Ayah 2:253ترکیب : تلک آیات اللّٰہ مبتداء نتلوھا علیک خبر اور نتلو حال ہے تلک مبتداء الرسل خبر اور ممکن ہے تلک الرسل مبتداء فضلنا خبر ہو۔ من کلم اللّٰہ بدل ہے محل فضلنا سے درجات حال ہے بعضہم سے اور ممکن ہے کہ فی مقدر ہو من بعد الخ بدل ہے من بعضہم سے مع اعادۃ حرف جر ولکن استدراک ہے مضمون ماقبل سے۔
تفسیر : اس سے پہلے خدا تعالیٰ نے طالوت و جالوت اور ان کے باہم مقابلہ اور ایمانداروں کے استقلال کا ذکر کرکے جہاد کے مشروع ہونے کی وجہ بیان فرمائی تھی کہ اس سے خدا مفسدوں کے شر کو دفع کرتا ہے، اگر یہ نہ ہو تو مفسد لوگ ملک کو ویران کردیا کریں اور یہ انبیائِ اولو العزم کا قدیم معمول ہے۔ پھر آپ پر اعتراض بےجا ہے کہ نبیوں کا کام لڑائی نہیں بلکہ آپ بھی انہیں رسول میں سے ہیں جو ایسا کام کرتے آئے ہیں اور اس لیے طالوت و جالوت کا قصہ بیان کیا گیا۔ اب یہاں یہ بات جتلاتا ہے کہ شر کے دفع کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو درجات میں مختلف ہیں۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں اول سرگروہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے جن کی طرف منہم من کلم اللّٰہ کے ساتھ اشارہ کیا اور اخیر بنی اسرائیل میں بڑے اولو العزم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن کے فضائل واتینا عیسیٰ ابن مریم البینات وایدناہ بروح القدس کے ساتھ بیان ہوئے اور ان کے درمیان حضرت سموئیل اور دائود اور الیاس اور نحمیاہ اور یرمیاہ اور دانیال وغیرہم علیھم السلام موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی اصلاح کرنے والے گزرے ہیں اور اے محمد ( ! ﷺ آپ بھی رسول برحق ہیں۔ اس بات کی طرف تلک آیات اللّٰہ الخ میں اشارہ کیا یعنی باوجود یکہ آپ نبی امی ہیں نہ تو رات کو دیکھا نہ انجیل کو۔ پھر بنی اسرائیل کے صحیح صحیح اور جزئیات احوال کا اس طرح بیان کرنا (کہ جو مطابق واقع ہوں۔ حالانکہ بائبل کے علماء بھی اس طرح بیان نہیں کرسکتے۔ خود بائبل میں تعارض اور غلطیاں ہیں) آپ کا کام نہیں بلکہ ہم آپ کو یہ باتیں ٹھیک ٹھیک جبرئیل کی معرفت سناتے ہیں۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی دی گئی کہ پہلے زمانوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بنی اسرائیل کے سرکشوں نے نہ مانا اور پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر انکار کیا۔ اگر آپ کا انکار اور آپ
1 ؎ روح القدس سے بعض کہتے ہیں جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں بعض کہتے ہیں وہ روح کہ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حواریوں پر نازل ہوئی تھی جس کی وجہ سے معجزات و کرامات دکھاتے تھے اور یہی ان کی مؤیَّد تھی۔کوئی یہ شبہ نہ کرے (کہ یہاں تو خدائے تعالیٰ کلم اللہ فرماتا ہے کہ خدا نے کلام رسولوں سے کیا اور سورة شوری میں یہ فرمایا وَ ما کان لبشر ان یکلمہ اللّٰہ الا وحیا اور من وراء حجاب و یرسل رسولا الا یہ کہ کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ خدا اس سے کلام کرے مگر بذریعہ وحی کے یا حجاب سے یا فرشتے کے ذریعہ سے پس تعارض پایا گیا) کس لیے کہ یہاں جو کلام کرنا فرمایا ہے اس سے مراد اسی طرح کا کلام کرنا ہے جو سورة شوریٰ میں بیان ہوا یعنی بذریعہ وحی یا حجاب یا فرشتے کے ذریعہ سے کس لیے کہ دو بدو بالمشافہ جیسا کہ انسان باہم کلام کرتے ہیں اس طرح اس سے کوئی نہیں کرسکتا پس تعارض نہ رہا۔
کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں تو کچھ نئی اور تعجب کی بات نہیں۔ نہ یہ رسالت کا قصور ہے۔ اس کے بعد مفسد اور سرکشوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ولوشاء اللّٰہ الآیۃ کہ یہ انکا راہ حق میں اختلاف اور قتال کہ کوئی ایمان لایا کوئی کافر ہوگیا۔ سب تقدیرِ الٰہی کی وجہ سے ہے۔ اس میں ان نادانوں کے اعتراض کا بھی جواب ہے جو کہتے ہیں خدا کیوں لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا اور کیوں انبیاء بھیج کر ہدایت پر مجبور کرتا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے ہماری تقدیر سے ہوتا ہے لیکن ہم ہر حال میں اتمام حجت کرنے کے لیے اسباب ہدایت دکھاتے ہیں ولکن اللّٰہ یفعل ما یرید۔
Ayah 2:254ترکیب : انفقوا۔ اس کا مفعول شیاء محذوف ہے ‘ مما میں مابعنی الذی اور عائد محذوف ہے ای رزقنا کموہ۔ لابیع فیہ جملہ صفت یوم ولاخلۃ ولا شفاعۃ معطوف ہے بیع پر اللّٰہ مبتداء لا الہ الا ہو جملہ خبر الحی القیوم خبر ثانی لا تاخذہ الخ جملہ مستانفہ اور ممکن ہے کہ خبر ہو حی کی سنۃ اصل میں وسنۃ مثل وعدیعدعدۃ۔
