Ayah 2:233ترکیب : والوالدات مبتداء یرضعن الخ خبر اولادھن مفعول یرضعن حولین موصوف کاملین صفت یہ ظرف لمن اراد الخ ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ذلک لمن اراد۔ رزقہن معطوف علیہ وکسوتہن معطوف دونوں ذی الحال بالمعروف حال اور عامل اس میں معنی استقرار ہیں یہ سب مبتدا علی المولو دلہ موصول وصلہ خبر پھر یہ جملہ معطوف ہے اول جملہ اسمیہ پر لاتکلف فعل مجہول نفس مفعول مالم یسم فاعلہ الاوسعہا مفعول ثانی لاتضار فعل مجہول اصل میں لاتضار صیغہ نہی اور رکو متحرک التقاء ساکنین کی وجہ سے کیا اور فتح مجانست الف کی وجہ سے دیا اور بعض نے رکو مرفوع بھی پڑھا ہے۔ والدۃ مفعول مالم یسم فاعلہ بولدھا اے بسبب ولدھا ولا مولودلہ معطوف ہے ولدۃ پر ای لایضار مولود لہ بولدہ۔
تفسیر : یہ دسواں حکم رضاعت کا ہے۔ طلاق کے بعد میاں بیوی میں ایک قسم کی دشمنی اور نفرت پیدا ہوجایا کرتی ہے اور ایسی حالت میں بالخصوص جبکہ عورت کو کسی اور سے نکاح کرنا مدِنظر ہوتا ہے تو خوامخواہ بچہ سے بےالتفاتی ہوتی ہے اور اس کے دودھ پلانے میں بھی تکرار کرتی ہے۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ پہلے شوہر کو بچہ کی پرورش میں دشواری ہو اور کبھی مرد یہ چاہا کرتا ہے کہ اس سے اپنا بچہ چھین کر کسی اور سے دودھ پلوائے اور اس بیچارے کو اس کے فراق سے تڑپائے۔ اس لیے اس کے بعد اس امر میں بھی بچہ پر رحم کھا کر فیصلہ کردیا کہ بچہ کی مائیں کامل دو برس تک اپنے بچہ کو دودھ پلائیں اور ان کا باپ اس کے معاوضہ میں دستور کے موافق ان کو روٹی کپڑا یا نقد تنخواہ دے حسب مقدور نہ ماں کو کسی نوع کے بچہ کی وجہ سے تکلیف دی جائے کہ اس سے بچہ چھین لیا جاوے یا دستور سے کم اس کو نان و نفقہ دیا جاوے اور نہ باپ کو تکلیف دی جائے کہ اس کے مقدور سے زیادہ اس سے طلب کیا جاوے اور بچہ کو اس کے پاس پھینک کر چلی جاوے اور جو باپ نہ ہو تو اس کے بعد اس کے وارثوں پر بھی نان و نفقہ اسی طرح لازم ہے اور جو باہمی مشورہ کرکے اور مصلحت سمجھ کر دو برس سے پیشتر دودھ بڑھانا 1 ؎ چاہیں تو کچھ مضائقہ نہیں اور جو کسی مصلحت سے یہ منظور ہو کہ اور عورت سے بچہ کو دودھ پلوائیں تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں مگر جو کچھ تنخواہ مقرر ہوجاوے تو ] 1 ؎ دودھ بڑھانا بچوں کا دودھ چھڑانا۔ 12 منہ [ اس کو دے دینا چاہیے۔
فوائد : (1) بظاہر یہ حکم طلاق دی ہوئی عورت کے لیے ہے کہ اس قدر مدت دودھ پلائے اور اس کو روٹی کپڑا دیا جاوے الخ مگر حکم عام ہے کہ بیوی کو بھی یہی حکم ہے اور اگر دودھ پلانے کی وجہ سے اس کو کچھ دیا جاوے تو اس کو حق زوجیت مانع نہیں۔
حولین کاملین یعنی پورے دو برس کی مدت تک دودھ پلانا کوئی ضروری بات نہیں بلکہ اگر ضرورت پیش آوے تو اس سے پہلے بھی فطام (2)یعنی طلاق کے بعد اگر کوئی مطلقہ کے بچے کو اسی سے پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے تو عورت کو انکار نہ کرنا چاہیے کس لیے کہ بہ نسبت اور عورت کے اس کو بچہ پر جو اس کے پیٹ کا ہے نہایت شفقت ہوتی ہے مگر بچہ کے باپ پر دستور کے موافق نہ بہت زیادہ نہ بہت کم دودھ پلانے والی کا خواہ یہ مطلقہ ہو یا کوئی اور ہو روٹی کپڑا یا اس کے اندازہ سے کوئی تنخواہ دینی ضرور ہے اور اگر باہمی مصلحت سے دو برس سے پہلے ہی دودھ بڑھا دینا چاہیں تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں اور اگر بچہ کا باپ مرجائے تو اس کے وارثوں پر یہ تنخواہ لازم ہوگی۔ 12 منہ
ہوسکتا ہے یعنی دودھ بڑھ سکتا ہے جس کو فصال کے ساتھ تعبیر کیا ہے اور دو برس کی مدت اس لیے مقرر ہوئی ہے کہ اگر اس سے پہلے باہمی مشورہ کے بغیر مرد یا عورت دودھ بڑھائے تو نہ بڑھا سکے اور یہ بھی ہے کہ جو احکام رضاعت کے متعلق ہیں کہ دودھ سے بھائی بہن ہوجاتے ہیں وہ اسی مدت کے اندرمعتبر ہیں اس کے باہر نہیں۔ پس ظاہر آیت سے امام شافعی اور علقمہ اور شعبی اور زہری (رح) نے دو برس رضاعت کی مدت قرار دی ہے اور یہی رائے حضرت علی اور ابن مسعود اور ابن عباس رضوان اللہ علیھم کی ہے اور صاحبین کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ڈھائی برس کی مدت ہے۔ ان کی دلیل یہ آیت ہے۔ وحملہ وفصالہ ثلثون شہر کہ حمل 1 ؎ اور فصال کی مدت ڈھائی برس ہے اور اس آیت میں جو دو برس کامل مذکور ہیں تو صرف اجرت رضاعت کے لیے اور آئمہ اس آیت کا جواب دیتے ہیں کہ اس میں ہر ایک کی مستقل مدت نہیں بیان کی بلکہ دونوں کی مجموعی مدت جس سے حمل کی ادنیٰ مدت چھ مہینے اور رضاعت کی دو برس۔
(3) عورت پر بچہ کا دودھ پلانا عموماً واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور یرضعن سے بھی یہی مراد ہے اور اس لیے دوسری جگہ اس کی تصریح آگئی ہے۔ فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن یعنی اگر وہ تمہاری اولاد کو دودھ پلائیں تو تم ان کو اجرت دو وان تعاسرتم فسترضع لہ اخری اور جو تنگدستی ہو تو اور سے دودھ پلوا لو مگر بچے کے حق میں بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی ماں کا دودھ پیوے کس لیے کہ جو شفقت اس کو ہوگی وہ اور کو کب ہوسکتی ہے اور نیز اس کا دودھ زیادہ تر موافق پڑتا ہے اور اس نے ماں کو بچہ پر رحم دلانے کے لیے اولادھن فرمایا کہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں اور باپ کو شفقت دلانے کے لیے مولودلہ کہا اور جب بچہ سوائے ماں کے اور کا دودھ نہیں پیتا یا والد کو اور سے دودھ پلانے کی بالکل طاقت نہیں تب ماں کو ہی پلانا واجب ہے۔
