Ayahs 2:103–107ترکیب : لو کلمہ شرط انہم ان اور جس میں کہ اس نے عمل کیا مصدر ہے موضع رفع میں بسبب فعلِ محذوف کے۔ کس لیے کہ لو کے بعد فعل ہوتا ہے تقدیرہ لو وقع۔ منھم انہم آمنوا سب جملہ شرط لمثوبۃ مبتداء موصوف من عند اللہ صفت خبر جملہ جوابِ لو راعنا امر ہے لیکن موضع نصب میں ہے کس لیے کہ یہ مفعول ہے لاتقولوا کا یود فعل الذین الخ ولا المشرکین موضع جر میں ہے کس لیے کہ معطوف ہے لفظ اہل پر ان ینزل جملہ مفعول یودمن خیر میں من زائدہ ہے من ربکم میں من ابتدائیہ ہے ماننسخ ماشرطیہ جازمہ مگر محلاً منصوب ہے۔ نات بخیر الخ جملہ جواب شرط ننسہا معطوف ہے نسخ پر لہ ملک السمٰوات مبتداء و خبر جملہ خبر ہے ان کی من ولی زائدہ ہے اور ولی موضع رفع میں ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور لکم خبر اور نصیر معطوف ہے لفظ ولی پر اور من دون اللہ بسبب حال ہونے کے ولی سے محل نصب میں ہے والتقدیر مالکم من ولی من دون اللہ۔
تفسیر : خدا تعالیٰ یہود کے افعال ذمیمہ بیان فرما کر ارشاد کرتا ہے کہ اب بھی ان کے لیے وقت باقی ہے اگر وہ نبی آخر الزمان پر ایمان لاویں اور اچھے کام کریں تو ان کو آخرت میں بہت کچھ اجر ملے گا۔ (2) اس کے بعد مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے کہ یہود کی یہ حالت ہوگئی تم ان کی صحبت اور ان کے رویہ سے پر حذر رہا کرو۔ منجملہ اور باتوں کے ایک یہ کہ یہود جب نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اپنی جبلی شرارت سے اثنائِ کلام میں حضرت سے راعنا کہتے جیسا کہ ہماری بول چال میں کہتے ہیں ذرا ادھر متوجہ ہوجیے یا ادھر خیال فرمایئے اور اس کلمہ میں اپنے نزدیک وہ یہ مراد رکھتے تھے کہ ہم آنحضرت ﷺ کو احمق اور چرواہا کہہ آتے ہیں۔ کس لیے کہ راعنا ظاہر میں تو مراعات سے مشتق ہے اور وہ اس کو رعونت سے لحاظ کرکے یاراعی بمعنی چرواہے سے خیال کرکے حضرت کو گالی دے جاتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع کردیا کہ تقلید کرکے تم یہ کلمہ نہ کہا کرو۔ اگر ضرورت پڑے تو اس کی جگہ انظرنا کہہ دیا کرو کہ ہماری طرف خیال کیجئے کیونکہ یہ کلمہ ذومعنیین نہیں ہے اور اس کی بھی تمہیں کیا ضرورت ہے تم اول سے ہی حضرت کی بات کان لگا کر سنا کرو۔ (3) اس کے بعد ان کے اتباع نہ کرنے کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ یہود اور مشرکین تمہارے دلی دشمن ہیں وہ یہ نہیں چاہتے کہ خدا کی رحمت (وحی) تم پر نازل ہو مگر خدا کا چاہا ہوتا ہے جس پر وہ چاہتا ہے اپنی رحمت خاصہ کو نازل کرتا ہے اس کا فضل بےنہایت ہے اس کو کسی خاندان اور قوم کی پابندی نہیں کہ خواہ مخواہ ہمیشہ سلطنت یا نبوت اسی خاندان میں رکھے اس کے بعد خدا تعالیٰ یہود کے شکوک و شبہات کا جواب دیتا ہے جو وہ اہل اسلام پر پیش کرکے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے تھے وہ کہتے تھے کہ اگر تم پر خدا کی طرف سے خیر یعنی وحی اور شریعت نازل ہوتی ہے تو خیر کے منسوخ
اللہ اور جس قدر جاہل اور مدبر قومیں ہیں ان میں بجائے ترقی علوم و فنون کے اسی جادو کا بڑا زور شور ہے اور ان کے مدبر فرماں روا بجائے تدبیر مناسب کے ان ہی جادو پر تکیہ کئے بیٹھے رہتے ہیں۔ وقت پر ندامت اٹھاتے ہیں۔
مسلمانوں کو خدا یہود کا حال بیان کرکے متنبہ فرماتا ہے مگر وہ جادو اور بابل اور ہاروت اور ماروت کا لفظ سن کر منہ میں پانی بھر لاتے ہیں۔ افسوس یہ کتاب و سنت سے جہل کا سبب ہے جہاں علم آیا یہ جاہلانہ خیال کا فور ہوئے۔ اب بھی ہندوستان میں جاہل اور کمینہ اقوام میں اس کا بڑا رواج ہے۔
کرنے کے کیا معنی ؟ خدا تعالیٰ کے احکام اور شریعت ہمیشہ یکساں رہتے ہیں ان میں سے ایک شوشہ بھی بدل نہیں سکتا۔ پھر اگر یہ قرآن اور شریعت منجانب اللہ ہے تو احکام تورات کو کیوں منسوخ کیا اور پھر خود اس شریعت ہی میں بعض احکام کو ایک وقت قائم رکھ کر موقوف (منسوخ) کردیا، کیا خدا تعالیٰ کو پیشتر اس حکم کی قباحت کا علم نہ تھا ؟ آج کل کے پادری بھی ان یہود کے مقلد ہو کر مسلمانوں سے یہی شبہ پیش کیا کرتے ہیں چناچہ بعض نے تو اس بارے میں رسالے اور کتابیں لکھ ڈالیں۔ اس شبہ کا جواب خدا نے اشارتاً تو ما یود الدین کفروا میں دے دیا تھا کہ یہ لوگ یہ سب باتیں رشک و حسد سے کرتے ہیں کہ خدا نے ہمارے خاندان میں نبوت کو کیوں ختم کردیا اس لیے تم کو شبہات میں ڈالتے ہیں تاکہ تم اس فیض نبوت سے محروم رہو مگر اس جگہ اس شبہ کو خوب کھول کر رد کردیا کہ اگر ہم کسی حکم کو کسی مصلحت سے موقوف کرتے ہیں یا موخر کرتے ہیں تو اس میں بندوں کے لیے سراسر بہتری ہوتی ہے ہم اس سے بہتر یا اس کے مانند اور سہل العمل اور کوئی حکم دیتے ہیں۔ 1 ؎ واضح ہو کہ نسخ لغت میں ایک شے کے مٹانے پر یا نقل و تحویل پر (عند القفال) اطلاق ہوتا ہے بولتے ہیں نسخت الریح آثار القوم کہ ہوا نے لوگوں کے پائوں کے نشان مٹا دیے اور اسی طرح بولتے ہیں نسخ الکتاب الی کتاب آخر کہ ایک جگہ سے کتاب کو دوسری طرف کو نقل کیا اور اصطلاح علماء میں نسخ ایک ایسے حکم شرعی کا قائم کرنا ہے کہ جس کے بعد اس سے پیشتر کا حکم شرعی جو مؤقت تھا اٹھ جائے اول حکم کو منسوخ دوسرے کو ناسخ کہتے ہیں۔ یہود اور عیسائی نسخ کے مطلقاً منکر ہیں اور یہ انکار صرف اس لیے ہے کہ قرآن مجید کا حکم نہ ماننا پڑے اور دین اسلام پر اعتراض کی گنجائش رہے مگر ان کا یہ انکار بالکل بیجا ہے۔ (1) اس لیے کہ تورات میں بہت سے احکام ایسے ہیں کہ جن میں نسخ پایا جاتا ہے اور عیسائیوں نے ختنہ اور سبت اور دیگر احکامِ مؤکدئہ تورات کو منسوخ کردیا بلکہ بفتوائے پولوس تمام شریعت موسوی کو بالائے طاق رکھ دیا اور اس پر عمل کرنے کو موجب لعنت قرار دیا چناچہ اس کی تشریح معہ حوالہ فصل وباب مقدمہ میں ہوچکی ہے۔ اب اس سے بڑھ کر کیا نسخ ہوگی۔ (2) اس لیے کہ عقلاً بھی اس قسم کی نسخ میں کوئی قباحت یا جناب باری کی نسبت کوئی عیب نہیں کیونکہ اعتقادیات اور اخبار کی نسبت تو کوئی مسلمان بھی نسخ کا قائل نہیں۔ تورات و انجیل و دیگر کتب انبیاء کو اس بارے میں کوئی منسوخ نہیں کہتا۔ باقی رہے احکام سو ان کی بھی دو قسم ہیں ایک اصول شرائع جیسا کہ عبادت ‘ بت پرستی کی ممانعت ‘ صلہ رحمی و عدل و انصاف ظلم وتکبر اور بدخصائل کی حرمت وغیرہا سو اس قسم کے احکام میں بھی ہم نسخ کے قائل نہیں ‘ تمام شریعتوں اور کل انبیاء کے احکام ابدی ہیں۔ دوم فروعات شریعہ کہ چور کی یہ سزا اور زانی پر اس قدر تہدید اور پاکی اور ناپاکی کی طہارت اس طور پر نماز اور اس کی عبادت اس مکان میں اور اس طرف منہ کرکے وغیرہ ذلک سو اس قسم کے احکام میں نسخ واقع ہوا ہے اور ضرور ہونا چاہیے کیونکہ خدا علام الغیوب کا مقصد شریعت سے اپنے بندوں کی بھلائی اور ان کے حال پر
