Ayahs 2:47–48ترکیب : یا حرف ندا بنی اسرائیل مضاف اور مضاف الیہ منادی اذکروا فعل ضمیر انتم فاعل نعمتی التی انعمت علیکم صفت و موصوف معطوف علیہ و انی فضلتکم علٰی العالمین تمام جملہ اسمیہ ہو کر معطوف یہ دونوں اذکروا کے مفعول یہ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہو کر ندا ہوا واتقوا فعل انتم ضمیر فاعل یومًا مفعول بہ موصوف ولاتجزی نفس الخ اور لایقبل اور لایؤخذ الخ ولاھم الخ چاروں جملے معطوف بری کے دیگر اس کی صفت اور سب میں عائد محذوف ہے اے لایتجزی فیہ و قس علیہ البواقی۔ اس جملہ اتقوا کا عطف اذکروا پر ہواعن نفس موضع نصب میں ہے تجزی سے اور ممکن ہے کہ حال ہو کر موضع نصب میں ہو تقدیرہ شیئاعن نفس منہا دونوں جگہ میں ممکن ہے کہ یقبل اور یؤخذ کے متعلق ہو اور ممکن ہے شفاعۃ اور عدل کی صفت ہو۔
تفسیر : پہلا انعام : یہاں سے نصائح واوامر و نواہی سابقہ ذکر فرما کر بنی اسرائیل کو اپنے انعام و احسان جو وقتاً فوقتاً ان پر اور ان کے بزرگوں پر ہوئے یاد دلاتا ہے۔ یہ پہلا احسان ہے کہ ان کو دنیا پر فضیلت دی تھی مگر بنی اسرائیل کو اپنے اہل علم اور انبیاء زادے ہونے کی وجہ
1 ؎ اور جو ملحد ہیں نہ ثواب کے قائل نہ خدا کے مقروہ تو اس کو عبث سمجھتے ہیں اس لیے ان پر بھاری ہے اور کیسا ہی بھاری کام ہو جب انسان اس کا نتیجہ نیک یقین کرلیتا ہے تو اس کو اس امید میں سب تلخیاں شیریں معلوم ہوتی ہیں۔ 12 منہ
سے دو چند غرور اور تعصب تھا۔ اس لیے خدا تعالیٰ اپنی نعمتوں کو اور ان واقعات کو کہ جن میں ان پر وقتاً فوقتاً انعامِ الٰہی ہوئے۔ یکے بعد دیگر بیان فرماتا ہے۔ اول یہ نعمت و انعام ذکر فرماتا ہے کہ تم کو دنیا پر فوقیت دی تھی۔ نبوت اور سلطنت دونوں تمہارے خاندان میں تھیں جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا واتاکم مالم یؤت احدًا من العالمین۔ اس پر شکر کرو تکبر اور سرکشی سے باز آئو۔ ہماری اطاعت کرو نہ کہ الٹا تکبر اور سرکشی کرو۔ اگر تم اپنی سرکشی اور تعصب سے باز نہیں آتے اور ہماری نعمتوں کا حق ادا نہیں کرتے اور تم کو اس بات پر بھی عبرت نہیں (کہ میں نے تمہارے فسق و فجور پر حسب وعدہ تم پر اپنا قہر نازل کیا تھا، بخت نصر اور انٹیوکس وغیرہ بادشاہوں نے تمہاری عزت و شوکت خاک میں ملا دی تم کو غلام بنا لیا تھا) تو آخر ایک روز مرنا بھی ہے قیامت میں ہمارے پاس آنا اور حساب دینا ہے اس دن سے ہی ڈرو کہ وہاں کوئی وجہ عذاب الٰہی کے دفع کی نہیں۔ کس لیے کہ مخلصی کا طریق یا تو یہ ہے کہ دوسرا شخص اس کی جگہ آپ ذمہ دار ہوجائے اور اس کے جمیع حقوق اور محاسبہ کو اپنے سر پر لے لے۔ سو وہاں یہ بھی نہیں لاتجزی نفس عن نفس شیئًا۔ اس دن کی سختی ایسی ہوگی کہ ہر کوئی نفسی نفسی پکارے گا کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ یوم یفر المرء من اخیہ الآیۃ یا کسی کی وجاہت سے مفت چھوڑ دیا جائے۔ تم کو اپنے باپ دادا انبیاء (علیہم السلام) پر بڑا بھروسا ہے سمجھتے ہو کہ وہ تم کو چھوڑا لیں گے سو وہاں یہ بھی نہیں کیونکہ لایقبل منہا شفاعۃ اس روز یہ سفارش بھی کام نہ آوے گی اس کی مرضی بغیر کوئی نبی یا بزرگ کسی کے لیے لب کشائی بھی نہیں کرسکتا یا اپنا مال دے کر معاوضہ یا جرمانہ بھگت کر نجات پا جاوے تو وہاں یہ بھی نہیں کس لیے کہ لایؤخذ منہا عدل، خدا کو مال و دولت کی کچھ پروا نہیں اور اس روز کسی کے پاس ہوگا کیا۔ نہ مال نہ دولت کسی سے مالی معاوضہ نہ لیا جاوے گا۔ یا یہ کہ یارو انصار برادری و اقارب اپنے زور سے چھڑا لیں سو وہاں یہ بھی نہیں کیونکہ ولاھم ینصرون خدا سے مقابلہ کرنے کی کس کو مجال ہے۔
متعلقات : فضلتکم علی العالمین : عالم کا اطلاق اگرچہ ماسوی اللہ جمیع مخلوقات پر ہوتا ہے اور جب بلفظ عالمین اس کو جمع کرلیا جاتا ہے تو اور بھی شمول اور عموم کا فائدہ دیتا ہے مگر جس طرح ہمارے عرف میں دنیا کو بول کر اکثر لوگ مراد لیا کرتے ہیں اسی طرح عرب میں محاورہ تھا اور جس طرح ہمارے عرف میں لفظ کل بولتے ہیں اور اکثر چیزیں اس سے مراد لیا کرتے ہیں اسی طرح عرب میں محاورہ تھا۔ بلقیس کی نسبت وارد ہے و او تیت من کل شیء کہ اس کو ہر چیز سے حصہ ملا تھا حالانکہ بہت سی چیزیں اس کو نہ ملی تھیں۔ پس اس توجیہ پر مطلب آیت کا صاف ہے کہ بنی اسرائیل کو خدا نے ایک زمانہ میں اکثر لوگوں پر فضیلت دی تھی اور یہ واقعی بات ہے۔
بعض مفسرین نے عجب موشگافی کی ہے۔ عالمین سے جمیع مخلوقات مراد رکھی ہے پھر دیکھا کہ اس سے ملائکہ اور جمیع انبیاء اور جناب محمد ﷺ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے تو آنحضرت ﷺ کو دلائل سے مستثنیٰ کیا اور بےسرو پا دلائل سے ورق کے ورق سیاہ کر ڈالے اسی طرح بنی اسرائیل سے ہر فرد بشر مراد لے کر الجھاوے میں پڑگئے کہ بنی اسرائیل کے فساق اور کفار کو جمیع عالم پر کیونکر فضیلت تھی ؟ اسی طرح اکثر مقامات پر عرف اور محاورئہ عرب سے غافل ہو کر الفاظ کے معانی لغویہ یا علمائِ کلام و علمائے اصول کے مقرر کردہ معنی مراد لے کر سیدھی بات کو مشکل کردیتے ہیں۔
شفاعۃ : شفع بمعنی جفت ہے یعنی طاق کا خلاف گویا کہ شفاعت کرنے والا اپنے آپ کو اس کے ساتھ (کہ جس کی یہ شفاعت کرتا ہے) ملا کر اس اکیلے کو جوڑا کرتا ہے۔ معتزلہ اس آیت اور اس آیت من ذالذی یشفع عندہ الاباذنہ سے استدلال کرتے ہیں کہ قیامت کو انبیاء گناہ گاروں کی شفاعت نہ کریں گے۔ مگر ان کا یہ قول صحیح نہیں۔ کس لیے کہ ان آیات کا یہ منشاء ہے کہ اس کی مرضی کے برخلاف اپنی وجاہت سے کوئی سفارش نہ کرسکے گا اور چونکہ اس کی مرضی کفار اور مشرکین کی نسبت نہ ہوگی تو ان کے لیے کوئی شفاعت نہ کرے گا جیسا کہ ان آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے اور لفظ الا باذنہ باآواز بلند بتلا رہا ہے کہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے رحمت الٰہی انبیاء اور اولیاء اور صلحاء کے دل میں ان کی شفاعت کا شوق پیدا کرے گی اور وہ نہایت عجز و انکسار سے اس کی جناب میں عرض کریں گے۔ وہ اپنی رحمت سے قبول فرمائے گا۔ ع رحمت حق بہانہ می جوید، آنحضرت (علیہ السلام) نے فرمایا ہے شفاعتی لاھل الکبائر من امتی اور احادیث صحیحہ میں آنحضرت کی شفاعت کبریٰ کی تفصیل ہے۔ آنحضرت عالم کے شفیع اعظم ہیں۔ اور یہ آیات کفار کے ساتھ مخصوص ہیں۔ کس لیے کہ کلام یہود سے چلا آتا ہے۔