(4) اذا سلمتم ما اتیتم پلائی کی اجرت اسی وقت سپرد کرنی واجب نہیں بلکہ جو قرارداد ہوجاوے اور جس طرح سے ہوجاوے مدت تمام ہونے کے بعد دی جائے لیکن اسی وقت دینے سے دل خوش ہوجاتا ہے اس لیے یہ لفظ آیا۔ سب کے بعد خدا نے ان حقوق کی رعایت رکھنے کے لیے ایک ایسا کلمہ ذکر کیا کہ جس سے ہر ایماندار کے دل پر ایک چوٹ سی لگتی ہے۔ وہ یہ کہ اول فرمایا واتقواللّٰہ اور اس کے بعد یہ فرمایا واعلموا ان اللّٰہ بما تعملون بصیر حقیقت میں ان باہمی حقوق کی رعایت بغیر خدا ترسی کے ممکن نہیں۔ عدالت دنیاوی اور حکام کہاں تک بندوبست کرسکتے ہیں اور اسی لیے جب تک دنیا میں خدا ترسی اور انبیاء اور ان کے جانشینوں کے ذریعے سے تنفیذ احکام
1 ؎ حمل سے مراد امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایک حمل شکمی نہیں بلکہ رضاعت کے ایام میں بچہ کا گود میں اٹھانا اور کبھی الگ کردینا گویا حمل و فصال رضاعت ہے۔ اگر حمل سے مراد حمل شکمی اور فصال سے مراد دودھ بڑھانا لیا جائے تو ہر واحد کی خبر ثلاثون شہرا ہے یعنی اڑھائی برس انتہا مدت حمل کی ہے اور اڑھائی برس انتہا رضاعت کی ہے۔ یہ نہیں کہ دونوں کی مدت اڑھائی برس ہے۔ کلام کی صاف دلالت اسی معنی پر ہے۔ 12
ہوتی رہیں۔ انتظام عالم بھی صداقت سے ہوتا رہا مگر جب صرف قانون حکومت رہ گیا تو بدمعاشی اور جعل سازی نے ظہور پکڑا۔
Ayahs 2:234–235ترکیب : والذین الخ مبتدا یتربصن خبر من خطبۃ النساء یہ جار مجرور موضع حال میں ہے بہ سے سرا مفعول بہ ہے کیونکہ یہ بمعنی نکاح ہے اے لاتواعدوھن نکا حا اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو ای مواحدۃ سراوقیل تقدیرہ فی سر۔ سو یہ ظرف ہے الا ان تقولو استثناء مفرغ ہے مدلول نہی سے ای لا تواعدو ھن مواعدۃ ما الامواعدۃ معروفۃ۔
تفسیر : پہلی چار آیتوں میں عدت طلاق مذکور تھی اس لیے عدت وفات ؎ 1 کا بھی حکم بیان کردیا۔ یہ گیا رہواں حکم ہے۔ فرماتا ہے جو لوگ بیویاں چھوڑ مریں تو ان کی بیوی کو چار مہینے دس روز تک چاہیے کہ نکاح نہ کریں نہ جو چیزیں نکاح کے اسباب ہیں ان کو عمل میں لاویں۔ زیب وزینت ‘ سرمہ کا جل وغیرہ اور نہ بغیر ضرورت اس گھر سے باہر جاویں یہ سب باتیں یتر بصن سے سمجھی جاتی ہیں اور خود نبی (علیہ السلام) نے تشریح کردی ہے۔ اگر بیوہ کو حمل ہے تو اس صورت میں جب تک ہے عدت ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملھن اور عدت کے بعد جو کچھ وہ دستور کے مطابق کریں خواہ نکاح ثانی کریں یا زیب وزینت تو ان کو منع نہ کرو۔ اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ عورتوں کو نکاح اور اس کی داعی سے روکا تو مردوں کو بھی منع کیا کہ عدت سے پہلے تم نہ ان کو صراحتاً نکاح کا پیغام دو اور نہ خفیہ نکاح کا وعدہ کرو کیونکہ اس قسم کی تحریک اور لگاوٹ سے عورت کے دل میں ہیجان پیدا ہوجاتا ہے جس سے عدت میں فرق پڑجانے کا قوی اندیشہ ہے اور قیام عدت نکاح سابق کی عزت و حرمت کا ملحوظ رکھنا عورت کو بیوفائی اور بیگانوں کی آشنائی سے محفوظ رکھنا ہے جو تمدن کے لیے پر ضرور ہے اس کا مضائقہ نہیں کہ اشارتاً اپنا ارادہ نکاح ظاہر کردیا جاوے کہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے ان سب باتوں کے بعد فرمایا کہ وہ تمہارے دلوں کی باتیں جانتا ہے۔ اس سے ڈرتے رہا کرو۔ خطبتہ بالکسر منگنی اور پیغام نکاح کو کہتے ہیں اور بالضم خطبہ پڑھنا یعنی کوئی ترغیب و ترہیب کا مضمون بیان کرنا جیسا کہ جمعہ اور عیدین اور دیگر اوقات میں ہوتا ہے آگے ایک آیت ہے کہ جس میں عدت وفات برس روز کی ہے اس کا حکم اس آیت سے منسوخ ہوگیا۔ عدت عظمت نکاح اول کے لیے اور نیز حمل اور نسب کی تمیز کے لیے مقرر ہوئی ہے۔
1 ؎ یعنی عدت وفات چار مہینے دس روز تک ہے۔ خاوند کے مرجانے کے بعد اتنے عرصے تک عورت نکاح نہ کرے اگر اس کے بعد دستور کے موافق کرے تو کچھ گناہ نہیں۔ وارثوں کو اس سے ان کو منع نہ کرنا چاہیے اور ایام عدت میں ان سے نکاح کا پیغام دینا یا وعدہ کرنا کہ ہم تم سے بعد عدت نکاح کریں گے ٗ ممنوع ہے کس لیے کہ عدت حرمت و عزت نکاح کے لیے قا ئم ہوئی ہے۔ پیغام دینے یا مخفی طور سے پکی کرلینے میں اس احترام نکاح میں فرق آتا ہے۔ گویا یہ عورت بےوفا اس کا مرنا ہی چاہتی تھی۔ ہاں مرد کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا کہ عدت کے بعد اس سے ہم نکاح کریں گے یا یہ کہلا بھیجنا کہ مجھے نکاح کی طرف رغبت ہے یعنی اشارتاً منشاء ظاہر کرنا بعض مصلحتوں کے سبب کچھ ممنوع نہیں۔ 12 منہ
ہے۔ حقا مفعول مطلق ای حق ذلک حقاً ۔ وقد فرضتم موضع حال میں ہے الا ان یعفون ان اور فعل موضع نصب میں ہے والتقدیر فعلیکم نصف مافرضتم الا فی حال العفو۔
Ayahs 2:236–238ترکیب : مالم تمسوھن مامصدر یہ اور زمان اس کے ساتھ محذوف ہے تقدیرہ فی زمن ترک مسھن اور بعض کہتے ہیں ماشرطیہ ہے ان لم تمسوھن فریضۃ فعیلۃ بمعنی مفعولۃ مفعول بہ ہے ومتعوھن معطوف ہے محذوف پر تقدیرہ فطلقوھن ومتعوھن۔ علی الموسع خبر ہے مبتداء محذوف کی متعوھن علی الموسع اور پھر یہ جملہ موضع حال میں ہے فاعل سے اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو متاعا اسم مصدر ہے اور مصدر تمتع