1 ؎ بعض مفسرین آیت ماننسخ من آیۃ او ننسہا کی یہ تفسیر کرتے ہیں کہ یہ آیت کلام سابق کا تتمہ ہے اس سے پہلی آیات میں یہود کے خصائلِ بد کی تشریح تھی جو ان کے تنزل کا باعث ہوئیں آخیر ہر مرض کا موت ہے ان کا اقبال ان کی آیندہ ترقی سب کا خاتمہ ہوا ایک نئی قوم اور نئے ملک میں ایک خاتم الانبیاء پیدا ہوا جس پر یہود کو رشک و حسد ہونا ایک معمولی بات تھی جس کا جواب دیا گیا۔ خدا کی نعمت کسی قوم کے لیے مخصوص نہیں۔ اس پر خیال پیدا ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ ایک قوم کو رفعت میں آسمان تک پہنچا کر پھر جلد یا دیر میں کیوں ذلت و ادبار کے عمیق گڑھے میں پھینک دیا کرتا ہے۔ اس خیال کا دفعیہ اس آیت ما ننسخ میں کردیا گیا لفظ آیت سے قرآن مراد نہیں نہ اس کا کوئی محل وقوع ہے نہ سیاق نہ سباق مقتضی ہے۔ جب آیت قرآن مراد نہیں بلکہ آیات قدرت ‘ قوموں کی بلندی و پستی ‘ کسی کا طلوع کسی کا غروب تو نسخ سے مراد بھی نسخ اصطلاحی نہیں بلکہ یہ معنی کہ اگر عالم میں ہم کوئی اپنا آثار قدرت (جیسا کہ کسی رفیع قوم کی پستی) مٹا ڈالتے یا اس کو نسیاً منسیًا کردیتے ہیں کہ صفحہ ہستی پر اس کا کوئی نشان بھی باقی نہیں چھوڑتے تو ایسی ہی یا اس سے بہتر کوئی اور آیت قدرت ظاہر کردیتے ہیں۔ مخاطب کیا تو نہیں جانتا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہمارے لیے ہے اور ہم ہر چیز پر قادر ہیں۔ بنی اسرائیل کو مٹایا جو اس کی ایک بڑی آیت قدرت تھی تو اس سے بڑھ کر قوم عرب کو جو ایک بڑی آیت قدرت ہے ظاہر کردیا جن میں صدہا ملوک اور لاکھوں حکیم پیدا ہوئے۔
رحمت ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زمانہ اوراقوام اور بلاد کا ہمیشہ ایک طور نہیں رہتا۔ وقتاً فوقتاً مصلحتوں میں انقلاب ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً جب قوم شراب کی عادی ہو تو اس کی رسم مٹانے کے لیے نہ تنہا شراب کو حرام کیا جاوے بلکہ اس کی دواعی اور یاد دلانے والی باتوں کو منع کردیا جاوے اور شراب کے برتنوں کا مطلقاً استعمال ہی ناجائز کردیا جائے پھر جب ان کی عادت جاتی رہے تو ان برتنوں کے استعمال کی اجازت دے کر اب ان پر سہولت کر دینی ضروری ہے۔ اب اس میں خدا کے علم میں کیا قصور لازم آتا ہے۔ اس پر بھی اعتراض کرنا اور پھر مواقع استدلال میں اول قسم کے احکام کو پیش کرنا یا اعتقادیات کو لانا انصاف کی گردن پر چھری پھیرنا ہے۔ معاذ اللہ من ذلک۔ اب رہا نسخ قرآنی کہ آیا اس کی آیات میں نسخ تلاوت یا نسخ حکم یا دونوں کا نسخ خواہ دوسری آیت یا کسی حدیث سے واقع ہوا ہے یا نہیں۔ ابو مسلم بن بحر وغیرہ اس کا مطلقاً انکار کرتے ہیں اور اکثر علماء اس کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ بعض آیات کا آنحضرت ﷺ کے عہد میں صرف حکم منسوخ ہوا۔ جیسا و الذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً ۔ اس آیات میں سال بھر کی عدت وفات تھی پھر چار مہینے دس روز رہ گئی وغیرہا من الایات اس کو منسوخ الحکم کہتے ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ جن کے الفاظ منسوخ التلاوۃ اور حکم باقی ہے جیسا کہ الشیخ و الشیخہ اذا زنیا فار جموھما نکالامن اللہ واللّٰہ عزیر حکیم وغیرہ ذلک۔ یہ تنسیخ میں داخل ہیں اور بعض آیات ایسی بھی تھیں کہ جو حضرت ﷺ اور تمام صحابہ کے دل سے بھلا دی گئیں۔ چناچہ بیہقی اور ابودائود نے روایت کی ہے کہ ایک صحابی شب کو تہجد پڑھنے کھڑے ہوئے اور ایک سورة کو پڑھنا چاہا ہرچند یاد کیا مگر ایک حرف بھی یاد نہ رہا صبح کو خود حضرت ﷺ سے اور دیگر اشخاص سے بیان کیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سورة منسوخ التلاوۃ ہوگئی ہے سب کے دلوں سے بھلا دی گئی اور اس کے نقوش بھی مٹا دیے گئے اور اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت عشر رضعات معلومات یحر من قرآن میں پڑھی جاتی تھی مگر اس کا ما قبل اور مابعد اور اس کا محل بالکل نسیاً منسیاً کردیا اور اسی طرح کی بہت سی روایات ہیں یہ سب ننسھا کا مصداق ہیں مگر اس سے قرآن میں کوئی تحریف و تغیر نہیں ہوسکتا۔ کیوں یہ سب باتیں مصلحت الہٰیہ سے آنحضرت ﷺ کے عہد میں ہوچکی تھیں۔ آپ کے بعد پھر ایک حرف کی کمی زیادتی ظہور میں نہ آئی اور دلیل اس مذہب جمہور پر آیت ماننسخ الآیہ و دیگر آیات ہیں۔ ابو مسلم کہتے ہیں کہ نہ احکام میں نسخ ہوا ہے کس لیے کہ جس کو تم منسوخ کہتے ہو وہ اور جہت سے تھا اور جو ناسخ ہے اور جہت سے ہے اور نسخ میں اتحاد جہت شرط ہے اور نہ تلاوت آیات میں جن آیات کو تم منسوخ التلاوۃ کہتے ہو یہ دراصل قرآن مجید کی آیات نہ تھیں کیونکہ قرآن منقول بنقل متواتر ہے اور یہ روایات خبر احاد ہیں اور بعض تو موضوع یا ضعیف اور وجہ اشتباہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تفسیر کے طور پر یہ جملہ کہ جن کو لوگ منسوخ التلاوہ سمجھ گئے ہیں اثنائِتلاوت میں پڑھے اور حاضرین نے ان کو آیت سمجھ لیا مقدس سمجھ کر اپنے مصاحف میں لکھ لیا مگر جب آنحضرت ﷺ نے تمام قرآن شریف حفاظ کو یاد کرایا اور متفرق اجزاء میں کاتبوں سے لکھوایا اور راویوں نے ان جملوں کو قرآن میں نہ پایا تو منسوخ التلاوہ سمجھ لیا اور اس آیت سے استدلال صحیح نہیں کس لیے کہ اس سے مراد توریت و انجیل کے احکام ہیں اور لفظ آیت کچھ آیات قرآنیہ کے لیے بھی مخصوص نہیں بلکہ احکام پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح اور آیات سے بھی استدلال صحیح نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
