۔ 12 منہ
Ayahs 2:222–223ترکیب : الحیض موضع الحیض ویحتمل ان یکون نفس الحیض والتقدیر یسئلونک عن الوطی فی زمن الحیض من حیث امر کم من اس جگہ ابتداء غایۃً کے لیے ہے اور ممکن ہے کہ بمعنی فی ہو۔ پس یسئلون فعل ھم خبر فاعل کے مفعول عن المحیض فعل کے متعلق ہو کر جملہ خبر یہ ہوا ھو مبتداء اذی خبر جملہ مقولہ ہو اقل کا فاعتزلوا امر حاضر معروف وانتم اس کا فاعل النساء مفعول بہ فی المحیض متعلق ہے۔ فعل سے جملہ انشائیہ معطوف علیہ ولا تقربوا الخ اس پر معطوف فاذا حرف شرط تطہرن مخفف اور مثقل دونوں طرح پر ہے۔ اس کی اصل تتطہرن تھا۔ ت کو ساکن کرکے ط سے بدلا اور دوسری ط میں ادغام کردیا۔ یہ جملہ شرط فاتوھن جواب شرط من حیث متعلق ہے فاتوھن سے نساء کم مبتداء حرث لکم خبر اَنّٰی شئتم اَی کیف شئتم۔
تفسیر : احکام حیض : ازآنجملہ معاشرت کے طریقوں میں خرابی اور اس میں اپنی عورت سے خلاف فطرت پیش آنا یعنی حیض میں صحبت کرنا جو طرفین کی تندرستی کو بھی مضر ہے اور انسانی پاکیزگی کے بھی۔ ان آیات میں اس مسئلہ کا بیان ہے۔ اس مسئلہ میں بعض اقوام افراط بعض تفریط کرتی ہیں۔ اسلام نے درمیانی طریقہ ارشاد فرمایا۔ یہودیوں میں دستور تھا کہ وہ حیض والی عورت کو جدا مکان میں رکھتے تھے نہ اس کے ہاتھ کا پکا کھاتے تھے نہ کسی چیز کو ہاتھ لگانے دیتے تھے۔ برخلاف اس کے عیسائیوں میں کوئی بھی قید نہ تھی۔ مجامعت سے بھی چنداں حذر نہ کرتے تھے۔ مدینہ میں ہر ایک قوم کے لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس مجتمع تھے۔ وہ اپنی اپنی عادت کے موافق کیا کرتے تھے۔ اس لیے اس مسئلہ میں لوگوں کو خلجان پیدا ہوا تو آنحضرت ﷺ سے سوال کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا حیض ایک ناپاکی ہے۔ اس لیے عورتوں کے پاس نہ جائو یعنی ان سے جماع نہ کرو جب تک کہ وہ خوب پاک نہ ہوجاویں ان سے صحبت نہ کرو۔ پاک ہوجانے کے بعد تمہیں ہر طرح سے فائدہ حاصل کرنے کا اختیار ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ لذتوں ہی میں مستغرق نہ رہو ٗ کچھ آگے کی بھی فکر کرو کیونکہ تم کو خدا سے ملنا ہے۔ سو تقویٰ اور پرہیزگاری کرو ٗخدا سے ہر امر میں ڈرا کرو۔ حیض کے لغوی معنی سیلان کے ہیں اور حوض میں چونکہ پانی ادھر ادھر سے بہہ کر آتا ہے اس لیے اس کو حوض کہتے ہیں اور داوری ایک دوسرے کی جگہ کلام عرب میں آیا کرتا ہے۔ لفظ محیض مصدر بھی ہے اور اس سے ظرف بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی حیض کی جگہ ‘ حیض عورتوں کے رحم سے ہر مہینے میں خون فاسد برآمد ہونے کو کہتے ہیں۔ اس کی رنگت سیاہی مائل ہوتی ہے اور بدبودار اور گاڑھا ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے حیض میں عورتوں کے پاس جانے کی علت ناپاکی بیان کی ہے۔ سو یہ اس خون میں نہیں پائی جاتی کہ جو بیماری سے عورتوں کو آیا کرتا ہے جس کو استحاضہ کہتے ہیں اس لیے اس میں جماع منع نہیں۔ قرآن میں حیض کی کوئی مدت بیان نہیں کی کہ کب سے کب تک رہتا ہے عرف عام پر چھوڑ دیا۔ لیکن علماء نے احادیث ‘ اقوال صحابہ اور دیگر دلائل اور قرائن سے مدت مقرر کی ہے۔ سو وہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس روز ہیں اور امام شافعی (رح) کے نزدیک کم سے کم ایک رات دن زیادہ پندرہ روز ہیں۔ امام مالک (رح) کہتے ہیں کوئی حد مقرر نہیں۔ قرآن مجید میں حیض کے ایام میں صرف جماع کی ممانعت ہے باقی اور احکام کہ حیض میں نماز نہ پڑھے ٗ روزہ نہ رکھے ٗ مسجد میں نہ جاوے ٗ قرآن مجید کو نہ چھوئے ٗ طواف نہ کرے اور نیز نفاس 1 ؎ کے احکام اور اس کی مدت اور یہ کہ نماز کی قضا لازم نہیں ٗ روزہ کی ہے۔ احادیث سے ثابت ہیں تطہرن کو جو تشدید سے پڑھا جاوے تو اس کے معنی نہا دھو کر پاک ہونا اور جو بغیر تشدید پڑھا جاوے تو صرف حیض سے پاک ہونا۔ اس پر امام ابوحنیفہ (رح) نے یہ حکم دیا کہ اگر دس رز سے پہلے حیض منقطع ہوا ہے تو جب تک وہ غسل نہ کرلے یا اتنا عرصہ نہ گزر جاوے کہ جس میں غسل کرسکے اس سے صحبت نہ کرے اور جو بعد دس روز کے خون بند ہوا ہے تو اسی وقت جائز ہے۔ امام شافعی اور اوزاعی اور مالک اور ثوری کہتے ہیں کہ ہر حال میں بغیر غسل کئے صحبت درست نہیں بلحاظ قرأتِ تشدید ‘ اس کے بعد خدا نے عورت کے پاس جانے کی اجازت دی اور عورت کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دی کہ جس طرح زمین میں تخم ڈالتے ہیں اور اس سے کوئی چیز اگتی ہے اسی طرح عورت کا رحم بمنزلہ زمین اور منی بمنزلہ تخم کے ہے اور اولاد درخت ہے۔ اس سے نہایت تہذیب کے ساتھ اس کی طرف اشارہ ہے کہ پاخانہ کی راہ سے جماع نہ کرو اور اس لیے من حیث امر کم اللہ کہا اور یحب التوابین اور یحب المتطہرین فرمایا۔ بعض شیعہ کہتے ہیں درست ہے کیونکہ عام اجازت ہے۔
؎ بچہ جنے کی حالت یعنی مجا۔ 12
Ayahs 2:224–227ترکیب : ان تبروا موضع نصب میں ہے ای مخالفۃ ان تبروا اور اہل کوفہ کہتے ہیں لئلا تبروتقدیر ہے ‘ فی ایمانکم متعلق ہے باللغو سے اور جائز ہے کہ حال ہو اس سے تقدیرہ باللغو کائنا فی ایمانکم بماکسبت مامصدر یہ ہے للذین صلہ و موصول ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے تربص الخ کی فان فاؤ ای رجعوا شرط فان اللّٰہ الخ جواب وقس علیہ۔
تفسیر : قسم کے مسائل : از آنجملہ بےموقع قسم کھانا ہے اور قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنانا اور بیوی جیسی جلیس سے جس پر معاشرت و تمدن مربوط ہے کسی بات پر خفا ہو کر اس کے پاس جانے کی قسم کھا بیٹھنا بہت مروج ہے۔ اس لیے اس مسئلہ کو بھی مسئلہ مناکحت کے بعد طے کردیا۔ لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ جب کسی بات پر خدا کی قسم کھائی جائے خواہ وہ اچھی ہو یا بری یا کسی چیز کے ترک پر خواہ
اچھی ہو یا بری تو ضرور اس پر قائم رہنا چاہیے۔ چناچہ صدیق اکبر ؓ ایک قسم کھا بیٹھے تھے کہ میں اپنے بھانجے مسطح کو اب کچھ نہ دیا کروں گا۔ اس نے عائشہ ؓ پر بہتان باندھا اور اسی طرح اور لوگ بھی قسم کھا بیٹھے تھے کہ میں اپنے باپ سے یا ماں سے نہ ملوں گا یا فلاں شخص میں صلاح نہ کروں گا۔ اس بات سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا کہ میرے نام کو کیوں آڑ بناتے ہو ؟ اس کے ساتھ سمیع فرمایا یعنی اگر قسم کھائو گے تو وہ سنتا ہے اور جو اس کے نام کی عزت کرکے ترک کرو گے تو وہ علیم یعنی جانتا ہے۔ اس کے بعد قسم کا مسئلہ بیان فرمایا کہ تم سے لغو قسموں پر کچھ مؤاخذہ نہ کرے گا۔ عرضۃ بروزن فعلۃ المفعول کا لقبضۃ والغرفۃ پس یہ اس چیز کا اسم ہے کہ جو روکنے والی ہو جس کو ہندی میں آڑ اور اڑتلہ کہتے ہیں۔ ایمان یمین کی جمع ہے جس کے معنی قوت اور مضبوطی کے ہیں۔ اور عرف شرع میں اس قسم کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کے نام سے یا اس کی کسی صفت سے کھائی جاوے جیسا کہ واللہ ‘ باللہ ‘ تاللہ عربی میں اور اللہ کی قسم یا بخدا اردو میں اور اسی کو حلف کہتے ہیں۔ چونکہ خدا کے نام سے قسم میں قوت اور تاکید ہوجاتی ہے اس لیے اس کو یمین کہتے ہیں۔ یمین تین طرح پر ہوتی ہیں۔ ایک غموس 1 ؎ یہ وہ کہ جو کسی گزری ہوئی بات پر عمداً جھوٹی قسم کھائی جائے جیسا کہ واللہ فلاں شخص آیا تھا اور جانتا ہے کہ وہ نہیں آیا ٗ اس میں بڑا گناہ ہے۔ اس پر بحکم ولکن یؤاخذ کم بما کسبت قلوبکم آخرت کا مؤاخذہ ہے۔ دنیا میں اس کا علاج توبہ و استغفار ہے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی ہے مگر امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ یہ بما کسبت قلوبکم میں داخل ہے اور پھر سورة مائدہ میں اس کو بما عقد تم الایمان سے تعبیر کیا ہے اور وہاں اس مؤاخذہ کی تشریح ہے کہ کفارہ دینا ہوگا۔ دوسری منعقدہ وہ یہ کہ آیندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر خدا کی قسم کھائے کہ واللہ میں فلاں کام کروں گا یا خدا کی قسم اس کے گھر نہ جائوں گا پس جو کسی گناہ کی بات پر قسم کھا بیٹھے کہ واللہ میں نماز نہ پڑھوں گا یا فلاں شخص کو قتل کروں گا یاللہ نہ دوں گا یا اپنے باپ سے کلام نہ کروں گا تو اس پر لازم ہے کہ قسم کو توڑ دے اور کفارہ دے دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا من حلف علی یمین ور ایٔ غیرھا خیر امنہا فلیأت بالذی ھو خیر ثم لیکفر عن یمینہ رواہ البخاری ” کہ جو کسی بات پر قسم کھا بیٹھے اور اس کے خلاف کرنے میں بہتری جانیں تو اس کام کو کرلے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے “ اور اس آیت میں بھی اسی قسم کا ذکر ہے کہ تم خدا کے نام کو نیکی سے باز رہنے میں اڑتلہ نہ بنائو اور جو ایسی باتوں پر قسم نہیں تو اس کو پورا کرنا چاہیے اور اگر خلاف کرے گا تو پھر عام ہے کہ اچھی بات پر قسم تھی یا بری بات پر۔ تو اس کو بالاتفاق کفارہ دینا ہوگا جس کا اشارہ یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم میں ہے اور تشریح سورة مائدہ میں ہے ولکن یاخذ کم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین من اوسط ما یطعمون اھلیکم و کسوتہم اوتحریر رقبۃ فمن لم یجد فصیام ثلثۃ ایام الایہ کہ خدا تم سے ان قسموں پر کہ جن کو تم نے منعقد کیا ہے ٗ مؤاخذہ کرتا ہے سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا 2 ؎ کھلانا یا کپڑا 3 ؎ پہنانا یا غلام آزاد کرنا ہے اور اگر مقدور نہ ہو تو تین روزے 4 ؎ رکھنا۔ تیسرے یمین لغو اس کی تفسیر میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ اور حسن بصری اور مجاہد اور نخعی اور زہری اور سلیمان بن یسار اور قتاوہ اور سدی اور مکحول اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں یمین لغو یہ ہے کہ کسی گذشتہ بات پر یہ جان کر کہ یہ یوں ہے قسم کھاوے اور اصل وہ یوں نہ ہو جیسا کہ کوئی کہے واللہ پرسوں بارش ہوئی تھی اور اس کو گمان غالب ہے کہ ہوئی تھی اور دراصل یہ غلطی پر تھا۔ یا کہے کہ واللہ یہ فلاں چیز ہے اور دراصل اس کا خیال غلط ہے۔ چونکہ اس نے عمداً جھوٹ نہیں بولا۔ یہ معاف ہے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے لا یؤ اخذکم اللہ باللغوفی ایمانکم اور عائشہ صدیقہ ؓ اور شبعی اور عکرمہ اور امام شافعی
1 ؎ غمس کہتے ہیں ڈوبنے کو چونکہ ایسی قسم کھانے والا گناہ میں ڈوبتا ہے اس لیے اس کو غموس کہتے ہیں۔ 12 منہ
2 ؎ دو وقت ورنہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں دے اور ایک صاع چھوہارے اور جو وغیرہ اور صاع کا وزن تخمیناً ساڑھے چار سیر ہے۔
3 ؎ کپڑا ہر شخص کو ادنیٰ مرتبہ اس قدر پہناوے کہ جس سے نماز ادا کرسکے اور زیادہ کا اختیار ہے۔
