2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 2:6–7

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جو لوگ انکار کرچکے ہیں ان کے لیے تو آپ کا ڈر سنانا (اور) نہ سنانا (دونوں) برابر ہیں وہ ایمان نہ لائیں گے

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

کیونکہ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کو بڑا عذاب ہوتا ہے۔

ترکیب : اِنَّ اسم مشبہ اَلَّذِیْنَ موصول کفروا اس کا صلہ، موصول اور صلہ دونوں مل کر اس کا اسم ہوئے اور سِوَآئٌ بمعنی استوا اس کی خبر ہے اور اس کے مابعد جو ہے وہ اس مصدر کا فاعل بن کر مرفوع ہے گویا کلام یوں ہوا ان الذین کفروامستو علیہم انذارک وعدمہ۔ ختم فعل لفظ اللہ فاعل علی جار قلوب مجرورمضاف ھم مضاف الیہ۔ مضاف اور مضاف الیہ دونوں مل کر معطوف علیہ اور علی سمعہم معطوف۔ معطوف اور معطوف علیہ دونوں مجرور ہوئے جار کے پھر متعلق ہوئے ختم سے۔ ختم اپنے فعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ غشاوۃ مبتداء مؤخر اور علٰٓی ابصارھم ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر۔ مبتداء خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا اور جملہ سابقہ پر اس کا عطف ہوا، عذاب موصوف الیم صفت دونوں مل کر مبتداء موخر اور ولہم خبر مقدم جو متعلق ثابت کے ہے مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہو کر پہلے جملہ پر معطوف ہوا۔ تفسیر : پیشتر خدائے تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ قرآن متقین کے لیے ہدایت ہے اس پر یہ خیال گزرتا تھا کہ کافروں کے لیے کیوں ہدایت نہیں، حالانکہ ضرور ان ہی کے لیے ہدایت کا ہونا تھا کیونکہ متقی تو خود ہدایت پر تھے اس کا اپنے کلام میں اشارتاً یہ جواب دیا کہ کافر اور متقی سے مراد ازلی کافر اور ازلی متقی ہیں گو بالفعل ایک شخص طرح طرح کی برائیوں اور انواع و اقسام کے کفر و شرک میں مبتلا ہے، مگر وہ ازل میں انوارِ الٰہی سے حصہ پا چکا ہے تو اس کو ضرور قرآن سے ہدایت ہوگی اور وہ ایمان بھی لاوے گا اور اچھے اعمال بھی کرے گا اور جو ازل میں اس نور سے محروم رہا وہ انجام کار محروم ہی رہے گا، اس کو قرآن اور حضرت کے وعظ و پند سے کچھ نفع نہ ہوگا، کس لیے کہ اس میں سرے سے صلاحیت ہی نہیں۔ 1 ؎ اس عدم صلاحیت اور اس ازلی بدنصیبی کو جو ازل میں خدا کی طرف سے ظہور میں آئے مہر اور پردہ سے تعبیر کیا ہے، اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یہ عالم اور جس قدر اس عالم کی چیزیں ہیں بلکہ جس قدر اور صدہا عالم فرض کئے جائیں سب خدا تعالیٰ کے وجود حقیقی کے اظلال اور پر توے ہیں۔ اس عالم حسی میں جو کچھ وقتاً فوقتاً پایا جاتا ہے وہ اسی وقت موجود نہیں ہوجاتا بلکہ عالم مثالی میں موجود ہوچکا ہے۔ وہاں سے وقتاً فوقتاً ظہور کرتا اور پردہ غیب سے باہر آتا ہے گو وہ شے حادث ذاتی یا زمانی سہی مگر اب پیدا نہیں ہوئی اور یہ بات تنزلات ستہ کے معانی میں غور کرنے سے بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ اس عالم حسی سے ہزار ہا سال پیشتر عالم مثالی میں خدائے تعالیٰ کی ایک تجلی ہوئی کہ جس میں تمام کائنات عالم حسی اس کے دربار فیض آثار میں اپنی استعداد کے موافق ہر چیز سے فیض یاب ہوئے ؎ قسمت کیا ہر ایک کو قسام ازل نے جس چیز کو جس شخص کے قابل نظر آیا اس جگہ حضرت آدم 2 ؎ (علیہ السلام) سے تمام ذریت جو ہونہار تھی، چیونٹیوں کی طرح سے نکل پڑی اور اس کا آفتاب جمال ہر شخص پر نور افگن ہوا، جن میں استعداد خدا داد کی وجہ سے کچھ بھی صفائی تھی، ان پر وہ نور پڑا اور چمکا اور جن کی اصل میں کدورت تھی ان پر وہ نور نہ پڑا، (جس طرح اس عالم میں آفتاب نکلتا ہے تو شفاف چیزیں منور ہوجاتی ہیں اور مکدر نہیں چمکتیں) اور ہر شخص نے اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جن پر وہ نور پڑا تھا وہ لوگ اس عالم حسی میں اہل سعادت یعنی مومن کہلائے اور جن پر وہ نور نہ پڑا وہ اسی شقاوت کی تاریکی میں اس عالم میں آئے اور کافر و منافق کہلائے۔ قرآن حقائقِ اشیاء کو نہیں بدل سکتا جو وہاں محروم رہا ان کو یہاں کون منور کرسکتا ہے، اس لیے حضرت کی تسلی اللہ تعالیٰ نے کردی اور جو لوگ دراصل اہل سعادت ہیں مگر عوارض وغیرہ سے تاریکی میں گرفتار ہیں ان کو ابھارتا ہے کہ ہمارے قرآن اور آپ کے بیان میں اے نبی کچھ قصور نہیں لیکن جو ازلی بدنصیب ہیں ان کی تقدیر میں بھلائی نہیں۔ واضح ہو کہ اس خدا داد ہدایت اور صلاحیت ازلی کے لحاظ سے لوگوں کی سات قسم ہیں کس لیے کہ بنص قرآنی یا لوگ شقی ہیں یا سعید فَمِنْھُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیْدٌ اور اشقیاء کو اصحاب الشمال یا اصحاب المشئمہ بھی کہتے ہیں، پھر ان اشقیاء کی دو قسم ہیں۔ اول مطرو دین کہ جن پر بہیمیت اور تاریکی ہیولانیت نے ایسا غلبہ کیا ہے کہ ان پر نور الٰہی پڑنے کی قابلیت ہی نہیں رہی اور چوطرفہ اندھیریوں اور ہر قسم کی تاریکیوں نے ان کو ایسا گھیر لیا کہ گو وہ بظاہر جنس انسان میں ہیں لیکن درحقیقت جانور ہیں ان کو کافر بھی کہتے ہیں دیوار اور مہر اور پردہ جو قرآن میں مذکور ہے اس سے یہی ظلمات مراد ہیں۔ ان ہی کی نسبت فرمایا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ 1 ؎ یعنی جو ازلی گمراہ اور سیاہ قلب ہیں ان کے لیے قرآن ہدایت نہیں بخشتا خواہ آپ وعظ و نصیحت کریں یا نہ کریں ان کے دلوں میں ایمان قبول کرنے کی قابلیت نہیں۔ الخ۔ 12 منہ۔ 2 ؎ چناچہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ خدا نے مخلوق کو ظلمت (طبیعت) میں پیدا کیا اور ان پر اپنا نور ڈالا پس جس شخص پر وہ نور پڑگیا اس نے ہدایت پائی اور جس پر نہ پڑا وہ گمراہ ہوا اور میں اسی لیے کہتا ہوں کہ احکام ازلیہ پر قلم خشک ہوگیا۔ رواہ احمد والترمذی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ خدا نے پشت آدم سے بمقام لعمان عہد لیا پس اس کی پشت سے تمام ذریت کو نکال کر اس کے سامنے پھیلا دیا اور غنی و فقیر سب کو دکھلا دیا اور انبیاء چراغوں کی مانند چمکتے نظر آئے پھر خدا نے آدم کے روبرو سب سے عہد لیا کہ میں تمہارا رب ہوں تم اس پر قائم رہنا پھر اس کے یاد دلانے کو دنیا میں انبیاء بھیجوں گا تاکہ تم قیامت کو یہ عذر نہ کرو کہ ہم کو معلوم نہ تھا یہ کہ ہمارے آباء و اجداد نے شرک کیا ہم ان کے مقلدر ہے ہم پر کیا گناہ ہے انتہی ملخصاً ، رواہ احمد۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص کا ٹھکانا جنت یا دوزخ میں پہلے ہی سے علم الٰہی میں قرار پا چکا ہے (متفق علیہ) اور فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میرے ہاتھ میں یہ دو کتابیں کیسی ہیں ؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ فرمایا کہ داہنے ہاتھ کی کتاب میں خدا نے تمام اہل جنت کے نام لکھ دیے ہیں اور ان کی قوم اور باپ کے نام بھی مندرج ہیں اور بائیں میں تمام اہل دوزخ کے نام ہیں۔ رواہ الترمذی۔ (حقانی) کَفَرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْہْمْ ئَاَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ سوال : صدہا کافروں کو ایمان لاتے دیکھا ہے اکثر صحابہ ؓ پیشتر کافر تھے پھر ایمان لائے۔ متقی اور ہادی اور مہدی کہلائے۔ جواب : جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے وہ دراصل کافر نہ تھے اور ان کو جو اس وقت کافر کہا جاتا تھا تو بحکم حالت موجودہ ورنہ وہ حقیقت میں متقی تھے جو ہدایت پر آگئے اور وہ ازلی کافر جیسا کہ ابوجہل وغیرہ ہرگز ایمان نہ لائے نہ لاویں گے نہ ان میں صلاحیت ہے۔ اس لیے ان کی نسبت خدائے تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنَّ وَالْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بْھَا وَلَھُمْ اَعْیُنٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ بْھَا وَلَھُمْ اٰذَانٌ لاَ یَسْمَعُوْنَ بْھَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامْ بَلْ ھُمْ اَضَلَّ اُولٰئِکَ ھُمُ الْفَغِلُوْنَ (کہ ہم نے بہت سے جن اور آدمی جہنم کے لیے پیدا کئے ہیں ان کو دل ملے ہیں مگر سمجھتے نہیں، ان کو آنکھیں دی گئی ہیں مگر ان سے دیکھ نہیں سکتے، کان دیے گئے ان سے سن نہیں سکتے، وہ لوگ بمنزلہ چارپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی گمراہ اور یہی غافل ہیں) ۔ دوم وہ لوگ کہ جن میں کسی قدر استعداد ذاتی تو تھی کہ جو کبھی طبیعت کی تاریکیوں میں اس طرح چمکتے تھے جس طرح گھنگور گھٹا میں بجلی، مگر ان لوگوں نے جب جاہ و جلال اور شکوک و شبہات اور پابندی رسم و رواج سے اور شہوت پرستی اور مستی سے اس نور کو بجھا دیا اور اس ذاتی استعداد کو مٹا دیا اس گروہ کو منافق کہتے ہیں۔ ان کا تفصیل سے پچھلی آیتوں میں ذکر آتا ہے اور سعیدوں کی بھی دو قسم ہیں ایک قسم مقربین اور سابقین۔ دوسری اصحاب الیمین جن کو اصحاب المیمنہ و مقتصدین بھی کہتے ہیں۔ پھر مقربین کی بھی دو قسم ہیں اول مجتبیٰ ، دوم منیب۔ اَللّٰہُ یَجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ اِلَیْہِ مِنْ یُّنِیْبُ مجتبیٰ کو اہل سلوک محبوب اور منیب کو محب بھی کہتے ہیں اور کبھی مجذوب و سالک بھی کہتے ہیں۔ یہ لوگ انبیاء و صدیقین ہیں اور اسی طرح اصحاب الیمین کی بھی کئی قسمیں ہیں اہل فضل وثواب کہ خدا کے فضل سے مقصود کو پہنچے ہیں اور اسی امید پر ایمان و اعمال صالحہ عمل میں لاتے ہیں۔ دوم اہل عفو کہ جن کے اچھے اعمال میں کچھ برے بھی شامل ہیں، مگر یا تو ان کی قوت ایمان اور نور معرفت اور رجائِ صادق سے خدائے تعالیٰ اس گناہ کو معاف کردیتا ہے یا توبہ اور اس کے مقابلہ میں گریہ وزاری اور اعمال صالحہ سے وہ داغ مٹ جاتا ہے خَلَطُوْا عَمَلاً صَالِحاً وَآخَرَ سَیّْئًا عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّتَوْبَ عَلَیْہْمْ کا یہ ہی لوگ مصداق ہیں اور فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیّْئٰاتِھْمْ حَسَنَاتٍ ۔ ان ہی کے حق میں فرماتا ہے۔ سوم معذبین کہ بقدر گناہ ان کو عذاب ہوگا اور یہ عذاب کبھی تو دنیا ہی میں بصورت نقصان مال و جان و بیماری و خواری ظہور کرتا ہے اور گناہوں سے صاف کرجاتا ہے جیسا کہ آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور کبھی مومن کی روح پر ایک عجیب دہشت اور سخت بےکلی اور تاسف لاحق ہوتا ہے سو وہ بھی اس کا کفارہ ہوجاتا ہے اور کبھی آخرت میں وہ برے اعمال آگ اور سانپ بچھو کی صورت میں ظہور کرکے اس کی روح کو صدمہ پہنچاتے ہیں اور جب ایک مدت تک اس تکلیف کو پا لیتا ہے تو پھر روح منور ہوجاتی ہے اور جنت میں آرام پاتی ہے اور کبھی انبیاء اولیاء و ملائکہ کی شفاعت سے خلاصی ہوجاتی ہے۔ ان پانچ گروہوں کا حال الذین انعمت علیہم میں اور ھدی للمتقین الخ میں ہوچکا اور اشقیاء کے اول فریق کافر کا ان آیات میں بیان ہوا کہ قرآن سے ان کو ہدایت نہیں اور اشقیاء کے دوسرے فریق منافق کا اس کے بعد ومن الناس من یقول الخ میں خدا بیان فرماتا ہے۔ متعلقات : ختم اللہ علیٰ قلوبہم ہرچند ختم کا اسناد اللہ کی طرف اہل حق کے نزدیک اسناد حقیقی 1 ؎ ہے لیکن مہر کرنے سے اور ان کی 1 ؎ معتزلہ کے نزدیک اسناد مجازی ہے، اہل حق کے نزدیک مجاز لغوی اعنی مسند معنی مجازی میں مستعمل ہے باقی اسناد حقیقی ہے۔ معتزلہ اور عیسائی کہتے ہیں کہ خدا کی طرف کفر کا پیدا کرنا اور مہر اور گمراہ کرنا منسوب کرنا نہایت بےادبی اور اس کی ذات مقدس میں عیب لگانا ہے۔ لہٰذا اس قسم کی عبارتوں کو مجاز پر محمول کرنا چاہیے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ یہ لوگ اس بات کو اچھی طرح نہ سمجھے، عقلاً یوں کہ جب یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ اس عالم کا وہی خالق ہے تو اعیان و اعراض سب کچھ اسی کا مخلوق ہوگا، کس لیے کہ ممکن کو دوسرا ممکن پیدا کرنے کی خواہ وہ جوہر ہو خواہ عرض (کوئی کام وغیرہ) قدرت مستقلہ نہیں اور جو ہو تو وہ خالق آنکھوں پر پردہ ہونے سے یہ مراد نہیں کہ درحقیقت خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر اس طرح سے مہر لگا دی ہے کہ جس طرح کسی برتن کا منہ بند کرکے اس پر لاکھ سے اس لیے مہر لگا دیتے ہیں کہ اس کے اندر اور کوئی چیز نہ جانے پاوے نہ اندر کی چیز باہر آنے دے اور سچ مچ کا کوئی ٹاٹ یا ترپال کا پردہ ان کی آنکھوں پر ڈال دیا ہے۔ شاید کسی کم فہم نے یہ بات سمجھ کر قرآن مجید پر اعتراض کیا ہو بلکہ اس سے مراد وہ جبلی کجروی اور طبعی تاریکی ہے کہ جس کی وجہ سے کفر و معصیت کی طرف بےخود ہو کے دوڑتا ہے اور امور فطرت سے اس کو دلی نفرت ہوتی ہے جس طرح کہ گوہ کے کیڑے کو خوشبودار پھول سے جبلی نفرت اور گندگی سے رغبت ہوتی ہے گویا کہ خوشبو کی طرف رغبت کرنے سے اس کیڑے کے دل پر مہر ہوگئی ہے اور اس کی آنکھوں پر قضاء و قدر سے حجاب پڑا ہوا ہے۔ سو یہ ایک حالت ہے کہ جس کو خدا نے استعارہ کے طور پر ختم اور غشاوہ سے تعبیر کیا ہے اور کبھی اس حالت کو طبع سے تعبیر کیا ہے اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبْھْمْ اور کبھی اغفال سے ولا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرْنَا اور کبھی اقساء سے وَجَعَلْنَا قُلُوْبُھُمْ قَاسِیَۃً اس حالت کا فاعل حقیقی خدائے تعالیٰ ہے کیونکہ یہ جتنے امور جبلی ہیں سب قضاء و قدر سے ہیں اور اسی لیے ان کو خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور اس میں اس کی ذات پاک پر کوئی عیب نہیں لگتا۔ کس لیے کہ اس کا کا سب بندہ ہے اس کو کسی قدر اس میں دخل ہے اس لیے اس کی طرف بھی نسبت کرتے ہیں اور برائی کا بوجھ اس کے سر پر دھرتے ہیں اور اسی لیے اتمام حجت کو ان کے پاس بھی خدا کے انبیاء (علیہم السلام) پیغام ہدایت لاتے ہیں اور پھر وہ اپنی نافرمانی کی سزا دنیا و آخرت میں پاتے ہیں۔ اب جس طرح یہ سوال بیجا ہے کہ خدا نے اپنے بندوں کو مختلف استعداد پر کیوں بنایا اور بعضوں کی جبلت میں یہ تاریکی کیوں رکھی ہے اور پھر ان کو عذاب کیوں دیا ؟ کس لیے کہ یہ کسی قدر اختیار پر مبنی ہے اور مختلف استعداد اور رنگ برنگ کی قابلیت دینے مستقل ماننے پڑیں، کہ جس کی تسلیم میں سب سے بڑھ کر بےادبی ہے۔ پس جب یہ ثابت ہوا کہ بندہ کو اپنے افعال پر قدرت مستقلہ نہیں ورنہ کبھی کوئی ناکامیاب نہ ہوتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ بندہ اپنے افعال ارادیہ میں پتھر اور لکڑی کی طرح مجبور نہیں اس کے ارادی کاروبار اس طرح سے سرزد نہیں ہوتے کہ جس طرح رعشہ میں بےخود ہاتھ ہلا کرتا ہے تو ضرور یہ تسلیم کرنا پڑا کہ نہ جبر محض ہے نہ قدر محض بلکہ خالق ہر چیز کا اللہ تعالیٰ اور کسی قدر اختیار بندہ کو بھی دیا ہے خواہ وہ ارادہ ہو یا کچھ اور۔ جو کچھ ہو مگر اس کی وجہ سے بندہ کو کا سب کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے بھلائی برائی اس کی طرف منسوب ہوئی ہے اور جزا و سزا پاتا ہے چلا عدم سے میں ہستی کو بول اٹھی تقدیر بلا میں پڑنے کو کچھ اختیار لیتا جا پس اس گمراہی وغیرہ افعال کو خالق ہونے کی وجہ سے خدا کی طرف بھی منسوب کرسکتے ہیں اور خالق ہونے میں کوئی برائی نہیں نہ اس برائی سے وہ متصف ہوسکتا ہے، مثلاً تلوار بنانے والے کا کوئی قصور نہیں نہ اس کو قاتل کہہ سکتے ہیں بلکہ جس نے تلوار کو مارا۔ اسی طرح رنگریز کو اسود نہ کہیں گے بلکہ کپڑے کو جس پر (سواد) سیاہی قائم ہوئی اور چونکہ بندہ کا سب ہے بمقام ذم اس کی طرف بھی نسبت ہوگی جس کی وجہ سے وہ برائی بھلائی سے متصف ہوگا اور چونکہ شیطان یا کوئی اور گمراہ کرنے والا سبب ہوتا ہے تو مجاز افعل کو سبب کی طرف بھی منسوب کیا جاتا ہے جس طرح کہ شیطان کو اسی علاقہ سے مضل کہتے ہیں اسی طرح قرآن یا نبی (علیہ السلام) کو ہادی۔ نقلاً یوں کہ قرآن و احادیث میں بکثرت یہ انتساب موجود ہے اور حقیقی معنی کو جب تک کوئی مانع نہ ہو، چھوڑنا جائز نہیں اور بائبل میں بھی بہت سے مقامات پر ایسی عبارتیں پائی جاتی ہیں کہ جن میں ان امور کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے ازان جملہ پولوس اپنے دوسرے خط کے چوتھے باب میں جو قرنیتوں کو لکھا ہے یوں کہتا ہے (3) اور ہماری انجیل اگر پوشیدہ ہو وے تو انہیں پر پوشیدہ ہے جو ہلاک ہوتے ہیں۔ (4) کہ اس جہاں کے خدا نے ان کی عقلوں کو جو بےایمان ہیں تاریک کردیا ہے تاکہ مسیح الخ کی جلال والی انجیل کی روشنی ان پر نہ چمکے، یہ عبارت صاف صاف ان آیات قرآنیہ کے مضمون کی تصدیق کر رہی ہے اگلے فقرے میں قدرت کو بالکل خدا کی طرف منسوب کرتا ہے کہ قدرت کی بزرگی ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے۔ انتہیٰ ، ، اور ایک جگہ کہتا ہے کمہار سے برتن نہیں کہہ سکتا کہ تو نے مجھے ایسا کیوں بنایا اسی طرح بندہ نہیں کہہ سکتا، اس پر پادری صاحب اگر قرآن پر اعتراض کریں تو کمال بےانصافی ہے۔ میں وہ خود مختار ہے، جس کو جو کچھ دیا اس کا فضل ہے اور جس کو نہیں دیا تو اس پر کچھ ظلم نہیں کیا۔ اسی طرح برتن کا کمہار سے یہ کہنا بیجا ہے کہ تو نے مجھ پر ظلم کیا جو آبدست کرنے کی بدہنی بنایا بادشاہوں اور معشوقوں کے پینے کا پیالہ نہ بنایا ؟ اس مسئلہ جبر و قدر میں زیادہ گفتگو کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ اس کے اسرار پورے پورے عقل میں مشکل سے آتے ہیں، اس لیے ہم بھی قلم روکتے ہیں۔ 1 ؎ قلب : ایک گوشت صنوبری کو کہتے ہیں کہ جو بائیں جانب پہلو میں الٹا لٹکا ہوا ہے اور اسی لیے اس کو قلب کہتے ہیں اور اس میں جگر سے آ کر خون پکتا ہے اور پھر اس کے لطیف ابخرے روحانی بنتے ہیں اور شرائین کے ذریعے سے تمام بدن میں دوڑتے ہیں اور حس و حرکت کا منشا بھی یہی روح ہے جس عضو میں وہ روح نہ جائے تو وہ بےحس و حرکت ہو کر مرجائے اور یہ روح ہوائی کہلاتی ہے اور اسی کو نسمہ بھی کہتے ہیں اور روح حقیقی یعنی نفس ناطقہ کا اصل مرکب یہی ہے اور اس کا مرکب تمام جسم ہے۔ جب اس روح کو ہوائی میں (کہ جس کو روح حیوانی اور روح طبی بھی کہتے ہیں) سخت فساد آتا ہے تو روح حقیقی کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور قطع تعلق کا نام موت ہے اور اصطلاح شرع میں قلب لطیفہ انسانی کا نام ہے کہ جس سے انسانیت قائم ہے اور جس سے شوق و محبت پیدا ہوتی ہے اور جس سے شرع کے اوامرونواہی بجا لاتے ہیں اور کبھی قلب سے عقل بھی مراد ہوتی ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اور کبھی نفس یا روح بھی مراد ہوتی ہے اس آیت میں یہی لطیفہ مراد ہے کیونکہ استدلال کرنا اسی کا کام ہے اور یہی الہامِ الٰہی کی جگہ ہے اور یہی حق شناسی کی دوربین ہے۔ پس جب اس پر مہر ہوگئی تو یہ سب باتیں مفقود ہوگئیں۔ نکات : (1) ختم اللہ الخ یہ اس دعوے کی (کہ ان پر ہدایت کا کچھ اثر نہ ہوگا وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہے) دلیل ہے اور یہ دلیل اس لیے بیان ہوئی کہ بظاہر اس دعوے کا ثبوت سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اس کے ثبوت میں فرمایا کہ یہ اس لیے کہ خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے یعنی ان کی جبلت میں تاریکی ہے اور بہیمیت کی اندھیریوں نے ان کو ہر طرف سے محیط گھیر کر اس امر کے قابل ہی نہ رکھا۔ (2) کسی چیز کا دریافت کرنا تین طرح پر ہوتا ہے۔ یا تو حس سے یا خبر صادق سے، یا خود عقل غور کرکے دریافت کرے۔ مگر امور آخرت اور خدا کی ذات وصفات حس سے تو معلوم نہیں ہوسکتی۔ اب ان کو یا خود عقل یقین کرے یا خبر صادق سے ان کی تصدیق ہو۔ پھر جب کہ ان کی ازلی گمراہی ثابت کرنی مقصود تھی اور اس لیے ختم اللہ علی قلوبہم و علٰی سمعہم فرمایا جس سے ادراک عقلی اور خبر مخبر صادق سن کر ایمان لانے کی نفی ہوگئی اور یہ دونوں سبب مفقود ہوگئے یعنی ان کے دلوں پر مہر ہے عقل سے ان امور کا کیونکر یقین کریں اور ان کے کانوں پر بھی مہر ہے وہ مخبر صادق کی خبر کیونکر سنیں اور کس طرح ایمان لائیں۔ لیکن کسی قدر حس سے امور حسیہ پر ایمان لانے کا احتمال تھا وہ یہ کہ نبی (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ایمان لاویں۔ سو یہ بھی بات ان کو نصیب نہیں۔ وہ ہرچند بیشمار معجزات دیکھ چکے ہیں لیکن بمنزلہ نا بینا کے ہیں اس لیے امور حسیہ پر بھی ایمان نصیب نہ ہونے کے سبب علیٰ ابصارھم غشاوہ فرما دیا کہ یہ جنم کے اندھے بھی ہیں ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ کچھ دیکھتے ہی نہیں۔ (3) مہر ایسی چیز پر کیا کرتے ہیں جس پر ہر طرف سے تصرف ہو سکے، پس مہر اس کو ہر طرف سے بند کردیتی ہے۔ چونکہ کان میں ہر طرف سے اور دل میں ہر طرف سے بات پڑ سکتی ہے ان کے لیے کوئی جہت خاص نہیں اس لیے ان پر تو مہر لگانا فرمایا اور آنکھ چونکہ سامنے 1 ؎ اہل سنت کا اعتقاد ہے کہ انسان کا ہدایت پانا یا گمراہ ہونا سب اللہ کی طرف سے ہے انسان کے پیدا ہونے کے پہلو یہ سب امور ظہور پذیر ہوچکے ہیں اس اعتقاد کو ایمان بالقدر کہتے ہیں یہ مضمون قرآن مجید کی اس آیت میں ظاہر ہوگیا اور آیندہ بھی بہت سی آیتوں سے اس کا بیان آئے گا۔ علی ہذا حدیث میں بھی اس کا بیان بڑی تفصیل سے ہے۔ اس لیے علماء نے مسئلہ قدر کے بارے میں گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔ (حقانی ) سے دیکھتی ہے اس کے لیے جہت خاص ہے تو اس پر پردہ پڑنا فرمایا کہ سامنے سے پردہ پڑگیا دیکھنا بھی جاتا رہا۔ جب خدائے تعالیٰ دعوے اور اس کی دلیل بیان فرما چکا تو بعد میں اس پر جو اثر مرتب ہونے والا ہے وہ فرماتا ہے کہ ولہم عذاب الیم یہ عذاب خواہ آگ سے ہو خواہ طوق و زنجیر سے خواہ اور کسی طرح سے کہ جس کی کیفیت ہم کو معلوم نہیں جو کچھ ہو وہ روح کی تاریکی اور اس کی جبلی کج روی کا اثر مرتب ہے جس طرح پانی کا اثر برودت اور آگ کا اثر حرارت ہے، اسی طرح انسان کے برے اعمال کا اثر خاص ہے کہ جو مرنے کے بعد معلوم ہوگا۔ اعاذنا اللہ منہ، جب خدائے تعالیٰ فریق اشقیا کو بیان کرچکا تو اب دوسرے فریق منافقین کا حال بیان فرماتا ہے۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور کچھ ایسے بھی لوگ ہیں کہ جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دار نہیں ہیں۔

