Ayahs 2:55–56ترکیب : واذقلتم فعل یا موسیٰ فاعل الخ اس کا مقولہ لن نؤمن لک ای لاجلک اولن نقر لک نری فعل بافاعل لفظ اللہ مفعول ذی الحال جہرۃ حال اور ممکن ہے کہ فاعل سے حال ہو اور ممکن ہے کہ یہ مفعول مطلق ہو کر منصوب ہو۔ (بیضاوی)
تفسیر : چھٹا انعام : یہ چھٹا انعام ہے جو ان معافیوں کے بعد بنی اسرائیل کے جرم جدید پر وقوع میں آیا جس کی تفصیل یہ ہے علماء کا اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ کہاں کا واقعہ ہے محمد بن اسحاق جو فن سیرت کے امام ہیں یہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب گوسالہ پرستی کی سزا میں بنی اسرائیل پر قتل نفس کی توبہ مقرر ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ستر شخصوں کو لے کر کوہ طور پر معذرت کے لیے گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تو اپنے رب سے کلام کر ہم سنتے ہیں اور اس ہم کلامی کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کا چہرہ ایسا منور ہوا کہ جس کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔ قوم نے کہا کہ ہم نے صرف باتیں سنی ہیں مگر ہم جب تک خدا کو کھلم کھلا نہ دیکھیں گے ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ تب ان پر بجلی پڑی اور سب مرگئے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا الٰہی میں ان کو بنی اسرائیل کی گواہی کے لیے ساتھ لایا تھا اب یہ تو مرگئے میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا ؟ تب خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان کو زندہ کردیا اور سدی (رح) نے کچھ اور طرح پر بیان کیا ہے کہ جب قتل نفس کے بعد خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ تو ستر شخصوں کو لے کر ہمارے پاس آ جب وہ آئے تو کہنے لگے کہ جب تک خدا کو ہم عیاناً نہ دیکھیں گے تیری بات پر یقین نہ کریں گے۔ پس بجلی پڑی اور سب مرگئے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے رو کر عرض کی کہ اول تو قتل کا حکم ہوچکا ہے پھر جو کچھ باقی رہے تھے ان میں سے ستر آدمی لے کر آپ کے پاس آیا اب یہ بھی مرگئے تو بنی اسرائیل سے کیا کہوں گا۔ خدا نے فرمایا کہ یہ ستر وہ ہیں جو بچھڑا پوجنے میں شریک تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ آپ کی آزمائش ہے جس کو چاہتے ہیں آپ گمراہ کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اگر یہی تھا تو مجھ کو اور ان کو پہلے ہلاک کردینا تھا الخ۔ پس خدا نے ان کو زندہ کردیا اور ان کو نبی بھی بنایا (تفسیر کبیر ملخصاً ) ان دونوں قولوں میں کچھ بڑا تفاوت نہیں ہے اول قول کے مضامین تورات سفر عدو کے 11 باب اور سفر خروج کے 34 باب سے سمجھے جاتے ہیں شاید اسی قصہ کو خدائے تعالیٰ نے سورة اعراف میں ذکر کیا ہے۔ وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لِمِیْقَاتِنَا فَلَمَّآ اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ قَالَ رَبّْ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِنْ قَبْلُ وَاِیَّایَ اَتُھْلِکْنَا بْمَا فَعَلَ السُّفَھَآئُ مِنَّا اِنْ ھِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ تُضِلُّ بْھَا مَنْ تَشَآئُ وَتَھْدِیْ مَنْ تَشَآئَ الآیات کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہمارے وعدے کے لیے ستر شخص پسند کئے۔ پھر جب ان کو زلزلہ نے آلیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی ہلاک کردیتا کیا بیوقوفوں کے فعل سے آپ ہم کو ہلاک کرتے ہیں یہ تو صرف تیری آزمائش ہے الخ۔ میری رائے میں سورة بقر کا یہ واقعہ وہ ہے جو سفر خروج کے 19 باب سے اشارۃً سمجھا جاتا ہے اور سورة اعراف کا قصہ وہ ہے کہ جو سفر خروج کے 24 باب سے سمجھا جاتا ہے۔ بعض ماول واقعہ سورة بقر کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ یہ ستر شخص مرے نہ تھے بلکہ بجلی کے صدمہ سے بےہوش ہوگئے تھے۔ اس بےہوشی کو موت سے تعبیر کیا ہے جس طرح کہ خواب کو موت کہتے ہیں اور اس سے بیدار ہونے کو زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کوہ طور کے لرزنے اور وہاں عجائبات قدرت کے ظاہر ہونے کو بھی اس بات پر محمول کیا ہے کہ وہ پہاڑ آتش فشاں تھا۔ یہ تاویلات ملحدانہ خیالات کے ثمرات ہیں کہ جس پر اس کی تفسیر کا مدار ہے۔ فقط
Ayahs 2:57–59ترکیب : ظللنا فعل بافاعل علیکم متعلق ہے فعل سے الغمام مفعول اور یہ جنس ہے اور جب واحد مراد ہوتا ہے توت زیادہ کرتے ہیں غمامہ بولتے ہیں۔ کلوا فعل بافاعل شیئًا مفعول محذوف من بیان ہے اس محذوف کا طیبات مضاف مارزقناکم مضاف الیہ انفسہم مفعول ہے یظلمون کا ای کانوا یظلمون انفسہم۔ واذ قلنا فعل نحن فاعل ادخلوا فعل انتم فاعل ھذہ موصوف القریہ صفت یہ مجموعہ مفعول فیہ ہوا ادخلوا کا اور کل مقولہ ہوا قلنا کا رغدا منصوب ہے۔ یا اس وجہ سے کہ مفعول مطلق ہے ای اکلا واسعا یا حال ہے فاعل کلوا سے سجدا جمع ساجد حال ہے فاعل اد خلوا سے ای متواضعین۔ حطۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای سوالنا حطۃ پھر یہ مجموعہ مقولہ ہے قولو اکا نغفرلکم جواب امر ہے اور اسی لیے مجذوم ہے فبدل فعل الذین ظلموا جملہ فاعل بالذی قیل لہم مفعول اول محذوف قولاً موصوف غیر الذی الخ اس کی صفت مجموعہ مفعول ثانی (تبیان) من السماء متعلق محذوف ہو کر صفت ہے جزا کی۔
تفسیر : ساتواں اور آٹھواں انعام : یہ ساتواں اور آٹھواں انعام ہے جس کی تفصیل یہ ہے : بنی اسرائیل جب دریائے قلزم عبور کرکے بیابان میں آئے تو وہاں گرمی کی بڑی شدت تھی خدا نے اپنا فضل کیا کہ ایک بادل کا سایہ بنا کر ان کو دھوپ کی شدت سے بچایا یہ ساتواں انعام ہے۔ پھر کھانے کا یہ سامان کیا کہ من 1 ؎ اور سلویٰ یعنی بیٹریں نازل کرتا تھا کہ ان کے خیموں کے گرد بیٹریں جمع ہوجاتی تھیں۔
1 ؎ من چنے کے دانوں کی طرح اوس جو بڑی شیریں ہوتی تھی جیسا کہ ترنجبیں، بنی اسرائیل کے خیموں کے آس پاس جم جاتی تھی اس کو اٹھا لیتے اور توے پر روٹیوں کی طرح پکا پکا کر کھاتے تھے (توریت) چونکہ وہ بےمشقت ملتی تھی اس لیے مفت اور بےمشقت چیز کو لوگ من وسلویٰ کہتے ہیں اور شیریں اور