تفسیر : یہ بارہواں حکم ہے۔ واضح ہو کہ جن عورتوں کو طلاق دی جاتی ہے ان کی چار قسمیں ہیں۔ قسم اول یہ کہ ان کا مہر بھی معین ہو اور پھر ان کو خلوت کرکے طلاق دی گئی ہو۔ ان کا حکم پہلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ ان کو پورا مہر دینا چاہیے اور تنگ کرکے ان سے کچھ واپس لینا نہ چاہیے اور ان کی عدت تین حیض ہے۔ قسم دوم وہ کہ ان کے لیے مہر معین نہ ہو اور نہ ہنوز ان سے خلوت ہوئی ہو بلکہ صرف نکاح کرکے طلاق دے دی ہو۔ ان کا حکم اس آیت میں لاجناح سے لے کر حقا علی المحسنین تک بیان ہے۔ وہ یہ کہ ان کے لیے مہر نہیں بلکہ دستور کے موافق متعہ یعنی خرچ دینا چاہیے۔ کم سے کم کپڑوں کا ایک جوڑا اور زیادہ سے زیادہ نصف مہر۔ قسم سوم وہ عورتیں ہیں کہ جن کا مہر تو معین ہو مگر خلوت نہ ہوئی ہو اور طلاق دی گئی ہو۔ ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن الایہ وہ یہ کہ ان کو آدھا مہر دے۔ ان دونوں قسموں میں عورت پر عدت لازم نہیں آتی۔ جیسا کہ سورة احزاب میں فرماتا ہے اذ انکحتم المؤمنات ثم طلقمتوھن قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونہا فمتعوھن۔ چوتھی قسم یہ کہ عورت سے نکاح کرکے صحبت بھی کی ہو لیکن اس کا مہر معین نہ کیا ہو۔ پھر اس کو طلاق دے دی تو اس کا حکم اس آیت میں ہے فما استمتعتم بہ منہن فاتوھن اجورھن کہ ان کو مہر مثل دینا چاہیے یعنی جو مہر کہ اس عورت کے کنبہ کی عورتوں کا ہے وہ ملے گا۔ متعہ اور متاع لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس سے فائدہ حاصل ہو اور اسی لیے دنیا کو متاع کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہاں خرچ ہے جس کی تعداد کچھ نہیں۔ ادنیٰ مرتبہ عورت کے کپڑے اور زیادہ مقدار نصف مہر اور یہ واجب ہے الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد حضرت علی اور سعید بن المسیب اور بہت سے تابعین اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک عورت کا میاں ہے کہ اس کے ہاتھ میں نکاح ہے۔ پس اگر یہ معاف کرے یعنی آدھا اور بھی دے دے تو پورا ہوسکتا ہے اور امام شافعی اور حسن اور مجاہد اور علقمہ کہتے ہیں اس سے مراد ولی ہے یعنی عورت کا سرپرست کس لیے کہ نکاح کرنا اس کے ہاتھ میں تھا۔ پس یا عورت معاف کر دے یا اس کی اجازت سے ولی معاف کر دے نصف بھی ساقط ہے۔
Ayah 2:239ترکیب : رجالا حال ہے محذوف سے تقدیرہ فصلوار جالا جمع رجل۔ کما علمکم کاف موضع نصب میں ہے اے اذکرو مثل ما علمکم۔ والذین یتوفون مبتداء خبر محذوف ای یوصون متاعا مصدر اس لیے کہ یوصون بمعنی یمتعون ای یمتعون متاعا غیر اخراج حال ہے وللمطلقات خبر ‘ متاع مبتداء حقا مفعول مطلق۔
تفسیر : پہلی آیت میں خدا تعالیٰ نے تقویٰ اور احسان کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپس کی بزرگی کا لحاظ رکھو۔ اس موقع پر بطور جملہ معترضہ خدا تعالیٰ اپنی بزرگی کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ وہ سب سے بڑا ہے۔ خدا کی بزرگی ملحوظ رکھنا نماز پر مداومت کرنا ہے۔ اس لیے نمازوں کی محافظت کا ذکر اور اس کے ضمن میں حالت خوف میں نماز ادا کرنے کا مسئلہ بھی ذکر فرما دیا کہ نمازوں کی محافظت کرو یعنی نہایت خشوع و خضوع اور حضور قلب سے ادا کرو۔ بالخصوص بیچ کی نماز کی محافظت کرو اور خدا کے روبرو ادب سے کھڑے ہوا کرو۔ نماز میں باہم اشارہ اور کلام نہ کرو۔ اس آیت سے پہلے اہل کتاب کی طرح مسلمان بھی نماز میں اشارہ یا بات کرلیتے تھے۔ اس کے بعد ممانعت ہوگئی (وہ جو بعض احادیث میں ہے کہ نماز میں صحابہ یا خود حضرت ﷺ نے کوئی اشارہ کیا یا بات کی یا چلے۔ سو یہ سب اس آیت سے پہلے کی باتیں ہیں) پھر فرماتا ہے کہ اگر تم کو دشمن کے مقابلہ میں خوف ہو کہ اگر ہم نماز پڑھیں تو ہم پر حملہ کر دے گا تو تم سوار یا پیدل جس حال میں ہو بلا لحاظ رکوع و سجود کے و بلالحاظ جہت کعبہ کی طرف منہ کیوں نہ ہو ٗ نماز پڑھو اس کو نہ چھوڑو پھر جب امن ہو تو جس طرح تم کو خدا نے نماز کی تعلیم کی ہے اسی طرح پڑھو۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایسے وقت نماز کی تاخیر کر دے ٗ دوسرے وقت میں ادا کرے جیسا کہ صحابہ اور حضرت ﷺ نے جنگ احزاب میں کیا تھا۔ الصلواۃ الواسطیٰ کی تعین میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض ظہر بعض نماز صبح کہتے ہیں مگر احادیث قویہ سے عصر کی نماز معلوم ہوتی ہے جیسا کہ صحیحین میں آیا ہے کہ مشرکوں نے ہم کو صلوٰۃ الوسطیٰ سے روک دیا۔ خدا ان کی قبر آگ سے بھرے اور یہ واقعہ جنگ احزاب میں نماز عصر کا ہے۔ صلوٰۃِ خوف کہ جس کا ذکر سورة نساء میں ہے واذاکنت فیہم الآیہ وہ اس فرجالا اور رکبانا سے غیر ہے۔
Ayahs 2:240–242اس کے بعد پھر احکام عدت اور طلاق کو ذکر فرماتا ہے والذین یتوفون منکم سے جمہور مفسرین نے یہ کہا کہ ابتدائِ اسلام میں بیوہ عورت کی عدت ایک برس 1 ؎ تک تھی اور جب اس کے لیے میراث بھی نہ تھی تو خاوند کو حکم تھا کہ مرض الموت میں برس بھر کے خرچ اور مکان کی وصیت کر جائے۔ پھر یہ حکم اس آیت سے جو پہلے آئی ہے اربعۃ اشہر و عشر امنسوخ ہوگیا دو باتیں تھیں ایک خرچ سال بھر کا دوسرے مکان سال بھر رہنے کیلئے۔ اب آیت میراث نے جبکہ بیوہ کا حق آٹھواں یا چوتھا حصہ مقرر کردیا۔ وصیت کرنا بھی جاتا رہا اور اسی طرح 2 ؎ مکان دینا بھی امام ابوحنیفہ 3 ؎
1 ؎ سال بھر خاوند کے گھر میں رہے اور کسی سے نکاح نہ کرے مگر اس کو اختیار تھا چاہے خاوند کے گھر میں عدت گذارے خواہ نکل کر اور جگہ لیکن جب وہ گھر سے نکلتی تھی تو اس کو خرچ نہ ملتا تھا۔ 12 کبیر منہ
2 ؎ مطلقہ کے لیے عدت میں خواہ طلاق بائن ہو خواہ رجعی نفقہ اور مکان ملنا چاہیے جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہے وللمطلقت متاع بالمعروف اگر مطلقہ حاملہ ہے تو وضع حمل تک اور حمل نہیں تو تین حیض تک۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں طلاق بائن میں نفقہ نہیں بدلیل حدیث فاطمہ بنت قیس قالت طلقنی زوجی ثلث فلم یفرض لی رسول اللہ ﷺ سکنی ونفقۃ (اخرجہ الجماعۃ الا البخاری مگر یہ استدلال صحیح نہیں کس لیے کہ اس حدیث کو خود حضرت عمر ؓ نے رد کردیا کہ ایک عورت کے کہنے سے ہم کیونکر کتاب اللہ اور سنت نبوی کو چھوڑ دیں گے کیا معلوم سچی ہو یا جھوٹی۔ بھول گئی ہے یا یاد ( رواہ ابو دائود و مسلم والترمذی والنسائی وغیرہم)
3 ؎ حضرت علی اور ابن عباس اور عائشہ ؓ اور مزنی وغیرہم کا بھی یہی قول ہے۔ 12 منہ