ترکیب : یقول فعل ضمیر ہوراجع مَنْ کی طرف اس کا فاعل اور آمنا باللہ الخ جملہ فعلیہ اس کا مقولہ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت ہوئی مَنْ نکرہ موصوفہ کی من جار الناس مجرور جار مجرور متعلق ثابت یا ثبت کے ہوا جو رافع ہے من کا تقدیر کلام یوں ہوئی و من الناس ناس یقولون یہ جملہ خبر یہ ہوا اس کا عطف الذین یؤمنون الخ پر یا قصہ کفار مصرین پر ہے اور ممکن ہے کہ من کو موصولہ مانا جاوے ھم ما کا اسم اور بمؤمنین خبر۔ اسم و خبر مل کر جملہ خبریہ ہوا اور واو حالیہ کے ساتھ مل کر حال ہوا۔ فاعل یقول سے جو من ہے من لفظ مفرد ہے مگر معنی میں تثنیہ اور جمع کے بھی آتا ہے اسی لیے علم اصول میں اس کو عام گنا ہے۔ پس بااعتبار لفظ کے یقول صیغہ واحد بولا گیا اور باعتبار معنی کے ھم اور امنا جمع کے صیغے بولے گئے۔ بعض یوں بھی کہتے ہیں کہ من یقول امنا باللہ الخ مبتدا اور من الناس ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر ہوئی۔ تنبیہ : کفار کے حال کو بطور عطف کے اس لیے نہیں بیان کیا تھا کہ وہاں متقین کا حال بطور ضمن کتاب کے تھا اس لیے مضادت مانع عطف ہوئی اور چونکہ کفار کا حال مستقلاً بیان کیا دوسری قسم منافقین کا عطف اس پر زیبا ہوا۔ تفسیر : مدینہ میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ جو بظاہر تو یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ اور رسول ﷺ اور قیامت پر ایمان لائے اور مسلمان ہوئے تاکہ مسلمانوں میں مل کر منافع دنیا حاصل کریں اور ہر قسم کی سختی سے جو ان پر پیش آنے والی تھی اسلام کو آڑ بنا کر بچیں مگر یہ ایمان درحقیقت ایمان نہ تھا اور بغیر خلوص دل زبان سے کہنا خدائے تعالیٰ علام الغیوب کے آگے کچھ بھی وقعت نہیں رکھتا، اس لیے خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کرنے کے لیے فرمایا کہ یہی لوگ فریبی ہیں ہرگز مومن نہیں۔ ان لوگوں کو شرع میں منافق کہتے ہیں ان میں سب کا سرگروہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ حضرت ﷺ کے مدینے میں تشریف لانے سے پہلے لوگوں نے چاہا تھا کہ اس کو سرداری کی پگڑی بندھوا دیں اور مدینہ کا سردار بنا دیں لیکن جب حضرت ﷺ تشریف لائے اور روح کی زندہ کرنے والی باتوں سے تمام جہالت کی تاریکیاں لوگوں میں سے دور ہوگئیں اور لوگوں کو ایک نئی زندگانی کا مزہ آگیا تو پھر ان کے روبرو اس دنیا پرست کی کچھ بھی وقعت نہیں رہی۔ اس لیے اس شخص کو حضرت ﷺ اور اہل اسلام سے حسد اور رنج پیدا ہوا مگر غلبہ اسلام کی وجہ سے یہ خبث باطن کو ظاہر نہ کرسکا اور لوگوں کے ساتھ بظاہر آپ بھی اسلام میں شمار ہوا کیا۔ لیکن یہ اور اس کے رفیق یہود جو مدینہ کے آس پاس بستے تھے اور دس پانچ اور اسی کے ہم قوم ہمیشہ درپردہ اسلام کی بیخ کنی کرتے رہے اور اس آفتاب عالمتاب پر گرد اڑانے اور اس چراغ جاودانی کے بجھانے میں ہر طرح کی کوشش کرتے رہے۔ سورة برأت اور منافقون اور اس سورة اور دیگر سورتوں میں ان کے اقوال و افعال ناشائستہ کا جواب مذکور ہے اور جو کچھ غزوات میں انہوں نے فتور برپاکئے ہیں وہ بھی مسطور، جس سے خدا نے نفاق کی جڑ کو بالکل کاٹ دیا۔ متعلقات : نفاق کی چند قسم ہیں : اول یہ کہ زبان سے اسلام اور ایمان ظاہر کرے مگر درپردہ صاف منکر ہو۔ دوم یہ کہ درپردہ صاف منکر تو نہ ہو مگر یقین بھی نہ ہو بلکہ متردد اور تذبذب ہو۔ سوم یہ کہ دل میں تصدیق تو ہو مگر کامل نہ ہو اور گناہوں اور حب دنیا اور غلبہ شہوات نے اس کو ایسا کردیا ہو کہ یہ دنیا کے منافع کو ایمان پر مقدم سمجھتا ہو، دنیا کی خاطر لشکر اسلام کا مقابلہ اور اہل اسلام کی بربادی اور دین کی ہجو اس کے نزدیک کچھ مشکل نہ ہو۔ یہ تینوں خدا کے نزدیک سخت کافر ہیں اور جہنم کے سب سے اسفل طبقہ میں رہیں گے۔ اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارْ ، ان تینوں قسم کے منافق مدینہ میں موجود تھے۔ چہارم یہ کہ قال حال کے مطابق نہ ہو۔ زبان سے کچھ کہے دل میں کچھ اور ہو جس کو تقیہ 1 ؎ کہتے ہیں۔ اگرچہ اس سے کافر نہیں ہوتا مگر یہ بھی انہیں منافقین کا شیوہ ہے اور سراسر ناراستی ہے، نور ایمان اور صداقت کی روشنی ذرا بھی مکروفریب کو گوارا نہیں کرتی چہ جائیکہ اس پاک مذہب کا رکن قرار دے کر اس کے نورانی چہرہ پر دھبہ لگایا جاوے۔ بلکہ نبی ﷺ کے فیض صحبت سے صحابہ ؓ تو اپنی حالت قلبیہ میں ذرا بھی فرق آنے کو نفاق سمجھتے تھے۔ چناچہ امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حنظلہ بن ربیع اسدی ؓ سے حضرت ابوبکر ؓ نے پوچھا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا میں تو منافق ہوگیا۔ ابوبکر ؓ نے کہا تو یہ کیا کہتا ہے۔ اس نے عرض کیا کہ جب ہم نبی ﷺ کے پاس سے گھر آتے ہیں اور بیوی بچوں میں مشغول ہوتے ہیں تو وہ کیفیت جو وہاں ہوتی ہے اس کو بھول جاتے ہیں۔ ابوبکر ؓ نے کہا میرا بھی یہی حال ہے۔ تب دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں گئے اور حنظلہ ؓ نے یہ حال بیان کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے حنظلہ ! اگر تم اسی حالت میں رہو کہ جو میرے پاس ہوتی ہے اور یاد الٰہی میں رہو تو ملائکہ تم سے گلی کوچوں میں اور بستروں پر مصافحہ کیا کرتے مگر یہ بات کبھی کبھی ہوتی ہے۔ نکات : (1) منافقین دعویٰ کرتے تھے ہم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں پس خدا تعالیٰ نے بھی ان کی ادعا کے موافق باللہ و بالیوم الآخر کو خاص کیا تاکہ معلوم ہو کہ جس میں تم کو دعویٰ ہے اس میں بھی تم سچے نہیں کیونکہ خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے تو اس مکر اور فریب کو خدا اور اس کے رسول ﷺ سے جائز نہ رکھتے اور باتوں میں تو تمہارے ایمان کا کیا اعتبار ہے یعنی جہاں تم کو سچائی کا دعویٰ ہے وہیں جھوٹے ہو، چہ جائیکہ جہاں تم کو خود نفاق مقصود ہو۔ (2) اگرچہ سیاق کلام یہ چاہتا تھا کہ ان کے جواب میں ما آمنوا کہا جاتا تاکہ جواب مطابق ہوتا مگر برعکس اس کے ماھم بمؤمنین فرمایا تاکہ ان سے ایمان کی نفی اچھی طرح سے ہوجائے۔ کس لیے کہ زمانہ ماضی میں ان کو ایمان سے باہر بیان کرنا جیسا کہ ما آمنوا سے سمجھا جاتا اس امر میں اتنا فائدہ نہیں بخشتا کہ جو ان کو ہمیشہ کے لیے ماھم بمؤمنین سے ایمان سے باہر کردینا بخشتا ہے۔ علاوہ اس کے ما آمنوا میں بمقابلہ جواب صرف اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لانے کی نفی سمجھی جاتی اور جبکہ ماھم بمؤمنین کہا اور نفی کو با سے مؤکد کردیا تو بالکل ایمان سے بےبہرہ ہونا ثابت کردیا کہ ان کا ایمان نہ اللہ پر ہے، نہ قیامت پر، نہ نبی ﷺ اور قرآن اور اس کے معجزات پر۔ اس کے بعد خدائے تعالیٰ ان کے اس فعل سے جو غرض ہے اس کو بیان فرماتا ہے : 1 ؎ اہل اسلام میں اول صدی کے اخیر میں جو کچھ خلافت کی بابت زیادہ نزاع ہوئی تو ایک گروہ حضرت علی ؓ کی طرفداری کا یہاں تک دم بھرنے لگا کہ جس کو وہ خود بھی جائز نہ رکھتے تھے اور پھر رفتہ رفتہ وہ ایک فریق ہوگیا جس کو شیعہ کہتے ہیں اور یہ فریق اکثر عراق ایران میں پھیلا اور ایران میں مجوس کے ہاں یہ تقیہ ہمیشہ سے چلا آتا تھا۔ چناچہ دساتیر نامہ ساسان اول کے (40) جملہ میں مرقوم ہے ان کی تقلید سے یہ مسئلہ اس گروہ نے بھی اپنے مذہب میں جاری کیا اور جہاں کہیں حضرت علی ؓ اور آئمہ اہلبیت سے خلفائِ ثالثہ کی مدح منقول ہے اس کے جواب میں اس تقیہ سے کام لیا اور کہہ دیا کہ وہ تقیہ کرتے تھے۔ اس لغویات کو روشن دماغ شیعہ بھی ہرگز نہیں تسلیم کرتے اور آئمہ کبار کی نسبت حق پوشی اور نفاق کا عیب لگانے سے ازحد ڈرتے ہیں۔ ہاں جو لوگ ملائوں کی تقلید اور ان کے رطب و یابس روایات حکایات پر غش ہیں وہ اس کو مانتے ہیں۔ 12 منہ
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

