Ayahs 2:172–173ترکیب : یا حرف ندا۔ ایہا الخ منادی کلوا کا مفعول محذوف ہے ای کلوارزقکم اور من اخفش کے نزدیک زائدہ ہے انا کلمہ حصر حرم فعل ضمیر راجع طرف اللہ کے اس کا فاعل میتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ معطوف یکے بعد دیگرے اس کا مفعول فمن شرطیہ غیر باغ حال ولاعاد اس پر معطوف فلا اثم جواب شرط۔
تفسیر : اول آیت میں خدا تعالیٰ نے عام لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ہماری پاک اور حلال چیزیں کھائو، یہاں خاص مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ تم ان احمقوں کی باتوں میں نہ آئو۔ ہماری پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے پاک چیزیں شوق سے کھائو پیو اور ہماری نعمت کا شکر کرو کہ ہم نے ان چیزوں کو تمہارے لیے پیدا کیا ہے مگر جن چیزوں کو وہ لوگ پاک سمجھتے ہیں ٗ ان میں سے صرف یہ چار چیزیں حرام و ناپاک ہیں ٗ ان کو نہ کھانا۔ اول مردار ٗ دوم خون ٗ سوم سور کا گوشت ٗ چہارم وہ جو غیر اللہ یعنی بتوں کے نام زد ہوجاوے یا ان کے نام سے ذبح کیا جاوے اور جب کوئی اس طرح بھوک کے مارے ناچار ہوجائے تو اس وقت ان چیزوں کے کھانے میں بھی گناہ نہیں بشرطیکہ سدِّرمق ہو حد سے متجاوز نہ ہو اور خدا کی عدول حکمی اور سرکشی بھی مقصود نہ ہو۔ خدا غفور و رحیم ہے۔ اگر تم سے کھانے میں بشریت سے کچھ زیادتی ہوگئی تو معاف کر دے گا۔ اب ہم آیت کا مطلب بیان کرکے چند ابحاث بیان کرتے ہیں کہ جو الفاظ قرآن سے متعلق ہیں اور جن پر بہت سے مسائل فقہیّہ متفرع ہیں۔
بحث اول : کلوا یعنی کھائو۔ یہ امراباحت کے لیے ہے یعنی طیبات کا کھانا جو فرمایا تو اس سے مقصود اجازت اور پروانگی ہے۔ فرض نہیں ہے لیکن کھانا اس وقت میں کہ خوف ہلاکت ہو ٗ حفظ جان کے لیے واجب ہوجاتا ہے اور کبھی نعمائِ الٰہی کا کھانا مہمانوں کا ساتھ دینے کے لیے مستحب ہوتا ہے اور اسی طرح افطاری اور ولیمہ اور مریض وغیرہ کے لیے اگر کوئی تکلف کا کھانا پکاوے تو مستحب ہے۔ جیسا کہ حضرت زید بن علی بن حسین (علیہم السلام) سے منقول ہے۔ البتہ نفس تازہ کرنے کے لیے ایسے امور کا عادی ہونا مذموم ہے۔ اسی لیے صحابہ ؓ اور تابعین ان لذائذ سے حتی المقدور دور رہتے تھے۔
بحث دوم : طیبات طیبہ کی جمع ہے اور طیب کے معنی پاک اور مزیدار کے ہیں کہ جس میں کچھ مضرت نہ ہو اور حلال وہ کہ جس کو شرع نے ممنوع نہ کیا ہو۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ شریعت نے ان ہی چیزوں کو حرام و ممنوع کیا ہے کہ جن میں انسان کے لیے مضرت ہے ٗ خواہ یہ مضرت اس کے بدمزہ اور ردی الکیفیت ہونے کی وجہ سے ہو کہ جس کو طبیعت قبول نہیں کرتی۔ جیسا کہ مردار وغیرہ اشیاء یا اس وجہ سے کہ اس کے اخلاق اور عادات میں نقصان اور برائی پیدا کرتے ہیں۔ جیسا کہ سور اور دیگر درندوں اور شکاری جانوروں کا گوشت کیونکہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسی چیزوں کے کھانے سے بےحیائی اور سخت دلی پیدا ہوتی ہے اور یہ اس لیے کہ غذا جزو بدن ہوتی ہے اور اپنا اثر کھانے والے میں پورا پورا پیدا کرتی ہے اور اسی وجہ سے سود اور چوری اور غصب اور دیگر ناجائز پیشوں کی کمائی حرام کی گئی کہ ان سے اخلاق انسانی میں فتور پڑتا ہے۔ دیکھئے سود خوار کس درجہ کے بےرحم ہوتے ہیں کہ مفلس بھائی سے ایک کے سو لے کر بھی پیچھا نہیں چھوڑتے یا اس وجہ سے کہ اس کے حواس سلیمہ اور عقل میں فتور برپا کرتے ہیں جیسا کہ شراب وغیرہ مسکرات اور جب طیب کے یہ معنی ہوئے تو اس لیے نبی ﷺ نے اس کی ہر ایک صورت کی مختلف عبارتوں سے تفسیر فرمائی ہے۔ کبھی طیب اس کے کسب حلال کو قرار دیا اور کہیں اشیائِ غیر مضرہ کو فرمایا۔
یہ باتیں ظاہر ہے کہ طیب کے معنی میں ہر قوم اور ہر ملک بلکہ ہر شخص کا جداگانہ خیال ہے جن چیزوں کو بہت سے اہل عقل سلیم ناپاک اور مضر اور نفرت کے قابل جانتے ہیں۔ سینکڑوں ان کو اچھا سمجھتے ہیں۔ بعض کو یہ افراط ہے کہ کوئی بھی نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ مردار کے کیڑے بھی بڑے مزے سے کھاتے ہیں چہ جائیکہ برانڈی شراب اور موٹے تازے سور اور اسی طرح سود اور زناکاری کی کمائی کو بھی رفاہ قوم اور ترقی ملک و دولت اور لوگوں کی حاجت براری کا باعث جان کر نہایت اچھی کمائی جانتے ہیں اور بعض کو اس تفریط نے گھیرا کہ صدہا پاک اور عمدہ چیزیں بھی حرام کر رکھی ہیں۔ جیسا کہ گوشت بالخصوص گائے کا گوشت اور ان کے پیشوائوں نے تو عمدہ کھانے اور سرد پانی اور اچھا کپڑا اور بیوی کے پاس جانا بھی حرام کردیا۔ پس جب یہ حال تھا تو خدا تعالیٰ نے طیب کی تشریح بھی الہام ربانی کے اختیار میں رکھ کر پہلی آیت میں طیب کو حلال کے ساتھ مقید کیا اور یہاں من تبعیضیہ لا کر آگاہ کردیا جن کو عوام کالانعام طیب سمجھتے ہیں وہ سب نہیں بلکہ اس میں سے وہ کہ جو دراصل طیب ہے اور میں نے اس کو تمہارے کھانے کے لیے پیدا کیا ہے مارزقنکم (اس پر دال ہے) اور اس سے آیت میں جس طرح اس قوم اہل تفریط کا رد ہے کہ جس نے اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کو ازخود حرام کر رکھا تھا اسی طرح اس آیت میں اس اہل افراط کا رد ہے کہ جو شتر بےمہار ہوگئے تھے اور جو لوگ پاک چیزوں کو عبادت سمجھ کر نہ کھاتے تھے ٗ ان کی یوں تسلی کہ تم ان نعمتوں کو کھا کر میرا شکر کرو۔ ایسے مزے کے وقت خدا کو یاد کرنا اور اس کا تہ دل سے شکر بجا لانا بڑی عبادت ہے۔ واشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون۔
