Ayah 2:83ترکیب : اذ ظرف متعلق ہے اذکر کے اخذنا فعل بافاعل میثاق بمعنی عہد مفعول لا تعبدون الیٰ آخرہ جواب قسم ہے جو اخذنا سے مستفاد ہے۔ اے احلفنا ھم وقلنا لھم باللہ لاتعبدون دوم یہ کہ ان مراد ہو والتقدیر اخذ نا میثاق بنی اسرائیل علی ان لاتعبدوا الا اللّٰہ پس حرف جر حذف ہوا پھر ان حذف ہوگیا پھر مضارع مرفوع ہوگیا۔ جیسا کہ اس مصرعہ میں لا ایہذا الزاجری احضرالوغی۔ اور بعض قرأت میں ان لاتعبدو ابھی آیا ہے۔ پس اس تقدیر پر میثاق سے بدل ہوجاوے گا یابحذف جار اس کا معمول ہوجاوے گا۔ نافع اور ابن عامر اور ابو عمرو اور عاصم اور یعقوب نے لاتعبدون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی لوگوں نے ی کے ساتھ 1 ؎ اور بالوالدین احسانا متعلق ہے مضمر کے ساتھ۔ ای احسنو احساناً و ذی القربی اس کا عطف الذین پر ہے وقولوا ای قلنا لھم قولوا قولا حسنا بضم الحا و سکون السین و بفتحہا جیسا کہ حَزَن اور حزن دونوں درست ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ثانی صورت میں صفت ہے مصدر محذوف کی اور اول میں مضاف محذوف ہے۔ ای ذا حسن وانتم معرضون جملہ حال مؤکدہ ہے۔ فاعل تولیتم سے۔
تفسیر : یہود کو جو خدا تعالیٰ نے بتاکید شدید احکام دیے تھے جن پر عمل کرنے سے ان کو دنیا کی فضیلت دی گئی تھی اور ان پر کیا منحصر ہے جو کوئی ان احکام پر عمل کرے گا فضیلت اور سیادت کا مرتبہ پائے گا۔
ان احکام کی دو قسم ہیں اول وہ جو خود عامل کے لیے مکارم اخلاق اور ذاتی خوبی ہوجاتے ہیں۔ دوم وہ جو تمدن کی اصلاح اور قومیت کے قیام کا باعث۔ قسم اول کی بھی دو قسمیں ہیں۔ خدا کی تعظیم اس کی مخلوق پر رحم کرنا۔ فقال لاتعبدون الخ اول تو تعظیمِ الٰہی کا ذکر فرمایا یہ اس لیے کہ تمام حسنات کی بنیاد توحید ہے اور یہ توحید دراصل منعم حقیقی کا شکر بھی ہے اس لیے اس کے ساتھ شکر منعم مجازی بھی تاکیداً ذکر فرمایا۔
1 ؎ بعض علماء لا تعبدون کو خبر بمعنی انشاء کہتے ہیں اور خبر کے پیرایہ میں حکم مؤکد ہوتا ہے۔ 12 منہ
وبالوالدین احسانا کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا گویا توحید کے بعد ماں باپ کی تعظیم و حرمت دوسرے درجہ کا حکم ہے اور صرف ماں باپ ہی نہیں بلکہ ان کے سبب سے جو رشتہ قرابت پیدا ہوا ہے ان اہل قرابت کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنا خواہ وہ ماں کے اہل قرابت ہوں یا باپ کے، چچا، پھوپھی، دادا، دادی، چچا اور پھپھیوں کی اولاد، خالہ، ماموں اور ان کی اولاد یہ قرابت نسبی ہے۔ اکثر علماء فرماتے ہیں کہ قرابت سببی اور رضاعت اور قرابت صحبت و محبت بھی بموجبِ آیۃ ملحوظ رکھی جائے۔ اب جس طرح ماں باپ کی تعظیم کا جزء اہل قرا بت کی تعظیم تھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا جزء اس کی مخلوق پر رحم کھانا ہے گویا یہ اس کے عیال ہیں بالخصوص ان میں سے دو گروہ والیتمٰی والمساکین سے سلوک کرنا عام ہے کہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں۔ اگر قرابت دار ہیں تو اور زیادہ قابل ترحم ہیں اور زیادہ ثواب ہوگا۔ یتیم اس نابالغ کو کہتے ہیں جس کا باپ مرجائے۔ مسکین وہ مفلس ہے جو صاحب زکوٰۃ نہ ہو۔ عام ہے کہ تندرست ہو یا بیمار اور عموماً بنی نوع کے لیے عمدہ بات کہنا وقولوا للناس حسنا عمدہ بات اچھی صلاح دینا، کوئی دنیاوی اخروی تعلیم دینا، فحش اور بدکاموں سے بہ نرمی و اخلاق منع کرنا اور کم سے کم میٹھی بات اخلاق سے بولنا، ترش روئی اور کج ادائی سے پیش نہ آنا۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کی عبادت وطاعت کا حکم ذکر فرمایا۔ اقیموا الصلوۃ کہ اس کے لیے نماز پڑھنا، دعا کرنا، سجدہ کرنا، مصائب میں اسی سے التجا کرنا یہ بھی نماز کا جزء ہے اور دل میں اسی کا تصور کرنا یہ بھی نماز ہے مگر ہیئتِ مخصوصہ جو نماز جملہ شرائط کے ساتھ ہو ان سب کو شامل ہے۔ اس لیے وہ فرض ہے مسلمانوں پر رات دن میں پانچ وقت یہود پر جو نماز جس ہیئت سے فرض تھی اس کی تشریح ان کی کتابوں میں ہے اب فرائض و نوافل سب اس میں آگئے۔ یہ بدنی اور روحانی عبادت تھی۔ اس کے بعد واتوا الزکوٰۃ مالی عبادت کا حکم صادر فرمایا۔ مال کی جڑ بنی آدم کے دل پر ہوتی ہے جب تک اس منعم حقیقی کی راہ میں اس کو صرف نہ کرے گا نماز بھی ایک رسمی بات سمجھی جائے گی اور اگر زکوٰۃ دے گا تو یتامٰی اور مساکین کا بھی حق ادا ہوتا رہے گا ورنہ ماں باپ اوراقارب کے ساتھ سلوک تو شائستہ انسانوں کا فطری شیوہ ہے۔ اسلام میں زکوٰۃ فرض ہے مال کی سال بھر کے بعد چالیسواں حصہ اس کے مستحقوں کو دینا چاہیے اور جو زیادہ دے ثواب ہے۔ یہود میں بھی یہی زکوٰۃ فرض تھی اس کی مقدار اور دیگر احکام ان کی کتابوں میں ہیں وہ یہ احکام ہیں جن کی خوبی میں کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا اور اس لیے یہی احکام اسلام میں بھی ہیں کیونکہ توریت کے جس قدر احکام قرآن میں نقل کئے گئے ہیں اگر منسوخ ہونا ثابت نہ ہو تو ان کا حکم باقی ہے۔ مگر بجز چند لوگوں کے یہود نے ان سے منہ موڑ لیا۔ اس پر یہ دعویٰ کہ ہم خدا کے محب ہیں۔ قسم دوم کے احکام اگلی آیت میں بیان فرماتا ہے :
Ayahs 2:84–86ترکیب : وعطف کے لیے کہ جو ایک جملہ کا دوسرے جملہ پر چلا آتا ہے۔ اخذنا فعل بافاعل میثاقکم مفعول لا تفسکون الخ بدل ہے میثاق سے انتم مبتداء ھؤلاء علیٰ حذف مضاف خبر ای مثل ھؤلائِ اور تقتلون اور تخرجون حال ہیں اور عامل ان میں معنی تشبیہ۔ تظاھرون الخ جملہ موضع نسب میں ہے۔ اس لیے کہ یہ حال ہے فاعل تخرجون سے۔ تظاھرون اصل میں تتظاہرون تھا ایک ت حذف ہوگئی اور بعضت ثانی کو ط سے بدل کر ظ کو ظ میں ادغام کرکے مشدد پڑھتے ہیں۔ عدوان مصدر ہے بروزن کفران بمعنی ظلم۔ اسارٰی جمع اسیر ہے۔ فاعل یا تو سے اور بعض نے اس کو اسریٰ بھی پڑھا ہے۔ تفادوھم جواب شرط ہے وھو ضمیر شان مبتدا محرم خبر اخراجہم مرفوع بسبب محرم کے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اخراجہم مبتدا اور محرم خبر مقدم اور جملہ خبر ہو اور ھو اخراج کی طرف بھی رجوع ہوسکتا ہے اور یہ جملہ معترضہ ہے ما نا فیہ جزا الخ اسم خزی خبر فی الحیوۃ الدنیا صفت و موصوف کا مجموعہ خزی کی صفت ہے اور ممکن ہے کہ ظرف ہو۔