وہ اپنے نزدیک اللہ اور ایمانداروں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہے ہیں

ترکیب : یخادعون فعل ضمیرھم جو راجع ہے منافقین کی طرف اس کا فاعل اور لفظ اللہ اور الذین آمنوا موصول صلہ سے مل کر معطوف ہوا لفظ اللہ پر مفعول۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ بن کر کلام مستانف ہوا یا یہ حال ہے فاعل یقول سے۔ اور مایخدعون فعل بافاعل احدا مفعول محذوف مستثنیٰ منہ الانفسہم مستثنیٰ فعل فاعل اور مستثنیٰ منہ اور مستثنیٰ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر بذریعہ واو حال ہوا فاعل یخادعون سے اور مایشعرون جملہ فعلیہ بذریعہ واو کے اس مایخدعون الخ سے حال واقع ہے۔ تفسیر : یعنی وہ منافقین جو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اپنے زعم میں خدا سے اور مسلمانوں سے فریب بازی کر رہے ہیں حالانکہ یہ فریب اپنے تئیں دے رہے ہیں کیونکہ خدا علام الغیوب ہے۔ اس سے کوئی بات مخفی نہیں رہ سکتی اور وہ مومنوں کو آگاہ کرتا رہے گا۔ سو ان پر تو کچھ بھی اس مخادعت (فریب بازی) کا اثر نہ پڑا الٹا ان ہی پر پڑا کہ دنیا میں بھی رسوائی ہوئی آخرت میں عذاب شدید میں مبتلا ہوں گے مگر ان کے حواس سلیمہ میں فتور آگیا کہ ان کو یہ موٹی سی بات بھی دکھائی نہیں دیتی کہ خدائے تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دے سکتا، اس کا الٹا وبال ہم ہی پر پڑے گا۔ متعلقات : خدع لغت میں بری بات چھپانا اور اس کے برعکس دکھانا تاکہ کسی کو فریب دیا جائے۔ نفس ذات شے کو کہتے ہیں خواہ جو ہر ہو یا عرض یا دونوں سے بری جیسا کہ ذات باری تعالیٰ لقولہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم مافی نفسک الآیہ اور روح کو بھی کہتے ہیں، کیونکہ حی کا نفس اسی سے قائم ہے اور قلب کو بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ محل روح ہے اور خون کو بھی کہتے ہیں کیونکہ نفس کا قوام اسی سے ہے اور پانی کو بھی کیونکہ اس کی طرف نفس کو زیادہ حاجت ہے اور رائے کو بھی کیونکہ یہ نفس سے پیدا ہوتی ہے۔ شعور احساس کو کہتے ہیں اور انسان کے مشاعر اس کے حواس ہیں اور اصل اس کی شعر (بال) ہے اور جو لباس جلد کے بالوں سے ملا ہوتا ہے۔ اسی لیے عرب اس کو شعار کہتے ہیں۔ اس مناسبت سے پھر اور وسیع معانی میں بھی اس لفظ کا اطلاق آتا ہے۔ نکات : (1) چونکہ منافقین یہ فریب بازی ہمیشہ کرتے تھے اور آیندہ بھی ان سے یہ فعل متوقع تھا تو اس رمز کے لیے مضارع سے ان کے اس حال کو تعبیر کیا تاکہ تجدد اور حدوث پر اور آیندہ کے صدور پر دلالت کرے۔ (2) ان کی پرلے درجے کی حماقت ثابت کرنے کو ومایشعرون کہا یعلمون نہ کہا کیونکہ شعور محسوسات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور علم محسوسات معقولات دونوں کے لیے پس جب مایشعرون کہا تو گویا یہ ثابت کردیا کہ اس مکر کی برائی ایک محسوس چیز ہے مگر چونکہ علی ابصارھم غشاوہ یعنی ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے وہ دیکھ نہیں سکتے اب اگلی آیت میں اس فعل کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ وہ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں :
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (شک کا) مرض ہے سو اللہ نے ان کے مرض کو بڑھا دیا ہے اور ان کو (مرنے کے بعد) سخت عذاب ہے اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے

ترکیب : مرض مبتداء موخر فی قلوبہم خبر دونوں مل کر جملہ اسمیہ خبر یہ ہوا زاد فعل اللہ فاعل ھم مفعول اول مرضاً مفعول ثانی۔ فعل فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ عذاب موصوف الیم اس کی صفت پھر بما کانو ایکذبون جملہ بتاویل مصدر کے ہو کر متعلق کائن کے ہوا اور الیم کی صفت ہوا یہ موصوف اپنی صفات سے مل کر مبتدا لہم خبر مبتداء خبر مل کر جملہ اسمیہ خبر یہ ہوا اور اس کا عطف کلام سابق پر ہے۔ تفسیر : یعنی ان کی یہ فریب بازی اس لیے ہے کہ ان کی فطرت میں صحت و سلامتی نہیں اور دل پر مرض ناراستی عارض ہے۔ پس جوں جوں فطرت کو درست کرنے والی اور روح کو صحت بخشنے والی باتیں نبی (علیہ السلام) پر نازل ہوتی گئیں ان کی برخلافی سے اس اصلی مرض میں ترقی ہوتی گئی (ع) مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ جس طرح جسمانی امراض کا نتیجہ موت ہے اسی طرح روحانی امراض کا ثمرہ اس عالم میں عذاب الیم ہے۔ آسمانی پانی ہر درخت اور تخم کی بالیدگی کا باعث ہے مگر کسی درخت میں اسی پانی سے کانٹے اور کڑوے پھل آتے ہیں اور جس کا تخم اچھا ہوتا ہے اس سے عمدہ اور خوشبودار پھول اور پھل نکلتے ہیں۔ اسی طرح قرآن جو تخم روح کے لیے آسمانی پانی ہے اس سے مومنوں کو شفا ہوتی ہے اور جن کی جبلت میں کجی ہے ان کو زیادہ مرض پیدا ہوتا ہے پھر وہ مرض اس عالم میں بصورت عذاب الیم ظاہر ہوتا ہے۔ متعلقات : مرض : لغت میں بدن کی اس حالت غیر طبعی کو کہتے ہیں کہ جو افعال طبیعہ میں خلل انداز ہوتی ہے اور مجازاً ان اعراض نفسانیہ کو بھی کہتے ہیں کہ جو نفس کے کمالات میں مخل ہوتے ہیں جیسا کہ جہل اور بدعقیدگی اور کینہ اور حسد اور شہوت اور حبِّ دنیا اور جھوٹ اور ظلم وغیرہ کیونکہ جس طرح مرض سے کمال بدن یا حیات زائل ہوجاتی ہے اسی طرح ان سے اعراض حیات ابدی اور اس کے کمالات زائل ہوجاتے ہیں اور روح پر تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ الیم : ای مولم (الم جس کو درد کہتے ہیں) ادراک ناملائم ہے۔ ہرچند بدن میں ناملائم حالت تفرق اتصال زخم و شگاف ہو مگر جب تک ادراک نہ ہوگا جیسا کہ دوا بےہوشی کلورا فارم میں ہوتا ہے کچھ دکھ نہ معلوم ہوگا۔ اسی طرح اس عالم میں روح کو طلسم دنیا کی کلورا فارم نے بےہوش کر رکھا ہے جب موت کے بعد یہ بےہوشی دور ہوگی تو ہر شخص کو اپنے روحانی امراض کا دکھ معلوم ہوگا اور اس عالم کو ٹھڈ بندی کا راز مفہوم ہوگا ؎ باش تابندر روئے بکشایند باش تاباتو درحدیث آیند تاکیاں رانشاندئہ بردر تاکیاں را گرفتہ دربر کذب : یعنی جھوٹ اس خبر کو کہتے ہیں کہ جو خلاف واقع ہو بعض کہتے ہیں کہ جو خلاف اعتقاد ہو بعض کہتے ہیں کہ جو اعتقاد اور واقعہ دونوں کے خلاف بیان ہو اس کو کذب کہیں گے۔ نکات : (1) اس آیت میں بھی خدائے تعالیٰ نے امر واقعی کی رعایت رکھی فی قلوبہم مرض سے یہ بات بتلا دی کہ دنیا میں ہدایت اور گمراہی یا سعادت و شقاوت جو کچھ پیش آتی ہے وہ اصلی استعداد اور جبلی قابلیت کے موافق پیش آتا ہے جو ازلی مریض ہیں اور ان کی روح کا مزاج فاسد ہے ان سے اس عالم میں ویسے ہی افعال نامطلوب سرزد ہوتے ہیں اور فزادھم اللہ مرضاً سے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ ان امور کا اصل خالق خدائے تعالیٰ ہے گو مجازاً کسی اور کی طرف بھی اسناد ہو اور ولہم عذاب الیم بما کانو ایکذبون سے یہ بات بتلا دی کہ بندہ اپنے افعال میں مجبور محض نہیں بلکہ اختیار رکھتا ہے کہ جس کی وجہ سے اس کے افعال پر سزا اور جزا مرتب ہوتی ہے۔ (2) جس طرح اس آیت بما کانوالخ سے ان لوگوں کے خیال باطل کی رد کی طرف اشارہ ہے کہ جو کہتے ہیں کہ یہ عالم محض توہمات و خیالات ہیں کسی چیز کی کچھ اصل نہیں۔ نہ کوئی کرم (فعل) موثر ہے نہ کوئی گیان (علم) آخرت میں نافع ہے نہ مضر جیسا کہ حکمائِ سو فسطائیہ اور بیدانتیوں کا مذہب ہے اور عیسائی بھی بموجب فتویٰ پولوس شریعت سے آزاد ہیں۔ اسی طرح فزادھم اللہ مرضًا سے اس فریق کے خیال باطل کی طرف اشارہ ہے کہ جو افعال (کرم) ہی کو موثر بالذات جانتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کے وجود وقدرت کے منکر ہیں۔ جیسا کہ بودہ میمانسا اہل ہند میں سے اس کے معتقد ہیں۔ (3) بما کانوا سے عذاب آخرت کی طرف اشارہ کردیا تاکہ جو لوگ بطور تناسخ یا بطور ترقی مال و جاہ اسی عالم میں جزاء و سزا کے قائل ہیں ان کا خیال باطل دور ہوجائے۔ فائدہ : عذاب کو کذب سے متعلق کیا تاکہ اس سے جھوٹ کا حرام ہونا ثابت ہو، اس لیے اسلام میں بالاتفاق جھوٹ بولنا حرام قرار دیا گیا۔ یہ وہ فعل ہے کہ جس کے قبح پر اکثر بنی آدم متفق ہیں۔ اب اگلی آیتوں میں خدائے تعالیٰ ان کے مرض قلب کو ثابت کرتا ہے کہ وہ بری باتیں کرتے ہیں اور ان کو بھلی سمجھتے ہیں۔ جس طرح کوئی مریض کڑوی چیز کو میٹھی یا بالعکس تصور کرتا ہے اور یہ جہل مرکب ہے۔ حکماء کے نزدیک یہ مرض لاعلاج ہے۔ پس فرماتا ہے :
Ayahs 2:11–12