بحث سوم : انما حرم علیکم المیتۃ الخ لفظ انما حصر کے لیے آتا ہے جس کے معنی صرف یا فقط کے ہیں۔ اب یہاں ایک شبہ ہوتا ہے کہ اس آیت میں اور نیز سورة انعام (قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ اودما مسفوحا اولحم خنزیر) انہیں چند چیزوں کا ذکر ہوا ہے یعنی مردار ٗ خون ٗ سور کا گوشت اور جو کہ غیر اللہ کے نام سے ذبح کیا جاوے یا ان کے نام سے پکاری جاوے حالانکہ ان کے سوا اور بھی چیزیں حرام ہیں جیسا شیر و بھیڑیا ٗ ریچھ ٗ کتا وغیرہ درندے اور باز ٗ چیل ٗ کوا وغیرہ شکاری پرندے اور اسی طرح حشرت الارض سانپ ٗ بچھو ٗ نیولا ٗ چوہا وغیرہ اور اسی طرح مردار خور اور نجاست کھانے والے جانور جیسا کہ گد اور لم ڈھینگ وغیرہ اور اسی طرح قرآن میں بھی ان چار چیزوں کے علاوہ اور حرام چیزیں مذکور ہیں جیسا کہ خمیر یعنی شراب اس کا جواب بعض کے نزدیک یہ ہے کہ کلمہ انما اس جگہ حصر کے لیے نہیں آیا اور ایسا اکثر زبان عرب میں مستعمل ہوا ہے۔ محققین یہ جواب دیتے ہیں کہ حصر اضافی ہے نہ مطلق یعنی ان چیزوں میں سے کہ جن کو تم نے ازخود اپنے لیے حرام کر رکھا ہے صرف یہ چیزیں حرام ہیں۔ المیتۃ بروزن فیعلۃ اور اس کی اصل میتوتۃ ہے۔ پس جبکہ و اور ی جمع ہوئی اور اول ساکن تھا تو و کو ی سے بدل لیا پھر ی کو ی میں ادغام کردیا لیکن کثرت استعمال سے اس کو بالتخفیف پڑھنے لگے ورنہ دراصل مشدود ہے جیسا کہ سیّد اور ہیّن۔
احکام مردار : لغت میں میتہ اس جانور کو کہتے ہیں جو بغیر ذبح مرجاوے جس کو مردار کہتے ہیں اور اسی لیے عرب مقتول اور میت کے معنی میں فرق کرتے ہیں اور شرع میں عام معنی مراد لیے گئے ہیں یعنی جو کہ بطور معمولی ذبح نہ کیا جاوے خواہ خودبخود مرجاوے خواہ ذبح معمولی نہ ہو یعنی غیر اللہ کے نام سے ذبح کیا گیا ہو یا حلقوم نہ کاٹا گیا یا حلقوم بغیر نام اللہ کے کاٹا ہو یا مشرک نے کاٹا ہو یا پہاڑ یا دیوار پر سے گر کر مرگیا ہو یا اس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو یا اس کا گلا گھونٹ کر مارا ہو۔ ان سب کو عرف شرع میں میتہ یعنی مردار کہتے ہیں اور اس لیے سورة مائدہ میں بعد لفظ میتہ کے اور چیزیں بھی جو اس کا مصداق تھیں بطور تفسیر مذکور ہوئی ہیں۔ قال تعالیٰ حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخفۃ والموقوذۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الاما ذکیتم وما ذبح علی النصب الآیۃ اور یہ دلیل اس پر سورة انعام کی یہ آیت ہے ولا تأکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق الآیۃ کہ جو خدا کے نام سے ذبح نہ کیا جاوے اس کو مت کھائو۔ اس لیے کہ اس کا کھانا بدکاری ہے۔ یہاں کچھ استنثاء نہیں کہ اہل کتاب کا گلا گھونٹا جانور یا ان کا جھٹکا کیا ہوا یا یوں ہی بندوق سے مارا ہوا درست ہے بلکہ وہ سب ممالم یذکر اسم اللہ علیہ میں داخل ہے اور مردار ہے۔ پس جو اس کو درست کہتا ہے وہ غلطی پر ہے اور اجماع جمہور کے بھی سراسر برخلاف ہے۔ حکمت مردار کے حرام کرنے میں یہ ہے کہ اس میں ایک قسم کی سمیت پیدا ہوجاتی ہے گو وہ سمیت فی الفور اپنا اثر نہیں دکھاتی مگر بارہا تجربہ میں آیا ہے اور اسی لیے ایسا گوشت بدمزہ ہوتا ہے اور بالخاصیت روح کی تاریکی میں بھی ایسی چیزوں کو اثر ہے۔ اس لیے دونوں کے لیے دو باتیں مقرر ہوئیں۔ ذبح باسم اللہ جو حمقاء اس سِرّ سے واقف نہیں ٗ وہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ خدا کی ماری حرام اور بندے کی ماری حلال یہ عجیب مسئلہ ہے۔
فوائد : (اول) نص قرآن سے میتہ کی حرمت ثابت ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں البتہ اس کے متعلق اور بہت سے مسائل ہیں کہ جو علمائِ دین نے احادیث یا اجتہاد سے پیدا کئے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ مچھلی اور ٹڈی اس حکم سے بحکم حدیث صحیح مستثنیٰ ہیں 1 ؎ احلت لنا میتتان ودمان اما المیتتان فالسمک والجراو واما الدمان فالکبد والطحال اور سِرّ اس کا یہ ہے کہ مچھلی کا مادہ بیشتر پانی ہے کہ جو
1 ؎ ہمارے لیے دو غیر مذبوح اور دو خون حلال کئے گئے ہیں دو غیر مذبوح مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی ہے۔ 12
بالطبع پاک ہے اور نیز اسی لیے اس میں خون نہیں کہ جس کے نکالنے کی ضرورت ہو اور ٹڈی بےتوالد و تناسل خود بخود پیدا ہوتی ہے اور نہ اس میں خون رواں ہے باوجود یکہ ان میں وہ مضرتیں بھی نہیں کہ جو اور جانوروں میں ہیں۔ اسی لیے ان کا ذبح کرنا ضرور نہ ہوا مگر جو مچھلی کہ پانی میں خود مر کر اوپر تیر آئے کہ جس کو طافی کہتے ہیں ٗ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مکروہ ہے۔ ابن عدی نے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے ازآنجملہ یہ کہ مردار کا صرف کھانا حرام ہے باقی اس کی کھال اور بالوں اور ہڈیوں سے نفع لینا درست ہے، اسی طرح مردار کو کتے وغیرہ جانوروں کو کھلانا درست ہے۔ ہاتھی دانت کی چیزیں اور سمور وغیرہ پوستین اور مردار جانوروں کے چمڑے بعد دباغت کے آنحضرت ﷺ کے سامنے مستعمل ہوتے تھے۔ آپ نے منع نہ فرمایا از آنجملہ یہ کہ جب کوئی جانور ذبح کیا جاوے اور اس کے شکم سے مردہ نکلے تو اس میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ میتہ ہے ٗ اس کا کھانا درست نہیں۔ ہاں اگر زندہ نکلتا اور ذبح کیا جاتا تو درست ہوتا۔ امام شافعی اور ابو یوسف اور محمد کہتے ہیں کہ اس کا کھانا درست ہے کس لیے کہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا ذبح کرنا ہے۔ تفسیر کبیر۔