کے نزدیک ضرور نہ رہا۔ امام شافعی 1 ؎ کے نزدیک مکان دینا چاہیے۔ ابی مسلم اصفہانی اور مجاہد وغیرہ ہما کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص مرض الموت میں اپنی بیویوں کے لیے برس بھر کے خرچ اور مکان میں رہنے کی وصیت کر دے اور عورت برس سے پہلے نکل کر (بشرطیکہ چار مہینے دس دن کی عدت پوری کرچکی ہو) برخلاف وصیت شوہر دستور کے موافق نکاح کرلے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ وصیت لازم نہیں جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لازم تھی۔
1 ؎ حضرت عمر اور عثمان اور ابن مسعود اور ام سلمہ ؓ اور امام مالک اور سفیان ثوری اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔ 12 منہ
Ayah 2:243ترکیب : الم استفہام تقریری کے لیے تر فعل اصل میں تریٰ مثل ترعی کے تھا مگر عرب مستقبل میں ہمزہ حذف کردیتے ہیں جب ہمزہ حذف ہوئی تو الف منقلبہ اخیر باقی رہ گیا جو جزم کے وقت حذف ہوگیا۔ ضمیر انت اس کا فاعل الذین متعلق ہے فعل سے۔ وھم الوف جملہ حال ہے فاعل خرجوا سے حذر الموت مفعول لہ خرجوا سے۔
تفسیر : پیشتر خدا تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفوں سے خدا تعالیٰ کی جماعت بن کر جہاد کرنا باہمی اتفاق پر مبنی ہے اور زیادہ تر اتفاق میں خلل ڈالنے والی باتیں جو روزمرہ پیش آتی ہیں ‘ میاں بیوی کا جھگڑا اور میراث وصیت کے متعلق امور ہیں۔ اس لیے بیچ میں چند احکام ان جھگڑوں کے دفع کرنے والے ذکر فرما کر پھر جہاد کی ترغیب دلاتا ہے اور اس سے پیشتر بنی اسرائیل کے ایک واقعہ عبرت خیز کو یاد دلاتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک نبی کے عہد میں مخالفوں سے ڈر کر سینکڑوں ہزاروں بنی اسرائیل ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے اور نبی کے برخلاف ہوگئے۔ جنگ میں ثابت قدم نہ رہے ٗ آخر ان پر دشمن غالب آئے جس سے وہ سب مارے گئے۔ پھر نبی کی دعا سے زندہ ہوئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے کوئی حیلہ کرو وہ ٹلتی نہیں پھر نامردی اور بزدلی کرنا عبث ہے۔ دوم بزدلی اور بھی جان کو ہلاکت میں ڈالتی ہے۔ آدمی جانتا ہے کہ میں بزدلی سے بچ جائوں گا مگر اس سے دشمن کو اور بھی قتل کرنے میں جرأت ہوتی ہے۔ سوم اس سے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اظہار مقصود ہے کہ وہ قادر مردہ کو زندہ کرسکتا ہے حشر اجساد بھی اس کے نزدیک کوئی بات نہیں پھر جب مر کر وہاں جانا اور جزاء و سزا پانا ہے تو کیوں خدائے قادر پر توکل کرکے مخالفوں سے جنگ نہیں کرتے اسباب ظاہرہ پر کیوں سہارا کرتے ہو۔
متعلقات
(1) قرآن مجید سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ واقعہ کس زمانہ میں اور کس نبی کے عہد میں گزرا ہے اور گھر سے موت سے ڈر کر دشمن کی وجہ سے نکلے تھے یا دبائو کی وجہ سے۔ علماء مفسرین کے اس میں مختلف اقوال ہیں مگر صحیح اور قابل اعتماد یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت حزقیل (علیہ السلام) کے عہد میں بنی اسرائیل پر گزرا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے اور کتاب حزقیل کی سینتیسویں (37) فصل سے بھی ثابت
ہوتا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانہ سے پہلے بنی اسرائیل پر فلسطین کے لوگ غالب آگئے تھے اور کچھ عجب نہیں کہ ایسے موقع میں کسی نبی نے ان کو جنگ کرنے پر آمادہ کیا ہو اور وہ ڈر کر گھر بار چھوڑ کر بھاگ نکلے ٗ پھر قتل کئے گئے ہوں جس کو فقال لہم اللہ موتوا سے تعبیر کیا ہے اور پھر وہ حضرت حزقیل (علیہ السلام) کی دعا سے زندہ ہوگئے ہوں جس کو ثم احیاھم سے تعبیر کیا ہے اور اس بات کا ذکر کتاب حزقیل کے فصل مذکور میں صاف صاف مذکور ہے چناچہ اس کے بعض فقرات یہ ہیں ” اور اس وادی میں جو ہڈیوں سے بھرپور تھے مجھے اتار دیا اور مجھے ان کے آس پاس چو گرد پھرایا اور وے وادی کے میدان میں بہت تھی (وہم الوف) اور نہایت سو کھی تھیں اور اس نے مجھ سے کہا اے آدمی زاد کیا ہڈیاں جی سکتی ہیں ؟ میں نے جواب میں کہا کہ اے خداوند یہوداہ تو ہی جانتا ہے پھر اس نے مجھ سے کہا کہ تو ان ہڈیوں کے اوپر نبوت کر اور ان سے کہہ اے سوکھی ہڈیو ! تم خداوند کا کلام سنو ٗخدا واند یہوداہ ان ہڈیوں کو فرماتا ہے کہ دیکھو میں تمہارے اندر روح داخل کروں گا اور تم جیو گے الخ سو میں نے حکم کے بموجب نبوت کی اور جب میں نبوت کرتا تھا تو ایک شور ہوا الخ اور ان مقتولوں پر پھونک کہ جی اٹھیں۔ سو میں نے حکم کے بموجب نبوت کی اور ان میں روح آئی اور وہ جی اٹھی اور اپنے پائوں پر کھڑے ہوئے ایک نہایت بڑا لشکر
(2) مخالفین اس مقام پر دو اعتراض کیا کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ الم ترالی الذین خرجو امن دیارھم استفہام تقریری ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو دیکھا ہے حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں سینکڑوں برس کا زمانہ فاصل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تری کے ساتھ جب الی ملا دیتے ہیں تو اس سے اکثر رویت قلبی مراد لیا کرتے ہیں یعنی علم سو آپ کو اس واقعہ کا علم یقینی تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ یہود میں آنحضرت ﷺ کے عہد تک ایسا مشہور تھا کہ گویا آنکھوں کے سامنے تھا اور فصیح بلیغ ایسے واقعات کو بمنزلہ محسوسات کے قرار دے کر کلام کیا کرتے تھے۔ سو آنحضرت ﷺ کیا بلکہ اس زمانہ کے سب لوگ اس واقعہ کو اور ان لوگوں کو دیکھ رہے تھے اور اسی لیے عبرت کے لیے اس واقعہ کا بیان کرنا مناسب حال ہوا۔