تفسیر : یہ قسم دوم کے احکام ہیں۔ ان کو بھی بتاکید شدید یہود پر فرض کیا تھا جس کو بلفظ اخذ نا میثاقکم اور پہلے لفظ بنی اسرائیل ذکر فرمایا تھا۔ اس عنوان کے بدلنے میں نکتہ یہ ہے کہ اول آیت میں اگلے بنی اسرائیل کا ذکر کیا تھا اور اس میں موجودہ یہود کی طرف خطاب ہے۔ اگرچہ یہ دونوں قسم کے احکام فرض تو اگلے ہی بنی اسرائیل کے عہد میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت ہوئے تھے جیسا کہ توریت میں ذکر ہے۔ گزشتہ آیت میں قسم اول کے پانچ حکم تھے خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ سے ‘ اہل قرابت سے ‘ یتیموں سے ‘ مسکینوں سے سلوک کرنا، لوگوں سے عمدہ بات کہنا، نماز قائم رکھنا، زکوٰۃ دینا اسی طرح ان آیات میں قسم دوم کے دو حکم ذکر فرمائے۔ آپس میں خونریزی نہ کرنا ‘ اپنی قوم کو ناحق باہر نہ نکال دینا یعنی جلاوطن، ظلم و زیادتی سے نہ کرنا۔ کس لیے کہ تمدن خراب ہوجائے گا۔ قومیت کا قوام باطل ہوجائے گا۔ قوت اجتماعیہ زائل ہوجانے سے مخالفوں کو تم پر حملہ کرنے کی جرأت ہوگی۔ وہ تمہارے ملک کے بادشاہ ہوجاویں گے ‘ تم کو محکوم اور غلام بنا لیں گے ‘ تمہارا ناموس ‘ تمہارا مذہب بھی تمہارے ہاتھ میں نہ رہے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا یہ حکم مسلمانوں پر بھی بقاعدہ مذکورہ فرض ہیں۔ ان پر بھی آپس کی لڑائی ‘ مار دھاڑ ‘ جلاوطن کردینے سے جو جو مصائب نازل ہوئے اور اب تک ہیں کسی تاریخ داں پر مخفی نہیں۔ ان دونوں حکموں کو بنی اسرائیل نے خیمہ شہادت کے پاس حاضر ہو کر قبول کیا تھا۔ اب اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود اور ان کے بزرگوں سے خطاب کرکے الزام دیا جاتا ہے۔ بقولہ ثم انتم ھٰؤلاء کہ پھر تم وہ ہو کہ باوجود اس اقرار کے آپس میں خونریزی بھی کرتے ہو اور ایک گروہ دوسرے کو جلاوطن بھی کرتا ہے اور عجب تر یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے اگر کوئی دوسری قوم کے ہاتھ میں اسیر ہوجاتے ہیں تو اسرائیلی کا آزاد کرانا کارثواب جان کر مال دے کر انہیں اسیری سے رہا کراتے ہیں۔ حالانکہ جلاوطن کرنا ہی حرام تھا۔ جس کے سبب وہ اسیر ہوئے۔ فرماتا ہے کیا توریت کے ایک جز پر تو ایمان رکھتے ہو کہ اسیروں کو رہا کراتے اور ایک جز جلا وطن نہ کرنے اور ناحق چڑھائی نہ کرنے کے حکم سے انکار ہے۔ یہ خوب ایمان ہے ؟ پھر ایسی نفس پرست قوم کی یہی سزا ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں اشد عذاب ہو۔ تاریخ بنی اسرائیل میں معلوم ہوا ہوگا کہ بنی اسرائیل کے بارہ فرقوں میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد کیسا اختلاف ہوا اور باہم کیا کیا خونریزیاں ہوئیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی حکومت برباد ہوگئی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں ذلیل رعایا بن کر رہتے ہیں۔ مدینے کے قریب جو یہود کے دو گروہ بنی نضیروبنی قریظہ رہتے تھے وہ بھی آپس میں اپنے اپنے حلیفوں انصار مدینہ کے دو قبیلوں بنی اوس اور بنی خزرج کے ساتھ ہو کر لڑتے تھے ان انصاری قبیلوں میں سو برس سے شعلہ جنگ مشتعل تھا باہم لڑا کرتے تھے۔ یہ شعلہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں آ کر بجھا دیا اور سب کو برادر دینی بنا دیا۔ مدینہ کے یہود آخر اپنی نالائق حرکات سے مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے، جلاوطن کئے گئے۔ اس سے زیادہ اور کیا دنیا کی رسوائی ہوگی۔ اس آیت میں یہ پیشین گوئی ہے جو بہت جلدصادق ہوئی۔ آخر کار عذاب اور ابدی جہنم تو ان کے لیے باقی ہے۔ یہ دونوں حکم گویا احکام خمسہ کا تتمہ ہیں، کس لیے کہ اہل قرابت پر چڑھائی کرنا ‘ قتل کرنا، جلاوطن کردینا اس سلوک اور احسان کے منافی ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے آخرت کی کچھ پروا نہ کی۔ اس جہان کے عیش و آرام کے بدلہ میں دنیائے فانی کو حاصل کرنا مقدم سمجھا۔ سو یہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی نہ کوئی ان کی مد دکر سکے گا۔
Ayah 2:87ترکیب : آتینا فعل بافاعل موسیٰ مفعول اول۔ الکتاب مفعول ثانی۔ قفینا میں ی واو سے بدل گئی بولتے ہیں قفا یقفو اذا تبعہ چونکہ واو چوتھے مرتبہ میں واقع ہوا ی سے بدل گیا بالرسل بذریعہ ب مفعول قفینا کلما حرف شرط استکبرتم جواب شرط فریقا مفعول مقدم کذبتم۔ اسی طرح تقتلون کا فریقاً مفعول مقدم ہے۔
تفسیر : اب جو کچھ بنی اسرائیل نے رسولوں کے ساتھ سلوک کیا تھا اور کر رہے ہیں اس کا ذکر ان آیات میں اور اگلی آیات میں بیان فرماتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ نہ صرف قوت عملیہ ہی خراب ہوگئی تھی بلکہ قوت نظریہ بھی جاتی رہی تھی اور انسان کی نجات انہی دو قوتوں کی اصلاح پر موقوف ہے۔ پھر ان خرابیوں پر یہ دعویٰ کہ ہم خدا کے دوست اور اس کے بیٹے ہیں چند روز جہنم کے بعد ہماری نجات یقینی ہے اور جب اپنے خاندان کے اس قدر انبیاء کے ساتھ ان کا یہ برتائو رہا ہے تو نبی عربی (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ ان کی بدسلوکی ہو متوقع ہے فقال ولقد آتینا موسیٰ الکتب کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اس میں اہل اسلام اور اہل کتاب کا اتفاق ہے کہ اس کتاب سے مراد توریت ہے گو اہل کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اور کتابیں بھی منسوب کرتے ہیں جیسا کہ توریت موجودہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس فرمانے سے یہ مطلب کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مرنے سے دین موسوی نہیں مرگیا تھا تاکہ بنی اسرائیل کو اپنی بدعہدیوں اور بداعتقادیوں کی نسبت کوئی عذر ہو سکے بلکہ موسیٰ کی کتاب موجودتھی اور اس کتاب کی ترویج اور تعلیم کے لیے قفینا من بعدہ بالرسل ان کے بعد پے در پے رسول بھی بھیجے اور ان سب کے بعد و آیتنا عیسیٰ ابن مریم البینت و ایدناہ بروح القدس عیسیٰ بن مریم کو معجزات دے کر بھیجا اور روح القدس کے ساتھ ان کی تائید کی۔ اس لیے وہ مردوں کو زندہ، بیماروں کو تندرست، اندھوں کو آنکھ والا کرکے دکھا دیتے تھے جس سے تمام بنی اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ حاصل یہ کہ وہ ہدایت کا مدرسہ موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر عہد عیسیٰ (علیہ السلام) تک قائم رہا بڑے بڑے معلمین آئے مگر بنی اسرائیل کی ازلی بدبختیوں نے یہ کیا افکلما جاء کم رسول بمالاتہوی انفسکم استکبرتم کہ جب کوئی رسول ان کی خواہش کے برخلاف کوئی حکم لایا تو اس سے اکڑ گئے، منہ پھیر گئے پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ فریقا کذبتم و فریقا تقتلون بہت کو تو صاف صاف جھٹلا دیا اور بڑی بےعزتی سے پیش آئے اور بہت کو قتل کر ڈالا پھر ایسے بیمار جو خلاف مرضی نسخہ نہ پیویں طبیبوں کو جھٹلائیں اور مار ڈالیں شفا پاسکتے ہیں ؟ پھر اس روحانی مرض کی سزا موت ابدی یعنی دائمی جہنم نہیں تو اور کیا۔
فائدہ 1 : موسیٰ کو توریت دی اس سے ثابت ہوا کہ اب جو کتاب اہل کتاب میں نام نہاد توریت موجود ہے جس کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی اور شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تاریخ میں لکھی ہے اصل توریت نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل جو انبیاء کو قتل کیا کرتے تھے انہوں نے توریت کو بھی قتل کردیا اور اس کو کھو بیٹھے۔
فائدہ 2: روح القدس سے مراد بعض علماء کے نزدیک جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جبرئیل کے سوا ایک اور فرشتہ ہے جس کو روح الاعظم کہتے ہیں۔ عیسائی روح القدس کو بھی خدا اور مجموعہ خدائی کا ایک جز یا رکن کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا ایک اقنوم اس کو باپ سے بھی تعبیر کرتے ہیں، بیٹا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) جس کو یسوع کہتے ہیں دوسرا اقنوم روح القدس تیسرا اقنوم تینوں خدا پھر تینوں مل کر ایک خدا نہ تین اس کو وہ تثلیث فی التوحید کہتے ہیں اور اس اعتقاد باطل پر نجات کا مداوا ٹھہراتے ہیں۔ یہ غلط خیال عیسائیوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کئی سو برس بعد پیدا ہوا ہے اس کا قرآن اور عقل سلیم نے ابطال کردیا۔ قدیم اور جدید فلسفہ بھی اس کو ایک جاہلانہ خیال بتلاتا ہے اور دراصل ہے بھی یہی۔
Ayahs 2:88–89ترکیب : قالوا فعل ھم ضمیر فاعل قلوبنا مبتداء غلف بضم لام جمع غلاف اور لام کا سکون بھی ہوسکتا ہے کیونکہ مضموم کو ساکن بعض مواقع میں عرب کردیتے ہیں (جیسا کہ کُتَبْ اور کُتُبْ ) خبر جملہ مقولہ ہے۔ بل اضراب کے لیے۔ بکفرھم کی ب لعن سے متعلق ہے فقلیلاً منسوب ہے، اس لیے کہ صفت ہے مصدر محذوف کی اور ما زائدہ ہے۔ ایایمانا قلیلا یؤمنون لما حرف شرط جاء فعل ھم مفعول کتب موصوف من عند اللہ مصدق صفت دوم اور بعض نے مصدقاً بھی پڑھا ہے۔ اس تقدیر پر یہ حال ہے پس یہ مجموعہ فاعل جواب شرط انکروہ محذوف ہے وکانوا فعل ضمیر فاعل من قبل متعلق ہے فعل سے۔ یستفتحون الخ جملہ خبر کانوا یہ سب جملہ حال ہے ضمیر ھم سے یا جملہ معترضہ ہے فلما جاء الخ شرط کفروا جواب شرط ہے۔
تفسیر : اس سے پہلے تک تو بنی اسرائیل کا وہ معاملہ جو اسرائیلی انبیاء اور ان پر منزل کتابوں کے ساتھ تھا بیان ہوا، اب یہاں سے جو کچھ ان بدبختوں کا معاملہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) اور قرآن کے ساتھ تھا اس کو بیان فرمایا جاتا ہے۔ وقالوا قلوبنا غلف آنحضرت ﷺ کے عہد کے یہود قرآن مجید اور نبوت نبی (علیہ السلام) قبول نہ کرنے کا یہ سبب بیان کرتے تھے کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں یعنی وہ جو کچھ ہم کو اپنے بزرگوں سے پہنچا ہے اسی پر ہم مستحکم ہیں۔ نئی بات قبول نہیں کرسکتے۔ یہ ایک محاورہ ہے نئی بات قبول نہ کرنے کی بابت یعنی ہم جس بات پر ہیں بڑے پکے ہیں۔ اپنی خوبی بیان کرتے ہیں حالانکہ حق کی روشنی قبول نہ کرنا کوئی خوبی اور استحکام نہیں۔ بلکہ دلوں میں زنگ اور آلودگی اس قدر ہے کہ ان پر انوار ہدایت کا اثر نمایاں نہیں ہوتا جس طرح زنگ آلود آئینہ پرنور آفتاب نہیں نمایاں ہوتا۔ اسی بات کو بطور استعارہ کے خدا تعالیٰ اس جملہ میں بیان فرماتا ہے۔ بل لعنہم اللہ بکفرھم فقلیلاً ما یؤمنون کہ ان کے کفر اور ضلالت کے سبب جو ان کے انبیاء اور کتابوں سے سرکشی و انکار سے پیدا ہوئی ہے خدا نے ان پر لعنت کردی ہے اس قدیم لعنت کا زنگ چڑھا ہوا ہے۔ اس لیے بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں جس طرح زنگ آلود آئینہ میں بہت کم نور تاباں ہوتا ہے ہاں کبھی کچھ دھندلی سی روشنی کا عکس دکھائی دے جاتا ہے اور جو کچھ انکار اور سرکشی ہے تو عمداً ہے اور جان بوجھ کر ہے کس لیے کہ قرآن اور نبی آخر الزمان کے ظاہر ہونے سے پہلے ان بشارات کی وجہ سے جو ایک آنے والے اولوالعزم نبی اور ایک نئے قانون آسمانی کی بابت تھیں ان کو اشد انتظار تھا اپنے مقاصد دینی و دنیاوی اسی پر منحصر سمجھے بیٹھے تھے۔ کس لیے کہ بموجب بشارت تورات سفر استثناء باب 18 و دیگر کتب انبیاء مثل سموئیل و حزقیل و دانیال کے ان کو ایک نبی آخر الزمان کا انتظار تھا جس پر مخالفوں کے مقابلہ میں اپنی ترقی اور فتح مندی کو منحصر جانتے تھے اور مدینہ کے یہود بنی اسد اور بنی غطفان وغیرہ قبائلِ عرب سے جب شکست کھا کر عاجز ہوتے تو اپنے علماء کی تعلیم سے یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اللہم ربنا انا نسئلک بحق احمدن النبی الامی الذی و عدتنا ان تخرجہ لنا فی آخر الزمان و کتابک الذی تنزل علیہ آخر ما ینزل ان تنصرنا علیٰ اعدائنا کہ الٰہی ہم کو ببرکت نبی آخر الزماں احمد ﷺ کے اور ببرکت قرآن مجید کے ہمارے دشمنوں پر فتح یاب کر (رواہ الحاکم والبیہقی) امام احمد اور طبرانی نے سلمہ بن قیس سے روایت کی ہے کہ ہمارے محلہ بنی عبدالاشہل میں ایک یہودی رہتا تھا اس نے ہم سے عالم آخرت کے عذاب اور ثواب کا ذکر کیا تو ہم نے اس سے دلیل پوچھی۔ اس نے کہا عنقریب مکہ کی طرف سے ایک نبی مبعوث ہوگا وہ اس بات کو ثابت کر دے گا۔ ہم نے پوچھا وہ کب ظاہر ہوگا ؟ اس نے میری طرف نظر کرکے کہا اگر یہ لڑکا عمر طبعی تک جیتا رہے گا تو دیکھ لے گا۔ سلمہ کہتے ہیں چند روز بعد آنحضرت ﷺ کی خبر مشہور ہوئی پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے اس یہودی سے کہا اب تو ان پر کیوں ایمان نہیں لاتا ؟ اس نے خجل ہو کر کہا یہ وہ شخص نہیں فلما جائھم کتاب من عند اللہ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کتاب آئی یعنی قرآن مجید اور کتاب بھی وہ کہ جو مصدقا لما معہم ان کے اصول مذہب کی تصدیق کرتی ہوئی تھی کیونکہ جو کچھ قرآن مجید نے بنی اسرائیل کے واقعات ‘ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا ماجرا ‘ بعد کے واقعات اور اسی طرح احکام اخلاقی و روحانی اور دیگر عقائد کے بابت ذات وصفات اور دوزخ و جنت و انبیاء و ملائکہ بیان کئے اب وہی تو ہیں کہ جن کو مانتے اور ان کے معتقد تھے۔ بجز حذف زوائد و اتمام بعض نقصانات ہو بہو وہی ہیں اور ان کے آنے کے بعد یہود نے جان بھی لیا کہ یہ وہی کتاب اور وہی نبی تھے کہ جس کے ہم منتظر تھے مگر بجائے ایمان لانے کے کیا کیا کفروا بہ منکر ہوگئے۔ فلعنۃ اللہ علی الکافرین ان منکروں پر خدا کی لعنت ہے۔
Ayahs 2:90–92ترکیب : بئس فعل ذم نکرہ موصوفہ اشترو ابہ انفسہم جملہ اس کی صفت یہ سب اسم بئس ان یکفرو الخ بتاویل مصدر خبر مبتدا محذوف جملہ مخصوص بالذم (یہاں اور بھی احتمالات ہیں) بغیًا مفعول لہ ہے یکفرو اکان ینزل الخ ای لان ینزل الخ یہ جملہ بغیًا کا مفعول لہ ہے یعنی ان کی ضد اس لیے ہے کہ خدا اپنے فضل سے جس پر چاہتا ہے کیوں نازل کرتا ہے بنی اسرائیل کا مقید کیوں نہیں رہتا۔ اذاقیل الخ شرط قالوا الخ جواب شرط و یکفرون الخ جملہ حال ہے اس ضمیر سے جو قالوا میں ہے ورائہ ضمیر ما کی طرف رجوع ہے وراء کی ہمزہ ی سے بدل گئی ہے لانہ یقال تورات اور ابن جنی کے نزدیک ہمزہ اصلی ہے وراء اصل میں مصدر ہے ظرف بنایا گیا مصدقا حال مؤکدہ ہے اور عامل اس میں معنی حق ہیں اور اس میں ضمیر مسترد ذوالحال ہے۔ ان کنتم الخ شرط جواب محذوف دلالت کرتا ہے اس پر جملہ ماقبل وانتم ظالمون حال ہے اور فاعل اتخذ تم سے یا الگ جملہ۔
تفسیر : یہ پہلی آیت کا تتمہ ہے یعنی یہود نے جو قرآن مجید کا انکار کیا ہے تو اس ضد سے کہ خدا تعالیٰ کیوں جس پر چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے وحی نازل کردیتا ہے کس واسطے ہمارے ہی خاندان میں سے نبی آخر الزماں مبعوث نہ کیا۔ ان کے اس انکار اور ضد کو تجارت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ کس لیے کہ انسان جو دنیا میں آیا ہے گویا ایک تاجر ہے جس کا راس المال اس کی عمر ہے اور جو کچھ نیک و بد وہ کر رہا ہے یہ وہ مال ہے کہ جن کو عمر گرانمایہ دے کرلے رہا ہے۔ یہود نے جو اپنی جانیں یعنی حیات دنیا کے مال سے جو کچھ خریدا یا کھویا حیات ابدی برباد کرکے جو کچھ کمایا وہ یہی کہ خدا کی منزل چیزوں کا انکار کیا۔ سو یہ بہت برا سودا ہے اور ما انزل اللہ کا انکار اس ضد اور عناد سے کیا کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے کیوں وحی نازل کردیتا ہے۔ کیوں بنی اسماعیل یعنی محمد ﷺ پر قرآن نازل کردیا ؟ ہم کو خدا کے نازل کئے ہوئے سے انکار نہیں بلکہ اس تعمیم سے حالانکہ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کس لیے کہ جب خدا کسی کی معرفت کوئی چیز نازل کرے تو باوجود حق ہونے کے اس کے انکار کی کیا وجہ بالخصوص جب وہ منزل ان کے پاس جو کچھ ہے اس کی تصدیق کر رہا ہو۔ ان کا یہ دعویٰ بھی کہ جو کچھ ہم پر یعنی ہمارے نبیوں پر نازل ہوا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں غلط ہے کس لیے کہ انبیائِ بنی اسرائیل کا قتل کرنا ان کے دعوائے ایمانی کے منافی ہے اور خود موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت میں غیر اللہ کی پرستش کی ممانعت تھی مگر اس پر بھی بچھڑا بنا کر پوجا۔
Ayahs 2:93–96ترکیب : قالوا فعل بافاعل سمعنا وعصینا مفعول واشربوا فی قلوبہم العجل ای حب العجل بکفرھم ای بسبب کفرھم یہ جملہ بہ تقدیر قدحال ہے ضمیر قالوا سے۔ قل بئسما یامرکم الخ جواب ہے ان کے قول سمعنا وعصینا کا۔ قل فعل بافاعل ان کانت الخ جملہ شرطیہ مقولہ الدار موصوف الآخرۃ صفت مجموعہ اسم کان لکم متعلق ہے کانت سے خالصۃ خبر کان عنداللہ ظرف خالصۃ ہے من دون الناس بسبب خالصۃ کے موضع نصب میں ہے کہتے ہیں خلص کذامن کذایہ سب جملہ شرط اور فتمنوا الموت شرط اول اور ان کنتم صادقین 1 ؎ شرط ثانی (دونوں کا جواب ہے) (جلالین) ابدًا ظرف ہے بماقدمت کا و من الذین اشرکوا 2 ؎ میں دو وجہ ہیں ایک یہ کہ یہ بمعنی الناس پر معطوف ہے ای احرص من الناس الذین فی زمانہم و احرص من الذین اشرکوا یعنی بہ المحبوس دوم یہ کہ جملہ مستانفہ مانا جاوے ای من الذین اشرکو اقوم یوداحد ھم لویعمر میں لو بمعنی ان ہے ماھو بمزحزحہ ما نافیہ ھو ضمیر راجع احد کی طرف اور بمزحزحہ خبرما ای و ذلک المتمنی بمز حزحہ من العذاب متعلق ہے مزحزحہ سے ان یعمر موضع رفع میں ہے بسبب مزحزحہ کے ای و ما الرجل بمزحزحہ تعمیرہ سنۃٍ کی اصل سنو ہے بدلیل سنوات جس کے معنی سال اور برس کے ہیں۔ الزحزحہ دور کرنا۔