لذیذ بھی تھی اس لیے عمدہ غذا کو بھی من وسلویٰ سے تعبیر کرتے ہیں مگر بنی اسرائیل لذیذ اور بےمحنت چیز کو روز اور مسلسل کھاتے کھاتے گھبرا گئے اور خرمستی میں پیاز اور ترکاریاں موسیٰ (علیہ السلام) سے مانگنے لگے گویا وہ فرعون کی قید سے کیا نکلے تھے خدا پر اور موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلاتے تھے۔ آرام طلب مفت خور قوموں کا یہی حال ہوتا ہے ان پر خرمستی سوار ہوجاتی ہے فسق و فجور اور فحش گوئی اور کاہلی ان کا شیوہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس کفران نعمت کا عذاب ان پر نازل ہوتا ہے ان میں اولوالعزمی، غیرت، جفاکشی کا مادہ باقی نہیں رہتا اور غیر اقوام کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسی بگڑی قوم کی اصلاح سے موسیٰ (علیہ السلام) بھی عاجز آگئے تھے ایسے لوگوں کے قول و فعل کا اعتبار نہیں نہ ان میں اخوت اور وطنیت کا پاس رہتا ہے۔ یہ امت محمدیہ کو سنایا جاتا ہے۔
رات کو اندھیرے میں یہ لوگ پکڑ لیتے تھے اور پھر گوشت پکا کر کھاتے تھے جیسا کہ تورات میں مشرحاً مذکور ہے۔ یہ آٹھواں انعام ہے کہ جس کو
خدا تعالیٰ یاد دلاتا ہے اور تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل مشقت سفر سے گھبرائے تو خدا نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریائے یرون کے اس کنارہ تک پہنچا کر کنعان کی تمام سرزمین دکھائی اور خبر دی کہ تو اس ملک میں نہ جانے پائے گا بلکہ تیری موت یہیں ہوگی۔ مگر بنی اسرائیل کو کہہ دیجئے کہ میں تم کو یہ ملک دیتا ہوں اور عنقریب تم اس شہر یریحو کو (کہ جس کو اریحا کہتے ہیں) فتح کرو گے۔ پس جب تم ان شہروں میں جا داخل ہو تو خدا کی نعمتیں اور طرح طرح کے میوے کھانا مگر اس کے شکریہ میں یہ بات ضرور ہے کہ جب دروازے میں سے گزرو تو اپنی فتح اور بہادری پر نہ اترانا بلکہ سجدہ کرتے ہوئے یعنی عاجزی کرتے ہوئے اور خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے جانا۔ اس پر ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے اور جو تم میں نیک ہیں ان کو اس کے معاوضہ میں ہم اور زیادہ عطا کریں گے۔ پھر جب حضرت یوشع بن نون کے عہد میں بنی اسرائیل نے یہ ملک اور یہ شہر فتح کئے تو بجائے تواضع اور استغفار کے سرکش اور بدکار بن گئے اور طرح طرح کی بدکاری اور بت پرستی کرنے لگے خدا نے ان پر آسمانی بلا نازل کی کہ وبا سے ہزاروں ہلاک ہوئے اپنے افعالِ بد کا نتیجہ پایا۔
فائدہ : یہ قصہ سورة اعراف میں بھی یاد دلایا ہے۔ اس عنوان سے۔ واذ اقیل لہم اسکنو اھذہ القریۃ و کلوا منہا حیث شئتم و قولوا حطۃ وادخلوا الباب سجدا نغفرلکم خطایاکم وسنزید المؤمنین۔ فبدل الذین ظلموا منہم قولا غیر الذی قیل لہم فارسلنا علیہم رجز من السماء بما کانوا یظلمون۔ اب یہ نکات کہ اس سورت میں اسکنوا فرمایا اور بقر میں ادخلوا کہا اور وہاں یظلمون اور بقر میں یفسقون فرمایا (وغیرہ ذلک) تفسیر کبیر وغیرہ کتب میں ملاحظہ کرنے چاہییں۔
Ayah 2:60ترکیب : واذا استسقی فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے فعل سے۔تعقیب قلنا فعل نحن فاعل اضرب فعل انت فاعل بعصاک میں باء استعانت کے لیے جار مجرور متعلق اضرب کے ہوا۔ الحجر مفعول یہ سب جملہ مقولہ ہوا قلنا کا انفجرت فعل اثنتا عشرۃ فاعل ممیز عینا تمیز اے ضرب فانفجرت قد علم فعل کل اناس فاعل مشربہم مفعول۔ مفسدین خال مؤکدہ ہے لاتعثوا سے العثی فساد کرنا۔ الانفجار پھوٹ نکلنا پانی کا۔
تفسیر : نواں انعام : یہ نواں انعام ہے اس میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بڑا احسان کیا تھا۔ جب بنی اسرائیل سین کا بیابان طے کرکے رفیدیم میں پہنچے تو اس میں پانی نہ تھا۔ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑنے لگے کہ ہم کو پانی دے کہ پیویں الخ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے خداوند سے فریاد کی اور کہا میں ان لوگوں سے کیا کروں الخ خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ لوگوں کے آگے جا اور بنی اسرائیل کے بزرگوں کو اپنے ساتھ لے اور اپنا عصا جو تو دریا پر مارتا تھا الخ اس چٹان پر ماریو اس سے پانی نکلے گا تاکہ لوگ پیویں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے سامنے یہی کیا (سفر خروج باب 17) تب اس چٹان سے بارہ چشمے بعدد اسباط بنی اسرائیل بہ نکلے اور ہر سبط نے ایک چشمے کو اپنے لیے معین کرکے خوب پانی پیا اور خدا نے فرمایا میری نعمتیں کھائو پیو اور اس کا شکریہ ادا کرو نہ یہ کہ بغاوت اور سرکشی کرکے ملک میں فساد مچائو۔ یہ واقعہ کئی بار بنی اسرائیل پر گزرا۔ ایک بار تو یہاں پھر جب ایلیم میں آئے وہاں بارہ چشمے پانی کے اور ستر درخت کھجور کے ملے (خروج باب 15) اور پھر جب بنی اسرائیل قادس میں گئے اور پانی نہ ملا تو یہی واقعہ پیش آیا چناچہ سفر عدد کے 20 باب میں یہ جملہ ہے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس چٹان کو دوبارہ اپنی لاٹھی سے مارا تو بہت پانی نکلا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تو عصا مار کر پتھر میں سے پانی نکالا تھا کہ جو بسا اوقات خود بھی نکلا کرتا ہے۔ ہزاروں چشمے پتھروں سے نکلتے ہیں مگر سید المرسلین نے تو انگلیوں سے اس قدر پانی نکالا کہ جس کو سینکڑوں آدمیوں اور جانوروں نے شکم سیر ہو کر پیا جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ کتب میں ہے اور کئی بار ایسا ہوا لیکن اس سورة میں جو ذکر ہے تو رفیدیم اور قادس کے واقعہ کا ہے واضح ہو کہ قدیم سے ظاہر ہیں لوگ معجزات انبیاء اور امور خوارق عادات کا انکار کرتے چلے آئے ہیں کیونکہ ان کا سِرّ ان کی عقل کوتاہ بیں میں جب نہیں آتا تو سوائے انکار کے اور کوئی تدبیر نہ سوجھی سو اس مقام پر بھی یہی تعجب کیا کہ لاٹھی کے مارنے سے اس قدر پانی نکلنا کہ جس کو لاکھوں آدمی پی کر سیراب ہوں قانون قدرت کے خلاف ہے حالانکہ یہ نہیں جانتے کہ پتھروں میں عجیب و غریب تاثیرات خدا نے رکھی ہیں۔ کیا ممکن نہیں کہ وہ پتھر پانی کو زمین سے جذب کرکے نکالے یا ہوا کو ہر طرف سے جذب کرکے اپنی قوت تبرید سے پانی کرکے بہا دے مگر بعض مقلدین دہریہ نے یہ دیکھا کہ قرآن اور تورات میں یہ واقعہ موجود ہے تو ان کی یہ تاویل کی اضرب کے معنی چلنے کے ہوتے ہیں اور حجر سے مراد پہاڑی حصہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ لاٹھی کے سہارے سے پہاڑ پر چڑھ یہ غلط ہے اول تو بقول ماول ضرب کے معنی جہاں چلنے کے ہوتے ہیں تو فی آتا ہے وہ یہاں نہیں۔ دوم اس کا کوئی قائل نہیں۔ سوم فانفجرت کے پھر کیا معنی ؟ اور تورات کا جو حوالہ دیا وہ غلطی ہے کیونکہ جس مقام کا حوالہ دیا ہے وہ ایلیم ہے اور یہاں رفیدیم کا ماجرا بیان ہو رہا ہے۔