دوسرا یہ کہ مردہ کا زندہ کردینا ناممکن بات ہے۔ یہ باتیں بعید از قیاس ہیں۔ الہامی کتابوں میں ایسی باتوں کا ہونا تعجب کی بات ہے۔ اس کا جواب بہت سے مقامات میں ہم دے آئے ہیں اور دہریوں اور ملحدوں کو ساکت کر آئے ہیں کہ یہ چیزیں محال عقلی نہیں اور جو دعویٰ کرے تو دلیل پیش کرے اور جب ممکن ہیں تو ان کے وقوع میں بطور خرق عادت کیا تعجب ہے ؟ بالخصوص مخبر صادق نے خبر دی تو پھر کیا تردد ہے ؟ رہا خلاف عادت ہونا سو اس کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں اور اس لیے اس کو معجزہ کہتے ہیں۔ معتزلہ اور ان کے بھائی نیچر یہ جواب دیتے ہیں کہ موت سے نامردی اور بزدلاپن مراد ہے اور احیاء کے لفظ سے ان کے دل میں قوت آنا اور لڑنے پر آمادہ ہوجانا مراد ہے۔ چونکہ مدیانیوں کے ہاتھ سے بنی اسرائیل نے سخت شکست پائی تھی اور اپنا گھر بار چھوڑ کر پہاڑوں اور جنگلوں میں بھاگ گئے تھے۔ آخر جدعون نے ان کو جنگ پر آمادہ کیا اور اس ذلت سے رہائی دی۔ پس خدا مسلمانوں کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ لڑائی میں موت کے ڈر سے بھاگ گئے تھے جو موت کے برابر تھی پھر اللہ نے ان کو ہمت و جرأت سے زندہ کیا۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی موت کے ڈر سے بزدلی اور نامردی جو موت کے برابر ہے ٗ نہ کرنی چاہیے اور قصہ حزقیل فرضی اور غلط ہے۔ ہمارے مفسروں نے غلطی سے آیت کو اس پر چسپاں کردیا ہے۔ ص 272
Ayah 2:244ترکیب : وقاتلوا معطوف ہے محذوف فاطیعو پر۔ من استفہامیہ موضع رفع میں ہے بسبب مبتداء ہونے کے اور ذا اس کی خبر ہے اور الذی اس کی لغت یا بدل ہے یقرض جملہ الذی کا صلہ قرضا مفعول مطلق حسنا یہ اسم مصدر ہے اور وہ اقراض ہے فیضاعفہ معطوف ہے یقرض پر یا جملہ مستانفہ ہے اضعافا جمع ضعف اور صغف بفجہ عین مصدر نہیں کیونکہ مصدر اضعاف ہے یا مضاعفتہ اس تقدیر پہ یہ یضاعفہ کی ہا سے حال ہوسکتا ہے اور معنیً مفعول ثانی بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : ان تمام مسائل کے بعد پھر خدا کی راہ میں جان دینے اور مال دینے کی تاکید شروع ہوتی ہے کیونکہ دنیا میں کوئی قوم قوم نہیں رہ سکتی تاوقتیکہ اس قوم میں اپنے ناموس اور مذہب محفوظ رکھنے کی قدرت نہ ہو۔ خاص وہ مذہب کہ جو تمام دنیا پر پھیلنے والا ہو جس کی توحید اور روشن احکام دنیا بھر کے شریروں کے خلاف نہ ہوں جس سے نہ صرف احتمال بلکہ یقین ہو کہ اس مذہب کے لیے اس کے گھر اور ملک میں بھی سخت سخت رکاوٹیں پیش آنی شروع ہوں گی بلکہ ہوگئیں۔ پھر آگے چل کر تو کیا کچھ نہ ہوگا اس لیے حکم دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں لڑو جو رکاوٹ پیش آئے اس کو تلوار کی دھاروں سے مٹا دو مگر نیت نیک اور دلی خلاص بھی ملحوظ رکھو۔ صرف خون ریزی اور بنی نوع کا قتل کرانا ہی مقصود نہیں بلکہ یہ جہاد ایسا ہے جیسا مریض کے لیے فصد و فاسد مادہ کا اخراج وقطع برید ایسے معاملات میں دلی اخلاص و نیک نیتی ضرور ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔
اور یہ ظاہر ہے کہ دشمنوں سے لڑائی اور ان پر چڑھائی بےساز و سامان کے عادتاً مشکل ہے۔ اس کے لیے روپیہ پیسہ بھی ضرور ہے۔ اس لیے اپنے بندوں کو خدا کی راہ میں مال صرف کرنے کی بھی کس عمدہ طور سے ترغیب دی ” کہ کوئی ہے جو اللہ کو قرض دے تاکہ اس کے بالعوض دنیا و آخرت میں خدا اس کو دگنا تگنا بلکہ بیشمار عنایت فرما دے “ اللہ تعالیٰ قرض مانگنے سے پاک ہے ٗ اس کو کوئی حاجت اور ضرورت نہیں وہ غنی اور حمید ہے اور اس کے قبضہ میں آسمان و زمین کے خزانے ہیں وہی بندوں کو فراغ دستی اور تنگدستی دیا کرتا ہے مگر اللہ کی راہ میں صرف کرنے کو بطور استعارہ کے قرض دینے سے تعبیر کیا۔ اس بات کے جتانے کے لیے کہ جس طرح غنی اور خوش معاملہ کو قرض دینا موجب اطمینان اور نتائج و منافع کا باعث ہے اسی طرح اللہ کی راہ میں دیا رائیگاں نہیں جاتا۔ وہ مع نفع چند در چند ملتا ہے ہم اس کے ضامن ہیں۔ گویا وہ ہم کو دیتا ہے اور اس کے بعد یہ بھی سنا دیا کہ تنگدستی و فراخ دستی سب ہمارے قبضہ میں ہے جو ہماری راہ میں صرف نہیں کرتے وہ اس بات پر گھمنڈ نہ کریں کہ ہماری دولت باقی رہے گی۔ خدا ہزاروں مصیبتیں بھیج کر تنگدستی کرسکتا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ بلا نازل ہوگی کہ مخالفین غالب آکر تمام ملک و دولت چھین لیں گے اور جو صرف کرتا ہے وہ تنگدستی سے نہ ڈرے۔ دنیا میں غنائم اور فتوحات ملک ان کے حصہ میں آویں گے۔ آخرت میں کہ جو سامنے کھڑی ہے جس کو الیہ ترجعون سے تعبیر کیا بیشمار نعمتیں ملیں گی جیسا کہ صحابہ کو ملیں۔
Ayah 2:2451 ؎ یعنی اللہ کی راہ میں دینا خدا کو دینا ہے۔ خدا قرض لینے سے پاک اور غنی ہے مگر دینے والے کی ترغیب اور اس کے اطمینان کے لیے کہ اس کا اجر کئی گنا ضرور ملے گا اس دینے کو اللہ کے قرض دینے سے بطور استعارہ کے تعبیر کیا کیونکہ جو کوئی غنی اور صادق الوعد کو دیتا ہے تو اصل اور فائدہ کے حاصل ہونے کا اطمینان ہوتا ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ خدا محتاج ہے بندوں سے قرض مانگتا ہے صریح بدفہمی ہے جس کا کوئی اب تک قائل نہیں۔
Ayah 2:246ترکیب : من بنی اسرائیل محذوف سے متعلق ہے کس لیے کہ یہ حال ہے ای کائنات من بنی اسرائیل۔ من بعد متعلق ہے ثابت کے اذ بدل ہے من بعد سے کس لیے کہ دونوں زمانہ کے لیے ہیں نقاتل جمہور اس کو جزم سے پڑھتے ہیں جو اب امر قرار دے کر عسیتم فعل الا تقاتلوا اس کی خبر ان کتب الخ شرط جملہ معترضہ درمیان آگیا۔ ما استفہام کے محل رفع میں ہے۔ مبتداء ہونے کی وجہ سے لنا اس کی خبر اور ربط ماقبل کے لیے آیا ہے وقد اخرجنا جملہ موضع حال میں اور عامل اس میں نقاتل ہے وابنائنا معطوف ہے دیار ناپرتقدیرہ ومن بین ابنائنا۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ سناتا ہے کہ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمیناً گیارہ سو برس پہلے گزرا ہے۔ اس قصہ میں خدا تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد میں ثابت قدمی اور استقلال اور مصائب پر برداشت کرنے کی رغبت دلاتا ہے اور خالص ایمانداروں کا توکل پھر اس پر ان کی امداد غیبی کرنا سناتا ہے۔ اس قصہ میں چھ باتیں بیان ہوئی ہیں۔ (1) بنی اسرائیل کا اپنے نبی سے بادشاہ مقرر کرنے کی