4 ؎ روزہ امام اعظم (رح) کے نزدیک پے در پے رکھے اور آئمہ کے نزدیک یہ قید نہیں ہے۔ 12 منہ
کہتے ہیں یہ یمین لغو نہیں کیونکہ اس میں قصد پایا گیا۔ اس پر کفارہ لازم ہوگا بلکہ لغو یہ ہے کہ بلا قصد یوں ہی بات بات پر واللہ باللہ کا استعمال کیا جاوے چونکہ اس میں قصد نہیں یہ لغویت معاف ہے ٗ خدا دل کو دیکھتا ہے۔
ایلاء کا مسئلہ : عرب میں یہ بھی دستور تھا کہ بیوی سے خفا ہو کر قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اب تیرے پاس نہ آئوں گا سو وہ قسم کے مارے نہ اس کے پاس آتے تھے نہ طلاق دیتے تھے۔ اس میں عورت کو بڑی دقت پیش آئی تھی۔ اس قسم کی قسم کو شرع میں ایلا کہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ایلا کے لیے مدت چار مہینے کی مقرر کردی۔ پس اگر چار مہینے کے اندر اندر پھر ملاپ ہوگیا تو صرف اس قسم کا کفارہ دینا ہوگا مگر بعض علماء کہتے ہیں کہ کفارہ بھی دینا پڑے گا کس لیے کہ اللہ غفور رحیم آیا ہے مگر یہ قول ٹھیک نہیں کیونکہ ہر قسم میں جو اللہ کے نام سے کھائی جائے حانث ہونے پر یعنی پورا نہ کرنے پر کفارہ لازم ہوتا ہے اور یہ بھی ایک قسم ہے دوم غفور رحیم باعتبار عذاب آخرت کے ہے اور جو چار مہینے گزر گئے اور باہم ملاپ نہ ہوا تو ایک طلاق بائن پڑجاوے گی۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں خود بخود طلاق مدت گزرنے پر نہ ہوگی بلکہ عورت کو مجاز ہوگا کہ حاکم کی طرف رجوع کرے اور حاکم یا ملاپ کرا دے یا طلاق دلا دے۔ محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایلا جب پایا جاوے گا کہ جب شوہر چار مہینے یا زیادہ مدت لگا کر قسم کھاوے گا یا مطلق کہے گا یا ہمیشہ کا لفظ بولے گا مگر چار مہینے سے کم مدت پر قسم کھانے میں ایلا نہ ہوگا۔
Ayah 2:2281 ؎ یعنی تین حیض تک عدت طلاق ہے اگر کسی سے نکاح کریں تو اس کے بعد کریں۔ 12 منہ
ترکیب : والمطلقات مبتداء یتربصن خبر معناً امر ہے ثلثہ قروء ظرف ہے یتر بصن کا لایحل فعل لہن اس کے متعلق ان یکتمن جملہ بتاویل مصدر فاعل ان کن شرط جملہ لا یحل دال بر جزا بعولتہن مبتدا احق الخ خبر بعولتہن متعلق ہے احق کے فی ذلک ای وقت التربص۔
تفسیر : چونکہ ایلا کا حکم آچکا تھا جو ایک قسم کی طلاق یا طلاق کے مبادی میں سے ہے اور معاملات کے مسائل کا بیان فرمانا سعادت انسانی کی تکمیل ہے۔ اس لیے طلاق کا مسئلہ ان آیات اور اگلی آیات میں بیان فرمایا۔ ایام جاہلیت میں عدۃ کے بارے میں بھی بڑا جھمیلا تھا۔ کبھی ایسا
بھی ہوتا تھا کہ کوئی شخص طلاق دے کر برس چھ مہینے کے بعد بھی پھر اس عورت پر دعویدار ہوجاتا تھا اس لیے اس سے اور شخص نکاح نہ کرتا تھا نہ وہ خود اس کے نان و نفقہ کی خبر گیری کرتا تھا۔ اس میں عورت پر بڑا ظلم ہوتا تھا۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے طلاق کی عدت بیان کی اور اس عدت میں مرد کو پھر اس عورت سے ملاپ کرنے کی اجازت دی۔ بشرط نیت اصلاح اور عورتوں کو بھی تاکید کردی کہ عدت میں کمی زیادتی کرنے کی غرض سے یا اول خاوند سے ناراض ہو کر اپنا حمل یا حیض نہ چھپائیں کس لیے کہ اس میں بڑی خرابی ہے اور ایک کی اولاد دوسرے کے پاس جاتی اور نسب میں فرق پڑتا ہے اور یہ بھی جتلا دیا کہ عورت و مرد کے ایک دوسرے پر حقوق مساوی ہیں۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت اور بزرگی ہے۔