Ayahs 2:108–109ترکیب : ام اس جگہ منقطع ہے والتقدیر بل اترید ون ان تسالو اکما میں کاف موضع نصب میں ہے مصدر محذوف کی صفت ہے ای سوالا کما اور ما مصدریہ ہے سواء السبیل بمعنی وسط السبیل ظرف ہے ضل کا وَدَّ فعل کثیر من اھل الکتاب فاعل لو مصدریہ یردونکم جملہ بتاویل مصدر مفعول کفارًا حال ہے کم سے جو یردونکم میں ہے اور ممکن ہے کہ مفعول ثانی ہو کس لیے کہ یرد بمعنی یصیر ہے حسدًا مفعول لہ ہے فاعل ود سے یا یردونکم سے من عندانفسہم کائن کے متعلق ہو کر صفت ہوا حسداً کی۔
تفسیر : یہودی اہل اسلام کو طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کیا کرتے تھے تاکہ یہ لوگ دین سے برگشتہ ہوجائیں اور باوجودیکہ ان کو آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت کا بشارات کتب انبیاء و معجزات سے یقین ہوچکا تھا مگر حسد کے مارے پھر بھی یہ باتیں کرتے تھے جس پر بعض سیدھے سادھے مسلمان آنحضرت (علیہ السلام) سے الٹے سیدھے سوالات کیا کرتے تھے کوئی یہ سمجھ کر کہ نسخ احکام تو ہوتا ہی ہے یہ سوال کرتا تھا کہ فلاں احکام قائم ہونے چاہییں اور یہ احکام باعث مشقت ہیں اٹھ جانے چاہییں۔ بعض پوچھتے تھے کہ اس حاملہ کے پیٹ میں بیٹا ہے یا بیٹی اور اسی قسم کے لغو اور محال باتوں کو پیش کرتے تھے اس لیے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کردیا کہ کیا تم بھی اپنے رسول سے ایسے ہی سوالات کیا چاہتے ہو کہ جیسے موسیٰ (علیہ السلام) سے ان یہود کے بزرگوں نے کرکے غضب الٰہی اپنے اوپر ڈھایا تھا۔ سو تم ایسا نہ کرو کیونکہ یہ کفر ہے اور جو ایمان چھوڑ کر کفر میں پڑتا ہے وہ نجات اور حیات ابدی کے سیدھے راستہ سے بہکتا ہے اور یہ یہودی تو اپنے جبلی حسد سے تم کو پھر کفر میں لانا چاہتے ہیں حالانکہ اسلام کا حق ہونا ان پر ظاہر ہوچکا ہے۔ اس حسد کے مقابلہ میں تم ان سے حتی المقدور درگزر کرو یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں جو کچھ خدا کی طرف سے ان پر عذاب مقرر ہے وہ نازل ہوجائے۔
Ayah 2:110ترکیب : و اقیمو الخ جملہ انشائیہ معطوف ہے فاعفوا پر ماتقدموا میں ماشرطیہ من خیر بیان ہے ما کا یہ سب جملہ شرط تجدوہ الخ جواب شرط
تفسیر : یہ کلام سابق کا تتمہ ہے یعنی تم کسی مشکک اور مغوی کے بہکانے میں نہ آئو ایمان پر ثابت قدم رہ کر عالم آخرت کے لیے کہ جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے روح کو منور کرو۔ بدنی عبادتوں میں سب سے اعلیٰ نماز ہے اس کو یاد کرتے رہو اور مالی عبادت سے بھی غافل نہ رہو، زکوٰۃ دو اور علاوہ زکوٰۃ کے ہر قسم کی نیکی کرو خلق خدا سے بھلائی اور اپنے بیگانوں کے ساتھ نیک سلوک سے پیش آئو جو کچھ کرو گے وہ ضائع نہ جائے گا۔ انسان کے سب اعمال عالم مثال میں موجود رہتے ہیں۔ مرنے کے بعد سب کو وہاں جا کر ضرور پاوے گا کسی عمل کی جزا سے خدا غافل نہیں تم جو کچھ کر رہے ہو وہ سب دیکھ رہا ہے۔
فوائد : ام تریدون سے لے کر ان اللہ بما تعملون بصیر تک ایک مضمون متصل تھا اس کا اصل شان نزول تو وہی ہے کہ جو ہم نے بیان کیا کہ لوگ یہودیوں کے بہکانے سے آنحضرت (علیہ السلام) سے بیجا سوالات کرتے تھے جن میں نہ نفع دنیا نہ نفع آخرت بلکہ ضرر ایمان تھا۔ اس لیے منع کردیا گیا۔ مگر بعض مفسرین نے ان تسئلوا کے متعلق مختلف روایتیں بیان کی ہیں۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد بیان فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن امیہ مخزومی نے مع چند قریش حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کہا کہ ہم آپ پر جب ایمان لائیں گے کہ آپ ہمارے لیے مکہ کے خشک پہاڑوں میں سے چشمہ جاری کردیں یا کوئی وہاں انگور یا کھجور کا باغ پیدا کردیں یا کوئی سونے کا گھر بنا دیں یا آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں یا ہم پر کوئی خدا کی کتاب اترے کہ جس میں یوں لکھا ہو کہ اے عبداللہ تو محمد ﷺ پر ایمان لا۔ اصم اور جبابی اور ابی مسلم کہتے ہیں کہ یہ خطاب اہل اسلام کے ان لوگوں سے ہے کہ جو بیجا سوالات کرتے تھے اور یہی صحیح ہے۔
(2) حسد : کسی کی نعمت خداداد کا زوال چاہنا خواہ وہ نعمت اپنے لیے چاہے جیسا کہ کسی کا باغ یا مکان یا روپیہ یا عورت اپنے لیے چاہے یا اپنے لیے نہ چاہے یہ حسد حرام ہے۔ اس آیت و دیگر آیات و احادیث سے یہ وہ مرض بد ہے کہ جو انسان کی تمام برائیوں کا سرچشمہ اور نیکیوں کا جلانے والا شعلہ ہے۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح جلاتا ہے کہ جس طرح آگ لکڑیوں کو، ابلیس کو اسی مرض نے ہلاک کیا تھا اور غبطہ حلال ہے وہ یہ کہ کسی کی برائی تو نہ چاہے مگر خدا سے اس طرح کی نعمت اپنے لیے بھی مانگے اور اسی کو مناقشہ بھی کہتے ہیں اور اس پر بھی مجازاً کبھی اطلاق حسد ہوتا ہے جیسا کہ صحیحین میں آیا ہے لاحسد الافی الاثنین رجل اتاہ اللہ مالا الحدیث۔
(3) یہاں سے یہ معلوم ہوا کہ جن باتوں سے مسلمانوں کے عقائد میں شبہ پڑے ان کا سننا بھی حرام ہے۔ اس بناء پر مستورات کا پادریوں کے مدارس میں تعلیم کے لیے جانا اور ان کے مدارس کی ملازمت کرنا یا ان کی ان امور میں اعانت کرنا حرام ہے بلکہ تبدیل کفر بالایمان۔ اور یہی حال دیگر مذاہب کا ہے نعوذ باللہ منہ۔ 1 ؎
1 ؎ پادریوں کے مدارس میں مسلمانوں کے عورات واطفال کا جانا حرام ہے۔ 12 منہ
Ayahs 2:111–113ترکیب : وقالوا فعل با فاعل لن یدخل الجنۃ الخ جملہ مفعول فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ تامہ خبر یہ ہو کر معطوف ہوا ود پر۔ الا محل رفع میں ہے بسبب یدخل کے ھود جمع ہائد کی ہے جیسا کہ عائد کی عود بعض کہتے ہیں کہ اس جملہ کا مفرد نہیں وفیہ مافیہ، نصارٰی، جمع نصران کی ہے جیسا کہ سکارٰی سکران کی تلک مبتدا امانیہم خبر قل فعل انت ضمیر فاعل ھاتوا امر حاضر معروف معتل اللام تصریفہ ہاتا یہاتی مہاتاۃ مثل رایٰ یرامی مراماۃ وہاتو مثل رامو اور اصل اس کی ہاتیو تھی تعلیل ہوگئی۔ برھان مضاف کم مضاف الیہ مجموعہ مفعول ہوا ہاتواکا پھر یہ سب جملہ مقولہ ہوا قل کا من شرطیہ اسلم فعل ضمیر راجع من کی طرف وہ فاعل ذی الحال وجہہ مفعول للہ متعلق فعل وھو محسن جملہ اسمیہ حال یہ تمام جملہ شرط فلہ اجرہ الخ تمام جملہ اسمیہ جواب شرط وقالت فعل الیہود فاعل لیست النصاری الخ جملہ اس کا مقولہ و قس علیہ وھم یتلون الخ جملہ خبریہ حال ہے قالت سے کذلک کاف موضع نصب میں ہے کیونکہ صفت ہے مصدر محذوف کی مثل قولہم یا بدل ہے محل کاف سے یا مفعول ہے لا یعلمون کا۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں مذکور تھا کہ اہل کتاب دلی آروز کرتے ہیں کہ کسی طرح پھر تم کو کفر میں مبتلا کردیں اور اسی لیے تمہارے دل میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں یہاں تک تو یہود کی کجرویوں کا بیان ہے اس کے بعد یہود و نصاریٰ دونوں کی کجرویوں کا بیان ہوتا ہے کہ وہ اور کسی کو جنت کا مستحق نہیں سمجھتے۔ یہود کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل ہونے کا تفاخر تھا اور سمجھتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی نسل کے لیے مغفرت کا وعدہ ہوچکا ہے۔ آتش جہنم ان پر حرام ہے۔ خواہ وہ کچھ ہی کریں۔ عیسائی کہتے تھے کہ ہمارے اگلے پچھلے سب گناہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اوپر لے لیے اور ہماری طرف سے وہ کفارہ ہوگئے اب ہم پر آتش جہنم حرام ہے اور جنت ہمارا مقام ہے۔ مسلمانوں کے روبرو ایسی باتیں اس لیے کرتے تھے کہ وہ اسلام کو باعث نجات اور تسلی بخش نہ سمجھ کر اسلام میں داخل ہونے سے احتراز کریں۔ یہ نادان عربوں کے خیالات میں لغزش پیدا کرنے والا شبہ تھا۔ اس کو خدا تعالیٰ رد کرتا ہے۔ تلک امانیہم کہ یہ ان کے دلی منصوبے یعنی بےاصل خیالات ہیں اور اگر کوئی اصل ہے تو قل ھاتو برھانکم اے نبی ان سے کہہ دو کہ ان پر کوئی دلیل تو پیش کرو۔ عقلی یا نقلی۔ حالانکہ کوئی بھی دلیل نہیں۔ کہیں توریت یا انجیل میں یہ بات نہیں اور عقل کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ خداوند عالم جملہ بنی آدم کا خدا ہے ہر ایک قوم اور ہر ملک سے اس کی یکساں نسبت ہے بلکہ معیار نجات جس کو عقل سلیم تسلیم کرتی، یہ ہے بلی من اسلم وجہہ للہ کہ جو کوئی یہودی نصرانی عرب عجم ہندی حبشی جس نے اپنا سر خدا کے آگے جھکا دیا ہو جن چیزوں پر اس نے ایمان لانے کو فرمایا ہو بےچون و چرا ان چیزوں کو مان لیا ہو ان پر ایمان لے آیا ہو (اس میں تکمیل قوت نظریہ ہوگئی) مگر اس کے ساتھ وھو محسن وہ نیکو کار بھی ہو جن چیزوں کا اس نے حکم دیا ہو ان کو بجا لاتا ہو اور جن سے اس نے منع کیا ہو ان سے دور رہتا ہو۔ (یہ تکمیل قوت عملیہ ہے) ۔ فلہ اجرہ اس کا بدلہ اس کو ضرور ملے گا۔ یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں افزائشِ مال و اولاد و تندرستی و اقبال اس کا بدلہ ہے جس کو یہ حاصل نہ ہو بد اعتقاد ہوجائے کیونکہ یہ سب چیزیں فانی ہیں ایسا بدلہ پورا نہیں بلکہ عند ربہ اس کے خدا کے پاس عالم باقی میں مرنے کے بعد جہاں سدا رہنا ہے وہ کیا ہے جنت اور وہاں کے نعیم باقیہ جن میں سے ایک بات یہ ہے ولا خوف علیہم کہ وہاں ان کو کسی آنے والی مصیبت کا خوف ہی نہ رہے گا نہ اپنے مرنے کا نہ اپنے دنیاوی اقارب و احباب مغفور کے مرنے کا ‘ نہ ان کی جدائی کا ‘ نہ ان کے بڑھاپے کا اور امراض کا ‘ نہ کسی قسم کے افلاس کا ‘ نہ جنت سے باہر نکالے جانے کا، نہ کسی دشمن یا بادشاہ کا نہ خود خدا تعالیٰ کی ناراضی کا۔ ولاھم یحزنون نہ ان کو دنیا میں عمر رائیگاں کرنے کا غم ہوگا کہ ہائے کچھ نہ کیا۔ لذات و شہوات فانیہ میں عمر گنوائی جو اب خواب و خیال ہیں۔ ہائے رات دن مال و دولت جمع کرنے میں عمدہ مکان اور باغ بنانے میں سرگرداں رہا وجاہت و عزت کا طالب رہا جن میں سے اب کچھ بھی ساتھ نہیں ‘ نہ اس کا کہ غلط مذاہب کی پابندی سے کیا کیا محنتیں اٹھائیں خدا کی حلال نعمتیں چھوڑ دیں۔ گنگا جمنا میں سالہائے دراز غسل کرتا رہا ‘ دھونی رمائی، بتوں کو سجدہ کیا کسی قبر اور معابد کو نہ چھوڑا کہ جن پر سجدہ نہ کیا ہو ہزاروں روپیہ تقرب الی اللہ سمجھ کر برباد کئے جن کا نتیجہ برعکس پایا۔ ثواب کے بدلے عذاب۔ الغرض اس قسم کا ان کو کوئی غم بھی وہاں نہ ہوگا۔ یہ ہے وہ نجات اور یہ ہے وہ تسلی بخش مذہب۔ اس کے بعد یہود و نصاریٰ کے قول کو ایک عجیب برہان سے باطل کیا جاتا ہے۔ فقال قالت الیہود الخ کہ اہل کتاب کے بڑے بھائی یہود کہتے ہیں نصاریٰ کا کوئی بھی دین و مذہب نہیں چند ڈھکوسلے ہیں جو ان کے پیشوائوں نے بنائے ہیں توریت میں ‘ خدا کو واحد لا شریک لہ بتایا ہے یہ خدا کی تجزی کرتے ہیں۔ تین اجزا سے ملا کر معجون مرکب کی طرح ایک خدا کہتے ہیں اور اس کو تفاخر میں آ کر سرِّ روحانی اور باعث حیات جاودانی بتلاتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے پہلے صدہا رسول آئے۔ کسی نے بھی اس کی تعلیم تو کیا اس کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔ یہ ان کی تثلیث ہے اور اسی طرح کفارئہ مسیح بھی ایک جاہلانہ خیال ہے توریت اور صحف انبیاء میں صدہا آنے والی چیزوں کی خبریں دی گئی ہیں مگر اس کا کہیں ذکر تک نہیں اور بھلا خدا کے ہاں یہ کیا اندھیر ہے کہ گناہ تو کرے کوئی اور اس کے عوض میں عذاب پائے اور لعنت اٹھائے کوئی۔ یہ دوسرا عقیدہ تھا۔ اب رہا مسیح (علیہ السلام) کا خدا کا بیٹا ہونا، خدا کا تقدس اس سے بری ہے کہ وہ کسی کو جورو بنائے اور بیٹا جنائے اور پھر وہ بیٹا ہمارے ہاتھ سے کس بےکسی سے صلیب پر چڑھا دیا جائے اور اس سے کچھ بھی نہ ہو سکے اگر بیٹے کا لفظ محبت اور تعظیم کی راہ سے ان پر اطلاق کرتے ہو تو عہد نامہ قدیم میں بہت لوگوں پر اس کا اطلاق ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ مذہب باطل ہے۔ نصاریٰ کہتے ہیں یہود نے پچھلے آنے والے نبی کو نہیں مانا اور توریت میں دھرا کیا ہے احکام عشرہ اور دیگر رسمی احکام کے سوا روحانی کوئی بھی حکم نہیں بقول پولوس مقدس توریت ظلمت کا پردہ ہے اور موسیٰ جلادوں کا استاد تھا ہم کو اس سے کوئی کام نہیں یہ رسمی مذہب مسیح کے آنے سے بیکار ہوگیا وغیرہ۔ الغرض یہود کے نزدیک نصاریٰ کا مذہب باطل اور نصاریٰ کے نزدیک یہود کا مذہب غلط۔ دونوں سچے اذتعارضا تساقطا دونوں غلط اور باطل اور عجب تریہ کہ ھم یتلون الکتب دونوں گروہ تورات اور صحف انبیاء کو پڑھتے ہیں اور مانتے ہیں پھر ان کی کس بات کا اعتبار کیا جائے۔ ذرا ٹھہریں۔ قیامت کے دن خدا تعالیٰ اپنی عدالت میں ان کے مقدمہ کا فیصلہ کر دے گا۔ ہر ایک گروہ کو حقیقت معلوم ہوجائے گی۔ ؎
باش تابندروی بکشایند
باش تاباتو در حدیث آیند
تاکیانرا نشائندئہ دربر
تاکیاں را گرفتہ در بر