Ayah 2:61ترکیب : واذقلتم فعل انتم فاعل یا موسیٰ الٰی بصلہا اس کا مقولہ یہ تمام جملہ معطوف ہوا اگلے جملے پر یخرج فعل ربک فاعل شیئاً محذوف من بیانیہ ما موصولہ تنبت الارض جملہ اس کا صلہ من بقلہا الخ اس کا بیان اور موضع اس کا نصب ہے حال ہونے کی وجہ سے ضمیر محذوف سے تقدیرہ مماتنبت الارض کائنامن بقلہا۔ پس یہ تمام جملہ بیان ہوا شیئاً کا اور یخرج جواب امر ہے۔ یعنی ادع کا جواب ہے اس لیے مجذوم ہوا قال فعل موسیٰ فاعل آ استفہامیہ تستبدلون فعل انتم فاعل الذی ادنٰی ای حقیریہ مفعول بالذی ہیں با سے مقابلہ پس تمام جملہ استفہام انکاریہ ہو کر مقولہ ہوا قال کا اھبطوا مصراً جملہ انشائیہ فان لکم خبر ہے ان کی اور ما موصولہ سألتم جملہ صلہ یہ جملہ مجموعہ اسم ان وضربت جملہ مستانفہ من اللہ موضع جر میں صفت ہے غضب کی ذلک (اشارہ الی ما سبق من ضرب الذلۃ و المسکنۃ وبائو بغضب) ومبتدا بانہم الخ اس کی خبر بغیر الحق موضع نصب میں ہے بسبب حال ہونے کے ضمیر یقتلون سے تقدیرہ یقتلو نہم مبطلین۔ ذلک اشارہ ہے جمیع امور مذکورہ کی طرف بتاویل ماذکر مبتدا بما عصوا الخ خبر۔
تفسیر : دسواں انعام : اس بڑی آیت میں اذقلتم سے لے کر ماسألتم تک یہود پر اپنا دسواں انعام جتلا کر وضربت سے آخر آیت تک ان پر ان کی بدکاری و ظلم پر سرزنش فرماتا اور ان کے افعالِ بد کا بدنتیجہ بتلاتا ہے۔ یہ بھی ایام تیہ کا عہد موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ہے۔ جب بنی اسرائیل پر اس دشت پرخار میں کہ جہاں کوئی سامان نہ تھا، خدا کی طرف سے من وسلویٰ اترنے لگا تو بجائے شکر گزاری کے اس جنگل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے لڑنے جھگڑنے لگے کہ تو نے ہمیں مصر سے نکال کر اس وادی میں لا ڈالا کہ جہاں بجز من وسلویٰ کے اور کچھ نہیں۔ ہم مصر میں زمین کی ہر قسم کی پیداوار کھاتے پیتے تھے۔ ساگ، بھاجی، ککڑی، گیہوں، مسور، پیاز، لہسن، اب تو اپنے رب سے کہہ کہ اس جنگل میں ہم کو یہ چیزیں دے۔ اس گستاخی پر ان کا ہلاک ہوجانا کچھ بعید نہ تھا مگر خدا نے درگزر کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت فرمایا کہ اس جنگل کو طے کرکے کسی آبادی میں چلو وہاں تم کو یہ سب چیزیں ملیں گی کیونکہ مقصود ان کو حسب وعدہ ملک کنعان کا مالک کرنا تھا اور وہ آگے دشمنوں کے خوف سے پائوں اٹھانا نہیں چاہتے تھے۔ سب کچھ ان ہی جنگلوں میں مانگتے تھے (یہ تورات سفر عدد کے دسویں باب میں بھی مذکور ہے) اھبطوا مصرا اس لیے فرمایا کہ وادی جہاں بنی اسرائیل تھے اس آبادی کے حصہ سے جہاں ان کو جانا تھا، بلندی پر تھی۔ مصر سے کوئی معین شہر یا گائوں مراد نہیں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ شہر اریحا مراد ہے جو سب سے اول بنی اسرائیل نے یوشع (علیہ السلام) کے عہد میں فتح کیا، کیونکہ وہ شاداب جگہ ہے اور ہر قسم کی پیداوار وہاں ہے۔
فائدہ : انسان کی عجیب طبیعت ہے، آیندہ آنے والی بڑی سے بڑی نعمت کو جو قدرے کوشش اور عمل پر موقوف ہو موجودہ زائل نعمت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں سمجھتا اسی پر قانع ہوجاتا ہے جیسا کہ حیات دنیا اور اس کی نعمائِ فانیہ بمقابلہ دار آخرت کچھ بھی نہیں اس آباد شہر کی طرف قدم نہیں اٹھاتا یہیں رہنا پسند کرتا ہے اور سب کچھ اسی دنیا کے دشت پرخار میں مانگتا ہے۔ حضرات انبیا ہیں کہ اس کے آگے چلنے کی تاکید فرما رہے ہیں وہاں کی نعماء کی رغبت دلا رہے ہیں۔ اتستبدلون الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر۔ یہ جملہ نہ صرف بنی اسرائیل کی نادانی پر سرزنش ہے بلکہ انسانی حالت اور اس کی دنیاوی فریفتگی اور آخرت سے غفلت پر ایک تازیانہ ہے اور یہ جملہ ضرب المثل ہوگیا ہے۔ ان دس احکام کے بعد جو احکام عشرہ کی تعداد ہے، خدائے تعالیٰ بنی اسرائیل پر جو سرزنش ہوئی (اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ جو ایک محسن کے متعدد انعام پا کر بھی پھر قریب آنے والی نعمتوں کی طرف پر رغبت نہ کرے اور موجودہ حالت ذلت میں مسرور و مغرور ہو، اس کے لیے قضا و قدر سے ایسا ہی مناسب سلوک ہوا کرتا ہے) اس کو بیان فرماتا ہے۔ وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ بنی اسرائیل پر ذلت و خواری ڈالی گئی۔ ایسی خسیس طبائع نفس پرست عاقبت نااندیش اسی کے مستحق ہوا کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی ذلت ‘ طبیعت کی دنائت ‘ شکم پروری اور شہوت پرستی نے ان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و خوار کردیا اس وقت سے اب تک خوار ہیں اور خوار ہی رہیں گے۔ آنے والے مسیح کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں مگر وہ آ بھی چکا۔ ذلیل اس کی اطاعت کے سبب عزیز ہوچکے بقول شاعر ؎
آئے بھی لوگ بیٹھے بھی اٹھ بھی کھڑے ہوئے میں جا ہی ڈھونڈتا تری محفل میں رہ گیا
اور نہ صرف دنیا کی ذلت نصیب ہوئی سلطنت و شوکت جاتی رہی بلکہ باؤ بغضب من اللہ اللہ کا قہر اور اس کی ناراضی بھی انہوں نے حاصل کی جس کی سزا ابدی جہنم ہے اور یہ کیوں ہوا یکفرون بآیات اللہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے کتب منزلہ کو بھی نہیں مانتے تھے نہ آیات قدرت میں غور کرتے تھے۔ سب کو لغو جانتے تھے۔ قوت نظریہ بالکل خراب ہوچکی تھی اور قوت عملیہ بھی بگاڑ چکے تھے کیونکہ یقتلون الخ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی ناحق قتل کر ڈالتے تھے اور یہ دونوں قصور عصیاں اور حد سے متجاوز ہونے سے خوار ہوئے۔
فوم جس کے معنی گیہوں کے ہیں بعض اہل لغت اس کے معنی لہسن کہتے ہیں اور بعض روایات میں ثوم بھی آیا ہے اور تورات میں بھی لہسن لکھا ہے۔