احکامِ دم : (دم) سے مراد ابوحنیفہ کے نزدیک دم مسفوح ہے یعنی خون رواں اور امام شافعی کے نزدیک مطلق ہے۔ کس لیے کہ اس آیت میں کوئی قید نہیں۔ پس ان کے نزدیک جو خون گوشت پر جما ہو ٗ وہ بھی اور جو بہتا ہو وہ بھی سب حرام ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں چونکہ دوسری جگہ دم مقید ہے بقید مسفوح (اودما مسفوحا) تو اس جگہ بھی وہی مراد ہوگا۔
عرب خون کو جما لیتے تھے ٗ پھر اس کو توے وغیرہ پر بھون کر کھاتے تھے اور یہ اخلاق انسانی کو فاسد کرتا ہے۔ علاوہ جسمانی امراض کے یہ نجس چیز کہ جس کی نجاست بالذات انسان کو سخت دل کرتی ہے ٗ اس لیے طبائعِ سلیمہ اس سے نفرت کلی رکھتے ہیں مگر کلیجی اور تلی اگرچہ بظاہر خون بستہ ہیں مگر بحکم حدیث مذکورہ مستثنیٰ ہیں۔ اس لیے ان کا کھانا درست ہے ( لحم الخنزیر) تمام امت محمدیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سور کی کل چیزیں گوشت چربی وغیرہ حرام ہیں ٗ ان کا کھانا درست نہیں مگر اس آیت میں گوشت جو ذکر کیا تو اس لیے کہ پیشتر اسی کو کھایا کرتے ہیں ( کل کو بعض اجزاء کے ساتھ تعبیر کرنا عرب کی زبان میں مروج ہے ٗ نماز کو رکوع کے ساتھ تعبیر کیا کرتے ہیں) نہ اس لیے کہ خاص گوشت حرام اور چیزیں حلال ہیں۔ اس جانور کے گوشت میں جس قدر کیڑے خورد بینوں سے حکمائِ حال نے معلوم کئے ہیں ان کے بیان کی کچھ ضرورت نہیں اور نیز بعد تحقیقات اس کے گوشت میں بیشمار مضرتیں ثابت ہوئی ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس جانور میں بےحیائی اور حرص اور نجاست خوری ازحد ہے اور یہ ظاہر ہے کہ غذا کا اثر انسان کے اخلاق تک ضرور پہنچتا ہے۔ چناچہ حکماء نے اس مسئلہ کو خوب ثابت کردیا ہے۔ پس ان چیزوں کا حرام کرنا عین مصلحت اور اس حکیم مطلق کی رحمت و حکمت کا مقتضی ہے۔
بحث و ما اہل بہ لغیر اللہ : (وما اہل بہ لغیر اللہ) اہلال آواز کا بلند کرنا پس ہر پکارنے والے کو مہل کہتے ہیں اور محرم چونکہ احرام باندھتے وقت پکار کر تکبیر کہتا ہے اسی لیے اس کو بھی مہل کہتے ہیں اور اسی لیے ذبح کرنے والے کو مہل کہتے تھے کیونکہ عرب جب جانور ذبح کرتے تھے تو اپنے بتوں کا نام پکار لیتے تھے اور اسی سے ہے استہل الصبی کیونکہ وہ بوقت ولادت چلاتا ہے اور اسی لیے چاند دیکھنے والے کو مستہل کہتے ہیں۔ اب گفتگو اس میں ہے کہ اس جگہ پکارنے سے کیا مراد ہے ؟ ضحاک اور مجاہد اور قتادہ کہتے ہیں ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارنا مراد ہے اور جمہور مفسرین کا اسی طرف میلان ہے اور اسی لیے وہ عند الذبح کی قید لگاتے ہیں۔ اس تقدیر پر آیت کے یہ معنی ہوئے کہ جو چیز غیر اللہ کے نام سے ذبح کی جاوے وہ حرام ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں مفصلاً مذکور ہے لیکن ربیع (رح) وغیرہ علماء کہتے ہیں کہ کوئی قید آیت میں نہیں بلکہ غیر اللہ کے نام سے کسی جانور کا نامزد کردینا یہی حرمت کے لیے کافی ہے۔ جیسا کہ ہندوستان میں شیخ سدو کا بکرا اور سید احمد کبیر کے نام سے گائے پکاری جاتی ہے اور ہندوئوں میں دستور ہے کہ کالی بھوانی وغیرہ کے نام سے سانڈ چھوڑے جاتے ہیں۔ عرب میں بتوں کے نام سے چھوڑتے ہیں۔ پس جب یہ جانور غیر اللہ کے نامزد ہوگئے یعنی بطور تقرب ان کو ان کے نام سے پکارا گیا تو ان میں شرک کی خباثت سرایت کرگئی اور یہ خبث باطنی اس جانور کے رگ و پے میں دوڑ گیا۔ پس جس طرح کہ سور وغیرہ کو اللہ کے نام سے ذبح کرنا کچھ فائدہ نہیں بخشتا بلکہ حرام ہی رہتا ہے اسی طرح ان جانوروں کو بھی خدا کے نام سے ذبح کرنا کچھ فائدہ نہیں دیتا بلکہ حرام ہی رہتا ہے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز قدس سرہ اپنی تفسیر میں اسی قول کو ترجیح دیتے ہیں۔ احتیاط بھی اسی میں ہے اور قطع شرک کے لیے یہی قول مناسب ہے۔ بعض پادری پولوس کے فتوے کے بموجب کہ پاکوں کو ہر چیز پاک ہے الخ قرآن مجید پر اس قسم کے احکام سے جو حلت و حرمت اشیاء کے متعلق ہیں ٗ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ یہ باتیں جسمانی شریعت کی ہیں اور ہیچ حالانکہ خود تورات کی کتاب احبار وغیرہ میں اس سے کہیں زیادہ چیزیں ہیں کہ جن کو حرام بتایا ہے۔ بالخصوص سور و مردار شراب کو اور پھر تمام انبیائِ بنی اسرائیل حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان حرام چیزوں سے جو ہمیشہ پرہیز کرتے چلے آئے ہیں ٗ پھر کیا وہ پاک نہ تھے۔ ان کے لیے یہ چیزیں کیوں پاک نہ ہوگئیں ؟ دراصل یہ شیطانی وسوسہ ہے ٗ پھر نفس پرست لوگوں نے اس کو اور بھی جلاد دی ہے ورنہ حقائق الاشیاء کبھی نہیں بدلتیں۔ (4) فمن اضطر اضطرار بےبسی اور ناچاری کو کہتے ہیں۔ یہ ناچاری کئی طور سے ہوتی ہے۔
اول : کوئی حلال چیز اس کے پاس (بسبب بےمقدوری کے یا بسبب نایاب ہوجانے کے جیسا کہ بیابانوں اور ایام قحط اور سفر دریا میں ہوتا ہے) نہ رہے اور یہ شخص بھوک کے مارے چل پھر نہ سکے۔
دوم : کسی مرض شدید میں گرفتار ہوجاوے اور سوائے ان چیزوں کے نہ پاوے یا طبیب متدین اس کے لیے خاص انہیں چیزوں میں سے کوئی چیز بتلا دے۔
سوم : کوئی ظالم ان چیزوں کے کھانے پر مجبور کرے اور کہے کہ اگر تو نہیں کھاتا تو میں تجھ کو مار ڈالتا ہوں یا تیرے کسی عزیز بیٹے بھائی وغیرہ کو مار ڈالتا ہوں یا ہاتھ پائوں کاٹ ڈالتا ہوں اور اس شخص کو یقین کامل ہوجاوے ٗ اگر میں نہ کھائوں گا تو یہ شخص ایسا کرے گا۔
پس ان سب صورتوں میں خدا تعالیٰ اپنی مہربانی سے بندہ کو ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دیتا ہے۔ سو ایسی صورت میں اس کیلئے مردار اور خون اور مذبوح لغیر اللہ بلکہ شراب مباح ہے بقد رفع ضرورت مگر یہ شرط ہے کہ یہ شخص باغی اور عادی نہ ہو یعنی اس کھانے میں نہ اس کو لذت مطلوب ہو نہ حد سے زیادہ تجاوز کرے۔ ایسے وقت میں بھی یہ چیزیں ناپاک اور گندی ہیں اور ان کی حرمت بدستور ہے مگر اس مخمصہ کی وجہ سے اجازت ہے ٗ کھانے والے پر کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ کھانے میں اس سے کسی قدر بےاعتدالی ہوجاوے تو خدا غفور الرحیم ہے۔
امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ غیر باغ ولاعاد سے مراد یہ ہے کہ یہ شخص سرکش اور باغی نہ ہو جب اس کے لیے یہ چیزیں حالت مخمصہ میں مباح ہیں ورنہ غیر مباح اس پر یہ بات متفرع ہوئی کہ جو شخص امام سے باغی ہو اس کے لیے امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ اجازت نہ ہوگی اور امام اعظم (رح) کے نزدیک ہوگی۔ پس جو امام المسلمین یعنی شاہ اسلام سے بغاوت کرکے کہیں جاوے یا قزاقی اور راہزنی کے لیے سفر کرے یا کسی کو ناحق قتل کرنے کے لیے سفر کرے یا چوری کے لیے جاوے اور اس کو حالت مخمصہ پیش آوے تو اس کے لیے شافعی (رح) کے نزدیک یہ رخصت نہیں۔ ادلہ ہر ایک کی کتابوں میں مشرحاً مذکور ہیں۔
Ayahs 2:174–176ترکیب : الذین موصول یکتمون الخ جملہ صلہ مجموعہ اسم ان۔ اولئک مبتدء یاکلون الخ خبر مجموعہ خبران اولئک مبتدء الذین الخ موصول وصلہ خبر فما موضع رفع میں ہے اور یہ کلام تعجب ہے جس سے خدا مسلمانوں کو تعجب دلاتا ہے۔ اصبر میں ضمیر عائد ہے طرف ما کے وہ فاعل ہے ذلک مبتدء بان اللہ الخ خبر والتقدیر ذلک العذاب مستحق بما انزل اللہ فی القرآن من استحقاق عقوبتہ الکافر فالباء متعلقہ بمحذوف۔
تفسیر : مدینہ کے یہود جانوروں کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے میں بڑی پرہیزگاری جتلایا کرتے اور مسلمانوں پر منہ آیا کرتے تھے۔ حالانکہ خود ایسے حرام کھانے میں بڑے مشاق تھے کہ جو کسی حالت مخمصہ میں بھی مباح نہیں۔ وہ یہ کہ احکامِ الٰہی کو چھپاتے اور کچھ روپیہ پیسے لے کر سائل کے حسب مرضی فتویٰ دے دیتے تھے۔ اس لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ وہ احکام کہ جن کو ہم نے نازل کیا ٗ چھپاتے اور اس سے کچھ قیمت لے کر کھاتے ہیں۔ سو یہ کھانا ان کے لیے جہنم کی آگ ہوجاوے گا اور قیامت کے دن خدا مہربانی کے ساتھ ان سے کلام بھی نہ کرے گا اور نہ ان کو پاک اور بری کرے گا اور ان کے لیے عذاب الیم ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت فطری کھو کے گمراہی خریدی اور مغفرتِ الٰہی جو بندوں کے لیے موعود ہے ٗ زائل کرکے عذاب مول لیا۔ جب انہوں نے عمداً اس قدر اسباب دوزخ کو اختیار کیا تو گویا عملاً دوزخ کو اختیار کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس آتش جہنم کی بڑی برداشت ہے ٗ حالانکہ اس کی کسی کو بھی برداشت نہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ بطور تعجب کے فرماتا ہے کہ ان کو اس کی کیا ہی برداشت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ باتیں محض ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ دراصل یوں ہی ہیں۔ کس لیے کہ ہم نے کتاب برحق بھیج دی اور اس میں جو کچھ موجود ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا اور جو لوگ اس کتاب میں اختلاف کرتے ہیں اور اٹکل پچو تاویلیں کرتے ہیں ٗ وہ راہ راست سے کوسوں دور جا پڑے ہیں۔
فوائد : (1) ہر چیز پیٹ ہی میں کھاتے ہیں ٗ پھر یہاں پیٹ کا ذکر کیا فائدہ دیتا ہے ؟ جواب : کبھی کھانا مجازی معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ سردی کھانا گرمی کھانا۔ اس لیے اس تو ہم کے دفع کے لیے فی بطونہم فرمایا۔ (2) قرآن میں یوں بھی آیا ہے کہ سب سے سوال ہوگا فوربک لنسئلنھم اجمعین اور یہاں کہا ان سے کلام نہ ہوگا۔ جواب : وہاں جو سب کفار سے کلام کرنا فرمایا ہے تو اس کے معنی ہیں بازپرس کے اور جو یہاں نفی کی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ مہربانی کے طور سے کلام نہ کیا جاوے گا اور ہمکلامی کا شرف عطا نہ ہوگا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ علم دین چھپانا اور کتاب اللہ میں تاویلات کے اڑنگے لگانا حرام ہے جس کی سزا جہنم ہے۔
Ayah 2:177ترکیب : البر منصوب ہے کس لیے کہ یہ خبر ہے لیس کی اور ان تولوا الخ جملہ چونکہ اس سے اعراف ہے کس لیے کہ مضمر کسی طرح وصف کیا نہیں جاتا بخلاف البر کے یہ اسم ہے لیس کا اور بعض نے البر کو مرفوع پڑھا ہے۔ فاعل لیس کا مان کر ولکن مشدد مشبہ بفعل البر اسم فاعل من بریبّر ویجوزان یکون مصدرا وصف بہ مثل عدل یہ اسم لکن من امن الخ اس کی خبر علی حبہ فی موضع نصب علی الحال اتی المال محبا والضمیر یرجع الی اللہ ویمکن ان یرجع الی المال۔ والموفون معطوف ہے من امن پر والتقدیر ولکن البرالمومنون والموفون والصابرین منصوب علی المدح ہے معطوف ہے ماقبل پر۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا یا ایہا الناس کلوا مما فی الارض الی ولا تتبعوا خطوات الشیطان کہ خدا کی پاکیزہ چیزیں کھائو اور شکر بجا لائو مگر شیطان کی پیروی نہ کرو کہ بعض چیزوں کو از خود حرام ٹھہرا کر ان سے پرہیز کرنے کو باعث تقرب الٰہی سمجھو بلکہ بڑھ کر حرام خدا کی نافرمانی اور اس کے احکام کا چھپانا ہے۔ اب یہاں یہ بتلایا جاتا ہے کہ جس طرح عوام کا خیال خام ہے کہ بعض مباحات کو ممنوع سمجھ کر ان کے ترک کو خدا کی رضامندی کا باعث سمجھا جاوے اسی طرح عوام کا یہ خیال بھی باطل ہے کہ بعض رسوم کو جو اصول مذہب و ملت نہیں اصول حسنات اور باعث نیکوکاری سمجھا جائے۔ عیسائی اور یہودیوں میں صرف رسوم کی پابندی باقی رہ گئی تھی۔ اصول حسنات چھوڑ بیٹھے تھے ان کے سوا اور مذہب میں بھی صدہا خیالات باطلہ ہیں کہ جن کی پابندی کو اصول حسنات و باعث نجات و موجب رفعت درجات خیال کئے بیٹھے ہیں اور بعض مباحات کے ترک کو باعث رضائے الٰہی و موجب نجات سمجھ کر ان کے ترک کرنے میں بڑی بڑی مشقتیں برداشت کرتے ہیں۔ ایک جہاں اس بادیہ ضلالت میں سرگرداں ہے اس کا تصفیہ کہ دراصل کون کون امور باعث نجات و موجب ترقی درجات ہیں اور کون کون سے افعال باعث ہلاکت ہیں۔ ان سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ نبوت اور الہام انبیاء ہی کا کام ہے جن کے ادراک میں کسی قسم کی غلطی بھی راہ نہیں پاتی۔ اس لیے ان آیات میں اس اہم مسئلہ کا حل کردیا۔ واضح ہو کہ انسان کو دو قوتیں عطا ہوئی ہیں جو اس کی کمالات تک اڑ کر جانے کے دو بازو ہیں۔ اول قوت نظریہ یعنی تصحیح عقائد جس کو معرفت و علم اور ہندی میں گیان کہتے ہیں۔ یہ سب میں اعلیٰ و اشرف ہے۔ زیادہ تر نجات وحیات ابدی کا اسی پر مدار ہے۔ اس لیے اول اسی کو بیان فرمایا۔ اس میں مقدم مبدء یعنی ذات باری اور اس کے انعامات حمیدہ کا جاننا اور جائز اعتقاد رکھنا ہے۔ اسی کو شرع میں ایمان کہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا من امن باللہ کہ جو خدا پر ایمان لاوے۔ دوئم معاد یعنی اس تمام کائنات کا فنا ہوجانا جس طرح وہ اپنے وجود میں ابتدائے طرف میں یکتا ہے جس سے اس کا خالق ومالک ہونا اور جملہ موجودات کا مخلوق و مملوک ہونا عیاں ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ انتہائے جانب بھی یکتا ہے۔ ایک روز سب کا وجود ظلی سلب ہوجائے گا۔ وہی رہے گا اسی لیے فرمایا والیوم الاخر کہ پچھلے دن پر ایمان لائے مگر خدا اور اس کے صفات غیر محسوس ہیں۔ ان کے ادراک میں نہ حواس خمسہ مدد دیتے ہیں ٗ نہ آلات جدیدہ کارآمد ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ان کے بتانے کے لیے روحانی لوگ درکار ہیں اور خدائے مجرد اور انسان مادی میں ایسے واسطہ کی ضرورت ہے اور وہ لوگ نورانی و روحانی ملائکہ ہیں یعنی فرشتے اسی لیے اس کے بعد فرمایا والملئکۃ فرشتوں پر بھی ایمان لائے اور فرشتے چونکہ روحانی ہیں ٗ وہ ہر ایک انسان کو جو آلائشِ جسمانی میں آلودہ ہے نہ نظر ہی آتے ہیں نہ ان کو عالم غیب کے اسرار و حالات ہی بتاتے ہیں بلکہ وہ مخصوص بندوں کے پاس آتے ہیں جو اپنی قوت روحانی کے سبب وہ بھی فرشتوں جیسا تجرد رکھتے ہوں اور اس گروہ خاص کو انبیاء کہتے ہیں۔ اسی لیے وہ ان کے پاس وہاں کے علوم لاتے ہیں جس کو الہام اور وحی کہتے ہیں اور جب یہ الہامات ایک جا مرتب کرلیے جاتے ہیں تو ان کو آسمانی کتاب کہتے ہیں اور دنیا سے اٹھ جانے کے بعد انبیاء کا یہ فیض باقی رہتا ہے۔ اسی لیے ان دونوں میں اسی کو مقدم کرکے فرمایا والکتاب والنبین کہ وہ آسمانی کتابوں پر اور نبیوں پر بھی ایمان لائے۔ اگرچہ انبیاء پر متعدد کتابیں مختلف فرمانوں اور مختلف زبانوں میں نازل ہوئی ہیں۔ چونکہ وہ علوم نظریہ ہیں ٗسب ایک ہی ہیں۔ اس لیے کتب جمع کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ کتاب مفرد لفظ کا جو اسم جنس ہونے کے سب کو شامل ہے اور اس قدر میں اجمالاً ان سب چیزوں پر ایمان لانے کی طرف اشارہ بھی ہوگیا جو ان برگزیدہ لوگوں نے بیان فرمائی ہے۔ دوسری قوت عملیہ ہے جو اعمال صالح اور کرم کے نام سے موسوم ہے۔ ایمان لانے کے بعد اس کے مقتضٰی اور ہدایات کو عمل میں نہ لانا گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کو اس بات کا یقین ہی نہیں جو اس کو عمل میں نہیں لاتا۔ نیک کاموں میں بڑا نیک کام خدا کی مخلوق پر رحم کھانا ٗ ان کے ساتھ سلوک کرنا ہے۔ زبانی اور بدنی سلوک میں سے خاص بڑے بھاری مالی سلوک کو لے لیا اور مخلوق میں بھی بنی نوع کو اور بنی نوع میں سے اہل قرابت کو اور ان کے بعد درجہ بدرجہ دیگر اہل حاجات کو مخصوص کیا۔ اس لیے فرماتا ہے واتی المال کہ اس نے مال بھی دیا ہو مگر نہ ریاکاری اور نمود و شہرت کے لیے کس لیے کہ ایسی ہمدردی دیرپا نہیں ہوا کرتی بلکہ علٰی حبہ بلکہ خدا کی محبت میں اور نیز حبہ کی ضمیر مال کی طرف بھی رجوع کرسکتی ہے۔ تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مال کی خواہش خود کو بھی ہو اس پر اوروں کو دے اور یہ درحقیقت ایک بڑا مردانہ کام ہے ورنہ جب اپنے آپ کو کسی وجہ سے مال کی خواہش نہ رہے تب اس کا دینا کوئی بڑی بات نہیں اور مال دینے کے بڑے عمدہ یہ چھ مواقع ہیں۔ اول ذوالقربٰی اہل قرابت ہیں درجہ بدرجہ قرابت نسبی قرابت سببی اور قرابت صحبت سے مقدم ہے۔ (2) الیتامٰی یتیموں کو دے۔ یتیم اس نابالغ کو کہتے ہیں کہ جس کا باپ مرجاوے ٗ اہل قرابت کے یتیم غیر یتیموں سے مستحق تر ہیں۔ (3) وَالْمَسٰکِیْنَ اور مسکینوں یعنی فقیروں کو دے جو کمانے سے بسبب پیری یا بیماری کے معذور ہوں یا مصیبت پڑجانے سے نان شبینہ کو بھی محتاج ہوگئے ہوں اور جو تندرست و جوان ایسے ہوں کہ انہوں نے بھیک مانگنا پیشہ بنا لیا ہو ٗ وہ مساکین نہیں مگر افسوس خیرات کا زیادہ حصہ یہی گروہ زبردستی سے جھپٹ کرلے جاتا ہے کیونکہ نہ مانگنے میں ان کو شرم مانع ہے نہ غیرت دینی۔ (4) ابن السبیل مسافر کو دے بشرطیکہ وہ محتاج ہو ٗ کس لیے کہ وہ سفر میں بعض اوقات گہر کے دولتمند بھی پیسے تک کے مالک نہیں رہتے۔ (5) السائلین۔ سائلوں کو دے مگر وہی سائل جو بوقت ضرورت مانگتے ہوں ٗخواہ اپنے لیے خواہ قومی کاموں کے لئے۔ (6) وفی الرقاب غلاموں کی آزادی میں صرف کرے۔ یہ بھی ایک بڑی نیکی ہے کہ بنی نوع کو بنی نوع کی دائمی قید سے رہا کرایا جائے۔ مخلوق کے ساتھ رحم کرنے کے ساتھ خالق کے نعماء کا بھی جان سے مال سے شکر گذار عبادت کنا رہنا وصول حسنات ‘ اس لیے اس کا بھی ذکر فرمایا واقام الصلوٰۃ کہ وہ نماز بھی ادا کرتا رہا ہے۔ یہ عبادت اسلام میں روح اور جسم دونوں سے مرکب ہے۔ زبان سے وہ آیات پڑھے جاتے ہیں جن میں خدا کی ثناء و صفت اور اس کی نعمتوں کا شکریہ اور اس سے دعا وغیرہ سے سر جھکایا جاتا ہے۔ روح سے اس کا حضور تصور کرکے دلی نیازمندی و انکساری ادا کی جاتی ہے۔ واتی الزکوٰۃ یہ مالی عبادت ہے ایک میں حصہ مال کا سال بھر میں للہ دینا اسلام کا فرض ہے۔ ان سب باتوں کے ساتھ معاملات میں لوگوں کے ساتھ پورا رہنا بھی اصول حسنات ہے۔ اس لیے یہ فرمایا والموفون بعہدھم اذا عاھدوا کہ حقیقی نیک وہ لوگ ہیں جو عہد باندھ کر اس کو پورا بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا جامعہ جملہ ہے کہ جو جملہ معاملات کو حاوی ہے۔ بیع ٗ لین دین ٗ امانت ٗ اجارہ وغیرہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ جس میں گونہ معاہدہ نہ ہو اور نیز جملہ شریعت کی پابندی بھی اسلام لانے کے ساتھ ضمناً معاہدہ خدا سے ہوتا ہے۔ ان تمام حسنات کے بعد انسان کا اپنے آپ کو اپنی قورئے غضبانیہ و شہوانیہ و نفسانیہ کو قابو میں رکھنا بھی بڑی نیکی ہے۔ ذرا سی بات سے آپے سے باہر ہوجانا بڑی ذلیل حالت اور اکتساب سعادت سے مانع ہے۔ اس کو شرع میں صبر کہتے ہیں۔ صبر کے جملہ مواقع میں سے تین سخت مواقع کا ذکر کرکے جملہ مواقع کی طرف اشارہ کردیا گیا اور وہ تین موقع یہ ہیں۔ اول تنگدستی۔ دوم مرض وغیرہ کی تکلیف۔ سوم دشمنوں کا جنگ۔ ان مواقع میں بڑے بڑے مستقل مزاج بھی بےاختیار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے صبر کو بھی اصول حسنات میں داخل کیا۔ والصابرین فی الباساء والضرا وحین الباس کہ نیکوکار وہ ہیں جو ان تینوں حالتوں میں بھی صبر کرتے ہیں۔ اصول حسنات بیان فرما کر ان کی پابندی کرنے والوں کی مدح فرماتا ہے۔ اولئک الذین صدقوا کہ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کو صادق کہتے ہیں۔ اس میں امور نظریہ کی طرف اشارہ ہے۔ اولئک ھم المتقون اور یہی حقیقی پرہیزگار بھی ہیں۔ یہ عملیات کی طرف اشارہ ہے یعنی قوت نظریہ کی اصلاح سے صادق ہوتا ہے اور قوت عملیہ کی اصلاح تہذیب سے متقی ہوتا ہے۔ یہ ہیں اصول حسنات صرف رسوم مذہب و ملت کی پابندی میں کیا دھرا ہے نہ مشرق کی طرف منہ کرنے سے صادق بن جاتا ہے نہ مغرب کی طرف منہ کرنے سے متقی ہوجاتا ہے۔ کیا جامع کلام ہے۔
Ayahs 2:178–1791 ؎ خدا پاک نے اول حر کو ذکر کیا اس لیے کہ حر تمام ان دقتوں سے بری ہے کہ جو عبد کے ساتھ متعلق ہوتی ہے پھر عبد کو بیان کیا جو حر سے درجہ میں کم ہے مگر انثیٰ سے باعتبار الرّجال قوامون علی النساء فائق ہے عبد کے بعد پھر انثیٰ کو ذکر کیا جو لائقِ تاخیر ہے۔ 12 منہ
ترکیب : یا حرف ندا الذین امنو منادی کتب فعل مجہول القصاص مفعول مالم یسم فاعلہ علیکم متعلق ہے کتب سے یہ جملہ مفسر اور الحر مبتد بالحر خبر۔ ای الحر ماخوذ بالحر الخ یہ اس کی تفسیر پھر مجموعہ ندا من موضع رفع میں ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور جائز ہے کہ شرطیہ ہو اور فاتباع اس کی خبر والتقدیر فعلیہ اتباع۔ باحسان موضع نصب میں ہے۔ بسبب ادا کے اور یہی حال ہے بالمعروف کا اور جائز ہے کہ حال ہو ہاء سے فعلیہ اتباعہ عادلامحسنا اور عامل اس میں معنی استقرار ہیں فمن اعتدٰی شرط فلہ عذاب الیم اس کی جزا۔
تفسیر : اس سے پہلی آیت میں صبر کی ترغیب تھی اور تنگدستی اور مرض اور جنگ میں صبر کرنے والوں کی خوبی مذکور تھی۔ اب منجملہ مواقع صبر کے ایک بڑا موقع بیان فرمایا جاتا ہے کہ جہاں صبر نہ کرنے سے ایک فساد عظیم اور سخت خونریزی پیدا ہونے کا احتمال ہے اور وہ قتل کا موقع ہے۔ جاہل قوموں میں جب کوئی ان کی قوم کے آدمی کو قتل کر ڈالتا تھا تو جوش اور غصہ میں آکر صرف قاتل ہی پر بس نہ کرتے تھے بلکہ جو کوئی اس کی قوم کا ملتا تھا ٗ خواہ قصور وار ہو یا نہ ہو سب کو قتل کر ڈالتے تھے اور نیز بڑے آدمی کے معاوضہ میں صرف قاتل کا مارنا اس کی شان کے
خلاف جانتے تھے بلکہ اس کے بدلہ میں دس بیس پر بھی بس نہ کرتے تھے۔ اسی لیے ان آیات میں صبر کے مسئلہ کے بعد قتل کے احکام بیان کردینا اس مسئلہ سے نتیجہ حاصل کرنا ہے کہ ایسے وقت جوش میں نہ آئو بلکہ جو کچھ انسانیت کے حقوق ملحوظ کرکے ہم نے حکم دیا ہے اس کی پابندی کرو اور فرما دیا کہ اے مومنو ! تمہارے لیے ہم نے مقتولوں کے بارے میں قصاص 1 ؎ مقرر کردیا ہے یعنی برابری کا حکم دیا ہے۔ تم کو لازم ہے کہ ایسے وقت بھی صبر کرو اور عدالت کو ہاتھ سے نہ دو جو کوئی کسی کو قتل کرے اس کے بدلے میں اسی کو قتل کرو اگر حرکو قتل کرے تو اس کے بدلے میں اس حر یعنی آزاد کو قتل کرو۔ اس کی شرافت ‘ حسب و نسب و حسن و مالداری پر نظر نہ کرو۔ کس لیے کہ حریت میں دونوں برابر ہیں اور جو غلام کسی کو قتل کرے تو اس کے عوض میں اسی غلام کو قتل کرو۔ اس کے ساتھ اس کے آقا کو نہ مارو اور جو عورت قتل کرے تو خاص اسی کو قتل کرو۔ اس کے شوہر اور فرزند اور بھائی بندوں سے کچھ سروکار نہ رکھو اور جو مقتول کے وارث اپنے مسلمان بھائی قاتل کو قصاص معاف کردیں اور کسی قدر مال پر راضی ہوجاویں اور دیت لینا قبول کرلیں تو چاہیے کہ سہولت اور دستور کو ملحوظ رکھیں۔ یہ نہ ہو کہ اس پر باوجود تنگ دستی کے فی الفور ادا کرنے کا تقاضا کریں بلکہ مہلت دیویں اور نہ کہ سختی زیادتی سے پیش آویں اور نہ یہ کہ خلاف شریعت اس کے معاوضہ میں کوئی بات طلب کریں کہ ہم کو شراب دے یا اپنی جورو بیٹی کو حوالہ کر دے یا تو اپنے بیٹے کو ہماری غلامی میں دے یا تو ہمیشہ کو ہمارا غلام ہو کر رہ اور اسی طرح قاتل کو بھی لازم ہے کہ ان کے احسانوں کو فراموش نہ کرے۔ جو رقم قرار پا گئی ہو اس کو بلا حیلہ و بہانہ عمدہ طور سے ادا کرے اور جو کوئی اس قرارداد کے بعد پھر تعدی کرے کہ دیت لے کر قاتل کو مار ڈالے تو اس کے لیے عذاب الیم ہے اور اس قصاص میں اے مومنو ! تمہارے لیے زندگی ہے کیونکہ جب رسم قصاص جاری ہوگئی تو وہ سفاکی جو ایام جاہلیت میں تھی ٗ جاتی رہے گی اور نیز لوگوں کو عبرت ہوگی۔ پھر آیندہ ہر ایک قتل سے ہاتھ روکے گا۔