Ayah 2:229تحقیقات : (1) مطلقہ عرف شرع میں اس عورت کو کہتے ہیں جو کسی کے نکاح میں ہو اور پھر اس کو طلاق دی گئی ہو۔ اگر یہ عورت ایسی ہے کہ صرف نکاح ہوا ہے مگر اس سے صحبت کا اتفاق نہیں ہوا تو اس کے لیے عدت نہیں۔ کما قال تعالیٰ اِذَ انَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا الآیۃ اور اگر اس سے صحبت ہوچکی ہو تو وہ یا حاملہ ہے یا غیر حاملہ اگر اس کو حمل ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے یعنی جب تک حمل ہے عدت باقی ہے اور شخص اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ وَاُوْلَاتِ الْاَحْمَالِ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنّ الآیہ اور اگر حمل نہیں اور صغر سنی کی وجہ سے اس کو حیض نہیں آتا ہے تو اس کی عدت صرف تین مہینے ہیں۔ وَاللّٰآ تِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتِھِنَّ ثَلٰثَۃَ اَشْہُرٍ الآیۃ اور جو اس کو حیض بھی آتا ہے لیکن وہ لونڈی ہے تو اس کی عدت دو حیض ہیں۔ احادیث صحیحہ و آثار قویہ سے اور جو لونڈی نہیں تو اس کی عدت اس آیت میں ہے یعنی تین حیض یا تین طہر (2) قروء قرء کی جمع ہے جس کے معنی حیض اور طہر دونوں کے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) حیض لیتے ہیں امام شافعی (رح) طہر۔
ترکیب : الطلاق ای عدد الطلاق (الذی یجوزمعہ الرجعۃ) مبتداء مرتان خبر امساک موصوف بمعروف صفت دونوں مبتداء علیکم اس کی خبر محذوف او تسریح معطوف ہے امساک پر لایحل فعل۔ ان تاخذوا بتاویل مفرد فاعل شیئا مفعول مما اسکی صفت مقدم من تبعیض کے لیے اور ما بمعنی الذی اتیتمو فعل ھن مفعول اول ایاہ مفعول ثانی محذوف الا ان یخافا ان اور فعل دونوں موضع نصب میں ہیں حال ہونے کی وجہ سے والقدیر الاخالفین الایقیما موضع نصب میں ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں رجوع کرنے کا ذکر تھا، اس آیت میں اس کو کھول دیا کہ کب تک خاوند کو رجوع پہنچتا ہے۔ فرمایا دو طلاق تک پھر تیسری طلاق کے بعد بالکل علاقہ منقطع 1 ؎ ہوجاتا ہے مگر جاہلیت میں مرد کے رجوع کی کوئی حدمقرر نہ تھی۔ تین بلکہ دس بیس طلاق دینے کے بعد بھی ایک عرصہ دراز تک مرد کا عورت پر دعویٰ رہتا تھا۔ اس میں عورت کو بڑی دقت پیش آتی تھی۔ چناچہ ایک عورت نے آکر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے یہی شکایت کی تب یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ دو طلاق تک رجوع کرنے کا اختیار ہے۔ پھر اس کے بعد یا تو رجوع کرلے اور حسن معاشرت سے میاں بیوی مل کر رہیں ورنہ اچھی طرح سے چھوڑ دے یعنی رجوع نہ کرے۔ عدت گزر جانے کے بعد عورت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے یا تیسری طلاق دے کر منقطع ہی کر دے جو کچھ ہو خوش معاملگی سے ہو۔ عورت کو دق نہ کرے نہ اس کے عیوب بیان کرتا پھرے نہ جو کچھ مہر اور زیور اور کپڑا وغیرہ اس کو بخش دیا ہے اس کو واپس لے مگر ایک صورت میں اور وہ خلع ہے یعنی جب یہ معلوم ہو کہ اب میاں بیوی کی ہرگز نہ بنے گی اور بیوی اپنے آپ کو اس کے نکاح میں رکھنا نہیں چاہتی تو بیوی 2 ؎ مہر یا جو کچھ لیا ہے اس کو سب یا قدرے دے کر طلاق لے لے تو کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ ان کے باہم ساتھ رہنے میں روزمرہ کی تکا فضیحتی اور خدا رسول کی نافرمانی ہے۔