تفسیر : پہلے خدا تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور قاتلوا فی سبیل اللّٰہ فرمایا تھا جس طرح اس کی تائید اور فوائد ظاہر کرنے کے لیے طالوت کا قصہ سنایا تاکہ ترقی دارین دل پر جم جاوے۔ اس کے بعد اللہ کی راہ میں صرف کرنے کی تاکید کی تھی کہ من ذالذی یقرض اللّٰہ قرضاً حسناً اسی طرح اس حکم کی تائید کے لیے پھر یہ آیت انفقوا الخ نازل فرمائی کیونکہ جان و مال کا صرف کرنا نفس پر گراں گزرتا ہے اور یہ بات بتلا دی کہ آج جو کچھ نیکی کرنی ہو سو کرلو کل یعنی روز حشر نہ کوئی عمل مول مل سکتا ہے نہ وہاں کسی کی دوستی کام آسکتی ہے نہ سفارش۔ پھر جو کچھ کافروں پر عذاب اور سختی ہوگی وہ انہیں کے ہاتھوں سے ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں سعادت حاصل نہ کی۔ سو یہ ظلم ان کے نفسوں پر انہیں کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنی صفات کے متعلق مسائل بیان فرماتا ہے۔ کس لیے کہ قرآن مجید کی عادت ہے کہ وہ علم توحید اور علم احکام اور علم قصص کو بڑی خوبی سے ملا کر بیان کرتا ہے۔ ہر ایک قصہ یا واقعہ کو ایسے موقع پر لا کر بیان کرتا ہے کہ جس سے اس کی توحید وصفات کاملہ کا ثبوت ہوتا ہے یا احکام پر نفس کو رغبت ہوتی ہے اور یہ بیان کا نہایت عمدہ طریق ہے تاکہ طبیعت سامع کو ملال نہ ہو اور جب وہ ایک بیان سے دوسرے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو گویا ایک باغ کی سیر کرکے دوسرے کی سیر کرتا ہے جس سے دل پر فرحت پیدا ہوتی ہے۔ سو اس سے اس نے یہ آیت اللہ لا الہ الا ھو کہ جس کو آیۃ الکرسی کہتے ہیں ٗ نازل فرمائی۔ اس میں ان جملہ عیوب و اعتراضات کی کہ جو جہاد کے بارے میں جاہل لوگ خدا پر کرتے ہیں نفی کردی گئی۔ اس آیت کے مضامین کی خوبی بیان سے باہر ہے۔ تمام کتب الہامیہ میں اس قدر مطالب اس کی ذات وصفات کے متعلق نہیں ہیں۔ اس لیے احادیث صحیحہ میں اس کے فضائل بیشمار آئے ہیں جن کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں جو چاہے مشکوٰۃ المصابیح وغیرہ کتابوں میں دیکھ لے۔
Ayah 2:255متعلقات
(1) اللّٰہ لا الہ الا ھو منصب نبوت کا یہ پہلا کام ہے کہ اس کی ذات کا ثبوت کرکے جس قدر بیوقوفوں نے اس کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں۔ ان کی نفی کرکے اس کی صفات کاملہ کا ثبوت کرے اور جو کچھ قوت متوہمہ نے مخلوقات و محسوسات پر قیاس کرکے اس بیچوں و بیچگوں میں عیوب ثابت کر رکھے ہیں ٗ ان کو مٹا دے۔ اس لیے سب سے مقدم لفظ اللہ کو ذکر کیا کہ جو ایسی ذات کا نام ہے کہ جس میں تمام خوبیاں ہوں اور وہ کسی کا کسی بات میں محتاج نہ ہو اور پھر سب نقصان کی باتوں سے پاک ہو۔ سو جب عاقل اس مضمون کو خیال کرکے تمام کائنات کی طرف دیکھے گا تو سب کو حادث اور فانی اور مستعار الوجود جان کر ضرور یقین کرے گا کہ اس عالم حسی کے پردہ میں ضرور کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی طرف سب کے وجودات کے سلسلے منتہی ہوتے ہیں اور جس کے ہاتھ میں سب کی ڈوریاں ہیں یا جس کے نور کی سب شعاعیں ہیں۔ اس کے بعد لا الہ الا ھو سے اس کی وحدانیت ثابت کی اور عالم وجود میں اس کے وجود کے آگے سب کو پست کردیا۔ اس کے بعد الحی القیوم کہہ کر اس کی حیات حقیقی اور اس کا واجب الوجود ہونا ثابت کردیا۔ القیوم بروزن فیعول من قام القیوم پھر جب واو اور ی جمع ہوئے اور اول ساکن تھا تو و کو ی کرکے ی میں ادغام کردیا۔ مجاہد کہتے ہیں اس کے معنی ہر چیز پر قائم کے ہیں یعنی ہر شخص کے رزق و روزی وغیرہ امور کی تدبیر کرنے والا۔ ضحاک کہتے ہیں۔ دائم الوجود۔ قوی یہ ہے کہ اس کے معنی واجب الوجود کے ہیں۔ سو یہ لفظ تمام صفات کمالیہ کا سر چشمہ ہے اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہونے کا منبع۔ اس کے بعد پھر کسی صفت کی تشریح اجمال کی تفصیل ہے۔ اس کے بعد لاتاخذہ سنۃ ولا نوم سے یہ بات ثابت کردی کہ وہ جمیع خصائص ممکنات سے بری ہے۔ پھر جب ایسا ہے تو مافی السمٰوٰت ومافی الارض کہ تمام آسمان و زمین اسی کے ہیں۔ اس کے آگے اور کون ہے جو ہمسری کا دعویٰ کرے یا اپنی وجاہت اور دھمکی سے کسی کی سفارش کرسکے۔ من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ جب تمام ممکنات اس کی معلول اور وہ سب کی علت ہے تو ہر چیز کا علم اس کو حاضر ہے۔ یعلم مابین ایدیہم وما خلفہم بخلاف اور ممکنات کے کہ ان کو دوسری ممکنات سے یہ علاقہ نہیں۔ پھر کون ہے کہ جن چیزوں کو وہ جانتا ہے وہ بھی جانے لا یحیطون بشی ئٍ من علمہ ہاں جس قدر چیزیں اس نے اپنے بندوں کو خواہ بذریعہ حواس خواہ بذریعہ الہام وحی بتلائی ہیں اسی قدر بندے جان سکتے ہیں۔ الابماشاء۔
