2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 2:17–18

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثل اس شخص کی سی ہے کہ جس نے آگ سلگائی۔ پس جب اس کی آس پاس روشنی ہوگئی تو خدا نے ان کی روشنی بجھا دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ (کسی طرح) نہیں دیکھتے

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(وہ) گونگے بہرے اندھے ہیں وہ (کسی طرح) راہ پر نہ آئیں گے

ترکیب : مثلہم مبتدا کمثل الخ موصول وصلہ سے مل کر اس کی خبر کاف بمعنی مثل ہے اور ممکن ہے کہ محذوف کے متعلق ہو۔ لما حرف شرط اضاءت فعل نار اس کا فاعل ماحولہ ای حول المستو قد اس کا مفعول۔ ممکن ہے کہ اضاءت لازمی ہو پھر ما اس کا فاعل قرار دیا جائے اور تانیث اضاءت بلحاظ معنی ما ہو کہ جس سے مراد اشیاء یا اماکن ہیں اس تقدیر پر ماظرف ہوگا۔ لفظ ما کی تین صورت ہیں ایک بمعنی الذی دوم 1 ؎ ظلمات جمع کا صیغہ لایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ ایک اندھیری نہ تھی بلکہ بہت سی۔ حبِّ جاہ کی حبِّ مال کی، حبِّ لذات کی دارآخرت سے غفلت کی کہ جو سب ظلمتوں سے زیادہ ہے۔ حقانی نکرہ موصوفہ اے مکاناً حولہ۔ سوم زائدہ۔ ذھب فعل اللہ فاعل بنورھم بواسطہ ہائے تعدیہ مفعول ھم ضمیر جمع راجع ہے طرف الذی کے جو بمعنی جمع ہے یہ سب جملہ معطوف علیہ و ترکہم فعل بافاعل مفعول اول فی ظلمات مفعول ثانی۔ کس لیے کہ شرک متضمن بمعنی صیّرہے لایبصرون جملہ فعلیہ حال ہے ھم مفعول سے یہ سب جملہ معطوف ہوا معطوف علیہ و معطوف مل کر جواب ہوا لما کا صم الخ مبتدا محذوف کی جو ھم ہے فہم مبتدا لایرجعون خبر جملہ مستانفہ۔ تفسیر : یعنی ان منافقوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کسی نے آگ جلائی اور جب اس کی روشنی چمکی تو فوراً گل ہوگئی اور وہ شخص ہکا بکا حیران و پریشان رہ گیا، اسی طرح ان کا حال ہے کہ ان کا وہ نور فطرت (کہ جو خدا نے ہر انسان میں ودیعت رکھا ہے) ذرا چمکا تھا یعنی ہر خیر و شر کے پہچاننے اور سعادت و شقاوت پر مطلع ہونے کا وقت آیا تھا تو اسی وقت اس کو خدا نے بجھا دیا یعنی ان کے نفاق اور تعصب اور عناد اور حبِّ مال و جاہ کی آندھی ظلمت خیز نے اس چراغ فطرت کو گل کردیا 1 ؎۔ پس اب یہ بہرے ہیں کسی ہادی کی بات سن نہیں سکتے اور گونگے بھی ہیں کہ اپنی بیماریِ دل کو حکیم روحانی سے بیان کرکے علاج پذیر بھی نہیں ہوسکتے اور خود بھی اندھے ہیں کہ از خود خدا کے آثار قدرت دیکھ کر راہ پر نہیں آسکتے۔ جب یہ ہے تو اب ان کے ہدایت پر آنے کی کیا صورت ؟ یا یوں کہو کہ انہوں نے آگ جلائی اور ارد گرد روشنی ہوئی۔ یعنی دنیا میں کلمہ توحید کو آڑ بنا کر غنائیم اور حفظ جان و مال وغیرہ فوائد حاصل کئے مگر مرتے ہی یہ چراغ فوائد گل ہوگیا تو افعالِ بد اور جہل مرکب اور قبر کی تاریکیوں میں ہاتھ ملتے رہ گئے۔ اب وہاں نہ اکتساب حسنات کا کوئی ذریعہ ہے نہ وہاں سے رجوع کرکے پھر دنیا میں آسکتے ہیں۔ متعلقات : مثلہم : مثل لغت میں بمعنی مثل اور مانند ہے بولتے ہیں مِثْلٌ اور مَثَلَ و مثیل جیسا کہ شِبْہٌ و شَبَہٌ و شبیہ ایک ہی معنی کے لیے آتا ہے۔ پھر مثل اس کہاوت مشہور کو کہنے لگے کہ جس میں کسی کی غرابت (عمدگی) کی وجہ سے موقع بیان کو اصلی حال کے ساتھ تشبیہ دینا منظور ہو جس طرح ہمارے محاورے میں جہاں کوئی برعکس معاملہ ظہور میں آتا ہے تو یہ مثل کہتے ہیں۔ بیل نہ کو دا کودے کون، یہ تماشا دیکھے کون، یعنی جس کا حق کرنے کا تھا اس نے یہ کام نہ کیا اب اس اصلی موقع کو اس کی اصلی حال کے ساتھ جہاں گونا گوں گودنافرض کیا گیا ہے تشبیہ دی گئی ہے اور مثل میں یہ شرط ہے کہ کوئی نادر بات ہو اس لیے اصل کلام کو نہیں بدلتے۔ تشبیہ اور مثل میں علماء بلاغت کے نزدیک یہ فرق ہے کہ مثل کلام مرکب ہوتا ہے اور تشبیہ مفرد کو شامل ہے جیسا کہ زید کو شیر کہا جاوے۔ امثال کے بیان کرنے سے دل میں معانی کا عمدہ طور پر جما دینا مقصود ہوتا ہے کیونکہ ایک خیالی اور معنوی بات کو محسوس بنا کر دکھا دیا جاتا ہے، دیکھئے اگر کسی کا ضعف یوں ہی بیان کیا جاوے تو وہ اس قدر موثر نہیں ہوتا جس قدر کہ اس کو مکڑی کے جالے سے تشبیہ دے کر بیان کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور اسی رمز کے لیے حکماء اور خطباء اپنے کلام میں اکثر مثال لاتے ہیں اور اسی غرض سے کلام الٰہی میں بھی اس کا استعمال ہوا ہے۔ اب تک بائیبل میں بھی بیشمار مثال ہیں۔ قرآن میں بھی ہیں۔ نار : آگ کو کہتے ہیں اور نوراسی سے مشتق ہے جس کے معنی روشنی کے ہیں۔ ظلمات : ظلمت کی جمع ہے جس کے معنی اندھیرا ہے اور چونکہ نار کو نور لازم ہے، اس لیے ایک کا دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ نکات : (1) استوقد نارًا کے بعد جو جواب شرط میں ذھب اللہ بنورھم فرمانا اور نارھم نہ کہنا یہ بات بتلا دیتا ہے کہ آگ جلانے سے 1 ؎ مدینہ کے لوگ اول تو سب آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے سے خوش ہوئے تھے اور اس ابتدائی حالت میں ان پر اسلامی انوار پر تو فگن ہوئے اور ظلمات جہل اور شہوات دور ہوگئے ‘ نیک و بد کا امتیاز ہونے لگا۔ یہ تھی وہ روشنی جس کو خدا نے روشن کیا تھا مگر تھوڑے ہی دنوں کے بعد بعض لوگ اغراض دنیا اور حبِّ شہوات اور لذاتِّ فانیہ میں پھر مبتلا ہوگئے جس کو نفاق سے تعبیر کیا ہے تو وہ انوار بھی ان سے دور ہوگئے۔ پھر اپنی ظلمت میں حیران و پریشان ہوگئے۔ ان کی اس حالت کو اس مثال میں بیان فرمایا۔ ان کا مقصود روشنی تھی اس مقصود کو خدا نے فوت کردیا۔ انتفائِ لازم سے انتفائِ ملزوم کو خوب ثابت کردیا اور ذہب کو باء کے ساتھ متعدی کیا نہ کہ ہمزہ کے ساتھ تاکہ اس کے بالکل بجھ جانے پر دلالت کرے۔ کہتے ہیں ذھب السلطان بمالہ جبکہ بالکل کچھ نہ چھوڑے اور اسی لیے ضوکو ذکر نہ کیا کیونکہ اگر ذہب اللہ بضوء ھم کہتے تو احتمال تھا کہ اصل نور باقی رہ گیا۔ ضوجاتی رہی ہو۔ (2) مثال میں نور کے گم ہوجانے کو خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب کیا (ذھب اللہ بنورھم) یعنی خدا نے ان آگ جلانے والوں کی آگ بجھا دی حالانکہ اس موقع پر آگ یا چراغ جو بجھ جاتا ہے تو خود بخود یا ہوا سے بجھتا ہے۔ اس میں یہ باریک نکتہ ہے کہ دنیا میں جس قدر چیزیں اپنے اسباب و علل پر مرتب ہوتی ہیں جن کی آنکھ میں نور حقیقی نہیں وہ تو اس چیز کا سرزد ہونا اسی سبب اور علت سے جانتے اور اسی کو فاعل حقیقی یا موجد سمجھتے ہیں مگر جن کو چشم بصیرت عطا ہے وہ اپنی نظر کو قاصر نہیں کرتے بلکہ جس پر ان اسباب و علل کا سلسلہ تمام ہوتا ہے یعنی جو ان اسباب اور علتوں کا پیدا کرنے والا اور ان سب کی علت اس کی طرف نظر ڈالنے اور ان درمیانی اسباب و علل کو واسطہ محض جان کر اس فعل کو اس مسبب الاسباب کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ پس اس سربتلانے کے لیے خدا نے ذھب اللہ بنورھم فرمایا اور اسی طرح دیگر مقامات پر بھی ان افعال کو جو بظاہر کسی اور فاعل سے سرزد ہوتے ہیں اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ منجملہ ان کے وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمیٰ سے کیا۔ خوب کہا ہے کسی عارف نے ؎ گرگزندت رسد زخلق مرنج کہ نہ راحت رسد زخلق نہ رنج از خدا دان خلاف دشمن و دوست کہ دل ہر دو در تصرف اوست گرچہ تیر ازکمان ہمی گزرد از کماندار بیند اہل خرد فائدہ : بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ ذھب اللہ الخ الگ جملہ ہے۔ مثال اس سے اول تمام ہوچکی۔ یہ جملہ صرف منافقوں کی حالت بیان کرنے کے لیے آیا ہے۔ اب خدائے تعالیٰ ان منافقوں کے لیے ایک اور مثال بیان کرتا ہے تاکہ اس حالت کی اور بھی وضاحت اور توضیح قباحت ہوجائے، پس فرماتا ہے :
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا (ان کی مثال) آسمانی بارش کی ہے جس میں اندھیریاں اور کڑک اور بجلی بھی ہو (اور وہ) اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں موت کے ڈر سے ٹھونسے لیتے ہیں اور خدا کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

ترکیب : مثلہم مبتداء محذوف کصیب اس کی خبر۔ تقدیر کلام یوں ہے اومثلہم کمثل اصحاب صیّب۔ عطف جملہ کا پہلے جملہ پر ہوا اور یہ کاف موضع رفع میں ہے من السماء کائن کے متعلق ہو کر صیب کی صفت ظلمات ور عدو برق بواؤ عاطفہ مبتداء موخرفیہ خبرمقدم اور ضمیر فیہ کی راجع ہے صیب کی طرف یہ جملہ صیب کی صفت ہوا یجعلون فعل بافاعل اصابعھم مفعول فی آذانہم ظرف۔ اصابع من الصواعق متعلق یجعلون کے حذرالموت مفعول لہ ہے یجعلون کا یہ جملہ مستانفہ ہے جو ان کا حال ظاہر کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ حال ہو ضمیر فیہ سے اللہ مبتداء محیط بالکافرین خبر جملہ معترضہ ہے محیط اصل میں محوط تھا حاطہ یحوط سے کسرہ واو حاء کی طرف نقل ہوا تو واؤ یا بن گیا۔ تفسیر : یعنی منافقوں کی مثال آسمانی بارش کی ہے کہ جس میں سراسر نفع ہے گو بظاہر اس میں بجلی اور کڑک اور بادلوں اور بارش اور رات کی اندھیریاں بھی ہوتی ہیں یعنی مشقت اعمال۔ مگر جس طرح انسانی طبائع اس کڑک اور بجلی کی چمک سے گھبراتی ہیں ‘ کانوں میں انگلیاں کرتے ہیں، آنکھوں کو بند کرلیتے ہیں کہ مہیب آواز سنائی نہ دے وہ چمک دکھائی نہ دے یعنی اس سے نفرت کرتے اور بھاگتے ہیں۔ اسی طرح منافق اس آسمانی بارش سے جو حیات ابدیہ کا پانی ہے یعنی اسلام اور قرآن مجید اور اس کے مواعظ حسنہ اور وعدہ وعید سے جن کی کڑک اور چمک بجلی کی کڑک اور چمک سے زیادہ ہے دور بھاگتے ہیں۔ کانوں میں انگلیاں ڈالتے ہیں کہ وہ آیات اور حضرت ﷺ کے مواعظ سننے میں نہ آویں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح آنے والی مصیبتوں سے جو دنیا و آخرت میں حبِّ شہوات و لذات فانیہ سے پیش آنے والی ہیں بچ جائیں۔ مگر ہادی برحق کے اس تلخ دوا پئے بغیر جس میں روحانی شفا ہے اس مرض الموت سے نجات نہیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کا جملہ مخلوق پر بالخصوص کفار پر قدرت کا پورا احاطہ ہے کوئی کہاں بھاگ کر جاسکتا ہے اور کسی کی تدبیر کا بےبنیاد قلعہ کیا پناہ دے سکتا ہے، ذرا سی تلخی دوا یعنی مشقت پابندی احکامِ الٰہی اور قدرے نفس کشی اور نفس کی مار کے بغیر جو اس کو لذات مال و جاہ کے عمیق گڑھے میں لیے جاتا ہے دیگر تدابیر باطلہ سے شفاء ڈھونڈنا اور مصائب سے بچنا حمق ہے۔ متعلقات : او : اصل میں شک کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ جہاں دو باتوں میں شک کے طور پر برابری ہو وہاں اس کا استعمال ہوتا تھا۔ پھر مطلقاً دو چیزوں کی برابری بیان کرنے میں استعمال ہونے لگا کہ یہاں شک مفقود نہیں جیسا کہ بولتے ہیں جالس الحسن اوابن سیرین کہ خواہ تو حسن کے پاس بیٹھ یا ابن سیرین کے دونوں کے پاس بیٹھنا برابر ہے۔ اس مقام پر بھی یہ کلمہ اس معنی میں مستعمل ہوتا ہے کہ منافقوں کو خواہ آگ جلانے والوں سے تشبیہ دو خواہ مینہ سے بھاگنے والوں سے دونوں برابر ہیں۔ صیب : فیعل کے وزن پر صوب بمعنی نزول سے مشتق ہے جس کے معنی بارش اور بادل کے ہیں۔ مگر یہاں مراد بارش ہے۔ السماء : چند معانی میں مستعمل ہوتا ہے افق کو بھی کہتے ہیں اور بادل کو بھی اور آسمان کو بھی اصل میں سماء کا اطلاق اوپر والی چیز پر ہوتا ہے خواہ وہ بادل ہو خواہ آسمان۔ اس جگہ بادل مراد ہے کیونکہ بارش وہیں سے نازل ہوتی ہے اور آسمان مراد لینا بھی ممکن ہے۔ رعد : اس آواز یا گرج کو کہتے ہیں کہ جو باہم بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے جبکہ وہ ہوا سے چلتے ہیں۔ برق : وہ چمک اور روشنی ہے کہ جو بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے جس کو بجلی کہتے ہیں۔ حکما کہتے ہیں کہ جب قوائے فلکیہ عناصر میں تسخین و تبخیر کرتے ہیں تو عناصر باہم مخلوط ہوجاتے ہیں پھر ان سے گونا گوں مخلوقات پیدا ہوتی ہے۔ چناچہ جب آفتاب کی گرمی پانی اور زمین پر پڑتی ہے تو دریا سے ابخرہ تبخیر میں سے دھواں سا اٹھ کر آسمان کی طرف جاتا ہے۔ پس دھواں کبھی کرئہ ہوا سے بھی گزر جاتا ہے اور کرئہ آتش تک پہنچتا ہے تو اس میں آگ لگ اٹھی ہے۔ پس وہ شعلہ ہو کر کبھی تورات کو دمدار ستارہ سا نظر آتا ہے اور کبھی نیزہ اور کبھی کوئی اور جانور یا درخت کی صورت میں دکھائی دیتا ہے اگر وہ قدر قلیل ہے تو جلد جل کر تمام ہوجاتا ہے اور جو مادہ زیادہ ہوتا ہے تو مدت تک دکھائی دیتا ہے اور اس کی راکھ بھی بسا اوقات جھڑتی ہوئی لوگوں نے دیکھی ہے اور کبھی اس دھوئیں میں شعلہ نہیں پیدا ہوتا تو آسمان زمین کے درمیان ایک عجیب سرخی نمودار ہوتی ہے اور وہ بخارات جو پانی سے اٹھتے ہیں اگر وہ لطیف ہوتے ہیں اور اس قدر اونچے جاتے ہیں کہ جہاں تک زمین کی گرمی نہیں پہنچتی تو وہاں کی سردی سے منجمد ہوجاتے ہیں اور ان کو ابر یا بادل کہتے ہیں اور ان میں سے جو قطرات ٹپکتے ہیں ان کو بارش اور کبھی وہ قطرات برودت کی وجہ سے منجمد ہو کر گرتے ہیں تو ان کو اولے کہتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ بخارات مجتمع پر سردی پہنچی تو وہ برف بن کر زمین پر گرنے لگتے ہیں اور جو پہلے ہی سے سخت ٹھنڈک پہنچتی ہے تو اولے بن کر گرتے ہیں اور کبھی وہ بخارات طبقہ زمہریریہ 1 ؎ پر تک نہیں پہنچتے بلکہ نیچے ہی کسی سرد جگہ میں برودت کی وجہ سے بادل بن جاتے ہیں جیسا کہ لوگوں نے بلند پہاڑوں پر دیکھا ہے کہ نیچے بخارات سے بادل بنا اور برسنے لگا 1 ؎ یہ ہوا کا وہ طبقہ ہے کہ جو نہایت ٹھنڈا ہے جہاں نہ زمین کی گرمی پہنچتی ہے نہ کرئہ آتش کی حرارت اثر کرتی ہے۔ 12 منہ اور جب وہ ابخرے بہت ہی کم ہوتے ہیں تو شب کی سردی سے شبنم بن کر ٹپکتے ہیں اور جب ان بخارات کے ساتھ زمین سے دھواں بھی مل کر اوپر چڑھتا ہے اور طبقہ زمہریریہ میں بخارات تو سردی کی وجہ سے جم کر بادل ہوجاتے ہیں اور وہ دھواں اپنی حرارت سے بادل کو توڑ کر اوپر یا نیچے جانا چاہتا ہے تو ایک سخت آواز پیدا ہوتی ہے جس کو رعد کہتے ہیں یعنی گرج اور کڑک اور جو اس دھوئیں میں دہنیت (چکنائی) کی وجہ سے اس حرکت غیفہ سے شعلہ نکلتا ہے وہ اگر لطیف ہے تو اس کو برق 1 ؎ کہتے ہیں یعنی بجلی اور جو کثیف ہے تو اس کو صاعقہ کہتے ہیں جس کی جمع صواعق آتی ہے یعنی وہ بجلی کہ جو زمین پر گرتی اور آدمی کیا بلکہ درختوں کو بھی جلاتی اور پہاڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے اور اسی طرح زلزلہ اور چشموں کے جاری ہونے اور پہاڑوں میں سے آگ نکلنے اور دیگر عجائبات قدرت کے اسباب بھی بیان کرتے ہیں لیکن غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے پیدا ہونے کے یہی اسباب نہیں بلکہ ان کے ساتھ اور بھی اسباب و علل ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے جو مسبب اسباب و علل کا پیدا کرنے والا ہے مواد اور صورتوں پر ارواح مدیرہ موکل کر رکھی ہیں کہ جن کو زبان شرع میں ملائکہ کہتے ہیں جن کو ان اشیاء کے وجود میں دخل ہے ورنہ صدہا بار ایسے بخارات اور ادخنہ اٹھتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ یہ چیزیں نہیں 2 ؎ پیدا ہوتیں ؟ وہ جو حدیث میں آیا ہے کہ ملائکہ بادلوں کو کھینچتے ہیں اور رعد فرشتے کا کوڑا ہے ان سے یہی مراد ہے لیکن عقل ناقص تو انہیں اسباب ظاہرہ تک پہنچ کر رہ جاتی ہے اور اسی لیے سینکڑوں کم عقل خدا کے منکر ہو کر دہریہ ہوگئے مگر عقل کامل ان اسباب و علل کا سلسلہ جناب باری تک پہنچا کر ہر ایک چیز کو اس کے ید قدرت سے جانتی ہے اور پھر ان عجائبات قدرت سے اس کی عظمت و جلال پر ایمان لاتی ہے۔ اس لیے انبیاء اور حکماء میں فرق ہے۔ اب اس آیت میں خدائے تعالیٰ اس مثال کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے :
Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

بجلی ان کی بینائی کو اچکے لیتی ہے جب ان کو روشنی معلوم ہوتی ہے تو اس میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو ٹھہر جاتے ہیں اور اگر خدا چاہے تو ان کی شنوائی اور بینائی کو کھو دے ‘ بیشک اللہ ہر بات پر قادر ہے

ترکیب : یکاد فعل البرق اسم یکاد یخطف ابصارھم جملہ فعلیہ اس کی خبر یہ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ مستانفہ ہوا گویا کہ کوئی پوچھتا تھا کہ اس کڑک میں ان کا کیا حال ہے فرمایا کہ گویا بجلی کی چمک سے اندھے ہی ہوجاویں گے۔ کلما کلمہ شرط اضائلہم بمعنی لمع لہم شرط مشوفیہ جملہ جواب شرط فیہ اے فی ضوء البرق یہ جملہ بھی مستانفہ ہے گویا کوئی سوال کرتا تھا کہ اس چمکنے اور تھم جانے میں وہ کیا کرتے ہیں ؟ فرمایا ذرا روشنی ہوئی تو چل پڑے ورنہ وہیں کھڑے رہے۔ اذا کلمہ شرط اظلم علیہم جملہ شرط قاموا جملہ فعلیہ جواب شرط لو حرف شرط شاء فعل اللہ فاعل لذھب الخ جملہ اس کا جواب اور مفعول شاء کا ان یذہب بسمعھم محذوف۔ کس لیے کہ جواب اس پر دلالت کرتا 1 ؎ ممکن ہے کہ برق اور رعد اور صاعقہ اس وجہ سے بھی ہوتی ہوں اور باہم بادلوں کی سخت رگڑ سے بھی۔ 12 منہ 2 ؎ بعض حمقا نے جو علم طبیعات کے دو چار رسالے پڑھ لیتے ہیں یہ کہا کہ خدا کی کیا ضرورت ہے اگر توپ کے ہزار دو ہزار فیر کردیے جائیں تو دھوئیں کا بادل بن کر برسنے لگے چناچہ امریکہ میں فلاں نے ایسا کیا اور بچہ پیدا ہونے کے لیے فلاں مسٹر نے ایک آلہ تیار کیا ہے اگر اس میں منی ڈال دی جائے تو بچہ بن جاتا ہے۔ افسوس کہ یورپ کی روشنی نے ان حمقا کو اور بھی اندھا کردیا۔ 12 منہ ہے ان مشبہ بفعل اللہ اس کا اسم اور علی کل شیئٍ قدیر اس کی خبر۔ تفسیر : یعنی جس طرح بارش میں بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھاتیں اور بند ہوجاتی ہیں اور جب بجلی کی چمک ہوتی ہے تو انسان چلنے لگتا ہے ورنہ خوف راہ سے اندھیرے میں ٹھہر جاتا ہے یہی حال ان منافقوں کا برق ایمان اور نور قرآن سے ہے کہ ان کی آنکھیں خیرہ اور چندھیائی جاتی ہیں اور اس روشنیِ حق کے دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتی ہیں جب