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے (یہ) کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ کیا کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

دیکھو یہی تو مفسد ہیں لیکن ان کو خبر ہی نہیں

ترکیب : اذا حرف شرط قیل فعل مجہول لہم متعلق قیل کے لاتفسدوا فی الارض مفعول مالم یسم فاعلہ ہوا قیل کا۔ یہ دونوں مل کر شرط ہوئے اور قالوا فعل۔ انمانحن مصلحون جملہ اس کا مفعول فعل اپنے فاعل ضمیر ھم اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر جواب ہوا شرط کا شرط و جزا مل کر جملہ شرطیہ ہو کر معطوف ہوا یکذبون یا یقول پر ان مشبہ بفعل ھم اس کا اسم اور ھم المفسدون مبتداء خبر بن کر اس کی خبر۔ ولکن کلمہ استدراک اس کا مابعد لایشعرون جملہ استدراکیہ۔ الا حرف تنبیہ جو صدر جملہ پر تنبیہ مخاطب کے لیے آتا ہے۔ یہ جملہ خبر یہ مستانفہ ہے جواب میں ان کے قول کے۔ تفسیر : یعنی مرض قلب ان پر یہاں تک غالب آگیا ہے کہ ان کو نیک و بد میں تمیز نہیں۔ کس لیے کہ جب کوئی مومن یا رسول خود خدائے تعالیٰ ان سے یہ فرماتا ہے کہ تم ملک میں فساد نہ ڈالو، یعنی گناہ اور چغل خوری اور غمازی نہ کیا کرو تو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم تو بھلائی کرتے ہیں وہ اس غمازی اور گناہ کو بھلائی سمجھ گئے۔ خدا فرماتا ہے کہ دیکھو یہی لوگ مفسد ہیں مگر بےشعور ہیں کہ ان کو اپنے فساد اور صلاح میں تمیز نہیں۔ معاذ اللہ جب انسان اپنے عیب کو عیب نہیں سمجھتا تو بڑی خرابی میں پڑتا ہے اور صدہا آدمی دنیا میں ایسے اندھے ہیں کہ ان کو حقیقت امر معلوم نہیں ؎ چشم باز و گوش باز و ایں ذکا خیرہ ام از چشم بندی خدا ایک عالم اس جہل مرکب میں گرفتار ہے۔ کوئی خدا کا تقرب سمجھ کر بتوں کو پوجتا ہے ‘ کوئی توحید سمجھ کر تثلیث کی دلدل میں گرفتار ہے، کوئی بامید سلطنت آگ کی دھونی رمائے بیٹھا ہے۔ کوئی ہوس خام کو دل میں پختہ کرکے دریا کے کنارے آسن جمائے بیٹھا ہے۔ ہزاروں لوگ گنگا میں غوطہ لگا کر گناہوں سے پاکی سمجھ کر دور دراز سے آتے اور مشقت اٹھاتے ہیں۔ اہل دنیاشب و روز میں دین بیع و شراء میں غرق ہیں، نہ مرنے کی مہلت اور نہ جینے کی فرصت۔ صدہا دنیا پرست حکام کی خوشامد اور ترقی مناصب میں شب و روز گرم اور اسی کو فوز کبیر اور مقصد اصلی سمجھتے ہیں۔ الغرض ؎ ہر کس بہ خیال خویش خبطے دارد لیکن جب اس طرف سے آنکھ بند ہوگی اور اس عالم کی چیزیں دکھائی دیں گی تو حسرت و افسوس ہوگا۔ اللہم ارنا حقائق الاشیاء کماھی۔ متعلقات : فساد : کسی شے کا اعتدال سے باہر ہونا اور جو نفع کہ اس سے متصور ہے اس کے قابل نہ رہنا۔ اس کی نقیض صلاح ہے یعنی جس طرح فساد میں بگڑنا ہے ویسا ہی صلاح کے معنی میں سنورنا معتبر ہے۔ اس جگہ فساد سے مراد بقول ابن عباس و حسن و قتادہ معاصی ہیں کیونکہ جب دنیا میں گناہ گاری، چوری، قتل، زنا، فتنہ انگیزی، شرک و کفر کی اشاعت ہوتی ہے تو انتظام عالم میں خلل آجاتا ہے اور قیل کے فاعل یعنی کہنے والے اس جگہ مومن یا رسول یا خدا تعالیٰ ہے نہ کفار و اشرار۔ 1 ؎ نکات : جس طرح منافقین نے بزعم فاسد اپنے فساد کو صلاح بنایا اور انما نحن مصلحون میں صلاح کا انحصار اپنے ہی نفس پر کیا تھا اسی طرح اس کی رد میں لفظ الا اور انہم ھم المفسدون کلمہ انحصار فرمایا کہ بلاشک یہی مفسد ہیں تاکہ کلام مقتضی حال کے مطابق ہوجائے۔ یہ ان منافقوں کی دوسری حرکت ناشائستہ تھی۔ اب تیسری حرکت ناشائستہ یہ ہے :
Ayah 2:13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

` اور جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ تم بھی جیسا کہ اور لوگ ایمان لائے تو کہتے ہیں کیا ہم اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح احمق ایمان لے آئے دیکھو جی یہی لوگ بیوقوف ہیں مگر (یہ) جانتے نہیں۔