(2) وسع کرسیہ۔ کرسی کے لغوی معنی ایک چیز کا دوسرے سے ملنا (والکرس ابوال الدواب وابعارہا بتلبدبعضہا فوق بعض ومنہ الکراسۃ لترکب بعض اوراقہا علی بعض تفسیر کبیر) اور کرسی کو بھی اسی لیے کرسی کہتے ہیں کہ اس کی لکڑیاں باہم ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ علماء محققین کہتے ہیں وہ کرسی اور تخت پر بیٹھنے سے پاک ہے۔ یہ الفاظ بطور استعارات اس کی ذات مقدسہ کے لیے قرآن میں مستعمل ہوئے ہیں۔ اس جگہ اس کے معنی سلطنت اور قدرت کے ہیں کہ جو ہر چیز کی ایجاد کے لیے اصل ہے والعرب یسمون اصل کل شیء الکرسی اس تقدیر پر آیت کے یہ معنی ہیں کہ اس کی قدرت آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور یہ قرین قیاس ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بندوں سے ان کی عادت و عرف کے موافق کلام کرتا ہے۔ سو جس طرح بندے بادشاہ کے لیے تخت اور کرسی تصور کرتے ہیں اسی طرح یہ الفاظ اس نے اپنی ذات پاک کے لیے بولے۔ اس سے ظاہری معنی مراد نہیں۔ اہل حدیث یہ کہتے ہیں کہ ان الفاظ کے جو معنی ہیں اس کی ذات کے لیے ثابت ہیں مگر ہم اس کی حقیقت و کیفیت نہیں جانتے اور ظاہر یہ اور ان کے مقلد نہایت غلو کرکے اس کے لیے عرش پر بیٹھنا اور دیگر خواص جسمانیہ صرف خبر احاد اور ظاہر الفاظ کے زور پر ثابت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ قرآن میں جس طرح حقیقت کا استعمال ہوا ہے اسی طرح مجاز اور کنایہ اور استعارہ اور تشبیہ کا بھی۔
(3) من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ اس سے معتزلہ نے شفاعت کا انکار کیا ہے مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ اس سے تو شفاعت کا ثبوت ہوتا ہے۔ غایۃ الامر یہ کہ شفاعت اس کے اذن پر موقوف ہے۔ سو اس نے اپنے حبیب کو اذن دے دیا ہے اور پھر قیامت کو اس کو تازہ کرے گا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ شافع اکبر ہیں۔ بنی آدم حضرت ﷺ کے دامن تلے پناہ لیں گے۔ آپ ایمانداروں کو پناہ دیں گے۔
Ayahs 2:256–257ترکیب : اکراہ اسم لا فی الدین خبر لاتبین اے تمیز فعل ‘ الرشد فاعل من الغی موضع نصب میں مفعول ہو کر تمام جملہ علت ہے۔ لا اکراہ کی فمن یکفر الخ شرط ‘ طاغوت اس کی اصل طیغوت ہے کیونکہ یہ طغیت تطغی کا مصدر ہے مثل ملکوت اور رہبوت کے یہ مذکر مونث دونوں طرح مستعمل ہوتا ہے۔ فقد استمسک الخ جزا الوثقی مؤنث ہے اوثق کا مثل اوسط و وسطے لا انفصام لہا جملہ حال ہے ضمیر وثقی سے یا عروہ سے اللّٰہ مبتدا اولی الذین الخ خبر یخرجہم جملہ حال ہے اللہ سے وقس علیہ الباقی۔
تفسیر : جہاد کی غرض زبردستی اسلام پھیلانا نہیں : گرچہ پہلی آیات میں خدا تعالیٰ جہاد کی علت فرما چکا تھا۔ ولولا دفع اللّٰہ الناس الآیہ اور معترضوں کو جواب شافی دے چکا تھا مگر وہ جواب اشارۃً تھا اس لیے اس کی تشریح اور تفسیر کردی کہ جہاد سے یہ غرض نہیں کہ کسی کو زبردستی مسلمان کیا جاوے اور بزور شمشیر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاوے جیسا کہ مخالفین اسلام کج فہمی سے یہ تصور کرکے اسلام پر اعتراض کیا کرتے ہیں اور یہ اس لیے کہ خدا نے اپنے نبی برحق کی معرفت وہ معجزات و آیات بینات ظاہر کئے کہ جن سے حق و باطل میں رات دن کی طرح امتیاز ہوگیا پھر اب جو کوئی غیر اللہ کی عبادت و شان الوہیت کا انکار کرکے خدائے واحد پر ایمان لاتا ہے تو وہ ایک ایسے قوی وسیلہ کو پکڑتا ہے کہ جو کبھی نہیں ٹوٹے گا اور اللہ خلوص دل اور زبانی باتیں سب کو سنتا اور جانتا ہے۔
ایمان ایسی عمدہ چیز ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ بندہ سے محبت کرتا ہے اور اس کو کفر اور طبیعت اور رسوم کی اندھیریوں سے نکال کر نور میں داخل کرتا ہے اور جو اس پر ایمان نہیں رکھتے ان کے محب اور مددگار شیاطین ہیں کہ جو ان کو نور فطرت سے نکال کر کفر اور اخلاق رذیلہ اور شہوات وحب جاہ و مال کی اندھیریوں میں ڈالتے ہیں جو موت کے بعد جہنم کی صورت میں ظاہر ہوں گی اور جس طرح ان اندھیریوں سے ان کو عمر بھر رستگاری نہ ہوئی وہاں بھی نہ ہوگی اس لیے وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
پس جہاد سے یہ غرض نہیں جو مخالفین سمجھتے ہیں بلکہ دنیا سے شر و فساد کا دفع کرنا اور قبیحات کا مٹانا اور دنیا کے ناپاک کرنے والوں کی شوکت کا توڑنا سو یہ عین مقتضائے رسالت اور نتیجہ سلطنت آسمانی ہے جس کے ظہور کی حضرت یحییٰ اور حضرت موسیٰ (علیہم السلام) خبر دیتے آئے ہیں۔ اس پر اعتراض کرنا عقل سلیم پر پتھر پھینکنا ہے۔ طاغوت سے مراد سرکش ہیں جن کا مصداق بعض نے شیاطین جن و انس قرار دیا ہے یعنی ان کے گروہ اور سرگروہ جو کفریات کی تعلیم کرتے تھے بعض نے بت مراد رکھے ہیں واللہ اعلم عروہ اس کی جمع عرا آتی ہے اس کے معنی دستہ وغیرہ کے ہوتے ہیں جیسا کہ لوٹے اور پیالی سے لگا ہوا ہوتا ہے۔ یہ ایک طرح کا استعارہ ہے کہ جو امر معقول کو محسوسات کے پیرایہ میں بیان کیا کرتے ہیں جو شخص دین الٰہی قبول کرتا ہے گویا ایک نہایت مضبوط دستہ غیبی کو پکڑتا ہے۔
Ayah 2:2581 ؎ یعنی اس کے معاملہ کو بھی دیکھا 12۔