درخواست کرنا پھر اس پر سموئیل (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل پر ساول کہ جس کو طالوت 1 ؎ کہتے ہیں بادشاہ مقرر کرنا (2) بعض لوگوں کا طالوت کے افلاس اور ظاہری حال سے انکار کرنا کہ یہ بادشاہی کا مستحق نہیں اور پھر نبی (علیہ السلام) کا اس کی بادشاہ کی علامت صندوق شہادت کا کہ جس کو تابوت سکینہ کہتے ہیں۔ دشمنوں کے ہاں سے خود بخود آجانا معین کرنا۔ (3) طالوت کا لشکر عظیم لے کر فلسطینیوں کے مقابلہ میں نکلنا اور آگے چل کر ان میں سے دریائِ شورق پر بہادروں اور غیر بہادروں کا امتحان کرنا کہ جو اس کا پانی نہ پئے۔ وہ میرے ساتھ آئے اور جو سوائے چلو کے پئے وہ حملہ دشمن کی برداشت نہیں کرے گا۔ میرے ساتھ نہ آئے۔ پھر پیاس کے غلبہ میں بجز تخمینا کئی سو آدمیوں کے ہزاروں بنی اسرائیل کا پانی پینا۔ (4) طالوت کے لشکر کا جالوت کے مقابلہ میں جا کر خدا سے دعا کرنا۔
1 ؎ طالوت اس کا لقب تھا۔ 12 منہ
ف۔ طالوت کے ساتھ بنی اسرائیل کی ایک بہت بھیڑ بھاڑ دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلی۔ طالوت نے آگے جو پانی کا نالہ آنے والا تھا اس سے ان کے صبر و برداشت کی آزمائش کرنی چاہی کہ جو اس پیاس کی تاب نہ لائے گا وہ آب شمشیر کی کیونکر تاب لائے گا۔ اس پر بھی ہاتھ سے چلو میں لے کر پینے کی اجازت دیدی تھی مگر جب وہ بھیڑبھاڑ اس نہر پر پہنچی تو بجز چند لوگوں کے سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب یہ بھیڑ آئی اور انبوہ جالوت فلسطین کے بڑے قد آور بادشاہ اور اس کے لشکر کے مقابلہ میں آئے تو ڈر گئے اور کہنے لگے کہ ہم میں ان سے مقابلہ کی کیا طاقت ہے لیکن ان چند صبر کرنے والوں نے ڈھارس بندھائی کہ خدا کے ہاتھ فتح و شکست ہے۔ قلت و کثرت پر موقوف نہیں۔ بارہا خدا کے حکم سے چند لوگوں نے بڑے لشکروں کو شکست دے دی ہے پھر یہی جماعت مقابلہ میں سامنے آئی اور خدا سے صبر و استقلال اور نصرت کی دعا کی اور ان سپاہیوں میں دائود (علیہ السلام) بھی تھے۔ ان کے ہاتھ سے جالوت مارا گیا۔ بنی اسرائیل میں ان کی شہرت ہوگئی اور طالوت نے ان سے اپنی بیٹی بیاہ دی اور طالوت کے بعد یہی بنی اسرائیل کے بادشاہ ہوئے اور خدا نے ان کو الہام اور نبوت عطا کی۔ حکمت کے اسرار تعلیم فرمائے۔ یہ تمام قصہ بنی اسرائیل کا مسلمانوں کو جہاد پر قائم رہنے کے لیے سنا کر جہاد کی حکمت بھی ظاہر فرماتا ہے کہ انتظام عالم ہے۔ خدا نے اس پر مربوط کیا ہے کہ وہ بعض کی شوکت بعض سے برباد کرا دیتا ہے۔ ظالم قوموں کو دوسری قوموں سے غارت نہ کرے تو انتظام عالم درہم برہم ہوجائے۔ 12 منہ
Ayah 2:2471 ؎ سۃ کی اصل وسعۃ بفتح واو ہے اور حق اس کا کسرہ ہے لیکن چونکہ مستقبل میں حذف کیا گیا مصدر میں بھی حذف ہوا اور مستقبل میں اصل کسرہ تھا لیکن حرف حلق کی رعایت سے فتح دیا گیا ورنہ وعدیعدعدۃ کے طور پر کسر کا تھا۔ 12 منہ
Ayahs 2:248–252ترکیب : ان یاتیکم جزان۔ التابوت اصل وزن اس کا فاعول ہے فیہ سکینۃ جملہ موضع حال میں ہے اور اسی طرح تحملہ الملائکۃ۔ من ربکم صفت ہے سکینۃ کی و بقیتہً اصل اس کی بقیتہ ہے لام کلمہ ہی ہے۔ الامن اغترف استثناء ہے جنس سے اور ممکن ہے کہ اول من سے ہو اور یہ محل نصب میں ہے غرفۃ غین کے فتح اور ضمہ دونوں سے جائز ہے۔ یہ مصدر ہے اور بعض کہتے ہیں بالفتح کے معنی ایک بار چلو بھرنا اور بالضم کے معنے چلو۔ الاقلیلا منصوب ہے کیونکہ استثناء ہے۔ موجب سے لا کا اسم طاقۃ اس کا عین کلمہ واو ہے لانہ من الطوق وہوالقدرۃ لنا اس کی خبر الیوم اور جالوت میں عامل معنی استقراء ہے۔ کم من فِئَۃٍ ‘ کم اس جگہ خبر یہ ہے اور موضع اس کا فع ہے۔ بسبب مبتداء ہوئے کہ اور غلبت اس کی خبر اور من زائدہ ہے۔ باذن اللّٰہ موضع حال میں ہے۔ والتقدیر باذن اللہ لہم ولولا دفع اللّٰہ الناس دفع مصدر مبنی للفاعل مضاف ہے فاعل کی طرف اور الناس مفعول اور بعضہم بدل ہے الناس سے بدل بعض بِبَعْضٍ مفعول ثانی ہے اس کی طرف فعل بواسطہ حرف جرمتعدی ہوا ہے۔
تفسیر : (5) لشکر طالوت 1 ؎ کا لشکر جالوت پر فتح پانا اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ جالوت فلسطینی کا قتل ہونا۔ (6) دائود (علیہ السلام) کو بادشاہی اور علم و حکمت عطا کرنا یہ باتیں تورات کی اول کتاب سموئیل میں نہایت مشرحاً مذکور ہیں لیکن مجملاً بیان ان کا یہ ہے۔
حضرت سموئیل (علیہ السلام) سے پہلے بنی اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ ہوتا تھا بلکہ کاہن یعنی امام یا اس کے نائب قاضیوں کے طور پر فیصلہ کیا کرتے تھے اور انبیاء علیھم السلام جو وقتاً فوقتاً ان میں پیدا ہوتے تھے۔ وہ شریعت موسیٰ اور تورات کے موافق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ بنی اسرائیل آس پاس کی مشرک قوموں کی طرح جب بت پرستی اور زناکاری کرنی شروع کرتے تھے تو ان پر قہر خدا نازل ہوتا تھا جس سے وہ ان قوموں سے شکست کھا کر ان کی رعیت ہوجاتے تھے اور طرح طرح کی ذلت و پریشانی اٹھاتے تھے پھر جب توبہ کرتے تھے تو خدا ان پر اپنا فضل کرتا تھا چناچہ جب عبدون سردار اسرائیلی تین سو بہتر سال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مرگیا تو بنی اسرائیل نے پھر بت پرستی اور بےدینی اختیار کی جس سے ان پر فلسطین 1 ؎ کے لوگ غالب آگئے اور چالیس برس تک ان کی حکومت رہی۔ پھر شمسون کے عہد میں خلاصی