ترکیب : اذا حرف شرط قیل فعل مجہول قول اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اور لہم متعلق ہے قیل کے اور آمنوا فعل بافاعل اس کی تفسیر کما امن الناس بتاویل آمنوا ایمانا مثل ایمان الناس مصدر محذوف کی صفت قالو افعل بافاعل اور انؤمن الخ جملہ اس کا مفعول جواب ہوا شرط کا۔ الا حروف تنبیہ انہم الخ اسم و خبر ان کی مل کر جملہ خبریہ مستانفہ ہوا اور ولکن حرف استدراک لایعلمون جملہ استدراکیہ۔ تفسیر : یعنی جب ناصح ان سے یہ کہتا ہے کہ ایمان حقیقی لاؤ جس سے ترک فتنہ و فساد اور نفرت دنیا اور اعراض از لذات فانیہ حاصل ہو اور وہ ایمان مردان خدا کے ایمان کے مثل ہو کہ جو نفع و نقصان دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ اس عالم کو فانی سمجھ کر عالم باقی کے 1 ؎ پس وہ جو تفسیر الفرقان صفحہ 22 میں نیچر مفسر کہتے ہیں (قولہ و اذ اقیل لہم ان آیتوں میں اس گفتگو کا اشارہ ہے جو منافق اور کافر آپس میں کرتے تھے یعنی کافر سمجھتے تھے کہ منافقوں کا اس طرح ظاہر میں اپنے تئیں مسلمان جتانا فساد ڈالنا ہے تو وہ ان سے کہتے تھے کہ تم فساد مت ڈالو اور اپنے تئیں مسلمان مت جتلاؤ جس طرح اور لوگ سچ مچ مسلمان ہوگئے ہیں تم بھی ہوجائو۔ الخ) سراسر غلط ہے چند وجہ سے، اول تو یوں کہ کافر منافقوں کے اسی ایمان کو فساد نہیں سمجھتے ہیں بلکہ عین صلاح کہ مسلمانوں سے فریب کرکے ان کے راز ہاتھ لگتے ہیں۔ دوم ان کے قول کی تصدیق کلا مِ الٰہی میں آنا اس کی عظمت پر دال ہے حالانکہ یہ خلاف مقصود ہے۔ سوم کافروں کی یہ ہرگز مرضی نہ تھی کہ تم سچ مچ کے مسلمان ہوجائو۔ علاوہ اس کے کوئی مفسر اس کا قائل نہیں بلکہ تفسیر کبیر میں یوں لکھا ہے قولہ صفحہ 287 ولا یجوزان یکون القائل بذلک من لایختص بالدین و النصیحۃ۔ الخ، خان صاحب کو جب اس قدر وقوف نہ تھا تو تفسیر لکھنے کی کیا ضرورت پڑی تھی۔ لیے جان و مال صرف کرنے میں کچھ دریغ نہیں کرتے۔ در حقیقت یہی آدمی ہیں ورنہ جو لوگ کہ عالم باقی کے مقابلہ میں ان چند روزہ نعمتوں پر مفتون ہیں مجنون ہیں۔ پس اس کے جواب میں وہ منافق کہتے ہیں کیا ہم بیوقوفوں کی مانند ایمان لائیں۔ خیالی جنت و دوزخ کے لیے مطالب و مقاصد دنیا چھوڑ بیٹھیں ؟ میاں دنیا دین سے مقدم ہے ‘ عالم آخرت اور وہاں کے نعماء کس نے دیکھے ہیں جس کو یہاں کے عیش و آرام ہے اس کو ہر جگہ آرام ہے جس طرح ہو سکے دنیا ہاتھ آوے ؎ خرس باش و خوک باش ویا سگ مردار باش ہرچہ باشی باش عرفی اند کے زردار باش اور کسی نے کہا ہے ؎ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت واعظ دل کے بہلانے کو لیکن یہ خیال اچھا ہے یہ لطف زندگانی اور یہ مزے اور یہ جلسے کون چھوڑے، ادھار پر نقد کو کون ہاتھ سے دے اور کیا ہم ان لوگوں کی مانند ہوجاویں کہ جو دنیا اور ہر طرح کے عیش چھوڑ کر شب و روز خدا کی یاد میں مشغول ہیں۔ اپنے منافع پر بھی نظر نہیں کرتے، مناسب ہے کہ دنیا سازی کی جائے۔ اگر ان مسلمانوں کا دور دورہ رہا تو ان کے یار بنے رہے اور درپردہ مخالفوں سے بھی سازش رہی کیونکہ اگر ان کا وقت آئے گا تو بھی ہمارا مدعا ہاتھ آئے گا۔ ایک طرفہ ہوجانا عقلمندوں کا کام نہیں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ خبردار یہی لوگ احمق اور بیوقوف ہیں کیونکہ ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کیسے کیسے نوجوان حسین اور کیسے کیسے بااقبال اور ذی اقتدار اور کیسے کیسے بادشاہ ہفت کشور اور کیسے کیسے عیش و آرام اٹھانے والے ہزاروں من مٹی کے تلے آتے جاتے ہیں ؎ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کئے اب نہ ان کے وہ سامان عیش ہیں نہ ارباب جلسہ ہیں نہ وہ مال و زر ان کے پاس موجود ہے۔ پھر جب آخر کار ایک روز یہ عیش و آرام ہاتھ سے جانا ہے (غایۃ الامر دس بیس برس بعد) تو اس چند روزہ دنیا پر دل لگانا عبث ہے ؎ قابو میں ہوں میں تیرے گراب جیا تو پھر کیا خنجر تلے کسی نے ٹک دم لیا تو پھر کیا پس اس عالم بقاء کے مقابلہ میں کہ جس کا زمانہ غیر متناہی ہے ان لذائذِ حسیہ پر مفتون ہونا اور اس یقینی امر کے لیے کچھ بندوبست نہ کرنا حماقت اور پرلے درجے کی سفاہت ہے۔ جس طرح نادان بچے ذرا سی مٹھائی سے بہل جاتے ہیں اور عمدہ چیز کو ہاتھ سے دے دیتے ہیں اسی طرح یہ لوگ ہیں اور جب عالم آخرت حق ہے اور وہاں جانا بھی حق ہے اور اس کے ہادی بھی برحق ہیں اور ان کا وعدہ بھی سچا ہے تو پھر مذبذب رہنا اور بھی حماقت ہے، مگر وہ امراض قلب میں گرفتار ہیں ان کو اس امر کی خبر نہیں۔ متعلقات : سفہ : ہلکا پن عرب بولتے ہیں سفہت الریح الشیء اڑا لے گئی اس چیز کو ہوا پھر اس کا اطلاق بیوقوفی اور حماقت میں بسبب خفیف ہونے عقل کے آتا ہے سفیہ، بروزن فعیل اسم فاعل بمعنی بیوقوف سفہا اس کی جمع ہے سفاہت کے مقابلہ میں اناءت (کہ جس کو تائی بھی کہتے ہیں) اور حلم آتا ہے کہ جس کے معنی سوچ اور سمجھ کے ہیں۔ الناس، میں الف لام یا جنس کے لیے ہے جس سے مراد کامل ہیں، کیونکہ جنس بول کر فرد کامل مراد لیا جاتا ہے۔ ہمارے محاورے میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں انسان ہے اور فلاں آدمی نہیں یعنی کامل انسان ہے کامل آدمی نہیں اور عرب میں بھی اس معنی کے لیے استعمال آیا ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے ؎ بلادٌ بہا کنا ونحبہا الناس ناس والزمان زمان یعنی ” ہمارا وطن عمدہ تھا ہم وہاں رہا کرتے تھے اور اس سے محبت کرتے تھے جبکہ آدمی آدمی تھے اور زمانہ زمانہ تھا۔ “ یعنی جب اچھا زمانہ اور اچھے لوگ تھے۔ پس اس تقدیر پر اہل ایمان ہی آدمی ہیں کیونکہ جو ایسے نہیں وہ آدمی نہیں۔ یا لام عہدی ہے جس سے اشخاص معہود مراد ہیں یعنی صحابہ کبار ؓ ۔ نکات : (1) فساد کے ذکر میں تو منافقین کو لایشعرون کا لقب دیا اور ایمان نہ لانے کے بارے میں لایعلمون فرمایا۔ اس میں ایک یہ نکتہ ہے کہ فساد امر محسوس ہے اور لایشعرون بھی محسوسات میں بولا جاتا ہے بخلاف ایمان کے کہ اس پر مطلع ہونا از قسم علم ہے کہ جو نظر و تامل سے حاصل ہوتا ہے۔ دوم سفہ ایک قسم کا جہل ہے اس کے مقابلہ میں علم کا لانا کمال بلاغت ہے۔ (2) منافقوں کے قبح بیان کرنے میں ایک اور نکتہ مرعی رکھا ہے وہ یہ کہ لایشعرون اور لایعلمون کے مفعول کو ذکر نہیں کیا تاکہ ان کی بےشعوری اور جہالت عام طور پر ثابت ہوجائے یعنی یہ بات نہیں کہ وہ فلاں بات نہیں جانتے بلکہ کچھ بھی نہیں جانتے۔ (3) نصیحت کو پورا کردیا اول جملہ میں لاتفسدوا اور دوسرے میں آمنوا فرمایا کیونکہ نیکی کے دو جز ہیں بری باتوں سے بچنا اور اچھی باتوں کو عمل میں لانا۔ اب خدائے تعالیٰ ان کی چوتھی خصلت نازیبا بیان فرماتا ہے :
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب ایمانداروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیاطین کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے دل لگی کیا کرتے ہیں