ترکیب : ان اتاہ اللّٰہ یہ جملہ موضع نصب میں ہے سیبویہ کے نزدیک اور خلیل کے نزدیک موضع جر میں ہے تقدیرہ لان اتاہ اللہ۔ من المشرق اور من المغرب فعل سے متعلق ہیں۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات کا ذکر آیت الکرسی میں کیا اور علم التوحید کی بحث شروع فرمائی تو اس کے بعد تین قصے اس کے مناسب اور مؤید ذکر کئے جن کو فی الجملہ جہاد اور قتال فی سبیل اللہ سے بھی ایک لطیف مناسبت ہے۔ (1) قصہ ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا ہے جو خدا تعالیٰ کے وجود کے اثبات کے لیے برہان قاطع ہے۔ (2) اوکالذی مر علی قریۃً سے شروع ہوتا ہے۔ (3) واذ قال ابراھٖم کیف تحی الموتی سے شروع ہوتا ہے۔ یہ دونوں قصہ اثبات حشر کے لیے ذکر ہوئے ہیں تاکہ مبداء و معاد کا کامل یقین ہوجائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شہر بابل کے قریب پیدا ہوئے تھے جب وہاں ان کی خدا پرستی کا شہرہ ہوا اور بت پرستی کی مذمت لوگوں میں مشہور ہوئی تو وہاں کے بادشاہ نمرود بن کوش 1 ؎ نے کہ جو جبار 2 ؎ اور سخت بےدین اور ملحد تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا کہ رب کون ہے اور کہاں ہے ؟ اگر ہے تو مجھ کو دکھا بلکہ دنیا میں ہر ایک چیز اپنے اسباب کے پیدا ہونے سے پیدا ہوجاتی ہے ٗ پھر آپ ہی فنا ہوجاتی ہے (یہ سب باتیں اس کی بادشاہی اور دولت کے نشہ سے تھیں) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ کے موجود ہونے پر دلیل بیان کی کہ ہم دنیا میں ایک ایسا فعل پاتے ہیں کہ جو کسی کے قبضہ قدرت میں نہیں جس سے معلوم ہوا کہ اس فعل کا فاعل کوئی اور قوی قادر ہے جو اپنی لطافت 3 ؎ کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتا اور وہ فعل مارنا اور جلانا ہے جس طرح کوئی شخص کسی تخت یا صندوقچہ کے اس کاریگر کا وجود کہ جو اب ہم کو دکھائی نہیں دیتا یوں ثابت کرے کہ آخر کوئی ہے کہ جس نے ان لکڑیوں میں تصرف کیا اور چھیل تراش کر ایک طور پر جمع کردیا اسی طرح مارنا جلانا تمام مخلوقات میں ایک قوی تصرف ہے جو کسی کے قبضہ میں نہیں۔ نہ کوئی از خود زندہ ہوسکتا ہے نہ کسی کو زندہ کرسکتا ہے نہ مار سکتا ہے اس کے جواب میں نمرود نے کہا اگر یہ فعل بلا توسط اسباب ہے تو میں اس کا قائل نہیں اور اگر اسباب کے ذریعہ سے ہے تو میں بھی بذریعہ اسباب مار سکتا جلا سکتا ہوں۔ ہم جماع کرتے ہیں اس نطفہ کے سبب سے آدمی بن جاتا ہے ٗ زہر کھلانے تلوار مارنے سے مرجاتا ہے انا احی وامیت اس کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ گو دنیا میں اس کے کاروبار عادتاً اسباب پر مبنی ہیں مگر وہ اسباب کس کے قبضہ میں ہیں۔ منجملہ اسباب عالم کے گردش افلاک اور آفتاب کا وتیرہ خاص پر طلوع و غروب کرنا ہے۔ اچھا آپ اس میں تو کوئی تصرف کر دیجئے۔ آفتاب کو مغرب کی طرف سے تو نکال کر دکھایئے۔ یہ سن کر وہ حیران اور بھونچکا ہوگیا مگر ایسے بےانصاف راہ پر نہیں آتے بلکہ شرمندہ ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈلوا دیا جس میں خدا نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سلامت رکھا اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) وہاں سے ہجرت کرکے ملک شام میں آئے۔ پادری اور ان کے مقلد اعتراض کیا کرتے ہیں کہ یہ قصہ تورات میں نہیں۔ اس لیے غلط ہے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کیا تورات کے دس بارہ ورق میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تمام وقائع عمر یہ مندرج ہیں بلکہ ہزاروں باتیں نہیں پھر کیا وہ سب غلط ہیں اور خدا کا بیان فرمانا ان کی صداقت کے لیے کافی نہیں !
1 ؎ بعض کہتے ہیں کہ یہ ضحاک کی طرف سے حاکم تھا۔
2 ؎ جیسا کہ تورات کتاب پیدائش کے باب 10 میں مذکور ہے۔ 12 منہ
3 ؎ دیکھئے ہوا باوجود یکہ جسم ہے مگر لطافت کی وجہ سے نظر نہیں آتی اور جو جسم کی کثافت سے بھی بری ہے تو وہ کیونکر محسوس ہو سکے۔ 12 منہ
Ayah 2:259ترکیب : او تفصیل کے لیے کالذی میں کاف زائد ہے جیسا کہ کمثلہ میں۔ بعض نے کہا زائد نہیں تب اس کا موضع نصب ہے التقدیر ارایت مثل الذی وھی خاویۃً جملہ موضع جر میں ہے صفت قریہ کی علی عروشہا متعلق ہے خاویۃً سے انی بمعنی کیف یا بمعنی متی نصب میں ہے یحییٰ سے مائۃ عام ظرف ہے اماتہ کا کم لبثت ظرف ہے لبثت کا لم یتسنہ اس میں ہا زائدہ وقف میں اصل فعل تیسنن جیسا کہ حماء مسنون آیا ہے چونکہ تین نون جمع ہوگئے تھے اخیر کو ی سے بدلا پھر ی کو الف سے اور الف جزم کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ بعض ہا کو اصلی کہتے ہیں ولنجعلک محذوف پر معطوف ہے تقدیرہ اریناک ذلک لتعلم قدرتنا ولنجعلک میں بعض کہتے ہیں و زائد ہے۔
تفسیر : یہ دوسرا قصہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمیناً چھ سو برس پیشتر ملک شام میں بمقام ایلیا گزرا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ پچھلے حملہ میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے ہزارہا بنی اسرائیل کو قتل کیا اور شہر یروشلم کو جلا کر برباد کردیا۔ بیت المقدس کو ڈھا کر اور جلا کر خاک سیاہ کردیا اور ستر (70) ہزار کو گرفتار کرکے ساتھ لے گیا اور ستر برس تک بنی اسرائیل وہاں اس کی قید میں رہے مگر حضرت یرمیا (علیہ السلام) یہیں رہے تھے۔ ایک بار وہ اس شہر کے پاس سے گزرے۔ اس کی یہ حالت اور ملک اور قوم کی بربادی دیکھ کر دل بھر آیا۔ حسرت کے طور پر کہنے لگے کہ اب اس شہر کو خدا کیونکر آباد کرے گا۔ خدا نے ان کو اپنی قدرت کاملہ کا تماشا دکھایا۔ وہ یہ کہ حضرت یرمیا نے اپنی سواری کا گدھا زیتون کے درخت سے باندھ دیا اور انگور کے شیرہ کا برتن اور روٹیوں کا تھیلا درخت سے لٹکا کر سو رہے۔ خدا نے ان کی روح قبض کرلی۔ یہاں تک کہ سو برس کا عرصہ ان پر گزر گیا۔ گدھے کی ہڈیاں بھی خشک ہوگئیں۔ اس عرصہ میں بخت نصر مرگیا اور ایران کے بادشاہوں کا دور دورا ہوگیا۔ تختششانی بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اپنے ملک میں واپس جاویں اور پھر بیت المقدس اور شہر کو آباد کریں سو تخمیناً بیالیس ہزار بنی اسرائیل کہ جن میں حضرت عزیر (علیہ السلام) بھی تھے ملک شام میں آئے اور بیت المقدس اور شہر کو از سرِ نو تعمیر کرنا شروع کیا۔ پھر کسی نے بادشاہ کو بہکا دیا اور لوگ بھی مانع آئے۔ آخر دارا شاہ کے عہد میں بنی اسرائیل کی واپسی کے بیس برس بعد یروشلم اور بیت المقدس پھر از سر نو تعمیر 1 ؎ ہوا۔ جیسا کہ دوم کتاب تاریخ اور کتاب عزرا اور کتاب نحمیا سے ثابت ہے۔ اس عرصہ میں خدا نے حضرت یرمیا کو زندہ کیا اور ان سے بطور الہام پوچھا کہ تم کتنی دیر تک پڑے رہے۔ چونکہ وہ صبح کو سوئے تھے عصر کے وقت زندہ ہوئے ٗ یہ کہا کہ ایک دن یا کم پڑا رہا ہوں وہاں سے جواب آیا کہ سو برس تک پڑا رہا ہے۔ گدھے کو دیکھ۔ دیکھا تو اس کی ہڈیاں سفید پڑی چمک رہی تھیں اور کھانے پینے کو دیکھا تو ویسا ہی تھا۔ پھر خدا نے ان کے روبرو گدھے کو زندہ کیا اور شہر میں آکر سب شہر اور بیت المقدس کو آباد دیکھ کر کہا ٗمجھے یقین ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے ٗ مردے کو بھی زندہ کرسکتا ہے۔ سو حشر اور بعد مردن تمام خلق کو زندہ کرکے حساب لینا بھی اس کی قدرت میں ہے۔
1 ؎ حضرت عیسیٰ سے تخمیناً پانچ سو برس پہلے۔ 12 منہ
Ayah 2:260ترکیب : اذ کا عامل محذوف ہے تقدیرہ اذکر پس یہ مفعول بہ ہے نہ مفعول فیہ قال فعل ابراھیم فاعل رب ارنی الخ جملہ مقولہ کیف تحی الموتی جملہ مفعول ہے ارنی کا ای کیفیۃ احیاء الموتی لیطمئن کالام محذوف سے متعلق ہے تقدیرہ و سلتک لیطمئن من الطیر صفۃ ہے اربعۃ کی منہن حال ہے جزء سے سعیا مصدر موضع حال میں اور مفعول مطلق بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : یہ تیسرا واقعہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ملک بابل سے ہجرت کرکے ملک شام میں آنے کے بعد گزرا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہرچند خدا کے فرمانے کی وجہ سے یقین تھا کہ آدمی مر کر گو اس کے اجزاء مخلوط ہوجائیں۔ ہوا میں ہوا اور خاک میں خاک اور پانی میں پانی آگ میں آگ مل جائے مگر اس کو زندہ کرے گا اور اس کے اجزاء کو جمع کرے گا لیکن بمقتضائے بشریت یہ بات گو نہ عجب معلوم ہوتی تھی۔ اس لیے خدا سے سوال کیا کہ مجھ کو دکھا تو کس طرح سے مردوں کو زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا تجھ کو یقین نہیں۔ عرض کیا یقین تو ہے لیکن اطمینان قلبی کے لیے سوال کرتا ہوں کہ اس امر کا مشاہدہ بھی کرلوں تاکہ عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہوجائے۔ خدا نے فرمایا تو چار پرندے لے کر ان کو اپنے پاس رکھ پھر سب کا قیمہ کرکے تھوڑا تھوڑا پہاڑ کے مختلف ٹیلوں پر رکھ دے اور پھر ہر ایک کو بلا۔ تیرے پاس ہر ایک جانور دوڑ کر چلا آوے گا۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مور اور کبوتر اور مرغ اور کوا لیا اور اسی طرح کیا۔ پھر جس کو پکارا اور اس کے اجزاء مجتمع ہو کر زندہ ہوا اور ابراہیم کے پاس دوڑتا ہوا چلا آیا۔ اس امر کے مشاہدہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یقین کامل ہوگیا۔
اگرچہ ان چار پرندوں کے لینے کی وجہ اور ان کے نام کسی صحیح حدیث سے معلوم نہیں ہوتے مگر علماء کے اقوال سے یہ نام جو اوپر گزرے ثابت ہوتے ہیں اور چار پرندوں کے لینے اور ان کے بلانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بیشتر انسان کے جسم کے لیے چار عنصر ‘ آگ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی جزو غالب ہیں اور دنیا میں یہ چار پرند کہ جو ہر ایک دوڑ کر اپنی حیز اصلی کی طرف اڑ جانا چاہتا ہے آپس میں ہلے ملے رہتے ہیں اور ایک روز یہ پھر جدا ہوجاویں گے اور قیامت کو اس قادر مطلق کے حکم سے پھر ملیں گے۔ ہر ایک دوڑتا چلا آوے گا۔ اس امر کے مشاہدہ کے لیے ان کا نمونہ اور ان کے مناسب چار پرند جانور مختلف الطبائع لینے کو کہا اور ان کو بلانے کو فرماتا کہ پہچان رہے اور یہ شبہ نہ ہو کہ یہ اور جانور ہیں
ف۔ اول قصہ میں چونکہ حضرت یرمیاہ نے ادب ملحوظ نہ رکھا اور انی یحیٰی ھذہ اللّٰہ بعد موتہا کہا تو خدا نے قرآن میں ان کا نام نہ لیا اور خود انہیں پر امتحان ہوا۔ برخلاف اس کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے رب ارنی کہا اور کیفیت احیائِ موتٰی پوچھی۔ ان کا ذکر آیا۔