مصر سے مراد کوئی معین شہر ہے نہ مصر فرعون۔
Ayah 2:62ترکیب : ان مشبہ بفعل الذین آمنوا الخ صلہ موصول اس کا اسم من شرطیہ فی موضع ابتدا اٰمن باللہ الخ اس کی خبر فلہم اجرھم الخ جملہ جواب۔ پھر یہ تمام خبر ہوا ان کی اور عائد محذوف ہے تقدیرہ من آمن منہم لفظ من مفرد ہے مگر معنی جمع کے دیتا ہے۔ پس آمن میں لفظ کی رعایت کرکے صیغہ واحد لایا گیا اور معنی کی رعایت کرکے فلہم اجرھم الخ میں ضمیر جمع لائی گئی۔ اجرھم مبتدا فلہم خبر اور اخفش کے نزدیک اجرہم جار کی وجہ سے مرفوع ہے اور عند ظرف ہے اور عامل اس میں معنی استقرار ہے۔
تفسیر : گزشتہ آیت میں یہود کی ذلت اور ان پر قہر الٰہی کا نازل ہونا بیان ہوا تھا جس سے یہود کو مایوسی ہوسکتی تھی، اس لیے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں اس مایوسی کو مٹایا کہ ہمارے ہاں کسی شخص کی ذات سے عداوت نہیں۔ صرف ایمان اور اعمال پر دار و مدار ہے خواہ کوئی مسلمان ہو، خواہ یہودی، خواہ عیسائی، خواہ صابی 1 ؎ جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لا کر اچھے کام کرے گا اس کا اجر ضرور خدا کے پاس ملے گا اور نہ اس کو خوف عذاب رہے گا (دنیا میں) نہ مرنے کے بعد اس کو یہ رنج ہوگا کہ ہائے ہم نے کیوں عمر ضائع کی اور غلط مذاہب اور لغو خیالات کی پابندی کو نجات کا راستہ سمجھ کر جہنم کو پہنچے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ یہود اپنے دل میں غرہ نہ ہوں کہ ہمیں سے کچھ خدا کو ارتباطِ
1 ؎ صابی ایک قدیم فرقہ تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں اس فرقہ کا بڑا زور شور تھا۔ شہر بابل اور نینوے کے لوگ بھی یہی مذہب رکھتے تھے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس گروہ کی ابتدا کب سے ہوئی، اس کا اعتقاد تھا کہ خدا تعالیٰ سے جو مجرد محض ہے بندہ کی جو مادی ہے کسی طرح رسائی ممکن نہیں اس کی پرستش اس کے
مظاہر نیرات کی پرستش ہے پھر اس کے دو گروہ ہوگئے ایک وہ جو ستاروں اور آفتاب اور ماہتاب اور عناصر کی پرستش کرتے تھے۔ دوم وہ جو اصنام کو نیرات کا مظہر سمجھ کر پوجتے تھے اسی لیے یونان میں زہرہ وغیرہ ستاروں کے نام سے معبد ہوئے تھے پھر آگے چل کر اور بہت سی شاخیں ہوگئیں۔ ایران کے آتش پرست اور ہندوستان کے قدماوید ماننے والے بھی اسی گروہ کی شاخ ہیں۔ پھر ہر ملک میں اور ہر زمانہ میں اس مذہب نے نیا رنگ اور نیا نام پیدا کیا۔ 12 منہ
خاص ہے کیونکہ اس کے سب بندے برابر ہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے گا، درجہ پاوے گا، کوئی اپنے بزرگوں کی عظمت پر گھمنڈ نہ کرے۔ ان الذین سے ایک نیا بیان شروع ہوتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک ہدایت کا دروازہ سب کے لیے کشادہ ہے کسی قوم اور کسی شخص کی کوئی خصوصیت نہیں جو ایمان لائے اور نیک کام کرے وہی دار آخرت اور حیات ابدی کا مستحق ہے۔ بنی اسرائیل کا کوئی خاص حصہ نہیں۔ انہوں نے بھی ایک وقت ایمان اور نکو کاری سے دنیا پر فضیلت حاصل کی تھی۔ پھر وہی قوم بےایمانی اور بدکاری کے سبب ذلیل اور مغضوب ہوگئی۔ بنی اسرائیل کی ترقی اور تنزل کے بعد یہ بیان ایک طبعی مناسبت رکھتا ہے جو ماہر سے مخفی نہیں۔
متعلقات : (1) اس مقام پر اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ان الذین آمنوا سے تو ایمان سمجھا گیا پھر من آمن باللہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس کا جواب بعض یہ دیتے ہیں کہ الذین آمنوا سے وہ مراد ہیں کہ جو صرف زبان سے ایمان ظاہر کرچکے ہیں منافقین یعنی خواہ یہود ہو، خواہ وہ ہو جو ظاہری ایمان رکھتا ہے ان میں سے جو حقیقی ایمان لا کر اعمال صالحہ کرے گا خدا کے ہاں اجر پاوے گا مگر اصلی جواب یہ ہے کہ الذین آمنوا سے حقیقی اہل ایمان مراد ہیں کہ جو زمانہ ماضی میں ایمان لا چکے اور آمن سے زمانہ آیندہ میں ایمان پر ثابت قدمی مقصود ہے۔ یعنی خواہ یہود ہو خواہ حقیقی مومن ان میں سے جو ایمان پر قائم رہے گا الخ (تفسیر کبیر) مگر یہاں ایک اور نکتہ ہے وہ یہ کہ یہ بات تو سب کے نزدیک مسلم تھی کہ جو ایمان لا کر عمدہ کام کرے گا اجر پاوے گا لیکن خدا تعالیٰ اس وصف کو علی العموم بلا تعین قوم و شخص سب کے لیے ثابت کرتا ہے یعنی خواہ کوئی ہو جو ایسا کرے گا اجر پاوے گا۔ خواہ وہ مسلمان ہو خواہ یہودی یا نصرانی 1 ؎ تاکہ مسلمانوں کا راہ راست پر ہونا برہان سے ثابت ہوجائے۔ ولطفہ لا یخفی علٰی صاحب الذوق السلیم۔
Ayahs 2:63–64ترکیب : اخذنا فعل نحن فاعل میثاقکم مفعول و حالیہ رفعنا فعل نحن فاعل الطور مفعول فوقکم ظرف متعلق ہے فعل سے قلنا محذوف خذواما اتیناکم الخ مقولہ بقوۃ حال ہے ضمیر خذوا سے۔ ای خذوا عازمین فضل اللہ الخ مبتداء خبر محذوف۔ ای لولافضل اللہ حاضر کو فیوں کے نزدیک لولا کے بعد اس کا اسم ہے۔
تفسیر : گیا رہواں انعام : یہ گیا رہواں انعام ہے جس کا کسی قدر ذکر قانون ہدایت میں بیان فرمانے کے بعد یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ ہم نے اے بنی اسرائیل تم پر یہاں تک عنایت کی تھی کہ جس طرح احمق مریض کو شفیق حکیم زبردستی دوا پلاتا ہے اسی طرح ہم نے تم سے کیا تم میں از خود تو اس قانون ہدایت لینے کی تو صلاحیت تھی نہیں ہم نے تم کو زبردستی سے اس عہد الٰہی پر تم کو کوہ طور اٹھا کر اس کے لینے اور یاد کرنے
1 ؎ یہود کے معنی تو ظاہر ہیں کہ بنی اسرائیل کو کہتے ہیں مگر وجہ تسمیہ میں اختلاف ہے۔ قوی یہ ہے کہ یہودا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام ہے ان کے نام سے یہ قوم نامزد ہوگئی اور نصاریٰ عیسائیوں کو کہتے ہیں اس لیے کہ ناصرہ شام میں ایک گائوں ہے وہاں آ کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رہے تھے اور یہ لفظ عیسائیوں میں سے ایک فریق خاص کے لیے بھی بولا جاتا ہے اعنی کلیسائے عرب کے لئے۔ 12 منہ
پر مامور کیا مگر باوجود اس کے تم نے اس کو بھی توڑ دیا۔ اگر اس کی رحمت اور فضل نہ ہوتا تو اس عہد شکنی پر تم کو ہلاک کردیا جاتا۔ یہ سفر خروج کے 19 باب میں بھی ہے لیکن باوجود اس کے پھر بھی بنی اسرائیل پھرگئے اور طرح طرح کی بدکاری اور بت پرستی میں مصروف ہوئے جیسا کہ زمانہ سلاطین اور قضات میں واقع ہوا مگر خدا رحیم ہے اس نے اپنے فضل و رحمت سے پھر وقتاً فوقتاً انبیاء بھیجے کہ جو بنی اسرائیل کو ہر طرح کی ہلاکی اور بربادی سے بچاتے رہے ورنہ نیست و نابود ہوجاتے۔