تفسیر : اب یہاں یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ تمہارا دعویٰ نؤمن بما انزل علینا بھی صریح غلط ہے اول تو تم نے خود موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بنیات کا انکار کیا اور انبیاء کو قتل کیا۔ دوم جس کتاب کو تم اپنا ایمان سمجھتے ہو اس کو بھی تو تم نے نہ مانا حالانکہ جب وہ تم کو دی گئی تھی تو اس وقت کوہ طور کو تم پر بلند کیا تھا اور تم نے یہ جان لیا تھا کہ اگر اب اس کو نہیں لیتے ہیں تو ہم پر پہاڑ آپڑتا ہے۔ اس وقت بھی تمہارا یہ حال تھا کہ زبان سے تو تم نے سمعنا کہا یعنی مان لیا اور دل میں عصینا یعنی نہیں مانا۔ اس کا باعث یہ تھا کہ باوجود معجزات و کراماتِ بیشمار دیکھنے کے تم نے بچھڑا بنا کے پوجا وہ خباثت تمہارے دلوں میں اس طرح رچ گئی تھی کہ جس طرح زمین پانی کو پی لیتی ہے۔ پھر حسب استعداد نبات اگاتی ہے۔ اسی طرح تمہارے دل کی زمین میں خدا کی نافرمانی اور انبیاء کا قتل کرنا اور دل میں عصیناکہنا اور خدا کی منزل کتابوں کا انکار کرنا اور نبی آخر الزمان اور قرآن کو حق جان کر معاندانہ انکار کرنا اور خدا کی عبادت و صلہ رحمی کو توڑنا وغیرہ وغیرہ خبیثت اور ناپاک خاردار اور پر زہر جڑی بوٹیاں اگتی ہیں جن کا کڑوا پھل تم کو دنیا اور آخرت میں اٹھانا پڑے گا اور اگر تمہارے ایمان کا یہی فتویٰ ہے کہ تم ایسی باتیں کرو تو اے نبی ان سے کہہ دو کہ یہ بہت برا فتویٰ ہے۔
منجملہ اور امانی باطلہ کے یہود کو ایک یہ بھی سودا بےخام تھا کہ جنت خاص ہمارے لیے ہے۔ بہرحال ہم اس میں جائیں گے اس کے رد میں فرماتا ہے کہ اگر دار آخرت تمہارے لیے ہے تو موت کی آرزو کرو کہ اس کے وسیلہ سے دار آخرت میں اپنے درجات حاصل کرو کس لیے کہ جن کو وہاں کے ثواب اور نعماء کا یقین کامل یا روحانی مشاہدہ ہوجاتا ہے تو وہ اس عالم کا از بس مشتاق ہو کر موت کی آرزو کیا کرتا ہے مگر یہود اپنے اعمالِ بد کی سزا سے ڈر کر موت سے بھاگتے ہیں اور ہزار برس کی عمر چاہتے ہیں کہ اعمالِ بد کا نتیجہ پیش نہ آئے اور وہ ضرور آنا ہے معلوم ہوا کہ ان کا دعویٰ غلط ہے۔
1 ؎ حیات دنیا ہرچند انسان کو طبعاً مرغوب ہے موت کے نام سے کوسوں دور بھاگتا ہے مگر ایک وقت یہی موت مرغوب ہوجاتی ہے۔ کبھی دنیاوی مصائب سے عام ہے کہ امراض شدیدہ ہوں یا اقارب کی موت ہو یا افلاس ہو یا عزت و آبرو جانے کا غم ہو اس لیے اکثر نادان خودکشی کرلیا کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مر کر اس مصیبت سے چھوٹ جائیں گے مگر یہ معلوم نہیں کہ روح نہیں مرتی۔ ہاں اس پر اس سے بھی زیادہ مصائب ہیں اور پھر وہاں موت بھی نہیں اور کبھی اعضائے جسمانی کبرسنی کی وجہ سے بیکار ہوجانے سے موت کی آرزو کیا کرتے ہیں یہ بھی نادانی ہے۔ اس لیے ہادی برحق معلم روحانی حضرت نبی آخر الزماں ﷺ نے ان سب صورتوں میں موت کی آرزو اور دعا مانگنے سے منع فرمایا ہے چہ جائیکہ خودکشی لایتمنین احد کم الموت لضرر نزل بہ اور کبھی موت کی آرزو آخرت کے نعیم اور عالم روحانی کے شوق میں کیا کرتے ہیں چاہتے ہیں کہ یہ بند قفس ٹوٹ جاوے اور یہ طائرِ قدس اس عالم روحانی کے باغ بےخزاں میں چلا جائے۔ اس کو وہاں کے طائر ان خوش الحان کی صدائیں بھی کبھی سنائی دیتی ہیں اور وہاں کے نعیم اس کو دکھائی جاتے ہیں۔ یہ آرزو ابرار و صلحاء کی آرزو ہے چونکہ یہود ابرار نہ تھے اس لیے وہ اس کی آرزو نہ کرتے تھے۔
2 ؎ و من الذین اشرکوا کے دو معنی ہیں۔ اول یہ جو تفسیر میں بیان ہیں۔ دوم یہ کہ اے نبی ان کو سب سے زیادہ حیات دنیا کا حریص پائو گے حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی زیادہ۔
فائدہ : بما قدمت ایدیہم کے لفظی معنی یہ ہیں۔ بسبب اس چیز کے کہ جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے مگر مراد یہ ہے کہ جو کچھ اعمال انہوں نے کئے اس کے سبب سے زبان عرب میں انسان کے افعال کو اس کے ہاتھوں کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ کس لیے کہ غالباً اعمال و افعال کا ذریعہ انسان کے ہاتھ ہیں اور اسی طرح انسان کو اس کے جزو اعظم سے بھی تعبیر کیا کرتے ہیں۔ رقبہ یعنی گردن بول کر انسان مرادر کھتے ہیں۔
یہاں اس بات سے یہ بھی بتلا دیا کہ انسان پر آخرت میں جو کچھ مصیبتیں نازل ہوں گی طوق و زنجیر اور گرز آتشین ‘ آگ میں جلنا یہ سب اس کے اعمالِ بد ہیں جو اپنی مناسب صورتوں میں ظہور کریں گے اور متشکل ہو کر ایذا پہنچائیں گے جس طرح کہ عالم خواب انسان کے خیالات اور دیگر معانی اپنی مناسب صورتوں میں متشکل ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور یہ کچھ تعجب نہیں اس عالم حسی میں کس درجہ کے انقلابات و استحالات ہوتے ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔
Ayahs 2:97–99ترکیب : قل من کان من شرطیہ اور جواب اس کا فہو عدواللہ وغیرہ محذوف باذن اللہ موضع حال میں ہے ضمیر فاعل نزل سے جو جبرئیل کی طرف پھرتی ہے والتقدیر نزلہ و معہ الاذن اوما ذونالہ مصدقا حال ہے نزلہ کے ہاء سے اور اسی طرح ہدی و بشری۔
تفسیر : منجملہ یہود کے قبائح کے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کہتے تھے قرآن بہت ٹھیک ‘ اس میں جو کچھ ہے وہ بھی صحیح، مگر جو اس کو لے کر آتا ہے یعنی جبرئیل ہم کو اس سے عداوت ہے۔ عداوت کی وجہ غالباً یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہود کو بےحد عداوت تھی اور وہ روح القدس سے مؤید تھے۔ حق سبحانہ ان کے ایمان کی بےوقعتی بیان فرماتا ہے کہ انبیاء کو قتل کیا کتب منزلہ جو عہد مؤثق کے ساتھ دی گئی تھیں ان کو پس پشت ڈال دیا ان کے احکام کو چھوڑ دیا ان میں اپنی طرف سے ملا کر لوگوں کو دنیا کمانے کے لیے دھوکے دیے۔ اب رہے ملائکہ مقدسین جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ان سے دشمنی۔ اب یہ کیا ایمان ہے اس پر دار آخرت کا استحقاق ہے بعض مفسرین نے ان آیات کی بابت یہ بھی نقل کیا ہے کہ جب آنحضرت (علیہ الصلوۃ والسلام) مدینہ میں تشریف لائے اور یہود کو ہدایت کرنی شروع کی تو یہودیوں نے اپنے چند علماء کو (جن کا سرغنہ عبداللہ بن صوریا ساکن فدک تھا) آپ کے پاس بھیجا۔ ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ہم آپ سے چند باتیں پوچھتے ہیں جن کو سوائے انبیاء کے اور کوئی نہیں جانتا اگر آپ نے صحیح جواب دیا تو آپ قطعی وہ نبی ہیں جن کی خبر موسیٰ (علیہ السلام) نے دی ہے۔ چناچہ انہوں نے سوال کئے اور آپ نے صحیح جواب دیے اور ان علمائِ یہود نے وہ جواب تسلیم بھی کرلیے۔ تب آپ نے پوچھا اب کیوں مجھ پر ایمان نہیں لاتے ؟ انہوں نے کہا ایک وجہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے پاس جو وحی لاتا ہے وہ جبرئیل فرشتہ ہے اس سے ہم کو سخت دشمنی ہے کیونکہ اس نے کئی بار ہم پر عذاب الٰہی پہنچایا ہے (رواہ ابن جریرو حاتم و طبرانی و احمد وغیرہم) ۔ خدا تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ جبرئیل جو کچھ کرتا ہے حکم الٰہی سے کرتا ہے۔ اس نے یہ قرآن جو حضرت کے قلب پر نازل کیا ہے تو ہمارے حکم سے۔ اب جو اس کا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے۔ دوم تم خود اس قرآن میں غور کرو کہ یہ کیسا ہے ؟ اس سے کوئی صاحب عقل سلیم انکار نہیں کرسکتا۔ کس لیے کہ جو لوگ اگلے انبیاء کے مقلد ہیں تو یہ مصدقا لما بین یدیہ ہے کہ سب اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اس کے اصول اور عمدہ مطالب حرف بحرف ان کے مطابق ہیں۔ اس صورت میں اس کا انکار سابقہ کتب الٰہی کا انکار ہے اور جو کسی سابق نبی یا کتاب کا مقلد نہیں بلکہ جو دلائل عقل سلیم کے موافق ہو اور جس میں تمام باتیں مصالح دین و دنیا ہوں اس کو مانتے ہیں تو ان کو بھی اس سے انکار نہ کرنا چاہیے۔ یہ ہدی یعنی ہدایت ہے اور جو صاحبان قلب سلیم ہیں خدا سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے شوق اور تسلی بخش باتوں کے طالب ہیں ان کو بھی اس کا ماننا ضروری ہے کیونکہ یہ بشری للمؤمنین ہے کہ اہل ایمان کو تسلی اور خوشخبری اس سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ تین اوصاف جب قرآن میں ہیں تو پھر اس وجہ سے انکار کرنا کہ اس کو جبرئیل لائے ہیں محض حماقت ہے۔ یہ بات کہ جبرئیل ہمارے دشمن ہیں کل یہود کا مقولہ نہ تھا بلکہ ان کا کہ جو مدینہ اور اس کے اطراف میں رہتے تھے۔ فانہ نزلہ علٰی قلبک۔ ہم مقدمہ کتاب میں بیان کرچکے ہیں کہ بندہ کو علاقہ جسمانی کی وجہ سے ہر وقت خدا سے وہ اتصال روحانی نہیں رہتا کہ جو بسبب تجرد کے ملائکہ بالخصوص اخص المقربین حضرت جبرئیل کو ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ مخصوصہ میں جبرئیل حضرت نبی ﷺ کے قلب پر وحی القا کرنے کے لیے مامور تھے۔ عام دستور تو یہ ہے کہ پیشتر کوئی مضمون کانوں تک پہنچتا ہے پھر اس کے بعد قلب میں جاتا ہے مگر خاصان خدا کے قلب میں بلا ذریعہ سماعت کلام کی رسائی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بڑی بڑی سورتوں کو جبرئیل سے سن کر نہ بھولتے تھے۔ باقی وحی کے اقسام اور اس کے اسرار ہم مقدمہ میں بیان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ یہود کو الزام دیتا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسولوں اور ملائکہ بالخصوص جبرئیل و میکائیل کا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے یہ بات علمائِ یہود بھی مانتے تھے اور اب بھی مانتے ہیں کہ ملائکہ پر ایمان لانا ضرور ہے۔ اس بناء پر جو ملائکہ بالخصوص اعظم ملائکہ جبرئیل یا میکائیل کا دشمن ہے قطعی کافر ہے۔ یہود کے اقرار سے ان کا کفر ثابت ہوگیا ملائکہ کے بعد جبرئیل و میکائیل کا نام لینا تخصیص بعد تعمیم ہے کہ جو ان کے شرف و فضل کی دلیل ہے اور یہ تخصیص فصحا و بلغا کے کلام میں بلکہ ہر زبان میں بکثرت مستعمل ہے۔ پس وہ جو بعض ناسمجھ پادریوں نے اس پر اعتراض کرکے قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر عیب لگایا ہے ان کی نادانی ہے۔
فائدہ : بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کا یہود سے اس بارے میں کچھ کلام ہوا۔ جس پر حضرت عمر ؓ نے یہود سے کہا کہ جبرئیل جو کچھ کرتے ہیں خدا کے حکم سے کرتے ہیں پھر جو ان کا دشمن ہے خدا کا دشمن ہے۔ پھر جب حضرت عمر ؓ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تو اسی مضمون کی یہ آیت نازل ہوئی اس پر بعض ناسمجھ پادری یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ جملہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے سن کر قرآن میں درج کیا۔ اول تو آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے سن کر یہ جملہ نہیں پڑھا۔ دوم اگر کسی جملہ میں اتفاقاً چند لفظوں میں موافقت ہوجائے تو اس سے کیا شاگردی یا مساوات ثابت ہوسکتی ہے۔ سوم مقدمہ میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ کبھی مرشد کا فیض صحبت شاگرد میں اثر کرجاتا ہے کہ جو بات استاد کہنی چاہتا ہے وہی شاگرد کے منہ سے پیشتر نکل جاتی ہے۔
Ayahs 2:100–101ترکیب : او وائو عطف کے لیے اور ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے اور یہ عطف کلام مقدم کے لیے ہے یعنی افکلما جاء کم بعض کہتے ہیں واو زائدہ ہے بعض کہتے ہیں یہ او ہے واو کو متحرک کردیا۔ عہدا مفعول مطلق من غیر لفظ مذکور اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو نبذہ الخ جملہ جواب کلما اسی طرح لما جاء جملہ شرط مصدق صفت رسول نبذ فعل فریق الخ فاعل کتب اللہ مفعول وراء ظرف یہ سب جملہ جواب شرط کانہم الخ موضع حال میں ہے۔
تفسیر : یعنی یہ عذر کہ اس قرآن کو جبرئیل لائے ہیں اس لیے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے، بےہودہ عذر ہے کس لیے کہ فی نفسہ اس کی آیات واضح اور روشن ہیں ان میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کو عقل سلیم نہ مانے۔ پس اس کا انکار کرنا نافرمانوں کا کام ہے کہ جن کی عادت ہمیشہ سے نافرمانی چلی آتی ہے کس لیے کہ ان یہود نے جب کوئی عہد خدا سے رسول کی معرفت باندھا یا لوگوں سے عہد کیا ہے تو ان میں سے ایک فریق نے جھٹ اس کو توڑ دیا اور ہلکا سمجھ کر پھینک دیا اور ایک فریق کی کیا خصوصیت ہے بلکہ ان میں سے اکثر کا تو اس پر اعتبار ہی نہ تھا نہ اس پر ایمان تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اب جو ان کے پاس خدا کا وہ رسول آیا (محمد) کہ جو تورات و زبور و انجیل کی تصدیق کرتا ہے اور جس کی خبر تورات میں ہے تو ان اہل کتاب نے اس کتاب پر بھی عمل نہ کیا بلکہ اس کو پس پشت ڈال دیا کہ گویا اس سے خبر ہی نہیں ہے۔ وراء ظہورھم سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اہل کتاب نے کتاب الٰہی یعنی تورات کو سچ مچ پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا تھا بلکہ اس سے مراد بےالتفاتی ہے۔ یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی طرف کوئی متوجہ نہیں ہوتا تو کہتے ہیں اس نے اس کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔
Ayah 2:102ترکیب : واتبعوا عطف ہے اشربوا پر یانبذ پر علیٰ ملک ای علی زمن ملک فحذف المضاف و المعنی فی زمن و لکن مشدد شیاطین اس کا اسم کفروا خبر بعض نے مخفف پڑھا ہے اس تقدیر پر اسم مرفوع ہوگا علیٰ ابتداء یعلمون الخ جملہ موضع نصب میں ہے۔ کس لیے کہ یہ حال ہے ضمیر کفروا سے وما انزل معطوف ہے ماتتلوا پر بعض کہتے ہیں بالسحر پر ان صورتوں میں ما موضع نصب میں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مانافیہ ہے معطوف ہے ما کفر پر (اس تقدیر پر یہ معنی ہوئے کہ نہ سلیمان کافر ہوئے نہ بابل میں کچھ سحر ہاروت و ماروت پر نازل ہوا جیسا کہ یہود گمان کرتے ہیں) ملکین کو جمہور نے بفتح لام پڑھا ہے اور بعض نے بکسرلام جس کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ ببابل ظرف ہے انزل کا۔ ھاروت و ماروت عطف بیان ہے۔ حتیٰ بمعنی الیٰ ان فیتعلمون معطوف ہے یعلمان پر اور نفی میں شامل نہیں منہما کی ضمیر ملکین کی طرف پھرتی ہے لمن اشتری الخ جملہ مفعول علمواولبئس جملہ جواب قسم محذوف لوکانوا کا جواب محذوف ہے ماعلموہ وغیرہ اگرچہ وہ جانتے تھے مگر جب کہ انہوں نے اپنے علم پر عمل نہ کیا تو ان کو لوکانوا یعلمون سے خطاب کیا۔ یہ کمال بلاغت ہے اس میں مقتضٰی حال کی پوری رعایت ہے۔
تفسیر : ان آیات میں کتاب اللہ کو پس پشت پھینک دینے کی مزید توضیح ہے کہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر واہیات کی طرف متوجہ ہوگئے تھے یعنی وہ جو شیاطین سلیمان کے عہد حکومت میں جادو سکھایا کرتے تھے اور اس کو سلیمان کی طرف منسوب کرتے تھے (اور دراصل سلیمان اس کفر کے مرتکب نہ ہوئے تھے بلکہ وہی شیاطین اس کفر کے مرتکب ہوئے کہ جو لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے) یہ لوگ اس کے تابع اور معتقد ہوگئے 1 ؎ اور اس پر بھی بس نہ کی بلکہ جب بخت نصر کے عہد میں یہ لوگ شہر بابل میں گئے تو وہاں بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرکے نادم ہوتے شریعت کو یاد کرتے الٹے وہاں کی شعبدہ بازیوں میں مصروف ہوگئے یعنی وہ جو وہاں ہاروت و ماروت دو شخصوں کو سحر معلوم تھا اس کے سر ہوگئے اور اسی کو سیکھ کر اپنی دینی و دنیاوی ترقی کا باعث سمجھنے لگے حالانکہ وہ جس کو سکھاتے تھے پیشتر کہہ دیتے تھے کہ یہ کفر کا کام ہے اس کو سیکھ کر کافر نہ ہو اس پر بھی وہ اس کو سیکھتے تھے اور اس سے سوا اس کے کہ میاں بیوی میں مخالفت پیدا ہو اور کوئی بڑی بات حاصل نہ ہوتی تھی اور جادوگر بغیر حکم الٰہی کسی کو کیا ضرر دے سکتے ہیں ؟ اور لطف یہ کہ یہود یہ بھی جانتے تھے کہ جو کوئی اس جادو کو سیکھے گا آخرت کی نعمتوں سے محروم رہے گا (کیونکہ تورات میں جادو کی ممانعت مذکور تھی) باوجود اس کے ایک مضر چیز کو سیکھتے تھے کہ جس کا کچھ بھی نفع نہ تھا سو اس سحر کو جو انہوں نے اپنی جان کو دے کر (یعنی حیات ابدی کے بالعوض) خریدا تھا بہت ہی بری چیز تھی۔ کاش ان کو علم ہوتا یعنی علم پر عمل نہ تھا وہ علم علم ہی نہ رہا۔
ابحاث : (1) سحر کیا چیز ہے ؟ اس کا اثر بھی ہے کہ نہیں ؟ سحر اسباب خفیہ سے بےتوسل جنابِ الٰہی افعال عجیبہ پر قدرت حاصل کرنے کو کہتے ہیں اور وہ اسباب خفیہ یا تاثیر روحانیات ہے یا تاثیر جسمانیات۔ پھر روحانیات یا کلیہ مطلقہ ہیں جیسا کہ کواکب و افلاک و عناصر کے روحانیات یا جز۔ یہ خاصہ جیسا کہ امراض و جن و شیاطین و نفوس مفارقہ بنی آدم کہ جن کو ہندی میں بیر کہتے ہیں۔ پھر جسمانیات کی تاثیر یا بسبب ترکیب و اجتماع کیفیات کے ہے کہ جس سے عجیب و غریب باتیں ظہور کرتی ہیں جیسا کہ خصوصیت صورت نوعیہ سے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ پھر ان
1 ؎ یعنی صرف سلیمان کے عہد میں جو شیاطین پڑھا کرتے تھے اسی کے تابع نہ ہوئے تھے بلکہ شہر بابل میں جو کچھ ہاروت و ماروت دو فرشتوں پر اترا تھا اس کے بھی تابع ہوگئے تھے۔ 12 منہ
روحانیات کی تاثیر حاصل کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ بعض شرائط کو ملحوظ رکھ کر ان کے نام پڑھتے ہیں ‘ بعض ان کی تصویریں بنا کر ان کے سامنے نذر بھینٹ ان کے مرغوب کام کرتے ہیں، شراب چڑھاتے ہیں، مینڈھا بکرا ذبح کرتے ہیں یا کوئی کلام ایسا مع شرائط پڑھتے ہیں کہ جن میں ان روحانیات کی از حد ثناء و صفت مذکور ہوتی ہے جیسا کہ رگوید کے منتر اندرو غیرہ کی مدح میں ہیں اسی لیے قدمائِ ہنود مصائب کے وقت پنڈتوں کو بٹھا کر جگ اور پاٹ کراتے تھے دراصل رگوید کی سن تھا کو جادو کے لیے جمع کیا گیا تھا ورنہ اس میں کوئی ہدایت اور تلقین کی بات نہیں۔ اب رہی یہ بحث کہ اس میں فی نفسہٖ کچھ تاثیر بھی ہے یا محض توہمات فاسدہ اور خیالات باطلہ 1 ؎ ہیں اور جو کچھ اثر محسوس ہوتا ہے تو وہ قوت وہمیہ کا مغلوب ہوجانا ہے جو رسی کا سانپ بنا کر دکھاتی اور چوہیا کے گزند سے سانپ کا اثر پہنچاتی ہے۔
(2) متکلمین کی ایک جماعت کا یہی عقیدہ 2 ؎ ہے مگر دیگر علماء یہ کہتے ہیں کہ بیشک فی نفسہ ان اسباب خفیہ سے ایک تاثیر پیدا ہوتی ہے اور اس کا انکار بدیہیات کا انکار ہے۔ آنحضرت ﷺ پر بھی مدینہ میں ایک یہودی نے جادو کیا تھا جس سے آنحضرت (علیہ السلام) کسی قدر علیل ہوگئے تھے جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ کتب میں مذکور ہے۔ تورات سفر خروج کے ساتویں باب میں جادوگروں کی لاٹھیوں کا سانپ بن جانا مذکور ہے (چنانچہ مصر کے جادوگروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا ہی کیا کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنا عصا پھینکا اور وہ سانپ ہوگیا الخ) اس کا جواب بھی اول گروہ کے نزدیک یہ ہے کہ قرآن نے اس راز کو کھول دیا یخیل لہم کا لفظ بتلا رہا ہے کہ وہ بھی ڈھٹ بندی تھی۔