پھر یہ بھی فرما دیا کہ ان پر کیا موقوف اس قسم کی باتیں ان سے پہلے کے جاہل بھی کہا کرتے تھے۔ مذہب صابی کے لوگوں کا یہی دعویٰ تھا۔ ہنود جو اپنا زمانہ لاکھوں کروڑوں برس کا بتاتے ہیں وہ بھی چار برن، برہمن، چھتری، بیش، شودر کے سوا سب مخلوق کو ملکش اور ناپاک کہتے تھے۔ اب بھی آریہ فریق کے نزدیک نجات کا مدار ایک تقویم پارینہ ہے یعنی وید پر ہے اور دنیا بھر کی ہدایت وتعلیم اس میں بھری ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ دنیاوی صنائع اور علوم کا بھی یہی مخزن ہے۔ حالانکہ چند لوگوں کے پرانی زبانوں میں مختلف مضامین کے اشعار ہیں جن کا وزن بھی ان کے مضامین کی طرح وہی جاہلانہ کہ جہان تمدن نے جنم بھی نہ لیا ہو اور بیشتر تو دل غیر مرئیہ دیوتائوں اور عناصر کی مداح میں ہیں جو ان کے مصنفوں نے ان کی تسخیر کے لیے بنائے تھے اور چھومنتر میں کام آتے تھے جن کی آج کھینچ تان کر آریہ تاویلات کرتے ہیں مگر چول جب بھی ٹھیک نہیں بیٹھتی۔
متعلقات : (1) خدا تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے جھوٹے دعوے کو رد کردیا اور اس کے بعد معیار نجات بتلا دیا اور یہ نہ کہا کہ خاص مسلمان جنت میں جائیں گے کیونکہ اس کے مقابلے میں دوسرا شخص کہہ سکتا تھا کہ تمہارا بھی یہ دعویٰ بلادلیل ہے۔ ہر شخص اپنے مذہب و ملت کے مقابلے میں دوسرے مذاہب کو غلط سمجھا کرتا ہے بلکہ ایک ایسی بات کہی کہ جس کا کوئی بھی اہل عقل انکار نہیں کرسکتا اور جس کو ہر ملک اور ہر مذہب کے لوگ بالاتفاق مانتے ہیں وہ یہ کہ نجات خدا تعالیٰ کی فرماں برداری اور نیکو کاری پر منحصر ہے اور اسی کو اسلام کہتے ہیں۔ اس قسم کے کلام کو کہ مخالف کا دعویٰ رد کرکے اپنا دعویٰ مسلمہ مقدمات خصم سے ثابت کر دے کلام مدلل کہتے ہیں جو نہایت بلاغت کا کلام ہے۔ (2) اسلام لغت میں جھکنے اور مطیع ہونے کو کہتے ہیں اور جہاں زیادہ اطاعت اور فرماں برداری مطلوب ہوتی ہے تو منہ جھکانا یا سر جھکانا بولتے ہیں اور چونکہ مذہب اسلام میں خدا تعالیٰ کی بےحد فرماں برداری ہے جان سے مال سے تو اس لیے اب مذہب کا نام بھی اسلام قرار پایا۔
Ayahs 2:114–115ترکیب : من استفہامیہ انکاریہ محل رفع میں ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور اظلم اس کی خبر ہے یعنی اس سے کوئی زیادہ ظالم نہیں ممن میں من نکرئہ موصوفہ یا بمعنی الذی ہے ان یذکر موضع نصب میں ہے اس لیے کہ یہ مساجد مفعول منع ہے بدل الاشتمال ہے تقدیرہ ذکر اسمہ فیھما خراب بمعنی تخریب اولئک مبتداء ماکان لھم الخ جملہ اس کی خبر الاخائفین حال ہے ضمیر یدخلوھا سے للہ خبر مقدم المشرق والمغرب مبتداء موخر جملہ مستانفہ فاینما کلمہ شرط تولوا مجزوم بشرط فثم وجہ اللہ جملہ خبریہ جواب شرط۔
تفسیر : عرب میں یہود و نصاریٰ پڑھے ہوئے اور باعلم خیال کئے جاتے تھے قریش مکہ اور دیگر بت پرست قومیں اسلام کے مقابلہ میں انہیں سے مدد لیتی تھیں۔ یہ بزرگوار بھی ان کے ورغلانے اور نکتہ چینیاں سکھانے میں کوئی کمی نہ کرتے تھے اور لطف یہ کہ اسلام کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے ان کے مذہب بت پرستی کو صحیح کہہ دیا کرتے اور ان کو ان ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے جو وہ وقتاً فوقتاً غریب ایمانداروں پر کیا کرتے تھے جنت اور نجات کا مستحق بھی بنا دیا کرتے تھے۔ اس لیے یہود و نصاریٰ کی گمراہیاں بیان کرکے ان آیات میں روئے سخن ان جاہل اور بت پرست عربوں کی طرف کیا جاتا ہے اور ان کو بھی انہی کے مسلمات سے الزام دیا جاتا ہے۔
قریش مکہ خانہ کعبہ کی ایام جاہلیت میں بڑی تعظیم کیا کرتے تھے اور قبائلِ عرب بھی کعبہ کا احترام بجا لاتے تھے مگر جب اسلام کا نور کوہ فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا تو ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں اسلامیوں کو کعبہ میں جا کر خدا پرستی اور اس کے نام لینے سے منع کردیا جو ان کے اصول مسلمہ کے نزدیک بھی بہت ہی برا کام تھا۔ جس سے ثابت ہوا کہ یہ بھی بڑے ظالم اور بدکردار ہیں۔ فقال و من اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ کہ تمہیں بتائو اے قریش مکہ جو اپنے مذہب بت پرستی کو حق سمجھتے ہو کہ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم ہے کہ جو خدا کی مسجدوں میں اس کے نام لینے سے منع کرے ؟ بظاہر نزول آیت کے وقت عرب بالخصوص مکہ میں ایک ہی مسجد ابراہیمی یعنی کعبہ تھا پھر جمع کا صیغہ لانے سے یا تو یہ غرض ہے کہ جس نے کعبہ میں یاد الٰہی کرنے سے منع کیا تو اس کو اور مسجدوں میں منع کرنے سے کیا تامل ہوگا گویا وہ ایک مسجد سے منع نہیں کرتا بلکہ بہت سی مسجدوں سے روکتا ہے اگر وہ پائی جائیں یا کعبہ سے ممنوع ہونے کے بعد ایمانداروں نے اپنے گھروں میں نماز کے لیے چبوترے بنائے تھے یہ کمبخت وہاں بھی یاد الٰہی کرنے سے روکتے تھے وہ بھی مساجد اللہ ہی تھیں۔ مروی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے گھر کے قریب نماز کے لیے ایک چبوترا بنا لیا تھا وہیں نماز ادا کرتے تھے اور پرسوز لب و لہجہ میں قرآن کی وہ آیات پڑھتے تھے کہ جو روح پر بشرطیکہ اس میں حیات کا کوئی حصہ باقی ہو کوڑے مارتی تھی، وہی آنے جانے والوں کا راستہ تھا۔ جانے آنے والے کھڑے ہوجاتے تھے اور سن کر سر دھنتے تھے جس سے مکہ میں ایک نیا جوش برپا ہوگیا۔ اس لیے قریش مکہ نے ابوبکر ؓ کو وہاں بھی نماز اور قرآن پڑھنے سے روک دیا۔ کعبہ کی تعمیر اور مرمت کو قریش بڑا کارخیر سمجھتے تھے۔ وسعٰی فی خرابہا حالانکہ مساجد کی آبادی میں نمازیوں کا جمع ہونا ہے ان کو منع کرنا مساجد کا برباد کرنا ہے مسجد گو چونہ پتھر سے لاکھ آراستہ ہو مگر جب نمازی نہیں تو اس کو اجاڑ ہی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک فعل قریش کا کعبہ کی نسبت تھا۔ دوسرا یہ تھا کہ خود جو وہاں جاتے بجائے نماز کے تالیاں اور سیٹیاں بجا کے بتوں کے آگے ناچتے کودتے تھے۔ یہ بھی مسجد کی بڑی بےادبی ہے بلکہ ما کان لہم ان یدخلوھا الا خائفین وہاں خدا سے ڈر کر ادب سے جانا چاہیے۔ جب یہاں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نمازیوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع کرنا حرام ہے اسی طرح مساجد میں عبادت کے سوا اور لہو و لعب کے اشغال بھی حرام ہیں جو مساجد اللہ کے ساتھ ایسی بےادبی کرے گا لہم فی الدنیا خزی ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی اور ذلت ہے جیسا کہ قریش کو بدر وغیرہ معارک میں ہوئی اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لیے عذاب عظیم ہے۔ اب اس پر قریش مکہ اپنے آپ کو حق پرست اور مستحق نجات سمجھتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ ان دنوں میں مسلمانوں کو کعبہ سے روکے جانے سے غم تھا کس لیے کہ جہت عبادت اور محل عبادت کعبہ ہی کو سمجھتے تھے۔ اس کے بابت تسلی کردی کہ مشرق و مغرب سب خدا کا ہے وہ کافر تمہاری عبادت نہیں روک سکتے جدھر چاہو ادھر منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔ وہیں وجہ اللہ خدا حاضر و ناظر ہے ہر سو اس کی ذات کا جلوہ ہے
