2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار اور تکبر کیا اور وہ تھا بھی کافروں میں کا

ترکیب : واؤ حرف عطف۔ اگر اس کو اذکر مضمر سے نصب دیا جائے گا تو ظرف کا ظرف پر عطف ہوگا اور اگر قالو ایا انقادوا کے ساتھ متعلق کیا جاوے گا تو جملہ کا جملہ پر عطف ہوگا بلکہ ایک پورے قصہ کا دوسرے پورے قصہ پر۔ قلنا فعل بافاعل للملئ کہ متعلق ہے فعل سے اسجدوا الخ یہ تمام جملہ ماول ہو کر مقولہ ہوا قلنا کا۔ جو لوگ ابلیس 1 ؎ کو ملائکہ ارضیہ میں سے کہتے ہیں اور عصمت سب فرشتوں کے لیے شرط نہیں کرتے بلکہ علوی اور آسمانوں کے لیے تو وہ الا کا استثناء ملائکہ سے متصل جانتے ہیں اور جو اس کو غیر ملائکہ از قسم جن بتلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بنی آدم سے پیشتر دنیا پر جنوں کا تسلط تھا پھر جب انہوں نے زمین کو گناہوں سے ناپاک کردیا تو خدا نے ان کی شوکت کو توڑ دیا اکثر ملائکہ کے ہاتھ سے قتل ہوئے اور جو کچھ بچ گئے غاروں اور پہاڑوں میں پناہ گزین ہوئے۔ منجملہ ان کے ابلیس تھا۔ یہ تائب اور گریاں ہو کر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوا۔ ملائکہ ارضیہ میں مل گیا، مگر خلافت کا امیدوار رہا۔ پھر جب آدم کو خلیفہ بنایا تو اس کو از حد حسد آیا، ملائکہ کے ساتھ اس کو بھی سجدہ کا حکم ہوا، اس نے تکبرانہ انکار کیا، اس لیے وہ غیر متصل کہتے ہیں۔ اول حضرت علی اور ابن عباس ؓ کا قول ہے دوسرا حسن اور قتادہ ؓ کا۔ تفسیر : یہ چوتھی نعمت ہے تمام بنی آدم پر کہ ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کو یہاں تک عزت دی کہ ملائکہ کو (بعض کہتے ہیں کہ زمین کے ملائکہ کو بعض کہتے ہیں سب کو) سجدہ کا حکم دیا سب نے تعمیل کی مگر ابلیس نے کہ جس کو شیطان کہتے ہیں تکبر سے حکم عدولی کی اور دراصل وہ علم الٰہی میں کافروں میں شمار تھا۔ سجدہ : لغت میں سر جھکا کر عاجزی اور فرمانبرداری ظاہر کرتا ہے۔ کوئی شاعر عرب کہتا ہے ؎ بجمع تضل البلق فی حجراتہ تری الاکم فیہ سجدا للحوافر ابو منکلف شاعر بنی عامر سے کہتا ہے کہ مجھ کو جب تم جانو گے کہ میں لشکر عظیم لے کر تم پر حملہ آور ہوں گا کہ جس کے اطراف میں ابلق گھوڑوں کا پتا نہ لگے اور جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے آگے ٹیلے سجدہ کریں گے یعنی جھکیں گے۔ و قال ؎ فقدن لھا وھما اب یا خطامہ وظن لہ اسجد لیلی فاسجد 1 ؎ کیونکہ ممکن ہے کہ جن کا مادہ شعلہ آتش ہے ان میں دو قسم کے لوگ ہیں نیک جو وہ بھی ایک قسم کے ملائکہ ارضیہ اور بد وہ شیاطین ہوں۔ پس اس اعتبار سے ابلیس کو فرشتوں میں بھی شمار کرسکتے ہیں اور شیطان بھی کہتے ہیں ہاں ان فرشتوں میں شمار نہ ہوگا کہ جو اعلیٰ نوع کے ہیں اور اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کان من الجن ففسق من امرربہ کہ ابلیس جن تھا حکم الٰہی سے نافرمان ہوگیا۔ ملائکہ کے لیے جو عصمت شرط ہے تو اعلیٰ قسم کے لیے ہے۔ کذافی تفسیر البیضاوی۔ 12 منہ عورتیں ایک سخت منہ زور اونٹ کو لیلیٰ کے پاس کھینچ کر لائیں اور کہا کہ لیلی کو سجدہ کر۔ یعنی اس کے آگے جھک جا تو اس نے گردن جھکا دی۔ الغرض سجدہ کے معنی لغت میں جھکنا ہے اور شرع نے اس کو خاص کرلیا اور اس کے معنی زمین پر پیشانی رکھنا قرار دیا۔ اس میں نہایت درجہ کی تعظیم ہے، اس لیے شریعت نے اس کو غیر اللہ کے لیے حرام کردیا۔ احادیث صحیحہ اس میں بکثرت ہیں و قال ولا تسجدوا للشمس و لا للقمر واسجد للہ الذی خلقھن ” کہ نہ آفتاب کو نہ ماہتاب کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا اس کو سجدہ کرو “ اور انجیل متی کے چوتھے باب میں یہ ہے کہ شیطان نے مسیح سے کہا کہ تو مجھے سجدہ کرے تو تجھے سب کچھ دوں (10) تب مسیح نے اسے کہا کہ اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اس اکیلے کے لیے بندگی کر۔ انتہٰی۔ اس تقدیر پر خدا نے فرشتوں کو ایسا حکم کہ جو اس کی ذات مقدسہ کے لیے مخصوص ہے دوسرے کے لیے کیوں دیا، جواب یہ ہے کہ سجدہ سے مراد لغوی معنی ہیں یعنی جھکنا اور تعظیم کرنا سو یہ حکم مختص بعبودیت نہیں بلکہ چھوٹا بڑے کے آگے اور شاگرد استاد کے آگے تعظیم و تکریم سے پیش آتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اور باپ بھی اسی طرح اس سے پیش آئے تھے و خروالہ سجدًا اور جو سجدے کے شرعی معنی مراد رکھے جاویں تو آدم مسجود حقیقی نہ تھے بلکہ آدم اس جہت سے (کہ تمام خدائی کا مجموعہ اور اسرار خدائی کا نمونہ اور اس کے جمال باکمال کا آئینہ تھے قبلہ سجود تھے) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف منہ کرکے خدا کو سجدہ کرو اسجد والآدم میں لام بمعنی الی ہے۔ یعنی لام کے معنی واسطے کے نہیں بلکہ طرف کے ہیں جیسا کہ اس شعر میں ؎ الیس اول من صلی لقبلتکم و اعرف الناس بالقرآن والسنن الاباء : باختیار خود کسی چیز سے انکار کرنا۔ تکبر : اپنے آپ کو غیر سے بڑا سمجھنا۔ استکبار : کسی امر کو تزیّن اختیار کرنا۔ واضح ہو : کہ جس طرح بعض دہریوں نے زمانہ قدیم میں وجود شیطان اور اس کے انکار سجود اور آدم کے مبدع نوع انسانی ہونے کا انکار کیا ہے اور بخوف مناظرہ اہل اسلام اور اہل کتاب آیات قرآنیہ و عبارات عہد عتیق و جدید کی تاویل بھی کی ہے۔ جیسا کہ ملل و نحل اور دبستان المذاہب میں اس کا بیان ہے۔ اسی طرح ان کے مقلدین نے بھی بذریعہ تفسیر آج کل یہ کام کرکے اپنے زعم فاسد میں بڑی لیاقت حاصل کی ہے، مگر اس ہذیان کا جواب مقدمہ کتاب میں تفصیلاً مذکور ہے وہاں ملاحظہ کرلو۔ زیادہ تر قابل تعجب یہ بات ہے کہ بعض پادریوں نے بھی اپنے یوروپی الحاد کے خمار میں اس قصہ آدم پر اعتراض کیا ہے لیکن اس کا جواب بھی مقدمہ میں مذکور ہے۔ یہاں سے چند باتیں مستفاد ہوئیں : (1) یہ کہ حسد سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے جس نے شیطان کا ستیاناس کیا۔ (2) یہ کہ خدا کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ شیطان چونکہ اس کی رضا پر راضی نہ ہو اس کی کہاں تک نوبت پہنچی۔ (3) اپنے علم و عبادت و ریاضت پر مغرور نہ ہونا چاہیے۔ انجام کا اعتبار ہے دیکھئے شیطان کا کیا انجام ہوا۔ (4) خدا تعالیٰ کے روبرو گستاخی کرنا سخت گناہ ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کرتا ہے تاکہ ناظرین کو عبرت ہو اور خدا کی کسی نعمت پر مغرور ہو کر نافرمانی نہ کریں اور اگر بشریت سے کچھ خطا ہوجائے تو اپنے باپ آدم کی طرح اس پر ہمیشہ تاسف اور ندامت اور توبہ و استغفار کیا کریں تاکہ وہ غفور رحیم اپنی صفت مغفرت کو ظاہر کرے نہ کہ اپنے بزرگوں کے قدیم دشمن ابلیس کی پیروی کرکے اس پر اصرار کرے اور اسی طرح اس پر جمار ہے ورنہ اس کی درگاہ سے راندہ ہوجائے گا اور پھر کہیں ٹھکانا نہ پاوے گا۔
Ayahs 2:35–36