عدل : عدل کے معنی برابری کے ہیں چونکہ معاوضہ اور فدیہ دے کر دونوں برابر ہوجاتے ہیں اس لیے معاوضہ اور فدیہ اور بدل کو بھی عدل کہنے لگے اور اسی لیے انصاف کو بھی عدل کہتے ہیں۔
نکات : (1) جو نکرہ حیز نفی میں ہوتا ہے تو وہاں کثرت سمجھی جایا کرتی ہے اور لاتجزی نفس سے نفس نکرہ ہے معرفہ نہیں اور لانفی کے پیچھے آیا ہے تو یہاں بھی عموم مراد ہے پس یہ کثرت جو یہاں مفہوم ہوتی تھی اس کو وھم لاینصرون میں اس نکتہ کے لیے ظاہر کردیا کہ عادتاً جب کسی کو ایسے شخص کے پنجے سے چھڑاتے ہیں کہ وہ نہ وجاہت اور لحاظ کو خیال میں لاتا ہے تاکہ سفارش قبول کرے نہ وہ معاوضہ سے راضی ہوتا ہے نہ کسی دوسرے شخص کی ضمانت مانتا ہے تو وہاں ایک جماعت اور جمعیت سے کام لیا جاتا ہے کہ ایک جماعت بزورچھڑا لیتی ہے۔ پس لفظ ھم میں ان کی کثرت کے فائدہ مند نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
اس کے بعد خدائے تعالیٰ اپنی نعمتوں کی تفصیل کرتا ہے اور ہر ایک واقعہ کو یاد دلاتا ہے تاکہ سن کر عبرت اور رغبت ہو اور بنی اسرائیل کے دل ملائم ہوں اور راہ راست پر آویں۔ مگر یہ واضح رہے کہ ان واقعات کے بیان کرنے سے مقصود صرف اپنی نعمتوں اور نافرمانیوں پر عقوبتوں کا یاد دلانا ہے نہ بترتیب تاریخ آدم اور تاریخ بنی اسرائیل بیان کرنا جیسا کہ اہل کتاب کی تورات وغیرہ کتب تاریخ میں ہے کہ جن کو وہ الہامی کہتے ہیں اس لیے کبھی مقدم واقعہ کو مؤخر اور کبھی بالعکس اور کبھی بطور اجمال اور کبھی بطور تفصیل بیان کرتا ہے اور کچھ عہد موسیٰ کے واقعات ہی بیان نہیں ہوئے بلکہ ان سے پہلے اور پچھلے واقعات بھی ہیں بلکہ ملک مصر کے واقعات اور وہاں سے نکل کر ملک کنعان میں آتے وقت کے اور وہاں پہنچ کر جو کچھ گزرا سب کا بیان ہے نہ بترتیب وقوع بلکہ جس واقعہ کا ذکر مناسب مقام تھا اس کا ذکر کیا۔
Ayah 2:49ترکیب : واذ موضع نصب میں ہے معطوف اذکروا نعمتی پر اور اسی طرح و اذفرقنا و اذواعدنا اور اذقتلتم یا موسیٰ وغیرہ نجینا فعل یا فاعل کم مفعول من آل فرعون متعلق ہے نجینا سے یسومون فعل ھم ضمیر راجع آل فرعون کی طرف کم مفعول اول سوء العذاب مفعول ثانی یہ تمام جملہ حال ہے آل فرعون سے یا ضمیر نجینا کم سے یا دونوں سے یذبحون ابناء کم اور یستحیون الخ دونوں جملے بیان ہیں یسومونکم کے اور اسی لیے عطف نہ ہوا بلاء موصوف من ربکم اور عظیم صفت مبتداء موخر فی ذلکم خبر۔
تفسیر : انعام دوم : یہ دوسرا انعام یاد دلاتا ہے اسرائیلیوں پر جو فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف سے ہر روز ایک تازہ مصیبت کا سامنا تھا یہاں تک کہ لڑکے قتل کئے جاتے اور لڑکیاں باقی چھوڑی جاتی تھیں۔ اس میں بنی اسرائیل پر بڑی سخت مصیبت تھی۔ اول نسل اور قوم کا کم ہونا پھر لڑکیوں کا غیر اقوام کے استعمال میں آنا، پھر زندہ اولاد کا قتل دیکھنا، ان سب مصائب سے خدا نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب نجات دی۔ یہ کس قدر احسان اور کیسی نعمت الٰہی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک ان کی اولاد کنعان ہی میں آباد رہی۔ پھر بھائیوں کے حسد اور بغض کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) غلام بن کر مصر میں آئے۔ یہاں ان کا بادشاہ مصر کے پاس بڑا عروج ہوا۔ جب کنعان میں سخت قحط پڑا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی تمام اولاد مصر میں آرہی اور ان کو خدا نے بہت بڑھایا اور کئی سو برس تک مصر میں ان کے لاکھوں آدمی ہوگئے اور اس عرصہ میں یوسف (علیہ السلام) اور وہ فرعون سب مر کھپ گئے۔ دوسرا فرعون تخت نشین ہوا جس کا نام مصعب یا ولید تھا اس کو بنی اسرائیل سے سخت عداوت تھی اور دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ مبادا یہ لوگ ہماری سلطنت پر قابض ہوجاویں۔ اس لیے اس نے ان کو سخت سخت تکلیفیں دینی شروع کیں۔ ان پر خراج کے لیے محصل بٹھا دیے اور مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی اور انہوں نے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب قسم کی خدمت کھیت کی کروا کے ان کی زندگی تلخ کی ان کی ساری خدمتیں جو وہ ان سے کراتے تھے، مشقت کی تھیں۔ (22) اور فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو تاکید کرکے کہا کہ ان میں جو بیٹا پیدا ہو اسے مار ڈالو اور جو بیٹی پیدا ہو اسے جینے دو (تورات) خدائے تعالیٰ کو بنی اسرائیل کی مصیبت پر رحم آیا ان میں عمران کے گھر میں ایک حسین لڑکا پیدا کیا، جس کی پرورش اور سرگزشت عبرت کا باعث ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ انہوں نے طرح طرح کے فرعون کو معجزے دکھائے اور تمام بنی اسرائیل کو مع یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کے ان کے وطن قدیم ملک کنعان میں لے گئے ان کے پیچھے جو فرعون پکڑنے چلا تھا دریائے قلزم میں مع لشکر ڈوب مرا اور بنی اسرائیل دریا میں سے خشک نکل گئے۔ مصر سے کنعان یعنی ملک شام تخمیناً چالیس روز کا رستہ شمال کی جانب ہے مگر رستہ میں جو بنی اسرائیل نے خدا کی نافرمانیاں کیں چالیس برس تک ٹکراتے پھرے۔ اسی عرصہ میں من وسلویٰ نازل ہوا اور دھوپ سے ابر نے سایہ کیا اور دیگر ذبح بقرہ وغیرہ کے واقعات پیش آئے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) اور جو جوان مصر سے نکلے تھے سب اسی رستے میں مرگئے پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ یوشع بن نون نے ملک کنعان فتح کیا اور وہاں بنی اسرائیل کی سلطنت قائم ہوئی۔ اس قصہ کا مجملاً خدا تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے اور آیندہ اور قصوں کو ذکر کرتا ہے۔