فائدہ : سورة اعراف میں بھی خدا تعالیٰ نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے واذنتقنا الجبل فوقہم کا نہ ظلہ وظنوا انہ واقع بہم الآیۃ پس ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے پہاڑ کو ان پر اٹھا کر خوف دلایا تھا۔ وہ قادر ہے اور بعض ماوّل اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ پہاڑ کا اوپر اٹھانا ثابت نہیں بلکہ اس پہاڑ کی جڑ میں یہود کھڑے تھے اور پہاڑ کے لرزنے سے ڈرتے تھے کہ اوپر نہ آپڑے اس خوف کے وقت ان سے کہا گیا کہ اس عہد یعنی توریت کو لو اور اس کو یاد رکھو اور اس پر عمل کیا کرو۔ اس خوف سے انہوں نے عہد کرلیا مگر پھر توڑ دیا۔
Ayahs 2:65–66ترکیب : علمتم بمعنی عرفتم فعل انتم فاعل الذین اعتدوا الخ جملہ مفعول منکم حال ہے ضمیر اعتدوا سے ای المعتدین کائنین منکم فی السبت متعلق ہے اعتدوا سے خاسئین جو مشتق ہے خساء اذاذل سے صفت ہے قردۃ کی اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو یا کونوا کی فاعل سے حال ہو فجعلناھا ای العقوبہ نکالا مفعول ثانی ہے۔
تفسیر : جب خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنے انعام یاد دلا چکا تو اس کے بعد جو کچھ نافرمانی اور انعام پر ناشکری کرنے سے برے نتیجے پیدا ہوتے ہیں وہ یاد دلاتا ہے تاکہ لوگوں کو عبرت و نصیحت ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اس قسم کے واقعات پر سوائے اس شخص کے (کہ تورات کیا بلکہ مجموعہ عہد عتیق کا بڑا حاوی ہو) اور کوئی عادتاً واقف نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص وہ شخص کہ جو امی ہو اور جس نے یہود کے ملک میں پرورش بھی نہ پائی ہو چہ جائیکہ ان کی تعلیم و صحبت۔ پھر یہ حالت بیان کرنا صریح اس بات کی دلیل ہے کہ خدا علام الغیوب اس شخص کو خبر دے رہا ہے اور یہ اس کا سچا نبی ہے۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سینکڑوں برس بعد یہود پر گزرا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں سمندر کے کنارہ پر ملک شام میں کوئی شہر یا قصبہ تھا (جس کو بعض نے ایلہ کہا ہے) ہفتہ کے روز کہ جس کو سبت کہتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں شکار کھیلنے یا اور کاروبار دنیاوی کرنے کی سخت ممانعت تھی جیسا کہ تورات میں مذکور ہے۔ وہاں کے لوگوں نے حیلہ کیا کہ پانی کی نالیاں حوضوں میں ڈال دیں ہفتہ کے روز ان نالیوں کے ذریعہ سے حوضوں اور تالابوں میں مچھلیاں جمع ہوجاتی تھیں اور وہ نالیوں کو بند کردیتے تھے پھر اتوار کو پکڑ کر کھاتے۔ جب یہ پشت گزر گئی تو نئی پشت کے لوگ تو خاص ہفتہ کے روز بھی مچھلیاں پکڑنے لگے۔ ہرچند انبیاء اور صلحاء سمجھاتے تھے مگر وہ نہ مانتے تھے۔ تب خدا نے ان پر قہر نازل کیا کہ طاعون میں مبتلا ہوئے اور شدت ورم سے ان کی شکلیں بگڑ کر بندروں کی سی ہوگئیں اور تین روز میں ہزاروں آدمی مرگئے۔ چناچہ سموئیل کی دوسری کتاب کے 24 1 ؎ باب میں مجملاً اس قصہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہود میں یہ واقعہ عبرت انگیز ہر شخص کے زبان زد تھا۔ چناچہ آنحضرت (علیہ السلام) کے ہمعصر یہود مدینہ بھی اس کو خوب جانتے تھے۔ اس لیے فرما دیا ولقد علمتم۔ اس واقعہ کو سورة اعراف میں بھی خدا تعالیٰ یاد دلاتا ہے۔ واسئلہم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر اذیعدون فی السبت اذتاتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعا و یوم لایسبتون لاتاتیہم کذلک الآیۃ مجاہد نے کہا ہے کہ خدا نے ان کو سچ مچ بندر ہونے کا حکم نہ دیا تھا جس طرح احمق اور بےشرم کو گدھا اور کتا کہتے ہیں اسی طرح ان کو بندر فرمایا مگر جب اس کلام کے حقیقی معنی جو ہم نے بیان کئے صحیح ہوسکتے ہیں تو مجاز کی طرف رجوع ہونے کی کیا ضرورت ؟
فائدہ : ان بندروں کو ان کی نسل سمجھنا بیوقوفی ہے۔
Ayahs 2:67–711 ؎ کیونکہ اس باب کے اول درس میں ہے۔ بعد اس کے خداوند کا غصہ اسرائیل پر بھڑکا الخ اور پھر اخیر میں وبا کی بھی تشریح ہے۔
ترکیب : قال فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے ان اللہ یامرکم کے الخ مقولہ ان تذبحوا بقرۃ نزع خافض کی وجہ سے محلاً منسوب ہے۔ قالوا فعل ھم فاعل استفہامیہ تتخذ فعل انت فاعل نا مفعول اول ھزوًا ای ھزوابہ مفعول ثانی اور جواب استفہام معنی اعوذ باللہ کے ہیں کس لیے کہ ٹھٹھا کرنا جاہلوں کا کام ہے مراد یہ کہ میں دل لگی نہیں کرتا۔ ما مبتدا خبر جملہ مفعول یبین کا قال فعل بافاعل انہ یقول الخ مقولہ انھا میں ھا اسم بقرہ خبر موصوف لافارض ولابکر عوان تینوں اس کی صفت ما موصولہ تؤمرون بہٖ صلہ جملہ مفعول فافعلوا صفراء صفت اول بقرہ کی فاقع اسم فاعل لونہا اس کا فاعل مجموعہ صفت دوم تسرالناظرین جملہ صفت سوم انشاء اللہ شرط تقدیرہ انشاء اللہ ہدایتاً جواب اس کا لمہتدون شرط بیچ میں آگئی اور مبرد کے نزدیک جواب محذوف ہے بقرۃ موصوف لاذلول صفت تثیرالارض حال ہے ضمیر ذلول سے تقدیر ولاتذل فی حال آثار تھا اور ممکن ہے کہ صفت بقرہ کی ہو و تسقی الحرث صفت بقرہ اور مبتداء محذوف کی خبر بھی ہوسکتی ہے اور اسی طرح مسلمۃ اور لاشیۃ فیہا وشی یشی سے مشتق ہے اصل شیئۃ کی وشئیتہ ہے واو حذف ہوا الان میں الف لام زائدہ ہے زجاج کے نزدیک مبنی ہے اس لیے کہ اس کے معنی اشارہ کے ہیں جس کے معنی ہیں ہذا الوقت مبتداء جئت الخ خبر بالحق جائز ہے کہ مفعول بہ جہت کا ہو والتقدیر ذکرت الحق اور جئت کی ت سے حال بھی ہوسکتا ہے۔ ای جئت و معک الحق۔