فوائد : (1) مدینہ میں ایک عورت جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی شکلیتہ تھی اور اس کا خاوند ثابت بن قیس بن شماش بدشکل تھا جس قدر یہ اس کو چاہتا تھا۔ اسی قدر اس عورت کو اس سے نفرت تھی۔ اس لیے ہر روز باہم بدمزگی اور رنجش رہتی تھی۔ آخرالامر جمیلہ نے آنحضرت (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ یا حضرت میرا دل اس سے ازحد نفرت کرتا ہے اور خوف ہے کہ حقوق شوہر میں کمی کرنے سے مجھ سے مواخذہ ہو۔ اس لیے آپ مجھ کو اس سے جدا کر دیجئے۔ آپ نے بہت کچھ فہمائش کی مگر جب دیکھا کہ باہم اتفاق مشکل ہے ٗ ثابت سے کہا کہ تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ بہتر مگر میں نے اس کو باغ دیا ہے۔ یہ اس کو واپس کر دے۔ جمیلہ نے کہا باغ کے ساتھ کچھ اور بھی لے کر مجھے چھوڑ دیجئے۔ حضرت نے فرمایا نہیں بلکہ صرف باغ لے کر چھوڑ دے سو اس نے باغ واپس کرکے اس کو چھوڑ دیا۔ یہ اول خلع ہے جو اسلام میں واقع ہوا۔ سنن ابی دائود سے ثابت ہے کہ اس عورت کا نام خفضہ بن سہل تھا۔ (2) ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلع جب درست ہے کہ جو مرد و عورت کو خوف ہو کہ ہم سے حقوق زوجیت ادا نہ ہو سکیں گے چناچہ زہری اور نخعی اور دائود ظاہری کا یہی مذہب ہے مگر جمہور مجتہدین حالت خوف اور غیر خوف دونوں میں درست کہتے ہیں۔ بدلیل قولہ تعالیٰ فان طبن لکم عن شی فکلوہ ھنیا مرئیا کہ جو کچھ اپنی خوشی سے مہر میں سے وہ عورتیں تم کو دے دیں تو تم کو درست ہے۔ پس جب بلامعاوضہ دینا درست تھا تو خلع کی صورت میں کہ اس کے بدلہ میں آزادی حاصل ہوتی ہے بدرجہ اولیٰ جائز ہے اور الا ان یخافا میں استثناء متصل نہیں بلکہ منقطع جیسا کہ اس آیت میں وما کان لمومن ان یقتل مومنا الا خطاء ای لکن ان کان خطاء فدیہ۔
: خوف اگر عورت کی جانب سے ہو کہ وہ سرکشی اور نافرمانی کرتی ہے تو اس صورت میں بالاتفاق مال لے کر چھوڑ دینا درست ہے اور اگر صرف خاوند کی طرف سے ہو کہ وہ عورت کو مارتا پیٹتا ‘ بری طرح سے پیش آتا ہے اور تنگ کرکے اس کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ
1 ؎ دو طلاق تک مرد کو زوجیت میں رکھنے کا اختیار ہے۔ تیسری طلاق کے بعد اختیار نہیں اس کا حکم بعد میں بیان ہوتا ہے۔
2 ؎ یعنی مہر میں یا چڑھاوے میں جو کچھ مرد نے دیا ہے وہ عورت کا مال ہوچکا۔ طلاق کے سبب مرد کو جائز نہیں کہ اس میں سے کچھ واپس لے۔ صرف خلع کی صورت میں جائز ہے اور وہ یہ کہ قرائن سے معلوم ہوجائے کہ اب ان دونوں میں سلوک سے نہ گزرے گی مرد کو دو طلاق کے بعد بھی زوجیت میں رکھنے کا اختیار ہے۔ بشرطیکہ عدت نہ گزر گئی ہو ایسی حالت میں مرد کو عورت اس کے عطیہ میں سے کل یا جزو واپس دے کر پیچھا چھڑا لے تو مضائقہ نہیں، اس کو شرع میں خلع کہتے ہیں۔ 12 منہ
اس سے طلاق لے اور مہر جو کچھ دیا ہے واپس دے ‘ سو یہ بالاتفاق حرام ہے جیسا کہ سورة نساء میں فرماتا ہے۔ وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ آتَیْتُمُوْھُنَّ اور اگر دونوں جانب سے خوف ہو تو بھی عند اللہ مرد کو یہ مال لینا درست نہیں گو بظاہر عدالت شریعت دلوا دے اور اگر دونوں جانب سے نہیں تو یہ وہی صورت اختلافی ہے کہ جس میں زہری وغیرہ ایک طرف اور اکثر مجتہدین ایک طرف ہیں۔ (3) فامساک بمعروف او تسریح باحسان کے صاف معنی یہ ہیں کہ دو طلاق کے بعد رجوع کرلے یا رجوع نہ کرے عدت گزر جانے دے اور یہی تسریح باحسان ہے یعنی اچھی طرح سے چھوڑ دینا۔ بعض کہتے ہیں کہ تسریح سے مراد تیسری طلاق ہے کہ پھر بالکل ہی جھگڑا پاک ہوجاوے چناچہ اگلی آیت فان طلقہا میں اس کا بیان ہے۔ (4) مرتان دو دفعہ کرکے طلاق دینا ہے اثنان میں یہ بات نہیں بلکہ صرف دو طلاق عام ہے کہ ایک بار دی گئیں یا دو بار بطریق اولیٰ مرتان کا اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ گو حالت مجبوری میں طلاق بغیر چارہ نہیں مگر جہاں تک ہو سکے اس رشتہ کو قائم رکھے اس لیے ایک بار دو طلاق دینا شارع (علیہ السلام) نے مذموم قرار دیا ہے۔ یہ اس لیے کہ ایک طلاق کے بعد شاید مرد کا غصہ یارنج جو باعث طلاق ہو ‘ جاتا رہے اور مہر و محبت اور خانہ داری کی مصلحت معلوم ہوجائے تو پھر مل سکتے ہیں۔ دائود اور ابن حزم وغیرہ ظاہری تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر دو یا تین طلاق ایک بار دے گا تو ایک ہی واقع ہوگی کیونکہ اس سے شارع نے منع کیا ہے اور ممنوع کا وجود شرعاً معتبر نہیں مگر آئمہ اربعہ و جمہور اہل سنت و جماعت اس کے برخلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں ممنوع فعل کے وجود کا انکار کرنا محسوس کا انکار کرنا ہے۔ زنا چوری ہرچند ممنوع مگر جو ان کو عمل میں لائے گا اس پر زنا اور چوری کی ضرور سزا شرعاً واقع ہوگی۔ احادیث صحیحہ سے بھی پایا گیا ہے کہ تین طلاق ایک بار دینے سے وہ تین ہی سمجھیں گئیں اور حلالہ بغیر چارہ نہ ہوا اور لفظ فان طلقہا مرتان کے بعد اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ (5) خلع یعنی مال لے کر طلاق دینا کیا ہے ؟ حضرت علی و عثمان و ابن مسعود ؓ و حسن بصری و شعبی و نخعی و عطار و ابن مسیب و شریح و مجاہد و مکحول و زہری و سفیان ثوری و امام ابوحنیفہ اور ایک قول امام شافعی کا بھی یہی ہے کہ یہ طلاق بائن ہے اور اس کو طلاق علی المال کہیں گے۔ اس میں پوری عدت لازم ہوگی مگر ابن عباس اور طائوس اور عکرمہ اور امام شافعی کا دوسرا قول یہ ہے کہ خلع فسخ ہے یعنی نکاح کو ادھیڑ دینا اس میں ایک حیض تک عورت کو روکنا لازم ہے تاکہ حمل کا حال معلوم ہوجاوے پھر نکاح کرنے کا اختیار ہے۔
Ayahs 2:230–232ترکیب : فان طلقہا شرط فلا تحل فعل ضمیر ہی راجع عورت کی طرف فاعل لہ متعلق لا یحل من بعد متعلق فعل مذکور حتی غایۃً لا تحل تنکح فعل ضمیر ہی۔ فاعل زوجا مفعول موصوف غیرہ صفت یہ تمام جملہ جواب شرط فان طلقہا ای الزوج الثانی جملہ شرط فلا جناح علیہما ای المرۃ والزوج الاول ان یتراجعا فی محذوف جملہ جواب شرط ان شرطیۃ ظنا فعل الزوجان فاعل ان یقیما الخ جملہ مفعول پھر یہ سب شرط اور فلا جناح دال بر جزاء تلک مبداء حدود اللّٰہ خبر موصوف یبینہا الخ جملہ صفت واذا طلقتم النساء شرط فامسکوھن الخ جواب ضرارا مفعول لہ تمسکوھن وما معطوف ہے نعمت اللہ پر ان ینکحن ای من ان ینکحن۔
تفسیر : اس آیت میں طلاق کے متعلق پانچواں حکم بیان فرماتا ہے وہ یہ کہ اگر اس نے تیسری طلاق بھی دے دی تو اب رجوع کرنے کا حق اول خاوند کو باقی نہ رہا۔ بالکل اس کے اختیار سے باہر ہوگئی۔ اب جو یہ شخص اس عورت سے ملاپ کرنا چاہے تو اس کو یہ اس وقت حلال ہوگی کہ جب اور شخص سے نکاح کرے گی اور وہ اس سے صحبت کرکے (جیسا کہ صحیحین میں حدیث 1 ؎ زن رفاعہ سے ثابت ہے ] 1 ؎ بخاری اور مسلم کی روایت ہے آنحضرت ﷺ کے پاس رفاعہ کی بیوی نے آکر عرض کیا کہ یا حضرت مجھ کو رفاعہ نے طلاق دی تھی ٗ پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کرلیا مگر یہ سست نکلا۔ آپ نے فرمایا تو یہ چاہتی ہو کہ پھر رفاعہ کے پاس جاوے ؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا یہ نہیں ہوگا جب تک کہ تیرے مزے سے وہ اور تو اس کے مزے سے واقف نہ ہو لے یعنی باہم جماع نہ ہو لے۔ 12[) طلاق دیوے سو اب اگر ان کو یہ گمان ہو کہ ہم باہم سلوک و محبت سے گزران کریں گے اور حقوق زوجیت پر قائم رہیں گے تب رجوع کرنا یعنی بعد عدت کے پھر نکاح کرنا درست ہے مگر یہ شخص جس سے کہ حلالہ کے لیے نکاح ہوا شرط نہ کرے کیونکہ حضرت ﷺ نے ایسی صورت میں دونوں پر لعنت کی ہے بلکہ اس شخص کو اختیار ہے چاہے طلاق دے یا نہ دے۔ اس میں سریہ ہے تاکہ خاوند اول تین طلاق دینے کی پوری سزا پا کر پھر کبھی ایسی لغو حرکت کا قصد نہ کرے۔