Ayah 2:50ترکیب : فرقنا فعل بافاعل بکم موضع نصب میں مفعول ثانی ہے اور البحر مفعول اول ہے اور ب بمعنی لام ہے فانجیناکم جملہ فعلیہ معطوف علیہ واغرقنا الخ جملہ فعلیہ معطوف وانتم تنظرون حال ہے اغرقنا سے۔
تفسیر : انعام سوم : یہ تیسرا انعام ہے جو خروج مصر کے بعد بنی اسرائیل پر خدا نے کیا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی قید سے چھڑا کر کنعان کی طرف روانہ ہوئے تو فرعون اور اس کے لشکر نے قلزم کے پاس تعاقب کرکے بنی اسرائیل کو آلیا اب پیچھے تو فرعون اور اس کا خونخوار لشکر جس کی ہیبت نے بنی اسرائیل کو ہوش باختہ کردیا اور سامنے سمندر، نہ آگے جاسکتے ہیں نہ پیچھے پھر سکتے ہیں۔ اس وقت بنی اسرائیل کی عجب ہوشربا حالت تھی مگر خدا نے اپنا فضل کیا۔ بنی اسرائیل کے لیے دریا میں خشک رستہ کردیا۔ دونوں طرف پانی کی دیواریں بن کر کھڑی ہوگئیں۔ جب بنی اسرائیل سوکھے پار اتر گئے ان کے پیچھے جو فرعون کا لشکر نکلنے لگا تو پانی مل گیا۔ سب ان کی آنکھوں کے سامنے ڈوب مرے۔ بنی اسرائیل یہ تماشا پرلے کنارے پر کھڑے دیکھ رہے تھے۔ ادھر اپنا ایسی خوفناک حالت سے نجات پانا، دوسرے اپنے دشمن کو جس کی تباہی کا خیال بھی نہ جاتا تھا مع سازو سامان غرق ہوتے دیکھنا کیسی خوشی اور کیسا انعامِ الٰہی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر ملک شام کی طرف چلے تو بحیرئہ قلزم کی طرف راہ پڑ لیے ان کے پیچھے فرعون بھی مورو ملخ کی طرح لشکر لے کر گرفتار کرنے پہنچا۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ اب ہم کیا کریں، سامنے سمندر کی ایک شاخ ہے کہ جس کو قلزم کہتے ہیں اور پیچھے فرعون کا لشکر چلا آتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جناب باری میں التجا کی، حکم ہوا کہ اپنے عصا کو دریا پر مار اس کی وجہ سے یہ معجزہ ظہور میں آیا کہ سمندر پھٹ گیا اور جس طرح پہاڑ میں گھاٹیاں ہوتی ہیں اسی طرح پانی کے بستہ ہونے سے خدا نے گھاٹیاں کردیں جن میں سے بنی اسرائیل بخوبی مع اپنے جانوروں اور اسباب کے نکل گئے اور چونکہ پانی ایک لطیف جسم ہے اس کی گھاٹیوں میں سے ایک طرف کا آدمی دوسری طرف کو نظر آتا تھا۔ فرعون نے ان کے پیچھے اسی راستہ سے عبور کرنا چاہا تو پھر سمندر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون اور اس کا سارا لشکر ڈوب مرا اور پرلے کنارے پر بنی اسرائیل کھڑے ہوئے فرعونیوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھتے تھے۔
متعلقات : اصل آل کی اہل ہے کس لیے کہ اس کی تصغیر اہیل آتی ہے اس کے معنی گھر والے کے ہیں جن کو عرف میں کنبہ کہتے ہیں یا خاندان ہاں اس قدر فرق ہے کہ لفظ آل کا اطلاق اس خاندان پر آتا ہے کہ جن کو دینی یا دنیاوی عزت و شرف حاصل ہو اور کبھی اس لفظ سے مطیع و مطبّع بھی مراد ہوا کرتے ہیں اول تقدیر پر آل نبی حضرت ﷺ کا کنبہ بیٹی نواسے، چچا اور بیویں وغیرہم، دوسری تقدیر پر تمام صحابہ مراد ہوتے ہیں اور کبھی یہ لفظ زائد آتا ہے۔ آل فلاں میں وہ فلاں ہی مراد ہوا کرتا ہے۔
ہم بیشتر ابتدا سے انتہا تک مختصر طور پر حضرت موسیٰ 1 ؎ (علیہ السلام) کی تاریخ 1 ؎ بیان کرتے ہیں اور تورات اور قرآن کو مدنظر رکھتے ہیں تاکہ ہر واقعہ خوب بہ ترتیب وقوع سمجھ میں آجائے۔
تاریخ بنی اسرائیل : موسیٰ مصر میں عمران کے گھر میں (جو قہات کا بیٹا لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) کا پوتا تھا) حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تخمیناً پندرہ سو اکہتر برس پیشتر منوچہر شاہ ایران کے زمانہ میں پیدا ہوئے اس زمانے میں فرعون نے بنی اسرائیل پر سختیاں کر رکھی تھیں بڑے سخت کام لیتا اور بیگار میں رکھتا تھا اور یہ عام حکم تھا۔ کہ جو ان کے خاندان میں بیٹا پیدا ہو اس کو قتل کر ڈالو لڑکی کو جیتی رہنے دو کیونکہ اس کو بنی اسرائیل کی کثرت سے خوف تھا یہ ان کو مٹانا چاہتا تھا یہ لوگ اپنی مصیبت پر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر آہ وزاری کرتے اور درد سے روتے تھے مگر اس موذی کو رحم نہ آتا تھا لیکن خدائے ارحم الراحمین کو رحم آیا۔ اس نے اس کے پنجے سے چھڑانے کے لیے بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا جب یہ پیدا ہوئے تو کئی مہینے تک ان کی والدہ ماجدہ نے ان کو چھپا کر رکھا جب دیکھا کہ راز فاش ہوا جاتا ہے کوئی دم فرعونی جلاد آتے اور اس معصوم بچے کو ذبح کرتے ہیں تو باالہامِ الٰہی یہ تدبیر سوچی اس کو کسی صندوق میں کہ جس میں پانی اثر نہ کرے ڈال کر دریائے نیل میں چھوڑ دیجئے۔ جہاں اس کی تقدیر ہوگی چلا جائے گا پس ایک صندوق میں چوطرفہ رال لگا کر اور خوب مضبوط کر کے اس چاند سی صورت کو چھپا دیا اور خدا کے نام پر دریا میں ڈال دیا۔ ڈال تو دیا مگر دل کا اللہ ہی مالک تھا۔ زار زار روتی اور یہ کہتی تھی ؎
میروی و میرود جانم بتو
خوش برو فاللہ خیرٌ حافظا