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا، اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں جا بسو اور وہاں دل بھر کر جہاں سے چاہو کھاؤ (پیو) اور اس درخت کے پاس بھی نہ پھٹکنا، ورنہ برا خمیازہ بھگتو گے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان کو وہاں سے ڈگمگا دیا پھر جس عیش میں وہ تھے ان سے نکلوا کر رہا اور ہم نے حکم دیا تھا کہ تم نیچے اترو کہ تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہارا ایک وقت تک زمین پر ٹھکانا اور سامان ہے۔

ترکیب : واؤ حرف عطف کہ عطف جملہ کا پہلے جملہ پر ہے۔ قلنا فعل ضمیر فاعل یا حرف ندا آدم منادی اسکن فعل ضمیر مستتر اس کی فاعل انت اس کی تاکید تاکہ ضمیر مستتر پر عطف صحیح ہوجاوے و حرف عطف زوجک معطوف برانت الجنۃ مفعول یہ تمام جملہ معطوف علیہ وکلا الخ جملہ معطوف رغدًا صفت ہے مصدر محذوف کی اے اکلاً رغداً اے طیباً ہنیئًا حیث ظرف مکان اور عامل اس میں کلا ہے اور ممکن ہے کہ جنت سے بدل ہو کر مفعول بہ ہوجاوے ولا تقربا فعل نہی انما ضمیر اس کا فاعل ھذہ موصوف الشجرۃ اس کی صفت یہ دونوں مفعول بہ ہیں یعنی منہی عنہما فتکونا جواب نہی ہے اسی لیے نون حالت جری میں گر پڑا۔ تقدیرہ ان تقربا تکون۔ فازلّ مشدد زلت بمعنی لغزش اور بعض نے اس کو ازال زوال سے لیا ہے جس کے معنی اکھیڑ دینا ہے۔ یہ فعل ھما مفعول بہ الشیطن فاعل عنہا ای عن الجنتہ متعلق ہے۔ ازل سے فاخرجہما جملہ معطوفہ مما میں ما بمعنی الذی ای من نعیم اھطبوا فعل ہبوط بمعنی نزول سے یعنی اترنا۔ انتم اس کا فاعل جس سے مراد آدم و حوا اور شیطان یا آدم اور اس کی ذریت جو اس کی پشت میں تھی بعضکم لبعض عدو جملہ موضع حال میں ہے واؤ اھبطوا سے اور اسی طرح و لکم فی الارض مستقرالخ جملہ بھی اسی سے حال ہے اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو۔ مستقر مصدر میمی اور ظرف دونوں ہوسکتا ہے۔ حین کے معنی وقت یعنی وقت موت تک تمہارا زمین پر قرار ہے۔ تفسیر : یعنی جبکہ آدم کے سر پر دستار خلافت بندھ چکی اور ملائکہ نے نذرانہ سجود پیش کردیا تو خدا فرماتا ہے ہم نے آدم اور اس کی بیوی حوا کو یہ حکم دیا کہ تم جنت میں رہا کرو اور وہاں تم پر کوئی روک ٹوک نہیں جہاں سے جو جی چاہے خوب کھاؤ پیو مگر اس درخت (گندم) بعض کہتے ہیں کہ انجیر بعض کہتے ہیں کہ انگور کا درخت تھا، بعض کہتے ہیں کوئی اور قسم کا درخت تھا کہ جس کی تاثیر یہ تھی کہ جو اس کو کھاتا تھا آلودگی جسمانی میں مبتلا ہوجاتا تھا (اور اسی مصلحت سے منع کیا تھا) کے پاس بھی نہ جانا چہ جائیکہ کھانا اور جو ایسا کرو گے تو خرابی میں پڑجاؤ گے (کیونکہ ظلم ایک چیز کو بےموقع رکھنے کا نام ہے اور یہاں غیر پر ظلم کرنا مراد نہیں بلکہ اپنی جان پر اور اسی لیے جو گناہ گار گناہ کرتا ہے اپنی جان پر آفت ڈھاتا ہے کہ اس کا بدنتیجہ دنیا یا آخرت میں آپ ہی پاتا ہے، لیکن اس دشمن جانی یعنی شیطان نے وہاں جا کر یہ کہا یَــآآدَمُ ھَلْ اَدُّلَکَ عَلٰی شَجْرَۃِ الْخُلْدِ وَمَلَکٌ لَّا یَبْلٰی (طہ) وقال مانَہَا کُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجْرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْخَالِدِیْنَ وَقَاسَمُہَمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ (اعراف) ” کہ اے آدم میں تجھ کو ایک ایسا درخت بتلاتا ہوں کہ جس کے کھانے سے تو ہمیشہ جیتا رہے اور تجھے ہمیشہ کی سلطنت ملے اور تمہارے رب نے جو اس کے کھانے سے منع کیا ہے تو صرف اس خوف سے کہ تم فرشتہ نہ ہوجائو۔ یا ہمیشہ زندہ رہو اور میں قسم کھا کر تم سے کہتا ہوں کہ میں تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں “۔ آخر الامر اس کہنے سے خداوند تعالیٰ کے حکم کو بھول گئے اور فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْآتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْہْمَا مِنْ وَّرَقْ الْجْنَّۃِ (اعراف) اور دونوں نے اس درخت کو چکھ لیا۔ پھر تو کیا تھا اس کے کھاتے ہی اس کی تاثیر یہ ظاہر ہوئی کہ آدم و حوا برہنہ ہوگئے اور شرم کے مارے درختوں کے پتے چمٹانے لگے اور عتاب الٰہی شروع ہوا کہ نکلو یہ جگہ اب تمہارے رہنے کے قابل نہیں چلو اترو زمین پر جا کر رہو، وہاں باہمی عداوت کی تکلیف اٹھاؤ اور موت تک وہیں رہو اور اپنی معیشت کے سامان بہم پہنچائو، وَنَادٰھُمَا رَبُّہُمَآ اَلَمْ اَنْھَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَۃَ وَاَقُلْ لَّکُمَا اِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبْیْنٌ۔ (اعراف) ” اور خدا تعالیٰ نے ان کو یہ کہا کہ میں نے تم کو اس درخت سے منع نہ کیا تھا اور یہ نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا ظاہر دشمن ہے۔ “ متعلقات : اس مقام پر چند امور قابل غور ہیں۔ (1) یہ کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو پیدا کرکے کون سی جنت میں رہنے کا حکم دیا تھا۔ جمہور اہل سنت و جماعت کا یہ قول ہے کہ بہشت میں رہنے کا حکم دیا تھا اور وہ بنی آدم کے مخلوق ہونے سے پہلے قائم ہے کیونکہ وہ لطف رحمانی کا مظہر ہے اور عالم حسی سے الگ ہے اور وہاں اس کے مناسب درخت اور میوے سب کچھ ہیں، نہ یہ درخت و میوے کہ جو جسمانیت و تکدر سے آلودہ ہیں بچندوجوہ۔ (وجہ اول) کہ گو حضرت آدم (علیہ السلام) کے جسم کی بنیاد اس عالم عنصری سے قائم تھی جیسا کہ احادیث صحیحہ و آثار قویہ سے ثابت ہے اور نیز یہ کہ وہ مکہ اور طائف کے درمیان میں بنائی گئی ہے اور گو آدم زمین کی خلافت کے لیے مقرر ہوئے تھے مگر انعاماتِ الٰہی اور تقرب غیر متناہی سے حضرت آدم پر وہ روحانیت غالب آگئی تھی کہ جس سے ملائکہ بلا تکلف ہر وقت ان کو دکھائی دیتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدا کے دربار عام میں نہایت عزت و منزلت حاصل کرچکے تھے پس جس طرح بعد مفارقت بدن ہر شخص پر اس عالم کا رازکھل جاتا ہے اور وہاں کی چیزیں جنت اور دوزخ عیاناً دکھائی دیتی ہیں اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس جسم سے یہ بات نصیب ہوگئی تھی اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں اکثر مقربانِ الٰہی پر یہ حالت طاری ہوجاتی ہے اور شب معراج میں آنحضرت ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور جنت و دوزخ کی سیر کرنا ایک امر قرین فہمِ مستقیم ہے اور بائبل سے بعض بعض اور انبیاء کے ایسے حالات ثابت ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت الیاس کا ملائکہ اور روحانیت میں مل جانا ثابت ہے۔ پس قرین قیاس ہے کہ حضرت آدم کو عالم قدس میں چند روز کے لیے اس لیے لے جا کر رکھا کہ زمین کی خلافت میں ایسا مست و مدہوش نہ ہوجائے کہ ادھر کا خیال نہ آئے اور اس مرکز اصلی کو بھول جائے، بلکہ اس عالم میں اس عالم کے شوق میں ہر دم ماہی بےآب کی طرح تڑپتا رہے اور وہ اور اس کی ذریت اس عالم کے خیال میں ہر طرح کی نیکی کو عمل میں لاویں۔ دنیا اور اس کے مال و زر کی کچھ وقعت آنکھوں میں نہ رہے اپنے آپ کو مسافر تیز رو جانیں کیونکہ اگر یہ مضمون پیش نظر نہیں تو پھر صدہا فساد اور خونریزیاں زمین پر ہوتی ہیں۔ خلافت کا نتیجہ حاصل نہیں ہوتا مگر اس جگہ خدا نے اپنی قدرت سے ایک درخت ایسا پیدا کیا تھا کہ جس کی تاثیر آلودگی تھی اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں اس عالم عجائب کی عجائب تاثیرات میں قضا و قدر میں آدم کا زمین پر آنا اور اس کی اولاد سے زمین کا آباد ہونا لکھا تھا کھالیا اس کی تاثیر سے نکالے گئے معتوب ہوئے۔ (وجہ دوم) علاوہ احادیث صحیحہ و اقوال صحابہ ؓ کے خود قرآن مجید کے طرز تکلم اور بعض الفاظ سے جو اس مطلب کے بیان میں وارد ہے یہی مطلب سمجھا جاتا ہے کہ ازان جملہ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضْ مُسْتَقَرٌ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنَ یہ کہہ رہا ہے کہ وہ جگہ زمین کے علاوہ کوئی اور جگہ تھی جس کی نسبت اِھْبْطُوْا بھی آیا ہے ورنہ اس کے کیا معنی ہیں کہ یہاں سے نکل جاؤ اور زمین پر ایک مدت تک رہو اور گزران کرو، کس لیے کہ اگر وہ جنت میں نہ تھے تو خود وہاں بھی ارض موجود تھی اور بھی وجوہ ہیں۔ معتزلہ اور اسی قسم کے ظاہر پرست یہ کہتے ہیں کہ جنت سے مراد وہ جنت نہیں بلکہ زمین پر ایک باغ تھا پھر اس میں اختلاف ہے کہ کہاں تھا۔ بعض کہتے ہیں کر مان کے متصل اور بعض کہتے ہیں فلسطین میں تھا اور اہل کتاب عدن میں کہتے ہیں۔ چناچہ تورات اول میں اس کی تصریح ہے (اگر عدن سے مراد جنت ہے تو ٹھیک ہے اور وہاں سے چاروں دریا نکلنے کی بھی توجیہ ہوسکتی ہے ورنہ وہ عدن کہ جو عرب میں سمندر کے کنارے پر واقع ہے وہاں تو چاروں نہریں کیا بلکہ حاجیوں کو میٹھا پانی بھی پینے کو نہیں ملتا اور کوئی عدن ہو تو معلوم نہیں) معتزلہ کہتے ہیں کہ خلیفہ جو زمین کے بنے تھے تو ضرور تھا کہ زمین پر رہتے۔ اس کا جواب ہوچکا۔ پھر کہتے ہیں اھبطوا کے معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہے جیسا کہ اھبطوا مصرًا آیا ہے پس اس باغ سے نکال کر خدا نے اس کو سراندیپ میں ڈال دیا تھا۔ (2) اکثر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت سے نکال کر سراندیپ میں ڈالے گئے کہ جہاں اب تک ان کے آثار و تبرکات پائے جاتے ہیں اور ہزار ہا ہندو اور مسلمان اس پہاڑ کی زیارت کو آتے ہیں۔ (3) حضرت آدم (علیہ السلام) نبی تھے انہوں نے یہ گناہ کیوں کیا ؟ واضح ہو کہ انبیاء کے عقائد اور تبلیغ اور فتویٰ میں عمداً یا سہواً خطا واقع ہونے کا کوئی بھی قائل نہیں۔ تمام اہل اسلام ان تینوں باتوں میں معصوم ہونے کے مقر ہیں ہاں ان کے افعال و عادات میں کچھ اقوال ہیں۔ چناچہ شیعہ کہتے ہیں کہ نہ ان سے صغیرہ نہ کبیرہ نہ علی سبیل قصد نہ سہواً نہ تاویلاً سرزد ہوا ہے اکثر معتزلہ کہتے ہیں کہ عمداً کبائر کا سرزد ہونا انبیاء سے ممتنع ہے ہاں صغائر سرزد ہوسکتے ہیں مگر جن میں رذالت ہے جیسا کہ کم تولنا وہ بھی سرزد نہیں ہوسکتے مگر جمہور اہل سنت و جماعت کا یہ قول ہے کہ کفر و شرک اور کوئی کبیرہ یا صغیرہ عمداً کسی نبی سے سرزد نہیں ہوا ہاں سہواً اور خطائً ا کوئی صغیرہ کہ جس سے شان نبوت میں فرق نہ آئے اگر سرزد ہوگیا ہو تو ممکن ہے کہ جس کو زلت یعنی لغزش کہتے ہیں۔ سو ان لغزشوں پر عام مسلمین معاف ہیں مگر چونکہ نبوت کی بڑی شان ہے ان کو اس پر بھی چند در چند مصلحتوں سے عتاب ہوتا ہے جس پر وہ روتے اور ہر دم خدا کی یاد میں سرگرم رہتے ہیں اور یہ بات جس پر عوام سے مؤاخذہ نہ ہو خواص سے ہو کچھ عقلاً و نقلاً بعید الفہم نہیں حسنات الابرار سیئات المقربین مشہور ہے اور دلائلِ عصمت انبیاء کے آیات و احادیث صحیحہ میں کہ جو شرح مواقف وغیرہ کتب کلامیہ میں مذکور ہیں۔ عصمت انبیاء : پس وہ جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت اس قسم کی روایات مذکور ہیں کہ جو شرک و کفر اور زنا اور جھوٹ بولنے پر دال ہیں یا اور کبائر پر مشعر ہیں وہ جھوٹی ہیں یا مائول۔ حاشاو کلا کبھی انبیاء (علیہم السلام) کی جناب میں بد گمانی کرنا نہ چاہیے۔ علی ہذا القیاس حضرت آدم (علیہ السلام) نے جو یہ درخت کھایا اور گناہ کیا تو اول تو یہ قبل نبوت تھا ولاکلام فیہ دوم یہ کبیرہ نہ تھا۔ محض آدم (علیہ السلام) کی بھلائی کے لیے خدا نے ارشاد کیا تھا جس کے خلاف انہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ ربنا ظلمنا انفسنا فرمایا۔ سوم یہ سہواً سرزد ہوا تھا جیسا کہ آدم (علیہ السلام) کو بروقت کھانے کے وہ ممانعت یاد نہ رہی تھی 1 ؎ پھر جنت سے جو وہ نکالے گئے تھے تو اس درخت کی تاثیر تھی اور یوں بھی تسلیم کیا جاوے تو اس بےاحتیاطی اور لغزش کی سزا تھی۔ فائدہ : ازلہما الشیطان یہاں پھسلانے کو جو شیطان کی طرف منسوب کیا ہے تو مجازاً کیونکہ شیطان اس پھسلنے کا سبب تھا یہ اسناد مجازی ہے۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے رب کی طرف سے چند کلمات حاصل کئے تب (خدا نے) آدم کو معاف کردیا بیشک وہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔

ربط : اس کے بعد خدا تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کی گریہ وزاری اور توبہ معاف ہونا فرماتا ہے : ترکیب : تلقی فعل آدم فاعل کلمات مفعول بہ من ربہ کائنۃ کے متعلق ہو کر صفت کلمات کی مگر جب کہ اس کو مقدم کردیا گیا تو حال کی صورت میں منسوب المحل ہوا۔ فتاب فعل ضمیر ھو راجع رب کی طرف فاعل علیہ متعلق تاب کے ہے۔ انہ ھو ضمیر متصل کی تاکید التواب 1 ؎ کیونکہ خدا خود فرماتا ہے ولم تجد لہ عزما الرحیم صفت و موصوف خبر۔ تفسیر : جب آدم جنت سے نکالے گئے تو مدت تک زمین پر بحالت پریشانی اپنے گناہ پر روتے رہے آخر خدا تعالیٰ کو اپنے بندہ کی آہ زاری و ندامت پر بیقراری پر رحم آیا ؎ اے خوشا چشمے کہ آں گریان اوست وے ہمایوں دل کہ آں بریان اوست در پئے ہر گریہ آخر خندہ ایست مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست اور یہ کلمات آدم کے دل میں القا کئے گئے۔ ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین۔ جب انہوں نے ان کلمات سے دعا کرنی شروع کی تو خدا کو رحم آیا۔ آدم کا گناہ معاف کردیا کس لیے کہ وہ توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ بعض احادیث میں کچھ اور کلمات اور آدم کی گریہ وزاری کے دیگر حالات بھی مرقوم ہیں۔ متعلقات : التلقی ملنا کسی چیز کا پانا، حاصل کرنا، یہ کلمات آدم کو بطور الہام کے عطا ہوئے تھے۔ عام ہے کہ فرشتے نے آ کر کہے تھے یا دل میں القا ہوا تھا۔ التوبہ رجوع کرنا لیکن جب یہ لفظ بندہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو لفظ الی کے ساتھ مستعمل ہوتا ہے۔ جیسا کہ تبت الیک اور تاب الی اللہ جس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ گناہ چھوڑ کر غفلت سے منہ موڑ کر بندہ خدا کی طرف رجوع ہوا۔ بندہ کو تائب اور تواب کہیں گے۔ انہ یحب التوابین، مگر اس قدر فرق ہے کہ غفلت چھوڑ کر بندہ جب اس کی طرف رجوع ہوتا ہے تو اس کو آئب کہتے ہیں اور اواب بھی۔ توبہ تین چیزوں سے مرکب ہے۔ علم معصیت کہ گناہ کو برا اور جرم اور باعث خرابی دنیا و آخرت جانے تاکہ دل میں بیقراری پیدا ہو اور ندامت دل میں آئے۔ ترک فی الحال یعنی اسی وقت اس کام کو چھوڑ دے۔ عزم مستقبل یعنی آیندہ کے لیے دل میں مصمم ارادہ کرلے کہ میں اس کام کو ہرگز نہ کروں گا اور جو کچھ حقوق الٰہی یا حقوق عباد ہیں ان کے ادا کرنے کا بھی قصد کرے۔ پس جب ان شرائط سے بندہ توبہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بندے کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ احادیث صحیحہ اور آیات قرآنیہ اور کلام انبیاء میں جس قدر توبہ کی تاکید اور فضائل و اوصاف مذکور ہیں ان کی اس مختصر میں گنجائش نہیں۔ چناچہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب بندہ گناہ کرکے مقر اور تائب ہوتا ہے تو خدا اس کے گناہ معاف کرتا ہے۔ (رواہ البخاری و مسلم) اور جب توبہ کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں تو بلفظ علیٰ کا استعمال آتا ہے تاب اللہ علیہ تاب علیہ بولتے ہیں جس کے معنی یہ کہ خدا نے رحمت کے ساتھ بندہ کی طرف رجوع کیا یعنی معاف کردیا اور اس کے عذاب سے درگزرا اس لیے خدا کو صرف توّاب کہتے ہیں نہ تائب۔ الٰہی تیری رحمت اور مغفرت پر بڑا بھروسہ ہے۔ فائدہ : خدا نے آدم کا توبہ کرنا بیان فرمایا حوا کا توبہ کرنا ذکر نہ کیا اس لیے کہ عورت احکام میں تابع ہے مرد کے۔ اور اسی لیے قرآن میں اکثر مرد مخاطب ہیں۔ اب اس کے بعد خدائے تعالیٰ بنی آدم کے زمین پر پھیلنے کا اور ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کا حکم الٰہی لے کر آنے کا مجملاً ذکر کرکے اس تمام قصہ کا نتیجہ نکالتا ہے :
Ayahs 2:38–39