فائدہ : اس وقت کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ضروری نہ رہا تھا اور اب بھی اگر کعبہ کا رخ معلوم نہ ہو یا کسی عذر سے اس طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھ سکے تو تکبیر کے وقت ادھر منہ کرلے اگر ہو سکے باقی نماز فرض و نوافل جس طرف چاہے پڑھے کس لیے کہ اسلام میں کعبہ پرستی نہیں ہے بلکہ خدا پرستی ہے۔ اس آیت کے بعد کعبہ کی طرف منہ کرنا بشرط قدرت واجب ہوگیا کس لیے کہ یہ مسجد محل قبولیت ہے اگر وہاں جا نہ سکے تو اس طرف منہ کرکے ہی نماز پڑھا کرے۔
مفسرین کے اس کے شان نزول میں متعدد اقوال ہیں۔ عبداللہ بن عامر ؓ نے روایت کیا ہے کہ ہم جہاد میں ایک اندھیری رات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نماز میں مشغول ہوئے اندھیرے کی وجہ سے قبلہ نہ معلوم ہوا کسی نے کسی طرف اور کسی نے کسی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ پھر صبح کو معلوم ہوا کہ قبلہ رخ نماز نہ پڑھی گئی اور ہم نے یہ بات آنحضرت ﷺ سے ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرق و مغرب سب خدا کے لیے ہے ہر طرف میں اس کا جلوہ ہے۔ ایسے عوارض میں تعلق جہت کچھ شرط نہیں۔ (تفسیر کبیر) ترمذی و ابن ماجہ نے بھی ایسا ہی مضمون نقل کیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نماز سفر کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ سفر میں جو شخص سواری میں بیٹھ کر نوافل پڑھنا چاہے اور اس کی سواری کا منہ قبلہ کی طرف نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے اس کو بھی ترمذی اور نسائی اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد اور حسن اور قتادہ وغیرہم فرماتے ہیں کہ اس کے نازل ہونے کا یہ سبب ہوا تھا کہ جب آنحضرت ﷺ کو بیت المقدس کی طرف سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوا تو یہود نے طعن کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہر طرف اسی کا جلوہ ہے اور مشرق و مغرب اسی کا ہے کچھ وہ مجسم نہیں کہ مشرق کی طرف ہے یا مغرب کی طرف یا جنوب یا شمال کی طرف۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ آیت تحویل قبلہ کے لیے تمہید ہے جس کا بیان آگے آتا ہے۔
فائدہ : ثم وجہ اللہ کے یہ معنی نہیں کہ وہاں خدا تعالیٰ منہ مصلے کی طرف کئے بیٹھا ہے بلکہ ادھر سے اس کی ذات اور اس کی توجہ اور تجلی ہے وہ مکان سے پاک ہے۔
Ayahs 2:116–117ترکیب : وقالوا فعل ھم ضمیر فاعل اتخذ فعل اللہ فاعل ولدًا مفعول بہ جملہ مل کر مقولہ ہوا سبحانہ جملہ معترضہ بدیع بمعنی مبدع مضاف السموات والارض مضاف الیہ مجموعہ خبر مبتدا محذوف کی ای ہو واذا قضٰی الخ شرط فانما یقول الخ جواب شرط۔
تفسیر : یہاں سے عیسائیوں کے خیالات فاسدہ کا رد شروع ہوتا ہے۔ عیسائیوں کا اول عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے فرزند ہیں۔ یہ خیال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے روبرو حواریوں میں نہ تھا بلکہ بعد میں پیدا ہوا۔ قدیم عہدنامہ میں یہ لفظ محبت اور پیار کی راہ سے بعض اور بندوں پر بھی اطلاق ہوا ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے جو کبھی خدا تعالیٰ کو محبت میں باپ کہا ہے تو نادان عیسائیوں نے ان کے ظاہری باپ نہ ہونے سے ان کو سچ مچ خدا کا بیٹا ہی سمجھ لیا۔ اس بات کو خدا تعالیٰ کس دل پسند تقریر سے رد کرتا ہے۔ اول تو یوں کہ سبحانہ وہ توالد و تناسل سے جو ممکنات اور حیوانات و نباتات کی صفت ہے پاک ہے۔
دوم بیٹا بنانے سے غرض یہ ہوتی ہے کہ وقت پر کام آوے سو نہیں یہ بھی نہیں، کس لیے کہ لہ مافی السموات والارض آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی ملک ہے سب اس کے آگے سرنگوں ہیں اس کو کسی کی حاجت کیا ہے اس میں اس دلیل کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بیٹا باپ کا ہم جنس ہوتا ہے اور جملہ کائنات کہ جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) بھی داخل ہیں اس کے مملوک ہیں نہ مالک پھر مخالفت کہاں رہی۔ تیسرے وہ بدیع السمٰوات والارض آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ بتائو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس مخلوق میں سے کون سی چیز بنائی ہے ؟ باپ سے زائد نہیں تو برابر ہی بناتا۔ چہارم اذاقضی امرا الخ جس کام کو کرنا چاہتا تو صرف اس کہنے سے کہ ہوجا ہوجاتا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) میں یہ قدرت کہاں تھی وہ تو اپنی جان بھی یہود کے ہاتھ سے نہ بچا سکے، دشمنوں پر غلبہ نہ پا سکے۔ الغرض عیسیٰ (علیہ السلام) میں امکان محض اور خدا سراسر واجب الوجود جس کے لیے یہ جملے بیان کئے گئے۔ واجب الوجود اور ممکن الوجود میں کون سی شرکت ہے ؟ کوئی بھی نہیں۔ پھر جب بیٹا باپ کے کسی وصف میں بھی شریک نہیں تو بیٹا کیسا ؟ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معمولی توالد ہوا نو مہینے پیٹ میں رہے پھر دودھ پیتے رہے۔ رفتہ رفتہ جوان ہوئے۔ خدائے قادر کو ان باتوں کی کیا حاجت، وہ تو فی الفور کرتا ہے کن کہتے ہی ہر چیز ہوجاتی ہے۔