دوئم۔ نیچر مفسر نے ان دونوں قصوں کا انکار کیا ہے اور اپنی عادت قدیمہ کے موافق مفسرین پر اعتراض بیہودہ کرکے ایک لغو توجیہ کی ہے کہ کالذی سے مراد کانہ مر علی قریۃ یعنی خواب میں یہ واقعہ گزرا ہے اور اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی خواب کا ہے۔ چونکہ بجز تقلید ملحدین اور کوئی دلیل عقلی یا نقلی اس شخص نے اپنے دعویٰ پر قائم نہیں کی اور توجیہ کو کوئی نحوی یا اہل زبان تسلیم نہیں کرتا اور نیز ان کے کلام میں باہم تعارض بھی ہے۔ اس لیے میں لفظ لفظ جواب دینا مناسب نہیں جانتا۔ بعض عیسائیوں کا یہ اعتراض کہ مردے دنیا میں زندہ نہیں ہوتے خود بائبل کے برخلاف ہے۔ دیکھو کتاب حزقیل میں سینکڑوں مردوں کا زندہ ہونا مذکور ہے۔ اور 2 کتاب تاریخ کے تیرہویں باب 21 درس میں ہے کہ یسع نبی کی قبر میں لوگوں نے ایک مردہ کو ڈال دیا اور جب وہ شخص گرگیا اور الیسع کی ہڈیوں سے لگا تو وہ جی اٹھا اور پائوں پر کھڑا ہوا انتہی دراصل ایسی باتیں ملحد بنایا کرتے ہیں جو کہ سوا محسوسات کے معقولات کے منکر ہیں۔ خدا تعالیٰ اور اس کی قدرت اور اس کے افعال خوارق عادت سب کے منکر ہیں۔ ان کی نظر بہائم کی مانند ہے جو محسوسات سے تجاوز کرکے معقولات تک نہیں پہنچتی اور یہ کہنا کہ یہ قصہ تورات میں کیوں نہیں یا الٹ پلٹ کر وہاں سے نقل کئے گئے ہیں۔ خیال خام ہے اس کا جواب بارہا ہم دے چکے ہیں۔
Ayahs 2:261–263ترکیب : مثل الذین الخ جملہ مبتدا ای مثل انفاق الذین الخ کمثل حبۃ الخ خبر۔ انبتت سبع الخ جملہ موضع جر میں صفت ہے حبۃ کی مائۃ حبۃ مبتداء فی کل سنبلۃ خبر یہ جملہ صفت ہے سنابل کی الذین ینفقون صلہ وموصول مبتدا لہم اجرھم الخ خبر قول معروف موصوف و صفت مبتدا خیر الخ خبر یتبعہا اذی جملہ صفت ہے صدقۃ کی۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور عالم آخرت کا ثبوت قطعی کرچکا تو اب عالم آخرت کے لیے ساز و سامان کی ترغیب دیتا ہے کہ وہاں کے لیے کچھ دیا کرو ٗ وہ ضائع نہیں جاتا۔ وہ خدائے قادر کہ جو مردہ کو زندہ کرتا ہے اور جس کے اوصاف مذکور ہوئے اس خیرات کے اجر کو عالم مثالی میں قائم کرتا ہے جس طرح کوئی یہاں ایک دانہ زمین میں ڈالے اور اس سے گیہوں یا باجرہ وغیرہ کا کوئی پیڑ اگے اور اس میں سات خوشہ پیدا ہو ویں اور ہر خوشہ میں سو دانہ ہوں تو ایک دانہ کے سات سو دانہ زمین میں مخفی کرنے سے حاصل ہوتے ہیں بشرطیکہ اس کو پانی دیا جاوے اور آفات سے محفوظ رکھا جاوے۔ اسی طرح جو کوئی خدا کی راہ میں صرف کرتا ہے تو اس کو عالم مثالی کی زمین میں مخفی کرتا ہے۔ اس کا وہاں ایسا درخت اگتا ہے اور ایسے ثمرات پیدا ہوتے ہیں بشرطیکہ ایمان اور خلوص کا پانی دیا جاوے اور احسان جتلانے اور سائل کو ایذا دینے کی بلائوں سے بچایا جاوے ورنہ سائل کو زبان سے نیک بات کہنی اور اس کے الحاح پر درگزر کرنا یا عموماً ہر شخص سے نیک بات کہنی اور درگزر کرنا ایسی خیرات سے بہتر ہے۔
1۔ یہ مثال ایک ذہنی الوجود چیز کے ساتھ ہے۔ اس کے لیے یہ کچھ ضرور نہیں کہ خارج میں کوئی ایسا پیڑ بھی پایا جاوے کہ جس کے سات خوشے ہوں اور ہر خوشہ میں سو دانہ ہوں۔2 لا خوف علیہم میں تعمیم ہے نہ دنیا میں ایسے لوگوں کو افلاس کا خوف و غم ہوگا نہ آخرت میں۔3 مال انسان کو بہت عزیز ہے اس کے صرف کرنے والے کے لیے واسع علیم فرمایا کہ ہم وسعت اور فراخی عطا کرتے ہیں اور خلوص دل سے آگاہ ہیں اور موذی ریاکاروں کے لیے غنی حلیم فرمایا کہ ہم کو کچھ پروا نہیں اور سزا دینے میں جلدی نہیں کرتے۔
Ayahs 2:264–265ترکیب : کالذی کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ ابطالا کا بطال الذی ینفق ریاء الناس مفعول لہٗ ہے ینفق کاریاء کی پہلی ہمزہ نفس کلمہ ہے کہ یہ رای سے ہے اور لغیر بدل ہے سے صفوان جنس ہے وقیل جمع صفواتہ علیہ تراب جملہ موضع جر میں صفت ہے صفوان کی ابتغاء مفعول لہ ہے ینفقون کا اور تثبیتًا اس پر معطوف ہے اور یہ مصدر ہے فعل متعدی کا ای یثبتون اعمالہم باخلاص النیۃ اور ممکن ہے کہ بمعنی ثبت ہو۔ ربوۃ بضم الراء و فتحہا بلندی یا پھولی ہوئی نرم زمین ‘ اصابہا وابل جملہ صفت ہے جنۃ کی وابل وبل سے مشتق ہے یقال اوبل فہو موبل۔ اکل سکون کاف اور ضمہ دونوں طرح جائز ہے۔ یہ جمع ہے واحد اس کا اکلۃ ہے بمعنی ماکول ‘ ضعفین حال ہے ای مضاعفا فطل خبر ہے مبتداء محذوف کی۔ اس کے معنی شبنم ہیں اور خبر بھی محذوف کی کہہ سکتے ہیں۔
تفسیر : پہلی آیات میں خیرات دے کر احسان جتلانے اور فقیر کو بد زبانی یا طعن وتشنیع سے ایذا دینے سے منع فرمایا تھا۔ یہاں اس کے اجر ضائع ہونے میں منافقوں سے مثال دیتا ہے کہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے نہ ان کو اجر آخرت کا یقین ہے بلکہ محض نام آوری کے لیے مال خرچ کرتے ہیں یعنی منافق سو تم ایسا نہ کرو ان کو کچھ بھی اجر نہیں اسی طرح تم کو بھی نہ ملے گا۔ کس لیے کہ عالم مثال میں جس طرح شجر خیرات کو احسان جتلانا اور ایذا دینا برباد کرتا ہے اسی طرح ایمان نہ لانا اور ریاکاری کرنا بھی برباد کرتا ہے۔ پھر ان منافقوں کے حال ظاہر کرنے کے لیے مثال دیتا ہے کہ ایمان اور خلوص نیت بمنزلہ ربوۃ یعنی نرم اور بلند زمین کی ہے جو اپنے پیڑوں اور درختوں اور جڑی بوٹیوں کی وجہ سے بلند معلوم ہوتی ہے اعنی عمدہ زمین اور کفر اور ریاکاری بمنزلہ سخت پتھر کے ہے کہ جس پر کوئی چیز نہیں اگتی اور اس پر کسی قدر مٹی پڑی ہو یعنی ظاہری اسلام پس جو منکر اور ریاکار خیرات کرتے ہیں تو گویا اس پتھر پر کسی قدر مٹی دیکھ کر کچھ بونا چاہتے ہیں اور جب اس پر سخت بارش پڑجاتی ہے تو سب کو بہا دیتی ہے۔ کچھ بھی ان کے قبضہ میں نہیں رہتا۔ اسی طرح جب موت اور مرورد ہر کا مینہ پڑے گا ان کو آخرت میں کچھ نہ ملے گا۔ وہ ظاہری نیکوکاری جو غبار تھی اڑ جاوے گی اور جو مومن و مخلصین خدا کی خوشنودی اور خلوص دل سے حسنات و خیرات کرتے ہیں تو اس عمدہ زمین پر (عالم مثالی میں) باغ لگاتے ہیں جس پر زور کا مینہ برستا ہے تو دگنا پھل آتا ہے اور چونکہ زمین عمدہ ہے اگر زور کا مینہ نہیں برستا تو کسی قدر ترشح اور شبنم ہی کافی ہوجاتی ہے یعنی موت کے بعد تو بیشمار اجر حاصل ہوگا اور دنیا میں بھی اس کا کچھ پھل اس کو ملے گا۔
1۔ ان دونوں مثالوں میں جو کچھ باریکیاں ہیں ان کو میں اس مختصر میں بیان نہیں کرسکتا مفرد اور مرکب کے لحاظ سے ہر پہلو میں اعجاز ہے۔
Ayahs 2:266–267ترکیب : من نخیل صفت جنت کی کہ تجری اور لہ فیہا الخ واصابہ الکبر جملہ بحذف قد حال ہے احد سے ولہ ذریۃً حال ہے اصابہ کی ضمیر سے ولا تیمموا ای لا تقصدوا فعل۔ الخبیث مفعول منہ جار مجرور متعلق تنفقون سے اور تقدیم تخصیص کے لیے پس یہ جملہ اعنی تنفقون منہ حال ہے الخبیث سے ولستم باخذیہ الخ جملہ حال ہے فاعل تنفقون سے۔
تفسیر : یہ ایک اور مثال اس شخص کے لیے بیان کی گئی کہ جو خیرات و صدقہ خلوص نیت سے نہیں دیتا یا دے کر احسان جتلاتا اور سائل کو طعن اور عار کی باتوں سے ایذا دیتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی کے پاس ایک ایسا عمدہ باغ ہو کہ جس میں اکثر کھجور اور انگور ہوں اور اس میں نہریں بھی ہوں یعنی آب رواں اور علاوہ اس کے اس میں ہر قسم کا میوہ ہو اور مالک باغ کا بڈھا ہو کہ علاوہ اس عمدہ باغ کی آمدنی کے اور کوئی وجہ معاش نہ رکھتا ہو نہ اور فنون کسب معاش پر قادر ہو اور اس پر طرہ یہ ہو کہ اس بےکسی کی حالت میں اس ضعیف کے ننھے ننھے بال بچے بھی ہوں کہ جن کا خرچ اور پرورش سب اس کے ذمہ ہو۔ پھر اس حالت میں اس باغ پر کوئی آفت آسمانی ایسی پڑجائے کہ جو اس کو جلا کر نیست و نابود کر دے۔ پھر دیکھئے کہ اس شخص پر کس قدر صدمہ اور کیا بےکسی اور حیرت اور حسرت طاری ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کا صدقہ و خیرات عالم غیب میں نہایت عمدہ باغ کی صورت میں کہ جس کے صفات مذکور ہوئے ظہور کرتا ہے اور عالم آخرت میں انسان بڈھے کی طرح حسنات اور اعمال صالحہ کرنے سے معذور و مجبور ہوتا ہے اور اس کو اپنی اس کمائی اور انہیں اعمال صالحہ کی طرف توقع کی نظر ہوتی ہے اور اس کا احسان جتلانا اور ایذا دینا اور خلوص نیت نہ ہونا بمنزلہ بگولے کے ہے کہ جس میں لو اور آگ ہو کہ جو اس کے اس ترو تازہ باغ کو خاک سیاہ کردیتی ہے۔ فرماتا ہے آیا کوئی تم میں سے ایسا جانتا ہے کہ ایسا چاہتا ہے کہ ایسا باغ ایسی حالت میں تباہ ہوجاوے۔ یعنی کوئی نہیں چاہتا پھر تم کیوں اپنے اس تروتازہ باغ کو تباہ کرتے ہو ! اس کے بعد یہ بتلاتا ہے کہ کیسی چیزیں خیرات و صدقہ میں دینی چاہییں۔ آیا دل سے اتری ہوئی کہ جن کو باہم بھی کوئی بجز کراہت اور ناخوشی کے نہیں لیتا یا عمدہ اور مرغوب چیزیں۔ حکم دیتا ہے کہ اپنی کمائی میں سے عمدہ چیزیں دو اور نیز طیبات ما کسبتم میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جو چیز تم نے حلال اور جائز طور سے حاصل کی ہے اس کو دو ۔ اسی کو خدا قبول بھی کرتا ہے ٗ حرام اور ناجائز کمائی کی خیرات اس کے نزدیک قبول نہیں ہوتی اور جو چیزیں کہ اناج میوے وغیرہ زمین سے پیدا ہوتے ہیں ان میں سے بھی دو اور جن چیزوں کو تم خرچ کرتے ہو ان میں سے ان بری چیزوں کے دینے کا تو صدقہ بھی نہ کرنا کہ جن کو تم بھی خوشی سے نہیں لیتے۔ کس لیے کہ خدا بےپروا ہے۔ بری نذریں قبول نہیں فرماتا۔ تغمضوا اغماض آنکھ بند کرنا اور اس کی اصل غموض یعنی چھپانا ہے اسی لیے کلام خفی کو غامض کہتے ہیں مگر یہاں مراد مصالحت ہے کیونکہ آدمی جب کوئی ناپسند چیز دیکھتا ہے تو آنکھ بند کرلیتا ہے۔
Ayahs 2:268–271ترکیب : الشیطان مبتداء یعدکم الخ جملہ خبر ‘ واللّٰہ مبتداء یعدکم خبر ‘ منہ صفت ہے مغفرۃ کی جو مفعول ثانی ہے یعد کا۔ یوتی الحکمۃ جملہ صفت ہے علیم کی۔ وما انفقتم الخ شرط فان اللّٰہ الخ جواب ان تبدوا شرط فنعماھی جواب کے لیے نعما اصل میں نعم ماتھا باہم ادغام کردیا ہے مبتداء موخر نعم فعل مانکرہ بمعنی شے اس کا فاعل مجموعہ خبر اور یوں بھی ہے کہھی مخصوص بالمدح خبر مبتداء محذوف کی ہو تقدیر الکلام نعم الشیء شیئاھی۔