ترکیب : واؤ حرف عطف کہ جو کلام سابق پر ہے اذا حرف شرط لقوا کہ دراصل لقیو تھا فعل بافاعل اور الذین آمنوا موصول وصلہ جملہ اس کا مفعول یہ اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر شرط ہوا قالوا فعل بافاعل امنا مفعول سب مل کر جواب ہوا شرط کا اور جملہ شرطیہ ہو کر معطوف علیہ ہوا۔ اذا حرف شرط خلوا فعل بافاعل الٰی شیاطینہم متعلق ہوا خلوا کے یہ سب شرط ہوئی اور قالوا فعل بافاعل انا معکم جملہ اسمیہ اس کا مفعول انما نحن مستہزئون جملہ اسمیہ اس کی تاکید یا بدل مل کر جواب ہوا شرط کا اور جملہ شرطیہ بن کر عطف ہوا پہلے جملے پر۔ لفظ اللہ مبتداء ایستہزیٔ بہم جملہ اس کی خبر معطوف علیہ و حرف عطف یمدھم جملہ فعلیہ معطوف فی طغیانہم متعلق ہے یمد کے یعمہون جملہ فعلیہ حال ہے یمدھم کی ضمیر ھم مفعول ہے۔ تفسیر : یعنی جب وہ منافق مسلمانوں سے ملتے تھے تو ان کے خوش کرنے کو کہتے تھے کہ ہم بھی ایمان لائے اور جب اپنے سرداروں کے پاس جاتے تو نہایت تاکید سے کہتے کہ ہم تمہارے ہی ساتھ ہیں ہم تو مسلمانوں سے بطور دل لگی کے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ دیتے ہیں، وہ بیوقوف سیدھے سادے لوگ ہیں۔ ہماری اس بات کو سچ جان کر ہمیں اپنے رازوں اور دلی ارادوں سے مطلع کرتے اور فوائد میں شریک بنا لیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے کیا دل لگی اور مسخرا پن کر رہے ہیں۔ خدائے تعالیٰ ان سے دل لگی کر رہا ہے کہ ان کو اس حالت خراب میں چھوڑ رکھا ہے کہ جس کا نتیجہ دین و دنیا میں خراب اور آخرت میں روح کو سخت عذاب ہے۔ متعلقات : اللہ یستہزیٔ بہم : استہزا اور مکر اور خدع وغیرہ اوصاف کو جو آیات قرآنیہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے تو مجازاً کیا گیا ہے۔ کس لیے کہ یہ اوصاف ذمیمہ ہیں۔ ان سے وہ پاک ہے مگر محاورہ میں ایک فعل پر کسی مناسبت سے اکثر دوسرے فعل کا اطلاق آتا ہے بولتے ہیں جس قدر تم پر کوئی ظلم کرے اسی قدر تم بھی اس پر ظلم کرو۔ حالانکہ ظلم کے مقابلہ میں جو کچھ جزائے مناسب دی جائے وہ ظلم نہیں مگر وہ دونوں فعل باہم مناسبت رکھتے ہیں۔ اس لیے اس پر بھی ظلم کا اطلاق آیا۔ قال تعالیٰ و جزاء سیئۃٍ سیئۃ ’‘ پس وہ لوگ جو دینداروں کے ساتھ مکر اور ٹھٹھا کرتے ہیں خدائے تعالیٰ ان کو اس فعلِ بد کی جزا دیتا ہے، لیکن اس جزا پر ایک مناسبت سے مکر اور ٹھٹھے کا اطلاق آیا اور خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب ہوا اور یہ ایک محاورے کی بات ہے اس پر طعن کرنا سراسر بیوقوفی ہے۔ بعض پادری اور ہندو مسلمانوں کو ان آیات سے ان الزامات کا جواب دیا کرتے ہیں کہ جو ان کی کتب دینیہ سے ثابت ہوتے ہیں جن میں خدائے تعالیٰ کی ذات مقدس میں جسمانیت اور حدوث اور جہل وغیرہ امور کو ثابت کیا ہے مگر یہ سراسر ناانصافی ہے یا ان آیات کے مطالب سے لاعلمی یا عمداً کجروی ہے۔ طغیان : بالضم و الکسر ایک جگہ مقرر سے تجاوز کرنا بولتے ہیں طغی الماء جس وقت پانی اپنی حدود سے تجاوز کرتا اور حد سے بڑھ جاتا ہے یہاں اس سے مراد سرکشی اور کفر میں حد سے بڑھ جانا ہے۔ لفظ شیطان کی تحقیق مقدمہ کتاب میں ہوچکی ہے۔ یہاں اس سے مراد کفر کے سردار ہیں۔ عمہ : اور عمی دونوں کے معنی اندھا پن اور نابینائی کے ہیں مگر عمی کا اطلاق ظاہری آنکھوں کے اندھا ہونے پر اور عمہ کا دل کی آنکھوں کے اندھا ہونے پر آتا ہے۔ نکات : (1) منافقین اپنی چالاکی سے ایمانداروں کو ان کے بھولے پنے سے بیوقوف سمجھ کر اپنا ایمان جتلانے میں قسم اور کلام مؤکد کی ضرورت نہ سمجھتے تھے سو اس کو تو خدا نے آمنا کے ساتھ تعبیر کیا اور کفار بالخصوص کفر کے سردار تو بڑے چلتے پرزے اور پرلے درجے کے ہوشیار تھے وہ بغیر قسم اور کلام مؤکد کے کا ہے کو اعتبار کرتے۔ اس لیے ان سے انامعکم بتاکید کہتے اور بجائے کفر کے ان سے معیت جتلاتے تھے۔ (2) خدائے تعالیٰ کے مقدس لوگوں سے ہنسی کرنا خدائے تعالیٰ سے ہنسی کرنا ہے اور ان کا ادب اور ان سے محبت کرنا خدائے تعالیٰ کا ادب اور اس سے محبت کرنا ہے۔ اس بات کے بتلانے کو خدا نے یہ فرمایا کہ تم میرے بندوں سے ہنسی کرتے ہو ان کی طرف سے میں تمہارے ساتھ ہنسی کرتا ہوں کہ تم کو گمراہی میں چھوڑ رکھا ہے جس کو تم بھلا سمجھتے ہو اور نتیجہ اس کا برا ہے۔ (3) اللہ یستہزیٔ بہم میں لفظ اللہ کو مقدم کرکے یہ بات جتلا دی کہ کوئی اور نہیں بلکہ خدا تم سے ہنسی کر رہا ہے۔ پھر دیکھو اس کی ہنسی کیسی ہے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے نمک حلال نوکر کی طرف سے اس کے مخالف کو یوں کہے کہ تجھ سے بادشاہ مقابلہ کر رہا ہے تاکہ اس کو خوف پیدا ہو اور اپنی حرکت ناشائستہ سے باز آئے۔ (4) اللہ مستہزی نہ کہا کہ جو ظاہر میں مطابق تھا مگر اس نکتہ کے لیے یستہزیٔ جملہ فعلیہ فرمایا کہ تجدد اور حدوث پر دلالت کرے اور وقتاً فوقتاً خدا کی طرف سے مصائب کا نازل ہونا ان کو معلوم ہوجائے۔ کماقال اَوْلاَ یَرَوْنَ اِنَّہُم یُفْتِنَوْنَ فِیْ کُلِّ عَامٍ مَرَّۃٍ اَوْ مَرَّتَیْنِ الآیہ اب اگلی آیتوں میں خدائے تعالیٰ منافقوں کے اس فعلِ بد کا نتیجہ بڑے لطف کے ساتھ بیان فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے عمر عزیز صرف کرکے کیا حاصل کیا۔
Ayahs 2:15–16

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

حالانکہ اللہ ان سے دل لگی کیا کرتا ہے اور ان کو ان کی گمراہی میں ڈھیل دے رہا ہے وہ اندھے ہو رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ (منافق) وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت دے کر گمراہی خریدی سو ان کی تجارت سے کچھ بھی نفع نہ ہوا اور نہ وہ (تجارت کرنا ہی) جانتے تھے۔

ترکیب : اولئک مبتدا۔ الذین موصول اشترو الخ جملہ فعلیہ اس کا صلہ مجموعہ بن کر خبر ہوئی فا تفرعیہ ما حرف نفی ربحت فعل تجارتہم فاعل مجموعہ جملہ فعلیہ خبریہ معطوف علیہ اور وما کا نوا مہتدین جملہ اس پر معطوف۔ تفسیر : یعنی وہ جو انسان کو خدا کی طرف سے ایک فطری ہدایت ہے (اگر اس پر کوئی عوارض و موانع پیش نہ آئے تو اس کی وجہ سے نیکی اور حیات ابدی کے رستہ پر چل سکے) ان منافقوں نے اپنے اندر اخلاق رذیلہ اور ملکات فاسدہ پیدا کرکے اس نور فطرت کو بجھا دیا (جس کو خدائے تعالیٰ نے ہدایت کے بالعوض گمراہی خریدنے کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے) ان لوگوں نے اپنے نزدیک بڑی عمدہ اور نفع دینے والی تجارت کی تھی کہ منہ سے کلمہ توحید کہہ دیا اور اس کی بدولت منافع دنیا کو حاصل کیا۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے اس تجارت میں نفع نہ ہو کیونکہ عمر عزیز اور نور فطرت کہ جس کی کوئی قیمت نہیں اس کو صرف کرکے دنیا چند روزہ اور شہوات نفسانیہ حاصل کرنا درِّ بےبہا دے کر مٹی کا کھلونا لینا ایسا ہے جیسا کہ احمق اور لڑکے کرتے ہیں۔ ؎ کس لیے آئے تھے ہم کیا کر چلے تہمتیں چند اپنے ذمہ دھر چلے اور نہ سرے سے ان لوگوں کو تجارت کرنی آئی کیونکہ تجارت یہ تھی کہ اپنی جان و مال کو خدا کی راہ میں صرف کرکے حیات ابدی حاصل کرتے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ یَـــآاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تْجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ٭ تُؤْمِنُوْنَ بْاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبْیْلِ اللّٰہِ بْاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ الآیات۔ اصل مال فطرت سلیمہ کو بھی برباد کردیا اور نفع بھی نہ ملا۔ اب خدا تعالیٰ ان کی حالت کو اور زیادہ تشریح سے بیان فرماتا ہے :