1 ؎ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو بیس سورتوں میں کہیں رجال اور کہیں تفصیل سے بیان فرمایا ہے سورة بقر۔ نساء۔ مائدہ۔ انعام۔ اعراف۔ یونس۔ ہود بنی اسرائیل۔ کہف۔ مریم۔ طہ۔ مومنین۔ شعرا۔ نمل۔ قصص۔ صافات۔ مومن۔ زخرف۔ دخان۔ نازعات۔ بعض واقعات توریت میں ہیں قرآن نے ان کو بیان نہیں کیا بعض قرآن میں ہیں توریت میں نہیں اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں گو مصنف تورات ابتدا سے انتہا تک بہ ترتیب قصہ لکھتا ہے۔ مگر عادتاً ہر مورخ سے سینکڑوں واقعات اس شخص کے کہ جس کی تاریخ وہ لکھتا ہے رہ جایا کرتے ہیں پس اگر وہ کسی دوسری جگہ ہوں یا ان کو کوئی اور بیان نہ کرے تو وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا اور قرآن کی غرض تاریخ بیان کرنا نہیں ہے بلکہ نصیحت و عبرت مقصود ہے۔ 12 منہ مگر اپنی بیٹی سے یہ کہہ دیا کہ کنارے کنارے تو بھی دیکھتی جا کہ صندوق کہاں جاتا ہے۔ وہ صندوق کے ساتھ اس طرح جاتی تھی کہ کوئی نہ جانے کہ یہ اسی صندوق کے ساتھ ہے۔ وہ صندوق جب فرعون کے محل کے پاس بہ کر آیا تو اس کی بیوی آسیہ نے کہ جو بڑی خدا ترس اور پاکباز عورت تھی دیکھا کہ ایک صندوق بہا چلا آتا ہے اس کے ساتھ اس کی بیٹی اور خواصیں بھی تھیں۔ جب اس امر عجیب کے دریافت کی طالب ہوئیں حکم دیا کہ صندوق نکالا جاوے۔ نکال کر کھولا گیا تو اس میں کیا دیکھتی ہیں کہ ایک چاند سی صورت کا بچہ بسور رہا ہے اور ہاتھ پائوں مارتا ہے اور انگوٹھے چوستا جاتا ہے۔ یہ دیکھتے ہی سب کا دل بھر آیا۔ خدا کی قدرت دیکھئے، وہ دشمنوں کے گھر میں پرورش کراتا ہے۔ فرعون کی بیٹی نے کہا اس کو بیٹا بنا لو اور اباجان کو بھی اس کی خبر کر دو ۔ فرعون کی بیوی نے بچہ دکھایا اور اپنا مطلب ظاہر کیا مگر موذی نے کہا غالباً یہ کسی کنعانی کا بچہ ہے ہمارے خوف سے دریا میں ڈال دیا ہے اس کو قتل کر ڈالو۔ فرعون کی بیوی اوپر گر پڑی اور کہا کہ اس کو نہ مارو، اس کو بیٹا بنا لو شاید یہ کسی وقت کام آئے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے انا کی تلاش ہوئی۔ دو ایک انائیں آئیں مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی کا بھی دودھ نہ پیا۔ اس کے رونے سے سب بےچین ہوگئے تب موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے جو فرعون کی بیوی اور بیٹی کے پاس آیا جایا کرتی تھی کہا میں تم کو ایک ایسی انا بتائوں کہ جو اس کو نہایت دردمندی اور خیرخواہی سے دودھ پلائے اور اپنے گھر میں لے جا کر پرورش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں لا ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا حال سنئے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ہر ایک چیز کو دیکھ کر زار زار روتی اور اس کی صورت یاد کر کے دل میں دھواں اٹھتا تھا قریب تھا کہ چیخیں۔ مار مار کر روئے اور یہ راز کھل جائے مگر خدا نے اس کے دل کو صبر دیا اور وعدہ کیا کہ رنج نہ کر ہم اس کو پھر تیرے پاس پہونچا ویں گے۔ اتنے میں پھر بیٹی دوڑی آئی کہا اماں جان مبارک ہو بھائی کو فرعون کی بیوی نے بیٹا بنا دیا چلو تم کو دودھ پلانے کو بلاتے ہیں۔ وہ خوشی کے مارے جامہ میں نہ سماتی تھی وہاں جا کر بیٹے کو دیکھ کر دل بیتاب قابو سے نکل چلا تھا مگر سنبھالا اور اس کو دودھ پلایا۔ فرعون کی بیوی نے اس کی تنخواہ اور مصارف پرورش مقرر کر کے موسیٰ (علیہ السلام) کو دے دیا پس ایک مدت موسیٰ ایوان شاہی میں پرورش پاتے اور شہزادے کہلاتے رہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) خوب جوان ہوگئے تو فرعون کی زیادتیوں اور اپنی قوم کی پریشانی دیکھ کر نہایت غمگین رہتے تھے۔ آخرش ایک روز بازار میں ایک قبطی کسی بنی اسرائیل کو کار بیگار پر سخت مار رہا تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سامنے سے آتے دیکھ کر پکارا اور دہائی دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ارے کیوں مارتا ہے۔ اس پر اس نے نہ مانا تو موسیٰ نے اس کو مکا مارا اور وہ اتفاقاً مرگیا۔ موسیٰ اور اس اسرائیلی نے اس کو ریتے میں دبا دیا۔ اگلے روز حسب اتفاق جب موسیٰ (علیہ السلام) بازار میں گئے تو اسی اسرائیلی کو پھر کسی قبطی سے لڑتے دیکھا۔ پھر اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر چلانا اور دہائی دینا شروع کیا۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے خفا ہو کر فرمایا کہ تو بڑا بےہودہ ہے اور اس کے دشمن کو ہٹانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ یہ احمق اسرائیلی یہ سمجھ کر کہ مجھے مارتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگا لو صاحب جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکے ہیں آج اسی طرح مجھ کو بھی مارا چاہتے ہیں۔ اے موسیٰ تو بڑا سرکش اور مفسد ہوا چاہتا ہے۔ اس سے وہ راز فاش ہوگیا۔ آخر فرعون کے دربار میں بھی خبر پہونچی کہ لیجیے وہ موسیٰ کہ جس کو تم نے فرزند بنایا ہے آخر اپنی قوم کا حامی بنا اور ہمارے ایک آدمی کو مار ڈالا۔ ہرچند بعض وجوہ سے فرعون پہلے ہی سے موسیٰ (علیہ السلام) سے بدگمان تھا مگر اب تو جوش میں آ کر قتل کا حکم دے دیا۔ کسی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اس راز سے مطلع کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اول ہی قتل سے ہراساں تھے اب تو بہت ڈر گئے اور مصر سے مشرق کی طرف بھاگ کر چلے گئے۔ بحرِقلزم کے پاس مدین ایک شہر تھا وہاں پہونچے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سایہ میں بیٹھے یہ کہہ رہے تھے کہ الٰہی میں تیرا بندہ فقیر ہوں کچھ مجھ کو عطا کر۔ وہاں ایک کنواں تھا۔ دیکھا کہ چرواہے چرس کھینچ کر اپنی بکریوں اور جانوروں کو پانی پلاتے ہیں اور دو لڑکیاں آنکھیں نیچی کئے کھڑی ہیں۔ ان سے موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تم کیوں نہیں پلاتیں۔ وہ بولیں کہ ہمارے والد بوڑھے ہیں ہم سے چرس کھنچ نہیں سکتا۔ جب یہ پلا کر چلے جاتے ہیں تو بچا بچایا پانی ہم بھی اپنی بکریوں کو پلا لیتے ہیں۔ موسیٰ کو رحم آیا۔ بفضل الٰہی شہ زور جوان تھے جس ڈول کو کئی شخص مل کر کھینچتے تھے اکیلے نے کھینچ کر ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا اور پھر نیچی نگاہ کر کے درخت کے سایہ میں آبیٹھے۔ ان لڑکیوں نے جا کر اپنے بوڑھے باپ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے موسیٰ (علیہ السلام) کا حال بیان کیا۔ اس نے اپنی ایک بیٹی کو بھیجا کہ جاؤ اس مسافر کو بلا لائو۔ وہ آئی اور نہایت شرم سے یہ کہا کہ چلئے آپ کو ہمارے اباجان بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس پانی پلانے کا بدلہ دیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے اور سب قصہ بیان فرمایا۔ انہوں نے سن کر فرمایا کہ بیٹا کچھ خوف نہ کر تو ظالموں کے پنجہ سے بچ گیا۔ ان میں سے ایک بولی کہ اباجان آپ ان کو نوکر رکھ لیں۔ کس لیے کہ آپ کو قوی اور امانت دار آدمی درکار ہے۔ شعیب نے (کہ جس کو تیرو 1 ؎ بھی کہتے ہیں) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں سے ایک کا تمہارے ساتھ نکاح کر دوں بشرطیکہ تم ہمارے ہاں آٹھ برس تک رہو اور دس پورے کر دو تو تمہاری مہربانی اور خدا چاہے تو میں تم کو کوئی تکلیف نہ دوں گا۔ تم مجھ کو بہت اچھا پاؤ گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ بہتر مگر جب میں ان دو مدتوں میں سے کوئی پوری کر دوں تو پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ جو کچھ میں کہتا ہوں خدا اس کا گواہ ہے۔ آخر موسیٰ (علیہ السلام) کا ان میں سے ایک کے ساتھ کہ جس کا نام صفورا تھا نکاح ہوگیا اور مدت مقررہ تک اپنے خسر کی بکریاں چراتے رہے۔ اس عرصہ میں ان کے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا کہ جس کا نام جیرسوم تھا ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) کو وطن کا خیال آیا۔ اپنی بیوی اور بیٹے کو لے کر چلے، سردی کا موسم تھا، شب میں بیوی کو سردی محسوس ہوئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور 2 ؎ کی طرف آگ کا شعلہ سا دیکھا۔ موسیٰ نے بیوی سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں جا کر آگ لاتا ہوں۔ جب وہاں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک درخت آگ کا شعلہ بن رہا تھا مگر جلتا نہیں۔ اس پر خدائے تعالیٰ کی تجلی تھی وہ درحقیقت آگ نہ تھی۔ جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو اس پاک درخت میں سے آواز آئی کہ جو اس آگ کے پاس اور جو اس کے اندر ہے وہ مبارک ہے۔ اے موسیٰ میں اللہ رب العالمین ہوں۔ میں تیرا خدا ہوں۔ تو جوتا اتار دے۔ کس لیے کہ یہ جگہ مقدس ہے (درخت نہیں بولا تھا اور نہ وہ آواز حروف و صوت کے ساتھ تھی دراصل وہاں تجلی ذاتی ہو کر اس حالت میں موسیٰ (علیہ السلام) خدا سے ہم کلام ہوئے) اے موسیٰ میں نے بنی اسرائیل کی آواز دردناک سنی اور ان کی آہ وزاری پر مجھ کو رحم آیا تو ان کے پاس جا اور فرعون سے کہہ تو ان کو ان کے ملک میں جانے دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا الٰہی میری کون سنے گا۔ فرعون مجھ کو کب مانے گا۔ خدائے تعالیٰ نے فرمایا تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے۔ عرض کیا میرا عصا ہے جس سے میں بکریاں ہانکتا ہوں اور بہت سے کام لیتا ہوں۔ فرمایا اس کو زمین پر تو ڈال۔ موسیٰ نے ڈال دیا۔ ڈالتے ہی سانپ بن کر پھن پھنانے لگا۔
موسیٰ (علیہ السلام) ڈر کے بھاگے۔ خدا نے فرمایا کہ مت ڈر تجھ کو اس سے کچھ خوف نہیں۔ رسول میرے پاس خوف نہیں کھاتے تو اس کو پکڑ لے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ لگایا وہ وہیں عصا بن گیا۔ پھر فرمایا اپنا ہاتھ کرتے کے گریبان میں ڈال کر باہر کو لاؤ وہ باہر لائے تو نہایت سفید 3 ؎ اور روشن ہو کر چمکنے لگا۔ کہا پھر اس کو گریبان میں ڈال۔ ڈال کر نکالا تو پھر اصلی حالت پر آگیا۔ خدا نے فرمایا جا میں نے تجھ کو یہ دو معجزے دیے۔ تو فرعون اور بنی اسرائیل کو دکھائیو تاکہ وہ تیری تصدیق کریں۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الٰہی مجھ سے ایک فرعونی مارا گیا میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو اس کے قصاص میں نہ مار ڈالیں۔ دوم میری زبان میں لکنت ہے میں اچھی طرح بات نہیں کرسکتا۔ میرے ساتھ میرے بھائی کو مقرر کر وہ مجھ سے فصیح ہے۔ خدا نے فرمایا تیرے بھائی کو تیرا قوت بازو بنائیں گے اور ہم تم کو غلبہ دیں گے۔ تمہارے پاس کوئی آنے نہیں پائے گا۔ جاؤ تم کو اور تمہارے تابعداروں کو میں غالب کروں گا وہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) چلے۔ رستہ میں ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) جو ان کی پیشوائی کو کھڑے تھے،
1 ؎ عبرانی محاورہ ہے۔ 12
2 ؎ یہ جگہ کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آ کر رہے تھے ملک عرب کے شمالی و مغربی کنارے میں واقع ہے کیونکہ ملک عرب و مصر کے بیچ میں بحیرئہ قلزم فاصل ہے اس کے مشرق کی جانب عرب کا پرلا کنارہ ملک مصر سے اور عرب ہی میں ملک مدین اور کوہ طور اور کوہ حویرب ہے چناچہ جب مصر سے موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو ادھر سے گزرے تھے۔
3 ؎ ید بیضا اسی کو کہتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تھا۔ 12 منہ