پھر اور بھی ان مدعیوں کے لغو اعتقاد بیان فرما کر ان کو شرماتا ہے کہ ان مدعیوں نے یہ بھی اعتقاد کر رکھا ہے کہ خدا نے بیٹا جنا ہے اگرچہ تمام یہود اس کے قائل نہیں اور نہ تھے مگر مدینہ کے یہود میں سے کعب بن اشرف اور کعب بن اسد اور وہب بن یہود یہ کہتے تھے کہ عزیر (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں (وقالت الیہود عزیر ابن اللّٰہ) اور نصاریٰ تو باستثنائے چند فریق تمام کلیسا حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور اب بھی اس نجس اعتقاد کو موجب نجات جانتے ہیں اور پولوس نے اس کا رواج دیا ہے۔ اس پولوس اور اس کے شاگردوں کی کتابوں میں کہ جن کو عیسائی انجیل اور کلام خدا کہہ کر دل خوش کرتے ہیں یہ کفر اب تک موجود ہے اور عرب کے مشرک فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ (لکم الذکر ولہ الانثٰی)
(1) باپ بیٹے میں مجانست اور مماثلت تو ضرور ہے لائق بیٹے تو باپ کے کمالات وصفات میں برابر حصہ دار ہوتے ہیں اور نالائق کم اور خدا تعالیٰ میں تین باتیں سب کے نزدیک مسلم الثبوت ہیں۔ اول آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا کہ جو بدیع السموات والارض میں مذکور ہے۔ دوم اس کے احکام تکوینی کا ہر چیز پر نافذ ہونا ہر بات پر قادر مستقل ہونا جو اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون سے سمجھا جاتا ہے۔ سوم مخلوقات میں سے ہر ایک چیز کا اس کے مستخر ہونا جو کل لہ قانتون میں مذکور ہے۔ حالانکہ یہ تینوں باتیں اس کے سوا کسی میں بھی نہیں پائی جاتیں۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتوں نے آسمان و زمین تو کیا ایک پہاڑ کے پتھر کو بھی پیدا نہیں کیا اور ہر بات پر ان کی قدرت نہ تھی خود حضرت مسیح (علیہ السلام) بقول نصاریٰ دار پر کھینچے جانے کے وقت کس آہ وزاری کے ساتھ چلاتے رہے مگر مخالفوں سے نجات نہ پا سکے۔ اسی طرح عزیر (علیہ السلام) بخت نصر کا کچھ نہ کرسکے اور ایران کے بادشاہوں کی مدد وحکم بغیر بیت المقدس کی مرمت نہ کرسکے۔ یہی حال فرشتوں کا ہے اور اسی طرح عالم کی ہر چیز ان کے آگے مسخر نہیں وہ خود اپنے ہی وجود و عدم اور صحت و مرض پر حکمران نہیں یا یوں کہو : (2) عالم میں دو قسم کے تصرفات ہیں ایک یہ کہ ابتدائً کسی چیز کا پیدا کرنا سو یہ کامل تصرف ہے یا پیدا کی ہوئی چیزوں میں الٹ پھیر کرکے ایک نئی صورت پیدا کردینا تصرف ناقص ہے اگر بغور دیکھا جائے تو یہ دونوں تصرف خدا کے قبضہ میں ہیں۔ اول میں کسی کو کچھ بھی حصہ نہیں مگر دوسری قسم میں کسی قدر مشابہت سی پائی جاتی ہے جیسا کہ معمار اور بڑھئی اینٹوں اور لکڑیوں میں تصرف کرکے ایک مکان یا تخت بنا دیتا ہے یا کمہار مٹی اور گارے میں تصرف کرکے عمدہ عمدہ برتن اور مورتیں بناتا ہے اور باپ اور بیٹے میں جو کچھ تصرف ہے تو از قسم ثانی ہے بلکہ وہ بھی از حد ناقص۔ کس لیے کہ باپ کا صرف یہی کام ہے کہ وہ بچے کی ماں کے رحم میں منی ڈالتا ہے جس سے پھر بہ تدریج بچہ پیدا ہوتا ہے سو جس کو اول اور دوم قسم کی قدرت کاملہ حاصل ہو وہ اس تیسری قسم ارزل کی طرف کیوں محتاج ہونے لگا وہ تو بدیع السموات والارض ہے کہ ہر ایک آسمان و زمین کو ابتداء ًپیدا کردیا۔ (3) علاوہ اس کے جو کوئی بیٹے کا خواستگار ہوتا ہے تو دو بات کے لیے ایک یہ کہ کوئی اس کا اپنا اور حکم بردار ہو سو لہ ما فی السمٰوات والارض کل لہ قانتون آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی مخلوق و مملوک ہے بیٹا تو مخلوق و مملوک بھی نہیں ہوسکتا اور ہر چیز اس کی فرماں بردار اور اس کے آگے مسخر ہے پھر ایک یا دو یادس پانچ کو بیٹا بنا کر فرمان بردار کرنا کیا فائدہ ؟ دوم یہ کہ بوقت ضرورت کام آوے اور اس کی پیری میں اس کا نائب بن کر کام کرے سو یہ بھی نہیں، کس لیے کہ وہ بدیع السمٰوات والارض ہے ایسا قادر قدیم ہے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کردیا اس کو ضرورت اور پیری کب لاحق ہوسکتی ہے وہ ازلی ابدی ہے اس پر ضعف اور ناتوانی کا کیا دخل ہے اور نائب بنا کر اس کو کام لینے کی کیا حاجت ہے اذا قضی امرا فانما یقول لہٗ کن فیکون اس کے حکم سے فوراً ہر چیز موجود ہوجاتی ہے اور ایک دلیل بیٹا نہ ہونے کی یہ بھی ہے کہ ولد اور والد میں مجانست ضرور ہے اور خدا کے لیے اگر کوئی ولد ہو تو مجانست لازم آوے اور یہ محال ہے تو ولد کا ہونا بھی محال ہے۔ مجانست کا محال ہونا اس طرح پر ہے کہ جب دو چیز باہم ہم جنس ہوتی ہیں تو ان میں ایک فصل ممیز بھی ضرور ہوتی ہے تو ہر ایک کے لیے دو جز حقیقت قرار پاویں گے۔ ایک جنس اور دوسری فصل اور جو مرکب ہوتا ہے تو حادث ہوتا ہے۔ پس خداوند تعالیٰ کا حادث ہونا ثابت ہوجائے گا اور یہ محال ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اس دلیل کے دوسرے مقدمہ کے بطان پر (یعنی مجانست کے بطان پر) اس آیت میں اشارہ کردیا لہٗ ما فی السمٰوات والارض کل لہ قانتون کہ خدا کی ہر چیز مملوک و مخلوق و مسخر ہے پھر اس کا ہم جنس کون ہے۔ پھر اس آیت بدیع السمٰوات والارض میں اور بھی مبانیت کلی بیان کردی کہ کوئی ما فی السمٰوات والارض سے یہ نہ سمجھ لے کہ خود آسمان و زمین قدیم اور واجب الوجود ہوں بلکہ یہ آسمان اور زمین اور جو کچھ اس کے اندر ہے سب حادث اور ممکن ہے سب کا وہ خالق ہے۔ پس ولدیت کیسی اور مجانست کیسی، اس کے بعد صفات میں بھی تفاوت صریحہ بیان کردیا ہے وہ یہ کہ اذا قضی امرافانما یقول لہ کن فیکون کہ اس کو یہ قدرت ہے کہ جو کسی دوسرے میں نہیں یعنی جب وہ کن کہتا ہے اسی وقت وہ چیز پیدا ہوجاتی ہے۔ خاص اس آیت سے اور بھی دلائلِ نفی ولدیت پر مستنبط ہوسکتے ہیں۔