ابحاث : (1) قصاص کے معنی پورا پورا بدلہ لینا یعنی جیسا کہ اس نے کیا ویسا ہی اس کے ساتھ کیا جاوے۔ عرب بولتے ہیں اقص فلان اثر فلان اذا فعل مثل فعل قال تعالیٰ فارتد علی آثار ھما قصصاً وقال وقالت لاختہ قصیہ اے اتبعی۔ اثرہ اور قصہ کو بھی اسی لیے قصہ کہتے ] 1 ؎ قصاص یعنی بدلہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیا جاتا ہے جان کے بدلہ قتل عمد میں جان ہے پھر مقتول کے وارثوں میں سے کوئی اپنی مہربانی سے اپنے بھائی مسلمان قاتل کی جان لینا معاف کر دے اور خون بہا پر کفایت کرے اور قتل شبہ بالعمد یا خطاء میں اپنی مہربانی سے رقم کا بھی کوئی حصہ معاف کر دے تو بعد میں سختی سے مطالبہ کرنا چاہیے بلکہ رواج و دستور کے موافق اور قاتل کو بھی اس کی رقم خوش معاملگی سے ادا کر دینی چاہیے۔ خون کے بدلے خون بہا لینے کا اور خون بہا میں سے بھی رقم کم کردینے کا مسئلہ خدا کی بڑی مہربانی اور آسانی ہے کہ ایک جان تو ضائع ہوئی ہے اب دوسری بھی ضائع ہوجاتی۔ اور قصاص میں بڑی زندگی ہے قتل کرنے والے کی زندگی اس لیے وہ اس قانون کے خوف سے قصد قتل نہ کر کے اپنی جان بھی اور مقتول کی جان بھی بچائے گا اور نیز بدلہ لینے سے قوموں کا فتنہ فرو ہوجاوے گا یہ نہیں ہوگا کہ طرفین سے چڑھائی ہو کر طرفین سے بہت سے مارے جائیں۔ 12 منہ[
ہیں کہ حکایت محکی عنہ کے مساوی ہوتی ہے۔ یہاں مراد مساوات ہے۔ پھر اس مماثلت اور مساوات میں اختلاف ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جہۃ قتل میں بھی مساوات کرنی چاہیے۔ پس اگر کسی نے پانی میں ڈبو کر مارا ہے تو اس کو بھی ڈبو کر مارنا چاہیے اور جس نے جلا کر مارا ہے اس کو بھی اسی طرح مارنا چاہیے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ مساوات سے مراد دم نکالنا ہے جس سے کہ عادتاً جلدی سے دم نکلتا ہو اور وہ خالص تلوار سے مارنا ہے۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے لاقود الابالسیف اخرجہ ابن ماجہ فی سننہ پس یہ جو نصرانیوں میں پھانسی دینا مروج ہے ٗ نہایت غیر مہذب طریق ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ اس قوم کے عقلا اس کی اصلاح کریں۔
(2) الحر 1 ؎ بالحر وَ العبد بالعبد ولانثٰی بالانثٰی سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ حرحر کے بدلے میں مارا جاوے نہ غلام کے بدلے میں اور اسی طرح ظاہر آیت یہ چاہتی ہے کہ غلام کو خاص غلام کے بدلہ میں قتل کرنا چاہیے نہ حر کے اور عورت کو بھی خاص عورت ہی
کے مقابلہ میں قتل کرنا چاہیے نہ مرد کے۔ یعنی عورت اگر مرد کو قتل کرے یا مرد عورت کو قتل کرے تو باہم قصاص جاری نہ ہو لیکن ان سب صورتوں میں قصاص جاری ہوگا اور اس پر امت کا اتفاق ہے۔ کس لیے کہ کتب علیکم القصاص ایک مستقل جملہ ہے اور پھر اس کے بعد اس عام حکم کے بعض جزئیات کو (الحر بالحر والعبد بالعبد والانثیٰ بالانثیٰ ) میں ذکر کردیا ہے۔ اس سے اور صورتوں کی نفی نہ سمجھی گئی۔ پس ان نصوص کے عموم پر لحاظ کرکے عام حکم دیا جاوے گا یعنی حرحر کے بدلے میں بھی اور غلام اور کافر ذمی 2 ؎ کے اور عورت اور لڑکے اور بیمار اور مقطوع الاعضاء کے بدلے میں بھی قتل کیا جاوے گا اور اسی طرح غلام اور عورت اور کافر کے بدلے میں بھی۔ کس لیے کہ مماثلت اور مساوات عصمت میں ملحوظ ہونی چاہیے یعنی معصوم الدم ہونے میں اور یہ بات دیندار سے ثابت ہوجاتی ہے۔ باقی اور تفاوتوں پر نظر نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو قصاص کا دروازہ بند ہوجاوے اور فساد کا دروازہ کھل جاوے۔ جیسا کہ ایام جاہلیت میں تھا اور یہی امام اعظم کا قول ہے۔
واضح ہو کہ یہ قصاص لینا حاکم کے اختیار میں ہے نہ یہ کہ ہر شخص بطور خود آپ اس پر عمل کرے جس سے فتنہ اور فساد زیادہ قائم ہوجانے کا اندیشہ ہے اور یہ قصاص اس صورت میں ہے جبکہ قاتل نے عمداً قتل کیا ہو اور جو خطا یا شبہ بالعمد وغیرہ سے گولی شکار پر لگاتا تھا ٗ اتفاقاً کسی آدمی کو جا لگی یہ قتل عمداً نہیں بلکہ خطا ہے۔ اس صورت میں قصاص نہیں مگر خون بہا کہ جس کو دیت کہتے ہیں ٗ ضرور دینی پڑتی ہے جس کی تعداد پوری تفصیل کتب فقہ میں ہے۔
اس آیت میں دو حکم ہیں۔ اول قصاص کہ برابر بدلہ لیا جاوے۔ ایام جاہلیت کی طرح ایک کے عوض دو چار یا زیادہ کو قتل نہ کیا جاوے نہ غلام سمجھ کر اس کا بدلہ کسی اشراف سے ترک کرنا چاہیے نہ امیر و غریب شریف و رذیل کی کچھ رعایت کرنی چاہیے۔ زمانہ جاہلیت میں اگر شریف قوم کا غلام رذیل قوم کے غلام سے مارا جاتا تھا تو اس کے بدلے میں ان کے حر کو قتل کرتے تھے۔ اسی طرح شریف اور وضیع میں بھی باہم مساوات نہ سمجھتے تھے۔ نہ عورت مرد میں آیت نے ان سب میں انصافاً مساوات قصاص میں قائم کردی۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ اگر قاتل کو وارثان مقتول بالکل معاف کردیں یا چند وارثوں میں سے بعض بالکل معاوف کر دے یا کل یا بعض کسی قدر روپیہ یا پوری دیت لے
1 ؎ حراس مرد آزاد کو کہتے ہیں کہ جو کسی کا غلام شرعی نہ ہو۔ 12