تفسیر : خیرات و صدقات سے اکثر خیالات فاسدہ منع کیا کرتے ہیں کہ مال جا کر پھر کہاں سے آئے گا۔ تمہارے بال بچے ہیں ٗ آیندہ کیا کیا ضرورتیں پیش آنی ہیں جن کا منشاء انسان کا طبعی بخل ہے۔ شیطان ان خیالات فاسدہ کو دل میں ڈالتا ہے مگر ایمانداروں کے دلوں میں خدا کی طرف سے ایک روحانی سلسلہ الہام بھی قائم ہے۔ اس کے ذریعہ سے خدا اس صدقہ و خیرات پر مغفرت اور فضل یعنی کشائش و فراخدستی و برکت کا وعدہ کرتا ہے۔ کس لیے کہ واللّٰہ واسع علیم خدا بڑی کشائش دینے والا اور خبردار ہے۔ انسان اپنے ذرائع معاش اور کوشش کو وسعت کا سبب جانتا ہے۔ حالانکہ یہ غلط ہے کس لیے کہ بارہا ایک دو نہیں تو سینکڑوں عاقلوں کی کوششیں اور باریک بینیں بیکار ہوجاتی ہیں بجائے فائدہ اور دولت کے افلاس اور نقصان پیش آتا ہے۔ یہ اسرار اور حکمت ہر ایک کو نصیب نہیں۔ ہر ایک کا فہم یہاں تک نہیں پہنچتا مگر انہیں کے فہم کو رسائی ہوتی ہے کہ جن کو خدا نے حکمت یعنی دانائی دی ہے اور جس کو دانائی دی گئی اس کو سب کچھ دیا گیا۔ کس لیے کہ انسانی سعادت خواہ دنیاوی ہو یا اخروی ہو سب علم و حکمت ہی پر مبنی ہے۔ اس خزانہ غیبی کے آگے دولت و مال و اسباب کامرانی کیا چیز ہیں ممکن ہے کہ خدا کا وعدہ مغفرت و کشائش انبیاء کی معرفت ہوا ہو جو ہر ایک شریعت میں متوارث ہے۔ شیطان صدقہ و خیرات کرنے پر تنگدستی ہی سے نہیں ڈراتا بلکہ فحش کا بھی حکم دیتا ہے۔ سائلوں کو گالیاں دینا اور نیک کاموں کی مذمت کرنا ‘ شہوات و لذات اور نمود کے کاموں میں روپیہ اڑانا ‘ شراب خواری اور زناکاری ‘ قمار بازی اور سب بازیوں میں بےدریغ روپیہ اٹھانا ‘ شہرت کے لیے مجامع کرنا ‘ رقص و سرود کی مجلسیں بیاہ شادی میں کرنا ‘ بلاحاجت مکانات بنانا وغیرہ جملہ فحش شیطانی الہام ہے جس کا بدیہی نتیجہ افلاس اور رسوائی ہے۔ عجب ہے کہ ان کاموں میں روپیہ خرچ کرنے سے تو افلاس سے ڈراتا ہے مگر شیطانی کاموں میں بےدریغ اڑانے سے ٗ افلاس سے نہیں ڈراتا حالانکہ رات دن دیکھا جاتا ہے کہ شیطانی کاموں میں صرف کرنے سے افلاس آتا ہے۔ جس کی نظیر ہندوستان کے امراء زادے موجود ہیں اور نیک کاموں میں صرف کرنے سے اب تک کوئی بھی محتاج نہیں دیکھا گیا بلکہ برکت اور فراغ دستی دیکھی جاتی ہے مگر شیطانی الہام نے کیسا برعکس معاملہ سمجھایا ہے۔ اس کے بعد حکم دیتا ہے کہ جب تمہارے دل میں اخلاص ہو تو تم کو اختیار ہے مخفی طور سے دو یا ظاہر دو ۔ پھر خلوص نیت پر آمادہ رہنے کے لیے واللہ بما تعملون خبیر فرمایا۔
Ayah 2:272ترکیب : للفقراء خبر ہے مبتدا محذوف کی ای الصدقات المذکورۃ للفقراء پھر فقراء کے احصروا الخ لا یستطیعون ضربا یحسبھم الجاھل اغنیاء تعفرھم بسیماھم لا یسئلون الناس پانچ وصف بیان فرمائے اول بطور صفت اور باقی بطور حال وفیہ سرلایسعہ المقال۔ الذین موصول وصلہ مبتداء فلہم اجرھم جملہ خبر اوراس لیے آئی کہ مبتداء میں بوئی شرط تھی۔
تفسیر : یہ خیرات کی بابت چوتھا حکم ہے جس طرح پہلی آیتوں میں خیرات میں دینے کے قابل چیزوں کا بیان تھا اس میں ان لوگوں کا بیان ہے کہ جن کو خیرات دینی چاہیے۔ صحابہ یا خود آنحضرت ﷺ مشرکین اور بت پرستوں کو دینے میں کوتاہی کیا کرتے تھے۔ ان کی بت پرستی سے نفرت کرکے اس پر حکم آیا کہ تم ہر ایک محتاج کو دو خواہ مومن ہو خواہ کافر بدکار ہدایت پر لانا آپ کا ذمہ نہیں کہ آپ ان کو ایسی باتوں سے مجبور کرکے مسلمان کریں۔ ایمان اور ہدایت اس کے قبضہ میں ہے جس کو چاہتا ہے نصیب کرتا ہے۔ تم شوق سے دو تم کو ان کی بت پرستی سے کیا ؟ تم تو خاص اللہ کی رضامندی کے لیے دیتے ہو۔ اب جو کچھ تم دو گے پائو گے ان کو کیا دیتے ہو اپنے لیے جمع کرتے ہو۔ یہ سب خدا تم کو واپس دے گا ٗ کچھ نہ لے گا۔
اس کے بعد جو لوگ خیرات کے لیے زیادہ مستحق ہیں ان کو بیان کرتا ہے کہ ان صدقات کے زیادہ مستحق وہ فقراء ہیں کہ جن میں یہ پانچ باتیں پائی جاتی ہیں (1) یہ کہ وہ خدا کی راہ میں بند کئے گئے ہوں جیسا کہ آنحضرت ﷺ سے تعلیم پانے اور شب و روز یاد الٰہی میں بہت سے صحابی گھر بار چھوڑ کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر 1 ؎ رہتے تھے جن کے فیض نے آنحضرت ﷺ کے بعد تمام عالم کو منور کیا سو ان کا دینا علاوہ عام ثواب کے تائید وتقویت اسلام بھی ہے اس لیے ہر زمانہ میں طلباء و علماء و خادمان دین کی خدمت ضروری سمجھی گئی۔ (2) یہ کہ وہ ان وجوہ سے پا شکستہ ہو کر بیٹھ گئے ہیں کہیں تجارت یا سوال کے لیے نہیں جاسکتے۔ (3) اس فقر و فاقہ پر بھی اس کشادہ پیشانی اور خرمی سے گزارتے ہیں کہ ناواقف ان کو اس بےاعتنائی اور بےسوالی سے غنی سمجھتا ہے۔ (4) جس سے ان کے چہروں پر انوار تقدیس ایسے چمکتے ہیں کہ جن کو ہر ایک صاحب بصیرت پہچان لیتا ہے کہ یہ خاصان خدا اور محبوبان کبریا ہیں۔ (5) ان میں صفت توکل غالب ہے۔ عام سائلوں کی طرح سے در بدر بھیک مانگتے اور رستوں میں لوگوں سے لپٹتے نہیں (جیسا کہ آج کل چرس بھنگ پی کر گدائی کرنا ولایت اور کمال احمقوں میں سمجھا جاتا ہے) اس کے بعد زیادہ خیرات دینے کی ترغیب دیتا ہے کہ جو اپنا مال رات دن خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں نہ ان کو اس مال کے خرچ کرنے سے رنج ہوگا نہ ان کو کچھ آخرت میں خوف ہوگا۔
Ayahs 2:273–2741 ؎ یہ مہاجرین کے گروہ میں سے ایک خاص فرقہ تھا جن کو اصحاب الصفّہ کہتے تھے۔