تفسیر : یہ نقض عہد اور عدول حکمی اور سرکشی کا دوسرا نتیجہ بیان ہوتا ہے اور بتلایا جاتا ہے کہ بار بار انعام اور سرکشیوں پر درگزر کرکے اور عہد مؤثق کرنے کے بعد بنی اسرائیل خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایسی ایسی سرتابیاں اور معمولی حکم میں نکتہ چینیاں کرکے خود مشقت میں پڑتے تھے۔ ایک بیل ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا فوراً کسی بیل یا گائے کو ذبح کردیتے بس ہوجاتا۔ مگر بار بار شقیں نکالتے گئے اور پوچھتے گئے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے پوچھ کہ کیسا ہو، رنگت کیا ہو، ویسی ہی قیدیں لگتی گئیں۔ پھر ان قیود کا بیل تلاش کیا گیا تو بڑی گراں قیمت کو مشکل سے ملا جس کا ذبح کرنا ان پر مشکل ہوگیا۔ (وما کادوایفعلون) اس لیے آنحضرت ﷺ بھی ان لوگوں سے جو احکام میں ایسی ایسی کرید کرتے تھے سخت ناراض ہوتے تھے۔ اس واقعہ سے یہ بھی بتلایا جاتا ہے کہ ان اہل کتاب کی اس پیغمبر سے کہ جس کو مانتے تھے اور جس کے صدہا معجزات دیکھ چکے تھے یہ سرتابی تھی۔ اب اگر نبی آخر الزماں سے جس قدر وہ سرتابی کریں اور ایمان لانے میں حیلہ بہانہ پیدا کریں کچھ بھی بعید نہیں ان کی جبلت ہی ایسی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل میں کسی شخص نے اپنے مورث مال دار کو قتل کرکے خود ڈال دیا اور خون کا دعویٰ اوروں پر کیا۔ یہ مقدمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے روبرو پیش ہوا۔ حضرت نے حکم دیا کہ ایک بیل کو ذبح کرکے اس کا کوئی پارچہ اس میت پر رکھ دو ۔ یہ آپ بول اٹھے گا اور اپنے قاتل کو ظاہر کرے گا۔ لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا اور یہ سمجھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دل لگی کرتے ہیں۔ آپ نے کہا استغفر اللہ دل لگی جاہلوں کا کام ہے۔ پھر وہ یہ سمجھے کہ جانے وہ بیل کس قسم کا ہے کہ جس کے پارچہ رکھنے سے مردہ بول اٹھے گا (حالانکہ یہ بات معجزہ سے تھی نہ بیل کی تاثیر سے) اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) سے اتے پتے پوچھنے لگے۔ آخر اس صفت کا ایک بیل بڑی گراں قیمت سے خرید کر ذبح کیا اور اس کا ایک ٹکڑا میت پر رکھا۔ اس نے اپنا قاتل بیان کردیا کہ جو قصاص میں مارا گیا اور حصہ سے بھی محروم رہا۔ اس جگہ صرف بیل ذبح کرنے کا قصہ ہے اور اگلی آیت واذ قتلتم نفسًا میں میت کے بدن پر گوشت مارنے کا ذکر ہے ہرچند یہ دونوں باتیں ایک ہی قصہ سے متعلق ہیں مگر چونکہ دونوں میں ایک جداگانہ نکتہ ہے اس لیے دونوں کو جدا جدا بیان کیا۔ اول میں یہ نکتہ ہے کہ بنی اسرائیل کو چونکہ نبی کے قول میں تردد ہوا اور زیادہ نکتہ چینیاں کیں تو وہاں سے قیدیں لگتی گئیں۔ آخر بدشواری ان اوصاف کا بیل نہایت گراں قیمت سے دستیاب ہوا۔ چاہیے کہ جس بات کا نبی حکم دے اس کو بےتامل عمل میں لائے۔ اس لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر جس بیل کو چاہتے بنی اسرائیل ذبح کردیتے کافی تھا۔ مگر انہوں نے تشدد کیا تو ان پر تشدد ہوتا گیا۔ (رواہ مسلم وغیرہ) اور اس لیے احکامِ الٰہی میں زیادہ تر استفسار کرنے کو برا سمجھتے تھے۔ کیونکہ لوگ پوچھیں گے اس پر قید شرعی لگ جائے گی۔ مطلق مقید ہو کر خواہ مخواہ دقت واقع ہوگی بلکہ قرآن مجید میں خدا نے بھی اس بات کو منع کردیا۔ لاتسئلوا فرما دیا اور یہ بھی اس میں اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل اولاد ابراہیم ہونے کا دعویٰ کرکے زبردستی سے جنت اور نجات کے وارث بنتے ہیں اور ان کے بزرگوں کی یہ حالت تھی کہ نبی کے فرمانے سے ایک بیل بھی بمشکل ذبح کیا اور وہ خود ایسے فرمانبردار تھے کہ خواب میں اشارہ پا کر بیٹے کی قربانی پر آمادہ ہوگئے۔ پھر جب بزرگوں کی پیروی نہیں تو بزرگ زادہ ہونے سے کیا فائدہ ؟
دوسرے قصہ میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح خدا نے اس مردے کو زندہ کردیا کہ جس کے بنی اسرائیل مقر ہیں تو اے عرب کے مشرکو ! تم کو قیامت کے روز مر کر زندہ ہونے میں کیوں شک ہے ؟
فائدہ اول : علمائِ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ بیل ایک شخص کا تھا مرتے وقت اس نے ایک لڑکا یتیم اور یہ بیل چھوڑا اور خدا تعالیٰ سے عرض کیا کہ میں آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ یہ لڑکا اپنی والدہ کا نہایت فرماں بردار تھا۔ پھر جب بنی اسرائیل میں یہ قصہ پیش آیا تو یہ تمام صفات اس ہی بیل میں پائی گئیں۔ بنی اسرائیل نے اس سے خریدنا چاہا۔ اس نے اپنی والدہ کی اجازت پر منحصر رکھا اس کی والدہ نے اس قدر قیمت لی کہ جو مدت العمر اس فرزند سعادت مند اور اس بیوہ کو کافی ہوگئی۔ خدا تعالیٰ نے اس نیک مرد کے توکل اور اس فرمانبردار فرزند کی اطاعت کا ثمرہ دکھایا۔
فائدہ دوم : بیل کے ذبح کرنے میں ایک تو یہی سر تھا اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل اس کی پرستش کرتے تھے اس لیے اس کی قربانی سے ان کے دلوں میں اس جانور کی عظمت کا دور کرنا بھی مقصود تھا۔
فائدہ سوم : علماء نے یہاں بہت کچھ موشگافی کی ہے کہ آیا ابتدائً بیل معین تھا یا غیر معین۔ پھر ماھی کیوں کہا کیف کیوں نہ کہا ؟ وغیرہ ذلک۔ 1 ؎ اب خدا تعالیٰ اس دوسری بات کو جداگانہ بیان فرماتا ہے :
Ayahs 2:72–73ترکیب : وائو حرف عطف ایک جملہ کا پہلے جملہ پر عطف ہوتا چلا آتا ہے۔ اذکر محذوف عامل اللہ مبتدا مخرج الخ جملہ اس کی خبر ما موضع نصب میں ہے بسبب مخرج کے اور یہ الذی کے معنی میں ہے اور عائد محذوف ہے کذلک کاف موضع نصب میں ہے کس لیے کہ نعت سے مصدر محذوف کے تقدیرہ یحی اللہ الموتی احیاء مثل ذلک اور اتم کی اصل تدائرتم ہے بروزن تفاعلتم تخفیف کے لیے ت کود سے بدل کر دال کو دال میں ساکن کرکے ادغام کردیا۔ چونکہ ابتدا بسکون متعذر تھی ہمزہ وصل اول میں لائے اور أتم ہوگیا۔
1 ؎ مفسر نیچر نے بیل کے کسی ٹکڑے کو میت پر مارنے سے زندہ ہوجانے کو خلاف قانون قدرت سمجھ کر اس آیت کی تاویل کی اور اس پر جو عربی قاعدہ سے اعتراضات ہونے لگے آپ ہی ان کا جواب دینا شروع کردیا۔ ان جوابوں کو اس مفسر نے غلط ثابت کردیا اور مؤل کی تاویل پر اعتراضات قائم رکھے جس سے وہ تاویل غلط ہوگئی اور پھر ماول نے جو جمہور کی مراد پر اعتراض کیا تھا اس کو بھی اس مفسر نے اٹھا دیا جس سے جمہور کے معنی ہی صحیح ثابت ہوئے۔