2 ؎ ذمی وہ کہ جو مسلمانوں کے ذمہ میں رعیت بن کر رہتا ہو۔ کس لیے کہ جو قومیں کہ ذمی نہیں اور ان میں باہمی جنگ وجدال کا دروازہ کشادہ ہو تو وہاں قصاص نہیں مگر اس سے یہ مراد نہیں کہ کافروں کے ملک میں امن لے کر جاوے یا کوئی کافر دارالاسلام میں امن کے لیے آوے یا جس قوم سے باہمی معاہدہ یا مصالحت تجارت وغیرہ جاری ہو وہاں کسی کافر کو قتل کر دے اور اس فعل شنیع سے جنت کا مستحق بنے ‘ یہ بھی حرام اور سخت گناہ ہے۔ اسلام اس کو ہرگز جائز نہیں رکھتا۔ ہاں حالت جنگ میں جو باہم قتال کی رخصت ملت اور قوم کی بھلائی اور فساد کے بند کرنے کے لیے ہے تو وہ جائز ہے۔ سو وہ اور بات ہے۔ 12 عبدالحق غفرلہ حقانی
کر اس کے قصاص سے درگزر کرے تو قصاص ساقط ہے مگر سختی اور خلاف دستور کوئی بات نہ کرنی چاہیے بلکہ اتباع بالمعروف اور اس قاتل کو بھی چاہیے کہ ان کا شکریہ ادا کرے اور جو کچھ مقرر کیا گیا ہے اس کو بخوشی خاطر ادا کرے۔ اداء الیہ باحسان پہلا حکم کتب علیکم القصاص الخ میں مذکور ہے اور دوسرا فمن عفی لہ من اخیہ شیء فاتباع بالمعروف و اداء الیہ باحسان میں مذکور ہے۔
نیچر مفسر نے دیکھا کہ آج کل عیسائیوں میں اولیائِ مقتول کے معاف کرنے سے بھی قصاص معاف نہیں ہوتا ضرور اس کو پھانسی ہوتی ہے اور اس بات کو ان کی اور سب باتوں کی طرح ازحد پسند کیا اور موافق عقل سلیم جانا تو اس آیت کی توجیہ کر دے کہ یہ بات ایام جاہلیت کے خونوں کی بابت ہے اور لطف یہ کہ اس کے برخلاف آیت کا سیاق اور نیز قرینہ ذلک تحفیف من ربکٔ و رحمۃ موجود ہے اور امت کا اجماع بھی ہے اور بیشمار احادیث صحیحہ ہیں مگر اس نے بلا دلیل اتنا بڑا دعویٰ کرلیا شاید شرط میں عفی ماضی کا صیغہ ہے اور اس کو ایام جاہلیت پر
محمول کیا ہو جو خلاف قانون نحو ہے۔ قتل کا گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا اور قصاص محض سیاست دنیا کے لیے ہے اور نیز ورثاء کے معاف کرنے سے بھی دنیاوی حق معاف ہوتا ہے نہ حق آخرت۔
Ayahs 2:180–182ترکیب : کتب فعل مجہول الوصیتہ للوالدین الخ جملہ مفعول مالم یسم فاعلہ اذا حضر متعلق ہے الوصیۃ سے حضور موت سے مراد حضور اسباب موت ہے۔ ان ترک خیرا شرط اس کا جواب جملہ اولی سے سمجھا جاتا ہے۔ ای فلیوص۔ حقاً مفعول مطلق ہے ای حق ذلک حقا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی ای ایصاء حقا فمن بدلہ ای الایصاء من شرطیہ ہے مبتداء کی جگہ فانما اثمہ الخ اس کی خبر فمن خاف فعل بافاعل من موص متعلق ہے خاف سے شرط فلا اثم علیہ جواب شرط۔
تفسیر : پہلے سے اصول حسنات کا ذکر چلا آتا ہے۔ اس کے ضمن میں اشد منہیات قتل اور کتمان حق کا بھی ذکر آگیا تھا گویا کہ نیکی انسان کو جب نصیب ہوتی ہے کہ جب وہ ایسی ایسی بری باتوں سے بھی بچے اور چونکہ قصاص انسان کی زندگی باقی رہنے کا باعث تھا اور قتل کو بند کرتا تھا جیسا کہ فرمایا ولکم فی القصاص حیوۃ یا اولی الالباب اس کے بعد وصیت کا مسئلہ ذکر کیا کس لیے کہ باوجود مال و اسباب ہونے کے اپنے اقارب کو محروم رکھنا گویا ان کو قتل کردینا ہے جس طرح قصاص حقیقی قتل کی دوا ہے اسی طرح وصیت اس مجازی قتل کی دوا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہارے لیے وصیت مقرر کردی ہے۔ پس جب علامات موت نظر آئیں اور مال موجود ہو تو متقی پر یہ حق ضرور ہے کہ ماں باپ اور دیگر اقارب کے لیے وصیت کر دے۔ ہاں اب جو کوئی قابض مال یا گواہ خبردار ہونے کے بعد اس کو بدلے گا تو یہ گناہ اس کی گردن پر رہے گا۔ خدا سے کوئی بات مخفی نہیں اور جو کسی کو یہ معلوم ہو کہ موصی انصاف کے طور پر وصیت نہ کرے گا ٗ وہ وصیت میں بےانصافی کرکے مرگیا تو اس نے محض نیک نیتی سے موصی کو وصیت کے بدلنے کی صلاح دی یا اس کے وارثوں میں اور جن کے لیے وصیت خلاف انصاف کرکے مرگیا ہے اور جھگڑا پیدا ہوگیا ہو ٗ وصیت میں کچھ کمی زیادتی کرکے باہم صلح کرا دی تو اس تبدیل و تغیر میں بھی کچھ گناہ نہیں اور اس اصلاح میں کچھ خلاف وصیت اس سے سرزد ہوگیا تو خدا اس کو معاف کر دے گا ٗ وہ غفور الرحیم ہے۔
جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے یعنی وصیت کرنے کا حکم والدین اوراقارب کے لیے جب تک ضرور تھا کہ جب تک آیت میراث نازل نہیں ہوئی تھی اور اسی لیے نبی ﷺ نے فرما دیا تھا کہ مسلمان کو لائق نہیں کہ اس پر تین شب گزریں اور اس کے پاس وصیت نامہ لکھا ہوا نہ ہو ( صحیحین) کس لیے کہ تمام مال کے وارث میت کے زن و فرزند ہوجایا کرتے تھے۔ ماں باپ اور دیگر اقارب محروم رہ جاتے تھے۔ جب آیت میراث نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ اس لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ خدا نے ہر حقدار کا حق مقرر کردیا اب کسی وارث کے لیے وصیت نہیں (صحیحین) مگر حسن بصری اور علاء بن زیاد اور مسروق اور مسلم بن یسار وغیرہ علماء کباریہ فرماتے ہیں کہ آیت منسوخ نہیں۔ کس لیے کہ آیت میراث میں جن قرابتیوں کا حق اور حصہ ہے البتہ ان کے لیے وصیت نہیں اور جو محروم الارث ہیں جیسا کہ بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتا چچا زاد بھائیوں کی موجودگی میں نواسہ یا اور مساکین و فقراء تو ان کے لیے بدستور وصیت مستحب ہے مگر تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہ ہو۔ جیسا کہ حدیث سے مفہوم ہوتا ہے اور یہی قول صحیح 1 ؎ ہے۔
1 ؎ جب تک آیت میراث نازل نہیں ہوئی تھی۔ والدین و اقارب کے لیے صاحب مال پر وصیت فرض تھی آیت میراث کے بعد یہ حکم غیر وارث کے لیے ثلث میں مستحب ہے۔ وصیت کے بعد جو لوگ اس میں کمی زیادتی کریں گے وہ گناہ ان پر ہوگا نہ میت پر اگر وصی سے کسی کی طرف داری یا کسی کے محروم کردینے کا اندیشہ ہو تو باہم مصالحت کرا دینا کوئی گناہ نہیں۔ 12 منہ