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے کہہ دیا تھا تم سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے (تو اس پر عمل کرنا) جو میری ہدایت پر چلیں گے تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو انکار کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہی جہنمی بھی ہوں گے جو اسی میں ہمیشہ رہا کریں گے۔

ترکیب : قلنا فعل ضمیر نحن اس کا فاعل اھبطو امنھا جمیعًا اس کا مقولہ جمیعًا لفظاً تو اھبطوا سے حال ہے اور معناً تاکید ہے یعنی سب اترو خواہ مجتمع ہو کر خواہ الگ الگ فامّا ان ماتھا ان حرف شرط اور ما اس کی تاکید ہے ادغام ہو کر اما ہوگیا۔ یاتینکم میں یاتین فعل مضارع کم مفعول منی متعلق فعل سے ھدی فاعل یہ سارا جملہ شرطیہ ہوا۔ فمن میں فاتفریع کے لیے من شرطیہ مبتدا محلاً مرفوع طبع اس کی خبر اس کی ضمیر راجع ہے من کی طرف یہ محلاً مجزوم فلاخوف علیہم ولاھم یحزنون جملہ اسمیہ اس کا جواب پس من شرطیہ اپنے جواب سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر جواب ہوا امایاتینکم کا۔ والذین الخ عطف ہے فمن تبع الخ پر اس کا قسیم ہے الذین موصول کفروا وکذبوا بآیاتنا صلہ تمام مبتدا اولئک اصحاب النار جملہ اسمیہ اس کی خبر ھم فیہا خالدون مبتداء خبر یہ حال ہے اولئک اصحاب النار سے اور عامل اس میں معنی اضافت ہیں مالام مقدرہ۔ تفسیر : یعنی ہم نے کہا کہ تم سب اترو جنت سے نکل کر زمین پر جاؤ وہاں بھی تم پر میری نظر عنایت رہے گی۔ میں تمہارے پاس اپنی ہدایت (عقل سلیم و فکر عجائبات قدرت اور انبیاء اور کتابیں اور پھر انبیاء کے نائب) بھیجوں گا، دیکھو اب تو چوکے سوچو کے آیندہ ایسا نہ کرنا۔ ہدایت کے بموجب چلنا، پس جو اس کے موافق عمل کرے گا تو اس کو نہ آیندہ کا خوف ہوگا اور نہ وہ کبھی عمر گزشتہ سے غمگین ہوگا بلکہ اس عالم میں اور یہاں سے جا کر اس عالم میں بھی شاد و خرم رہے گا اور جو میری ہدایت کو نہ مانے گا اور کفر کرے گا اور ہماری کتاب کی آیات کو یا ہماری نشانیوں کو کہ (جو ہمارے وجود اور انبیاء کی صداقت اور عالم آخرت کے حق ہونے پر دلالت کر رہے ہیں حتیٰ کہ صاحب بصیرت کے سامنے نورانی قلم سے آسمان و زمین و حجر و شجر اور در و دیوار پر لکھی ہوئی ہیں) جھٹلا دے گا یا غور و تامل نہ کرے گا اور ان باتوں کا دل میں یقین نہ لاوے گا بلکہ جانوروں کی طرح کھانے پینے اور دنیا کے مزے اڑانے ہی کو مقصود اصلی سمجھے گا تو وہ ہمیشہ آتش جہنم میں جلے گا۔ ان کے ملکات رذیلہ جو ان کے دل پر سرایت کر گئے اور جو ان سے کسی وقت جدا نہیں ہوتے وہ وہاں آتش جہنم بن کر ہر وقت جلاویں گے۔ العیاذ باللہ۔ متعلقات : خوف کسی آیندہ چیز کے ڈر کو کہتے ہیں۔ حزن کسی دل پسند چیز کے جاتے رہنے پر رنج کو کہتے ہیں۔ نکات : (1) اگرچہ ایک بار اھبطوا خدا تعالیٰ فرما چکا تھا مگر اس آیت میں پھر اس کلمہ کا ادعا کیا تاکہ فاما یاتینکم الخ کا پورا پورا ارتباط اس کے ساتھ ہوجائے یعنی ایک بار تو خدائے تعالیٰ فرما چکا تھا کہ یہاں سے اترو مگر اس آیت میں پھر فرما دیا تاکہ وہ جو آدم کے خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجنے کا نتیجہ ہے وہ واضح ہوجائے کہ یہاں سے نکل کر سب زمین پر جائو۔ وہاں تمہاری باہم عداوت قائم ہوگی۔ شیطان جو سانپ بن کر بہکانے گیا تھا اس کے مظہر کو دنیا میں لوگ ماریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور باہم بھی ایک دوسرے سے عداوت کرے گا، اس پر انبیاء اور اس کے نائب ہادی ہوں گے۔ الخ فائدہ : چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) زمین پر تشریف لائے۔ یقیناً یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کس ملک میں آ کر رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی ذرا شک نہیں کہ ایشیائی ملکوں میں رہے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ عرب بالخصوص حجاز میں رہے تھے اور وہیں کہیں ان کی قبر ہے اور شہر جدہ میں ان کی بیوی حوا کی قبر ہے کہ جس کا اب تک نشان باقی ہے اور مقام عرفات میں میاں بیوی دونوں کی فراق آسمانی کے بعدملاقات ہوئی تھی، ایک نے دوسرے کو پہچانا تھا۔ اسی لیے عرفات کو عرفات کہتے ہیں اور جس طرح دادی کی قبر کی وجہ سے شہر جدہ کو جدہ کہتے ہیں۔ چونکہ جدہ عرب میں دادی کو کہتے ہیں۔ اور کعبہ حضرت آدم نے بنایا تھا اس تقدیر پر روئے زمین پر سب مساجد سے پہلے یہ مسجد ہے اور یہ مسجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بعد طوفان کے اسی لیے ملک شام سے آ کر پھر اس کو بنایا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی زبان عربی تھی پھر اس کی اولاد کی زبان بگڑ کر عبرانی ہوئی پھر اختلاف بلاد اور زمانہ سے اور زبانیں پیدا ہوتی گئیں۔ دیکھئے ایک ہی ملک میں پہلے کچھ اور زبان ہوتی ہے پھر کچھ اور۔ ایران میں پہلے پاژندی پھر دری پھر پہلوی زبان مروج ہوئی۔ ہندوستان میں پہلے کچھ اور زبان تھی پھر آریہ لوگوں سے سنسکرت نے رواج پایا پھر بھاشا ہوئی پھر خراب اردو ہوا وہ منجھ کر اب صاف اردو ہوگئی۔ زمانہ کی گردش جس طرح اور چیزوں پر اثر کرتی ہے اسی طرح زبان پر بھی اس کا اثر جلدی پڑتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شام یا فلسطین کے ملک میں آباد ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ بابل کے آس پاس۔ قدمائِ ایران اپنے ملک اور اہل ہند اپنے ملک میں آباد ہونا بیان کرتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں۔ بعض ملک مصر کو سب بنی آدم کا اصلی وطن کہتے ہیں یہ بھی قابل اعتبار نہیں۔ والعلم عند اللہ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد بہت کچھ پیدا ہوئی اور نو سو تیس برس کی عمر میں حضرت آدم نے وفات پائی۔ (2) جس طرح کفار کی نسبت اولئک اصحاب النارھم فیہا خلدون فرمایا تھا اس کے مقابلہ میں اہل ایمان کی نسبت اولئک اصحاب الجنۃ ھم فیہا خلدون کہنا چاہیے تھا مگر یہ کمال بلاغت ہے کہ لازم بول کر ملزوم مراد لیا جاوے اور کنایہ کے طور پر کسی مراد کو ظاہر کردیا جائے۔ اس لیے جنت میں ہمیشہ رہنے کو دو بات لازم ہیں ایک یہ کہ وہاں سے نکلنے کا خوف نہ ہو۔ دوم یہ کہ کسی راحت مرغوبِ دل کے فوت ہونے پر حزن نہ ہو اس لیے اس مراد کو اس عنوان اور اس عبارت سے بیان کیا۔ لاخوف علیہم ولاھم یحزنون۔ (3) لاخوف علیہم ولا ھم یحزنون فرمایا یعنی خوف کی جو نفی کی تو جملہ اسمیہ سے جو حال اور استقبال سب زمانوں کو مستغرق ہے تاکہ یہ بات معلوم ہو کہ جو ہدایت کے تابع ہیں اب بھی ان کو کسی مصیبت کا خوف نہیں اور نہ آیندہ ہوگا پورا اطمینان قلب حاصل ہے اور حزن کو جملہ فعلیہ بالخصوص مضارع کے صیغہ سے تعبیر کیا کہ جس سے بقرینہ کلام استقبال سمجھا جاتا ہے۔ اس رمز کے لیے کہ اب کیا حزن ہے۔ حزن کا زمانہ تو آیندہ ہے کہ جب انسان کی آنکھ کھلے گی۔ سو جب بھی ان لوگوں کو حزن نہ ہوگا۔ فوائد : (1) خدا تعالیٰ نے ابتدا سورة بقر سے لے کر یہاں تک کس خوبی کے ساتھ قرآن کا کتاب الٰہی ہونا اور آنحضرت ﷺ کا نبی برحق ہونا بیان کیا کہ جو تمام انبیاء اور ان کی کتابوں کا لب لباب ہے اور روح خالص ہے۔ ازا نجملہ یہ کہ سب سے پیشتر ازلی سعادت مندی اور ازلی بدبختی بیان کردی اور مومن و کافر و منافق (ان ازلی سعادت مندوں اور ازلی بدبختوں) کے اقسام ہیں ان کے خواص بیان کردیے کہ ان پر ناصح کی نصیحت کچھ کارگر نہیں ہوتی۔ سواء علیہمء انذرتہم ام لم تنذرھم لایؤمنون الخ ازان جملہ اپنے عام احسانات کے ضمن میں انسان کے گزشتہ اور آیندہ حالات کا نقشہ کھینچ دیا تاکہ مرد دانا غافل نہ رہے۔ ازان جملہ ایسی تعلیم حمید اور پند مفید اور بیان اعجاز قرآن اور صداقت نبوت نبی آخر الزمان کے ضمن میں عالم کی ابتداء و انتہا آسمانوں زمینوں اور بنی آدم کے پیدا ہونے کی وہ صحیح صحیح کیفیت بیان کردی کہ جس کے ادراک سے عقل قاصر تھی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی ساری تاریخ اور ان کے حریف کی داستان اور پھر فرمانبرداری اور نافرمانی کے نتائج اور گناہ کے بعد توبہ پھر رحمت الٰہی کا دستگیر ہونا نہایت عمدگی سے بیان کردیا اور تورات موجودہ میں جو کچھ اس بیان میں کمی زیادتی ہے اس کی نہایت مہذبانہ طور پر اصلاح کردی۔ کیونکہ کتاب تورات کتاب پیدائش کے دوم اور سوم اور چہارم باب میں کسی یہودی عالم نے سن سنا کر یوں لکھ رکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو باغ عدن میں رکھا کہ اس کی نگہبانی اور باغبانی کرے اور خدا نے اس باغ کے بیچوں بیچ دو درخت لگائے تھے ایک حیات کا درخت (کہ جس کے کھانے سے ہمیشہ زندہ رہے جس کو شیطان نے کھایا تھا) اور دوسرا نیک و بد کی پہچان کا درخت۔ خدا نے آدم سے کہا کہ اس باغ میں اس درخت کو نہ کھانا ورنہ تو مرجائے گا اور خدا نے زمین کے ہر ایک جانور اور آسمان کے ہر ایک پرند کو آدم کے پاس بھیجا تاکہ دیکھے کہ وہ ان کے کیا نام رکھے سو جو آدم نے ہر ایک جانور کو کہا وہی اس کا نام ٹھہرا۔ وعلم آدم الاسما کلہا ثم عرضہم الخ۔ قصہ کو الٹ پلٹ کے بیان کیا اور خدا آدم کی دلبستگی کے لیے آدم کو سوتا ہوا پا کر اس کی ایک پسلی کو نکال کر اس کی عورت بنا کر آدم کے پاس لایا۔ پس آدم اور اس کی بیوی برہنہ رہتے تھے اور شرماتے نہ تھے۔ زمین کے سب جانوروں میں ہوشیار سانپ تھا۔ اس نے آ کر حوا سے کہا کہ سچ مچ خدا نے تم کو اس درخت کے کھانے سے منع کیا ہے اس نے کہا ہاں بلکہ یہ کہا ہے کہ اگر کھاؤ گے تو مرجاؤ گے۔ سانپ نے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جب تم اس کو کھاؤ گے نیک بد کی پہچان میں خدا کی مانند ہوجاؤ گے اور تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی۔ تب حوا نے خوشنما اور خوش مزا جان کر اس درخت کو کھایا اور آدم کو کھلایا۔ تب ان کی آنکھیں کھل گئیں اور معلوم ہوا کہ ہم برہنہ ہیں۔ پس انجیر کے پتے بدن پر چپکانے لگے۔ ٹھنڈے وقت جو خدا باغ میں پھرتا تھا اس کی آواز آدم نے سن کر اپنے تئیں برہنگی سے شرما کر درختوں میں چھپایا۔ تب آدم کو خدا نے پکارا کہ تو کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں آپ سے شرما کر درختوں میں چھپ گیا ہوں۔ خدا نے فرمایا کہ تجھ کو کس نے بتلایا کہ تو ننگا ہے ؟ کیا تو نے اس درخت کو کھایا کہ جس سے میں نے تجھ کو منع کیا تھا ؟ اس نے کہا مجھ کو اس عورت نے دیا۔ عورت نے کہا مجھ کو سانپ نے بہکایا۔ پس خدا نے سانپ سے کہا تو ملعون ہوا ہمیشہ پیٹ کے بل چلے گا، مٹی کھائے گا اور عورت کی نسل میں اور تجھ میں عداوت ہوگی وہ تیرا سر کچلیں گے اور تو ان کی ایڑی کاٹے گا اور عورت جنے میں دردزہ کی مصیبت اٹھائے گی اور خسم کی طرف تیرا شوق ہوگا وہ تجھ پر حکومت کرے گا اور اے آدم تو زمین پر بڑی مشقت سے روزی پیدا کرکے کھائے گا (22) خدا کو فکر و تشویش ہوئی کہ آدم نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کے مانند ہوگیا اب ایسا نہ ہو کہ حیات کے درخت سے بھی کھالے اور پھر ہمیشہ جیتا رہے، اس لیے خدا نے آدم کو باغ عدن سے باہر کردیا۔ انتہٰی ملخصاً ۔ افسوس قصہ کو کس قدر الٹ پلٹ کردیا۔ اول تو خدا کو جھوٹ بولنے سے کیا کام تھا کہ تو اس درخت کو کھا کر مرجائے گا۔ دوم اس بخل سے کیا مقصد تھا کیا ان کو ننگا رہنا پسند تھا۔ سوم سانپ مسخرے کو کیونکر اس درخت کی تاثیر اور خدا کا مکر معلوم ہوگیا۔ آدم کو نہ معلوم ہوا۔ چہارم خدا کا باغ کجا پھر ٹھنڈے وقت سیر کرنا اور آواز دینا چہ معنی دارد ؟ پنجم خدا کا آدم کے ہمیشہ زندہ رہنے سے اندیشہ کرکے باغ سے نکالنا سمجھ میں نہیں آتا پس صحیح بات وہ ہے کہ جس کو خدا نے قرآن میں واضح کیا۔ 2 : قرآن مجید میں اس قصہ کو مختلف عنوان سے آٹھ سورتوں میں نقل کیا ہے کہیں اجمال سے کہیں تفصیل سے۔ سورة بقر، آل عمران، اعراف، حجر، کہف، بنی اسرائیل، طہ، ص، ان سب کے مجموعہ سے وہ بات نکلتی ہے کہ جس کو ہم نے تفسیر میں بیان کیا اور ان آیات کو جمع کرنا اور باہم ترتیب دینا محض تکلف لاحاصل ہے کیونکہ ہر سورة میں بیان ناتمام نہیں ہے کہ جن کے ملانے سے تمام کیا جائے۔ ربط : اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنے خاص انعامات کا ذکر کرتا ہے کہ جو بنی اسرائیل سے متعلق ہیں اور چونکہ دنیا میں یہ خاندان نبوت سب پر فائق تھا اس لیے اس کی طرف التفات بھی عام احسانات کے بعد ضرور تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
Ayahs 2:40–41