ملی۔ شمسون بیس برس تک سلطنت کرتا رہا۔ آخر اس پر پھر اہل فلسطین غالب آگئے اور اس کو پکڑ کرلے گئے اور بنی اسرائیل کا بڑا ابتر حال ہوگیا۔ پھر تخمیناً چار سو بیالیس برس بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بنی اسرائیل میں ایک شخص عیلی نام کاہن ہوا۔ اس کے عہد میں کوہستان افریم میں ایقانہ ایک شخص ہر سال سیلا میں قربانی اور سجدہ کرانے آتا تھا۔ اس کی دو بیویاں تھیں۔ ایک کا نام فنینہ دوسری کا نام خننہ مگر خننہ کے اولاد نہ ہوتی تھی۔ اس لیے وہ غمگین رہتی تھی۔ ایک بار اس نے جب ہیکل میں قربانی کرنے آئی تھی تو رو کر خدا سے دعا مانگی کہ تو مجھ کو فرزند عطا کرے تو میں اس کو تیرے لیے نذر گزاروں گی۔ سو خدا نے اس کی مراد دی۔ اس کے پیٹ سے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام سموئیل رکھا جس کے معنی عبرانی میں خدا سے مانگا ہو یا اللہ دیا ہوتے ہیں۔
جب سموئیل کا دودھ بڑھ چکا تو اس کی ماں اور باپ اس کو اپنے شہر رامہ سے سیلا میں خداوند کے گھر لائے اور وہ لڑکا بہت ہی چھوٹا تھا۔ تب انہوں نے ایک جوان بیل کو ذبح کیا اور لڑکے کو عیلی کے پاس لائے اور وہ عیلی کاہن کے آگے خداوند کی خدمت کرتا رہا۔ عیلی کے بیٹے بدچلن تھے جس سے عموماً بنی اسرائیل ناراض تھے اور سموئیل خداوند اور آدمیوں کے آگے مقبول ہوتا چلا۔ اس عرصہ میں سموئیل نے عیلی کے بیٹوں کی بابت رات کو خواب دیکھا کہ جس میں خدا نے عیلی کے خاندان برباد کرنے کی خبر سموئیل کو دی۔ صبح کو یہ خبر عیلی اور بنی اسرائیل نے سنی اور سموئیل کی تمام بنی اسرائیل میں نبوت اور بزرگی تسلیم ہونے لگی۔ پھر بنی اسرائیل فلسطیوں سے لڑنے نکلے اور ابن عزر کے پاس خیمے لگائے اور فلسطیوں نے افیق میں اپنے خیمے قائم کئے اور باہم صف بندیاں ہو کر مقابلہ شروع ہوا تو بنی اسرائیل نے شکست کھائی اور قریب چار ہزار آدمی کے مارے گئے۔ پھر لشکر گاہ میں بنی اسرائیل نے آکر یہ تجویز کی کہ آئو ہم خدا کے عہد کا صندوق سیلا سے اپنے پاس لاویں کہ اس کی برکت سے فتح پاویں اور جب وہ صندوق لشکر گاہ میں آپہنچا اور اس کے ساتھ عیلی کے دونوں بیٹے قیح اس اور حقنی بھی آئے تو بنی اسرائیل نے اس زور سے للکارا کہ زمین لرز گئی۔ جب فلسطیوں کو حال معلوم ہوا تو آپس میں عہد کیا کہ مردانگی اور مضبوطی سے جنگ کریں گے۔ سو فلسطی لڑے اور بنی اسرائیل نے شکست کھائی اور تیس ہزار بنی اسرائیل مارے گئے اور خداوند کے صندوق کو بھی لوٹ کرلے گئے اور عیلی کے دونوں بیٹے بھی مارے گئے۔ تب بنی بنیامین کا ایک شخص کپڑے پھاڑ کر سر پر خاک اڑاتا ہوا اسی روز سیلا میں پہنچا اور عیلی کرسی پر بیٹھا ہوا انتظار کر رہا تھا اور اس کا دل صندوق شہادت کے لیے کانپ رہا تھا اور جونہی اس شخص نے شہر میں پہنچ کر خبر دی تو سارا شہر چلایا اور عیلی نے جو شور کی آواز سنی تو کہا ٗیہ شور کیا ہے۔ سو اس شخص نے عیلی سے سب ماجرا کہا اور جونہی اس نے یہ خبر سنی کرسی پر سے پچھاڑ کھا گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا کہ وہ بوڑھا تھا ٗ یہ چالیس برس بنی اسرائیل کا قاضی رہا (اول کتاب سموئیل۔ باب 4)
1 ؎ فلسطین ملک شام کا وہ ٹکڑا ہے کہ جو مغرب اور جنوب کی طرف بحر روم سے ملا ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم نے نقشہ میں دکھایا ہے یہاں کے لوگ مشرک اور بت پرست تھے۔ یہ لوگ ہمیشہ بنی اسرائیل سے جنگ وجدل کیا کرتے تھے۔ کبھی غالب کبھی مغلوب ہوجاتے تھے۔ آخر حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کے عہد میں بالکل مغلوب ہوگئے تھے۔ 12 منہ
یہ وہ واقعہ ہے کہ جس میں تابوت سکینۃ بنی اسرائیل کے ہاتھ سے جاتا رہا اور فلسطی لوگ اس کو اپنے ملک میں لے گئے۔ اس وقت بنی اسرائیل میں سموئیل (علیہ السلام) بزرگ مانے جاتے تھے۔ ان کی نصیحت سے بنی اسرائیل نے بت پرستی اور بدفعلی ترک کی اور اس حادثہ کے تخمیناً بائیس برس بعد بمقام مصفاہ سموئیل نے بنی اسرائیل کو جمع کرکے فلسطینیوں کے مقابلہ پر آمادہ کیا۔ آخر الامر بنی اسرائیل نے فتح پائی اور عقرون سے لے کر جات تک جس قدر بستیاں ان کے قبضہ میں آگئی تھیں پھر بنی اسرائیل کے قبضہ میں آئیں (باب 7) پھر جب سموئیل بوڑھے ہوگئے تو لوگوں نے رامہ میں جمع ہو کر سموئیل سے کہا ٗ دیکھ تو بوڑھا ہوا اور تیرے بیٹے یو ایل اور ابیاہ تیری راہ پر نہیں چلتے بلکہ نفع کی پیروی کرتے اور رشوت لیتے اور عدالت میں طرفداری کرتے ہیں۔ اب تو کسی کو ہمارا بادشاہ مقرر کر جو ہم پر حکومت کیا کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہمارے لیے لڑائی کرے۔ (8 باب) تب سموئیل نے مصفاہ میں خداوند کے حضور لوگوں کو بلایا اور کہا خداوند اسرائیل کا ایسا فرماتا ہے کہ میں اسرائیل کو مصر سے نکال لایا اب تم نے بادشاہ کی درخواست کی۔ سو ایک ایک فرقہ کرکے ہزار ہزار سب کے سب خداوند کے آگے حاضر ہوجائو اور جب سب حاضر ہوئے تو قرعہ بنیامین کے فرقے کے نام پر پڑا ٗ پھر ان میں سے مطری کے گھر کا نام نکلا اور قیس کے بیٹے ساول کا نام نکلا جو خوب جوان تھا اور بنی اسرائیل میں اس سے خوبصورت کوئی شخص نہ تھا۔ یہ ساری قوم میں کاندھے سے لے کر اوپر تک ہر ایک سے اونچا اور شہر جبعہ کا رہنے والا تھا مگر بنی بلعال نے اس کی تحقیر کی کہ یہ کس طرح ہم کو بچائے گا۔ سموئیل نے کہا کہ اس کی سلطنت کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس صندوق شہادت آجاوے گا۔ پس ساول کی بادشاہت قائم ہوگئی اور سموئیل کی صلاح سے فلسطیوں سے لڑائیاں ہوتی رہیں اور فلسطی روز بروز دبتے چلے گئے اور وہ صندوق جو لوٹ کرلے گئے تھے جہاں اس کو رکھا وہیں ان پر بیماری وغیرہ سخت بلائیں نازل ہوئیں اور یہ بھی سمجھے کہ بنی اسرائیل کی لڑائی ہم سے جب تک کہ یہ صندوق ہمارے ہاں رہے گا ٗ موقوف نہ ہوگی۔ اس لیے انہوں نے اس کو ایک گاڑی میں رکھا اور اس کے ساتھ ایک صندوق میں کچھ سونے کی تصویریں بھی بند کرکے رکھ دیں اور اس گاڑی کو بیت شمس کی طرف جو کہ بنی اسرائیل کا شہر ان کے حد سے ملتا تھا چھوڑ دیا۔ اس گاڑی کو فرشتے ہانک کر بیت شمس میں ایک شخص یشو کے کھیت میں لے آئے۔ ان لوگوں نے بڑی خوشی کی اور صندوق کو گاڑی سے اتار لیا اور پھر قریہ یعاریم کے لوگوں کو کہلا بھیجا ٗ وہ آکر اس کو اپنے ہاں لے گئے۔ اس کے واپس آنے سے بنی اسرائیل میں نہایت خوشی پیدا ہوئی۔ اس عرصہ میں کئی باتوں میں ساول یعنی طالوت نے سموئیل (علیہ السلام) کی نافرمانی کی جس سے وہ ناخوش ہوئے جس پر خدا نے سموئیل کو کہا تو کب تک ساول کی بابت غم کھاتا رہے گا تو بیت اللحم میں جا اور یسی کے بیٹوں کو بلا۔ ان میں سے جس کو میں بتلائوں اس کو منتخب کر۔ چناچہ سموئیل وہاں گئے اور یسی کے بیٹوں کو بلایا کسی کو بھی پسند نہ کیا۔ پھر پوچھا کہ تیرے یہی لڑکے ہیں ؟ اس نے کہا سب سے چھوٹا ایک اور ہے۔ وہ بھیڑ بکریاں چراتا ہے۔ سموئیل نے کہا اسے بلا بھیج۔ سو اس نے بلایا وہ سرخ رنگ اور خوش چشم اوردیکھنے میں اچھا تھا۔ تب سموئیل نے تیل لے کر دائود پر ملا اور پھر سموئیل رامہ چلے گئے۔ اس کے بعد پھر فلسطیوں نے جنگ کے ارادہ سے اپنی فوجیں جمع کیں اور یہوداہ کے شہر شو کہ میں فراہم ہوئے اور شو کہ اور غریقہ کے درمیان افسدیم میں خیمہ زن ہوئے۔ ان کے مقابلہ میں طالوت نے بنی اسرائیل کو جمع کرکے ایلہ کے قریب خیمے لگائے ( یہ وہ لڑائی ہے کہ جو قرآن مجید کی ان آیات میں بیان ہوئی ہے) ۔ ان دونوں لشکروں کے درمیان دریائے شورق واقع تھا۔ فلسطی اس کے جنوبی طرف میں تھے اور بنی اسرائیل شمالی طرف میں۔
چونکہ متواتر فتوحات سے بنی اسرائیل کا حوصلہ بڑھ گیا تھا اس لیے بنی اسرائیل کے عام و خاص بہادر غیر بہادر سب نکل کھڑے ہوئے تھے اور تجربہ کاروں کے نزدیک عام بھیڑ بھاڑ لڑائی میں اکثر شکست کا باعث ہوجایا کرتی ہے۔ اس خیال سے طالوت نے دریا پر پہنچ کر جبکہ لشکر میں گرمی اور تشنگی تھی۔ انتخاب کرنا چاہا اور ان سے پیشتر مدیانیوں کے مقابلہ میں جد عون اسی طرح کا انتخاب کرچکا تھا اور حکم دیا کہ جو اس کا پانی پی لے میرے ساتھ نہ آوے مگر چلو بھر کے زبان تر کرلینے کا کچھ مضائقہ نہیں۔ سو اس عام بھیڑ میں سے ان دل چلوں اور بہادروں نے نہ پیا کہ جو اپنے جوش اور حمیت سے جنگ میں شریک ہوئے تھے ورنہ سب نے پی لیا۔ پھر جب ان بہادروں کا فلسطیوں سے آمنا سامنا ہوا تو ان میں سے ایک شخص جالوت نام جو بڑا قد آور تھا اور پیتل کی زرہ پہنے ہوئے اور سر پر پیتل کا بڑا بھاری خود دھرے ہوئے تھا سب سے پہلے صف میں نکل کر اپنا مقابل مانگنے لگا۔ بنی اسرائیل میں سے کسی کی جرأت اس کے مقابلہ کے لیے نہ ہوئی۔ دائود سے بادشاہ نے بڑے انعام و اکرام کا وعدہ کیا تو دائود (علیہ السلام) اس کے مقابلہ کو چلے اور اپنا لٹھ ہاتھ میں لیا اور پانچ پتھر چکنے چکنے اپنے واسطے چن لیے اور جھولے میں ڈالے اور فلاخن لے کے اس کی طرف قدم بڑھائے۔ جالوت نے دائود کو حقیر جان کر کہا کیا میں کتا ہوں جو تو لٹھ لے کر مجھ پر آیا ہے۔ دائود نے کہا تو تلوار ڈھال برچھا لے کے میرے پاس آیا ہے۔ میں رب الافواج کے نام سے تیری طرف آیا ہوں۔ جالوت نے حملہ کیا ٗ دائود نے پھرتی کرکے ایک پتھر فلاخن میں دھر کر جالوت کے ماتھے پر ایسا مارا کہ وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا اور اسی کی تلوار سے اس کا سر کاٹ لیا۔ یہ حال دیکھ کر فلسطی بھاگ نکلے اور ہزاروں مارے گئے۔ تب دائود (علیہ السلام) اس کا سر لے کر یروشلم میں آئے جس سے بنی اسرائیل میں ان کی دھوم ہوگئی اور طالوت نے اپنی چھوٹی بیٹی میکل کا دائود سے بیاہ کردیا مگر دل میں رشک اور حسد پیدا ہوگیا۔ دائود کے قتل کی بہت سی تدبیریں کیں مگر کوئی پیش نہ چلی۔ آخر الامر طالوت اور اس کے بیٹے ایک عرصہ کے بعد فلسطیوں کی لڑائی میں مارے گئے اور بنی اسرائیل کی تمام سلطنت دائود (علیہ السلام) کو ملی (کتاب اول سموئیل) عیسائی مورخ ان آیات پر دو اعتراض کیا کرتے ہیں (1) یہ کہ تابوت سکینہ طالوت کے بادشاہ مقرر ہونے سے پہلے آگیا تھا جیسا کہ کتاب سموئیل سے ثابت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کتاب سموئیل میں خود تعارض ہے۔ اس کے 15 باب 29 درس میں ہے یعنی خدا وہ انسان نہیں کہ پچھتاوے۔ پھر اسی باب کے 35 درس میں ہے اور خداوند بھی بچتا یا کہ اس نے ساول کو بنی اسرائیل کا بادشاہ کیا۔ پھر اسی کتاب کے 16 باب درس 21 میں ہے کہ دائود کو ساول نے اپنے پاس بلایا اور وہ آیا اور اس نے پیار کیا اور اپنا سلح بردار کیا جس سے معلوم ہوا کہ ساول دائود اور ان کے باپ سے خوب واقف تھا۔ پھر 17 باب 31 درس سے 39 تک یہ ثابت ہے کہ ساول دائود سے واقف نہ تھا۔ اس وجہ سے خود عیسائی مورخ یہ کہتے ہیں کہ قصہ الٹ پلٹ ہوگیا بلکہ بعض اسباب کو الحاقی کہتے ہیں۔ علاوہ اس کے یہ بھی تحقیق نہیں کہ یہ کتاب کس کی تصنیف ہے۔ کوئی خود سموئیل کی کہتا ہے کوئی ناتن نبی کی کوئی یرمیاہ کی پھر جب اس کے لکھنے والے مختلف لوگ ہوں تو الٹ پلٹ ہونا کچھ تعجب کی بات نہیں جس سے یہ یقین ہوسکتا ہے کہ جس طرح قرآن میں بیان ہے وہی صحیح ہے۔ دوسرا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ کتاب سموئیل میں لشکر کا پانی سے آزمایا جانا نہیں پایا جاتا اور نہ بوقت مقابلہ دعا کرنا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کتاب سموئیل میں نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ باتیں واقع نہیں ہوئیں۔ کوئی عیسائی کہہ سکتا ہے کہ تمام باتیں کتاب سموئیل میں مندرج ہوگئی ہیں ! تابوت سکینہ کہ جس کو خداوند کا صندوق کہتے ہیں اس میں کچھ من اور وہ لوحیں کہ جو موسیٰ کو کوہ طور پر ملی تھیں اور ہارون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعض کپڑے اور عصا رکھا ہوا تھا۔