تفسیر : یہ اسی پہلے قصہ کا باقی ٹکڑا ہے جس میں خدا تعالیٰ نے نبی کے ہاتھ سے ایک معجزہ دکھایا اور یہ کہ حکم دیا کہ ایک بیل کا پارچہ (بعض کہتے ہیں زبان بعض کہتے ہیں دم) اس میت پر دھر دو یہ جی اٹھے گا۔ چناچہ ایسا کیا اور اس نے زندہ ہو کر اپنا قاتل بتا دیا۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم مردوں کو اس طرح زندہ کردیا کرتے ہیں اور تم کو اپنی نشانیاں دکھایا کرتے ہیں تاکہ تم ایمان لائو اور خدا کو قادر مطلق سمجھو یہ تو سِرّ مخفی ہے کہ بیل کے ذبح کرنے کی کیوں مشقت ڈالی یوں ہی اس کو کیوں زندہ نہ کردیا۔ اس کو وہی جانتا ہے مگر دو فائدے اس کے ظاہری ہیں۔ اول حشر کا ثبوت، دوم ان کی سرکشی پر تازیانہ۔
واضح ہو کہ : دہریے ایسے خوارق کے منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اہل ادیان بالخصوص مسلمان بھی منکر ہوجائیں اس لیے بعض نے ان آیات کے معانی کو بدلا اور بےتک بہت سی باتیں اور پھر اپنی توجیہ باطل پر آپ ہی اعتراضات کرکے ان کو اٹھانا چاہا مگر اٹھا نہ سکا۔ اول شبہ کا جواب یہ دیا کہ اضربوہ کی ضمیر میت کی طرف اور بعضہا کی ضمیر موت نفس کی طرف پھرتی ہے سو یہ جواب غلط ہے اس لیے نفس کا اطلاق جسم مردہ پر نہیں آتا زندہ کو کہتے ہیں اور ٹکڑا بھی نفس کا نہیں ہوتا بلکہ جسم کا۔ پھر اس کی طرف ضمیر کس طرح سے راجع ہوسکتی ہے۔ دوسرا شبہ موتٰی اور یحیٰی کے معنی پر ہے کیونکہ موتی کے معنی نامعلوم اور یحییٰ کے معنی ظاہر کرنے کے ماول نے لیے ہیں۔ اس کا خود جواب دیتے ہیں کہ آیت و کنتم امواتاً فاحیاکم میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور لفظ مخرج اور تکتمون جو مقابلہ میں پڑا ہے اس معنی کے لیے قرینہ ہے یہ جواب بھی غلط ہے اول تو آیت مذکور میں یہ معنی مراد نہیں اور جو ہوں تو ایک جگہ مجاز تسلیم کرنے سے ہر جگہ حقیقی معنی متروک نہیں ہوسکتے اور نہ یہ قرائن اس معنی کے لیے ہوسکتے ہیں (دوم) مخرج اور تکتمون تو یہی چاہتا ہے کہ یحییٰ کے معنی زندہ کرنا اور موتیٰ میت کی جمع کے معنی مردے لیے جاویں تاکہ ان کی خفیہ خیانت کا اظہار پایا جاوے۔ تیسرا شبہ کذلک کے معنی درست نہیں ہوتے اس کا جواب یہ ہے کہ فاظہرہ اللہ مقدر مان کر تشبیہ درست ہوجاوے گی اور مقدر ماننا نہ خلاف عقل ہے نہ نقل۔ یہ جواب بھی غلط ہے کیونکہ یریکم آیٰتِہٖ کہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے صریح دلیل ہے کہ یہ فعل خارق عادت ہے کہ غیر محسوس خدا تعالیٰ کے وجود کامل کی دلیل بنایا گیا ہے ورنہ اس طرح کے ٹوٹکے اور شعبدے آیات الٰہی نہیں ہوسکتے۔
Ayah 2:74ترکیب : ثم استبعاد قسوۃ کے لیے نہ کہ تراخی کے لیے قست فعل قلوبکم فاعل من بعد ذلک متعلق ہے فعل سے ھی مبتدا کالحجارۃ مستقر کے متعلق ہو کر خبر۔ اور ممکن کہ کاف اسمیہ بمعنی مثل ہو اور متعلق نہ ہو اور بمنزلہ اس او کے ہو کہ جو کصیب میں۔ اشد معطوف ہے کاف پر تقدیرہ اوہی اشد قسوۃ تمیز ہے لما میں ل تاکید اور ماموصولہ موضع نسب میں ہے کیونکہ اسم ان ہے اور یتفجرمنہ الانہار جملہ فعلیہ اس کا صلہ اور من الحجارۃ خبر ان ہے اور اسی پر وان منہا لما یشقق کو قیاس کرنا چاہیے۔ من خشیۃ اللہ موضع نسب میں ہے یہبط سے کما تقول یہبط خشیۃ اللّٰہ باقی صاف ہے۔
تفسیر : خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کو فرماتا ہے کہ ان واقعات اور عجائبات قدرت کے دیکھنے کے بعد تم کو مساواتی ہوگئی اور چکنے گھڑے کی طرح ہوگئے اور گناہ کرتے کرتے تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے جس طرح پتھر میں اثر نہیں ہوتا اسی طرح تمہارے دلوں میں انبیاء (علیہم السلام) کی نصیحت اثر نہیں کرتی بلکہ پتھروں سے تو کچھ فائدہ بھی ہے اور وہ کچھ اثر بھی قبول کرتے ہیں کس لیے کہ بعض میں سے تو پانی کے چشمے پھوٹ کر نکلتے ہیں کہ جن سے خلق اللہ فیض پاتی ہے اور بعض میں سے پانی جھرتا ہے جبکہ وہ ابخرات کے زور سے پھٹ جاتے ہیں اور بعض پتھر پہاڑ کی چوٹی سے زمین پر گرتے ہیں گویا کہ ہیبت الٰہی سے لرز کر سجدہ میں گرتے ہیں اور تمہارے دلوں میں تو یہ بھی وصف نہیں۔ پس وہ پتھروں سے بھی سخت تر ہے۔ اگر یہ لوگ خاتم النبین ﷺ کو نہ مانیں یا ان کے معجزات اور پراثر وعظ پر قہقہہ اڑائیں تو ان سے کچھ تعجب نہیں۔ اس سے کوئی عرب یا اور قوم یہ نہ سمجھے کہ نبی (علیہ السلام) کی نبوت اور فیض ہدایت کا قصور ہے بلکہ ان کی استعداد میں فتور ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہود کی سخت دلی کی مذمت فرمائی اور ان کو سانپوں کے بچے کہا۔
متعلقات : قساوہ : غلظت اور سختی کو کہتے ہیں جیسے کہ پتھر میں ہوتی ہے اور دل کی قساوت یہ ہے کہ اس میں خوف و عبرت کی جگہ نہ رہے۔
فجر : کھل جانا، پھوٹ پڑنا، چونکہ پہاڑوں میں تو بعض جگہ بڑے زور سے پانی نکل کر اس سے دریا اور نہریں بہتی ہیں۔ جیسا کہ دریاے گنگا اور جمنا کا منبع اور بعض پہاڑوں میں ابخرات کی شدت سے پتھر پھٹ کر ان سے تھوڑا تھوڑا پانی رسنے لگتا ہے۔ اس لیے ان دونوں کو جدا جدا بیان فرمایا اور جو دونوں کو ایک سمجھ کر کلام الٰہی پر اعتراض کرتا ہے وہ جاہل ہے۔
Ayahs 2:75–77ترکیب : ان یؤمنوا میں حرف جر محذوف ہے تقدیرہ فی ان یومنوا وقد کان جملہ حالیہ ہے تقدیرہ افتطمعون فی ایمانھم و شانھم الکذب و التحریف منھم موضع رفع میں ہے صفت ہے فریق کی اور یسمعون الخ جملہ کان کی خبر اور فریق اسم ہے اذا حرف شرط لقوا الخ شرط قالوا آمنا جواب شرط اور اسی طرح اذا خلا بعضہم الخ شرط قالو الخ جواب شرط بما فتح اللہ میں ماموصولہ ہے اور ممکن ہے کہ موصوفہ اور مصدریہ ہو۔