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

بنی اسرائیل میری وہ نعمتیں یاد کرو کہ جو میں نے تم کو بخشی تھیں اور میرے اقرار کو پورا کرو تو میں بھی تمہارے اقرار کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور اس کتاب (یعنی قرآن) پر ایمان لاؤ کہ جس کو میں نے تمہارے اصول دین کی تصدیق کرتا ہے نازل کیا ہے اور سب سے پہلے تم اس کے منکر نہ بنو اور میری آیتوں کی تھوڑی سی قیمت دے کر نہ بیچو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔

ترکیب : یا حرف ندا بنی منادی مضاف اسرائیل مضاف الیہ اذکروا فعل انتم ضمیر فاعل نعمتی مفعول موصوف التی انعمت الخ موصول وصلہ جملہ خبریہ بن کر اس کی صفت واو حرف عطف براذکروا اوتوا فعل انتم ضمیر فاعل بعہدی مفعول اوف بعہدکم جملہ جزا ہے جملہ اولیٰ کی کہ جو شرطیہ کی بودے رہا ہے اور اسی لیے اوف میں سے ی حذف ہوگئی ایای منصوب ہے فعل محذوف سے کہ جس پر فارھبون دلالت کرتا ہے تقدیرہ ایای فارہبوا اور فارہبون کی اصل فارہبونی ہے وقف آیت سے ی گر پڑی نون وقایہ باقی رہ گیا مگر زیر اس پر رکھا تاکہ دلالت کرے حذف ی پر وآمنوا عطف ہے اوفوا پر فعل بافاعل بما انزلت (تقدیرہ بماانزلتہ) الخ صلہ موصول مفعول مصدقاً حال مؤکد ہے حال محذوفہ سے کہ جو انزلت میں ہے معکم منصوب ہے علی لظرف والعامل فیہ الاستقراء ولاتکو نوا معطوف ہے آمنوا پر انتم اس کا اسم اول کافر بہ خبر اول افعل ہے اور اس کیاور ع کلمہ میں سیبویہ کے نزدیک واؤ ہے اور اس سے کوئی فعل نہیں بنا اور اس کی تانیث اولیٰ ہے کافر لفظ میں واحد اور معنی میں جمع ہے ای اول الکفار کمایقال ھوا حسن رجل وقیل تقدیرہ اول کافر۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ توحید اور نبوت اور معاد کے دلائل بیان کرچکا اور اس کے تائید میں عام نعمتوں کو ذکر فرما چکا تو اب بنی اسرائیل کو مخصوص نعمتیں یاد دلا کر اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ میں تمہارا قدیم منعم ہوں میں تمہاری بہتری اور بھلائی ہمیشہ مدنظر رکھتا آیا ہوں۔ اب میں نے تمہارے دین کی اصلاح کرنے کے لیے (کہ جس کو حوادث زمانہ میں لوگوں کی افراط وتفریط نے الٹ پلٹ کردیا ہے) قرآن اور نبی آخر الزمان کو بھیجا ہے۔ تم میری مہربانیوں اور عنایتوں پر خیال کرکے جو وقتاً فوقتاً تمہارے ساتھ کی ہیں۔ میرے عہد کو پورا کرو (کہ جو تم نے بروز میثاق مجھ سے باندھا تھا کہ ہم تیری اطاعت کریں گے اور تیرے پیغمبروں کا کہا مانیں گے اور پھر وقتاً فوقتاً حضرت موسیٰ اور دیگر انبیاء کی زبانی بھی تجدید اس عہد کی کرتے چلے آئے ہو) میں بھی اپنے عہد کو پورا کروں کہ دنیا میں تمہاری عزت و آبرو ‘ شوکت و سلطنت باز رفتہ کو پھیر دوں اور آخرت میں تمہیں حیات و نجات کے ثمرات سے بہرہ اندوز کروں اور اس عہد کا وفا کرنا یہ ہے کہ اس نبی آخر الزماں اور قرآن پر ایمان لاؤ کہ جو تمہارے اصول دین اور مطالب تورات و دیگر کتب انبیاء کی تصدیق کر رہا ہے اور ان کو سچ بتا رہا ہے۔ پس جب یہ ہے تو اب تم اہل علم میں سب سے اول منکر بن کر مطالب و اغراض دنیائے دوں اور اتباع نفس زبوں کے بدلہ میں میری آیات بینات کو نہ بیچو۔ یعنی دنیا کے لیے حق کو نہ چھوڑو ایمان اور نعمائِ اخرویہ کھو کر چند روزہ دنیا مول نہ لو اور مجھ سے ڈرو۔ متعلقات : بنی اسرائیل : اسرائیل حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) کا لقب ہے جس کے معنی عبرانی میں صفوۃ اللہ یا عبداللہ کے ہیں۔ بنی مخفف بنین جمع ابن کا ہے نون اضافت سے گرگیا ۔ اس لفظ کی جمع ابناء بھی آتی ہے۔ اگرچہ ابن کے معنی بیٹے کے ہیں مگر پوتے اور اس کی اولاد پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے اس وقت کے لوگوں کو بھی بنی آدم کہتے ہیں اور اس مقام پر بھی یہی مراد ہے یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد۔ حران سے ہجرت کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک کنعان میں بمقام حبرون 1 ؎ آ بسے تھے ان کے آٹھ بیٹے 2 ؎ تھے ان میں سے اسماعیل (علیہ السلام) عرب میں آرہے تھے اس لیے آنحضرت (علیہ السلام) اور دیگر قبائل کو کہ وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں بنی اسماعیل کہتے ہیں اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) وہیں رہے۔ ان کے دو بیٹے تھے عیص، ان کی بہت سی اولاد شام اور اس کے اطراف میں پھیلی دوسرے یعقوب، ان کے بارہ بیٹے تھے۔ روبن، شمعون، لاوی، یہوداہ، اسکار، زبلون، یوسف، بنیامین، دان، نفتالی، جد، آشر، ان کے بارہ بیٹوں کے نام سے بارہ قبائل ان میں مشہور ہوئے اور ہر ایک کو سبط کہتے ہیں جس کی جمع اسباط آتی ہے۔ حضرت موسیٰ اور ہارون اور دائود اور سلیمان وغیرہ 1 ؎ یہ بابل کے پاس کسدیوں میں رہتے تھے (بلکہ اس شہر کا نام ار تھا چناچہ آج کل محکمہ آثار قدیمہ نے اس کو برآمد کرلیا ہے) وہاں سے ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تارہ کہ جس کو آذر بھی کہتے ہیں اپنے بیٹے ابراہیم اور پوتے لوط اور بیوی سارہ کو لے کر وہاں سے جنوب کی طرف بمقام حران آ بسے تھے وہیں آذر نے وفات پائی پھر وہاں سے ستر برس کی عمر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی اور لوط کو لے کر ملک کنعان میں آئے اور حیتون میں بمقام حبرون مقام کیا۔ 2 ؎ ابراہیم کی اولاد سارہ کے پیٹ سے اسحاق اور ہاجرہ کے پیٹ سے اسماعیل جو سب سے بڑے تھے۔ زمران، یسقان، مدان، ہدیان، اسباق، سوخ۔ 12 تورات بہت سے اولوالعزم انبیاء اس خاندان میں پیدا ہوئے۔ اس وجہ سے یہ خاندان روئے زمین پر متبرک اور مشہور ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مدینہ اور اس کے اطراف خیبر وغیرہ مقامات میں بنی اسرائیل رہتے تھے۔ ان بارہ فرقوں میں سے آج کل چند باقی ہیں ان کو یہود کہتے ہیں۔ اوفوابعہدی : عہد باہمی قرارداد کو کہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جب بندہ کو عقل سلیم عطا کی اور اپنی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنے کی طاقت بخشی تو ایک بار امانت اس کے سر پر دھر دیا اور تمام نیک عمل کرنے اور خدا اور اس کے ذات وصفات و انبیاء پر ایمان لانے کا اس سے ذمہ لے لیا اور بندہ نے اس کا اقرار کرلیا۔ اس کے صلہ میں اس نے دنیا و آخرت میں نیک نتیجہ مرتب کرنے کا اپنی رحمت سے ذمہ لے لیا۔ پس دونوں طرف سے یہ قول وقرار اور یہ عہد قرار پایا ‘ اسی کو عالم ارواح میں قائم کیا تھا اور اسی کو انبیاء وقتاً فوقتاً یاد دلاتے اور تجدید کرتے رہے اور اس عہد کے پورا کرنے کے بیشمار مراتب ہیں بندہ کی طرف سے اول مرتبہ یہ ہے کہ توحید اور رسالت کا اقرار کرے کلمہ لا الہ الا اللہ الخ صدق دل سے پڑھے اس کی طرف سے اول مرتبہ یہ ہے کہ دنیا میں اس کی جان و مال کو آسمانی محاسبہ سے مامون اور آخرت میں عذاب ابدی سے محفوظ و مصئون رکھے اور بندہ کی طرف سے اخیر مرتبہ یہ ہے کہ اس کی محبت اور یاد میں ہمہ تن غرق ہوجائے۔ کسی کی بھی خبر نہ رہے اس کی طرف سے یہ ان کو ہمیشہ دربار قدس میں اپنے دیدار فرحت آثار سے مسرور رکھے جس نے یہ کہا کہ اس عہد سے مراد وہ عہد ہے کہ جو بنی اسرائیل سے نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا تھا۔ جیسا کہ انجیل سے اب تک سمجھا جاتا ہے تو وہ کوئی اور بات نہیں وہ بھی اسی عہد کی شاخ ہے۔ مصدقا لما معکم : سے یہ مراد نہیں کہ یہود کے جمیع عقائد اور کل کتابوں کی تصدیق قرآن مجید کرتا ہے بلکہ اصول مذہب اور مضامینِ کتب الہامیہ کے کہ جن کو اپنی کتابوں میں مخلوط کر رکھا تھا اور اس مجموعہ کو وہ تورات کہتے تھے۔ یہاں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نزول قرآن کے وقت ان کے پاس بلاکم وکاست حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات تھی بلکہ ایک مجموعہ کہ جس کو علمائِ یہود نے مرتب کیا تھا جس کو وہ اپنی اصطلاح میں تورات کہتے تھے۔ نکات : (1) چونکہ مقصود یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو قرآن پر ایمان لانے کا حکم کیا جاوے اور بنی اسرائیل کو نہایت شاق تھا کہ وہ غیر خاندان کے نبی پر ایمان لائیں۔ یہ انسان کا ایک جبلی خاصہ ہے کہ وہ دوسرے خاندان کو بمشکل مانتا ہے بالخصوص جبکہ وہ جاہ و ریاست دل میں پیوست ہو۔ اس لیے خدا نے اول تو بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں یاد دلا کر نرم کیا۔ نعمتوں سے انسان کا مطیع ہونا طبعی بات ہے اور اس میں اشارہ کردیا کہ غیر خاندان پر حسد کرنا عبث ہے تم کو کیا کم نعمتیں دی ہیں۔ اس بات پر خیال نہ کرو قرآن پر ایمان لائو۔ دوم اپنا عہد یاد دلایا اور اس کے ثمرہ اوف بعہدکم کی طرف اشارہ کردیا۔ سوم اس نرمی کے ساتھ گرمی اور چشم نمائی بھی کردی۔ ایای فارھبون کہ مجھ سے ڈرو ورنہ پھر میں یوں بھی سیدھا کردیتا ہوں۔ پس ان تینوں کے بعد مقصد اصلی آمنو بما انزلت کو ادا کیا اور اس کے بعد بھی تین تاکید کردیں۔ اول ولاتکونوا اول کافر بہ دوم ولاتشتروا بایاتی الخ سوم ایای فاتقون۔ اس میں ان کی خراب عادتوں کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ (2) آمنوا بما انزلت کے پہلے تو ایای فارھبون فرمایا کیونکہ یہود میں جو خدا ترس تھے ان کو راہب کہتے تھے یعنی پہلے تم اپنے دین پر تو قائم ہوجاؤ اس کے بعد ایای فاتقون فرمایا۔ کس لیے کہ امت محمدیہ میں خدا ترس کو متقی کہتے ہیں اور جب قرآن پر ایمان لائیں گے تو امت محمدیہ میں داخل ہوجاویں گے۔
Ayahs 2:42–43