فوائد : (1) بعض عیسائی جب ان دلائل سے عاجز ہوجاتے ہیں تو لاچار ہو کر یہ کہتے ہیں کہ ہماری مراد بیٹے ہونے سے اس قسم کا بیٹا نہیں یعنی اس کے حقیقی معنی مراد نہیں۔ مسلمان حقیقی معنی خیال کرکے اعتراضات کرتے ہیں مگر جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ آیا مجازی معنی لیتے ہو یا کچھ اور۔ اول شق میں تو اس کے معنی محبوب اور معزز کے ہیں پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت اور بھی انبیاء پر بائبل میں لفظ ابن اس معنی سے بولا گیا ہے مگر ادباً شریعت محمدیہ میں اس کی ممانعت ہوگئی ہے اور اگر کچھ اور مراد ہے تو اس کو بیان کرو مگر الوہیت میں شریک کروگے تو پھر انہیں دلائل سے رد کیا جائے گا۔ کس لیے کہ دو الٰہ نہیں ہوسکتے۔ بعض پادری لاچار ہو کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ سرِّ الٰہی ہے ہم اس کو بیان نہیں کرسکتے جیسا کہ آیات متشابہات مگر یہ عذر بدتر از گناہ ہے۔ کس لیے کہ ہم آیات متشابہات کے ایک خاص معنی تجویز کرکے اس کے ماننے کو باعث نجات تو نہیں کہتے بلکہ مجملاً تسلیم کرنے پر بس کرتے ہیں اور تم لفظ ابن اور اب کی نسبت ایسا نہیں کرتے بلکہ اس کے معنی باپ اور بیٹا قرار دے کر سب کو سمجھاتے اور اسی کو موجب نجات ٹھہراتے ہو پھر اس پر قیاس کرنا بڑی غلطی ہے۔ فی الحقیقت یہ ایسا لغو اور غلط عقیدہ ہے کہ جس سے ہر دانش مند کو تنفر طبعی ہے۔ اس لیے آج کل یورپ میں لاکھوں آدمی اس عقیدے سے بلکہ مذہب عیسوی سے نفرت کرکے اسلام کی طرف اور کچھ الحاد کی طرف مائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صرف پادری اور مشن کے ملازم یا چند سادہ لوح عیسائی باقی ہیں جو ان باتوں کو مانتے ہیں واللہ الہادی وبیدہ ازمتہ المقاصد و المبادی۔
(2) ابداع لغت میں ایسی چیز پیدا کرنے کو کہتے ہیں کہ جو نئی ہو اور اسی سے بدعت ہے یعنی دین میں کوئی نئی بات نکالنا اور اسی لیے قرآن میں ماکنت بدعا من الرسل آیا کہ میں انوکھا رسول نہیں ہوں اس جگہ جو بدیع السمٰوات الخ کہا موجد السمٰوات نہ کہا اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے اور آدم کو بےماں باپ کے اس نے پیدا کیا تو اس وجہ سے وہ خدا کے بیٹے نہیں ہوسکتے۔ ہمیشہ سے خدا نئی نئی اور طرح طرح کی چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔
Ayahs 2:118–119ترکیب : قال فعل الذین موصول لا یعلمون صلہ مجموعہ فاعل لولا کلمہ تخضیض یکلمنا اللہ جملہ معطوف علیہ او تاتینا آیہ معطوف مجموعہ مقولہ ہوا قال فعل الذین من قبلہم صلہ و موصول فاعل کذلک مفعول مقدم مثل مضاف قولہم مضاف الیہ مجموعہ بدل یا بیان ہے کذلک سے تشابہت فعل قلوبہم فاعل جملہ محل حال میں ہے بحذف قدر الذین سے بالحق جار مجرور موضع حال میں ہے تقدیرہ ارسلناک و معک الحق بشیرًا و نذیرًا دونوں حال ہیں کاف ارسلناک سے۔
تفسیر : عیسائیوں کا جاہلانہ اعتقاد بیان کرکے عرب کے جاہلوں کے اقوال نقل کرتا ہے جو ان کی تعلیم سے رسول کریم ﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں کیا کرتے تھے تاکہ معلوم ہو کہ پیر اور مرید دونوں ہدایت اور علم سے کس قدر دور پڑے ہوتے تھے اور دنیا میں کس قدر جہل اور گمراہی کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ اہل کتاب جو اہل علم و کمال تھے جن کو اگلے انبیاء اور ان کی کتابوں کا خزانہ دار سمجھا جاتا تھا ان کی تو یہ حالت اور عرب کے جاہلوں کی یہ کیفیت تھی۔ قریش مکہ آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں دو اعتراض کیا کرتے تھے ایک یہ کہ خود ہم سے اللہ کیوں کلام نہیں کرتا اور کیوں بالمشافہ نہیں کہہ دیتا کہ ہم نے فلاں کو رسول بنا کر بھیجا ہے لولا یکلمنا اللہ، دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر ایسا نہیں کرتا تو کیوں کوئی آیت یعنی ایسی نشانی ہمارے پاس نہیں بھیج دیتا جس سے رسالت کی صداقت ہوجاتی او تاتینا آیۃ پہلے اعتراض کا جواب بلکہ دوسرے کا بھی یہ دیتا ہے کذلک قال الذین من قبلہم الخ کہ یہ ان کی نادانی ہے اگر ہر شخص میں خدا تعالیٰ سے کلام کرنے کی صلاحیت و قابلیت ہوتی تو دنیا میں انبیاء بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہر شخص خدا سے پوچھ کر حرام و حلال ‘ عبادت و ریاضت کے امور طے کرلیا کرتا۔ خدائے تعالیٰ نور ہے جہاں مادہ کا ذکر بھی نہیں ہے۔ انسان مادی ہے جس کی ہیولانیت کے ظلمات اس پر ہر طرف سے محیط ہیں۔ ہاں انہیں انسانوں میں سے وہ جس کو چاہتا ہے ان ظلمات سے نورانی عالم میں لاتا اور اس سے بواسطہ ملائکہ یا بلاواسطہ ہزاروں نورانی پردوں کے اندر سے کلام کرتا ہے۔ دنیاوی معاملات میں کیا ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ مجھے حکیم کی کیا ضرورت ہر ایک کیوں نہیں حکیم ہوجاتا یا بادشاہ اور حکمراں کی کیا ضرورت، ہر شخص بادشاہ یا حکمراں کیوں نہیں بن جاتا۔ یہ نادانی اور جہل ہے پہلے جاہل بھی انبیاء کے مقابلہ میں ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان کے اور ان کے دل جہل میں یکساں ہیں۔
دوسرے اعتراض کا جواب دیتا ہے قد بینا الآیات کہ ایک نشانی نہیں ہم بہت سی نشانیاں بیان کرچکے ہیں مگر کس کے لیے لقوم یوقنون یقین کرنے والوں کے لیے جن میں قضاء و قدر نے یقین کا مادہ ہی نہیں رکھا۔ ان کے روبرو ہزاروں معجزات دکھائو ‘ سینکڑوں نشان قدرت رات دن ان کے سامنے پیش آئیں اور آتے ہیں مگر ان کو ان سے کوئی بھی نفع نہیں۔ بہرے کے سامنے ہزاروں نغمات دلکش گائے جائیں مگر اس کو کیا ؟
فائدہ : لفظ آیت سے اس مقام پر آیت قرآنی مراد نہیں۔ کس لیے کہ ایک آیت قرآنی کیا بہت سی ان کے پاس آچکی تھیں پھر کسی ایک آیت کی کیا درخواست کیا کرتے۔ بلکہ آیت سے نشان قدرت یعنی معجزات وغیرہ ہا مراد ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرات انبیاء کی روحانی طاقت سے اس قسم کے سینکڑوں حیرت خیز کام ظہور میں آئے جن کا فلسفہ انکار کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہنوز فلسفہ کی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ وجدانی خوارق و معجزات تو ایسے روحانی بزرگوں سے سینکڑوں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ دل کی کشش قلبی لذت جس کا انکار نہیں ہوسکتا
1 ؎ کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے تمہارا کام صرف حکم پہنچا دینا ہے۔
آنحضرت ﷺ میں وہ تھی اور اب بھی ہے جس کے مقابلہ میں لوگوں نے جان و مال فدا کردی۔ شہوات لذات ترک کردیے مگر اس کا حساس تو قوم یوقنون ہی کو تھا اور اب ہے۔
اس کے بعد ان کے شبہات کو لاشے بنا کر ارشاد ہوتا ہے انا ارسلناک بالحق بشیرا ونذیرا کہ خود ہم نے نہ کہ کسی اور نے آپ کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ ماننے والوں کو بشارت دے اور منکروں کو آنے والی مصیبت سے خوف دلائے اور اے نبی اگر کسی بدبخت بدنصیب نے تمہاری بات کو نہ مانا تو آپ کے فرض منصبی میں کوئی قصور نہیں۔ آپ سے ان جہنمیوں کی بابت کوئی پرسش نہ ہوگی۔