تفسیر : خدا تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دیتا ہے کہ تم ان یہودیوں سے کیا امید رکھتے ہو کہ وہ دین اسلام قبول کریں گے ان سے یہ امید نہ رکھو کس لیے کہ وہ شریر قوم ہے کہ جس میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جو کلام خدا سن کر اور خوب سمجھ کر پھر اپنی خواہش نفسانی سے بدل ڈالتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ یہ فعل سخت گناہ ہے۔ بس جس کلام کو یہ برحق سمجھتے تھے اور جس نبی پر یہ ایمان لائے ہوئے تھے اس کی نسبت ان کی یہ کارروائی تھی تو اور کا کیا ذکر ہے ؟ علماء کے اس میں مختلف قول ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے روبرو یہود یہ حرکت کرتے تھے کہ تورات کو سن کر اور سمجھ کر پھر اس کے برخلاف عمل کرتے تھے اور کلام الٰہی کو نہ مانتے تھے یہی ان کی تحریف تھی بعض کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد علمائِ یہود نے اپنے اغراض نفسانیہ سے تورات میں تحریف کی۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کو تاویلات اور الفاظ کی کمی زیادتی کرکے بدل دیا اس لیے حواری عہد عتیق کے حوالہ دیتے ہیں حالانکہ ان میں وہ حوالہ نہیں پائے جاتے۔ کسی کتاب عہد عتیق میں نہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ناصری کہلائے گا حالانکہ حواری کہتے ہیں کہ انبیاء یہ بات فرما گئے ہیں اور بہت سے شواہد ہیں اور اسی طرح جناب رسول خدا ﷺ کی بشارات میں تصرف بیجا کیا اور یہی قول صحیح ہے اور اس بات کا ثبوت علمائے اسلام نے کتب مناظرہ میں بڑی شد و مد سے کردیا ہے۔ اب خدائے تعالیٰ یہود کی بدخصلتوں سے مطلع کرکے نبی (علیہ السلام) کو تسلی دیتا ہے۔ فرماتا ہے کہ ان یہود کی بےدینی یہاں تک ہے کہ ایمان اور کفر کو ایک سرسری بات سمجھ رکھا ہے۔ پس جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لائے اور جب آپس میں اکیلے ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو اس بات پر ملامت کرتا ہے کہ تم تورات اور دیگر کتب انبیاء سے مسلمانوں کے روبرو وہ باتیں کیوں پیش کیا کرتے ہو کہ جن سے ان کے دین کا برحق ہونا پایا جاتا ہے کس لیے کہ جس طرح وہ تم کو اور باتوں سے الزام دیتے اسی طرح عنداللہ بھی تم کو ملزم کریں گے اور خدا کے سامنے تمہارے پاس کوئی حجت اسلام قبول کرنے کی نہ رہے گی۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا سے کوئی بات مخفی نہیں خواہ وہ ظاہر کریں خواہ چھپاویں۔ بہرحال وہ ہر بات جانتا ہے وہ خود اپنے نبی کی زبانی اور اس کے علماء کی معرفت ان باتوں کو ظاہر کر دے گا وہ ہر حال میں خدا کے نزدیک اسلام قبول نہ کرنے پر ملزم ٹھہریں گے کیا وہ اس بات کو نہیں جانتے ؟ عندر بکم کے معنی میں علماء کی مختلف توجیہات ہیں مگر قوی اور صاف یہ ہے۔ ای فی الحکمہ۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ عام یہود کی بیدینی اور جہالت ظاہر کرتا ہے۔
Ayahs 2:78–82ترکیب : امیون مبتدا موصوف لایعلمون الکتاب صفت منہم خبر مقدم الا امانی استثنا منقطع ہے بمعنی لاکن امانی امنیہ کی جمع ہے جس کے معنی دلی منصوبہ ہیں اور اس لیے اس کا اطلاق جھوٹ اور آرزو اور جو پڑھنے میں آتا ہے اس پر ہوتا ہے۔ ان بمعنی مابقرینہ الاو التقدیر ان ھم الاقوم یظنون فویل 2 ؎ للذین یکتبون مبتداء و خبر ہیں۔ الکتاب مفعول بہ ہے بمعنی مکتوب اور جس نے مصدر سمجھا ضعیف کو اختیار کیا بایدیہم اید کی جمع ہے جس کی اصل میں یدی کفلس ہے اور جمع قلت ہے باوجودیکہ ہاتھوں سے لکھتے ہیں نہ پائوں سے پھر اس کو جو ذکر کیا تو تاکید کے لیے جیسا کہ بولتے ہیں اپنی آنکھ سے دیکھا لیشتروا میں لام یقولون کے متعلق ہے مماکتبت میں مابمعنی الذی یا نکرئہ موصوفہ یا مصدریہ ہے اور اسی طرح مما یکسبون میں قالوا فعل ھم ضمیر فاعل لن تمسنا الخ جملہ مفعول بہ الا ایام میں ایام کو بوجہ ظرف ہونے کے نصب ہے نہ الا کی وجہ سے کس لیے کہ فعل اس ظرف سے پہلے کسی اور ظرف کی طرف متعدی نہیں ہوا (تبیان) ایام اصل میں ایوام یوم کی جمع تھا وائو کو یا بنالیا اوری کو ادغام کردیا۔ أتخذتم ہمزہ واسطے استفہام کے ہے اور ہمزہ وصل محذوف ہے بلی کلمہ ایجاب ہے من بمعنی الذی اور ممکن ہے کہ شرطیہ ہو اور دونوں تقدیر پر یہ مبتدا اصحاب النار خبر جملہ جواب شرط یا خبر من۔ ام ہمزہ استفہام کے معنی میں ہے ای الامرین کائن یعنی ام متصلہ یا اس کو منقطعہ کہا جاوے بمعنی بل ہے۔
تفسیر : یعنی ان کے حامیوں کی یہ کیفیت ہے کہ تورات یا کسی اور کتاب کو تو جانتے نہیں صرف چند خیالی ڈھکوسلے اپنے دل میں جما رکھے ہیں : اول یہ کہ تمام مخلوق سے علیحدہ خدا کو ہم سے ایک اختصاص خاص ہے کیونکہ اس نے ہم کو بیٹا کیا ہے اور محبوب بنایا ہے پس ہمارا ہر گناہ معاف ہے۔ دوم یہ کہ ہمارے باپ دادا انبیاء تھے ان کو قدرت ہے کہ بغیر مرضی خدا ہم کو دوزخ سے چھڑا لیں گے (جیسے کہ آج کل جاہل پیرزادوں کے خیالات فاسد ہیں) ۔ سوم یہ کہ یہود کو اگر عذاب بھی ہوا تو چند روز کا ہوگا۔ چہارم استحقاق نبوت ہمارے خاندان کو حاصل ہے اور کسی خاندان کا شخص نبی نہیں ہوسکتا (جیسے ہندوئوں میں برہمنوں کے خیالات فاسدہ ہیں) ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بےاصل خیالات ہیں ان کے علماء کا یہ حال ہے کہ غلط مسائل اور امراء کی خواہش کے موافق روپیہ لینے کے لیے اپنے ہاتھوں سے جھوٹی روایات لکھ کر پیش کردیا
1 ؎ ویل۔ زبان عرب میں ناراضی کے موقع پر استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ہماری زبان میں تف اور پھٹے منہ بولتے ہیں۔ پس وہ جو امام احمد اور ترمذی اور ابو یعلی وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ ویل جہنم میں ایک کنواں اور ابن جریر نے روایت کیا ہے کہ وہ جہنم میں پہاڑ ہے سو اس سے مراد یہ ہے کہ یہ چیزیں خدا کے کلمہ ویل کا مظہر ہے یعنی اس کی ناراضی ان صورتوں میں ظہور کرے گی سو یہ سب سچ ہے۔
2 ؎ اس آیت سے بعض نے استدلال کیا ہے کہ قرآن مجید کی اجرت کتابت اور لکھ کر بیچنا جائز نہیں مگر صحیح یہ ہے کہ جائز ہے اور اسی پر علماء کا فتویٰ ہے (تفسیر عزیزی)
کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے یعنی تورات کی عبارت ہے۔ اگر کسی پرانے نوشتے کو حسن ظن سے من اللہ کہہ دیتے تو ایک بات تھی غضب یہ کہ خاص اپنے ہاتھ کے نوشتہ کو من اللہ کہتے ہیں۔ اس لیے یکتبون بایدیہم کی قید لگائی ورنہ لکھا تو ہاتھوں سے ہی کرتے ہیں اور آنکھوں اور کانوں سے کون لکھتا ہے ؟
فرماتا ہے۔ تف ہے اس لکھنے پر اور تف ہے اس کمائی پر اس کے بعد وقالوا لن تمسنا النار الخ ان کے امانی اور خیالی منصوبوں کو بیان فرما کر اس کا رد کرتا ہے کہ کیا خدا نے تم سے اس کا کوئی عہد کرلیا ہے کہ وہ تمہارے گناہوں پر عذاب بھی دے گا تو چند روز کے لئے، ہرگز نہیں جزا و سزا کا عام قاعدہ ہے کوئی ہو جو ہر طرح سے گناہوں میں آلودہ ہوگا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جو ایمان لاوے گا نیک کام کرے گا ہمیشہ جنت میں رہے گا۔