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

اور سچ میں جھوٹ نہ ملایا کرو اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپائو

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتے رہو

ترکیب : و حرف عطف برکلام سابق اذکروا لاتلبسوا الحق جملہ فعل فاعل و مفعول سے مرکب بالباطل متعلق ہے فعل مذکور سے وتکتموا فعل ضمیر انتم فاعل عطف ہے تلبسوا پر مجزوم ہے لانہی سے الحق اس کا مفعول وانتم تعلمون جملہ اسمیہ حال ہے۔ اقیموا الصلوۃ جملہ انشائیہ معطوف اور معطوف علیہ وآتوالزکوٰۃ معطوف اور معطوف علیہ وارکعوا معطوف اور مع الراکعین ظرف متعلق ہے۔ ارکعوا سے۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اصول ایمان اعنی نظریات سے مخاطب کیا اور ایمان لانے کا حکم دیا تو اس کے بعد عملیات کا بھی حکم دیا اور جو باتیں بری تھیں پیشتر ان سے منع کردیا۔ علمائِ یہود کا قدیم دستور اور جبلی عادت تھی کہ وہ کتب انبیاء میں کبھی عمداً کسی عقیدہ اور غرض ثابت کرنے کے لیے کچھ گھٹا بڑھا دیتے تھے اور حوادث میں جو کتابیں تلف ہوگئی تھیں یا ان میں کچھ نقصان واقع ہوتا تھا ان ہی کے نام سے اپنے طور پر تصنیف کرکے اس میں ملا دیتے تھے اور کبھی شرح کے طور پر کچھ اس میں لکھ دیتے تھے اور لطف یہ کہ متن اور شرح مزید اور مزید علیہ اور قدیم و جدید کتاب میں امتیاز کے لیے کوئی علامت اور نشانی بھی نہ کرتے تھے اور قوم بھر میں کوئی بھی اصلی کتابوں کا حافظ نہ ہوتا تھا نہ کوئی حفظ سنانے کا دستور تھا۔ اس پر کاغذ اور کتابت کی قلت سے نہ کوئی ایسا کتب خانہ تھا کہ جس میں کل دینی کتابیں محفوظ رہتی تھیں۔ نہ کوئی سوسائٹی تھی بلکہ ہر کاہن یا راہب کے پاس جو کچھ تھا سو تھا اس کو مقابلے سے کیا غرض ؟ چناچہ آج تک یہ بات مجموعہ عہد عتیق و جدید سے پائی جاتی ہے۔ محققین اہل کتاب اس کے مقر ہیں۔ پس ان وجوہ سے کتاب میں گھٹانا بڑھانا یا کچھ کا کچھ پڑھ دینا بالخصوص مقابلہ میں کسی دنیاوی غرض کے لیے ایک آسان سی بات تھی۔ جب تک آنحضرت (علیہ السلام) ظاہر نہ ہوئے تھے تو کتب انبیاء میں آپ کی بشارتیں دیکھ کر آپ کے آنے کے منتظر اور آپ کے محامد بیان کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ ظاہر ہوئے اور مدینہ میں تشریف لائے تو رشک خاندانی اور دیگر اغراض دنیویہ سے آپ سے حسد کرنے لگے اور ان بشارتوں کو الٹنے پلٹنے لگے اور کچھ کا کچھ کہنا شروع کردیا اور اپنے تقوے اور طہارت کے مسائل میں بھی تاویلات اور توجیہات کرکے ٹالنے لگے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق میں باطل اپنی طرف سے نہ ملایا کرو اور جان بوجھ کر حق نہ چھپایا کرو کیونکہ تمہاری گمراہی سے اور ہزاروں ان پڑھ گمراہ ہوتے ہیں اس کے بعد تقویٰ و طہارت کا حکم دیتا ہے کہ نماز کو اچھی طرح قائم کرو تاکہ تمہارے دل ملائم ہوں اور دلوں کی سیاہی دور ہو پھر خدا ترسی کرکے اپنے مال میں سے کوئی حصہ معین بھی فقراء غرباء کو دیا کرو۔ اس لیے پہلے نماز کا ذکر کیا، پھر زکوٰۃ کا اس میں بدنی اور مالی دونوں عبادتیں آگئیں اور اکیلے اپنے گھروں میں نماز پر بس نہ کرو، بلکہ خدا کی جماعت میں شامل ہو کر نماز پڑھو رکوع کرو تاکہ دین کی تمام برکات و انوار حاصل ہوں۔ متعلقات : فارکعوا : رکوع کے معنی جھکنا ہے چونکہ نماز کا یہ ایک جزو ہے تو کل کو بھی اس جزء کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں اور کبھی سجدہ کے ساتھ اور یہاں اس جزء کے ساتھ تعبیر کرنے میں ایک نکتہ ہے۔ یہود کی نماز میں صرف رکوع ہے اس لیے بھی صرف ارکعوا فرمایا۔ زکوٰۃ کے معنی زیادہ ہونے اور بڑھنے کے ہیں، بولتے ہیں زکاء الزرع جب کھیتی بڑھتی ہے اور چونکہ خدا کے نام پر دینے سے مال میں برکت ہوتی ہے اور اس عمل کی تاثیر سے مال بڑھتا ہے اس لیے مال میں سے حصہ معین سال تمام پر دینے کو زکوٰۃ کہنے لگے۔ بعض کہتے ہیں کہ زکاء سے مشتق ہے جس کے معنی پاکی کے ہیں، چونکہ زکوٰۃ سے مال پاک ہوجاتا ہے اس لیے زکوٰۃ کہنے لگے اور اسی لیے ذبح کرنے سے نجس خون نکل جاتا ہے مذبوح جانور کو مزکی کہتے ہیں یہود میں جس طرح نماز فرض تھی اسی طرح زکوٰۃ بھی مگر ان کی نماز اور زکوٰۃ کا قاعدہ اور تھا۔
Ayahs 2:44–46