ملے۔ بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دونوں معجزے دکھائے خدا تعالیٰ کا پیغام بشارت التیام سنایا سب سن کر سجدے میں گر پڑے۔ نہایت خوش ہوئے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) بڑی کوشش کر کے فرعون کے پاس گئے اور کہا ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام لائے ہیں، آپ مانیے اور خداوند عالم سے ڈر کر راہ راست پر آیئے اور بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دیجئے ان بیکسوں کو تکلیف نہ دیجئے۔ فرعون نے کہا خداوند عالم کون ہے ؟ میں اس کو نہیں جانتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا وہ ہے کہ جس نے آسمان و زمین ہر چیز کو پیدا کیا۔ فرعون کو تعجب ہوا اور اپنے درباریوں سے کہا ذرا اپنے رسول کی بات تو سنیے کیا محال بات کہتے ہیں۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بلکہ تم سب کا اور تمہارے سب باپ دادوں کا رب ہے۔ یہ سن کر فرعون نے کہا یہ دیوانہ ہے۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا بلکہ مشرق اور مغرب اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کا رب ہے۔ اس پر فرعون نے نہایت ناراض ہو کر یہ کہا کہ اگر تو نے میرے سوائے کسی اور کو خدا کہا تو حبس دوام کر دوں گا اور درباریوں سے کہا دیکھو میرے سوائے اور بھی کوئی تمہارا خدا ہے۔ اے ہامان پکی اینٹوں کا ایک بڑا اونچا برج بنائیں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں گا کہ وہ ہے کہاں۔ اور میں تو اس کو سرے سے جھوٹا اور جادو کا مارا ہوا ہی جانتا ہوں۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہنے لگا کہ تو وہی ہے نا کہ جو مدت تک میری روٹیاں کھا کر بڑا ہوا اور میرے ہاں رہا اور پھر وہ کام کرکے یہاں سے بھاگا کہ جس کو تو خود جانتا ہے۔ میں تجھ پر اے ذلیل ایمان لائوں اور تیری قوم ہمیشہ سے ہماری غلامی کرتی رہی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ کیا احسان جتاتے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ خیر اچھا اگر میں آپ کو کوئی معجزہ دکھائوں تب بھی آپ تصدیق کریں گے۔ اس نے کہا وہ معجزہ کیا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو ڈال دیا پھر وہ اژدہا بن کر فرعون کی طرف لپکا۔ فرعون اور تمام ارکان دولت پریشان ہو کر بھاگنے لگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا پھر وہ عصا ہوگیا۔
فرعون اور اس کے مصاحب پھر بدستور بیٹھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالا تو آفتاب کی طرح چمکنے لگا۔ پھر ڈالا تو بدستور سابق ہوگیا۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنے اہلکاروں اور امیروں سے مخاطب ہو کر کہا یہ بڑا جادوگر ہے اس حیلہ سے چاہتا ہے کہ تم کو اس ملک سے باہر کر دے تمہاری کیا صلاح ہے۔ انہوں نے کہا آپ بھی اپنے ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کیجئے اور ایک روز مقرر کرکے مقابلہ کرا دیجئے اور ان کو بھی ایسا ہی کرشمہ دکھا دیجئے۔ تب فرعون نے ہر ایک شہر میں اشتہار بھیج دیا اور جادگروں کو بلایا وہ سب روز مقررہ پر جمع ہوئے اور حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) بھی مقابلہ میں آئے اور ایک خلق خدا تماشائیوں کی جمع ہوئی۔ جادوگروں نے فرعون سے عرض کیا کہ اگر ہم غالب آجائیں تو آپ ہم کو کیا انعام دیں گے اس نے کہا تم کو اپنا مقرب بنائوں گا۔ تب جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا آپ پہلے کچھ کرشمہ دکھائیے گا یا ہم دکھائیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا پہلے تم ہی کچھ دکھائو۔ جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور جو کچھ اسباب طلسم تھا فرعون کا نام لے کر زمین پر ڈال دیا۔ ہر طرف سے سانپ ہی سانپ دکھائی دینے لگے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھجکے۔ خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ کیا دیکھتا ہے تو بھی اپنے عصا کو ڈال دے وہ ڈالتے ہی اژدہا بن گیا اور ان کے سانپوں کو لقمہ کر گیا۔ تمام تماشائی اور فرعون ڈر کے مارے تربھر ہوگئے اور ایک غل مچ گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لی اور وہ پھر عصا 1 ؎ ہوگیا۔ جادوگروں نے جب دیکھا کہ یہ کام جادو کی طاقت سے بڑھ کر ہے، وہ خدا سے دل میں ڈر گئے اور سجدہ میں زمین پر گر گئے اور کہنے لگے ہم رب العالمین پر کہ جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے ایمان لائے۔ فرعون کو اس معاملہ سے بڑی خجالت ہوئی۔ غصہ میں آ کر جادوگروں سے کہا تم میری اجازت سے پیشتر کیوں ایمان لائے ؟ بیشک یہ (موسیٰ علیہ السلام) جادو میں تمہارا استاد ہے تم نے باہم اتفاق کرکے یہ مکر بنایا ہے تاکہ یہاں کے باشندوں کو باہر
1 ؎ رسیوں اور عصا کا سانپ بن جانا خلاف عقل بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر ہزارہا اسرار قدرت ایسے ہیں کہ جن کے اسباب خفیہ تک عقول عام کو رسائی نہیں۔ اس لیے حیرت خیز معلوم ہوتے ہیں انکار کی کوئی بات نہیں۔ لطف یہ ہے کہ جیسا ساحروں کا فعل تھا ان کے مقابلہ میں اسی قسم کا مگر ان سے بڑھ کر قوت روحانیہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کام کیا اور یہ حق و باطل میں امتیاز کرنے کی غرض سے تھا۔ 12 منہ
نکال دو اب دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ تمہارا ایک طرف کا ہاتھ دوسری طرف کا پائوں کاٹ کر درختوں پر لٹکاتا ہوں تاکہ تم کو معلوم ہو کہ ہم میں سے کون زیادہ اور دائمی عذاب کرسکتا ہے وہ بولے کچھ پروا نہیں۔ آخر ہم کو اس کے پاس جانا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس وجہ سے کہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے گناہ معاف کر دے گا اور ہم تجھ کو اس سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور جس نے ہم کو اپنی نشانیاں دکھائیں عزیز نہیں جانتے ہیں۔ فرعون نے ان ایمان داروں کو بڑی تکلیف سے قتل کیا مگر وہ بڑی ثابت قدمی سے قائم رہے اور یہ دعا کرتے تھے الٰہی ہم کو صبر دے اور ایمان سے ہمارا خاتمہ کیجیو۔ اس کے بعدفرعون نے غصہ میں آ کر اور بھی بنی اسرائیل کو تکلیفیں دینی شروع کیں۔ پہلے تو اینٹوں کے لیے بھس بھی ملتا تھا اب تو یہ بھی موقوف کیا اور کہا جاؤ تم خود کہیں سے بھس تلاش کرکے لاؤ اور اسی قدر اینٹیں بنا کر دو ۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ ! ہم کو تو تیرے آنے سے پیشتر ہی بہت کچھ ایذائیں دی جاتی تھیں اب تو اور بھی مصیبت میں پڑگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا صبر کرو، ملک اللہ کا ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور انجام کار خدا ترس فلاح پاتے ہیں۔ عنقریب تمہارا رب تم کو وہ زمین عطا کرے گا کہ جس میں برکت ہے اور طرح طرح کے میوے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر فرعون سے کہا کہ دیکھ بنی اسرائیل کو جانے دے اور ان کو تکلیف نہ دے ورنہ خدا تعالیٰ مصر کے پانی کو خون کر دے گا تو اور تیری رعیت بڑی تکلیف پاوے گی۔ اس نے نہ مانا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون سے فرمایا کہ دریائے نیل پر اور ہر ایک نہر اور تالاب پر عصا مار انہوں نے مارا تو وہ سب پانی خون ہوگیا اور دریا کی مچھلیاں مرگئیں اور سات روز تک یہی تکلیف رہی مگر اس سنگدل پر اثر نہ ہوا اور اس کے بعد پھر بحکم خدا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو پیغام بھیجا کہ دیکھ اب بھی بنی اسرائیل کو چھوڑ دے خدا پر ایمان لاؤ ورنہ خدا مینڈکوں کی مصیبت تم پر بھیجے گا اس نے اس کو بھی نہ مانا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ دریا اور نہروں اور تالابوں پر اپنا عصا مار۔ انہوں نے مارا تو بیشمار مینڈک چڑھ آئے اور مصر کی زمین چھپا دی۔ کھانے، پانی، بستر پر ہر جگہ مینڈک ہی مینڈک دکھائی دیتے تھے۔ فرعون نے تنگ ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بلا کر منت کی کہ خدا تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اس بلا کو دفع کرے اگر ایسا ہوا تو میں بنی اسرائیل کو جانے دوں گا اور خدا پر ایمان لائوں گا۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی وہ سب مرگئے اور ان کے تودے لگا دیے گئے اور زمین سڑ گئی۔ جب فرعون کو مہلت ملی تو پھر برگشتہ ہوگیا۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے بخکم خدا ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اپنا عصا زمین پر مار۔ انہوں نے مارا تمام جگہ جوئیں ہی جوئیں ہوگئیں۔ سب لوگ عاجز آگئے مگر اس سنگدل نے پھر بھی نہ مانا۔ پھر خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ کل صبح فرعون دریا پر آئے گا تو رستہ میں اس سے مل کر یہ کہہ کہ خدا فرماتا ہے میرے بندوں کو چھوڑ دے ورنہ میں تیرے ملک پر مچھروں کو مسلط کروں گا اور سوائے زمین جشن کے کہ جہاں بنی اسرائیل رہتے ہیں سب تکلیف پائیں گے۔ اس نے نہ مانا اور خدا نے یوں کیا جس سے فرعون اور اس کے گھر والے اور تمام اہل مصر چیخ اٹھے۔ تب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بلا کر کہا کہ اچھا باہر جا کر کیا کرو گے جس لیے تم باہر جانا چاہتے ہو یعنی قربانی سو تم اپنے خدا کے لیے یہیں کرلو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ نہیں ہوسکتا
کس لیے کہ اہل مصر گائے اور بیل کو پوجتے ہیں اگر ہم اسی جگہ ان کی اپنے خدا کے لیے قربانی کریں گے تو وہ ہم پر پتھراؤ کر ڈالیں گے ہم تین دن کی راہ بیابان میں جا کر جس طرح خدا فرماتا ہے قربانی کریں گے۔ تب فرعون نے کہا اچھا یوں ہی سہی مگر بہت دور نہ جانا اور میرے لیے اپنے خدا سے دعا کرو کہ وہ اس بلا کو ٹالے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی وہ سب دفع ہوگئے۔ فرعون مہلت پا کر پھر پھر گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم الٰہی پھر فرعون سے درخواست کی اور کہا اگر نہ مانے گا تو خدا تعالیٰ تمہارے مواشی میں موت بھیجے گا چناچہ اس نے نہ مانا تو خدا نے ایسی مری بھیجی کہ مصریوں کے تمام جانور مرگئے۔ گھوڑا، گدھا، اونٹ، بیل، کچھ نہ بچا، مگر بنی اسرائیل کا ایک جانور بھی نہ مرا، اس پر بھی فرعون نہ مانا پھر خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بھٹی کی تھوڑی سی راکھ لے کر آسمان کی طرف اڑا دو ۔ انہوں نے اڑا دی جس سے ملک مصر میں تمام آدمیوں اور جانوروں کے بدن پر پھوڑے پھنسیاں اس کثرت سے پیدا ہوئیں کہ الامان، مگر پھر بھی فرعون نے نہ مانا۔ پھر خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ فرعون سے جا کر کہہ کہ وہ تجھے رستہ میں ملے گا کہ بنی اسرائیل کا خدا تجھ کو فرماتا ہے تو ایمان لا اور بنی اسرائیل کو چھوڑ دے ورنہ میں سخت وبا بھیجوں گا تو اب تک اپنے تکبر سے باز نہیں آتا۔ دیکھ کل میں بڑے بڑے اولے برسائوں گا کہ آج تک ابتدائے مصر سے کبھی نہیں برسے۔ اے موسیٰ ! تو اپنے لوگوں کو خبر کر دے میدان میں جو کچھ ان کا مال اور جانور ہیں ان کو گھر میں لے آئیں پس وہ لائے اور فرعون کے نوکروں میں سے جو خدا سے ڈرتے تھے وہ بھی لائے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم الٰہی اپنا عصا آسمان کی طرف اٹھایا تو ابر نمودار ہوا اور ہیبت ناک کڑک اور بجلی نمودار ہوئی اور ایسے بڑے بڑے اولے پڑے کہ جس سے چرند پرند، انسان، حیوان، درخت اور کھیتی سب کا ستیاناس ہوگیا مگر جشن میں اولے نہ پڑے تب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بلا کر کہا بیشک میں نے گناہ کیا، خدا عادل ہے تم دعا کرو کہ پھر اس طرح نہ گرجے نہ اولے برسیں تب میں تمہیں جانے دوں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی وہ بلا دفع ہوگئی۔ مگر فرعون سرکش ہوگیا۔ پھر خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون کو کہہ کہ دیکھ اب بھی باز آ اور میرے بندوں کو جانے دے اور میرے آگے عاجزی کر ورنہ میں تمام مملکت مصر میں ٹڈیاں بھیجوں گا کہ جو کچھ اولوں سے باقی رہ گیا ہے اس کو بھی چاٹ جائیں گی۔ جب وہ یہ کہہ کر وہاں سے نکلے تو قال رجل من آل فرعون۔ فرعون کی قوم اور نوکروں میں سے بعض لوگوں نے فرعون کو سمجھایا کہ جانے دیجئے دیکھئے مصر اجڑ گیا بالخصوص ایک دیندار نے کہ جو اپنا ایمان مخفی رکھتا تھا یہ کہا کہ تم ایسے شخص کو (کہ جس کے بہت سے معجزات دیکھ چکے ہو اس گناہ پر) قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ خدا کو اپنا رب کہتا ہے۔ صاحبو ! اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا وبال اس پر پڑے گا ورنہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ بلاتم پر نازل ہوگی اور آج تم کو خدا نے ملک اور زور دے رکھا ہے۔ اگر تم پر کوئی عذاب الٰہی نازل ہوگیا تو مجھ کو کوئی اس کا رفع کرنے والا بھی نہیں دکھائی دیتا۔ فرعون نے کہا کہ جو کچھ میری رائے میں آتا ہے وہی صواب ہے اور میں تم کو بھلائی کا راستہ بتاتا ہوں اس دیندار نے کہا کہ مجھ کو تو اس قوم کی بربادی دکھلائی دے رہی ہے جس طرح کہ عاد وثمود اور قوم نوح وغیرہم تباہ برباد ہوگئے تم بھی برباد ہو گے اور خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا اور مجھ کو ایک شدنی بربادی کا خوف ہے جس دن کہ تم پس پا ہو کر بھاگو گے پھر کوئی خدا کے ہاتھ سے بچانے والا نہیں اور تمہاری سمجھ میں میری نصیحت نہیں آتی کس لیے کہ جن کو خدا برباد کرنا چاہتا
ہے تو پھر ان کو کوئی ہدایت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح فرعون کی بیوی بھی دیندار فرعون کی حرکات سے نالاں تھی آخر اس نے یہ دعا کی کہ الٰہی مجھ کو فرعون اور اس کی تکلیف سے نجات دے اور اپنے پاس بلا کر جنت میں رکھ، چناچہ خدا نے اس کی دعا قبول کی۔ القصہ فرعون نے کہا کہ اچھا مرد چلے جائیں اور جا کر قربانیاں کریں اور سب کچھ یہیں رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یوں نہیں بلکہ سب کچھ لے کر جائیں گے۔ اس پر فرعون خفا ہوا اور دھکے کر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دربار سے نکلوا دیا۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم خدا اپنا عصا اٹھایا تو خدا نے تمام دن اور تمام رات پروا آندھی چلائی۔ اگلے روز صبح ہوتے ہی بیشمار ٹڈیاں آئیں اور تمام روئے زمین کو ڈھانک لیا اور تمام ملک مصر میں کسی درخت پر اور میدان کی گھاس میں سبزی نہ چھوڑی۔ تب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو جلد بلایا اور کہا میں تمہارے خدا کا اور تمہارا گناہ گار ہوں سو میں نیت کرتا ہوں کہ اس مرتبہ میرا گناہ بخشوا دو اور اپنے خدا سے دعا کرو کہ اس بلا سے نجات دے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی اور تمام ملک میں ایک ٹڈی نہ رہی لیکن فرعون پھر سرکش ہوگیا۔ پھر خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف لمبا کر تاکہ ملک مصر میں تاریکی ہو ایسی تاریکی کہ ایک کو دوسرا نظر نہ آئے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا کیا اور تین روز تک روئے زمین پر سخت اندھیرا رہا تب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بلا کر کہا کہ تم اور تمہارے بچے جاویں اور گلے اور گائے بھینسیں سب یہیں رہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ منظور نہیں بلکہ ایک جانور بھی نہ چھوڑا جائے گا۔ اس پر فرعون بہت خفا ہوا اور کہا میرے سامنے سے چلا جا پھر کبھی مجھے منہ نہ دکھانا ورنہ مارا جائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا بہتر اب میں تیرا منہ نہ دیکھوں گا۔
پھر خدا تعالیٰ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الہٰ العالمین آپ نے تو فرعون اور اس کی قوم کو وہ مال اور زینت دنیا میں دے رکھی ہے کہ جس سے وہ اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ الٰہی ان کے مال کو تباہ کر دے اور ان کے دلوں پر سخت صدمہ پہنچا۔ یہ بغیر اس بات کے کہ کوئی عذاب الیم دیکھیں ہرگز ایمان نہ لاویں گے خدا نے فرمایا تمہاری دعا مقبول ہوئی۔ اس نے بہت سے معجزے دیکھے اور ایمان نہ لایا دیکھو میں اب ان پر ایک ایسی بلا نازل کرتا ہوں کہ جس سے کلیجہ تھام کر رہ جائیں اور اس کے بعد خود بخود تمہیں یہاں سے نکالیں مگر تم اس مہینے کی دسویں تاریخ اپنے گھروں کو قبلہ 1 ؎ بنائو اور فی گھر ایک بکرا بےعیب لے کر چودھویں تک رکھ چھوڑ اور شام کو اس کو ذبح کرکے خدا کے نام پر بھون کر کھا جانا۔ یہ تمہاری عبادت اور عید فسح ہے اور اس بکرے کے خون سے دروازوں پر نشان کر دیجئو اور اس سے پیشتر ہر ایک شخص اور ہر ایک عورت اپنے ہمسایہ سے چاندی اور سونے کے برتن اور زیور عاریتاً لیوے اور میں مصریوں کی آنکھوں میں تمہیں عزیز کروں گا۔ وہ تمہیں دیویں گی پس اس رات کو خدا تعالیٰ کا فرشتہ مصر میں گزرے گا جس کا گھر قبلہ نہ ہوگا یعنی عید فسح کا نشان خون نہ ہوگا اس گھر میں ہر ایک انسان اور حیوان کا پہلوٹھا مرے گا۔ چناچہ سب بنی اسرائیل نے ایسا کیا اور آدھی رات کو خدا کا فرشتہ ملک الموت مصر میں آیا جس سے امیر سے لے کر فقیر اور انسان سے لے کر حیوان تک سب کا پہلا بچہ مرگیا اور مصر میں گھر گھر ایک سخت ماتم برپا ہوگیا کہ نہ ایسا کبھی ہوا تھا اور نہ ہوگا۔ تب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو رات ہی کو بلایا اور کہا کہ اٹھو اور میرے لوگوں میں سے نکل جائو اور تمام بنی اسرائیل جائیں اور اپنے گلہ اور مویشی بھی لے جائیں اور اپنے خدا کی قربانیاں کریں اور میرے لیے بھی برکت چاہیں۔ یہ سمجھ کر کہ اگر یہ یہاں سے نہ جاویں گے تو ہم سب مرجاویں گے۔ ان لوگوں کے نکالنے میں بڑی سختی کرتے تھے اس لیے ان لوگوں نے آٹا گندھا ہوا پیشتر اس سے کہ وہ خمیر ہو آٹے کو لگنوں سمیت کپڑوں میں باندھ کر اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا۔
اگلی آیت میں