(3) سحر کرنا شرع میں حرام بلکہ کفر ہے جیسا کہ ولکن الشیاطین یعلمون الناس السحر سے مفہوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس میں غیر اللہ سے استمداد اور اس کی نذر و نیاز پائی جاتی ہے کہ جو ایاک نعبد وایاک نستعین کے منافی ہے۔ علاوہ اس کے یہ فعل عبث ہے نہ اس سے سلطنت کے کاموں میں خلل واقع ہوتا ہے نہ انسان کے لیے معاد و معاش کی کوئی بھلائی پیدا ہوتی ہے اور نہ کچھ ذاتی۔ کسی کے لیے کوئی ضررر یا نفع نہیں اور جو کبھی کسی پر کوئی اثر نمایاں بھی ہوا تو وہ ہر وقت جادو کے بس میں نہیں بغیر اذن الٰہی پتہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ اب اس آیت کے متعلق دو اور بحث باقی ہیں۔ اول یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں شیاطین جادو پڑھتے اور لوگوں کو سکھاتے تھے۔ دوم یہ ہاروت و ماروت کون تھے ؟ اور ان پر سحر نازل ہونے کے کیا معنی (1) شیاطین سے مراد جنوں کے بد لوگ ہیں جنوں کی عادت تھی کہ ادھر ادھر کی خبریں لا کر کاہنوں کو دیا کرتے تھے وہ ان باتوں کو کتابوں میں جمع کرلیتے تھے اور پھر لوگوں کو سکھایا کرتے تھے یہاں تک کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا عہد خروج سلطنت آیا تو یہود ان کو نبی تو جانتے نہ تھے اپنے اس فن کے رواج دینے کے لیے ان لوگوں نے یہ مشہور کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی دولت و حشمت کا یہی علم باعث ہے اور ان کے پاس ایک انگشتری ایسی ہے کہ جس کی وجہ سے تمام جن و انس ان کے تابع ہیں (اور نقش سلیمانی بھی آج تک اسی بناء پر مشہور ہے) اس طمع میں آ کر یہود نے تورات کو تو پس پشت ڈال دیا اور اس کفریات کی تعلیم و تعلم میں سرگرم ہوگئے پھر سلیمان (علیہ السلام) کے شہرت کے لیے ہر سحر ہر و عمل سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہونے لگا۔ جس پر خدا فرماتا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) ساحرو کافر نہ تھا بلکہ وہ شیطان جو جادو لوگوں کو سکھاتے تھے اور اس تقریر پر شیطانِ سے شیاطین انس یعنی معلمین سحر بھی مراد لیے جاویں تو ممکن
1 ؎ یعنی سحر کافی نفسہ کوئی بھی اثر نہیں صرف یہ ہے کہ مسحور کی قوت وہمیہ مغلوب ہوجاتی ہے اور جو خیال ساحر اس میں نقش کرنا چاہے وہ اس کو قبول کرلیتی ہے۔ 12 منہ
2 ؎ گروہ اول اس کا یہ جواب دیتا کہ اگر یہ خبر احاد صحیح بھی مان لی جاوے تو اس یہودی کے سحر سے آنحضرت ﷺ کا بیمار ہونا ثابت نہیں ہوا بلکہ جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ کسی کام کو کرکے بھول جایا کرتے تھے گویا نہیں کیا یا جو کام نہیں کیا اس کو خیال کرتے تھے کہ کرچکا ہوں۔ یہی تو وہ قوت موہومہ پر اثر ہے جس کے ہم بھی قائل ہیں اور یہ بھی تو ہوتا ہے کہ کبھی انسان کسی خیال کو پکا لیتا ہے تو اس کا اثر جسم پر بھی نمایاں ہونے لگتا ہے اور اگر اس سبب سے مرض پیدا ہوجائے تو یہ ممکن ہے۔
ہے ایک زمانہ تو تعلیم سحر کا یہ تھا دوسرا وہ کہ جو ہاروت و ماروت کے عہد میں واقع ہوا۔
(2) ہاروت و ماروت شہر بابل میں دو شخص تھے کہ جن کو ان کے ان عجائب افعال اور نیک چلنی کی وجہ سے فرشتہ کہتے تھے اور ان کا یہ لقب مشہور ہوگیا تھا (اور اس بات کو وہ قراۃ مؤید ہے کہ جس میں ملکین کو بکسر لام پڑھا ہے اور حسن بصری کا بھی یہی قول ہے 1 ؎) (بیضاوی و تفسیر کبیر) یہ شخص اس فن سے واقف تھے مگر اس کو برا سمجھتے تھے یہاں تک کہ جو ان کے پاس سیکھنے آتا ان سے یہ کہہ دیتے تھے کہ بھائی خدا نے یہ علم ہم کو تمہاری آزمائش کے لیے دیا ہے کہ تم ایمان پر ثابت قدم رہتے ہو یا نہیں۔ اس کو نہ سیکھو ورنہ ایمان جاتا رہے گا مگر یہود ایمان کی کیا پروا کرتے تھے سیکھنے سے باز نہ آتے تھے۔ پس ان پر نازل ہونے سے یہ مراد کہ خدا نے ان کو اس فن میں ماہر و عالم ہونے کی قدرت عطا کی تھی نہ یہ کہ کتاب آسمانی کی طرح ان پر خدا نے جادو نازل کیا تھا کہ وہ اس کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے لفظ انزال سے یہ سمجھ لیا کہ وہ دو فرشتے تھے جو حضرت ادریس (علیہ السلام) کے عہد میں زین شہر بابل میں آئے تھے پھر ایک حسین عورت زہرہ پر عاشق ہوگئے تھے اس کے کہنے سے شراب پی کر اس کے خاوند کو قتل کیا اور بت کو سجدہ کیا اور زہرہ نے اسم اعظم ان سے سیکھ لیا جس سے وہ تو آسمان پر چلی گئی اور یہ بابل کے کنوئیں میں الٹے لٹکتے ہیں اور وہاں آگ سے ان کو عذاب ہوتا ہے پھر جو کوئی ان کے پاس جادو سیکھنے جاتا ہے پہلے اس کو سمجھا دیتے ہیں پھر سکھا دیتے ہیں چناچہ ایک شخص عبدالملک بن مروان کے پاس ان سے مل کر آیا تھا الخ یہ بےاصل کہانیاں ہیں۔
1 ؎ جبکہ ماانزل میں لفظ ما کو نفی کے لیے تسلیم کرلیا جاوے جیسا کہ بعض مفسرین کا قول ہے تو معنی ہی الٹ جاویں گے کس لیے کہ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ وہ جو یہود کو یہ خیال تھا کہ بابل میں ہاروت ماروت سے جادو سیکھ کر آتے ہیں اور ان پر جادو نازل ہوا تھا یہ خیال غلط ہے۔ کس لیے کہ ما انزل علی الملکین ببابل ھاروت و ماروت بابل میں ہاروت ماروت فرشتہ خصال دو شخصوں پر جادو وادو نازل ہی نہیں ہوا تھا اور خود ان کو جو اس علم میں دخل تھا تو وہ بھی کسی کو بغیر انجام کار بتائے نہ سکھاتے تھے کہ اس سے انسان کافر ہوجاتا ہے اس کو قضاء و قدر کے مقابلے میں اپنے کام پر اعتماد ہوجاتا ہے اور وہ جاننے لگتا ہے کہ میں بھی ایک فاعل مستقل ہوں یہ کفر ہے مگر یہود پر ادبار کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ بابل کی اسیری میں سوجھا تو یہ سوجھا نہ توبہ نہ توسل الی