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تم (اے بنی اسرائیل) نیکی کرنا بتلاتے ہو اور اپنی خبر نہیں رکھتے حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو پھر کیوں نہیں سمجھتے

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور صبر کرنے اور نماز پڑھنے سے مدد لیا کرو۔ بلاشبہ نماز مشکل ہے مگر ان پر کہ جو عاجزی کرتے ہیں

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

(اور) جو یہ سمجھتے ہیں کہ ضرور ہم کو اپنے پروردگار سے ملنا ہے اور ہم کو اس کے پاس پھر کر جانا ہے (پس یہ نماز کچھ بھی ان پر مشکل نہیں)

ترکیب : اَ استفہامیہ داخل ہے جملہ تامرون الناس الخ پر اور یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہ کرو تامرون الناس الخ جملہ معطوف علیہ وتنسون الخ دوسرا جملہ اس پر معطوف وانتم تتلون الکتاب جملہ اسمیہ حال ہے ضمیر فاعل تنسون سے افلاتعقلون جملہ استفہامیہ بمعنی توبیخ یہاں تک یہ جملہ معترضہ سا تھا اس کا شان نزول ابن 1 ؎ عباس ؓ سے یوں منقول ہے کہ علمائِ یہود اپنے ان اقارب سے جو مسلمان ہوگئے تھے یہ کہتے تھے کہ اسی دین پر قائم رہو کیونکہ یہ حق ہے اور از خود اسلام میں داخل نہ ہوتے تھے (جلالین) بعض کہتے ہیں کہ اوروں کو صدقہ اور خیرات کا حکم دیتے تھے اور خود نہ کرتے تھے (بیضاوی) واستعینوا الخ معطوف ہے اذکروا پر یا آمنوا پر بالصبر والصلوۃ معطوف علیہ اور معطوف متعلق ہیں استعینوا سے وانھا ای الصلوٰۃ لکبیرۃ جملہ مستثنیٰ منہ الا حرف استثنا علی الخاشعین موصوف الذین الخ صلہ و موصول اس کی صفت یہ سب مستثنیٰ ۔ تفسیر : اے بنی اسرائیل باوجودیکہ تم کتاب یعنی تورات پڑھتے ہو اور اس میں خود اعمال صالحہ کرنے کی تاکید اور کلام انبیاء میں آپ عمل نہ کرنے، دوسرے کو نصیحت کرنے پر بڑی تہدید بھی ہے تم خود عمل نہیں کرتے اور لوگوں کو وعظ و تدریس کرنے کے لیے آمادہ رہتے ہو۔ تمہارے نفس سرکش ہیں کہ ان اعمال صالحہ اور قید شریعت اور روحانی صفائی کو اختیار نہیں کرتے۔ سو اس کا علاج روحانی طور پر یہ ہے کہ تم روزہ اور نماز سے مدد لو نفس کو مشقت کشی کا عادی بناؤ کس لیے کہ روزہ میں باوجود ہر طرح کے سامان اکل و شرب و جمال مہیا ہونے کے صبر کرنا اور اس کی خواہش سے روکنا ہوتا ہے اور پھر نماز میں مشغول ہو کر ہاتھ پائوں تمام جسم کو اس کی عبادت میں مصروف کرنا ‘ زبان اور روح کو اس کی طرف متوجہ کرنا اور تسبیح و تقدیس کرنا قرآن پڑھنا ہے ان سب کا مجموعہ روح کو نہایت تازہ کرتا ہے جس سے نفس کی تیزی ٹوٹ جاتی ہے اور حبِّ جاہ و مال اور ہر قسم کی نفسانی خواہش کہ جو عمل سے مانع آتی ہے پژمردہ ہوجاتی ہے صبر و نماز سے مدد لینے کے یہ معنی ہیں (اور واقعی جسمانی ریاضت سے جو تزکیہ نفس کہ سالہا سال میں حاصل نہیں ہوتا وہ روحانی تقرب سے دم بھر میں حاصل ہوجاتا ہے۔ تھوڑی سی دیر اس 1 ؎ اس کے شان نزول کے یہ معنی ہیں کہ یہ آیت ان یہودی علماء پر صادق آتی ہے یا اس میں ان کی طرف تعریض اور اشارہ ہے کہ جو خود اچھے کام نہیں کرتے تھے اوروں کو وعظ و پند کرتے تھے جیسا کہ عموماً علمائِ بےعمل کیا کرتے ہیں ورنہ خاص اس آیت کا ان لوگوں کے لیے اور اس حال پر متنبہ کرنے کے لیے جداگانہ نازل ہونا جب تسلیم کیا جائے کہ جب کسی سند صحیح سے یہ بات معلوم ہوجائے کہ یہ آیت الگ ہو کر نازل ہوئی ہے اور اس سے اگلا پچھلا کلام جداگانہ نازل ہوا ہے۔ 12 حقانی کی طرف مراقب اور متوجہ ہونے سے کسی قدر نفس کو پژمردگی اور روح کو تازگی حاصل ہوتی ہے) اور یہ نماز بھی فی نفسہٖ ایک بھاری بات ہے اس کے بھی وہی متحمل 1 ؎ ہوتے ہیں کہ جو خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو اس کے پاس جانا ہے۔ امام احمد وغیرہ نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ کو جب کبھی رنج و غم لاحق ہوتا تھا تو نماز میں مشغول ہوجاتے تھے۔ اس سر کے لیے امت محمدیہ پر پنج وقتہ نماز فرض ہوئی اور اس لیے اس کی نسبت فرمایا اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرْ کہ نماز ہر قسم کی برائی اور گناہ سے روکتی ہے۔ نماز کے فضائل اور اس کے تارک پر جو کچھ تہدید احادیث صحیحہ میں وارد ہے اس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں۔ فائدہ : اس آیت سے اس شخص کی برائی ثابت ہوئی کہ جو ان کو نصیحت کرتا ہے اور خود عمل نہیں کرتا کس لیے کہ اس کا یہ فعل ایسا ہے کہ جیسا کوئی جاہل یا احمق کرتا ہے اور جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس کلام کا اس کو اعتقاد نہیں ورنہ خود بھی عمل کرتا، اسی لیے صحاح ستہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کی زبان کو جہنمی فرشتوں کو آگ کی مقراضوں سے کاٹتے دیکھا تو جبرئیل (علیہ السلام) سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا یہ وہ لوگ ہیں کہ جو خود عمل نہ کرتے تھے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ مگر اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ فاسق کو وعظ کہنا منع ہے۔ کس لیے کہ انسان پر جس طرح عمل کرنا فرض ہے دوسروں کو سمجھانا بھی فرض ہے۔ ایک فرض کے ترک کرنے والے کو کیا ضرور ہے کہ دوسرے فرض کو بھی ترک کرے۔