اسلام کی بجلی چمکتی ہے تو چلتے ہیں یعنی جب فوائدِ ظاہریہ غنیمت وغیرہ ہا پیش آتے ہیں تو راہ اسلام پر چلنے لگتے ہیں ورنہ پھر اپنی جبلی کجروی سے رک جاتے ہیں یا یوں کہو کہ جب آنحضرت (علیہ السلام) کے معجزات و آیات بینات کی برق چمکتی ہے تو اس وقت اضطراراً دل سے تصدیق کرلیتے ہیں ورنہ پھر تاریکی شکوک و شبہات میں آ کر رک جاتے ہیں اور برق قرآن کی روشنی سے آنکھیں بند کرنا بےفائدہ ہے۔ اول تو اس سے بصیرت دور نہیں ہوتی اور جو خدا چاہے تو یوں بھی ان کو اندھا اور بہرا کرسکتا ہے کس لیے کہ وہ ہر بات پر قادر ہے۔ نکات : (1) لفظ لو سے یہ بات ثابت کردی کہ ہرچند انسان کے آلات ادراک خدائے تعالیٰ کی طرف سے عطا ہیں مگر جب وہ ان کو اس کے حکم کے موافق استعمال میں نہیں لاتا تو خوف کرنا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ ان کو معدوم نہ کر دے اور جتنی دیر وہ معدوم نہیں ہوئے اس میں غرہ نہ کرنا چاہیے۔ کس لیے کہ ہر گناہ کی سزا میں جو دیر ہو تو مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ سزا اس کی قدرت سے باہر نہیں یہ دیر کسی مصلحت یا رحمت سے ہے۔ (2) اس جملہ ولوشاء اللہ الخ کو ذکر کرکے بعد میں ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر کہنا دعوے کو دلیل سے ثابت کردیتا ہے اور اس کا لطف ارباب فہم پر مخفی نہیں ہے۔ (3) اگرچہ کلما واذا کلمات شرط ہیں مگر تاہم باہم فرق ہے کلما میں معنی شرط زائد ہیں اس لیے اس کو اضائلہم کے ساتھ اور اذا کو اظلم کے ساتھ ذکر کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ ان کو اس ابر رحمت سے بھاگنے کی نہایت حرص اور سخت رغبت تھی اور ذرا مینہ میں ٹھہرتے ہیں تو بحر جابر اور قصر قاصر ورنہ بالطبع اس حیات ابدی کے مینہ سے بھاگتے ہیں۔ ربط : سب سے پیشتر نبی کو یہ ضرور ہے کہ اپنی کتاب کا کتاب الٰہی ہونا ثابت کر دے اور جب اس کو محکم دلائل سے ثابت کرچکے اور یہ اول مرحلہ طے ہوچکے تو پھر جو کچھ مقصود اصلی ہو اس کو بیان فرما دے کہ جس کے لیے وہ دنیا میں بھیجا گیا ہے اور جس لیے اس کی اطاعت بندگان خدا پر فرض ہوئی ہے اس لیے خدا نے الم ذلک الکتاب الخ میں قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بیان کیا اور اس کی یہ خاصیت بتائی کہ اس سے ازلی نیک بختوں یعنی متقیوں کو ہدایت ہوتی ہے اور وہ ان اوصاف سے متصف ہوتے ہیں اور جب ان نیکوں یعنی متقیوں کا ذکر کیا تو ان کے مقابلہ میں بحکم تعرف الاشیاء با ضداد ہا بدبختوں کے دونوں گروہوں کفار اور منافقین کا بھی ذکر کیا تاکہ تقویٰ اور ہدایت کی بھلائی اور کفر و نفاق کی برائی مخاطب کے سامنے محسوس ہوجائے۔ پس جب یہ مرحلہ طے ہوچکا اور بندے کو سعادت اور ہدایت کا از بس مشتاق کردیا تو مقصود اصلی یعنی عبادت کا ذکر کیا اور یہ بتلا دیا کہ اس عبادت سے وہ وصف تقویٰ کہ جس کے تم مشتاق ہو اور جو سعادت ابدی اور ہدایت قرآنی کا ذریعہ ہے تم کو حاصل ہوجاوے گا۔ پس فرمایا :