واضح ہو کہ دو طلاق دینے کے بعد عورت کے تین حال ہیں۔ (1) یہ کہ مرد اس سے رجوع کرلے یعنی عدت کے اندر ملاپ کرلے سو اس کو فامساک بمعروف میں بیان فرمایا۔ (2) یہ کہ رجوع نہ کرے یہاں تک کہ عدت تمام ہوجاوے اور بالکل جدائی ہوجاوے اس کو تسریح باحسان میں ظاہر فرمایا۔ (3) یہ کہ تیسری اور طلاق دے کر بالکل انقطاع کردے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا فان طلقہا الخ الطلاق مرتان کے بعد فان طلقہا متصل ہے اور ان دونوں آیتوں کے بیچ میں ولا یحل لکم الخ آیت خلع بطور جملہ معترضہ آگئی ہے۔
اس کی شان نزول میں یوں منقول ہے کہ معقل بن یسار کی بہن کو اس کے خاوند جمیل بن عبداللہ بن عاصم نے طلاق دی اور عدت کے بعد پھر پشیمان ہو کر اس سے نکاح کی درخواست کی ٗ عورت نے منظور کرلیا مگر معقل بن یسار نے خفا ہو کر روک دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ تب معقل نے کہا میں خدا کے حکم پر راضی ہوں۔ رواہ الحاکم۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب عورت ایک مدت ایک مرد کے پاس رہ کر مباشرت کرچکی ہو گو کسی سبب سے باہم طلاق کی نوبت پہنچ گئی ہو مگر باہم ایک تعلق باقی رہتا ہے۔ اس لیے اول خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے کا اشارہ ہوا اور اس کی حکمت کو اشارتاً ذلک ازکی لکم واطہر میں بیان فرمایا۔ پھر واللہ یعلم وانتم لاتعلمون میں اور بھی توضیح کردی۔
مخالفین اسلام طلاق کے بارے میں بھی اعتراض کیا کرتے ہیں کہ شریعت نے ایسے مکروہ مسئلہ کو جائز رکھا کہ جو باہمی محبت اور تمدن کے برخلاف ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طلاق مکروہ چیز ہے اور اس لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ خدا کے نزدیک نہایت ناپسند ہے اور جو عورت بغیر کسی لاعلاج ضرورت کے طلاق لے گی اس پر جنت کی بو بھی حرام ہوگی مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ میاں بیوی کو تمام عمر مل کر گذارنی پڑتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ خود خصلت کا موافق آنا ضروری بات نہیں علاوہ اس کے سینکڑوں ایسی سخت ضرورتیں درپیش ہوجاتی ہیں کہ جن کا علاج بجز طلاق کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے اس شریعت نے نہ یہود کی طرح افراط کو دخل دیا کہ خوامخواہ بھی ذرا سی بات پر طلاق 1 ؎ دینے کی اجازت دی ہو بلکہ اول یوں فرمایا کہ عورتوں کی کج خلقی پر صبر کیا کرو ان کے ساتھ نہایت سلوک و احسان کے ساتھ پیش آیا کرو اور عورتوں کو سمجھایا کہ تم پر مردوں کی اطاعت اور حفظ ناموس اور خیرخواہی ضرور ہے۔ اس کے بعد اشد ضرورت کے لیے طلاق کی اجازت دی مگر اس کے ساتھ بھی یہ باتیں ملحوظ رکھیں تاکہ پھر ملاپ ہوجاوے۔ اول یہ کہ طہر میں طلاق دے شاید حیض کے وقت کسی بات سے دل پر نفرت آگئی ہو۔ دوم ایک بار تین طلاق نہ دے شاید پھر بیچ میں ملاپ ہوجاوے اور غصہ فرو ہو کر سمجھ آجاوے۔ سوم عدت کے بعد بھی ملاپ کا رستہ رکھا اور نہ عیسائیوں کی طرح تفریط کو کام فرمایا کہ عورت کیا ہوئی بلائے جان ہوگئی۔ کچھ ہی کرے بغیر زنا کے اور کسی سبب سے طلاق نہ دے۔ جس کے برے نتائج مشاہدہ میں رات دن آتے رہتے ہیں۔
1 ؎ اسی بات کو حضرت مسیح (علیہ السلام) نے مذموم فرمایا ہے۔ 12 منہ